سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

سام سنگ کی تاریخ کا سب سے مہنگا اسمارٹ فون گلیکسی ایس 10 پلس

سام سنگ گلیکسی ایس 10 کی آمد میں کئی ماہ باقی ہیں مگر اس سیریز کے فونز کے بارے میں لیکس مسلسل سامنے آرہی ہیں۔

اب ایک نئی رپورٹ میں گلیکسی ایس 10 سیریز کے فونز کی رونمائی کی تاریخ، دستیابی کی تاریخ، اسٹوریج، اسکرین سائز اور برطانیہ کے لیے قیمتیں بھی سامنے آگئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گلیکسی ایس 10 کو سام سنگ کی جانب سے اسپین میں شیڈول موبائل ورلڈ کانگریس سے ایک ہفتے قبل 20 فروری کو متعارف کرایا جائے گا اور اس کے پری آرڈر بھی اسی وقت شروع ہوجائیں گے جبکہ صارفین کو 8 مارچ کو دستیاب ہوں گے۔

یہ فون 3 مختلف اسکرین سائز میں سامنے آئے گا یعنی ایس 10 لائٹ 5.8 انچ اسکرین، ایس 10 کا ڈسپلے 6.1 انچ جبکہ ایس 10 پلس 6.4 انچ ڈسپلے کے ساتھ ہوگا۔

ان تینوں کی تصاویر گزشتہ دنوں پہلے ہی لیک ہوکر سامنے آچکی ہیں ، جبکہ ایک 5 جی ورژن بھی ہوگا تاہم اس کی تاریخ رونمائی فی الحال سامنے نہیں آسکی۔

اس رپورٹ کی سب سے اہم بات ان تینوں فونز کی قیمتوں اور اسٹوریج کی ہے۔

گلیکسی ایس 10 لائٹ میں کم از کم 128 جی بی اسٹوریج دی جائے گی جس کی قیمت 669 برطانوی پاﺅنڈز (ایک لاکھ 17 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) ہوگی، ایس 10 اسٹینڈرڈ کا 128 جی بی اسٹوریج والا ورژن 799 پاﺅنڈز (ایک لاکھ 40 ہزار روپے سے زائد) جبکہ 512 جی بی اسٹوریج والا ماڈل 999 پاﺅنڈز (ایک لاکھ 75 ہزار روپے سے زائد) کا ہوگا۔

آخر میں سب سے بڑا اور اس سیریز کی طاقتور ترین ڈیوائس ایس 10 پلس تین مختلف اسٹوریج ورژن میں دستیاب ہوگا۔

128 جی بی اسٹوریج والا ورژن 899 پاﺅنڈز (ایک لاکھ 57 ہزار روپے سے زائد)، 512 جی بی والا ورژن 1099 پاﺅنڈز (ایک لاکھ 92 ہزار روپے سے زائد) جبکہ ایک ٹی بی اسٹوریج والا ماڈل 1399 پاﺅنڈز (2 لاکھ 45 ہزار روپے سے زائد) ہوگی۔

اس طرح یہ سام سنگ کی تاریخ کا مہنگا ترین اسمارٹ فون بھی ثابت ہوگا جبکہ ریم کے لحاظ سے بھی یہ سب سے طاقتور فون ہے جس میں 12 جی بی ریم دیئے جانے کا امکان ہے۔

ویسے یہ قیمتیں برطانیہ کی ہیں تو یہ کہنا مشکل ہے کہ پاکستان میں بھی یہی قیمتیں ہوں گی یا اس سے بھی زیادہ۔

اس بات کا امکان بھی ہے کہ گلیکسی ایس 10 کے ایک ماڈل میں فنگرپرنٹ سنسر ڈسپلے کے اندر نصب کیا جائے گا۔

سام سنگ کی جانب سے پہلے سے زیادہ طاقتور پراسیسر ممکنہ طور پر کوالکوم اسنیپ ڈراگون 855، نیورول پراسیسنگ یونٹ اور پہلے سے بہتر کیمرے دیئے جائیں گے تاہم ایس 10 لائٹ میں پراسیسر مڈرینج ہوگا جبکہ کچھ فیچرز بھی کم ہوں گے۔

