قومی

نواز شریف کے خلاف 12بڑے کیسز کی فوری تحقیقات ہونی چاہیئے “عمران خان “

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ سیاست دانوں نے ملک کو تقسیم کر دیا ہے، اسٹیٹس کو نے پورے نظام کو غلام بنا رکھا ہے۔اس کو توڑنے کی ضرورت ہے۔

عمران خان نے کہا ہے کہ پنجاب میں بھی دہشت گردوں کا پیچھا کیا جائے۔

نواز شریف کے خلاف 12بڑے کیسز کی فوری تحقیقات ہونی چاہیئے، انہوں نے کہا کہ الیکشن میں بے ضابطگیاں دھاندلی کا دوسرا نام ہے۔ دونوں پارٹیوں کے مفادات ایک ہیں اگر دھاندلی نہ روکی گئی تو عوام کو حکمرانوں کے بچوں کی غلامی بھی کرنا پڑ جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹس کو نے پورے نظام کو غلام بنا رکھا ہے۔ اس کو توڑنے کی ضرورت ہے۔حکمران قرضے لینے کیلئے ٹیکس لگاتے ہیں اور اداروں کی نجکاری کرتے ہیں۔

رائیونڈ عوام کے ٹیکسوں سے چل رہا ہے۔جب چیئرمین نیب مک مکا سے لگائیں گے تو وہ کیسے احتساب کرے گا؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دو بڑے عذاب ٹیکس چوری اور کرپشن ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ پنجاب میں تما م منصوبے لاگت سے کئی گناہ زیادہ میں بن رہے ہیں۔ پنجاب میں پبلک اکاونٹس کمیٹی کو فعال نہیں کیا گیا۔ اس کو کام نہیں کرنے دیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ کی رابطہ کمیٹی ایک کٹھ پتلی ہے اس کی الطاف حسین کے سامنے کوئی وقعت نہیں۔جو مصطفیٰ کمال نے کہا ہے وہ ہم 2007سے کہہ رہے ہیں۔ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لینا چاہئے۔

سب کو پتہ ہے کہ ایم کیو ایم را سے پیسے لیتی ہے۔ میں چودھری نثار کی بات سے حیران ہوں کہ ان کو اب بھی ثبوت درکار ہیں۔

مصطفیٰ کمال کے دعووں کو مسترد نہیں کیا جاسکتا “پی ٹی آئی”

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے متحدہ قومی موومنٹ (MQM) کے سابق سینیٹر اور سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال کی جانب سے ایم کیو ایم قائد الطاف حسین کے ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ‘را’ سے تعلقات کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا.

پارٹی ترجمان نعیم الحق نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مصطفیٰ کمال کی جانب سے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر داخلہ اور موجودہ سینیٹر اور ایم کیو ایم قائد پر لگانے جانے والے الزامات انتہائی سنگین تھے اور انھیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، یہی وجہ ہے کہ ان کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جانی چاہیئیں.

نعیم الحق کا کہنا تھا کہ ‘ایم کیو ایم کے اپنے ہی بندے کے ان دعووں کو کس طرح مسترد کیا جاسکتا ہے’.

یاد رہے کہ رواں ہفتے جمعرات کو مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم کے سابق ڈپٹی کنونیئر انیس قائم خانی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران چونکا دینے والے انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پارٹی قیادت کے ‘را’ سے تعلقات کے گواہ ہیں اور اس بات کے بھی کہ رحمان ملک بحیثیت وزیر داخلہ اس سب سے آگاہ تھے.

نعیم الحق کا کہنا تھا کہ، ‘ہم 3 دہائیوں سے ایم کیو ایم قیادت کے خلاف اسی طرح کے الزامات سنتے آئے ہیں، اب وقت ہے کہ اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں’.

تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ مصطفیٰ کمال کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے اور اس تنازع کے اختتام کے لیے جوڈیشل کمیشن ہی بہترین آپشن ہے.

