سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

اپنے اسمارٹ فون کی اسکرین پر سے خراشیں کیسے دور کریں؟

جیب میں چابیاں ہو یا حادثاتی طور پر گر گیا ہو، ہمارے فون اکثر خراشوں اور رگڑ کا شکار ہوتے ہیں۔

ویسے تو سب سے بہترین (اور محفوظ) طریقہ تو یہ ہے کہ ان خراشوں اور رگڑ کے شکار آئی فون، اینڈرائیڈ فون یا کوئی بھی موبائل ڈیوائس کی اسکرین بدل دی جائے۔

مگر یہ کافی مہنگا ثابت ہوسکتا ہے، مثال کے طور پر وارنٹی والے آئی فون کی اسکرین بدلنے کے لیے ایپل 29 ڈالرز چارج کرتی ہے (پاکستان میں اس کمپنی کا کوئی آﺅٹ لیٹ نہیں، تو یہاں چارجز مختلف ہوسکتے ہیں)، بغیر وارنٹی آئی فون پر یہ فیس ڈیڑھ سو ڈالرز تک پہنچ جاتی ہے۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ آپ کے ارگرد ہی کافی چیزیں ایسی موجود ہیں جن سے اینڈرائیڈ یا آئی فون کی خراشوں کو کافی حد تک ٹھیک کیا جاسکتا ہے اور جیب پر کوئی بوجھ بھی نہیں پڑتا۔

یہاں ایسے ہی ٹوٹکے جانیں جو کسی نہ کسی حد تک فون کی معمولی خراشوں کو دور کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

ٹوتھ پیسٹ

فون کی اسکرین پر معمولی خراشوں کے لیے زیادہ دور مت جائیں بلکہ باتھ روم میں جاکر ٹوتھ پیسٹ کو اٹھالیں، مگر خیال رکھیں اصل ٹوتھ پیسٹ، جیل سے بنا ٹوتھ پیسٹ نہیں۔ ٹوتھ پیسٹ کی معمولی مقدار کسی صاف اور نرم کپڑے پر لگائیں، اس کے بعد نرمی سے کپڑے کو اسکرین پر اس وقت تک رگڑیں، جب تک خراش ختم نہ ہوجائے۔ اس کے بعد اسکرین کو معمولی گیلے کپڑے سے صاف کردیں۔

بیکنگ سوڈا

بیکنگ سوڈا بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے مگر احتیاط کی ضرورت بھی ہوتی ہے، یعنی اتنا پانی نہ ہو کہ فون کے اندر ہی چلا جائے۔ ایک برتن میں ایک حصہ پانی اور دو حصے بیکنگ سوڈا مکس کریں، اسے اس وقت تک پھینٹیں جب تک گاڑھا پیسٹ نہ بن جائیں، اس پیسٹ کو صاف اور نرم کپڑے پر لگائیں اور نرمی سے فون کی خراشوں پر رگڑیں۔ اس کے بعد دوسرے صاف مگر معمولی گیلے کپڑے سے اسکرین کو صاف کردیں۔

بے بی پاﺅڈر

بے بی پاﺅڈر کو پانی میں ڈال کر ایک پیسٹ بنائیں اور بیکنگ سوڈا کی طرح ہی صاف اور نرم کپڑے پر لگا کر خراشوں پر رگڑیں، بس خیال رکھیں کہ پانی بہت زیادہ نہ ہو۔

ویجیٹیبل آئل

چھوٹے خراشوں کے لیے ویجیٹیبل آئل کارآمد ثابت ہوسکتا ہے، ایک چھوٹی سی بوند آئل کی خراشوں پر گرانا انہیں فوراً ٹھیک کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

کار اسکرین ریموول کریم

گاڑیوں کے شیشے پر خراشیں دور کرنے والی کریمیں بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتی ہیں، بس ان کی تھوڑی سی مقدار لیں اور کپڑے سے نرمی سے صاف کریں۔