روس نے دنیا کا سب سے زیادہ وزن لے جانے والا ڈرون پیش کردیا

روس: روسی کمپنی نے سب سے زیادہ وزن اٹھانے والے ڈرون کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا بنایا ہوا ڈرون پیٹرول انجن اور برقی موٹروں سے پرواز کرتا ہے اور مسلسل 8 گھنٹے تک 220 کلوگرام وزن اٹھاسکتا ہے۔

اب یہ کمپنی گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ سے رابطہ کررہی ہے کیونکہ سب سے زیادہ وزن اٹھانے والے ڈرون کی کامیاب آزمائش حال میں کی گئی ہے۔ روسی علاقے تاتارستان کے ایک ویران علاقے میں اس کی آزمائش کی گئی ہے۔ اگرچہ ڈرون وزن اٹھا کر مقررہ بلندی تک نہ جاسکتا لیکن پھر بھی اس نے وزن اٹھانے کا نیا ریکارڈ ضرور قائم کردیا ہے۔

اسکائف ڈرون کو قوت دینے کے لیے اس میں طاقتور پیٹرول انجن نصب ہے اور ساتھ ہی اس کی پنکھڑیاں برقی قوت سے آگے بڑھتی ہیں۔ دونوں مل کر 220 ہارس پاور کی قوت پیدا کرتے ہیں جبکہ وزن اٹھانے کے بعد کناروں پر لگیں چھوٹی موٹریں اپنی قوت سے ڈرون کو ہوا میں مستحکم رکھتی ہیں۔ کمپنی کے مطابق اگلے مرحلے میں ان کا ڈرون 400 کلوگرام وزن بھی اٹھاسکے گا۔ تاہم یہ ماڈل ہر طرح کا وزن لے جاسکتا ہے۔ اسے فصلوں میں اسپرے کرنے، تلاش کرکے لوگوں کو اٹھانے اور پانی کے جہازوں تک وزن پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹر کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اگلے سال پانچ اسکائف ڈرون سے فصلوں پر کیڑے مار دوائیں چھڑکنے کے تجربات بھی کئے جائیں گے۔

جی ہاں! مثبت تخیل سے خوف اور ڈپریشن پر قابو پایا جاسکتا ہے

کولاراڈو:ہم خیالوں میں دنیا کے مشکل ترین کام کرسکتے ہیں خواہ وہ پہاڑ عبور کرنا ہو یا پھر کوئی طیارہ اڑانا۔ تخیل ہمارے دماغ کو مفید خیالات اور نت نئے تصورات سے بھر دیتا ہے۔ لیکن اب ماہرین کہہ رہے کہ یہی خیالات سوچنے کا عمل ہمیں ڈپریشن اور خوف سے نجات دینے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

حالیہ تحقیق کے بعد بعض ماہرین نے کہا ہے کہ ہمارے تخیل ہمارے ذہنوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور یہ عمل بہت ٹھوس انداز میں رونما ہوتا ہے۔ 2009 کی ایک اہم تحقیق سے انکشاف ہوا تھا کہ جو ہم سوچتے ہیں بسا اوقات ہمارا جسم انہیں اصل سمجھتے ہوئے بھی اس پر اپنا ردِ عمل دیتا ہے۔ اسی طرح 2013 کی ایک تحقیق کرنٹ بایالوجی میں شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ خاص آوازوں اور اشکال سوچنے سے حقیقی دنیا سے ہمارے ردِ عمل اور برتاؤ میں مثبت تبدیلی آتی ہے۔

اب جرنل ’نیورون‘ میں شائع ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اہم تخیل کے زور پر اپنے اندر ’جادوئی قوت‘ جگاکر مسلسل خوف اور پریشانی پر قابو پاسکتے ہیں۔ یہ تحقیق یونیورسٹی آف کولاراڈو کے پروفیسر ٹور ویگر اور ان کے رفقا نے کی ہے۔ اس عمل کو انہوں نے ’ایکسپوژر تھراپی‘ کا نام دیا ہے جس میں خیالات اور سوچ کے ذریعے انسان پریشانی اور خوف سے باہر نکل سکتا ہے۔

