سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

کیا فیس بک اور انسٹاگرام اسمارٹ فونز سے ہماری باتیں سنتے ہیں؟

دنیا بھر میں فیس بک کے 2 ارب سے زائد جبکہ پاکستان میں ہی کروڑوں صارفین موجود ہیں مگر کیا آپ یہ سوچتے ہیں کہ سماجی رابطے کی یہ ویب سائٹ اور اس کی دیگر ایپس اسمارٹ فونز مائیکرو فونز پر ہر وقت ہم لوگوں کی باتیں بھی سنتی رہتی ہیں؟

یہ وہ دعویٰ ہے جو متعدد افراد اور ماہرین کی جانب سے آتا ہے اور ان کے بقول فیس بک اور انسٹاگرام ایپ لوگوں کے اسمارٹ فونز کے مائیک استعمال کرتے ہوئے لوگوں کا ڈیٹا اکھٹا کرتی ہے، جسے اشتہارات دکھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

تاہم فیس بک کی زیرملکیت فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے۔

ایک انٹرویو کے دوران جب میزبان نے ان سے کہا کہ جب بھی وہ کسی سے کچھ خریدنے کے بارے میں دلچسپی کا اظہار کرتی ہیں تو اسی چیز کا اشتہار ان کی انسٹاگرام فیڈ پر نمودار ہوجاتا ہے، تو کیا کمپنی ان کی باتیں سنتی رہتی ہے؟

اس کے جواب میں ایڈم موسیری نے کہا کہ انسٹاگرام اور فیس بک لوگوں کے کی باتیں نہیں سنتے۔

ان کا کہنا تھا ‘ہم آپ کے میسجز نہیں دیکھتے، ہم آپ کے مائیکرو فون کی مدد سے باتیں نہیں سنتے، اگر ایسا کرنے لگے تو یہ مختلف وجوہات کی بنا پر بہت زیادہ مسائل کا باعث ہوگا’۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس کی ممکنہ طور پر 2 وجوہات ہوسکتی ہیں ‘ایک تو قسمت جس سے انکار ممکن نہیں اور دوسری فیس بک یا انسٹاگرام پر کچھ لائیک کرنا’۔

اس پر میزبان نے کہا ‘میں آپ پر یقین نہیں کرسکتی، میں نہیں جانتی کہ ایسا بار بار کیوں ہوتا ہے، کیا ایسا آپ کے ساتھ بھی ہوتا ہے؟’

جب ایڈم موسیری اس پر کوئی اچھی مثال دینے سے قاصر رہے تو میزبان نے مسکراتے ہوئے کہا ‘میں قسم کھاتی ہوں کہ آپ لوگ میری باتیں سنتے ہیں’۔

فیس بک کے حوالے سے یہ خیال کافی عرصے سے سامنے آرہا ہے کہ کہ وہ لوگوں کا آڈیو ڈیٹا اکھٹا کرتا ہے، جس کی فیس بک کی جانب سے کئی بار تردید بھی کی گئی، مگر پھر بھی لوگ یقین نہیں کرتے۔

فیس بک کے مطابق اگر آپ کے نیوزفیڈ پر باتوں سے متعلق اشتہارات سامنے آتے ہیں تو یہ اتفاق یا آپ کا تخیل ہوسکتا ہے کیونکہ روزانہ ہزاروں نہیں تو سیکڑوں اشتہارات فیس بک ایپ پر نظر آہی جاتے ہیں۔

اشتہاری کمپنیاں لوگوں کو مختلف چیزوں سے اپنا ہدف بناتی ہیں جیسے براؤزنگ ہسٹری، فیس بک انٹرسٹس اور دیگر، یہاں تک کہ کمپنی کا الگورتھم ہی اتنا ڈیٹا پوائنٹس بنالیتا ہے جو اشتہارات دکھانے کے لیے کافی ثابت ہوتے ہیں۔

مائیکرو فون تک رسائی کیسے ختم کریں؟

ویسے اگر فیس بک کی تردید پر یقین نہ ہو تو آپ مائیکرو فون تک ایپ کی رسائی ختم کرسکتے ہیں۔

اینڈرائیڈ فونز میں سیٹنگز میں جاکر پرسنل آپشن پر جائیں اور پھر پرائیویسی اینڈ سیفٹی پر کلک کرکے ایپ پرمیشن پر جائیں، وہاں مائیکرو فون سے فیس بک کو ان سلیکٹ کردیں۔

