سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

بچوں کو ڈوبنے سے بچانے والا انقلابی کالر

لتھوینیا: دنیا کے بعض حصوں میں ایک سے چار سال تک کے بچوں میں اموات کی بڑی وجہ پانی میں غرقابی ہے اور اسی لیے قیمتی جانوں کو بچانے کی غرض سے ایک انوکھا پلاسٹک کالر بنایا گیا ہے جو پانی میں جاتے ہی گاڑیوں کے ایئر بیگ کی طرح کھل جاتا ہے، انہیں ہوا بھری گیندیں کہنا زیادہ مناسب ہوگا یہ کالر گردن کے چاروں طرف غباروں کی طرح کھل کر بچے کو سطح آب تک لے آتا ہے۔

پاکستان کے مقابلے میں امریکا اور یورپ میں ہر گھر میں نہانے کے ٹب اور سوئمنگ پول ہونے کی وجہ سے بچوں کے ڈوبنے کا خطرہ قدرے زیادہ ہوجاتا ہے اور اسی لیے جدید کالر بنایا گیا ہے جسے ’دی بڈی لائف کالر‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اسے لتھووینیا کے ایک انجینئر نے ڈیزائن کیا ہے اور اس کا وزن صرف 120 گرام ہے۔

اگر اسے پہننے کے بعد بچہ پانی میں گرجائے تو عین اسی وقت سینسر تبدیلی کو محسوس کرلیتے ہیں اور صرف تین سیکنڈ میں کالر میں چھپے ایئربیگ کو کھول دیتے ہیں جو بچے کی گردن پانی سے باہر رکھ کر اسے سانس لینے اور دیکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے اندر نمی کو محسوس کرنے والا ایک سینسر بھی نصب ہے۔

اب یہ کالر اسمارٹ میڈک کمپنی کے تحت فروخت کے لیے پیش کردیا گیا ہے اور یقینی طور پر یہ آلہ حادثاتی طور پر پانی میں گرنے والے بچوں کو بچانے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔

سوشل میڈیا نے خبروں کے حصول میں اخبارات کو پیچھے چھوڑ دیا

واشنگٹن: کسی زمانے میں خبر کے حصول کا واحد ذریعہ اخبارات ہوا کرتے تھے جس میں بعدازاں ٹیلی ویژن بھی شامل ہوگیا تھا لیکن اب نئی تحقیق یہ کہتی ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس (سوشل میڈیا) نے خبر کے بنیادی ذریعے کی جگہ لے لی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی ریسرچ سینٹر (پیو ) کا کہنا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور خبر رساں اداروں کے مشکلات کا شکار حالات اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

ریسرچ کے مطابق 20 فیصد امریکی شہری سوشل میڈیا سے خبریں حاصل کرتے ہیں جبکہ اخبارات سے خبریں پڑھنے والو ں کا تناسب 16 فیصد ہے۔

2016 سروے کے مطابق اخبارات سوشل میڈیا سےزیادہ اہمیت کے حامل تھے جبکہ 2017 میں یہ تناسب دونوں ذرائع کے لیے برابر ہی تھا۔

پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق سوشل میڈیا کے عروج کے باوجود اب بھی ٹیلی ویژن خبروں کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے اور تقریباً 49 فیصد امریکی شہری اس کے ذریعے باخبر رہتے ہیں۔

تاہم خبروں کی رسائی کے حوالے سے کی گئی اس ریسرچ میں عمروں کا واضح فرق دیکھا گیا جس میں نوجوان زیادہ تر سوشل میڈیا جبکہ ادھیڑ عمر افراد ٹیلی ویژن اور اشاعت کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔

اس سلسلے میں 18سے 29 سال کے عمر کے افراد کے لیے سوشل میڈیا باخبر رہنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے جبکہ صرف 2 فیصد نے اخبارات کے حق میں رائے دی۔

دوسری جانب 65 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی بڑی تعداد (81 فیصد ) ٹیلی ویژن سے باخبر رہتے ہیں جبکہ 39 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اخبارات پڑھتے ہیں جبکہ صرف 8 فیصد افراد سوشل میڈیا سے خبریں حاصل کرتے ہیں۔

