سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

اسٹیفن ہاکنگ کی آخری کتاب شائع ہوگئی

لندن: اسٹیفن ہاکنگ کی نئی کتاب منظرِ عام پر آگئی ہے جسے ’بریف آنسرز ٹو ڈی بِگ کوئسچنز‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ممتاز ریاضی داں، ماہرِ کونیات و فلکیات اسٹیفن ہاکنگ کی یہ نئی تصنیف ماضی کی طرح ایک موضوع کے بجائے زیادہ تر ایسے مسائل پر بحث کرتی ہے جو مستقبل میں پیش آسکتے ہیں۔ اسٹیفن ہاکنگ کی یہ کتاب ان کے مختلف مضامین کا مجموعہ ہے جنہیں انہوں نے گھمبیر عالمی مسائل قرار دیا ہے اور ان کے جوابات دینے کی کوشش بھی کی ہے۔

ہاکنگ نے اپنی کتاب میں کہا ہے کہ مستقبل قریب میں انتہائی امیر افراد خود اپنے اور اپنی اولاد کے ڈی این اے میں تبدیلی سے فوق انسان یعنی ’سپرہیومن‘ کی دوڑ میں شامل ہوجائیں گے جبکہ بقیہ انسانیت پیچھے رہ جائے گی۔

اپنے سلسلہ مضامین میں ہاکنگ نے کہا ہے کہ جینیاتی کاٹ چھانٹ اور ڈی این اے میں تبدیلی کے بہت سے غیرمعمولی طریقے سامنے آچکے ہیں جن میں ایک کرسپر (سی آر ایس پی آر) سرِفہرست ہے۔ ہاکنگ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ انسانوں کا ایک ٹولہ سپرہیومن بننے کے بعد بقیہ انسانوں کو فنا کرسکتا ہے۔

ہاکنگ نے اپنے مضامین اور فیچرز میں کہا ہے کہ اس صدی کے آخر تک انسان غصہ اور نفرت سمیت اپنی بعض جبلتوں کو بدل دے گا اور اپنی ذہانت بڑھانے کی کوشش کرے گا۔ حکومتیں انسانوں کی جینیاتی تبدیلی روکنے کے قوانین ضرور بنائیں گی لیکن بعض افراد انسانی زندگی میں طوالت، بیماریوں کو روکنے اور یادداشت بڑھانے کے لیے متنازعہ انسانی جینیاتی انجینیئرنگ کا سہارا لیں گی۔

اس کتاب میں اسٹیفن ہاکنگ نے مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلی جنس) کے ان دیکھے پہلوؤں پر بھی بات کی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ انسان ارتقائی لحاظ سے سست رفتاری سے ترقی کررہا ہے جبکہ مصنوعی ذہانت بہت جلد اسے پیچھے چھوڑ دے گی۔ کئی میدانوں میں انسانی اے آئی کا ساتھ نہیں دے سکے گا۔

اب اگر دفاتر، کارخانوں اور فوجی انتظامات میں اسے استعمال کیا جائے گا تو ایک دن مصنوعی ذہانت خود فیصلہ کرنے کے قابل ہوکر ہم انسانوں کو ہی صفحہ ہستی سے مٹاسکتی ہے یا نقصان پہنچانے کی کوشش کرسکتی ہے۔

اپنے دیگر مضامین میں ہاکنگ نے زمین کے کسی سیارچے سے ٹکراؤ اور آب و ہوا میں تبدیلی (کلائمیٹ چینج) کو زمین کےلیے بڑے خطرات قرار دیا ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے نیوکلیئر فیوژن کو توانائی کا بہترین، سب سے صاف اور ماحول دوست ذریعہ قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ اسٹیفن ہاکنگ کی پہلی کتاب ’اے بریف ہسٹری آف ٹائم‘ 1988 میں منظرِعام پر آئی تھی جو پوری دنیا کی درجنوں زبانوں میں ترجمہ کی گئی تھی۔ اسی مناسبت سے ان کی آخری کتاب کو ’بریف آنسرز ٹو ڈی بِگ کوئسچنز‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ موٹر نیورون ڈیزیز میں مبتلا تھے اور اس سال 14 مارچ کو ان کا انتقال ہوگیا تھا۔

