قومی

بیرسٹر فروغ نسیم کو دوبارہ وزیر قانون بنانے کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومت نے بیرسٹر فروغ نسیم کو دوبارہ وزیر قانون بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی حکومت نے ایک بار پھر بیرسٹر فروغ نسیم کو وزرات قانون کا قلمدان دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فروغ نسیم کل صبح بطور وفاقی وزیر قانون و انصاف حلف اٹھائیں گے جب کہ صدر مملکت عارف علوی بیرسٹر فروغ نسیم سے حلف لیں گے۔

بیرسٹرفروغ نسیم نے 26 نومبر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا، اس حوالے سے وفاقی وزیر شیخ رشید اور معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ فروغ نسیم سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے حکومت کے وکیل ہوں گے جس کے لیے انہوں نے رضا کارانہ استعفیٰ دیا  کیس لڑنے کے بعد وزیراعظم کی منظوری سے دوبارہ کابینہ میں شامل ہوسکتے ہیں۔

ایسے تو اسسٹنٹ کمشنر تعینات نہیں ہوتا جیسے آرمی چیف کو کیا جا رہا ہے، چیف جسٹس

 اسلام آباد:چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ ایسے تو اسسٹنٹ کمشنر تعینات نہیں ہوتا جیسے آرمی چیف کو کیا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار ریاض حنیف راہی عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے آج دو بار عدالت سے اپنی درخواست واپس لینے کی استدعا کی جسے عدالت نے دونوں بار مسترد کردیا۔ وہ گزشتہ روز سماعت میں پیش نہیں ہوئے تھے اور اپنی درخواست واپس لینے کی استدعا کی تھی جسے مسترد کردیا گیا تھا۔

کل کے بعد مہلت ختم

دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان  نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے تین امور ہیں، پہلا تقرری کی قانونی حیثیت کا ہے، دوسرا تقرری کے طریقہ کار کا ہے، تیسرا تقرری کی وجوہات ہیں، وزیر اعظم کسے آرمی چیف لگاتے ہیں یہ ہمارا مسئلہ نہیں، حکومت کل تک اس معاملے کا حل نکالے، کل کے بعد وقت نہیں رہ جائے گا پھر فیصلہ کرنا پڑے گا، اگر معاملہ غیر قانونی ہوا تو پھر ذمہ داری ہم پر آ جائے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے پاس وقت نہیں ملک میں ہیجان برپا ہے، اگر آرمی چیف کی توسیع کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہوا تو پھر ہم نے حلف اٹھا رکھا ہے اللہ کو جواب دینا ہے، کل کے بعد مہلت ختم ہو جائے گی، جس کے بعد ہم کو بھی فیصلہ کرنا پڑے گا اور حکومت کو بھی۔

ملک میں ہیجانی کیفیت

ایک موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم اس کیس کا فیصلہ کریں گے، ملک میں ہیجانی کیفیت نہیں ہونی چاہیے اور ابہام دور ہونا چاہیے، ہم شام تک بیٹھ کر مقدمے کو سنیں گے، ہمیں پاک فوج کا بہت احترام ہے لیکن پاک فوج کو پتا تو ہو ان کا سربراہ کون ہوگا۔

درخواست زندہ رکھی

آج سماعت شروع ہوئی چیف جسٹس نے کہا کہ ریاض حنیف راہی صاحب آپ کہاں رہ گئے تھے، کل آپ تشریف نہیں لائے ،ہم نے آپ کی درخواست زندہ رکھی۔  ریاض حنیف راہی نے کہا کہ حالات مختلف پیدا ہو گئے ہیں اور اپنی درخواست واپس لینا چاہتا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم انہی حالات میں آگے بڑھ رہے ہیں،آپ تشریف رکھیں۔

دوران سماعت بھی ایک موقع پر ریاض حنیف راہی نے پھر اپنی درخواست واپس لینے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ آپ بیٹھنا چاہیں تو بھی آپ کی مرضی جانا چاہیں تو بھی، ہو سکتا ہے اٹارنی جنرل کے دلائل کے بعد آپ کو آرمی چیف لگا دیا جائے۔

فروغ نسیم پر اعتراض

حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل انورمنصور خان اور آرمی چیف کی طرف سے سابق وزیر قانون فروغ نسیم عدالت میں پیش ہوئے تاہم آرمی چیف کے حق میں زیادہ تر دلائل اور کیس کی تقریبا پیروی اٹارنی جنرل نے ہی کی۔

