سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

پودے بھی ’زخم‘ محسوس کرتے ہیں، سائنس دانوں کا انکشاف

میڈی سن: سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جانوروں کی طرح پودے بھی زخمی ہونے پر ردعمل دیتے ہیں جس کے لیے مکمل نظام موجود ہے۔

اس کرہ ارض میں رنگ بھرنے والے خوبصورت پھول، ہرے بھرے درخت اور نازک پودے اس کائنات کو رنگین ہی نہیں بلکہ معطر بھی رکھتے ہیں اور کیسے ممکن ہے کہ خوشبو پھیلانے والے یہ پھول، پودے اور خطرناک گیسوں کو اپنے اندر سمونے والے درخت احساس کے لطیف جذبات سے عاری ہوں۔

وسکونسن کے دار الحکومت میڈی سن میں واقع ’یونیورسٹی آف وسکونسن میڈیسن‘ میں کی گئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ پودے بھی جانوروں کی طرح خطرہ درپیش ہونے پر دوسرے حصوں کو فوری طور پر آگاہ کرتے ہیں۔ جانوروں میں اس کام کے لیے ایک مکمل اعصابی نظام موجود ہے لیکن پودوں میں یہی کام بغیر اعصابی نظام کے ہوتا ہے۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ نباتات انسانوں اور جانوروں کی طرح حس رکھتے ہیں یہ مسکراتے بھی ہیں اور تکلیف پر روتے بھی ہیں، یہ باتیں بھی کرتے ہیں اور مثبت و منفی اثرات کو محسوس بھی کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق جب کوئی کیڑا پتے یا تنے پر حملہ آور ہوتا ہے تو اس مقام سے ایک قسم کا مالیکیول نکلتا ہے جو پودے کے دیگر حصوں کو بھی اس خطرے سے آگاہ کر دیتا ہے جس کے بعد پودے کے دیگر حصوں میں دفاعی نظام متحرک ہو جاتا ہے۔

سائنس دانوں نے اس حیرت انگیز عمل کے مشاہدے کے لیے فلوریسنٹ پروٹین کا استعمال کیا جس کی مدد سے پودے کے اس حصے سے سگنلز کو نکلتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جس پر کسی کیڑے نے حملہ کیا ہو۔ یہ سگنلز پودے کے دیگر حصوں تک جاتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ پودے کے کسی حصے کو نقصان پہنچنے پر ایک برقیاتی چارج نکلتا ہے جو پودے کے دیگر حصوں تک پھیل جاتا ہے تاہم یہ الیکٹریکل چارج پودے کے کس حصے سے نمودار ہوتا ہے اس پر تحقیق کی جا رہی ہے۔

انٹرنیٹ کے بغیر مفت جی میل چلانا ممکن

انٹرنیٹ ٹیکنالوجی میں گرو کی اہمیت رکھنے والی کمپنی ‘گوگل’ نے کہا ہے کہ رواں برس کے آخر تک صارفین جی میل کے حالیہ ورژن میں ہی آف لائن سروسز کی سہولت سے استفادہ اٹھا سکیں گے۔

خیال رہے کہ گوگل نے رواں برس مئی میں انٹرنیٹ کنیکشن کے بغیر صارفین کو جی میل سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک نئی ایپ متعارف کرائی تھی۔

جی میل نے ‘آف لائن جی میل’ نامی ایپلی کیشن متعارف کرائی تھی، جسے انٹرنیٹ کے بغیر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اس ایپلی کیشن پر صارفین کو 90 روز کے دوران موصول ہونے والی ای میل تک رسائی دیے جانے سمیت ای میل کا جواب دینے جیسی سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔

تاہم صارفین نے گوگل انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ آف لائن جی میل ایپلی کیشن کے بجائے عام جی میل ویب ورژن پر آف لائن سہولت چاہتے ہیں، جس کے بعد اب کمپنی نے عام ورژن پر اسی سہولت کو فراہم کرنے کا اعلان کردیا۔

