قومی

فواد چوہدری اور مشاہداللہ کے مابین سینیٹ اجلاس میں ایک بار پھر گرما گرمی

اسلام آباد: وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے (ن) لیگ کے سینیٹر مشاہداللہ کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا جس کے بعد دونوں رہنماؤں میں تکرار اور تلخ جملوں کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ 

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا تو وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری اور (ن) لیگ کے سینیٹر مشاہداللہ خان کے مابین ایک بار پھر گرمام گرمی شروع ہوگئی اور تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا جس کے بعد ایوان مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا۔

وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے ایک بار پھر مشاہداللہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ لیگی رہنما کا پورا خاندان پی آئی اے میں ہے اور انہوں نے مل کر ادارے کا بیڑہ غرق کردیا، میں نے حقیقت بیان کی تو مجھے معافی مانگنے کا کہا جارہا ہے، لیکن میں معافی نہیں مانگوں گا۔

فواد چوہدری کی تنقید کے دوران (ن) لیگ کے سینیٹر مشاہداللہ بھی اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے اور دونوں کے مابین بحث و تکرار شروع ہوگئی۔ چیئرمین سینیٹ نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں کو خاموش کرایا اور نشستوں پر بٹھا دیا۔

ایوان میں اظہارِخیال کرتے ہوئے سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ مجھے سینیٹ میں 26 سال ہوگئے لیکن ایسا ماحول نہیں دیکھا، ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالی جارہی ہیں، چیئرمین سینیٹ ایوان کا ماحول بہتر بنانے میں اپنا اختیار استعمال کریں تاکہ ملک کی موجودہ صورتحال خصوصاً آئی ایم ایف سمیت اہم معاملات پر بات ہوسکے۔

پاک فوج میں تقرریاں و تبادلے؛ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ڈی جی آئی ایس آئی مقرر

راولپنڈی: پاک فوج میں 7 اعلیٰ ترین عہدوں پر تقرریاں و تبادلے کیے گئے ہیں۔ 

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کردیا گیا ہے جب کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم ذکی کو کور کمانڈر منگلا تعینات کیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل شاہین مظہر کور کمانڈر پشاور، لیفٹیننٹ جنرل اظہر صالح عباسی چیف آف لاجسٹک اسٹاف اور لیفٹیننٹ جنرل عبدالعزیز کو ملٹری سیکرٹری جی ایچ کیو تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عدنان وائس چیف آف جنرل اسٹاف جب کہ لیفٹیننٹ جنرل وسیم اشرف کو آئی جی آرمز تعینات کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے تاہم ان کی مدت ملازمت 25 اکتوبر کو مکمل ہو رہی ہے، لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کور کمانڈر کراچی بھی رہ چکے
ہیں۔

پچاس لاکھ گھر صرف اعلان سے نہیں بن جائیں گے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ وزیراعظم جاکر کچی آبادیوں کے حالات دیکھیں اور پچاس لاکھ گھر صرف اعلان سے نہیں بنیں گے۔

اسلام آباد میں کچی آبادیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کچی آبادیوں میں حالات رہنے کے قابل نہیں، حکومت کا کام ہے کچی آبادی کے مکینوں کو سہولیات دے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی نے کہا کہ پچاس لاکھ گھر بنانے کا وزیراعظم نے اعلان کیا ہے، عدالت تھوڑا وقت دے عملدرآمد رپورٹ دیں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ معلوم کر کے بتائیں وزیراعظم کب فارغ ہیں، وزیراعظم خود چل کر کچی آبادیوں کے حالات دیکھیں، وزیراعظم کو حکم جاری نہیں کر رہا، بطور چیف ایگزیکٹو انہیں معلوم ہونا چاہیے کچی آبادی میں کتنے مکین رہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پچاس لاکھ گھر بنانا خالہ جی کا گھر نہیں، اسکے لیے وقت اور پیسہ درکار ہوگا، اتنے گھر صرف اعلان سے نہیں بن جائیں گے، کئی لوگ ایک گھر میں چار خاندان رجسٹرڈ کروا لیں گے تاکہ زیادہ گھرملیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد کی کچی آبادیاں رہنے کےقابل نہیں، کیوں نہ کمیشن بنا کر پشاور کی کچی آبادی کا جائزہ لے لیں، حد ہوگئی ہے پھر کہتے ہیں تبدیلی آگئی ہے، ہچکی فلم دیکھیں تو معلومہوگا غریبوں کیساتھ کیا سلوک ہوتا ہے، اس میں کچی آبادی والوں کی زندگی کی عکاسی ہے، حکومت کی نیت پر شک نہیں، نئے گھروں کے تعمیرتک کچی آبادیوں کی حالت میں بہتری کریں۔

عدلیہ پر دباؤ ڈال کر مرضی کے فیصلے کرانا خطرناک ہوگا، خورشید شاہ

سکھر: پیپلز پارٹی کے رہنما  خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ عدلیہ پر دباؤ ڈال کر مرضی کے فیصلے کرائے جائیں گے تو یہ خطرناک ثابت ہوں گے۔

