سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

الیکٹرانک چپس کو بجلی دینے اور ٹھنڈا کرنے والی بیٹری

زیورخ: کمپیوٹرہویا موبائل فون ان کی مائیکروچپس اور پروسیسر کوٹھنڈا کرنے کے لیے اضافی پنکھوں اور وینٹی لیشن کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اب ایک نئی مائع بیٹری کی ایجاد سے یہ مسئلہ بہت حد تک حل ہوسکتا ہے جو بجلی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک چپس کو ٹھنڈا بھی رکھے گی۔

آئی بی ایم اور ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک چھوٹی ’’فلو‘‘ بیٹری بنائی ہے جو ایک ہی وقت میں مائیکروچپس کو بجلی دیتی ہے تو انہیں ٹھنڈا بھی رکھتی ہے۔ اسے ’’ریڈوکس فلو‘‘ کہتے ہیں جو مائع الیکٹرولائٹس استعمال کرتی ہے۔ یہ الیکٹرولائٹس بڑے پیمانے پر توانائی جمع کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ حال ہی میں ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایسی ہی ایک مائع الیکٹرولائٹ بیٹری بنائی ہے جو 10 سال تک توانائی جمع کرسکتی ہے اور خراب نہیں ہوتی۔ اس طرح یہ بیٹریاں سولر اور ہوائی قوت کی توانائی کو طویل عرصے تک جمع کرسکتی ہیں۔

لیکن ایسی بیٹریوں کو چھوٹا کرکے کسی چپ پر لگانا ایک الگ طرح کا چیلنج ہے۔ اس بنا پر آئی بی ایم اور ای ٹی ایچ زیورخ نے 2 اقسام کے مائع دریافت کیے جو فلو بیٹری الیکٹرولائٹس اور ٹھنڈا کرنے کے ایجنٹ کے طور پر استعمال ہوسکتے ہیں۔ یوں ایک ہی سرکٹ کو بجلی دینے اور اس کی حرارت زائل کرنے کا کام کرسکتے ہیں۔

اس کی تیاری کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ سے مدد لی گئی ہے۔ ایک سسٹم پر باریک باریک چینل کاڑھے گئے ہیں جن میں مختلف الیکٹرولائٹس مختلف رفتار سے پمپ کیے جاتے ہیں۔ یہ الیکٹرولائٹس مختلف آئن کو فلو کراتے ہیں اور اس سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح ایک مربع سینٹی میٹر چپ یا ویفرپر 1.4 واٹ بجلی بنتی ہے جب کہ پمپنگ کے بعد کچھ توانائی بچ رہتی ہے اور ایک ہی وقت میں یہ گرمی کو دور بھی گرتی ہے۔

فی الحال یہ بیٹری اپنی پیداوار سے زیادہ بجلی استعمال کررہی ہیں جو پمپنگ عمل کے لیے درکار ہوتی ہے تاہم انجینیئروں کی ٹیم اسے مزید بہتر سے بہتر بناکر اس فرق کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ لیکن ماہرین پرامید ہیں کہ اسے لیزر نظاموں، سولر سیل تنصیبات اور کئی اقسام کی بیٹریوں پر آزمایا جاسکتا ہے۔

اب گوگل کے ذریعے اپنے دوستوں کی موجودگی کا مقام جانیے

سان فرانسسكو: گوگل میپس نے اپنی ایپ میں ایک نئے فیچر کا اضافہ کیا ہے جس کے ذریعے صارف اپنی موجودگی کے مقام کو دوسروں کے ساتھ حقیقی وقت ( رئیل ٹائم) میں شیئر کرسکتے ہیں اور اس طرح آپ اپنے دوستوں کو اپنی سمت اور مقام بتا کر ان کی رہنمائی بھی کرسکتے ہیں۔

اس سے قبل گوگل میپس نے 2013 میں گوگل پلس پر اسے ’’لیٹی چیوڈ‘‘ کا نام دیا تھا اور اب کی طرح اس میں بھی گوگل نقشہ استعمال ہوتا تھا جب کہ اب بھی یہ سہولت گوگل مپیس کے ساتھ بہتر انداز میں کام کرتی ہے اور اسی پر تنقید کی جارہی ہے کیونکہ ایسی بہت سی تھرڈ پارٹی ایپس اور آئی میسج کے ذریعے بھی لوگ ایک دوسرے کا مقام جان سکتے ہیں بلکہ بعض ایپس ایسی بھی ہیں جن کے ذریعے کئی گاڑیاں ایک طویل سفر پر ایک دوسرے سے رابطے میں رہتی ہیں۔

