سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

گھر کی وہ اشیا جو وائی فائی کی رفتار متاثر کریں

کیا آپ کو اکثر ناقص رفتار والے انٹرنیٹ کنکشن کا سامنا ہوتا ہے جو ذہنی تناﺅ میں اضافے کا باعث بنتا ہے؟

براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی رفتار پاکستان میں کیسی ہے وہ کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں، اکثر افراد اس سے پریشان بلکہ ذہنی جھنجھلاہٹ کا شکار ہوتے ہیں۔

یقیناً اکثر اس کی وجہ راﺅٹر کی سیٹنگز یا کمپنی کی جانب سے ناقص سروس کی فراہمی ہوسکتی ہے مگر ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کے گھر کی کچھ چیزیں وائی فائی کنکشن کو متاثر کردیتی ہیں۔

جی ہاں راﺅٹر کو چند چیزوں کے قریب یا ان پر ہی رکھ دینا وائی فائی سگنلز کو متاثر کرکے انٹرنیٹ کی رفتار کم کردیتا ہے۔

یہاں جانیں کہ گھر کی کونسی اشیا وائی فائی کی دشمن ہوتی ہیں۔

دھاتی سطح اور فرنیچر

دھاتی یا میٹل سطح کنڈکٹر ہوتی ہے یعنی بجلی جذب کرسکتی ہیں، اب وائی فائی الیکٹرو میگنیٹک (برقی مقناطیسی) لہریں خارج کرتا ہے تو گھر میں کوئی بھی دھاتی سطح یا چیز ان لہروں کو پھیلنے سے روکتی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ گھر کا انٹرنیٹ کنکشن مسائل سے پاک رہے تو یہ ضروری ہے کہ راﺅٹر کو میٹل کے قریب نہ رکھیں۔

اینٹیں اور پتھروں کی دیوار

کچھ اقسام کی دیواریں وائی فائی سگنل روکتی ہیں، جیسے ماربل، سیمنٹ، کنکریکٹ، پلاسٹر اور انتٹیں وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ 2 منزلہ گھروں میں رہنے والے افراد کو عموماً سست رفتار انٹرنیٹ کنکشن کا سامنا کسی ایک منزل میں ہوتا ہے، اس مسئلے کا حل راﺅٹر کو دیوار سے دور کسی کھلی جگہ پر رکھنا ہے۔

شیشے

آئینے میں ہمارا عکس دکھانے کے لیے جو میٹریل استعمال ہوتا ہے وہ راﺅٹر سے خارج ہونے والی لہروں کو بھی پلٹا دیتا ہے، یعنی آئینہ ایک ڈھال کی طرح کام کرکے انٹرنیٹ کنکشن کو باﺅنس کردیتا ہے، اگر آئینہ راﺅٹر کے قریب ہو تو وائی فائی سنگل کمزور اور غیرمستحکم ہوسکتے ہیں۔

فریج اور واشنگ مشین

ایک عام اصول ہے کہ ایسی برقی مصنوعات جو پانی کی گردش کرتی ہوں وہ وائی فائی سنگلز کے لیے زیادہ دوستانہ مزاج نہیں رکھتیں۔ پانی وائرلیس لہروں کی کچھ توانائی کو جذب کرلیتا ہے جس سے انٹرنیٹ کنکشن کا معیار متاثر ہوتا ہے۔

آرائشی روشنیاں

رنگارنگ ایل ای ڈی آرائشی لائٹس بھی گھر میں کمزور وائی فائی سگنل کا باعث بن سکتی ہیں، ان لائٹس میں ایسی چپس ہوتی ہیں جو ایک مقناطیسی میدان بناتی ہیں جو راﺅٹر سے خارج ہونے والی برقی لہروں کو متاثر کرتی ہیں۔

مائیکرو ویو

مائیکرو ویو ایسی ڈیوائس ہے جس کا فریکوئنسی اسپیکٹرم وائی فائی سے ملتا جلتا ہے، اگر راﺅٹر مائیکرو ویو کے قریب ہو تو بہتر ہوگا کہ اسے مائیکرو ویو سے اوپر کسی جگہ رکھ دیں تاکہ مائیکرو ویو انٹرنیٹ کنکشن کو متاثر نہ کرسکے۔

