سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

واٹس ایپ نے گروپ ایڈمن کے لیے نیا فیچر متعارف کرادیا

کیلیفورنیا: واٹس ایپ نے گروپ ایڈمن کے اختیارات وسیع کرتے ہوئے دیگر ممبران کی سرگرمیاں محدود کرنے کا اختیار بھی ایڈمنسٹریٹر کو دے دیا۔

واٹس ایپ نے گروپ ایڈمن کومزید طاقت ور بنادیا، پیغامی رسانی کی اس مقبول ایپلی کیشن نے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے جس میں گروپ ایڈمن دیگر ممبران کے ایکشن کو محدود کرسکے گا۔

گروپ میں شامل ممبران اپنے طور پر بآسانی گروپ کا نام، آئیکون، انفارمیشن اور ڈسکرپشن تبدیل کرکے اپنی مرضی سے کوئی  بھی اپ ڈیٹ کرسکتے تھے تاہم نئے فیچر میں اب ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

واٹس ایپ نے گروپ کی پرائیویسی کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے گروپ کے حوالے سے کسی بھی تبدیلی کا اختیار ممبران سے واپس لے کرایڈمن کو دے دیا ہے اور اب ایڈمنسٹریٹر کے بغیر کوئی بھی ممبر گروپ کے پروفائل میں تبدیلی نہیں کرسکتا۔

اگر کسی ممبر کو ایڈمن محدود کردے تو مذکورہ  ممبر کے پیغامات دیگر ممبران صرف پڑھ سکتے ہیں لیکن کوئی اس پر ردعمل نہیں دے سکے گا  جب کہ اسے گروپ میں پیغام بھیجنے کے لیے ’ایڈمن میسیج بٹن‘ کا استعمال کرنا ہوگا جس میں مذکورہ پیغام ایڈمن کے پاس جائے گا اور پھر ایڈمنسٹریٹر کی منظوری کے بعد وہ پیغام گروپ میں شیئر ہوسکے گا۔

چند لمحوں کے اندر دنیا میں کہیں ‘پہنچنا’ اب ممکن

سائنسدانوں نے ایسا نیا نظام تیار کرلیا ہے جو کسی فرد کو کسی ایک مقام سے ہزاروں میل دور ‘چند لمحوں’ میں پہنچا دے گا، کم از کم ایک نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے۔

جی ہاں کینیڈا کے سائنسدانوں نے ایسی ڈیوائس تیار کی ہے جو صارفین کو اپنے مکمل قد و قامت کے ہولگرام ویڈیو چیٹ کے دوران بنانے میں مدد دے گی۔

ٹیلی ہومین 2 میں تھری ڈی پراجیکٹر مختلف مقامات پر موجود لوگوں کو ایک دوسرے سے ایسے بات کرنے میں مدد دیں گے جیسے وہ آمنے سامنے کھڑے ہو۔

کوئنز یونیورسٹی کے محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دنیا کی پہلی ڈیوائس ہے ‘جو حقیقی ہولوگرافک ویڈیو کانفرنسنگ سسٹم’ ہے۔

اسے بنانے والوں کے مطابق یہ ہولوگرام صارف کی ہو بہو نقل ہوں گے اور وہ لمحوں میں دنیا کے کسی بھی حصے میں پہنچ سکیں گے۔

محققین نے بتایا ‘ دوبدو بات چیت انسانی رابطوں میں بہت اہمیت رکھتی ہے، مگر آن لائن ٹولز میں یہ رجحان کہیں گم ہوگیا اور ناقص آن لائن رویے عام ہوگئے، جس کے وجہ سے لوگ قربت، چہرے کے تاثرات اور دیگر جذباتی رابطوں سے محروم ہوگئے’۔

انہوں نے کہا ‘ ٹیلی ہیومین 2 سے ایک دوسرے سے ہزاروں میل دور افراد کے درمیان گمشدہ عناصر کو واپس لایا جاسکے گا جو کہ اسکائپ یا کسی اور ویڈیو چیٹ سے ممکن نہیں’۔

اس ٹیکنالوجی میں پراجیکٹرز کو انسانی قامت کے سلینڈر جیسے ڈبوں کے اوپر رکھ کر استعمال کیا جاتا ہے۔

