سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

جی ہاں! مثبت تخیل سے خوف اور ڈپریشن پر قابو پایا جاسکتا ہے

کولاراڈو:ہم خیالوں میں دنیا کے مشکل ترین کام کرسکتے ہیں خواہ وہ پہاڑ عبور کرنا ہو یا پھر کوئی طیارہ اڑانا۔ تخیل ہمارے دماغ کو مفید خیالات اور نت نئے تصورات سے بھر دیتا ہے۔ لیکن اب ماہرین کہہ رہے کہ یہی خیالات سوچنے کا عمل ہمیں ڈپریشن اور خوف سے نجات دینے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

حالیہ تحقیق کے بعد بعض ماہرین نے کہا ہے کہ ہمارے تخیل ہمارے ذہنوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور یہ عمل بہت ٹھوس انداز میں رونما ہوتا ہے۔ 2009 کی ایک اہم تحقیق سے انکشاف ہوا تھا کہ جو ہم سوچتے ہیں بسا اوقات ہمارا جسم انہیں اصل سمجھتے ہوئے بھی اس پر اپنا ردِ عمل دیتا ہے۔ اسی طرح 2013 کی ایک تحقیق کرنٹ بایالوجی میں شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ خاص آوازوں اور اشکال سوچنے سے حقیقی دنیا سے ہمارے ردِ عمل اور برتاؤ میں مثبت تبدیلی آتی ہے۔

اب جرنل ’نیورون‘ میں شائع ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اہم تخیل کے زور پر اپنے اندر ’جادوئی قوت‘ جگاکر مسلسل خوف اور پریشانی پر قابو پاسکتے ہیں۔ یہ تحقیق یونیورسٹی آف کولاراڈو کے پروفیسر ٹور ویگر اور ان کے رفقا نے کی ہے۔ اس عمل کو انہوں نے ’ایکسپوژر تھراپی‘ کا نام دیا ہے جس میں خیالات اور سوچ کے ذریعے انسان پریشانی اور خوف سے باہر نکل سکتا ہے۔

سروے میں 68 صحتمند افراد کو شامل کیا گیا اور انہیں ایک خاص آواز سنائی گئی جس کے بے آرام لیکن غیرتکلیف دہ برقی جھٹکا وابستہ تھا۔ اب ان لوگوں کو تین گروہوں میں بانٹا گیا ۔ ایک گروہ کو وہی آواز سنائی گئی لیکن بجلی کا جھٹکا نہیں دیا گیا۔

دوسرے گروہ سے کہا گیا کہ وہ تصور یا خیال میں اس آواز کو سوچیں۔ تیسرے گروہ کو پرندوں کی چہکار اور برسات کی خوشگوار آوازیں سوچنے کا کہا گیا۔  اس دوران سب کے فنکشنل ایم آر آئی لئے جاتے رہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ برقی جھٹکے سے وابستہ آواز کا تصور بھی عین اسی طرح پریشان کن تھا جیسی وہ آواز اور کرنٹ جھٹکا تھا۔

اس بنیاد پرماہرین کا مشورہ ہے کہ اداسی میں اچھی چیزوں کا مضبوط تخیل جمائیں اور خوف کی کیفیت میں عین وہی بات سوچیں جو اس خوف کے خلاف ہو یا اسے کم کرسکے۔ مسلسل مشق سے یہ کیفیت مضبوط ہوتی ہے اور منفی کیفیات دھیرے دھیرے دور ہوتی جاتی ہیں۔

میریٹ ہوٹلز کے کروڑوں صارفین کا ڈیٹا چین نے چوری کیا، امریکا کا الزام

امریکی اسٹیٹ سیکریٹری مائیک پومپیو نے میریٹ انٹر نیشنل ہوٹلز کے صارفین کا ڈیٹا ہیک ہونے میں چین کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے۔

خبررساں اداے اے ایف پی کے مطابق امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے فاکس نیوز کے پروگرام ’ فاکس اینڈ فرینڈز ‘ میں تصدیق کی کہ حکومت کا ماننا ہے کہ میریٹ میں صارفین کے ڈیٹا کی چوری میں چین ملوث ہے۔

انہو ں نے فاکس نیوز کے پرگرام میں بتایا کہ ’ چین نے دنیا بھر میں سائبر حملے کیے ہیں‘۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ ’ ہم چین کو اسٹریٹیجک مقابل مانتے ہیں، وہ جنوبی چین کے سمندر میں اقدامات کررہے ہیں، وہ (چینی) یہاں امریکا میں جاسوسی سے متعلق آپریشن بھی کررہے ہیں‘۔

