سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

دنیا کا دوسرا 3 بیک کیمروں والا اسمارٹ فون متعارف

اوپو نے دنیا کا دوسرا 3 بیک کیمروں والا اسمارٹ فون آر 17 پرو متعارف کرادیا ہے۔

یہ فون چین میں متعارف کرایا گیا ہے جو اوپو آر 17 کا زیادہ بہتر ورژن ہے۔

یہ نیا فون اکتوبر میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا جس کی قیمت 4299 چینی یوآن (لگ بھگ 78 ہزار پاکستانی روپے) ہوگی۔

اس فون میں 8 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج دی جائے گی جبکہ بیک پر یہ فون رنگ بدلتا محسوس ہوگا۔

اس فون کی خاص بات اس کے بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ ہے جو اس سے پہلے ہیواوے پی 20 پرو میں نظر آیا تھا۔

اوپو کے فون میں ایک کیمرہ 12 میگا پکسل، دوسرا 20 میگا پکسل جبکہ تیسر ٹی او ایف تھری ڈی اسٹریو کیمرہ سنسر سے لیس ہوگا۔

اس کے فرنٹ پر 25 میگا پکسل کیمرہ دیا گیا ہے جو آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔

اس فون میں 6.4 انچ کا فل ایچ ڈی پلس ڈسپلے دیا گیا ہے جبکہ بیزل نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس فون میں نوچ کی جگہ واٹر ڈراپ ڈیزائن دیا گیا ہے جو اسی کمپنی کے ایف 9 جیسا ہے، یعنی ایسا نوچ جو پانی کے قطرے جیسا ہے، جس کے اندر فرنٹ کیمرہ دیا گیا ہے۔

اس فون میں کوالکوم اسنیپ ڈراگون 710 پراسیسر دیا گیا ہے جبکہ اینڈرائیڈ اوریو 8.1 آپریٹنگ سسٹم کا امتزاج، کمپنی نے اپنے کلر او ایس 5.2 سے کیا ہے۔

اس فون میں 3700 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے جبکہ یہ ڈوئل سم اسمارٹ فون ہے۔

اب خلاءمیں بھی سیلفی لینا ممکن

تفریحی مقامات سمیت کسی بھی جگہ اپنی تصویر لینے کو بھول جائیں کیونکہ اب آپ گھر سے باہر قدم نکالے بغیر بھی بالائی خلاءمیں سیلفی لے سکتے ہیں۔

جی ہاں امریکی خلائی ادارے ناسا کی نئی ایپ کی مدد سے سیلفی کے شوقین افراد دریافت کرسکتے ہیں کہ وہ اسپیس سوٹ میں کیسے نظر آئیں گے، جس کے لیے انہیں کسی قسم کی تربیت کی بھی ضرورت نہیں۔

ناسا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ‘نئی ناسا سیلفی ایپ آپ کو ورچوئل اسپیس سوٹ میں اپنی تصویر لینے کا موقع فراہم کرے گی’۔

بیان میں بتایا گیا ‘اس ایپ کی مدد سے آپ کسی بھی خلائی لوکیشن کے سامنے پوز دیتے نظر آسکتے ہیں جیسے ملکی وے گلیکسی کے وسط میں’۔

بیان کے مطابق یہ سادہ انٹرفیس ہے جس میں آپ کو بس اپنی تصویر لینی ہے، پس منظر کو منتخب کرنا ہے اور پھر سوشل میڈیا پر شیئر کردینا ہے۔

 

ایپ میں 30 مختلف پس منظر دیئے گئے ہیں جو کہ سب حقیقی تصاویر ہیں جنھیں اسیٹزر اسپیس ٹیلی اسکوپ سے کھینچا گیا ہے۔

یہ سیلفی ایپ آئی او ایس پر اس لنک اور اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے اس لنک پر دستیاب ہے۔

سام سنگ کا سب سے سستا اسمارٹ فون متعارف

سام سنگ نے اپنا سب سے سستا اسمارٹ فون گلیکسی جے 2 کور متعارف کرادیا ہے جو اس جنوبی کورین کمپنی کا گوگل کے اینڈرائیڈ گو پروگرام کی پہلی ڈیوائس ہے۔