پیو ریسرچ سینٹر سے وابستہ ایلیسا شیاریر کے مطابق امریکی نوجوان خبر کے سلسلے میں اپنے بڑوں کی طرح ٹیلی ویژن پر انحصار کرنے کے بجائے صرف ایک پلیٹ فارم پر اکتفا نہیں کرتے۔

اسی ادارے کی جانب سے کی گئی ایک ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ گزشتہ برس 2017 میں شائع شدہ اورآن لائن اخبارات کی سرکولیشن ہفتے کے دنوں میں 3 کروڑ 10 لاکھ تھی جبکہ اتوار کے روز یہ تعداد 3 کروڑ 40 لاکھ ہوجاتی تھی تاہم اب اس میں 10 سے 11 فیصد کی کمی واقع ہوچکی ہے۔

دنیا کا سب سے چھوٹا ٹرانسسٹر تیار، جسامت صرف 2.5 نینومیٹر

کولاراڈو: دنیا کا سب سے چھوٹا ٹرانسسٹر تیار کرلیا گیا ہے جس کے چوڑائی صرف 2.5 نینومیٹرہے، اسے دنیا کا سب سے چھوٹا تھری ڈی ٹرانسسٹر کہا جاسکتا ہے، اس وقت جتنے بھی ٹرانسسٹر بن رہے ہیں یہ ان سے ایک تہائی چھوٹا ہے۔

میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) اور یونیورسٹی آف کولاراڈو کے ماہرین نے اسے مشترکہ کاوش سے بنایا ہے۔ ٹرانسسٹر کی تیاری میں مائیکرو فیبریکیشن طریقہ اختیار کیا گیا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ٹرانسسٹروں کو مزید چھوٹا کرنا ممکن ہے۔

واضح رہے کہ جدید ترین کارخانوں میں 14 نینومیٹر چوڑے ٹرانسسٹر عام تھے جن کی حد پہلے 10 نینو میٹر اور پھر 7 نینو میٹر تک پہنچی جن کے ذریعے ایپل نے اے آئی ٹو بایونک پروسیسر بنا کر دنیا میں شہرت حاصل کی۔

تاہم یہ ریکارڈ بالکل نئی ٹیکنالوجی مائیکرو فیبریکشین طریقے میں کچھ مثبت تبدیلیوں کے بعد کیا گیا ہے۔ تبدیل شدہ مائیکرو فیبریکشن طریقے کو ’تھرمل ایٹامک لیئر ایچنگ‘ (تھرمل اے ایل ای) کا نام دیا گیا ہے۔

انجینئرز نے پہلے مشہور سیمی کنڈکٹر انڈیئم گیلیئم آرسینائڈ استعمال کیا اور اس کا سامنا ہائیڈروجن فلورائیڈ سے کرایا۔ اس طرح دھاتی فلورائیڈ کی ایک باریک سبسٹریٹ (اندرونی) پرت وجود میں آئی۔

اس کے بعد ایک نامیاتی مرکب ڈائی میتھائل المونیم کلورائیڈ (ڈی ایم اے سی) ڈالا گیا جس سے ایک تعامل شروع ہوا۔ اس عمل میں آئن دھاتی فلورائیڈ سے جڑنے لگے اور دھاتی سطح پر ایٹم جمع ہونے لگے۔ اس عمل کو سیکڑوں بار دہرایا گیا جسے ماہرین پیاز کے چھلکے اتارنے کا عمل بتاتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ ڈھائی نینو میٹر چوڑا یہ تھری ڈی ٹرانسسٹر کارکردگی میں دیگر ٹرانسسٹر سے 60 فیصد بہتر ہے اور توانائی کم استعمال کرتا ہے۔ اس اچھی خبر سے یوں لگتا ہے کہ دنیا میں برقیات کا مزید سکڑاؤ جاری رہے گا اور ہم اس کی طبعی حدود کی بند گلی میں پہنچنے سے بچ جائیں گے۔

سام سنگ گلیکسی ایس 10 کے تینوں ماڈلز کی لیک تصاویر سامنے آگئیں

سام سنگ کا نیا فلیگ شپ فون گلیکسی 10 آئندہ چند ہفتوں میں متعارف ہونے والا ہے اور یہ تو سب کو اندازہ ہوچکا ہے کہ فیچرز کے لحاظ سے یہ جنوبی کورین کمپنی کی دیگر ڈیوائسز سے بالکل مختلف ہوگا۔

