سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

بڑا ، طاقتور اور مہنگا ترین گیلیکسی نوٹ 9 ‎

سام سنگ نے نیویارک میں منعقدہ تقریب کے دوران گیلکسی نوٹ 9 اسمارٹ فون باضابطہ طورپر متعارف کرا دیا ہے۔

اس سمارٹ فون میں 6.4 انچ انفنیٹی بیزل لیس ڈسپلے دیا گیا ہے۔ فون کا بیسک ماڈل 6 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج کے ساتھ ہے البتہ کمپنی کی جانب سے 8 جی بی ریم اور 512 جی بی اسٹوریج والا ماڈل بھی متعارف کرایا گیا ہے ۔اسٹوریج کو ایس ڈی کارڈ کی مدد سے ایک ٹی بی تک بڑھایا جا سکتا ہے ۔ فون کی بیٹری 4000 ملی ایمپیئر آورز کی ہے جو کہ گیلکسی نوٹ اسمارٹ فونز میں اب تک کی سب سے طاقتور ترین بیٹری ہے۔ فون واٹر ریزسٹنٹ اور ڈسٹ پروف ہے۔ نئے اسمارٹ فون میں 12 میگا پکسل کے دو بیک کیمرے دیے گئے ہیں۔نئے سین آپٹیمائزیشن موڈ کو بھی فون میں شامل کیا گیا ہے جو اس چیز کا تجزیہ کرے گا جس پر آپ کیمرہ پوائنٹ کریں گے اور خود کار طریقے سے برائٹنس ، کنٹراسٹ ، سیچوریشن اور وائٹ بیلنس کو ایڈجسٹ کرے گا۔ فون میں ایس پین بھی شامل ہے اور اس میں بلیوٹوتھ کا آپشن بھی دیا گیا ہے۔ پین کو چارجنگ کی ضرورت بھی نہیں۔ ہیڈ فون جیک کو بھی فون کا حصہ بنایا گیا ہے ۔ کمپنی نے اس فون میں ڈیجیٹل اسسٹنٹ بیکسبی کو بھی پہلے سے بہتر بنایا ہے اور اب یہ گوگل کے ڈیجیٹل اسسٹنٹ کے ساتھ بھی کام کر سکے گا۔صارفین اس فون کو بڑی سکرین پر بھی چلا سکیں گے اور اس مقصد کے لیے کمپین خصوصی کنیکٹر بھی متعارف کروائے ہیں۔ اسمارٹ فون کو اوشین بلیو ، لیونڈر پرپل ، میٹالک کاپر اور مڈنائٹ بلیک میں متعارف کرایا گیا۔ فون کو 24 اگست سے فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔ 128 جی بی اسٹوریج کے ساتھ خون کی قیمت 999 ڈالر اور 512 جی بی اسٹوریج کے ساتھ قیمت 1250 ڈالر ہے۔ یہ سام سنگ کمپنی کا مہنگا ترین فون ہے۔

گوگل آپ کا ہر جگہ تعاقب کرتا ہے

انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں ؟ تو کبھی خیال کیا کہ گوگل آپ کے بارے میں کیا جانتا ہے؟ درحقیقت یہ سرچ انجن آپ کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے۔

جی ہاں سب کچھ خاص طور پر اگر آپ گوگل کی بیشتر ایپس کو استعمال کرتے ہیں جیسے اینڈرائیڈ، جی میل، ڈرائیو، گوگل میپس، یوٹیوب، کروم براؤزر اور سب سے بڑھ کر گوگل سرچ۔

چاہے آپ لوکیشن ہسٹری کو اپنی ڈیوائس میں آف ہی کیوں نہ رکھیں، گوگل عام طور پر ایسے صارفین کی لوکیشن بھی اسٹور کرتا ہے، کیونکہ کسی بھی ڈیوائس پر جب انٹرنیٹ کنکٹ کیا جاتا ہے تو ایک آئی پی ایڈریس لوکیشن کے لحاظ سے بن جاتا ہے۔

اسمارٹ فونز موبائل ٹاورز سے بھی کنکٹ ہوتے ہیں تو موبائل آپریٹرز کو آپ کی جنرل لوکیشن کا علم ہر وقت ہی ہوتا ہے۔

