سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

ایپل واچ سے مشابہہ شیاؤمی کی پہلی اسمارٹ واچ متعارف

شیاﺅمی نے اپنی پہلی اسمارٹ واچ متعارف کرادی ہے جسے می واچ کا نام دیا گیا ہے اور دیکھنے میں ایپل واچ سے بہت زیادہ ملتی جلتی ہے۔

یہ اسمارٹ واچ شیاؤمی نے اپنے 108 میگا پکسل کیمرے سے لیس می سی سی 9 پرو کے ساتھ پیش کی گئی۔

ایپل واچ کی طرح می واچ میں چوکور باڈی دی گئی ہے جس کے ساتھ 1.78 انچ امولیڈ ڈسپلے دیا گیا ہے، جو آل ویز آن اسکرین دی گئی ہے۔

اس اسمارٹ واچ مین گوگل وئیر آپریٹنگ سسٹم کا امتزاج کمپنی نے اپنے ایم آئی یو آئی سے کیا ہے۔

گھڑی کے اندر میٹل ہاﺅسنگ، المونیم ایلوئے موجود ہے، مائیکرو سافونز دونوں اطراف میں ہیں جو آڈیو ریکارڈنگ اور کالز سننے کا کام کرتے ہیں جبکہ ایک لاﺅڈ اسپیکر موسیقی یا آنے والی کالز سننے کے لیے ہے۔

اس اسمارٹ واچ میں کوالکوم اسنیپ ڈراگون وئیر 3100 فور جی چپ سیٹ، فور کورٹیکس اے 7 دیا گیا ہے جبکہ ایک جی بی ریم اور 8 جی بی اسٹوریج موجود ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی پہلی اسمارٹ واچ میں سیلولر کنکٹویٹی (ای سم کے ذریعے)دی گئی ہے، اس کے علاوہ وائی فائی، جی پی ایس، بلیوٹوتھ اور این ایف سی سپورٹ بھی موجود ہے۔

سنگل چارج پر می واچ کو 36 گھنٹے تک استعمال کیا جاسکتا ہے اور یہ سلیپ ٹریکنگ، سائیکلنگ اور رننگ پرفارمنس جاننے میں بھی مدد دیتا ہے۔

اس کی قیمت 1299 یوآن (28 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) رکھی گئی ہے اور یہ اگلے ہفتے چین میں فروخت کے لیے پیش کی جائے گی، تاہم دیگر ممالک میں اس کی دستیابی کے حوالے سے فی الحال کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

شیاﺅمی وئیرایبل ڈیوائسز کے حوالے سے کوئی نیا نام نہیں، مگر اب تک یہ فٹنس ٹریکر ہی تیار کرتی رہی ہے اور اب پہلی بار اسمارٹ واچ تیار کی گئی ہے۔

108 میگا پکسل کیمرے والا پہلا فون صارفین کے لیے متعارف

شیاﺅمی نے 108 میگا پکسل کیمرے سے لیس دنیا کا پہلا کمرشل فون می سی سی 9 پرو متعارف کرا دیا ہے جو عام صارفین کے لیے دستیاب ہوگا۔

اس فون کو چین میں متعارف کرایا گیا ہے جس کے بیک پر مجموعی طور پر 5 کیمرے دیئے گئے ہیں جو فیچرز کے لحاظ سے تو فلیگ شپ فون نہیں مگر 108 میگا پکسل کیمرا لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کافی ہے۔

اس فون میں 6.47 انچ امولیڈ ایف ایچ ڈی پلس ڈسپلے 19:5:9 ایسپیکٹ ریشو کے ساتھ دیا گیا ہے اور مجموعی طور پر اسکرین ٹو باڈی ریشو 87.8 فیصد ہے۔

ڈسپلے میں ڈی سی آئی پی تھری اور ایچ ڈی آر 10 سپورٹ بھی دی گئی ہے۔

اسی طرح اوکٹا کور کوالکوم اسنیپ ڈراگوم 730 جی پراسیسر دیا گیا ہے جبکہ 6 سے 8 جی بی ریم اور 128 سے 256 جی بی اسٹوریج کے آپشن موجود ہیں۔

