سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

اوپو کا نیا فلیگ شپ فون پاکستان میں متعارف

چینی کمپنی اوپو نے اپنا نیا فلیگ شپ فون ایف 7 پاکستان میں فروخت کے لیے پیش کردیا ہے اور اس بار بھی اس ڈیوائس میں سیلفی پر ہی زور دیا گیا ہے۔

یہ چینی کمپنی کا آئی فون ایکس جیسے نوچ کے ڈیزائن والا اسمارٹ فون ہے اور لگ بھگ بیزل لیس ڈسپلے کے ساتھ ہے۔

لاہور میں ایک ایونٹ کے دوران اس فون کو متعارف کرایا گیا۔

اس فون میں 6.2 انچ کے فل ایچ ڈی پلس ڈسپلے میں 2280×1080 پکسل ریزولوشن دیا گیا ہے جبکہ فرنٹ پر 89.09 فیصد حصے پر اسکرین ہی موجود ہے۔

فوٹو بشکریہ اوپو پاکستان
فوٹو بشکریہ اوپو پاکستان

اس میں کمپنی نے میڈیا ٹیک ہیلیو پی 60 ایس او سی پراسیسر دیا ہے جبکہ پاکستان میں دستیاب فون 2 آپشنز کے ساتھ ہوں گے ایک 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج کے ساتھ جبکہ دوسرا 6 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج کے ساتھ ہوگا، دونوں میں جس میں ایس ڈی کارڈ کی مدد سے 256 جی بی تک اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

یہ فون 3 رنگوں سولر ریڈ، مون لائٹ سلور اور ڈائمنڈ بلیک میں دستیاب ہو گا۔

تاہم فون کی خاص بات اس کا 25 میگا پکسل کا سیلفی کیمرہ ہی ہے جس میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی سے لیس بیوٹی فکیشن اور فیس ان لاکنگ جیسے فیچرز دیئے گئے ہیں۔

فوٹو بشکریہ اوپو پاکستان
فوٹو بشکریہ اوپو پاکستان

اس کے بیک پر 16 میگا پکسل کا کیمرہ دیا گیا ہے جو کہ پورٹریٹ موڈ کے ساتھ فور کے ویڈیو ریکارڈنگ کرتا ہے۔

اس فون میں کمپنی نے اپنے کلر او ایس 5.0 کا امتزاج اینڈرائیڈ اوریو 8.1 سے کیا ہے جبکہ 3400 ایم اے ایچ بیٹری، فور جی وی او ایل ٹی ای اور آدیو جیک جیسے فیچرز بھی موجود ہیں۔

پہلی بار اس کمپنی نے فرنٹ کیمرے سے فون ان لاک کرنے کا فیچر بھی دیا ہے جبکہ بیک پر اس مقصد کے لیے فنگر پرنٹ اسکینر بھی موجود ہے۔

اس کا 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج والا فون 39 یزار 899 روپے جبکہ سکس جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج والا فون 49 ہزار 899 روہے میں فروخت کیا جائے گا۔

فیس بک میسنجر میں یہ نیا فیچر آپ کو ضرور پسند آئے گا

کچھ دن پہلے فیس بک نے میسنجر میں چیٹ پیغامات کو ‘ان سینڈ’ یا دوسرے صارف کی ونڈو سے غائب کرنے کا فیچر متعارف کرانے کا وعدہ کیا تھا۔

اور ایسا لگتا ہے کہ یہ فیچر اب سامنے آنے کے لیے تیار ہے۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ دی نیکسٹ ویب نے میسنجر میں اس فیچر کے حوالے سے ایک نئے بٹن کا اسکرین شاٹ ایک رپورٹ میں شیئر کیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ اسکرین شاٹ ایسے قابل اعتماد ذرائع سے حاصل ہوا ہے جو اپنا نام ظاہر کرنا نہیں چاہتے۔

فوٹو بشکریہ دی نیکسٹ ویب
فوٹو بشکریہ دی نیکسٹ ویب

خیال رہے کہ فیس بک نے اس طرح کا فیچر گزشتہ سال اپنی میسجنگ ایپ واٹس ایپ میں پہلے متعارف کرایا تھا تاہم میسنجر کے صارفین کے مطالبے کو نظرانداز کردیا گیا تھا۔