ریگ مال

ویسے کھردرے ریگ مال کو اسکرین کی خراشیں دور کرنے کے لیے استعمال کرنا کچھ زیادہ اچھا خیال نہیں، تو ہم اسے فون کی اسکرین پر استعمال کرنے کا مشورہ نہیں دیں گے، مگر اس کی مدد سے فون کے بیک پر موجود خراشوں کو ضرور دور کیا جاسکتا ہے۔ اگر ریگ مال اس مقصد کے لیے استعمال کریں تو ضروری ہے کہ وہ کم کھردرا ہو اور نرمی سے استعمال کریں، ورنہ انجام زیادہ خراشوں کی صورت میں نکلے گا۔

ایک منٹ میں کار سے ہوائی جہاز بننے والی سواری برائے فروخت

 واشنگٹن: کسی باقاعدہ کار ساز کمپنی نے دنیا کی اولین اڑن کار بنالی ہے جسے اگلے ماہ امریکہ میں فروخت کے لیےپیش کیا جائے گا۔ اسے ٹی ایف ایکس ہائبرڈ کار کا نام دیا گیا ہے جو اگلے سال امریکہ میں فروخت کے لیے پیش کی جارہی ہے۔

دو نشستوں والی یہ کار مشہور کمپنی وولو سے وابستہ فرم ٹیرافوگیا نے بنائی ہے ۔ ٹی ایف ایکس صرف ایک منٹ میں کار سے طیارہ بن جاتی ہے جس کی ذیادہ سے ذٰیادہ رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ اور یہ ایک وقت میں 640 کلومیٹر کا طویل ترین فاصلہ طے کرسکتی ہے۔

اس میں دوہرے کام والی (ہائبرڈ) الیکٹرک موٹر نصب ہے جس میں اگلے پچھلے کیمرے، ایمرجنسی پیراشوٹ نظام اور پرواز کے لیے قوت فراہم کرنے والا خاص نظام بھی موجود ہے۔  زمین پر دوڑتے ہوئے کار کے بازو فولڈ ہوجاتے ہیں اور فضا میں کھل کر اسے جہاز بناتے ہیں۔

1300 پاؤنڈ وزنی اس کار کے بارے میں دعویٰ کیاجارہا ہے کہ یہ ذیادہ سے ذیادہ 10 ہزار فٹ کی بلندی تک جاسکتی ہے۔ یہ ایئرپورٹ کے بغیر کسی بھی شاہراہ سے اڑان بھرسکتی ہے۔

کمپنی کے سی ای او نے انکشاف کیا ہے ’طیارہ گاڑی‘ بنانے میں بہت سی نئی ٹیکنالوجی استعمال ہوئی ہیں جن کی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں ۔ تاہم انہوں نے اتنا بتایا کہ کار اور طیارے کے دونوں ورژنز پر برسوں کئی اقسام کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

دنیا کا پہلا 10 جی بی ریم والا اسمارٹ فون

اگر تو آپ کو ایسا لگتا ہے کہ اسمارٹ فون مختلف کاموں کے دوران سست ہوجاتا ہے تو دنیا کے پہلے 10 جی بی ریم والی ڈیوائس آپ کو ضرور پسند آئے گی۔

جی ہاں پہلی بار دوہرے ہندسے پر مشتمل ریم والا فون جلد سامنے آنے والا ہے۔

چین ریگولیٹری باڈی کے دستاویزات سے اسمارٹ فونز کی معلومات لیک کرنے والے ٹوئٹر صارف آئس یونیورس نے یہ انکشاف کیا ہے۔

دستاویزات سے معلوم ہوا کہ چینی کمپنی اوپو کے فلیگ شپ فون فائنڈ ایکس کا نیا ورژن 10 جی بی ریم سے لیس ہوگا۔

اب تک اسمارٹ فونز میں 8 جی بی ریم ہی سب سے زیادہ دیکھنے میں آئی ہے جو کہ ون پلس سکس، سام سنگ گلیکسی نوٹ 9 اور اوپو کے اوریجنل فائنڈ ایکس میں دی گئی۔

مگر اب تک کسی بھی بڑی کمپنی نے 10 جی بی ریم والے اسمارٹ فون کو متعارف نہیں کرایا ہے۔

