سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

پاکستانی خواتین نے بازی مارلی، کونسا سافٹ ویئر تیار کر لیا ؟ جان کر حیران رہ جائیں گے

اسلام آباد : پاکستانی خواتین نے بازی مارلی ،کونسا سافٹ ویئر تیار کر لیا ؟ جان کر داد دیں گے ،دوپاکستانی خواتین نے قوت گویائی کے مسائل سے دوچار افراد کے لئے سافٹ ویئر تیار کیا ۔ اردو زبان میں تیارکیاجانے والا بولو ٹیکسافٹ ویئرگفتگو کرنے اور اپنی بات دوسروںتک پہنچانے کے حوالے سے بولنے کی صلاحیتوں سے محروم اور مختلف مسائل سے متاثرہ افراد کی معاونت کریگا دو پاکستانی خواتین شانزے خان اور رباب فاطمی نے مشترکہ کاوشوں سے سافٹ ویئر تیار کیاٗ شانزے خان نے ایک انٹرویو میں کہاکہ پاکستان کی 13 فیصد آبادی کو بولنے

مسائل کاسامنا ہے جس کی وجہ اپنے علاج اور بحالی پر انہیں بھاری اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ قوت گویائی سے محروم یا متاثرہ افراد کی معاونت اور طبی اخراجات کو نمایاں حد تک کم کیاجاسکے گا۔ انہوں نے کہاکہ اس سے مریضوں کو سپیچ تھراپسٹ تک آسان اور سستی رسائی ممکن ہو سکے گی

سمندر میں پلاسٹک کا کچرا برفانی آرکٹک میں جمع ہورہا ہے

گرین لینڈ: ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ہمارے سمندروں میں پلاسٹک کی مقدار اندھا دھند بڑھتی جارہی ہے اور یہ پلاسٹک ہزاروں میل کا فاصلہ طے کرکے آرکٹک جیسے دوردراز علاقوں میں بھی پہنچ رہا ہے۔

جرنل سائنس ایڈوانسس میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق انسان ہر سال ہزاروں لاکھوں ٹن پلاسٹک سمندروں میں پھینک رہا ہے اور وہ ہر مقام پر سمندروں کو آلودہ کرتا ہوا آرکٹک خطے میں بھی جمع ہورہا ہے۔

آرکٹک قطبی دائرے (پولر سرکل) کا پانی پلاسٹک کے کچرے سے قدرے کم آلودہ ملا ہے جب کہ گرین لینڈ اور بیرنٹس سمندروں میں اس کی زائد مقدار پائی گئی ہے۔ اس حوالے سے نئی رپورٹ میں خلاصہ پیش کرتے ہوئے ماہرین نے لکھا ہے ’’اندازہ ہے کہ اس وقت دنیا کے تمام سمندروں میں 3 لاکھ ٹن پلاسٹک جمع ہوچکا ہے اور یہ دنیا کے 6 مختلف آبی مقامات پر جمع ہورہا ہے۔ 1997 میں چارلس مور نے پلاسٹک کے ڈھیروں کو اس وقت دریافت کیا تھا جب وہ بحرالکاہل سے اپنے سفر کے لیے روانہ ہوئے تھے۔‘‘

اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی آبادی پلاسٹک بوتلوں، شاپنگ بیگز اور دیگر اشیا کو سمندر برد کررہی ہے۔ یہ پلاسٹک سمندری لہروں اور بہاؤ سے دھیرے دھیرے پوری زمین کو لپیٹ میں لے رہا ہے۔ اس پر مزید تحقیق کے لیے 8 ممالک اور 12 بین الاقوامی جامعات نے ایک سروے کیا جس میں ہارورڈ یونیورسٹی اور شاہ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی بھی شامل تھیں۔

تحقیقی ٹیم نے آرکٹک خطے کے 42 مقامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جن میں گرین لینڈ، بیرنٹس، مشرقی سائبیریا، بفن بے، اور لیبراڈور سمندر وغیرہ شامل تھے۔ خاص آلات کے ذریعے ماہرین نے 330 مائیکرومیٹر سے چھوٹے پلاسٹک ذرات بھی جمع کیے۔