آئی او ایس ڈیوائسز میں سیٹنگز، پھر پرائیویسی اور پھر مائیکرو فون میں جاکر فیس بک کو ان سلیکٹ کردیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ بھی خود کیمروں اور مائیکرو فونز کے حوالے سے کافی احتیاط کرتے ہیں۔

فوٹو بشکریہ فیس بک
فوٹو بشکریہ فیس بک

2016 کی اس تصویر میں مارک زکربرگ نے واضح طور پر اپنی میک بک کے کیمرے پر ٹیپ لگا رکھی ہے جبکہ مزید غور کریں تو لیپ ٹاپ کے مائیکروفون پر بھی ٹیپ لگی ہوئی ہے۔

ویسے یہ بھی سوچا جاسکتا ہے کہ مارک زکربرگ درحقیقت ہیکرز کو ناکام بنانے کے لیے ایسا کرتے ہیں کیونکہ ماہر ہیکرز لیپ ٹاپ کیمرہ کو کنٹرول کرسکتے ہیں جس کو فیس بک کے بانی ٹیپ کے ایک ٹکڑے سے ناکام بنادیتے ہیں۔

واٹس ایپ بہت جلد مائیکرو سافٹ اسٹور سے ڈیلیٹ کیے جانے کا امکان

واٹس ایپ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ رواں سال کے آخر تک ونڈوز اسمارٹ فونز کے لیے سپورٹ ختم کردی جائے گی۔

اور اب یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ دنیا کی مقبول ترین میسجنگ اپلیکشن یکم جولائی کے بعد مائیکرو سافٹ اسٹور سے بھی ہٹالی جائے گی، یعنی صارفین اسے انسٹال کرکے استعمال نہیں کرسکیں گے۔

واٹس ایپ کے ایف اے کیو پیج کے مطابق تمام ونڈوز آپریٹنگ سسٹمز پر 31 دسمبر کے بعد صارفین واٹس ایپ کو استعمال نہین کرسکیں گے جبکہ ہوسکتا ہے کہ یکم جولائی کے بعد یہ مائیکرو سافٹ اسٹور پر بھی دستیاب نہ ہو۔

اس بیان میں یکم جولائی کے بعد ایپ کی عدم دستیابی کے حوالے سے شاید کا لفظ استعمال ہوا ہے مگر یہ واضح ہے کہ یہ بہت جلد مائیکرو سافٹ اسٹور سے ڈیلیٹ کردی جائے گی۔

رواں سال کے آخر تک واٹس ایپ کی جانب سے سپورٹ ختم ہونے پر ونڈوز فونز کے صارفین کے لیے اس مقبول ترین میسجنگ اپلیکشن میں بگز فکسز، اپ ڈیٹس اور نئے فیچرز کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔

اور ہاں ونڈوز فونز میں اس کے بیشتر فیچرز کسی بھی وقت اچانک کام کرنا بند بھی کردیں گے۔

ونڈوز فون مائیکرو سافٹ کا وہ آپریٹنگ سسٹم ہے جس کو خود کمپنی نے سپورٹ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس وقت دنیا بھر میں 0.28 فیصد صارفین ونڈوز موبائل استعمال کررہے ہیں جبکہ اینڈرائیڈ صارفین کی تعداد 74.85 فیصد ہے۔

مائیکرو سافٹ پہلے ہی تمام ونڈوز فونز کے لیے سپورٹ ختم کرنے کا اعلان کرچکی ہے بلکہ صارفین کو اینڈرائیڈ یا آئی او ایس پر منتقل ہونے کا مشورہ دے چکی ہے۔

ونڈوز فونز سے پہلے واٹس ایپ بلیک بیری آپریٹنگ سسٹم، بلیک بیری 10، نوکیا ایس 40، نوکیا سامبا ایس 60، اینڈرائیڈ 2.1، اینڈرائیڈ 2.2، ونڈوز فون 7، آئی فون تھری جی/آئی او ایس سکس کے لیے سپورٹ ختم کرچکی ہے۔

واٹس ایپ نے یکم فروری 2020 اینڈرائیڈ 2.3.7 اور آئی فون آئی او ایس کے لیے بھی سپورٹ ختم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

صحافیوں کے لیے فیس بک سیفٹی ٹولز متعارف

فیس بک دنیا کی مقبول ترین سماجی رابطے کی ویب سائٹ ہے جس کے صارفین کی تعداد 2 ارب 38 کروڑ سے زائد ہے اور لگ بھگ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ہی اس سوشل میڈیا نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہیں۔

