سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

واٹس ایپ میں ایک بڑی سیکیورٹی کمزوری سامنے آگئی

دنیا کی مقبول ترین میسجنگ اپلیکشنز واٹس ایپ اور ٹیلیگرام میں ایک ایسی کمزوری سامنے آئی ہے جو ہیکرز کو صارفین کی تصاویر اور آڈیو فائلز تک رسائی فراہم کرتی ہے۔

آن لائن سیکیورٹی کمپنی Symantec نے یہ کمزوری دریافت کی۔

کمپنی کے مطابق اس میل وئیر سے واٹس ایپ اور ٹیلیگرام میں ہیکرز صارف کی بھیجی جانے والی تصویر کو بدل سکتے ہیں یا میل کسی انوائس کی تصویر میں نمبروں کو بدلا جاسکتا ہے اور متاثر فرد کسی غلط فرد کو رقم بھیج سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ ان ایپس میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن موجود ہے جو صارفین کو حکومتی نگرانی سے تحفظ فراہم کرنے والا فیچر ہے، یہاں تک کہ یہ کمپنیاں بھی صارفین کے پیغامات نہیں پڑھ سکتی۔

اگرچہ انکرپشن پیغامات کو تحفظ فراہم کرنے والا فیچر ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ایپس انتہائی محفوظ ہیں۔

اس سے قبل رواں سال مئی میں ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ واٹس ایپ میں موجود ایک خامی ہیکرز کو ڈیوائسز میں صرف ایک فون کال سے اسپائی وئیر انسٹال کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

اب Symantec کے مطابق جو نئی کمزوری سامنے آئی ہے، وہ اکاﺅنٹ کو تو ہیک نہیں ہونے دیتی مگر اسے فراڈ کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ کمزوری واٹس ایپ اور ٹیلیگرام میں میڈیا فائلز کو اسٹور کرنے کے طریقہ کار میں چھپی ہے۔

جب فائلز کو ایکسٹرنل اسٹوریج میں محفوظ کیا جاتا ہے تو دیگر ایپس کو اس تک رسائی اور اسے بدلنے کا موقع مل جاتا ہے، جیسے واٹس ایپ میں تصاویر، ویڈیو یا آڈیو فائلز فون ڈیوائسز میں ڈیفالٹ محفوظ ہوتی ہیں جبکہ ٹیلیگران میں اگر گیلری میں محفوظ کرنے کا آپشن ان ایبل ہو تو یہ کمزور پیدا ہوجاتی ہے۔

اس کمپنی کے محققین نے اس میل وئیر کو آزمانے کے لیے واٹس ایپ اور ٹیلیگرام میں بھیجی گئی تصاویر اور آڈیو فائلز میں تبدیلی کا کامیاب تجربہ کیا۔

واٹس ایپ اور ٹیلیگرام کی جانب سے فی الحال اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

تاہم اگر آپ یہ ان ایپس کو استعمال کرتے ہیں تو اس کطرے سے بچنے کے لیے میڈیا اسٹوریج کی سیٹنگز تبدیل کرلیں، یعنی واٹس ایپ میں سیٹنگز اوپن کریں اور میڈیا ویزیبلٹی کو آف کردیں جبکہ ٹیلیگران میں سیو ٹو گیلری کو آف کردیں۔

آئی فون 6 دھماکے سے پھٹنے سے 11 سالہ بچی زخمی

ایک 11 سالہ بچی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا آئی فون اس کے ہاتھوں میں پھٹ گیا۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے علاقے بیکرفیلڈ سے تعلق رکھنے والی کائیلا راموس اپنی بہن کے کمرے میں آئی فون 6 پر کھیل رہی تھی جب اس نے ڈیوائس میں چنگاریاں نکلتی ہوئی دیکھیں۔

اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے بچی نے بتایا ‘میں بیٹھی ہوئی تھی اور میرا فون میرے ہاتھ میں تھا، جب میں نے اس میں ہر جگہ سے چنگاریاں نکلتی ہوئی دیکھیں اور اسے کمبل پر پھینک دیا’۔

