سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

جلد پر رینگنے والا ہرفن مولا روبوٹ

بوسٹن: نت نئی ایجادات کے لیے مشہور، میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) سے یہ خبرآئی ہےکہ انہوں نے ایک ایسا روبوٹ بنایا ہے جو جلد سے چپکتے ہوئے آگے بڑھتا ہے اور کئی طرح سے جسمانی ڈیٹا حاصل کرتا رہتا ہے۔

اسے جلد کا روبوٹ یعنی ’اسکن بوٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ چھوٹے سے روبوٹ کے دو پاؤں ہیں جن میں ہوا کھینچنے والے سکشن پیڈ لگائے گئے ہیں۔ اس میں کئی طرح کے سینسر لگے ہیں جو کئی انداز سے انسانی جسم کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ان کی بدولت نہ صرف طب بلکہ ٹیلی میڈیسن، انسان کمپیوٹر انٹرفیس، فیشن اور جسمانی بہتری کے شعبے میں انقلاب آسکتا ہے۔

ایم آئی ٹی میڈیا لیب کے اس روبوٹ کو الیکٹرانک جونک بھی کہہ سکتے ہیں جو جلد سے چپک کر آگے بڑھتی ہے۔ اگرچہ یہ روبوٹک پالتو کھلونا لگتا ہےلیکن اس طبی امور کےلیے بنایا گیا ہے۔ مثلاً جلد سے گزرتے ہوئے یہ تصاویر لیگا ہے اور بعد میں خردبین سے دیکھ کر جلد کے کینسر یا کسی اور بیماری کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔

اس کے پیروں میں باریک دھاتی چھلے ہیں جو دل کی دھڑکن، نبض اور پٹھوں کی سرگرمی نوٹ کرسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ رات کو سوتے وقت بھی روبوٹ جسم کے مختلف افعال نوٹ کرتا رہتا ہے۔ تاہم اس کے موجد کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کو تجارتی پیمانے پر فروخت کرنے میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔

اسکن بوٹ کا رقبہ صرف 2x4x2 سینٹی میٹر ہے۔ ٹیم کے مطابق اس میں ای سی جی سینسر کا اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے اور کیمرے سے پورے جسم کی جلد کی تصویر کشی کی جاسکتی ہے۔

لاکھوں صارفین کا نجی ڈیٹا چوری ہونے کے بعد گوگل پلس بند

نیویارک:  گوگل نے فیس بک کا مقابلہ کرنے کے لیے لانچ کی گئی سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹ گوگل پلس کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق گوگل نے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک گوگل پلس کی بندش کا فیصلہ کرلیا ہے۔ گوگل پلس کو سات سال قبل فیس بک کا مقابلہ کرنے کے لیے 28 جون 2011 میں لانچ کیا گیا تھا تاہم اس کا استعمال نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا۔ تاہم اب گوگل کی جانب سے گوگل پلس کو صارفین کے لیے مکمل طور پر بند کیا جا رہا ہے۔

گوگل کی جانب سے گوگل پلس کے بند کیے جانے کے حوالے سے جاری بیان میں اعتراف کیا گیا ہے کہ گوگل پلس صارفین کا ڈیٹا بڑے پیمانے پر ہیک کرلیا گیا تھا۔ یہاں تک کے صارفین کے ان باکس تک ہیکرز نے رسائی حاصل کرلی تھی۔ ہیکرز نے اس کام کے لیے مارچ 2018 میں ’بگ‘ کا استعمال کیا تھا تاہم اب بگ کو مکمل طور پر ختم کرلیا گیا۔

تاہم گوگل پلس کو بگ سے آزادی دلانے کے باوجود اسے مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ صارفین کی سطح پر کم توجہ ملنے کے باعث بھی کیا گیا ہے۔ اپنے لانچ سے اب تک گوگل پلس فیس بک کو ’ٹف ٹائم‘ نہیں دے سکی تھی۔