اسی طرح کئی ڈیپتھ کیمرے صارف کی جسمانی حرکات کو تھری ڈی میں مانیٹر کرتے ہیں اور ڈیٹا کو انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی ایک دوسری ڈیوائس (دوسرے صارف کے پاس) پر بھیجتے ہیں۔

اب یہ صارف ایک گھر کے مختلف کمروں میں ہو، کسی دوسرے شہر، ملک یا براعظم میں، وہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

لائٹ فیلڈ ٹیکنالوجی اس رابطے میں کنجی رکھتی ہے، اور ڈیوائس سے خارج ہونے والی روشنی صارفین کو ٹریک کرتی ہے جس سے ان کا ہولوگرام بنتا ہے۔

ڈیوائس میں لگا ڈسپلے پراجیکٹر— فوٹو بشکریہ کوئنز یونیورسٹی
ڈیوائس میں لگا ڈسپلے پراجیکٹر— فوٹو بشکریہ کوئنز یونیورسٹی

یہ ڈیوائس لائٹ فیلڈ کو متعدد شکلوں میں ڈسپلے کرتی ہے اور صارفین کو اے آر یا وی آر ہیڈ سیٹس کی ضرورت نہیں ہوتی۔

تاہم سائنسدانوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ ڈیوائس کب تک عام افراد کے لیے دستیاب ہوگی۔

فیس بک کا فیچر ’ ڈاؤن ووٹ‘ امریکا کے بعد نیوزی لینڈ میں بھی متعارف

فیس بک نے کسی پوسٹ کو ناپسند یا ڈس لائیک کرنے کا بٹن تو اب تک متعارف نہیں کرایا تاہم اب وہ ڈاﺅن ووٹنگ کے نام سے اس سے ملتے جلتے فیچر کی آزمائش ضرور کررہی ہے۔

کسی کمنٹ پر صارف بہت جلد اپ ووٹ اور ڈاﺅن ووٹ کے ذریعے اپنی پسندیدگی یا ناپسندیدگی کا اظہار کرسکیں گے۔

فیس بک کی جانب سے اس فیچر کو رواں سال کے شروع میں محدود تعداد میں صارفین پر آزمایا گیا اور اب اسے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں اسے متعارف کرادیا گیا ہے۔

تاہم یہ فیچر فی الحال فیس بک پوسٹس پر نہیں صرف کمنٹس پر کام کرتا ہے۔

اس وقت بھی صارفین فیس بک کمنٹس پر اپنے جذبات کا اظہار مختلف ایموجیز جیسے خوشی، اداسی، غصے وغیرہ سے کرتے ہیں مگر ڈاﺅن ووٹنگ کچھ مختلف ہے کیونکہ اس سے پتا چلے گا کسی کمنٹ یا پوسٹ کو کتنے لوگوں نے ناپسند کیا۔

ایسا فیچر ایک اور سوشل میڈیا سائٹ ریڈیٹ میں بھی کام کررہا ہے اور یہ اس سروس کا انتہائی اہم حصہ سمجھا جاتا ہے، جس سے صارفین پوسٹس اور کمنٹس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔

تاہم ریڈیٹ میں زیادہ توجہ خبروں اور دلچسپی کے مختلف موضوعات پر دی جاتی ہے، اس کے مقابلے میں فیس بک دوستوں یا گھر والوں کو آپس میں جوڑنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے (کم از کم مارک زکربرگ کا 2018 کا عزم تو یہی ہے)۔

تو اس سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کسی پوسٹ کو ڈس لائیک یا ڈاﺅن ووٹ کرنے کا اثر مختلف ہوگا۔

فیس بک کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس فیچر کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں آزما کر دیکھا جارہا ہے کہ یہ لوگوں کے لیے کتنا مفید ثابت ہوتا ہے۔

ترجمان کے مطابق اس فیچر کے ذریعے لوگوں کو بامقصد کمنٹس کو اوپر لانے میں مدد دے گا جبکہ انہیں مناسب نہیں لگا تو اسے نیچے بھی دھکیل سکتے ہیں، جبکہ اس سے کسی صارف کی نیوزفیڈ یا دوستوں سے بات چیت بھی متاثر نہیں ہوگی۔