فیس بک نے زندگی کے ہر شعبے کو بدل کر رکھ دیا ہے اور اس میں میڈیا بھی شامل ہے، یہی وجہ ہے کہ لاکھوں بلکہ کروڑوں صحافی بھی فیس بک کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے استعمال کرتے ہیں، جیسا کہ لوگوں کو ملکی حالات کی اطلاعات فراہم کرنا اور لوگوں سے براہ راست رابطے وغیرہ۔

اب فیس بک نے صحافیوں کی ذاتی معلومات اور اکاﺅنٹس کے تحفظ کے لیے ٹولز متعارف کرائے ہیں تاکہ وہ خود کو آن لائن محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے رابطوں اور ذرائع کا تحفظ بھی کرسکیں۔

صحافیوں کے لیے متعارف کرائے گئے ٹولز درج ذیل ہیں۔

اپنے پاسورڈ کو محفوظ بنائیں

درحقیقت ہر صارف کا ہی پاس ورڈ منفرد ہونا چاہیے جبکہ اسے محفوظ رکھنے کے لئے کبھی کسی کے ساتھ یا کسی جگہ شیئر نہ کریں۔ پاس ورڈ میں شناخت کے لئے آسان معلومات جیسا کہ اپنا نام، فون نمبر، تاریخ پیدائش اور ای میل ایڈریس استعمال نہ کریں۔ ایک ٹپ یہ ہے کہ پاس ورڈ منیجر استعمال کریں جو آپ کے پاس ورڈز محفوظ طریقے سے رکھے گا اور آپ کے تمام اکاؤنٹس کے لئے مضبوط ترین پاس ورڈ تخلیق کرے گا۔

غیرشناخت شدہ ڈیوائسز سے الرٹ حاصل کریں

لاگ ان الرٹس فعال کریں تاکہ جب بھی اورجہاں کہیں سے بھی اگر کوئی غیر شناخت شدہ ڈیوائسز سے آپ کے اکا ¶نٹ کو لاگ ان کرنے کے کوشش کرے گا تو آپ کو نوٹیفیکیشن موصول ہوگا۔ اکاؤنٹ سیٹنگ میں سیکیورٹی اور لوگ ان سیکشن میں جاکر غیرشناخت شدہ لاگ ان کے بارے میں الرٹس کو فعال (آن) کریں۔ جب یہ الرٹس آن ہوں گے تو جب کبھی کوئی غیرشناخت شدہ ڈیوائس یا براﺅزر سے آپ کے فیس اکاؤنٹ لاگ ان ہوگا یا لاگ ان ہونے کی کوشش ہوگی تو آپ کو ای میل یا نوٹیفیکیشن کے ذریعے مطلع کردیا جائے گا۔

ٹو فیکٹر اتھنٹیفیکیشن کو آن رکھنا

ٹو فیکٹر اتھنٹیفیکیشن آپ کے اکاؤنٹ کو محفوظ رکھنے کے لئے ایک اور اضافی طریقہ ہے۔ یہ بھی آپ کو اکاﺅنٹ سیٹنگ میں سیکیورٹی اور لاگ ان سیکشن میں ملے گا۔ جب آپ ٹو فیکٹر اتھنٹیفیکیشن آن رکھیں گے، تو ہر لاگ ان کرتے وقت مخصوص سیکیورٹی کوڈ ڈالنے کے لیے اس وقت کہا جائے گا جب بھی آپ اپنے اکاؤنٹ نئے کمپیوٹر، فون یا براؤزر سے لاگ ان کی کوشش کریں گے۔

فیس بک چیک اپ ٹولز کا استعمال

اپنے پروفائل کی سیکیورٹی کا جائزہ لینے اور اپنے پروفائل سیکیورٹی سیٹنگ کا انتظام کرنے کے لیے سیکیورٹی چیک اپ کو استعمال کریں۔ اپنی ذاتی معلومات اور پوسٹ اشاعت کرنے کے لیے پرائیویسی چیک اپ کو استعمال کریں کہ آپ اپنی معلومات کس کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ بعض اوقات آپ انہیں سب کے ساتھ شیئر اور بعض اوقات مخصوص لوگوں کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں۔

