سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

واٹس ایپ اسٹیٹس اب دیگر ایپس میں شیئر کرنے کا فیچر متعارف

واٹس ایپ نے اپنے صارفین کو واٹس ایپ اسٹیٹس فیس بک اور دیگر اپلیکشنز میں شیئر کرنے کے فیچر پر کام شروع کردیا ہے۔

اس فیچر کی آزمائش واٹس ایپ کے بیٹا پروگرام میں بدھ (26 جون) سے شروع ہوگئی ہے جس کی مدد سے صارفین اپنا اسٹیٹس فیس بک اسٹوری کے طور پر استعمال کرسکیں گے یا کسی اور ایپ جیسے انسٹاگرام، جی میل یا گوگل فوٹوز میں سینڈ کرسکیں گے۔

خیال رہے کہ واٹس ایپ اسٹیٹس اس میسجنگ ایپ میں اسٹوری کے طور پر کام کرتا ہے جس میں تصاویر، ٹٰکسٹ اور ویڈیوز کو پروفائل میں پوسٹ کیا جاتا ہے جو 24 گھنٹے بعد غائب ہوجاتے ہیں۔

دی ورج کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ صارفین کو اپنا اسٹیٹس اسٹوری کے طور پر شیئر کرنے کے لیے اپنا اکاﺅنٹ فیس بک اکاﺅنٹ سے لنک کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، یہ کام آئی او ایس اور اینڈرائیڈ میں ڈیٹا شیئرنگ اے پی آئی کے ذریعے ہوگا۔

اسی طرح صارف اپنی ڈیوائس میں موجود متعدد ایپس میں واٹس ایپ اسٹیٹس کو شیئر کرسکیں گے مگر کوئی بھی اکاﺅنٹ لنک نہیں ہوگا۔

اسی طرح اسٹیٹس کو خودکار طور پر کسی اور پلیٹ فارم پر شیئر کرنے کا آپشن نہیں ہوگا بلکہ صارفین کو خود اسے شیئر کرنے کے لیے منتخب کرنا ہوگا۔

کمپنی کے مطابق اگر صارف فیس بک کی زیرملکیت سروس جیسے انسٹاگرام پر اپنا اسٹیٹس شیئر کریں گے تو دونوں پوسٹس فیس بک سسٹمز میں بالکل علیحدہ ایونٹس ہوں گے اور ان میں کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

خیال رہے کہ واٹس ایپ فیس بک سے ڈیٹا شیئرنگ کے تاثر کے حوالے سے کافی محتاط رویہ اختیار کرتی ہے کیونکہ یہ بیشتر ممالک میں بہت زیادہ حساس معاملہ ہے۔

2016 میں جب کمپین نے اعلان کیا تھا کہ وہ صارفین کا ڈیٹا فیس بک سے شیئر کرے گی تو فیس بک کو فرانس اور جرمنی میں ایسا کرنے سے روک دیا گیا تھا جبکہ یورپین کمیشن نے اس بنیاد پر 12 کروڑ ڈالرز سے زائد کا جرمانہ فیس بک پر عائد کیا تھا۔

یہ فیچر اس وقت سامنے آیا ہے جب فیس بک کی جانب سے تمام میسجنگ ایپس یعنی انسٹاگرام، واٹس ایپ اور میسنجر کو یکجا کیا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ 2017 میں متعارف کرائے جانے والا واٹس ایپ اسٹیٹس کو روزانہ 50 کروڑ افراد استعمال کرتے ہیں اور 2020 میں واٹس ایپ میں اشتہارات دکھانے کے لیے بھی اسٹیٹس کو ہی استعمال کیا جائے گا۔

وائی فائی یا موبائل کنکشن کے بغیر کال کرنے میں مددگار ایپ

اسمارٹ فونز تو سب سے استعمال کرتے ہیں اور میسجنگ اپلیکشنز کے ذریعے دیگر افراد سے رابطے میں رہتے ہیں، مگر کئی بار ایسا ہوتا ہے جب کسی وجہ سے وائی فائی یا موبائل کنکشن تک رسائی ناممکن ہوجاتی ہے، ایسے حالات کے لیے ایک ایپ حل بن کر سامنے آئی ہے۔

میش ٹاک نامی یہ ایپ صارفین کو کالز، تحریری پیغامات، تصاویر یا ویڈیوز وغیرہ بغیر موبائل فون کنکشن، ڈیٹا، وائی فائی یا انٹرنیٹ کے بھیجنے اور موصول کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے ۔