مگر اب تک اس کے مختلف ماڈلز کی واضح تصویر سامنے نہیں آئی تھی۔

مگر اب اسمارٹ فون کمپنیوں کی معلومات لیک کرنے والے معروف ٹوئٹر صارفین ایون بلاس اور آئس یونیورس نے گلیکسی ایس 10 کی تصاویر ٹوئیٹ کی ہیں۔

یہ سام سنگ کا فولڈ ایبل فون تو نہیں تاہم اگر لیک تصاویر حقیقی ہیں تو یہ نئے فونز ضرور چونکا دینے والے ہیں۔

گزشتہ ماہ کے آخر میں وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سام سنگ کی جانب سے 3 ایس 10 فونز کی تیاری پر کام ہورہا ہے جن کا ڈسپلے سائز 5.8 انچ سے 6.4 انچ تک ہوگا۔

ایون بلاس ماضی میں بھی مختلف کمپنیوں کے فونز کی حقیقی تصاویر پوسٹ کرچکے ہیں اور ایس 10 کے حوالے سے انہوں نے تینوں فونز کی تصویر شیئر کی۔

ان تینوں ماڈلز کو ایس 10 لائٹ، ایس 10 اور ایس 10 پلس کا نام دیا جائے گا، اور ان کا ڈسپلے بالترتیب 5.8 انچ، 6.1 انچ اور 6.4 انچ ہوگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ لگ بھگ آئی فون ایکس ایس، آئی فون ایکس آر اور آئی فون ایکس ایس میکس جیسے ہی ہیں، بس معمولی فرق ہے اور وہ یہ کہ ایس 10 پلس 6.5 انچ کے آئی فون ایکس ایس میکس سے 0.4 انچ چھوٹا ہے۔

دوسری جانب آئس یونیورس نے ایس 10 لائٹ کی تصاویر شیئر کی ہیں۔

اس فون میں ایس 9 پلس کی بجائے نوٹ 8 اور نوٹ 9 جیسے ڈوئل کیمرہ سیٹ اپ نظر آرہا ہے جبکہ یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ اسکرین خم ایجز کی بجائے فلیٹ ہوگی۔

یہ پہلا موقع ہوگا کہ سام سنگ کی جانب سے فلیگ شپ ایس سیریز کا فون خم ایجز کے بغیر متعارف کرایا جارہا ہے۔

اسی طرح پاور بٹن ممکنہ طور پر فنگرپرنٹ سنسر کا کام بھی کرے گا اور یہ بھی سام سنگ کے کسی فلیگ شپ فون میں پہلی بار ہوگا۔

اس بات کا امکان بھی ہے کہ گلیکسی ایس 10 کے ایک ماڈل میں فنگرپرنٹ سنسر ڈسپلے کے اندر نصب کیا جائے گا۔

سام سنگ کی جانب سے پہلے سے زیادہ طاقتور پراسیسر ممکنہ طور پر کوالکوم اسنیپ ڈراگون 855، نیورول پراسیسنگ یونٹ اور پہلے سے بہتر کیمرے دیئے جائیں گے تاہم ایس 10 لائٹ میں پراسیسر مڈرینج ہوگا جبکہ کچھ فیچرز بھی کم ہوں گے۔

سام سنگ کی جانب سے ایس 10 کا ایک فائیو جی ورژن بھی متعارف کرائے جانے کا امکان ہےجو کہ 12 جی بی ریم اور 1 ٹی بی اسٹوریج والا دنیا کا پہلا اسمارٹ فون بھی ہوگا جبکہ اس کے بیک پر 4 اور فرنٹ پر 2 کیمرے دیئے جائیں گے۔

اسی طرح ایس 10 پلس میں تین کیمروں پر مشتمل رئیر سیٹ اپ دیا جاسکتا ہے۔

سام سنگ کی جانب سے گلیکسی ایس 10 کے ماڈلز آئندہ سال کے شروع میں موبائل ورلڈ کانگریس کے موقع پر متعارف کرائے جاسکتے ہیں۔

سام سنگ نے پہلی بار ’انفنٹی او‘ ڈسپلے فون متعارف کرادیا

اسمارٹ موبائل فون بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی جنوبی کورین کمپنی سام سنگ نے ویسے تو متعدد ایسے اسمارٹ فون متعارف کرائے ہیں، جن میں بہترین فرنٹ کیمرہ دیا گیا ہو۔