امریکا کی جانب سے چین پر میریٹ ہوٹلز کے ڈیٹا ہیکنگ کا الزام واشنگٹن اوربیجنگ کے درمیان تجارت، ٹیکنالوجی اور جاسوسی کی وجہ سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں عائد کیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے کینیڈا نے امریکا کی درخواست پر چین کی ٹیلی کام کمپنی ہواوے کی چیف فنانشل ایگزیکٹو مینگ وانژو کو گرفتار کیا تھا۔

مینگ وانژو پر ایران پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی اور امریکا کے ساتھ دھوکا دہی کے الزامات عائد تھے۔

تاہم اس کے بعد چین نے کینڈا کے سابق سفیر مائیکل کوورگ کو چین میں گرفتار کیا تھا، جو انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے لیے ملازمت کرتے ہیں۔

مزید برآں آئندہ ہفتے امریکا کی جانب سے چینی ملٹری اور انٹیلی جنس ہیکرز پر نئے الزامات عائد کیے جانے کے امکانات ہیں۔

گزشتہ روز امریکا نے چینی کمپنی ینتائی جیری آئل فیلڈ سروسز گروپ پر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر 28 لاکھ ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

50 کروڑ صارفین کا ڈیٹا

وہ ہیکرز جنہوں نے دنیا کی سب سے بڑی ہوٹل کمپنی میریٹ کے 50 کروڑصارفین کا ڈیٹا چوری کیا ان کا تعلق چین کی وزارت برائے اسٹیٹ سیکیورٹی سے بتایا جارہا ہے۔

میریٹ نے 30 نومبرکو انکشاف کیا تھا کہ 2014 سے اسٹار ووڈ نیٹ ورک، جس میں صارفین کی ذاتی اور مالی معلومات موجود تھیں، تک غیر مجاز رسائی موجود تھی۔

واضح رہے کہ اسٹار ووڈ نیٹ ورک سے منسلک ہوٹلز میں شیرٹن، ویسٹِن، فور پوائنٹس اور ڈبلیو ہوٹل شامل ہیں۔

میریٹ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے 8 ستمبر کو خبردار کردیا تھا کہ امریکا میں ان کا ریزرویشن ڈیٹا ہیک کیے جانے کا خدشہ ہے۔

گزشتہ ہفتے، میریٹ نے صارفین کو بذریعہ ای میل ڈیٹا چوری ہونےسے متعلق خبردار کیا تھا۔

60 فیصد سے زائد متاثرہ صارفین کے چوری شدہ ڈیٹا میں پاسپورٹ کی معلومات، پتہ، سفر اور کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات شامل ہیں۔

ڈوئل ڈسپلے سے لیس منفرد اسمارٹ فون متعارف

چینی کمپنی ویوو نے اپنا نیا فلیگ شپ فون نیکس ڈوئل ڈسپلے ایڈیشن متعارف کرادیا ہے اور نام سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ 2 ڈسپلے کے ساتھ ہے۔

چین میں متعارف کرائے جانے والے فون میں فرنٹ کے ساتھ ساتھ بیک پر بھی ڈسپلے دیا گیا ہے جبکہ بیک پر چاند جیسا دائرہ سیلفی لیتے ہوئے جگمگاتا ہے۔

اس فون کے فرنٹ پر 6.39 انچ کا ڈسپلے دیا گیا ہے جو کہ لگ بھگ بیزل لیس ہے کیونکہ اس میں فرنٹ کیمرہ ہی موجود نہیں۔

اب پوپ اپ سیلفی کیمرے کو ختم کردیا گیا ہے بلکہ فون کو پلٹ کر سیکنڈ اسکرین کو سیلفی یا ویڈیو کال کے لیے استعمال کرنا ہوگا اور اس طرح فرنٹ کیمرے کے لیے نوچ یا بیزل کی ضرورت ہی ختم کردی گئی ہے۔

اس کے بیک پر 16:9 ریشو کے ساتھ اسکرین موجود ہے جس میں بیزل نمایاں ہے اور دونوں ڈسپلے او ایل ای ڈی پینلز سے لیس ہیں۔