اس طرح معلوم ہوا کہ انسانوں سے بہت دور انتہائی برفیلے علاقوں کا پانی بھی پلاسٹک سے محفوظ نہیں رہا۔ 2015 کے ایک سروے سے معلوم ہوا تھا کہ 20 فیصد چھوٹی مچھلیوں کے پیٹ میں پلاسٹک  کے ذرات پائے گئے جو پانی میں پلاسٹک کی ہوش ربا مقدار کو ظاہر کرتے ہیں۔

گوگل ہوم اسسٹنٹ اب 6 الگ الگ آوازیں شناخت کرسکتا ہے

نیویارک: آواز سن کر ہدایات پر عمل کرنے والے خودکار گھریلو معاون ’’گوگل ہوم اسسٹنٹ‘‘ کو اب اس قابل بنالیا گیا ہے کہ یہ 6 افراد تک کی آوازیں پہچان کر ان کے احکامات کی تعمیل کرسکتا ہے۔

نومبر 2016 میں پہلی بار پیش کیا گیا یہ آلہ مختلف آن لائن سہولیات اور ذہین گھریلو آلات سے رابطے میں رہتے ہوئے اپنے مالک کے صوتی احکامات بجا لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مثلاً مالک کی ایک آواز پر یہ گوگل کے آن لائن اسٹور میں کوئی خاص نغمہ تلاش کرسکتا ہے، کسی موضوع کے بارے میں خبریں اور وکی پیڈیا کا کوئی مضمون بھی بہ آوازِ بلند پڑھ کر سکتا ہے، شہر کے موسم اور ٹریفک وغیرہ کی تازہ ترین صورتِ حال وغیرہ کے بارے میں بھی بتا سکتا ہے۔

ان تمام خوبیوں کے باوجود اب تک یہ اپنے مالک کی آواز کو پہچاننے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا یعنی اسے ’’اوکے گوگل‘‘ کہنے والا کوئی بھی شخص اس سے اپنا حکم منوا سکتا ہے۔ اس خامی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک امریکی کمپنی نے اپنے اشتہار میں ’’اوکے گوگل‘‘ کی عبارت شامل کردی جسے سن کر یہ آلہ بیوقوف بن گیا اور انٹرنیٹ پر موجود اس کمپنی کا تشہیری مواد پڑھ کر سنانے لگا۔

لیکن اب گوگل نے یہ خامی بھی دور کردی ہے اور اپنے ہوم اسسٹنٹ کو اس قابل بنالیا ہے کہ وہ ایک دو نہیں بلکہ پورے 6 افراد کی آوازوں کو الگ الگ پہچان سکتا ہے اور صرف ان ہی کے دیئے گئے احکامات کی تعمیل کرسکتا ہے، مطلب یہ کہ اب ہر کوئی ایرا غیرا اس پر حکم نہیں چلا سکتا۔

البتہ مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کے باوجود گوگل ہوم اسسٹنٹ میں فی الحال ایک وقت میں صرف ایک ہی فرد کی آواز پہچان کر حکم کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی صلاحیت ہے۔ یعنی اگر ایک ہی وقت میں اس کے سارے مالکان اس پر حکم چلانا شروع ہوجائیں تو یہ ان میں سے صرف اس ایک آواز کو پہچانے گا جو ان میں سب سے نمایاں ہوگی اور اسی کے احکامات کی تعمیل بھی کرے گا۔

واضح رہے کہ ڈیجیٹل ہوم اسسٹنٹ اور اسمارٹ ہوم اسسٹنٹ جیسے آلات مستقبل کے ذہین گھروں کا جزوِ لازم ہوں گے کیونکہ یہ مشین ہوتے ہوئے بھی فرمانبردار غلاموں کی طرح نہ صرف اپنے آقا کی ہر بات سمجھیں گے بلکہ اپنی استعداد کے مطابق ان احکامات پر بھی خودکار انداز میں عمل کریں گے یعنی انہیں یہ بتانے کی ضرورت بالکل بھی نہیں ہوگی کہ کونسا کام کیسے کرنا ہے۔

کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافہ، امیر اور غریب میں فرق کی علامت

میساچیوسٹس: ماحولیاتی معاشیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جن امریکی ریاستوں میں امیروں اور غریبوں کے درمیان دولت کا فرق جتنا زیادہ ہے وہ ریاستیں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے کے معاملے میں بھی اتنی ہی آگے ہیں۔

اگرچہ یہ تحقیق امریکا کے بوسٹن کالج میں کی گئی ہے لیکن اس کا اطلاق دنیا کے کسی بھی ملک، معیشت اور معاشرے پر کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس میں عمومی طور پر وہ علامات بیان کی گئی ہیں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج اور معاشی ناانصافی میں باہمی تعلق کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

ریسرچ جرنل ’’ایکولوجیکل اکنامکس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں امریکا کی 10 امیر ترین ریاستوں کے 1997 سے 20122 تک 15 سالہ معاشی اعداد و شمار اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے متعلق ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان امریکی ریاستوں میں ٹیکساس، کیلیفورنیا، پنسلوینیا، فلوریڈا، الینوئے، اوہایو، لیوسیانا، انڈیانا، نیویارک اور مشی گن شامل ہیں۔

اس تجزیئے کی روشنی میں رپورٹ کے مرکزی مصنف کا کہنا ہے کہ جن مالدار امریکی ریاستوں میں چند مخصوص افراد بہت زیادہ دولت مند جب کہ ان کے مقابلے میں عام لوگ بہت زیادہ غریب ہیں، ان ریاستوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں نمایاں طور پر زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ البتہ وہ ریاستیں جو اجتماعی طور پر امیر ضرور ہیں لیکن جہاں انفرادی طور پر امیروں اور غریبوں میں دولت کا فرق نسبتاً کم ہے، وہاں اس 15 سالہ عرصے کے دوران کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بھی بڑی حد تک کنٹرول میں رہا ہے۔

رپورٹ کے مصنف کے مطابق کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں فرق ظاہر کرتا ہے کہ جس معاشرے میں دولت مند اور با اثر افراد کی تعداد زیادہ ہوتی ہے وہ اپنے مفادات کی خاطر عوامی بہبود اور ماحول سے متعلق منصفانہ قانون سازی کے راستے میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں تاکہ ان کی اپنی صنعت پھلتی پھولتی رہے اور وہ زیادہ سے زیادہ منافع کما سکیں۔

چونکہ انہیں ہر صورت میں صرف اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے اور عام لوگوں یا ماحول کی کوئی پروا نہیں ہوتی اس لیے وہ ایک طرف معاشی ناانصافی کے ذریعے عام لوگوں کو غریب رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مال بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسری جانب یہی سرمایہ دار طبقہ اپنی روز افزوں صنعتی ترقی کے باعث ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافے کی رفتار بڑھاتا ہے۔ یہ مقاصد حاصل کرنے کےلیے وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایسا کوئی قانون بننے کے راستے میں شدید رکاوٹیں ڈالتے ہیں جو ماحول دوستی یا سماجی انصاف کا ضامن ہو۔

اگرچہ اس کے نتیجے میں ریاست کی مجموعی دولت میں ضرور اضافہ ہوتا ہے لیکن امیر کی دولت کے ساتھ غریب کی غربت میں بھی اسی قدر اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس مطالعے نے امریکا کی حد تک تو کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں اضافے اور معاشی ناانصافی میں تعلق واضح کردیا ہے لیکن یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا اس سے دوسرے ممالک میں بھی اسی نوعیت کے نتائج حاصل ہوتے ہیں یا نہیں۔

گھریلو جھگڑوں سے قبل خبردار کرنے والا ڈجیٹل آلہ تیار

کیلیفورنیا: کئی ماہرین اور انجینیئروں نے ملکر ایک پہنے جانے والا آلہ تیار کیا ہے جو گھریلو جھگڑوں سے قبل از وقت خبردار کرسکتا ہے۔

یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے تھیوڈور چاسپری نے شادی شدہ جوڑوں پر تحقیق کی ہے اور جوڑوں کے درمیان جھگڑے کی وجوہات جاننے اور قبل از وقت آگاہ کرنے کے لئے انہیں تجربہ گاہ میں بلایا گیا۔ سب سے پہلے جوڑوں کو سینسر پہنائے گئے اور اسمارٹ فون پر ان کی گفتگو اور دیگر باتیں نوٹ کرکے اس کا ڈیٹا محفوظ کیا گیا۔ اس کے علاوہ تجربہ گاہ سے باہر بھی جوڑوں سے ہر گھنٹے کے حساب سے ایک سروے کیا گیا جس میں ان سے اپنے دوسرے ساتھی کے بارے میں سوالات پوچھے گئے۔

تحقیق کاروں کے مطابق ہم نے بہت سے پہنے جانے والے آلات سے بایو سگنل جمع کئے اور یہاں تک کہ ایسی معلومات اکھٹی کی جو آنکھ سے بھی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ ویئر ایبلزآلے پر لگے سینسر سے دل کی دھڑکن، جسمانی درجہ حرارت، پسینے، گفتگو میں تیزی، آواز میں اتار چڑھاؤ اور دیگر اشیا کو نوٹ کرکے ایک الگورتھم سے گزارا گیا جو 84 فیصد درستگی سے اپنے نتائج فراہم کرتا ہے۔

جوڑوں پر تحقیق کرنے والی ایک اور ماہر ایڈیلا ٹمنز نے کہا کہ ہم خاندانی نفسیات اور ایس اے آئی ایل پروجیکٹ پر ایک عرصے سے کام کررہے ہیں اور ڈیٹا کو جمع کرکے ہمیں مشین لرننگ اور پیش گوئی کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ وئیرایبل آلہ جسمانی ، نفسیاتی اور گفتگو کا تجزیہ کرتے ہوئے جذباتی صحت اور اس کے بگڑنے سے ممکنہ منفی نتائج سے قبل ازوقت ہی آگاہ کرسکے گا اور یوں میاں بیوی اپنی کلائیوں میں آلہ پہن کر جھگڑا شروع ہونے کی پیشگوئی کرسکتے ہیں۔

شیشے کی بوتلوں سے بیٹریاں بنانے کا منصوبہ

کیلیفورنیا: شیشے کی بیکار بوتلوں کو بظاہر یہی مصرف نظر آتا ہے کہ انہیں خاص بھٹیوں میں  پگھلا کر دوبارہ ان سے خام شیشہ تیار کرلیا جائے لیکن اب یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ریورسائیڈ ( یو سی آر) کے ماہرین نے ری سائیکل بوتلوں سے دیرپا بیٹری تیار کی ہے۔

لیتھیئم آئن بیٹریاں ہمارے اسمارٹ فون سے لے کر کاروں تک کو بجلی فراہم کررہی ہیں۔ روایتی طور پر ان میں لیتھیئم کیتھوڈ اور گریفائٹ اینوڈ استعمال ہوتا ہے لیکن اب بوتلوں کے شیشے سے حاصل شدہ سلیکن سے بھی بیٹری کے اینوڈ بنائے جاسکتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ سلیکن گرینائٹ کے مقابلے میں 10 گنا توانائی محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس سے بنے اینوڈ بہت پائیدار ثابت نہیں ہوتے اور جلد ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سلیکن کو پہلے ہی شکستہ کردیا جائے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ریورسائیڈ کے ماہرین نے شیشے کی بوتلوں کو توڑ کر اس کا باریک سفوف بنایا اس کے بعد سلیکن ڈائی آکسائیڈ کو گرم میگنیشیئم کے ذریعے سلیکن کی نینو ساختوں میں تبدیل کیا گیا اور آخری مرحلے میں ان پر کاربن کی ایک پرت چڑھائی گئی جس سے وہ مزید مضبوط اور زیادہ بجلی جمع کرنے کے قابل ہوگئی۔