سماعت شروع ہونے سے قبل وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل امجد شاہ نے کہا تھا کہ فروغ نسیم کی وکالت کا لائسنس معطل ہے، اگر وہ معطل شدہ لائسنس کے ساتھ پیش ہوئے تویہ قابل سزا جرم ہے جس پر اعتراض اٹھائیں گے۔ امجد شاہ نے دوران سماعت بھی فروغ نسیم پر اعتراض اٹھائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں گے۔

عدالت میں قہقے

ایک موقع پر دلائل دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو جسٹس کیانی کہہ دیا جس پر چیف جسٹس نے انہیں ٹوکا کہ وہ جسٹس نہیں جنرل کیانی تھے۔ اس پرعدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔

صدر مملکت مسلح افواج کا سربراہ تعینات کرتے ہیں

اٹارنی جنرل نے کابینہ کی نئی منظوری عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 243 کے مطابق صدرمملکت افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر ہیں جو  وزیراعظم کی سفارش پرافواج کے سربراہ تعینات کرتے ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ آرٹیکل 243 میں تعیناتی کا ذکر ہے،کیا تعیناتی کی مدت کابھی ذکر ہے اور کیا ریٹائرڈ جنرل کوآرمی چیف لگایا جاسکتا ہے؟۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ شاید ریٹائر جنرل بھی بن سکتا ہو لیکن آج تک ایسی کوئی مثال نہیں، جبکہ مدت تعیناتی نوٹیفکیشن میں لکھی جاتی ہے جو صوابدید ہے اور آرمی ریگولیشن آرمی ایکٹ کے تحت بنائے گئے ہیں۔

5،7 جنرل دس دس سال توسیع لیتے رہے، کسی نے نہیں پوچھا

چیف جسٹس نے کہا کہ انتہائی اہم معاملہ ہے اور اس میں آئین خاموش ہے، 5،7 جنرل دس دس سال تک توسیع لیتے رہے، کسی نے پوچھا تک نہیں، آج یہ سوال سامنے آیا ہے،اس معاملے کو دیکھیں گےتاکہ آئندہ کے لیے کوئی بہتری آئے، تاثر دیا گیا ہے کہ آرمی چیف کی مدت 3 سال ہوتی ہے۔

آرمی چیف کی تعیناتی کا نیا نوٹیفکیشن

جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ اگر آرمی چیف کو دوبارہ تعینات کیا ہے تو صاف بتائیں۔ اٹارنی جنرل نے آرمی چیف کی تعیناتی کا نیا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ آرمی چیف کو مدت مکمل ہونے پر دوبارہ تعینات کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ نوٹیفکیشن کے مطابق آرمی چیف کو توسیع دی گئی ہے اور ریٹائرمنٹ کو محدود کیا گیا ہے، پرانے نوٹیفکیشن میں تعیناتی کا ذکر تھا لیکن نئے میں توسیع کا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سمری کے مطابق وزیراعظم نے توسیع کی سفارش ہی نہیں کی، سفارش نئی تقرری کی تھی لیکن نوٹیفکیشن توسیع کا ہے، کیا کسی نے سمری اور نوٹیفکشن پڑھنے کی بھی زحمت نہیں کی، کل ہی سمری گئی اور منظور بھی ہو گئی، آرٹیکل 243 کے تحت تعیناتی ہوتی ہے توسیع نہیں۔

اٹارنی جنرل نے وضاحت کی کہ جو سمری صدر کو بھجوائی گئی تھی اس میں آئین کے آرٹیکل 243 کا ذکر ہے، صدر نے دستخط دوبارہ تعیناتی کے ہی کیے ہیں، وزارت کی سطح شاید نوٹی فکیشن میں توسیع لکھا گیا۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ 29 نومبر کو جنرل باجوہ آرمی اسٹاف کا حصہ نہیں ہونگے اور نوٹیفکیشن کے مطابق 29 نومبر سے دوبارہ تعیناتی ہو گی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کمانڈ کی تبدیلی تک جنرل باجوہ دوبارہ ریٹائر نہیں ہونگے ۔ اس پر چیف جسٹس نے نشاندہی کی کہ سمری میں تو لکھا ہے 29 نومبر کو جنرل باجوہ ریٹائر ہو جائیں گے۔

اب بھی وقت ہے حکومت دیکھے کر کیا رہی ہے

چیف جسٹس نے کہا کہ دوبارہ تعیناتی کا مطلب ہے کہ پہلے تعیناتی ختم ہو گئی، پاک فوج کا معاشرے میں بہت احترام ہے، وزارت قانون اور کابینہ ڈویژن کم از کم سمری اور نوٹیفکیشن تو پڑھیں، فوجیوں نے خود آ کر تو سمری نہیں ڈرافٹ کرنی، ایک ریٹائرڈ جج کو چیئرمین نیب لگایا گیا تھا، جسٹس ریٹائرڈ دیدار شاہ کو وزارت قانون نے رسوا کیا، اسی کی وجہ سے دیدار شاہ کی تعیناتی کالعدم ہوئی، اب بھی وقت ہے حکومت دیکھے یہ کر کیا رہی ہے، اعلی ترین افسر کے ساتھ تو اس طرح نہ کریں۔