اور ہاں اس فون میں کمپنی نے ڈسپلے کے اندر فنگر پرنٹ سنسر کا فیچر بھی دیا ہے۔

فوٹو بشکریہ ویوو
فوٹو بشکریہ ویوو

اس کے فرنٹ پر تو کوئی کیمرہ نہیں، اسی لیے بیک پر 3 کیمروں پر مشتمل سیٹ اپ دیا گیا ہے جن میں سے 12 میگاپکسل پرائمری کیمرہ آپٹیکل امیج اسٹیبلائزیشن کے ساتھ ہے، 2 میگاپکسل کیمرہ نائٹ ویژن جبکہ تیسرا ٹی او ایف تھری ڈی اسٹیریو کیمرہ ہے۔

اس فون کے بیک پر چاند جیسے دائرے کا نچلا حصہ ڈسپلے کے اندر ہے تاکہ صارفین اسے سیلفی کے طور پر استعمال کرنے کے ساتھ ویڈیو کالز اور ہر وہ کام کرسکیں جو فرنٹ کیمرے سے ممکن ہے۔

اس فون میں کوالکوم اسنیپ ڈراگون 845 پراسیسر، 10 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے۔

فوٹو بشکریہ ویوو
فوٹو بشکریہ ویوو

3500 ایم اے ایچ بیٹری اور یو ایس ٹائپ سی پورٹ فاسٹ چارجنگ کے لیے موجود ہے۔

یہ فون چین میں 29 دسمبر کو لگ بھگ 5 ہزار چینی یوآن (ایک لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا، دیگر ممالک کے حوالے سے فی الحال کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

ویوو نے اس سے قبل حقیقی معنوں میں پہلا بیزل لیس اسمارٹ فون نیکسمتعارف کرایا تھا جس میں متاثرکن 91.24 فیصد اسکرین ٹو باڈی ریشو، پوپ اپ کیمرہ اور ڈسپلے میں نصب فنگرپرنٹ اسکینر جیسے فیچرز دیئے گئے تھے۔

2018 میں یوٹیوب کی سب سے زیادہ ناپسند کی جانے والی ویڈیو

2010 سے یوٹیوب کی جانب سے ہر سال مقبول ترین ویڈیوز اور کریٹیرز کے لیے ایک ویڈیو تیار کی جاتی ہے جسے یوٹیوب ری وائنڈ کا نام دیا جاتا ہے۔

ایسا ہی رواں سال بھی یوٹیوب ری وائنڈ 2018 کے نام سے ہوا جس میں ول اسمتھ سمیت متعدد کریٹیرز جیسے مولی بروک، لیزا کوشے اور دیگر کو دیکھا جاسکتا ہے اور یہ ویڈیو گزشتہ ہفتے ریلیز ہوئی۔

مگر یہ یوٹیوب کی تاریخ کی دوسری سب سے زیادہ ناپسندیدہ کی جانے والی ویڈیو بھی بن چکی ہے بلکہ نمبرون سے کچھ زیادہ دور نہیں۔

اب تک اس ویڈیو کو 90 لاکھ سے زائد افراد ڈس لائیک کرچکے ہیں اور ایسا ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں ہوا ہے۔

ابھی نمبرون پوزیشن پر جسٹن بیبر کا گانا ‘بے بی’ ہے جسے 97 لاکھ افراد نے ڈس لائیک کیا، مگر اس کے ویوز 2 ارب جبکہ اسے 2010 میں ریلیز کیا گیا تھا۔

تو آخر یوٹیوب ری وائنڈ ویڈیو کو لوگ اتنا زیادہ ناپسند کیوں کررہے ہیں؟

اس کی وجہ ویڈیو میں یوٹیوب کے چند بڑے اسٹارز کو اس ویڈیو میں شامل نہ کرنا ہے۔

شین ڈاﺅسن، لوگن پال اور پیو ڈی پائی جیسے یوٹیوب کے بڑے اسٹارز اس ویڈیو میں جگہ نہیں بناسکے جبکہ یوٹیوب کی تاریخ کا مقبول ترین لائیو باکسنگ میچ کا حوالہ بھی نہیں۔

ویسے پال ہوگ اور پیو ڈی پائی کی ویڈیوز کافی متنازع ہوتی ہیں اور ممکنہ طور پر اسی لیے یوٹیوب نے انہیں شامل نہیں کیا۔

پیو ڈی پائی نے یوٹیوب ری وائنڈ پر ایک ری ایکشن ویڈیو بھی ریلیز کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ کمپنی کی جانب سے انہیں کیا گیا تھا کہ ائیر ری کیپ میں انہیں شامل نہیں کیا جارہا۔