کمپنی نے آف لائن جی میل کے لیے خصوصی ایپ بھی متعارف کرائی تھی—فوٹو: ٹیکی پیشن
کمپنی نے آف لائن جی میل کے لیے خصوصی ایپ بھی متعارف کرائی تھی—فوٹو: ٹیکی پیشن

کمپنی کی جانب سے جاری اعلان میں کہا گیا ہے کہ جن صارفین نے انٹرنیٹ کنیکشن کے بغیر جی میل چلانے کے لیے ‘آف لائن جی میل‘ کی ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کی وہ اس ایپ کو ڈیلیٹ کردیں،کیوں کہ یہ ایپ جلد ہی اسٹور سے بھی ہٹادی جائےگی۔

کمپنی کے مطابق صارفین کی فرمائش کے بعد اب صارفین جی میل کے پرانے اور اصلی ورژن پر بھی آف لائن سہولت استعمال کر سکیں گے۔

بیان میں وضاحت کی گئی کہ انٹرنیٹ کنیکشن کے بغیر مفت سہولت سروس سے فائدہ اٹھانے کے خواہش مند افراد (mail.google.com ) کو گوگل کروم پر لکھیں اور جی میل پر جائیں، وہ وہاں آف لائن سہولت استعمال کر سکیں گے۔

اسی سہولت کے تحت تمام صارفین کو گزشتہ 90 روز سے ملنے والی ای میل تک رسائی دیے جانے سمیت انہیں ان کا جواب دیے جانے جیسے فیچرز تک رسائی دی گئی ہے۔

اب جی میل صارفین گوگل کوروم پر(mail.google.com ) لکھ کر انٹرنیٹ کنیکشن کے بغیر مفت جی میل سروس سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔

فیس بک نے جعلی خبروں کی ویڈیوز اور تصاویر کی جانچ کا اعلان کردیا

کیلیفورنیا: فیس بک نے اپنے ایک بلاگ میں اعلان کیا ہے کہ وہ جعلی خبروں سے وابستہ تصاویر اور ویڈیوز کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے جانچ کرے گی تاکہ سوشل میڈیا کو من گھڑت خبروں کی آماجگاہ بننے سے بچایا جاسکے۔

جمعرات کو جاری بلاگ میں کہا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں 17 ممالک سے آنے والی خبروں اور مضامین سے وابستہ ویڈیوز اور تصاویر کا مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا اے آئی) کے ذریعے جائزہ لیا جائے گا۔

اس موقع پر فیس بک کے پروڈکٹ مینیجر اینٹونیا ووڈفورڈ نے کہا کہ انہوں نے مشین لرننگ ماڈل بنایا ہے جو تصدیق کرنے والوں کو جعلی تصاویر اور ویڈیوز کی نشاندہی میں مدد کرے گا جس کے لیے 17 ممالک میں موجود 27 پارٹنر ادارے بھی اپنا کام کریں گے۔

ووڈفورڈ نے بتایا کہ فیس بک اور اس سے وابستہ کئی ادارے تصویر کے میٹا ڈیٹا، ریورس امیج سرچنگ، ویڈیو اور تصاویر لینے کے اوقات اور دیگر طریقوں سے ان کی جعلی یا تصدیق میں مدد دیں گے۔

فیس بک اور ٹوئٹر دونوں ہی جعلی تصاویر، خبروں اور ویڈیو کے اولین اخراج والی جگہوں کو جاننے کی  سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں کیونکہ جعلی تصاویر رائے عامہ کو تبدیل کرتی ہیں حتیٰ کہ انتخابات پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس ضمن میں بالخصوص سیاسی حلقے کئی بار فیس بک سے رابطہ کرچکے ہیں اور فیس بک اور ٹوئٹر کے دو اعلیٰ اہلکار کیپٹل ہِل کا دورہ بھی کرچکے ہیں۔

