سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

دل کے دورے کا پہلے سے اندازہ لگانے والا گوگل اسکینر

کیلیفورنیا: گوگل کی ذیلی کمپنی ایلفابیٹ کے سائنس دانوں نے حال ہی میں ایک تحقیقی مقالہ شائع کرایا ہے جس میں کہا گیا کہ ایک اسکینر اور مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلی جنس یا اے آئی) کی مدد سے کسی شخص میں دل کے دورے کے خطرات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اس کا تفصیلی بیان ہفت روزہ نیچر بایومیڈیکل انجینئرنگ کی 19 فروری کی اشاعت میں پیش کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آنکھ کے ایک حصے میں خون کی باریگ رگوں کو ریٹینل فنڈس کہا جاتا ہے جس کا تجزیہ کرکے دل کی کیفیت معلوم کی جاسکتی ہے۔

گوگل کے ایک شعبے گوگل لائف سائنسز کے ماہرین نے ایک الگورتھم بنایا ہے جو فوری طور پر کسی بھی شخص کے دل کی کیفیت اور صحت کو کسی ٹیسٹ کے بغیر بھانپ سکتا ہے۔ اسکیننگ کے بعد الگورتھم کے اے آئی نظام نے ڈھائی لاکھ مریضوں کے ڈیٹا بیس کو چیک کرکے بتایا ہے کہ کوئی شخص مریض ہے یا نہیں اس طرح پہلی بار آنکھوں سے دل کی کیفیت معلوم کی جاسکتی ہے۔

اسی طرح دل کے امراض سے خبردار کرنے والے کیلکیولیٹرز کسی شخص کی عمر، جنس، غذائی عادات، سگریٹ نوشی یا طرز زندگی کو نوٹ کرتے ہوئے اگلے 10 سال یا 5 سال میں اسے امراضِ قلب لاحق ہونے کے امکانات سےخبردار کرتے ہیں۔ گوگل ماہرین کہتے ہیں کہ آنکھوں میں ریٹینل فنڈس عین یہی معلومات فراہم کرکے فوری ، کم خرچ اور درست نتائج فراہم کرسکتا ہے۔

ایسے سافٹ ویئرز کو ڈیپ لرننگ الگورتھم کہا جاتا ہے جو کینسر اور ذیابیطس سے نابینا پن کے خطرے کو بھانپنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں تاہم ان کے بعد مزید ٹیسٹ کرکے مریضوں کا تفصیلی معائنہ کیا جاسکتا ہے۔

گوگل ماہرین نے اپنے تحقیقی مقالے میں لکھا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب آنکھوں میں خون کی باریک رگوں کی تصاویر سے کسی مریض میں امراض قلب کا خطرہ معلوم کرکے اس کی جان بچائی جاسکے گی۔

نوکیا کے ایک اور پرانے فون کی نئی شکل میں واپسی

بارسلونا میں ہر سال موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران مختلف کمپنیاں اپنے نئے اسمارٹ فونز کے ساتھ آتی ہیں مگر ایچ ایم ڈی گلوبل نے گزشتہ سال 3310 کے جدید ورژن کو متعارف کراکے میلہ لوٹ لیا تھا۔

اور اس سال بھی نوکیا فونز کی فروخت کا لائسنس رکھنے والی کمپنی نے یہی طریقہ کار اپناتے ہوئے نوے کی دہائی کے ایک اور مقبول فون نوکیا 8110 کو نئی زندگی دی ہے۔

فوٹو بشکریہ نوکیا
فوٹو بشکریہ نوکیا

جی ہاں 3310 کے بعد نوکیا کا دو دہائی قبل کا مقبول فون پھر 8110 ری لوڈڈ کے نام سے متعارف کرایا گیا ہے اور ہوسکتا ہے آپ نے اس فون کو 1999 کی سپرہٹ فلم دی میٹرکس میں بھی دیکھا ہو۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