کائیلا راموس نے بتایا کہ اس دھماکے سے اس کا ہاتھ معمولی جل گیا مگر بہت زیادہ چوٹ نہیں آئی، تاہم آئی فون اور کمبل مکمل طور پر جل گئے۔

بچی کی ماں ماریہ اداتہ کا کہنا تھا کہ ایپل کی جانب سے واقعے کی تحقیقات ہورہی ہے اور کمپنی نے بیٹی کو نیا فون بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔

آئی فون پھٹنے سے معمولی زخمی ہونے والی بچی — فوٹو بشکریہ اے بی سی نیوز
آئی فون پھٹنے سے معمولی زخمی ہونے والی بچی — فوٹو بشکریہ اے بی سی نیوز

ماریہ کا کہنا تھا کہ اس دھماکے کی ممکنہ وجہ ڈیوائس کو بہت زیادہ چارج کرنا تھا۔

ایپل نے اس حوالے سے اے بی سی نیوز کو بھیجے گئے بیان میں کہا کہ ایک آئی فون کے بہت زیادہ گرم ہونے کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں۔

بیان کے مطابق ان وجوہات میں تھرڈ پارٹی ایپل پراڈکٹس جیسے چارجنگ کیبل کا استعمال یا ایسی کمپنی سے آئی فون کی مرمت کرانا جو ایپل کی منظور کردہ نہ ہو۔

آئی فون میں اس طرح آگ لگنے یا پھٹنے کے واقعات بہت کم سامنے آتے ہیں۔

تاہم سام سنگ کو گلیکسی نوٹ 7 اسمارٹ فون میں اس مسئلے کا بڑے پیمانے پر سامنا ہوا تھا اور متعدد افراد نے ڈیوائسز میں آگ لگنے کی شکایت کی ، جس کے بعد دنیا بھر سے ڈیوائسز کو واپس طلب کیا گیا اور کمپنی کو اس کے نتیجے میں 5 ارب ڈالرز کا سامنا ہوا جبکہ ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوئی۔

بھارت: چاند کا خلائی مشن روانگی سے ایک گھنٹہ قبل منسوخ

بھارت نے چاند سے متعلق تحقیقات کرنے کے لیے راکٹ روانہ کرنے کا مشن محض ایک گھنٹہ قبل ڈرامائی طور پر تکنیکی مسئلے کے سبب منسوخ کردیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارت چندرائن 2 یا مون چیریئٹ 2 بھیج کر روس، امریکا اور چین کے بعد چان کی سطح پر خلائی جہاز بھیجنے والا چوتھا ملک بننے کا خواہاں تھا۔

خلائی جہاز روانہ کرنے کے لیے کی جانے والی گنتی 56 منٹ 24 سیکنڈ پر روک دی گئی جسے بھارتی وقت کے مطابق رات 2 بج کر 51 منٹ پر روانہ ہونا تھا۔

بھارت کے اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (آئی ایس آر او) نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا کہ 56 منٹ پر خلائی گاڑی کی لانچ کے موقع پر ایک تکنیکی رکاوٹ آگئی۔

چنانچہ احتیاط سے کام لیتے ہوئے چندرائن کی لانچ آج کے لیے منسوخ کردی گئی جبکہ لانچ کی آئندہ تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

ریاست آندھرا پردیش کے ایک جزیرے پر واقع اسپیس سینٹر کے حکام کا کہنا تھا کہ خلائی گاڑی کو لانچ سسٹم میں مسئلہ تھا تا ہم ادارے نے یہ نہیں بتایا کہ اب یہ روانگی کب عمل میں آئے گی۔

بھارت کی جانب سے چاند کی جانب مشن امریکی خلا باز نیل آرم اسٹرانگ کے چاند پر تاریخی چہل قدمی کی 50 ویں سالگرہ سے 5 روز قبل روانہ کیا جانا تھا۔

بھارت نے چندرائن 2 کی تیاری پر 14 کروڑ ڈالر خرچ کیے ہیں جو اب تک کا سب سے سستا مشن بننے جارہا تھا۔

