سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

آئی فونز میں 5 جی ٹیکنالوجی 2020 میں متعارف کرائے جانے کا امکان

اب تک اینڈرائیڈ ڈیوائسز تیار کرنے والی کئی کمپنیاں 5 جی ٹیکنالوجی سے لیس اسمارٹ فونز متعارف کراچکی ہیں مگر آئی فون صارفین کو اس کے لیے 2020 تک انتظار کرنا ہوگا۔

ایپل کی فائیو جی دوڑ میں کامیابی کا منصوبہ کوالکوم سے قانونی جنگ کی وجہ سے ناکام ہوگیا مگر اب کوالکوم سے معاملات طے پانے کے بعد ایپل 2020 میں اپنے اولین 5 جی آئی فونز متعارف کرائے گی۔

ایپل سے متعلق مختلف لیکس کرنے والے تجزیہ کار منگ چی کیو کے مطابق ایپل کی جانب سے اگلے سال کم از کم 2 آئی فون ماڈلز فائیو جی سپورٹ کے ساتھ متعارف کرائے جاسکتے ہیں۔

تجزیہ کار کا دعویٰ تھا کہ 2020 میں ایپل کی جانب سے 3 آئی فونز پیش کیے جائیں گے جن میں سے 2 فلیگ شپ 6.7 انچ اور 5.4 انچ او ایل ای ڈی ڈسپلے والے آئی فونز ہوں گے جبکہ ایک کم لاگت والا 6.1 انچ کا آئی فون ہوگا۔

فلیگ شپ آئی فونز میں فائیو جی سپورٹ دیئے جانے کا امکان ہے۔

اس سے قبل گزشتہ سال دسمبر میں بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں بھی اسی قسم کا دعویٰ سامنے آیا تھا۔

اس رپورٹ میں ایپل کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ یہ کمپنی فائیو جی آئی فون کم از کم 2020 تک متعارف نہیں کرائے گی۔

اس وقت انٹیل کی جانب سے فائیو جی موڈیم فراہم کرنے میں ناکامی کی وجہ سے یہ فیصلہ ہوا تھا، اب ایپل اور کوالکوم کے درمیان معاملات طے پاچکے ہیں مگر ایپل 2022 یا 2023 تک خود فائیو جی موڈیمز تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ کوالکوم پر انحصار نہ کرنا پڑے۔

بٹ کوائن کے مقابلے میں فیس بک کی ڈیجیٹل کرنسی لبرا متعارف

فیس بک نے سب سے پہلے انٹرنیٹ پر رابطوں کا انداز بدلا اور اب دنیا کی مقبول ترین سماجی رابطے کی ویب سائٹ چاہتی ہے کہ اس کے 2 ارب 38 کروڑ صارفین کرپٹو یا ڈیجیٹل کرنسی کے بارے میں بھی اپنا طرز فکر بدلیں۔

یہی وجہ ہے کہ فیس بک اور اس کے شراکت داروں نے منگل کو دنیا بھر میں مقبول بٹ کوائن کے مقابلے میں اپنی ڈیجیٹل کرنسی لبرا اور ڈیجیٹل والٹ کو متعارف کرایا ہے، جس کے بارے میں کئی ماہ سے رپورٹس سامنے آرہی تھیں۔

اس ڈیجیٹل کرنسی کو ایک گورننگ بورڈ کنٹرول کرے گا جبکہ اس کو مضبوط بنانے کے لیے مستحکم مالیاتی اثاثے مختص کیے جائیں گے اور یہ صارفین کے لیے 2020 کی پہلی ششماہی میں دستیاب ہوگی۔

فیس بک میں کافی عرصے سے کئی ممالک میں صارفین کے لیے پیسوں ارسال کرنے کی سہولت دستیاب ہے جبکہ وہ اس پلیٹ فارم پر مختلف اشیا کی کریداری بھی کرسکتے ہیں، اپنی ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے بھی فیس بک اس طرح کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرے گی۔