اس کا بنانا ایڈیشن یا کیلے کی شکل کا ایڈیشن بھی بہت مقبول ہوا تھا اور اب نئے ورژن میں ماضی کے فون کی خصوصیات کے ساتھ جدید فیچرز جیسے فور جی کو بھی ڈیوائس کا حصہ بنایا گیا ہے۔

3310 کی طرح یہ نیا 8110 بھی بیس سال پرانے فون کی ہو بہو نقل نہیں بس کیلے جیسا ڈیزائن ضرور نظر آتا ہے مگر پرانے فون کا انٹینا اب ختم کردیا گیا ہے۔

اس کا ڈسپلے بھی کلر کردیا گیا ہے جبکہ جدید ایپس جیسے جی میل، آﺅٹ لک اور فیس بک کا اضافہ بھی کردیا گیا ہے تاہم اس میں اینڈرائیڈ کی بجائے اسمارٹ فیچر آپریٹنگ سسٹم دیا گیا ہے۔

اور ہاں اس میں اسنیک گیم کا نیا ورژن بھی موجود ہے کیونکہ پرانے فونز تو اس گیم کے بغیر نامکمل سمجھے جاتے تھے۔

اس میں ماضی کی طرح سلائیڈ کرکے فون کالز ریسیو کرنے کا فیچر بھی موجود ہے۔

اس فون میں کوالکوم 205، 1.1 گیگا ہرٹز پراسیسر، 512 ایم بی ریم اور 4 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے تاہم اس میں اضافہ ممکن نہیں۔

فوٹو بشکریہ سی نیٹ ڈاٹ کام
فوٹو بشکریہ سی نیٹ ڈاٹ کام

جیسا کہ بتایا جاچکا ہے کہ یہ فور جی فون ہے تو انٹرنیٹ سرفنگ ممکن ہے۔

سب سے خاص بات اس کی 1500 ایم اے ایچ بیٹری ہے جو کہ کمپنی کے مطابق 25 دن تک ایک چارج پر اسٹینڈ بائی پر چل سکتی ہے۔

2.4 انچ کے کلر ڈسپلے میں کیو وی جی اے ریزولوشن دیا گیا ہے جبکہ دو میگاپکسل کیمرہ بیک پر موجود ہے۔

یہ فون آنے والے ہفتوں میں دنیا بھر میں فروخت کے لیے پیش کردیا جائے گا ، جس کی قیمت 79 یورو (دس ہزار 7 سو پاکستانی روپے سے زائد) رکھی گئی ہے۔

ایل جی کا اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس نیا اسمارٹ فون

جنوبی کورین کمپنی ایل جی نے اپنے فلیگ شپ فون وی 30 کا نیا ورژن ایس تھن کیو متعارف کرا دیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے یہ فون بارسلونا میں موبائل ورلڈ کانگریس کے آغاز سے قبل متعارف کرایا گیا ہے۔

اس اپ گریڈ فون میں اسٹوریج اور ریم کے ساتھ ساتھ کلر آپشن اور آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کا اضافہ کیا گیا ہے۔

توقعات کے مطابق ایل جی نے وی 30 ایس تھن کیوں میں اے آئی پر خصوصی توجہ دی ہے، خصوصاً کیمرے کے لیے۔

اے آئی کیمرہ میں مشین لرننگ ٹیکنالوجی خودکار طور پر آٹھ مختلف موڈز جیسے پورٹریٹ، فوڈ، لینڈ اسکیپ، سٹی اور فلاور وغیرہ کی شناخت کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

اسی طرح انتہائی کم روشنی میں تصاویر لینے کے لیے نیا برائٹ موڈ بھی متعارف کرایا گیا ہے جس کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ماضی کے مقابلے میں دوگنا زیادہ بہتر تصاویر لینے میں مدد دیتا ہے۔