اٹارنی جنرل بولے یہ کوئی نیا کام نہیں ہو رہا، ماضی میں بھی توسیع ایسے ہی ہوتی تھی۔ جس پر جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ماضی میں کسی نے کبھی توسیع کا عدالتی جائزہ نہیں لیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آج آرمی چیف کے ساتھ یہ ہو رہا تو کل صدر اور وزیراعظم کے ساتھ ہو گا، ایسے تو اسسٹنٹ کمشنر کی تعیناتی نہیں ہوتی جیسے آرمی چیف کو کیا جا رہا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی کو بغیر کمانڈ کے نہیں چھوڑا جا سکتا۔

ایسے تو اسسٹنٹ کمشنر کی تعیناتی نہیں ہوتی

چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی نہیں چاہتا آرمی کما نڈ کے بغیر رہے، لیکن وزارت قانون کی پوری کوشش ہے کہ آرمی کو بغیر کمانڈ رکھا جائے، ایسے تو اسسٹنٹ کمشنر کی تعیناتی نہیں ہوتی جیسے آرمی چیف کو کیا جا رہا ہے، کل تک کوئی حل نکال لیں، ناجائز کسی کو کچھ نہیں کرنا چاہیے، اگرکوئی غیرقانونی کام ہوا ہے تو اسےکالعدم قراردینےکاحلف اٹھایاہے، ججز صرف اللہ کو جوابدہ ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ آرمی چیف کو شٹل کاک کیوں بنایا گیا، آرمی بغیر کمانڈ ہوئی تو ذمہ دار کون ہو گا، آج آرمی چیف کے ساتھ یہ ہو رہا تو کل صدر اور وزیراعظم کے ساتھ ہو گا، آپ خود کہتے ہیں توسیع اور تعیناتی الگ چیزیں ہیں، نوٹیفکیشن جاری کرنے والوں کی ڈگریاں چیک کروائیں، آئینی اداروں میں روز ایسا ہوتا رہا تو مقدمات کی بھرمار ہو گی۔

کابینہ ارکان کا جواب نہ آنے کا مطلب ہاں ہے

دوران سماعت چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ ہم نے کل چند سوالات اٹھائے تھے، کل جن خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی وفاقی کابینہ نے ان کو تسلیم کرکے تصحیح کی۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ حکومت نے کہیں بھی نہیں کہا کہ ان سے غلطی ہوئی، میں کچھ وضاحت پیش کرنا چاہتا ہوں، کل کے عدالتی حکم میں بعض غلطیاں ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ صرف 11 ارکان نے کابینہ میں توسیع کی منظوری دی، کابینہ سے متعلق نکتہ اہم ہےاس لیے اس پربات کروں گا، رول 19 کے مطابق کابینہ ارکان کے جواب نہ آنے کا مطلب بھی ہاں ہی ہے۔

وقت مقرر کرنے پر ہی ہاں تصور کیا جاتا ہے

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کابینہ کے ارکان نے مقررہ وقت تک جواب نہیں دیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اب تو حکومت اس کارروائی سے آگے جا چکی ہے، رول 19 میں وقت مقرر کرنے کی صورت میں ہی ہاں تصور کیا جاتا ہے، اگرکابینہ سرکولیشن میں وقت مقررنہیں تھا تواس نکتے کوچھوڑدیں، اگر حالات پہلے جیسے ہیں تو قانون کے مطابق فیصلہ کردیتے ہیں۔

آرمی ریگولیشنز کا مکمل مسودہ نہیں دیا گیا

عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ نے آج بھی ہمیں آرمی ریگولیشنز کا مکمل مسودہ نہیں دیا، جو صفحات آپ نے دیئے وہ تو صرف نوکری سے نکالنے کے حوالے سے ہیں۔

آرمی چیف کی مدت کا ذکر نہیں

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت 3 سال کہاں مقرر کی گئی ہے، کیا وہ 3 سال بعد خود ہی گھر چلا جاتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آرمی چیف کی مدت تعیناتی کا کوئی ذکر نہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا آپ نے جو دستاویزات جمع کرائیں ان کے ساتھ آرمی چیف کا اپائنٹمنٹ لیٹر ہے، جنرل قمر باجوہ کی بطورآرمی چیف تعیناتی کا نوٹیفکیشن کہاں ہے، کیا پہلی بارجنرل باجوہ کی تعیناتی بھی 3 سال کے لئے تھی، آرمی چیف کی مدت تعیناتی طے کرنے کا اختیار کس کو ہے۔

