سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

صافین کیلئے ”گوگل میپ “ میں کلر کوڈز اور آئیکون متعارف

نیویارک: دنیا کے معروف ترین سرچ انجن گوگل نے اپنت صارفین کی آسانی کے لیے گوگل میپ نے مختلف مقامات کے لیے کلر کوڈز کے ساتھ ساتھ آئیکون بھی متعارف کروا دیئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق گوگل میپ میں شاپنگ، فوڈز اینڈ ڈرنک، ہیلتھ، انٹرٹینمنٹ، ٹرانسپورٹ، آو¿ٹ ڈور سروسز، ٹرانسپورٹ، سول سروسز یا عبادت کی جگہوں سے متعلق کیٹیگریز شامل ہیں جن کے لیے گوگل نے رنگ اور آئیکون مخصوص کر رکھے ہیں۔اس فیچر کی مدد سے کسی مقام کو تلاش کرنے میں صارفین کا وقت ضائع ہونے سے بچ جائے گا۔


صارف جب گوگل میپ کو استعمال کرے گا تو تمام مقامات اپنے مخصوص رنگ اور آئیکون کے ساتھ واضح ہورہے ہوں گے جس سے صارف کو سڑکوں اور راستوں سمیت دیگر مقامات کے بارے میں جاننے میں آسانی ہوگی۔اس فیچر کی مدد سے صارف اپنی موجودہ جگہ کے قریب کسی بھی تفریحی مقام کا پتہ لگا سکتا ہے اور ساتھ ہی یہ تفصیلات بھی معلوم کرسکتا ہے کہ کن جگہوں پر ریسٹورنٹس یا شاپنگ مالز موجود ہیں۔

اینڈرائیڈ فونز صارفین کی پرائیویسی کیلئے خطرہ؟

اگر تو آپ اپنے اینڈرائیڈ فون پر لوکیشن شیئر کو بند کرکے سمجھتے ہیں کہ اب گوگل لوکیشن ٹریک نہیں کرسکتا تو یہ جان لیں کہ ایسا ممکن ہی نہیں۔

جی ہاں ایک نئی تحقیق میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ گوگل اینڈرائیڈ فونز کا لوکیشن ڈیٹا اس وقت بھی اکھٹا کرتا ہے جب لوکیشن سروس کو ٹرن آف کیا جاچکا ہوتا ہے۔

کوارٹز کی اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اینڈرائیڈ فونز قریبی موبائل ٹاورز کو ڈیوائس کی موجودہ لوکیشن بھیجتے ہیں اور یہ ڈیٹا واپس گوگل کے پاس جاتا ہے۔

اب چاہے آپ نے لوکیشن شیئرنگ سیٹنگ کو بند ہی کیوں نہ رکھا ہو اور چاہے آپ کے فون میں سم نہ بھی ہو اور کوئی ایپ بھی استعمال نہ کررہے ہوں، مگر گوگل کو اس ڈیٹا کے حصول سے پھر بھی نہیں روکا جاسکتا۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ گوگل کو ہر فرد کی لوکیشن ڈیٹا تک رسائی حاصل ہے اور وہ صارف کی پرائیویسی سے قطع نظر ان کی ہر نقل و حرکت پر ٹرک کرسکتا ہے۔

اس حوالے سے گوگل ترجمان نے محققین کو بتایا کہ موبائل فون ٹاور ڈیوائس کی لوکیشن کو گوگل کے زیراستعمال سسٹم میں بھیجتے ہیں تاکہ گزشتہ گیارہ ماہ کے دوران بھیجے جانے والے نوٹیفکیشن اور پیغامات کا انتظام کیا جاسکے۔

اس طرح کے ڈیٹا کو کبھی استعمال یا محفوظ نہیں کیا جاتا اور کمپنی اس کے خاتمے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔

ویسے یہ کوئی راز نہیں کہ گوگل اینڈرائیڈ فون کی لوکیشن کو ٹریک کرتا ہے۔

صارفین کے زیراستعمال فونز میں بیشتر ایپس لوکیشن سروسز کے بغیر کام نہیں کرتیں۔

ویسے اگر آپ گوگل کو خود پر نظر رکھنے سے روکنا چاہتے ہیں تو اپنی لوکیشن ہسٹری کو گوگل میپس ٹائم لائن میں جاکر ڈیلیٹ کردیں۔

تاہم یہ واضح رہے کہ اس کے باوجود آپ مکمل طور پر گوگل کی نگرانی سے جان نہیں چھڑا سکتے کیونکہ اس سے نجات کا فی الحال کوئی طریقہ سامنے نہیں آیا بس عارضی طور پر ہی اسے روکا جاسکتا ہے۔