جی ہاں واقعی موبائل فون بنانے والی کمپنی اوپو نے اس نئی کمیونیکشن ٹیکنالوجی کو اس ایپ میں متعارف کرایا ہے جو لوگوں کو سیلولر نیٹ ورکس، وائی فائی یا بلیوٹوتھ کے بغیر لوگوں کو چیٹ یا کال کی سہولت فراہم کرے گی۔

کمپنی کے مطابق یہ ایپ چار دیواری سے باہر 3 کلومیٹر کے علاقے کو کور کرسکے گی بلکہ پرہجوم ماحول میں یہ زیادہ فاصلے تک کام کرسکے گی۔

یہ ایپ اوپو کے فونز پر کام کرے گی اور ان ڈیوائسز میں ایک ایڈہاک لوکل ایریا نیٹ ورک وسیع علاقے کے لیے تیار کرے گی جس سے لوگ بغیر کسی کنکشن یا انٹریٹ کے بھی ایک دوسرے سے بات کرسکیں گے۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ میش ٹاک سے بیٹری لائف متاثر نہیں ہوگی اور 72 گھنٹے اسٹینڈبائی موڈ پر بھی کام کرے گی تاکہ چارج نہ ہونے یا ہنگامی حالات میں بھی لوگ اس ایپ کے ذریعے مدد حاصل کرسکیں یا اپنے پیاروں سے رابطہ کرسکیں۔

ویسے تو ایسی دیگر ایپس بھی موجود ہیں جو وائی فائی یا سیلولر کنکشن کے بغیر کام کرتی ہیں مگر اوپو کی ایپ اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے تیار کی گئی ہے اور آپ ڈیوائس کو ڈبے سے نکالتے ہی دیگر سے رابطے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ایپ اس وقت مددگار ثابت ہوسکے گی جب صارفین انٹرنیٹ کی رسائی سے محروم ہو یا موبائل نیٹ ورکس کام نہ کررہے ہوں، جبکہ قدرتی آفات کے دوران بھی اس کے ذریعے لوگوں کی زندگیاں بچانے میں مدد مل سکے گی۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ ایپ اوپو کے موجودہ فونز میں کام کرے گی یا اسے کب تک متعارف کرایا جائے گا۔

امریکی کمپنیوں نے ہواوے سے کاروبار کا راستہ ڈھونڈ لیا، رپورٹ

ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے امریکی چپ میکر تاحال کروڑوں ڈالرز کی مصنوعات ہواوے کو فروخت کررہی ہیں۔

یہ دعویٰ امریکی روزنامے نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں کرتے ہوئے بتایا کہ ہواوے کو 3 ہفتے قبل امریکی پرزہ جات بھیجے گئے ہیں۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ انٹیل اور مائیکرون نے اس تصور کا فائدہ اٹھا کر ہواوے کو پرزہ جات فراہم کیے ہیں کہ امریکی کمپنیاں جو مصنوعات بیرون ملک تیار کرتی ہیں، انہیں ہمیشہ امریکی ساختہ تصور نہیں کیا جاسکتا۔

ہواوے کو امریکی انتظامیہ نے گزشتہ سال بلیک لسٹ کرتے ہوئے اس فہرست میں شامل کردیا تھا، جس میں شامل کمپنیوں سے کاروبار کے لیے امریکی کمپنیوں کو حکومتی اجازت درکار ہوتی ہے۔

ہواوے کے خلاف امریکی صدر کے ایگزیکٹو آرڈر کے اجرا کے ایک ہفتے بعد امریکی محکمہ تجارت نے ہواوے کو ایک عارضی جنرل لائسنس جاری کرتے ہوئے پابندیوں کو 3 ماہ کے لیے التوا میں ڈال دیا تھا جن کا اطلاق اب اگست کے وسط میں ہوگا، مگر مستقبل کی مصنوعات کے لیے پرزہ جات کی فراہمی تاحال جاری ہے۔

امریکی حکومتی اقدامات نے ٹیکنالوجی صنعت کو بھی الجھن میں ڈال دیا اور نیویارک ٹائمز کے مطابق مائیکرون کے سی ای او سنجے ملہوترہ نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ ہم نے گزشتہ ماہ ہواوے کے لیے سپلائی کو روک دیا تھا مگر 2 ہفتے قبل اسے اس وقت بحال کردیا جب ہم نے تعین کیا کہ قانونی طور ایسا کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تاہم ہواوے کے بارے میں غیریقینی صورتحال تاحال برقرار ہے’۔