چاند پر اترنے کے دوسرے مشن کے لیے 6 ستمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، خاص بات یہ ہے کہ چندرائن 2 کا آربیتر، لینڈر، اور روور بھارت میں ہی ڈیزائن اور تیار کیا گیا تھا۔

اس سے قبل بھارت کا پہلا مشن چدرائن 1 چاند کی سطح پر نہیں اتر سکا تھا بلکہ اس نے ریڈار استعمال کر کے پانی کی تلاش کا کام کیا۔

دوسری جانب بھارت مریخ کی جانب بھی تحقیقاتی مشن روانہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ، 2014 میں سیارہ مریخ کے مدار میں سیٹیلائٹ داخل کرنے والا چوتھا ملک بن گیا تھا۔

واٹس ایپ میں جلد متعارف ہونے والے 5 بہترین فیچرز

واٹس ایپ دنیا کی مقبول ترین میسجنگ اپلیکشن ہے جس میں ہر سال ہی متعدد نئے فیچرز سامنے آتے ہیں۔

دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی میسجنگ اپلیکشن ہونے کی وجہ سے واٹس ایپ میں ہر چند ہفتے میں نئے فیچرز متعارف ہوتے رہتے ہیں۔

اس وقت بھی کمپنی کی جانب سے متعدد فیچرز کی آزمائش بیٹا ورژن میں ہورہی ہے۔

میڈیا فائل سینڈ کردینے کے بعد اس میں ایڈیٹنگ، ڈارک موڈ اور ایسے ہی دیگر متعدد فیچرز، جو اس وقت واٹس ایپ میں دستیاب نہیں۔

ویسے تو آپ نئے فیچرز کو سب سے پہلے واٹس ایپ بیٹا پر سائن اپ ہوکر حاصل کرسکتے ہیں مگر اس میں بگز اور ایپ کریش کا سامنا بھی ہوتا ہے۔

آئندہ چند ماہ میں واٹس ایپ میں متعارف کرائے جانے والے فیچرز درج ذیل ہیں۔

کوئیک ایڈٹ میڈیا

واٹس ایپ کی جانب سے کوئیک ایڈٹ میڈیا فیچر پر کام ہورہا ہے جو اس وقت بیٹا ورژن میں نظر آیا ہے، اس فیچر کی بدولت پہلی بار صارفین میڈیا فائلز تصاویر وغیرہ میں سینڈیا ریسیو کرنے کے بعد تبدیلیاں کرسکیں گے، واٹس ایپ اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ WABetainfo کے مطابق اس فیچر سے صارفین ان چیٹ میڈیا کو ایڈٹ کرکے براہ راست شیئر کرسکیں گے۔

کیو آر کوڈ

واٹس ایپ میں نئے کانٹیکٹ کو کیو آر کوڈز کی مدد سے ایڈ کرنے کا فیچر دیا جارہا ہے جو اس عمل کو آسان بنادے گا، یہ فیچر بہت جلد متعارف کرائے جانے کا امکان ہے اور یہ انسٹاگرام کے نیم ٹیگز فیچر سے بہت زیادہ ملتا جلتا ہے۔ ہر صارف کو ایک منفرد کیو آر کوڈ ملے گا جو وہ دیگر سے شیئر کرسکے گا، کیو آر کوڈ پہلے ہی واٹس ایپ ویب میں لاگ ان کے لیے استعمال ہورہا ہے۔

میوٹ اسٹیٹس چھپانا

فیس بک کے ان فالو کی طرح واٹس ایہ میں ہائیڈ میوٹ اسٹیٹس فیچر متعارف کرایا جارہا ہے جس میں کسی کانٹیکٹ کو مکمل بلاک کرنے کی بجائے بس اس کی اسٹیٹس فیڈ کو ہائیڈ کردیا جائے گا، اس وقت اگر آپ کسی اسٹیٹس کو میوٹ کردیں تو بی اسٹیٹس فیڈ کے نیچے نظر آنے لگتا ہے۔

