قومی

معید پیرزادہ ابو ظہبی میں فراڈ کے الزام میں گرفتار

Moed Pirzada

ٹی وی کے معروف اینکر اور تجزیہ کار معید پیرزادہ کوابوظہبی میں گرفتار کر لیا گیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ ’’معید پیرزادہ کو ابوظہبی حکام نے اپنی حراست میں لیا ہے۔ پاکستانی سفارت خانہ حکام سے رابطے میں ہے اور معید کو ہر طرح کی قانونی امداد فراہم کی جائے گی۔ ‘‘ سفارت خانے کے حکام نے معید کی گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ نہیں کیا تاہم سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سامنے آنے والی خبروں کے مطابق معید پیر زادہ کو پراپرٹی کے جعلی کاغذات بنانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔اس بارے میں سامنے آنے والی تازی اطلاعات کے مطابق معید پیر زادہ کو اپنے وینٹی لیٹر پر زندگی کی جنگ لڑتے ہوئے والد کا انگوٹھا مختلف کاغذات پر لگواتے ہوئے ہسپتال کے کیمرے نے پکڑ لیا۔ ہسپتال کے عملے نے اس معاملے کی ویڈیو دیکھ کر پولیس کو آگاہ کیا۔  ڈاکٹر معید پیر زادہ چار اگست سے زیر حراست ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کے ہمراہ ان کی بہن  کو بھی اس معاملے میں ملوث ہونے پر حراست میں لیا گیا ہے۔

12اردوناولوں کا مصنف رکشا چلاتا ہے

driver12ناولوں اور کئی ڈراموں کے مصنف محمد فیاض ماہی اپنی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لئے رکشا چلانے کوعیب نہیں سمجھتے۔ وہ نا صرف اپنے لوڈر رکشے پر تاجروں کا کپڑاایک مارکیٹ سے دوسری مارکیٹ میں منتقل کرتے ہیں بلکہ اپنے گاہکوں کو زندگی کے مختلف پہلوؤں اوران سے جڑے کرداروں سے بھی ہم آہنگ کرواتے ہیں۔

سوشل میڈیاکی نیوز فیڈ کے مطابق وزیرمملکت برائے پانی وبجلی عابد شیرعلی کے پڑوس میں دو مرلے کے مکان میں رہائش پذیر 45 سالہ فیاض رکشہ ڈرائیور ہونے کے ساتھ ساتھ ادیب بھی ہیں اورناولوں سمیت 100سے زائد ڈرامے لکھ چکے ہیں۔ ان کے بارہ ناولوں میں سے 11تین تین بار شائع ہوچکے ہیں ۔

فیاض ماہی نے بتایاکہ وہ ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے اورمیٹرک کی 40 روپے داخلہ فیس نہ ہونے کے باعث اپنی رسمی تعلیم مڈل سے آگے نہ بڑھا سکے تاہم غربت کو کتابیں پڑھنے کے شوق پر کبھی حاوی نہیں ہونے دیا۔

فیاض ماہی ’گھنگھرو اور کشکول، گیلے پتھر، کاغذ کی کشتی، کانچ کا مسیحا، تاوانِ عشق، عین شین قاف، موم کا کھلونا، ٹھہرے پانی، میرا
عشق فرشتوں جیسا، لبیک اے عشق، شیشے کا گھر اور پتھر کے لوگ کے مصنف ہیں اور امکان ہے کہ رواں سال کے آخر تک تیرہواں ناول ’گستاخ اکھیاں‘ بھی قارئین کیلئے پیش کردیں گے ۔
اُنہوں نے غربت کے باوجود اپنے شوق کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ پایہ تکمیل تک بھی پہنچایا اور تنگدستی کا سامنا کرنے والے دیگر افراد کے لیے مثال قائم کردی۔

دھرنے میں عمران خان کو جنرل راحیل شریف کا مشورہ مان لینا چاہیے تھا ، جسٹس (ر) وجیہ الدین احمد

4
تحریک انصاف کے رہنما جسٹس (ر) وجیہ الدین احمد نے روز نیوز کے پروگرام ‘‘سچی بات ایس کے نیازی کیساتھ ’’ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جب جنرل راحیل شریف نے عمران خان کو گارنٹی دی تھی کہ اگر وہ استعفے کے علاوہ باقی مطالبات مان لیتے ہیں تو وہ جوڈیشل کمیشن کی گارنٹی کرتے ہیں اس پر مشورہ مان لینا چاہیے تھا ۔

جسٹس (ر)وجیہ الدین کی روز نیوز کے پروگرام ‘‘سچی بات ایس کے نیازی کیساتھ ’’ میں خصوصی گفتگو

