سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

کروڑوں سال قبل گم ہوجانے والا براعظم دریافت کرلیا گیا

اگر آپ یورپ میں بحیرہ ایڈریاٹک کے پہاڑی سلسلوں پر ہائیکنگ کریں تو آپ ہوسکتا ہے کہ اس سفر کے دوران کروڑوں سال قبل گم ہوجانے والے براعظم کی باقیات کو بھی دیکھ سکیں۔

درحقیقت کروڑوں سال پہلے گرین لینڈ کے حجم (21 لاکھ اسکوائر کلومیٹر سے زیادہ) کا براعظم یورپ سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا تھا۔

جریدے جرنل گونڈ وانا ریسرچ میں شائع مقالے میں ہماری زمین کی 24 کروڑ سال پرانی تاریخ کو دوبارہ تیار کیا گیا اور بحیرہ روم کی ٹیکٹونیک یا ارضیاتی تاریخ کو بیان کیا گیا۔

نیشنل جیوگرافک کی رپورٹ کے مطابق گریٹر ایڈریا نامی یہ براعظم یورپ سے ٹکرانے کے بعد زمین اور سمندر کے اندر دفن گیا ہوگیا جبکہ اس کا ملبہ پہاڑوں کی شکل اختیار کرگیا اور کروڑوں سال بعد بھی یہ باقیات موجود ہیں۔

سائنسدانوں نے اسپین سے ایران تک کے پہاڑی سلسلوں میں اس گمشدہ براعظم کے حصوں کو دریافت کیا ہے۔

تحقیق سے انکشاف ہوا کہ گریٹر ایڈریا سے ٹکراﺅ کے بعد ممکنہ طور پر اٹلی، ترکی، یونان اور جنوب مشرقی یورپ میں پہاڑی سلسلے بنے۔

تحقیقی ٹیم کے قائد اور نیدرلینڈز کی Utrecht یونیورسٹی کے پروفیسر ڈووی وان ہینسبرگن نے بتایا ‘بحیرہ روم کا خطرہ درحقیقت ارضیاتی ملغوبہ ہے، ہر چیز جھکی، ٹوٹی ہوئی اور بکھری ہوئی ہے’۔

گریٹر ایڈریا کبھی زمانہ قدیم کے سپر براعظم گونڈوانا کا حصہ تھا جو بعد ازاں تقسیم ہوکر افریقہ، انٹارکٹیکا، جنوبی امریکا، آسٹریلیا اور ایشیا و مشرق وسطیٰ کے بڑے حصوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔

24 کروڑ سال پہلے گریٹر ایڈریا گونڈوانا سے الگ ہوا اور خود براعظم کی شکل اختیار کرلی، مگر اس کا بیشتر حصہ سمندر کے اندر ڈوبا ہوا تھا اور سائنسدانوں کے خیال میں اس براعظم میں مختلف جرائز کا گروپ بن گیا جو کہ برطانیہ یا فلپائن جیسے ہوں گے۔

24 کروڑ سال پہلے یہ براعظم شمال کی جانب بڑھنے لگا اور 10 سے 12 کروڑ سال قبل اس کا ٹکراﺅ یورپ سے ہوا اور وہ نیچے کی جانب دھنسنے لگا، مگر چونکہ اس کی کچھ چٹانیں بہت ہلکی تھیں تو زمین کی پرت میں غائب نہیں ہوئیں۔

ان دونوں کے ٹکڑاﺅں سے پہاڑی سلسلے جیسے الپس کی بنیاد بنی اور یہ ٹکڑاﺅ لاکھوں یا کروڑوں برسوں میں مکمل ہوا کیونکہ ہر براعظم ہر سال محض 4 سینٹی میٹر ہی آگے بڑھتا تھا۔

اس سست رفتاری کے باوجود اس ٹکڑاﺅ نے 60 میل موٹے براعظم کو زمین کے قطر کی گہرائی میں پہنچادیا اور اب اس کی باقیات ایک اسرار ہیں۔