فیس بک کے بانی اور سربراہ مارک زکربرگ نے بھی اپنے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ 2016 کے امریکی صدارتی انتخاب میں روسی مداخلت کے بعد اب ان کی کمپنی ٹیکنالوجی اور ماہرین کی مدد سے اس عفریت کو قابو کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

گگوگل کروم کے 10 کارآمد پروگرام جن سے اکثر واقف نہیں

گوگل کا براﺅزر ‘کروم’ 2008 میں متعارف کروایا گیا تھا اور یہ بہت جلد ہی دنیا میں انٹرنیٹ کی سرفنگ کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا پروگرام بن گیا جس نے فائر فوکس اور انٹرنیٹ ایکسپلورر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

مگر متعدد افراد اس میں چھپے چند اہم فیچرز سے اب بھی واقف نہیں ہیں۔

درحقیقت متعدد ایسی ایکسٹینشنز اور پروگرامز موجود ہیں جو کروم کا استعمال زیادہ بہتر اور پُرلطف بناتے ہیں۔

ان کے ذریعے آپ مضامین کو کہیں بھی پڑھنے کے لیے محفوظ کرسکتے ہیں، نئی زبان سیکھ سکتے ہیں اوراس کے علاوہ بھی بہت کچھ کرسکتے ہیں۔

اور ہاں اصل چیز تو یہ ہے کہ اس کے لیے آپ کو اضافی وقت یا رقم کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔

مضامین کو محفوظ کریں

پاکٹ کسی بھی مضمون کو محفوظ کرکے بعد میں پڑھنے کا سب سے آسان راستہ ہے، جسے فون، ٹیبلیٹ یا کمپیوٹر کہیں بھی پڑھا جاسکتا ہے، مثال کے طور پر آپ کسی ویب سائٹ یا مضمون کو اوپن کرتے ہیں مگر پڑھنے کا وقت نہیں تو پاکٹ ایکسٹیشن پر کلک کردیں، یہ اس لسٹ میں چلا جائے گا جس تک رسائی کسی بھی ڈیوائس سے ممکن ہوگی۔

نئی زبان سیکھیں

لینگویج امرسین ایک بہترین ایکسٹینشن ہے جو کہ انگلش کے الفاظ اور جملوں کو آپ کی منتخب کردہ زبان میں ترجمہ کرتا رہتا ہے، اس کی مدد سے آپ بغیر کسی مشکل کے نئی زبان کو سیکھنے کی مشق کرسکتے ہیں، چاہے اس وقت دفتر کا کوئی اہم کام ہی کیوں نہ کررہے ہوں۔

پینک بٹن

اگر آپ کے ارگرد کوئی ایسا فرد ہے جس کو آپ اپنے اوپن کردہ پیجز نہیں دکھانا چاہتے تو کروم بند کرنے کی بجائے پینک بٹن پر ہٹ کردیں، یہ ایک مفید ایکسٹیشن ہے جو کہ نہ صرف آپ کے کام کو دیگر افراد کی نگاہوں سے بچاتی ہے بلکہ یہ ان سائٹس کو ایک علیحدہ فولڈر میں بھی محفوظ کردیتی ہے جو آپ نے اوپن کررکھی ہوتی ہیں، جنھیں آپ بعد میں کسی بھی وقت اوپن کرسکتے ہیں۔

جی میل کی ای میلز پر نظر

گوگل میل چیکر اُن افراد کے لیے فائدہ مند ہے جو روزانہ کافی مقدار میں ای میلز کرنے کے عادی ہوں، یہ ایکسٹیشن بہت سادہ اور استعمال میں آسان ہے جو جی میل کو اوپن کیے بغیر بتا دیتی ہے کہ آپ کو کتنی ای میلز موصول ہوچکی ہیں۔