سروے میں 68 صحتمند افراد کو شامل کیا گیا اور انہیں ایک خاص آواز سنائی گئی جس کے بے آرام لیکن غیرتکلیف دہ برقی جھٹکا وابستہ تھا۔ اب ان لوگوں کو تین گروہوں میں بانٹا گیا ۔ ایک گروہ کو وہی آواز سنائی گئی لیکن بجلی کا جھٹکا نہیں دیا گیا۔

دوسرے گروہ سے کہا گیا کہ وہ تصور یا خیال میں اس آواز کو سوچیں۔ تیسرے گروہ کو پرندوں کی چہکار اور برسات کی خوشگوار آوازیں سوچنے کا کہا گیا۔  اس دوران سب کے فنکشنل ایم آر آئی لئے جاتے رہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ برقی جھٹکے سے وابستہ آواز کا تصور بھی عین اسی طرح پریشان کن تھا جیسی وہ آواز اور کرنٹ جھٹکا تھا۔

اس بنیاد پرماہرین کا مشورہ ہے کہ اداسی میں اچھی چیزوں کا مضبوط تخیل جمائیں اور خوف کی کیفیت میں عین وہی بات سوچیں جو اس خوف کے خلاف ہو یا اسے کم کرسکے۔ مسلسل مشق سے یہ کیفیت مضبوط ہوتی ہے اور منفی کیفیات دھیرے دھیرے دور ہوتی جاتی ہیں۔

میریٹ ہوٹلز کے کروڑوں صارفین کا ڈیٹا چین نے چوری کیا، امریکا کا الزام

امریکی اسٹیٹ سیکریٹری مائیک پومپیو نے میریٹ انٹر نیشنل ہوٹلز کے صارفین کا ڈیٹا ہیک ہونے میں چین کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے۔

خبررساں اداے اے ایف پی کے مطابق امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے فاکس نیوز کے پروگرام ’ فاکس اینڈ فرینڈز ‘ میں تصدیق کی کہ حکومت کا ماننا ہے کہ میریٹ میں صارفین کے ڈیٹا کی چوری میں چین ملوث ہے۔

انہو ں نے فاکس نیوز کے پرگرام میں بتایا کہ ’ چین نے دنیا بھر میں سائبر حملے کیے ہیں‘۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ ’ ہم چین کو اسٹریٹیجک مقابل مانتے ہیں، وہ جنوبی چین کے سمندر میں اقدامات کررہے ہیں، وہ (چینی) یہاں امریکا میں جاسوسی سے متعلق آپریشن بھی کررہے ہیں‘۔

امریکا کی جانب سے چین پر میریٹ ہوٹلز کے ڈیٹا ہیکنگ کا الزام واشنگٹن اوربیجنگ کے درمیان تجارت، ٹیکنالوجی اور جاسوسی کی وجہ سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں عائد کیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے کینیڈا نے امریکا کی درخواست پر چین کی ٹیلی کام کمپنی ہواوے کی چیف فنانشل ایگزیکٹو مینگ وانژو کو گرفتار کیا تھا۔

مینگ وانژو پر ایران پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی اور امریکا کے ساتھ دھوکا دہی کے الزامات عائد تھے۔

تاہم اس کے بعد چین نے کینڈا کے سابق سفیر مائیکل کوورگ کو چین میں گرفتار کیا تھا، جو انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے لیے ملازمت کرتے ہیں۔

مزید برآں آئندہ ہفتے امریکا کی جانب سے چینی ملٹری اور انٹیلی جنس ہیکرز پر نئے الزامات عائد کیے جانے کے امکانات ہیں۔

گزشتہ روز امریکا نے چینی کمپنی ینتائی جیری آئل فیلڈ سروسز گروپ پر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر 28 لاکھ ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

50 کروڑ صارفین کا ڈیٹا

وہ ہیکرز جنہوں نے دنیا کی سب سے بڑی ہوٹل کمپنی میریٹ کے 50 کروڑصارفین کا ڈیٹا چوری کیا ان کا تعلق چین کی وزارت برائے اسٹیٹ سیکیورٹی سے بتایا جارہا ہے۔

میریٹ نے 30 نومبرکو انکشاف کیا تھا کہ 2014 سے اسٹار ووڈ نیٹ ورک، جس میں صارفین کی ذاتی اور مالی معلومات موجود تھیں، تک غیر مجاز رسائی موجود تھی۔