یہ حقیقت کہ اس کی باقیات مغربی یورپ سے مشرق وسطیٰ تک پھیلی ہوئی ہیں، نے سائنسدانوں کے لیے حالات بہت مشکل بنادیئے تھے۔

پروفیسر ڈووی وان ہینسبرگن کے مطابق ‘معمے کے تمام ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے اور میں نے گزشتہ 10 سال لگا کر ان کو جوڑا، ہر ملک کا اپنا ارضیاتی سروے، اپنا نقشہ، اپنی کہانیاں اور اپنے براعظم ہیں، اس تحقیق میں ہم نے ان سب کو ایک بڑی تصویر میں اکٹھا کیا’۔

الپس سلسلے کا ایک مقام — شٹر اسٹاک فوٹو
الپس سلسلے کا ایک مقام — شٹر اسٹاک فوٹو

سائنسدانوں نے کمپیوٹر ماڈلز تیار کرکے وہ منظر دوبارہ تخلیق کیا کہ زمین کی ٹیکٹونک پلیٹس (ارضیاتی پرتیں)کس طرح وقت کے ساتھ حرکت کرتی رہی ہیں۔

زمین بڑی ارضیاتی پرتوں پر مشتمل ہے جو ایک دوسرے کی جانب بڑھتی رہتی ہیں، گریٹر ایڈریا افریقہ ارضیاتی پرت سے تعلق رکھتا تھا (مگر براعظم افریقہ کا حصہ نہیں تھا کیونکہ دونوں کے درمیان ایک سمندر موجود تھا) جو آہستہ آہستہ یورایشین ٹیکٹونک پلیٹ کی جانب بڑھا جہاں اب جنوبی یورپ ہے۔

اس کام کے بعد اب یہ تحقیقی ٹیم بحر اوقیانوس میں گم ہوجانے والی ارضیاتی پرتوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کرنے والے ہیں۔

دنیا کا سیاہ ترین میٹریل تیار کرلیا گیا

سائنسدانوں نے حادثاتی طور پر ایسا میٹریل تیار کرلیا جو کہ سیاہ ترین ہے اور 99.995 فیصد تک روشنی کو جذب کرلیتا ہے۔

میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے انجنیئرز نے اس میٹریل کو کاربن نانو ٹیوبز (سی این ٹیز) کی مدد سے تیار کیا اور اس کی دریافت حادثاتی طور پر ہوئی۔

بنیادی طور پر یہ سائنسدان سی این ٹیز کو برقی موصل میٹریل جیسے المونیم کی مدد سے اگانے کے طریقوں پر تجربات کررہے تھے تاکہ اس کی برقی اور تھرمل خوبیوں کو بڑھایا جاسکے، مگر اس میٹریل کی رنگت نے ٹیم کو حیران کردیا اور اس وقت انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے سیاہ ترین رنگت والا میٹریل تیار کرلیا ہے۔

اس دریافت کو گزشتہ دنوں نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں آزمایا گیا جہاں موجود 16.78 قیراط کے قدرتی زرد ہیرے پر اس میٹریل کی کوٹنگ کردی گئی، جس کے بعد جگمگاتے ہیرے کی ساری شاہ و شوکت سیاہ رنگ میں گم ہوگئی۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق اس میٹریل کو عملی اپلائنسز پر بھی آزمایا جاسکتا ہے اور اس سے خلائی دوربینوں کے فنکشنز کو بھی مدد مل سکے گی۔

ایم آئی ٹی کے اس میٹریل سے قبل وانٹا بلیک نامی میٹریل کو سیاہ ترین کا اعزاز حاصل تھا۔

برطانوی سائنسدانوں کا تیار کردہ یہ میٹریل 99.96 فیصد تک روشنی جذب کرلیتا اور انفراریڈ کو بھی اپنے اندر سے گزرنے نہیں دیتا۔