گوگل کا چین کیلئے ’سینسرڈ سرچ انجن‘ بنانے کا اعتراف

دنیا کی سب سے بڑی سرچ انجن ‘گوگل’ نے اعتراف کیا ہے کہ کمپنی نے چین کے لیے ایک علیحدہ اور سینسرڈ سرچ انجن بنانے میں مصروف ہے۔

یہ اعتراف گوگل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سندر پچائی نے کیا ہے، جنہوں نے پہلے ان خبروں کو مسترد کیا تھا۔

گزشتہ ہفتے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ گوگل کے چیف پرائیویسی آفیسر نے امریکی سینیٹ کے آگے کمپنی کے خفیہ منصوبے ’ڈریگن فلائی‘ پر کام کرنے کا اعتراف کیا ہے، تاہم کمپنی کے سی ای اور سندر پچائی نے اس حوالے سے بتانے سے گریز کیا تھا۔

تاہم اب گوگل نے اس منصوبے کا اعتراف کیا ہے۔

ان گیجٹ کے مطابق ایک سمٹ سے خطاب کے دوران سندر پچائی نے اعتراف کیا کہ کمپنی نے ‘ڈریگن فلائی’ نامی چین کے لیے سرچ انجن کا منصوبہ تیار کیا۔

گوگل کے سی ای او کے مطابق اس سینسرڈ سرچ انجن کو بنانے کا مقصد چین میں پابندی کا سامنا کرنے والی ویب سائٹس کو گوگل پر تلاش کرنے پر بھی سامنے نہ لانا ہے۔

سندر پچائی نے اعتراف کیا کہ ان کی کمپنی اس منصوبے پر کام کر رہی ہے اور انہوں نے بتایا کہ اس کی تیاری بہترین طریقے سے جاری ہے۔

سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس منصوبے کے بارے میں بتایا اور کہا کہ’ہم اس سے متعلق 99 فیصد سوالات کا جواب دے سکیں گے، گوگل تمام افراد کو معلومات فراہم کرنے کے اپنے منشور پر عمل پیرا ہے تاہم یہ ملک کے قوانین کی بھی پاسداری کرے گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’چین میں دنیا کی 20 فیصد آبادی رہتی ہے اور گوگل کی یہاں غیر موجودگی کا مطلب اس پلیٹ فارم کا بڑی تعداد میں لوگوں سے دور ہونا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ گوگل کئی امور میں چین میں عوام کو دستیاب معلومات سے بہتر معلومات فراہم کرسکتا ہے جیسے کینسر کے علاج کے حوالے سے معلومات جس کے بارے میں لوگ کہیں سے غلط معلومات بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

گوگل کے سی ای او کا کہنا تھا کہ کمپنی نے اپنے چین سے باہر نکلنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی اور چین میں دوبارہ داخل ہونے کے لیے اسے بہترین مارکیٹ سمجھا۔ ’ہم جاننا چاہتے تھے کہ ہم چین میں ہوں تو کیسا رہے گا، جس کی وجہ سے ہم نے اس منصوبے کو اندر ہی اندر تیار کیا‘۔

انہوں نے سینسرڈ انجن کی لانچنگ کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اگلے 6 سے 9 ماہ میں تیار ہوجائے گا۔

آنر پاکستان نے بہترین اسمارٹ فون Honor 8X متعارف کرادیا

صفِ اوّل کے اسمارٹ فون ای برانڈ ’’آنر‘‘ (Honor) نے اپنی ’’ایکس سیریز‘‘ میں جدید ترین اور سب سے طاقتور نام کا اضافہ کرتے ہوئے اسے Honor 8X کا نام دیا ہے۔

اس سال کے آغاز میں Honor 10 اور Honor Play کی بے مثال کامیابیوں کے بعد ’’آنر‘‘ (Honor) نے اپنے Honor 8X کے ساتھ ہی نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے کیونکہ یہ اسمارٹ فون ایک طرف تو غیرمعمولی فیچرز سے لیس ہے تو دوسری جانب یہ نہایت موزوں قیمت میں دستیاب بھی ہے… یعنی چُپڑی اور دو دو!