اینڈرائیڈ گو پروگرام میں ایسے فونز کو شامل کیا جاتا ہے جس میں نئے آپریٹنگ سسٹم کا لائٹ ورژن دیا جاتا ہے جبکہ گوگل ایپس بھی لائٹ ورژن کی ہوتی ہیں۔

تاہم سام سنگ کا یہ نیا فون اینڈرائیڈ اوریو 8.1 کے ساتھ ہوگا اور فی الحال اینڈرائیڈ پائی کا ورژن نہیں دیا جارہا ہے، جبکہ سام سنگ نے اس میں اپنے یو آئی کو بھی آپریٹنگ سسٹم کا حصہ بنایا ہے۔

اس فون میں 5 انچ کا ایل سی ڈی ڈسپلے دیا گیا ہے جبکہ ایکسینوس 7570 پراسیسر، 2600 ایم اے ایچ بیٹری، ایک جی بی ریم اور 8 جی بی اسٹوریج ہوگی، تاہم اس میں میموری کارڈ سے اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

اس کے بیک پر 8 میگا پکسل کیمرہ ایل ای ڈی فلیش کے ساتھ دیا گیا ہے جبکہ فرنٹ پر 5 میگا پکسل کیمرہ ہے۔

کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گلیکسی جے 2 کور ایک مکمل اسمارٹ فون کا تجربہ فراہم کرے گا اور اس میں چند ایسے اہم فیچرز ہیں جو ہائی اینڈ ڈیوائسز کا حصہ ہوتے ہیں، خصوصاً یہ پہلی بار اسمارٹ فون لینے والوں کے لیے زیادہ اچھا ثابت ہوگا۔

یہ فون سب سے پہلے بھارت اور ملائیشیا میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا اور مستقبل قریب میں دیگر مارکیٹوں میں بھی دستیاب ہوگا۔

اس کی قیمت 100 ڈالرز سے کم ہوگی یعنی پاکستان میں یہ 10 سے 12 ہزار روپے کے درمیان فروخت کے لیے پیش ہوسکتا ہے۔

پینٹاگون ’لیزر سسٹم‘ سے روس اور چین کے عزائم کو ناکام بنائے گا

واشنگٹن: امریکا دشمن ممالک کو مات دینے کے لیے ریڈیو فریکوئنسی وائرلیس سسٹم کے بجائے ’لیزر کمیونیکیشن سسٹم‘ کا استعمال کرے گا۔ 

امریکی ادارے پینٹاگون نے جنگی آپریشن کے دوران اہداف کو نشانہ بنانے، اہلکاروں کے ایک دوسرے سے رابطہ کرنے اور خفیہ معلومات کے تبادلے کے لیے محفوظ اور پہلے سے تیز رفتار نظام تیار کیا ہے۔ اس سسٹم کی خاص بات یہ ہے کہ اسے ’ہیک‘ یا تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ پینٹاگون نے اسے ’لیزر کمیونیکیشن سسٹم‘ کا نام دیا ہے۔

امریکی افواج ’وائرلیس نیٹ ورک اور ریڈیو فریکوئنسی کمیونیکیشن پر انحصار کرتے ہیں تاہم یہ نظام محفوظ نہیں جسے چین یا روس نہ صرف جام کرسکتے ہیں بلکہ ان کے ذریعے بھیجے جانے والے پیغاموں کو تبدیل بھی کرسکتے ہیں اور اس طرح امریکا کے خفیہ ترین آپریشن کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔

چین اور روس کی جاب سے ان خطرات کے پیش نظر پینٹاگون نے ایک نئے نظام کے لیے ریسرچ کا آغاز کیا۔ امریکی ادارے ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹ ایجنسی نے لیزر کمیونیکیشن نظام کو خفیہ معلومات کی ترسیل اور باہمی رابطوں کے لیے محفوظ اور تیز رفتار قرار دیا۔ اس نظام تک مخالف قوتوں کی رسائی ناممکن ہوگی۔

