سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

ہواوے پر پی-30 پرو کی مہم کیلئے ’جعلی تصاویر‘ کے استعمال کا الزام

ایسا لگتا ہے کہ چینی کمپنی ہواوے کا اپنے فونز کے اشتہارات کے حوالے سے ریکارڈ کچھ زیادہ اچھا نہیں۔

گزشتہ سال اسے اپنے اسمارٹ فونز نووا 3 کے اشتہار پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور اب رواں ماہ متعارف کرائے جانے والے نئے فلیگ شپ فون پی 30 پرو کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہورہا ہے۔

ہواوے کا یہ نیا فلیگ شپ 26 مارچ کو پیرس میں ایک ایونٹ کے دوران متعارف کرایا جائے گا مگر اس کے بارے میں کافی لیکس سامنے آچکی ہیں اور کمپنی نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ اس میں پیری اسکوپ کیمرا دیا جائے گا یعنی زومنگ فیچر بہت اچھا ہوگا۔

اس فون میں 4 کیمرے ہوں گے جن میں سے ایک پیری اسکوپ لینس ہوگا جس میں 7 ایکس زوم دیا جائے گا۔

ہواوے نے نئے زومنگ فیچر کے لیے چینی سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر متعدد تصاویر بھی شیئر کیں مگر اب انکشاف ہوا ہے کہ ان میں سے چند تصاویر پی 30 پرو کی بجائے ڈی ایس ایل آر کیمرے سے لی گئی ہے۔

پی 30 کے زوم فیچرز کی نمونہ تصاویر میں کمنی کے زیادہ شرمندہ کردینے والی چیز یہ ہے کہ یہ اس کے اپنے ڈی ایس ایل آر شاٹ نہیں بلکہ اسٹاک فوٹوز کا استعمال کیا گیا ہے۔

اسی طرح ایک بچے کی تصویر کو کمپنی نے سوشل میڈیا پر پی 30 پرو کے زومنگ فیچر کے لیے استعمال کیا، وہ 2009 میں کسی کے پورٹ فولیو کا حصہ بنی تھی جبکہ اوپر لگی آتش فشاں کی تصویر گیٹی امیجز کی اسٹاک تصویر نکلی۔

ایسا ممکن ہے کہ ہواوے نے ان تصاویر کا لائسنس اپنے فون کی مہم کے لیے حاصل کرلیا ہو، مگر یہ ضرور حیران کن ہے کہ وہ انہیں کسی اسمارٹ فون کی نمائندگی کے لیے استعمال کرے۔

ان تصاویر کی حقیقت سامنے آنے پر ہواوے نے ویبو پوسٹ میں تصاویر کے حوالے سے وضاحت کا اضافہ کیا جن میں کہا گیا کہ ان تصاویر کو محض حوالے سے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ دی ورج کو ہواوے نے ایک بیان میں کہا کہ ہم پی 30 سیریز کے ٹیزر پوسٹرز کے حوالے سے پھیلنے والی غلط فہمی سے آگاہ ہیں، ہم یہ بات دہراتے ہیں کہ یہ صرف ٹیزر پوسٹرز ہیں اور انہیں استعمال کا مقصد پی 30 سیریز کے منفرد نئے فیچرز کا عندیہ دینا ہے، ہواوے نے اصل تصاویر کے لائسنس حاصل کرنے کے بعد انہیں ردوبدل کرکے مخصوص فیچرز کے اظہار کے لیے استعمال کیا۔

اسٹیفن ہاکنگ کے اعزاز میں یادگاری سکہ جاری

لندن: تاریخ کے ممتاز سائنسداں اور ماہرِ کونیات اسٹیفن ہاکنگ کے اعزاز میں یادگاری سکہ جاری کیا گیا ہے۔ یہ سکہ حکومتِ برطانیہ کی جانب سے ان کی پہلی برسی کے موقع پر 14 مارچ کو جاری کیا گیا ہے۔

