سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

دو سال میں فیس بک کا ٹریفک 50 فیصد کم ہوگیا

کیلیفورنیا:دنیا بھر میں مقبول سوشل میڈیا ویب سائٹ ’’فیس بک‘‘ کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے آرہا ہے۔ اب ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ دو برس میں اس پر آنے والے وزیٹرز کی تعداد یعنی ’’ٹریفک‘‘ میں 50 فیصد تک کمی واقع ہوگئی ہے۔

دو سال پہلے تک فیس بک پر وزٹس کی ماہانہ تعداد 8.5 ارب (آٹھ ارب پچاس کروڑ) تھی جو اس سال یعنی 2018 کے وسط تک کم ہو کر 4.7 ارب (چارارب ستر کروڑ) ماہانہ رہ گئی ہے۔ اس بات کا انکشاف ویب سائٹ ٹریفک پر نظر رکھنے اور تجزیہ کرنے والے آزاد پلیٹ فارم سمیلر ویب کی ذیلی ویب سائٹ ’’مارکیٹ انٹیلی جنس ڈاٹ آئی او‘‘ پر ایک تجزیہ نگار نے اپنے تازہ جائزے ’’پیراڈائم شفٹ‘‘ میں کیا ہے۔ جائزے کے مطابق ایک طرف فیس بُک پر آنے والے صارفین کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ دوسری جانب یوٹیوب پر آنے والے افراد کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔

سمیلر ویب کے مطابق گزشتہ ماہ جولائی میں یوٹیوب پر ساڑھے چار ارب افراد آئے تھے اور اگر اسی رفتار سے یہ گراف بڑھتا رہا تو بہت جلد فیس بک دوسری اور یوٹیوب پہلی مقبول ترین ویب سائٹ بن جائے گی؛ جبکہ دنیا کے سب سے بڑے ویب سرچ انجن (گوگل) پر گزشتہ ماہ وزیٹرز کی تعداد 15 ارب 20 کروڑ نوٹ کی گئی۔

اگرچہ یہ فیس بک کے لیے ایک بری خبر تو ہے جو پرائیویسی کے معاملات، امریکی انتخابات میں جعلی خبروں اور اسٹاک مارکیٹ میں گرتے حصص کی وجہ سے پہلے ہی بہت نقصان اٹھا چکا ہے تاہم سمیلر ویب نے فیس بک کو موبائل ایپس میں بہترین قرار دیا ہے۔

فیس بک صارفین براؤزر کے بجائے بہت تیزی سے ایپس کی جانب متوجہ ہورہے ہیں۔ اسی طرح فیس بک ایپ کے صارفین بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں، لیکن یہ اضافہ براؤزر چھوڑنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے بہت  کم ہے۔ اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ فیس بک ٹریفک میں مجموعی طور پر کمی واقع ہوئی ہے۔

اسی طرح فیس بک کے دیگر پلیٹ فارمز مثلاً انسٹاگرام اور میسنجر پر بھی صارفین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ البتہ فیس بک تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ادارہ فیس بک اپنے مرکزی پلیٹ فارم کے بجائے اپنی دیگر اور مختلف اقسام کی سروسز پر توجہ دے رہا ہے۔

گلیکسی نوٹ 9 پاکستان میں پری آرڈر فروخت کیلئے پیش

سام سنگ نے رواں سال کے دوسرے فلیگ شپ فون گلیکسی نوٹ 9 کو پاکستان میں پری آرڈر میں فروخت کے لیے پیش کردیا، اس فون کو کمپنی نے گزشتہ روز ہی متعارف کرایا تھا۔

سام سنگ نے یہ فون 9 اگست کو نیویارک میں ایک ایونٹ کے دوران پیش کرتے ہوئے اسے نوٹ سیریز کا سب سے بہترین فون قرار دیا تھا۔

یہ فون گزشتہ سال کے ماڈل کے مقابلے میں کچھ بڑا ہے بلکہ کمپنی کا سب سے بڑا ڈسپلے والا فون ہے جس میں 6.4 انچ کی انفٹنی بیزل لیس اسکرین دی گئی ہے،مگر دیکھنے میں چھوٹا لگتا ہے جس کی وجہ ٹاپ اور نچلے حصے میں بیزل بہت کم ہونا ہے۔ یہ فون بھی سابقہ ماڈل کی طرح واٹر ریزیزٹنٹ اور ڈسٹ پروف ہے۔