اس کے بعد ماہرین  نے اس سے ایک بٹن سیل بنایا اور اسے 400 سائیکل تک آزمایا۔ بوتلوں کے سلیکن اینوڈ والی بیٹری کی گنجائش 1420 ایم اے ایچ تک دیکھی گئی جب کہ عام بیٹری کی گنجائش 350 ایم اے ایچ تک ہوتی ہے۔

منصوبے کی تحقیقی ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہےکہ انہوں نے اس کچرے کا انتخاب کیا جو کچرے خانے کے میدانوں کو بھردیتا ہے اور اسے شیشہ اور اس کی بوتلیں کہا جاتا ہے، سلیکن کی بیٹریاں جلد جارچ ہوجاتی ہیں اور بٹن بیٹریوں کے مقابلے میں دیرپا اور اور پائیدار ثابت ہوسکتی ہے، بہت جلد یہ روایتی لیتھیئم آئن بیٹریوں کی جگہ لے لیں گی۔ ماہرین کے مطابق شیشے کی ایک بوتل سے سینکڑوں بٹن سیل بنائے جاسکتے ہیں اور اب وہ اپنی ایجاد کو پیٹنٹ کرارہے ہیں۔

کیا زحل کے چاند پر خلائی مخلوق ہے؟

ہیوسٹن: مختلف بین الاقوامی اخبارات اور مشہور نیوز ویب سائٹس پر امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’’ناسا‘‘ کے حوالے سے یہ خبریں گردش کررہی ہیں کہ زحل کے ایک چاند ’’اینسیلاڈس‘‘ پر زندگی موجود ہوسکتی ہے۔

ان خبروں سے قطع نظر، حقیقت یہ ہے کہ 13 اپریل کے روز ’ناسا‘ نے اپنی تازہ خلائی تحقیقات سے متعلق ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں کہا گیا تھا کہ زحل پر بھیجے کے خلائی کھوجی ’’کیسینی‘‘ سے وابستہ سائنسدانوں کا ایک تحقیقی مقالہ ریسرچ جرنل ’’سائنس‘‘ میں شائع ہوا ہے۔ اس مقالے میں بتایا گیا ہے کہ زحل کے چاند اینسیلاڈس (Enceladus) پر ایسی کیمیائی توانائی موجود ہونے کا قوی امکان ہے کہ جس پر زندگی کا گزارہ ہوسکتا ہے۔

قدرے آسان الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ زحل کے چاند اینسیلاڈس پر زندگی کےلیے سازگار حالات موجود ہیں جن کے تحت زندگی بتدریج پروان چڑھتے ہوئے ارتقاء کی منزلیں بھی طے کرسکتی ہے۔ لیکن یہ صرف ایک امکان ہے کیونکہ کیسینی خلائی کھوجی پر کام کرنے والے سائنسدانوں نے یہ ہر گز نہیں کہا کہ انہوں نے اینسیلاڈس پر زندگی دریافت کرلی ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ اینسیلاڈس کی سطح کے نیچے سمندر موجود ہیں اور سائنسدانوں نے ان ہی سمندروں سے خارج ہوتی ہوئی ہائیڈروجن گیس دریافت کی ہے جو زندگی کےلیے درکار کیمیائی توانائی فراہم کرسکتی ہے۔

اس طرح کی سرگرمی زمینی سمندروں کی اتھاہ گہرائی میں سمندری تہہ (اوشن فلور) پر بھی ہوتی ہے جسے ’’جیو تھرمل وینٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ سمندری تہہ میں واقع ایسے مقامات ہوتے ہیں جہاں زمین کی بالائی پرت ’قشرِ ارض‘ (Crust) بہت پتلی ہوتی ہے جس میں مختلف جگہوں پر شگاف پڑجاتے ہیں۔ ان شگافوں کے راستے زمین کی نچلی پرت یعنی ’مینٹل‘ (Mantle) سے نکلنے والا گرم اور پگھلا ہوا مادّہ باہر خارج ہو کر تیزی سے ٹھنڈا ہوتا رہتا ہے۔

