قومی

مولانا فضل الرحمان نے مارچ کے دوران مذہب کارڈ استعمال کیا، وزیراعظم

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد دھرنے کے دوران مذہب کارڈ استعمال کیا۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کور کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلی اور گورنرز بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال اور مہنگائی کنٹرول کرنے سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

پی ٹی آئی منشور پر عمل درآمد سے متعلق حکمت عملی اور حکومتی معاشی اہداف اور ترقیاتی منصوبوں پر مشاورت ہوئی۔ کور کمیٹی نے تحریک انصاف کے منشور پر عمل درآمد کے لیے تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر پارٹی منشور پر عمل درآمد کیا جائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان کے پلان بی سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل پر بھی بات چیت کی گئی اور مولانا فضل الرحمان کی اداروں پر تنقید کی مذمت کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ مولانا فضل الرحمان کی تقاریر پر قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مولانا نے آزادی مارچ کے دوران مذہب کارڈ استعمال کیا اور فضل الرحمان نے دھرنے سے کشمیرکاز کو شدید نقصان پہنچایا۔

دریں اثنا وزیراعظم نے میڈیا کے امور دیکھنے کے لیے 5 رکنی کمیٹی قائم کردی، کمیٹی کے ممبران میں فردوس عاشق اعوان، جہانگیر ترین، اسد عمر اور فواد چوہدری شامل ہیں۔

وزیراعظم کا اداروں کی نجکاری مقررہ وقت میں مکمل کرنے کا حکم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نجکاری کا مقصد روزانہ کی بنیاد پر سرکاری خزانے کو کروڑوں اربوں روپے کے خسارے سے بچانا اور ان اداروں کو متعلقہ شعبوں میں اہل افراد کے حوالے کرنا ہے۔ 

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نجکاری عمل میں پیش رفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیرِ نجکاری میاں محمد سومرو، مشیر خزانہ حفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر، معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق، معاون خصوصی ذوالفقارعباس، سیکرٹری نجکاری رضوان ملک اور دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔

اجلاس میں نجکاری عمل میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور وزیرِ اعظم کو نجکاری کے لیے نشاندہی کی جانے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل میں اب تک کی پیش رفت کی رپورٹ پیش کی گئی۔

اجلاس میں سیکریٹری نجکاری رضوان ملک نے نجکاری عمل پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس عمل میں ان اداروں اور املاک کو شامل کیا گیا ہے جو سرکاری خزانے پرمسلسل بوجھ ہیں یا اپنی صلاحیت سے کم کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں، ایسی سرکاری املاک کو بھی نجکاری عمل میں شامل کیا گیا ہے جو کہ سالہا سال سے غیر استعمال شدہ یا غیر منافع بخش ہیں۔

رضوان ملک نے بتایا کہ اربوں روپے مالیت کے مختلف سرکاری ادارے جن میں حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ، بلوکی پاور پلانٹ، ایس ایم ای بینک و دیگر شامل ہیں ان کی نجکاری کا عمل تیاری کے آخری مراحل میں ہے اور ان اداروں کی نجکاری کے عمل میں بین الاقوامی طور پر گہری دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے، ان اداروں کے علاوہ گدو پاور پلانٹ، نندی پور پاور پلانٹ، فرسٹ وویمن بینک جیسے مختلف اداروں کی نجکاری کا عمل بھی شروع کر دیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ تاثردرست نہیں کہ نجکاری کے تحت حکومت محض نقصان کے حامل اداروں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے،  نجکاری کا مقصد روزانہ کی بنیاد پر سرکاری خزانے کو کروڑوں اربوں روپے کے خسارے سے بچانا اور ان اداروں کو جن کی کارکردگی ان کی استعداد کے مطابق نہیں ان کو متعلقہ شعبوں میں اہل افراد کے حوالے کرنا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اداروں سے بہترین نتائج کا حصول اور مجموعی طور معیشت کی بہتری نجکاری عمل کی اصل روح ہے، نجکاری کے عمل سے ان اداروں کی کارکردگی کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی جن کی کارکردگی عدم توجہ کے باعث گزشتہ سالہا سال سے ان کی اصل استعداد سے کم رہی ہے، نجکاری عمل کی جلداز جلد تکمیل سے حکومتی مالی وسائل خصوصاً نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوگا، جس سے حکومت کی جانب سے عوامی فلاح وبہبود کے زیادہ منصوبے شروع کرنے اور صحت، تعلیم و دیگر سہولتوں کی عوام تک فراہمی میں آسانی پیدا ہوگی۔