تعیناتی کی مدت پرقانون خاموش 

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کی مدت پرقانون خاموش ہے اور آرٹیکل 243 کے تحت کابینہ سفارش نہیں کرسکتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کابینہ کی سفارش ضروری نہیں تو 2 بار معاملہ کابینہ کو کیوں بھیجا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ریٹائرمنٹ 2 اقسام کی ہوتی ہے، ایک مدت ملازمت پوری ہونے پراوردوسری وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ، ہمیں بتائیں آرمی چیف ریٹائرکیسے ہوگا، نارمل ریٹائرمنٹ توعمر پوری ہونے پرہوجاتی ہے، آرمی ریگولیشن کی شق 255 کوریٹائرمنٹ کے معاملے کےساتھ پڑھیں تو شاید صورتحال واضح ہوسکتی ہے۔

اس موقع پر سابق فروغ نسیم نے کہا کہ جنگی صورتحال میں کوئی ریٹائرہورہا ہو تو اسے کہتے ہیں آپ ٹہرجائیں۔

سارے آرمی چیف ایسے ہی تعینات ہوئے

چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 255 اے کہتا ہے اگر جنگ لگی ہو تو چیف آف آرمی اسٹاف کسی کی ریٹائرمنٹ کوروک سکتا ہے، یہاں تو آپ چیف کو ہی سروس میں برقراررکھ رہے ہیں، قانون کے مطابق آرمی چیف دوران جنگ افسران کی ریٹائرمنٹ روک سکتے ہیں، لیکن حکومت آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کو روکنا چاہتی ہے، آپ کا سارا کیس 255 اے کے گرد گھوم رہا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ 1948 سے آج تک تمام آرمی چیف ایسے ہی تعینات ہوئے اور ریٹائرمنٹ کی معطلی عارضی نہیں ہوتی۔

رات تک دلائل دینے کے لیے تیار

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا 3 سالہ مدت کے بعد آرمی چیف فوج میں رہتا ہے یا گھر چلاتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فوجی افسران سروس کی مدت اور مقررہ عمر کو پہنچنے پرریٹائر ہوتے ہیں، قانون سمجھنا چاہتے ہیں ہمیں کوئی جلدی نہیں۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں تو رات تک دلائل دینے کے لیے بھی تیار ہوں۔

توسیع آرمی ریگولیشنز کے تحت نہیں

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ آرمی چیف کو آئینی عہدے پرتوسیع آئین کے تحت نہیں بلکہ عارضی سروس رولز کے تحت دی گئی، بظاہر تعیناتی میں توسیع آرمی ریگولیشنز کے تحت نہیں دی گئی۔

جس سیکشن میں ترمیم ہوئی وہ آرمی چیف کے متعلق ہے ہی نہیں

چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے جس آرمی ریگولیشنز کی سیکشن 255 میں کل ترمیم کی گئی وہ آرمی چیف کے متعلق ہے ہی نہیں۔  اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کو فوج کی کمانڈ اور سروس کے حوالے سے رولز بنانے کا اختیار ہے۔

سپہ سالارکی مدت کے متعلق کچھ نہیں

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں سپہ سالارکی مدت تعیناتی کے متعلق کچھ نہیں، اگر آرمی ایکٹ میں مدت تعیناتی نہیں تورولز میں کیسے ہو سکتی ہے؟، آرمی ایکٹ میں صرف لکھا ہے کہ آرمی چیف فوج کی کمانڈ کرینگے۔

سماعت میں چند گھنٹوں کے لیے وقفہ ہوا جس کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی آرٹیکل 243 کے تحت ہوتی ہے، مدت مقرر نہ ہو تو کیا آرمی چیف تاحیات عہدے پر رہیں گے۔

سختی سے چھڑی ٹوٹ جاتی ہے

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ قانون کی عدالت ہے یہاں شخصیات معنی نہیں رکھتیں،جو کام قانونی طور پر درست نہیں اسے کیسے ٹھیک کہہ سکتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو قانون پر اتنا سخت نہیں ہونا چاہیے، بعض اوقات سختی سے چھڑی ٹوٹ جاتی ہے، مدت تعیناتی میں توسیع کا ذکر رولز میں ہے۔