فیس بک اس ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے لوگوں کی روزمرہ کی زندگی کے لیے اپنی اہمیت کو زیادہ اہم بنانا چاہتی ہے اور اگر لبرا کو کامیابی ملتی ہے تو وہ نئے صارفین کو بھی اپنی جانب متوجہ کرسکے گی اور زیادہ وقت تک انہیں آن لائن بھی رکھ کر اشتہارات کے ذریعے زیادہ آمدنی حاصل کرسکے گی۔

یہ کرنسی اس وقت متعارف کرائی گئی ہے جب یہ کمپنی میسنجر، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کو مدغم کرکے ایک میسجنگ پلیٹ فارم بنانا چاہتی ہے جبکہ لبرا کے لیے جو ڈیجیٹل والٹ استعمال ہوگا وہ میسنجر اور واٹس ایپ میں ہوگا، تاہم انسٹاگرام میں اسے فی الحال نہیں متعارف کرایا جائے گا۔

فیس بک اور اس کے شراکت داروں (اس اتحاد کو لبرا ایسوسی ایشن کا نام دیا گیا ہے) کا کہنا ہے کہ اس وقت لوگوں میں ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے کافی خدشات پائے جاتے ہیں اور ہم انہیں دور کرنے کے لیے کام کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لبرا کو مضبوط بنانے کے لیے اثاثے مختص کیے جائیں گے جو کہ بینک ڈپازٹ اور حکومتی سیکیورٹیز کی شکل میں مستحکم اور اچھی ساکھ والے بینکوں میں ہوں گے۔

لبرا ایسوسی دنیا بھر میں ریگولیٹرز کے ساتھ مل کر کرپٹو کرنسی اصلاحات کے ذریعے منی لانڈرنگ کے انسداد کو یقینی بنائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق فیس بک کی دنیا بھر میں رسائی اس کرنسی کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے کیونکہ دنیا بھر میں لوگ فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ یا میسنجر استعمال کرتے ہیں۔

فیس بک کی جانب سے کوشش کی جائے گی کہ صارفین کے لیے ڈیجیٹل سکوں کو خریدنے کا عمل آسان بنایا جائے اور اس کے لیے ایک ڈیجیٹل والٹ کیلیبرا تیار کیا جارہا ہے جسے آئی فون یا اینڈرائیڈ فونز پر ایپ کی شکل میں ڈاﺅن لوڈ کیا جاسکے گا یا میسنجر اور واٹس ایپ پر کیلیبرا لوگوں پر کلک کرکے اسے بنایا جاسکے گا۔

ڈیجیٹل والٹ کیلیبرا — فوٹو بشکریہ فیس بک
ڈیجیٹل والٹ کیلیبرا — فوٹو بشکریہ فیس بک

فراڈ کی روک تھام کے لیے فیس بک کی جانب سے صارفین سے ان کی شناخت کی تصدیق کا کہا جائے گا جس کے لیے ڈرائیونگ لائسنس یا ایسے ہی شناختی دستاویز ڈاﺅن لوڈ کرنے کا کہا جاسکتا ہے۔

کمپنی کی جانب سے اس معلومات کو خفیہ رکھا جائے گا مگر اس کا انحصار مقامی ریگولیٹرز قوانین پر ہوگا جبکہ صارفین اپنے بینک اکاﺅنٹ کو بھی ایپ سے لنک کرسکیں گے۔

صارفین لبرا کوائن کی مدد سے مارکیٹ پلیس پر اشیا کی خریداری کرسکیں گے، عطیات دے سکیں گے یا کمپنیوں سے اپنی پسند کی چیزیں خرید سکیں گے۔

ابتدائی صارفین کو کچھ لبرا کوائن اس وقت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب وہ اپنا ایک اکاﺅنٹ بنالیں گے اور دوستوں کو ایپ کے استعمال کا مشورہ دیں گے۔

لبرا ایسوسی ایشن میں شامل کمپنیاں — فوٹو بشکریہ فیس بک
لبرا ایسوسی ایشن میں شامل کمپنیاں — فوٹو بشکریہ فیس بک

