Home » صحت » لائٹ یا کم تارکول والے سگریٹ زیادہ خطرناک ہیں: تحقیق
Menthol flavored cigarettes are displayed in a store in New York March 30, 2010. A U.S. scientific panel this month will weigh the controversial role of popular menthol flavoring in cigarettes in the first public meeting on tobacco products since a new law granted regulators power over the industry last year. REUTERS/Lucas Jackson (UNITED STATES - Tags: HEALTH BUSINESS)

لائٹ یا کم تارکول والے سگریٹ زیادہ خطرناک ہیں: تحقیق

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق غیر تمباکو نوش افراد کو سگریٹ کا عادی بنانے اور بظاہر ’لائٹ‘ یا ’کم تارکول والے‘ سگریٹوں میں زیادہ ذائقے کی خاطر استعمال کیے جانے والے اضافی کیمیائی مادے عام لوگوں کو اس نشے کا عادی بنانے میں خطرناک کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ بات ایک نئی لیکن وسیع تر طبی تحقیق کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج کے مطابق تمباکو کی بین الاقوامی صنعت کی طرف سے سگریٹوں کی تیاری میں خالص تمباکو کے پتوں کے علاوہ جو اضافی کیمیائی مادے استعمال کیے جاتے ہیں انہیں عرف…

Review Overview

User Rating: 3.77 ( 423 votes)
0

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق غیر تمباکو نوش افراد کو سگریٹ کا عادی بنانے اور بظاہر ’لائٹ‘ یا ’کم تارکول والے‘ سگریٹوں میں زیادہ ذائقے کی خاطر استعمال کیے جانے والے اضافی کیمیائی مادے عام لوگوں کو اس نشے کا عادی بنانے میں خطرناک کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ بات ایک نئی لیکن وسیع تر طبی تحقیق کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج کے مطابق تمباکو کی بین الاقوامی صنعت کی طرف سے سگریٹوں کی تیاری میں خالص تمباکو کے پتوں کے علاوہ جو اضافی کیمیائی مادے استعمال کیے جاتے ہیں انہیں عرف عام میں additives اور کیمیائی حوالے سے ’’پائیرازائنز‘‘ کہا جاتا ہے۔ خام مادے کے طور پر تمباکو میں یہ pyrazines تمباکو نوش افراد کے لیے خاص طور پر’ ’لائٹ کہلانے والے، کم نکوٹین کے حامل اور کم تارکول والے‘‘ سگریٹوں کو’ ’زیادہ ذائقے دار اور پرکشش‘‘ بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ لیکن نئی تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ یہی کیمیائی مادے تمباکو مصنوعات کے استعمال کرنے والوں کو ’’نشے کا عادی بنا دینے کی اضافی صلاحیت کے حامل‘‘ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس تحقیق کے دوران ماہرین نے طویل عرصے تک انٹرنیشنل ٹوبیکو انڈسٹری کی سات ملین سے زائد ایسی دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا، جو انہی اضافی کیمیائی مادوں یا additives کے بارے میں تھیں۔ پتہ یہ چلا کہ آج کل سگریٹ سازی میں ایسے جو اضافی کیمیائی مادے استعمال ہوتے ہیں، ان کا استعمال 1960ء کی دہائی میں اس وقت شروع کیا گیا تھا جب تمباکو نوش افراد نے low۔tar والی مصنوعات کے طور پر تیار کردہ اولین سگریٹوں کو ’’بے ذائقہ‘‘ کہہ کر مسترد کر دیا تھا۔ اس بارے میں امریکی ریاست نیو یارک کے شہر Buffalo کے رَوس وَیل پارک کینسر انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر ماسیئے گونِیوِچ نے رائٹرز کو بتایا، ’’تمباکو میں پائی جانے والی نکوٹین ایک ایسا کیمیکل ہے، جس کے انسانی جسم، اعصاب اور دوران خون پر اثرات پوشیدہ نہیں ہیں اور یہ بات مدت سے طے ہے کہ نکوٹین ایک addictive یا اپنے استعمال کا عادی بنا دینے والا مادہ ہے۔‘‘ ڈاکٹر ماسیئے گونِیوِچ کے مطابق، ’’نئی تحقیق اس بارے میں تازہ شواہد مہیا کرتی ہے کہ تمباکو مصنوعات تیار کرنے والے اداروں نے اضافی کیمیائی مادوں کا استعمال ممکنہ طور پر اسی وجہ سے شروع کیا کہ سگریٹ نوشوں کو ’نشے کا عادی بنا دینے کی اسی صلاحیت‘ میں اضافہ کیا جا سکے۔‘‘نیو یارک کے اس محقق نے مزید بتایا کہ ’’یہ اضافی کیمیائی مادے نکوٹین کی انسانی دماغ تک ترسیل کو آسان بنا سکتے ہیں، اس طرح تمباکو نوش افراد کے لیے نکوٹین کی ان کے جسم میں موجودگی کا تجربہ زیادہ شدید اثرات کا حامل ہوتا ہے یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے جسم میں نکوٹین کی موجودگی کے اثرات میں تیز رفتاری آ جاتی ہے۔‘‘ تمباکو نوشی انسانی اموات کی ان سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے، جن کا تدارک کر کے ہر سال کئی ملین انسانوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق غیر تمباکو نوش افراد کو سگریٹ کا عادی بنانے اور بظاہر ’لائٹ‘ یا ’کم تارکول والے‘ سگریٹوں میں زیادہ ذائقے کی خاطر استعمال کیے جانے والے اضافی کیمیائی مادے عام لوگوں کو اس نشے کا عادی بنانے میں خطرناک کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ بات ایک نئی لیکن وسیع تر طبی تحقیق کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج کے مطابق تمباکو کی بین الاقوامی صنعت کی طرف سے سگریٹوں کی تیاری میں خالص تمباکو کے پتوں کے علاوہ جو اضافی کیمیائی مادے استعمال کیے جاتے ہیں انہیں عرف…

Review Overview

User Rating: 3.77 ( 423 votes)
0

About Admin

Google Analytics Alternative