وائرلیس سگنلز والی ڈیوائسز

بلیوٹوتھ اسپیکر بھی وائرلیس سگنلز کو متاثر کرتے ہیں، تو روٹر کو ایسے اسپیکر سے دور ہی رکھیں، یا اگر بے بی مانیٹرز کا استعمال کرتے ہیں تو بھی وائی فائی روٹر کو اس سے دور رکھیں۔

امریکی صدر کا ہواوے موبائل کے حوالے سے بڑا فیصلہ

اوساکا: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں پر ہواوے کو آلات اور ٹیکنالوجیز فروخت کرنے پر عائد پابندی کو ختم کردیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جاپان کے شہر اوساکا میں جی-20 سمٹ کے دوران امریکی صدر کی چینی ہم منصب کے ساتھ ملاقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تلخیاں ختم ہوگئیں اور ہواوے موبائل کے مستقبل کے حوالے سے بھی اہم فیصلہ کیا گیا۔

صدر ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں کو چینی موبائل کمپنی ہواوے موبائلز کو اپنی مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ دراصل یہ امریکی کمپنیاں ہی ہیں جنہوں نے ہواوے موبائل کو معروف پروڈکٹ بنایا۔

قبل ازیں ہواوے اپنی مصنوعات کی تیاری کے لیے اہم آلات اور ٹیکنالوجیز امریکی کمپنیوں سے خریدا کرتی تھی، امریکی صدر نے کینیڈا میں ہواوے کمپنی کی ایگزیکیٹو پر جاسوسی کا الزام عائد کرے امریکی کمپنیوں کو ہواوے کو آلات فروخت کرنے پر پابندی لگادی تھی۔

علاوہ ازیں امریکا نے ہواوے کی 5-جی ٹیکنالوجی کو ملکی سیکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کرنے کی عالمی مہم بھی چلائی تھی جس کے باعث ہواوے کو پریشانی کا سامنا تھا اور اس نے اینڈرائیڈ کے متبادل کے طور سافٹ متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا تھا۔

 

سام سنگ گلیکسی نوٹ 10 کی مزید تصاویر لیک

سام سنگ کی جانب سے رواں سال گلیکسی نوٹ 10 کے کم از کم 2 ورژن متعارف کرائے جائیں گے اور اس حوالے سے تقریب ممکنہ طور پر 7 اگست کو نیویارک میں ہوگی۔

مگر لوگوں کو یہ انتظار کرنے کی ضرورت نہیں کہ یہ فون کیسے ہوگا کیونکہ گلیکسی نوٹ پلس کی لائیو فوٹوز انٹرنیٹ پر لیک ہوگئی ہیں۔

اور ہاں اس لیک سے یہ بھی معلوم ہوگیا ہے کہ نوٹ سیریز کے اس بڑے ماڈل کا نام گلیکسی نوٹ 10 پرو کی بجائے گلیکسی نوٹ 10 پلس رکھا جائے گا جو لیک تصویر کی بوٹ اسکرین پر لکھا نظر آیا۔

ان تصاویر میں فون کا ڈسپلے بھی دیکھا جاسکتا ہے اور اندازہ ہوتا ہے کہ بیزل پہلے سے کم کیے گئے ہیں جبکہ سائیڈ خم کے ساتھ ہیں۔

اس کے اوپری حصے میں درمیان میں پنچ ہول سیلفی کیمرا دیا گیا ہے جبکہ فنگر پرنٹ سنسر بھی ڈسپلے کے اندر موجود ہے جیسا گلیکسی ایس 10 پلس میں دیا گیا۔

اس سے قبل جو لیکس سامنے آئی تھیں ان کے مطابق یہ سام سنگ کا پہلا فون ہوگا جس میں اوپری اور نچلے بیزل کو لگ بھگ ختم کردیا گیا ہے جبکہ پنچ ہول کیمرا سائیڈ کی بجائے اسکرین کے اوپر سینٹر میں دیاجائے گا۔

مختلف افواہوں کے مطابق گلیکسی نوٹ 10 کا ایک ماڈل 6.75 انچ اسکرین کے ساتھ ہوگا جبکہ دوسرے ورڑن میں 6.3 انچ ڈسپلے دیا جائے گا۔

گلیکسی نوٹ 10 میں 45 واٹ چارجنگ اسپیڈ دیئے جانے کا امکان ہے جو کہ پہلی بار جنوبی کورین کمپنی کے کسی فون میں دی جائے گی۔