فنگرپرنٹ اسکینر ڈسپلے کے اندر موجود ہے، اینڈرائیڈ پائی کا امتزاج کمپنی نے اپنے ایم آئی یو آئی آپریٹنگ سسٹم سے کیا ہے جبکہ 5260 ایم اے ایچ بیٹری 30 واٹ فاسٹ چارجنگ سپورٹ کے ساتھ دی گئی ہے اور کمپنی کا دعویٰ ہے کہ بیٹری صفر سے سو فیصد 65 منٹ میں چارج کرنا ممکن ہے۔

فوٹو بشکریہ شیاؤمی
فوٹو بشکریہ شیاؤمی

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ اس میں خاص بات اس کا کیمرا سسٹم ہی ہے۔

بیک پر مین کیمرا 108 میگا پکسل سام سنگ برائٹ ایچ ایم ایکس سنسر سے لیس ہے جو کہ شیاﺅمی نے سام سنگ کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے اور اسے سب سے پہلے شیاﺅمی کے کانسیپٹ فون می مکس الفا میں دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ اس میں 5 میگا پکسل، 12 میگا پکسل، 20 میگا پکسل اور 2 میگا پکسل کیمرے بھی دیئے گئے ہیں جن میں 5 ایکس آپٹٰکل زوم اور 50 ایکس ڈیجیٹل زوم موجود ہے۔

فوٹو بشکریہ شیاؤمی
فوٹو بشکریہ شیاؤمی

ٹیلی فوٹو سنسرز کی بدولت صارفین 117 ڈگری کا منظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرسکتے ہیں جبکہ 2 میگا پکسل کلوز اپ تصاویر کے لیے دیا گیا ہے۔

اس کے فرنٹ پر 32 میگا پکسل کیمرا دیا گیا ہے۔

یہ فون 11 نومبر سے صارفین کو دستیاب ہوگا اور اس کے 6 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج والے فون کی قیمت 400 ڈالرز (62 ہزار پاکستانی روپے سے زائد)، 8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج والا ورژن 440 ڈالرز (68 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) جبکہ 8 جی بی ریم اور 256 جی بی کا پریمیئم ایڈیشن 500 ڈالرز (78 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں دستیاب ہوگا۔

نیٹ فلیکس کے مقابلے میں ایپل اور ڈزنی کی اسٹریمنگ سروسز

نیٹ فلیکس اس وقت دنیا بھر میں مقبول ترین اسٹریمنگ سروس ہے جس میں صارفین مختلف ڈرامے، فلمیں، دستاویزی فلمیں اور دیگر مواد کو ماہانہ ادائیگی کرکے اسمارٹ فون، ٹی وی یا اپنی پسند کی ڈیوائسز پر دیکھ سکتے ہیں۔

مگر اب اس سروس کے مقابلے میں 2 بڑی کمپنیاں آرہی ہیں اور وہ ہیں ایپل اور ڈزنی۔

ایپل کی اسٹریمنگ سروس کا آغاز یکم نومبر سے ہوگیا جبکہ ڈزنی پلس چند ممالک میں 12 نومبر کو متعارف کرائی جارہی ہے۔

ایپل ٹی وی پلس

ایپل ٹی وی پلس نامی اسٹریمنگ سروسز کا آغاز رواں ماہ کے شروع میں ہوگیا ہے جس میں یہ کمپنی اوریجنل ٹی وی شوز اور فلمیں پیش کررہی ہے اور آئی فونز میں کمپنی کی ٹی وی ایپ پر اس پر سائن ان ہونا ممکن ہے یا آن لائن بھی سائن اپ ہونا ممکن ہے۔