یہ نیا فون ممکنہ طور پر 256 جی بی اسٹوریج سے بھی لیس ہوگا جو کہ بیشتر ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز سے زیادہ ہے۔

اوپو فائنڈ ایکس دنیا کا پہلا فون تھا جس کے فرنٹ پر 93.8 فیصد حصے پر صرف اسکرین ہی دی گئی ہے، یعنی حقیقی معنوں میں بیزل لیس فون ہے۔

فون کو بیزل لیس بنانے کے لیے کمپنی نے منفرد حکمت عملی اختیار کی ہے اور اس نے فون کے اوپری حصے میں سلائیڈر دیا ہے، جس سے فرنٹ کیمرہ اوپر آتا ہے جبکہ بیک کیمرے بھی سلائیڈر اوپر کرنے پر ہی نظر آتے ہیں۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ آدھے سیکنڈ میں فرنٹ اور بیک کیمروں کو اوپن یا کلوز کیا جاسکتا ہے جبکہ سلائیڈر میں ہی متعدد سنسز دیئے گئے ہیں جو فیس ان لاک سسٹم سے بھی لیس ہے۔

یہ نیا فون کب تک متعارف کرایا جائے گا، ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔

یہ ہے دنیا کا پہلا 5 کیمروں والا اسمارٹ فون

اگر اسمارٹ فونز میں زیادہ سے زیادہ کیمرے لگانے کی جنگ کی بات کی جائے تو لگتا ہے کہ ایل جی اس معاملے میں بازی مارنے والی ہے۔

کیونکہ اس کا نیا فلیگ شپ فون ایل جی وی 40 دنیا کا پہلا فون ہوگا جس میں مجموعی طور پر 5 کیمرے دیئے جائیں گے۔

یہ افواہیں تو کافی عرصے سے سامنے آرہی تھیں کہ ایل جی کے نئے فون میں آگے اور پیچھے 5 کیمرے دیئے جائیں گے مگر اب اس بات کی تصدیق کمپنی نے خود کردی ہے کہ اس فون میں 3 کیمرے بیک پر جبکہ 2 کیمرے فرنٹ پر دیئے جائیں گے۔

ویسے تو یہ فون 3 اکتوبر کو متعارف کرایا جائے گا مگر کمپنی نے اس بارے میں کچھ تفصیلات بشمول تصاویر اور ویڈیو اپنی کورین ویب سائٹ پر جاری کی ہیں۔

حیران کن طور پر کمپنی نے کیمروں کو ہی تمام پروموز میں نمایاں کیا ہے تاہم اس کے ہارڈوئیر کے بارے میں تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے۔

مگر ان پروموز سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے مطابق یہ فون 6.4 انچ اسکرین کے ساتھ ہوگا جبکہ گزشتہ سال ایل جی وی 30 میں 6 انچ کا ڈسپلے دیا گیا تھا، تاہم اسکرین سائز بڑھنے کے باوجود ڈیوائس کا حجم گزشتہ سال جتنا ہی ہے، جس کے لیے ڈیوائس کے بیزل کو کم کیا گیا ہے۔

یہ فون کم از کم 3 رنگوں گرے، ریڈ اور بلیو میں دستیاب ہوگا، جن کی جھلک ویڈیو میں دی گئی ہے۔

اس فون میں فلیش اور لیزر سنسر بھی بیک پر فنگرپرنٹ سنسر کے ساتھ موجود ہے۔

فوٹو بشکریہ ایل جی
فوٹو بشکریہ ایل جی

کمپنی نے ویڈیو یا کسی تصویر میں اس فون کے فرنٹ ڈیزائن کو شیئر نہیں کیا مگر مختلف افواہوں اور لیک تصاویر سے عندیہ ملتا ہے کہ اس میں آئی فون ایکس جیسا نوچ ہوگا جبکہ نیچے کچھ بیزل دیا جائے گا۔