اس بارے میں سیمی کنڈکٹر انڈسٹری ایسوسی ایشن کے صدر جان نیوفر نے بتایا ‘ہم نے امریکی حکومت سے جو بات چیت کی، اس سے معلوم ہوا کہ ہم کچھ اشیا کی سپلائی ہواوے کو پابندیوں کی فہرست میں موجودگی کے باوجود جاری رکھ سکتے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہر کمپنی پر امریکی پابندی سے مخصوص مصنوعات اور سپلائی چین پر مختلف اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ہر کمپنی کو اندازہ لگانا ہوگا کہ وہ کاروبار جاری رکھنے کے لیے قانون کی حد میں رہتے ہوئے کیا کرسکتی ہے’۔

رپورٹ کے بارے میں انٹیل نے کوئی بیان جاری کرنے سے انکار کیا۔

امریکی کمپنیاں پابندی ختم کرانے کے لیے سرگرم

اس سے پہلے ایک رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ ہواوے کو چپ سپلائی کرنے والی کمپنیاں کوالکوم اور انٹیل نے خاموشی سے امریکی حکومت کے اندر چینی کمپنی پر عائد پابندی کو نرم کرانے کے لیے کوششیں شروع کردی ہیں۔

خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ بڑی امریکی چپ بنانے والی کمپنیوں انٹیل اور Xilinx کے عہدیداران نے مئی کے آخر میں امریکی محکمہ تجارت کے ایک اجلاس میں شرکت کی تاکہ ہواوے کو بلیک لسٹ کیے جانے پر ردعمل ظاہر کرسکیں۔

کوالکوم نے بھی امریکی محکمہ تجارت پر اس پابندی کو نرم کرنے کے لیے زور دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ان امریکی کمپنیوں کا موقف تھا کہ ہواوے کی فروخت ہونے والی مصنوعات یعنی اسمارٹ فونز اور کمپیوٹر سرورز میں آسانی سے دستیاب پرزے استعمال ہوتے ہیں اور وہ چینی کمپنی کے 5 جی نیٹ ورکنگ آلات کے برعکس سیکیورٹی خطرات کا باعث نہیں۔

ان کمپنیوں کا موقف تھا کہ ہم ہواوے کی مدد نہیں کررہے بلکہ امریکی کمپنیوں کو ہونے والے نقصان کی روک تھام چاہتے ہیں۔

گزشتہ سال ہواوے نے پرزہ جات کی خریداری پر 70 ارب ڈالرز خرچ کیے تھے جن میں سے 11 ارب ڈالرز کے قریب امریکی کمپنیوں کوالکوم، انٹیل اور مائیکرو ٹیکنالوجی کے حصے میں آئے تھے۔

دنیا کا پہلا انڈر ڈسپلے کیمرا فون متعارف

اطلاعات ہیں کہ ایپل کی جانب سے رواں برس متعارف کرائے جانے والے آئی فون بہت سارے منفرد فیچرز کے ساتھ ہوں گے، جن میں بیک وقت تین ریئر کیمرے جیسے فیچرز شامل ہیں۔

علاوہ ازیں رپورٹس ہیں کہ ایپل کی جانب سے 2019 کے آئی فون میں پہلی بار فنگر پرنٹ اور کیمرے کے ایسے سینسر دیے جائیں گے جو جدید ٹیکنالوجی کے حامل ہوں گے۔

صرف ایپل ہی نہیں بلکہ جنوبی کورین کمپنی سام سنگ بھی پہلی بار منفرد موبائل فون متعارف کرانے پر کام کر رہی ہیں اور اطلاعات ہیں کہ کمپنی رواں برس کے اختتام تک پہلی بار 64 میگا پکسل کیمرے والا فون متعارف کرائے گی۔

آئی فون اور سام سنگ کے فیچرز اپنی جگہ لیکن چینی کمپنی ’اوپو‘ نے دونوں کمپنیوں کو ایک فیچر میں پیچھے چھوڑ دیا۔

اب تک موبائلز میں اسکرین کے باہر پاپ اپ کی شکل میں سیلفی کیمرا دیا جاتا ہے—فوٹو: اوپو
اب تک موبائلز میں اسکرین کے باہر پاپ اپ کی شکل میں سیلفی کیمرا دیا جاتا ہے—فوٹو: اوپو

‘اوپو‘ نے دنیا کا ایسا پہلا فون متعارف کرا دیا جس کا سیلفی کیمرا اسکرین کے اندر ہے۔

جی ہاں، اوپو کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے موبائل میں سیلفی کیمرا پاپ اپ یا پنچ ہول کی شکل میں نہیں بلکہ اسکرین کے اندر ہے۔