پیج اور پروفائل میں اپنی موجودگی کو منیج کریں

فیس بک میں آپ جتنا چاہیں پبلک اور جتنا چاہیں پرائیویٹ ہوسکتے ہیں۔ آپ فیس بک کے اپنے سامعین یا ناظرین کے ساتھ جتنا پبلک اور پرائیویٹ ہونا چاہتے ہوں یہ آپ کے اختیار میں ہے۔ ٹائم لائن اور ٹیگنگ ٹیب کی سیٹنگ میں آپ یہ کنٹرول کر سکتے ہیں کہ آپ کے پوسٹس اور اپڈیٹس کو کون کون دیکھ سکتاہے۔ دوستوں کی جانب سے آپ کے پوسٹس پر ہونے والے ٹیگس کو منظور یا مسترد کرنے کا اختیار آپ کے ہاتھ میں ہے۔ ٹیگ کو منظور کرنے کی صورت میں، جس بندے نے ٹیگ کیا ہوا ہو وہ اور اس کے فرینڈز آپ کے پوسٹ کو دیکھ سکیں گے۔ ٹیگ ریویو سیٹنگ کے تحت ’ٹائم لائن اینڈ ٹیگنگ‘ میں یہ آپشن آپ کو مل جائے گا۔

پوسٹ کرتے وقت اپنے لوکیشن کو کنٹرول کریں

فیس بک پوسٹس پر مقام (لوکیشن) شامل کرنے کا آپشن موجود ہے۔ فیس بک آپ کی لوکیشن خود شیئر نہیں کرتا، لیکن فیس بک پر پوسٹ کرتے وقت فون لوکیشن کو پوسٹ میں شامل کرنا یا اس آپشن کو آف رکھنا ایک اچھا خیال ہے جو آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ اپنی لوکیشن سیٹنگ کو انڈرائیڈ یا آئی او ایس ڈیوائسز پر اپ ڈیٹ کر سکتے ہیں۔

اپنی کمیونیکیشن کو محفوظ رکھیں

اپنے سورس کے ساتھ پرائیویٹ کمیونیکیشن کے لیے واٹس ایپ اور فیس بک مسنجر کو استعمال کریں۔ صحافی فیس بک کو ٹی او آر(TOR) براؤزر کے ساتھ استعمال کریں، تاکہ آپ آئی پی ایڈریس مخفی رکھ سکیں اور فیس بک، ایڈورٹائزرز، مقامی موبائل فون نیٹ ورکس اور آئی ایس پیز دیکھ نہ سکیں کہ آپ کہاں سے لاگ ان ہیں۔ یہ فیس بک پر اَن لائن رہتے ہوئے آپ کی لوکیشن اور کنکشن کو محفوظ رکھتا ہے۔https://facebookcorewwwi.onion/ پر فیس بک ٹی او آر برا ¶زر کے ساتھ ایکسس کریں۔ اربوٹ پراکسی ایپ کے ذریعے انڈرائیڈ پر بھی فیس بک ٹی او آر براؤزر سپورٹ دیتا ہے، اربٹ پراکسی ایپ آپ گوگل پلے پر ڈا ¶ن لوڈ کرسکتے ہیں۔

ہراساں کرنے والوں کو بلاک کریں

جب آپ کسی کو بلاک کرتے ہیں تو وہ نہ آپ کی ٹائم لائن پر پوسٹ پڑھ سکتا ہے اور نہ ہی آپ کو ٹیگ کرسکتا ہے۔ اگر بلاک ہونے والا فیس بک فرینڈ ہے، بلاک کرنے سے وہ ان فرینڈ ہوجائے گا۔

بد کلامی اور نفرت انگیزی کو رپورٹ کریں

اسپیم، بدکلامی اور نفرت انگیز مواد پر مشتمل پوسٹس اور کمنٹس کو رپورٹ کریں۔ اس کے لئے“Report”کا آپشن استعمال کریں، یہ آپشن پوسٹ اور کمنٹس کے ساتھ موجود ہوتا ہے، فیس بک رپورٹ کا جائزہ لے گا اور اس پر مناسب کارروائی عمل میں لائے گا۔ دھمکی کی صورت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع کریں۔ ہراساں کرنے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو رپورٹ کرنے کے لیے، اسے بلاک کرنے سے پہلے اسکرین شاٹس لے لیں اور یوآر ایل کاپی کریں کیونکہ اسے بلاک کرنے کے بعد آپ اس کے پچھلے پوسٹس کمنٹس وغیرہ نہیں دیکھ پائیں گے۔