تاہم اب کمپنی نے پہلی بار ایک ایسا فون متعارف کرایا ہے، جس کے فرنٹ پر سیلفی کیمرہ کا ہول دیا گیا ہے۔

یعنی سام سنگ کا یہ پہلا فون ہوگا جس کی اسکرین پر بیک کی طرح کیمرہ کا ہول نظر آئے گا۔

اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ سام سنگ کے اس پہلے ’انفنٹی او‘ ہول ڈسپلے فون ’اے 8 ایس‘ کے بیک پر 3 ریئر کیمرے دیے گئے ہیں، جن میں سے ایک 24 میگا پکسل ہے۔

نشریاتی ادارے ’دی ورج‘ کے مطابق سام سنگ نے پہلے ’انفنٹی او‘ ہول ڈسپلے فون کو گزشتہ ماہ متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔

کمپنی نے سام سنگ اے 8 ایس کو سب سے پہلے چین میں متعارف کرایا ہے اور فوری طور پر اس کی قیمت کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔

لیکن آنر اور سام سنگ سے پہلے ایسا فون آئی فون نے متعارف کرایا تھا، آئی فون ایکس کے ڈسپلے پر بھی سیلفی کیمرہ کا ہول دیا گیا تھا، جس کا ابتدائی طور پر سام سنگ نے مذاق اڑایا تھا۔
سام سنگ اے 8 ایس کے فرنٹ پر بھی بیک کی طرح کیمرہ نظر آئے گا—فوٹو: سام سنگ
سام سنگ اے 8 ایس کے فرنٹ پر بھی بیک کی طرح کیمرہ نظر آئے گا—فوٹو: سام سنگ

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس فون کو دیگر ممالک میں کب تک متعارف کرایا جائے گا، تاہم امکان ہے کہ جلد ہی اسے پہلے ایشیا اور پھر امریکا اور یورپی ممالک میں متعارف کرایا جائے گا۔

سام سنگ اے 8 ایس کمپنی کا وہ پہلا فون ہے، جس کے فرنٹ پر اسکرین میں سیلفی کیمرے کا ڈسپلے دیا گیا ہے، جس طرح بیک کیمرے کا ڈسپلے ہوتا ہے۔

اس فون سےقبل سام سنگ کے اب تک کے تمام موبائل فونز کے سیلفی کیمرے اسکرین کے اندر ہی دیے گئے ہیں۔

سام سنگ کے علاوہ بھی دیگر کمپنیوں کے اسمارٹ موبائل کے سیلفی کیمرے اسکرین کے اندر ہی نصب ہوتے ہیں، تاہم سام سنگ سے قبل گزشتہ ماہ چینی کمپنی ہواوے کی ذیلی کمپنی ’آنر‘ نے بھی ایک موبائل کے فرنٹ پر سیلفی کیمرے کا ہول دیا تھا۔

سام سنگ اے 8 ایس کے بیک سائیڈ پر دیے گئے تین کیمروں میں سے مین کیمرہ 24 میگا پکسل ہے، جب کہ ایک 10 اور تیسرا 5 میگا پکسل کیمرہ ہے۔

اسی طرح اس موبائل کا فرنٹ سیلفی کیمرہ بھی 24 میگا پکسل دیا گیا ہے۔

3400 ایم اے ایچ بیٹری اور 128 جی بی ریم کے ساتھ اس موبائل میں اینڈرائیڈ کا اپ ڈیٹ ورژن اوریو استعمال کیا گیا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ اس موبائل کی قیمت پاکستانی ایک لاکھ روپے تک ہوگی، تاہم کمپنی نے اس کی قیمت کا اعلان نہیں کیا۔

سام سنگ اے 8 ایس کے بیک پر تین کیمرے دیے گئے ہیں—فوٹو: سام سنگ
سام سنگ اے 8 ایس کے بیک پر تین کیمرے دیے گئے ہیں—فوٹو: سام سنگ

نسان کمپنی کے سابق چیئرمین پر فرد جرم عائد، نئے وارنٹ گرفتاری جاری

معروف کار ساز جاپانی کمپنی نسان کے سابق چیئرمین کارلوس گھوسن پر فنانشل رپورٹس میں آمدن کم بتانے کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد ان کے نئے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے گئے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس بات کے زیادہ امکانات ہیں کہ کارلوس گھوسن کرسمس جیل میں گزاریں گے۔