یہ سروس یکم نومبر سے سو سے زائد ممالک میں متعارف کرائی گئی اور کمپنی کا کہنا ہے کہ شوز کو 40 کے قریب زبانوں میں ڈب یا سب ٹائٹل میں صارفین کی سہولت کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اس سروس میں 5 ڈالر ماہانہ فیس رکھی گئی ہے جبکہ 7 دن کا فری ٹرائل بھی دستیاب ہے اور کمپنی نے 10 ستمبر کے بعد سے کوئی ایپل ڈیوائس خریدنے والے کو ایک سال کی مفت سبسکرائپشن کی پیشکش بھی کی ہے۔

اس وقت ایپل ٹی وی پلس پر 9 پروگرامز صارفین کے لیے دستیاب ہیں اور اس سروس نے ہولی وڈ کے بڑے اسٹارز کی خدمات حاصل کرنے لیے 6 ارب ڈالرز کا بجٹ رکھا ہے۔

اس وقت ایپل ٹی وی پلس میں مارننگ شو ڈرامہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جس کا بجٹ 30 کروڑ ڈالرز سے زائد ہے۔

اس کے علاوہ اوپراز بک کلب ایک ٹاک شو ہے جس کی میزبانی اوپرا نفرے کررہی ہیں، اس کے علاوہ جیسن موموا کا ڈرامہ ‘سی’ خلائی دوڑ کا احوال بیان کرتا شو ‘فار آل مین کائنڈ اور شاعرہ ایملی ڈکنسن پر بننے والا ڈرامہ ڈکنسن شامل ہیں۔

اس کے علاوہ دیگر پروگرامز میں سیسمی اسٹریٹ کا اسپن آف شو ہیلسٹر، بچوں کے لیے گھوسٹ رائٹر، انیمیٹڈ سیریز سنوپی ان اسپیس اور ڈاکومینٹری فلم دی ایلیفینٹ کوئین شامل ہیں۔

کمپنی کے مطابق آنے والے مہینوں میں اس مواد کو مزید بڑھایا جائے گا جبکہ صارفین اپنی پسند کے شوز دیکھتے ہوئے اشتہارات سے محفوظ رہیں گے مگر اس سروس میں نیٹ فلیکس کی طرح لائسنس شوز یا فلموں کی لائبریری نہیں ہوگی اور شوز کی تمام اقساط یا سیزن بیک وقت ریلیز نہیں ہوں گے بلکہ ہر ہفتے کی ایک قسط جاری کی جائے گی۔

ڈزنی پلس

ڈزنی نے اس اسٹریمنگ سروس کو کمپنی کا مستقبل قرار دیا ہے جس میں ہر وہ چیز ہوگی جو اس کمپنی یا اس کی ذیلی شاخیں تیار کرچکی ہیں یا تیار کریں گی، تاکہ نیٹ فلیکس یا ایپل ٹی وی پلس کو سخت ٹکر دی جاسکے۔

ڈزنی پلس کو 12 نومبر کو متعارف کرایا جارہا ہے اور ماہانہ فیس 7 ڈالرز رکھی جارہی ہے جس کو ادا کرکے صارفین اسٹار وارز، مارول، پکسر اور ڈزنی کے اپنے اسٹوڈیوز کی تیار کردہ خصوصی سیریز یا فلمیں دیکھ سکیں گے۔

جیسے اسٹار وارز کی کی اسپن آف سیریز دی مینڈلورین کو اسٹار وارز کے مداح صرف ڈزنی پلس پر ہی دیکھ سکیں گے۔

ڈزنی پلس کے اکثر اوریجنل پروگرام کمپنی کی اپنی ذیلی شاخیں تیار کررہی ہیں اور اسٹار وارز یا مارول فلموں کو پسند کرنے والوں کے لیے یہ اچھی سروس ثابت ہوگی جبکہ بچوں کے لیے بھی پروگرامز کافی حد تک اچھے نظر آرہے ہیں۔

ڈزنی کی دیگر اسٹریمنگ سروسز ہولو اور ای ایس پی این پلس بھی صارفین ڈزنی پلس کے پاس ورڈ اور کریڈٹ کارڈ معلومات پر دیکھ سکیں گے مگر فیس 13 ڈالرز ہوجائے گی۔