اسی طرح ایل جی کیو لینس ایک اور اے آئی فیچر ہے جس سے صارفین مختلف ویب سائٹ پر مصنوعات کو تلاش کرسکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام فیچرز اوریجنل وی 30 میں بھی ایک سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کے ذریعے متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

جہاں تک دیگر فیچرز کی بات ہے تو اس فون میں سکس انچ کی کواڈ ایچ ڈی پلس او ایل ای ڈی اسکرین (18:9 ریشو کے ساتھ) دی گئی ہے، اسنیپ ڈراگون 835 پراسیسر، سولہ میگا پکسل اور تیرہ میگا پکسل کا ڈوئل رئیر کیمرہ سیٹ اپ، پانچ میگا پکسل کا فرنٹ کیمرہ، اینڈرائیڈ اوریو آپریٹنگ سسٹم اور 3300 ایم اے ایچ بیٹری ہے، جو کہ پرانے وی 30 میں بھی موجود ہیں۔

فرق بس فور جی بی کی بجائے سکس جی بی ریم کی موجودگی ہے جبکہ اسٹوریج کو 64 جی سے بڑھا کر 128 سے 256 جی بی کردیا گیا ہے۔

کمپنی نے فی الحال اس فون کی قیمت اور دستیابی کی تاریخ کا کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔

سام سنگ گلیکسی ایس 9 ، ایس 9 پلس متعارف

واشنگٹن: مایہ ناز الیکٹرانکس کمپنی سام سنگ اپنا نیا گلیکسی ایس 9 اور ایس 9 پلس فلیگ شپ سمارٹ فون متعارف ۔ لانچنگ کیلئے بارسلونا میں رنگا رنگ تقریب سجائی جائے گی جس میں دونوں اسمارٹ فونز کی نقاب کشائی ہوگی۔
سام سنگ ایس 9 کی اسکرین 5.8 اور سام سنگ ایس 9 پلس کی اسکرین 6.2 انچز ہوگی جب کہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ سام سنگ ایس 9 اور ایس 9 پلس سام سنگ 8 اور 8 پلس کا اَپ ڈیٹڈ ورژن ہوسکتا ہے۔سام سنگ کے نئے اسمارٹ فون ماڈلز میں اسنیپ ڈریگن 845 پروسیسر اور 6 جی بی تک ریم شامل ہوگی۔سام سنگ کے یہ ماڈلز 480 فریم فی سیکنڈ کی سلوموشن ویڈیوز ریکارڈ کرسکیں گے اور اسے ایف 2.4 سے ایف 1.5 آپرچر پر سوئچ کیا جاسکے گا۔ان فونز کا بیک کیمرا 12 میگا پکسلز جب کہ فرنٹ 8 میگا پکسلز ہوگا۔
اس فون کی قیمت ممکنہ طور پر ایک ہزار ڈالرز سے شروع ہوگی، جو گلیکسی نوٹ 8 سے بھی مہنگا اسمارٹ فون ثابت ہوگا۔رپورٹس کے مطابق گلیکسی ایس 9 کی قیمت 841 یورو یعنی ایک لاکھ 14 ہزار پاکستانی روپے سے شروع ہوگی جبکہ ایس 9 پلس کی قیمت 997 یورو یعنی تقریباً ایک لاکھ 35 ہزار پاکستانی روپے ہوگی۔

دنیا کے سب سے بڑے موبائل فون شو میں کیا کچھ سامنے آئے گا؟

دنیا میں موبائل ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا ایونٹ 26 فروری سے اسپین کے شہر بارسلونا میں شروع ہورہا ہے۔

موبائل ورلڈ کانگریس میں نت نئے اسمارٹ فونز اور فون ٹیکنالوجی کو پیش کیا جائے گا اور یہ اینڈرائیڈ فونز کو سامنے لانے کا سب سے بڑا ایونٹ بھی ہے۔