ایسا بھی کہا جارہا ہے کہ گلیکسی نوٹ پلس میں سپر امولیڈ ڈسپلے کے ساتھ ایکسینوس 9828 پراسیسر یا اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر دیا جائے گا۔

اس فون میں اینڈرائیڈ پائی آپریٹنگ سسٹم ہوگا مگر اسے بعد میں اینڈرائیڈ کیو سے اپ ڈیٹ کردیا جائے گا۔

دنیا کی تیز ترین اسمارٹ فون چارجنگ ٹیکنالوجی سامنے آگئی

چینی کمپنی ویوو نے دنیا کی تیز ترین اسمارٹ فون چارجنگ ٹیکنالوجی متعارف کرا دی ہے جو محض 13 منٹ میں 4000 ایم اے ایچ بیٹری کو مکمل چارج کرسکتی ہے۔

شنگھائی میں 26 جون کو شروع ہونے والی موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران ویوو کی جانب سے سپرفلیش چارج 120 واٹ نامی تیز ترین چارجنگ ٹیکنالوجی متعارف کرائی۔

یہ فون تاحال کمرشل فونز کے لیے تو پیش نہیں کی گئی مگر کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی مدد سے 4000 ایم اے ایچ بیٹری کو 13 منٹ میں مکمل چارج کیا جاسکتا ہے جو کہ حیران کن پیشرفت ہے۔

یہ اس لیے اہم پیشرفت ہے کیونکہ اس وقت بیشتر اسمارٹ فونز میں 4000 ایم اے ایچ سے کم طاقت کی بیٹریاں موجود ہیں یہاں تک کہ آئی فون ایکس ایس میکس میں 3174 ایم اے ایچ بیٹری ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال ہواوے نے اپنے فولڈ ایبل فون میٹ ایکس کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ اس ڈیوائس کی 4500 ایم اے ایچ بیٹری 30 سے 40 منٹ میں مکمل چارج کی جاسکتی ہے۔

یہاں تک کہ ایپل کی اپنی فاسٹ چارجنگ ٹیکنالوجی بھی آئی فون ایکس ایس کی 2658 ایم اے ایچ آدھے گھنٹے میں صرف 50 فیصد ہی چارج کرپاتی ہے۔

دوسری جانب ویوو کی نئی ٹیکنالوجی کسی اسمارٹ فون کی 50 فیصد بیٹری چارج کرنے کے لیے 5 منٹ کا وقت لیتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی میں کاسٹیوم یو ایس بی سی کیبل کو 120 واٹ چارجر کے ساتھ لگایا جاتا ہے، تاکہ کم از کم وقت میں بیٹری کو چارج کیا جاسکے۔

یہ واضح نہیں کہ ویوو کی یہ تیز ترین ٹیکنالوجی عام صارفین کے لیے کب تک دستیاب ہوگی۔

واٹس ایپ اسٹیٹس اب دیگر ایپس میں شیئر کرنے کا فیچر متعارف

واٹس ایپ نے اپنے صارفین کو واٹس ایپ اسٹیٹس فیس بک اور دیگر اپلیکشنز میں شیئر کرنے کے فیچر پر کام شروع کردیا ہے۔

اس فیچر کی آزمائش واٹس ایپ کے بیٹا پروگرام میں بدھ (26 جون) سے شروع ہوگئی ہے جس کی مدد سے صارفین اپنا اسٹیٹس فیس بک اسٹوری کے طور پر استعمال کرسکیں گے یا کسی اور ایپ جیسے انسٹاگرام، جی میل یا گوگل فوٹوز میں سینڈ کرسکیں گے۔

خیال رہے کہ واٹس ایپ اسٹیٹس اس میسجنگ ایپ میں اسٹوری کے طور پر کام کرتا ہے جس میں تصاویر، ٹٰکسٹ اور ویڈیوز کو پروفائل میں پوسٹ کیا جاتا ہے جو 24 گھنٹے بعد غائب ہوجاتے ہیں۔

دی ورج کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ صارفین کو اپنا اسٹیٹس اسٹوری کے طور پر شیئر کرنے کے لیے اپنا اکاﺅنٹ فیس بک اکاﺅنٹ سے لنک کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، یہ کام آئی او ایس اور اینڈرائیڈ میں ڈیٹا شیئرنگ اے پی آئی کے ذریعے ہوگا۔