گلیکسی نوٹ 9 میں 4000 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے، جو کہ کسی بھی گلیکسی نوٹ فون میں اب تک کی سب سے طاقتور بیٹری ہے، گزشتہ سال کے ماڈل میں 3300 ایم اے ایچ بیٹری تھی، البتہ نوٹ 7 میں 4000 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی تھی تاہم بیٹریاں پھٹنے پر اس ماڈل کو منسوخ کرنا پڑا تھا۔

گلیکسی نوٹ 9 میں جو ڈوئل رئیر کیمرہ سیٹ اپ دیا گیا ہے وہ ایس نائن پلس والا ہی ہے۔ 12، بارہ میگا پکسل کے کیمرے میکنیکلی طور پر ایڈجسٹ ایبل آپرچر کے ساتھ ہیں جو کہ بہت روشن 1.5 سے لے کر چھوٹے 2.4 آپرچر پر سوئچ ہوسکیں گے، تاہم اس اک انحصار ایکسپوزر کنڈیشن پر ہے۔ کیمرہ ایپ خودکار طور پر بھی آپرچر بدل سکتی ہے جبکہ صارف اپنی مرضی سے بھی کنٹرول کرسکتا ہے۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ گلیکسی ایس نائن اب تک کا بہترین فلیگ شپ فون ہے اور اب اسے متعارف کرائے جانے کے بعد پاکستان میں بھی آن لائن فروخت کے لیے پیش کردیا گیا

سام سنگ نے پاکستان میں پری آرڈر پر بکنگ کرانےوالے افراد کے لیے کچھ انعامات بھی رکھے ہیں۔

اگر نوٹ 9 کا پری آرڈر کرائیں گے تو آپ کو 10000 ایم اے ایچ بیٹری فیس مفت دیا جائے گا جس کی ڈھائی ہزار روپے ہے۔

یہ فون پاکستان میںاوشین بلیو, مڈ نائٹ بلیک اور لیونڈر پرپل رنگوں میں دستیاب ہوگا اور اس لنک پر جاکر آپ پری آرڈر کرسکتے ہیں۔

پاکستان میں اس فون کی قیمت ایک لاکھ 29 ہزار 999 روپے رکھی گئی ہے۔

سائنسدانوں نے وزن بڑھانے والے وائرس کاسراغ لگالیا

وسکانسن…. مقامی یونیورسٹی کے ڈاکٹروںاور سائنسدانو ں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے چند دوسرے سائنسدانوں کیساتھ مل کر مٹاپے کا سبب بننے و الے عوامل کا سراغ لگالیا ہے او راب ایسی ویکسین تیار ہونے لگی ہیں۔

جن کی مدد سے وزن بڑھانے والے وائرس کو قابو کیا جاسکتا ہے۔ مٹاپے کو روکنے والی ویکسین کو ایڈینو وائرس 36کا کام دیا گیا ہے جو موٹے لوگوں میں صحت مند لوگوں کے مقابلے میں 4گنا زیادہ ہوتا ہے۔ یہ ایسا وائرس ہے جو مٹاپے کا سبب بننے والے خلیوں کو بڑھنے ا ور پھیلنے پر اکساتا ہے اور جسم سے نکلنے یا جسم کے اندر ہی ختم ہونے سے روکتا ہے۔ اس تحقیقی رپورٹ اور ایڈینو وائرس 36کی تیاری کی اصل ذمہ داری ڈاکٹر رچرڈ ایٹکنسن کے سر ہے۔ اگر یہ چیز تجرباتی مرحلے میں کامیاب ثابت ہوکر دوا سازی کے مرحلے میں داخل ہوجائے تو دنیا کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد فائدہ اٹھاسکیں گے کیونکہ اب تک جتنی دوائیں وزن اورمٹاپا کم کرنے کیلئے بنی ہیں انکے اثرات زیادہ نہیں ہوتے۔