مگر اس سال کون کون سی کمپنیاں اپنے فلیگ شپ فونز یا درمیانے درجے کی ڈیوائسز متعارف کرانے والی ہیں؟

یہاں آپ جان سکیں گے کہ بڑی کمپنیاں اس بار ایونٹ میں کیا کچھ لے کر آرہی ہیں۔

سام سنگ کے گلیکسی ایس 9 اور ایس 9 پلس

ممکنہ گلیکسی ایس نائن پلس — فوٹو بشکریہ ایون بلاس ٹوئٹر اکاؤنٹ
ممکنہ گلیکسی ایس نائن پلس — فوٹو بشکریہ ایون بلاس ٹوئٹر اکاؤنٹ

سام سنگ کی جانب سے ایک بار پھر اپنے فلیگ شپ ایس سیریز کے فونز اس ایونٹ میں متعارف کرائے جارہے ہیں، گزرے برسوں میں نوکیا، ایچ ٹی سی، سونی اور ایل جی اس ایونٹ میں سام سنگ کا مقابلہ کرتے رہے ہیں، مگر اس سال سامنے آنے والی لیکس سے عندیہ ملتا ہے کہ دیگر کمپنیاں اس بار سام سنگ کے مقابلے پر نہیں آرہیں اور گلیکسی ایس نائن اور ایس نائن پلس کے مقابلے پر کوئی ڈیوائس نہیں آرہی۔ سام سنگ کی جانب سے یہ فونز ایپل کے آئی فون ایکس کے مقابلے پر لائے جارہے ہیں، تاہم اس کا ڈیزائن ایس ایٹ جیسا ہی ہے تاہم ڈوئل کیمرہ سیٹ اپ پہلی بار ایس سیریز کے فونز میں دیئے جانے کا امکان ہے جبکہ پہلی بار کسی فون میں ڈوئل آپرچر سیٹ اپ بھی دیا جارہا ہے۔ فیچرز کے لحاظ سے یہ فون سپر امولیڈ بیزل لیس ڈسپلے 18:5:9 ریشو کے ساتھ دیا جارہا ہے جبکہ یہ بھی واٹر اور ڈسٹ ریزیزٹنٹ بھی ہوگا، 3000 ایم اے ایچ نان ریموایبل بیٹری ایس نائن جبکہ ایس نائن پلس میں 3500 ایم اے ایچ بیٹری دی جائے گی۔ ایس نائن کی قیمت 841 جبکہ ایس نائن پلس کی 997 یورو سے شروع ہونے کا امکان ہے۔

سونی کا پہلا بیزل لیس فون

فوٹو بشکریہ ایون بلاس ٹوئٹر اکاؤنٹ
فوٹو بشکریہ ایون بلاس ٹوئٹر اکاؤنٹ

ہر سال موبائل ورلڈ کانگریس میں سونی کی جانب سے ایک ہی جیسے ڈیزائن کے فلیگ شپ فونز متعارف کرائے جاتے ہیں، جاپانی کمپنی مگر اب پہلی بار بیزل لیس ڈسپلے والے فون ایکسپیریا ایکس زی 2 اور ایکس زی 2 کامپیکٹ کو متعارف کرایا جارہا ہے جو کہ ایکس زی 1 اور ایکس زی 1 کامپیکٹ کے اپ ڈیٹ ورژن ہوں گے۔ ایکسپیریا ایکس زی 2 میں 5.8 انچ ڈسپلے جبکہ ایکس زی ٹو کامپیکٹ پانچ انچ اسکرین کے ساتھ ہوگا۔ اس ری ڈیزائن میں سونی نے ہیڈفون جیک کو ختم کردیا ہے۔ سونی کے ایکسپیریا زی ٹو کی قیمت 980 ڈالرز جبکہ اس کے چھوٹے ورژن کی 740 ڈالرز سے شروع ہونے کا امکان ہے۔

