قومی

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

کاروباری معاملات میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کریں گھریلو ماحول خاصا خوشگوار رہے گا۔ اولاد سے وابستہ توقعات پوری ہو سکتی ہیں۔ جائیداد کے سلسلے میں دلچسپی نہ لیں۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

کسی حقیقی دوست کی امانت سے آپ ایک اہم کام انجام دے کر کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکیں گے۔ اپنے مخالفین کے ظاہری برتائو پر نہ جائیے یہ بھی ایک سازش ہے مقدمہ بازی سے گریز کیجئے۔

جوزا:
21مئی تا21جون

اپنے خوشامدی ساتھیوں کی باتوں میں نہ آئیے یہ آپ کو کسی نقصان سے دوچار کر سکتے ہیں۔ کوئی مخالف بھی آپ کے خلاف سازش کر سکتا ہے۔ سفر بے شوق کیجئے لیکن بلا ضرورت نہیں۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

اپنے مزاج کو مصلحت کا درس دیجئے۔ جذباتیت کا مظاہرہ آپ ہی کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کاروبار کی پوزیشن درست ہو سکتی ہے۔ کسی کے ساتھ کوئی اہم معاہدہ ہرگز نہ کریں۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

ہم نے جو مشورے دیئے تھے ان کا بغور جائزہ دوبارہ لیں اور پھر ان پر عمل پیرا ہونے کی ہمت بھی کر ڈالیں بہ فضل خدا حالات کافی بدل سکتے ہیں۔ چند رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

آپ کی اعلیٰ صلاحیتوں کے جوہر کھلیں گے اور آپ چند اہم امور با آسانی طے کر کے غیر معمولی کامیابی حاصل کر سکیں گے مذہب میں غیر معمولی دلچسپی لے لیجئے کہ یہی راہ نجات ہے۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

آپ کو کہیں نہ کہیں سے کثیر رقم حاصل ہو سکتی ہے اسے حفاظت کے ساتھ رکھ لیں کیونکہ بعض اہم کاموں کے سلسلے میں آپ کی جمع شدہ پونجی اہمیت خیز ثابت ہو سکتی ہے۔ زیادہ جلد بازی کا مظاہرہ نہ کریں۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

آپ کے قریبی رشتہ دار آپ کے خلاف افواہیں پھیلا سکتے ہیں۔ آپ کے شریک حیات کو بہکانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ خود کو کبھی احساس کمتری کا شکار نہ ہونے دیں۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

ایسے افراد پر بھروسہ ضرور کریں جو حقیق معنوں میں آپ کیساتھ مخلص ہیں اور وہ آپ کی بھلائی اور ترقی کیلئے کچھ کرنا بھی چاہتے ہیں۔ چند پر خلوص دوستوں کی مدد کے سبب آپکے اہم مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

ہر خوشی اور کامیابی حاصل کرلینے کے باوجود آپکے خیالات بڑی حد تک بکھرتے رہیں گے آپ لاحاصل سوچوں کو اپنے دماغ پر سوار رکھیں گے۔ انتہائی صبروتحمل کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرتے رہئے۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

اپنے اخراجات بھی گھٹا دیجئے یہ خیال ذہن سے نکال دیں کہ غیر معمولی اخراجات دکھاوے کے طور پرکئے جائیں تو عزت و شہرت میںاضافہ ہوتا ہے لیکن یہ سرا سر غلط بات ہے۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

تمام حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپ کو یہ رائے دیں گے کہ کوئی لاکھ کوشش کرے آپ جذباتی نہ ہوں بلکہ دل و دماغ کو ٹھنڈا رکھتے ہوئے ہر سازش کا توڑ سیاسی انداز سے کرتے رہئے۔

چوہدری نثار کو ٹکٹ دینے کے معاملے پر نوازشریف اورشہبازشریف کے درمیان اختلاف

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما چوہدری نثار کو ٹکٹ دینے کے معاملے پر نوازشریف اور شہباز شریف میں اختلاف سامنے آگیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) نے عام انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے والے امیدواروں کے ناموں کا اعلان دو مرحلوں میں جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم پارٹی کے اہم رکن اور سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار کو ٹکٹ دینے کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف اور صدر شہباز شریف میں اختلاف برقرار ہے۔