تاہم اچھی بات یہ ہے گوگل کے ڈیش بورڈ مائی ایکٹیویٹی پر آپ ہر وہ چیز دیکھ سکتے ہیں جو گزرے برسوں میں اس کمپنی نے آپ کے بارے میں جمع کی ہوں گی۔

گوگل ٹریکنگ سے بچا کیسے جائے؟

کسی بھی ڈیوائس پر براﺅزر اوپن کریں اور پھر مائی ایکٹیویٹی ڈاٹ گوگل ڈاٹ کام (myactivity.google.com) پر جائیں۔

وہاں بائیں جانب مختلف آپشنز موجود ہوں گے جن میں سے ایکٹیویٹی کنٹرولز پر کلک کریں۔

آپ کے سامنے نیچے متعدد آپشن آجائیں گے جیسے ویب اینڈ ایپ ایکٹیویٹی، لوکیشن ہسٹری، ڈیوائس انفارمیشن، وائس اینڈ آڈیو ایکٹیویٹی، یوٹیوب سرچ ہسٹری اور یوٹیوب واچ ہسٹری۔

تو ان میں سے ویب اینڈ ایپ ایکٹیویٹی اور لوکیشن ہسٹری کو ٹرن آف کردیں، ایسا کرنے پر لوکیشن مارکرز گوگل اکاﺅنٹ پر محفوظ نہیں ہوں گے۔

ٹرن آف کرنے پر گوگل کی جانب سے انتباہ کیا جائے گا کہ اس کی کچھ سروسز کام نہیں کرسکیں گی، جیسے گوگل اسسٹنٹ۔

اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے

سیٹنگز میں سیکیورٹی اینڈ لوکیشن میں جاکر اسکرول کرکے پرائیویسی میں جائیں اور وہاں لوکیشن پر کلک کریں، جہاں آپ اسے ٹرن آف یا آن کرسکتے ہیں۔

جہاں تک ایپس کی بات ہے تو گوگل پلے سروسز کو ٹرن آف نہیں کیا جاسکتا۔

گوگل آوازیں بھی ریکارڈ کرتا ہے

ہ فیچر لوگوں کو اپنی آواز سے سرچ کرنے کے لیے کام کرتا ہے اور ان ریکارڈنگز کو محفوظ کرلیا جاتا ہے تاکہ گوگل اس زبان کو شناخت کرنے کے ٹولز کو بہتر بناسکے۔

مگر اس معلومات کو سننا اور سب کو ڈیلیٹ کرنا بہت آسان ہے جو گوگل جمع کرتا ہے۔

اس کے لیے آپ کو گوگل کے ہسٹری پیج میں جاکر ریکارڈنگز کی لمبی فہرست کو دیکھنا ہوگا۔

کمپنی نے ایک مخصوص آڈیو پیج بنا رکھا ہے جبکہ ویب پر تمام سرگرمیوں کے لیے بھی پیج ہے جہاں وہ سب کچھ ظاہر ہوتا ہے جو گوگل آپ کے بارے میں جانتا ہے۔

یہ آڈیو پیج جون 2015 میں سامنے آیا تھا اور اس کا مطل ہے کہ وہاں وہ سب کچھ محفوظ ہے جو آپ کے خیال میں انتہائی رازداری کا حامل ہوسکتا ہے۔

ان ریکارڈنگز کو آپ ایک ڈائری کی طرح بھی سمجھ سکتے ہیں جو آپ کو مختلف مقامات اور حالات کی یاد دلاتے ہیں جہاں آپ اور آپ کا فون موجو تھا، مگر زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ آپ کے بارے میں کتنی معلومات گوگل کے پاس ہے۔

اگر تو آپ کے پاس اینڈرائیڈ فون ہے تو ایسی ریکارڈنگز بہت زیادہ ہوں گی تاہم ایسی ڈیوائسز کی ریکارڈنگز بھی ہوسکتی ہیں جن پر آپ نے گوگل یا اس کی سروسز کو استعمال کیا ہو۔

تاہم ان آڈیو فائلز کو ڈیلیٹ کرنا آسان نہیں کیونکہ گوگل نے بیک وقت سب کو ڈیلیٹ کرنے کا آپشن نہیں دیا بلکہ ایک، ایک کرکے ہی ایسا ممکن ہے۔

