سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

موٹرولا کا پہلا 64 میگا پکسل کیمرے والا فون

موٹرولا کی جانب سے پہلا 32 میگا پکسل پوپ اپ سیلفی اور 64 میگا پکسل بیک کیمرے سے لیس اسمارٹ فون متعارف کرایا جارہا ہے۔

جی ایس ایم ایرینا کی رپورٹ کے مطابق موٹرولا ون اسمارٹ فون میں بیک پر ڈوئل کیمرا سیٹ اپ دیا جائے گا جس میں مین کیمرا 64 میگا پکسل جبکہ دوسرا 8 میگا پکسل ڈیپتھ کیمرا ہوگا۔

مین کیمرا 4 کے ویڈیو بناسکے گا جبکہ 120 فریم فی سیکنڈ سلوموشن کی صلاحیت بھی رکھتا ہوگا، کیمروں کے لیے نائٹ اور پورٹریٹ موڈ بھی دیا جائے گا۔

اس سے پہلے یہ کمپنی موٹرولا ون زوم اور ویژن میں 48 میگا پکسل کیمرا دے چکی ہے اور اب پہلی بار 64 میگا پکسل کیمرے کو متعارف کرایا جارہا ہے۔

یہ نیا فون ممکنہ طور پر 6.39 انچ آئی پی ایس ایل سی ڈی ڈسپلے سے لیس ہوگا جبکہ فنگرپرنٹ ریڈر بیک پر موجود ہوگا۔

اس کے علاوہ اسٹاک اینڈرائیڈ 10 آپریٹنگ سسٹم، اسنیپ ڈراگون 675 پراسیسر، 4 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج دی جائے گی جس میں مائیکرو ایس ڈی کارڈ سے اضافہ ممکن ہوگا۔

یو ایس بی پورٹ سی، ہیڈفون جیک اور ایف ایم ریڈیو ریسیور بھی فون میں شامل ہیں۔

یہ فون کب تک متعارف ہوگا، فی الحال واضح نہیں مگر اس کی تصاویر ضرور لیک ہوکر سامنے آچکی ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل شیاﺅمی، رئیل می اور سام سنگ بھی 64 میگا پکسل بیک کیمرے والے فون متعارف کراچکے ہیں۔

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی خواتین کے خلاف ہتھیار بن گئی

موجودہ عہد ٹیکنالوجی کا قرار دیا جاتا ہے مگر اس کے مثبت کی بجائے منفی استعمال زیادہ ہورہا ہے اور ان میں سے ایک قسم ڈیپ فیک بھی ہے جو کسی بھی شخص کی زندگی برباد کرسکتی ہے۔

ڈیپ فیک تصاویر یا ویڈیوز ایسے ہوتے ہیں جن میں نظر آنے لوگ وہ کہہ یا کررہے ہوتے ہیں جو انہوں نے کبھی کیا نہیں ہوتا اور اس مقصد کے لیے تصاویر کا کافی ڈیٹا درکار ہوتا ہے تاکہ حقیقی نظر آنے والی فوٹیج یا تصویر تیار ہوسکے۔

اور اب ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو خواتین کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔

نیدرلینڈ سے تعلق رکھنے والی ڈیپ ٹریس نامی سائبر سیکیورٹی کمپنی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک سال کے دوران آن لائن ڈیپ فیک ٹیکنالوجی سے تیار ہونے والی ویڈیوز کا 96 فیصد حصہ پورن ویڈیوز پر مشتمل تھا اور ان سب میں خواتین کے چہروں کو بدلا گیا جبکہ ان کو 13 کروڑ سے زائد بار دیکھا گیا۔