سوال مدت کے تعین کا

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اصل مسئلہ آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کا ہے، آرمی ایکٹ میں کسی افسر کی مدت تعیناتی کا ذکر نہیں، ان تمام باتوں کو چھوڑ کر سوال بار بارمدت کے تعین کا آرہا ہے۔

سیاسی سرگرمی میں ملوث نہ ہونا فوجی حلف کا حصہ

چیف جسٹس نے کہا کہ رولز ہمیشہ ایکٹ اور قانون کے تحت ہی بنتے ہیں، ایکٹ میں ایسا کچھ نہیں کہ کسی بہت قابل افسر کو ریٹائر ہونے سے روکا جائے، آرمی ایکٹ میں مدت اور دوبارہ تعیناتی کا ذکر نہیں، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا بھی ذکر ایکٹ میں نہیں، آرمی آفیسر کے حلف میں ہے کہ اگر جان دینا پڑے تودے گا، یہ بہت بڑی بات ہے، میں خود کو کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں کروں گا، یہ جملہ بھی حلف کا حصہ ہے، بہت اچھی بات ہے اگر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیا جائے۔

سزا یافتہ فوجی افسران کی تفصیلات طلب

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جرم کرنے والے افسران پر آرمی ایکٹ کی سیکشن 292 کا اطلاق ہوتا ہے، ایکٹ میں واضح ہے کہ ریٹائرڈ افسر کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے، فور اسٹار جنرل کی ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر نہیں۔

سپریم کورٹ نے حال ہی میں سزا یافتہ تینوں سابق اعلی فوجی افسران کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ تفصیلات دیکھ کر جائزہ لیں گے سزا کس قانون کے تحت ہوئی، قوائد میں یہ نہیں لکھا کہ ریٹائرمنٹ سے پہلئ ریٹائرمنٹ معطل ہو سکتی ہے۔

کوئی ساری عمر جنرل رہے ہمارا سروکار نہیں

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ آرمی چیف کو وفاقی حکومت نہیں وزیراعظم کی سفارش پر صدر تعینات کرتے ہیں، جسے تعینات وفاقی حکومت نے نہیں کیا اسے حکومت چھیڑ بھی نہیں سکتی، آرمی چیف پر سیکشن 255 کا اطلاق نہیں ہوتا، کہاں لکھا ہے کہ آرمی چیف خود اپنی مدت میں توسیع کر سکتے ہیں، عدالت کے سامنے سوال آرمی چیف کی مدت میں توسیع کا ہے، کوئی چاہے ساری عمر جنرل رہے اس سے ہمارا کوئی سروکار نہیں۔

آرمی چیف کو توسیع کی ضرورت نہیں

اٹارنی جنرل نے جنرل قمر باجوہ کی بطور آرمی چیف تقرری کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ نوٹیفکیشن میں کہیں آرمی چیف کی تعیناتی کی مدت کا ذکر نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آرمی چیف کو توسیع کی ضرورت ہی نہیں، نوٹیفکیشن کے مطابق وہ ہمیشہ آرمی چیف رہیں گے، کیا جنرل باجوہ کو آگاہ کیا گیا کہ انہیں کتنے سال کے لیے تعینات کیا گیا۔

آرمی چیف پرسوں رات 12 بجے ریٹائر

چیف جسٹس نے فروغ نسیم کو روسٹر پر بلاکر پوچھا کہ کیا آرمی چیف کل ریٹائر ہو رہے ہیں؟۔ فروغ نسیم نے جواب دیا کہ آرمی چیف کل نہیں پرسوں رات 12 بجے ریٹائر ہونگے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہتے ہیں وہ ریٹائر ہو رہے لیکن اٹارنی جنرل کہتے ہیں کہ جنرل ریٹائر نہیں ہوتا۔

فروغ نسیم پر اعتراض

فروغ نسیم کے روسٹم پر آنے پر وائس چیئرمین پاکستان بار امجد شاہ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ فروغ نسیم کا لائسنس پاکستان بار معطل کر چکی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ ابھی فروغ نسیم کو دلائل کیلئے نہیں بلایا، وقفے کے بعد اس معاملے کو بھی دیکھیں گے۔

سپریم کورٹ نے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کاحکم نامہ معطل کردیا تھا۔

آرمی چیف مدت ملازمت معاملہ؛ عدالتی اعتراضات دور کرنے سے متعلق نیا مسودہ تیار

اسلام آباد: آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق وفاقی حکومت نے عدالتی اعتراضات دور کرنے سے متعلق نیا مسودہ تیار کرلیا۔ 