گزشتہ دنوں ڈالمین مال کلفٹن میں ستاروں بھری ایک تقریب کے دوران پاکستان میں نیا Honor 8X اسمارٹ فون لانچ کیا گیا۔ اس موقعے پر Honor 8X کے برانڈ ایمبیسڈرز مہوش حیات اور دانش حیات کے علاوہ فٹنس گرو اور معروف اینٹریپرینیور نصرت ہدایت اللہ اور پاکستان کے پسندیدہ یوٹیوبر عرفان جونیجو بھی موجود تھے۔

ان کے علاوہ، ایک اور تقریب میں Honor 8X نے اپنے آفیشل یوتھ ایمبیسڈر کے طور پر مشہور نوجوان گلوکار عاصم اظہر کے نام کا اعلان کیا۔ اس پرہجوم تقریب میں عاصم اظہر کی سرپرائز پرفارمنس سے حاضرین جھوم اٹھے اور عاصم اظہر کے ساتھ ہم آواز ہو کر گانے لگے۔ اسی تقریب میں یہ اعلان بھی کیا گیا کہ آنے والے ہفتوں میں Honor اور عاصم پورے پاکستان کا دورہ کرتے ہوئے شائقین کو لبھائیں گے۔

نیا Honor 8X اسمارٹ فون پاکستان میں 35,999 روپے کی نہایت مناسب قیمت پر پیش کیا گیا ہے؛ جبکہ اتنے بھرپور اور زبردست فیچرز کے ساتھ اس قیمت میں کوئی دوسرا فلیگ شپ اسمارٹ فون اس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتا۔ Honor 8X اپنے صارفین کو 6.5 انچ Notch، فل ویو ڈسپلے فراہم کرتا ہے جو 91 فیصد ’’اسکرین ٹو باڈی ریشیو‘‘ اور ’’فلم آن چپ‘‘ (COF) ٹیکنالوجی کے علاوہ بہترین اور جدید ترین فیچرز سے بھی لیس ہے۔

Honor 8X کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں:

  • 6.5 انچ فل ویو ڈسپلے
  • 128 گیگابائٹ کی انٹرنل اسٹوریج
  • 20 میگا پکسل اے آئی ڈیوئل لینس عقبی کیمرا جس تاریک رات میں بھی بہترین فوٹوگرافی کی سہولت دیتا ہے
  • 3750 ایم اے ایچ بیٹری جو بجلی کی بچت کےلیے ’’آنر‘‘ (Honor) کی زبردست ٹیکنالوجی سے آراستہ ہے
  • نیا Kirin 710 چپ سیٹ (Honor فون میں پہلی بار)

جمالیاتی حسن اور دلفریب ڈیزائن کا حامل Honor 8X جو فل ویو ڈسپلے اور ستواں، خوبصورت باڈی کا مجموعہ ہے، اپنے آپ میں ’’چپ آن فلم‘‘ (COF) ٹیکنالوجی کا شاہکار بھی ہے۔

Honor 8X وہ پہلا ’’آنر‘‘ اسمارٹ فون ہے جس میں 6.5 انچ کے فل ویو ڈسپلے کے علاوہ 91 فیصد اسکرین ٹو باڈی ریشیو بھی ہے۔ مزید یہ کہ اس اسمارٹ فون کا میٹل مڈل فریم جدید ’’سی او ایف‘‘ ٹیکنالوجی اور پیٹنٹ کرائے گئے انٹینا ڈیزائن سے لیس بھی ہے جبکہ گریٹنگ ایفیکٹ والی 2.5 ڈی ڈبل ٹیکسچر آرورا گلاس باڈی کی بدولت صارف کو ایک ہموار اور نفیس نظارہ و احساس میسر آتا ہے۔ Honor 8X اسمارٹ فون تین دیدہ زیب رنگوں میں پیش کیا جارہا ہے: نیلگوں اور سیاہ رنگ والے ڈیزائن دستیاب ہیں جبکہ شوخ سرخ رنگ والا Honor 8X جلد ہی پیش کیا جائے گا۔