اشتہارات کو بلاک کریں

ایڈبلاکر اشتہارات کو بلاک کرنے کے لیے مقبول ترین ایکسٹیشنز میں سے ایک ہے، یہ بینر اشتہارات اور پوپ اپ ونڈوز کو بلاک کرتی ہے اور یہ صارف کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ کس حد تک اس طرح کا تجربہ برداشت کرسکتا ہے۔

بہت زیادہ ٹیبز کا درد سر

ون ٹیب ہر اس فرد کے لیے مفید ایکسٹیشن ہے جو بیک وقت متعدد ٹیبز اوپن کرتے ہیں، جس میں اپنے مطلوبہ پیج کو ڈھونڈنا مسئلہ بن جاتا ہے، مگر ون ٹیب انہیں ایک لسٹ کی شکل دے دیتی ہے اور انہیں وقت اور تاریخ کے لیے لحاظ سے منظم کرتی ہے، جبکہ اس سے کمپیوٹر کی میموری بھی زیادہ متاثر نہیں ہوتی۔

کروم ریموٹ ڈیسک ٹاپ

کروم ریموٹ ڈیسک ٹاپ جادوئی ایکسٹیشن قرار دی جاسکتی ہے جو آپ کو اپنے کمپیوٹر کے اندر دیگر کمپیوٹرز تک رسائی دیتی ہے، جیسے کوئی فائل دفتر بھول آئے ہیں تو ریموٹ ڈیسک سے کنکٹ کرکے اسے حاصل کرلیں۔

تصاویر کی شناخت

سرچ بائی امیج سے آپ آن لائن تصاویر کو آسانی سے شناخت کرسکتے ہیں، بنیادی طور پر یہ یہ گوگل امیجز جیسی ہی ایکسٹینشن ہے جو آپ کو کسی بھی تصویر کو گوگل سرچ کرنے میں مدد دیتی ہے، یہ مقامات کی شناخت یا گمنام جگہوں کے بارے میں جاننے کے لیے مفید ہے۔

موبائل کروم

کروم ٹو موبائل آپ کو کسی بھی جگہ دفتر کا کام کرنے میں مدد دیتی ہے، یہ ایکسٹیشن آپ کے ڈیسک ٹاپ براﺅزر کے تجربے کو اسمارٹ فون میں لائیو ویب پیجز اور ورک کی بدولت منتقل کرتی ہے، یہ آف لائن بھی کام کرتی ہے تو انٹرنیٹ کے بغیر بھی کارآمد ہے۔

گرامر کی غلطیوں سے بچیں

اگر آپ کو لگتا ہے کہ کچھ تحریر کرتے ہوئے گرامر کی کافی غلطیاں ہوسکتی ہیں تو گرامرلی نامی ایکسٹیشن آپ کے لیے ہے، یہ اسپیلنگ اور تحریر کے معیار کو بہتر بناتی ہے، یہ نہ صرف جی میل بلکہ سوشل میڈیا پر بھی کام کرتی ہے

بچوں کو ٹیکنالوجی سے دور رکھنے کے خواہشمند والدین خود پہل کریں

ایک نئے مضمون میں والدین پر زور دیا گیا ہے کہ جہاں بچوں کا الیکٹرانک آلات مثلاً فون، ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ وغیرہ کا استعمال محدود کرنے کی ضرورت ہے، وہیں والدین کو بھی اسکرین کے سامنے گزارا گیا اپنا وقت کم کرنا چاہیے۔

جاما پیڈیاٹرکس نامی جریدے میں شامل ہونے والے اس تحقیقی مضمون میں مصنفین نے بتایا ہے کہ بچے اسمارٹ فون کی عادت اپنے والدین سے سیکھتے ہیں، اس لیے یہ ضروری ہے کہ اسمارٹ فونز سے کبھی کبھی دوری اختیار کی جائے، اور صرف ایک چیز کو اہمیت دی جائے، یعنی اپنے بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزارنا اور ہر چیز سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کی خواہش کو دبانا۔