فیس بک کے مطابق اس سروس کی بدولت دنیا بھر میں اپنے پیاروں کو پیسے بھیجنا عام بینکوں کے مقابلے میں سستا ثابت ہوگا، کیونکہ ٹرانزیکشن فیس ایک پینی سے بھی کم ہوگی۔

اس سروس میں فیس بک کے ساتھ 28 شراکت دار موجود ہیں جن میں پے پال، ویزا، اوبر، کوائن بیس اور مرسی کارپس سمیت دیگر شامل ہیں اور توقع ہے کہ 2020 تک یہ تعداد سو تک پہنچ جائے گی۔

ہواوے نے پہلی بار امریکی پابندیوں کے اثرات کا اعتراف کرلیا

امریکا کی جانب سے مئی میں ہواوے کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے مختلف پابندیاں عائد کی گئی تھیں اور اب چینی کمپنی نے اس کے منفی اثرات کو پہلی بار تسلیم کیا ہے۔

ہواوے کے بانی اور چیف ایگزیکٹو رین زین فی نے تسلیم کیا ہے کہ امریکی پابندی کے اثرات توقعات سے زیادہ ہوں گے جبکہ آمدنی کے تخمینے کو بھی کم کیا گیا ہے۔

یہ پہلی بار ہے کہ کمپنی کے بانی نے امریکی پابندیوں کے کئی ہفتوں بعد اس کے اثرات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے نتیجے میں 30 ارب ڈالرز تک آمدنی متاثر ہوسکتی ہے۔

امریکا نے چینی کمپنی کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے بلیک لسٹ میں شامل کردیا جس کے باعث امریکی کمپنیاں ہواوے کو پرزہ جات اور دیگر سپورٹ ٹرمپ انتظامیہ کی اجازت کے بغیر فراہم نہیں کرسکیں گی۔

امریکی محکمہ تجارت نے اس پابندی کو 3 ماہ کے لیے ملتوی کردیا اور اب اس کا اطلاق اگست میں ہونا ہے۔

ہواوے کے بانی نے شینزین میں واقع کمپنی کے ہیڈکوارٹر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ امریکا کی جانب سے اتنے زیادہ پہلوﺅں سے ہمیں ہدف بنایا جائے گا، اس سے تمام فریقین متاثر ہوں گے اور کوئی بھی جیت نہیں سکے گا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ 2021 تک ہم اس کے اثرات سے باہر نکل جائیں گے۔

انہوں نے کہا ‘ہم پرزہ جات کی سپلائی حاصل نہیں کرسکیں گے، متعدد بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام نہیں کرسکیں گے، متعدد یونیورسٹیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع نہیں ملے گا، ہم کسی قسم کے امریکی آلات استعمال نہیں کرسکیں گے اور نیٹ ورکس کے ساتھ ان آلات کی مدد سے قائم کیا جانے والا کنکشن بھی بناسکیں گے’۔

گزشتہ سال ہواوے کی آمدنی 104 ارب ڈالرز رہی تھی اور 2019 میں اس نے آمدنی کا تخمینہ 125 سے 130 ارب ڈالرز تک رکھا تھا مگر اب امریکی پابندیوں کے بعد یہ تخمینہ 100 ارب ڈالرز ہوگیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ‘اگلے 2 برسوں میں میرے خیال میں ہماری توسیع میں کمی آئے گی، ہماری آمدنی سابقہ اندازوں کے مقابلے میں 30 ارب ڈالرز تک کم ہوسکتی ہے، اسی لیے رواں برس اور 2020 میں ہماری آمدنی 100 ارب ڈالرز تک رہنے کا امکان ہے’۔

تاہم رین زین فی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کمپنی کو آگے بڑھنے سے روک نہیں سکتے۔

امریکی کمپنیاں پابندی ختم کرانے کے لیے سرگرم

دوسری جانب ہواوے کو چپ سپلائی کرنے والی کمپنیاں کوالکوم اور انٹیل نے خاموشی سے امریکی حکومت کے اندر چینی کمپنی پر عائد پابندی کو نرم کرانے کے لیے کوششیں شروع کردی ہیں۔

خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ بڑی امریکی چپ بنانے والی کمپنیوں انٹیل اور Xilinx کے عہدیداران نے مئی کے آخر میں امریکی محکمہ تجارت کے ایک اجلاس میں شرکت کی تاکہ ہواوے کو بلیک لسٹ کیے جانے پر ردعمل ظاہر کرسکیں۔

کوالکوم نے بھی امریکی محکمہ تجارت پر اس پابندی کو نرم کرنے کے لیے زور دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ان امریکی کمپنیوں کا موقف تھا کہ ہواوے کی فروخت ہونے والی مصنوعات یعنی اسمارٹ فونز اور کمپیوٹر سرورز میں آسانی سے دستیاب پرزے استعمال ہوتے ہیں اور وہ چینی کمپنی کے 5 جی نیٹ ورکنگ آلات کے برعکس سیکیورٹی خطرات کا باعث نہیں۔

ان کمپنیوں کا موقف تھا کہ ہم ہواوے کی مدد نہیں کررہے بلکہ امریکی کمپنیوں کو ہونے والے نقصان کی روک تھام چاہتے ہیں۔

گزشتہ سال ہواوے نے پرزہ جات کی خریداری پر 70 ارب ڈالرز خرچ کیے تھے جن میں سے 11 ارب ڈالرز کے قریب امریکی کمپنیوں کوالکوم، انٹیل اور مائیکرو ٹیکنالوجی کے حصے میں آئے تھے۔

اوپو کی فلیگ شپ رینو سیریز پاکستان میں متعارف

چینی کمپنی اوپو کو سیلفی کیمرا فونز کے لیے جانا جاتا ہے اور اب اس کا 10 ایکس زوم والا فون پاکستان میں متعارف کرادیا گیا ہے۔

اوپو کے نئے فون رینو میں سیلفی کیمرے کو بالکل مختلف انداز سے چھپایا گیا ہے جو کہ روایتی سلائیڈر کیمرے سے ہٹ کر ہے۔

اپریل میں چین میں ایک ایونٹ کے دوران اوپو نے رینو سیریز کے فونز رینو 10 ایکس زوم اور رینو اسٹینڈرڈ ایڈیشن متعارف کرائے گئے تھے اور اب یہ پاکستان میں فروخت کے لیے پیش کیے جارہے ہیں۔

اوپو رینو 10 ایکس زوم میں طاقتور اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر دیا گیا ہے جبکہ یہ فون 10 ایکس لوز لیس زوم کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کا مظاہرہ اس کمپنی نے رواں سال فروری میں موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران کیا۔

اوپو 10 ایکس زوم

فوٹو بشکریہ اوپو
فوٹو بشکریہ اوپو

اوپو کے اس فون میں 6.6 انچ کا اوایل ای ڈی نوچ لیس ایچ ڈی پلس ڈسپلے دیا گیا ہے جس میں اسکرین ٹو باڈی ریشو 93.1 فیصد ہے۔

ڈسپلے کے تحفط کے لیے کورننگ گوریلا گلاس 6 استعمال ہوا ہے جبکہ سکستھ جنریشن ان اسکرین فنگرپرنٹ سنسر دیا گیا ہے۔

8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج کے ساتھ اس فون میں 4065 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے جو کہ اوپو کی وی او او سی 3.0 فاسٹ چارجنگ سپورٹ کے ساتھ ہے۔

اس کے فرنٹ پر شارک فن کی طرح کا پوپ اپ سیلفی کیمرا دیا گیا ہے جو کہ 16 میگا پکسل کا ہے۔

اس کے بیک پر 48 میگا پکسل، 8 میگا پکسل اور 13 میگا پکسل پر مشتمل تین کیمروں کا سیٹ اپ موجود ہے۔

یہ فون 22 جون سے پاکستان میں ایک لاکھ 9 ہزار 999 روپے میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اوپو رینو اسٹینڈرڈ