ڈزنی نے اعلان کیا ہے کہ اس کے پروگرام تمام گھر والے دیکھ سکیں گے اور ان کی ریٹنگ پی جی 13 سے زیادہ نہیں ہوگی۔

اسے 12 نومبر کو امریکا، کینیڈا اور نیدرلینڈز میں سب سے پہلے متعارف کرایا جائے گا جس کے بعد 19 نومبر کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا نمبر آئے گا، جبکہ دنیا بھر میں یہ سروس 2 سال کے اندر دستیاب ہوگی جو کہ متعدد ڈیوائسز پر کام کرے گی۔

سام سنگ گلیکسی ایس 11 میں 108 میگا پکسل کیمرا دیئے جانے کا امکان

سام سنگ کا نیا فلیگ شپ فون گلیکسی ایس 11 اس کمپنی کا پہلا فون ہوگا جس میں 108 میگا پکسل کیمرا دیا جائے گا۔

یہ دعویٰ اسمارٹ فون کمپنیوں کے حوالے سے اکثر درست لیک کرنے والے ٹوئٹر صارف آئس یونیورس نے ایک ٹوئٹ میں کیا۔d

خیال رہے کہ اس وقت بیشتر بڑی کمپنیوں کے فونز میں 12 سے 16 میگا پکسل کیمرے فلیگ شپ فونز میں دیئے جاتے ہیں۔

سام سنگ نے اگست میں 108 میگا پکسل کیمرا سنسر تیار کرنے کا اعلان کیا تھا جو سب سے پہلے شیاﺅمی کے اسمارٹ فونز میں متعارف ہوا۔

مگر کمپنی خود کب اس سنسر کا استعمال کرے گی، یہ واضح نہیں تھا مگر اب ایسا لگتا ہے کہ گلیکسی ایس 11اس کا پہلا فون ہوگا۔

عام طور پر میگا پکسل کا زیادہ ہونا بہتر تصاویر لینے کی ضمانت نہیں ہوتا، درحقیقت گوگل کی جانب سے پکسل فونز میں 12 میگا پکسل کیمرا استعمال کیا جارہا ہے اور اسے بہترین اسمارٹ فون کیمرا قرار دیا جاتا ہے۔

درحقیقت میگاپکسل سے زیادہ اچھے سافٹ وئیر اور پراسیسنگ کی صلاحیت اسمارٹ فون کیمرے کی تصاویر کو بہتر بناتی ہے۔

مگر سام سنگ کا 108 میگا پکسل کیمرا کم روشنی میں زیادہ بہتر تصاویر لینے میں مدد دے سکے گا۔

اس سے پہلے یہ لیک سامنے آئی تھی کہ گلیکسی ایس 11 پہلا فون ہوگا جس میں 5 ایکس آپٹیکل زوم دیا جائے گا جس کے لیے وہ آپٹیکل زوم موڈیول کی پروڈکشن بھی کررہی ہے۔

مختلف رپورٹس کے مطابق گلیکسی ایس 11 کے بیک پر 4 کیمرے دیئے جائیں گے جن میں ایک تھری ڈی سنسنگ ٹی او ایف موڈیول بھی ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ گلیکسی ایس 11 آئندہ سال فروری یا مارچ میں متعارف کرایا جائے گا اور اس کے حوالے سے لیکس کا سلسلہ جب تک جاری رہے گا۔

ٹک ٹاک میں اب دیگر ایپس سے براہ راست ویڈیوز پوسٹ کرنا ممکن

ٹک ٹاک دنیا بھر میں بہت تیزی سے مقبول ہونے والی ایپ ہے جس کی وجہ اس میں ویڈیوز کو بنانا، شیئر اور محفوظ کرنا بہت آسان ہے۔