یونیورسٹی آف مشی گن سے تعلق رکھنے والی مضمون کی شریک مصنف ڈاکٹر جینی راڈیسکی لکھتی ہیں کہ ’اسمارٹ فونز والدین کی جیبوں میں موجود ذاتی کمپیوٹرز کی طرح ہیں جن میں ان کا کام، ان کی سماجی زندگی، ان کی تفریح، غرض یہ کہ ان کی زندگی کا پورا مواد اس میں موجود ہے۔‘

بچوں میں رویوں کی ماہر راڈیسکی نے اپنی تحقیق میں پایا ہے کہ وہ والدین جو ہر وقت اپنی موبائل ڈیوائسز میں مگن رہتے ہیں اور انہی کی جانب متوجہ رہتے ہیں، وہ اپنے بچوں کے ساتھ کم وقت گزار پاتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کے اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ تنازعات ہوتے ہیں اور انہیں بچوں کے زیادہ مشکل رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

فوٹو: شٹر اسٹاک
فوٹو: شٹر اسٹاک

انہوں نے رائٹرز ہیلتھ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’جب میں نے اس حوالے سے تحقیق شروع کی تو میں نے پایا کہ وہ والدین جو زیادہ ٹی وی دیکھتے ہیں، ان کے بچے بھی زیادہ ٹی وی دیکھتے ہیں اور جب ٹی وی کو پس منظر میں چلتا چھوڑ دیا جائے، تو والدین اور بچے آپس میں کم بات کرتے ہیں اور کم کھیلتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ایک ملازمت پیشہ ماں کے طور پر مجھے معلوم ہے کہ کام کے حوالے سے کسی پیچیدہ مسئلے کے بارے میں سوچتے ہوئے، عالمی خبروں کے بارے میں تناؤ کا شکار ہوتے ہوئے یا پھر فون میں موجود کام یا سماجی زندگی پر جواب نہ دے پانے کے حوالے سے سوچتے ہوئے اپنے بچوں کو سنبھالنا کس قدر مشکل کام ہے۔‘

راڈیسکی اور ان کی شریک مصنفہ ڈاکٹر میگن مورینو، جو یونیورسٹی آف وسکانسن سے تعلق رکھتی ہیں، تجویز دیتی ہیں کہ والدین کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر فون سے اپنے تعلق کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ اسے اسٹریس دور کرنے والا آلہ سمجھنے کے بجائے گہری سانسیں لے کر واک کے لیے جانا چاہیے۔ گھر اور خاندان کی پریشانیوں سے بچنے کے لیے فون کا سہارا لینے کے بجائے بامقصد انداز میں دوسروں کے ساتھ بات کرنی چاہیے اور مسائل کا سامنا کرنا چاہیے۔ وقت ضائع کرنے کے بجائے اس بات سے محتاط رہیں کہ کون سی چیز آپ کی توجہ بٹا رہی ہے۔ یہ نوٹ کریں کہ سوشل میڈیا پر جواب دیتے ہوئے یا ای میلز چیک کرتے ہوئے آپ کا کتنا وقت گزر چکا ہے۔

راڈیسکی کہتی ہیں کہ ملٹی ٹاسکنگ ہمیں ایک ساتھ کیے جانے والے تمام کاموں میں غیر مؤثر بنا دیتی ہے۔ بچوں کی پرورش اس سے مختلف نہیں ہے۔

ان کی یہ بھی تجویز ہے کہ والدین اس حوالے سے سوچیں کہ ان کے اسمارٹ فونز انہیں کس انداز میں سب سے زیادہ تناؤ پہنچاتے ہیں، مثلاً ای میلز چیک کرنا، خبریں پڑھنا وغیرہ اور پھر ان کاموں کو اس وقت سر انجام دیا جائے جب گھر کے افراد آس پاس موجود نہ ہوں۔