واضح رہے کہ اسٹار ووڈ نیٹ ورک سے منسلک ہوٹلز میں شیرٹن، ویسٹِن، فور پوائنٹس اور ڈبلیو ہوٹل شامل ہیں۔

میریٹ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے 8 ستمبر کو خبردار کردیا تھا کہ امریکا میں ان کا ریزرویشن ڈیٹا ہیک کیے جانے کا خدشہ ہے۔

گزشتہ ہفتے، میریٹ نے صارفین کو بذریعہ ای میل ڈیٹا چوری ہونےسے متعلق خبردار کیا تھا۔

60 فیصد سے زائد متاثرہ صارفین کے چوری شدہ ڈیٹا میں پاسپورٹ کی معلومات، پتہ، سفر اور کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات شامل ہیں۔

ڈوئل ڈسپلے سے لیس منفرد اسمارٹ فون متعارف

چینی کمپنی ویوو نے اپنا نیا فلیگ شپ فون نیکس ڈوئل ڈسپلے ایڈیشن متعارف کرادیا ہے اور نام سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ 2 ڈسپلے کے ساتھ ہے۔

چین میں متعارف کرائے جانے والے فون میں فرنٹ کے ساتھ ساتھ بیک پر بھی ڈسپلے دیا گیا ہے جبکہ بیک پر چاند جیسا دائرہ سیلفی لیتے ہوئے جگمگاتا ہے۔

اس فون کے فرنٹ پر 6.39 انچ کا ڈسپلے دیا گیا ہے جو کہ لگ بھگ بیزل لیس ہے کیونکہ اس میں فرنٹ کیمرہ ہی موجود نہیں۔

اب پوپ اپ سیلفی کیمرے کو ختم کردیا گیا ہے بلکہ فون کو پلٹ کر سیکنڈ اسکرین کو سیلفی یا ویڈیو کال کے لیے استعمال کرنا ہوگا اور اس طرح فرنٹ کیمرے کے لیے نوچ یا بیزل کی ضرورت ہی ختم کردی گئی ہے۔

اس کے بیک پر 16:9 ریشو کے ساتھ اسکرین موجود ہے جس میں بیزل نمایاں ہے اور دونوں ڈسپلے او ایل ای ڈی پینلز سے لیس ہیں۔

اور ہاں اس فون میں کمپنی نے ڈسپلے کے اندر فنگر پرنٹ سنسر کا فیچر بھی دیا ہے۔

فوٹو بشکریہ ویوو
فوٹو بشکریہ ویوو

اس کے فرنٹ پر تو کوئی کیمرہ نہیں، اسی لیے بیک پر 3 کیمروں پر مشتمل سیٹ اپ دیا گیا ہے جن میں سے 12 میگاپکسل پرائمری کیمرہ آپٹیکل امیج اسٹیبلائزیشن کے ساتھ ہے، 2 میگاپکسل کیمرہ نائٹ ویژن جبکہ تیسرا ٹی او ایف تھری ڈی اسٹیریو کیمرہ ہے۔

اس فون کے بیک پر چاند جیسے دائرے کا نچلا حصہ ڈسپلے کے اندر ہے تاکہ صارفین اسے سیلفی کے طور پر استعمال کرنے کے ساتھ ویڈیو کالز اور ہر وہ کام کرسکیں جو فرنٹ کیمرے سے ممکن ہے۔

اس فون میں کوالکوم اسنیپ ڈراگون 845 پراسیسر، 10 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے۔

فوٹو بشکریہ ویوو
فوٹو بشکریہ ویوو

3500 ایم اے ایچ بیٹری اور یو ایس ٹائپ سی پورٹ فاسٹ چارجنگ کے لیے موجود ہے۔

یہ فون چین میں 29 دسمبر کو لگ بھگ 5 ہزار چینی یوآن (ایک لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا، دیگر ممالک کے حوالے سے فی الحال کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

ویوو نے اس سے قبل حقیقی معنوں میں پہلا بیزل لیس اسمارٹ فون نیکسمتعارف کرایا تھا جس میں متاثرکن 91.24 فیصد اسکرین ٹو باڈی ریشو، پوپ اپ کیمرہ اور ڈسپلے میں نصب فنگرپرنٹ اسکینر جیسے فیچرز دیئے گئے تھے۔