انٹرنل اسٹوریج اور بیٹری لائف کی بات کریں تو Honor 8X پہلے ہی 128 گیگا بائٹ روم سے لیس ہے جبکہ ڈیوئل سم کارڈ سلاٹ کے ساتھ ساتھ اس میں ایک اضافی مائیکرو ایس ڈی سلاٹ بھی موجود جس میں 400 گیگا بائٹ تک کی مائیکرو ایس ڈی میموری لگائی جاسکتی ہے۔ اس کی جاندار بیٹری 3750 ایم اے ایچ گنجائش کی حامل ہے جو اضافی طور پر ایسی ’’ذہین‘‘ ٹیکنالوجی سے بھی آراستہ ہے جس کی بدولت Honor 8X ایک مرتبہ چارج کیے جانے کے بعد ایک دن سے بھی زیادہ وقت تک مسلسل کام کرسکتا ہے… یعنی آپ اپنے چاہنے والوں سے پورا دن، بیٹری کی طرف سے پریشان ہوئے بغیر، بات کرسکتے ہیں۔

اب آتے ہیں اس کے طاقتور کیمروں کی طرف جن میں آج کے دور کی جدید ترین اور ’’مصنوعی ذہانت‘‘ (AI) کہلانے والی کمپیوٹر ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے؛ اور جن کی بدولت آپ رات کے گھپ اندھیرے میں بھی ’’سپر نائٹ شوٹنگ‘‘ کی سہولت استعمال کرتے ہوئے، بہترین تصاویر کھینچ سکتے ہیں۔ Honor 8X میں ڈیوئل لینس 20 میگا پکسل + 2 میگا پکسل اے آئی ریئر اور 16 میگا پکسل فرنٹ کیمرا اسی مقصد کو بڑی خوبی سے پورا کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ، مصنوعی ذہانت کی بدولت یہ کیمرے 22 مختلف کٹیگریز میں 500 مختلف منظر ناموں (scenarios) کو سیکنڈ بھر میں شناخت کرسکتے ہیں۔ اے آئی ٹیکنالوجی کی بدولت یہ کیمرے خود ہی معلوم کرلیتے ہیں کہ صارف کیسی اور کونسی تصویر کھینچنا چاہ رہا ہے، اور اسی مطابقت میں کیمرا سیٹنگز کو خودکار طور پر تبدیل کرتے ہوئے پکچر کوالٹی کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن بنایا گیا، نیا ’’نائٹ شوٹنگ موڈ‘‘ رات کے وقت تصویریں کھینچتے وقت ان میں دھندلاہٹ ختم کرتا ہے اور اگر ہاتھ زیادہ کپکپا رہے ہوں، تب بھی 6 سیکنڈ تک کے ایکسپوژر سے ہر ممکن حد تک صاف ستھری تصویر کا حصول یقینی بناتا ہے۔

نئے Honor 8X کی یہ غیرمعمولی کارکردگی اس میں استعمال کیے گئے اوکٹا کور ’’کیرین 710‘‘ چپ سیٹ کی مرہونِ منت ہے، جس نے ’’آنر‘‘ (Honor) کی پچھلی نسل کے سنگل کور سی پی یو کے مقابلے میں اس کی کارکردگی 75 فیصد بڑھا دی ہے۔ اپنے ’’مالی جی 51 جی پی یو‘‘ اور ’’جی پی یو ٹربو‘‘ کے باعث Honor 8X میں گرافیکل پروسیسنگ یونٹ کی کارکردگی میں بھی 130 فیصد اضافہ ہوا ہے جو بلاشبہ غیرمعمولی ہے؛ اور جس سے اسمارٹ فون پر گیمنگ کا شوق رکھنے والے قارئین کا لطف یقیناً دوبالا ہوجائے گا۔

مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال صرف کیمروں تک ہی محدود نہیں بلکہ اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے Honor 8X میں رابطے اور آواز کے معیار (وائس کوالٹی) تک کو بہتر بنایا گیا ہے۔ پُرشور ماحول جیسے کہ بس اسٹاپ، ریلوے اسٹیشن یا ساحلِ سمندر پر کہ جہاں ہوا کے جھکڑ چل رہے ہوں، یہ اسمارٹ فون خود ہی پس منظر کے ’’شور‘‘ کی شناخت کرکے اسے کم سے کم سطح پر لے آتا ہے جبکہ صارف کی اپنی آواز بہترین معیار پر برقرار اور واضح رہتی ہے۔ رابطے (connectivity) کی غرض سے اس کا ’’اے آئی کمیونی کیشنز‘‘ فیچر، سگنلز میں آنے والے اُتار چڑھاؤ کو مسلسل نوٹ کرتے ہوئے، موصول ہونے والے موبائل سگنلز کو اسی حساب سے ایمپلی فائی کرتا ہے۔ مثلاً فور جی سروس کے کمزور سگنل جیسے ہی بحال ہوں گے، یہ اسمارٹ فون فوراً ہی فور جی پر منتقل ہوجائے گا۔

نئے Honor 8X میں صارفین کی صحت کا خیال بھی رکھا گیا ہے اور آنکھوں کو سکون پہنچانے کی غرض سے نئی نسل کا ’’آئی کمفرٹ‘‘ موڈ متعارف کروایا گیا ہے جو TüV Rheinland سے تصدیق شدہ ہے۔ اس فیچر کے ذریعے اسکرین سے خارج ہونے والی نیلی روشنی بہت کم کردی گئی ہے تاکہ اسمارٹ فون استعمال کرتے دوران صارف کی آنکھیں تھکاوٹ کا شکار نہ ہوں۔

آنر مڈل ایسٹ اینڈ ایشیا کے صدر، مسٹر کرس سنبیاگونگ کہتے ہیں: ’’نیا Honor 8X صرف ایک اسمارٹ فون نہیں بلکہ یہ قیمت، ڈیزائن اور کارکردگی میں توازن کا ایک نیا اور بلند تر پیمانہ بھی ہے۔ ہم نے ایک ایسی ڈیوائس پیش کی ہے جو فلیگ شپ فیچرز رکھنے کے باوجود اتنی مناسب قیمت میں دستیاب ہے کہ جو ہمارے ’’ڈیجیٹل شہریوں‘‘ کو، موجودہ صدی میں پیدا ہونے والوں کو ان کی خرچ کردہ رقم کا بہترین بدل فراہم کرتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس صدی میں پیدا ہونے والے بچے، ٹیکنالوجی کے بے انتہاء دیوانے ہیں؛ اور اسی لیے ہم نے Honor 8X میں وہ تمام فیچرز شامل کردیئے ہیں جو کسی بھی فلیگ شپ اسمارٹ فون کا خاصّہ ہوتے ہیں لیکن قیمت ایسی رکھی ہے جو اُن کی جیبوں پر بھاری بوجھ نہ بن جائے۔‘‘

ایک بار پھر یاد دلاتے چلیں کہ Honor 8X پاکستان میں اب صرف 35,999 روپے میں دستیاب ہے جسے آپ اپنے قریبی ریٹیلر سے یا براہِ راست اس کی ویب سائٹ سے خرید سکتے ہیں۔

’’آنر‘‘ (Honor) کے بارے میں

’’آنر‘‘ (Honor) نمایاں ترین اسمارٹ فون ای برانڈ ہے جو اس گروپ کے نعرے ’’بہادروں/ جرأت مندوں کےلیے‘‘ سے عین مطابقت رکھتا ہے کیونکہ یہ برانڈ بطورِ خاص آج کے ڈیجیٹل دور کے باسیوں کی ضروریات مدنظر رکھتے ہوئے تخلیق کیا گیا ہے جس میں اسی حساب سے انٹرنیٹ کا بہترین استعمال کرنے والی پروڈکٹس رکھی گئی ہیں جو صارف کو بہترین تجربہ فراہم کرتے ہوئے، عمل کی ترغیب دیتے ہوئے، تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشتے اور نوجوان نسل کو بااختیار بناتے ہوئے اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اسی جستجو میں ’’آنر‘‘ (Honor) نے خود اپنی ہمت و جرأت کا عملی مظاہرہ کچھ ایسے کیا ہے کہ روایتی کاموں کو غیر روایتی اور مختلف انداز میں انجام دیا ہے جبکہ وہ تمام اقدامات بھی کیے ہیں جو اسے جدید ٹیکنالوجی کا ہراول دستہ بناتے ہوئے، صارفین کےلیے اختراعات کا سرچشمہ بھی بناتے ہیں۔