گوگل انتظامیہ کا مزید کہنا تھا کہ ہیکرز نے 5 لاکھ صارفین کا ڈیٹا ہیک کیا تاہم صارفین کے ڈیٹا کے منفی استعمال کے شواہد نہیں ملے ہیں لیکن صارفین کی عدم دلچسپی اور صارفین کے نجی ڈیٹا کی حفاظت نہ کر پانے کے خدشے کے پیش نظر گوگل پلس کو مکمل طور بند کیا جا رہا ہے۔

امریکا اور برطانیہ نے کمپیوٹرز کے ذریعے چین کی جاسوسی کو مسترد کردیا

رواں ماہ 4 اکتوبر کو امریکی نشریاتی ادارے ‘بلوم برگ’ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ چین انتہائی چھوٹی چپ کے ذریعے امریکی کمپیوٹرز کی جاسوسی کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ نے بتایا تھا کہ بلوم برگ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ چین کی جانب سے ایپل، ایمازون اور ہارڈویئر تیار کرنے والی کمپنی سپرمائیکرو’ سمیت دیگر کمپنیوں کے کمپیوٹرز اور آلات میں انتہائی چھوٹی چپ نصب کی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ان جاسوسی چپ کا سب سے پہلے ایمازون نے پتہ لگایا تھا۔

ایمازون نے ان جاسوس چپ کا پتہ سافٹ ویئر کمپنی ایلیمینٹل (Elemental)کو خریدنے کے بعد لگایا۔

رپورٹ کے مطابق ایمازون نے پتہ لگانے کے بعد اس متعلق امریکی حکام اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کو آگاہ کیا تھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان جاسوس چپ کی تنصیب کے ذریعے چین نے امریکا اور برطانیہ کی ان بڑی ٹیکنالوجی کمپنیز کے ڈیٹا سرورز تک رسائی کرکے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔

تاہم اب برطانیہ اور امریکی حکام نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے ٹیکنالوجیز کمپنیز کا ساتھ دیا ہے۔

ٹیک کرنچ کے مطابق اپنے کمپیوٹرز میں چین چپ نصب کیے جانے کی بلوم برگ رپورٹ سامنے آنے کے بعد ایپل، ایمازون اور سپر مائیکرو کمپنی نے خبروں کو مسترد کیا اور کہا تھا کہ ایسی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں۔

تمام کمپنیوں کی جانب سے جاری بیانات کے بعد برطانیہ کی سرکاری سائبر سیکورٹی کمپنی نے بھی ایسی خبروں کو مسترد کیا اور کہا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بیانات کے بعد یہ شک کرنا درست نہیں کہ چین نے چپ کے ذریعے جاسوسی کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ برطانیہ کے سائبر سیکورٹی سینٹر نے ان خبروں کو مسترد کیا کہ چین نے ایپل، ایمازون اور سپر مائیکرو کمپنیوں کے کمپیوٹرز سمیت دیگر آلات میں انتہائی چھوٹی چپ نصب کرکے ڈیٹا سرور تک رسائی کی۔

برطانیہ کی سرکاری سیکیورٹی کمپنی کے بیان کے بعد امریکا کے ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے چین کی جانب سے جاسوسی کیے جانے کی خبروں کو مسترد کردیا۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی نے جاری بیان میں کہا کہ وہ اور ان کا پارٹنر برطانوی ادارہ ٹیکنالوجیز کمپنیز کے کمپیوٹرز میں چین کی جانب سے چپ نصب کیے جانے کی خبروں سے متعلق باخبر ہے۔

ساتھ ہی ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کو یقین ہے کہ ایپل، ایمازون اور سپر مائیکرو درست کہ رہی ہیں کہ ان کے کمپیوٹرز میں چپ نصب کرنے کی خبریں درست نہیں۔

تاہم دوسری جانب بلوم برگ نے امریکی اور برطانوی حکومت کا رد عمل سامنے آنے کے بعد اپنی ایک رپورٹ میں ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ان کی پہلی خبر بھی درست تھی۔

نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ان کی پہلی خبر میں ٹیکنالوجی اور حکومتی ذرائع کو بنیاد بنایا گیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ معاملہ امریکی سیکیورٹی ادارے ‘فیڈرل بیورو انویسٹی گیشن’ (ایف بی آئی) کی جانب سے کی جانے والی طویل تحقیق کے بعد سامنے آیا۔

گوگل کے پکسل فون لیک ہوکر مارکیٹ میں پہنچ گئے

اگرچہ گوگل کی جانب سے پکسل سیریز کے نئے فون رواں ماہ 4 اکتوبر کو متعارف کرائے جانے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اب اطلاعات ہیں کہ کمپنی نے ان فونز کو پیش کرنے کے لیے ایک ہفتے کی تاخیر کردی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ گوگل کے پکسل تھری اور پکسل تھری ایکس ایل آئندہ ہفتے پیش کیے جائیں گے، لیکن حیران کن طور پر کمپنی کے یہ فون لیک ہوکر مارکیٹ میں فروخت کے لیے بھی پیش ہوگئے۔

جی ہاں، گوگل کے آنے والے فون کمپنی کی جانب سے پیش کیے جانے سے قبل ہی کچھ کمپنیوں نے فروخت کے لیے پیش کردیے اور صارفین نے فون خرید بھی لیے۔

ٹیکنالوجی ادارے ‘انگیجٹ’ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ ہانگ کانگ کے آن لائن موبائل فون فروخت کرنے والے اسٹور نے ‘گوگل پکسل’ کے فونز کو رعایت کے ساتھ فروخت کے لیے پیش کیا۔

رپورٹ کے مطابق ‘واہ فون ڈیجیٹل’ کی جانب سے فونز کو آن لائن فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک صارف نے ہانگ کانگ کے آن لائن اسٹور سے گوگل کا پکسل ایکس ایل اور پکسل فونز 2 ہزار 30 امریکی ڈالر میں خریدے۔

نشریاتی ادارے نے بتایا کہ گوگل پکسل ایکس ایل تھری کی اسکرین 6.3 انچ ہے، جب کہ اس میں 128 جی بی تک ڈیٹا اسٹوریج کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوگل پکسل ایکس ایل کا فرنٹ کیمرہ 8 میگا جب کہ بیک کیمرہ 12 میگا پکسل ہے۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہاں گوگل کے یہ فون لیک ہوکر مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کردیے گئے ہیں، وہیں ان فونز کو پیش کرنے کی تاریخ بھی خود ہی گوگل نے رواں برس اگست میں لیک کی تھی۔

گوگل کی جانب سے لیک کی جانے والی تاریخ کے مطابق پکسل کے دونوں فونز کو 4 اکتوبر کو پیش کیا جائے گا، تاہم کمپنی نے انہیں مقررہ وقت پر پیش نہیں کیا، اب خیال کیا جا رہا ہے کہ انہیں آئندہ ہفتے تک پیش کیا جائے گا۔

اس سے قبل اطلاعات تھیں کہ گوگل پکسل ایک ایل کی قیمت 850 ڈالر تک ہوگی، جب کہ پکسل کی قیمت 650 ڈالر تک بتائی گئی تھی، یعنی دونوں کی مجموعی قیمت 1500 ڈالر بنتی ہے۔

تاہم انگیجٹ کے مطابق صارف کو یہ فونز وقت سے پہلے 2 ہزار 30 ڈالر میں ملے، یعنی صارف کو دونوں فونز کو وقت سے ایک ہفتہ پہلے حاصل کرنے میں 530 امریکی ڈالر اضافی ادا کرنے پڑے۔

کسان کے بغیر پنپنے والا روبوٹک کھیت تیار

سائنس دان ایسا روبوٹک کھیت تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو پودوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے دھوپ اور پانی کی فراہمی کا موثر اور خودکار نظام رکھتا ہے۔