پہلا خلائی شوپیس اس سال اکتوبر میں مدار میں بھیجا جائے گا

نیویارک: اس سال اکتوبر کو سیاہ کھلے آسمان پر نظر دوڑائیں تو آپ کو ایک نیا ستارہ دکھائی دے گا جسے ایک انسان نے تیار کیا ہے۔

یہ کسی انسان کا بنایا ہوا دنیا کا پہلا ’خلائی فن پارہ‘ ہے جس کی جسامت فٹبال کے ایک میدان کے برابر ہے اور یہ سورج کی روشنی کو منعکس کرکے زمین کی جانب بھیجے گا۔

امریکی فنکار ٹریور پیجلین نے اسے بنایا ہے جسے اسپیس ایکس فالکن نائن راکٹ کے ذریعےنچلے زمینی مدار میں بھیجا جائے گا۔ موسمِ خزاں کے دوران تین ہفتوں تک اسے آسانی سے دیکھا جاسکے گا۔ صرف برطانیہ میں ہی اکتوبر کی راتوں میں اسے تین سے چار مرتبہ دیکھنا ممکن ہوگا۔

ٹریور پیجلین کہتے ہیں کہ یہ انسانی تاریخ کا پہلا سیٹلائٹ ہے جو خصوصی طور پر ایک فنکارانہ انداز میں بنایا گیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کو حیرت میں مبتلا کرکے انہیں کائنات میں ان کے مقام کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ اسے آربٹل ریفلیکٹر کا نام دیا گیا ہے۔

آربٹل ریفلیکٹر کو سمیٹ کر راکٹ میں رکھا جائے گا جسے زمین سے 350 میل بلندی پر خلاء میں چھوڑ دیا جائے گا۔ خلا میں کھلنے کے بعد یہ سورج کی روشنی میں تیزی سے حرکت کرتا ایک روشن نقطہ دکھائی دے گا ۔ کئی ہفتوں تک مدار میں گردش کرنے کے بعد آخر کار ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر دوبارہ زمین کا رخ کرے گا۔

آربٹل ریفلیکٹر اکتوبر میں وانڈنبرگ ایئرفورس بیس، کیلیفورنیا سے مدار میں بھیجا جائے گا۔

کیا نئے آئی فونز ایسے ہوں گے؟

ایپل کی جانب سے رواں سال 3 نئے آئی فون متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

ان میں سے ایک گزشتہ سال کے آئی فون ایکس (10) کا اپ ڈیٹ ورژن ہوگا، جبکہ دوسرا آئی فون ایکس کا ایسا ماڈل ہوگا جس میں بڑی اسکرین دی جائے گی اور اسے ایکس پلس کا نام دیا جاسکتا ہے جبکہ تیسرا ایل سی ڈی ڈسپلے کے ساتھ ہوگا تاہم اس میں کافی فیچر آئی فون ایکس جیسے ہوسکتے ہیں۔

اب ان 3 آئی فونز کے کانسیپٹ ڈیزائن سامنے آئے ہیں جو کہ ایک یوٹیوب صارف Marques Brownleeنے ویڈیو میں لیک کیے ہیں، یہ گزشتہ سال بھی آئی فونز کے درست ڈیزائن قبل از وقت ریلیز کرچکے ہیں۔

ان کا اصرار ہے کہ یہ ڈمی ماڈل رواں سال آنے والے آئی فونز کے ہی ہیں اور یہ ان ذرائع سے ملے ہیں جن سے گزشتہ سال کے ماڈل کے ڈیزائن ملے تھے۔

ان فونز کی تصویر سے عندیہ ملتا ہے کہ آئی فون ایکس پلس 6.5 انچ کے او ایل ای ڈی ڈسپلے کے ساتھ ہوگا تاہم ہارڈوئیر کے لحاظ سے یہ چھوٹے آئی فون ایکس جیسا ہی ہوگا۔

 

اس کے مقابلے میں ایل سی ڈی والا سستا آئی فون 6.1 انچ اسکرین کے ساتھ ہوگا اور سستے ڈسپلے کی وجہ سے ہی اس کی قیمت کم ہوگی۔