ویسے ایل جی وہ کمپنی ہے جو اکثر اپنے فلیگ شپ فونز کی معلومات خود جاری کرتی رہتی ہے تو ہوسکتا ہے کہ اگلے ہفتے تک اس فون کے بارے میں مزید تفصیلات بھی سامنے آئے۔

چند سیکنڈوں میں فولڈ ہوجانے والی خودکار اسکوٹر

برلن: جرمن کمپنی نے مشہورِ زمانہ سیگ وے جیسی ایک سواری بنائی ہے جو برقی قوت سے چلتی ہے اور اسے اسکوٹر کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اسکوٹر سیکنڈوں میں تہہ ہوجاتی ہے اور اسے سیکنڈوں میں کھول کر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

تاہم استعمال کرنے والے کو کھڑے ہوکر اسے متوازن رکھنا پڑتا ہے ۔ اس ایجاد کو ’ارمو‘ کا نام دیا گیا ہے جو کسی ہوور بورڈ کی طرح کام کرتی ہے۔ اس پر سوار شخص کو رفتار بڑھانے، آگے بڑھنے اور بریک لگانے کے لیے اپنا وزن استعمال کرنا پڑتا ہے۔

اس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ارمو سیکنڈوں میں تہہ ہوکر ہاتھوں میں سماجاتی ہے اور بیٹری ایک مرتبہ چارج ہونے پر 45 منٹ تک چل سکتی ہے۔ اس کی ذیادہ سے ذیادہ رفتار 15 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے ۔

اُرمو کے ٹائروں کے اندر سخت فوم بھرا ہوا ہے تاکہ اس کا وزن کم کیا جاسکے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ پوری مشین صرف دو سیکنڈ میں مٹ کر ہاتھوں میں سما جاتی ہے جس کا وزن ساڑھے چھ کلوگرام ہے۔ اب اس بریف کس نما سواری کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جاسکتا ہے۔

جرمنی کی کِک اسٹارٹر کمپنی نے اس پر کام شروع کردیا ہے اور اور اس کی پوری باڈی المونیم اور کاربن فائبر سے بنائی گئی ہے۔ ابتدائی طور پر اس کی قیمت تقریباً تین لاکھ پاکستانی روپوں کے برابر رکھی گئی ہے۔

دنیا کی پہلی اڑنے والی گاڑی کی فروخت اکتوبر سے شروع

پہلے زمانے کی جادوئی کہانیوں میں شہزادوں کی سواریاں اڑن قالین ہوا کرتے تھے، لیکن اب اس کی جدید قسم اڑن گاڑیوں کی شکل میں بھی سامنے آنے والی ہے۔

ٹیرافیوگا نامی کمپنی کافی عرصے سے فلائنگ کار کی تیاری پر کام کررہی ہے اور اب اس نے اعلان کیا ہے کہ یہ اڑنے والی گاڑیاں اگلے ماہ سے پری آرڈر میں فروخت کے لیے پیش کی جارہی ہیں اور صارفین کو ڈیلیوری 2019 کے شروع میں کی جائے گی۔

صارفین کو انہیں چلانے کے لیے ڈرائیونگ کے ساتھ ساتھ پائلٹ لائسنس کی ضرورت ہوگی۔

2 نشستوں والی یہ ہائیبرڈ الیکٹرک گاڑی زمین پر دوڑنے کے ساتھ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں اڑنے کے لیے تیار ہوسکے گی۔

ٹرانزیشن نامی یہ گاڑی 10 ہزار فٹ کی بلندی تک جاکر سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 400 میل تک پرواز کرسکے گی۔

فوٹو بشکریہ ٹیرافیوگا
فوٹو بشکریہ ٹیرافیوگا

اس گاڑی کے پر زمین پر چلنے کے دوران سمٹے رہیں گے جبکہ اڑان بھرنے سے پہلے کھل جائیں گے۔

فی الحال اس گاڑی کی قیمت کا اعلان تو نہیں کیا گیا مگر اگلے ماہ سے اس کی ابتدائی فروخت شروع ہورہی ہے جب قیمت بھی سامنے آجائے گی۔