2017 میں محققین نے ایک یوٹیوب ویڈیو میں بتایا ‘ایک ہائی پاور لیزر پوائنٹر بھی اس میٹریل کے پیچھے موجود کسی چیز کو دکھانے میں ناکام رہتا ہے، ہم نے اس سے پہلے اتنا سیاہ میٹریل کبھی تیار نہیں کیا تھا’۔

وانٹا بلیک کا ایک نمونہ — اسکرین شاٹ
وانٹا بلیک کا ایک نمونہ — اسکرین شاٹ

اس میٹریل کو 2014 میں تیار کیا گیا تھا مگر اب اسے پہلی بار 2017 میں ایک اسپرے کی شکل میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا۔

اور ہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ کوئی پینٹ یا کپڑا نہیں بلکہ کروڑوں کاربن نینو ٹیوبز سے تیار کردہ خصوصی کوٹنگ ہے۔

جب روشنی اس اسپرے سے رنگی ہوئی کسی چیز سے ٹکراتی ہے تو وہ نینو ٹیوبز کے خلا میں داخل ہوتی ہے اور وہاں پھنس کر جذب ہوجاتی ہے۔

گوگل فوٹوز کو میسجنگ ایپ بنانے کی تیاری

اسٹوریز ایسا فیچر ہے جو اسنیپ چیٹ نے متعارف کرایا اور مقبول بھی ہوا جس کے بعد انسٹاگرام، فیس بک، میسنجر اور واٹس ایپ میں بھی اسے بہت زیادہ مقبولیت ملی۔

ایسا لگتا ہے کہ اسی سے متاثر ہوکر گوگل نے اپنی فوٹو ایپ فوٹوز میں نیا فیچر میموریز متعارف کرایا ہے جو کہ انسٹاگرام سے بہت زیادہ ملتا جلتا ہے۔

اس فیچر میں صارفین پرانی تصاویر اور ویڈیوز اسٹوریز جیسے فارمیٹ میں دیکھ سکیں گے۔

اس سے قبل گوگل فوٹوز میں پرانی تصاویر کے لیے ری ڈسکور دس ڈے نامی فیچر تھا جو ایپ کے اسسٹنٹ ٹیب میں منتقل کیا گیا تھا مگر میموریز نامی فیچر سب سے اوپر انسٹاگرام اسٹوریز جیسی شکل میں چھوٹے سرکل میں نظر آئے گا، جن میں ایک سال پرانی تصاویر یا ویڈیوز سے آغاز ہوگا اور پھر پیچھے چلتا جائے گا۔

تاہم ہر تصویر یا ویڈیو کو میموری کے طور پر نہیں دیکھا جاسکے گا بلکہ ایک الگورتھم ان کا انتخاب کرے گا، یہ فیچر آج سے تمام صارفین تک پہنچنا شروع ہوجائے گا۔

فوٹو بشکریہ گوگل
فوٹو بشکریہ گوگل

مگر گوگل فوٹوز میں یہی نیا اضافہ نہیں ہورہا بلکہ آنے والے مہینوں میں تصاویر اور ویڈیوز کو دوستوں اور گھروالوں کے ساتھ شیئر کرنے کا طریقہ کار بھی انسٹاگرام کے فیچر ڈائریکٹ میسجز جیسا ہونے والا ہے۔

جہ ہاں واقعی فوٹوز بہت جلد گوگل کی نئی میسجنگ ایپ بھی بننے والی ہے جو اس سے قبل ایلو، ڈو، ہینگ آﺅٹس، گوگل چیٹ اور متعدد دیگر ایپس کی شکل میں اس میدان میں ناکامی کا منہ دیکھ چکا ہے۔

اس کے علاوہ تصاویر کے پرنٹ آﺅٹ کا فیچر بھی متعارف کرایا جارہا ہے مگر فی الحال وہ صرف امریکا تک ہی محدود ہوگا۔