اس سستے آئی فون میں بیک پر صرف ایک کیمرہ دیا جائے گا جبکہ باقی دونوں ماڈلز میں بیک پر ڈوئل کیمرہ سیٹ اپ ہوگا۔

اس سے قبل مختلف لیکس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ یہ سستا آئی فون کئی رنگوں میں دستیاب ہوگا، جبکہ باقی دونوں ایپل کے روایتی رنگوں میں ہی مل سکیں گے۔

ایپل کی جانب سے اگلے ماہ کسی وقت نئے آئی فونز کو متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

ہیواوے نے اڑایا سام سنگ گلیکسی نوٹ 9 کا مذاق

سام سنگ کا رواں سال کا دوسرا فلیگ شپ فون گلیکسی نوٹ 9 جمعرات 9 اگست کو متعارف کرا دیا گیا، جو کہ ڈیزائن کے لحاظ سے گزشتہ سال کے ماڈل کا اپ ڈیٹ ورژن محسوس ہوتا ہے اور اسی چیز کو چینی کمپنی ہیواوے نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں طنز کا نشانہ بنایا ہے۔

ہیواوے کی جانب سے رواں سال کا دوسرا فلیگ شپ فون میٹ 20 سیریز ستمبر کے آخر یا اکتوبر کے شروع میں کسی وقت متعارف کرایا جائے گا اور ممکنہ طور پر یہ 3 بیک کیمروں سے لیس ہوگا۔

گلیکسی نوٹ 9 کو متعاف کرائے جانے کے بعد ہیواوے نے گزشتہ سال کے پی 10 اور رواں سال کے پی 20 پرو کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ‘اسے کہتے ہیں حقیقی جنریشن اپ گریڈ’۔

اس ٹوئیٹ کا اختتام ان الفاظ پر ہوا ‘ تصور کریں کہ آگے کیا آنے والا ہے ۔۔۔’، جس سے تصدیق ہوتی ہے کہ میٹ 20 پرو گزشتہ سال کے میٹ 10 پرو سے بالکل مختلف ہوگا۔

جہاں تک اس نئے فون کی بات ہے تو کمپنی نے فی الحال اس کے بارے میں کچھ بھی واضح نہیں کیا ہے مگر یہ اندازہ ضرور ہے کہ کمپنی کی جانب سے میٹ 20 سیریز کے 3 فونز میٹ 20، میٹ 20 پرو اور میٹ 20 لائٹ متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

میٹ 20 پرو گلیکسی نوٹ 9 اور آئی فون ایکس (10 )2018 کے مقابلے پر لایا جائے گا اور چینی کمپنی کا یہ فون مختلف افواہوں کے مطابق 6.9 انچ کے نوچ او ایل ای ڈی ڈسپلے، کیرین 980 پراسیسر، ڈسپلے میں نصب فنگرپرنٹ اسکینر، 6 سے 8 جی بی ریم اور بیک پر 3 کیمروں سے لیس ہوگا۔

ویسے یہ کمپنی عندیہ دے چکی ہے کہ میٹ 20 پرو اور میٹ 20 کی بیٹری پہلے سے زیادہ طاقتور اور 4200 ایم اے ایچ تک ہوسکتی ہے۔

خیال رہے کہ ہیواوے نے گزشتہ دنوں ایپل کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی دوسری بڑی اسمارٹ فون کمپنی کا اعزاز اپنے نام کیا تھا اور اب وہ سام سنگ کو پچھاڑنے کے لیے پرعزم ہے۔

سورج کی تحقیق کے لیے ناسا کی خلائی گاڑی تاخیر سے روانہ

یہ انسانی فطرت ہے کہ جس چیز کے بارے میں اسے تجسس ہوتا ہے وہ اس چیز کا قریبی معائنہ کرنے کی جستجو رکھتا ہے، جیسے 17 ویں صدی میں آئزک نیوٹن کے سائنسی قوانین کی وجہ سے ہمیں آج یہ بات معلوم ہے کہ اگر کسی بھی چیز کو ایک مخصوص رفتار سے خلاء میں بھیجا جائے تو وہ زمین کے گرد چکر لگاتی ہے۔