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اہم مشاورتی اجلاس ختم ہوگیا جس میں وفاقی کابینہ کے سینیئر ارکان، قانونی ٹیم، وزارت قانون کے نمائندے اور پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما بابراعوان، فروغ نسیم اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ بھی شریک تھے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سپریم کورٹ کی آج کی سماعت پر مشاورت کی گئی اور قانونی ٹیم وزیراعظم اور کابینہ کو سماعت سے متعلق بریفنگ دی جب کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات سے متعلق بھی مشاورت کی گئی۔

وزیراعظم کا قوم سے خطاب کا بھی امکان 

ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالتی اعتراضات دور کرنے سے متعلق ڈرافٹ تیارکرلیا گیا ہے اور وفاقی کابینہ سے سرکولیشن سمری کے ذریعے منظوری لیے جانے کا امکان ہے جب کہ موجودہ صورتحال پر وزیراعظم عمران خان کا قوم سے خطاب کا بھی امکان ہے۔

’’ مدت ملازمت میں توسیع سیکیورٹی صورتحال دیکھ کرکی ‘‘

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان سے سینئیر وزراء نے ملاقات کی جس میں موجود صورتحال پر مشاورت کی گئی، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سیکیورٹی صورتحال دیکھ کرکی تاہم حکومت پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔

واضح رہے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی ہے، دوران سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم اس کیس کا فیصلہ کریں گے، ملک میں ہیجانی کیفیت نہیں ہونی چاہیے اور ابہام دور ہونا چاہیے، ہمیں پاک فوج کا بہت احترام ہے لیکن پاک فوج کو پتا تو ہو ان کا سربراہ کون ہوگا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے خصوصی عدالت کو مشرف غداری کیس کا فیصلہ سنانے سے روک دیا

 اسلام آباد: ہائی کورٹ نے مشرف غداری کیس کا فیصلہ سنانے سے روکنے کی حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے خصوصی عدالت کو سابق صدر کے خلاف کیس کا فیصلہ سنانے سے روک دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق صدر و آرمی چیف پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کا فیصلہ روکنے کے حوالے سے وزارت داخلہ کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ اس موقع پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پرویز مشرف کے وکیل کو روسٹرم سے ہٹاتے ہوئے کہا کہ آپ ابھی پیچھے کرسی پر بیٹھ جائیں، ہمیں پہلے وزارت داخلہ کو سننے دیں۔

سیکرٹری قانون کو آدھے گھنٹے میں پیش ہونے کاحکم؛

اس موقع پر خصوصی عدالت کی تشکیل کے نوٹیفکیشن کی کاپی بھی عدالت میں پیش کی گئی جب کہ سیکرٹری وزارت قانون کے پیش نہ ہونے پرعدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور سیکرٹری قانون کو آدھے گھنٹے میں اصل ریکارڈ کے ساتھ پیش ہونے کاحکم دیا۔

دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا وزارت داخلہ اس کیس میں نئی شکایت درج کر سکتی ہے، اکتوبر 1999 کے اقدامات کو بھی غیر آئینی قرار دیا گیا، وزارت داخلہ اکتوبر 1999 سے متعلق الگ شکایت کیوں درج نہیں کرتی، اس کیس میں بھاری ذمہ داری ہمارے کندھوں پر ہے، وفاق ہی اب ہمارے پاس آگیا کہ اس کیس میں فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں ہوئے جب کہ 1999 کے اقدامات کو بھی غیر آئینی قرار دے دیا گیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ آپ کو اتنے سالوں کے بعد اب معلوم ہوا کہ وفاقی حکومت کی داخل کردہ شکایت درست نہیں، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ شکایت درست نہیں تھی تو اپنی شکایت واپس لے لیں، جائیں جا کر بیان دیں ہم مشرف کے خلاف درخواست واپس لے رہے ہیں، کیا آپ پرویز مشرف کے خلاف کیس نہیں چلانا چاہتے، سادہ سا سوال ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی غداری کیس کا فیصلہ روکنے کی استدعا؛

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ غداری کیس چلانے کی درخواست بھی غلط تھی اور ٹرائل کا فورم بھی جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ خصوصی عدالت غداری کیس کا فیصلہ نہ سنائے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ایک شخص جس نے عدلیہ پر وار کیا تھا ہمارے سامنے اُس کا کیس ہے، وہ شخص اشتہاری بھی ہو چکا ہے، پیچیدگی یہ ہے کہ ہم نے اس سب کے باوجود اس کے فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے کرنا ہیں۔

عدالت کا ایڈیشنل اٹارنی جنرل پر اظہار برہمی؛

عدالت نے نوٹیفکیشنز کے حوالے سے مطمئن نہ کرنے پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل پربرہمی کا اظہار کیا، جسٹس محسن اختر نے ریمارکس دیے کہ کیا ضرورت ہے اس وزارت قانون کی، جو نوٹیفکیشن کرتے ہیں وہ غلط ہوتا ہے، اس کی سزا پوری قوم بھگت رہی ہے۔