صرف مصطفیٰ کمال نہیں ،دوچاربڑی شخصیات اوربھی ہوں گی” خورشید شاہ”

 

سکھر: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈراورپیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ مصطفٰی کمال کی واپسی سے کچھ نہیں ہونے والا لیکن میرا خیال ہے کہ کچھ اور شخصیات بھی سامنے آئیں گی۔

یہ بات انہوں نے سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ خورشید شاہ نے کہا کہ رحمان ملک تقریر لکھ کر دیتے تھے تو پڑھنے والے بھی یہی تھے۔

انہوں نے کہا کہ 90ءکی دہائی میں ایم کیو ایم کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ایم کیو ایم ایک بارپھر ابھری،دو چار لوگ اور بھی چلے جائیں تو پارٹی ختم نہیں ہوتی ۔

انہوں نے کہاکہ گورنر سندھ کا اونٹ اسٹیبلشمنٹ کی طرف بیٹھا ہے۔ خورشیدشاہ نے مزید کہا کہ کہانی کے پیچھے صرف مصطفیٰ کمال نہیں ،دوچاربڑی شخصیات اوربھی ہوں گی۔

میراتجربہ کہتاہے کہ کچھ نہیں ہوگا اورکوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ دنوں کی بات ہے گرد جلد بیٹھ جائےگی۔

لینڈ ریکارڈ کے نظام میں غلطی کی گنجائش نہیں ہے”شہباز شریف”

لاہور : وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ مارشل لاءمیں کروڑوں روپے کرپشن میں ڈوب گئے مگر بتایا جائے کہ نیب نے کیا کارروائی کی، ہماری دم پر پاﺅں نہیں آیا، نیب کو آزادی کیساتھ کام کرنے دیا جائے گا،پنجاب میں نیب کی تحقیقات جاری ہیں ، کئی ماہ سے پنجاب میں کام کر رہی ہے،پٹواری مافیا ناقابل قبول ہے، عوام کی جان اس مافیا سے چھڑوا دی ہے، لینڈ ریکارڈ کے نظام میں غلطی کی گنجائش نہیں ہے، لینڈ ریکارڈ نظام کو اس قدر شفاف بنائیں گے کہ کوئی انگلی نہ اٹھا سکے ۔وہ ہفتہ کو یہاں اراضی ریکارڈ کمپوٹرائز ڈکرنے کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ پنجاب میں اراضی ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کے حوالے سے آج کا دن تاریخ ساز ہے، پنجاب میں لینڈ ریکارڈ کے کام کا آغاز سب سے پہلے وزیراعظم نواز شریف نے کیا، ماضی میں لینڈز ریکارڈ منصوبے پر ایک ارب روپے خرچ کئے جائیں گے جو ضائع ہو گئے، احتسابی عمل کسی بھی معاشرے کا لازمی جزو ہوتا ہے، غلطیاں ہوتی ہیں مگر بدنیتی پر مبنی غلطی کی گنجائش کسی کیلئے نہیں ہو گی، اس کے باوجود وہ نظام کو اس قدر شفاف بنائیں گے کہ کوئی انگلی نہ اٹھا سکے اورپٹواری مافیا سے نیب کی جان چھڑائیں گے، پنجاب کے منصوبوں میں کرپشن ختم نہیں ہوئی مگر کرپشن کا عنصر بہت کم ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ پرویز الٰہی کے دور میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کے نام پر 90 کروڑ روپے ضائع کئے، مفروضوں پر بات نہ کی جائے ،3 اداروں میں ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو سیاست چھوڑ دوںگا ،نیب کے بارے میں طرح طرح کی باتیں ہو رہی ہیں مگر نیب کے بارے میں کسی اور دن ثبوت کیساتھ بات کریں گے کہ نیب کیا کر رہی ہے تونیب کے پسینے چھوٹ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 143تحصیلوں میں اراضی کے ریکارڈ سنٹر سے خدمات کی فراہمی آج سے شروع ہو گی۔ انہوںنے کہا کہ نیب گزشتہ کئی ماہ سے پنجاب میں مختلف معاملات کی تحقیق کر رہی ہے، پنجاب حکومت نے نیب کے ساتھ تحقیقات میں مکمل تعاون کیا ہے، لینڈ ریکارڈ میں ضائع ہونے والے ایک روپیہ کا بھی حساب نہیں لیا گیا، اس حوالے سے حقائق قوم کے سامنے لاﺅں گا۔ انہوں نے کہا کہ پوچھتا چاہتا ہوں کہ اربوں روپے کے سکینڈلز میں کیا کارروائی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ فخر سے کہتا ہوں کہ احتسابی عمل کو توانا کیا، پٹواری مافیا ناقابل قبول ہے، عوام کی جان اس مافیا سے چھڑوا دی ہے، لینڈ ریکارڈ کے نظام میں غلطی کی گنجائش نہیں ہے، لینڈ ریکارڈ نظام کو شفافیت اور پائیدار بنائیں گے.