اس نظریے نے سائنسدانوں کے دماغ میں ہلچل مچا دی تھی جس کے پیش نظر 20 ویں صدی میں روس نے سب سے پہلا انسان زمین کے گرد بھیجا اور پھر امریکا نے خلاباز چاند پر بھیجے۔

سیارہ مریخ پر بھی انسانوں کو بھیجنے کی باتیں تو ہور ہی ہیں لیکن رواں مہینے کے آغاز سے ہی یہ خبر سب کی توجہ کا مرکز بنی کہ انسان نے ‘سورج’ پر اپنی کمان تان لی۔

اور اب دنیا کے ان تمام افراد کا انتظار ختم ہوا اور امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے “پارکر سولر پروب” نامی خلائی تحقیقی گاڑی سورج کی جانب بھیج دی گئی ہے۔

اس خلائی مشن کو ناسا کی جانب سے 11 اگست کو بھیجا جانا تھا، تاہم تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے اسے آج تاخیر سے بھیجا گیا۔

ناسا کے مطابق خلائی راکٹ پارکر سولرپروب سورج کی تحقیق کے لیے خلا میں بھیج دیا گیا ہے اور اسے فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے بھیجا گیا۔

ناسا حکام نے بتایا کہ سورج کی تحقیق کے لیے بنائے گئے راکٹ پر 1.5 ارب ڈالر لاگت آئی، جس کی رفتار سورج کے قریب 4 لاکھ 30 ہزار میل فی گھنٹہ ہوگی۔

خلائی گاڑی کو بھیجے جانے سے کچھ گھنٹے قبل خرابی کی نشاندہی ہوئی تھی—فوٹو: ناسا
خلائی گاڑی کو بھیجے جانے سے کچھ گھنٹے قبل خرابی کی نشاندہی ہوئی تھی—فوٹو: ناسا

اس مشن کو امریکی ریاست فلوریڈا کے کیپ کیناورل ایئرفورس اسٹیشن بھیجا گیا۔

سائنسدان تقریبا 2 دہایوں سے سورج کا زمین سے بھی معائنہ کررہے ہیں جبکہ اسی مقصد کے لیے زمین کے گرد بھی سیٹلائٹس بھیجی گئی ہیں لیکن اب سورج کو ذرا اور قریب سے دیکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پارکر سولر پروب کا نام سائنسدان “اوگینی پارکر” کے نام پر رکھا گیا ہے، جنہوں نے سورج کے مقناطیسی میدان کے بارے میں اور سورج کی سطح سے پیدا ہونے والے چارجز کی ہوائیں، جنہیں شمسی ہوائیں بھی کہا جاتا ہے، کے بارے میں بہت سے نظریات پیش کیے جو تحقیق سے درست ثابت ہوئے ہیں۔

یہ پہلی دفعہ ہے کہ کسی خلائی مشن کا نام حیات سائنسدان کے نام پر رکھا گیا ہو اس وقت پارکر کی عمر 91 برس ہے۔

پارکر سولر پروب کو سورج کے قریب بھیجنے کا مقصد شمسی ہواؤں کی مزید تحقیق اور سورج کی مقناطیسی صلاحیت کو بغور سمجھنا ہے۔

پارکر سولر پروب مشن 6 سال اور 321 دنوں پر محیط ہے اور اس خلائی گاڑی کو خلاء میں بھیجنے کے لیے ڈیلٹا 4 ہیوی راکٹ استعمال کیا گیا، اس قدر طاقتور راکٹ سے اسے لانچ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اس خلائی گاڑی کی رفتار تیز ہو اور یہ جلد سے جلد سورج کہ گرد چکر لگائے۔

یہ خلائی گاڑی سورج کے گرد لمبوترے مدار میں چکر لگائے گی اور یہ اس لیے رکھا گیا تاکہ شروع میں خلائی گاڑی کم وقت کے لیے سورج کے انتہائی قریب جائے گی جس سے اس میں موجود آلات کو نقصان کم ہوگا، مگر آہستہ آہستہ یہ خلائی گاڑی اپنا مدار چھوٹا کرے گی جس کے بعد اس خلائی گاڑی کو کسی ستارے کے انتہائی قریب بھیجے جانے والی انسانی مشین کا اعزاز حاصل ہو جائے گا۔