نیا چمک دار سکہ انتہائی خوبصورت ہے جسے برطانیہ کی ممتاز ڈیزائنر ایڈوینا ایلس نے ڈیزائن کیا ہے۔ سکے کی پشت پر اسٹیفن ہاکنگ کا نام درج ہے اور اس کے اوپر ہاکنگ کی مشہور مساوات درج ہے جو بلیک ہول میں اینٹروپی کو ظاہر کرتی ہے یعنی بلیک ہول کے اندر انتشار بڑھتا چلاجاتا ہے۔ سب سے نیچے بلیک ہول کو نہایت خوبصورت انداز میں بنایا گیا ہے جو بتدریک پھیل رہا ہے۔

اس سے قبل چارلس ڈارون اور سر آئزک نیوٹن کے یادگاری سکے جاری کئے گئے ہیں اور یوں اسٹیفن ہاکنگ یہ اعزاز پانے والے تیسرے بڑے سائنسداں ہیں۔ اس سے قبل اسٹیفن ہاکنگ کی بیٹی لوسی اور اس کے بھائی ٹِم نے سرکاری ٹکسال کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سکہ ڈھالنے کا عمل بھی دیکھا ۔ واضح رہے کہ اس سال کے اختتام تک اسٹیفن ہاکنگ کی یاد میں 50 پاؤنڈ کا نوٹ بھی جاری کیا جائے گا۔

اسٹیفن ہاکنگ 22 سال کی عمر میں موٹر نیورون ڈیزیز کے شکار ہوگئے تھے اور ڈاکٹروں کی اکثریت نے ان کی زندگی کو بہت مختصر قرار دیا تھا لیکن نہ صرف اسٹیفن ہاکنگ زندہ رہے بلکہ اپنے حافظے کی بدولت کئی صفحات کی مساوات بھی درست لکھواتے تھے۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں بلیک ہول اور اس سے وابستہ کئی نظریات کو پروان چڑھایا اور اس کی مساوات بیان کی۔

گزشتہ برس 14 مارچ کو اسٹیفن ہاکنگ کا انتقال 76 برس کی عمر میں ہوا تھا۔

ویوو کا ایک اور متاثر کن کانسیپٹ فون متعارف

چینی کمپنی ویوو نے گزشتہ سال ایک ایسا فون پیش کیا تھا جس میں بیزل نہ ہونے کے برابر تھے جبکہ سیلفی کیمرے کے لیے کوئی نوچ نہیں تھا اور اسے ایپکس کا نام دیا گیا تھا۔

اور اب اس کمپنی نے اس کا پہلے زیادہ بہتر ماڈل ویوو ایپکس 2019 پیش کیا ہے اور گزشتہ سال کے کانسیپٹ ڈیزائن کو مزید آگے بڑھایا ہے۔

ویسے تو ویوو نے رواں سال جنوری میں ایپکس 2019 کی جھلک متعارف کرائی تھی مگر اب حقیقی ڈیوائس کو ہانگ کانگ میں ایک ایونٹ کے دوران پیش کیا گیا۔

یہ اس کمپنی کا پہلا فائیو جی فون ہونے کے ساتھ ساتھ ایسا فون ہے جس میں کسی قسم کا بٹن نہیں دیا گیا۔

ویوو نے فزیکل بٹنز کو پریشر سنسرز سے بدل دیا ہے جبکہ یوایس بی پورٹ کی جگہ ایک مقناطیسی کنکٹر یا میگ پورٹ کو دی ہے، جسے فون چارج کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اس میں کوئی سم کارڈ سلاٹ نہیں بلکہ اس کی جگہ ای سم کا استعمال کرنا ہوگا۔

فون کے فرنٹ پر پورا ڈسپلے فنگرپرنٹ سنسر کا کام بھی کرے گا یعنی انگلی اسکرین پر کسی بھی جگہ رکھ کر ڈیوائس کو ان لاک کیا جاسکتا ہے۔

اس میں اسپیکر گرل بھی نہیں بلکہ آواز کو اسکرین کے ارتعاش سے خارج کیا جائے گا اور یہ ٹیکنالوجی گزشتہ سال کے فون مین بھی تھی اور ہاں یہ پورا فون گلاس کے ایک ٹکڑے سے تیار کیا گیا ہے۔

کمپنی نے اسے مستقبل کا فون قرار دیا ہے جس میں کئی نئی ٹیکنالوجیز کو شامل کیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا فون بنانا ممکن ہے جس میں ایک سوراخ یا بٹن بھی نہ ہو۔