روبوٹک سائنس میں حیران کن ایجادات کرنے والی کمپنی آئرونکس نے روبوٹک کھیت تیار کرلیا ہے۔ اس روبوٹک کھیت میں بیج سے فصل پکنے کے تمام مراحل خودکار نظام کے تحت طے پائیں گے۔

پودوں کی دیکھ  بحال اور حفاظت کے لیے افرادی قوت کی ضرورت نہیں ہوگی اسی طرح پودوں تک سورج کی روشنی کی رسائی اور پانی دینے کے لیے بھی کسان کی ضرورت نہیں ہوگی۔

Field 2

بیچ بونا ہو یا پتوں کی تراش و خراش کرنی ہو یا پھر قلم لگانی ہو، یہ تمام امور انتہائی خوش دلی کے ساتھ خود کار نظام کے تحت انجام پائیں گے، اس نظام میں کامیابی کا تناسب حیران کن طور پر انتہائی زیادہ ہے۔

Field 3

روایتی طور پر ایک ایکڑ زمین پر جتنی فصل اگائی جا سکتی ہے اتنے ہی رقبے پر اس روبوٹک کھیت میں 30 گنا زیادہ فصل تیار کی جاسکتی ہے جب کہ 90 فیصد پانی کی بچت بھی ہوگی۔

روبوٹک کھیت کھلی فضاء میں ہونے کے بجائے ’انڈور‘ رکھا جاسکتا ہے جس میں نصب خودکار نظام کے تحت سورج کی معمولی کرنوں سے پوری فصل کو سیراب کیا جاسکتا ہے۔

Field 4

آئرونکس کے مطابق اس ایجاد سے کم افرادی قوت اور کم وسائل سے زیادہ فصلیں حاصل کی جاسکیں گی۔ زرعی صنعت میں انقلاب برپا کردینے والی یہ ٹیکنالوجی جلد دستیاب ہوگی۔

فیس بک انسٹاگرام سے بھی لوکیشن ہسٹری ٹریک کرنے کی خواہشمند؟

گزشتہ دنوں انسٹاگرام کے دونوں بانیوں نے اچانک کمپنی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا اور یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ وہ فیس بک انتطامیہ کی مداخلت پر خوش نہیں۔

اور ان کے جاتے ہی یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ فیس بک انسٹاگرام کو صارفین کے لوکیشن ہسٹری ڈیٹا کے حصول کے لیے استعمال شیئر کرنے کی تیاری کررہی ہے۔

ایک صارف جین مینچون وونگ نے ایسی سیٹنگز کو دریافت کیا ہے جس کی مدد سے فیس بک کسی صارف کے فون میں انسٹاگرام میں لوکیشن ہسٹری ڈیٹا اکھٹا کرنے کے لیے استعمال کرسکے گی۔

۔

گوگل نے بھی اس سے ملتا جلتا کام اینڈرائیڈ فونز میں میپس کے استعمال کے ساتھ کررکھا ہے۔

فیس بک ترجمان نے اس رپورٹ کی تردید یا تصدیق کرنے کیے بجائے یہ کہا کہ ابھی تک ہم نے اپنی لوکیشن سیٹنگز اپ ڈیٹس کو متعارف نہیں کرایا، جیسا آپ جانتے ہیں کہ ہم اکثر مختلف چیزوں پر کام کرتے ہیں جو کہ اکثر آزمائشی مراحل تک ہی محدود ہوتی ہیں۔

ترجمان انسٹاگرام میں فی الحال لوکیشن ہسٹری اسٹور نہیں ہورہی، مستقبل میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے حوالے سے ہم لوگوں کو آگاہ کریں گے۔

اس نئی سیٹنگز کی جو تصاویر سامنے آئی ہیں، ان سے لگتا ہے کہ یہ انسٹاگرام اور میسنجر دونوں میں ہوگی، جس سے فیس بک کو ان افراد کا ڈیٹا اکھٹا کرنے میں مدد ملے گی جو فیس بک کی مرکزی ایپ استعمال نہیں کرتے یا انسٹال نہیں کررکھی۔