تھرمل وینٹس کی شکل سمندری تہہ میں بنی ہوئی چمنیوں جیسی ہوتی ہے اور ان سے خارج ہونے والے مواد میں سمندری جانداروں کےلیے غذائیت بخش مادّوں کے علاوہ ہائیڈروجن بھی شامل ہوتی ہے۔ سمندر کی گہری تہہ میں رہنے والے جاندار کسی تھرمل وینٹ کے ارد گرد گرم پانی میں پہلے سے موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ اور ہائیڈروجن کو آپس میں ملا کر مختلف نامیاتی مرکبات (آرگینک کمپاؤنڈز) تیار کرتے ہیں اور انہیں بھی اپنی غذا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

کیسینی خلائی کھوجی سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اینسیلاڈس کے پوشیدہ سمندروں کی تہہ میں بھی ایسے ہی تھرمل وینٹس موجود ہوسکتے ہیں جن سے یہ ہائیڈروجن خارج ہورہی ہے۔ یعنی یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اگر اینسیلاڈس پر زندگی موجود ہوئی، تو وہ اس چاند کی اندرونی گرمی، پانی میں حل کاربن ڈائی آکسائیڈ اور خارج ہونے والی ہائیڈروجن کی مدد سے اپنے لیے خود ہی غذا تیار کرتے ہوئے اپنا وجود برقرار رکھنے اور شاید ارتقاء پذیر ہونے کے قابل بھی ہوگی۔

ملاحظہ کیجیے کہ کیسی خبر تھی اور میڈیا نے نمک مرچ لگا کر اسے کیسا بنادیا۔

پہلی مرتبہ کسی جانور کے ہر دماغی خلیے کی سرگرمی ریکارڈ کرلی گئی

نیویارک: ہمارے دماغ کے خلیات سے ہمہ وقت سگنل خارج یوتے رہتے ہیں اور انہیں جان کر ہم دماغ کو بہتر طور پر سمجھ سکتے۔ اس ضمن میں ماہرین نے انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سادہ جانور کے اعصابی نظام (نروس سسٹم)  کی پوری سرگرمی ریکارڈ کرلی ہے۔

اس سادہ جانور کا نام ہائیڈرا ہے جس کے بدن کے اندر ہر اعصابی خلیوں (نیورونز) کی سگنل فائرنگ نوٹ کی گئی ہے۔ ہائیڈرا ایک سادہ، چھوٹا اور شفاف جانور ہے جس کا تعلق جیلی فش کے خاندان سے ہے۔ اس کی چلت پھرت اور نیورون فائرنگ کو پہلی مرتبہ ریکارڈ کیا گیا ہے تاکہ اس کے اہم رازوں کی معلومات حاصل کی جاسکیں۔ اس کامیابی کے بعد مستقبل میں انسانی جسم و دماغ کی سرگرمیوں کو مکمل گہرائی کے ساتھ سمجھا جاسکے گا۔

ہائیڈرا کا دماغ قدرت کے کارخانے میں بہت سادہ لیکن دلچسپ ہوتا ہے اور اس میں چند ہزار دماغی خلیات ہی ہوتے ہیں جو اس کا ہر فعل کنٹرول کرتے ہیں۔

اس کےلیے کولمبیا یونیورسٹی کے سائنسداں رافیل یوسٹے نے جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے ایک ایسا ہائیڈرا تیار کیا جس کے نیورون کیلشیم کی موجودگی میں چمکنے لگتے تھے۔ کیلشیم آئن، نیورون کی سرگرمی میں بڑھ جاتے ہیں اس طرح ماہرین نے اس جانور کے پورے اعصابی سرکٹ میں ہونے والی سرگرمی کو مکمل طور پر ریکارڈ کرلیا۔ ماہرین نے دیکھا کہ جب جب ہائیڈرا نے کچھ کھانے کےلیے اپنا منہ کھولا تو ہائیڈرا میں معدہ نما مقام سرگرم اور نمایاں نظر آیا۔

ماہرین کا خیال ہے  کہ اگر اسی طرح وہ انسانی دماغی سرکٹ اور اس کی سرگرمیوں کو سمجھنے لگے تو اس سے شیزوفرینیا سمیت کئی دماغی امراض کے علاج کی راہ ہموار ہوگی۔

Google Analytics Alternative