اس کے علاوہ والدین کو کھانے کے وقت، سونے کے وقت اور آرام کے خصوصی اوقات کو ترجیح دینی چاہیے جس میں گھر کے تمام افراد بس فونز ایک طرف رکھ کر ایک ساتھ ایک ہی کام کریں۔ چونکہ بچے اپنے والدین کے رویوں کی نقل کرتے ہیں، اس لیے اچھا رہے گا کہ آپ ایسے کام نہ کریں جنہیں بچوں کو نہیں سیکھنا چاہیے، مثلاً ڈرائیو کرتے ہوئے فون چیک کرنا، ناشائستہ مواد پوسٹ کرنا یا پھر فون استعمال کرتے ہوئے دوسرے لوگوں کو مکمل طور پر نظرانداز کر دینا۔

فوٹو: شٹر اسٹاک
فوٹو: شٹر اسٹاک

مصنفین کے مطابق ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ والدین نے بتایا کہ جب انہیں بجلی نہ ہونے یا فون خراب ہوجانے کی وجہ سے کچھ دن کے لیے فونز سے دور رہنا پڑا تو انہیں یہ محسوس کرکے کافی مزہ آیا کہ ان کا ذہن کتنا صاف ہوگیا تھا، کس طرح وہ ایک وقت میں ایک کام پر توجہ دینے لگے تھے اور ان کے لیے اپنے نوجوان بچوں کے ساتھ بات چیت کرنا کتنا آسان ہوگیا تھا۔

مضمون میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ہر چیز کی تصویر کھینچنے یا ہر لمحے کی داستان سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ والدین کو بھی اپنے بچوں کے ساتھ لمحات کا مزہ اٹھانا چاہیے جس سے ٹیکنالوجی اور حقیقی زندگی میں ایک مناسب توازن آئے گا۔

دنیا کے امیر ترین شخص کی کامیابی کا راز

ایمازون کے بانی جیف بیزوز جدید دنیا کے پہلے شخص ہیں جن کے مجموعی اثاثوں کی مالیت نے رواں سال جولائی میں 150 ارب ڈالرز کو چھوا۔

ایمازون کے ساتھ وہ معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور ایک ایرو اسپیس کمپنی بلیو Origin کے بھی مالک ہیں۔

تو زندگی میں ان کی کامیابی کا راز کیا ہے؟

یہ بات انہوں نے خود مختلف انٹرویوز کے دوران بتائی اور اہم بات یہ ہے کہ ان عادتوں کو اپنانا کوئی مشکل نہیں بلکہ کوئی بھی انہیں اپنا کر زندگی میں کامیاب ہوسکتا ہے۔

ایک وقت میں ایک چیز پر توجہ

درحقیقت یہ ایمازون کے بانی کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے کیونکہ وہ ایک وقت پر صرف ایک ہی چیز پر توجہ دیتے ہیں اور بچپن سے ہی ان میں یہ صلاحیت موجود ہے۔

وہ خود کہتے ہیں ‘میری کامیابی کا راز ملٹی ٹاسکنگ سے گریز کرنا اور اس وقت تک کسی کام پر توجہ دینا ہے جب تک وہ مکمل نہ ہوجائے’۔

ان کا کہنا تھا ‘مجھے بیک وقت کئی کام کرنا پسند نہیں، اگر میں ای میل پڑھ رہا ہوں تو میں کچھ اور نہیں کروں گا، اسی طرح گھر میں کھانا کھا رہا ہوں تو اپنی پوری توجہ اور توانائی کے ساتھ اسی پر توجہ دوں گا کسی اور چیز پر نہیں’۔

درحقیقت جدید سائنس کا بھی ماننا ہے کہ ملٹی ٹاسکنگ انسانی صلاحیتوں کے لیے بہت نقصان دہ ہے اور صرف 2 فیصد افراد ہی ایسا کرسکتے ہیں، ورنہ اکثر افراد بیک وقت کئی کام کرنے کی کوشش میں کسی ایک کو بھی پورا نہیں کرپاتے۔

