قومی

ملتان زکریا یونیورسٹی کے زرعی اور انجینئرنگ کالجز مسلسل خسارے میں

گزشتہ برس زرعی کالج کا خسارہ 12کروڑ جبکہ انجینئرنگ کالج کا خسارہ 18کروڑ رہا

ملتان زکریا یونیورسٹی کے انجینئرنگ کالج اور زرعی کالج بدستور خسارے میں ، گزشتہ برس 31 کروڑ 44 لاکھ کا خسارہ رہا ذرائع کے مطابق زکریا یونیورسٹی کے انجینئرنگ اور زرعی کالج خسارے سے نہیں نکل سکے اور ان کے خسارے کی شرح میں بھی اضافہ ہوگیا گزشتہ برس زرعی کالج کا خسارہ 12 کروڑ،82 لاکھ جبکہ انجینئرنگ کالج کا خسارہ 18کروڑ 59لاکھ روپے رہا جس میں رواں برس اضافے کا امکان ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کالجز میں شام کی کلاسز ، سیلف فنانس کی سیٹیں ختم کرنے سے خسارے کا سامنا ہے کیوں کہ ان میں طلبا کی تعداد مقر ر ہوتی ہے اس لئے اضافی آمدنی ممکن نہیں

ایسے چارممبران کا تقرر کیا جائے جو شفاف الیکشن کرا سکیں،شاہ محمود

اسلام آباد پاکستان تحریک انصاف کے رہنماءشاہ محود قریشی نے کہا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی ایسے ممبران کو ڈھونڈ کر لائے جو شفاف الیکشن کرا سکیں اور تمام جماعتوں کا ان ممبران پر اعتماد ہو۔ ذرائع  کے مطابق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ممبران کی ریٹائرمنٹ سے پیدا ہونے والی خلاءکی ذمہ دار حکومت ہے۔ ایسے چارممبران کا تقرر کیا جائے جن پرتمام جماعتوں کا اعتماد ہو اور وہ شفاف الیکشن کرا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی پربہت بڑی ذمہ داری عائدہوتی ہے، اگرکوئی خودسی وی لائے تواس کوشک کی نظر سے دیکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ 70 الیکشن کے بعدتمام انتخابات پراعتراضات اٹھائے گئے۔ اب انتخابی اصلاحات پر کام تو جاری ہے لیکن ابھی مکمل نہیں کیا گیا۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی دوسری برسی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس سانحہ میں 14قتل ہوئے لیکن قانون ابھی تک نظر نہیں آیا، جسٹس مقبول باقر کی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے۔

طاہر القادری کا فوج سے انصاف کا مطالبہ،ساجد میر اور حافظ عبدالکریم شدید برہم

لاہور  امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان سینیٹر پروفیسر ساجد میر  نے کہا ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی طرف سے آرمی چیف سے انصاف کا مطالبہ عدلیہ پر عدم اعتماد کا اظہار ہے،طاہر القادری انصاف کی آڑ میں فساد برپا کرنا چاہتے ہیں۔ذرائع کےمطابق سینیٹر پروفیسر ساجد میرکا کہنا تھا کہ ماضی کی دھرنا سیاست میں بھی جان بوجھ کر آرمی چیف کو سیاسی معاملات میں گھسیٹنے کی کوشش کی گئی اور اب پھر جو کام عدالت کے کرنا کا ہے اسکا تقاضا آرمی چیف سے کیا جارہا ہے، انصاف کا تقاضا عدلیہ سے کرنا چاہیے جوکہ درست راستہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کے خلاف ضرور کارروائی ہونی چاہیے، متاثرہ خاندانوں کو انصاف ملنا چاہیے مگر جو راستہ مولانا صاحب اختیار کررہے ہیں اس سے صاف نظر آرہا ہے کہ وہ انصاف کی آڑ میں فساد برپا کرنا چاہتے ہیں ،جس کا مقصد جمہوریت کو ڈی ریل کرنا ہے۔سینیٹر ساجد میر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کا دورہ پاکستان صرف اور صرف سیاسی ماحول خرا ب کرنے کے لئے ہوتا ہے ،وہ سیاسی پھلجڑیاں بکھیرنے کے بعد اپنے اصل وطن کینیڈا واپس چلے جائیں گے۔عوامی تحریک کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انصاب کے مطالبے کا فساد سے کیا تعلق ہو سکتا ہے یہ سب ملکر قاتلوں کو بچانا چاہتے ہیں