اس گاڑی کی تیاری پر تو کافی عرصے سے کام کیا جارہا ہے مگر توقع ہے کہ حتمی ماڈل زیادہ بہتر فیچرز کے ساتھ متعارف کرایا جائے گا، جیسے رئیر ویو کیمرے اور نیا پیراشوٹ سسٹم وغیرہ۔

کمپنی کے مطابق باہری ڈیزائن بھی لوگوں کے لیے پرکشش بنایا جائے گا جبکہ سامان رکھنے کی جگہ بڑھانے کے ساتھ مسافروں کے تحفظ کے لیے بھی زیادہ اقدامات کیے جائیں گے۔

فوٹو بشکریہ ٹیرافیوگا
فوٹو بشکریہ ٹیرافیوگا

اسی طرح کمپنی کی جانب سے ایک بوسٹ موڈ کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے جو کہ دوران پرواز اس گاڑی کو کچھ وقت کے لیے اضافی طاقت فراہم کرے گا۔

اس گاڑی کو 2016 میں امریکا کے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے لائٹ اسپورٹ ائیرکرافٹ کا سرٹیفکیٹ دیا تھا جبکہ نیشنل ہائی وے اینڈ ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے معیار پر بھی پوری اتری تھی۔

مہنگے ترین آئی فون ایکس ایس میکس کی اصل لاگت کیا ہے؟

آئی فون ایکس ایس (10s) میکس ایپل کا سب سے مہنگا فون ہے جس کی قیمت کا آغاز ہی 1099 ڈالرز (ایک لاکھ 35 ہزار پاکستانی روپے) سے ہوتا ہے جبکہ 256 جی بی اسٹوریج والا ورژن 12 سو 49 ڈالرز اور 512 جی بی اسٹوریج والا ماڈل تو 14 سو 49 ڈالرز سے بھی زیادہ کا ہے۔

یقیناً ایپل کو اس کی تیاری پر کافی خرچہ کرنا پڑتا ہے مگر یہ اتنا بھی مہنگا نہیں جتنا آپ سوچ سکتے ہیں۔

درحقیقت آئی فون ایکس ایس میکس کے 256 جی بی اسٹوریج والے ورژن کی تیاری پر ایپل کا کل خرچہ 443 ڈالرز (54 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) آتا ہے، جبکہ گزشتہ سال آئی فون ایکس کا 64 جی بی اسٹوریج والا ماڈل اس کمپنی کو 395.44 ڈالرز کا پڑتا تھا۔

یہ دعویٰ ایک گیجیٹ ریویو کمپنی یا سائٹ ٹیک انسائٹس نے کیا اور اس مقصد کے لیے اس نے آئی فون ایکس میکس کو کھول کر اس کے پرزہ جات کے اخراجات کی فہرست مرتب کی۔

ویسے یہ بات ذہن میں رکھیں یہ محض تخمینہ ہے اور حقیقی قیمت نہیں جو ایپل فی فون کی تیاری پر خرچ کرتی ہے، کیونکہ امریکی کمپنی نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کردیا ہے۔

ویسے اگر ایک آئی فون ایکس ایس میکس 1099 ڈالرز میں فروخت ہوتا ہے اور اس کی تیاری کا تخمینہ 443 ڈالرز ہے تو اس کو مدنظر رکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فی ڈیوائس ایپل کو کافی زیادہ منافع ہورہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شرح آئی فون ایکس میں 64 فیصد تھی۔

فوٹو بشکریہ ایپل
فوٹو بشکریہ ایپل

اس تجزیے میں دریافت کیا گیا کہ آئی فون ایکس ایس میکس میں جو سب سے مہنگا پرزہ ہے وہ اس کی او ایل ای ڈی ڈسپلے ہے، جس کی مالیت 80.50 ڈالرز ہے، جبکہ گزشتہ سال کے فون کا ڈسپلے 77.25 ڈالرز کا تھا، مگر یہ بات قابل ذکر ہے کہ آئی فون ایکس 5.8 انچ کا فون تھا جبکہ آئی فون ایکس ایس میکس 6.5 انچ ڈسپلے کے ساتھ ہے۔