آسانی پر مشکل کا انتخاب

جیف بیزوز کے مطابق ہر ایک کے پاس زندگی میں 2 راستے ہوتے ہیں، ایک آسانی اور سکون جبکہ دوسرا مشکل اور ایڈونچر، اور انہوں نے آسانی کی بجائے مشکل کا انتخاب کیا۔

ان کے مطابق انہوں نے زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے خود کو 80 سال کی عمر کا رکھ کر سوچا اور اس ذہنی مشق کی بدولت وہ ایسے فیصلے کرنے میں کامیاب ہوئے جن پر انہیں اب کوئی پچھتاوا نہیں یا مستقبل میں کم از کم پچھتاوے کا سامنا ہوگا۔

خیال رہے کہ جیف بیزوز نے عملی زندگی کا آغاز ایک معمولی ملازمت سے کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے ٹیکساس جاکر اپنے والد سے ایک گاڑی ادھار لی جس کے بعد سیٹل جاکر آمیزون ڈاٹ کام کی بنیاد ایک گیراج میں رکھی۔

اس زمانے میں وہ اکثر ملاقاتیں اپنے پڑوسی برنس اینڈ نوبل بک سیلرز میں جاکر کرتے۔

آمیزون کے آغاز کے پہلے ہی مہینے میں اس کمپنی نے امریکا کی تمام پچاس ریاستوں اور 45 مختلف ممالک میں لوگوں کو کتابیں فروخت کیں جس کے بعد 15 مئی 1997 کو اس کے شیئرز عوام کے لیے پیش کیے گئے۔

آغاز میں تجزیہ کاروں نے اسے آمیزون ڈاٹ بم کا نام دیا کیونکہ ان کے خیال میں یہ بہت جلد ختم ہوجائے گی مگر ایسا نہ ہوسکا۔

آج یہ دنیا بھر میں کتابوں سے لے کر لگ بھگ ہر چیز کو آن لائن فروخت کررہی ہے اور اپنے قیام کے بیس سال بعد اس کے اثاثوں کی مالیت 457 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے اور اب اس نے دنیا کی دوسری ٹریلین ڈالر کمپنی کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔

سام سنگ کی پہلا 4 بیک کیمروں والے فون کی تصدیق؟

سام سنگ نے لگتا ہے کہ دنیا کے پہلے 4 بیک کیمروں والے اسمارٹ فون کو متعارف کرانے کی تصدیق کردی ہے۔

سام سنگ نے ایک ٹوئیٹ میں خصوصی ایونٹ کا دعوت نامہ دیا ہے جو کہ 11 اکتوبر کو ہوگا، جس میں ایک نئی گلیکسی ڈیوائس متعارف کرائی جائے گی۔

اور یہ تو ناممکن ہے کہ سام سنگ کی جانب سے ایک نیا فلیگ شپ فون متعارف کرایا جائے گا، مگر توقع کی جارہی ہے کہ یہ جنوبی کورین کمپنی اس ایونٹ میں دنیا کا پہلا 4 بیک کیمروں والا اسمارٹ فون متعارف کرانے والی ہے۔

اس کا عندیہ ٹوئیٹ میں بھی موجود ہے کیونکہ کمپنی نے 4x fun کے الفاظ کو ہائی لائٹ کیا ہے اور اس سے ان افواہوں کی تصدیق ہوتی نظر آتی ہے جن کے مطابق یہ کمپنی 4 بیک کیمروں والا فون پیش کرنے والی ہے۔

۔

ویسے یہ ڈیوائس 4x زوم آپٹیکل زوم کے ساتھ بھی ہوسکتی ہے مگر اس کا امکان اس لیے کم ہے کیونکہ ابھی سام سنگ اپنے فلیگ شپ فونز میں ہی 2x آپٹیکل زوم دے رہی ہے اور کسی مڈرینج میں اس فیچر کی موجودگی مشکل لگتی ہے۔