تاہم ان تمام سوشل فیچرز کی بدولت گوگل کو توقع ہے کہ اس کی مقبول ترین ایپس میں سے ایک گوگل فوٹوز کے ذریعے وہ مزید آمدنی کے حصول کے ذرائع بناسکے گا۔

خیال رہے کہ گوگل فوٹوز استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک ارب سے زائد ہے۔

ہواوے کے نئے فلیگ شپ فونز کی تفصیلات قبل از وقت لیک

ایپل کی جانب سے نئے آئی فونز گزشتہ چند برسوں سے ستمبر کو متعارف کرائے جارہے ہیں اور اسمارٹ فونز کے صارفین کو ان کا انتظار بھی رہتا ہے۔

مگر اس سال ایپل کے نئے آئی فونز کو ہواوے کے نئے فلیگ شپ میٹ 30 سیریز کے فونز کا سامنا ہوگا جو کہ 19 ستمبر کو پیش کیے جارہے ہیں۔

ان فونز کے بارے میں فی الحال یہ معلوم ہے کہ ان میں گوگل ایپس اور سروسز کو پری لوڈ نہیں دیا جائے گا جبکہ اوپن سورس اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کی موجودگی کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ ایک بات طے ہے کہ اس میں کیرین 990 پراسیسر ہوگا جو کہ کمپنی نے رواں ماہ کے شروع میں آئی ایف اے ٹیکنالوجی نمائش کے دوران متعارف کرایا تھا۔

مگر فون کے متعارف ہونے سے ایک ہفتہ پہلے ہی اس کے تمام تر فیچرز لیک ہوکر سامنے آگئے ہیں۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ ٹیک راڈار کی رپورٹ میں ایک ٹوئٹر صارف کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا۔

لیک تفصیلات کے مطابق میٹ 30 پرو میں 6.6 یا 6.8 انچ امولیڈ واٹر وال ڈسپلے دیا جائے گا جو کہ فل ایچ ڈی پلس ریزولوشن سے لیس ہوگا حالانکہ گزشتہ برس میٹ 20 پرو میں اس سے بہتر کیو ایچ ڈی پلس اسکرین دی گئی تھی۔

اس کے علاوہ میٹ 30 پرو میں 8 سے 12 جی بی ریم اور 512 جی بی تک اسٹوریج دی جائے گی جبکہ 4500 ایم اے ایچ بیٹری کے لیے 40 واٹ سپر چارج اور 27 واٹ سپر وائرلیس چارج سپورٹ موجود ہوگی۔

یہ بات پہلے ہی سامنے آچکی ہے کہ ہواوے میٹ 30 پرو کے بیک پر 4 کیمروں کا سیٹ اپ ہوگا، جس میں 40 میگا پکسل کا مین سنسر، 40 میگا پکسل وائیڈ اینگل لینس، 8 میگا پکسل ٹیلی فوٹو لینس اور ٹائم آف فلائٹ (ٹی او ایف) کیمرا سنسر شامل ہیں۔

اس کے فرنٹ پر بھی 2 کیمروں کی موجودگی کا امکان ہے جن میں ایک 32 میگا پکسل سیلفی کیمرا جبکہ ایک ٹی او ایف کیمرا۔

حیران کن طور پر لیک کے مطابق میٹ 30 پرو میں اینڈرائیڈ 10 آپریٹنگ سسٹم کا امتزاج ہواوے کے اپنے ای ایم یو آئی 10 سے کیا جائے گا مگر گوگل ایپس نہیں ہوں گی۔

دوسری جانب چین کی سوشل میڈیا ویب سائٹ ویبو پر میٹ 30 (میٹ پرو نہیں) کے باکس کی تصویر بھی لیک ہوگئی ہے جن کے مطابق اس فون میں 6 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج موجود ہوگی۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کے شروع میں کمپنی کی جانب سے باضابطہ طور پر اعلان کیا گیا تھا کہ جرمن شہر میونخ میں 19 ستمبر کو میٹ 30 سیریز کے فونز متعارف کرائے جارہے ہیں۔