سیکریٹری نجکاری کو ہدایت دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نجکاری کے لیے نشاندہی کیے جانے والے تمام اداروں کی نجکاری کو مقررہ ٹائم فریم میں مکمل کیا جائے، اثاثوں اور اداروں کی نجکاری کے عمل میں شامل تمام وزارتوں کے متحرک کردار اور بھرپور تعاون کو بھی یقینی بنایا جائے، حکومت کی ترجیح ہونے کے سبب وزیرِ اعظم آفس کو نجکاری عمل کی پیش رفت سے مسلسل آگاہ رکھا جائے اور اس ضمن میں کسی بھی دقت کو ہنگامی بنیادوں پر دور کیا جائے۔

حکومت کی جڑیں کٹ گئیں اب ایک جھٹکے سے ختم ہوجائیگی، فضل الرحمان

پشاور: مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسلام آباد مارچ سے حکومت کی جڑیں کٹ گئیں اب حکومت ایک جھٹکے سے ختم ہوجائے گی۔

نوشہرہ میں احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے ملک بھرمیں ملین مارچ کرکے کروڑوں لوگوں سے رابطہ کیا، اسلام آباد میں آزادی مارچ شروع کیا جو دو ہفتے جاری رہا، مارچ سے حکومت کی جڑیں کٹ گئیں اور اب حکومت ایک جھٹکے سے ختم ہوجائے گی۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ  ہم پاکستان میں یہودی راج نہیں مانتے اسلامی تشخص برقرار رکھیں گے، ملک تباہی کی طرف جارہا ہے اسے ہم بچائیں گے، ٹماٹر چار سو روپے کلو ہیں اور ہمارے وزیرخزانہ کو معلوم ہی نہیں۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے اور ہم نے ثابت کردیا کہ ہم پورا ملک بند کر سکتے ہیں، اب چند دنوں کے بعد شہروں کے اندر بھی احتجاج شروع کردیا جائے گا، عوام کو سڑکوں کی بندش سے تکلیف ضرور ہے لیکن یہ تکلیف ناجائز حکومت کے خاتمے کے لیے ہے، ہم پاکستان کو افغانستان، عراق اور لیبیا نہیں بنانا چاہتے بلکہ عوامی قوت سے حکومت کو چلتا کریں گے۔

غیرملکی قرضوں اور واجبات کی مالیت 457 ارب روپے کم ہوگئی

کراچی: روپے کی قدر بڑھنے کے بعد غیرملکی قرضوں اور واجبات کی مالیت 457 ارب روپے کم ہوگئی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق روپے کی قدر میں بہتری آئی ہے اور غیرملکی قرضوں اور واجبات کی مالیت 457 ارب روپے کم ہوگئی۔

اعداد و شمار کے مطابق جون 2019 کے اختتام  پرغیر ملکی قرضوں اور واجبات کی مالیت 11 ہزار 55 ارب روپے تھی، تاہم  ستمبر کے اختتام پر یہ مالیت کم ہوکر 10 ہزار 598 ارب روپے کی سطح پر آگئی۔ جولائی سے ستمبر تک تین ماہ میں روپے کی قیمت 6.76 روپے بڑھی، جون میں روپے کی ڈالر کے مقابلے میں قیمت 163.05 روپے تھی، جو ستمبر میں کم ہوکر 156.29 روپے کی سطح پر آگئی۔

اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ پہلی سہ ماہی میں مجموعی قرضوں اور واجبات کی مالیت میں 1266.5 ارب روپے کا اضافہ ہوا اور ستمبر کے اختتام پر ملکی و غیر ملکی قرضوں اور واجبات کی مالیت 41 ہزار 498 ارب روپے تک پہنچ گئی، مجموعی قرضے اور واجبات کی ڈی پی کا 95.2 فیصد ہیں، جب کہ ستمبر میں مجموعی قرضے اور واجبات جی ڈی پی کا 104.3 فیصد تھے۔

نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست قابل سماعت قرار

لاہور: ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست قابل سماعت قرار دے دی۔ 

لاہور ہائی کورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام غیر مشروط طور پر ای سی ایل سے نکالنے کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی۔

لاہورہائیکورٹ نے نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے درخواست کو قابل سماعت اور دائرہ اختیار سے متعلق وفاق اور نیب کا موقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست کی سماعت یہیں ہوگی اور کیس کی اگلی سماعت پیر کو ہوگی۔

نوازشریف کے وکیل امجد پرویز نے عدالت سے درخواست کی کہ نوازشریف کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے سماعت کل مقرر کی جائے، عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت کل مقرر کردی۔ لاہور ہائیکورٹ کل 11 بجے درخواست پرسماعت کرے گی۔

اس سے قبل دوران سماعت وفاقی حکومت کی جانب سے عدالت میں جواب جمع کرایا گیا جس میں کہا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ کو اس درخواست کی سماعت کا اختیار نہیں ہے لہذا ہائیکورٹ اس درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کرے۔