خیال رہے کہ 19 نومبر کو مشہور کمپنی نسان کے چیئرمین کارلوس گھوسن کو کمپنی کے مالی معاملات میں ہیراپھیری کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔

انہوں نے 2010 سے 2015 کے درمیان اپنی آمدن 5 ارب ین سے کم ظاہر کی تھی۔

تاہم جاپانی حکام نے انہیں آج ( 10 دسمبر کو ) علیحدہ الزامات کے تحت ایک مرتبہ پھر گرفتار کیا ہے، انہوں نے گزشتہ 3 سالوں میں اپنی آمدن کو 4 ارب سے کم ظاہر کیا تھا۔

جاپان کے قانون کے مطابق مشتبہ شخص کو مختلف الزامات کے تحت کئی مرتبہ گرفتار کیا جاسکتا ہے، جس میں پروسیکیوٹرز کو طویل مدت تک پوچھ گچھ کرنےکی اجازت ہوتی ہے،اس نظام کو بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے۔

آج پروسیکیوٹرز کے پاس کارلوس گھوسن اور ان کے ساتھی گریگ کیلی پر فرد جرم عائد ہونے یا دوبارہ گرفتاری سے قبل تحویل میں رکھنے کا آخری روز تھا اور پروسیکیوٹرز کی جانب سے دوبارہ گرفتار کیے جانے کی صورت میں انہیں پوچھ گچھ کے لیے مزید 22 دن کی اجازت مل سکتی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق کمپنی کی جانب سے ذرائع آمدن سے متعلق دستاویزات جمع کروانے کے بعد پروسیکیوٹرز نے کارلوس گھوس سمیت گریگ کیلی اور نسان کمپنی پر بھی الزامات عائد کیے ہیں۔

رینالٹ ذرائع کے مطابق ’ کارلوس گھوس خود پر عائد کیے الزامات کو مسترد کرکے ان کا مقابلہ کرنے کا ذہن بناچکے ہیں‘۔

خیال رہے کہ فرانسیسی کار بنانے والے کمپنی رینالٹ کی جانب سے نگران چیئرمین کی تقرری کے باوجود کارلوس گھوسن اب تک کمپنی کی سربراہی کررہے ہیں۔

لبنانی پس منظر رکھنے والے برازیلی نژاد فرانسیسی شہری کارلوس گھوسن جاپانی کمپنی نسان اور مٹسوبشی کے علاوہ یورپ میں کاریں بنانے کے حوالے سے مشہور کمپنی رینالٹ کی بھی سربراہی کررہے تھے۔

آٹو سیکٹر کے کروڑ پتی شخص کارلوس گھوسن کو پرتعیش طرز زندگی کی وجہ سے تنقید کا سامنا رہتا تھا،اب ٹوکیو کی ایک جیل میں 5 اسکوائر فٹ کے چھوٹے سے کمرے میں تنہا قید ہیں۔

انہوں نے سفارت خانے سے آنے والے افراد کو یقین دلایا ہے کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جارہا ہے تاہم ٹوکیو کا درجہ حرارت 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی وجہ سے انہیں زکام کی شکایت ہے۔

وہ اپنا وقت کتب بینی اور خبریں پڑھ کر گزارتے ہیں لیکن چاول پر مبنی غذا دیے جانے کی وجہ سے ناخوش ہیں۔

مقامی خبرایجنسی کیوڈو کے مطابق انہوں نے دستاویز پر دستخط کرنے کا اعتراف کیا ہے جس کے مطابق وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آمدن کے ظاہر نہ کیے جانے والے حصے سے انحراف کریں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس رقم کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ باقاعدہ طے شدہ نہیں تھی۔

تحقیقاتی ٹیم کے قریبی ذرائع کے مطابق کارلوس گھوسن اور گریگ کیلی نے نیا قانون آنے کے بعد ایسا کیا تھا، نئےقانون کے مطابق زیادہ تنخواہ دیے جانے والے کمپنی ملازمین کو اپنی آمدن کا اعلان کرنا تھا۔