ویسے بڑی اسکرین کے باوجود گزشتہ سال کے ماڈل کے مقابلے میں لاگت پر بہت کم اضافے کی وجہ ایپل کی جانب سے کچھ پروزوں کو ہٹا دینا ہے جو کہ تھری ڈی ٹچ سسٹم کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

ایپل کے سی ای او ٹم کک نے گزشتہ دنوں آئی فونز کی بہت زیادہ قیمت کا دفاع یہ کہہ کر کیا تھا کہ یہ سب سے جدید آئی فون ہیں اور یہ ہر اس ڈیوائس کا متبادل ثابت ہوں گے جن کی صارفین کو ضرورت پڑسکتی ہے۔

یعنی ڈیجیٹل کیمرہ، میوزک پلیئر اور ایسی ہی متعدد ڈیوائسز کا متبادل یہ آئی فونز ثابت ہوں گے۔

روبوٹ ملازم کے ذریعے معذوروں کو ملازمت فراہم کرنے کا منصوبہ

ٹوکیو: جاپان میں ٹیکنالوجی کے ذریعے گھر بیٹھے معذور افراد کو روزگار فراہم کرنے کا ایک تجربہ کیا جارہا ہے جس کے تحت روبوٹ بیرے (ویٹر) ہوٹل میں گاہکوں کو سامان فراہم کریں گے اور جسمانی معذوری کے شکار افراد گھر بیٹھے انہیں انٹرنیٹ کے ذریعے کنٹرول کریں گے۔

اس ضمن میں انسان نما روبوٹ جاپان کی مشہور اوری لیبارٹری نے تیار کیا ہے جس کے کمرشل روبوٹ پہلے ہی استعمال ہورہے ہیں تاہم اب اس نئے تجربے میں گھر بیٹھے معذور افراد روبوٹ کو چہرے پر پہنے جانے والے ڈسپلے یا آنکھوں کی حرکت پر کام کرنے والے سینسر کے ذریعے کئی میل دور سے ایک کیفے میں بیٹھ کر کنٹرول کرتے ہیں۔

اس عمل سے ایک جانب تو اپاہج افراد کی تنہائی ختم ہوگی تو دوسری جانب وہ کچھ کام کرکے رقم بھی کماسکیں گے۔ اس انقلابی طریقے سے شدید معذوری میں مبتلا افراد کو بھی معاشرے کا مفید فرد بنا کر ان میں احساسِ ذمے داری جگایا جاسکتا ہے۔

کمپنی ایک کیفے میں اپنا مشہور انسان نما ’اوری ہائم ڈی‘ روبوٹ استعمال کرے گی  جو 1.2 میٹر بلند ہے اور اسے ٹوکیو کے ایک کیفے میں آزمایا جائے گا۔ 20 کلو گرام وزنی روبوٹ پر کیمرے، مائیک اور اسپیکر نصب ہے جس کا ڈیٹا ٹیبلٹ یا ڈسپلے پر نشر ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح گھر بیٹھے دیکھنے والا آنکھوں کے اشارے سے اس روبوٹ کو چلا کر گاہکوں کی ضروریات پوری کرسکے گا۔

ایک روبوٹ کو اے ایل ایس کے مریض ’نوزومی موراٹا‘ نے آزمائشی طور پر چلایا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معذور افراد روبوٹ کارکن کو آسانی سے استعمال کرسکتے ہیں۔

اب اگلے مرحلے میں 26 نومبر سے 7 دسمبر 2018ء تک اسے ٹوکیو کے ایک ہوٹل میں آزمایا جائے گا جہاں کئی روبوٹ کام کریں گے اور سب کے سب معذور افراد کنٹرول کریں گے۔

اگر یہ تجربہ کامیاب ہوتا ہے تو 2020ء میں ٹوکیو اولمپکس اور پیرا اولمپکس میں ایک مستقل روبوٹ ہوٹل قائم کیا جائے گا۔ اگلے مرحلے میں روبوٹ کو اسپتالوں اور بوڑھے افراد کی دیکھ بھال کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔

Google Analytics Alternative