پینٹاگون کے مطابق ایسے سینسرز اور ہارڈ ویئر نظام پر کام کیا گیا ہے جو ’ فری- اسپیس آپٹیکل ٹیکنالوجی‘ کی مدد سے پیغامات کو وصول اور بھیجنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس نظام کے ذریعے پیغامات کو کیبل کے ذریعے نہیں بلکہ شعاعوں کو ہوا میں بھیج کر پیغامات کی ترسیل کی جا سکے گی۔

آڈی کی پہلی مکمل الیکٹرک پروٹوٹائپ گاڑی

اس گاڑی کو بنانے کا مقصد دیگر گاڑیوں سے اسے الگ بنانا نہیں، بلکہ روزمرہ کی ڈرائیونگ کیلئے اچھی سواری فراہم کرنا ہے۔

آڈی نے پہلی بار مکمل طور پر بجلی سے چلنے والی گاڑی ای ٹران کا پروٹوٹائپ یا آزمائشی ورژن متعارف کروایا ہے، یہ کار ایک بار چارج ہونے پر 400 کلومیٹر سفر کر سکتی ہے، اسے چارج کرنے کے لیے بہت ہی کم وقت درکار ہوتا ہے۔

آڈی سے تعلق رکھنے والے روپرٹ کا کہنا ہے کہ اس گاڑی میں آڈی کی دیگر بڑی گاڑیوں جیسی ہی خصوصیات شامل کی گئی ہیں، لہٰذا جب ڈرائیورز اے-6 یا اے-7 کو چھوڑ کر ای ٹران کا انتخاب کریں گے، تو انہیں زیادہ فرق محسوس نہیں ہوگا۔

اس گاڑی کی خاص بات الیکٹرک ڈرائیو کے لیے مخصوص انڈیکٹرز ہیں جو کہ بیٹری لیول دکھانے کا ایک اسپیشل مینیو رکھتے ہیں۔

اس کے ذریعے آپ زیادہ سے زیادہ چارج اور چارجنگ کرنے کے وقت کو سیٹ کرسکتے ہیں، تاکہ جب ڈرائیور سفر کرنا چاہے تو گاڑی چارج ہو۔

ڈیجیٹل اسپیڈومیٹر اور درمیان میں 2 بڑی ٹچ اسکرینز کے ساتھ ای ٹران کا اندرونی حصہ وقت سے آگے محسوس ہوتا ہے۔

ڈیش بورڈ پر نصب سرخ اور نیلی ایل ای ڈی، دروازے اور سینٹر کنسول کو بہت ہی پرکشش بنانے کی کوشش کی گئی ہے، البتہ کچھ افراد اسے صارفین کی توجہ حاصل کرنے کا طریقہ قرار دے سکتے ہیں۔

جو چیز یقیناً بہت ہی حیران کن ہے، وہ پیچھے کی جانب سیٹ بکلس پر لگے ایل ای ڈیز ہیں۔

روپرٹ بتاتے ہیں کہ جب ڈرائیورز روایتی سواری چھوڑ کر الیکٹرک گاڑی کا انتخاب کرتے ہیں تو انہیں رینج کی فکر لاحق رہتی ہے، حتیٰ کہ اگر 400 کلومیٹرز کی بھی رینج ہو تب بھی بیٹری ختم ہونے کا خدشہ لگا رہتا ہے۔

ان کے مطابق اس پریشانی کو دور کرنے کے لیے گاڑی میں رینج مانیٹر کی سہولت دی گئی ہے، گاڑی کے مین مینو انڈیکیٹرز موجودہ رینج اور گاڑی میں مزید رینج کی صلاحیت دکھاتے ہیں۔

آپ رینج میں اضافے کے لیے اقدامات بھی کرسکتے ہیں، جیسے ایئرکنڈیشنر بند کرسکتے ہیں، اس مقصد کے لیے سیٹ لائٹ نیوی گیشن ای ٹران کی ضرورتوں پر نظر رکھتا ہے۔

