قومی

یہ جمہوری حکومت نہیں کٹھ پتلی ہے اصل حکومت تو اسٹیبلشمنٹ کررہی ہے، فضل الرحمان

پشاور: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کےسربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ یہ جمہوری حکومت نہیں بلکہ کٹھ پتلی ہے اصل حکومت تو اسٹیبلشمنٹ کررہی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کےسربراہ مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم انتہا پسند نہیں، اگر ہم انتہا پسند ہوتے توطالبان کی مخالفت نہ کرتے، ہم نے اسلحہ اٹھانے اورخودکش حملوں کی مخالفت کی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 27اکتوبر کوکشمیری عوام سے اظہاریکجہتی مناتے ہوئے قافلے نکلیں گےاور31اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوں گے، حکمران ہمارے رضاکاروں کے ڈنڈوں سے خوفزدہ کیوں ہیں، حکمران بسیں روکیں گے تو ہم گھوڑوں، پیدل، سائیکلوں اورکشتیوں میں آئیں گے چاہےدوماہ بھی انتظارکیوں نہ کرناپڑے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک میں اسرائیل کوتسلیم کرنے کی مہم چل رہی ہے، عالمی سطح پرگریٹ گیم جاری ہے اورامریکا نئی جغرافیائی تقسیم کرناچاہتاہے، بوڑھے ریٹائرڈ جرنیل کشمیرحاصل کرنےکاطریقہ بتانے کی بجائے اسرائیل تسلیم کرنے پردلائل دیتے ہیں، یہ ریٹائرڈ جرنیل اپنی حدود میں رہیں ہمیں سیاست کرنا نہ سکھائیں۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ یہ جمہوری حکومت نہیں بلکہ کٹھ پتلی ہے، اصل حکومت تو اسٹیبلشمنٹ کررہی ہے، جعلی حکومت کے خلاف پوری اپوزیشن یکجاہے، وزیراعظم اب سلیکٹیڈ نہیں بلکہ ریجیکٹیڈ ہے، جب آئین پرڈاکہ ڈالاگیاتوہم کیسے خاموش رہ سکتے ہیں، قران وسنت  کے مطابق ہی پاکستان میں قوانین بنیں گے۔

خراب موسم کے باعث برطانوی شاہی جوڑے کا طیارہ اسلام آباد لینڈ نہ کرسکا

اسلام آباد: موسم کی خرابی کے باعث شاہی جوڑا اسلام آباد نہ پہنچ سکا اور طیارے کو واپس لاہور لینڈ کروادیا گیا۔

پاکستانی دورے پر آئے ہوئے برطانوی شاہی جوڑے کا طیارہ اسلام آباد میں خراب موسم کے باعث نور خان ائیربیس پر لینڈ نہیں کرسکا، ایک گھنٹہ تک اسلام آباد کی فضاء میں رہنے کے بعد طیارے کو واپس لاہور ایئرپورٹ پر اتار دیا گیا۔

سول ایوی ایشن کے مطابق شہزادہ ولیم کا طیارہ 6 بج کر 35 منٹ پر لاہور ائیرپورٹ سے ٹیک آف ہوا تھا اور اسے نور خان ایئربیس پر لینڈ کرنا تھا تاہم اسلام آباد کا موسم خراب ہونے کی وجہ سے پرواز فضا میں ہولڈ پر رہی اور بالآخر اسے واپس لاہور کی جانب موڑنا پڑا۔

واضح رہے کہ برطانوی شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ ڈچز آف کیمبرج کیٹ مڈلٹن 14 اکتوبر کی شب 5 روزہ تاریخی دورے پر پاکستان پہنچے تھے۔ انہوں نے اپنے دورے کا آغاز دارالحکومت اسلام آباد کے ایک سرکاری  اسکول سے کیا تھا، جب کہ شاہی جوڑا 18 اکتوبر کو اسلام آباد سے ہی اپنے  وطن واپس روانہ ہوگا۔ گزشتہ 10 سال میں کسی بھی برطانوی شاہی جوڑے کا یہ پہلا دورہ پاکستان ہے۔

ٹانک میں دو گروپوں میں مسلح تصادم، 11 افراد جاں بحق

ٹانک: اشتہاری انعام مروت اور بیٹنی گروپ کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں 11 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔

خیبرپختون خوا کے ضلع ٹانک میں دو مسلح گروپوں کے درمیان تصادم میں اب تک 11 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس کے مطابق اشتہاری انعام مروت اور بیٹنی گروپ کے مابین ہونے والے مسلح تصادم میں انعام مروت گروپ کے 3 اشتہاری اور بیٹنی قبیلے کے 4 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جب کہ 4 افراد نے اسپتال میں دم توڑا۔

لاشوں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے جاں بحق افراد کی تعداد 11 ہوچکی ہے جب کہ اسپتال میں لائے گئے متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

سندھ کے پولیس افسران فنڈز میں خورد برد کرتے ہیں، آئی جی سندھ

کراچی: آئی جی سندھ کلیم امام نے انکشاف کیا ہے کہ سندھ میں تعینات پولیس افسران فنڈز میں خورد برد کرتے ہیں۔

آئی جی سندھ کلیم امام کی زیرصدارت اعلیٰ پولیس افسران کا اجلاس ہوا، جس میں آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ جب عہدہ سنبھالا تو آئی جی سندھ جاچکے تھے اور مجھے بہت سے چیلنجز درپیش تھے، تاہم  ایک بہترین حکمت عملی اور مثبت سوچ کے ساتھ چلے اور کراچی سمیت سندھ بھر میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کو تقریباً ختم کردیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق آئی جی سندھ نے پولیس افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس افسران تعیناتی کے بعد اپنا کاروبار چلاتے ہیں اور کچھ افسران تو جرائم پیشہ افراد کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، سندھ بھر میں تعینات افسران فنڈز میں خردبرد بھی کرتے ہیں، کچھ افسران کو کام کا کہو تو ٹائم پاس کرتے ہیں، یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایک ایڈیشنل آئی جی اور 5 ایس ایس پیز کے خلاف کارروائی کی گئی۔

حکومت کا مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اورخیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکتکی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے سربراہ وزیردفاع پرویز خٹک ہونگے۔ کمیٹی اپوزیشن سے اس کے مطالبات پر مذاکرات کرے گی۔

کورکمیٹی نے ملکی سیاسی و معاشی صورتحال اور مہنگائی کے خلاف اقدامات پر بھی غور کیا جب کہ پارٹی کی صوبائی تنظیموں کوتحلیل کرنے پر بھی سوچ بچار کی گئی۔

کور کمیٹی نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں فوری بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے شرکا کو سعودی عرب، ایران اور چین کے دوروں پر اعتماد میں بھی لیا۔اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت اپوزیشن کے جائز تحفظات ضرور سنے گی تاہم ملک کو اس وقت اور بھی خطرات درپیش ہیں اور حکومت کو معیشت اور کشمیر جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، ہم کشمیر کا مقدمہ عالمی فورمز پر لڑ رہے ہیں۔

کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، آرمی چیف

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے ہر قیمت پر اپنا کردارادا کرتے رہیں گے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرو ل کا دورہ کیا، دورہ کے دوران آرمی چیف کوایل اوسی کی صورت حال اور بھارت کی  جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پربریفنگ دی گئی۔

اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ بہادری سے بھارتی مظالم کا سامنا کر رہے ہیں، ہم کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ہرقیمت پرکشمیریوں کےلیےاپنامثبت کرداراداکرتےرہیں گے۔

وزیراعظم کے مستعفی ہونے تک حکومت سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے استعفیٰ سے قبل حکومت سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔

محمود خان اچکزئی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ قوم نے 10 ماہ میں جعلی الیکشن کے نتائج دیکھ لئے ہیں، 400 ادارے بیچے جارہے ہیں، اب پوری قوم کی ایک ہی آواز ہے نئے الیکشن کرائے جائیں، انتخابات کے بعد جو بھی نتائج ہوں اور جو بھی جیتے نتائج ہم قبول کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی لوگ غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں، حکومت کے تمام حربے ناکام ہوچکے ہیں، وزیراعظم کے استعفیٰ سے پہلے حکومت سے مذاکرات نہیں ہوں گے، آئین کی حکمرانی اور اداروں کا حدود میں رہ کر کام کرنے کے مطالبے پر دوسری رائے نہیں ہوسکتی۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ کسی ادارے نے عوام کا راستہ روکنے کی کوشش کی تو سمجھا جائے گا کہ ادارے ریاست کے لیے نہیں بلکہ کسی اور کے لئے استعمال ہورہے ہیں، ہم اداروں سے تصادم نہیں چاہتے لیکن اداروں کو بتانا چاہتا ہوں اگر مارشل لا کی کوشش کی تو آزادی مارچ کا رخ ان کی طرف موڑ دیا جائے گا۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ  نہ ہماری کسی سے ذاتی دشمنی ہے نہ کسی کی شکل سے شکایت ہے،  پاکستان دن بدن تنہا ہوتا جارہا ہے، اگر تمام ادارے یہ تہیہ کرلیں کہ ہم اپنی اپنی حدود میں رہیں گے تو پاکستان ٹھیک ہو سکتا ہے۔