1تحریک انصاف کے رہنما جسٹس(ر) وجیہ الدین نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کو لامحدود اختیارات دئیے گئے تھے  لیکن انہیں استعمال نہیں کیا گیا ۔ تحریک انصاف کے رہنما نے کہا پارٹی کی نمائندگی کرنے والی قانونی ٹیم نےبھی پوری تیاری نہیں کی

کراچی کے شہریوں کو روشنیوں کا شہر واپس مل رہا ہے: پرویزرشید

وفاقی وزیراطلاعات سینیٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت ملک بھر میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہورہی ہے اور یہ مستقل طور پر قائم رہے گی جب کہ اس کا پورا کریڈٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جاتا ہے۔

کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ پاکستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ وزیراعظم نوازشریف کی ترجیحات میں شامل ہے جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاوشوں کی بدولت ملک بھر میں امن وامان کی صورتحال پہلے سے بہت بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں یہاں کی تجارتی سرگرمیاں مکمل بحال ہوچکی ہیں اور امن والا کراچی اب ہمیں واپس مل رہا ہے جب کہ یہاں کے لوگ اب بے خوف ہوکر سڑکوں پر چلتے ہیں۔

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک پر امن ملک بن چکا ہے، ہماری درسگاہیں، عبادتگاہیں، پارک اور مارکیٹیں اب محفوظ رہیں گی اور یہ رونقیں اب کراچی سمیت پورے ملک میں مستقل طور پر بحال رہیں گی جب کہ اب دہشت گردوں کے حملوں کے بجائے ان کی گرفتاریوں کی خبریں آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے درمیان جوڈیشل کمیشن پر ایک معاہدہ ہوا تھا اور ہم اسی معاہدے کی پاسداری کررہے ہیں جب کہ وزیراعظم نوازشریف نے سب جماعتوں سے درخواست کی اور ایک کمیٹی بھی بنائی جو جے یو آئی اور ایم یو ایم سے مذاکرات کرکے ان کو تحریک انصاف کے خلاف تحاریک واپس لینے کے لیے قائل کررہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں پرویز رشید کا کہنا تھا کہ دھرنوں کے پیچھے فوج کے ملوث ہونے کی بات سب سے پہلے تحریک انصاف کے سابق صدر جاوید ہاشمی اور اس کے بعد شاہ محمود قریشی کے بھائی نے کی جب کہ اس حوالے سے ہم نے کوئی بات نہیں کی۔

تحریک انصاف کو ڈی سیٹ کرنے کی مخالفت کریں گے:خورشید شاہ

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کی تحاریک کی مخالفت کرے گی۔

سکھرکے قریب علی باہن بند کے دورے کے موقع پرمیڈیا سے بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے اسمبلی ميں عمران خان کا نہیں جمہوریت کا ساتھ دیا ہے اور ملک میں جمہوریت کی ہی جیت ہونی چاہیئے،ان کی جماعت قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کی تحاریک کی مخالفت کرے گی۔ تاجربرادری کی ہڑتال سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی تاجربرادری سمیت ہراس طبقے کی حمایت کرتی ہے جس کا مطالبہ جائزہو، حکومت کی جانب سے ٹیکس پرٹیکس لگانا ٹھیک نہیں، حکومت کو چاہیے کہ وہ تجارت دشمن اقدامات کے بجائے نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرے۔

کچے کے علاقے کے لوگوں کو پیشگی وارننگ دی گئی تھی لیکن کچے کے مکین متاثرہ علاقوں سے نکلنا نہیں چاہتے ہیں، سیلاب متاثرین کوضروری اشیا فراہم کی جارہی ہیں تاہم یہ ایسا سیلاب نہیں ہے جس پر ہمیں بیرونی امداد کی ضرورت ہو،  انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو سندھ ميں بھی سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کرنے چاہیئے۔ سندھ میں ابھی سیلاب کیفیت ہے، اس صورت حال میں عوام، صوبائی حکومت اور سرکاری انتظامیہ مصروف ہے اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات کو دو تین ماہ کے لئے ملتوی کردیئے جائیں تو کوئی حرج نہیں۔