فوٹو بشکریہ ویوو
فوٹو بشکریہ ویوو

مگر ایپکس 2019 کو ابھی فروخت کے لیے پیش نہیں کیا جارہا اور کمپنی نے اسے کانسیپٹ ڈیوائس قرار دیا ہے جس میں چند عام فیچرز بھی موجود نہیں جیسے سیلفی کیمرا بھی اس میں موجود نہیں۔

اس کے بیک پر 13 اور 12 میگا پکسل پر مشتمل ڈوئل کیمرا سیٹ اپ موجود ہے جبکہ بیٹری محض 2000 ایم اے ایچ پاور کی ہے۔

اس کے علاوہ کوالکوم اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر، 12 جی بی ریم، 512 جی بی اسٹوریج، 5 جی کنکٹویٹی اور چیمبر کولنگ ٹیکنالوجی اس نئے فون کے نمایاں فیچرز ہیں۔

چونکہ اس میں کوئی سوراخ نہیں تو ممکنہ طور پر یہ واٹر پروف بھی ہوسکتا ہے مگر کمپنی نے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

پاک فضائیہ کا جے ایف17سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ

پاک فضائیہ نے جے ایف 17 تھنڈر ملٹی رول لڑاکا طیارے سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ملکی ساختہ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق پاک فضائیہ نے جے ایف 17 تھنڈر سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس سے طیارے کو اب دن اور رات میں اہداف کونشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل ہوگئی ہے۔

پاک فضائیہ کے ترجمان کے مطابق یہ تجربہ ملکی دفاع میں ایک عظیم سنگ میل کی حیثیت کا حامل ہے جو قابل فخر پاکستانی سائنسدانوں اور انجینئرز کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے جنہوں نے جے ایف 17 تھنڈر کو ملکی سطح پر تیار کردہ جدید میزائل سے لیس کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق اس کامیاب تجربے سے جے ایف 17 تھنڈر کو دن اور رات میں طویل فاصلے کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل ہوگئی ہے۔

اس موقع پر پاکستانی سائنسدانوں اور انجینئرز کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان نے پاک فضائیہ کو اس کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے لیکن اگر دشمن نے ہم پر جارحیت مسلط کی تو ہم اس کا بھرپور جواب دیں گے۔

جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے درختوں سے ماحول دوست پلاسٹک کی تیاری

واشنگٹن: پوری دنیا میں پلاسٹک کی تباہ کاریوں کا شور ہورہا ہے جس کے بعد ماحول دوست اور ازخود ختم ہونے والے پلاسٹک کی تیاری کی سرتوڑ کوششیں ہورہی ہیں۔

اس ضمن میں ایک خبر امریکا سے آئی ہے جہاں یونیورسٹی آف وسکانسن کے ماہرین نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بیکٹیریا بنایا ہے جو لکڑی والے درختوں سے ماحول دوست پلاسٹک تیار کرسکتا ہے۔ ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ کھاد میں موجود بیکٹیریا این ایرومیٹی سائی وورن پودے اور درختوں کے ایک جزو ’لائگنِن‘ کو ہضم کرسکتا ہے۔ لائگنِن سبزپودوں کی خلوی دیوار میں پایا جاتاہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بیکٹیریا بہت سے مفید مرکبات (کمپاؤنڈ) بناسکتا ہے۔  مثلاً تجربات سے معلوم ہوا کہ یہ لائگنِن کو ہضم کرکے ایک طرح کا پیچیدہ کیمیکل بناتا ہے جسے ٹو پائرون فور، سکس ڈائی کاربو آکزیلک ایسڈ یا پی ڈی سی کہتے ہیں۔ اس کے لیے ماہرین کو بیکٹیریا سے تین اہم جین نکالنے پڑے اور اس کے بعد وہ مطلوبہ مرکب تیار کرنے کے قابل ہوگیا۔

اب اس مرکب کا حال بھی سن لیجئے کہ یہ اپنے خواص میں پلاسٹک پالیمر جیسا ہے اور اس سے پلاسٹک کی اشیا بنائی جاسکتی ہے۔ لیکن یہ پلاسٹک ازخود ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے اور ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر ازخود گھل کر ختم ہوجاتا ہے۔