ذرائع کے مطابق شہباز شریف چوہدری نثار کو ٹکٹ دینے کے معاملے پر نرم رویہ رکھتے ہیں لیکن نوازشریف نے ٹکٹ جاری کرنے کے لیے شرط رکھی ہے کہ وہ پہلے درخواست دیں اس کے بعد ہی ٹکٹ جاری کیا جائے گا تاہم چوہدری نثار ٹکٹ کے لیے درخواست دینے سے انکار کرچکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے چوہدری نثار کی جگہ درخواست دینے والوں کو ٹکٹ جاری کرنے پر غور کیا ہے، 70 فیصد ٹکٹ پرانے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو دیے جائیں گے جب کہ شہباز شریف اور مریم نواز کے 3 حلقوں سے الیکشن لڑنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

اصغر خان کیس؛ نوازشریف کی آئی ایس آئی سے رقم وصول کرنے کی تردید

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات صدر نواز شریف نے آئی ایس آئی اور مہران بینک کے مالک یونس حبیب سے رقم وصول کرنے کی تردید کردی ہے۔

سپریم کورٹ نے اصغر خان عملدرآمد کیس میں آئی ایس آئی سے رقم وصول کرنے کے سلسلے میں نواز شریف، جاوید ہاشمی، عابدہ حسین سمیت 21 شہریوں کے علاوہ متعلقہ فوجی افسران، ڈی جی نیب اور ایف آئی اے سے جواب طلب کیا تھا۔

عدالتی نوٹس پر نواز شریف نے اصغر خان کیس میں اپنا تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا، نوازشریف کا جمع کرایاگیا جواب 4 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں انہوں نے نوے کی دہائی میں آئی ایس آئی اور یونس حبیب کے پیسے لینے کی تردید کی۔

نوازشریف کی یونس حبیب سے بھی رقم لینے کی تردید 

نواز شریف نے اپنے تحریری جواب میں موقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے1990 کی دہائی میں الیکشن مہم کے لئے آئی ایس آئی سے کوئی رقم نہیں لی، اس کے علاوہ انہوں نے یونس حبیب یا ان کے کسی نمائندے سے بھی کوئی رقم نہیں لی، اس حوالے سے وہ ایف آئی اے کو 14 ستمبر 2015 کو بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں۔

’’جماعت اسلامی نے آئی ایس آئی سمیت کسی سے کبھی رقم نہیں لی ‘‘

دوسری جانب امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ میں جواب جمع کرواتے ہوئے 1990 کے انتخابات میں پیسے لینے کی تردید کردی۔ سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آئی ایس آئی سمیت کسی سے کبھی رقم نہیں لی، جماعت اسلامی 2007 میں رضاکارانہ طور پر عدالتی کارروائی کا حصہ بنی اور عدالت میں بیان حلفی جمع کرایا کہ اس پر عائد الزامات غلط ہیں۔ سراج الحق نے مزید کہا کہ بطور امیر جماعت اسلامی ہر تحقیقات، کمیشن یا فورم پر پیش ہونے کو تیار ہوں۔

اصغر خان کیس کا پس منظر 

1990 میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت کو گرانے کے لیے فوج اور آئی ایس آئی نے اسلامی جمہوری اتحاد بنایا تھا اور نواز شریف سمیت متعدد سیاست دانوں کو پیسے دیے تھے۔ یہ پیسے مہران بینک کے مالک یونس حبیب کے ذریعے تقسیم کیے گئے۔ اصغر خان نے سپریم کورٹ میں اس معاملے کی تحقیقات کرانے کیلئے درخواست دائر کی تھی۔

2012 میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اصغر خان کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 1990ء کے انتخابات میں دھاندلی اور سیاسی عمل کو آلودہ کرنے کا جرم ثابت ہونے پر سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اسد درانی کے خلاف وفاقی حکومت کو قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا۔

جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین الیکشن سے دستبردار

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین نے جولائی میں ہونے والے عام انتخابات سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا۔

علی ترین نے سوشل میڈیا پر اپنے ویڈیو پیغام میں الیکشن سے دستبرداری کا اعلان کیا۔

انہوں نے لودھراں سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 161 سے کاغذات نامزدگی وصول کیے تھے۔

علی ترین کا کہنا تھا کہ ٹکٹ اس امیدوار کو ملنا چاہیے جو بہترین امیدوار ہے اور بہترین امیدوار وہ ہے جو صبح دوپہر شام رات اپنی پارٹی کے لیے محنت کرتا ہے۔

Ali Khan Tareen@aliktareen

A message for my fellow PTI workers in Lodhran.