بوسٹن یونیورسٹی کے قانون کے پروفیسر ڈینیئل سائٹرون نے محققین کو بتایا کہ ڈیپ فیک کو خواتین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا ‘ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کو خواتین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ان کے چہروں کو پورن ویڈیوز میں لگایا جارہا ہے، یہ دہشت زدہ کرنے والا، شرمناک، گھناﺅنا اور زبان بندی کرنے والا ہے، ان ویڈیوز سے خواتین کے لیے آن لائن رہنا، ملازمت کا حصول یا اسے برقرار رکھنا اور خود کو محفوظ جیسے احساس کو مشکل بناسکتا ہے’۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ دسمبر 2018 سے اب تک کمپنی نے دریافت کیا گیا کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی والی ساڑھے 14 ہزار ویڈیوز آن لائن منظعام پر آئیں جو کہ اس گزشتہ سال کے مقابلے میں سوفیصد زیادہ ہیں اور ان میں سے 96 فیصد پورن ویڈیوز ہیں۔

تحقیق کے مطابق گزشتہ سال فروری سے ایسی متعدد سائٹس کام کرنے لگی ہیں جو ڈیپ فیک پورن کو جگہ دے رہی ہیں اور ان میں سے ٹاپ 4 سائٹس میں 13 کروڑ 40 لاکھ سے زائد ویوز ریکارڈ ہوئے۔

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کو آگے بڑھنے میں GitHub میں چہرے بدلنے والے مقبول الگورتھمز کی مقبولیت کا اہم کردار ہے جبکہ مشین لرننگ تیکنیکس بھی اس کی بڑی وجہ ہیں۔

رواں برس جون میں ایک ایسی موبائل ایپ سامنے آئی تھی جو کسی بھی خاتون کی بے لباس تصویر منٹوں میں تیار کردیتی تھی۔

ڈیپ نیوڈ نامی اس ایپ کے سامنے آنے کے بعد مختلف مضامین میں اس پر شدید تنقید ہوئی تھی اور اس کے غلط استعمال کے سنگین نتائج کا انتباہ بھی دیا گیا تھا، جس پر اسے فوری بند کردیا گیا تھا۔

اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ اب ایسی متعدد ایپس، آن لائن مارکیٹ پلیس اور سروسز موجود ہیں جو منٹوں میں ڈیپ فیک ویڈیوز تیار کرنے میں مدد دیتی ہیں، تو اگر کوئی ٹیکنالوجی میں ماہر نہ بھی ہو تو بھی چند روپے دے کر ایک فیک ویڈیو حاصل کرسکتا ہے۔

مائیکرو سافٹ کے ڈبل اسکرین فولڈنگ موبائل فون اور ٹیبلیٹ کی رونمائی

مائیکرو سافٹ نے دو اسکرینز والے فولڈنگ اسمارٹ فون اور ٹیبلیٹ کی رونمائی کردی جسے وہ کمپیوٹنگ کی نئی قسم قرار دے رہے ہیں۔ 

مائیکرو سافٹ کے چیف پراڈکٹ ڈیزائنر پانوس پانے نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو اپنی نئی تخلیق کے بارے میں بتایا کہ مائیکروسافٹ اپنی تخلیقات کو نئی جہت کے ساتھ متعارف کرارہی ہے، ہم نے بہت جلد سرفیس ڈیوائس کا نمونہ پیش کیا ہے اور جلد ہی ڈیولپر یونٹس کو اس کام پر لگا دیں گے۔

Micro Soft Folding Mobile and tablet 1

مائیکروسافٹ کی دو نئی پروڈکٹس کی نمایاں خصوصیات میں ’دو اسکرینز کی موجودگی، کتابچے جیسا ٹیبلیٹ اور وائر لیس ہیڈ فونز ہیں۔ مائیکرو سافٹ ٹیبلیٹ کی دو اسکرینز ہیں جو درمیان سے فولڈ ہو کر 13 انچ کی ہوجاتی ہیں۔ اسے لیپ ٹاپ کی طرح رکھا جا سکتا ہے لیکن ساتھ میں ایک کی بورڈ لگانا ضروری ہوگا جب کہ نچلی اسکرین کا کچھ حصہ کی بورڈ کے اضافی فیچر دیتا ہے۔ یہ ایپل کی ’ٹچ بار‘ جیسا ہو گا لیکن اس سے کچھ بڑا ہے۔