اوپو کمپنی کا اگلا سیلفی بیس اسمارٹ فون کیسا ہوگا؟؟؟‎

اوپو کمپنی اپنا سیلفی بیس اسمارٹ فون جلد متعارف کرانے جا رہی ہے۔

فون کے کوڈ نیم کے ساتھ تفصیلات سامنے آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور فون کی خصوصیات بھی منظرعام پر آ گئی ہیں۔ اس سیلفی بیس اسمارٹ فون میں ہیلیو پی 60 میڈیا ٹیک پروسیسر دیا جائے گا۔فون کا سنگل کور اسکور 1481 اور ملٹی کور اسکور 5673 ہے۔ یہ فون اینڈرائیڈ اوریو آپریٹنگ سسٹم کے تحت کام کرے گا ۔ اسمارٹ فون میں 6 جی بی ریم دیا جائے گا۔ فون میں 6.3 انچ ڈسپلے دیئے جانے کا امکان ہے۔ فون کا سیلفی کیمرہ 25 میگا پکسل کا ہوگا۔ پشت پر 16 میگا پکسل اور 2 میگا پکسل کے دو کیمرے شامل ہوں گے۔ اسمارٹ فون کی بیٹری 3500 ملی ایمپیئر آورز کی ہوگی۔ فون کی لانچنگ اور قیمت سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

کیا واٹس ایپ غیرمحفوظ اپلیکشن ہے؟

دنیا کے مقبول ترین چیٹنگ میسنجر واٹس ایپ میں ایسا سیکیورٹی خلاءسامنے آیا ہے جو ہیکرز کو پیغامات کو بدلنے اور انہیں پڑھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

واٹس ایپ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے حوالے سے جانا جاتا ہے جس میں صارفین کے پیغامات کسی اور کے ہاتھ لگنا ناممکن قرار دیا جاتا ہے، مگر انٹرنیٹ سیکیورٹی کمپنی چیک پوائنٹ نے واٹس ایپ کی جانب سے ڈیکرپٹ ڈیٹا کے لیے استعمال ہونے والے الگورتھم کو ریورس انجنیئرنگ کے ذریعے استعمال کیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ واٹس ایپ کی جانب سے protobuf2 protocol پیغامات ڈیکرپٹ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس میں ردوبدل کرکے محقین واٹس ایپ سیکیورٹی کو بائی پاس کرکے پیغامات کو بھیجنے اور انہیں بدلنے میں کامیاب ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ Burp Suite (ایک جاوا بیسڈ ٹول) ایکسٹیشن اور 3 manipulation طریقہ کار کی مدد سے ہم پہلے پبلک اور پرائیویٹ چیٹ سیشن میں داخل ہوئے اور معلوم ہوا کہ اس سے نہ صرف پیغام کا مواد بدلا جاسکتا ہے بلکہ بھیجنے والے کے یوزر نیم کو بھی چرایا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار سے ایک پبلک میسج کو پرائیویٹ میسج ظاہر کرکے بھی بھیجا جاسکتا ہے جو کہ گروپ میں ہر ایک کو نظر آتا ہے اور صارفین کو کافی احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

اس طریقہ کار سے چیک پوائنٹ نے واٹس ایپ صارفین پر 3 حملے بھی کیے جن کے دوران سینڈر کی شناخت کو گروپ چیٹ میں بدلا گیا حالانکہ وہ اس گروپ کا رکن بھی نہیں تھا، اسی طرح پیغام پر رئیپلائی کرنے والے کے میسج کو بدلا گیا، جبکہ گروپ چیٹ میں ایک شخص کو پرائیویٹ پیغام بھیجا گیا مگر اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ اس جواب کو پورا گروپ دیکھ سکے۔

محققین کے مطابق اس طرح کی کمزوری سے ہیکرز گروپ چیٹس میں داخل ہوکر گفتگو کو اپنی مرضی کے مطابق ڈاھل کر جعلی معلومات پھیلا سکتے ہیں۔

چیک پوائٹس نے اس مسئلے پر واٹس ایپ کو بھی آگاہ کیا جس پر کمپنی نے اپنے بیان میں بتایا ‘ ہم اس مسئلے کا جائزہ لے رہے ہیں اور یہ بالکل ایسا ہے کسی ای میل کو بدل دیا جائے تو صارف نے کبھی تحریر ہی نہ کی’۔

واٹس ایپ کے مطابق اس تحقیق میں سامنے آنے والے دعویٰ میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن سیکیورٹی پر کچھ نہیں کہا گیا، جو کہ اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ بھیجنے اور موصول کرنے والا ہی پیغام پڑھ سکے۔