ان کا کہنا تھا کہ جو امیدوار ووٹرز کے پاس جاتا ہے اور انہیں متحرک کرتا ہے۔

علی ترین نے کہا کہ پچھلے الیکشن میں ہم نے مل کر محنت کی تھی، الیکشن تو ہم نہیں جیت پائے لیکن حکومت کے خلاف 90 ہزار ووٹ حاصل کیے جو بہت بڑی جیت تھی۔

جہانگیر ترین کے بیٹے کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت آکسفورڈ یونیورسٹی سے ماسٹرز کر رہے ہیں جو ستمبر میں مکمل ہونا ہے اور الیکشن جولائی میں آ رہے ہیں یعنی جون اور جولائی انتخابی مہم کے مہینے ہیں اس لیے میری مجبوری ہے کہ میں اس مہم میں وقت نہیں دے سکتا۔

علی ترین کا کہنا تھا میں اپنا 100 فیصد وقت انتخابی مہم میں نہیں دے سکتا اس لیے سمجھتا ہوں کہ میں پارٹی ٹکٹ کا حقدار نہیں ہوں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ پی ٹی آئی جس امیدوار کو بھی منتخب کرے آپ اس کی حمایت کریں اور اسے جتوائیں۔

خیال رہے کہ جہانگیر ترین کی نااہلی کے بعد فروری میں این اے 154 لودھراں میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں علی ترین کو مسلم لیگ ن کے امیدوار پیر اقبال شاہ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

گوادر اور چاہ بہار میں رابطے سے پاک ایران تعلقات مضبوط ہوں گے، ممنون حسین

بیجنگ: صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ گوادر اور چاہ بہار بندرگاہوں میں رابطے سے پاک ایران تعلقات مضبوط ہوں گے۔

صدر ممنون حسین اور ایرانی صدر حسن روحانی کے درمیان چین میں ملاقات ہوئی۔ چین کے شہر چنگ ڈاؤ میں شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس جاری ہے۔ اس موقع پر صدر مملکت ممنون حسین اور ایران کے صدر روحانی کے درمیان ملاقات ہوئی۔

دونوں رہنماؤں نے پاک ایران دو طرفہ تعلقات سمیت خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ صدر ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک نے اہم معاملات پر ہمیشہ ایک دوسرے کی حمایت کی ہے۔

صدر ممنون حسین نے کشمیری عوام کی جدوجہد کی حمایت کرنے پر ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کو سراہتے ہوئے کہا کہ گوادر اور چاہ بہار بندرگاہوں کے درمیان رابطے سے پاک ایران تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ افغانستان میں امن و استحکام پاکستان اور ایران کے لیے اہم ہے۔

عمران خان نے لوٹوں کو ٹکٹ دیے اور زداری سے کوئی لینے کو تیار نہیں، شہباز شریف

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان نے لوٹوں کو انتخابی ٹکٹ دیے جب کہ آصف زرداری  سے کوئی امیدوار ٹکٹ لینے کے لیے تیار نہیں۔

ایک بیان میں میاں شہبا زشریف کا کہنا تھا کہ ووٹ کی طاقت سے آصف زرداری اور عمران خان کی سیاست دفن کر دیں گے، نیازی نے لوٹوں کوٹکٹ دے کر اپنا نیا پاکستان دکھا دیا ہے مجھے تحریک انصاف کے ان سیاسی کارکنوں سے دلی ہمدردی ہے جنہیں نئے پاکستان کے نام پر دھوکا دیا گیا ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ٹکٹوں کی تقسیم سے ہی ظاہر ہو گیا ہے کہ انہیں اپنی ہار صاف نظر آرہی ہے اور دوسری طرف آصف زرداری ٹکٹیں لے کر گھوم رہے ہیں اور کوئی ٹکٹ لینے کے لیے تیار نہیں ہے، انتخابات میں عوام ہر حلقے میں شیر پر مہر لگا کر سیاسی لوٹوں کی سیاست کو دفن کر دیں گے۔