تاہم یہ ممکنہ طور پر صارفین کی اپنی مرضی ہوگی کہ اس آپشن کا انتخاب کریں یا نہیں۔

فیس بک نے ایڈم موسیری کو انسٹاگرام کی قیادت سونپی ہے جو پہلے فیس بک نیوزفیڈ پر کام کرتے تھے، تو توقع کی جاسکتی ہے کہ دونوں ایپس میں اشتراک پہلے سے زیادہ نظر آئے گا۔

ایک عام گوگل سرچ امریکی صدر کی ‘اصل حقیقت’ کیسے سامنے لائی؟

کبھی بھی صحیح الفاظ میں کی جانے والی گوگل سرچ کی طاقت کو کمتر نہ سمجھیں کیونکہ اس سے بھی کسی فرد کے تمام راز سامنے آسکتے ہیں۔

ایسا ہی کچھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہوا۔

رواں ہفتے نیویارک ٹائمز نے ٹرمپ خاندان کی مالیاتی تاریخ کی پیچیدہ اور قانونی طور پر مشکوک تفصیلی اسٹوری شائع کی تھی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ سیلف میڈ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں

درحقیقت انہیں اور ان کے بہن بھائیوں کو ایک ارب ڈالرز سے زیادہ رقم ڈونلڈ ٹرمپ کے والد فریڈ ٹرمپ سے ملے تھے۔

اب نیویارک ٹائمز نے یہ بتایا ہے کہ کس طرح صحافیوں نے اس حقیقت کو تلاش کیا۔

درحقیقت رپورٹر سوزان کریگ کو اس کہانی کا سرا ایک گوگل سرچ میں ملا اور انہیں اس سال کی چند بڑی خبروں میں سے ایک کی تفصیلات جاننے کا موقع ملا۔

ایک کمپنی آل کاﺅنٹی بلڈنگ سپلائی اینڈ مینٹینینس کی موجودگی اور اس کا حقیقی مقصد سے آگاہی سے صحافیوں نے جانا کہ کس طرح فریڈ ٹرمپ نے اپنے بچوں کو ٹیکس فری اثاثے منتقل کیے۔

اور یہ کمپنی جو کہ فریڈ ٹرمپ کی کاروباری سلطنت کا سب سے فراڈ پہلو تھا، صحافیوں کو اس کا علم گوگل سرچ سے ہوا۔

رپورٹ کے مطابق ‘اس اسٹوری کی تحقیقات کا آغاز اپریل 2017 میں اس وقت ہوا جب سوزان کریگ گوگل پر ایک مبہم اصطلاح mortgage receivable کی وضاحت پر سرچ کررہی تھی، یہ وہ اصطلاح ہے جو ٹرمپ خاندان میں رہن یا گروی (mortgages) بچوں سے فریڈ ٹرمپ کو دینے کے لیے استعمال کی جاتی تھی، سوزان نے اس اصطلاح کے آخر میں ٹرمپ کا اضافہ کیا، تو انہوں نے امریکی صدر کی بہن ماریانا (ایک وفاقی جج) کی جانب سے جاری کیے گئے اعلان نامے کو دریافت کیا، جو انہوں نے سینیٹ میں اپنی تقرری کی توثیق کی سماعت کے دوران جمع کرایا تھا۔ عدالتی بینچ میں اپنے دورانیے کے دوران جمع کرائے گئے دیگر دستاویزات کے برعکس اس اعلان نامے پر نظرثانی نہیں ہوئی تھی۔ اس دستاویز میں سوزان کریگ نے ٹرمپ خاندان کی زیرملکیت ایک گمنام کمپنی آل کاﺅنٹی بلڈنگ سپلائی اینڈ مینٹینینس کی جانب سے 10 لاکھ ڈالرز کی فراہمی کو نوٹس کیا’۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ‘یہ پڑھ کر سوزان چونک گئیں، یہ پہلی دستاویز تھی جو ہمیں ملی جس سے ہمیں لگا کہ اس کمپنی میں کچھ ایسا ہے، جس کے بارے میں ہمیں جاننے کی ضرورت ہے’۔