Micro Soft Folding Mobile and tablet 2

دوسری طرف مائیکرو سافٹ کے موبائل فون سرفیس ڈیو 8.3 انچ کا اسمارٹ فون ہے اور یہ گوگل کے موبائل آپریٹنگ سسٹم کے ذریعے کام کرے گا۔ ٹیبلیٹ کی طرح موبائل فون کو بھی درمیان سے فولڈ کیا جا سکتا ہے جس سے دونوں اسکرینز پر الگ الگ کام کرسکتے ہیں۔  تاہم مائیکروسافٹ نے ان دونوں پروڈکٹس کی قیمت نہیں بتائی ہے۔

Micro Soft Folding Mobile and tablet 3

علاوہ ازیں ایپل اور ایمازون کی طرح مائیکرو سافٹ نے وائر لیس ہیڈ فون بھی متعارف کرائے ہیں، جن کا نام سرفیس ایئر بڈز ہے جس کے لیے 3-ڈی ٹیم نے ہزاروں شکلوں اور سائزوں کے ہیڈ فون بنائے تاکہ انھیں کان سے نکلنے سے روکا جا سکے اور صارفین کی عام شکایات کا ازالہ کرنے کے لیے ان ہیڈ فونز کو  ہزاروں کانوں پر انھیں آزمایا ہے۔ ان کی قیمت 249 ڈالر ہے جو ایمازون کے ایکو بڈز اور ایپل کے ایئر پوڈز سے قدرے مہنگا ہے۔

Micro Soft Folding Mobile and tablet 4

اسمارٹ فون کی بیٹری چند ماہ میں کمزور کیوں ہوجاتی ہے؟

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ آپ کے اسمارٹ فون کی بیٹری ایک سال کے اندر ہی کمزور ہو جاتی ہے یا یوں کہہ لیں کہ اسے جلد چارج کرنا پڑتا ہے۔

مگر ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اور اس سے بچنا ممکن ہے یا نہیں؟

ویسے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اسمارٹ فونز کا استعمال اب روزمرہ کا حصہ بنتا جارہا ہے اور ان کی چارجنگ کا مسئلہ دن بدن بڑھتا چلاجا رہا ہے ۔

مگر اس کی وجہ کافی سادہ ہوتی ہے اور وہ یہ لیتھیم اون بیٹریاں (اسمارٹ فونز میں یہی استعمال ہوتی ہیں) کی زندگی عموماً 500 سائیکل (لگ بھگ ڈیڑھ سال اگر روزانہ ایک بار چارج کیا جائے) ہوتی ہے۔

ایک بیٹری سائیکل سے مراد صفر سے سو فیصد تک ایک بار چارجنگ ہے، تو آپ کا فون جتنی بارمکمل سائیکل کے عمل سے گزرے گا، اتنا ہی جلد اسے بدلنے کی ضرورت بھی محسوس ہوگی۔

موبائل فون رییپئر بزنس سے منسلک ایک کمپنی موبائل کلنک کی ڈائریکٹر لز ہیملٹن کے مطابق اسمارٹ فون کی بیٹری لیتھیم اون کی ہوتی ہے اور اس کے اندر کیمیائی ری ایکشن اسے کمزور بناتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر آپ کسی بیٹری کے اندر دیکھیں تو آپ مختلف طرح کی تہوں کو ایک دوسرے میں سینڈوچ بنا دیکھیں گے۔

