سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

ٹوئٹر ری ٹوئیٹس میں اب انیمیٹڈ تصاویر کا اضافہ ممکن

تیار ہوجائیں آپ کی ٹوئٹر فیڈ اب بہت زیادہ انیمیٹڈ ہونے والی ہے۔

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اب ٹوئٹر صارفین ری ٹوئیٹس میں انیمیٹڈ تصاویر (GIF) کو ایڈ کرسکتے ہیں۔

اس بات کا اعلان ٹوئٹر نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کیا اور کمپنی کے مطابق یہ فیچر اس وقت مددگار ثابت ہوگا جب آپ کو کچھ لکھنے کے لیے الفاظ کا انتخاب کرنے میں مشکل کا سامنا ہو۔

اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے کسی بھی ٹوئیٹ پر ری ٹوئیٹ بٹن پر کلک کریں اور وہاں ری ٹوئیٹ وڈ کمنٹ کے آپشن کا انتخاب کریں، جس کے بعد جی آئی ایف، ویڈیو یا تصویر کو ایڈ کردیں اور پھر ری ٹوئیٹ بٹن پر کلک کردیں۔

یہ فیچر اس وقت آئی او ایس، اینڈرائیڈ اور mobile.twitter.com میں دستیاب ہے جبکہ ڈیسک ٹاپ ورژن میں یہ آنے والے مہینوں میں متعارف کرایا جائے گا۔

ٹوئٹر صارفین نے اس نئے فیچر پر کافی جوش کا اظہار کیا ہے کیونکہ لوگوں کی جانب سے سوشل میڈیا سائٹ پر اس فیچر کے لیے کافی عرصے سے زور دیا جارہا تھا۔

اس سے پہلے گزشتہ ماہ ٹوئٹر نے ’لیبل‘ نامی فیچر متعارف کرایا تھا۔

اس فیچر کے تحت جب بھی کوئی ٹوئٹر صارف کسی ٹوئیٹ میں دوسرے شخص کو مینشن کرے گا اور مینشن کیا گیا شخص جب بھی اسی ٹوئیٹ کے پر ریپلائی کرے گا تو اس کے ٹوئیٹ کے اوپر ’مینشن‘ کا لفط لکھا ہوا آئے گا۔

ساتھ جب اسی ٹوئیٹ پر پہلا ٹوئیٹ کرنے والا شخص دوبارہ کوئی کمنٹ کرے گا تو اس کے ٹوئیٹ کے اوپر ’آتھر‘ کا لفظ لکھا ہوا آئے گا۔

کمپنی کی جانب سے ٹوئٹر کے ری ڈیزائن ویب ورژن کی آزمائش گزشتہ سال ستمبر سے کی جارہی تھی مگر اب اسے عام صارفین کے لیے متعارف کرانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔

اس ری ڈیزائن کے بعد ٹوئٹر میں بک مارکس، ایکسپلور ٹیب اور ایک نیا ڈیٹا سیور موڈ بھی متعارف کرایا گیا ہے ۔

اکثر صارفین کو اس ری ڈیزائن کو استعمال کرنے کا موقع بھی فراہم کیا جارہا ہے جو کہ سائٹ کے دائیں جانب اوپر موجود ہے جس پر ٹیک اے لک پر کلک کرنا ہوگا۔

جی میل میں ای میل کو شیڈول کیسے کریں؟

گوگل نے یکم اپریل 2019 کو جی میل میں ای میل شیڈول کرنے کا فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا جو اب لگ بھگ تمام صارفین کو ڈیسک ٹاپ اور موبائل پر دستیاب ہے۔

اس سے قبل تھرڈ پارٹی ایپس کی مدد سے ہی ای میل کو شیڈول کرنا ممکن تھا مگر اس نئے فیچر کی بدولت اب یہ کام بہت آسان ہوگیا ہے۔

اگر آپ نے اس فیچر کو ابھی نہیں دیکھا تو جی میل پر ای میل شیڈول کرنے کا طریقہ جان لیں۔

ڈیسک ٹاپ پر شیڈول کیسے کریں؟

سب سے پہلے تو نئی ای میل کے لیے کمپوز بٹن پر کلک کریں۔

اس کے بعد سینڈ بٹن کے ساتھ موجود ایرو پر کلک کرکے شیڈول سینڈ کے آپشن پر جائیں۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