ویسے تو یہ کہنا مشکل ہے کہ فیس بک کی جانب سے اس فیچر کو کب تک متعارف کرایا جاسکتا ہے تاہم آئی او ایس میں میسنجر ایپ کے بیٹا ورژن میں اس کی موجودگی سے عندیہ ملتا ہے کہ کچھ زیادہ وقت نہیں لگے۔

واضح رہے کہ فیس بک نے میسنجر میں یہ فیچر اس وقت متعارف کرانے کا اعلان کیا جب یہ انکشاف ہوا کہ کمپنی کے سی ای او مارک زکربرگ کے میسنجر پر بھیجے جانے والے پیغامات دیگر صارفین کے ان باکس سے ڈیلیٹ یا غائب ہورہے ہیں۔

میسنجر میں اس وقت سیکرٹ کنورزیشن موڈ موجود ہے، جس میں صارف اپنے پیغامات کو خودکار طور پر ختم کرنے کا وقت طے کرسکتے ہیں۔

صرف 9 منٹ میں کرسی تیار کرنے والے ماہر روبوٹ تیار

سنگاپور میں سائنس دانوں کی تین رکنی ٹیم نے کرسیاں بنانے والے انتہائی عمدہ ’روبوٹ ہاتھ‘ بنالیے۔

اسکرو کے ذریعے کرسی کے مختلف حصوں کو جوڑنے میں عمومی طور پر ایک گھنٹے سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے تاہم سنگا پور میں نوجوان سائن دانوں نے کرسیاں بنانے والےجدید  ’روبوٹ ہاتھ‘ بنا کر سب کو حیران کردیا۔ یہ کاریگر روبوٹ نہایت عمدگی کے ساتھ صرف 9 منٹ میں ایک کرسی بنا لیتے ہیں اور بالکل ایک ماہر کاریگر کی طرح مضبوط کرسیاں بناتے ہیں۔

نینیانگ ٹیکنالوجی یونیورسٹی (NTU)  میں میکینکل اور ایرو اسپیس انجینئرز کی تین رکنی ٹیم نے تھری ڈی کیمرے اور دو خود کار ہاتھوں والے روبوٹ سے کرسی تیار کرنے کا حیران کن مظاہرہ کیا۔ روبوٹ کے ہاتھ کسی ماہر بڑھئی کی طرح کرسی کے کئی حصوں کو ایک دوسرے سے بالکل درست طریقے اور مضبوطی سے جوڑنے میں کامیاب ہو گئے اور اس کام کے لیے صرف نومنٹ کا وقت صرف ہوا۔

اسسٹنٹ پروفیسر فام کوآنگ کیونگ کا کہنا ہے کہ روبوٹ کا مختلف شکلوں اور سائز کی لکڑیوں کو اس ڈھنگ سے جوڑنا کہ وہ ایک کرسی ایک میں تبدیل ہوجائے ایک نہایت مشکل کام ہے جس کے لیے ہم نے تین سال تک مسلسل محنت اور تحقیق کی ہے جس کے بعد ہم انسانی ہاتھوں کی طرح کام کرنے والے روبوٹ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ ’روبوٹ ہاتھ‘ فرنیچر بنانے والی صنعت کے علاوہ دیگر صنعتوں میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ اس سے معیار بھی بلند ہو گا اور یہ ایک عام انسان کی بہ نسبت زیادہ تیزی اور مہارت سے کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے غلطیوں کا امکان کم اور پروڈکشن میں اضافہ ہوگا۔

دنیا کا پہلا ملک جہاں سوشل میڈیا ٹیکس کے نفاذ کا اعلان

ویسے تو فیس بک، ٹوئٹر اور واٹس ایپ وغیرہ کا استعمال مفت ہے اور بس انٹرنیٹ کا خرچہ کرنا پڑتا ہے تاہم پہلی بار دنیا میں ایک ملک سوشل میڈیا صارفین پر ٹیکس لگانے والا ہے۔

جی ہاں واقعی افریقی ملک یوگنڈا نے حیران کن اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جولائی 2018 سے سوشل میڈیا ٹیکس کا نفاذ کیا جارہا ہے۔

یوگنڈا کے وزیر خزانہ Matia Kasaija نے یہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا ٹیکس نے ملکی آمدنی میں اضافے کے ساتھ قومی سلامتی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

ان کا کہنا تھا ‘ ہمیں ملکی سلامتی کو مستحکم بنانے اور بجلی کی فراہمی زیادہ سے زیادہ لوگوں تک ممکن بنانے کے لیے سرمایہ چاہئے تاکہ شہری سوشل میڈیا سے زیادہ لطف اندوز اور استعمال کرسکیں’۔

انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا ٹیکس ہر اس موبائل فون صارف پر لگے گا جو کہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے واٹس ایپ، ٹوئٹر اور فیس بک وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں اور انہیں روزانہ 200 یوگنڈا شیلنگ (6 پاکستانی روپے سے زائد) ادا کرنا ہوں گے۔

تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ ٹیکس کس طرح وصول کیا جائے گا کیونکہ بظاہر تو یہ کافی پیچیدہ کام ہے کہ یوگنڈا کے 2 کروڑ 36 لاکھ سے زائد موبائل فون صارفین کے زیراستعمال ہر ایپ کو مانیٹر کیا جاسکے۔

ویسے یوگنڈا کی جانب سے یہ اعلان کچھ زیادہ حیران بھی نہیں کیونکہ یہاں حکومت انتخابات کے دوران سوشل میڈیا پر پابندی لگا چکی ہے۔

یہی ملک ماضی میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تشکیل دینے کا اعلان بھی کرچکا ہے جبکہ فحش مواد پکڑنے والی مشین کی خریداری کا وعدہ بھی کیا، تاہم ان دونوں اعلانات پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

نئے سیاروں کی کھوج میں ناسا کا جدید خلائی جہاز روانہ

فلوریڈا: ناسا نے نئی دنیاؤں کی تلاش کے لیے جدید ترین خلائی جہاز روانہ کردیا جسے’ ٹرانسیٹنگ ایکسو پلانٹ سروے سیٹلائٹ‘ یا ’ٹیسس‘ کا نام دیا گیا ہے۔

ناسا کی پریس ریلیز کے مطابق سیاروں کی تلاش کے لیے اپنی نوعیت کا یہ پہلا مشن ہے جسے بدھ کو اسپیس ایکس فالکن نائن راکٹ کے ذریعے فلوریڈا سے خلا میں روانہ کیا گیا ہے۔ ماہرین کی دلچسپی زمین نما سیاروں میں ہے جہاں ممکنہ طور پر زندگی موجود ہوسکتی ہے۔

ٹیسس ایک جانب تو آسمان کے وسیع حصے کی چھان بین کرکے زمین جیسے نئے سیارے دریافت کرے گا تو دوسری جانب وہ ان کے مرکزی ستاروں (سورج) کو ڈھونڈے گا ۔ اس طرح ٹیسس دو سال تک زمین سے قریب اور روشن ستاروں کا ٹرانزٹ کے ذریعے جائزہ لے گا۔

پہلے یہ سیٹلائٹ اپنے 6 تھرسٹر جلاکر چاند تک پہنچے گی اور چند ہفتوں میں ٹیسس چاند کے مدار میں داخل ہوکر اس کی ثقلی کشش کو استعمال کرتے ہوئے ایک خاص مدار میں داخل ہوگا۔ میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) میں سیٹلائٹ پر کام کرنے والے اہم سائنس داں جارج رِکر کہتے ہیں کہ زمین سے قریب آتے ہوئے یہ اس کی بہترین تفصیلی تصاویر بھی اتارے گا اور اس سے قبل ایسا ممکن نہ تھا۔

اپنے دو سالہ سروے کے دوران خلائی جہاز آسمان کو 26 حصوں میں تقسیم کرکے ان کا جائزہ لے گا۔ اس میں چار جدید ترین وائڈ فیلڈ کیمرے نصب ہیں جو 85 فیصد آسمان کو کھنگالیں گے۔ جب دور دراز نظامِ شمسی میں موجود سیارے اپنے مرکزی سورج یا ستارے کے سامنے سے گزرتے ہیں تو اسے عبور یا ٹرانزٹ کہتے ہیں جس میں ستارے کی روشنی کچھ کم ہوجاتی ہے۔ اس کیفیت کو ناپتے ہوئے ماہرین نے اب تک 3700 نئے سیارے دریافت کیے ہیں اور ٹیسس بھی یہی تکینک استعمال کرے گا۔

ٹیسس خلائی جہاز 30 سے 100 نوری سال کے فاصلے پر موجود سیاروں کو تلاش کرنے کا اہم کام انجام دے گا پھر اسپیکٹرو اسکوپی اور دوسرے طریقوں سے سیارے کی کیفیت، کمیت یا ممکنہ فضا کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