ان تمام میٹریلز کے تین سیکشن ہوتے ہیں، نیگیٹو، گریفائٹ اور کاپر۔

بیٹری کی نیگیٹو سائیڈ وہ ہوتی ہے جہاں پاور ذخیرہ ہوتی ہے جبکہ پوزیٹو سیکشن میں اس جمع ہونے والی پاور کو استعمال کیا جاتا ہے اور ایک الیکٹرو لیٹ پولی مر ایسا ہوتا ہے جو ان دونوں کے درمیان سپلائی کو ہموار رکھنے کا کام کرتا ہے۔

ایک کیمیائی ری ایکشن دونوں سیکشنز کے درمیان ہوکر فون کو چلاتا ہے مگر اس پراسیس کے دوران الیکٹرون اپنے لیتھیم ایٹمز پیچھے چھوڑ دیتے ہیں جو بیٹری کو ری چارج ایبل بناتے ہیں۔

آسان الفاظ میں اسے فل چارج سرکل کہا جاتا ہے مگر ہر بار ایسا کرنے سے بیٹری کے میٹریل میں کمی آنے لگتی ہے اور وہ پہلے کی طرح الیکٹرکل چارج کو کنٹرول میں رکھنے کی صلاحیت سے محروم ہونے لگتی ہے۔

لز ہیملٹن کا کہنا تھا کہ بہتر یہ ہے کہ فون کی بیٹریوں کی زندگی بڑھانے کے لیے کوشش کریں کہ اسے مکمل چارج کرنے سے گریز کریں اور 25 سے 85 فیصد تک چارجنگ کے بعد فون کو چارجر سے نکال لیں۔

آسان الفاظ میں فون کی بیٹری کو مکمل صفر تک پہنچانے سے گریز کی کوشش کریں اور جب چارج کریں تو 85 فیصد پر پہنچنے کے بعد چارجر نکال دیں، اگر نہیں کرپائے اور بیٹری مکمل چارج ہوگئی تو ڈیوائس کو چارجر پر لگا نہ چھوڑیں۔

ایسا مسلسل کرنا برقی ڈیوائسز کی عمر بہت تیزی سے کم کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ رات کو فون چارج پر لگا کر چھوڑنا طویل المعیاد بنیادوں پر ڈیوائس کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔

اگر آپ بیٹری کی زندگی زیادہ عرصے تک برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو چند چیزوں پر عمل کو اپنا لیں۔

جب ضرورت نہ ہو تو وائی فائی اور بلیو ٹوتھ کو بند کردیں۔

اپنے فون کو کمرے کے درجہ حرارت میں ہی رکھیں۔

فون کی برائٹنس کو سو فیصد تک نہ بڑھائیں۔

بیٹری کو متاثر کرنے والے فیچرز جیسے فیس بک آٹو پلے کو ٹرن آف کردیں۔

جب ممکن ہو فون کو لو پاور موڈ پر استعمال کریں۔

پاکستان میں پہلی بار 48 میگا پکسل کیمرے والا فون متعارف

اوپو کی ذیلی کمپنی رئیل می نے اپنے نئے فونز پاکستان میں متعارف کرا دیئے ہیں۔

رئیل می 5 سیریز کے دونوں فونز مڈرینج سمجھے جاسکتے ہیں اور کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے ایک پاکستان میں متعارف کرائے جانے والا پہلا 48 میگا پکسل مین کیمرے سے لیس فون ہے۔

یہ فون گزشتہ دنوں لاہور میں ایک ایونٹ دوران پیش کیے گئے تھے۔

رئیل می 5

6.5 انچ ڈسپلے والے اس فون میں قطرے کی شکل کا نوچ موجود ہے ، اس کے علاوہ اسنیپ ڈراگون 665 پراسیسر دیا گیا ہے جبکہ 3 سے 4 جی بی ریم اور 64 سے 128 جی بی اسٹوریج کے آپشن دیئے گئے ہیں جبکہ ایس ڈی کارڈ سے اس میں 256 جی بی اسٹوریج کا مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