ٹرمپ خاندان نے یہ کمپنی والد سے بچوں میں دولت منتقلی کے لیے تشکیل دی تھی تاکہ انٹرنل ریونیو سروس (آئی آر ایس) کو کچھ معلوم نہ ہوسکے۔

ایک عام گوگل سرچ سے صحافیوں کو ٹرمپ خاندان کی اس کمپنی کی دھماکہ خیز اور ممکنہ طور پر غیرقانونی مقصد کے بارے میں دریافت کرنے کا موقع ملا۔

اس کے بعد ان صحافیوں نے لاکھوں دستاویزات تک رسائی حاصل کی اور ت

یادداشت کو بہتر بنانے والا ’سانس فور گیٹکا‘ فونٹ تیار

سڈنی: آسٹریلیا میں ماہرینِ نفسیات اور فونٹ بنانے والوں کی مشترکہ کوشش سے ایک ایسا انگریزی فونٹ بنایا گیا ہے جس میں پڑھی جانے والی تحریر دیر تک یاد رہتی ہے۔

’سانس فورگیٹکا‘ کے الفاظ اس طرح کشیدہ ہیں کہ انہیں پڑھنے میں تھوڑا وقت لگتا ہے اور اسی بنا پر اس فونٹ میں پڑھی جانے والی تحریر دیگر فونٹ کے مقابلے میں تادیر یاد رہتی ہے۔ اب یہ فونٹ آسٹریلیا کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی پر مفت دستیاب ہے۔

اسے بنانے والے ماہرین نے کہا ہے کہ سانس فورگیٹکا فونٹ کی تیاری میں کئی شعبوں کے ماہرین نے کئی سال محنت کی ہے۔ فونٹ کو ترچھا کرنے کے علاوہ ان کی اشکال میں جگہ چھوڑی گئی ہے تاکہ اسے پڑھتے وقت توجہ حاصل ہوسکے۔ دوسری جانب اسے عین دماغی ارتکاز اور توجہ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

سانس فورگیٹکا بناتے وقت دماغ میں الفاظ کی پروسینگ کا عمل اور دیگر نفسیاتی پہلوؤں کو بھی مدِ نظر رکھا گیا ہے تاہم الفاظ کو کشیدہ کرنے کا عمل بھی سائنسی بنیادوں پر کیا گیا ناکہ کسی ڈیزائن کے تحت ایسا بنایا گیا ہے۔ اس کا اہم فائدہ یہی ہے کہ سانس فورگیٹکا میں پڑھی جانے والی تحریر یاد رکھنا آسان ہوتا ہے۔

فونٹ سے وہ طالب علم زیادہ مستفید ہوسکتے ہیں جنہیں سبق یاد کرنے میں دقت محسوس ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ فونٹ ایک بہترین ٹول ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ فونٹ آرایم آئی ٹی یونیورسٹی میں ٹائپو گرافی کے لیکچرر اسٹیفن بینم کی نگرانی میں تیار کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی میں تجرباتی ڈیزائننگ سے وابستہ ڈاکٹر جینیکے بلیونز کہتے ہیں کہ عام حالات میں ہم پڑھتے ہوئے اس تیزی سے گزر جاتے ہیں کہ وہ الفاظ اور جملے حافظے کا حصہ ہی نہیں بن پاتے تاہم اس فونٹ کے لیے پڑھنے والا کوشش کرتا ہے اور اس عمل کو ’میموری ریٹینشن‘ کہتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس فونٹ کو 400 طلبا پر آزمایا گیا ہے اور اس کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

Google Analytics Alternative