ہیواوے، ایچ ٹی سی، ایل جی اور موٹرولا

ایل جی وی 30— فوٹو بشکریہ ایل جی
ایل جی وی 30— فوٹو بشکریہ ایل جی

بڑی موبائل کمپنیاں جیسے ہیواوے، ایچ ٹی سی، ایل جی اور موٹرولا اس ایونٹ میں فلیگ شپ فونز متعارف نہیں کرارہے۔ چینی کمپنی ہیواوے کی جانب سے اگلے ماہ یعنی مارچ میں نیا فلیگ شپ فون پیش کیا جائے گا، ایچ ٹی سی کی جانب سے ورچوئل رئیلٹی ٹیکنالوجی پر کچھ پیش کیا جائے گا، موٹرولا کی جانب سے موٹو جی سیریز کے فونز پیش کیے جانے کا امکان ہے جبکہ ایل جی گزشتہ سال کے وی تھرٹی فون کے اپ ڈیٹ ورژن کو پیش کرسکتی ہے۔

نوکیا

ممکنہ نوکیا سیون پلس — فوٹو بشکریہ ایون بلاس ٹوئٹر اکاؤنٹ
ممکنہ نوکیا سیون پلس — فوٹو بشکریہ ایون بلاس ٹوئٹر اکاؤنٹ

ایچ ایم ڈی نے گزشتہ سال موبائل ورلڈ کانگریس کا میلہ نوکیا 3310 کے اپ ڈیٹ ورژن سے لوٹ لیا تھا، ایک سال بعد اس کمپنی کے اینڈرائیڈ فونز کچھ زیادہ توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں اور اب تک اس کا کوئی بہترین فلیگ شپ فون سامنے نہیں آسکا ہے جو سام سنگ گلیکسی ایس سیریز یا گوگل پکسل کا مقابلہ کرسکے، مگر اس بار ایونٹ میں 5.5 انچ او ایل ای ڈی ڈسپلے والے ایک فلیگ شپ فون کو متعارف کرائے جانے کا امکان ہے، جبکہ نوکیا سیون پلس اور نوکیا ون فون بھی پیش کیے جاسکتے ہیں، مگر یہ بھی امکان ہے کہ 3310 جیسا کوئی پرانا فون بھی سامنے آسکتا ہے۔

چین میں دنیا کے تیزترین طیارے کی تیاری کا اعلان

پاکستان سے اگر امریکا کا ہوائی سفر کیا جائے تو منزل تک پہنچنے کے لیے کم از کم بھی سترہ گھنٹے درکار ہوتے ہیں مگر مستقبل میں یہ دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں ممکن ہوگا۔

جی ہاں چینی سائنسدانوں نے ایسا ہائپر سانک طیارہ ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو کہ 3728 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکے گا، یعنی آواز کی رفتار سے پانچ گنا تیز۔

چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کی تحقیقی ٹیم کے مطابق یہ طیارہ مسافروں کو بیجنگ سے نیویارک (لگ بھگ گیارہ ہزار میل کا فاصلہ) صرف دو گھنٹے میں پہنچا دے گا، جبکہ اس عام طور پر اس سفر پر ساڑھے 13 گھنٹے لگتے ہیں۔

یعنی کراچی سے نیویارک کا فاصلہ (7253 میل) دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں طے کیا جاسکے گا۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ چیو کائی کا کنا تھا کہ ہائپر سونک اسپیڈ سے بیجنگ سے نیویارک کا سفر دو گھنٹوں میں طے ہوسکے گا۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق انہوں نے ایک ونڈ ٹنل میں اس طیارے کے ایک ماڈل کا تجربہ کیا ہے، جس نے 8600 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچا، اس کے مقابلے میں کنکورڈیا طیارے کی رفتار 2179 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