ڈاکٹر طاہر القادری کا دھرنے سے پہلے ایک ویڈیو بیان جاری

لاہور: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے دھرنے سے پہلے ویڈیو پیغام جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آج کے دھرنے کے دورانئے کا انحصار حکومت کے رویئے پر ہو گا۔ طاہر القادری نے کہا ہے کہ کہیں بھی تشدد کیا گیا تو دھرنا غیرمعینہ مدت کے لئے طویل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف علاقوں سے معمولی شکاتیں ملی ہیں۔ سربراہ عوامی تحریک نے دھرنے کے شرکاء کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ شرکاء صفائی اور نظم و ضبط کا خاص خیال رکھیں، گندگی کسی صورت میں نہیں ہونی چاہئے اور دھرنا مثالی ہونا چاہئے۔ دوسری جانب، سانحہ ماڈل ٹاؤن میں شہید افراد کی دوسری برسی کے موقع پر لاہور میں مال روڈ پر عوامی تحریک کا دھرنا بھی جاری ہے۔

چھوٹے بچے کی ہوائی فائرنگ باپ بیٹے کو مہنگی پڑ گئی

اسلام آباد پشاور کینٹ میں کھلے عام مسلح غنڈہ گردی کرنے پر پولیٹیکل محرر عمران کو بیٹے سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ عمران کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل سوار مجھے زد و کوب کر رہا تھا۔ عمران کے کمسن بیٹے نے گاڑی سے آٹو میٹک رائفل نکالی اور ہوائی فائرنگ شروع کر دی تھی۔ پشاور کینٹ کے علاقے میں اوور ٹیکنگ کے تنازعہ پر سرکاری گاڑی میں سوار باپ اور بچوں نے اسلحہ نکال لیا اور ہاتھا پائی کے ساتھ ہی پانچ فائربھی کردیئے لیکن خوش قسمتی سے جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ موٹرسائیکل سوار کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیاگیا۔ تفصیلات کے مطابق کینٹ کی حدود میں بیکری کے قریب یوٹرن کے معاملے پر موٹرسائیکل سوار سفید کار کو اوورٹیک کرتے ہوئے اس کے آگے آگیا جس کے بعد سیاہ شیشوں والی اس گاڑی میں سوارجس کا نمبر B5258 ہے ،سے ایک شخص اور دوبچے باہرآگئے اور گالیاں دینے لگے اور پھر ہاتھاپائی کے دوران نہتے موٹرسائیکل سوار سے توتکرار کے بعد بچوں کے والدنے پستول نکال لیا جس کے بعد بچوں نے فوری طورپر حکومت پاکستان کی نمبر پلیٹ لگی گاڑی میں سے آٹومیٹک رائفل نکال لی اور دوفائرکیے جس کے بعدوہاں موجود شہریوں نے بیچ بچاؤ کی کوشش شروع کردی۔ڈی ایس پی کینٹ عارف نے بتایاکہ موٹرسائیکل سوار راحت گلبہار کا رہائشی ہے اور اس کی مدعیت میں ہوائی فائرنگ کا مقدمہ درج کرلیاگیا، درخواست گزار کو زدوکوب بھی کیاگیا۔ عینی شاہدین کے مطابق موٹرسائیکل سوار معافیاں مانگتا رہا جبکہ بچوں کا کہناتھاکہ والد کے پستول نکالنے کے بعد اپنی حفاظت کیلئے مشین گن نکالی۔واقع سے متعلق موٹرسائیکل سوارراحت نے کہا کہ انصاف نہیں ہورہا، پولیس نے اقدام قتل کا مقدمہ درج کرنے کی بجائے ہوائی فائرنگ کا مقدمہ درج کیا ، ملزم بچ جائیں گے ۔موٹر سائیکل سوا ر نے بتایا کہ کار سواروں کاکہناتھاکہ سامنے کیوں آئے ، اتنا بڑا گناہ نہیں کیا کہ جان سے ہی ماردیاجائے۔ راحت نے بتایاکہ بچے چھوٹے تھے ، ان کے والد پر حیرت ہوئی جس نے روکا نہیں ، مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہے اور فائرنگ کے باوجود اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔دوسری جانب ایس پی کینٹ کاشف ذوالفقار نے بتایاکہ بہرحال گاڑی کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے اس کے رجسٹریشن نمبر کا پتہ لگا لیا گیا ہے اور جلد اس کے مالک کا پتہ لگا لیا جائے گا۔ ملزموں کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور جلد ان کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے واقع کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی ہے ،اور واقع میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت سے سخت کارروائی عمل میں لانے کاحکم دیدیا ہے۔