ڈارک موڈ

ڈارک موڈ وہ فیچر ہے جس کا صارفین کو شدت سے انتظار ہے، یہ فیچر بیٹا ورژن 2.19.87 میں دیکھا گیا تھا مگر فی الحال وہاں موجود نہیں، مگر کمپنی گزشتہ سال وعدہ کرچکی ہے کہ صارفین کے لیے اسے بہت جلد متعارف کرایا جائے گا۔

کونسا صارف زیادہ فارورڈ میسج کرتا ہے

واٹس ایپ کی جانب سے ایک اور فیچر پر بھی کام ہورہا ہے جس کے تحت گروپس استعمال کرنے والوں کو آگاہ کیا جائے گا کہ کونسا صارف اکثر پیغامات فارورڈ کرتا ہے، صارفین اس فیچر کی بدولت ی بھی جان سکیں گے کہ کسی میسج کو کتنی بار فارورڈ کیا جاچکا ہے، یہ فیچر بھی فی الحال بیٹا ورژن میں نظر آیا ہے۔

صارفین کی معلومات کا سیاسی استعمال: فیس بک پر 5 ارب ڈالر کا جرمانہ

امریکا کے فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) نے 5 کروڑ صارفین کی معلومات غلط اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے پر فیس بک پر 5 ارب ڈالر (تقریباً 7 کھرب 90 ارب روپے) کا جرمانہ عائد کردیا۔

واضح رہے کہ کیمبرج اینالاٹکا (سی اے) نامی کمپنی نے موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں ان کی انتخابی مہم کے دوران فیس بک کے 5 کروڑ صارفین کی معلومات استعمال کی تھیں۔

فیس بک صارفین کی معلومات سے متعلق الزام کو مسترد کرتا رہا لیکن شدید دباؤ کے بعد تسلیم کیا کہ ان کے پلیٹ فارمز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

جس کے بعد ایف ٹی سی نے مارچ 2018 میں فیس بک کے خلاف تحقیقات شروع کردی تھی۔

برطانوی

امریکا کے فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) نے 5 کروڑ صارفین کی معلومات غلط اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے پر فیس بک پر 5 ارب ڈالر (تقریباً 7 کھرب 90 ارب روپے) کا جرمانہ عائد کردیا۔

واضح رہے کہ کیمبرج اینالاٹکا (سی اے) نامی کمپنی نے موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں ان کی انتخابی مہم کے دوران فیس بک کے 5 کروڑ صارفین کی معلومات استعمال کی تھیں۔

فیس بک صارفین کی معلومات سے متعلق الزام کو مسترد کرتا رہا لیکن شدید دباؤ کے بعد تسلیم کیا کہ ان کے پلیٹ فارمز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

جس کے بعد ایف ٹی سی نے مارچ 2018 میں فیس بک کے خلاف تحقیقات شروع کردی تھی۔

برطانوی اخبار ‘دی گارجین’ کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ انصاف جرمانے کی ادائیگی سے متعلق حتمی منظوری دے گا۔

اس سے قبل فیس بک انتظامیہ رواں برس اپریل میں واضح کرچکی تھی کہ ایف ٹی سی سے مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہوچکے ہیں اور 3 سے 5 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

ایف ٹی سی سے معاہدے میں فیس بک نے آمادگی کا اظہار کیا کہ وہ صارفین کی معلومات کو سنبھالنے کے طریقوں پر جائزہ لے گا۔

رپورٹ کے مطابق ایف ٹی سی کے ساتھ تصفیے میں فیس بک کو پابند نہیں کیا گیا کہ وہ ‘تھرڈ پارٹی’ کو صارفین کی معلومات فراہم نہیں کرے گا۔

دوسری جانب ناقدین نے کہا کہ فیس بک کے خلاف 5 ارب ڈالر کا جرمانہ ناکافی ہے کیونکہ رواں سال سے پہلے 3 ماہ میں کمپنی کا ریونیو 15 ارب ڈالر سے زائد تھا۔