یہ فیچر اب دستیاب ہے لیکن اسے انفرادی استعمال کرنے کے لیے تھوڑی سی مشقت کرنا ہوگی اس کے لیے گوگل میپ ایپس کھول کر آن لائن رہتے ہوئے اس ’’ نیلے نقطے‘‘ پر ٹیپ کریں جو آپ کا مقام ظاہر کررہا ہے۔ ٹیپ کرتے ہی ایپ میں ایک سائیڈ مینو کھل جائے گا۔ اس میں سے ’’گیٹ اسٹارٹڈ‘‘ کا انتخاب کریں اور ’’شیئرلوکیشن‘‘‘ کا انتخاب کرکے ان لوگوں کے نمبر شامل کریں جنہیں آپ اپنی لوکیشن بتانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح چند منٹ، چند گھنٹوں، مہینوں اور روزانہ کی بنیاد پر شیئرنگ کی جاسکتی ہے۔

جن لوگوں کے پاس گوگل میپس دیکھنے کی سہولت نہ ہو وہ ایس ایم ایس کے ذریعے آپ کے مقام سے آگاہ ہوسکیں گے تاہم آپ کی درست ترین موجودگی سے بعض مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ فیس بک نے گوگل جیسے ہی ایک نقشے پر اسے دکھانے والی ایپ بنائی تھی جس میں درست ترین مقام کا آپشن ختم کردیا گیا ہے اور اب صرف اس سے قریبی دوستوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ آپ کے مقام کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ دینے والی ایک ایپ فوراسکوائر بہت مشہور ہے جو پاکستان میں ہمارے کئی دوست کئی برس سے استعمال کررہے ہیں۔

دنیا کی سب سے لچک دار اسمارٹ فون اسکرین تیار

برٹش کولمبیا: یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے انجینئروں نے ایک ایسی انتہائی لچک دار ٹچ اسکرین کا پروٹوٹائپ تیار کیا ہے جسے کھینچا اور لپیٹا جاسکتا ہے جب کہ یہ دباؤ کے علاوہ قدرے فاصلے سے ہاتھ کی حرکت تک کو محسوس کرسکتی ہے۔

اگرچہ لچک دار برقی آلات تیار کرنے کی کوششیں پچھلے کئی سال سے جاری ہیں اور ان میں متعدد کامیابیاں بھی حاصل ہوچکی ہیں لیکن مذکورہ ٹچ اسکرین کو اس سلسلے میں اہم ترین پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس میں جیلی دار سلیکون (siliconee) کی باریک پرت میں مختلف اقسام کے نہایت مختصر برقی آلات سموئے گئے ہیں جن میں سے کچھ تو دباؤ اور روشنی میں تبدیلی کو محسوس کرتے ہوئے سینسر کا کام کرسکتے ہیں جب کہ دیگر اقسام کے آلات بجلی کی منتقلی کا کام کرتے ہیں۔ دلچسپی کی بات تو یہ ہے کہ اس لچک دار ٹچ اسکرین میں استعمال کیے گئے سارے مادے بہت کم خرچ بھی ہیں۔

یہ لچک دار تجرباتی ٹچ اسکرین 5 سینٹی میٹر لمبی اور 5 سینٹی میٹر چوڑی ہے جسے یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا، کینیڈا کے مرزا ثاقب سرور اور ان کے ساتھی انجینئروں نے تیار کیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دے کر زیادہ بڑی اور عملی نوعیت کی ٹچ اسکرینز تیار کی جاسکیں گی جو اپنی لچک اور پائیداری کی بناء پر نہ صرف جدید ترین اسمارٹ فونز کا حصہ بن سکیں گی بلکہ انہیں مستقبل کے روبوٹس کے لیے انسانوں جیسی کھال تیار کرنے میں بھی استعمال کیا جاسکے گا۔

