سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

دریائی آلودگی اور سیلاب سے خبردار کرنے والا دلچسپ آلہ

برسبین: آسٹریلوی انجینئروں نے ایک پائپ نما سادہ آلہ بنایا ہے جو بہتے دریا میں پڑا تیرتا رہتا ہے۔ اس میں موجود حساس آلات ایک جانب تو دریا یا ندی میں پانی کے بہاؤ کی رفتار نوٹ کرتے رہتے ہیں تو دوسری جانب پانی میں موجود آلودہ اجزا سے فوری طور پر خبردار بھی کرتے رہتے ہیں۔

برسبین، آسٹریلیا میں واقع کوئنزلینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (کیو یو ٹی) کے ماہرین نے اس ایجاد کا نام ’دی ڈرفٹر‘ رکھا ہے۔ پائپ نما یہ آلہ بظاہر بے کار دکھائی دیتا ہے لیکن ڈرفٹرکو پروفیسر رچرڈ، ڈاکٹر کبیر اور دو دیگر سیٹلائٹ انجینئروں نے مل کر بنایا ہے۔ اس طرح یہ نظام دریاؤں میں وقتی طغیانی، آلودگی، الجی کے پھیلاؤ، پانی کی رفتار اور باقاعدہ سیلاب سے بھی خبردار کرتا ہے جس کے بعد قیمتی انسانی جانوں کو بچانے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔

تصویر میں دکھائی دینے والا ایک پی وی سی پائپ ہے جسے کئی برس کی تحقیق کے بعد بنایا گیا ہے۔ اگر آپ دریا کا بہاؤ معلوم کرنا چاہتے ہیں تو اسے کچھ دیر کےلیے پانی میں پھینک دیجئے اور وہ فوری طور پر ڈیٹا بھیجنا شروع کردے گا۔ یہ ایک ہی وقت میں پانی کا بہاؤ اور مقدار دونوں کی پیمائش کرتا ہے۔

اس طرح کسی بھی مقام سے پانی کا ڈیٹا معلوم کیا جاسکتا ہے جبکہ ڈرفٹر کو ڈور سے باندھ کر یا ڈرون سے لٹکا کر ہر ضروری جگہ کی خبر لی جاسکتی ہے۔ کم خرچ اور سادہ ڈرفٹر سم کارڈ یا بلیو ٹوتھ کے ذریعے ڈیٹا بھیج سکتا ہے۔ اس میں جی پی ایس نظام بھی موجود ہے۔ پانی پر تیرتے ہوئے یہ ایک سے دو سینٹی میٹر باہر نکلے ہوتے ہیں تاکہ ہوا کے بجائے پانی کی ولاسٹی ٹھیک طرح سے معلوم کی جاسکے۔

اسے کئی مقامات پر کامیابی سے آزمایا گیا ہے جہاں اس نے پانی کے تیزرفتار بہاؤ کو کامیابی سے نوٹ کرنے کے ساتھ ساتھ پانی میں پی ایچ (تیزابیت/ اساسیت)، گدلاہٹ، نمکیات، درجہ حرارت اور حل شدہ آکسیجن کی بھی خبر دی ہے۔

یوٹیوب فیس بک کی بالادستی کے لیے خطرہ؟

اس وقت فیس بک دنیا کی مقبول ترین ویب سائٹ یا اپلیکشن ہے، جس کے ماہانہ صارفین کی تعداد 2 ارب 20 کروڑ سے زائد ہے مگر لگتا ہے کہ بہت جلد یہ اعزاز اس سے گوگل کی ویڈیو شیئرنگ سائٹ یوٹیوب چھین سکتی ہے۔

جی ہاں یوٹیوب کے ماہانہ صارفین کی تعداد 1 ارب 90 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ ٹی وی اسکرین پر روزانہ اس سائٹ کی ویڈیوز دیکھنے کا وقت 18 کروڑ گھنٹے تک پہنچ چکی ہے۔

یوٹیوب کی سی ای او سوزن وجوسکی نے ایک بلاگ پوسٹ میں ان اعداد وشمار کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب ویڈیوز دیکھنے کے لیے ٹیلیویژن بھی اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔

اسی طرح صارفین کی جانب سے لائیکس، کمنٹس اور چیٹ وغیرہ میں بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں 60 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

لائیو اسٹریمنگ گزشتہ 3 برسوں کے دوران 10 گنا بڑھ چکی ہے اور 6 کروڑ سے زائد صارفین کمیونٹی ٹیب پوسٹس پر کلک یا انگیج ہیں۔

کمپنی نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ اسٹوریز کو 10 ہزار سے زائد سبسکرائبرز تک توسیع دینے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ ایک نیا کاپی رائٹ میچ ٹول بھی متعارف کرایا جائے گا۔

کمپنی نے کہا کہ صارفین کے اندر اسکرین کے زیادہ استعمال کو محدود کرنے کے لیے بھی فیچرز پر کام کیا جارہا ہے،اسی طرح یوٹیوب اسٹوڈیو کے نئے ڈیش بورڈ کو بھی آئندہ چند ہفتوں کے دوران پیش کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ فیس بک کے بعد مقبولیت کے لحاظ سے پہلے واٹس ایپ کو دوسرے نمبر پر سمجھا جاتا تھا جس کے صارفین کی تعداد ڈیڑھ ارب سے زائد ہے۔

تاہم اب یوٹیوب نے یہ اعزاز حاصل کرلیا ہے اور یہ ویب سائٹ فیس بک کی بالادستی کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔

ناپید شمالی سفید گینڈے کا ایمبریو تیار، معدوم نسل کی افزائش کی امید

سائنس دانوں نے ’شمالی سفید گینڈے‘ کے حال ہی میں مرنے والے آخری نر کے اسپرم اور ’جنوبی سفید گینڈے‘ کی مادہ کے انڈوں کے اختلاط سے ایمبریو تیار کرلیا جس سے اس معدوم ہونے والی نسل کی دوبارہ افزائش کے امکانات روشن ہوگئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کرہ ارض پر موجود شمالی سفید گینڈے کا آخری نر رواں سال مارچ میں مرگیا تھا جس کے بعد یہ نسل معدوم ہوگئی تھی کیوں کہ اس نسل کی صرف دو مادائیں ہی بچی ہیں جب کہ آخری نر گینڈے ’ سوڈان‘ کی باقی رہ جانے والی دو ماداؤں سے افزائش نسل کی کوششیں ماداؤں کے بانجھ ہونے کے باعث ناکام ہوگئی تھیں۔

اس ناکامی کے بعد سائنس دانوں نے اس نسل کو بچانے کے لیے ’آئی وی ایف ٹیکنالوجی‘ کی مدد لینے کا فیصلہ کیا تھا جس کے لیے نر سفید گینڈے کے اسپرم کو منجمد کرلیا گیا تھا جسے شمالی سفید گینڈے کی قریبی نسل جنوبی سفید گینڈے کی مادہ کے انڈے سے اختلاط کرایا گیا جو کہ کامیاب رہا۔ سائنس دان اس کامیاب تجربے کے بعد معدوم ہوجانے والی شمالی سفید گینڈے کی نسل کے دوبارہ پیدا ہوجانے کے لیے پُرامید ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں جب سائنس دانوں نے کسی معدوم ہوجانے والی نسل کو بچانے کے لیے جدید تولیدی ٹیکنالوجی (IVF) کا استعمال کیا ہو، اس سے قبل مینڈک کی معدوم ہو جانے والی قسم  ’گاسٹرک بروڈنگ‘ کے ایمبریوز بھی تیار کیے گئے تھے جب کہ 2003ء میں جنگلی مادہ ہرن کا کولون پیدا کرنے کے لیے ایک بکری کا رحم استعمال کیا گیا تھا تاہم وہ اپنی پیدائش کے فوراً بعد چل بسا تھا اسی طرح ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیقی ٹیم سائبیریا کی معدوم ہوجانے والی ہاتھی کے نسل کو دوبارہ زندگی دینے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب کئی سائنس دانوں کا موقف ہے کہ قدرت اور فطرت کے کاموں میں دخل اندازی کے مثبت نتائج نہیں نکلیں گے معدوم نسل کے احیاء کے بجائے ماحولیات پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر فطری لائف سائیکل کو نہ چھیڑا جائے تو کوئی نسل معدوم نہ ہو جس کے لیے انسانوں کو جنگلوں کی کٹائی، خطرناک کیمیکل کو سمندر میں بہانے اور پلاسٹک کے بے دریغ استعمال سے رکنا ہوگا۔