دیگر کمپنیوں کے برعکس ٹک ٹاک میں صارفین کو مقبول ویڈیوز کو ڈاﺅن لوڈ کرنے کی سہولت دی جاتی ہے اور انہیں دیگر میسجنگ سروسز اور سوشل میڈیا پر آسانی سے شیئر کیا جاسکتا ہے۔

اس عمل کو مزید آسان بنانے اور ویڈیوز کو زیادہ بہتر بنانے کے لیے اب کمپنی نے کریٹیرز کے لیے نئے ٹولز متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جن کی بدولت ان کی پسندیدہ ایڈیٹنگ ایپس پر تیار ویڈیوز ٹک ٹاک اپ لوڈ کرنا ممکن ہوجائے گا۔

ٹک ٹاک ایکسپورٹ فیچر کمپنی کے نئے سافٹ وئیر ڈویلپمنٹ کٹ کا حصہ ہے اور میں 7 کانٹینٹ کریشین ایپس صارفین کے لیے موجود ہوں گی۔

ان میں اڈوب کو پریمیئر رش کے ذریعے شامل کیا گیا، انیمیشن ایپ پلاٹ ورس، اے آئی ایپ، فیوس ڈاٹ اٹ اور پروفیشنل ویڈیو ایپ فل مک پرو شامل ہیں۔

اس کے علاوہ گیمنگ کیپچر ایپ میڈل، میمینٹوز جی آئی ایف میکنگ ٹولز اور امیج ایڈیٹر پکس آرٹ بھی شامل ہیں۔

کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹک ٹاک کی نئی سافٹ وئیر ڈویلپمنٹ کٹ میں تھرڈ پارٹی ایپس کی موجودگی سے صارفین اپنی ویڈیوز کے لیے بہتر ٹولز استعمال کرسکیں گے، ہم یہ دیکھنے کے لیے پرجوش ہیں کہ کریٹیرز کس طرح ان نئے فیچرز کو استعمال کرتے ہیں۔

اس ایپ کے صارفین کی تعداد 80 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اور اس کی مقبولیت نے پوری دنیا کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔

گوگل میپس وہ فیچر اب دستیاب جس کا صارفین کو شدت سے انتظار تھا

گوگل نے تمام اینڈرائیڈ صارفین کے لیے اپنی مقبول ترین سروس میپس میں انکوگنیٹو موڈ استعمال کرنے کی سہولت فراہم کردی ہے۔

رواں سال مئی میں گوگل کی سالانہ ڈویلپر کانفرنس میں اس فیچر کو متعارف کرانے کا وعدہ کیا گیا تھا جبکہ اکتوبر کے شروع میں پرائیویسی کے حوالے سے متعدد فیچرز کا اعلان کیا جن میں گوگل میپس میں انکوگنیٹو موڈ بھی شامل تھا، جو صارفین کو اس ایپ میں اپنی سرگرمیاں گوگل اکاﺅنٹ میں محفوظ ہونے سے روکنے میں مدد دیتا ہے۔

اور اب یہ فیچر آخرکار تمام اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب ہے۔

گوگل نے گزشتہ دنوں ایک سپورٹ پیج پر اس بات کا اعلان کیا کہ میپ انکوگنیٹو موڈ اب اینڈرائیڈ پر دستیاب ہے اور صارفین اسے کسی بھی وقت اپلیکشن اوپن کرکے دائیں جانب اوپر موجود اپنی پروفائل تصویر پر کلک کرکے استعمال کرسکتے ہیں۔

فوٹو بشکریہ گوگل
فوٹو بشکریہ گوگل

ایسا ہونے کے بعد صارف کا گوگل اکاﺅنٹ میپس پر سرچنگ کے دوران غائب ہوجائے گا جس سے سرچ ہسٹری یا سینڈ نوٹیفکیشن گوگل ڈیٹا میں محفوظ نہیں ہوں گے، اسی طرح لوکیشن ہسٹری یا شیئر لوکیشن ڈیٹا وغیرہ بھی اپ ڈیٹ نہیں ہوں گے جبکہ پرسنلائز میپس کے لیے ذاتی ڈیٹا بھی استعمال نہیں ہوگا۔