وفاق اور نیب کے جواب پر نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیے، اس موقع پر عدالت نے کہا کہ ہم یہاں ایک ایسے معاملے کو سن رہے ہیں جس کا نام ای سی ایل میں ہے، ابھی ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم اس کی سماعت کرسکتے ہیں کہ نہیں۔

شہباز شریف کی ہائی کورٹ میں درخواست؛

صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کی جانب سے گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ میں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے غیر مشروط طور پر نکلوانے کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت نے حکومت کے وکیل کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی تھی۔

شہباز شریف کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ سے نواز شریف کی ضمانت بیماری کی بنیاد پر منظور ہوچکی ہے، ضمانت منظور ہونے کے باوجود وفاقی وزارت داخلہ نے نام ای سی ایل سے نہیں نکالا، نواز شریف سزا یافتہ ہونے کے باوجود بیمار اہلیہ کو چھوڑ کر بیٹی کیساتھ پاکستان واپس آئے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہائیکورٹ نے ضمانت منظور کرتے ہوئے ای سی ایل سے نام نکالنے کے حوالے سے کوئی قدغن نہیں لگائی تاہم وفاقی کابینہ نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست پر شرائط عائد کر دی ہیں لہذا نواز شریف کا نام غیر مشروط طور پر ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا جائے۔

کیس کا پس منظر؛

واضح رہے کہ حکومت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو 4 ہفتوں کے لیے ایک بار بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دی تھی جب کہ وزرات داخلہ کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا تھا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری میمورنڈم میں 80 لاکھ  پاؤنڈ، 2 کروڑ 50 لاکھ  امریکی ڈالر، 1.5 ارب روپے جمع کرانے کی شرط رکھی گئی تھی۔

حکومت کی جانب سے باہر جانے کے لیے 7 ارب روپے کے سیکیورٹی بانڈ جمع کرانے کی شرط پر سابق وزیراعظم نواز شریف نے مشروط طور پر بیرون ملک جانے سے انکار کرتے ہوئے عدالت جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

امید ہے عدالت نوازشریف کی صحت کو مدنظر رکھ کر فیصلہ دیگی، احسن اقبال

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ نوازشریف کی صحت کو سنگین ترین خطرات لاحق ہیں، امید ہے عدالت ان کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے نوازشریف کو بیرون جانے کی مشروط اجازت غیرقانونی تھی، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وزارت داخلہ نے عدالت کا کام خود سنبھالا ہو، حکومت کے وزراء خود کہہ چکے ہیں کہ ووٹرز کو خوش کرنے کیلئے شرط رکھی گئی ہے، حکومت کا موقف سے واضح ہوگیا کہ وہ سیاست کھیلنا چاہتی ہے ، حکومت کی بنیاد نفرت اور انا پر ہے ۔

احسن اقبال نے کہا کہ نوازشریف کی صحت کو سنگین ترین خطرات لاحق ہیں، اور ہم نے مجبور ہوکر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، عدالت نے درخواست سماعت کیلئے کل مقررکی ہے امید ہے عدالت نوازشریف کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔

فورسز کی کوششوں سے ملک میں سماجی و اقتصادی ترقی ممکن ہوئی، آرمی چیف

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ ملک میں سماجی و اقتصادی ترقی فورسز کی کوششوں سے ممکن ہوئی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فرنٹیئر کور ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہوں نے یادگار شہدا پر حاضری دی اور پھول چڑھائے، آرمی چیف نے فرنٹیئرکورمیوزیم اور فورٹ گیلری کا بھی دورہ کیا۔

اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ کے پی بالخصوص فاٹا میں امن کے لیے فرنٹیئر کور کا کردار اہم ہے، وطن کے لیے جانیں قربان کرنے والے شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سماجی و اقتصادی ترقی فورسز کی کوششوں سے ممکن ہوئی جب کہ ملک میں دیرپا امن و استحکام کے لیے اقداما ت جاری رکھیں گے۔

کوئٹہ میں سیکیورٹی فورس کی گاڑی کے قریب دھماکا، 2 اہلکار شہید 4 زخمی

کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دھماکا ہوا ہے جس کے باعث دو اہلکار شہید جب کہ 4 زخمی ہوگئے جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کوئٹہ کے علاقے خیزئی چوکے قریب دھماکا ہوا ہے، دھماکے کی خبر ملتے ہی امدادی ٹیمیں اور پولیس جائے وقوع کی جانب روانہ ہوگئیں۔

پولیس حکام کے مطابق دھماکا بلیلی چیک پوسٹ کے قریب ہوا جس میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، دھماکے کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید اور پانچ زخمی ہوگئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں سے دو افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔

واقعے کے بعد فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔

Google Analytics Alternative