ناسا نے خلا میں انسانی افزائش نسل کا منصوبہ شروع کردیا

واشنگٹن: ناسا کے سائنس دانوں نے خلا میں انسانی نسل کی افزائش سے متعلق ممکنات کا مطالعہ کرنے کےلیے انسانی اسپرم کے نمونے خلا میں بھیج دیئے ہیں۔

ناسا کے سائنس دانوں نے اُن سوالوں کے جوابات ڈھونڈنا شروع کردیئے ہیں جو اب سے قبل زیر بحث نہیں لائے جاتے تھے: کیا خلا میں انسانی نسل کی افزائش ہوسکتی ہے؟ اور انسانی اسپرم خلا کے بے وزن ماحول (مائیکرو گریویٹی) میں کس طرح کا برتاؤ کرے گا؟ یہ وہ سوالات تھے جن کی تلاش میں ناسا نے انسانی اسپرم کو خلاء میں بھیجا ہے۔

ناسا نے اس مشن کو مائیکرو-11 کا نام دیا ہے جس کے تحت انسانی نطفوں کو خلا میں موجود انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) بھیجا گیا جہاں خلا نورد ان نطفوں کی خلا میں آزادانہ اور تیز رفتار حرکت کا مطالعہ کریں گے جو مادہ بیضے (انڈے) سے ملنے اور اسے بارور کرنے کےلیے ضروری ہوتی ہے۔ اس کے بعد خلا نورد ان نطفوں کو دوبارہ سے منجمد کر کے زمین پر بھیج دیں گے جہاں سائنس دان جدید افزائشی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے ان نطفوں سے بارور بیضے (زائیگوٹ) بننے اور باروری (فرٹیلائزیشن) کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔

NASA 2

ناسا کا خلا میں اسپرم کا مطالعہ پہلی مرتبہ گزشتہ برس کیا گیا تھا جب ایک چوہے کے نطفوں کو انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں 9 ماہ تک رکھا گیا تھا اور زمین پر واپس آنے کے بعد یہ نطفے، بیضوں کو بارور ہونے میں بھی کامیاب ہوگئے تھے۔

اب تک خلا میں ریڑھ کی ہڈی والے مختلف جانوروں اور سمندر میں رہنے والے غیر فقاری جانوروں کے نطفوں کا مطالعہ کیا جاچکا ہے جبکہ انہیں بارور بیضوں میں تبدیل ہوتے ہوئے بھی دیکھا جاچکا ہے۔ تاہم انسانی نطفے سے متعلق ہماری معلومات اور ہم نہیں جانتے کہ خلا میں انسانی اسپرم کس قسم کا برتاؤ کریں گے۔ مائیکرو-11 کا مقصد یہی جاننا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے خلا میں انسانی آبادی کے قیام کا خواب حقیقت میں بدلنے کے قریب آتا چلا جا رہا ہے ویسے ویسے انسانی آبادی کی ضروریات اور انسان کی فطری تسکین کے حوالے سے تحقیق ضروری ہوتی جا رہی ہے۔

چنانچہ خلا میں انسانی نسل کی افزائش کےلیے اسپرم کے برتاؤ کا مطالعہ ناگزیر ہوگیا ہے اور اسی گتھی کو سلجھانے کےلیے ناسا نے خلا میں انسانی نطفوں کو بھیجا ہے۔

شیاؤمی ریڈمی ایس 2 کو تھری سی سرٹیفکیشن جاری

شیاؤمی کمپنی کے اسمارٹ فون ریڈمی ایس 2 کو چائنہ میں تھری سی سرٹیفیکیشن جاری کر دی گئی ہے۔

چین میں کسی بھی اسمارٹ فون کو لانچ کرنے کے لیے یہ سرٹیفکشن حاصل کرنا لازمی ہے۔ فون سے متعلق اب تک سامنے آنے والے تفصیل کے مطابق اس فون میں 5.99 انچ ٹچ اسکرین ڈسپلے ، ڈوئل بیک کیمرہ سیٹ اپ اور 16 میگا پکسل کا سیلفی کیمرہ دیا جائے گا۔ فون کی بیٹری 3000 ملی ایمپیئر آورز کی ہوگی۔