ناسا کا ایئر کرافٹ سورج کو چھونے کے لیے تیار

فلوریڈا: ناسا سورج کو چھونے کے لیے 6 اگست کو خصوصی اسپیس کرافٹ سولر پروب بھیجے گا۔

ناسا نے مریخ اور چاند کے بعد اب سورج کو چُھونے کی کوششیں شروع کردی ہیں جس کے تحت 6 اگست 2018 کو ایک خصوصی اسپیس کرافٹ سولر پروب لانچ کیا جائے گا جسے انتہائی طاقتور راکٹ ڈیلٹا 4 لے کر جائے گا جو عام ڈیلٹا کے مقابلے میں 55 گنا زیادہ توانائی رکھتی ہے۔ اسپیس کرافٹ سولر پروب پر 5 انچ کا کاربن کمپوزٹ سولر شیلڈ اسے سورج کی قہر ڈھانے والی شعاعوں اور حرارت سے محفوظ رکھے گا۔

پارکر سولر پروب مشن کے سائنس دان نکی فوکس نے  بتایا کہ گو کہ سورج پر تحقیق کا کام کافی عرصے سے جاری تھا تاہم اب اس پارکر سولر پروب کی وجہ سے سورج کی ساخت، افعال اور کردار کا مطالعہ کرے گا جس سے اہم معلومات حاصل ہونے کی امید ہیں اور ایسا انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہونے جا رہا ہے۔

ہائیڈروجن اور ہیلیم مل کر سورج کی سطح کو بناتے ہیں جس میں کمیت کے حساب سے ہائیڈروجن کا تناسب تقریباً 74 اور ہیلیم کا تناسب 24 فیصد ہے اس کے علاوہ دوسرے عناصر جیسے لوہا، نکل، آکسیجن، سیلیکان،سلفر، میگنیشیم، کاربن، نیون، کیلشیم اور کرومیم کی بھی معمولی مقدار موجود ہیں۔ دھوپ کی شکل میں سورج سے آنے والی توانائی ضیائی تالیف کے ذریعے زمین پر تمام حیات کو خوراک فراہم کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں اور زمین پر موسموں کی تشکیل میں بھی سورج کا اہم کردار ہوتا ہے۔

زمین سے 14 کروڑ 95 لاکھ اور 98 ہزار کلومیٹر فاصلے پر موجود سورج نظام شمسی کے مرکز میں واقع ایک سیارہ ہے جس کے گرد زمین سمیت دیگر سیارے، سیارچے اور دوسرے اجسام گردش کرتے ہیں جس کا حجم نظام شمسی کی کل کمیت کا تقریباً 99 فیصد ہے جب کہ سورج سے روشنی کو زمین تک پہنچنے میں 8 منٹ اور 19 سیکنڈ لگتے ہیں۔

دنیا کا سب سے زیادہ ریزولوشن والا فون کیمرہ سنسر متعارف

سونی کے اسمارٹ فونز ہوسکتا ہے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام ہوں مگر اس کے کیمروں کو ضرور بہترین مانا جاتا ہے۔

اور اب اس کمپنی نے اسمارٹ فونز کے لیے سب سے زیادہ ریزولوشن امیج سنسر کی تیاری کا اعلان کیا ہے جو کہ 48 میگا پکسلز کے ساتھ ہوگا۔

کمپنی کے مطابق اتنے زیادہ میگا پکسل کیمرہ سنسر سے 8000×6000 پکسلز ایچ ڈی تصاویر لی جاسکیں گی، چاہے زوم کرکے ہی تصویر کیوں نہ لی جائے۔