ان 7 سالوں میں یہ خلائی گاڑی زمین کے پاس سے تقریبا 3 سے 4 مرتبہ گزرے گی، اس کے علاوہ یہ خلائی گاڑی نظام شمسی کے دوسرے سیارے ‘زہرہ’ کے پاس سے 7 مرتبہ گزرے گی، جب یہ خلائی گاڑی سورج سے قریب ترین فاصلے پر ہوگی تو اس کا سورج سے فاصلہ 60 لاکھ کلو میٹر ہوگا! اس قدر کم فاصلے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے نظام شمسی میں سورج سے قریب ترین سیارے (عطارد) کا فاصلہ بھی 450 لاکھ کلو میٹر ہے جبکہ زمین کا سورج سے فاصلہ 15 کروڑ کلو میٹر ہے۔

عام عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ خلائی گاڑی سورج کی جانب بھیجنا صرف اور صرف ڈرامہ ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ خلائی گاڑی سورج کی شدید تابکار ہواؤں میں جل کر خاک ہوجائے گی لیکن ناسا کہ انجنیئروں نے اس خلائی گاڑی کا نقشہ اور اس میں استعمال شدہ چیزیں کچھ اس طرح سے بنائی ہیں کہ یہی خلائی گاڑی تقریبا 1500 ڈگری سینٹی گریڈ تک کا درجہ حرارت برداشت کر سکتی ہے۔

اس کے علاوہ اس خلائی گاڑی میں کولنگ سسٹم بھی نصب کیا گیا ہے جو اس کے آلات کو زمینی درجہ حرارت تک رکھیں گا، اس قدر زیادہ درجہ حرارت آج تک کسی خلائی گاڑی نے برداشت نہیں کیا جتنا یہ خلائی پروب کرے گی، مگر اس خلائی گاڑی میں ایسی کیا بات ہے جو اسے باقیوں سے منفرد بناتی ہے؟

رپورٹس کے مطابق اس گاڑی کی منفرد چیز اس کے سامنے لگی 11 سینٹی میٹر موٹی کاربن کی شیلڈ ہے جس کے پیچھے چھپ کر اس خلائی گاڑی کے تمام آلات محفوظ رہنے کے ساتھ ساتھ زمین کی طرف ڈیٹا بھیجتے رہیں گے۔

اس شیلڈ کی سامنے کی سطح چمکدار ہے جو کہ سورج سے آنے والی گرمی کو آئینے کی طرح منعکس کر دے گی جس سے خلائی گاڑی گرمائش سے کسی حد تک بچی رہے گی، اس کے علاوہ اس گاڑی پر سولر پینل بھی نصب ہیں جن سے پیدا ہونے والی بجلی اس پر موجود آلات کو چلائیں گے۔

اکثر لوگ اس پر بھی سوال کرتے ہیں کہ خلائی گاڑی کو ایک ہی چکر میں سورج کے قریب بھیجبے کی بجائے سائنسدان اس خلائی گاڑی کو آہستہ آہستہ سورج کے قریب کیوں بھیج رہے ہیں؟ تو اس کا جواب انتہائی عام فہم ہے کہ اگر ہماری زمین جو کہ اس وقت سورج کے گرد تقریبا 29 ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گردش کر رہی ہے کی یہ گردشی رفتار کم ہو جائے تو اس کا مدار چھوٹا ہونے لگے گا اور ایک وقت آئے گا کہ یہ سورج میں جاگرے گی۔

اس لیے اگر پارکر سولر پروب کو سورج سے 60 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے پر گردش کرنے کے لیے تقریبا 200,000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچنا ہوگا جو کہ دنیا کا کوئی بھی راکٹ پیدا نہیں کر سکتا، لہذا اس خلائی گاڑی کو “گریویٹیشنل اسسٹ” یا کششی مدد لینا تھی۔

گاڑی 2025 تک اپنا مشن مکمل کرے گی—فوٹو: ناسا
گاڑی 2025 تک اپنا مشن مکمل کرے گی—فوٹو: ناسا