روپرٹس بتاتے ہیں کہ سیٹ لائٹ نیوی گیشن ای ٹران کی کارکردگی کو مزید بہتر بناتا ہے، مثلاً اگر جرمنی سے اسٹاک ہوم تک کا روٹ گاڑی کی رینج سے تجاوز کرجائے تو یہ سسٹم خود بخود چارجنگ اسٹاپ یا ریسٹورنٹ، پارکس اور پلے گراؤنڈز جیسی جگہوں کی نشاندہی کردے گا جہاں آپ اپنی گاڑی چارج کرسکتے ہیں، یہی نہیں بلکہ یہ سسٹم آپ کو یہ بھی بتا دے گا کہ آپ کو وہاں گاڑی کو چارج کرنے میں کتنا وقت درکار ہوگا۔

آڈی کے انجینئرز نے ای ٹران کے پروڈکشن ماڈل کے لیے دروازے کے ہینڈلز کے اوپر ورچوئل مررز، وڈیو امیج ڈسپلیز نصب کیے ہیں، ایسا کمپنی نے پہلی بار کیا ہے، تاکہ انہیں کسی ملٹی میڈیا سسٹم کی طرح کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

روپرٹ کے مطابق ورچوئل مررز کا استعمال بہت آسان ہے چونکہ ملٹی میڈیا انٹرفیس ٹچ اسکرین ہے لہٰذا اسے استعمال کرنا بھی آسان ہے۔

شیشے میں پراکسمیٹی سنسر ہے، اسی لیے ہاتھ کے لہرانے پر ہی سارے کنٹرول آپ کے سامنے آجائیں گے۔

ہاتھ کو اپنی مرضی کی سمت میں لے جا کر بھی ورچوئل مررر کو ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ بس ہاتھ کو پیچھے کی طرف لائیے اور آپ کے سامنے بٹنوں کی جگہ مکمل تصویر آجائے گی۔

ورچوئل مررر کی تصویر کو قطعی طور پر قابل بھروسہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ محفوظ ڈرائیونگ کے لیے بہت ضروری ہے۔

روپرٹ شیشوں کی سیلف کلیننگ یا خود بخود صفائی کرنے کی خصوصیت کے بارے میں بتاتے ہیں کہ باہر کی طرف موجود فنس کو مؤثر انداز میں ایروڈائنامکس کے اصول کے مطابق نصب کیا گیا ہے، اسی لیے شیشے پر گرد جمع نہیں ہوتی۔ اور اگر گرد جمع ہو بھی جائے تو حفاظتی گلاس گرمائش پیدا کرکے اسے خود ہی صاف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر گرد پانی والی ہو تو اتر جائے گی لیکن اگر گرد اتر نہ سکے تو ڈرائیور کو ہاتھ سے شیشہ صاف کرنے کی وارننگ موصول ہوگی۔

نئی ورچوئل مررر ٹیکنالوجی بالآخر پروڈکشن کے لیے تو تیار ہے مگر پھر بھی ای ٹران کو آپ بڑی حد تک آڈی کے گزشتہ ماڈلز جیسا ہی پائیں گے۔

روپرٹ مزید بتاتے ہیں کہ اس گاڑی کو بنانے کا مقصد دیگر ملتی جلتی گاڑیوں سے اسے الگ بنانا نہیں، بلکہ روزمرہ کی ڈرائیونگ کے لیے اچھی سواری فراہم کرنا ہے۔

وہ چمک دمک والے ڈیزائن یا انتہائی نفیس کنٹرول والی برقی گاڑیوں سے لوگوں کے دل جیتنا نہیں چاہتے، بلکہ صرف ایسی عام گاڑی بنانا چاہتے تھے جو کسی الیکٹرک گاڑی جیسی سہولت فراہم کرے۔