اس کا 0.8 مائیکرون پکسل سائز کواڈ بائر کلر فلٹر کے ساتھ کم کرکے کم روشنی میں بھی تصاویر کے معیار کو خراب نہیں ہونے دیتا۔

جب یہ سنسر اسمارٹ فونز میں کام کرے گا تو یہ دن کی روشنی میں اتنی واضح اور بڑی تصاویر کھیچنے میں مدد دے گا کہ ہیواوے کے پی 20 پرو کے 40 میگا پکسل سنسر کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔

نیچے کمپنی نے ایک 12 میگا پکسل سنسر اور اپنے 48 میگا پکسل سنسر کی تصاویر کا موازنہ پیش کیا ہے۔

فوٹو بشکریہ سونی
فوٹو بشکریہ سونی

کمپنی کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایکس 586 نامی یہ کیمرہ سنسر ڈائنامک رینج کے لحاظ سے اس وقت موجود ڈیوائسز سے 4 گنا بہتر ہے جبکہ اس سے 4 کے ویڈیوز کو 90fps، 1080p ویڈیوز کو 240fps میں لیا جاسکتا ہے۔

یہ کیمرہ سنسر رواں سال ستمبر میں 29 ڈالرز کی قیمت کے ساتھ پیش کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر اس سے لیس اسمارٹ فونز 2019 کے آغاز میں دستیاب ہوں گے۔

خیال رہے کہ ایپل کے آئی فون میں سونی کے کیمرہ سنسرز استعمال کیے جاتے ہیں تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مستقبل کے آئی فون ماڈل میں یہ کیمرہ سنسر موجود ہو۔

سام سنگ کی نئی اسمارٹ واچ کیسی ہوگی؟

سام سنگ کی جانب سے آئندہ ماہ فلیگ شپ فون گلیکسی نوٹ 9 متعارف کرایا جارہا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ جنوبی کورین کمپنی ایک نئی اسمارٹ واچ گلیکسی واچ بھی پیش کرنے والی ہے۔

یہ پہلی بار نہیں کہ سام سنگ کی جانب سے اسمارٹ واچ متعارف کرائی جارہی ہے مگر رواں برس کچھ مختلف ہونے والا ہے۔

خیال رہے کہ سام سنگ کی سب سے پہلی اسمارٹ واچ 2013 میں گلیکسی گیئر کے نام سے سامنے آئی تھی جس کے بعد گئیر ایس 2، گیئر ایس 3 اور گیئر اسپورٹ واچز پیش کی گئیں۔

اس سال سام سنگ اپنی اسمارٹ واچ سیریز میں سے گیئر کا نام نکال کر بس اسے گلیکسی واچ کا نام دینے والی ہے۔

اسی طرح سام سنگ کی جانب سے اس بار جو اسمارٹ واچ متعارف کرائی جارہی ہے وہ براہ راست ایپل واچ کے مقابلے کے لیے پیش کی جائے گی۔

یعنی اس میں ایسے متعدد فیچرز موجود ہوں گے جو کہ ایپل واچ سے ملتے جلتے ہوں گے جیسے سیلولر کنکٹیویٹی، کلر آپشنز اور بلٹ ان اسمارٹ اسسٹنٹ۔

یہ نئی گھڑی ممکنہ طور پر 1.2 انچ ڈسپلے کے ساتھ ہوگی جبکہ یہ 3 رنگوں میں دستیاب ہوگی۔

اس میں سام سنگ کا اسمارٹ واچ آپریٹنگ سسٹم ٹیزین دیا جائے گا جبکہ ڈیجیٹل اسسٹنٹ بیکسبی بھی پہلی بار ان ڈیوائسز کا حصہ بننے جارہا ہے۔

مختلف رپورٹس کے مطابق اس کی بیٹری لائف گزشتہ گھڑیوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوگی جبکہ ایل ٹی ای سپورٹ بھی موجود ہوگی۔

یہ گھڑی ممکنہ طور پر 9 اگست کو متعارف کرائے جائے گی اور 24 اگست تک صارفین کے لیے دستیاب ہوگی۔