یوں اوپو وہ پہلی کمپنی بن گئی جو موبائل میں اسکرین کے اندر ہی کیمرے کو متعارف کرا دیا۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ اوپو کی جانب سے سلیفی کیمرے کو اسکرین کے اندر متعارف کرائے جانے کے بعد ایپل بھی آئی فون میں اسی فیچر کو متعارف کرائے گا۔

علاوہ ازیں رپورٹس ہیں کہ چینی کمپنی شیاؤمے بھی ایک ایسے موبائل پر کام کر رہی ہے جس کا سیلفی کیمرا اسکرین کے اندر ہوگا۔

اوپو نے انڈر اسکرین کیمرا موبائل کو متعارف کرانے کا اعلان گزشتہ ہفتے ہی کیا تھا اور اب اسے شنگھائی میں ہونے والے ایک ایونٹ میں متعارف کرادیا گیا۔

کیا فیس بک اور انسٹاگرام اسمارٹ فونز سے ہماری باتیں سنتے ہیں؟

دنیا بھر میں فیس بک کے 2 ارب سے زائد جبکہ پاکستان میں ہی کروڑوں صارفین موجود ہیں مگر کیا آپ یہ سوچتے ہیں کہ سماجی رابطے کی یہ ویب سائٹ اور اس کی دیگر ایپس اسمارٹ فونز مائیکرو فونز پر ہر وقت ہم لوگوں کی باتیں بھی سنتی رہتی ہیں؟

یہ وہ دعویٰ ہے جو متعدد افراد اور ماہرین کی جانب سے آتا ہے اور ان کے بقول فیس بک اور انسٹاگرام ایپ لوگوں کے اسمارٹ فونز کے مائیک استعمال کرتے ہوئے لوگوں کا ڈیٹا اکھٹا کرتی ہے، جسے اشتہارات دکھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

تاہم فیس بک کی زیرملکیت فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے۔

ایک انٹرویو کے دوران جب میزبان نے ان سے کہا کہ جب بھی وہ کسی سے کچھ خریدنے کے بارے میں دلچسپی کا اظہار کرتی ہیں تو اسی چیز کا اشتہار ان کی انسٹاگرام فیڈ پر نمودار ہوجاتا ہے، تو کیا کمپنی ان کی باتیں سنتی رہتی ہے؟

اس کے جواب میں ایڈم موسیری نے کہا کہ انسٹاگرام اور فیس بک لوگوں کے کی باتیں نہیں سنتے۔

ان کا کہنا تھا ‘ہم آپ کے میسجز نہیں دیکھتے، ہم آپ کے مائیکرو فون کی مدد سے باتیں نہیں سنتے، اگر ایسا کرنے لگے تو یہ مختلف وجوہات کی بنا پر بہت زیادہ مسائل کا باعث ہوگا’۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس کی ممکنہ طور پر 2 وجوہات ہوسکتی ہیں ‘ایک تو قسمت جس سے انکار ممکن نہیں اور دوسری فیس بک یا انسٹاگرام پر کچھ لائیک کرنا’۔

اس پر میزبان نے کہا ‘میں آپ پر یقین نہیں کرسکتی، میں نہیں جانتی کہ ایسا بار بار کیوں ہوتا ہے، کیا ایسا آپ کے ساتھ بھی ہوتا ہے؟’

جب ایڈم موسیری اس پر کوئی اچھی مثال دینے سے قاصر رہے تو میزبان نے مسکراتے ہوئے کہا ‘میں قسم کھاتی ہوں کہ آپ لوگ میری باتیں سنتے ہیں’۔

فیس بک کے حوالے سے یہ خیال کافی عرصے سے سامنے آرہا ہے کہ کہ وہ لوگوں کا آڈیو ڈیٹا اکھٹا کرتا ہے، جس کی فیس بک کی جانب سے کئی بار تردید بھی کی گئی، مگر پھر بھی لوگ یقین نہیں کرتے۔

فیس بک کے مطابق اگر آپ کے نیوزفیڈ پر باتوں سے متعلق اشتہارات سامنے آتے ہیں تو یہ اتفاق یا آپ کا تخیل ہوسکتا ہے کیونکہ روزانہ ہزاروں نہیں تو سیکڑوں اشتہارات فیس بک ایپ پر نظر آہی جاتے ہیں۔

اشتہاری کمپنیاں لوگوں کو مختلف چیزوں سے اپنا ہدف بناتی ہیں جیسے براؤزنگ ہسٹری، فیس بک انٹرسٹس اور دیگر، یہاں تک کہ کمپنی کا الگورتھم ہی اتنا ڈیٹا پوائنٹس بنالیتا ہے جو اشتہارات دکھانے کے لیے کافی ثابت ہوتے ہیں۔