فوٹو بشکریہ اوپو
فوٹو بشکریہ اوپو

یہ فون 6.4 انچ کے ڈسپلے سے لیس ہے جس میں اسنیپ ڈراگون 710 پراسیسر دیا گیا ہے۔

3700 ایم اے ایچ بیٹری کے ساتھ فاسٹ چارجنگ سپورٹ موجود ہے جبکہ اس کے بیک پر 48 اور 5 میگا پکسل کیمروں کا ڈوئل سیٹ اپ دیا گیا ہے۔

اس کا سیلفی کیمرا بھی اوپو رینو 10 ایکس زوم جیسا ہی ہے۔

یہ بھی 22 جون سے دستیاب ہوگا اور اس کی قیمت 69 ہزار 999 روپے رکھی گئی ہے۔

گلیکسی نوٹ 10 کے دونوں ماڈلز کی تصاویر سامنے آگئیں

سام سنگ کے نئے فلیگ شپ فون گلیکسی نوٹ 10 کو دو سے 3 ماہ بعد متعارف کرایا جائے گا مگر اس کے بارے میں لیکس مسلسل سامنے آرہی ہیں۔

پہلی بار سام سنگ گلیکسی نوٹ سیریز کا فون 2 مختلف ماڈلز میں متعارف کرانے والی ہے اور اب دونوں ورژن کی تصاویر لیک ہوکر سامنے آئی ہیں۔

ٹوئٹر اکاﺅنٹ آن لیکس میں پوسٹ ہونے والی تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گلیکسی نوٹ 10 نئے ڈیزائن سے لیس ہوگا اور اس وجہ سے نوٹ 9 سے بالکل مختلف نظر آئے گا۔

یہ فون گلیکسی نوٹ 10 پرو (6.75 انچ اسکرین) اور نوٹ 10 (6.3 انچ) کی شکل میں متعارف کرایا جائے گا جن کا ڈیزائن یکساں ہی ہوگا۔

یہ دونوں فونز ایج ٹو ایج ڈسپلے کے قریب تر ہوں گے اور حقیقی معنوں میں بیزل لیس قرار دیئے جاسکتے ہیں۔

دونوں میں فرنٹ کیمرا ہول پنچ ڈیزائن کی شکل میں دیا جارہا ہے جو کہ اسکرین کے درمیان میں ہوگا، گلیکسی ایس 10 میں اس طرح کا سیلفی کیمرا دائیں جانب دیا گیا ہے۔

اسی طرح اس میں ایس 10 کے مقابلے میں نیچے بیزل کو بھی مزید کم کیا جارہا ہے۔

ان لیک تصاویر سے عندیہ ملتا ہے کہ گلیکسی نوٹ 10 سے ہیڈفون جیک کو ہٹایا جارہا ہے جبکہ سام سنگ کے ڈیجیٹل اسسٹنٹ بیکسبی کا بٹن بھی کہیں نظر نہیں آرہا ہے اور ممکنہ طور پر فنگرپرنٹ سنسر اسکرین کے اندر نصب کیا جائے گا۔

اس کے بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ دیا جائے گا خصوصاً نوٹ 10 پرو میں گلیکسی ایس 10 فائیو جی کی طرح تھری ڈی ٹائم آف فلائٹ سنسر بھی نظر آرہا ہے۔

فوٹو بشکریہ آن لیکس ٹوئٹر اکاؤنٹ
فوٹو بشکریہ آن لیکس ٹوئٹر اکاؤنٹ

اس سے قبل مختلف لیکس میں یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ گلیکسی نوٹ 10 میں 45 واٹ چارجنگ اسپیڈ دیئے جانے کا امکان ہے جو کہ پہلی بار جنوبی کورین کمپنی کے کسی فون میں دی جائے گی، اس وقت سب سے تیز ہواوے میٹ ایکس فولڈ ایبل فون میں 55 واٹ چارجنگ سپورٹ ہے جبکہ اوپو کی سپر وی او او سی ٹیکنالوجی ہے جو کہ 50 واٹ چارجنگ سپورٹ فراہم کرتی ہے۔

ہر سال گلیکسی نوٹ سیریز کے فونز بنیادی طور پر گلیکسی ایس سیریز کے فونز کے بڑے ڈسپلے والے ورڑن ہوتے ہیں جس میں ایس پین اسٹائلوس ہی مختلف ہوتا ہے باقی پراسیسر اور کیمرے وغیرہ یکساں ہوتے ہیں، مگر اس سال بڑی تبدیلی کی جاسکتی ہے۔