اس حوالے سے کمپنی نے ایک مختصر ویڈیو ٹوئٹ کی جس میں میٹ 30 اور میٹ 30 پرو کے کیمرا سسٹم پر زور دیا گیا ہے، جو اس لیے حیران کن نہیں کیونکہ گزشتہ سال کے میٹ 20 کو اس کے بہترین کیمرا سسٹم کے باعث ہی سراہا گیا تھا۔

مگر ٹوئٹ میں ایونٹ کی ٹیگ لائن ‘ری تھنک پاسبلٹیز’ سے عندیہ ملتا ہے کہ اس بار ہواوے کے فلیگ شپ فونز گوگل کے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کے اہم پہلوﺅں کو استعمال کرنے سے قاصر ہوں گے۔

پانی سے جست لگا کر فضا میں پرواز کرنے والا روبوٹ

لندن: آپ نے پانی سے باہر نکل کر مختصر وقفے تک پرواز کرنے والی مچھلیاں ضرور دیکھی ہوں گی عین اسی طرح پانی سے باہر نکل کر مختصر مدت تک اڑنے والا ایک روبوٹ تیار کیا گیا ہے جو بہت سے کام انجام دے سکتا ہے۔

یہ روبوٹ امپیریل کالج لندن کے پروفیسر مرکو کوواچ اور ان کے ساتھیوں نے تیار کیا ہے جو پانی سے جست لگا کر باہر نکلتا ہے اور ہوا میں 26 میٹر تک بلند ہوجاتا ہے لیکن واضح رہے کہ یہ کوئی ڈرون نہیں اور نہ ہی کوئی روبوٹک ہوائی جہاز ہے بلکہ اسے سمندروں سے پانی کے نمونے لینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

روبوٹ کا کل وزن 160 گرام ہے جو پانی میں غوطہ لگا کر اندر تیرتا رہتا ہے اور پانی کے نمونے لے کر فوراً باہر نکل آتا ہے۔ اس کی بدولت مشکل ماحول میں یا برف کے درمیان پانی کے نمونے لے کر انہیں سائنسداں تک پہنچاسکتا ہے۔ روبوٹ اپنا کام سیکنڈز میں انتہائی درستی سے کرتا ہے۔

اڑن مچھلی والے اس روبوٹ میں ایک چھوٹا سا ٹینک نصب ہے جس میں وہ پانی کے نمونے جمع کرتا ہے۔ روبوٹ کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے اس میں کیلشیئم کاربائیڈ شامل کیا گیا ہے جو پانی سے ملتے ہی ایک طرح کی ایتھائلین گیس خارج کرتا ہے۔ یہ گیس جہاز کو پوری قوت سے دھکیلتی ہے اور روبوٹ پانی سے باہر کی جانب جست لگاتا ہے۔

اس طرح پانی بھر کے روبوٹ کو بار بار استعمال کیا جاسکتا ہے اور اس طرح ایک وقت میں پانی کے کئی نمونے جمع کیے جاسکتے ہیں۔ اب تک یہ روبوٹ تجربہ گاہ، ایک جھیل اور پانی کے خاص لہروں والے ٹینک میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جلد ہی اسے سمندروں کے پانی کے نمونے جمع کرنے اور آف شور پلیٹ فارم کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ہونڈا کی منفرد الیکٹرک گاڑی کی قیمت کا اعلان

ہونڈا نے اپنی منفرد کانسیپٹ گاڑی ای کی قیمت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ صارفین کے لیے اگلے سال دستیاب ہوگی۔