اصغر خان کیس میں جماعت اسلامی نے جواب جمع کروا دیا، پیسے لینے کی تردید

 اسلام آباد: اصغر خان کیس میں جماعت اسلامی نے جواب جمع کرواتے ہوئے آئی ایس آئی سے پیسے لینے کی تردید کی ہے۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ میں جواب جمع کرواتے ہوئے 1990 کے انتخابات میں پیسے لینے کی تردید کردی۔ سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آئی ایس آئی سمیت کسی سے کبھی رقم نہیں لی، جماعت اسلامی 2007 میں رضاکارانہ طور پر عدالتی کارروائی کا حصہ بنی اور عدالت میں بیان حلفی جمع کرایا کہ اس پر عائد الزامات غلط ہیں۔ سراج الحق نے مزید کہا کہ بطور امیر جماعت اسلامی ہر تحقیقات، کمیشن یا فورم پر پیش ہونے کو تیار ہوں۔

اصغر خان کیس کا پس منظر

1990 میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت کو گرانے کے لیے فوج اور آئی ایس آئی نے اسلامی جمہوری اتحاد بنایا تھا اور نواز شریف سمیت متعدد سیاست دانوں کو پیسے دیے تھے۔ یہ پیسے مہران بینک کے مالک یونس حبیب کے ذریعے تقسیم کیے گئے۔ اصغر خان نے سپریم کورٹ میں اس معاملے کی تحقیقات کرانے کیلئے درخواست دائر کی تھی۔

2012 میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اصغر خان کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 1990ء کے انتخابات میں دھاندلی اور سیاسی عمل کو آلودہ کرنے کا جرم ثابت ہونے پر سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اسد درانی کے خلاف وفاقی حکومت کو قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا۔

سندھ میں پی پی حکومت میں ایک بھی ترقیاتی منصوبہ نظر نہیں آیا، چیف جسٹس

کراچی: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ سندھ میں دس سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے لیکن مجھے ایک بھی ترقیاتی منصوبہ نظر نہیں آیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے کراچی رجسٹری میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران سابق چیئرمین واپڈا ظفر محمود نے عدالت کو کالا باغ ڈیم اور ملک میں پانی کی کمی سے متعلق بریفنگ دی۔

’’ 90 سے 95 فیصد پانی ذراعت میں استعمال ہوتا ہے ‘‘

ظفر محمود نے عدالت کو بتایا کہ 90 سے 95 فیصد پانی ذراعت میں استعمال ہوتا ہے، موسمیاتی تبدیلی پر پاکستان میں سیلاب آنا شروع ہوئے، گلیشیر تیزی سے پگھلنا شروع ہوچکے ہیں، زیر زمین خطرناک حد تک نیچے جا چکا، کوئٹہ کا پانی اتنا نیچے جا چکا ہے کہ بحالی میں 2 سو سال لگیں گے، انڈس واٹر معاہدے سے بھی خطرات ہوچکے ہیں۔

چیرمین واپڈا نے کہا کہ بھارت نے تین دریاؤں راوی، ستلج اور بیاس کے پانی پر قبضہ کر لیا ہے، بھارت تسلسل کے ساتھ پانی بند کرنے کی کوشش کرے گا، بھارت ہمیں پانی کے حوالے سے مزید تنگ کرے گا، بھارت کے ڈیمز میں تکنیکی طور پر زیادہ پانی جمع کرنے کے ذرائع ہیں، جب سیلاب آتا ہے تو بھارت پانی چھوڑ سکتا ہے، ڈیمز بنانے سے متعلق ہم نے کوتاہی کی اور تمام حکومتیں ہی اس مجرمانہ غفلت کی ذمہ دار ہیں، لوگوں میں پانی کے استعمال اور بچت پر آگاہی دینے کی ضرورت ہے، صنعتوں سے متعلق کوئی مربوط پالیسی نہیں، صنعتی ماحول سے زیر زمین پانی بھی خراب ہو رہا ہے۔

’’ لاکھوں گیلن گندا پانی سمندر میں جا رہا ہے ‘‘

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم اس وقت پاکستان میں کالا باغ ڈیم کے حق میں مکالمہ نہیں کررہے، ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ پانی کی قلت کیسے ختم ہوگی، ہمیں معلوم ہے کہ آئندہ وقتوں میں پانی کی اہمیت کیا ہوگی، 10 سال بعد کوئٹہ میں پینے کا پانی نہیں ہوگا اور لوگوں کو کوئٹہ سے ہجرت کرنا پڑے گی، ہمیں معلوم ہے کہ صنعتیں فضلہ صاف کرنے کے بجائے نالوں میں پھینک رہے ہیں، لاکھوں گیلن گندا پانی سمندر میں جا رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے عدالت عظمیٰ کے روبرو کہا کہ پانی کی قلت پر قابو پانے کے کئی حل موجود ہیں، جس میں سمندر کے پانی کو میٹھا بنانے کا منصوبہ شامل ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ منصوبے تو کاغذ پر تھے ہم نے نوٹس لیا تو کام شروع ہوا، آپ کی حکومت تو سندھ میں دس سال سے ہے مجھے ایک ترقیاتی منصوبہ نظر نہیں آیا۔