اکاؤنٹ ہیک ہونے کی صورت میں کیا کریں

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا اکاؤنٹ ہیک ہو چکا ہے یا کسی نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے، آپ سے ہر ممکن طور پر محفوظ کرنا چاہیں گے۔ دو ہرے اتھنٹیکیشن کو فغال رکھ کر آپ ان پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں۔ ایسے موقع پر اگر آپ اپنے اکاؤنٹ میں لاگ ان ہو سکتے ہو تو ہم تجویز دیں گے کہ سب سے پہلے اپنا پاس ورڈ تبدیل کریں۔ لاگ ان ہونے کے بعد سب سے پہلے کنٹیکٹ انفارمیشن کو چیک کریں، یہ جاننے کےلئے کیا کہ ہیکر نے اس میں کوئی تبدیلی تو نہیں کی ہے۔ اگر آپ آپنے اکاؤنٹ میں جا نہیں سکتے تو ہم مدد کر سکتے ہیں۔ اکاؤنٹ کو محفوظ کرنے کے لئے ہم آپ سے کہیں گے کہ اپنا پاس ورڈ تبدیل کریں اور حالیہ لاگ ان ایکٹیویٹی کا جائزہ لیں۔ یا پھر آپ اس لنک پر جائیں: facebook.com/hacked

کیا یہ اب تک کا سب سے بہترین ڈیزائن والا اسمارٹ فون ہے؟

سیلفی کا شوق آج کے نوجوانوں میں بہت زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ مختلف کمپنیاں اپنے فونز میں فرنٹ کیمروں کے مختلف ڈیزائن پیش کرتی رہتی ہیں مگر اب پہلی بار ایسا فون متعارف ہونے والا ہے جس کا فرنٹ کیمرا اسکرین کے اندر نصب ہوگا۔

جی ہاں چینی کمپنی اوپو دنیا کا پہلا ان ڈسپلے کیمرا فون متعارف کرانے والی ہے جو کہ 26 جون کو شنگھائی میں شروع ہونے والی موبائل ورلڈ کانگریس میں سامنے آئے گا۔

اب تک پوپ اپ، سلائیڈ یا پنچ ہول سیلفی کیمرے والے فون تو سامنے آچکے ہیں مگر اوپو کا نیا فون ان سب سے مختلف ہوگا کیونکہ یہ دنیا کا پہلا آل اسکرین فون بھی ثابت ہونے والا ہے۔

اب چینی کمپنی نے اس فون کا پہلا ٹیزر جاری کردیا ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا ڈیزائن کیسا ہوگا۔

اس ویڈیو میں اسمارٹ فون سیلفی کیمرے کے ارتقا کو دکھایا گیا ہے جیسے کلاسیک آئی فون جیسا ڈیزائن سے نوچ، سلائیڈر، پوپ اپ، پنچ ہول اور دیگر اور آخر میں ایسا کیمرا دکھایا گیا جو اسکرین میں گم ہوجاتا ہے۔

اوپو کی جانب سے 26 جون کو اس فون کو متعارف تو کرایا جائے گا مگر یہ صارفین کے لیے رواں برس کے آخر یا اگلے سال کی ابتدا میں دستیاب ہونے کا امکان ہے۔

اس سے قبل رواں ماہ کے شروع میں جو ٹیزر ویڈیو سامنے آئی تھی، اس کے بارے میں اوپو کے نائب صدر برائن شین نے کہا تھا کہ انڈر اسکرین کیمرا ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس مرحلے میں انڈر ڈسپلے کیمروں کے لیے عام کیمروں جیسے نتائج فراہم کرنا بہت مشکل ہے، کیونکہ اس ٹیکنالوجی میں آپٹیکل کوالٹی کم ہوجاتی ہے، تاہم کوئی بھی نئی ٹیکنالوجی اچانک ہی پرفیکٹ نہیں ہوجاتی۔

اس طرح کی ٹیکنالوجی پر صرف اوپو ہی نہیں بلکہ ایک اور چینی کمپنی شیاﺅمی بھی کام کررہی ہے جس نے بھی اس طرح کے انڈر ڈسپلے سیلفی کیمرے والے ایک فون کا ٹیزر جون کے آغاز میں جاری کیا تھا۔

مگر اس کمپنی نے اس فون کو متعارف کرانے کی تاریخ کا فی الحال کوئی اعلان نہیں کیا۔

بل گیٹس نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کا اعتراف کرلیا

دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک اور مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی اینڈرائیڈ جیسے آپریٹنگ سسٹم کی تیاری میں ناکامی قرار دی ہے۔

ایک حالیہ انٹرویو کے دوران بل گیٹس نے مائیکرو سافٹ کے قائد کے طور پر اپنی غلطیوں کے بارے میں بات کی خصوصاً کمپنی کی جانب سے ایپل کے مقابلے میں زیادہ بہتر اور کامیاب موبائل آپریٹنگ سسٹم کی تیاری کی کوششوں کا ذکر کیا۔