اس کے بعد سروس کی جانب سے دیئے گئے کسی ایک وقت کا انتخاب کرلیں یا سلیکٹ ڈیٹ اینڈ ٹائم پر کلک کرکے اس وقت کا تعین کریں جب آپ اپنا پیغام بھیجنا چاہتے ہیں۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

آخر میں شیڈول سینڈ پر کلک کردیں اور بس۔

جی میل موبائل ایپ پر بھی طریقہ کار لگ بھگ یہی ہے، بس وہاں سینڈ بٹن پر کلک کرنے کی بجائے سینڈ ایرو کے برابر میں موجود تھری ڈاٹس پر کلک کرنا ہوتا ہے جہاں شیڈول ٹائم کا آپشن موجود ہے۔

اگر ای میل شیڈول کرنے کے بعد آپ نے بھیجنے کا ارادہ بدل دیا ہے تو ای میل منسوخ کرنا بھی بہت آسان ہے۔

ڈیسک ٹاپ اور موبائل پر ایک نیا شیڈولڈ فولڈر دیا گیا جو کہ بائیں جانب فولڈز کی فہرست میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔

اس فولڈر کو اوپن کرکے وہاں موجود نظر آنے والے میسج پر کلک کریں اور پھر کینسل سینڈ پر کلک کردیں جس کے بعد وہ میسج ڈرافٹ فولڈر میں چلا جائے گا۔

فیس بک میں آپ کی پرائیویٹ پوسٹس بھی محفوظ نہیں

فیس بک میں تھرڈ پارٹی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد فیس بک اور انسٹاگرام پوسٹس کو دیکھنے اور لیبل لگانے کا کام کرتے ہیں۔

اس کام کا مقصد آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی (اے آئی) کو تربیت دینا اور نئی مصنوعات کے بارے میں معلومات دینا ہے۔

مگر یہ کنٹریکٹرز صارفین کی پبلک کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ پوسٹس پر بھی نظرثانی کرتے ہیں جو کہ پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے۔

رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی شہر حیدرآباد میں 260 کنٹریکٹ ملازمین نے ایک سال کے عرصے میں 2014 کی 10 لاکھ سے زائد پوسٹس کو لیبل دیئے۔

یہ عملہ پوسٹ کا عنوان، موقع اور لکھنے والے کا مقصد دیکھتا اور فیس بک کے مطابق اس معلومات کو نئے فیچرز تشکیل کے ساتھ ساتھ صارفین کی انگیج منٹ بڑھانے کے مواقع اور اشتہاری آمدنی میں اضافے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

دنیا بھر میں فیس بک کے ایسے ہی 200 لیبلنگ پراجیکٹس کام کررہے ہیں، جن میں سے بیشتر کا کام اے آئی کو تربیت دینا ہے۔

ویسے یہ کوئی نیا کام نہیں، بیشتر کمپنیاں اس طرح کا عملہ بھرتی کرکے ایسا کام کرتی ہے۔

مگر یہ بات فیس بک صارفین کے مزاج کو بہتر نہیں بناسکتی جن کی نجی پوسٹس بھی درحقیقت اس کمپنی کے ہاتھوں محفوظ نہیں۔

حیدرآباد میں کام کرنے والے عملے کے افراد نے رائٹرزر کو بتایا کہ وہ صارفین کی ہر چیز یعنی تحریری اسٹیٹس اپ ڈیٹس سے ویڈیوز، فوٹوز اور اسٹوریز فیس بک اور انسٹاگرام پر دیکھتے ہیں، چاہے اس مواد کو پرائیویٹ ہی کیوں نہ پوسٹ کای گیا ہو۔

اب فیس بک کہتی ہے کہ مستقبل پرائیویٹ پلیٹ فارم کا ہے مگر ایک فیس بک ملازم نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ تصور نہیں کرسکتا کہ اس طرح کی مشق کو ختم کردیا جائے گا کیونکہ یہ اے آئی کی تربیت اور کمپنی کی مصنوعات کی تیاری کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