بھارتی سکھ یاتری دس روزہ دورے کے بعد اپنے وطن روانہ ہو گئے

لاہور پاکستان میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے آنے والے بھارتی سکھ یاتری دس روزہ دورے کے بعد اپنے وطن روانہ ہو گئے یاتریوں کا کہنا تھاکہ پاکستانیوں سے ملنے والی محبت  وہ زندگی بھر نہیں بھلا سکیں  گے۔ بھارت سے  آنے والے  ایک سو پچپن سکھ یاتریوں نے حسن ابدال،ننکانہ صاحب، پنجہ صاحب ،ایمن آباد اور لاہور میں اپنی  مذہبی رسومات ادا کیں،بھارت روانگی سے پہلے یاتریوں نے  کہا کہ پاکستان آکر انھیں ایک لمحے کے لیے محسوس نہیں ہوا کہ وہ  اپنے وطن میں نہیں ہیں وہ جہاں بھی گئے پاکستانیوں نے انھیں بھرپور محبت سے نوازا۔چئیرمین متروکہ وقف املاک بورڈ  صدیق الفاروق کا کہنا تھا کہ بھارتی سکھ یاتریوں کو ہمیشہ تمام  سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے۔

بھارتی یاتریوں نے دونوں ممالک کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ویزہ پابندیوں کو آسان بنایا جائے تاکہ لوگ با آسانی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے آ جا سکیں

سترہ جون، چودہ خون، کہاں ہے قانون؟عوامی تحریک کا پیغام

لاہور  سترہ جون، چودہ خون، کہاں ہے قانون؟؟؟ کے پیغام کے ساتھ پاکستان عوامی تحریک آج مال روڈ لاہور پر دھرنا دے گی اور شہدا ماڈل ٹاؤن کے ورثا کے لئےانصاف مانگے گی۔ دھرنے میں پاکستان عوامی  تحریک کے علاوہ چھے جماعتوں کے وفود شریک ہوں گے۔ دھرنے کے شرکا سے ڈاکٹر طاہر القادری مرکزی خطاب کریں  گے۔

پاکستان عوامی تحریک شہدا ماڈل ٹاون  کا انصاف لینے کے لیے آج پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا  دے گی۔ شہدا ماڈل ٹائون کی دوسری برسی کے سلسلے میں حتمی تیاریاں جاری  ہیں۔ دھرنا افطار کے بعد شروع ہو گا جو سحری  تک جاری  رہے گا۔ دھرنے میں ملک بھر سے کارکن شرکت کریں گے جن میں خواتین اور بچے  بھی شامل ہوں گے۔ دھرنے کے شرکا سے مرکزی  خطاب ڈاکٹر  طاہر القادری کریں گے جن کے لئے بلٹ  پروف کنٹینر تیار کر لیا گیا ہے۔ ادھر ماڈل ٹاؤن میں جمعرات کو بھی مختلف سیاسی رہنماؤں  نے طاہر القادری سے ملاقات کی اور عوامی تحریک کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔

دھرنے میں تحریک انصاف کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، جماعت اسلامی، مسلم لیگ ق اور عوامی مسلم لیگ کے وفود  شرکت کریں گے۔ مال روڈ دھرنے کی پولیس کے علاوہ عوامی تحریک کے رضاکار بھی نگرانی کریں گے۔