محمود خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی تحریک کو مذہبی تحریک سے جوڑنا غلط ہے، فوری طور پر ایک گول میز کانفرنس بلائی جائے جس میں مولانا فضل الرحمان کو لانا میری ذمہ داری ہے، آئین کی بالادستی کے لیے ہم آزادی مارچ میں شامل ہوں گے۔

وزیراعظم کی کاوشوں سے سعودیہ اور ایران میں جنگ کے بادل چھٹ گئے، وزیرخارجہ

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے مصالحتی دوروں کے بعد ایران اور سعودی عرب میں جنگ کے بادل چھٹتے جارہے ہیں۔

وزارت خارجہ میں ایران ،سعودیہ دوروں کے حوالے سے پریس بریفنگ میں وزیرخارجہ نے بتایا کہ پاکستان کے دونوں برادر اسلامی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، ایک دوست اور دوسرا برادر ہمسایہ ملک ہے، کچھ ایسے واقعات ہوئے جس سے تناوٴ میں اضافہ ہو ا اور خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر وزیر اعظم نے از خود ایک قدم اٹھایا، پاکستان نے فیصلہ کیا کہ ہمیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ ان حالات میں یہ خطہ نئی کشیدگی کامتحمل نہیں ہو سکتا اگر حالات بگڑتے ہیں تو نہ صرف دو ممالک یا خطہ بلکہ دنیا متاثر ہوتی ہےان حالات کو سامنے رکھتے ہوے ہم نے ایران جانے کا فیصلہ کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم کی ایرانی قیادت سے نشستیں ہوئیں یہ نشستیں انتہائی بہتر ماحول میں ہوئیں، ایران نے واضح کیا کہ وہ سعودی عرب سے دشمنی نہیں رکھتے اور براہ راست یا بلواسطہ مزاکرات کے لئے تیار ہیں، اس سوچ کو لے کر کل ہم سعودی عرب گئے اور وہاں اعلیٰ قیادت سے نشستیں کیں اب ان دوروں کے بعد ہمیں جنگ کے بادل چھٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک چیز پر جو اتفاق ہوا ہے وہ یہ ہے کہ ہم سفارتی عمل پر زور دیں گے،ایک بہت اچھا آغاز ہوا ہے اور آئندہ کی حکمت عملی پر بھی بات کر رہے ہیں  جب کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر دونوں نشستوں میں ایرانی و سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا،ایران کے سپریم رہنما نے واضح کیا کہ ہم کشمیر کے معاملے  پر واضح ہیں اور ہمارے موقف میں کبھی تبدیلی نہیں آئی ،اسی طرح سعودی عرب نے بھی اس معاملے پر ہماری حمایت کی۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ کی ہمشیرہ اور اختر کو گرفتار کر لیا گیا ہے، وہاں جانے والی انسانی حقوق کی خواتین کی رپورٹ سامنے آ چکی ہے ان انسانی حقوق کی کارکنان نے کہا کہ بھارت کو اندازہ نہیں کہ وہ کس حد تک کشمیریوں کو ناراض کر چکے ہیں جب کہ  بھارت نے 24 گھنٹوں میں ہی پوسٹ پیڈ موبائل سروس ایس ایم ایس بند کردی۔

جے یوآئی(ف) کے آزادی مارچ کے حوالے سے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی صدارت میں پی ٹی آئی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں  فیصلہ ہواکہ سیاسی معاملات سیاسی طریقے سے حل ہوں، وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی جائے گی جو فضل الرحمان سے ملاقات کرے گی اور ان سے رابطے کرے گی،کمیٹی فضل الرحمان کی بات سنی  گی اورکوئی معقول مطالبہ ہوا تو سنیں گے۔

Google Analytics Alternative