آئی پلین نامی اس طیارے کا ڈیزائن ونگز کی دو تہوں پر مشتمل ہے جو کہ مختلف رکاوٹیں کم کرکے طیارے کو تیزی سے سفر کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق اس طرح کی سفری ٹیکنالوجی پر دنیا بھر میں تیزی سے کام ہورہا ہے اور یہ حقیقت بنتی دکھائی دے رہی ہے۔

چینی ٹیم نے اس تحقیق کے حوالے سے اپنا مقالہ جریدے فزکس، مشینز اینڈ آسٹرونومی جرنل میں شائع کرایا۔

خیال رہے کہ بوئنگ کمپنی بھی لاک ہیڈ مارٹن کے ساتھ مل کر ایک ہائپر سانک مسافر طیارے کا ڈیزائن بنانے میں مصروف ہیں تاہم اب تک اس حوالے سے تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔

اسی طرح آواز کی رفتار سے سفر کرنے والے طیارے بوم سپرسانک پر کافی کام ہورہا ہے اور کمپنی کے مطابق 2023 تک 2335 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کام کرنے والے طیارے کمرشل بنیادوں پر دستیاب ہوں گے۔

یہ طیارے ایک وقت میں پچاس مسافروں کو لے جاسکیں گے جبکہ نیویارک سے لندن کا فاصلہ تین گھنٹے 15 منٹ میں طے کیا جاسکے گا۔

اب ٹچ فون کی تصاویرکومحسوس کرنا بھی ممکن

پٹسبرگ: امریکا میں پاکستانی انجینئر ڈاکٹر علی اسرار اور ان کے ساتھیوں نے ایسی ٹچ اسکرین پر کام شروع کردیا ہے جس میں ریشم کا کپڑا دکھائی دے تو چھونے پر لطیف احساس ہوگا اور کسی درخت کا تنا چھونے پر کھردرا محسوس ہوگا۔

ڈزنی لیبس سے وابستہ علی اسرار ہیپٹک انجینئرنگ کے ماہر ہیں جس میں کمپیوٹر اور ٹچ اسکرین پر اس شے کا لمس محسوس کیا جاسکتا ہے جو نہ صرف ٹچ اسکرین کو اگلے درجے تک لے جائے گا بلکہ نابینا افراد کی مدد اور تعلیم میں بھی اہم کردار ادا کرسکے گا۔

اس کے علاوہ آپ برف کی ٹھنڈک اور روشنی کی حرارت بھی محسوس کرسکتے ہیں۔ ڈزنی کے ٹیسلا ٹچ پروگرام کے تحت تصویر کے مطابق اسکرین پر کئی قوتیں کام کرتی ہیں جو چھونے والوں کو عین اسی طرح کا احساس دیتی ہیں۔

علی اسرار کے مطابق ٹچ اسکرین پر کسی شے کا احساس دلا کرایک جانب تو نابینا افراد ٹیکنالوجی سے استفادہ کرسکیں تو دوسری جانب اس سے تحقیق اور تفریح کو نیا روپ ملے گا۔ انہوں نے ٹیکچوایٹر نامی ایک آلہ تیار کیا ہے جو انگلیوں کی حرکات کے تحت آواز خارج کرتا ہے۔ یہ طریقہ نابینا افراد کو بولنے اور سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

اسی طرح اگر کسی فاسل کی تصویر دکھائی دے رہی تو چھونے پر اس کے ہموار حصے نرم ہوتے ہیں جبکہ اس کے کھردرے حصے سخت احساس دیتے ہیں ۔ اسی طرح سانسوں کے زور اور آواز کے ارتعاشات کو بھی ٹچ کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔

2009ء میں ڈزنی لیب میں علی اسرار اور ان کے ساتھیوں نے پہلے ہپٹک ٹیبلٹ کا نمونہ تیار کیا تھا۔ اس کے لیے انہوں نے شیشے میں کئی موصل (کنڈکٹو) شیٹیں لگائی اور ان میں انسولیشن کی باریک پرت بچھائی تھی اور اسے الیکٹرو وائبریشن کا نام دیا تھا۔