مزید تفصیلات کےلیے وزٹ کیجیے:

Pakistan Official Website Store: www.hihonor.com/pk/
FB: http://facebook.com/honorpakistan
Instagram: www.instagram.com/honor_pk/
YouTube: http://www.youtube.com/c/HonorPakistan

سپریم کورٹ نے موبائل کمپنیوں کو پوسٹ پیڈ سروسز پر ٹیکس وصولی سے روک دیا

سپریم کورٹ نے موبائل فون کمپنیوں کو پوسٹ پیڈ سروسز پر ٹیکسز لینے سے عارضی طور پر روک دیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے موبائل کمپنیوں کی جانب سے زائد ٹیکس کٹوتی کے معاملے پر سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک بندہ 100 روپے کا کارڈ لوڈ کرتا ہے، 25 روپے ٹیکس کٹ جاتا ہے، موبائل فون کمپنیاں مفتہ لیتی جارہی ہیں۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ سروس چارجز کا کیا مطلب ہے، ایک بندہ روٹی لے کر آئے گا تو کیا کھائے گا نہیں۔

اس پر وکیل ایف بی آر نے بتایا کہ 25 روپے کی جو کٹوتی ہوتی وہ ہمارے پاس نہیں آتی، ہر کال پر جو ٹیکس کٹتا ہے وہ حکومت کے پاس جاتا ہے۔

دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے کہا گیا کہ ہمیں اس معاملے میں وقت چاہیے جبکہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ ہمیں ماہانہ ایک ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے، اسی دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ صوبائی حکومت کو ماہانہ 2 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو کمیشن آپ لیتے ہیں وہ نہ لیں تو نقصان رک سکتا ہے، لانچوں پر پیسے نہ بھیجیں تو نقصان رک سکتا ہے، ریڑھی والے اور مزدوروں سے ٹیکس کاٹتے ہیں، آپ اپنے اپنے صوبوں کی کرپشن روکیں۔

ساتھ ہی عدالت نے موبائل فون کمپنیوں کو پوسٹ پیڈ سروسز پر ٹیکس کی وصولی سے عارضی طور پر روک دیا۔

واضح رہے کہ 3 مئی کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک کیس کی سماعت کے دوران موبائل فون بیلنس پر اضافی کٹوتی کے معاملے پر ازخود نوٹس لیا تھا۔

بعد ازاں چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کے دوران پری پیڈ موبائل صارفین سے بیلنس پر لیا جانے والا ٹیکس معطل کردیا تھا۔

مشتری کے چاند پر 15 میٹر اونچے برفیلے نوکدار ستونوں کا انکشاف

لندن: سیارہ مشتری کے مشہور چاند یوروپا پر لاتعداد ایسے برفیلے ستون دریافت ہوئے ہیں جو 50 فٹ (15 میٹر) تک بلند ہیں جنہیں دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ فرش پر ان گنت برفیلے نیزے آسمان کی جانب رخ کئے ہوئے ہیں۔  

ماہرین کے مطابق انتہائی نوکدار ستون یہاں اترنے والے کسی بھی خلائی جہاز کوچند لمحوں میں تباہ کرسکتےہیں۔ زمین کے برفیلے علاقوں میں جب سورج کی روشنی نشیب میں موجود برف سے ٹکرا کر لوٹتی ہے تو اس طرح کی نوکیلی برف وجود میں آتی ہے۔ عین اسی طرح یوروپا پر بھی نوکیلے ابھار وجود میں آگئے ہیں۔ ماہرین زمین پر بننے والی نوکدار برفیلی اشکال کو پینی ٹینٹس کا نام دیتے ہیں۔

یوروپا چاند زمین سے کئی درجے خشک اور کئی گنا سرد بھی ہے۔ اب تک ہماری معلومات کے مطابق اس پر فضا نہ ہونے کے برابر ہے یعنی یہ کسی قسم کی گیسوں کے لحاف میں لپٹا ہوا نہیں ہے۔ اس پر ثقل بہت کمزور ہے اور یہی وجہ ہےکہ یہاں جمنے والے برفیلے ستون کئی میٹر بلند دیکھے گئے ہیں۔