ولیج گلوبل سے انٹرویو میں بل گیٹس نے کہا ‘سب سے بڑی غلطی میں نے مائیکرو سافٹ کا انتظام سنبھالتے ہوئے کی وہ کمپنی کو اینڈرائیڈ جیسی پوزیشن پر لانے میں ناکامی ہے’۔

جب 2008 میں پہلا اینڈرائیڈ فون متعارف ہوا تھا تو اس کے بعد سے گوگل کی زیرملکیت موبائل پلیٹ فارم آئی فون (2007 میں ریلیز ہوا)کا متبادل بن گیا، جس کو ہر کمپنی استعمال کرسکتی تھی، مائیکرو سافٹ نے اس حوالے سے کوشش کی مگر مقابلے میں بری طرح ناکام رہی۔

مائیکرو سافٹ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر سافٹ وئیر میں تو سب پر غالب رہی مگر موبائل مارکیٹ میں اس کا فون پلیٹ فارم ونڈوز موبائل لوگوں کی توجہ کا مرکز نہیں بن سکا، جس کی وجہ کی بورڈ اور اسٹائلوس ان پٹ پر زیادہ توجہ دینا تھا۔

جب 2010 میں پہلی بار ونڈوز 7 فون متعارف کرایا گیا جس میں ٹچ اسکرین ٹیکنالوجی دی گئی تھی، تو کمپنی کے لیے بہت تاخیر ہوچکی تھی اور یہی وجہ ہے کہ اس نے 2017 میں پہلے ونڈوز 7 موبائل آپریٹنگ سسٹم کے لیے سپورٹ ختم کی اور رواں برس کے آخر میں ونڈوز 10 موبائل پلیٹ فارم بھی دم توڑ جائے گا۔

بل گیٹس نے انٹرویو کے دوران کہا ‘اینڈرائیڈ ایک نان ایپل فون پلیٹ فارم ہے، یہ وہ چیز ہے جو مائیکروسافٹ جیت سکتی تھی، کیونکہ فاتح سب کچھ حاصل کرلیتا’۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بل گیٹس مائیکرو سافٹ کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے 2000 میں مستعفی ہوگئے تھے تاہم وہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک جزوقتی چیئرمین اور چیف سافٹ وئیر آرکیٹیکٹ کی حیثیت سے کمپنی سے منسلک رہے اور پھر تمام توجہ فلاحی کاموں پر مرکوز کردی۔

جب آئی فون متعارف ہوا تو اس وقت مائیکرو سافٹ کے چیف ایگزیکٹو اسٹیو بالمر نے اسے بہت مہنگا قرار دیا تھا جبکہ نوکیا کے ساتھ شراکت داری بھی کمپنی کو کامیابی نہیں دلاسکتی۔

تاہم بل گیٹس اب بھی پچھتاوا محسوس کرتے ہیں کہ مائیکرو سافٹ موبائل مارکیٹ میں جگہ بنانے میں ناکام رہی اور ان کے بقول ایپل سے ہٹ کر ایک آپریٹنگ سسٹم کی جگہ موجود تھی جوس کی مالیت اب 400 ارب ڈالرز کے برابر پہنچ چکی ہے۔

پاکستانی طلبا نے گاڑیوں کے سائیڈ مرر چیک کرنے والا کم لاگت آلہ تیار کرلیا

کراچی: پاکستانی طالب علموں نے گاڑیوں کے اطراف میں نصب آئینے (سائیڈ مرِر) میں خامیاں تلاش کرنے والا خودکار نظام تیار کرلیا جس کی بعض ممالک میں قیمت 29 لاکھ روپے تک ہے تاہم طلبا نے اس محض ڈیڑھ لاکھ روپے میں تیار کرلیا ہے۔

اقرا یونیورسٹی کے طالب علم ابوطالب نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملک کر ’آٹومائزڈ مرِر ٹیسٹنگ مشین‘ تیار کی ہے جس سے  خود کار طریقے سے گاڑیوں کے آئینوں کی خرابی کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ گاڑیوں کے شیشے دستی اور روایتی طریقے سے چیک کیے جاتے ہیں جس میں ایک آئینے کو دیکھنے میں ایک منٹ 30 سیکنڈ لگتے ہیں۔

دوسری جانب طالب علموں کا بنایا ہوا جدید آلہ صرف 30 سیکنڈ میں یہ کام کرسکتا ہے، اگر اسے پاکستان بھر میں متعارف کرایا جائے تو اس سے وقت اور سرمائے کی بہت بچت ہوگی