اس سے قبل رواں سال کے شروع میں جرمنی کی روز یونیورسٹی نے اپنی ایک تحقیق میں انکشاف کیا تھا کہ اگرچہ کمپنی کا تو دعویٰ ہے کہ ٹیکسٹ، تصاویر یا ویڈیوز وغیرہ پر مبنی پیغامات صرف بھیجنے یا موصول کرنے والا ہی دیکھ سکتا ہے، مگر اس نظام میں بہت بڑا خلاءموجود ہے اور واٹس ایپ کے کسی سرور پر کنٹرول رکھنے والا ہر فرد معمولی کوشش سے پرائیویٹ گروپ چیٹ کو پڑھ سکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا ‘ سرور کا کنٹرولر بآسانی کسی بھی اجنبی کو گروپ کا رکن بنا کر نئے پیغامات حاصل کرکے انہیں پڑھ سکتا ہے، اینڈ ٹو اینڈ سیکیورٹی تحفظ اتنا بھی زیادہ نہیں جتنا کمپنی بیان کرتی ہے، کیونکہ اس کمپنی کا کوئی بھی فرد کسی پرائیویٹ میں کسی نئے فرد کا اضافہ کرکے بات چیت کو پڑھ سکتا ہے’۔

2017 میں برطانوی روزنامے دی گارڈین نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ واٹس ایپ میں ایسی سیکیورٹی خامی موجود ہے جو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے باوجود پیغامات کو دیگر افراد کے ہاتھوں میں پہنچا سکتی ہے۔

اس خامی کو ‘ بیک ڈور’ کا نام دیا گیا ہے جسے سب سے پہلے اپریل 2016 میں ایک سیکیورٹی محقق ٹوبیاز بویلٹیر نے دریافت کیا تھا اور وہ اب تک واٹس ایپ میں موجود ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ واٹس ایپ سگنل پر عملدرآمد کے نتیجے میں آف لائن صارفین کے لیے نئی انکرپشن کیز بنتی ہیں جس کے نتیجے میں انہیں کوئی تیسرا شخص بھی پڑھ سکتا یا حاصل کرسکتا ہے۔

متعدد سیکیورٹی ماہرین نے بھی نشاندہی کی ہے کہ سامنے آنے والی خامی نئی نہیں بلکہ یہ ایک پرانا مسئلہ ہے کہ کس طرح کی ویریفیکیشن انکرپٹڈ سسٹم کو متاثر کرسکتا ہے۔

دوسری جانب واٹس ایپ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ آف لائن صارفین کے لیے نئی کیز بنانے کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پیغامات ترسیل کے دوران کھو نہ جائیں۔

گلوبل وارمنگ سے جنوبی ایشیا کے دریائی پانی میں اضافہ متوقع

اسلام آباد: ماہرین نے کہا ہے کہ مستقبل میں پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے تمام بڑے دریاؤں میں پانی کی فراہمی اور بہاؤ میں غیرمعمولی اضافہ ہوگا۔

اقوامِ متحدہ کے تحت بین الحکومتی پینل برائے آب و ہوائی تبدیلی (آئی پی سی سی) کی پانچویں تجزیاتی رپورٹ میں ماہرین نے کہا ہے کہ نمی سے بھرپور مستقبل جنوبی ایشیائی دریاؤں کا منتظر ہے اور اس کےلیے ماہرین نے 1976 سے 2005 کے درمیان خطے کے دریاؤں کا ایک بیس لائن سروے کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2046 سے 2075 کے درمیان جنوبی ایشیا کے تمام بڑے دریاؤں میں پانی کی مقدار 20 سے 30 فیصد تک بڑھ جائے گی۔ اس بات کا انکشاف رپورٹ کے مرکزی مصنف ہونگ ژنگ زینگ نے کیا ہے جس کی تفصیلات جرنل آف ہائیڈرولوجی میں شائع ہوئی ہیں۔

اس وقت جنوبی ایشیا کے جو علاقے خشک ہیں وہاں نمی دو فیصد سے زائد اور موجود نمی سے بھرپور علاقوں میں ڈیڑھ سے دو فیصد نمی بڑھ جائے گی۔ ماہرین نے 29 برس تک جنوبی ایشیا کے دریاؤں کے بہاؤ میں کمی بیشی کو احتیاط سے نوٹ کیا ہے۔

جنوبی ایشیا 54 بڑے دریاؤں کی سرزمین ہے جن میں دریائے سندھ، دریائے گنگا اور دریائے برہم پترا اور اس کے طاس بہت مشہور ہیں۔ ان کا ظہور چین علاقے تبت سے ہوتا ہے۔ دریائے سندھ کا طاس چین کو افغانستان، پاکستان اور بھارت سے ملاتا ہے جبکہ برہم پترا اور گنگا سے جڑنے والے ممالک میں بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت اور نیپال شامل ہیں۔