ان کا کہنا تھا ‘ ری وائنڈ ویڈیو ہر سال کے بہترین یوٹیوب اسٹارز کے اعزاز کے لیے ہوتی ہے اور اس کاحصہ بننا اچھا لگتا ہے مگر میں خوش ہوں کہ اس سال میں اس کا حصہ نہیں کیونکہ یہ بہت بری ویڈیو تھی’۔

مگر یوٹیوب نے یہ ویڈیو درحقیقت مارکیٹنگ اور اشتہاری کمپنیوں کو ذہن میں رکھ کر بنائی اور اس کی جانب سے ویڈیو شیئرنگ سائٹ کے تاریک پہلوﺅں کو چھپایا جارہا ہے۔

بچوں کو ڈوبنے سے بچانے والا انقلابی کالر

لتھوینیا: دنیا کے بعض حصوں میں ایک سے چار سال تک کے بچوں میں اموات کی بڑی وجہ پانی میں غرقابی ہے اور اسی لیے قیمتی جانوں کو بچانے کی غرض سے ایک انوکھا پلاسٹک کالر بنایا گیا ہے جو پانی میں جاتے ہی گاڑیوں کے ایئر بیگ کی طرح کھل جاتا ہے، انہیں ہوا بھری گیندیں کہنا زیادہ مناسب ہوگا یہ کالر گردن کے چاروں طرف غباروں کی طرح کھل کر بچے کو سطح آب تک لے آتا ہے۔

پاکستان کے مقابلے میں امریکا اور یورپ میں ہر گھر میں نہانے کے ٹب اور سوئمنگ پول ہونے کی وجہ سے بچوں کے ڈوبنے کا خطرہ قدرے زیادہ ہوجاتا ہے اور اسی لیے جدید کالر بنایا گیا ہے جسے ’دی بڈی لائف کالر‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اسے لتھووینیا کے ایک انجینئر نے ڈیزائن کیا ہے اور اس کا وزن صرف 120 گرام ہے۔

اگر اسے پہننے کے بعد بچہ پانی میں گرجائے تو عین اسی وقت سینسر تبدیلی کو محسوس کرلیتے ہیں اور صرف تین سیکنڈ میں کالر میں چھپے ایئربیگ کو کھول دیتے ہیں جو بچے کی گردن پانی سے باہر رکھ کر اسے سانس لینے اور دیکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے اندر نمی کو محسوس کرنے والا ایک سینسر بھی نصب ہے۔

اب یہ کالر اسمارٹ میڈک کمپنی کے تحت فروخت کے لیے پیش کردیا گیا ہے اور یقینی طور پر یہ آلہ حادثاتی طور پر پانی میں گرنے والے بچوں کو بچانے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔

سوشل میڈیا نے خبروں کے حصول میں اخبارات کو پیچھے چھوڑ دیا

واشنگٹن: کسی زمانے میں خبر کے حصول کا واحد ذریعہ اخبارات ہوا کرتے تھے جس میں بعدازاں ٹیلی ویژن بھی شامل ہوگیا تھا لیکن اب نئی تحقیق یہ کہتی ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس (سوشل میڈیا) نے خبر کے بنیادی ذریعے کی جگہ لے لی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی ریسرچ سینٹر (پیو ) کا کہنا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور خبر رساں اداروں کے مشکلات کا شکار حالات اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

ریسرچ کے مطابق 20 فیصد امریکی شہری سوشل میڈیا سے خبریں حاصل کرتے ہیں جبکہ اخبارات سے خبریں پڑھنے والو ں کا تناسب 16 فیصد ہے۔

2016 سروے کے مطابق اخبارات سوشل میڈیا سےزیادہ اہمیت کے حامل تھے جبکہ 2017 میں یہ تناسب دونوں ذرائع کے لیے برابر ہی تھا۔

پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق سوشل میڈیا کے عروج کے باوجود اب بھی ٹیلی ویژن خبروں کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے اور تقریباً 49 فیصد امریکی شہری اس کے ذریعے باخبر رہتے ہیں۔

تاہم خبروں کی رسائی کے حوالے سے کی گئی اس ریسرچ میں عمروں کا واضح فرق دیکھا گیا جس میں نوجوان زیادہ تر سوشل میڈیا جبکہ ادھیڑ عمر افراد ٹیلی ویژن اور اشاعت کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔

اس سلسلے میں 18سے 29 سال کے عمر کے افراد کے لیے سوشل میڈیا باخبر رہنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے جبکہ صرف 2 فیصد نے اخبارات کے حق میں رائے دی۔

دوسری جانب 65 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی بڑی تعداد (81 فیصد ) ٹیلی ویژن سے باخبر رہتے ہیں جبکہ 39 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اخبارات پڑھتے ہیں جبکہ صرف 8 فیصد افراد سوشل میڈیا سے خبریں حاصل کرتے ہیں۔

پیو ریسرچ سینٹر سے وابستہ ایلیسا شیاریر کے مطابق امریکی نوجوان خبر کے سلسلے میں اپنے بڑوں کی طرح ٹیلی ویژن پر انحصار کرنے کے بجائے صرف ایک پلیٹ فارم پر اکتفا نہیں کرتے۔

اسی ادارے کی جانب سے کی گئی ایک ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ گزشتہ برس 2017 میں شائع شدہ اورآن لائن اخبارات کی سرکولیشن ہفتے کے دنوں میں 3 کروڑ 10 لاکھ تھی جبکہ اتوار کے روز یہ تعداد 3 کروڑ 40 لاکھ ہوجاتی تھی تاہم اب اس میں 10 سے 11 فیصد کی کمی واقع ہوچکی ہے۔

دنیا کا سب سے چھوٹا ٹرانسسٹر تیار، جسامت صرف 2.5 نینومیٹر

کولاراڈو: دنیا کا سب سے چھوٹا ٹرانسسٹر تیار کرلیا گیا ہے جس کے چوڑائی صرف 2.5 نینومیٹرہے، اسے دنیا کا سب سے چھوٹا تھری ڈی ٹرانسسٹر کہا جاسکتا ہے، اس وقت جتنے بھی ٹرانسسٹر بن رہے ہیں یہ ان سے ایک تہائی چھوٹا ہے۔

میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) اور یونیورسٹی آف کولاراڈو کے ماہرین نے اسے مشترکہ کاوش سے بنایا ہے۔ ٹرانسسٹر کی تیاری میں مائیکرو فیبریکیشن طریقہ اختیار کیا گیا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ٹرانسسٹروں کو مزید چھوٹا کرنا ممکن ہے۔

واضح رہے کہ جدید ترین کارخانوں میں 14 نینومیٹر چوڑے ٹرانسسٹر عام تھے جن کی حد پہلے 10 نینو میٹر اور پھر 7 نینو میٹر تک پہنچی جن کے ذریعے ایپل نے اے آئی ٹو بایونک پروسیسر بنا کر دنیا میں شہرت حاصل کی۔

تاہم یہ ریکارڈ بالکل نئی ٹیکنالوجی مائیکرو فیبریکشین طریقے میں کچھ مثبت تبدیلیوں کے بعد کیا گیا ہے۔ تبدیل شدہ مائیکرو فیبریکشن طریقے کو ’تھرمل ایٹامک لیئر ایچنگ‘ (تھرمل اے ایل ای) کا نام دیا گیا ہے۔

انجینئرز نے پہلے مشہور سیمی کنڈکٹر انڈیئم گیلیئم آرسینائڈ استعمال کیا اور اس کا سامنا ہائیڈروجن فلورائیڈ سے کرایا۔ اس طرح دھاتی فلورائیڈ کی ایک باریک سبسٹریٹ (اندرونی) پرت وجود میں آئی۔

اس کے بعد ایک نامیاتی مرکب ڈائی میتھائل المونیم کلورائیڈ (ڈی ایم اے سی) ڈالا گیا جس سے ایک تعامل شروع ہوا۔ اس عمل میں آئن دھاتی فلورائیڈ سے جڑنے لگے اور دھاتی سطح پر ایٹم جمع ہونے لگے۔ اس عمل کو سیکڑوں بار دہرایا گیا جسے ماہرین پیاز کے چھلکے اتارنے کا عمل بتاتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ ڈھائی نینو میٹر چوڑا یہ تھری ڈی ٹرانسسٹر کارکردگی میں دیگر ٹرانسسٹر سے 60 فیصد بہتر ہے اور توانائی کم استعمال کرتا ہے۔ اس اچھی خبر سے یوں لگتا ہے کہ دنیا میں برقیات کا مزید سکڑاؤ جاری رہے گا اور ہم اس کی طبعی حدود کی بند گلی میں پہنچنے سے بچ جائیں گے۔