مائیکرو فون تک رسائی کیسے ختم کریں؟

ویسے اگر فیس بک کی تردید پر یقین نہ ہو تو آپ مائیکرو فون تک ایپ کی رسائی ختم کرسکتے ہیں۔

اینڈرائیڈ فونز میں سیٹنگز میں جاکر پرسنل آپشن پر جائیں اور پھر پرائیویسی اینڈ سیفٹی پر کلک کرکے ایپ پرمیشن پر جائیں، وہاں مائیکرو فون سے فیس بک کو ان سلیکٹ کردیں۔

آئی او ایس ڈیوائسز میں سیٹنگز، پھر پرائیویسی اور پھر مائیکرو فون میں جاکر فیس بک کو ان سلیکٹ کردیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ بھی خود کیمروں اور مائیکرو فونز کے حوالے سے کافی احتیاط کرتے ہیں۔

فوٹو بشکریہ فیس بک
فوٹو بشکریہ فیس بک

2016 کی اس تصویر میں مارک زکربرگ نے واضح طور پر اپنی میک بک کے کیمرے پر ٹیپ لگا رکھی ہے جبکہ مزید غور کریں تو لیپ ٹاپ کے مائیکروفون پر بھی ٹیپ لگی ہوئی ہے۔

ویسے یہ بھی سوچا جاسکتا ہے کہ مارک زکربرگ درحقیقت ہیکرز کو ناکام بنانے کے لیے ایسا کرتے ہیں کیونکہ ماہر ہیکرز لیپ ٹاپ کیمرہ کو کنٹرول کرسکتے ہیں جس کو فیس بک کے بانی ٹیپ کے ایک ٹکڑے سے ناکام بنادیتے ہیں۔

واٹس ایپ بہت جلد مائیکرو سافٹ اسٹور سے ڈیلیٹ کیے جانے کا امکان

واٹس ایپ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ رواں سال کے آخر تک ونڈوز اسمارٹ فونز کے لیے سپورٹ ختم کردی جائے گی۔

اور اب یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ دنیا کی مقبول ترین میسجنگ اپلیکشن یکم جولائی کے بعد مائیکرو سافٹ اسٹور سے بھی ہٹالی جائے گی، یعنی صارفین اسے انسٹال کرکے استعمال نہیں کرسکیں گے۔

واٹس ایپ کے ایف اے کیو پیج کے مطابق تمام ونڈوز آپریٹنگ سسٹمز پر 31 دسمبر کے بعد صارفین واٹس ایپ کو استعمال نہین کرسکیں گے جبکہ ہوسکتا ہے کہ یکم جولائی کے بعد یہ مائیکرو سافٹ اسٹور پر بھی دستیاب نہ ہو۔

اس بیان میں یکم جولائی کے بعد ایپ کی عدم دستیابی کے حوالے سے شاید کا لفظ استعمال ہوا ہے مگر یہ واضح ہے کہ یہ بہت جلد مائیکرو سافٹ اسٹور سے ڈیلیٹ کردی جائے گی۔

رواں سال کے آخر تک واٹس ایپ کی جانب سے سپورٹ ختم ہونے پر ونڈوز فونز کے صارفین کے لیے اس مقبول ترین میسجنگ اپلیکشن میں بگز فکسز، اپ ڈیٹس اور نئے فیچرز کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔

اور ہاں ونڈوز فونز میں اس کے بیشتر فیچرز کسی بھی وقت اچانک کام کرنا بند بھی کردیں گے۔

ونڈوز فون مائیکرو سافٹ کا وہ آپریٹنگ سسٹم ہے جس کو خود کمپنی نے سپورٹ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس وقت دنیا بھر میں 0.28 فیصد صارفین ونڈوز موبائل استعمال کررہے ہیں جبکہ اینڈرائیڈ صارفین کی تعداد 74.85 فیصد ہے۔

مائیکرو سافٹ پہلے ہی تمام ونڈوز فونز کے لیے سپورٹ ختم کرنے کا اعلان کرچکی ہے بلکہ صارفین کو اینڈرائیڈ یا آئی او ایس پر منتقل ہونے کا مشورہ دے چکی ہے۔

ونڈوز فونز سے پہلے واٹس ایپ بلیک بیری آپریٹنگ سسٹم، بلیک بیری 10، نوکیا ایس 40، نوکیا سامبا ایس 60، اینڈرائیڈ 2.1، اینڈرائیڈ 2.2، ونڈوز فون 7، آئی فون تھری جی/آئی او ایس سکس کے لیے سپورٹ ختم کرچکی ہے۔