فرینکفرٹ موٹر شو کے دوران ہونڈا کی مکمل طور پر بجلی سے چلنے والی گاڑی ہونڈا ای کو حتمی فیچرز اور قیمت کے ساتھ متعارف کرایا گیا اور اچھی بات یہ ہے کہ اس کے پروٹوٹائپ کے بیشتر فیچرز اصل گاڑی میں موجود ہوں گے۔

اس کا بیسک ماڈل 35.5 کلو واٹ بیٹری سے لیس ہوگا جو کہ فل چارج پر 220 کلومیٹر تک سفر کرسکے گا اور یہ 134 ہارس پاور رکھتا ہوگا (بیس موٹر کو اپ ڈیٹ کرنے پر 152 ہارس پاور) جبکہ فاسٹ چارجنگ سپورٹ بھی دی گئی ہے یعنی 30 منٹ میں 80 فیصد بیٹری چارج ہوسکے گی۔

اس کا اندرونی ڈیزائن 2017 کے کانسیپٹ ڈیزائن جیسا ہی ہے جس میں ڈیجیٹل انسٹرومنٹ کلسٹر، ایکسٹرا وائیڈ ٹچ اسکرین انفوٹیمنٹ سسٹم اور کیمرا لنک رئیر ویو مرر وغیرہ، جبکہ اے سی اور ریڈیو کے لیے فزیکل کنٹرول بھی دیا گیا ہے۔

ڈسپلے انفوٹینمنٹ کے لیے 12.3 انچ کی 2 ایل سی ڈی ٹچ اسکرینز دی جائیں گی جبکہ 8.8 انچ اسکرین ڈرائیورز کے انسٹرومنٹ کلسٹر کا کام کرے گی۔

ڈیجیٹل اسسٹنٹ، مائی ہونڈا پلس سروس اور ایپ وغیرہ بھی موجود ہوں گے جو صارفین کو سیکیورٹی، لوکیشن مانیٹرنگ، ڈیجیٹل کی ایسسز اور دیگر فیچرز فراہم کریں گے۔

فوٹو بشکریہ ہونڈا
فوٹو بشکریہ ہونڈا

یہ اگلے سال موسم گرما میں برطانیہ اور جرمنی میں بالترتیب 26 ہزار 160 پاﺅنڈز اور 29 ہزار 470 یورو (50 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت کے لیے پیش کی جائے گی۔

یہ گاڑی ہونڈا کی جانب سے 70 کی دہائی کی اپنی اولین چھوٹی گاڑیوں کو خراج تحسین بھی ہے۔

2017 میں جب کانسیپٹ ڈیزائن متعارف کرایا گیا تو کمپنی کا کہنا تھا کہ گاڑی کا سسٹم ڈرائیور کے جذبات کو شناخت کرنا سیکھے گا اور اس حوالے سے تجاویز بھی دے گا۔

آئی فون 11 سیریز کے فونز کے سوشل میڈیا پر چرچے

ایپل نے اپنے نئے 3 آئی فونز گزشتہ شب ایک ایونٹ کے دوران متعارف کرادیئے۔

اور جب بات آئی فون کی ہو تو اس میں اپ گریڈ چاہے جتنی بھی معمولی ہو، لوگوں میں اس فون کے بارے میں بات بہت زیادہ ہوتی ہے۔

منگل کو متعارف کرائے فونز میں ایسی کوئی چیز نئی نہیں تھی جو گزشتہ چند ماہ کے دوران لیکس میں سامنے نہ آچکی ہو بس ان کی باضابطہ تصدیق ہوگئی، جیسے آئی فون 11 پرو اور 11 پرو میکس کے بیک پر 3 جبکہ آئی فون 11 میں بیک پر 2 کیمروں کی موجودگی (بنیادی طور پر اس سال کے آئی فونز کی سب سے بڑی اپ ڈیٹ کیمرا سسٹم ہی ہے)۔