ابھی تک صرف ہیواوے کے پی 20 پرو میں ہی بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ نظر آیا ہے، جس کے مقابلے میں سام سنگ 4 رئیر کیمروں کو ایک فون کا حصہ بنانے کی خواہشمند لگتی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ دیگر فیچرز کے مقابلے میں اب کمپنیوں کے لیے کیمرہ سیٹ اپ زیادہ اہم ہوچکا ہے اور ڈوئل کیمرہ سیٹ اپ تو سستے فونز کا بھی حصہ بننے لگا ہے۔

اس سے قبل ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ نوکیا کے فلیگ شپ فون نوکیا 9 کے بیک پر 5 کیمروں کا سیٹ اپ دیا جارہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سام سنگ کے ایونٹ کا دورانیہ گوگل پکسل تھری کے متعارف کرائے جانے کے چند دن بعد رکھا گیا ہے، تاکہ لوگوں کی توجہ گوگل کے فون سے ہٹائی جاسکے۔

سام سنگ کا یہ گلیکسی ایونٹ کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ پر 11 اکتوبر کو براہ راست دکھایا جائے گا۔

دانتوں میں نصب ہونے والا انقلابی مائیک

کیلیفورنیا: امریکی محکمہ دفاع نے ایک کمپنی سے رابطہ کیا ہے جس کے بعد دانتوں کے اندر مخصوص مائیک نصب کرکے دوسروں سے دو طرفہ رابطہ کرنا ممکن ہوگا۔

سال 2010ء میں سونیٹس ٹیکنالوجیز نے ایک آلہ سماعت بنایا تھا جسے ساؤنڈ بائٹ کا نام دیا گیا تھا۔ اس میں کان کے پیچھے مائیکروفون لگایا گیا تھا اور دانتوں کے اندر ایک سینسر رکھا گیا تھا۔ دانتوں کی تھرتھراہٹ کان کے اندر سے ہوتی ہوئی اسے آواز یا گفتگو میں تبدیل کیا کرتی تھی۔ اس مائیک کو ’مولر مائیک‘ کا نام دیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ دفاع نے اس ایجاد کو وسیع پیمانے پر استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس کے لیے نہ صرف کروڑوں ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے بلکہ اس کے بعض ماڈلز بھی زیرِ استعمال ہیں۔ خیال ہے کہ اس طرح فوجیوں کو مختلف میدانوں میں تاروں اور ہیڈ فونز سے نجات مل جائے گی۔

اس ایجاد کو گزشتہ برس ہاروے نامی سمندری طوفان میں آزمایا گیا تھا اور اب بھی کیلی فورنیا کے موفے فیلڈ میں اس پر تجربات کیے جارہے ہیں۔ یہ نظام آواز کے ارتعاشات کو کان کی ہڈی کے اندر بھیجتا ہے جس کے لیے دانت کے اندر ایک چھوٹا اور واٹر پروف ماؤتھ پیس لگایا جاتا ہے۔

اس ایجاد کی وجہ سے سماعت پر بیرونی شور کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور ماؤتھ پیس سماعت کا ایک نیا راستہ دکھاتا ہے۔ اسے ریڈیو سے جوڑ کر نیئر فیلڈ کمیونی کیشن کے تحت دوسرے شخص سے بات کی جاسکتی ہے۔ اس طرح پانی کے اندر، ہیلی کاپٹر میں اور دیگر مشکل حالات میں کسی دوسرے کو خبردار کیے بغیر ایک فوجی دوسرے سے رابطہ کرسکتا ہے۔

دوسری جانب کارخانوں، شور والے علاقوں اور جاسوسی کے لیے بھی مولر مائیک ایک بہترین ایجاد ہے۔

Google Analytics Alternative