تاہم انکوگنیٹو موڈ پر میپس کو استعمال کرنے پر چند فیچرز جیسے کمیوٹ، فار یو، لوکیشن ہسٹری (لوکیشن ہسٹری صرف میپس نہیں بلکہ پوری ڈیوائس کے لیے رک جائے گی)، لوکیشن شیئرنگ، نوٹیفکیشنز اور میسجز، سرچ ہسٹری، سرچ کمپلیٹشن سجیشن، ادر میپس، گوگل اسسٹنٹ مائیکروفون نیوی گیشن، گوگل میپس کنٹری بیوشنز اور یور پلیسز وغیرہ استعمال نہیں ہوسکیں گے۔

گوگل کے مطابق یہ انکوگنیٹو موڈ اینڈرائیڈ پر ہر ایک کے لیے دستیاب ہے، تاہم اگر آپ کی ڈیوائس میں نظر نہیں آرہا ہے تو آئندہ چند دن میں اپ ڈیٹ ہوجائے گا۔

آئی او ایس ڈیوائسز کے لیے یہ فیچر آئندہ چند ہفتوں یا مہینوں میں متعارف کرایا جائے گا۔

خیال رہے کہ انکوگنیٹو موڈ کو کروم کے بعد گزشتہ سال یوٹیوب میں بھی متعارف کرایا گیا تھا۔

ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر میں یہ فیچر پہلے ہی کروم کی بدولت دستیاب ہے اور جب کروم میں انکوگنیٹو موڈ پر براﺅز کرتے ہیں تو پرائیویسی سیٹنگ کا اطلاق خودکار طور پر میپس پر ہوجاتا ہے۔

مائیکرو سافٹ کے نئے ایج براؤزر کا لوگو سامنے آگیا

مائیکرو سافٹ نے اپنے ویب براﺅزر ایج کو اب کروم جیسا بنا دیا ہے اور اس مقصد کے لیے کرومیم نامی رینڈرنگ انجن کا استعمال کیا گیا جو کہ گوگل اپنے کروم براﺅزر کے لیے استعمال کررہا ہے۔

یعنی اب مائیکرو سافٹ ایج کا نیا کرومیم پاور انجن دے دیا گیا ہے تو یہ کمپنی اس براﺅزر کو ایک نئی شکل دینے کے لیے تیار ہے۔

مائیکروسافٹ کی جانب سے ایج کا نیا ری ڈیزائن لوگو متعارف کرایا گیا ہے جو کہ سمندری لہر سے متاثر ہے اور پرانے انٹرنیٹ ایکسپلورر آئیکون سے بالکل نہیں ملتا۔

یعنی اس میں ای موجود ہے مگر اس سے ہٹ کر یہ لوگو ماضی کے انٹرنیٹ ایکسپلورر سے بالکل مختلف ہے اور یہ کمپنی بھی اس سے زیادہ مشابہت نہیں چاہتی، کیونکہ وہ اسے متروک قرار دے چکی ہے۔

کرومیم پر مبنی ایج براﺅزر رواں سال اگست سے بیٹا ورژن میں دستیاب ہے مگر اس کا حتمی ورژن کب تک متعارف ہوگا، فی الحال یہ کہنا مشکل ہے۔

مائیکروسافٹ کی ڈویلپر کانفرنس 4 نومبر کو ہورہی ہے جس میں اس براﺅزر کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔

اس وقت محض 2 فیصد صارفین ایج کو استعمال کررہے ہیں جبکہ کروم صارفین کی تعداد 62 فیصد سے زائد ہے۔

خیال رہے کہ فائرفوکس 2004 اور گوگل کروم 2008 میں متعارف ہوا تھا اور وہ مائیکرو سافٹ انٹرنیٹ ایکسپلورر کے مقابلے میں زیادہ تیز اور بہتر فیچرز سے لیس تھے، جنھوں نے مائیکرو سافٹ کے براﺅزر کو زوال کا شکار کردیا۔