اسی طرح صارف اپنی ڈیوائس میں موجود متعدد ایپس میں واٹس ایپ اسٹیٹس کو شیئر کرسکیں گے مگر کوئی بھی اکاﺅنٹ لنک نہیں ہوگا۔

اسی طرح اسٹیٹس کو خودکار طور پر کسی اور پلیٹ فارم پر شیئر کرنے کا آپشن نہیں ہوگا بلکہ صارفین کو خود اسے شیئر کرنے کے لیے منتخب کرنا ہوگا۔

کمپنی کے مطابق اگر صارف فیس بک کی زیرملکیت سروس جیسے انسٹاگرام پر اپنا اسٹیٹس شیئر کریں گے تو دونوں پوسٹس فیس بک سسٹمز میں بالکل علیحدہ ایونٹس ہوں گے اور ان میں کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

خیال رہے کہ واٹس ایپ فیس بک سے ڈیٹا شیئرنگ کے تاثر کے حوالے سے کافی محتاط رویہ اختیار کرتی ہے کیونکہ یہ بیشتر ممالک میں بہت زیادہ حساس معاملہ ہے۔

2016 میں جب کمپین نے اعلان کیا تھا کہ وہ صارفین کا ڈیٹا فیس بک سے شیئر کرے گی تو فیس بک کو فرانس اور جرمنی میں ایسا کرنے سے روک دیا گیا تھا جبکہ یورپین کمیشن نے اس بنیاد پر 12 کروڑ ڈالرز سے زائد کا جرمانہ فیس بک پر عائد کیا تھا۔

یہ فیچر اس وقت سامنے آیا ہے جب فیس بک کی جانب سے تمام میسجنگ ایپس یعنی انسٹاگرام، واٹس ایپ اور میسنجر کو یکجا کیا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ 2017 میں متعارف کرائے جانے والا واٹس ایپ اسٹیٹس کو روزانہ 50 کروڑ افراد استعمال کرتے ہیں اور 2020 میں واٹس ایپ میں اشتہارات دکھانے کے لیے بھی اسٹیٹس کو ہی استعمال کیا جائے گا۔

وائی فائی یا موبائل کنکشن کے بغیر کال کرنے میں مددگار ایپ

اسمارٹ فونز تو سب سے استعمال کرتے ہیں اور میسجنگ اپلیکشنز کے ذریعے دیگر افراد سے رابطے میں رہتے ہیں، مگر کئی بار ایسا ہوتا ہے جب کسی وجہ سے وائی فائی یا موبائل کنکشن تک رسائی ناممکن ہوجاتی ہے، ایسے حالات کے لیے ایک ایپ حل بن کر سامنے آئی ہے۔

میش ٹاک نامی یہ ایپ صارفین کو کالز، تحریری پیغامات، تصاویر یا ویڈیوز وغیرہ بغیر موبائل فون کنکشن، ڈیٹا، وائی فائی یا انٹرنیٹ کے بھیجنے اور موصول کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے ۔

جی ہاں واقعی موبائل فون بنانے والی کمپنی اوپو نے اس نئی کمیونیکشن ٹیکنالوجی کو اس ایپ میں متعارف کرایا ہے جو لوگوں کو سیلولر نیٹ ورکس، وائی فائی یا بلیوٹوتھ کے بغیر لوگوں کو چیٹ یا کال کی سہولت فراہم کرے گی۔

کمپنی کے مطابق یہ ایپ چار دیواری سے باہر 3 کلومیٹر کے علاقے کو کور کرسکے گی بلکہ پرہجوم ماحول میں یہ زیادہ فاصلے تک کام کرسکے گی۔

یہ ایپ اوپو کے فونز پر کام کرے گی اور ان ڈیوائسز میں ایک ایڈہاک لوکل ایریا نیٹ ورک وسیع علاقے کے لیے تیار کرے گی جس سے لوگ بغیر کسی کنکشن یا انٹریٹ کے بھی ایک دوسرے سے بات کرسکیں گے۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ میش ٹاک سے بیٹری لائف متاثر نہیں ہوگی اور 72 گھنٹے اسٹینڈبائی موڈ پر بھی کام کرے گی تاکہ چارج نہ ہونے یا ہنگامی حالات میں بھی لوگ اس ایپ کے ذریعے مدد حاصل کرسکیں یا اپنے پیاروں سے رابطہ کرسکیں۔