لندن کی بسیں اب ڈیزل کے بجائے کافی سے چلیں گی

 لندن: برطانیہ میں ایک کمپنی نے استعمال شدہ کافی سے ایندھن تیار کرنے کا حیرت انگیز اور کامیاب تجربہ کیا ہے جس کے بعد لندن کی بسیں ڈیزل کے بجائے اس ایندھن سے چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سی این این کے مطابق  دنیا کی معروف پٹرولیم مصنوعات کمپنی شیل اور آرجنٹ انرجی نے بایو بین کے اشتراک سے بچی ہوئی کافی سے ایک ایندھن تیار کیا ہے جسے ’’بی 20 بایو فیول‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور اب لندن کی بسیں اب اس فیول سے چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس پائلٹ پروجیکٹ کے تحت بسوں کےلیے ابتدائی طور پر 6 ہزار لیٹر کی مقدار میں یہ ایندھن تیار کیا گیا ہے جو لندن میں چلنے والی ایک بس کےلیے ایک سال کی مدت تک کافی رہے گا۔

بایو بین کمپنی کے بانی آرتھر کے نے سی این این کو بتایا کہ یہ ایک بہترین مثال ہے۔ جب ہم ری سائیکلڈ (بازیافت شدہ) اشیا سے ایندھن بنانے پر توجہ دے سکتے ہیں تو یہ کام بھی کیا جاسکتا ہے۔ استعمال شدہ خشک کافی سے ’’کافی تیل‘‘ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ریستوران، کیفے، دفاتر اور فیکٹریوں میں بچی ہوئی کافی کا پھوک جمع  کرنے کا کام شروع کرکے اسے ری سائیکل کیا جاسکتا ہے جسے دوسرے ایندھن کے امتزاج سے ’’بی 20 بایو فیول‘‘ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے جبکہ یہ ایندھن ڈیزل بسوں میں بغیر کسی قباحت کے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ ایندھن بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ کافی میں اچھی خاصی کیلوریز ہوتی ہیں اور یہ ایک بہترین مرکب ہے جسے ذخیرہ کرکے بہ آسانی معیاری ایندھن میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

کمپنی کے مطابق برطانیہ میں صرف استعمال شدہ کافی کی شکل میں سالانہ 5 لاکھ ٹن کچرا (فضلہ) ہوتا ہے جسے کچرے کی لینڈ فل سائٹس میں پھینک دیا جاتا ہے جہاں یہ ماحول کو گرمانے والی گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے کا سبب بھی بنتا ہے۔ اس پروجیکٹ میں بہت وسعت ہے جس کا دائرہ نہ صرف امریکا بلکہ ہر اُس ملک تک پھیلایا جاسکتا ہے جہاں کافی کی بڑی مقدار استعمال کی جاتی ہو۔ اس ضمن میں امریکا وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ کافی پی جاتی ہے اور ایک اندازے کے مطابق وہاں یومیہ 40 کروڑ کپ کافی پی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ عموماً ہمارے خطے میں جو کافی پی جاتی ہے وہ ’’انسٹنٹ کافی‘‘ ہے جو پانی میں حل ہوجاتی ہے۔ تاہم مغربی ممالک میں پی جانے والی کافی ایشیائی خطے میں استعمال شدہ چائے کی پتی کی طرح ہے جو بڑی مقدار میں گھروں، ریسٹورنٹ اور ہوٹلوں سے کچرا دانوں میں پھینکی جاتی ہے۔

نوکیا کا سب سے’سستا’ اینڈرائیڈ فون پاکستان میں متعارف

نوکیا نے اپنے اب تک کے سب سے ‘سستے’ اینڈرائیڈ اسمارٹ فون نوکیا 2 کو پاکستان میں باضابطہ طور پر متعارف کرا دیا ہے۔

نوکیا موبائل فونز کی خرید و فروخت کا لائسنس رکھنے والی کمپنی ایچ ایم ڈی نے یہ فون پاکستان میں پیش کیا جو بنیادی فیچر والا اسمارٹ فون ہے جس کی سب سے بڑی خوبی اس کی طاقتور ترین بیٹری ہے۔

نوکیا 2 ، پانچ انچ اسکرین کے ایل ٹی پی ایس ایچ ڈی ڈسپلے کے ساتھ ہے جس کا ریزولوشن 1280×720 پکسل ہے۔

اس سے ہٹ کر بھی فون کے دیگر فیچرز کافی بیسک قسم کے ہیں جیسے کواڈ کور 1.3 گیگا ہرٹز کوالکوم اسنیپ ڈراگون 212 پراسیسر اور ایک جی بی ریم، آٹھ جی بی اسٹوریج جسے ایس ڈی کارڈ کی مدد سے 128 جی بی تک بڑھایا جاسکتا ہے۔