کارلوس گھوسن نے اپنی تنخواہ کا حصہ دیگر عملے اور شیئر ہولڈرز کی تنقید سےبچنےکے لیے خفیہ رکھا تھا کیونکہ ان کی آمدن کافی زیادہ تھی۔

ٹوکیو میں مقیم تجزیہ کار ستارو تکادا کا کہنا تھا کہ ‘ ہم اس چیز کو قریب سے دیکھ رہے ہیں کہ ان پر واقعی الزام لگایا اور وہ قصوروار نکلتے ہیں یا نہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ اگر انہیں پروسیکیوشن سے استثنیٰ دی گئی یا وہ بے قصور قرار پائے تو اس وجہ سے نسان کمپنی کی انتظامیہ شدید کنفیوژن کا شکار ہوجائے گی۔

تاہم ٹرائل سے قبل کارلوس گھوس کی ضمانت پر رہائی واضح نہیں ہے۔

جاپان میں پروسیکیوٹرز اور دفاعی وکیل ضلعی عدالت میں ٹرائل کا آغاز کرکے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرسکتے ہیں، اس طریقے سے حتمی فیصلہ آنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔

اگر کارلوس گھوسن قصوروار قرار پائے تو انہیں 10 سال قید کی سزا دی جائے گی۔

یاد رہے کہ رینالٹ نے 1999 میں خسارے میں جانے والی کمپنی نسان کو بہتر بنانے کے لیے کارلوس گھوسن کی خدمات حاصل کی تھیں جس کےبعد کمپنی کو زبردست مالی فائدہ ہوا تھا۔

تاہم اب نسان کی جانب سے کارلوس گھوسن کی جگہ نیا سربراہ منتخب کرنے کے عمل کا آغاز کردیا گیا ہے جس کا حتمی فیصلہ 17 دسمبر کو کیا جائے گا۔

کارلوس گھوسن کی گرفتاری نے رینالٹ کی بداعتمادی میں اضافہ کردیا ہے جس کا کہنا ہے کہ انہیں کارلوس گھوسن پر عائد کیے گئے الزامات کی تفصیل کا علم نہیں ہے۔

خیال رہے کہ آٹو کمپنی رینالٹ ، نسان کمپنی کے 43 فیصد حصص کی مالک ہے۔

کارلوس گھوسن کی گرفتاری پر لبنان کے عوام غم و غصے میں مبتلا ہیں اور بیروت میں ’ ہم کارلوس گھوسن ہیں ‘ کے ڈیجیٹل بل بورڈز کے ذریعے ان کے حق میں آواز اٹھارہے ہیں۔

لبنان کے وزیر داخلہ نہاد مشنوق نے اعلان کیا تھا کہ ’ لبنانی ققنس ( کارلوس گھوسن ) کو جاپان کے سورج سے جلنے نہیں دیا جائے گا‘۔

مصنوعی ذہانت، فنگر پرنٹ سیکیورٹی سسٹم کو دھوکہ دے سکتی ہے

نیویارک: کمپیوٹر سیکیورٹی ماہرین نے کہا ہے کہ نیورل نیٹ ورک پر مبنی مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلی جنس یا اے آئی) سسٹم فنگرپرنٹ سیکیورٹی سسٹم کو بھی ناکام بناسکتی ہے جو اب تک دنیا میں سب سے قابلِ اعتبار سیکیورٹی نظام تصور کئے جاتے رہے ہیں۔

نیویارک یونیورسٹی میں وقع ٹینڈن اسکول آف انجینیئرنگ کےفلپ بونٹریگر اور ان کے ساتھیوں نے نہ صرف اس نظام کو دھوکہ دینے میں کامیابی حاصل کی ہے بلکہ مشین لرننگ الگورتھم سے جعلی فنگرپرنٹس بھی تشکیل دیئے ہیں جنہیں ’ماسٹرپرنٹس‘ کا نام دیا گیا ہے۔

دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں جگہوں  اور آلات میں یہ فنگر پرنٹ پر مبنی سیکیورٹی نظام روزانہ استعمال ہورہے ہیں ۔ جس طرح تمام تالوں کو کھولنے والی کوئی ’ماسٹرکی‘ ہوتی ہے عین اسی طرح فنگرپرنٹس ڈیٹا بیس کو پڑھ کر ڈیپ لرننگ اور مصنوعی ذہانت کا نظام ’ڈیپ ماسٹر پرنٹس‘ بناتا ہے اور نظری طور پر اس سے بہت سے بند تالے کھولے جاسکتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ فنگرپرنٹ پڑھنے والی مشینیں انگلیوں کے نشانات کی پوری تفصیل کی بجائے جزوی پرنٹ پر ہی اکتفا کرتی ہیں اور اسی کے ذریعے نظام کھلتے اور بند ہوتے ہیں۔ کسی فنگر پرنٹ نظام میں انگلی یا انگوٹھے کا جزوی اور تھوڑا حصہ ہی دیکھتے ہوئے وہ نظام کام کرنے لگتا ہے اور ان لاک ہوجاتا ہے۔

ماہرین نے پہلے مصنوعی فنگر پرنٹ کی مکمل تصاویر بنائیں جس کے دو مقصد تھے۔ اول ماسٹر پرنٹس بناکر انہیں حقیقی فنگرپرنٹ سیکیورٹی نظام یا آلات پر استعمال کیا جانا تھا جسے بعد میں آزمایا جائے گا۔ دوم یہ فنگر پرنٹس معیاری نشانات پر مبنی ہیں انہیں سیکیورٹی نظام کے ڈیٹا بیس سے ہیک بھی کیا جاسکتا ہے جو عین ممکن بھی ہے۔

ماہرین کا اعتراف ہے کہ فنگر پرنٹ ایک ایسا مؤثر طریقہ ہے جو بہت کامیابی سے استعمال ہورہے ہیں۔ مگر اکثر نظام یہ جانتے ہی نہیں کہ یہ اصلی فنگر پرنٹس ہیں یا کسی نے جعلی انداز میں تیار کئے ہیں۔ اسی بنا پر ماسٹرپرنٹس سے کئی آلات کو کھولا جاسکتا ہے۔

دنیا کا پہلا 48 میگا پکسل کیمرے سے لیس اسمارٹ فون

دنیا کا پہلا 48 میگا پکسل کیمرے سے لیس اسمارٹ فون بہت جلد متعارف ہونے والا ہے۔

جی ہاں چینی کمپنی شیاؤمی دنیا کا پہلا 48 میگا پکسل کیمرے والا اسمارٹ فون متعارف کرانے والی ہے۔

رواں برس کے شروع میں سونی اور سام سنگ نے اپنے، اپنے 48 میگا پکسل اسمارٹ فون سنسرز متعارف کرائے تھے تاہم کسی فون میں سب سے زیادہ میگاپکسل کا ریکارڈ نوکیا لومیا 1020 کے پاس تھا جس میں 41 میگاپکسل کیمرہ استعمال کیا گیا۔

حال ہی میں ہیواوے نے میٹ 20 پرو اور پی 20 پرو میں 40 میگا پکسل کیمرے دیئے اور اب لگتا ہے کہ میگا پکسل کی جنگ پھر شروع ہورہی ہے اور شیاﺅمی نیا ریکارڈ بنانے والی ہے۔

شیاؤمی کے صدر لین بن نے چینی سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر بدھ کو ایک تصویر شیئر کی جس میں ایک فون کی کلوزاپ تصویر ہے اور اس پر 48 میگا پکسل کیمرہ اور ڈوئل ایل ای ڈی فلیش نمایاں ہیں۔

یہ تو واضح نہیں کہ اس فون میں کتنے کیمرے دیئے جائیں گے مگر تصویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فون کے بیک پر اوپری بائیں کونے پر ہوگا۔

شیاؤمی کے صدر نے فون کی تفصیلات تو نہیں بتائیں مگر یہ ضرور کہا کہ یہ فون جنوری میں متعارف ہوگا۔

اگر ایسا ہوا تو شیاؤمی کے حصے میں دنیا کا پہلا ایسا اسمارٹ فون متعارف کرانے کا اعزاز آجائے گا جس میں 48 میگا پکسل کیمرہ دیا جائے گا اور ممکنہ طور پر یہ سونی یا سام سنگ میں سے کسی کا تیار کردہ ہوگا۔

بہت زیادہ روشنی میں بھی 48 میگا پکسل ریزولوشن ہموار ڈیجیٹل زوم کی سہولت فراہم کرے گا جبکہ تفصیلات غائب نہیں ہوں گی۔

Google Analytics Alternative