سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

سام سنگ کے پہلے ایک ٹی بی اسٹوریج والے فون کی قیمت سامنے آگئی

چند ماہ پہلے یہ لیک سامنے آئی تھی کہ سام سنگ گلیکسی ایس 10 پلس دنیا کا پہلا 12 جی بی ریم اور ایک ٹی بی اسٹوریج والا فون ثابت ہوگا، ابھی کسی اور کمپنی نے ایسی ڈیوائس پیش نہیں کی ہے۔

اس کے بعد اس لیک کی تصدیق ہوتی چلی گئی اور اب جب سام سنگ کے لیے فلیگ شپ فون متعارف کرانے میں 2 دن رہ گئے ہیں، چین میں اس کی قیمت کے حوالے سے لیک سامنے آگئی ہے۔

سام سنگ کا نیا فلیگ شپ فون گلیکسی ایس 10 کم از کم 3 مختلف ورژن میں متعارف کرایا جائے گا اور یہ جنوبی کورین کمپنی کی طاقتور ترین ڈیوائس بھی ہوگی جس کا عندیہ مہینوں سے سامنے آنے والی لیکس اور افواہوں سے ہوتا ہے۔

اور یہ تو واضح ہے کہ 12 جی بی ریم اور ایک ٹی بی اسٹوریج سے لیس فون دوسروں سے بہت زیادہ مہنگا ہوگا۔

اسمارٹ فونز لیکس کے حوالے سے معروف ٹوئٹر صارف ایون بلاس نے گلیکسی ایس 10 پلس کے مختلف ورژن کی قیمتوں کا اسکرین شاٹ ٹوئیٹ کیا ہے جس میں چین میں اس فون کی قیمتوں کو دیا گیا ہے۔

اس ٹوئیٹ کے مطابق 12 جی بی ریم اور ایک ٹی بی اسٹوریج والا فون 10 ہزار چینی یوآن (2 لاکھ 6 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت کیا جائے گا جو کہ یورپ کے حوالے سے لیک قیمتوں سے کم ہے۔

ٹوئیٹ کے مطابق 8 جی بی ریم اور 512 جی بی اسٹوریج والا ورژن 9 ہزار یوآن (ایک لاکھ 85 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں دستیاب ہوگا۔

اس کے مقابلے میں رواں ماہ کے آغاز میں ایک ٹوئٹر صارف نے یورپ میں گلیکسی ایس 10 پلس کے مختلف ورژن کی جو قیمتیں لیک کی تھیں وہ کچھ یوں تھیں 6 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج والا ورژن 999 یورو (ایک لاکھ 58 ہزار پاکستانی روپے سے زائد)، 8 جی بی/ 512 جی بی اسٹوریج 1249 یورو (ایک لاکھ 98 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) جبکہ 12 جی بی/ ایک ٹی بی اسٹوریج والا فون 1499 یورو (2 لاکھ 37 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت کیا جائے گا۔

پاکستان میں اس فون کی قیمت کیا ہوگی کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ یہاں عام طور فلیگ شپ فون دیگر مارکیٹوں کے مقابلے میں کچھ مہنگے ہی ہوتے ہیں۔

خیال رہے کہ سام سنگ 20 فروری کو سان فرانسسکو میں ایک ایونٹ کے دوران اپنے فلیگ شپ سیریز کے فونز کو متعارف کرائے گی جو کہ صارفین کو 8 مارچ تک دستیاب ہوگا۔

چین کا ناقابل یقین اور دنگ کردینے والا منصوبہ

چین ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے جس کے منصوبے ناقابل یقین ہوتے جارہے ہیں لیکن وہ انہیں حقیقت کا روپ دینے میں کی کوششوں میں مصروف ہے۔

اور چین اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سورج کا سہارا لینے کا ارادہ رکھتا ہے مگر اس میں انفرادیت یہ ہے کہ وہ بالائی خلا میں پاور اسٹیشن تعمیر کرنے جارہا ہے۔

یہ بجلی گھر یا پاور اسٹیشن زمین کے مدار میں ہوگا اور سورج کی شعاعوں کو بجلی میں بدل کر یہ توانائی واپس زمین پر بیم کی شکل منتقل کرے گا۔

چین کو توقع ہے کہ اگر چینی اسپیس ایجنسی اس کے لیے درکار ٹیکنالوجی تیار کرنے میں کامیاب ہوئی تو اس منصوبے کو 2030 تک مکمل کرلیا جائے گا اور اس کی بدولت ہر وقت بجلی کی سپلائی جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔

اس ٹیکنالوجی کی آزمائش 2021 سے 2025 کے درمیان کیے جانے کا امکان ہے جس کے بعد ایک میگاواٹ سولر پاور اسٹیشن 2030 تک خلا میں بھیجے جائے گا۔

اس منصوبے کے تحت مستقبل میں زیادہ بڑے اور موثر پاور اسٹیشنز کو بھی خلا میں منتقل کیا جائے گا۔

اس حوالے سے تجرباتی بیس کو چین کے شہر چونگ چنگ میں تیار کرلیا گیا ہے۔

چین کا یہ مجوزہ پاور اسٹیشن 36 ہزار کلومیٹر بلندی پر زمین کی مدار میں موجود ہوگا، جس سے پہلے چینی سائنسدان چھوٹے پاور اسٹیشن تعمیر کرکے خلا میں بھیجیں گے۔

چینی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے 99 فیصد تک بجلی کی فراہمی وقت پر ہوگی جبکہ یہ ماحول دوست بھی ہوگی۔

اس منصوبے کے تحت سولر انرجی کو خلا میں پہلے بجلی میں منتقل کیا جائے گا جس کے بعد مائیکرو ویو یا لیزر کی شکل میں زمین پر بیم کیا جائے گا جہاں گرڈ اسٹیشن اسے موصول کرے گا۔

سائنس فکشن ناول جیسا یہ منصوبہ نیا نہیں، جاپان اس بارے میں ایک دہائی قبل بات کرچکا ہے جبکہ امریکا میں بھی گزشتہ سال اس طرح کے منصوبے پر بات کی گئی۔

چین اس وقت خلائی منصوبوں پر امریکا کے بعد سب سے زیادہ فنڈز خرچ کرنے والا ملک ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے 8 ارب ڈالرز سالانہ بجٹ مختص کیا ہوا ہے تاکہ اس معاملے میں روس اور امریکا کو پیچھے چھوڑا جاسکے۔

چین دنیا کا پہلا ملک بننا چاہتا ہے جو چاند پر ایک بیس قائم کرنے میں کامیاب ہوگا اور اس کے لیے وہ تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کی مدد لے گا۔

ان لوگوں کی تصاویر جن کا کبھی دنیا میں وجود نہیں تھا

نیچے موجود چہروں پر پہلی نظر میں کچھ خاص نظر نہیں آتا کیونکہ اس میں بظاہر کچھ بھی خاص نہیں اور یہی چیز اسے غیرمعمولی بناتی ہے۔

اور ہاں ان چہروں کو غور سے دیکھنے کی زحمت نہ کریں کیونکہ آپ کچھ بھی منفرد تلاش نہیں کرسکیں گے۔

بچوں، خواتین اور مردوں کے یہ چہرے درحقیقت ایسے افراد کے ہیں جن کا کبھی دنیا میں وجود ہی نہیں تھا۔

یہ چہرے ایک کمپیوٹر سسٹم بنارہا ہے اور یہ درجنوں میں ہے جو دیکھنے میں بالکل حقیقی لگتے ہیں۔

ThisPersonDoesNotExist.com نامی ویب سائٹ نے یہ چہرے آرٹی فیشل ٹیکنالوجی (اے آئی) کے ایک پہلو کو دکھانے کے لیے بنائے ہیں۔

فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ

یہ تصاویر اتنی حقیقی لگتی ہیں کہ یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ یہ چہرے حقیقی انسانوں کے نہیں۔

فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ

اس ویب سائٹ پر جائیں تو وہاں کچھ بھی نہیں ہوگا، بس تاریک پس منظر اور درمیان میں ایک چہرہ، اس کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں، بس پیج ری فریش کرتے جائیں، یہ چہرے بدلتے چلے جائیں گے۔

فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ

اس سے یہ خوفناک احساس بھی ہوتا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کس حد تک ہمیں یہ دھوکا دینے میں کامیاب ہوجاتی ہے کہ ہم جو تصویر دیکھ رہے ہیں وہ کسی حقیقی شخص کی ہے۔

فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ

ان فرضی چہروں کی ویب سائٹ کے خالق اوبر کے سافٹ وئیر انجنیئر فلپ وانگ ہیں جنہوں نے امریکی کمپنی Nvidia کی اس تحقیق کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا، جسے گزشتہ سال پبلک کیا گیا تھا۔

فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ

فلپ کی ویب سائٹ میں ایک الگورتھم میں بڑی تعداد میں انسانی چہروں کو شامل کیا گیا اور پھر نیورول نیٹ ورک کی مدد سے ان چہروں کو بالکل نئے چہرے بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ

اس ویب سائٹ کے نیورل نیٹ ورک الگورتھم 512 dimensional vector کی مدد سے چہرے کی تصویر تیار کرتا ہے۔

فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ

اس ویب سائٹ کے خالق فلپ وانگ نے ایک فیس بک گروپ میں پوسٹ کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے یہ سائٹ لوگوں کا شعور اجاگر کرنے کے لیے تیار کی ہے کہ Nvidia کے باصلاحیت محققین کا ایک گروپ کیا کچھ کرسکتا ہے، اس پر 2 سال سے کام جاری تھا’۔

فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ

مگر موجودہ عہد جب جعلی خبریں، تصاویر میں ردوبدل بہت عام ہوچکا ہو، اس طرح کی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانا اس قسم کے عمل کو مزید آسان بناسکتا ہے۔

فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ

یعنی ابھی تو یہ ویب سائٹ نئی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کی دلچسپ کوشش ہے مگر مستقبل قریب میں یہ منفی چیزوں کے لیے آسانی سے استعمال ہوسکے گی۔

فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ
فوٹو بشکریہ دس پرسن ڈوز ناٹ ایگزسٹ

لمبی گردن والے ڈائنورسار کی نئی قسم دریافت

اوہائیو: سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ لمبی گردن والے ڈائنوسار کی ایک نئی قسم دریافت ہوئی ہے جس کی دم کی ہڈی دل کی شکل کی طرح ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مشرقی افریقہ سے 145 ملین سال پرانے ڈائنو سارز کی باقیات ملی ہیں، لمبی گردن والے اس ڈائنوسار کی امتیازی بات اس کی دم کی ہڈی کا دل کی شکل کی طرح ہونا ہے۔

Dainasors 3

ڈائنوسار کی اس نئی قسم کی دریافت کا سہرہ امریکی یونیورسٹی اوہائیو کے سائنس دانوں کے سر جاتا ہے جنہوں نے 2014 میں پہلی بار اس ڈائنوسار کے ایک ہڈی ملنے کے بعد مسلسل کھدائی کا کام جاری رکھا یہاں تک کے دنیا کو ڈائنوسار کی منفرد نسل سے متعارف کرایا۔

Dainasors 2

سائنسی جریدے پلوس ون میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالے میں انکشاف کیا گیا ہے اس ڈائنوسار کا تعلق ’عصر چاکی‘   (Cretaceous period) یعنی 145 ملین سال قبل کے زمانے سے ہے اور یہ ٹائناسارز کی ایک قسم ہے۔

Dainasors 4

سائنس دانوں نے اسے افریقا میں بولی جانے والی زبان سواحلی میں (Mnyamawamtuka moyowamkia) کا نام دیا ہے۔ جس کے معنی ’دل کی شکل والی دمچی رکھنے والا جانور‘ ہے۔ قدرت کے اس حیرت انگیز تخلیق کے مطالعے میں افریقا کے ایکو سسٹم میں رونما ہونے والے ارتقائی مراحل کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

اسمارٹ واچ کی شکل اختیار کرنے والی کانسیپٹ فولڈ ایبل اسمارٹ فون

مختلف کمپنیوں کی جانب سے فولڈ ایبل اسمارٹ فونز پر کام ہورہا ہے اور اگلے ہفتے کئی ماڈل متعارف بھی ہوسکتے ہیں۔

مگر اب تک کمپنیاں جو فونز تیار کررہی ہیں وہ ٹیبلیٹ کے حجم کے ہوتے ہیں جو فولڈ ہوکر اسمارٹ فون بن جاتے ہیں۔

مگر ایک چینی کمپنی کچھ منفرد کرنے والی ہے۔

بلیک بیری اور الکا ٹیل کی مالک کمپنی ٹی سی ایل 5 مختلف فولڈ ایبل فونز پر کام کررہی ہے جن میں سے ایک فولڈ ہوکر کلائی پر کسی بریسلیٹ کی طرح لپٹ جاتا ہے۔

ویسے یہ نیا خیال نہیں کیونکہ لیناوو نے بھی 2016 میں اس پر کچھ کام کیا تھا مگر پھر اسے چھوڑ دیا تھا۔