واٹس ایپ نے یکم فروری 2020 اینڈرائیڈ 2.3.7 اور آئی فون آئی او ایس کے لیے بھی سپورٹ ختم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

صحافیوں کے لیے فیس بک سیفٹی ٹولز متعارف

فیس بک دنیا کی مقبول ترین سماجی رابطے کی ویب سائٹ ہے جس کے صارفین کی تعداد 2 ارب 38 کروڑ سے زائد ہے اور لگ بھگ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ہی اس سوشل میڈیا نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہیں۔

فیس بک نے زندگی کے ہر شعبے کو بدل کر رکھ دیا ہے اور اس میں میڈیا بھی شامل ہے، یہی وجہ ہے کہ لاکھوں بلکہ کروڑوں صحافی بھی فیس بک کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے استعمال کرتے ہیں، جیسا کہ لوگوں کو ملکی حالات کی اطلاعات فراہم کرنا اور لوگوں سے براہ راست رابطے وغیرہ۔

اب فیس بک نے صحافیوں کی ذاتی معلومات اور اکاﺅنٹس کے تحفظ کے لیے ٹولز متعارف کرائے ہیں تاکہ وہ خود کو آن لائن محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے رابطوں اور ذرائع کا تحفظ بھی کرسکیں۔

صحافیوں کے لیے متعارف کرائے گئے ٹولز درج ذیل ہیں۔

اپنے پاسورڈ کو محفوظ بنائیں

درحقیقت ہر صارف کا ہی پاس ورڈ منفرد ہونا چاہیے جبکہ اسے محفوظ رکھنے کے لئے کبھی کسی کے ساتھ یا کسی جگہ شیئر نہ کریں۔ پاس ورڈ میں شناخت کے لئے آسان معلومات جیسا کہ اپنا نام، فون نمبر، تاریخ پیدائش اور ای میل ایڈریس استعمال نہ کریں۔ ایک ٹپ یہ ہے کہ پاس ورڈ منیجر استعمال کریں جو آپ کے پاس ورڈز محفوظ طریقے سے رکھے گا اور آپ کے تمام اکاؤنٹس کے لئے مضبوط ترین پاس ورڈ تخلیق کرے گا۔

غیرشناخت شدہ ڈیوائسز سے الرٹ حاصل کریں

لاگ ان الرٹس فعال کریں تاکہ جب بھی اورجہاں کہیں سے بھی اگر کوئی غیر شناخت شدہ ڈیوائسز سے آپ کے اکا ¶نٹ کو لاگ ان کرنے کے کوشش کرے گا تو آپ کو نوٹیفیکیشن موصول ہوگا۔ اکاؤنٹ سیٹنگ میں سیکیورٹی اور لوگ ان سیکشن میں جاکر غیرشناخت شدہ لاگ ان کے بارے میں الرٹس کو فعال (آن) کریں۔ جب یہ الرٹس آن ہوں گے تو جب کبھی کوئی غیرشناخت شدہ ڈیوائس یا براﺅزر سے آپ کے فیس اکاؤنٹ لاگ ان ہوگا یا لاگ ان ہونے کی کوشش ہوگی تو آپ کو ای میل یا نوٹیفیکیشن کے ذریعے مطلع کردیا جائے گا۔

ٹو فیکٹر اتھنٹیفیکیشن کو آن رکھنا

ٹو فیکٹر اتھنٹیفیکیشن آپ کے اکاؤنٹ کو محفوظ رکھنے کے لئے ایک اور اضافی طریقہ ہے۔ یہ بھی آپ کو اکاﺅنٹ سیٹنگ میں سیکیورٹی اور لاگ ان سیکشن میں ملے گا۔ جب آپ ٹو فیکٹر اتھنٹیفیکیشن آن رکھیں گے، تو ہر لاگ ان کرتے وقت مخصوص سیکیورٹی کوڈ ڈالنے کے لیے اس وقت کہا جائے گا جب بھی آپ اپنے اکاؤنٹ نئے کمپیوٹر، فون یا براؤزر سے لاگ ان کی کوشش کریں گے۔

فیس بک چیک اپ ٹولز کا استعمال

اپنے پروفائل کی سیکیورٹی کا جائزہ لینے اور اپنے پروفائل سیکیورٹی سیٹنگ کا انتظام کرنے کے لیے سیکیورٹی چیک اپ کو استعمال کریں۔ اپنی ذاتی معلومات اور پوسٹ اشاعت کرنے کے لیے پرائیویسی چیک اپ کو استعمال کریں کہ آپ اپنی معلومات کس کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ بعض اوقات آپ انہیں سب کے ساتھ شیئر اور بعض اوقات مخصوص لوگوں کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں۔