جدید روبوٹ مصوروں کی شاہکار تصویروں نے نقادوں کو حیران کردیا

اسٹینفورڈ: دنیا بھر میں روبوٹس سے بہت سے کام لیے جارہے ہیں اور اب یہ باقاعدہ مصوری کے ماہر ہوگئے ہیں اور اس ضمن میں روبوٹ نے مصوری اور پینٹنگز کے شاہکار بناکر دنیا بھر سے داد اور انعام بھی وصول کیے ہیں۔

کئی برس قبل اسٹینفرڈ کے ایک انجینئر اینڈریو کونریو نے نے روبوٹ کو یہ فن مصنوعی ذہانت (آرٹی فیشل انٹیلی جنس)، نیورل نیٹ ورک اور فیٹ بیک لوپس کے ذریعے سکھایا اور اب یہ ایک بین الاقوامی مقابلہ بن چکا ہے۔

2018 کے روبوٹ مصوری کے مقابلے میں دنیا بھر سے 19 ٹیموں نے حصہ لیا اور اپنی جدت کے ذریعے روبوٹ سے حیرت انگیز تصاویر بنوائیں۔ بعض ماہرین نے ایسے روبوٹ بھی پیش کیے جو ماہر آرٹسٹ کی طرح کلائی اور ہاتھ گھما کر رنگ کا اسٹروک لگاتے ہیں جب کہ انہیں چلانے کےلیے جدید ترین الگورتھم اور سافٹ ویئر بھی پیش کیے گئے تھے۔

بعض ایسے روبوٹس بھی رکھے گئے جو ایک وقت میں ایک سے زائد برش سے پینٹنگ کرتے نظر آئے اور ماہرین یہ صلاحیت دیکھ کر دنگ رہ گئے۔

اس ضمن میں پہلا انعام ایک مصور روبوٹ، کلاؤڈ پینٹر کو دیا گیا جس نے ڈیپ نیورل نیٹ ورک اور جدید الگورتھم کے ذریعے ایک شاندار تصویر بنائی جس کے کئی حصے ہیں۔ اس مقابلے میں عوام اور ماہر مصور، دونوں نے ہی اپنی اپنی رائے پیش کی جس کی بنیاد پر اول نمبر پر آنے والے روبوٹ کی ٹیم کو چالیس لاکھ ڈالر انعام پیش کیا گیا جبکہ دس بہترین روبوٹس کو بھی اچھی خاصی رقم بطور انعام دی گئی۔

اول آنے والے کلاؤڈ پینٹر کو ایک امریکی انجینئر پندار وان ارمان نے بنایا تھا اور اس کا روبوٹ گزشتہ برس تیسرے نمبر پر آیا تھا۔

  پہلی اڑن گاڑی آئندہ سال فروخت کیلئے پیش ہوگی‎

اڑن کھٹولے کی کہانیاں ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں

تاہم اب یہ کہانی سے نکل کر حقیقت کا روپ دھار چکی ہے کیونکہ ٹیرافیوگا نامی کمپنی نے آئندہ سال اڑنے والی گاڑیاں فروخت کرنے کا اعلان کردیا ہے۔اس گاڑی کو ٹرانزیشن نام دیا گیا ہے اور یہ دیکھنے میں چھوٹے ہوائی جہاز کی طرح ہوگی۔ یہ اڑن گاڑی سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 400 میل تک دس ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کر سکے گی۔ پرواز کے لئے گاڑی فی گھنٹہ 5 گیلن ایندھن استعمال کرے گی۔کمپنی کا کہنا ہے کہ گاڑی میں سامان رکھنے کی جگہ کے ساتھ ساتھ مسافروں کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے اور اس میں پیراشوٹ سسٹم بھی دیا جائے گا۔ گاڑی کو چلانے کے لیے ڈرائیونگ لائسنس کے بجائے پائلٹ لائسنس کی ضرورت ہوگی۔ کمپنی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ گاڑیوں کی پروڈکشن جلد شروع کر دی جائے گی اور یہ آئندہ سال کسی بھی وقت فروخت کیلئے پیش کر دی جائینگی۔

Google Analytics Alternative