سروے کے دوران ماہرین نے زمینی اور سیٹلائٹ ڈیٹا اور تصاویر سے دریاؤں کا مستقبل نامہ تخلیق کیا ہے جو نئے مطالعے سے ہم آہنگ بھی ہے۔

 

دریائے سندھ کا پانی 10 فیصد بڑھ جائے گا

ماہرین نے کہا ہے کہ مستقبل میں دریائے سندھ کے پانی کا بہاؤ 10 فیصد تک بڑھ سکتا ہے جبکہ گنگا اور برہم پترا میں پانی کی مقدار 15 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ سری لنکا کے نرمدا تاپتی علاقے کے دریاؤں میں پانی میں 20 فیصد تک اضافہ ہوگا۔

پاکستان کے بالائی علاقوں میں ہزاروں گلیشیئر موجود ہیں اور ان کا پگھلاؤ تیزی سے جاری ہے۔ برف گھلنے سے گلگت، استور اور دیگر علاقوں کا پانی بھی دریائے سندھ میں شامل ہوجائے گا۔ اس طرح پورے دریائے سندھ میں پانی کی مقدار اور بہاؤ بڑھے گا۔

لیکن ماہرین نے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو اس کی وجہ قرار دیا ہے جس سے سردیاں بھی گرم ہوں گی اور گرمیوں میں اوسط درجہ حرارت بڑھے گا جس کا مشاہدہ ہم آج بھی کررہے ہیں۔ اس ضمن میں بین الاقوامی مرکز برائے پہاڑ اور ترقی (آئی سی آئی ایم او ڈی) سے وابستہ دریائی طاس کے نگران ارون شریستہ کہتے ہیں کہ ہم سمجھ رہے تھے کہ جنوبی ایشائی دریاؤں میں پانی کم ہورہا ہے لیکن خود ان دریاؤں سے حاصل ڈیٹا، فیلڈ رپورٹس اور سیٹلائٹ تصاویر بتاتی ہیں کہ تمام دریا کے پانی میں اضافہ ہوگا۔

شریستا کےمطابق اگر اس پانی کو درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو جنوبی ایشیا میں غربت کے خاتمے اور معاشی ترقی میں مدد مل سکے گی کیونکہ خطے میں آبادی کا انحصار زراعت پر ہے۔ تاہم دریائی بہاؤ سے سیلاب، زمینی کٹاؤ، سیم اور خشک سالی کے خطرات بھی بڑھیں گے۔

پاکستان کے 145 اضلاع میں سے 50 ایسے ہیں جو براہِ راست سیلابی راستوں کی زد میں آتے ہیں۔ دوسری جانب گلیشیئر پگھلنے سے بھی پاکستان کے بالائی علاقوں میں غیرمتوقع اور فوری سیلاب کا خطرہ اپنی جگہ موجود ہے۔

پاکستان محمکہ موسمیات کے ڈائریکٹر جرنل اور جنوبی ایشیا میں آب و ہوا میں تبدیلی کے ممتاز ماہر ڈاکٹر غلام رسول نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب پاکستان کو سیلاب جھیلنے والی زراعت، پانی میں اگنے والی فصلوں اور انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ غلام رسول نے جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون اور سیلاب سے بروقت خبردار کرنے والے نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ خبر سائنس اینڈ ڈویلپمنٹ نیٹ ورک لندن کی ویب سائٹ پر شائع ہوئی ہے جسے پاکستانی صحافی سلیم شیخ نے رپورٹ کیا ہے۔

سام سنگ کا نیا فلیگ شپ فون گلیکسی نوٹ 9

کچھ کمپنیاں اپنی مصنوعات کو آخری لمحے تک راز میں رکھتی ہیں مگر کچھ ایسی ہوتی ہیں جنھیں اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی اور جہاں تک سام سنگ کے لیے نئے فلیگ شپ فون گلیکسی نوٹ 9 کی بات ہے تو ایسا لگتا ہے کہ اس کے بارے میں سب کچھ پہلے ہی سامنے آچکا ہے۔