سہراب گوٹھ سے بسوں میں خواتین کو لوٹنے والی 2خواتین پکڑی گئیں

کراچی: کراچی کے علاقوں شاہ فیصل کالونی اور سائٹ میں پولیس نے کارروائیاں کرتے ہوئے 7 افراد کو گرفتار کرلیا جبکہ سہراب گوٹھ سے بسوں میں خواتین کو لوٹنے والی 2خواتین پکڑی گئیں۔ کراچی میں موٹر سائیکل پر عائد 4 روزہ پابندی ختم کر دی گئی۔شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس نے کارروائیاں کر کے 7افراد کو گرفتار کر لیا۔سہراب گوٹھ سے بسوں میں خواتین کو لوٹنے والی 2خواتین پکڑی گئیں۔ادھر گارڈن میں بچی سے مبینہ زیادتی کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ گارڈن کے علاقے عثمان آباد میں 3 نامعلوم ملزمان نے 5 سال کی بچی سے زیادتی کی کوشش کی۔ اہل محلہ کے پہنچنے پر ملزمان بھاگ گئے، مشتعل افراد نے واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایک موٹر سائیکل کو آگ لگادی۔ بچی کے والد نے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب پولیس نے سہراب گوٹھ کے علاقے میں بسوں میں خواتین کو لوٹنے والی 2 خواتین کوحراست میں لے لیا جبکہ سائٹ کے علاقے میں منشیات کے اڈے پر چھاپا مارکر 2 منشیات فروشوں کو گرفتارکرلیا گیا.

بھارت جبر واستبداد سے کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کرسکتا،تحریک حریت

بھارت جبر واستبداد سے کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کرسکتا،تحریک حریت
سرینگر ۔ : مقبوضہ کشمیر میں تحریک حریت جموں وکشمیر نے کہا ہے کہ بھارت جبر واستبداد پر مبنی اپنی پالیسیوں کے ذریعے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کسی صورت دبا نہیں سکتا۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق تحریک حریت نے بانڈی پورہ قصبے میں بھارت مخالف مظاہرہ کا انعقاد کیا جس کی قیادت تنظیم کے رہنما بشیر احمد قریشی نے کی اور اس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔ بشیراحمد نے اس موقع پر اپنی تقریر میں کہا کہ بھارت جبر و استبداد سے کشمیریوں کی خواہشات کو کسی صورت کچل نہیں سکتا۔ انہو ںنے کہا کہ تحریکی رہنماﺅں اور کارکنوں کی غیر قانونی گرفتاری سے انکے حوصلے کبھی بھی پست نہیں کیے جاسکتے۔ بشیر احمد نے کہا کہ بھارت نے جموںوکشمیر پر غیر قانونی طور پر قبضہ جما رکھا ہے اور کشمیری اپنے پیدائشی حق، حق خود ارادیت کے حصول کے لیے بیش بہا قربانیاں دے رہے ہیں۔ دریں اثنا کشمیر فریڈم فرنٹ کے رہنماﺅں محمد اکبر ڈار اور مولانا محمد شمس الدین نے پلوامہ کے علاقے تلگام میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری اپنے ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت کے حصول کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں حال ہی میں ترال میں شہد ہونے والے تین کشمیری نوجوانوںکو شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔

فیس بک پر نفرت آمیز مواد شیئرکرنے پر تیرہ سال کی سزا

لاہور: انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پرمبینہ طورپر نفرت آمیز مواد شیئرکرنے کے جرم میں ایک شخص کو تیرہ سال کی سزا سنادی گئی۔