گریویٹیشنل اسسٹ ایک ایسا عمل ہے جس میں سیاروں کی کشش ثقل کی مدد سے خلائی گاڑیاں اپنی رفتار بڑھاتی ہیں، خلائی گاڑیوں کی رفتار تیز کرنے کے لیے اس عمل کا استعمال بہت زیادہ کیا جاتا ہے۔

ناسا کی طرف سے بھیجی گئی 2 وایجر خلائی گاڑیاں، نیو ہورائیزن کی خلائی گاڑی اور دوسری خلائی گاڑیوں نے بھی اسی عمل سے اپنی رفتار بڑھائی ہے اور یہ تینوں خلائی گاڑیاں آج نظام شمسی سے باہر جا چکی ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ اگر کسی چیز کو اونچائی سے زمین پر پھینکا جائے تو وہ جیسے جیسے نیچے آتی ہے اس کی رفتار کشش ثقل کی وجہ سے بڑھنے لگتی ہے اور در حقیقت خلاء میں زمین کے گرد چکر لگاتی سیٹیلائٹس بھی زمین کی طرف گر رہی ہیں لیکن وہ زمین کی طرف سیدھ میں نہیں گر رہی بلکہ ایک زاویے پر موجود ہیں جس وجہ سے جب وہ اپنی منزل تک پہنچتی ہیں تو زمین اپنی گولائی کی وجہ سے نیچے موجود نہیں رہتی اور اسی طرح سیٹلائٹ زمین کے گرد چکر لگاتی رہتی ہیں۔

اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے پارکر سولر پروب خلاء میں پہنچنے کے بعد پہلے زمین اور پھر سیارہ زہرہ کی کششی مدد سے اپنی رفتار بڑھائے گی اور آہستہ آہستہ سورج کے گرد مدار چھوٹا کرتی جائے گی۔

سورج کے قریب پہنچنے کے بعد اس کے آلات ڈیٹا لینا شروع کریں گے اور زمین تک ریڈیائی سگنلز کے ذریعے ڈیٹا پہنچایا جائے گا، اس خلائی گاڑی کا زمین سے اتنا فاصلہ ہوگا کہ اس کے سگنلز کو زمین تک پہنچنے کے لئے تقریبا 8 منٹ کا وقت درکار ہوگا۔

یہ خلائی گاڑی سورج کے گرد کل 24 چکر لگائے گی اور اس کے بعد 25 جون 2025 کو اس مشن کا اختتام ہوگا، ناسا کی روایت رہی ہے کہ خلائی گاڑی کو اسی فلکی جسم میں ضم کردیا جاتا ہے جس کی تحقیق کے لے اسے بھیجا جاتا ہے۔

جیسے کسینی خلائی گاڑی کو سیارے زحل کی تحقیق کے لیے بھیجا گیا تھا اور بعد میں اسی سیارے میں گرا کر اسے تباہ کر دیا گیا، اسی طرح مشن کے اختتام پر پارکر سولر پروب کو بھی سورج میں گرا کر ختم کردیا جائے گا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ اس خلائی گاڑی میں وہ چپ بھی نصب ہے جس میں دنیا کے لوگوں کے نام شامل ہیں اور خلائی گاڑی کے ساتھ یہ چپ بھی سورج میں ضم ہوجائے گی۔