واٹس ایپ گروپ چیٹس کی ان 5 اہم ٹرکس کے بارے میں جانیں

میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ اپنے صارفین کے لیے ایک کے بعد ایک نئے فیچرز سامنے لا رہا ہے۔

اس ایپ میں صرف کسی ایک دوست سے چیٹ کرنے کے دوران کے لیے ہی نہیں بلکہ گروپ چیٹس کے لیے بھی بہت سے فیچرز سامنے آئے، جن کے بارے میں بہت سے صارفین اب تک کچھ نہیں جانتے۔

واٹس ایپ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ بہت سی تبدیلیاں کی جارہی ہیں، اور ایسے میں آپ کے لیے ان فیچرز کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے جو گروپ چیٹس میں مدد دینے کے لیے واٹس ایپ سامنے لایا۔

گروپ چیٹس میں دیے گئے چند فیچرز آئی او ایس میں دستیاب ہیں جبکہ چند اینڈرائڈ فونز میں موجود ہیں اور کچھ ان دونوں پلیٹ فارمز میں موجود ہیں۔

یہاں گروپ چیٹس میں متعارف کیے جانے والے وہ خاص فیچرز بتائیں گئے ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ آج بھی نہیں جانتے۔

گروپ چیٹ سے ایڈمن کو ہٹانا (آئی او ایس)

واٹس ایپ کے ایک گروپ چیٹ میں متعدد ایڈمنز بنائے جاسکتے ہیں، لیکن اگر کسی ممبر کو اس کی ایڈمن پوسٹ سے ہٹانا ہو تو اسے ہی گروپ سے باہر کرنا پڑتا تھا، لیکن اب آئی او ایس میں ایک ایسا فیچر سامنے لایا گیا ہے جس کے ذریعے گروپ کے کسی بھی ممبر کو ایڈمن کی پوسٹ سے ہٹانے کے لیے اسے گروپ سے باہر نکالنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ فیچر گروپ ممبر کی پروفائل پر موجود ہے۔

گروپ کی تفصیل (اینڈرائڈ اور آئی او ایس)

یہ فیچر فروری میں سامنے لایا گیا، پہلے ہر گروپ چیٹ کو ایک نام دیا جاسکتا تھا لیکن اب اس گروپ کو نام دینے کے ساتھ ساتھ نیچے اس کی تفصیل بیان کرنے کا آپشن بھی سامنے آتا ہے، اور اس میں گروپ چیٹ کا کوئی بھی ممبر اپنی مرضی سے تفصیل لکھ سکتا ہے۔

گروپ مینشنز (اینڈرائڈ اور آئی او ایس)

ویسے تو یہ فیچر کوئی نیا نہیں، لیکن بہت سے صارفین آج بھی اس سے واقف نہیں ہیں، گروپ مینشنز ایک ایسا فیچر ہے جس کا استعمال آپ کو یقیناً کافی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اینڈرائڈ فون میں اگر آپ واٹس ایپ پر کسی گروپ چیٹ کی نوٹیفیکیشنز کی آواز بند کردیتے ہیں، تو آپ کو یہاں موصول ہونے والے پیغامات کے بارے میں معلوم نہیں ہوگا، لیکن اس چیٹ میں اگر کوئی آپ کا نام مینشن کرتا ہے تو آپ کے پاس فوری اس کا پیغام آئے گا۔

دوسری جانب آئی او ایس میں یہ فیچر اور بہتر انداز میں پیش کیا گیا، اس میں آپ کو اس چیٹ کا وہ میسیج باآسانی دکھا دیا جائے گا جس میں آپ کا نام مینشن کیا گیا، جبکہ اینڈرائڈ میں نوٹیفیکیشن آنے کے بعد آپ کو وہ میسج ڈھونڈنا پڑے گا۔

واٹس ایپ پیمنٹ ٹرانسفر (اینڈرائڈ اور آئی او ایس)

کیا آپ جانتے ہیں کہ صارفین یو پی آئی کے ذریعے بینک ٹو بینک منی ٹرانسفر کرسکتے ہیں، فی الحال یہ بیٹا ورژن میں دیکھنے میں آیا ہے اور ہر صارف کے لیے دستیاب نہیں، لیکن بہت سے صارفین یہ نہیں جانتے کہ یہ فیچر واٹس ایپ گروپس کے لیے بھی دستیاب ہے۔

لیکن گروپ میں ایک وقت میں کسی ایک ہی صارف کو منی ٹرانسفر کرسکتے ہیں، یہ فیچر ابھی ہر جگہ دستیاب نہیں تاہم جلد اسے پاکستان میں بھی متعارف کردیا جائے گا۔