آڈی کی نئی ای ٹرون رواں ماہ شورومز میں پہنچے گی۔

’کلاشنکوف‘ کمپنی نے بجلی بھری ’الیکٹرک سپر کار‘ بھی بنالی

ماسکو: مشہورِ زمانہ مشین گن اے کے 47 المعروف ’’کلاشنکوف‘‘ کے خالق، روسی اسلحہ ساز ادارے نے اپنی معمول کی روِش چھوڑ کر ایک بالکل ہی مختلف کام کیا ہے: اس ادارے نے ایک نئی ’’الیکٹرک سپر کار‘‘ پیش کردی ہے۔

خبروں کے مطابق ’کلاشنکوف‘ نے ماسکو میں ہونے والی دفاعی نمائش (ڈیفنس ایکسپو) میں جدید اسلحے کی جگہ ایک نئی الیکٹرک سپر کار پیش کرکے سب کو حیران کر دیا۔ حاضرین نے پیٹرول، ڈیزل یا سی این جی کے بجائے بجلی سے چلنے والی اس ’’الیکٹرک سپر کار‘‘ میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔

الیکٹرک سپر کار کو 1970 کے عشرے کی ایک مقبول روسی کار کے ماڈل ’’آئی زی ایچ کومبی‘‘ (Izh-Kombi) کی طرح بنایا گیا ہے جسے دیکھ کر پہلی نظر میں احساس ہوتا ہے جیسے پرانے زمانے کی یادگاری کار ہو لیکن درحقیقت یہ اندرونی طور پر بہت جدید اور متعدد نئے فیچرز سے لیس ہے۔

کلاشنکوف کی ویب سائٹ پر الیکٹرک سپر کار کی خصوصیات بتاتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ کار میں جدید طرز کا انورٹر نصب کیا گیا ہے جس سے کار کو صرف ایک بار چارج کرنے پر اسے 350 کلومیٹر تک دوبارہ چارج کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

کمپنی نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ الیکٹرک سپر کار دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کرے گی جبکہ اپنی منفرد خصوصیات اور ارزاں قیمت کے باعث یہ کار مارکیٹ سے ایلون مسک کے ادارے ’ٹیلسا‘ سمیت دیگر کئی برانڈز کی اجارہ داری ختم کردے گی۔ تاہم ابھی اس الیکٹرک سپر کار کی قیمت کا اعلان  نہیں کیا گیا ہے۔

فلیگ شپ فونز جیسے فیچرز سے لیس ‘سستا’ اسمارٹ فون

کیا آپ گلیکسی نوٹ 9 یا ہیواوے پی 20 پرو جتنا طاقتور فون ان ڈیوائسز کے مقابلے میں 50 فیصد سے بھی کم قیمت میں خریدنا پسند کریں گے؟

اگر ہاں تو چینی فون کمپنی شیاﺅمی نے اپنے نئے سب برانڈ پوکو فون کا پہلا فون ایف 1 متعارف کرادیا ہے۔

درحقیقت انتہائی کم قیمت پر اس کے فیچرز کسی بھی فلیگ شپ فون سے کم نہیں۔

جی ہاں اس میں فلیگ شپ فون جیسی طاقت دی گئی ہے کیونکہ اس میں کوالکوم کا طاقتور ترین اسنیپ ڈراگون 845 پراسیسر دیا گیا ہے۔

فوٹو بشکریہ شیاؤمی
فوٹو بشکریہ شیاؤمی

پوکو فون ایف 1 میں سکس جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے جبکہ اس کا کچھ مہنگا ورژن 8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج کے ساتھ ہے۔

اس فون میں 6.18 انچ کی بیزل لیس اسکرین دی گئی ہے، جس میں آئی فون ایکس جیسا نوچ موجود ہے جبکہ فنگر پرنٹ سنسر بیک پر موجود ہے، 4000 ایم اے ایچ کی طاقتور بیٹری بھی اس کا حصہ ہے۔

چیرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی بھی اس کا حصہ ہے، جبکہ بیک پر 12 اور 5 میگا پکسل کے 2 کیمرے موجود ہیں اور سیلفی کے شوقین افراد کے لیے 20 میگا پکسل کیمرہ فرنٹ پر دیا گیا ہے۔

اسے فی الحال بھارت میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے مگر امید ہے کہ جلد پاکستان میں بھی دستیاب ہوگا۔