انسٹاگرام میں پہلی بار رمضان کیمرا ایفیکٹ متعارف

ماہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی دنیا کی مقبول ترین فوٹو شیئرنگ اپلیکشن انسٹاگرام نے پہلی بارہیش ٹیگ #MonthOfGood کے نام سے ایک مہم شروع کی ہے تاکہ صارفین اس مقدس مہینے میں اچھے کاموں کو اس پلیٹ فارم پر شیئر کرسکیں۔

اس مہم کے لیے انسٹاگرام نے پہلی بار رمضان کیمرا ایفیکٹ Lantern کے نام سے متعارف کرایا ہے تاکہ صارفین رمضان کے تجربے کو منفرد انداز سے اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر کرسکیں۔

انسٹاگرام کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس مقدس مہینے میں کوئی اچھا کام جیسے اپنے دوست یا رشتے داروں کی پوسٹس پر مثبت کمنٹ کردینا، اپنے دوستوں اور گھروالوں کا سحر یا افطار کے موقع پر شکریہ ادا کرنا، کوئی اچھا کام کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کرنا تاکہ دیگر کے اندر بھی اس طرح کے کاموں کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔

اس لینٹرین کیمرا ایفیکٹ میں دھندلا پس منظر اور ہلال کی مختلف شکلیں عرب ڈیزائن کی ہیں اور روایتی طور پر رمضان سے ان کا تعلق سمجھا جاتا ہے۔

یہ ایفیکٹ ملٹی لیئر ہے اور لوگ اسکرین پر کلک کرکے ہلال کے روایتی ڈیزائن کو حرکت دے سکتے ہیں جبکہ انگلش یا عربی میں رمضان کی مبارکباد تحریر کرسکتے ہیں۔

فوٹو بشکریہ واٹس آن ڈاٹ اے ای
فوٹو بشکریہ واٹس آن ڈاٹ اے ای

انسٹاگرام کے مطابق صارفین اس نئے کیمرا ایفیکٹ کو استعمال کرکے اپنے مواد کو #MonthOfGood ہیش ٹیگ کے ساتھ شیئر کرسکتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں انسٹاگرام کے اسٹرٹیجک پارٹنر منیجر سمیر جمال نے رمضان کے لیے اس مہم کا آغاز کرتے ہوئے بتایا ‘انسٹاگرام ایک پرتنوع اور عالمی برادری ہے، جبکہ رمضان اس پلیٹ فارم میں منائے جانے والے چند بڑے ثقافتی لمحات میں سے ایک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈیٹا سے ثابت ہوتا ہے کہ رمضان وہ وقت ہوتا ہے جب لوگ انسٹاگرام پر اپنے اچھے کاموں کو شیئر کرنے کے لیے آتے ہیں، فلاحی کاموں کے لیے الفاظ کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اچھے کام کے لیے کسی بڑے کام کی ضرورت نہیں، درحقیقت چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی کسی کے دن پر بڑے اثرات مرتب کرسکتی ہیں اور اسی لیے ہم نے #MonthOfGood مہم اور رمضان کیمرا ایفیکٹ کو متعارف کرایا۔

فیس بک ڈیجیٹل کرنسی تیار کرنے میں مصروف

ڈیجیٹل کرنسی کا خیال کوئی نیا نہیں، دنیا میں اس وقت بھی بٹ کوائن، ایلٹوکوائن، لائٹ کوائن، ایتھریم، بنانس کوائن اور ای او ایس سمیت دیگر ناموں سے ڈیجیٹل کرنسیاں موجود ہیں۔

یہ کرنسیاں نوٹوں کی طرح حقیقی شکل نہیں رکھتیں بلکہ انہیں انٹرنیٹ، کمپیوٹر و موبائل آلات کے ذریعے خریدا اور فروخت کیا جا سکتا ہے۔

انہیں ورچوئل اور سائبر کرنسیاں بھی کہا جاتا ہے اور یہ عام کرنسی کے مقابلے انتہائی مہنگی ہوتی ہیں۔

ڈیجیٹیل کرنسی کے ایک کوائن یعنی ایک عدد سکے کی قیمت عام طور پر ایک لاکھ روپے سے زائد ہوتی ہے اور ان سکوں کی زیادہ سے زیادہ قیمت 25 لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔

دنیا کے چند ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ایسی کرنسیوں کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں، تاہم پاکستان سمیت کئی ممالک میں ان کرنسیوں کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔

تاہم پھر بھی کئی کمپنیاں ایسی ڈیجیٹل کرنسیوں کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور اب اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک بھی ڈیجیٹل کرنسی کی تیاری میں مصروف ہے۔

بٹ کوائن کو سب سے مہنگی ڈیجیٹل کرنسی سمجھا جاتا ہے—فوٹو: دی ٹربیون
بٹ کوائن کو سب سے مہنگی ڈیجیٹل کرنسی سمجھا جاتا ہے—فوٹو: دی ٹربیون

جی یاں، یو ایس اے ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فیس بک اس وقت بٹ کوائن کی طرز پر ڈیجیٹل کرنسی تیار کرنے میں مصروف ہے۔

رپورٹ کے مطابق فیس بک نے ڈیجیٹل کرنسی تیار کرنے والی چند کمپنیوں کی خدمات حاصل کی ہیں اور ان کے ساتھ وہ ابتدائی تجربات پر کام کر رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ فیس بک کب تک ڈیجیٹل کرنسی کو متعارف کرائے گا، تاہم بتایا گیا کہ ادارہ درجنوں ڈیجیٹل کرنسی تیار کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ 2 سال تک فیس بک ڈیجیٹل کرنسی کو متعارف کرائے گا۔

فیس بک کے اس وقت دنیا بھر میں ڈھائی ارب سے زائد صارفین ہیں اور وہ دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی تیار کرنے کے بعد فیس بک ویب سائٹ پر پیسوں کی منتقلی سے متعلق کوئی فیچر متعارف کرائے گا، جس سے دنیا بھر کے کروڑوں انسان فائدہ حاصل کر سکیں گے۔

زرافہ کو معدومی کا شکار جانور قرار دینے پر غور

واشنگٹن: امریکی ادارے وائلڈ لائف سمیت عالمی ادارے زرافہ کو معدومی کے شکار جانوروں کی فہرست میں شامل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں زرافہ کی بڑھتی نسل کشی کے پیش نظراسے  معدوم ہوتی نسل کی فہرست میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ جلد زرافہ کو اس فہرست میں شامل کرلیا جائے۔

افریقا میں پائے جانے والے لمبی گردن کے حامل معصوم اور بے ضرر جانور زرافہ کے کھال اور گوشت کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لیے بیدردی سے شکار کیا جا رہا ہے جس کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات میں بھی کافی جھول ہیں۔

امریکا فوری طور اپنے ملک میں زرافہ کی درآمد پر پابندی عائد کرنے بھی غور کر رہا ہے، امریکی ادارے فش اینڈ وائلڈ لائف سروس کا زرافہ کو معدوم جانور کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ اب آخری مرحلے میں ہے۔

چند برسوں سے زرافہ کی تعداد میں تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے اور 1980 سے اب تک 40 فیصد کمی واقع ہوئی، فطرت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے آئی یو سی این پہلے ہی زرافہ کو معدومی کے شکار جانوروں کی فہرست میں شامل کرچکا ہے۔

واضح رہے کہ زرافہ زمین پر رہنے والے جانوروں میں سے سب سے لمبے جانور ہیں۔ نر زرافہ کی لمبائی پانچ میٹر جب کہ مادہ اس سے تھوڑی چھوٹی ہوتی ہیں۔ زرافے کا وزن ایک ہزار اور ان کی مدت حیات 20 سے 30 سال تک ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں اب یہ جانور محض 90 ہزار کے لگ بھگ رہ گئے ہیں۔

بوڑھی مکھیاں جیلی میں دوا شامل کرکے جوان مکھیوں کو بیماری سے بچاتی ہیں

کیمبرج: شہد کی مکھیوں کے بارے میں ایک اہم انکشاف ہوا ہے کہ وہاں موجود بوڑھی مکھیاں جسمانی دفاعی نظام مضبوط کرنے والے مالیکیول جیلی میں منتقل کرتی ہیں تاکہ جوان مکھیاں بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔

واضح رہے کہ مکھیوں کے چھتوں میں موجود لاروے کو جیلی پر پالا جاتا ہے جسے مکھیاں تیار کرتی ہیں اور بوڑھی مکھیاں اس میں بیماری سے بچانے والے مالیکیول گھولتی ہیں۔

کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر ایال ماوری نے انکشاف کیا ہے کہ ماں مکھیاں اپنے لاروے کو کھلانے کے لیے ایک طرح کی چپکنے والا مادہ بناتی ہیں جسے ’رائل جیلی‘ کہتے ہیں اور اس میں وہ خاص پروٹین اور آراین اے شامل کرتی ہیں جس سے جوان مکھیوں کا جسمانی دفاعی نظام مضبوط ہوتا ہے اور وہ بیماریوں سے بچی رہتی ہیں۔

ڈاکٹر ایال کے مطابق اب تک کسی بھی جاندار میں اس طرح سے آر این اے کا تبادلہ نہیں دیکھا گیا تھا۔ ماہرین نے رائل جیلی میں ایسے آر این اے دریافت کئے ہیں جو دس اقسام کے وائرس کو روکتے ہیں اور جیسے ہی چھتے میں کوئی انفیکشن پھیلتا ہے مکھیاں آر این اے بنانے لگتی ہیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آر این اے مکھیوں کی ایک نسل سے دوسری میں منتقل ہوتا ہے لیکن امراض سے بچانے کے علاوہ بھی یہ دیگر کئی اور کاموں کو ممکن بناتا ہے۔ بعض افراد کہتے ہیں کہ جیلی میں شامل خاص آراین اے کھاکر ایک عام مکھی ملکہ مکھی بنتی ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوسکتی ہے ۔ لیکن یہ طے ہیں کہ اس طرح مکھیوں کی نئی نسل آنے والے نئے ماحولیاتی اور طبی مشکلات کے لیے تیار ہوجاتی ہیں۔

ایک تصویر میں 265,000 کہکشائیں، ہبل کا کارنامہ

واشنگٹن: ہبل خلائی دوربین کی لاتعداد تصاویر کو جوڑ کر ایک حیرت انگیز تصویر بنائی گئی ہے جس میں ایک ہی جگہ 265,000 مختلف کہکشائیں دیکھی جاسکتی ہیں۔

اس تصویر کو ہبل پر کام کرنے والی ایک مخصوص ٹیم نے بنایا ہے جسے ہبل لیگسی فیلڈ کا نام دیا گیا ہے۔ تصویر کا مدھم ترین نقطہ بھی ایک بہت بڑی کہکشاں کو ظاہر کرتا ہے۔

تصویر بنانے میں ماہرین نے کئی سال لگائے ہیں اور کئی ہزار تصاویروں کو جوڑ کر ایک موزائیک بنایا ہے جس میں ہزاروں فلکیاتی اجسام کو سمویا گیا ہے۔ ان میں سے بعض کہکشائیں زمین سے اربوں نوری سال کے فاصلے پر واقع ہیں جو کائنات کے ابتدا میں پیدا ہوئی تھیں۔

لگ بھگ 7500 مختلف تصاویر سے بنائے جانے والے اس پوسٹر میں کہکشاؤں کو مختلف طولِ موج مثلاً حقیقی روشنی، الٹراوائلٹ اور ایکس رے وغیرہ میں دیکھا جاسکتا ہے جبکہ 16 برس کا ڈیٹا استعمال کیا گیا ہے اور ان تصاویر کی پروسیسنگ کے لیے کئی سافٹ ویئر اور 31 ہبل پروگراموں سے مدد لی گئی ہے۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ گارتھ الینگورتھ کہتے ہیں کہ ایک ہی تصویر میں کائنات کے پھیلاؤ اور کہکشاؤں کے ارتقا کو دیکھاجاسکتا ہے۔ ان میں بچہ کہکشاں سے لے کر جوان اور مکمل ترین کہکشائیں بھی شامل ہیں جو اپنے اپنے تشکیلی مراحل سے گزررہی ہیں۔

تصویر سازی کے لیے باقاعدہ کام 2004 میں شروع کیا گیا تھا۔ تاہم ہبل کے بعد دیگر خلائی دوربینوں سے بھی کائناتی تصاویر کا موزائک بنایا جائے گا۔

Google Analytics Alternative