کارڈف یونیورسٹی کے ڈاکٹر ڈینیئل ہوبلے اور ان کے ساتھیوں نے اس کا تخمینہ لگایا ہے جبکہ ان کا خیال ہے کہ شاید اس سے بھی بڑے اور غیرمعمولی ابھار ہوسکتے ہیں۔ ماہرین نے بتایا کہ ان کی اطراف ساڑھے سات میٹر گہرائیاں یا نشیب ہیں اور ایک ستون کم از کم 15 میٹر تک بلند ہے۔

ماہرین نے یہ بھی کہا کہ یوروپا پر نوکیلے ابھار اس وقت ذیادہ بنتے ہیں جب سورج عین ان کے اوپر ہوتا ہے ۔ یوروپا کے خطِ استوا (ایکویٹر) پر ایسا ہی ہوتا ہے اور ان کی بہتات خطِ استوا پر ایک پٹے کی صورت میں دیکھی جاسکتی ہے۔ گویا یوروپا نے برفیلی سوئیوں کا کوئی بیلٹ پہن رکھا ہے۔

اگر کوئی خلائی جہاز یہاں اتارنے کی کوشش کی جائے تو مشکل ہوگی کیونکہ ابھار کی درمیان ہموار جگہ شاید ہی ہو اور اگر ہو بھی تو خلائی جہاز وہاں پھنس کر رہ جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھاروں کے درمیان گہرے گڑھے موجود ہوسکتے ہیں اور اب تک ہماری نظر وہاں تک نہیں پہنچی ہے۔

ماہرین کے مطابق یوروپا پر نمکین پانی کا سمندر موجود ہوسکتا ہے۔ بعض ماہرین کا اصرار ہے اس کے اندر غیرارضی مخلوق کسی جرثومے یا حیاتیاتی مالیکیول کی صورت میں موجود ہوسکتی ہے۔

ایپل نے ڈائیلاگ کمپنی کے شیئرز خرید لیے

معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے موبائل چپ بنانے والی یورپی کمپنی ڈائیلاگ کا ایک حصہ خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔

اس معاہدے میں ڈائیلاگ کمپنی کی پاور مینیجمنٹ ٹیکنالوجی، 3 سو انجینئرز اور دیگر اثاثوں کا اختیار اور لائسنس حاصل کرنے کے لیے 30 کروڑ ڈالر کی ادائیگی شامل ہے۔

ایپل آئندہ تین برس کےعرصے میں ڈائیلاگ سے طے شدہ مصنوعات کی مد میں مزید 30 کروڑ ڈالر ادا کرے گا۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ ٹیک کرنچ کے مطابق یہ ایپل کی سب سے اہم شراکت داری ہے، ایپل ڈائیلاگ کمپنی کو حاصل نہیں کررہی کیونکہ 3 سو انجینئرز اس کی ٹیم کا صرف 16 فیصد ہیں جو ایپل کے لیے ڈیزائن کی جانے والی چپس پر سالوں سے کام کررہے ہیں۔

ایس وی پی جونی سروجی نے ایک بیان میں کہا کہ ’ ڈائیلاگ کو چِپ بنانے میں مہارت حاصل ہے اور ہم انجینئرز کے اس قابل گروپ کا ساتھ ملنے پر بہت پُرجوش ہیں جنہوں نے ایک عرصے تک ایپل کا ساتھ نبھایا ہے اور اب اس کے ساتھ کام کریں گے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ ڈائیلاگ کے ساتھ ہمارا رشتہ آئی فونز کے آغاز سے ہیں اور ہم ان کے ساتھ دیرپا تعلق قائم کرنے کے خواہش مند ہیں‘۔

گزشتہ برس نک کی نے رپورٹ کیا تھا کہ ایپل کمپنی اپنی پاور مینیجمنٹ چپس کو ڈیزائن کرنے اور ڈائیلاگ سے علیحدہ ہونے کا ارادہ کررہا ہے۔

رواں سال کے آغاز میں ڈائیلاگ کا کہنا تھا کہ ایپل نے تمام آرڈر منسوخ کردیے تھے، شاید وہ نئے آئی فون ایکس ایس میکس میں ڈائیلاگ کی جگہ اپنی چپس متعارف کروائے گا۔