سکھر میں ہائی کورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا تھاکہ عمران خان نے غیر سنجیدہ بیانات دیے، اب ان کے بیانات کا مذاق اڑایا جارہا ہے، عمران خان کہتے تھے کہ آئی ایم ایف جانے سے بہتر ہے خودکشی کرلیں، کل ملک کے لیے خطرہ قرار دینے والی جماعت کو وزارت دے دی گئی، اگر ایم کیوایم حکومت سے نکل جائے تو حکومت کا خدا حافظ ہوجائے گا۔

پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ معیشت پرخطرناک حد تک دباؤ ہے، دو ماہ میں اربوں روپے کا نقصان ہوا، لوگ کنگال ہوگئے، عمران خان کے پاس 70 فیصد پرویز مشرف کی ٹیم ہے، جن کی سوچ بھی آمرانہ ہے، عدلیہ پر دباؤ ڈال کر مرضی کے فیصلے کرائے جائیں گے تو یہ خطرناک ثابت ہوں گے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی ختم ہوتی نظر آرہی ہے لیکن ہم پھر بھی کوشش کررہے ہیں کہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے۔

ہماری حکومت ہی ملکی معیشت کو دلدل سے نکالے گی، وزیر اعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں اور یہ واحد حکومت ہوگی جو معیشت کو دلدل سے نکالے گی۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت سینئرپارٹی رہنماؤں کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، شفقت محمود، شیریں مزاری، اعظم سواتی، شبلی فراز، علی محمد خان اور عثمان ڈار سمیت دیگرنے شرکت کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے پارٹی رہنماؤں کو آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی وجوہات بتائیں اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نے پارٹی رہنماؤں کو حکومتی موقف کے دفاع کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی موقف درست انداز میں میڈیا اور عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ عوام کو ہر معاملے پر اعتماد میں لیں ہم عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں اور یہ واحد حکومت ہوگی جو معیشت کو دلدل سے نکالے گی۔

 

حکومت انتقامی سیاست کر رہی ہے، نواز شریف

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت انتقامی سیاست کر رہی ہے اور اگر اس کو احتساب کہتے ہیں تو بہت افسوس ہے۔

احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے حکومت اور نیب پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام پر کوئی بھی پاکستانی نہیں بچ سکتا، امیر ہو یا غریب، جائیداد بیچنے پر مکمل آمدن ظاہر نہیں کرتا، حکومت انتقامی سیاست کر رہی ہے، ہم نے درگزر کرنے کی اچھی روایات ڈالیں، ہماری حکومت نے کوئی سیاسی انتقامی کارروائی نہیں کی تاہم اگر اس کو احتساب کہتے ہیں تو بہت افسوس ہے۔

50 گرفتاریوں کی باتیں حکومت کو کون بتا رہا ہے

نواز شریف نے کہا کہ وزیراعظم اور وزراء کے منہ سے خود باتیں نکل رہی ہوں تو اس کو کیا کہا جائے، حکومت کے لوگ کہہ رہے ہیں 50 لوگ اور گرفتار ہوں گے، وزیراعظم بھی یہی بات بول رہے ہیں کیا یہ باتیں حکومت کے کہنے کی ہیں، 50 گرفتاریوں کی باتیں حکومت کو کون بتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فواد حسن فواد کے وعدہ معاف گواہ بننے کی بات معلوم نہیں، نیب میں سلمان شہباز کو بلانے سے بڑا مذاق کیا ہوگا۔

اب سب کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں

صحافی کی جانب سے سوال پر کہ ڈالر 136 کا ہوگیا ہے، نواز شریف نے کہا کہ اب سب کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور نیب سمیت مشرف دور کے تمام کالے قانون ختم ہونے چاہئیں، ابھی میرا بات کرنے کا دل نہیں کرتا، بولوں گا لیکن ابھی نہیں۔

شہباز شریف نے محنت اور جاں فشانی سے کام کیا

نواز شریف نے کہا کہ شہباز شریف نے دیانت داری پر کسی کو انگلی نہیں اٹھانے دی، شہباز شریف نے محنت اور جاں فشانی سے کام کیا، صبح دیکھی نہ شام، دن رات کام کیا، انہوں نے خود کو بیمار کرلیا اور کینسر میں مبتلا ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ جس کمپنی کو شہباز شریف نے ٹھیکا دینا مناسب نہیں سمجھا، کے پی حکومت نے اس کو ٹھیکا دیا، کے پی حکومت نے ٹھیکا کیوں دیا نیب کو تحقیقات کرنی چاہیے، ایسے کاموں پر ریفرنس دائر ہونا چاہیے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی اور غیر ملکی شہباز شریف کے کام کی تعریف کرتے ہیں، موجودہ حکومت کے کچھ لوگوں نے شہباز شریف پر الزام لگایا، چینی حکومت کی وضاحت پر شہباز شریف پر الزام لگانے والوں کو منہ کی کھانا پڑی، ایسے لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک دکھ کی بات ہے۔

