سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

کیا اسمارٹ فونز ایپس آپ کی خفیہ فوٹیج بنانے میں مصروف؟

ہوسکتا ہے کہ آپ کے اسمارٹ فون آپ کی باتیں نہ سنتے ہوں مگر وہ خفیہ طور پر سب کچھ دیکھ سکتے ہیں جو آپ کررہے ہوتے ہیں۔

جی ہاں امریکی محققین نے دریافت کیا کہ اسمارٹ فون اپلیکشنز صارف کی مرضی کے بغیر ان کی ویڈیو فوٹیج ریکارڈ اور اسکرین شاٹ لے کر انہیں تھرڈ پارٹیز کو بھیج سکتی ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کئی بار تو یہ ایپس خفیہ طور پر صارفین کی ذاتی معلومات کی فوٹیج بھی بنالیتی ہیں۔

امریکا کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے سائنسدان اس افواہ کی تفتیش کررہے تھے کہ اسمارٹ فونز ایپس مائیکرو فونز کو ہائی جیک کرکے صارفین کی باتیں خفیہ طور پر ریکارڈ کرتی ہیں تاکہ آن لائن زیادہ بہتر اشتہارات دکھائے جاسکیں۔

تاہم انہوں نے دریافت کیا کہ اس افواہ میں صداقت نہیں مگر اس سے زیادہ خوفناک حقیقت یہ سامنے آئی کہ یہ ایپس ویڈیو فوٹیج ضرور ریکارڈ کرکے آگے بھیج سکتی ہیں۔

اس تحقیق کے دوران محققین نے 17 ہزار سے زائد مقبول ترین اینڈرائیڈ ایپس کا تجزیہ کیا جن میں فیس بک کی بھی متعدد اپلیکشنز شامل تھیں۔

انہوں نے معلوم کیا کہ 50 فیصد سے زیادہ ایپس کو صارفین کے کیمرہ اور مائیکرو فون تک رسائی کی اجازت ہوتی ہے جس سے ان میں سے کسی ایپ اوپن ہونے پر ان کی سرگرمیاں ریکارڈ کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ایسے شواہد نہیں ملے کہ اسمارٹ فون اپلیکشنز مائیکرو فون کے ذریعے صارفین کی خفیہ آڈیو ریکارڈنگ کرتی ہیں، مگر کچھ اپلیکشنز مسلسل فوٹیج اور اسکرین شاٹ ریکارڈ کرکے ضرور آگے بھیجتی ہیں۔

زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ ان ایپس کے ٹرمز میں اس بات سے صارفین کو آگاہ نہیں کیا جاتا کہ ان کی معلومات کو فوٹیج کے ذریعے اکھٹا کیا جاسکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج اگلے ماہ بارسلونا میں شیڈول ایک کانفرنس کے دوران پیش کیے جائیں گے۔

’بلین ٹری سونامی‘ منصوبہ نہایت کامیاب رہا، سپارکو نے تصدیق کردی

پشاور: پاکستان کے قومی خلائی تحقیقی ادارے سپارکو (SUPARCO) نے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے ’بلین ٹری سونامی‘ منصوبے کی افادیت کی تصدیق کردی ہے۔

خلائی تحقیق کے قومی ادارے سپارکو نے ایک تحقیقی رپورٹ جاری کی ہے جس میں پاکستان تحریک انصاف کے بلین ٹری سونامی منصوبے کی افادیت کی تصدیق کی گئی ہے۔ سپارکو پہلا وفاقی ادارہ ہے جس نے آزادانہ طور پر منصوبے کی جانچ پڑتال کی اور نئے لگائے گئے درختوں اور تباہی سے بچائے جانے والے جنگلات کا معائنہ کیا۔ سپارکو کی تحقیقات کے مطابق نئے لگائے گئے پودوں میں کامیابی سے نمو پانے کی شرح 88 فیصد ہے جب کہ بلین ٹری منصوبے کے تحت پہلے سے موجود پودوں کے تحفظ کی شرح 78 فیصد ہے۔

 سپارکو کی جانب سے جاری کی جانے والی رپورٹ پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما افتخار درانی کا کہنا ہے کہ بلین ٹری منصوبہ چیئرمین تحریک انصاف کے آئندہ نسلوں کے حوالے سے وژن کا بہترین عکاس ہے۔ صرف 13 ارب روپے میں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی شجرکاری مہم کے ذریعے سوا ارب سے زائد درخت لگائے گئے۔ منصوبے کا ابتدائی تخمینہ 22 ارب روپے لگایا گیا تھا لیکن منصوبہ لگائے گئے تخمینے سے کہیں کم لاگت میں مکمل کرلیا گیا اور 22 ارب کے بجائے محض 13 ارب میں منصوبہ مکمل کرنا خیبرپختونخوا حکومت کا شاندار کارنامہ ہے۔