علاوہ ازیں آنے والے برسوں میں یہی لچک دار ٹچ اسکرین بالکل کاغذ جیسے برقی اخبارات اور ایسی ٹی وی اسکرینز کی بنیاد بھی بن سکیں گی جنہیں دیوار پر چپکایا اور ضرورت پڑنے پر لپیٹا جاسکے گا۔ غرض ہر وہ شعبہ جہاں لچک دار برقی آلات کا اطلاق ممکن ہے، ہر اس میدان میں یہ ٹچ اسکرین استعمال کی جاسکے گی۔ اس پروٹوٹائپ کی تفصیلات ’’سائنس ایڈوانسز‘‘ میں شائع ہوئی ہیں۔

چھپکلی کے خون میں جراثیم کش دوا

ورجینیا: امریکی ماہرین نے دنیا کی سب سے بڑی چھپکلی یعنی ’’کموڈو ڈریگن‘‘ کے خون میں ایسے 48 پروٹین دریافت کرلیے ہیں جو انتہائی سخت جان قسم کے بیکٹیریا تک کو ہلاک کرسکتے ہیں۔

سائنسدان پہلے سے جانتے تھے کہ جنگل میں رہنے والی کموڈو ڈریگن کو ہر وقت انتہائی خطرناک قسم کے بیکٹیریا کا سامنا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے منہ میں بھی تقریباً 50 اقسام کے جرثومے دریافت کیے جاچکے ہیں جو کسی بھی دوسرے جانور کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہیں لیکن کموڈو ڈریگن کو ان سے کوئی نقصان نہیں ہوتا اور وہ صحت مند رہتی ہے۔

3 میٹر لمبی اور 70 کلوگرام وزنی کموڈو ڈریگن کو دنیا کی سب سے بڑی چھپکلی کا اعزاز بھی حاصل ہے جس کے بارے میں ماہرین کو اندازہ تھا کہ شاید اس کے خون میں ایسا کوئی مادہ ہوتا ہے جو اسے مسلسل اتنی بڑی تعداد میں خطرناک جرثوموں کی موجودگی کے باوجود بھی مکمل طور پر محفوظ رکھتا ہے۔

ورجینیا میں جارج میسن یونیورسٹی کے حیاتی کیمیادانوں (بایوکیمسٹس) کی ایک ٹیم نے یہ جاننے کے لیے مختلف کموڈو ڈریگنز کے خون کے نمونے حاصل کیے اور تجربہ گاہ میں باریک بینی سے جائزہ لیا کہ ان میں ایسے کونسے مرکبات ہیں جو بیکٹیریا کو ہلاک کرنے کی خصوصی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس تفصیلی تجزیئے کے دوران انہوں نے کموڈو ڈریگن کے خون میں ایسے 48 پروٹین دریافت کیے جو جراثیم کش خصوصیات رکھتے تھے۔ پیٹری ڈش میں رکھے گئے تقریباً ہر قسم کے جرثوموں کو ان پروٹینز نے بڑی سہولت سے ہلاک کردیا جب کہ ان میں وہ بیکٹیریا بھی شامل تھے جن پر کوئی اینٹی بایوٹک دوا بھی اثر نہیں کرتی۔

ٹیم کی ایک رکن کا کہنا ہےکہ یہ پروٹین چونکہ ایک طویل عرصے میں قدرتی ارتقائی عمل سے گزرنے کے بعد جراثیم کو ہلاک کرنے کے قابل ہوئے ہیں اس لیے اگر انہیں استعمال کرتے ہوئے کوئی نئی جراثیم کش دوا تیار کرلی جائے تو وہ نہ صرف زیادہ مؤثر ہوگی بلکہ جرثومے بھی اس کے خلاف آسانی سے مزاحمت پیدا نہیں کرپائیں گے۔

البتہ اس دریافت کو انسانوں کے لیے دوا بننے سے قبل کئی مراحل سے گزرنا ہوگا کیونکہ پہلے اس کی آزمائش جانوروں پر کی جائے گی جس میں کامیابی کے بعد ہی اسے محدود طور پر انسانوں میں آزمایا جائے گا۔ اگر ان طبی تجربات میں بھی کامیابی حاصل ہوئی تو پھر اس کی وسیع تر آزمائش کی جائے گی جس کے بعد امریکا کی ’’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘‘(ایف ڈی اے) اسے انسانوں میں بطور دوا استعمال کرنے کی حتمی منظوری دے گی۔ اس پورے عمل میں 10  سال لگ سکتے ہیں اور وہ بھی اس صورت میں کہ جب ہر مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو۔ اس دریافت کی تفصیلات ’’جرنل آف پروٹیوم ریسرچ‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