ملک آگے بڑھانے کیلئے در گزر سے کام لینا ہوگا

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک آگے بڑھانے کیلئے در گزر سے کام لینا ہوگا، یہ ملک پہلے ہی بیٹھ چکا ہے، ایسا ہوتا رہا تو اور بیٹھ جائے گا اور نظام درست ہونے میں وقت لگے گا۔

اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی کے باہر احتجاجی اجلاس طلب کرلیا

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف ان کی جماعت نے قومی اسمبلے کے گیٹ کے باہر اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس طلب کر لیا۔

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس جمعرات، 11 اکتوبر کی سہ پہر 3 بجے قومی اسمبلی کے گیٹ نمبر ایک پر ہو گا۔

اعلامیے کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کا یہ اجلاس سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے طلب کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس کو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف طلب کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی اجلاس طلب کرنے کی ریکوزیشن بھیجی تھی جسے حکومت نے قبول نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اپوزیشن نے احتجاجی اجلاس بلا یا جارہا ہے۔

اجلاس میں قومی اسمبلی و سینیٹ کے حزب اختلاف کے اراکین شریک ہوں گے۔

واضح رہے کہ 6 اکتوبر کو اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی گرفتاری پر اسپیکر اسد قیصر سے ایوانِ زیریں کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

اپوزیشن اراکین نے اسپیکر قومی اسمبلی سے اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری پر ایوان کا اجلاس بلانے اور ان کے حفاظتی احکامات جاری کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن اراکین کو یقین دلایا کہ آئندہ 14 روز میں اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری پر ایوان کا اجلاس بلایا جائے گا جبکہ اس معاملے میں حفاظتی احکامات بھی جاری کیے جائیں گے۔

گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل کمیٹٰ کے اجلاس میں پارٹی صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا۔

اجلاس کے بعد رانا ثنااللہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اگر کل (منگل) تک قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس نہیں بلایا جاتا تو بدھ کے روز دونوں عمارتوں کے باہرشہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف اپوزیشن احتجاج کرے گی۔

آئی جی پنجاب کا تبادلہ ضمنی انتخابات میں دھاندلی کیلیے کیا گیا، مریم اورنگزیب

اسلام آباد: مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ انتخابات سے 10 روز قبل راتوں رات آئی جی پنجاب کا تبادلہ کیا گیا تاہم یہ تبادلہ ضمنی انتخابات میں دھاندلی کے لیے کیا گیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران رہنما مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اپنی نااہلی چھپانے کے لیے روز تماشا کرکے عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے ، جھوٹ بول کر عوام کے منہ سے نوالہ چھیننے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، لوڈشیڈنگ پرنوٹس نہیں لیکن سی این جی اسٹیشنز کے ٹوائلٹس کی صفائی وزیراعظم خود دیکھیں گے ۔ وزرا روز ایسی زبان استعمال کررہے ہیں جو کوئی شخص اپنے گھر میں استعمال نہیں کرسکتا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ 2 دن سے انٹربینک میں ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، اسٹاک ایکسچینج میں لوگوں کے اربوں روپے ڈوب رہے ہیں، حکومت نے عوام پر مہنگائی کا بم گرایا ہے، عوام کو حقیقت بتائیں کہ آپ ایک نااہل ٹیم اور ٹولہ ہیں، یہ سب نقصان آپ کی نااہلی کی وجہ سے ہورہا ہے۔ عوام کو بتائیں کہ  آئی ایم ایف میں جانے سے پہلے گیس بجلی کی قیمت کیوں بڑھائی گئی۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ اگر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا تو خودکشی کر لوں گا، ہم انہیں خودکشی کا مشورہ نہیں دیتے کیونکہ یہ حرام ہے، خارجہ پالیسی کے بلنڈرز سے ملک کا نقصان ہورہا ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سینیئر صوبائی وزیر محمود الرشید کے بیٹے نے پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا اور اغوا کیا، محمود الرشید کے بیٹے کس حالت میں پکڑے گئے تھے وہ میں قوم کو نہیں بتانا چاہتی، آج آئی جی پنجاب محمد طاہر کو تبدیل کر دیا گیا کیونکہ آئی جی نے پولیس پر تشدد کے بعد محمود الرشید کی بات نہیں مانی تو آئی جی کا تبادلہ کردیا گیا، انتخابات سے 10 روز قبل راتوں رات آئی جی پنجاب کا تبادلہ کیا گیا تاہم یہ تبادلہ ضمنی انتخابات میں دھاندلی کے لیے کیا گیا، چیف جسٹس آئی جی پنجاب کی تبدیلی کا نوٹس لیں۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کو گرفتار کرکے پیغام دیا گیا کہ آپ کو عثمان بزدار بننا چاہیے تھا، آپ نے پنجاب کو کیوں ترقی دی، انہیں بکتر بند گاڑی میں عدالت لایا گیا ۔ کیا وہ اشتہاری یا دہشتگرد تھے جو بکتر بند گاڑی میں لایا گیا۔

Google Analytics Alternative