اس کو دیکھتے ہوئے مائیکرو سافٹ نے انٹرنیٹ ایکسپلورر کو ختم کرکے ایج کو دی۔

‘فائیو جی کیلئے ٹاورز شیئرنگ کا ماڈل اپنانا ضروری ہے’

اسلام آباد: ایڈوکو گروپ کے اسٹریٹجی ڈائریکٹر گیان کورالج نے کہا ہے کہ ٹیلی کام کی بڑھتی ہوئی طلب اور مواصلاتی نظام میں باہمی تعاون کے فقدان کی وجہ سے پاکستان ‘ڈیجیٹائزیشن کی دوڑ’ میں دوسرے ممالک سے پیچھے ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 4 ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس کم از کم 34 ہزار ٹاورز ہیں تاہم 4 جی اور 5 جی کی آمد کے ساتھ 2022 تک ٹاور کی تعداد میں گئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔

انہوں نے بتایا کہا صارفین کو ٹیلی کام کی بہتر سروس فراہم کرنے کے لیے مزید 17 ہزار ٹاور لگانے کی ضرورت پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ 35 ہزار ٹاورز میں سے 40 فیصد صرف 300 میٹر کے فاصلے پر نصب ہیں جس کے نتیجے میں صنعت کے لیے ایک ارب ڈالر کے سرمایے کا ضیاع ہوا کیونکہ ٹاورز کو کمپنیاں شیئر بھی کرسکتی تھیں۔

ایڈوکو گروپ کے اسٹریٹجی ڈائریکٹر نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کی شرح 74 فیصد ہے جو نصف آبادی کو ظاہر کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 سے 2022 کے درمیانی عرصے میں ڈیٹا کی کھپت 7 گنا بڑھ جانے کی پیش گوئی ہے جس کے نتیجے میں ٹاور کی ضروریات میں بھی اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ 5 جی کے دور میں کامیاب ہونے کے لیے تمام ٹیلی کام کمپنیوں کو باہمی تعاون کا رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

گیان کورالج نے بتایا کہ پاکستان میں ٹیلی کام آپریٹرز کو موبائل ٹاورز کا مشترکہ نیٹ ورک فراہم کرنے کی پیش کش کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک میں صارفین کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے موبائل آپریٹرز مشترکہ نیٹ ورک کے ماڈل پر عمل پیرا ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مشترکہ نیٹ ورک کے ماڈل سے اربوں ڈالر کی بچت ہوگی جو مختلف کمپنیاں اپنے ٹاور لگانے میں خرچ کررہی ہیں۔

ان کہنا تھا کہ موبائل ٹاور لگانے کے لیے کمپنی نے پہلے ہی 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 3 جی اور 4 جی پر منتقل ہونے کے لیے سائٹ اور ان کی تعداد میں اضافے کی ضرورت ہے۔

علاوہ ازیں گیان کورالج نے بتایا کہ اگر کمپنیاں ٹاور شیئرنگ کے ماڈل کو قابل غور نہیں سمجھتیں تو نتیجے میں ٹاورز کی بھرمار ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے ‘ڈیجیٹل پاکستان’ ایجنڈے کو پورا کرنے اور انٹرنیٹ ڈیٹا کی طلب کو پورا کرنے کے لیے ٹاور شیئرنگ ضروری ہے۔

ایڈیٹکو کے عہدیدار نے مزید کہا کہ ڈیجیٹائزیشن کی دوڑ میں پاکستان اب بھی پیچھے ہے کیونکہ دوسرے ممالک نے گزشتہ 5 برس میں شعبہ ٹیلی کام میں مضبوط ترقی کی۔

انہوں نے بتایا کہا کہ 2018 میں ہی ملائیشیا میں 4 جی استعمال کرنے والوں کی شرح 55 فیصد تھی جبکہ پاکستان میں 4 جی کی کوریج پاکستان میں 50 فیصد سے تجاوز نہیں کرسکی۔

Google Analytics Alternative