2018 میں یوٹیوب کی سب سے زیادہ ناپسند کی جانے والی ویڈیو

2010 سے یوٹیوب کی جانب سے ہر سال مقبول ترین ویڈیوز اور کریٹیرز کے لیے ایک ویڈیو تیار کی جاتی ہے جسے یوٹیوب ری وائنڈ کا نام دیا جاتا ہے۔

ایسا ہی رواں سال بھی یوٹیوب ری وائنڈ 2018 کے نام سے ہوا جس میں ول اسمتھ سمیت متعدد کریٹیرز جیسے مولی بروک، لیزا کوشے اور دیگر کو دیکھا جاسکتا ہے اور یہ ویڈیو گزشتہ ہفتے ریلیز ہوئی۔

مگر یہ یوٹیوب کی تاریخ کی دوسری سب سے زیادہ ناپسندیدہ کی جانے والی ویڈیو بھی بن چکی ہے بلکہ نمبرون سے کچھ زیادہ دور نہیں۔

اب تک اس ویڈیو کو 90 لاکھ سے زائد افراد ڈس لائیک کرچکے ہیں اور ایسا ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں ہوا ہے۔

ابھی نمبرون پوزیشن پر جسٹن بیبر کا گانا ‘بے بی’ ہے جسے 97 لاکھ افراد نے ڈس لائیک کیا، مگر اس کے ویوز 2 ارب جبکہ اسے 2010 میں ریلیز کیا گیا تھا۔

تو آخر یوٹیوب ری وائنڈ ویڈیو کو لوگ اتنا زیادہ ناپسند کیوں کررہے ہیں؟

اس کی وجہ ویڈیو میں یوٹیوب کے چند بڑے اسٹارز کو اس ویڈیو میں شامل نہ کرنا ہے۔

شین ڈاﺅسن، لوگن پال اور پیو ڈی پائی جیسے یوٹیوب کے بڑے اسٹارز اس ویڈیو میں جگہ نہیں بناسکے جبکہ یوٹیوب کی تاریخ کا مقبول ترین لائیو باکسنگ میچ کا حوالہ بھی نہیں۔

ویسے پال ہوگ اور پیو ڈی پائی کی ویڈیوز کافی متنازع ہوتی ہیں اور ممکنہ طور پر اسی لیے یوٹیوب نے انہیں شامل نہیں کیا۔

پیو ڈی پائی نے یوٹیوب ری وائنڈ پر ایک ری ایکشن ویڈیو بھی ریلیز کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ کمپنی کی جانب سے انہیں کیا گیا تھا کہ ائیر ری کیپ میں انہیں شامل نہیں کیا جارہا۔

ان کا کہنا تھا ‘ ری وائنڈ ویڈیو ہر سال کے بہترین یوٹیوب اسٹارز کے اعزاز کے لیے ہوتی ہے اور اس کاحصہ بننا اچھا لگتا ہے مگر میں خوش ہوں کہ اس سال میں اس کا حصہ نہیں کیونکہ یہ بہت بری ویڈیو تھی’۔

مگر یوٹیوب نے یہ ویڈیو درحقیقت مارکیٹنگ اور اشتہاری کمپنیوں کو ذہن میں رکھ کر بنائی اور اس کی جانب سے ویڈیو شیئرنگ سائٹ کے تاریک پہلوﺅں کو چھپایا جارہا ہے۔

بچوں کو ڈوبنے سے بچانے والا انقلابی کالر

لتھوینیا: دنیا کے بعض حصوں میں ایک سے چار سال تک کے بچوں میں اموات کی بڑی وجہ پانی میں غرقابی ہے اور اسی لیے قیمتی جانوں کو بچانے کی غرض سے ایک انوکھا پلاسٹک کالر بنایا گیا ہے جو پانی میں جاتے ہی گاڑیوں کے ایئر بیگ کی طرح کھل جاتا ہے، انہیں ہوا بھری گیندیں کہنا زیادہ مناسب ہوگا یہ کالر گردن کے چاروں طرف غباروں کی طرح کھل کر بچے کو سطح آب تک لے آتا ہے۔