رہنما تحریک انصاف نے مزید کہا بلین ٹری منصوبے نے دنیا بھر میں پاکستان کےلیے بے پناہ عزت کمائی۔ اس منصوبے کی ورلڈ اکنامک فورم، ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف)، بون چیلنج اور آئی یو سی این سمیت کئی بین الاقوامی اداروں نے تعریف و تحسین کی ہے۔

ہیواوے کا پہلا 8 جی بی ریم والا اسمارٹ فون متعارف

ہیواوے نے پہلی بار 8 جی بی ریم والا اسمارٹ فون آنر 10 جی ٹی متعارف کرا دیا ہے جو کہ آنر 10 کا اپ ڈیٹ ورژن ہے۔

آنر 10 کو رواں سال اپریل میں سب سے پہلے چین میں متعارف کرایا گیا تھا جبکہ مئی میں دنیا بھر میں فروخت کے لیے پیش کردیا گیا، تاہم اس میں صرف 4 اور 6 جی بی ریم والے ماڈلز کے آپشن تھے۔

آنر 10 جی ٹی میں 8 جی بی ریم کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر فیچرز کا اضافہ بھی کیا گیا ہے جو کہ ریگولر آنر 10 میں نہیں۔

آنر 10 جی ٹی 5.8 انچ کی لگ بھگ بیزل لیس ایل سی ڈی ڈسپلے کے ساتھ ہے جس میں آئی فون ایکس جیسا نوچ بھی موجود ہے۔

اس میں فنگرپرنٹ سنسر ہوم بٹن میں دیا گیا ہے جبکہ نوچ ڈیزائن میں 24 میگا پکسل سیلفی کیمرہ موجود ہے۔

یہ فون کمپنی کے اپنے کیرین 970 پراسیسر کے ساتھ ہے جبکہ 3400 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے۔

اس کے بیک پر 16 اور 24 میگا پکسل کا ڈوئل کیمرہ سیٹ اپ ہے، اسی طرح ہیڈفون جیک اور چارجنگ کے لیے یو ایس بی ٹائپ سی پورٹ دی گئی ہے۔

یہ فون 24 جولائی کو سب سے پہلے چین میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کی قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا۔

تاہم آنر 10 کی پاکستان میں قیمت 56 ہزار روپے ہے تو آنر 10 جی ٹی یقیناً اس سے کچھ زیادہ مہنگا ہوگا۔

صارفین کے جی میل ڈیٹا تک ایپس کی رسائی کا انکشاف

کیا آپ یقین کریں گے کہ گوگل نے مختلف سافٹ وئیر کمپنیوں کو جی میل صارفین کے نجی پیغامات پڑھنے کی اجازت دے رکھی ہے؟

ویسے تو گوگل نے خود تو جی میل صارفین کی ای میلز کو اسکین کرنا چھوڑ دیا ہے مگر کچھ تھرڈ پارٹی ڈویلپرز کو نئی ایپس بنانے کے لیے صارفین کے اکاﺅنٹس تک رسائی اور ان کے پیغامات مارکیٹنگ مقاصد کے لیے اسکین کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ صرف ڈویلپرز کے کمپیوٹرز کو ہی نہیں بلکہ ان کے ملازمین کو بھی جی میل صارفین کے پیغامات پڑھ سکتے ہیں۔

گوگل کی جانب سے طویل عرصے سے سافٹ وئیر ڈویلپرز کو صارفین کے اکاﺅنٹس تک رسائی ان کی اجازت کے تحت دی جاتی ہے۔

ایسا کرنے سے ڈویلپرز کو اپنے صارفین کے لیے نئی ایپس کی تیاری میں مدد ملتی ہے جو وہ گوگل کیلنڈر یا جی میل اکاﺅنٹس پر پیغامات ارسال کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

مگر مارکیٹنگ کمپنیاں ایسی ایپس تیار کرتی ہیں جو صارفین کے رویوں کے بارے میں جاننے میں مدد دیتی ہیں اور رپورٹ کے مطابق ان کمپنیوں نے صارفین کی ای میل کو اسکین کرنا عام معمول بنالیا تھا۔