لیکن اس عمل سے حقیقی انداز میں پلاسٹک کا حصول ابھی بہت دور کی بات ہے۔

جسم میں حقیقی طور پر چلنے پھرنے والا ’چوپایا‘ روبوٹ

نیویارک: ماہرین نے چار پیروں والا ایک روبوٹ بنایا ہے جو انسانی جسم میں باقاعدہ طور پر چلتا ہے، اس روبوٹ کو کئی طرح سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یونیورسٹی آف پینسلوانیا کے نائب پروفیسر مارک مِسکن اور دیگر ماہرین نے اس انقلابی شے پر کام کیا ہے۔ اسے کثیرمراحل کی مدد سے نینو فیبریکیشن کے تحت بنایا گیا ہے۔ تیزرفتارعمل کے ذریعے صرف چند ہفتوں میں ایسے ڈھیروں روبوٹس بنائے جاسکتے ہیں یعنی مخصوص مٹیریل کے چار انچ کے ٹکڑے سے دسیوں لاکھوں روبوٹ تیار کرنا بہت آسان ہے۔

ہر روبوٹ سلیکون کی ایک چھوٹی سی پرت پر انتہائی باریک شیشے کا ٹکڑا رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ سلیکون والے ٹکڑے میں سولر سیل اور دیگر برقی آلات کاڑھے گئے ہیں۔ روبوٹ کی ٹانگوں کی موٹائی اتنی ہے جتنی ایک سو ایٹموں کی چوڑائی ہوتی ہے۔ روبوٹ کے پیروں کو پلاٹینم ، ٹائٹانیئم اور گرافین کی مدد سے بنایا گیا ہے۔

جب روبوٹ کے شمسی سیلوں پر روشنی ڈالی جاتی ہے تو روبوٹ کے اگلے اور پچھلے پیر حرکت کرتے ہیں اور یوں روبوٹ آگے بڑھتا ہے۔ یہ روبوٹ اتنا چھوٹا اور باریک ہے کہ اسے انجکشن میں بھر کر جسم میں داخل کیا جاسکتا ہے۔ لیزر کے علاوہ اسے مقناطیسی میدان اور الٹرا ساؤنڈ امواج کے ذریعے بھی چلایا جاسکتا ہے۔ اگلے مرحلے میں روبوٹ کے اندر سینسر، سیلف کنٹرولر اور دیگر اہم فیچرز کا اضافہ کیا جائے گا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس روبوٹ کو جسم کے اندر دوا پہنچانے اور دیگر اہم امور کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

’فیس بک پولیو ویکسینیشن کے مخالفین سے لڑنے کو تیار‘

اسلام آباد: سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے پاکستان میں ویکسین مخالف ویڈیوز کی رسائی کو محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

وزیر اعظم کے ترجمان برائے پولیو بابر بن عطا نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت چاہتی تھی کہ ویکسینیشن کو مسلمانوں کے خلاف سازش بتانے والی ویڈیوز کو ڈیلیٹ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈرو ادھانوم اور بل اینڈ ملینڈا گیٹس کو اعتماد میں لے لیا ہے اور ایسی ویڈیوز کو فیس بک اور یوٹیوب سے مکمل طور پر خاتمے کے لیے ہم اقوام متحدہ کی دیگر ایجنسیوں کو شامل کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں گزشتہ ماہ خسرہ کے پھیلنے کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ویکسین مخالف ویڈیوز کی وجہ سے کئی افراد نے اپنے بچوں کو ویکسین نہیں دی تھی۔

امریکا کے محکمہ صحت نے اس کے بعد فیصلہ کیا کہ ’اینٹی ویکسر‘ کے خلاف مہم چلائی جائے گی۔

واضح رہے کہ اینٹی ویکسر وہ ہوتے ہیں جو ویکسینیشن کے مخالفین ہوں، عمومی طور پر وہ والدین جو اپنے بچوں کو ادویات پلانا نہ چاہتے ہوں۔