اقرا یونیورسٹی میں الیکٹرانک انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے ابوطالب، محمد شمشیر الرحمان اور ابوہریرہ محبوب نے صرف 9 ماہ میں اسے بنایا ہے، اس مشین میں آٹومیٹک اور مینول فنکشن رکھے گئے ہیں۔ اس طرح آٹومیٹک نظام میں کوئی مسئلہ ہو تو مینول طریقے سے کام ہوتا رہے اور آئینوں کی تیاری نہیں رکتی۔

سال 2017ء میں ایک نجی کار کمپنی میں انٹرن شپ کے دوران ابوطالب نے دیکھا کہ آٹومیٹک گاڑیوں کے شیشوں میں 10 کے قریب پارٹس اور پرزے لگتے ہیں اور اس کے بعد آئینے کو ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ ابوطالب نے نوٹ کیا کہ مزدور کو آئینہ چیک کرنے میں کم سے کم ایک منٹ 10 سیکنڈ کا وقت لگ رہا ہے جس میں وہ جائزہ لیتا ہے کہ شیشہ تھریش ہڈ پر گھوم رہا ہے یا نہیں۔

اسی کمی کو دیکھتے ہوئے ابوطالب نے ’آٹومائزڈ مِرر ٹیسٹنگ مشین‘ بنائی جو آئینے کے ہر حصے یا پارٹ میں ہونے والی خرابی کا پتا لگاسکتی ہے۔ اس مشین میں کم خرچ سینسر استعمال کیے گئے ہیں۔ بعض ممالک میں یہ مشین استعمال کی جارہی ہے جس کی قیمت 29 لاکھ روپے ہے لیکن ابوطالب کی تخلیق پر صرف ڈیڑھ لاکھ روپے لاگت آئی ہے۔

اس طرح روایتی طریقے سے ایک شفٹ میں 400 شیشے چیک ہوکر نکل رہے ہیں تو اس مشین سے 800 شیشے چیک کیے جاسکتےہیں۔ اس پروجیکٹ کو رواں سال تھائی لینڈ کی اسٹیمفورڈ انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ہونے والے ایک مقابلے میں بھی پیش کیا جائے گا جہاں اس بھرپور پذیرائی کا واضح امکان ہے۔

 

یہ فولڈ ایبل فون ستمبر میں صارفین کو دستیاب ہوگا

ہواوے کا پہلا فولڈ ایبل اسمارٹ فون میٹ ایکس ستمبر میں باضابطہ طور پر متعارف کرایا جائے گا۔

اس فون کو رواں سال فروری میں موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران پیش کیا گیا تھا اور جون میں اسے صارفین کے لیے متعارف کرایا جانا تھا۔

مگر اب کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس فون کو پیش کرنے کی تاریخ کو آگے بڑھا دیا گیا تاکہ میٹ ایکس کی اسکرین میں کچھ تبدیلیاں کی جاسکیں۔

ہواوے کے مغربی یورپ کے صدر ونسینٹ پانگ نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ کمپنی نے گزشتہ چند ماہ کے دوران میٹ ایکس کی پی او ایل ای ڈی اسکرین کو مزید بہتر کیا گیا ہے تاکہ ایسے مسائل سے بچ سکیں جو سام سنگ کے فولڈ ایبل فون میں سامنے آئے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ میٹ ایکس کو ستمبر میں صارفین کے لیے متعارف کرا دیا جائے گا اور یہ ہر اس ملک میں دستیاب ہوگا جہاں فائیو جی ٹیکنالوجی پیش کی جاچکی ہے تاہم امریکا میں اسے متعارف کرائے جانے کا امکان نہیں۔

ونسینٹ پانگ نے دعویٰ کیا کہ امریکی پابندیوں کے باوجود اس فون میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم موجود ہوگا اور گوگل ایپس بھی کام کریں گی۔

موبائل ورلڈ کانگریس میں اسے پیش کرتے ہوئے ہواوے نے اس فون کو دنیا کا تیز ترین فولڈ ایبل فائیو جی فولڈ ایبل فون قرار دیا تھا۔

میٹ ایکس بند شکل میں 6.6 انچ کے فرنٹ ڈسپلے کے ساتھ ہے جس میں 19:5:9 ایسپکٹ ریشو دیا گیا ہے جبکہ بیک پر 6.38 انچ ڈسپلے 25:9 ایسپکٹ ریشو کے ساتھ ہے۔

جب اس فون کو اوپن کیا جاتا ہے تو یہ 8 انچ اسکرین کا ٹیبلیٹ بن جاتا ہے جس میں 2 ایپس کو بیک وقت چلایا جاسکتا ہے۔