ٹی سی ایل کے فونز کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں اور محض خاکے ہی ایک ویب سائٹ سی نیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکی۔

مگر رپورٹ میں یہ ضرور بتایا گیا کہ یہ پانچوں ڈیوائسز اس وقت بننے کے عمل سے گزر رہی ہیں تو ہوسکتا ہے کہ مستقبل قریب میں یہ ایک ہی فولڈ ایبل فون کی شکل اختیار کرلیں۔

ٹی سی ایل کی جانب سے اس بارے میں اگلے ہفتے موبائل ورلڈ کانگریس میں مزید تفصیلات سامنے لائے جانے کا امکان ہے۔

ٹیلیویژن بنانے کے لیے مشہور یہ کمپنی ماضی میں 2020 تک اپنے پہلے فولڈ ایبل فون کو متعارف کرانے کا اعلان کرچکی ہے۔

ایل جی کا پہلا 5 جی اسمارٹ فون سامنے آگیا

5 جی ٹیکنالوجی ابھی دنیا بھر میں دستیاب نہیں مگر اس پر کام کرنے والے اسمارٹ فونز اب بہت جلد دستیاب ہوں گے۔

ون پلس اور سام سنگ کی جانب سے 5 جی اسمارٹ فونز رواں سال کسی وقت متعارف کرانے کا وعدہ کیا گیا ہے مگر جنوبی کورین کمپنی ایل جی نے تو پہلا 5 جی فون تیار بھی کرلیا۔

ایل جی کے فائیو جی ٹیکنالوجی سے لیس پہلے فون وی 50 تھن کیو کی پہلی جھلک سامنے آگئی ہے۔

اسمارٹ فونز کی تصاویر لیک کرنے کے لیے مشہور ٹوئٹر صارف ایون بلاس نے ایل جی وی 50 کی تصویر پوسٹ کی۔

وی 40 تھن کیو کا اپ ڈیٹ ورژن موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران 24 فروری کو متعارف کرایا جائے گا جو کہ ان چند اولین فونز میں سے ایک ہوگا جو تیز ترین فائیو جی وائرلیس نیٹ ورک سے کنکٹ ہوسکیں گے۔

اس لیک تصویر سے فون کے بارے میں بھی کافی اندازے لگائے جاسکتے ہیں۔

فون کے بیک اور فرنٹ اسکرین پر زرد 5 جی لوگو سے ہٹ کر بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس میں 3 رئیر کیمروں کا سیٹ اپ دیا جارہا ہے۔

گزشتہ سال کے وی 40 تھن کیو کو ذہن میں رکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک ریگولر وائیڈ اینگل لینس، دوسرا ٹیلی فوٹو لینس اور تیسرا الٹرا وائیڈ لینس ہوگا۔

فون کے فرنٹ پر ڈوئل کیمرہ سیٹ اپ ہے جو کہ ممکنہ طور پر 8 میگا پکسل اور 5 میگاپکسل سیلفی کیمروں پر مشتمل ہوگا۔

فون کے بیک پر موجود فنگرپرنٹ ریڈر سے عندیہ ملتا ہے کہ ایل جی نے اس ڈیوائس میں اسکرین کے اندر فنگرپرنٹ سنسر نصب نہیں کیا۔

ویوی پہلی کمپنی ہے جس نے ان ڈسپلے فنگرپرنٹ سنسر سے لیس فون متعارف کرایا تھا جبکہ ون پلس اور ہواوے بھی ایسا کرچکے ہیں، سام سنگ کی جانب سے گلیکسی ایس 10 سیریز میں یہ فیچر پیش کیا جائے گا۔

اینڈرائیڈ اتھارٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق وی 50 میں 4000 ایم اے ایچ بیٹری ہوگی جو کہ گزشتہ سال کے ماڈل سے 21 فیصد زیادہ بڑی ہوگی۔

ایل جی کی جانب سے وی 50 کے ساتھ ساتھ جی 8 اور دیگر ڈیوائسز موبائل ورلڈ کانگریس کے موقع متعارف کرائی جائیں گی۔

بجلی کھانے والے بیکٹیریا دریافت

کیلیفورنیا: ماہرین نے ایسے بیکٹیریا اور جراثیم دریافت کئے ہیں کہ جو الیکٹرون کی صورت میں خالی بجلی کھاتے اور اس میں سانس لیتے ہیں۔