کئی برس کی محنت کے بعد اب وہ ایسا ٹیبلٹ بنا چکے ہیں جو جیلی فش کی پھسلن کو محسوس کراسکتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے بالوں، ریشم، جینز اور ریگ مال کے احساسات کو ٹچ اسکرین پر کامیابی سے منتقل کیا۔ اس کے علاوہ مزید بہتری کے بعد کاغذ اور روغن شدہ دیوار کو بھی ظاہر کیا۔

ڈزنی لیب میں ان کی تحقیق جاری ہے اور اب وہ بہت بہتر انداز میں چھونے پر حقیقی احساس دلانے والے ٹیبلٹ تیار کرلیں گے۔

5 ہزار روپے سے بھی سستا فون خریدنا پسند کریں گے؟

کیا آپ پانچ ہزار روپے سے بھی سستے اسمارٹ فونز خریدنا پسند کریں گے جو کہ گوگل کی جانب سے تیار کرائے جائیں گے؟

اگر ہاں تو اچھی خبر یہ ہے کہ گوگل کے تعاون سے دیگر کمپنیوں کے تیار کردہ سستے ترین اسمارٹ فونز آئندہ ہفتے سامنے آرہے ہیں۔

اینڈرائیڈ گو، گوگل کا سستے فونز کے لیے ڈیزائن کردہ اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کے تازہ ترین ورژن کا منصوبہ ہے اور کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ موبائل ورلڈ کانگریس کے موقع پر اس پر مبنی ڈیوائسز متعارف کرائی جائیں گی۔

اینڈرائیڈ گو منصوبے کا اعلان گوگل کی جانب سے گزشتہ سال مئی میں آئی او کانفرنس کے دوران کیا گیا تھا جس کا مقصد آپریٹنگ سسٹم کے تازہ ترین ورژن کو سستے اور کم طاقتور فون کا حصہ بنانا تھا۔

اس پروگرام میں 512 ایم بی یا ایک جی بی ریم والے فونز کو شامل کیا جائے گا اور اس کے لیے اینڈرائیڈ گو (اوریو ایڈیشن) کمپنیوں کو گزشتہ سال دسمبر کو فراہم کردیا گیا تھا۔

اب اس پروگرام کے سستے ترین فونز بارسلونا میں شیڈول موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران متعارف کرائے جائیں گے۔

اینڈرائیڈ گو کے تحت گوگل نے اپنی مختلف ایپس جیسے یوٹیوب، جی میل اور میپس وغیرہ کے ‘گو’ ورژن متعارف کرائے ہیں، جو کہ فون میں زیادہ جگہ نہیں گھیرتے اور ریگولر ایپس کے مقابلے میں کم ڈیٹا استعمال کرتے ہیں۔

فوٹو بشکریہ گوگل
فوٹو بشکریہ گوگل

ایسی اطلاعات پہلے سامنے آچکی ہیں کہ نوکیا ون اسمارٹ فون اس پروگرام کا حصہ ہوگا جس میں 512 ایم بی سے ایک جی بی ریم کے ساتھ اینڈرائیڈ کا تازہ ترین گو ورژن دیا جائے گا۔

اسی طرح 8 جی بی اسٹوریج ہوگی جبکہ دیگر بنیادی فیچرز دیئے جائیں گے۔

گوگل کے مطابق اس پروگرام کے بیشتر فونز کی قیمت 50 ڈالرز (پانچ ہزار پاکستانی روپے) سے کم ہونے کا امکان ہے اور یہ ترقی پذیر ممالک کے صارفین کو مدنظر رکھ کر تیار کیے جائیں گے۔

کمپنی کے مطابق ایسی اولین ڈیوائسز موبائل ورلڈ کانگریس میں متعارف کرائے جانے کے فوری بعد فروخت کے لیے دستیاب ہوں گی۔

Google Analytics Alternative