’’ کالا باغ ڈیم کا معاملہ متنازعہ ہوچکا ہے ‘‘

مجیب پیرزادہ ایڈوکیٹ نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ پوری قوم آپ کے ساتھ ہے اچھے فیصلوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، کالا باغ ڈیم کا معاملہ متنازعہ ہوچکا ہے، چاروں صوبوں کے عوام نے کالا باغ ڈیم کے خلاف بات کی ہے، پانی کے بحران اور قلت پر کسی کو اعتراض نہیں مگر کالاباغ ڈیم کا نام جہاں آتا ہے تنازع کھڑا ہوتا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ وفاق کی عدالت ہے، ہم جوڑنے کیلئے بیٹھے ہیں توڑنے کیلئے نہیں، وعدہ کرتا ہوں سپریم کورٹ کوئی ایسا حکم نہیں دے گی جس سے کوئی فریق متاثر ہو، جہاں تنازع ہو اور چار بھائی متفق نہیں تو متبادل حل نکالیں،  ہم آنے والی نسل کو اچھا مستقبل دے کر جائیں گے، آپ سب خطرہ محسوس نہ کریں، ہم کالا باغ ڈیم پر بات نہیں کر رہے، ہم نے کل پرویز مشرف کو آنے کو کہا تو اس کا بھی سب کو خطرہ ہو رہا ہے، پرویز مشرف سے کسی کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے، پرویز مشرف آئیں اور قانون کا سامنا کریں، کسی کے لیے خطرے کی بات نہیں ہونی چاہیے۔

’’ ملک میں قانون بنانے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے ‘‘

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ زندگی کے لیے سب سے زیادہ پانی کی اہمیت ہے، اگر پانی نہیں تو زندگی کہاں رہے گی، ہمیں کوئی پالیسی بنانی ہوگی، ہم چاہ رہے ہیں پانی کے مسائل پر بات ہو اور پانی بحران پر قابوپایا جاسکے۔  پانی بحران دور کرنے کے لیے ایک ماہ پہلے پنجاب حکومت کو ہدایت دی تھی لیکن  ہدایت کے باوجود پنجاب حکومت نے ایک ٹکے کا کام نہیں کیا،  اب توجہ نہیں دیں تو حالات کبھی نہیں سدھریں گے، ہم نے پانی کی قلت کے خاتمے کا تہیہ کر لیا ہے، ہم ایک ٹیم بنا دیتے ہیں جس میں اعتزاز احسن اور دیگر ماہرین کی خدمات لیں گے۔ ملک میں قانون بنانے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے ذریعے قانون بنا کر پارلیمنٹ کو سفارش کی جاسکتی ہے، قوم اختیار دے تو سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ اب سپریم کورٹ ڈیمز بنانے سے متعلق آگے بڑھے گی اور کردار ادا کرے گی، سیمینارز کے ذریعے پہلا قدم اٹھائیں گے، عید کے بعد سپریم کورٹ کا لاء اینڈ جسٹس ڈیپارٹمنٹ سیمینار کرائے گا، ماہرین تجاویز دیں بیٹھ کر ایس او پیز بنائیں گے۔  ہم کراچی اور سندھ سے اس کا آغاز کریں گے، عدالت نے سابق چیئرمین واپڈا ظفر محمود سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

’’ پرویز مشرف سے کسی کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے ‘‘

سابق صدر پرویز مشرف کے معاملے پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے کل پرویز مشرف کو آنے کو کہا تو اس کا بھی سب کو خطرہ ہو رہا ہے، پرویز مشرف سے کسی کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے، پرویز مشرف آئیں اور قانون کا سامنا کریں، کسی کے لیے خطرے کی بات نہیں ہونی چاہیے۔

Google Analytics Alternative