اوپن مارکیٹ انسٹی ٹیوٹ کے فیلو میٹ اسٹولر نے کہا کہ ’مذکورہ جرمانہ فیس بک کے لیے محض ایک پارکنگ ٹکٹ ہے جس کے بعد کمپنی صارفین کی معلومات سے متعلق مزید غیر قانونی اور غیر معمولی نگرانی کرے گی‘۔

امریکی محکمہ انصاف جرمانے کی ادائیگی سے متعلق حتمی منظوری دے گا۔

اس سے قبل فیس بک انتظامیہ رواں برس اپریل میں واضح کرچکی تھی کہ ایف ٹی سی سے مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہوچکے ہیں اور 3 سے 5 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

ایف ٹی سی سے معاہدے میں فیس بک نے آمادگی کا اظہار کیا کہ وہ صارفین کی معلومات کو سنبھالنے کے طریقوں پر جائزہ لے گا۔

رپورٹ کے مطابق ایف ٹی سی کے ساتھ تصفیے میں فیس بک کو پابند نہیں کیا گیا کہ وہ ‘تھرڈ پارٹی’ کو صارفین کی معلومات فراہم نہیں کرے گا۔

دوسری جانب ناقدین نے کہا کہ فیس بک کے خلاف 5 ارب ڈالر کا جرمانہ ناکافی ہے کیونکہ رواں سال سے پہلے 3 ماہ میں کمپنی کا ریونیو 15 ارب ڈالر سے زائد تھا۔

اوپن مارکیٹ انسٹی ٹیوٹ کے فیلو میٹ اسٹولر نے کہا کہ ’مذکورہ جرمانہ فیس بک کے لیے محض ایک پارکنگ ٹکٹ ہے جس کے بعد کمپنی صارفین کی معلومات سے متعلق مزید غیر قانونی اور غیر معمولی نگرانی کرے گی‘۔

گلیکسی نوٹ 10 کی قیمت کیا ہوگی؟

سام سنگ کا نیا فلیگ شپ فون گلیکسی نوٹ 10 ویسے تو 7 اگست کو متعارف کرایا جائے گا مگر اس کے تمام تر فیچرز اور تصاویر پہلے ہی لیک ہوکر سامنے آچکی ہیں۔

یعنی فون کے بارے میں سب کچھ آفیشل ایونٹ سے پہلے ہی سامنے آچکا ہے اور اب اس کا جو راز یعنی قیمت بھی ایک رپورٹ میں لیک ہوگئی ہے جو کہ ہوش اڑا دینے والی ہے۔

خیال رہے کہ مختلف لیکس کے مطابق پہلی بار سام سنگ کی جانب سے گلیکسی نوٹ سیریز کے فون کو 2 مختلف ورژن میں متعارف کرایا جائے گا، ایک گلیکسی نوٹ 10 اور دوسرا گلیکسی نوٹ 10 پلس۔

جرمن ویب سائٹ ون فیوچر نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ گلیکسی نوٹ 10 کی قیمت یورپ میں 999 یورو (ایک لاکھ 77 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) سے شروع ہوگی۔

دوسری جانب گلیکسی نوٹ 10 پلس کی قیمت 1159 یورو (2 لاکھ 6 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) سے شروع ہوگی۔

یہ قیمتیں یورپ کے لیے ہیں تو دیگر مارکیٹوں میں یہ مختلف ہوسکتی ہیں مگر یہ توقع نہ رکھیں کہ یہ اس سے سستے ہوں گے۔

نوٹ سیریز یہ ان دونوں فونز میں بیسک اسٹوریج 256 جی بی سے شروع ہوگی جو کہ گلیکسی ایس 10 سے ڈبل ہے، جس کی وجہ نوٹ 10 میں ممکنہ طور پر مائیکرو ایس ڈی سپورٹ نہ دیئے جانے کا امکان ہے۔

یہ سام سنگ کا پہلا فون ہوگا جس میں اوپری اور نچلے بیزل کو لگ بھگ ختم کردیا گیا ہے جبکہ پنچ ہول کیمرا سائیڈ کی بجائے اسکرین کے اوپر سینٹر میں دیاج ائے گا۔