پاکستان کویورپی جوہری تنظیم کی رُکنیت مل گئی

جوہری تحقیق کی یورپی تنظیم ’’سرن‘‘ نے پاکستان کو باقاعدہ طور پر ایسوسی ایٹ رکنیت دے دی ہے۔ دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق پاکستان یہ رکنیت حاصل کرنے والا پہلا غیر یورپی ملک ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور’’ سرن‘‘ کے درمیان ایسوسی ایٹ ممبر شپ کے معاہدے پر دسمبر 2014 میں دستخط ہوئے تھے۔ 31 جولائی 2015 کو جنیوا میں پاکستانی سفیر ضمیر اکرم کی جانب سے تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل کو انسٹرومینٹ آف ریٹیفیکیشن کی فراہمی کے بعد پاکستان کی رکنیت کو باقاعدہ حیثیت مل گئی ہے۔ دفترِ خارجہ نے مزید کہا ہے کہ ’’سرن‘‘ کی رکنیت ملنا پاکستان کے جوہری توانائی کے پرامن استعمال کی دلیل ہے۔ بیان کے مطابق پاکستان پہلے ہی ’’سرن‘‘ کے اہم ترین منصوبے ’’لارج ہیڈرون کولائیڈر‘‘ میں قابلِ ذکر تعاون کر چکا ہے اور اب ایسوسی ایٹ رکن کی حیثیت سے وہ تنظیم کے تحت ہونے والی جدید سائنسی تحقیق سے فائدہ اٹھانے کی امید رکھتا ہے۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کا اس قسم کے اداروں اور منصوبوں سے تعلق جوڑنا ملک کے عوام کے لیے دور رس مثبت نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ خیال رہے کہ ’’سرن‘‘ کی رکنیت ملنے سے قبل ہی وہاں پاکستانی سائنسدان کئی سال پہلے سے سائنسی تحقیق میں ہاتھ بٹا رہے ہیں۔’ ’سرن‘ ‘سے منسلک ایک پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر حفیظ ہورانی کے مطابق 1994ء میں سرن لیبارٹری کے ساتھ کام کرنے کا معاہدہ طے پانے کے بعد سو سے زائد پاکستانی سائنسدان سرن لیبارٹری کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ ’’ہیڈرون کولائیڈر‘‘ منصوبے سے وابستہ ڈاکٹر ہورانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان میں سے ایک وقت میں لیبارٹری میں 15 کے قریب سائنسدان کام کرتے ہیں اور باقی سائنسدان پاکستان میں انٹرنیٹ کے ذریعے تحقیقی کام کرتے ہیں جسے ویلیو ایڈیشن کہا جاتا ہے۔ڈاکٹر ہورانی نے مزید بتایا کہ’ ’سرن سے مختلف مواد تحقیق کے لیے بھیجا جاتا ہے اور پاکستان میں اس کا مشاہدہ کرنے کے بعد مختلف ماڈلز تیار کر کے واپس بھیجے جاتے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر ہورانی نے کہا کہ سرن لیبارٹری کے ساتھ کام کرنے والے زیادہ تر سائنسدانوں کا تعلق پاکستان کے نیشنل سینٹر فار فزکس اور ملک کے جوہری ادارے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے ہے۔

سکھ لڑکی نے میٹرک کے امتحانات میں میدان مار لیا

ننکانہ صاحب سے آنے والی اطلاع کے مطابق شری گورو نانک دیو جی ہائی سکول، ننکانہ صاحب کی طالبہ منبیر کور نے میٹرک کے امتحان میں ٹاپ کیا ہے۔گوردوارہ سری ننکانہ صاحب کے چیف گرنتھی کی بیٹی منبیر کور نے گیارہ سو میں سے ایک ہزار پینتیس نمبر لیے ہیں۔ تیس جولائی کو امتحانی نتائج کے اعلان کے بعد سے منبیر کور کو ہر جانب سے مبارک باد کے ڈھیروں پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔سکھ کمیونٹی کا تناسب پاکستانی کے آبادی میں تقریباً ایک فیصد بنتا ہے۔ ایسے میں اس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کی ایسی کامیابی پر اگر ساری سکھ کمیونٹی خوشیاں منا رہی ہے تو یہ اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ منبیر کور ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں اور انہوں نے آئندہ پڑھائی کے لیے لاہور کے ایک نجی کالج کا انتخاب کیا ہے۔ کامیابی پر مسرور منبیر کور آج کل اپنی امی اور خالہ کے ہمراہ چھٹیاں منا رہی ہیں۔ منبیر کی کامیابی کے بعد دوسری لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے منبیر کور کو ’’سروپا‘‘ کے اعزاز سے نوازا ہے۔ انڈین اخبارات نے منبیر کور کی اس کامیابی کو اپنے ہاں نمایاں انداز میں شائع کیا ہے اور اسے پاکستان میں سکھوں کی تیزی سے کم ہوتی ہوئی تعداد کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے

Google Analytics Alternative