یہ واضح نہیں کہ گوگل اس حوالے سے کتنی مانیٹرنگ کرتا ہے اور بیشتر صارفین کو تو اس کا احساس ہی نہیں کہ وہ ان ایپس کو اپنے اکاﺅنٹس تک رسائی دے رہے ہیں۔

اگر ان کو یہ معلوم بھی ہے تو بھی فیس بک کے کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل ان کے لیے فکرمندی کا باعث ہونا چاہیے جس میں صارفین کے ڈیٹا تک اسی طرح رسائی دی گئی تھی۔

اب یہ جانیں یہ ایپس کس طرح آپ کے گوگل اکاﺅنٹس تک رسائی حاصل کرتی ہیں اور ان کی رسائی کو کس طرح بلاک کیا جاسکتا ہے۔

گوگل اکاﺅنٹ ہوم پیج پر جائیں اور وہاں سائن ان اینڈ سیکیورٹی سیکشن میں چلے جائیں۔

وہاں ایپس ود اکاﺅنٹس سیکشن پر کلک کریں جو بائیں جانب موجود ہوگا۔

وہاں منیج ایپس کو سلیکٹ کرکے مزید تفصیلات دیکھیں۔

گوگل کی جانب سے ایسی ایپس جن کو اکاﺅنٹ تک رسائی ہوتی ہے، انہیں 3 مختلف گروپس میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ گروپس سائننگ ان ود گوگل، تھرڈ پارٹی ایپس ود اکاﺅنٹ ایسسز اور گوگل ایپس پر مشتمل ہیں۔

گوگل ایپس تو واضح ہیں کروم اور ڈرائیو وغیرہ پر مشتمل ہیں مگر دیگر 2 گروپس مختلف ہیں۔

سائننگ ان ود گوگل سیکشن میں جو ایپس ہوتی ہیں، انہیں صارف کے نام، ای میل ایڈریس اور پروفائل پکچر تک رسائی ہوتی ہے، مگر کچھ معاملات میں انہیں زیادہ معلومات تک رسائی ملتی ہے، جیسے آپ کے ای میل پیغامات پڑھنے اور ڈیلیٹ کرنے کی صلاحیت۔

اس سیکشن کی ایپس کو ہوسکتا ہے آپ نے ڈیٹا جیسے آپ کے گوگل لاگ ان تک رسائی دی ہو جو آپ کے اکاﺅنٹس میں سائن ان ہوسکتی ہیں۔

تھرڈ پارٹی ایپس ود اکاﺅنٹ ایسسز میں بنیادی پروفائل معلومات سے زیادہ تک رسائی ایپس کو ہوتی ہے، درحقیقت گوگل سپورٹ پیج کے مطابق یہ ایپس آپ کے گوگل اکاﺅنٹ کی لگ بھگ تمام تر معلومات دیکھ سکتی ہیں اور بدل بھی سکتی ہیں۔

ان ایپس کے ڈویلپرز آپ کے اکاﺅنٹ کا پاس ورڈ تو بدل نہیں سکتے، نہ ہی ڈیلیٹ کرسکتے ہیں مگر ای میل ضرور پڑھ سکتے ہیں۔

اگر آپ کو وہاں موجود کسی تھرڈ پارٹی ایپ پر اعتماد نہیں تو اس کے آئیکون پر کلک کرکے آپ ریموو ایپ پر کلک کردیں، تو وہ ایپس کی لسٹ میں سے غائب ہوجائے گی، جس کے بعد وہ آپ کے ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں کرپائے گی۔

فیس بک اورانسٹاگرام پر ’ڈو ناٹ ڈسٹرب‘ کا نیا فیچر

کیلیفورنیا: 

فیس بک اور انسٹا گرام دونوں ہی بہت جلد ’ڈو ناٹ ڈسٹرب‘ کا آپشن پیش کررہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس کے مطابق اس آپشن کی بدولت ایپس پر 30 منٹ، ایک گھنٹے، دو گھنٹے، آٹھ گھنٹے، ایک دن اور خود اپنی مرضی سے نوٹیفیکیشن اوردیکھی جانے والی پوسٹوں کو بند کیا جاسکتا ہے۔ پھر یہ آپشن ازخود یا آپ خود ہی ختم کرسکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ دونوں فیچرزبعض اکاؤنٹس پر دیکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ نوٹفکیشن کےلیے آواز اور تھرتھراہٹ کے آپشنز بھی بند اور کھولے جاسکیں گے۔ ایک اطلاع کے مطابق فیس بک اورانسٹا گرام پر ان کی آزمائش کی جارہی ہے۔