گوگل نے پکسل 4 کی پہلی جھلک جاری کردی

عام طور پر اسمارٹ فونز کی معلومات اکثر سوشل میڈیا پر مختلف لیکس کی شکل میں سامنے آتی ہیں مگر گوگل نے اس معاملے میں ایسے لیکرز کو پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

جی ہاں گوگل نے سوشل میڈیا لیکس سے قبل ہی اپنے ایک ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر اپنے نئے فلیگ شپ اسمارٹ فون پکسل 4 کی پہلی جھلک پوسٹ کردی۔

اس پوسٹ میں فون کے بیک پر جو کیمرا سیٹ اپ دکھایا گیا ہے وہ چوکور شکل کا ہے اور یہ پہلی بار ہوگا جب گوگل پکسل میں ایک سے زیادہ رئیر کیمروں کو دیا جائے گا۔

ویسے گزشتہ چند سال کے دوران تمام کمپنیوں جیسے ایپل، سام سنگ اور گوگل وغیرہ کو اپنے نئے فونز کی تفصیلات متعارف کرائے جانے سے قبل چھپانے میں کافی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

گوگل پکسل فونز کے بارے میں تمام تر تفصیلات لانچ سے قبل ہی سامنے آجاتی ہیں خصوصاً حال ہی میں متعارف کرائے گئے پکسل 3 اے اور 3 اے ایکس ایل کے بارے میں تو سب کچھ وقت سے پہلے سامنے آگیا تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ گوگل نے اس طرح کی لیکس سے سبق سیکھا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ لوگوں کو روکنا تو ممکن نہیں تو بہتر یہی ہے کہ خود ہی اس حوالے سے کچھ کنٹرول حاصل کرلیا جائے۔

گوگل پکسل 3 کے بیک کیمرے کو بہترین قرار دیا گیا تھا حالانکہ اس میں سنگل کیمرا دیا گیا ہے تو توقع کی جاسکتی ہے پکسل 4 میں ایک سے زیادہ کیمروں کا معیار بھی زبردست ہوگا۔

یہ فون رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

پاک سوزوکی کی آلٹو 660 سی سی مارکیٹ میں آگئی

اسلام آباد: پاک سوزوکی موٹرز نے ’مہران کار‘ کی جگہ اپنی نئی گاڑی ’آلٹو 660 سی سی‘ متعارف کروادی۔

پاک چین فرینڈشپ سینٹر میں ہونے والی پروقار تقریب میں پاک سوزوکی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ماسومی ہرانو نے سرخ رنگ کی گاڑی متعارف کروائی جس کے مزید 6 رنگ بھی موجود ہیں۔

اس موقع پر ان کے ہمراہ کمپنی کے سینئر منیجرز بھی موجود تھے۔

پاک سوزوکی نئی آلٹو 660 سی سی کمپنی کی کامیاب ترین کار ’مہران 800 سی سی‘ کی جگہ متعارف کروائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پاک سوزوکی نے 30 سال قبل 1989 میں مہران کار کو پاکستان میں متعارف کروایا تھا، جبکہ اُس وقت اس کار کا نام بھی ’آلٹو‘ ہی تھا جس بعد میں مہران کا نام دیا گیا۔

نئی آلٹو 660 سی سی پہلی مرتبہ مکمل طور پر پاکستان میں تیار کی جانے والی کار ہے جس کے تین ماڈل ہیں جن میں 2 مینول جبکہ ایک آٹومیٹک۔

پاک سوزوکی نے پاکستان میں پہلی مرتبہ 660 سی سی انجن سے لیس مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑی آلٹو کو رواں سال اپریل میں متعارف کرایا تھا۔ فوٹو: فیس بک
پاک سوزوکی نے پاکستان میں پہلی مرتبہ 660 سی سی انجن سے لیس مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑی آلٹو کو رواں سال اپریل میں متعارف کرایا تھا۔ فوٹو: فیس بک