بل گیٹس 23 سال میں 18ویں مرتبہ دنیا کے امیر ترین شخص قرار

نیویارک: امریکی جریدے فوربس میگزین نے دنیا کے 2043 ارب پتی افراد کی فہرست جاری کردی ہے جس میں مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس 86 ارب ڈالر اثاثوں کے ساتھ ایک بار پھر پہلے نمبر ہیں۔

بل گیٹس پچھلے 4 سال سے مسلسل اس فہرست میں پہلے نمبر پر آرہے ہیں جبکہ گزشتہ 23 میں سے 18 سال کے دوران وہ دنیا کا امیر ترین شخص ہونے کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔

75 ارب ڈالر اثاثوں کے ساتھ وارن بفٹ دوسرے نمبر پر، ایمیزون اور واشنگٹن پوسٹ کے مالک جیف بیزوز 73.8 ارب ڈالر اثاثوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر، قدرے غیرمعروف اطالوی نژاد امریکی تاجر امانشیو اورٹیگا 74.2 ارب ڈالر کے ساتھ چوتھے جبکہ 58.6 ارب ڈالر اثاثوں کے ساتھ فیس بُک کے بانی مارک زکربرگ اس فہرست میں پانچویں نمبر پر براجمان ہیں۔

اس سال کے امیر ترین لوگوں میں بھی ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد سب سے نمایاں ہیں جبکہ گزشتہ برس کی نسبت اس سال 195 مزید افراد ارب پتیوں کے عالمی کلب میں شامل ہوئے ہیں اور یوں اس تعداد میں 13 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس سال نئے ارب پتی بننے والوں میں سب سے زیادہ یعنی 76 افراد کا تعلق چین سے ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ اس وقت بھی دنیا کے ارب پتی افراد کی فہرست میں شامل ہیں لیکن فوربس کے مطابق پچھلے ایک سال میں صدارتی انتخابی مہم کےلیے اپنا وقت اور پیسہ لگانے کی وجہ سے ان کے اثاثوں میں ایک ارب ڈالر کی کمی آئی ہے اور وہ 220 درجے تنزلی کے بعد دنیا کے 544 ویں مالدار ترین شخص قرار پائے ہیں۔

مذکورہ 2043 مالدار ترین لوگوں میں سب سے زیادہ یعنی 565 امریکی، 319 چینی اور 114 جرمن ارب پتی شامل ہیں۔

فوربس میگزین نے اس سال ارب پتی خواتین کی فہرست بھی جاری کی ہے جس میں لوریئل کی لیلیان بیٹن کورٹ 39.5 ارب ڈالر اثاثوں کے ساتھ سرِفہرست ہیں۔

ہونٹوں کی حرکت، آپ کا نیا پاس ورڈ

ہانگ کانگ: 

وہ دن دور نہیں جب آپ کے ہونٹوں کی حرکت بھی پاس ورڈ کا کام کرے گی کیونکہ ہانگ کانگ کے ماہرین نے ایسی ٹیکنالوجی وضع کرلی ہے جو کسی صارف کو اس کے ہونٹوں کی حرکت کی بنیاد پر شناخت کرسکتی ہے۔ہانگ کانگ باپٹسٹ یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس ڈپارٹمنٹ کے ماہرین نے اس ٹیکنالوجی کا پیٹنٹ بھی حاصل کرلیا ہے جسے مارکیٹ میں متعارف کروانے کے لیے اب وہ کسی ادارے کی تلاش میں ہیں۔