مئیزو 16 اور 16 پلس اسمارٹ فون لانچ‎

مئیزو کمپنی نے مئیزو 16 اور 16 پلس فون متعارف کرا دیا ہے۔

دونوں اسمارٹ فونز میں انتہائی کم بیزل دیے گئے ہیں۔ کمپنی نے انڈر ڈسپلے فنگر پرنٹ سینسر ٹیکنالوجی کو بھی ان اسمارٹ فونز کا حصہ بنایا ہے جو صرف اعشاریہ 25 سیکنڈ میں فون ان لاک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ ریگولر فون میں 6 انچ جبکہ پلس ماڈل میں 6.5 انچ ڈسپلے دیا گیا ہے۔ مئیزو 16 پلس میں پشت پر 12 میگا پکسل کا مین کیمرہ اور 20 میگا پکسل کا ٹیلی فوٹو کیمرہ دیا گیا ہے۔فرنٹ کیمرہ 20 میگا پکسل کا ہے۔ فون کو 6 جی بی اور 8 جی بی ریم کے ساتھ 128 جی بی اور 256 جی بی اسٹوریج کے آپشنز میں پیش کیا گیا ہے۔ فون میں اسنیپ ڈریگن 845 پروسیسر دیا گیا ہے۔ ڈیوائس کی بیٹری 3570 ملی ایمپیئر آورز کی ہے اور اس میں ایم چارج ٹیکنالوجی دی گئی ہے ۔ مئیزو 16 کی دیگر خصوصیات مشترک ہیں البتہ اس میں 3010 ملی ایمپیئر آورز کی بیٹری شامل ہے اور اسے 6 جی بی اور 8 جی بی ریم کے ساتھ 64 جی بی اور 128 جی بی اسٹوریج کے آپشنز میں متعارف کرایا گیا ہے۔ دونوں اسمارٹ فونز کو پری آرڈر کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔ مئیزو 16 کی فروخت 16 اگست سے اور پلس کی فروخت 20 اگست سے شروع ہوگی۔

سب سے خوبصورت نوچ والا اوپو اسمارٹ فون

ویسے آج کل ہر فون میں آئی فون ایکس جیسا نوچ ڈیزائن دیا جارہا ہے مگر لگتا ہے کہ چینی کمپنی اوپو اب اس رجحان کو بدلنے کی کوشش کررہی ہے۔

جی ہاں اوپو کی جانب سے نیا فلیگ شپ فون ایف 9 رواں ماہ 15 تاریخ کو متعارف کرایا جارہا ہے اور یہ پہلا واٹر ڈراپ اسکرین ڈیزائن فون ہے۔

اس کے اوپر بڑے چوکور نوچ کی جگہ پانی کے قطرے کی شکل کا چھوٹا سا نوچ دیا گیا ہے جس میں سیلفی کیمرہ اور اسپیکر دیا گیا ہے اور ڈیزائن کے لحاظ سے یہ بالکل مختلف ڈیوائس ہے۔

اس فون میں بیزل نہ ہونے کے برابر ہیں اور متاثرکن 90.8 فیصد اسکرین ٹو باڈی ریشو دیا گیا ہے۔

بیک پر یہ فون گرگٹ کی طرح بدلتا محسوس ہوتا ہے اور یہ 3 رنگوں میں سن رائز ریڈ، ٹوائیلائٹ بلیو اور اسٹاری پرپل میں دستیاب ہوگا۔

فوٹو بشکریہ اوپو
فوٹو بشکریہ اوپو

کمپنی کے مطابق یہ فون VOOC فلیش ٹیکنالوجی کے ساتھ ہے، جس کی بدولت روایتی چارجنگ ٹیکنالوجی کے مقابلے میں یہ فون 4 گنا زیادہ تیزی سے چارج ہوتا ہے۔

فوٹو بشکریہ اوپو
فوٹو بشکریہ اوپو

یہ فون 6.3 انچ کے ایف ایچ ڈی ڈسپلے کے ساتھ ہوگا جبکہ ڈوئل سم کارڈ اور مائیکرو ایس ڈی کارڈ سپورٹ بھی دی جائے گی۔

اس فون کے بیک پر ڈوئل کیمرہ سیٹ اپ ہوگا جس میں سے ایک 16 میگا پکسل جبکہ دوسرا 2 میگا پکسل کا ہوگا جبکہ فرنٹ پر 25 میگا پکسل کیمرہ ہے جس میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس فیچرز دیئے گئے ہیں۔

فوٹو بشکریہ اوپو
فوٹو بشکریہ اوپو

اوپو ایف 9 میڈیا ٹیک ہیلیو پی 60 اوکٹا کور پراسیسر دیا گیا ہے، 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج دی جائے گی جبکہ 3500 ایم اے ایچ بیٹری بھی اس کا حصہ ہے۔

یہ فون 15 اگست کو ویت نام میں سب سے پہلے متعارف کرایا جائے گا جس کی قیمت 343 ڈالرز (42 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) ہوگی، پاکستان میں اس کی آمد کب تک ہوتی ہے، ابھی وہ واضح نہیں۔

Google Analytics Alternative