اسمارٹ فون کو 2 جی بی ، 3 جی بی اور 4 جی بی ریم کے ساتھ 16 جی بی ، 32 جی بی اور 64 جی بی اسٹوریج کے آپشنز میں پیش کیا جائے گا۔ اسمارٹ فون کو آٹھ مختلف رنگوں میں متعارف کرایا جائے گا۔ تھری سی سرٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ فون کو آئندہ چند روز میں ہی لانچ کر دیا جائے گا۔

ملک میں سٹیلائٹ منصوبوں کیلئے 4 ارب 70 کروڑ روپے کا بجٹ

پاکستان سول اور عسکری مقاصد کے لیے غیرملکی سٹیلائٹ پر انحصار کو کم کرنے کی کوشش میں اگلے مالی میں کئی منصوبوں کے ذریعے ایک جارحانہ اسپیس پروگرام شروع کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

پاکستان ملٹی مشن سٹیلائٹ (پاک سیٹ-ایم ایم 1) کے لیے ایک ارب 35 کروڑ روپے کا فنڈ مختص کیا گیا ہے اور مختص کیے گئے ایک ارب روپے کی مدد سے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں پاکستان اسپیس سینٹر قائم کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

کراچی میں اسپیس اپلیکیشن ریسرچ سینٹر کے تیسرے منصوبے کے لیے مالی سال 2018-19 بجٹ میں 20 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

پاک سیٹ-ایم ایم ون کی مجموعی لاگت 27 ارب 57 کروڑ روپے اور اس میں 26 ارب 91 کروڑ روپے کا اسپیس سینٹر بھی ہے۔

یہ منصوبے خود انحصاری کی صلاحیت کو بڑھانے اور بیرونی سٹیلائٹ پر انحصار کو کم کرنے کے لیے جاری کئی منصوبوں اور آنے والی اسکیموں کا حصہ ہیں جن میں عسکری اور سول ابلاغ کے لیے خاص کر امریکی اور فرانسیسی سٹیلائٹ شامل ہیں۔

ماہرین کی جانب سے بھی جدید اسپیس پروگرام کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے ملک میں ذرائع ابلاغ کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے اس طرح کے منصوبوں کو شروع پر کرنے پر زور دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق شہریوں کی ابلاغ کے لیے بڑھتی ہوئی طلب بالخصوص جی پی ایس، موبائل فون اور انٹرنیٹ کے لیے اور خطے میں بدلتے ہوئے تناظر کے پیش نظر ایک جدید پروگرام کی اشد ضرورت ہے۔

دفاعی تجزیہ نگار ماریا سلطان کا کہنا تھا کہ ‘دو غیر معمولی پیش رفت سے خطے کی اسٹریٹجک صورت حال متاثر ہورہی ہے جس میں پہلی بات یہ کہ پاکستان کو بھارت پر نظر رکھنی ہے کیونکہ ماضی میں ان کا پروگرام محدود صلاحیت کا تھا لیکن اب امریکا کا بھارت کے سیٹلائٹ پروگرام میں متحرک کردار ہے’۔

پورشے پینامیرا ٹربو سب سے طاقتور سپورٹس گاڑی ہے

لاہور: پورشے پینامیرا ٹربو (Porsche Panamera Turbo) ایس ای ہائبرڈ (S E-Hybrid) زیادہ نفیس نہ سہی مگر ایک اسپورٹی گاڑی ضرور ہے اور یہ پینامیرا گاڑیوں میں سب سے طاقتور گاڑی شمار ہوتی ہے۔

ٹیسٹ ڈرائیور رین ہولڈ کہتے ہیں کہ لگژری کی کوئی انتہا نہیں ہوتی, مثلاً وہ اس پورشے پینامیرا ٹربو ایس ای ہائبرڈ کو 310 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک بھی دوڑا سکتے ہیں, مگر وہ اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتےلیکن رین ہولڈ دنیا کی اس تیز ترین ہائبرڈ سیڈان میں ایک چکر لگانے میں ہی خوش ہیں، کیونکہ شور نہ ہونے کے ساتھ یہ آلودگی بالکل پیدا نہیں کرتی۔