’’بایومیٹرک آئیڈنٹی فکیشن‘‘ یعنی آواز، نشاناتِ انگشت (فنگر پرنٹس)، چہرے کے خد و خال اور آنکھ کی پتلی کی مدد سے افراد کو شناخت کرنے والے کئی نظام پہلے ہی سے استعمال میں ہیں جنہیں مسلسل خوب سے خوب تر بنایا جارہا ہے تاکہ تیز رفتاری کے علاوہ شناخت میں غلطی کا امکان بھی کم سے کم ہوتا جائے۔ ہونٹوں کی حرکت سے شناخت کی ٹیکنالوجی جسے ’’لِپ پاس ورڈ‘‘ کا نام دیا گیا ہے، انفرادی تحفظ کے سلسلے میں تازہ اضافہ قرار دی جاسکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہےکہ فنگر پرنٹس کی طرح ہونٹوں کی حرکت کا معاملہ بھی ہوتا ہے کیونکہ ہر شخص ایک مخصوص اور منفرد انداز سے اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کیمرے، موشن سینسر (حرکت محسوس کرنے والا آلہ) اور ہونٹوں کی حرکت کا باریک بینی سے جائزہ لینے والے ایک الگورتھم پر مشتمل ہے جسے استعمال کرنے کے لیے پاس ورڈ کے الفاظ زبان سے ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ پاس ورڈ بولنے کے انداز میں ہونٹوں کو حرکت دینا ہی کافی ہوگا۔

یہ نظام ہونٹوں کی مخصوص انداز سے حرکت کو کھنگالتا ہے اور اپنے ڈیٹابیس میں پہلے سے محفوظ، متعلقہ فرد کے ’’لِپ موشن پاس ورڈ‘‘ سے ملاتا ہے اور ان دونوں کے یکساں ہونے پر صارف کو پہچان لیتا ہے ورنہ پہچاننے سے انکار کردیتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی اس لحاظ سے بھی زیادہ بہتر قرار دی جارہی ہے کیونکہ اس کا انحصار دنیا کی کسی زبان پر نہیں بلکہ صرف ہونٹوں کی حرکت پر ہے۔ علاوہ ازیں یہ انتہائی شور شرابے کے ماحول میں بھی یکساں طور پر کارآمد رہتی ہے کیونکہ اسے استعمال کرنے کے لیے صارف کو زبان سے کچھ بھی نہیں بولنا پڑتا۔ ایک بار شناخت ہوجانے کے بعد صارف بڑی آسانی سے اپنے ہونٹوں کی حرکت پر مشتمل نیا پاس ورڈ بھی دے سکے گا اور یوں وہ اپنے متعلقہ اکاؤنٹ کو زیادہ محفوظ بھی بناسکے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظام بینکوں اور مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے دوسرے اداروں کےلیے بطورِ خاص بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ ہر دور میں سیکیورٹی ان ہی اداروں کا سب سے بڑا مسئلہ رہی ہے۔ یہ نظام مارکیٹ میں کب دستیاب ہوگا، اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ یہ معاملہ کاروباری و تجارتی اداروں کی دلچسپی سے مشروط ہے۔

تارکینِ وطن کی قانونی رہنمائی کرنے والا سافٹ ویئر

سلیکان ویلی: امریکی سافٹ ویئر انجینئر نے ایسا کمپیوٹر پروگرام تیار کیا ہے جو امیگریشن اور پناہ کی درخواست دینے والوں کو درپیش قانونی مسائل حل کرنے کے لیے انہیں خودکار انداز میں قانونی مشاورت اور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

اسٹینفرڈ یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کے انجینئر کا تیار کردہ یہ سافٹ ویئر امریکا، کینیڈا اور برطانیہ کے لیے امیگریشن اور پناہ کی درخواستیں دینے والوں کو مفت آن لائن قانونی مشاورت اور رہنمائی فراہم کرتا ہے جب کہ اس مقصد کے لیے یہ سادہ انگریزی میں اپنے صارف کے ساتھ معلومات کا تحریری تبادلہ کرتا ہے یعنی یہ ایک ’’چیٹ بوٹ‘‘ (Chatbot) ہے۔ فی الحال اسے صرف فیس بُک میسنجر کے ساتھ ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