مختلف افواہوں کے مطابق گلیکسی نوٹ 10 کا ایک ماڈل 6.75 انچ اسکرین کے ساتھ ہوگا جبکہ دوسرے ورژن میں 6.3 انچ ڈسپلے دیا جائے گا۔

اس سے قبل مختلف لیکس میں یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ گلیکسی نوٹ 10 میں 45 واٹ چارجنگ اسپیڈ دیئے جانے کا امکان ہے جو کہ پہلی بار جنوبی کورین کمپنی کے کسی فون میں دی جائے گی۔

ایسا بھی کہا جارہا ہے کہ گلیکسی نوٹ پلس میں سپر امولیڈ ڈسپلے کے ساتھ ایکسینوس 9828 پراسیسر یا اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر دیا جائے گا۔

اس فون میں اینڈرائیڈ پائی آپریٹنگ سسٹم ہوگا مگر اسے بعد میں اینڈرائیڈ کیو سے اپ ڈیٹ کردیا جائے گا۔

پہلی بار گلیکسی نوٹ 10 میں بیک پر تین کیمروں کا سیٹ اپ دیا جارہا ہے جبکہ فلیش کو اس کے برابر میں منتقل کیا جارہا ہے۔

اسی طرح گلیکسی نوٹ 10 پلس میں بیک پر تین کی بجائے 4 کیمرے ہوں گے، مگر ایک کیمرا تھری ڈی ٹائم آف لائٹ سنسر سے لیس ہوگا۔

پاکستان میں ہونڈا نے گاڑیوں کی پیداوار روک دی

لاہور: ملک میں حالیہ ہفتوں میں روپے کی قدر میں کمی، بجٹ میں نئے اور زائد ٹیکسز کے نفاذ کے باعث قیمتیں بڑھنے سے گاڑیوں کی فروخت میں کمی ہوئی، جس کے باعث ہونڈا اٹلس کار پاکستان (ایچ اے سی پی) نے 10 روز کے لیے اپنا پلانٹ شٹ ڈاؤن کردیا کیونکہ کمپنی کے مطابق اس کے پاس 2 ہزار یونٹس پہلے ہی اسٹاک میں موجود ہیں۔

اسی طرح پاکستان میں ٹویوٹا ماڈلز بنانے والی انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) میں موجود ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ کمپنی نے بھی رواں ماہ ہر ہفتے میں 2 روز یعنی کُل 8 روز کے لیے کار کی پیداوار روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ ہونڈا کی جانب سے گزشتہ ہفتے 2 روز کے لیے اپنا پلانٹ بند کیا گیا تھا۔

تاہم پاکستان سوزوکی موٹر کمپنی کے ترجمان نے ڈان کو بتایا کہ کمپنی رواں ماہ سیلز کے رجحان اور بکنگ آرڈر کو دیکھنے کے بعد کچھ روز میں فیصلہ کیا جائے گا کہ پیداوار بند کریں یا نہیں۔

ایچ اے سی پی اور آئی ایم سی ایگزیکٹو نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ رواں ماہ کے پہلے 10 روز میں انتہائی مایوس کس سیلز کو دیکھتے ہوئے پیداوار کو کم کرنے کا فیصلہ کیا۔

ہونڈا اٹلس کمپنی کے سینئر ایگزیکٹو نے واضح کیا کہ ’روپے کی قدر میں کمی کے ساتھ ساتھ تمام درآمدات پر ایڈوانس کسٹم ڈیوٹی (اے سی ڈی) اور اسمبلڈ کاروں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کے بعد گزشتہ ماہ اور جولائی کے پہلے 10 روز میں ہمارے موجود اسٹاک میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس نے ہمارے پاس پلانٹ کو بند کرنے اور پیداوار کو کم کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں چھوڑا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر یہی رجحان جاری رہا تو ہمیں امید ہے کہ اس کاروباری سال (اپریل 2019 سے مارچ 2020) میں ہماری سیل گزشتہ سال کے 48 ہزار یونٹس سے 30 ہزار یونٹس سے بھی کم ہوجائے گی‘۔