ترجمان برائے پولیو کا کہنا تھا کہ ’اس پیش رفت سے ہمیں ایک موقع ملا ہے کیونکہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر بڑی تعداد میں ویڈیوز پھیل رہی ہیں جس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ویکسین حرام ہیں اور انہیں مسلمانوں کے خلاف سازش کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسی ویڈیوز کو سماجی رابطے کی ویب سائٹس سے ہٹانے کے لیے ہر ممکن کوششیں کریں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ر) عامر عظیم باجوہ کے ہمراہ گزشتہ ہفتے اجلاس کے دوران میں نے اس مسئلے پر پی ٹی اے کا تعاون بھی طلب کیا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے طور پر تمام موبائیل فون کمپنیاں اپنے صارفین کو یہ پیغام بھیجیں گی کہ پولیو کے قطرے کیوں پینے ضروری ہیں اور بچوں کو اس وبا سے بچانے کا یہی واحد حل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ٹول فری نمبر پر تقریباً 50 ماہرین پولیو ویکسین کے حوالے سے سوالات کا جواب دینے کے لیے دستیاب ہوں گے جبکہ عوام ہر مہم میں باقی رہ جانے والے بچوں کی اطلاع بھی دے سکیں گے اور پولیو پروگرام والے ان کالز کے چارجز ادا کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پی ٹی اے کے چیئرمین سے ویکسین مخالف سوشل میڈیا مہمات کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔

بابر بن عطاء کا کہنا تھا کہ ’فیس بک نے پی ٹی اے کو بتایا ہے کہ وہ ویڈیوز کو ڈیلیٹ نہیں کرسکتے تاہم انہوں نے پاکستان میں ایسی ویڈیوز کی رسائی کو محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے تاہم ہم نے ان سے ویڈیوز کو ہٹانے پر زور دیا ہے کیونکہ ان ویڈیوز اور پیغامات سے نئی نسل کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے‘۔

پاکستان دنیا کے واحد 3 ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو وبا بچوں کو مفلوج بنا رہی ہے۔

واضح رہے کہ پولیو کیسز کی تعداد دو دہائیوں میں کئی ہزاروں میں تھی تاہم گزشتہ ایک دہائی میں اس کے خلاف مہمات سے کیسز کی تعداد کم ہوئی جس کے بعد 2016 میں صرف 20 کیسز سامنے آئے اور 2017 میں کیسز کی تعداد صرف 8 تھی۔

تاہم گزشتہ سال ایک درجن بچوں میں اس موزی وبا کی تشخیص ہوئی تھی اور رواں سال کے پہلے حصے میں 4 پولیو کیسز سامنے آچکے ہیں۔

ٹک ٹاک کے وہ فیچرز جن سے بیشتر افراد واقف نہیں

ٹک ٹاک دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہونے والی ایسی ایپ ہے جس کی مقبولیت درحقیقت فیس بک کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔

نوجوانوں میں اس ایپ کا استعمال بہت زیادہ بڑھ چکا ہے اور اس میں مہارت کا حصول بھی کچھ زیادہ مشکل نہیں۔

تاہم ہوسکتا ہے کہ ایسے افراد جو روز ٹک ٹاک کو استعمال کرتے ہوں مگر اس کے چند خفیہ فیچرز سے واقف نہ ہوں جو اس کا استعمال زیادہ بہتر بنادیتے ہیں۔

تو ایسے ہی فیچرز جانیں جو ٹک ٹاک کے حوالے سے متعدد افراد نہیں جانتے حالانکہ بظاہر وہ سامنے ہی ہوتے ہیں۔

اپنے اسمارٹ فون سے ویڈیو اپ لوڈ کریں

فوری طور پر کسی ویڈیو کو ریکارڈ کرنا اکثر مشکل کام ہوتا ہے، تو ایسے وقت کے لیے آپ پرانی ویڈیوز کو گیلری سے اپ لوڈ کرسکتے ہیں جس کا آپشن اپ لوڈ پر کلک کرنے پر دائیں جانب نیچے نظر آتا ہے۔

دیگر کے ساتھ ڈوئیٹ ویڈیو

ہوسکتا ہے کہ آپ اور آپ کا دوست الگ الگ شہروں یا علاقوں میں ہوں، مگر اکھٹی ویڈیو بنانا چاہتے ہیں تو الگ الگ ویڈیوز ریکارڈ کرکے انہیں اکھٹے کرنے پر گھنٹوں ضائع کرنے کی بجائے ٹک ٹاک میں موجود ڈوئیٹ فیچر کو استعمال کریں۔