پیج اور پروفائل میں اپنی موجودگی کو منیج کریں

فیس بک میں آپ جتنا چاہیں پبلک اور جتنا چاہیں پرائیویٹ ہوسکتے ہیں۔ آپ فیس بک کے اپنے سامعین یا ناظرین کے ساتھ جتنا پبلک اور پرائیویٹ ہونا چاہتے ہوں یہ آپ کے اختیار میں ہے۔ ٹائم لائن اور ٹیگنگ ٹیب کی سیٹنگ میں آپ یہ کنٹرول کر سکتے ہیں کہ آپ کے پوسٹس اور اپڈیٹس کو کون کون دیکھ سکتاہے۔ دوستوں کی جانب سے آپ کے پوسٹس پر ہونے والے ٹیگس کو منظور یا مسترد کرنے کا اختیار آپ کے ہاتھ میں ہے۔ ٹیگ کو منظور کرنے کی صورت میں، جس بندے نے ٹیگ کیا ہوا ہو وہ اور اس کے فرینڈز آپ کے پوسٹ کو دیکھ سکیں گے۔ ٹیگ ریویو سیٹنگ کے تحت ’ٹائم لائن اینڈ ٹیگنگ‘ میں یہ آپشن آپ کو مل جائے گا۔

پوسٹ کرتے وقت اپنے لوکیشن کو کنٹرول کریں

فیس بک پوسٹس پر مقام (لوکیشن) شامل کرنے کا آپشن موجود ہے۔ فیس بک آپ کی لوکیشن خود شیئر نہیں کرتا، لیکن فیس بک پر پوسٹ کرتے وقت فون لوکیشن کو پوسٹ میں شامل کرنا یا اس آپشن کو آف رکھنا ایک اچھا خیال ہے جو آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ اپنی لوکیشن سیٹنگ کو انڈرائیڈ یا آئی او ایس ڈیوائسز پر اپ ڈیٹ کر سکتے ہیں۔

اپنی کمیونیکیشن کو محفوظ رکھیں

اپنے سورس کے ساتھ پرائیویٹ کمیونیکیشن کے لیے واٹس ایپ اور فیس بک مسنجر کو استعمال کریں۔ صحافی فیس بک کو ٹی او آر(TOR) براؤزر کے ساتھ استعمال کریں، تاکہ آپ آئی پی ایڈریس مخفی رکھ سکیں اور فیس بک، ایڈورٹائزرز، مقامی موبائل فون نیٹ ورکس اور آئی ایس پیز دیکھ نہ سکیں کہ آپ کہاں سے لاگ ان ہیں۔ یہ فیس بک پر اَن لائن رہتے ہوئے آپ کی لوکیشن اور کنکشن کو محفوظ رکھتا ہے۔https://facebookcorewwwi.onion/ پر فیس بک ٹی او آر برا ¶زر کے ساتھ ایکسس کریں۔ اربوٹ پراکسی ایپ کے ذریعے انڈرائیڈ پر بھی فیس بک ٹی او آر براؤزر سپورٹ دیتا ہے، اربٹ پراکسی ایپ آپ گوگل پلے پر ڈا ¶ن لوڈ کرسکتے ہیں۔

ہراساں کرنے والوں کو بلاک کریں

جب آپ کسی کو بلاک کرتے ہیں تو وہ نہ آپ کی ٹائم لائن پر پوسٹ پڑھ سکتا ہے اور نہ ہی آپ کو ٹیگ کرسکتا ہے۔ اگر بلاک ہونے والا فیس بک فرینڈ ہے، بلاک کرنے سے وہ ان فرینڈ ہوجائے گا۔

بد کلامی اور نفرت انگیزی کو رپورٹ کریں

اسپیم، بدکلامی اور نفرت انگیز مواد پر مشتمل پوسٹس اور کمنٹس کو رپورٹ کریں۔ اس کے لئے“Report”کا آپشن استعمال کریں، یہ آپشن پوسٹ اور کمنٹس کے ساتھ موجود ہوتا ہے، فیس بک رپورٹ کا جائزہ لے گا اور اس پر مناسب کارروائی عمل میں لائے گا۔ دھمکی کی صورت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع کریں۔ ہراساں کرنے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو رپورٹ کرنے کے لیے، اسے بلاک کرنے سے پہلے اسکرین شاٹس لے لیں اور یوآر ایل کاپی کریں کیونکہ اسے بلاک کرنے کے بعد آپ اس کے پچھلے پوسٹس کمنٹس وغیرہ نہیں دیکھ پائیں گے۔