اس آپشن کے ذریعے ایک جانب تو فیس بک اور انسٹا گرام سے وقتی طورپردوررہا جاسکتا ہے اوراس کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو فیس بک اورانسٹا گرام اکاؤنٹ ختم یا بند کرنے سے روکا جائے تاہم انسٹاگرام اورفیس بک کے ترجمانوں نے اس آپشن پر لب کشائی نہیں کی۔

اس سے قبل انسٹا گرام نے ’یو آر آل کوٹ اپ‘ نامی ایک آپشن بھی پیش کیا ہے جو آپ کو پہلے سے ہی دیکھی جانے والی پوسٹس پر اضافی اسکرولنگ سے روکتا ہے۔ انسٹا گرام کا یہ آپشن ایپ پر گزارے آپ کے وقت کا حساب بھی رکھتا ہے جسے ایک دن یا ایک ہفتے کے لیے بھی معلوم کیا جاسکتا ہے۔

اس فیچر پر انسٹا گرام کے سی ای او کیون سسٹروم نے کہا ہے کہ ’یو آر آل کوٹ اپ‘ فیچر کا مقصد لوگوں کو ایپس پر خرچ کردہ وقت سے آگاہ کرنا ہے۔ سسٹروم  نے ٹویٹر پر کہا، ’ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح تمام آن لائن کمپنیوں کو ایماندارانہ فیصلہ کرنا چاہیے کیونکہ ہم اس کا حل چاہتے ہیں۔‘

دنیا کا پہلا 9 کیمروں والا اسمارٹ فون

لگ بھگ 2 سال پہلے لائٹ نامی کمپنی نے 16 لینس پر مشتمل کیمرہ متعارف کرایا تھا اور اب وہ اپنی اس ٹیکنالوجی کو اسمارٹ فون کا حصہ بنانے والی ہے۔

جی ہاں یہ کمپنی اپنا پہلا اسمارٹ فون رواں سال کسی وقت متعارف کرائے گی اور اہم بات یہ ہے کہ اس کے بیک پر 5 سے 9 کیمرہ لینس دیئے جائیں گے جو کہ 64 میگا پکسل تصویر کھیچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

یہ اسمارٹ فون انتہائی کم روشنی میں بھی زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا جبکہ کسی بھی تصویر کے ایفیکٹس دنگ کردینے والے ہوں گے۔

اس اسمارٹ فون میں کیمرہ سیٹ اپ دیگر تمام اسمارٹ فونز سے ہٹ کر ہوگا جو کہ گول دائرے کی شکل میں ممکنہ طور پر ہوگا، جیسا آپ نیچے دیکھ بھی سکتے ہیں۔

فی الحال اس اسمارٹ فون کی مزید تفصیلات تو سامنے نہیں آئیں مگر اس کمپنی کے ایل 16 کیمرہ اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے جس کے فیچرز سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ نیا فون کس طرح کم روشنی میں کام کرے گا۔

ایل 16 روشنی کی معلومات 16 مختلف لینسز اور سنسرز کے ذریعے اکھٹا کرکے انہیں ایل الگورتھم کی شکل دے کر ایک ہائی ریزولوشن تصویر بنانے میں مدد دیتا ہے۔

ایل 16 کی ٹیکنالوجی کو ہی اس کمپنی نے پہلے اسمارٹ فون میں بھی استعمال کیے جانے کا امکان ہے جو کہ کسی بھی اناڑی شخص کو پروفیشنل فوٹوگرافر کی ٹکر کی تصاویر مہنگے ڈیجیٹل کیمرے کے بغیر لینے میں مدد دے گا۔

یہ فون ممکنہ طور پر رواں سال کے آخر تک سامنے آئے گا، جس کی قیمت کا اندازہ تو نہیں، مگر ایل 16 کیمرہ ضرور 1950 ڈالرز میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا۔

فلموں کے خطرناک اسٹنٹ اب روبوٹ انجام دیں گے

کیلیفورنیا: ڈزنی نے ایک ایسا پھرتیلا انسان نما روبوٹ تیار کیا ہے جسے فلموں میں فنکاروں کی جگہ استعمال کیا جاسکے گا۔ یہاں تک یہ روبوٹ ہوا میں انسانوں کی طرح قلابازی بھی کھاسکتا ہے۔