زراعت ترقی کرے گی تو خوشحالی آئے گی،اسحاق ڈار

اسلام آباد  وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں 3ایڈہاک الاؤنسز ضم کرکے10فیصد اضافے، ٹریکٹروں پر سیلز ٹیکس کی شرح 10فیصد سے کم کرکے 5فیصد کرنے،ہارویسٹر اورلیزر لینڈ رولر پردرآمدی ڈیوٹی، زرعی ادویات پر سیلز ٹیکس ختم کرنے اور یوریا کھاد پر سیلز ٹیکس 17فیصد سے کم کر کے5فیصد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیری کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے سیلز ٹیکس 17فیصد سے کم کر کے 5فیصد کر رہے ہیں، صوبوں کے ساتھ مل کر جلد از جلد نئے این ایف سی ایوارڈ کا اعلان کیا جائے گا، بجٹ میں سینیٹ کی طرف سے مجموعی طور پر 139تجاویز موصول ہوئیں، جن میں سے 86تجاویز کو کمی یا جزی طور پر منظور کرلیا گیا ہے۔ بجٹ کے دوران قائمہ کمیٹیوں کا کردار قابل تعریف رہا، دونوں ایوانوں کی مثبت تجاویز کے مطابق بجٹ پر نظرثانی کریں گے، ہر معاملے میں قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی روایت پر گامزن ہیں۔ وہ جمعہ کو قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ پر بحث سمیٹ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کے معاشی روڈ میپ کیلئے اپوزیشن تجاویز پیش کرے، افراط زر کی موجودہ شرح 3فیصد سے کم اور قیمتوں میں استحکام ہے، 3سال کے دوران افراط زر کی شرح 8.2 سے کم کر کے 4.2فیصد پر لے آئے ہیں، کسانوں کی خوشحالی کیلئے بجٹ میں مزید مراعات کی تجویز دی ہے، بجٹ سے متعلق اعداد و شمار پیش کر کے شکوک و شبہات پیدا کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی حقائق کو انفرادی طور پر دیکھیں، پاکستانی شماریات بیورو جیسا آزاد ادارہ قائم کیا گیا، بے وقت بارشوں سے کپاس کی فصل کو نقصان پہنچا ہے، ترقی کا سفر جاری رکھیں گے، معیشت مزید تیز رفتاری سے ترقی کرے گی۔<br/> اسحاق ڈار نے کہا کہ صوبوں میں تفریق نہیں کرتے، پورا پاکستان ہمارے لئے برابر ہے، گوادر میں شاہراہوں کو تیزی سے تکمیل کی طرف لے جا رہے ہیں، گلگت بلتستان میں بھی سڑکوں کی تعمیر کا کام کیا جا رہا ہے، حکومت نے براہ راست ٹیکسوں پر خصوصی توجہ دی، اس مرتبہ زیادہ تر بجٹ تجاویز زیادہ تر براہ راست ٹیکس سے متعلق ہیں، نان فائلرز کیلئے ٹیکسز کو مہنگا بنایا جا رہا ہے، کوشش ہے کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء ٹیکس سے مستثنیٰ رہیں، پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی شرح مارچ 2013سے ہی کم ہے، پرویز مشرف کے دور میں قرضوں میں تقریباً 100فیصد اضافہ ہوا، 1999 میں پاکستان پر مجموعی قرضہ 2946 ارب روپے تھا،2008ء میں یہ قرضہ 5800 ارب اور 2013 میں 14318 ارب روپے ہو گیا، گزشتہ 14سال میں بڑھنے والے قرضوں کا جواب مشرف اور پیپلز پارٹی کو دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ 2013 میں سٹیٹ بینک کے پاس صرف 2ارب ڈالر کا زرمبادلہ تھا،2016 میں سٹیٹ بینک کے پاس 60کروڑزرمبادلہ کے ذخائر ہیں،3 سال میں زر مبادلہ کے ذخائر میں 13ارب 80 کروڑ روپے کا اضافہ وہا، 2013 میں ترقیاتی بجٹ 348 ارب روپے تھا جو اب 800 ارب تک پہنچ گیا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اخراجات کے باوجود خسارہ 4.3 فیصد ہے، گزشتہ دور میں قرضوں میں 400 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے چھوٹے کسانوں کو تاریخی کسان پیکج دیا، کسان پیکج کے تحت چھوٹے کاشتکاروں کو امداد فراہم کی گئی، حکومت نے زرعی مشینری پر ڈیوٹی کم کی، کسان کی پیداواری لاگت کم کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، یوریا کھادکی قیمت 2200 سے کم کر