کمپنی کی جانب سے اپنی نئی گاڑی کی قیمت 9 لاکھ 99 ہزار سے 12 لاکھ 95 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔

نئی آلٹو گاڑی جاپانی ٹیکنالوجی کے 660 سی سی کے آر-سیریز انجن کی حامل ہے۔ یہ گاڑی جدید ڈیزائن کے انٹیریئر سے مزین ہے۔

مذکورہ گاڑی کو کراچی میں کمپنی کے بن قاسم پلانٹ میں تیار کیا گیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ اس گاڑی کی مدد سے ایندھن کی بچت کی جاسکتی ہے، گاڑی کی 3 سال یا 60 ہزار کلومیٹر کی وارنٹی بھی دی گئی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاک سوزوکی کپنی کے سی ای او ماسومی ہرانو کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی سطح پر تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سے ایک ہے اور گاڑیوں کی صنعت ملکی معیشت کو تیز کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

انہوں نے پاکستان میں آٹوموبائل سیکٹر میں حاصل ہونے والی کامیابیوں میں پاک سوزوکی کمپنی کے کردار پر روشنی ڈالی۔

خیال رہے کہ اپریل کے مہینے سے ہی کمپنی نے مہران کار کی بکنگ بند کردی تھی، جبکہ پاکستان آٹو شو 2019 میں نئی آلٹو 660 سی سی متعارف کروادی تھی۔

گلوبل بی ایچ بی ڈی نے بین الاقوامی مرکز جامعہ کراچی کو رکن تسلیم کرلیا

کراچی: جامعہ کراچی میں واقع بین الاقوامی مرکز برائے حیاتیاتی و کیمیائی علوم (آئی سی سی بی ایس) کو گلوبل اوپن بایوڈائیورسٹی اینڈ ہیلتھ بِگ ڈیٹا الائنس (بی ایچ بی ڈی) کی رکنیت دی گئی ہے، جو پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے۔

آئی سی سی بی ایس کے ترجمان کے مطابق عالمی حیاتیاتی تنوع اور صحت کا ڈیٹا الائنس 14 اکتوبر 2018 کو بیجنگ میں قائم کیا گیا۔ اس کے پہلے اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، تھائی لینڈ، روس، سنگاپور اور امریکا کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔

بی ایچ بی ڈی کا مقصد صحت اور حیاتیاتی تنوع کے میدان میں عالمی تحقیق و تعاون کو فروغ دینا ہے، تاکہ دنیا کے تمام ممالک یکساں طور پر مستفید ہوسکیں اور یکساں طور پر اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس کے تحت چین میں جینوم اور ڈی این اے پر ایک بہت بڑا ڈیٹا بیس بھی قائم کیا گیا ہے۔

بی ایچ بی ڈی نے آئی سی سی بی ایس کے سربراہ ڈاکٹر پروفیسر محمد اقبال چوہدری کی غیرمعمولی سائنسی خدمات پر ادارے کو اپنی رکنیت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پروفیسر اقبال چوہدری نے نیچرل پروڈکٹ کیمسٹری کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، اس ضمن میں ان کی تقریباً 2120 سائنسی اشاعتیں بین الاقوامی سطح پر شائع ہوچکی ہیں۔ امریکا اور یورپ میں ان کی تحریر و ادارت کردہ 68 کتب اور کتب میں 40 چیپٹر شائع ہوچکے ہیں۔ بین الاقوامی سائنسی جرائد میں 1141 تحقیقی اشاعتیں اور 51 پیٹینٹ بھی قابل ذکر ہیں۔

ڈاکٹرمحمد اقبال چوہدری کیمیا سے متعلق متعدد غیرملکی کتب و جرائد کے مدیر ہیں، جبکہ ان کے سائنسی کام کو 23 ہزار مرتبہ بطور حوالہ پیش کیا گیا ہے۔ ان کے زیر نگرانی 87 طالبعلم پی ایچ ڈی اور 36 ایم فل مکمل کرچکے ہیں۔

Google Analytics Alternative