گروپ کالز (بیٹا)

واٹس ایپ کی وائس کالز اور ویڈیو کالز کا فیچر تو نہایت کامیاب رہا، لیکن بیٹا ورژن میں ان کا گروپ وائس اینڈ ویڈیو کالز کا فیچر بھی سامنے آچکا ہے، اس پر ٹیسٹ جاری ہے اور جلد یہ آئی او ایس اور اینڈرائڈ میں بھی دستیاب ہوگا۔

گوگل کا ’چیٹ‘ سروس متعارف کرانے کا فیصلہ

کیلی فورنیا: گوگل نے واٹس ایپ اور ایپل کے آئی میسیج کے مدمقابل ٹیکسٹ میسیج سروس ’چیٹ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق گوگل اینڈرائیڈ فون کے لیے ٹیکسٹ میسیج سروس متعارف کرا رہی ہے۔ گوگل کی ’چیٹ‘ سروس روایتی ایس ایم ایس کی طرح کام کرے گی تاہم واٹس ایپ کی طرح پیغام پڑھے جانے کے بعد بھیجنے والے کو آگاہ کر دیا جائے گا اسی طرح جواب دینے والا ٹائپنگ کر رہا ہوگا تو یہ بھی پیغام بھیجنے والے کو پتا چل جائے گا۔

گوگل کی ’چیٹ‘ سروس میں ہائی ریزولیشن والی تصاویر اور گروپ چیٹ بھی کی جاسکیں گی تاہم اگر پیغام وصول کرنے والا گوگل ’چیٹ‘ سروس آپشن استعمال نہیں کر رہا ہوگا تو پیغام سادہ ٹیکسٹ میسیج میں تبدیل ہوجائے گا۔ پیغامات بھیجنے اور وصول کرنے کے لیے انٹرنیٹ کا ڈیٹا استعمال ہوگا تاہم ابھی گوگل نے اس آپشن کے متعارف کرانے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

ماہرین کے مطابق گوگل کی جانب سے میسیجنگ ایپلی کیشن کے بجائے ’چیٹ‘ فیچر کی لانچنگ معنی خیز اور حریفوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں آنا ہے جسے گوگل استعمال کرنے والے صارفین اینڈرائیڈ فونز پر استعمال کر سکیں گے۔

اسی طرح گوگل ’چیٹ‘،  واٹس ایپ، آئی میسیج اور فیس بک میسنجرز کے صارفین کو اپنی جانب متوجہ کر کے مقابلے کی فضا قائم کردے گا، گوگل کو اس فیچر کے لیے آر سی ایس کی معاونت حاصل ہوگی۔

نوبیا ریڈ میجک گیمنگ اسمارٹ فون متعارف کرا دیا

نوبیا کمپنی نے ریڈ میجک گیمنگ اسمارٹ فون متعارف کرا دیا ہے۔

اسمارٹ فون میں اینڈرائیڈ اوریو پر مشتمل ریڈ میجک آپریٹنگ سسٹم دیا گیا ہے۔ فون میں 6 انچ ڈسپلے ، قالکوم اسنیپ ڈریگن 845 پروسیسر اور 85 فیصد اسکرین ٹو باڈی ریشو دیا گیا ہے۔ اسمارٹ فون کو 6 جی بی ریم کے ساتھ 64 جی بی اسٹوریج اور 8 جی بی ریم کے ساتھ 128 جی بی ریم کے دو آپشنز میں پیش کیا گیا ہے۔

فون کے کیمرہ سیٹ اپ میں 24 میگا پکسل کا بیک کیمرہ اور 8 میگا پکسل کا فرنٹ کیمرہ شامل کیا گیا ہے۔ گیمنگ کیلئے اسمارٹ فون میں خصوصی ایئر کولنگ ٹیکنالوجی دی گئی ہے اس کے علاوہ فون میں گیمنگ موڈ آن کرنے کے لیے خصوصی بٹن بھی شامل کیا گیا ہے۔6 جی بی ریم کے ساتھ اسمارٹ فون کی قیمت 2499 یان جبکہ 8 جی بی ریم کے ساتھ فون کی قیمت 2999 یان ہے۔ فون کو پری آرڈر کے لیے پیش کر دیا گیا ہے اور اس کی فروخت 25 اپریل سے شروع ہوگی۔

Google Analytics Alternative