تاہم یہ فون اینڈرائیڈ 7.1 نوگیٹ آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ ہے جس کو جلد اینڈرائیڈ 8.0 سے اپ ڈیٹ کرنے کا یقین بھی دلایا گیا ہے۔

اس فون میں 8 میگا پکسل بیک کیمرہ جبکہ 5 میگا پکسل فرنٹ کیمرہ دیا گیا ہے اور ہاں بیسک فون ہونے کے باوجود اس میں گوگل اسسٹنٹ بھی موجود ہے جو عام طور پر ایسے سستے فونز میں ہوتا نہیں۔

مگر اس فون کی خاص بات اس کی طاقتور 4100 ایم اے ایچ بیٹری ہے۔

کمپنی کے مطابق اس بیٹری کو ایک چارج پر دو دن تک مسلسل چلایا جاسکتا ہے۔

اس کا اسٹینڈ بائی ٹائم حیران کن ہے جو 1340 گھنٹے ہے یعنی 55 دن سے بھی زیادہ، جبکہ لگاتار 19 گھنٹے بات چیت اور 139 گھنٹے موسیقی سنی جاسکتی ہے۔

یہ فون تین مختلف رنگوں میں پاکستان میں 11 ہزار 430 روپے میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

اب روبوٹ ہوا میں قلابازیاں بھی کھانے لگے

بوسٹن: امریکی کمپنی بوسٹن ڈائنامکس نے ہوا میں قلابازی کھانے والا انسان نما روبوٹ تیار کرلیا ہے۔

انسان نما یعنی ہیومینوئیڈ روبوٹس تیار کرنے والی مشہور امریکی کمپنی بوسٹن ڈائنامکس نے حال ہی میں اپنے مشہور روبوٹ اٹلس میں ایک حیرت انگیز صلاحیت کا اضافہ کیا ہے جسے دیکھ خود مکینیکل انجنیئرنگ کے ماہرین بھی حیران ہیں۔ پہلے اٹلس روبوٹ کو انسانوں کی طرح چلنے کے قابل بنایا گیا، اس کے بعد وہ انسانوں کی طرح سیڑھیاں چڑھنے اور اترنے لگا اور اب وہ بہت خوبصورتی سے کسی جمناسٹ کی طرح ہوا میں قلابازی کھا کر متوازن انداز میں کھڑا ہوسکتا ہے۔

روبوٹ کی حرکات و سکنات ( ڈائنامکس) کے ماہرین نے اعتراف کیا ہے کہ اگرچہ خود روبوٹ کو انسان کی طرح چلنے کے قابل بنانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے لیکن بھاری بھرکم روبوٹ کو ہوا میں گھوم کر دوبارہ کھڑا ہونےکے قابل بنانا اس سےکئی گنا مشکل ہے جو اس ویڈیو میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

بوسٹن ڈائنامکس نے گزشتہ برس اٹلس کو ایک بلندی پر چڑھایا تھا جو ہائیکنگ کے انداز میں پہاڑ پر چڑھا تھا لیکن اب وہ ہوا میں قلابازی بھی کھا سکتا ہے۔ یہ روبوٹ 180 درجے پر گھوم کر دوبارہ متوازن انداز میں کھڑا ہوسکتا ہے۔

روبوٹ کی یہ نئی خاصیت مزید نکھرے گی اور یوں ہم انسان نما روبوٹ کے قریب پہنچ سکیں گے۔ تاہم دیگر ماہرین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ساتھ روبوٹ دنیا کےلیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

فیس بک نے لاکھوں افراد کو پریشان کردیا

فیس بک صارفین کچھ بھی پوسٹ کرتے ہوئے اس بات سے مطمئن ہوتے ہیں کہ جب دل کرے گا وہ ایک دن، ایک ہفتے، ایک سال یا کئی سال بعد اسے ڈیلیٹ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

مگر گزشتہ دنوں فیس بک نے لاکھوں صارفین کے ہوش اس وقت اڑا دیئے جب اس نے متعدد ڈیسک ٹاپ صارفین کے لیے ڈیلیٹ آپشن کو ‘غائب’ کردیا۔

یہ اچانک اور غیرمتوقع تبدیلی متعدد افراد کو ذہنی طور پر الجھانے کے لیے کافی ثابت ہوئی۔

مختلف رپورٹس میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ ڈیسک ٹاپ صارفین کی محدود تعداد کے لیے ڈیلیٹ آپشن کو فیس بک کی جانب سے ایکٹیویٹی لاگ میں منتقل کردیا گیا ہے۔