اس روبورٹ کا پہلا نمونہ تیار کرلیا گیا ہے جسے ’اسٹک مین‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کو اسٹنٹرونکس روبوٹ کے طور پر بیان کیا جارہا ہے۔ ڈزنی نے ایک جانب تو ان روبوٹ کو مختلف کرداروں میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے تو دوسری جانب یہ آئرن مین اور بز لائٹ ایئر کی جگہ لے سکیں گے۔ ڈزنی کے تھیم پارکس میں روبوٹ بچوں اور بڑوں کو مختلف کرتب بھی دکھائیں گے۔ ڈزنی نے اس کی ایک دلچسپ ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

ڈزنی کو اپنے تفریحی پارکس کے لیے ایسے روبوٹ کی ضرورت تھی جو نہ صرف عوام اور بچوں کو کرتب دکھاسکے بلکہ ان کے ساتھ اشیا پھینکنے اور گرفت کرنے کا سادہ کھیل بھی کھیل سکیں۔ دوسری جانب ان روبوٹس کو انٹرایکٹو اور پھرتیلا بنا کر ان سے چھلانگیں لگانے اور ہوا میں اڑنے جیسے کرتب بھی دکھائے جاسکیں گے جس کے بعد فنکاروں اور اسٹنٹ کرداروں کو اپنی جان خطرے میں ڈالنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

اس سال مئی میں ڈزنی نے اسٹک مین تیار کیا جو ہوا میں قلابازی کھاکر متوازن انداز میں زمین پر آکھڑا ہوتا ہے۔ اس کے بعد روبوٹ کو مزید انسانی روپ دینے پر کام شروع کیا گیا ہے۔ اب ڈزنی کی خواہش ہے کہ کسی کردار کی طرح اس روبوٹ کو تیار کیا جاسکے تاکہ وہ مشہور فنکاروں کی جگہ خود ان کے کرتب اور مشکل رول ادا کرسکے۔

اس کے لیے روبوٹ پر جدید الیکٹرانکس سے سینسر، ایسیلیرومیٹر، جائرواسکوپس اور لیزر رینج فائنڈرز لگائے گئے ہیں۔ یہ اپنے پیٹ اور کمر کے بل بھی گرسکتا ہے اور ہوا میں کسی ہیرو کی طرح پوز بھی دیتا ہے۔ تجزیہ نگاروں نے ڈزنی کی اس اختراع کو فلم سازی اور تفریح میں ایک انقلابی قدم قرار دیا ہے۔

سام سنگ کا ایک اور مڈرینج فون فروخت کے لیے پیش

سام سنگ نے اپنا ایک نیا اسمارٹ فون گلیکسی آن 6 متعارف کرا دیا ہے۔

انفٹنی ڈسپلے اور چیٹ اوور ویڈیو فیچر کے ساتھ یہ فون سب سے پہلے بھارت میں فروخت کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔

یہ فون 5.6 انچ کے ایس 8 یا 9 جیسے انفٹنی ایچ ڈی پلس ڈسپلے کے ساتھ ہے جس میں 15:5:9 اسکرین اسپیکٹ ریشو دیا گیا ہے۔

فون میں کمپنی کا اپنا ایکسینوس 7870 پراسیسر دیا گیا ہے جس کے ساتھ 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج ہے، جس میں مائیکرو ایس ڈی کارڈ کی مدد سے 256 جی بی تک اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

فون کے بیک پر 13 میگا پکسل جبکہ فرنٹ پر 8 میگا پکسل کیمرہ دیا گیا ہے اور دونوں میں ایف 1.9 آپرچر موجود ہے، جس کے بارے مین کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ کم روشنی میں بہترین کارکردگی دکھاتا ہے۔

3000 ایم اے ایچ بیٹری کے ساتھ اس میں ایک نیا فیچر چیٹ اوور ویڈیو بھی دیا گیا ہے جو پہلے گلیکسی جے 6 اور اے سکس سیریز میں نظر آتا تھا۔

اس فیچر کی بدولت صارف ویڈیوز کو دیکھتے ہوئے بھی دوستوں سے ویڈیو چیٹ کرسکتا ہے، جس کے لیے کمپنی نے مائی گلیکسی ویڈیو ایپ دی ہے۔

اینڈرائیڈ اوریو آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ یہ فون بھارت میں 5 جولائی سے 14 ہزار 990 بھارتی روپے (26 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں صارفین کو بلیک اور بلیو رنگوں میں دستیاب ہوگا۔

Google Analytics Alternative