ان کے مطابق جرمن ریاست بویریا کے برفیلے دیہی علاقے نے ہمارے خوابوں کی کار کی ٹیسٹ ڈرائیو کے لیے خوابوں جیسی جگہ فراہم کردی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ دوسری جنریشن کی اس گاڑی میں ایک اضافی ہائبرڈ آپشن بھی دیا گیا ہے، اس نئے طاقتور ورژن میں 100 کلوواٹ کی الیکٹرک موٹر اور ایک 404 کلوواٹ کا ٹوئن ٹربو وی-8 یونٹ بھی نصب ہے۔اس گاڑی کے حوالے سے وہ بتاتے ہیں کہ خریداروں کے پاس 6 مختلف ڈرائیونگ اور ہائبرڈ موڈز کے آپشنز ہوں گے۔

 

ایس ای ہائبرڈ کی خصوصیات بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ یہ گاڑی ایک سہانے اور پرسکون سفر کے علاوہ طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرنا بھی جانتی ہے، اور کیوں نہ ہو؟ آخر اس گاڑی کا انجن 500 کلوواٹ اور 850 نیوٹن میٹر کا ٹارک جو فراہم کرتا ہے۔

وہ اس کی رفتار کو میزائل جیسی خاصیت قرار دیتے ہیں جبکہ ہاں اس گاڑی میں لانچ کنٹرول فنکشن بھی ہے۔

رین ہولڈ کہتے ہیں کہ پہلے آپ اسپورٹ پلس موڈ کا انتخاب کریں، پھر بریک کو سنبھال لیں، رفتار کے لیے ایکسِلریٹر پر پیر جمانے کے ساتھ ہی بریکس سے پیر اٹھالیں اور یوں یہ گاڑی 3.4 سیکنڈز میں 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگنے لگے گی۔

اینڈروئڈ فون پر تیزی سے مقبول ہوتا گیم ’امپاسبل بوٹل فلپ‘

واشنگٹن: اینڈروئڈ ایپ کے لیے حال ہی میں لانچ کیا گیا ایک اسمارٹ فون گیم ’امپاسبل بوٹل فلِپ‘ بہت تیزی سے مقبول ہورہا ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد اسے پسند کررہی ہے۔

اس کھیل کو ایپل فون کے لیے بھی بنایا گیا ہے لیکن وہاں یہ 200 مقبول ترین گیمز کی فہرست میں بھی موجود نہیں لیکن اینڈروئڈ فون والوں کو یہ گیم بہت پسند آیا ہے اور 24 اپریل کویہ پہلے نمبر پر موجود تھا اور اب بھی بہت مقبول گیمز میں سر فہرست ہے۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ 2016ء میں دنیا بھر کے لوگوں نے بوتل چیلنج کی ویڈیو پوسٹ کی تھیں جس میں پانی سے پوری یا آدھی بھری ہوئی پلاسٹک کی چھوٹی بڑی بوتلوں کو اس انداز میں گھما کر پھینکنا ہوتا تھا کہ وہ اپنے پیندے کے بل جاکھڑی ہو، دنیا بھر سے لوگوں نے اس چیلنج کے تحت اپنی ویڈیوز فیس بک اور یوٹیوب پر پوسٹ کی تھی۔

یہ دائیں سے بائیں جانے والا سائیڈ اسکرولر گیم ہے اس میں کارٹون کی طرح پانی کی ایک بوتل دکھائی دے گی جسے ہوا میں لڑھکاتے اور گھماتے ہوئے اپنی آخری منزل تک پہنچانا ہوتا ہے، جیسے ہی بوتل غلط انداز میں گرتی ہے آپ کا گیم ختم ہوجاتا ہے اور پھر دوبارہ سے گیم شروع کرنا ہوتا ہے۔

لیکن یہ اتنا آسان نہیں کیونکہ بوتل کو کرسی، صوفے، ویکیوم کلینر کے ہینڈل اور دیگر لاتعداد اشیا پر رکھنا ہوتا ہے۔ اسی لیے گیم کھیلنے کے لیے صبر اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔

گیم کا منفی پہلو یہ ہے کہ اس کے فری ورژن میں اشتہارات آتے ہیں جو 10 سے 15 منٹ کے لیے ہوتے ہیں اور ان ویڈیو اشتہارات کو اسکپ کرکے گیم کھیلنا ممکن نہیں ہوتا، اس گیم کا اشتہارات سے پاک ورژن صرف 3 ڈالر میں دستیاب ہے۔

Google Analytics Alternative