اس کا سکس جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج والا فون 21 ہزار بھارتی روپے (36 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں دستیاب ہوگا جبکہ سکس جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج والا ماڈل 24 ہزار بھارتی روپے (41 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) جبکہ 8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج والا ورژن 29 ہزار بھارتی روپے (50 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت کیا جائے گا۔

چالیس لاکھ فیس بک صارفین کے ذاتی ڈیٹا کا غلط استعمال

کیلی فورنیا: فیس بک نے اپنے 40 لاکھ صارفین کے ذاتی ڈیٹا کا غلط استعمال کرنے والی تھرڈ پارٹی ایپ ’مائی پرسنیلٹی‘ کو معطل کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فیس بک کے پروڈکٹ پارٹنرشپ کے نائب صدر ائمی آرچی بونگ نے تھرڈ پارٹی کے طور پر فیس بک سے منسلک ایپ ’مائی پرسنیلٹی‘ اور دوسری سیکڑوں ایپس پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح اب تک ادارہ فیس بُک 400 ایپس پر پابندی لگا چکا ہے۔

فیس بک نیوز روم میں آرچی بونگ کی ایک تازہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ہماری جانب سے مذکورہ ایپ کا آڈٹ کرانے کی درخواست پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا جس کے بعد یہ انتہائی قدم اٹھایا گیا ہے؛ کیونکہ واضح ہوچکا ہے کہ اس ایپ نے مناسب تحفظ کا اہتمام کیے بغیر ہی محققین اور دیگر کمپنیوں کو فیس بک صارفین کا ذاتی ڈیٹا فراہم کیا ہے، جس کی فیس بک نے سختی سے ممانعت کررکھی ہے۔

فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ ذاتی ڈیٹا کے غلط استعمال سے متاثر ہونے والوں کو نوٹی فکیشن کے ذریعے باقاعدہ آگاہ کیا جائے گا تاہم اس سے متاثرہ صارفین کے ’فرینڈز‘ کا ذاتی ڈیٹا اور معلومات کے غلط استعمال کا کوئی ثبوت نہیں ملا اس لیے متاثرہ صارفین کے فرینڈز کو اس معاملے پر کوئی نوٹی فکیشن نہیں دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ کیمبرج اینالیٹکا اسکینڈل سے 87 ملین صارفین کے متاثر ہونے کے بعد فیس بک نے تھرڈ پارٹی ایپس کی جانچ پڑتال سخت کردی تھی اور اس سلسلے میں اب تک معیار پر نہ اترنے والی 400 سے زائد ایپلی کیشنز کو معطل کیا جاچکا ہے۔

البتہ، بعض ٹیکنالوجی ماہرین فیس بُک کے اس فیصلے کو پراسرار بھی کہہ رہے ہیں کیونکہ ’’مائی پرسنیلٹی‘‘ ایپ، برطانیہ میں نفسیاتی تحقیق کے ایک ادارے نے تیار کروائی تھی جس کا مقصد نفسیاتی تجزیئے کی غرض سے، سوال و جواب کے ذریعے صارفین سے معلومات جمع کرنا تھا۔ یہ خالصتاً ایک تحقیقی منصوبہ تھا جس کے تحت مائی پرسنیلٹی ایپ 2007 سے 2012 تک فعال رہی۔ تب سے اب تک یہ ایپ مکمل طور پر غیر فعال ہے۔

تاہم، گزشتہ دنوں یہ بات ضرور سامنے آئی تھی کہ کسی نامعلوم تحقیق کار نے ’’مائی پرسنیلٹی‘‘ کا اچھا خاصا ڈیٹا ’’گٹ حب‘‘ (GitHub) نامی ہوسٹنگ سروس کی ویب سائٹ پر شیئر کرادیا تھا۔ یہاں عام طور پر کمپیوٹر کے ماہرین اور سافٹ ویئر انجینئر اپنے پروگرامز کا سورس کوڈ شیئر کراتے ہیں۔

Google Analytics Alternative