اس بار ایپل نے 2015 کے تھری ڈی ٹچ کے فیچر کو ختم کردیا اور اس کی جگہ ہیپٹک ٹچ دیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر ان فونز کے حوالے سے کیمرا سسٹم کے ہی چرچے رہے اور اس حوالے سے کافی مذاق بھی سامنے آئے۔

جیسے کچھ لوگوں کے خیال میں 3 علیحدہ کیمروں کا خیال فیجیٹ اسپنر کے باعث ایپک کے دماغ میں آیا۔

اور کچھ کے خیال میں یہ کیمرا سسٹم چولہوں سے کافی ملتا ہے۔

یا ناریل سے۔

یا باﺅلنگ بال سے۔

یا اس جانور سے۔

یا ایلینز سے۔

یا گوگلی آئیز۔

کچھ کے خیال میں تینوں کیمروں کے کچھ دیگر مقاصد بھی ہوسکتے ہیں۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے دریافت کیا کہ انہوں نے منگل کو جو لباس بنارکھا تھا وہ ایپل کے نئے فونز کے کیمرا سسٹم سے بہت زیادہ ملتا ہے۔

اور کچھ نے مذاق میں کہا کہ اس فون کی لاگت کتنی ہوسکتی ہے اور جواب ہے بہت زیادہ یعنی ایک گردہ۔

اور ایپل کے نئے کیمرا فیچر سلو مو سیلفیز کو سلوفیز کا نام دیا گیا ہے۔

آئی فون 11 میں ایسا کچھ نہیں جسے ’سرپرائز‘ کہا جائے

سلیکان ویلی: گزشتہ روز سلیکان ویلی، امریکا میں آئی فون 11 کی تقریبِ رونمائی میں نئے آئی فون کے نئے ڈیزائنز کے علاوہ نئی ایپل واچ اور نیٹ فلکس کے مقابلے پر ’’ایپل ٹی وی‘‘ کی بھی ایک جھلک پیش کی گئی ہے جسے جلد ہی متعارف کروایا جائے گا۔

یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ اب کی بار آئی فون 11 میں ایسا کچھ بھی نہیں جسے غیر متوقع یا غیر معمولی قرار دیا جاسکے۔ چند ماہ سے آئی فون 11 سے متعلق جتنی بھی افواہیں اور پیش گوئیاں گردش میں تھیں، ان میں سے بیشتر درست ثابت ہوئی ہیں۔

مثلاً یہ کہ نئے آئی فون میں فائیو جی کی سہولت موجود نہیں، جسے 2020 کے ڈیزائن میں شامل کیا جائے گا۔ آئی فون 11 کی بیٹری بھی پہلے کے مقابلے میں 4 گھنٹے زیادہ کام کرتی ہے، اس میں وائرلیس چارجنگ کی سہولت بھی موجود ہے۔ آئی فون 11 میں 12 میگا پکسل کا صرف ایک عقبی کیمرہ ہے جبکہ آئی فون 11 پرو اور ’’پرو میکس‘‘ ورژنز میں تین عقبی کیمرے موجود ہیں۔

اندرونی گنجائش بھی 64 جی بی سے لے کر 512 جی بی تک ہے جبکہ تینوں ورژنز کی قیمتیں ایک لاکھ 10 ہزار پاکستانی روپے سے لے کر ایک لاکھ 75 ہزار پاکستانی روپے تک ہیں جو حکومتِ پاکستان کے عائد کردہ ٹیکس شامل کرنے کے بعد، مالدار پاکستانیوں کےلیے ڈیڑھ لاکھ سے ڈھائی لاکھ روپے میں دستیاب ہوں گے۔

اور تو اور، آئی فون 11 کا آپریٹنگ سسٹم تک ’’آئی او ایس 13‘‘ ہے جس کی پیش گوئی پہلے ہی کی جاچکی تھی۔

غرض نئے آئی فون میں واقعتاً ایسا کچھ بھی نہیں جسے ’’سرپرائز‘‘ قرار دیا جاسکے

Google Analytics Alternative