خصوصی عدالت کو مشرف غداری کیس کا فیصلہ سنانے سے روکنے کا حکم؛

دلائل سننے کے بعد سماعت میں وقفہ ہوا جس کے بعد ججز کمرہ عدالت میں پہنچے اور پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کا فیصلہ سنانے سے روکنے کی حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے خصوصی عدالت کو سابق صدر کے خلاف کیس کا فیصلہ سنانے سے روک دیا، عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ خصوصی عدالت 28 نومبر کو پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کا فیصلہ نہ سنائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ وفاقی حکومت 5 دسمبرتک پراسیکیوشن ٹیم تعینات کرے اور خصوصی عدالت فریقین کو دوبارہ سن کر فیصلہ کرے، خصوصی عدالت پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کو بھی سنے۔

مشرف غداری کیس فیصلہ روکنے کی حکومتی درخواست؛

حکومت نے سابق صدر و آرمی چیف پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کا فیصلہ روکنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، وزارت داخلہ کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پرویز مشرف کو صفائی کا موقع ملنے تک خصوصی عدالت کو کارروائی سے روکا جائے اور خصوصی عدالت کا غداری کیس کا فیصلہ محفوظ کرنے کا حکم نامہ بھی معطل کیا جائے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ نئی پراسیکیوشن ٹیم تعینات کرنے تک خصوصی عدالت کو کارروائی سے روکا جائے۔

غداری کیس فیصلہ محفوظ؛

19 نومبر کو خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو کل سنایا جائے گا۔

مشرف غداری کیس پس منظر؛

سابق صدر و آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے آئین معطل کردیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 2013 میں برسراقتدار آنے کے بعد پرویز مشرف پر مقدمہ چلانے کے لیے خصوصی عدالت میں درخواست دائر کی۔ پرویز مشرف کے خلاف ماورائے آئین اقدامات کے الزام میں آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

بھارتی اشتعال انگیزی؛ چینی کنٹریکٹرز کا نیلم جہلم پروجیکٹ پر کام کرنے سے انکار

اسلام آباد: ایل او سی پر بھارت کی جانب سے مسلسل گولہ باری کے باعث چینی کنٹریکٹرز نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کرنے کے لئے تیار نہیں۔

جنید اکبر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پلاننگ کا اجلاس ہوا جس میں نیلم جہلم پاور پراجیکٹ حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دی، پراجیکٹ ڈائریکٹرمحمد زرین نے کہا کہ نیلم جہلم پاور پراجیکٹ ایل او سی کے قریب ہے اور ایل او سی پر بھارت مسلسل گولہ باری کررہا ہے جس کی وجہ سے چینی کنٹریکٹرز نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کرنے کے لئے تیار نہیں۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ نیلم جہلم پاور پروجیکٹ کا کچھ کام ابھی باقی ہے، پروجیکٹ 70 ارب روپے سے شروع ہوا اور 520 ارب روپے کا ہوگیا، منصوبے پر 50 ارب روپے کا سالانہ قرضہ ہے اور ہرماہ قرض کی مد میں 2 ارب روپے سود ادا کیا جارہا ہے۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ حکومت کو 60 ارب روپے کی بجلی فراہم کرچکے ہیں، دسمبر کے بعد نیلم جہلم پراجیکٹ کےملازمین کی تنخواہیں جاری نہیں کی جاسکیں، ملازمین کو تنخواہوں  کے لئے بینک سے ایک ارب کا قرضہ لیا گیا ہے، ہمارے پاس تنخواہیں  دینے کے لئے پیسے نہیں، وفاقی حکومت دسمبر تک رقوم ادا کرے۔

آرمی چیف کی مدت ہمارا اندرونی مسئلہ ہے اس سے بھارت کا کوئی تعلق نہیں،چوہدری شجاعت

لاہور: پاکستان مسلم لیگ کے صدر اور سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملہ پر بھارت کیوں خوفزدہ ہے۔

لاہور میں اخبار نویسوں سے گفتگو کے دوران چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ پاک فوج کے سپہ سالار کی تقرری ایک باقاعدہ نظام کے تحت ہوتی ہے اور اس کے قانونی پہلو سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر بحث ہیں لیکن پوری قوم کو حیرانی ہے کہ بھارتی میڈیا اس مسئلے کو سامنے رکھ کر پاکستان کی حکومت، فوج اور عدلیہ کو حسب معمول تنقید کانشانہ بنارہا ہے، یہ ہمارا اندرونی مسئلہ ہے اور اس سے بھارت یا کسی بھی اور ملک کا کوئی تعلق نہیں۔

چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ ہماری پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ ہے اور ان کی خدمات کا اعتراف کرتی ہے، جنہوں نے مشکل حالات میں پاکستان میں معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کئے اور پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنایا۔

مسلم لیگ (ق) کے صدر کا کہنا تھا کہ بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر اس نے پاکستان کے خلاف کوئی غلط اندازے لگائے تو وہ گہرا اور ناقابل تلافی نقصان اٹھائے گا، پاکستان کی افواج ملک کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے پاکستان کے خلاف تمام سازشوں کو نہ صرف ناکام بنایا ہے بلکہ کشمیری قوم کو نیا حوصلہ اور جذبہ دیا ہے کہ ان کی آزادی کے دن بہت قریب ہیں۔

چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ پاکستان قوم یہ سمجھتی ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے قوم کے ساتھ مل کر ملک بھر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کا خاتمہ کیا جس سے لوگوں میں تحفظ کا احساس پیدا ہوا اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے اس کردار کا اعتراف کیا گیا کہ پاکستان دنیا بھر میں امن اور سلامتی کے لئے نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

صدر (ق) لیگ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ، وزیر اعظم عمران خان کے اس فیصلہ کی مکمل حمایت کرتی ہے جس کی تحت انہوں نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دی وہ ایک باصلاحیت اور قابل جرنیل ہیں جن کی قوم کو اشد ضرورت ہے۔

جنرل ندیم رضا نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا چارج سنبھال لیا

 راولپنڈی: جنرل ندیم رضا نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کےعہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے جاری کردہ ٹوئٹ کے مطابق جنرل ندیم رضا نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کےعہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔

جنرل ندیم رضا نے جنرل زبیر محمود حیات کی ریٹائرمنٹ کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا چارج سنبھالا ہے۔ انہیں 21 نومبر کو اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔

جنرل ندیم رضا نے 1985 میں انفنٹری کی 10 سندھ رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا، وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کمانڈنٹ ملٹری ڈائریکٹوریٹ میں جی ایس او 1 اور اسٹرائیک کور میں چیف آف اسٹاف بھی رہے، اس کے علاوہ انہوں نے جی ایچ کیو میں چیف آف جنرل اسٹاف کی ذمہ داری  بھی انجام دی ۔

مقامی سطح پر ڈیزائن کیا جانے والا فاسٹ اٹیک کرافٹ میزائل 4 جہاز لانچ

کراچی: شب یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں پاک بحریہ کے لئے مقامی سطح پر تیار کیا جانے والا فاسٹ اٹیک کرافٹ (میزائل)4 لانچ کردیا گیا۔

مقامی سطح پر ڈیزائن کیا جانے والا پہلا جب کہ پاکستان بحریہ کے لئے مقامی سطح پر تیار کیے  جانے والے چوتھے فاسٹ اٹیک کرافٹ (میزائل)4- کی لانچنگ تقریب کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں منعقد ہوئی، وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار زبیدہ جلال نے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

فاسٹ اٹیک کرافٹ (میزائل) – 4 جدید ملٹی مشن جہاز ہے جس کی لمبائی 63 میٹر ہے اور وزن 560 ٹن ہے، جو 04 شافٹس کے ذریعے چلتا ہے اور اس کی رفتار 30 ناٹس ہے، میزائل کرافٹ مقامی طور پر تیار کردہ اینٹی شپ میزائلوں اور سینسرز سے لیس ہوگا، جہاز کو مقامی طور پر میری ٹائم ٹیکنالوجیز کمپلیکس (ایم ٹی سی) نے ڈیزائن کیا ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی وفاقی وزیر زبیدہ جلال نے کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس پبلک سیکٹر کی ان چند صنعتوں میں سے ایک ہے جنہوں نے گزشتہ دہائی میں نمایاں ترقی کی اور منسٹری آف ڈیفنس پروڈکشن کے لئے پائیدار منافع پیدا کرنے والے اداروں میں شامل ہوئے۔ ملک کی آئندہ معاشی ترقی کو دیکھتے ہوئے وزارت دفاعی پیداوار بھرپور طریقے سے نئے شپ یارڈز کے قیام کے لیے سرگرم ہے، ملکی بحری بیڑے میں اس میزائل کرافٹ کی شمولیت سے ملکی سمندری حدود کی مزید موثر طریقے سے حفاظت کی جا سکے گی۔

 

Google Analytics Alternative