اینڈرائیڈ 9 کا امتزاج کمپنی نے اپنے کلر او ایس 6 سے کیا ہے اور اسے جلد اینڈرائیڈ 10 سے اپ گریڈ کردیا جائے گا۔

5000 ایم اے ایچ بیٹری کے ساتھ 10 واٹ فاسٹ چارجنگ سپورٹ دی گئی ہے۔

فون کے بیک پر 12 میگا پکسل مین کیمرا، 8 میگا پکسل الٹرا وائیڈ اینگل کیمرا، 2 میگا پکسل پورٹریٹ لینس اور 2 میگا پکسل الٹرا میکرو کیمرا دیا گیا ہے جبکہ فرنٹ پر 13 میگا پکسل کیمرا موجود ہے۔

رئیل می 5 پرو

اس فون میں 6.3 انچ کا ایف ایچ ڈی پلس ڈیو ڈراپ نوچ والا ڈسپلے دیا گیا ہے جبکہ اسنیپ ڈراگون 712 پراسیسر موجود ہے۔

اس میں 4 سے 8 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے جس میں ایس ڈی کارڈ سے 256 جی بی تک اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

اس میں بھی اینڈرائیڈ 9 کا امتزاج کمپنی نے اپنے کلر او ایس 6 سے کیا ہے اور اسے جلد اینڈرائیڈ 10 سے اپ گریڈ کردیا جائے گا۔

اس کے بیک پر 4 کیمروں کا سیٹ اپ ہے جس میں مین کیمرا 48 میگا پکسل کا ہے، دوسرا 8 میگا پکسل الٹرا وائیڈ لینس، 2 میگا پکسل میکرو کیمرا اور چوتھا 2 میگا پکسل ڈیپتھ لینس دیا گیا ہے، جبکہ فرنٹ پر 16 میگا پکسل کیمرا موجود ہے۔

اس میں 4035 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے جس کے ساتھ 20 واٹ فاسٹ چارجنگ سپورٹ دی گئی ہے اور کمپنی کے مطابق 30 منٹ میں بیٹری 50 فیصد تک چارج ہوسکتی ہے۔

قیمت

رئیل می 5 کا تھری جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج والا فون 23 ہزار 999 روپے، 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج والا ورژن 25 ہزار 999 روپے جبکہ 4 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج والا ماڈل 31 ہزار 999 روپے میں دستیاب ہے۔

رئیل می 5 پرو کا 4 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج والا فون 39 ہزار 999 روپے جبکہ 8 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج والا ماڈل 43 ہزار 999 روپے میں 8 اکتوبر سے آف لائن مارکیٹ میں دستیاب ہوگا۔

ایپل کا سستا آئی فون متعارف کرانے کا ارادہ

ایپل نے ایک چھوٹا اور سستا مگر آئی فون 11 جتنا طاقتور آئی فون آئندہ چند ماہ میں متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپنی کی جانب سے یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے جب اس کے نئے آئی فون 11، 11 پرو اور 11 پرو میکس گزشتہ سال کے مقابلے میں لوگوں کی توجہ کا زیادہ مرکز بنے ہوئے ہیں۔

امریکی جریدے فوربس کی رپورٹ میں میک ریورمرز کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ ایپل بہت جلد آئی فون ایس ای کے اپ ڈیٹ ورژن کو پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یہ دعویٰ ایپل کے اندرونی حلقوں کی تفصیلات سامنے لانے والے تجزیہ کار منگ چی کیو نے کرتے ہوئے بتایا کہ اگلے سال کے شروع میں ممکنہ طور پر اسے متعارف کرایا جائے گا جو کہ اندر سے آئی فون 11 پرو جتنا طاقتور ہون ےکے باوجود کافی سستا ہوگا۔

اس ممکنہ آئی فون ایس ای 2 میں نئی اے 13 بائیونک چہ دی جائے گی جو اس وقت آئی فون 11 سیریز میں موجود ہے جبکہ 3 جی بی ریم دیئے جانے کا امکان ہے جو کہ آئی فون 11 کا بھی حصہ ہے۔