اسی طرح آئی ایم سی کے عہدیدار نے بھی جولائی میں ’8 روز کے لیے پیداوار نہ ہونے‘ کے لیے کچھ وجوہات بیان کیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ان مقامی کار مینوفکچررز کے لیے انتہائی سنگین صورتحال ہے جو اپنی انوینٹریز (اسٹاک) کو بڑھا رہے ہیں لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کی کمپنی اب تک کتنی انوینٹری بنا چکی ہے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر سیلز میں اضافہ نہیں ہوا تو اگلے ماہ پیدوار میں کمی مزید بڑھ سکتی ہے۔

گزشتہ 3 ماہ میں سیلز میں کمی ہوئی ہے اور کُل کار اور لائٹ کمرشل وہیکل (ایل سی وی) کا حکم جون میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 فیصد کم ہوکر 17561 یونٹس رہ گیا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کار اور ایل سی وی سیلز گزشہ مالی سال کے دورن 7 فیصد تک کمی ہوئی اور یہ گزشتہ برس سے 2لاکھ 40 ہزار 335 یونٹس تک آگئی۔

اس کے علاوہ یکم جولائی سے مقامی اسمبلی کی جانب سے استعمال کیے جانے والے پارٹس اور خام سامان پر 5 فیصد اے سی ڈی اور 2.5 سے 7.5 فیصد تک ایف ای ڈی عائد ہونے سے سیلز مزید کم ہونا شروع ہوگئی۔

ہواوے کا پہلا 5 جی فون رواں ماہ متعارف ہوگا

ہواوے کا پہلا 5 جی اسمارٹ فون میٹ 20 ایکس رواں ماہ کے آخر میں متعارف کرایا جائے گا۔

گلوبل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہواوے میٹ 20 ایکس فائیو جی مخصوص ممالک میں جولائی کے آخر تک متعارف کرایا جائے گا اور یہ اس وقت کیا جارہا ہے جب چینی کمپنی کی جانب سے اینڈرائیڈ ڈیوائسز کی تیاری پر غیریقینی صورتحال موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ فون 26 جولائی کو چین میں فروخت کے لیے پیش کردیا جائے گا۔

دوسری جانب وینچر بیٹ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہواوے کا پہلا فائیو جی فون اس وقت ایمازون کی اٹالین ویب سائٹ پر دستیاب ہے اور 22 جولائی کو ریلیز کیا جائے گا جبکہ یہ متحدہ عرب امارات میں 12 جولائی کو دستیاب ہوگا۔

ہواوے میٹ 20 ایکس فائیو جی باہر سے میٹ 20 ایکس سے کافی ملتا جلتا ہے یعنی 7.2 انچ اسکرین اور بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ، تاہم اس میں بیٹری 4200 ایم اے ایچ کی بجائے 5000 ایم اے ایچ دی گئی ہے، ریم کو 6 جی بی سے بڑھا کر 8 جی بی جبکہ اسٹوریج 128 جی بی سے بڑھا کر 256 جی بی کردی گئی ہے۔

مختلف ممالک میں ہواوے کے اس پہلے فائیو جی فون کی فروخت امریکا کی جانب سے بلیک لسٹ کیے جانے کے باعث غیریقینی صورتحال کا شکار ہے کیونکہ امریکی پابندی کے باعث گوگل کی جانب سے اینڈرائیڈ لائسنس معطل کیا جاسکتا ہے۔

برطانیہ میں ہواوے نے یہ فون جون میں متعارف کرانا تھا مگر پھر اس فیصلے کو موخر کردیا گیا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ہواوے پر پابندیوں کو نرم کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے مگر ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ چینی کمپنی کے مستقبل کے فون کس حد تک ان نرم پابندیوں سے متاثر ہوں گے۔

امریکی حکام کے مطابق پابندیاں نرم ہونے کے بعد بھی ہواوے کو بلیک لسٹ میں برقرار رکھا جائے گا تاہم اس سے کاروبار کرنے کی خواہشمند امریکی کمپنیوں کو لائسنسز جاری کیے جائیں گے۔

 

Google Analytics Alternative