یہ معاہدہ ڈائیلاگ کی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کو ایپل کے ساتھ لانے کا راستہ ہے جس کے تحت مستقبل میں ان چپس کے ڈیزائن ایپل آئی پی کے نام سے ہوں گے اور کمپنی باآسانی انہیں استعمال اور تبدیل کرسکے گی۔

برطانوی پارلیمنٹ میں پہلی مرتبہ روبوٹ بطور گواہ پیش ہوگا

انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمنٹ میں روبوٹ بطور گواہ پیش ہوگا۔

ایوانِ زریں کی ایجوکیشن کمیٹی نے میڈل سیکس یونیورسٹی سے پیپر دی روبوٹ کو الگے ہفتے پیش ہونے کی ہدایت کردی۔

کمیٹی کے ارکان روبوٹ سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس، فورتھ انڈسٹریل انقلاب اور روبوٹکس کے بارے میں سوالات کریں گے۔

کمیٹی کے صدر روبرٹ ہیلفون نے بتایا کہ فورتھ انڈسٹریل انقلاب ہماری نسلوں کے لیے آئندہ 30 برس میں ناقابل تسخیر چینلج ثابت ہو سکتا ہے۔

لیکن اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے کہ روبوٹ کی یاداشت میں پہلے ہی سے سوالات کے جواب ڈالے جائیں گے یا پھر روبوٹ اپنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی بنیاد پر سوالات کے جواب دے گا۔

برطانوی حکومت نے روبوٹ ٹیکنالوجی میں مزید بہتری کے لیے خواہشات کا اظہار کردیا۔

دوسری جانب سول سروس کے چیف ایگزیکٹو جان منزونی نے کہا کہ 21 وی صدی میں روبوٹ تمام مسائل کا حل ہوں گے جو ’بہتر شہری سہولیات‘ فراہم کرسکیں گے۔

پیپر نامی روبوٹ کو جاپانی کمپنی سافٹ بینک نے تیار کیا ہے جسے 2014 سے متعدد کاموں کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

روبوٹ میں 4 مائیکروفون، 2 ایچ ڈی کیمرہ اور سینے پر ٹچ اسکرین ہے۔

پیپر روبوٹ برطانیہ کے متعدد آفس میں میزبان کے طور پر رکھے گئے ہیں اور اسکولوں میں تعلیمی مقصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

تاخیر اور لیک کے بعد گوگل کے نئے پکسل فون متعارف

ایک ہفتے کی تاخیر کے بعد گوگل کی جانب سے پکسل سیریز کے نئے فون متعارف کرادیے گئے۔

خیال رہے کہ یہ فونز متعارف ہونے سے کچھ دن قبل ہی لیک ہوکر مارکیٹ میں فروخت کے لیے بھی پیش ہوگئے تھے جس کے بعد اب گوگل کے پکسل تھری اور پکسل تھری ایکس ایل فونز آفیشلی سامنے آچکے ہیں۔

گوگل پکسل ایکس ایل تھری کی اسکرین 6.3 انچ ہے، جب کہ اس میں 128 جی بی تک ڈیٹا اسٹوریج کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوگل پکسل ایکس ایل کا فرنٹ کیمرہ 8 میگا جب کہ بیک کیمرہ 12 میگا پکسل ہے۔

اس فون کی اسکرین گوگل کے پچھلے پکسل فونز سے بڑی اور بہتر ہے۔

جبکہ فون کا کیمرا بھی گزشتہ فونز سے بہتر قرار دیا جارہا ہے۔

تاہم ایک فیچر جو اس فون کا سب سے خاص قرار دیا گیا وہ اس کی فون کال کوالٹی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کسی کی کال آنے کے وقت اگر اسکرین بٹن پریس کیا جائے تو کالر کو آپ کی آواز صاف سنائی دے گی، اس کے لیے آپ کو فون خود سے قریب کرنے کی ضرورت نہیں۔

گوگل پکسل ایکس ایل کی قیمت 850 ڈالر تک ہے، جب کہ پکسل کی قیمت 650 ڈالر تک بتائی گئی ہے۔

Google Analytics Alternative