اگر ایسے صارفین یہ نہیں جان پاتے کہ ڈیلیٹ بٹن کہاں چلا گیا ہے تو ان کے پاس صرف پوسٹ کو ٹائم لائن سے ہائیڈ کرنے کا آپشن ہی باقی بچتا ہے۔

ویسے بیشتر افراد کے پاس ابھی تک پوسٹس میں ڈیلیٹ کا آپشن موجود ہے۔

یعنی فی الحال یہ فیچر یا تبدیلی کچھ صارفین پر آزمائی جارہی ہے یا جلد ہی ڈیلیٹ آپشن ہر ایک کی پہنچ سے دور ہونے والا ہے اور یہ فیس بک سرور کی کسی غلطی کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔

ویسے فیس بک کی جانب سے اکثر اس طرح کی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں تو یہ حیرت انگیز امر نہیں کہ محدود تعداد میں لوگوں میں اسے آزمایا جارہا ہو۔

فی الحال فیس بک کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

چین نےریلوے ٹریک کے بغیر سفر کرنے والی ہائی ٹیک ٹرین بنا ڈالی

بیجنگ: چین نے ریلوے ٹریک کے بغیر چلنے والی ٹرین بنا ڈالی ہے جو  مکمل طور پر بجلی کی توانائی سے چلتی ہے۔

چین ایک ایسی اسمارٹ اور ہائی ٹیک ٹرین چلانے میں کامیاب ہو گیا ہے جو دنیا بھر میں اپنی نوعیت کی پہلی ٹرینہے۔ یہ مکمل طور پر بجلی کی توانائی سے چلتی ہے اور ماحول میں کسی قسم کی آلودگی پیدا نہیں کرتی۔ اس کی سب سے خاص بات یہ کہ اس میں دنیا بھر کی ٹرینوں میں استعمال ہونے والا روایتی ریلوے ٹریک استعمال نہیں کیا جاتا۔ یہ خاصیت اس ٹرین کو بڑی بسوں کے قریب کر دیتی ہے۔

یہ ہائی ٹیک ٹرین لوہے کے ٹریک کے بجائے زمین پر لائنوں کی صورت میں بنائے گئے ٹریک پر چلتی ہے۔ یہ تمام وقت ان لائنوں کو دریافت کر کے ان پر رواں دواں رہتی ہے اور اپنے راستے سے نہیں ہٹتی۔ ٹرین کو مختلف نوعیت کے سینسروں سے آراستہ کیا گیا ہے جو اس کے راستے اور سفر کے بارے میں معلومات جمع کرتے ہیں۔ اس نئی ٹرین کا عملی تجربہ چین کے جنوب مشرقی شہر “جیجو” میں کر دیا گیا ہے۔

یہ ٹرین 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے اور ایک وقت میں اس کے اندر 300 افراد کے سفر کرنے کی گنجائش ہے۔ یہ سڑک پر بنائے گئے سفید لائنوں کے ٹریک پر چلتی ہے۔ یہ منصوبہ روایتی بسوں یا زیر زمین میٹرو سرنگوں کے تعمیر کیے جانے کے مقابلے میں بہت کم لاگت ہے۔ اس کے علاوہ یہ بجلی سے چلنے والی ” ٹرام” کے لحاظ سے بھی کم لاگت رکھتی ہے۔

الفاظ بڑھانے پر ٹوئٹر کو تنقید کا سامنا

نیویارک: سماجی رابطے کے مایہ ناز پلیٹ فارم ٹوئٹر نے ویب سائٹ پر ٹوئٹ کے الفاظ بڑھاکر کمپنی نے خود اپنی انفرادیت کھودی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق الفاظ کی تعداد280 تک بڑھانے پر ٹوئٹر کو دنیا کے جانے مانے رائٹرز کی تنقید کا سامنا ہے۔جے کے رولنگ ، نیل گے مین اور سٹیفن کنگ جیسے بڑے رائٹر نے ٹوئٹس کے الفاظ کی حد بڑھنے کو اچھا اقدام قرار نہیں دیا۔
ہیری پورٹر کی رائٹر جے کے رولنگ کا کہنا ہے کہ ٹوئٹس کے کم الفاظ ہی اس ویب سائٹ کی انفرادیت تھی۔ 280 الفاظ کی حد نے یہ انفرادیت ختم کرد ی اور ٹوئٹ کے الفاظ بڑھانے پر ٹوئٹرصارفین کی طرف سے بھی زیادہ اچھا تاثر نہیں آرہا ہے۔

Google Analytics Alternative