فطرت کے کارخانے میں جراثیم اور بیکٹیریا بہت ساری غذاؤں پر زندہ رہتے ہیں لیکن بعض خردنامئے براہ راست دھاتوں اور چٹانوں وغیرہ سے الیکٹران حاصل کرکے انہیں اپنی غذا کا حصہ بناتے ہیں۔  اگرچہ ہم شیوانیلا اور جیوبیکٹر اقسام کے بیکٹیریا سے تو واقف ہیں لیکن اب ان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ سمندری مٹی سے بھی الیکڑون کشید کرسکتے ہیں۔

اس ضمن میں ماہرین نے مزید نئے بیکٹیریا تلاش کئے ہیں جو الیکٹرون سے اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔

یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے پروفیسر کینتھ نیلسن کہتے ہیں کہ اگر ہم چینی اور دیگر غذا کھاتے ہیں تو ہاضمے کے عمل میں ان سے بھی الیکٹران خارج ہوتے ہیں پھر وہ آکسیجن کے ہاتھوں ختم ہوجاتے ہیں۔ تاہم بیکٹیریا الیکٹرون کی صورت میں انتہائی خالص توانائی جذب کرتے ہیں۔ ان میں دھات اور معدنیات سے براہِ راست الیکٹرون حاصل کرنے کی زبردست صلاحیت موجود ہوتی ہے۔

اگلے مرحلے میں پروفیسر کینتھ اور ان کے ساتھیوں نے بیکٹیریا کو براہِ راست بجلی کے برقیروں (الیکٹروڈز) پر زندہ رکھنے کا عملی مظاہرہ کیا۔ اسی ٹیم نے مزید تحقیق کے بعد بتایا کہ مزید 8 اقسام کے بیکٹیریا ایسے ہیں جو بجلی کھاکر زندہ رہتے ہیں۔ اس دریافت سے معلوم ہوا کہ ہم بیکٹیریا کے بارے میں بہت کم معلومات رکھتے ہیں۔

برقی بیکٹیریا کے استعمال

ماہرین نے الیکٹرون کھانے والے ان اجسام کو ’ الیکٹرک بیکٹیریا‘ قرار دیا ہے اور انہیں تھوڑا سا تبدیل کرنے کے بعد بہت سے کاموں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان سے چھوٹی بایومشینیں بنا کر گندی نالیوں کی صفائی یا آلودہ پانی کو صاف کرنے کا کام لیا جاسکتا ہے ۔ اس دوران بیکٹٰیریا خود بجلی حاصل کرتے رہیں گے اور اپنا کام کرتے رہیں گے۔

ان سب سے بڑھ کر برقی بیکٹیریا کو سمجھ کر ہم زمین پر زندگی کی ابتدا کے بارے میں بھی بہت کچھ جان سکتے ہیں۔

عالیہ بھٹ نے اپنے سابق بوائے فرینڈ سے تعلق پر خاموشی توڑ دی

ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ عالیہ بھٹ اپنے سابق بوائے فرینڈ سدھارتھ ملہوترا سے تعلق پر بول پڑیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق عالیہ بھٹ نے اپنے سابق بوائے فرینڈ سے متعلق لب کشائی کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اُن کو بہت عرصے سے جانتی ہوں، ہم دونوں نے فنی کیریئر بھی ایک ساتھ شروع کیا، آج بھی ہمارے درمیان بہت سی یادیں ہیں اور سدھارتھ کے لیے میرے دل میں آج بھی پیار اور احترام کا رشتہ قائم ہے۔

عالیہ بھٹ نے یہ بھی کہا کہ سچ کہوں تو ہمارے درمیان کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہا اور نہ ہی میرے دل میں اُن کے لیے کوئی برائی ہے، آج بھی میرے دل میں اُن کے لیے مثبت جذبات ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ بھی اسی طرح سوچتے ہوں گے کیوں کہ ہم دونوں نے بہت سی کامیابیاں ایک ساتھ حاصل کی ہیں حتیٰ ہمارے درمیان کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی۔

قبل ازیں سدھارتھ ملہوترا نے کرن جوہر کے شو میں عالیہ بھٹ سے متعلق کہا تھا کہ مجھے نہیں لگتا ہے عالیہ سے علیحدگی کے بعد تعلقات میں تلخی آئی  لیکن یہ بھی سچ ہے کہ علیحدگی کے بعد سے ہم کبھی نہیں ملے۔

Google Analytics Alternative