سلائیڈ شو بنائیں

تصاویر سے ویڈیو بنانے کے لیے کسی علیحدہ ایپ کو ڈاﺅن لوڈ کرنے کی بجائے آپ ٹک ٹاک سے بھی ایسا کرسکتے ہیں، اپ لوڈ کے آپشن میں جاکر اپنی پسند کی تصاویر کا انتخاب کریں اور پھر دائیں جانب اوپر سلائیڈ شو کے آپشن پر کلک کردیں۔

کسی کی ویڈیو ڈاﺅن لوڈ کرنا

ٹک ٹاک میں روزانہ ہی ہزاروں لاکھوں ویڈیوز اپ لوڈ ہوتی ہیں اور ہوسکتا ہے کہ کچھ ویڈیوز آپ دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا یا فون میں ڈاﺅن لوڈ کرنا چاہیں، تو اس کے لیے اپنی پسند کی ویڈیو پر جاکر دائیں جانب موجود شیئر آئیکون پر کلک کریں، وہاں آپ کو سیو ویڈیو بٹن نظر آئے گا جس پر کلک کرنے سے ویڈیو فون میں ڈاﺅن لوڈ ہوجائے گی۔

پرائیویٹ پروفائل پر سوئچ کرنا

اگر آپ اپنی پروفائیل کو دیگر کی پہنچ سے دور رکھنا چاہتے ہیں تو پروفائل پیج میں جاکر اوپر دائیں کونے میں تھری ڈاٹ مینیو پر کلک کریں اور پرائیویسی اینڈ سیفٹی میں اپنے اکاﺅنٹ کو پرائیویٹ کرلیں۔

اپنی ویڈیو ڈیلیٹ کریں

اگر آپ کو اپنی پوسٹ کردہ ویڈیو پسند نہیں تو آپ اسے ڈیلیٹ کرکے نئی ویڈیو اپ لوڈ کرسکتے ہیں، اس کے لیے اس ویڈیو کو اوپن کریں جس کو ڈیلیٹ کرنا چاہتے ہیں اور تھری ڈاٹ مینیو میں جاکر نیچے موجود ڈیلیٹ کے آپشن کو سلیکٹ کرلیں۔

لپ سنک ویڈیو بنانا

ٹک ٹاک کا ایک اہم فیچر لپ سنک ویڈیو بنانا ہے اور یہ آسان کام نہیں ہوتا کہ کسی گانے کے ساتھ ہونٹوں کی حرکت کو بالکل درست رکھ سکیں، تاہم اس کا آسان طریقہ بھی ہے۔ سب سے پہلے تو ایک گانا منتخب کریں اور پھر دائیں جانب موجود قینچی کے آئیکون کو سلیکٹ کرکے گانے کا وہ حصہ منتخب کریں جو آپ ویڈیو کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح جب آپ ویڈیو ریکارڈ کرلیں تو پھر قینچی کے آئیکون پر کلک کرکے تعین کریں کہ گانا کہاں سے شروع ہو۔

کسی اور کی لپ سنک ویڈیو سے گانے کو استعمال کرنا

کئی بار ہمیں وہ گانا پسند آتا ہے جو کسی اور کی لپ سنک ویڈیو کا حصہ ہوتا ہے اور اسے استعمال کرکے اپنا ورژن بنانے کو دل کرتا ہے، تو گانے کو سرچ کرنے کی بجائے آپ اسے براہ راست ریکارڈ کرسکتے ہیں، اس کے لیے اس ویڈیو کے دائیں جانب نیچے موجود البم آرٹ سرکل پر کلک کرکے ریکارڈ آپشن کا انتخاب کرلیں اور بس۔

بٹن دبائے بغیر ریکارڈ کرنا

اس سے بچنے کے لیے آپ ٹائمر فیچر کو استعمال کرسکتے ہیں اور اسے ان ایبل کرنے کے چند سیکنڈ بعد آپ اپنی ویڈیو ریکارڈ کرنا شروع کرسکتے ہیں، اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے ویڈیو ریکارڈنگ میں جاکر دائیں جانب ٹائمر آئیکون پر کلک کرکے کاﺅنٹ ڈاﺅن اسٹارٹ بٹن کو دبائیں۔

Google Analytics Alternative