پہلے پہل اسے ایک کمپنی کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ ان لوگوں کو قانونی رہنمائی دی جاسکے جنہیں غلط طور پر ٹریفک چالانوں اور جرمانوں کا سامنا ہے مگر وہ اپنے لیے وکیل کرنے کی حیثیت نہیں رکھتے۔ آن لائن شروع ہونے والی یہ مفت سروس کچھ ہی عرصے میں لندن، نیویارک اور سیاٹل میں 2 لاکھ سے زیادہ ڈرائیوروں کو ناجائز ٹریفک چالانوں اور جرمانوں سے چھٹکارا دلواچکی ہے۔ مزید ترامیم و اضافہ جات کے بعد اسی سافٹ ویئر کے ذریعے امریکا اور برطانیہ کے شہری جائیداد سے متعلق امور میں مفت آن لائن قانونی مشورے بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

سابقہ کامیابیوں کے پیش نظر اس انجینئر نے وکلاء کی مدد سے اس پر مزید کام کیا اور اب اس کا جدید ترین ورژن ایک نئی سروس کی صورت میں امیگریشن اور پناہ (اسائیلم) کی درخواستیں دینے والوں کی خودکار رہنمائی کررہا ہے اور انہیں درست طور پر امیگریشن/ اسائیلم فارم بھرنے میں مدد بھی فراہم کررہا ہے۔ انجینئر کا کہنا ہےکہ وہ اس ’’چیٹ بوٹ‘‘ کو خوب سے خوب تر بنانے کے لیے مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں اور اس کے آئندہ ورژن میں واٹس ایپ پر کام کرنے کی سہولت بھی موجود ہوگی۔

ویسے تو مؤکلوں کو قانونی مشورے دینے کے لیے آئی بی ایم پہلے ہی ’’راس‘‘ کے نام سے ایک خودکار سافٹ ویئر بناچکا ہے لیکن زبان اور انٹرفیس میں سادگی کے باعث امریکی انجینئر کا یہ چیٹ بوٹ استعمال میں بہت ہی آسان ہے جس سے وہ عام شہری بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں جو قانونی زبان سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے۔

صارفین کی پرائیویسی یقینی بنانے کے لیے چیٹ بوٹ اور صارف میں ہونے والا تبادلہ خیال مکمل ہوتے ہی سرور سے ڈیلیٹ کردیا جاتا ہے البتہ صارف کے کمپیوٹر پر وہ محفوظ رہتا ہے۔

گلوبل وارمنگ کے باعث سمندر تیزی سے گرم ہورہے ہیں، تحقیق

لندن: سمندر دنیا کے 70 فیصد سے زائد رقبے پر موجود ہیں اور عالمی موسموں پر ان کا غیرمعمولی اثر ہوتا ہے لیکن اس حوالے سے بری خبر یہ ہے کہ گلوبل وارمنگ سے ہونے والی حرارت تیزی سے سمندروں میں اتر رہی ہے اور اب ہمارے پرانے اندازے کے مقابلے میں سمندر 13 فیصد تیزی سے گرم ہورہے ہیں۔

جرنل سائنس ایڈوانسز میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 60 برس سے سمندروں کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور گزشتہ تخمینوں کے مقابلے میں اب یہ گرمی 13 فیصد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس سے قبل 1992 میں کہا گیا تھا کہ 1960 کے مقابلے میں عالمی سمندروں کا درجہ حرارت دُگنا بڑھا ہے۔

اس مطالعے کی رپورٹ کے مصنف کے مطابق گزشتہ 60 برسوں میں سمندری پانی گرم ہونے کی شرح بھی تیزی سے بڑھی ہے کیونکہ گرین ہاؤس گیسز سے بڑھنے والی گرمی کی 90 فیصد مقدار سمندروں میں ہی جذب ہورہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہےکہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ موسمیاتی نظام میں سمندر غیرمعمولی کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی گرمی سے زمین سے لے کر ہوا تک کا سارا سسٹم متاثر ہورہا ہے، ہم دیکھ چکے ہیں کہ 2015 تاریخ کا گرم ترین سال رہا لیکن اگلے ہی برس یہ ریکارڈ ٹوٹ گیا اور اب 2016 تاریخ کا گرم ترین سال قرار پایا ہے۔ اس سے پوری دنیا میں خشک سالی، قحط، طوفان ، سیلاب اور بادوباراں کے غیرمعمولی واقعات پیش آئے ہیں۔

Skip to toolbar
Google Analytics Alternative