یہ فون ان فولڈ ہونے پر 5.4 ملی میٹر موٹا ہوگا جبکہ فولڈ ہونے پر 11 ملی میٹر موٹا ہوجائے گا۔

اس فون میں گرپ بار نامی ایک فیچر دیا گیا ہے جو ایک ہاتھ سے بھی اس ڈیوائس کو پکڑنے میں مدد دیتا ہے۔

اس فون میں کمپنی نے اپنا 7 نانومیٹر کیرین 980 پراسیسر جبکہ بالون 5000، فائیو جی موڈیم دیا ہے، جبکہ 8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج ہے۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ فائیو جی موڈیم بہت تیز ہے اور اس کی ڈا?ن لوڈ اسپیڈ 4.6 جی بی پی ایس ہے یعنی بیشتر 4 جی موڈیم سے 10 گنا تیز جبکہ کوالکوم ایکس 50 فائیو جی موڈیم سے دوگنا تیز۔

اے ایف پی فائل فوٹو
اے ایف پی فائل فوٹو

اس میں ڈاﺅن لوڈنگ رفتار اتنی تیز ہے کہ کمپنی کے مطابق صارفین ایک جی بی فلم محض 3 سیکنڈ میں ڈاﺅن لوڈ کرسکتے ہیں۔

اس میں 4500 ایم اے ایچ پاور سیل بیٹری دی گئی ہے جبکہ یہ 55 واٹ چارجنگ سپورٹ کرتا ہے جس سے آدھے گھنٹے میں 85 فیصد چارجنگ ممکن ہے۔

اس کا پاور بٹن فنگرپرنٹ ریڈر کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔

فون میں لائیسا ڈیزائن کیمرے اور یو ایس بی پورٹ سی بھی موجود ہے۔

کمپنی کی جانب سے فروری میں اس کی قیمت 2299 یورو (4 لاکھ 121 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) بتائی گئی تھی مگر ستمبر میں کیا ہوگی ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔

پاس ورڈ بتائے بغیر بھی دوستوں کو وائی فائی کی رسائی دینا ممکن ہے

کیا آپ جانتے ہیں کہ انٹرنیٹ صارفین بغیر پاس ورڈ بتائے بھی اپنا وائی فائی کنکشن دوسروں کے ساتھ شیئر کرسکتے ہیں۔

انٹرنیٹ کے استعمال کے لیے مہمانوں، دوستوں اور اجنبیوں کے ساتھ بہ وقت ضرورت وائی فائی شیئر کرنے میں پاس ورڈ چوری ہونے کا احتمال رہتا ہے جس سے آپ اپنے انٹرنیٹ ڈیٹا سے محروم ہوسکتے ہیں لیکن ساتھ ہی دوستوں کو ناراض بھی نہیں کیا جاسکتا۔

ٹیکنالوجی کی اس دوڑ میں ہر مشکل کا حل اور ہر چیز کا توڑ موجود ہے تو ایسا کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ صارفین کی اس دقت کو دور نہ کیا جاسکے تو جان لیں کہ اب پاس ورڈ ظاہر کیے بغیر کیو آر کوڈ کے ذریعے وائی فائی تک رسائی دی جاسکتی ہے۔

وائی فائی پاس ورڈ کو ’کیو آر کوڈ‘ میں تبدیل کرنے کے لیے ویب سائٹس موجود ہیں جو گوگل پر سرچ کی جاسکتی ہیں، qrstuff.com جیسی ویب سائٹ پر جائیں اور ’وائی فائی نیٹ ورک‘ یا وائی فائی لاگ ان‘ کا انتخاب کریں، وائی نیٹ ورک کا نام لکھیں، پاس ورڈ کا اندراج کریں، WPA  کا انتخاب کریں اس کے بعد کیو آر کوڈ تشکیل دیا جاسکے گا جسے بآسانی ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔

لیجیے آپ کے وائی فائی پاس ورڈ کا کیو آر کوڈ تیار ہے، کیو آر کوڈ کی سافٹ کاپی محفوظ رکھیں اور اسے عزیز و اقربا کو دے دیں جو پاس ورڈ کے بغیر ہی بآسانی کنیکٹ ہوجائیں گے۔

یہ سہولت دو برس قبل آئی تھی لیکن کامیابی کا تناسب اچھا نہیں تھا بعد ازاں اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر کیا گیا، نئی ویب سائٹس اور ایپس کے ذریعے اس عمل کو مزید آسان، موثر اور قابل عمل بنا دیا گیا ہے

Google Analytics Alternative