اکاؤنٹ ہیک ہونے کی صورت میں کیا کریں

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا اکاؤنٹ ہیک ہو چکا ہے یا کسی نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے، آپ سے ہر ممکن طور پر محفوظ کرنا چاہیں گے۔ دو ہرے اتھنٹیکیشن کو فغال رکھ کر آپ ان پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں۔ ایسے موقع پر اگر آپ اپنے اکاؤنٹ میں لاگ ان ہو سکتے ہو تو ہم تجویز دیں گے کہ سب سے پہلے اپنا پاس ورڈ تبدیل کریں۔ لاگ ان ہونے کے بعد سب سے پہلے کنٹیکٹ انفارمیشن کو چیک کریں، یہ جاننے کےلئے کیا کہ ہیکر نے اس میں کوئی تبدیلی تو نہیں کی ہے۔ اگر آپ آپنے اکاؤنٹ میں جا نہیں سکتے تو ہم مدد کر سکتے ہیں۔ اکاؤنٹ کو محفوظ کرنے کے لئے ہم آپ سے کہیں گے کہ اپنا پاس ورڈ تبدیل کریں اور حالیہ لاگ ان ایکٹیویٹی کا جائزہ لیں۔ یا پھر آپ اس لنک پر جائیں: facebook.com/hacked

کیا یہ اب تک کا سب سے بہترین ڈیزائن والا اسمارٹ فون ہے؟

سیلفی کا شوق آج کے نوجوانوں میں بہت زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ مختلف کمپنیاں اپنے فونز میں فرنٹ کیمروں کے مختلف ڈیزائن پیش کرتی رہتی ہیں مگر اب پہلی بار ایسا فون متعارف ہونے والا ہے جس کا فرنٹ کیمرا اسکرین کے اندر نصب ہوگا۔

جی ہاں چینی کمپنی اوپو دنیا کا پہلا ان ڈسپلے کیمرا فون متعارف کرانے والی ہے جو کہ 26 جون کو شنگھائی میں شروع ہونے والی موبائل ورلڈ کانگریس میں سامنے آئے گا۔

اب تک پوپ اپ، سلائیڈ یا پنچ ہول سیلفی کیمرے والے فون تو سامنے آچکے ہیں مگر اوپو کا نیا فون ان سب سے مختلف ہوگا کیونکہ یہ دنیا کا پہلا آل اسکرین فون بھی ثابت ہونے والا ہے۔

اب چینی کمپنی نے اس فون کا پہلا ٹیزر جاری کردیا ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا ڈیزائن کیسا ہوگا۔

اس ویڈیو میں اسمارٹ فون سیلفی کیمرے کے ارتقا کو دکھایا گیا ہے جیسے کلاسیک آئی فون جیسا ڈیزائن سے نوچ، سلائیڈر، پوپ اپ، پنچ ہول اور دیگر اور آخر میں ایسا کیمرا دکھایا گیا جو اسکرین میں گم ہوجاتا ہے۔

اوپو کی جانب سے 26 جون کو اس فون کو متعارف تو کرایا جائے گا مگر یہ صارفین کے لیے رواں برس کے آخر یا اگلے سال کی ابتدا میں دستیاب ہونے کا امکان ہے۔

اس سے قبل رواں ماہ کے شروع میں جو ٹیزر ویڈیو سامنے آئی تھی، اس کے بارے میں اوپو کے نائب صدر برائن شین نے کہا تھا کہ انڈر اسکرین کیمرا ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس مرحلے میں انڈر ڈسپلے کیمروں کے لیے عام کیمروں جیسے نتائج فراہم کرنا بہت مشکل ہے، کیونکہ اس ٹیکنالوجی میں آپٹیکل کوالٹی کم ہوجاتی ہے، تاہم کوئی بھی نئی ٹیکنالوجی اچانک ہی پرفیکٹ نہیں ہوجاتی۔

اس طرح کی ٹیکنالوجی پر صرف اوپو ہی نہیں بلکہ ایک اور چینی کمپنی شیاﺅمی بھی کام کررہی ہے جس نے بھی اس طرح کے انڈر ڈسپلے سیلفی کیمرے والے ایک فون کا ٹیزر جون کے آغاز میں جاری کیا تھا۔

مگر اس کمپنی نے اس فون کو متعارف کرانے کی تاریخ کا فی الحال کوئی اعلان نہیں کیا۔

Google Analytics Alternative