کے 1800 روپے فی بوری پر لائے ہیں، موجودہ بجٹ کے ذریعے ڈی اے پی میں مزید 300 روپے کم کئے،زرعی مشینری پر ماضی کی 43فیصد ڈیوٹی کے برعکس 9 فیصد پر لائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت ترقی کرے گی تو خوشحالی آئے گی اور معیشت ترقی کرے گی، دیامر بھاشا ڈیم کے لئے 32 ارب روپے رکھے گئے ہیں، متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے، فاٹا میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو فتح مل رہی ہے، آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والوں کی بحالی کیلئے جامع پروگرام پر کام کر رہے ہیں، نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کا عمل جاری ہے، جس میں تیزی لائی جا رہی ہے، گزشتہ دو سال میں ضری عضب اور نقل مکانی کرنے والوں کیلئے 145 ارب روپے دیئے، مضبوط مالباتی ضوابط ترقی کی ضمانت ہیں، اس حوالے سے ترمیم لا رہے ہیں، ترمیم کے ذریعے آئندہ تین سال میں مالی خسارہ 3.5 فیصد تک لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئین حکومت کو اضافی اخراجات کی اجازت دیتا ہے، موجودہ حکومت نے اضافی اخراجات کو محدود کیا ہے، موثر اقدامات کی بدولت ریلوے خسارے میں نمایں کمی آئی، قومی اداروں کی مانیٹرنگ اور کارکردگی کے بارے میں جامع رپورٹ شائع کی ہے۔<br/> سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ اقتصادی راہداری پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے کیلئے گیم چینجر ہے، مغربی روٹ پر طے ہونے والے معاملات پر حکومت عملدرآمد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی کا موجودہ ایوارڈ نئے ایوارڈ تک نافذ العمل رہے گا، صوبوں کے ساتھ مل کر جلد از جلد نئے این ایف سی ایوارڈ کا اعلان کیا جائے گا، فوج ضرب عضب میں مصروف ہے، جس کے باعث مردم شماری میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ نے بجٹ تجاویز میں بھرپور حصہ لیا، بجٹ کے دوران قائمہ کمیٹیوں کا کردار قابل تعریف رہا، بجٹ 2016-17 میں مزید ترامیم پیش کروں گا، دونوں ایوانوں کی مثبت تجاویز کے مطابق بجٹ پر نظرثانی کریں گے، ہر معاملے میں قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی روایت پر گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ کی طرف سے ہمیں مجموعی طور پر 139تجاویز موصول ہوئیں، 139 میں سے 86 تجاویز کو کلی، یا جزوی طور پر منظر کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریکٹروں پر سیلز ٹیکس کی شرح 10سے کم کر کے 5فیصد کی جا رہی ہے، ہارویسٹر اور لیزرلینڈ رولر پر درآمدی ڈیوٹی ختم کی جا رہی ہے، زرعی ادویات پر سیلز ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے، یوریا کھاد پر سیلز ٹیکس 17 سے کم کر کے 5 فیصد کیا جا رہا ہے، میڈیا ڈیجیٹیلائزیشن کیلئے آلات پر کسٹم ڈیوٹی 35فیصد سے کم کر کے 11فیصد کی جا رہی ہے، ڈیری کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے سیلز ٹیکس 17فیصد سے 5فیصد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کی نقل و حمل کیلئے چارٹرڈ پروازوں پر ایف ای ڈی ختم کر دی گئی ہے، ٹیکس گزاروں کی سہولت کیلئے ٹیکس قوانین میں تبدیلی کی ہے، سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 3 ایڈہاک الاؤنسز ختم کئے جائیں گے، تینوں ایڈہاک بنیادی تنخواہ میں ضم کر کے 10فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے وزیراعظم سے مشاورت کے بعد پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں پر نظرثانی کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

Google Analytics Alternative