تفصیلات کے مطابق 25 سالہ رضوان حیدرکوانسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے مذہبی منافرت پھیلانے سمیت 3 مختلف الزامات میں 13 سال کی سزا سنادی۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے حضوراکرم ﷺ کے حوالے سے پوسٹ کی تھی۔

سرکاری وکیل کے مطابق رضوان کے خلاف مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کے الزام میں مقدمہ جنوری میں قائم کیا گیا تھا۔

رضوان کو عدالت نے 13 سال کی سزا سنائی گئی ہےاورڈھائی لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے تاہم اسے اپیل کرنے کا حق ہے۔

دوسری جانب رضوان کے وکیل شمیم زیدی کا کہنا ہے کہ ’’اس نے پیج پر پوسٹ شیئر نہیں کی بلکہ صرف پوسٹ کو لائک کیا تھا‘‘۔

واضح رہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت اسی نوعیت کے الزام میں گزشتہ سال نومبر میں بھی ایک شخص کو 13سال کی سزا سناچکی ہے، ان سزاؤں پرپاکستان کے سماجی حلقوں میں شدید تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے

تحفظ خواتین ایکٹ مسترد

اسلام آباد: اسلامی نظریاتی کونسل نے پنجاب کے تحفظ خواتین ایکٹ اور خیبر پختونخوا کے گھریلو تشدد کے بل کے مسودے کو مغربی معاشرے کی اقدار کی حوصلہ افزائی قرار دیتے ہوئے انہیں مسترد کردیا۔

اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) کے 2 روزہ اجلاس کے اختتام پر کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی اور دیگر کئی اراکین نے، ملک کے قوانین اسلام کے مطابق ہونے کی یقین دہانی کرانے میں ناکامی پر جمہوری حکومتوں کی مذمت کی۔

کونسل کا کہنا تھا کہ صرف آمروں نے ملک کے قوانین کو اسلام کے مطابق بنانے کے لیے کام کیا، جبکہ جمہوری حکومتوں خاص طور پر مسلم لیگ (ن) اسلامی اقدار کے خلاف کام کرتی رہی ہے۔

مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا جن میں ایک ملک کے لوگ اسلام کے ماننے والے تھے، اس لیے ملک کے تمام قوانین اور اصول اسلامی تعلیمات کے مطابق ہی ہونے چاہیئے، لیکن ملکی قوانین کو شریعت کے مطابق بنانے کی تقریباً تمام کوششیں غیر جمہوری دور حکومت میں ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سی آئی آئی 1962 میں تشکیل دی گئی، جس کے بعد حدود آرڈیننس اور توہین مذہب سمیت چھ قوانین کونسل کی سفارشات کے مطابق 1983 میں قائم کیے گئے، جبکہ 1949 کی قرارداد مقاصد کو 1985 میں ملک کے آئین میں شامل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام سنگِ میل غیر جمہوری دور حکومت میں عبور کیے گئے، لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) جس کے نام میں بھی ’مسلم لیگ‘ آتا ہے، ملک کے اسلامی ڈھانچے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مولانا شیرانی نے تحفظ خواتین بل اور گھریلو تشدد کے بل کو شریعت، ثقافت اور معاشرتی اقدار کے منافی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں بلز ’خاندانی اقدار‘ کو تباہ کرنے کی کوشش ہے، کیونکہ ان سے ماں، بیٹا/بیٹی، شوہر اور بیوی جیسے قابل احترام رشتوں میں کوئی احترام نہیں رہے گا، اور ان سے مغربی اقدار کو فروغ ملے گا۔

مولانا محمد خان شیرانی کے اس موقف کی، سی آئی آئی کی واحد خاتون رکن ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی سمیت تمام مکاتب فکر کے علما کرام نے حمایت کی۔

ان کا کہنا تھا پنجاب حکومت کو اس بل کو واپس لے کر، کونسل کو خواتین کے تحفظ کے حوالے سے سفارشات پیش کرنے کی باقاعدہ درخواست کرنی چاہیے، جبکہ پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) میں گھریلو تشدد کے خلاف پہلے سے ہی قوانین موجود ہیں۔

Google Analytics Alternative