تجزیہ کار کا ماننا ہے کہ یہ ان لاکھوں صارفین کے لیے بہترین آئی فون ہوگا جو آئی فون 11 پر 700 ڈالرز خرچ نہیں کرنا چاہتے۔

یہ نیا فون دیکھنے میں آئی فون 8 جیسا ہوگا جس میں ٹچ آئی ڈی کا فیچر موجود تھا اور ممکنہ طور پر آئی فون ایس ای 2 میں بھی ہوگا، جبکہ بیک کیمرا بھی ایک ہی ہونے کا امکان ہے۔

اس وقت ایپل کی جانب سے آئی فون 8 کو 449 ڈالرز میں فروخت کیا جارہا ہے جبکہ پہلا آئی فون ایس ای 349 ڈارلز کا تھا جب اس کو بنانے کا سلسلہ منقطع کیا گیا، جبکہ اس کے بعد آئی فون ایکس آر ہے جس کی قیمت 599 ڈالرز ہے تو ممکنہ طور پر آئی فون ایس ای 2 کی قیمت 500 سے 600 ڈالرز کے درمیان ہوسکتی ہے۔

اس کے مقابلے میں آئی فون 11 کی قیمت 700 ڈالرز، آئی فون 11 پرو کی 999 اور 11 پرو میکس کی قیمت 1099 ڈالرز سے شروع ہوتی ہے۔

ایپل نے مجھے دھوکے سے ہم جنس پرست بنایا، آئی فون صارف نے مقدمہ دائر کردیا

روسی آئی فون صارف نے امریکی ادارے ایپل پر انہیں ہم جنس پرست بنانے کا الزام لگاتے ہوئے 10 لاکھ روسی روبل (24 لاکھ روپے) ادا کرنے کا دعویٰ کردیا۔

اوڈیٹی سینٹرل کی رپورٹ کے مطابق روسی انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والے عدالتی درخواست میں مذکورہ شخص نے الزام لگایا کہ 2017 میں ان کے آئی فون میں ورچوئل والٹ پر غلط کرپٹو کرنسی ملنے کی وجہ سے وہ ہم جنس پرست بنے۔

درخواست گزار ڈی رازومیلوف نامی شخص نے دعویٰ کیا کہ انہیں ایل جی بی ٹی برادری کے اراکین کے لیے بنائی گئی کرپٹو کرنسی کے 69 گے کوائنز نامعلوم شخص کی جانب سے موصول ہوے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں موصول کرپٹو کرنسی کے ساتھ پیغام لکھا تھا کہ ‘اسے اس وقت تک استعمال نہیں کرنا جب تک تم آزما نہ لو’۔

انہوں نے بتایا کہ ‘مجھے اس بات نے ہم جنسی پرستی کو آزمانے پر مجبور کیا اور میں اس طرح سے جنس پرست ہوگیا’۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ‘مجھے لگا کہ میں کسی کے بارے میں کوئی رائے بغیر آزمائے کیسے قائم کرسکتا ہوں اور اس لیے میں نے ہم جنس پرستی کو آزمایا اور 2 ماہ بعد میرے ہم جنس شخص سے مجھے محبت ہوگئی اور اب میں اس سے باہر نہیں آسکتا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میرا ایک بوائے فرینڈ ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ میں یہ بات اپنے والدین کو کیسے بتاؤں، اس پیغام کی وجہ سے میری زندگی تبدیل ہوگئی اور اب یہ دوبارہ کبھی درست نہیں ہوسکتی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ایپل نے مجھے دھوکے سے ہم جنس پرست بنایا ہے، اس تبدیلی سے مجھے ذہنی دباؤ کا سامنا ہے’۔