ویسے تو ایسی دیگر ایپس بھی موجود ہیں جو وائی فائی یا سیلولر کنکشن کے بغیر کام کرتی ہیں مگر اوپو کی ایپ اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے تیار کی گئی ہے اور آپ ڈیوائس کو ڈبے سے نکالتے ہی دیگر سے رابطے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ایپ اس وقت مددگار ثابت ہوسکے گی جب صارفین انٹرنیٹ کی رسائی سے محروم ہو یا موبائل نیٹ ورکس کام نہ کررہے ہوں، جبکہ قدرتی آفات کے دوران بھی اس کے ذریعے لوگوں کی زندگیاں بچانے میں مدد مل سکے گی۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ ایپ اوپو کے موجودہ فونز میں کام کرے گی یا اسے کب تک متعارف کرایا جائے گا۔

امریکی کمپنیوں نے ہواوے سے کاروبار کا راستہ ڈھونڈ لیا، رپورٹ

ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے امریکی چپ میکر تاحال کروڑوں ڈالرز کی مصنوعات ہواوے کو فروخت کررہی ہیں۔

یہ دعویٰ امریکی روزنامے نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں کرتے ہوئے بتایا کہ ہواوے کو 3 ہفتے قبل امریکی پرزہ جات بھیجے گئے ہیں۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ انٹیل اور مائیکرون نے اس تصور کا فائدہ اٹھا کر ہواوے کو پرزہ جات فراہم کیے ہیں کہ امریکی کمپنیاں جو مصنوعات بیرون ملک تیار کرتی ہیں، انہیں ہمیشہ امریکی ساختہ تصور نہیں کیا جاسکتا۔

ہواوے کو امریکی انتظامیہ نے گزشتہ سال بلیک لسٹ کرتے ہوئے اس فہرست میں شامل کردیا تھا، جس میں شامل کمپنیوں سے کاروبار کے لیے امریکی کمپنیوں کو حکومتی اجازت درکار ہوتی ہے۔

ہواوے کے خلاف امریکی صدر کے ایگزیکٹو آرڈر کے اجرا کے ایک ہفتے بعد امریکی محکمہ تجارت نے ہواوے کو ایک عارضی جنرل لائسنس جاری کرتے ہوئے پابندیوں کو 3 ماہ کے لیے التوا میں ڈال دیا تھا جن کا اطلاق اب اگست کے وسط میں ہوگا، مگر مستقبل کی مصنوعات کے لیے پرزہ جات کی فراہمی تاحال جاری ہے۔

امریکی حکومتی اقدامات نے ٹیکنالوجی صنعت کو بھی الجھن میں ڈال دیا اور نیویارک ٹائمز کے مطابق مائیکرون کے سی ای او سنجے ملہوترہ نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ ہم نے گزشتہ ماہ ہواوے کے لیے سپلائی کو روک دیا تھا مگر 2 ہفتے قبل اسے اس وقت بحال کردیا جب ہم نے تعین کیا کہ قانونی طور ایسا کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تاہم ہواوے کے بارے میں غیریقینی صورتحال تاحال برقرار ہے’۔

اس بارے میں سیمی کنڈکٹر انڈسٹری ایسوسی ایشن کے صدر جان نیوفر نے بتایا ‘ہم نے امریکی حکومت سے جو بات چیت کی، اس سے معلوم ہوا کہ ہم کچھ اشیا کی سپلائی ہواوے کو پابندیوں کی فہرست میں موجودگی کے باوجود جاری رکھ سکتے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہر کمپنی پر امریکی پابندی سے مخصوص مصنوعات اور سپلائی چین پر مختلف اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ہر کمپنی کو اندازہ لگانا ہوگا کہ وہ کاروبار جاری رکھنے کے لیے قانون کی حد میں رہتے ہوئے کیا کرسکتی ہے’۔

رپورٹ کے بارے میں انٹیل نے کوئی بیان جاری کرنے سے انکار کیا۔

امریکی کمپنیاں پابندی ختم کرانے کے لیے سرگرم

اس سے پہلے ایک رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ ہواوے کو چپ سپلائی کرنے والی کمپنیاں کوالکوم اور انٹیل نے خاموشی سے امریکی حکومت کے اندر چینی کمپنی پر عائد پابندی کو نرم کرانے کے لیے کوششیں شروع کردی ہیں۔

خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ بڑی امریکی چپ بنانے والی کمپنیوں انٹیل اور Xilinx کے عہدیداران نے مئی کے آخر میں امریکی محکمہ تجارت کے ایک اجلاس میں شرکت کی تاکہ ہواوے کو بلیک لسٹ کیے جانے پر ردعمل ظاہر کرسکیں۔

کوالکوم نے بھی امریکی محکمہ تجارت پر اس پابندی کو نرم کرنے کے لیے زور دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ان امریکی کمپنیوں کا موقف تھا کہ ہواوے کی فروخت ہونے والی مصنوعات یعنی اسمارٹ فونز اور کمپیوٹر سرورز میں آسانی سے دستیاب پرزے استعمال ہوتے ہیں اور وہ چینی کمپنی کے 5 جی نیٹ ورکنگ آلات کے برعکس سیکیورٹی خطرات کا باعث نہیں۔

ان کمپنیوں کا موقف تھا کہ ہم ہواوے کی مدد نہیں کررہے بلکہ امریکی کمپنیوں کو ہونے والے نقصان کی روک تھام چاہتے ہیں۔

گزشتہ سال ہواوے نے پرزہ جات کی خریداری پر 70 ارب ڈالرز خرچ کیے تھے جن میں سے 11 ارب ڈالرز کے قریب امریکی کمپنیوں کوالکوم، انٹیل اور مائیکرو ٹیکنالوجی کے حصے میں آئے تھے۔

دنیا کا پہلا انڈر ڈسپلے کیمرا فون متعارف

اطلاعات ہیں کہ ایپل کی جانب سے رواں برس متعارف کرائے جانے والے آئی فون بہت سارے منفرد فیچرز کے ساتھ ہوں گے، جن میں بیک وقت تین ریئر کیمرے جیسے فیچرز شامل ہیں۔

علاوہ ازیں رپورٹس ہیں کہ ایپل کی جانب سے 2019 کے آئی فون میں پہلی بار فنگر پرنٹ اور کیمرے کے ایسے سینسر دیے جائیں گے جو جدید ٹیکنالوجی کے حامل ہوں گے۔

صرف ایپل ہی نہیں بلکہ جنوبی کورین کمپنی سام سنگ بھی پہلی بار منفرد موبائل فون متعارف کرانے پر کام کر رہی ہیں اور اطلاعات ہیں کہ کمپنی رواں برس کے اختتام تک پہلی بار 64 میگا پکسل کیمرے والا فون متعارف کرائے گی۔

آئی فون اور سام سنگ کے فیچرز اپنی جگہ لیکن چینی کمپنی ’اوپو‘ نے دونوں کمپنیوں کو ایک فیچر میں پیچھے چھوڑ دیا۔

اب تک موبائلز میں اسکرین کے باہر پاپ اپ کی شکل میں سیلفی کیمرا دیا جاتا ہے—فوٹو: اوپو
اب تک موبائلز میں اسکرین کے باہر پاپ اپ کی شکل میں سیلفی کیمرا دیا جاتا ہے—فوٹو: اوپو

‘اوپو‘ نے دنیا کا ایسا پہلا فون متعارف کرا دیا جس کا سیلفی کیمرا اسکرین کے اندر ہے۔

جی ہاں، اوپو کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے موبائل میں سیلفی کیمرا پاپ اپ یا پنچ ہول کی شکل میں نہیں بلکہ اسکرین کے اندر ہے۔

یوں اوپو وہ پہلی کمپنی بن گئی جو موبائل میں اسکرین کے اندر ہی کیمرے کو متعارف کرا دیا۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ اوپو کی جانب سے سلیفی کیمرے کو اسکرین کے اندر متعارف کرائے جانے کے بعد ایپل بھی آئی فون میں اسی فیچر کو متعارف کرائے گا۔

علاوہ ازیں رپورٹس ہیں کہ چینی کمپنی شیاؤمے بھی ایک ایسے موبائل پر کام کر رہی ہے جس کا سیلفی کیمرا اسکرین کے اندر ہوگا۔

اوپو نے انڈر اسکرین کیمرا موبائل کو متعارف کرانے کا اعلان گزشتہ ہفتے ہی کیا تھا اور اب اسے شنگھائی میں ہونے والے ایک ایونٹ میں متعارف کرادیا گیا۔

Google Analytics Alternative