یہ فون 9 اگست (جمعرات) کو متعارف کرایا جارہا ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ اس ایونٹ میں نیا کیا ہوگا کیونکہ اس ڈیوائس کے بارے میں تو سب کچھ پہلے ہی سب کو معلوم ہوچکا ہے۔

یہاں تک کہ کمپنی نے خود بھی نوٹ 9 کی تصاویر اور ویڈیو ‘لیک’ کر دی تھیں جسے بعد میں ڈیلیٹ کردیا۔

ویسے یہ فون کیسا ہوگا یا ہوسکتا ہے وہ درج ذیل ہے:

ڈیزائن/ڈسپلے

فوٹو بشکریہ ایون بلاس ٹوئٹر اکاؤنٹ
فوٹو بشکریہ ایون بلاس ٹوئٹر اکاؤنٹ

جہاں تک اس کے ڈیزائن کی بات ہے تو یہ گزشتہ سال کے نوٹ 8 سے کچھ زیادہ مختلف نہیں، درحقیقت ڈیزائن یکساں ہونے کی وجہ سے ہی سام سنگ کے چیئرمین گزشتہ دنوں ایک ایونٹ کے دوران نوٹ 9 کو استعمال کرتے رہے اور کسی کو اندازہ بھی نہیں ہوسکا۔ پہلے کہا جارہا تھا کہ فنگر پرنٹ سنسر اسکرین کے اندر ہوسکتا ہے جو کہ منتقل تو ہوا ہے مگر اس بارے بیک کیمرے کے برابر ہونے کی بجائے نیچے چلا گیا ہے، تاکہ گزشتہ سال کی تنقید سے بچا جاسکے۔

یہ فون گزشتہ سال کے ماڈل کے مقابلے میں کچھ بڑا ہے یعنی 6.4 انچ اسکرن کے ساتھ، مگر دیکھنے میں چھوٹا لگتا ہے جس کی وجہ ٹاپ اور نچلے حصے میں بیزل بہت کم ہونا ہے۔

سورج کی روشنی سے چارج ہوکر سفر کرنے والی گاڑی

سورج کی روشنی سے چارج ہوکر چلنے والی گاڑی اگلے سال متعارف کرائے جانے کا امکان ہے جو ایندھن کے حوالے سے ہونے والے خرچے لوگوں کو بچانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

جرمنی سے تعلق رکھنے والی کمپنی سونو موٹرز کی جانب سے سولر پاور الیکٹرک کار کی تیاری پر کام جاری ہے جس کا پروٹو ٹائپ ماڈل سامنے آچکا ہے اور اب سولر چارجنگ سسٹم کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔

میونخ سے تعلق رکھنے والی کمپنی کی گاڑی اس وقت چارج ہوکر چلتی رہے گی جب آپ اسے ڈرائیو کررہے ہوں گے۔

اس گاڑی کو سئیون کا نام دیا گیا ہے، اس کے بونٹ، اطراف اور چھت پر 330 سولر پینلز نصب ہوں گے جبکہ اس کا بیٹری سسٹم 250 کلومیٹر تک کا سفر کرسکے گا، جس کے بعد اسے ری چارج کرنا ہوگا۔

اس گاڑی کو سورج کی روشنی، بجلی کے پلک یا دیگر الیکٹرک گاڑیوں سے چارج کیا جاسکے گا۔

فوٹو بشکریہ سونو
فوٹو بشکریہ سونو

اس کمپنی کا قیام 2016 میں عمل میں آیا تھا اور اب تک اس گاڑی کے 6 ہزار سے زائد یونٹ خریدنے کے لیے ریزور بھی کراجائے چکے ہیں۔

اس گاڑی کے 2 ورژن ہوں گے اربن اور ایکسٹینڈر۔

اربن سنگل چارج پر 120 کلو میٹر کا فاصلہ طے کرسکے گی جبکہ اس کی قیمت 12 ہزار یورو (17 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) ہوگی جبکہ دوسرا ماڈل ایک چارج پر 250 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکے گا اور اس کی قیمت 16 ہزار یورو (20 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) ہوگی۔

کمپنی کے مطابق سولر پینل سے ہی یہ گاڑی 30 کلومیٹر تک سفر طے کرسکے گی۔

اس گاڑی کی پروڈکشن 2019 کی دوسری ششماہی میں شروع کی جائے گی جبکہ کمپنی اسے اگلے سال کے آخر تک فروخت کرنے کے لیے پیش کرنے کی خواہشمند ہے۔

Google Analytics Alternative