ان کے وکیل نے روسی میڈیا کو بتایا کہ ان کا مقدمہ بہت سنگین ہے اور ان کے موکل کو ایپل کے اقدامات سے پریشانیاں اٹھانی پڑ رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پیغام تھرڈ پارٹی ایپلی کیشن سے موصول ہوا تاہم ایپل اس کے پلیٹ فارم پر ملنے والی تمام سروسز کی ذمہ داری قبول کرتا ہے جس کی وجہ سے ایپل کو معاوضے کے طور پر 10 لاکھ روبلز ادا کرنے چاہیے’۔

اوبر کی ہیلی کاپٹر سروس نیویارک میں متعارف

کیا آپ ہیلی کاپٹر پر ایک جگہ سے دوسری جگہ رائیڈ شیئرنگ سروس کے ذریعے جانا پسند کریں گے؟

اگر ہاں تو نیویارک میں اوبر نے پہلی بار ہیلی کاپٹر سروس متعارف کرادی ہے جو مین ہیٹن سے جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ تک 200 ڈالرز کے عوض لے جاتی ہے۔

اسے اوبر کاپٹر کا نام دیا گیا ہے جو اب اس رائیڈ شیئرنگ ایپ کے تمام صارفین کے لیے دستیاب ہے، اس سے پہلے یہ صرف پریمیئم صارفین کے لیے ہی دستیاب ھتی۔

7 اکتوبر سے اس سروس کا آغاز ہورہا ہے جس کے لیے فی فرد 200 سے 225 ڈالرز لیے جائیں گے۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس سروس کا مقصد سفری وقت کو کم کرنا ہے مگر خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق مڈ ٹاﺅن آفس سے ائیرپورٹ پہنچنے تک 70 منٹ لگ جاتے ہیں، جس کے دوران ایک سب وے رائیڈ اور ہیلی کاپٹر تک جانے اور ائیرپورٹ سے نکلنے کے لیے 2 اوبر رائیڈز بھی لینا پڑتی ہے۔

اور یہ وقت اتنا ہے جتنا ایک ٹیکسی عام ٹریفک میں منزل تک پہنچانے کے لیے لگاتی ہے۔

اس ستوس کا آغاز جون میں پلاٹینیم اور ڈائمنڈ صارفین کے لیے ہوا تھا اور ایک ہیلی کاپٹر میں 5 افراد سفر کرسکتے ہیں جو اپنے ساتھ ایک بیگ اور ہینڈ بیگ یا لیپ ٹاپ کیس لے جاسکتے ہیں۔

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

سروس استعمال کرنے والے ہر مسافر کو ایک سیفٹی ویڈیو بھی ٹیک آف سے پہلے دیکھنا ضروری ہے اور ہیلی کاپٹر پر بیٹھنے کے بعد ائیرپورٹ میں پہنچنے کے لیے 8 منٹ کا وقت لگتا ہے۔

اس سے پہلے رواں سال اسی کمپنی نے آسٹریلیا میں رائیڈ شیئرنگ سب میرین کی سہولت بھی متعارف کرائی تھی۔

اوبر نے کوئنزلینڈ، آسٹریلیا کی شراکت کے ساتھ آبدوز کی سہولت پیش کی تھی اور عام اوبر ایپ کی مدد سے سب میرین کو طلب کیا جاسکتا تھا۔

یہ سروس صرف 4 ہفتوں کے لیے تھی۔

ایک گھنٹے کے راﺅنڈ ٹرپ رائیڈ کا آغاز کوئنزلینڈ کے مختلف شہروں سے ہوا اور اس سروس کو استعمال کرنے والوں کو اپنی منزل کا پتا گریٹ بیرئیر ریف کے طور پر درج کرنا ہوتا تھا، جس کے بعد اوبر آپریٹر کی جانب سے کال کرکے تصدیق کی جاتی کہ یہ غیرمعمولی رائیڈ غلطی سے تو بک نہیں ہوگئی۔

Google Analytics Alternative