سام سنگ گلیکسی ایس 10 کے تینوں ماڈلز کی لیک تصاویر سامنے آگئیں

سام سنگ کا نیا فلیگ شپ فون گلیکسی 10 آئندہ چند ہفتوں میں متعارف ہونے والا ہے اور یہ تو سب کو اندازہ ہوچکا ہے کہ فیچرز کے لحاظ سے یہ جنوبی کورین کمپنی کی دیگر ڈیوائسز سے بالکل مختلف ہوگا۔

مگر اب تک اس کے مختلف ماڈلز کی واضح تصویر سامنے نہیں آئی تھی۔

مگر اب اسمارٹ فون کمپنیوں کی معلومات لیک کرنے والے معروف ٹوئٹر صارفین ایون بلاس اور آئس یونیورس نے گلیکسی ایس 10 کی تصاویر ٹوئیٹ کی ہیں۔

یہ سام سنگ کا فولڈ ایبل فون تو نہیں تاہم اگر لیک تصاویر حقیقی ہیں تو یہ نئے فونز ضرور چونکا دینے والے ہیں۔

گزشتہ ماہ کے آخر میں وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سام سنگ کی جانب سے 3 ایس 10 فونز کی تیاری پر کام ہورہا ہے جن کا ڈسپلے سائز 5.8 انچ سے 6.4 انچ تک ہوگا۔

ایون بلاس ماضی میں بھی مختلف کمپنیوں کے فونز کی حقیقی تصاویر پوسٹ کرچکے ہیں اور ایس 10 کے حوالے سے انہوں نے تینوں فونز کی تصویر شیئر کی۔

ان تینوں ماڈلز کو ایس 10 لائٹ، ایس 10 اور ایس 10 پلس کا نام دیا جائے گا، اور ان کا ڈسپلے بالترتیب 5.8 انچ، 6.1 انچ اور 6.4 انچ ہوگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ لگ بھگ آئی فون ایکس ایس، آئی فون ایکس آر اور آئی فون ایکس ایس میکس جیسے ہی ہیں، بس معمولی فرق ہے اور وہ یہ کہ ایس 10 پلس 6.5 انچ کے آئی فون ایکس ایس میکس سے 0.4 انچ چھوٹا ہے۔

دوسری جانب آئس یونیورس نے ایس 10 لائٹ کی تصاویر شیئر کی ہیں۔

اس فون میں ایس 9 پلس کی بجائے نوٹ 8 اور نوٹ 9 جیسے ڈوئل کیمرہ سیٹ اپ نظر آرہا ہے جبکہ یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ اسکرین خم ایجز کی بجائے فلیٹ ہوگی۔

یہ پہلا موقع ہوگا کہ سام سنگ کی جانب سے فلیگ شپ ایس سیریز کا فون خم ایجز کے بغیر متعارف کرایا جارہا ہے۔

اسی طرح پاور بٹن ممکنہ طور پر فنگرپرنٹ سنسر کا کام بھی کرے گا اور یہ بھی سام سنگ کے کسی فلیگ شپ فون میں پہلی بار ہوگا۔

اس بات کا امکان بھی ہے کہ گلیکسی ایس 10 کے ایک ماڈل میں فنگرپرنٹ سنسر ڈسپلے کے اندر نصب کیا جائے گا۔

سام سنگ کی جانب سے پہلے سے زیادہ طاقتور پراسیسر ممکنہ طور پر کوالکوم اسنیپ ڈراگون 855، نیورول پراسیسنگ یونٹ اور پہلے سے بہتر کیمرے دیئے جائیں گے تاہم ایس 10 لائٹ میں پراسیسر مڈرینج ہوگا جبکہ کچھ فیچرز بھی کم ہوں گے۔

سام سنگ کی جانب سے ایس 10 کا ایک فائیو جی ورژن بھی متعارف کرائے جانے کا امکان ہےجو کہ 12 جی بی ریم اور 1 ٹی بی اسٹوریج والا دنیا کا پہلا اسمارٹ فون بھی ہوگا جبکہ اس کے بیک پر 4 اور فرنٹ پر 2 کیمرے دیئے جائیں گے۔

اسی طرح ایس 10 پلس میں تین کیمروں پر مشتمل رئیر سیٹ اپ دیا جاسکتا ہے۔

سام سنگ کی جانب سے گلیکسی ایس 10 کے ماڈلز آئندہ سال کے شروع میں موبائل ورلڈ کانگریس کے موقع پر متعارف کرائے جاسکتے ہیں۔

Google Analytics Alternative