پاکستان کے مقابلے میں امریکا اور یورپ میں ہر گھر میں نہانے کے ٹب اور سوئمنگ پول ہونے کی وجہ سے بچوں کے ڈوبنے کا خطرہ قدرے زیادہ ہوجاتا ہے اور اسی لیے جدید کالر بنایا گیا ہے جسے ’دی بڈی لائف کالر‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اسے لتھووینیا کے ایک انجینئر نے ڈیزائن کیا ہے اور اس کا وزن صرف 120 گرام ہے۔

اگر اسے پہننے کے بعد بچہ پانی میں گرجائے تو عین اسی وقت سینسر تبدیلی کو محسوس کرلیتے ہیں اور صرف تین سیکنڈ میں کالر میں چھپے ایئربیگ کو کھول دیتے ہیں جو بچے کی گردن پانی سے باہر رکھ کر اسے سانس لینے اور دیکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے اندر نمی کو محسوس کرنے والا ایک سینسر بھی نصب ہے۔

اب یہ کالر اسمارٹ میڈک کمپنی کے تحت فروخت کے لیے پیش کردیا گیا ہے اور یقینی طور پر یہ آلہ حادثاتی طور پر پانی میں گرنے والے بچوں کو بچانے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔

سوشل میڈیا نے خبروں کے حصول میں اخبارات کو پیچھے چھوڑ دیا

واشنگٹن: کسی زمانے میں خبر کے حصول کا واحد ذریعہ اخبارات ہوا کرتے تھے جس میں بعدازاں ٹیلی ویژن بھی شامل ہوگیا تھا لیکن اب نئی تحقیق یہ کہتی ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس (سوشل میڈیا) نے خبر کے بنیادی ذریعے کی جگہ لے لی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی ریسرچ سینٹر (پیو ) کا کہنا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور خبر رساں اداروں کے مشکلات کا شکار حالات اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

ریسرچ کے مطابق 20 فیصد امریکی شہری سوشل میڈیا سے خبریں حاصل کرتے ہیں جبکہ اخبارات سے خبریں پڑھنے والو ں کا تناسب 16 فیصد ہے۔

2016 سروے کے مطابق اخبارات سوشل میڈیا سےزیادہ اہمیت کے حامل تھے جبکہ 2017 میں یہ تناسب دونوں ذرائع کے لیے برابر ہی تھا۔

پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق سوشل میڈیا کے عروج کے باوجود اب بھی ٹیلی ویژن خبروں کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے اور تقریباً 49 فیصد امریکی شہری اس کے ذریعے باخبر رہتے ہیں۔

تاہم خبروں کی رسائی کے حوالے سے کی گئی اس ریسرچ میں عمروں کا واضح فرق دیکھا گیا جس میں نوجوان زیادہ تر سوشل میڈیا جبکہ ادھیڑ عمر افراد ٹیلی ویژن اور اشاعت کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔

اس سلسلے میں 18سے 29 سال کے عمر کے افراد کے لیے سوشل میڈیا باخبر رہنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے جبکہ صرف 2 فیصد نے اخبارات کے حق میں رائے دی۔

دوسری جانب 65 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی بڑی تعداد (81 فیصد ) ٹیلی ویژن سے باخبر رہتے ہیں جبکہ 39 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اخبارات پڑھتے ہیں جبکہ صرف 8 فیصد افراد سوشل میڈیا سے خبریں حاصل کرتے ہیں۔

پیو ریسرچ سینٹر سے وابستہ ایلیسا شیاریر کے مطابق امریکی نوجوان خبر کے سلسلے میں اپنے بڑوں کی طرح ٹیلی ویژن پر انحصار کرنے کے بجائے صرف ایک پلیٹ فارم پر اکتفا نہیں کرتے۔

اسی ادارے کی جانب سے کی گئی ایک ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ گزشتہ برس 2017 میں شائع شدہ اورآن لائن اخبارات کی سرکولیشن ہفتے کے دنوں میں 3 کروڑ 10 لاکھ تھی جبکہ اتوار کے روز یہ تعداد 3 کروڑ 40 لاکھ ہوجاتی تھی تاہم اب اس میں 10 سے 11 فیصد کی کمی واقع ہوچکی ہے۔

Google Analytics Alternative