سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

مریخ کےلیے ’’خلائی ٹڈے‘‘ کی کامیاب آزمائشی پرواز

ٹیکساس: مورخہ 26 اگست کو ’’اسپیس ایکس‘‘ کے پروٹوٹائپ راکٹ ’’اسٹار ہاپر‘‘ (Starhopper) نے کامیاب آزمائشی پرواز مکمل کرلی۔ یہ راکٹ بالکل سیدھی اُڑان بھر سکتا ہے اور مطلوبہ مقام پر عموداً اُتر بھی سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، اسے بار بار استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔ اردو داں طبقے کی دلچسپی کےلیے اسے ’’خلائی ٹڈا‘‘ بھی کہا جاسکتا ہے۔

یہ تجرباتی راکٹ، خلائی سفر کا جنون رکھنے والے مشہور امریکی تاجر ایلون مسک کے ادارے ’’اسپیس ایکس‘‘ کے ماہرین نے تیار کیا ہے۔ اس ادارے کا مقصد خلائی سفر کو آسان اور کم خرچ بناتے ہوئے، مریخ پر انسانی بستیاں بسانا ہے۔ اسٹار ہاپر اسی سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔

یہ تجرباتی راکٹ اپنی پہلی دو آزمائشوں میں زمین سے صرف چند انچ ہی بلند ہوسکا تھا جبکہ تیسری آزمائشی پرواز کے دوران یہ 20 میٹر بلندی تک پہنچا۔ البتہ ان تینوں آزمائشوں کے دوران، حفاظتی نقطہ نگاہ سے، اسٹار ہاپر کو باریک لیکن مضبوط تاروں سے باندھے رکھا گیا تھا۔ لیکن 26 اگست کو جنوبی ٹیکساس کے دور افتادہ مقام سے اپنی آخری اور بھرپور آزمائش میں اس کے ساتھ کوئی تار منسلک نہیں تھی جبکہ یہ نہ صرف 57 سیکنڈ تک فضا میں رہا بلکہ 150 میٹر (تقریباً 500 فٹ) کی بلندی تک بھی پہنچا، جس کے بعد یہ ایک اور مقام پر عموداً اتر گیا۔

اگرچہ یہ راکٹ اس سے بھی زیادہ بلندی تک جاسکتا تھا لیکن امریکی حکومت کی عائد کردہ پابندیوں کے تحت اسے صرف 150 میٹر بلندی تک ہی پرواز کرنے کی اجازت ملی۔ اسپیس ایکس کی جانب سے اس کامیاب پرواز کی ایک ویڈیو بھی یوٹیوب پر شیئر کرائی گئی:

اسٹار ہاپر میں ’’ریپٹر‘‘ نامی طاقتور راکٹ انجن نصب ہے جسے اگلی نسل کا راکٹ انجن بھی قرار دیا جارہا ہے۔ اسپیس ایکس کے سیاحتی خلائی جہاز ’’اسٹار شپ‘‘ میں ایسے ہی چھ راکٹ انجن نصب ہوں گے جو 100 مسافروں کو خلا کی سیر کروائیں گے اور پھر بحفاظت زمین پر واپس لے آئیں گے۔ اسپیس ایکس میں اسٹار شپ کے دو علیحدہ علیحدہ پروٹوٹائپس (ایم کے 1 اور ایم کے 2) پر کام جاری ہے جو خلا تک پہنچنے کے قابل ہوں گے۔ ایلون مسک کا کہنا ہے کہ اسٹار شپ کی تجارتی پروازیں 2021 تک شروع کردی جائیں گی۔

ابتدائی مرحلے میں تمام پروازیں زمین کے گرد مدار تک ہوں گی جنہیں بتدریج بڑھا کر چاند تک پہنچایا جائے گا؛ اور آخر میں مریخ تک انسان بردار پروازوں کا آغاز کیا جائے گا۔ حتمی طور پر یہ تو نہیں بتایا جاسکتا کہ انسان کے قدم، سیارہ مریخ تک کب پہنچیں گے لیکن اندازہ ہے کہ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو 2050 تک یہ مرحلہ بھی سر ہوجائے گا۔

خلائی سفر کے ذیل میں اسپیس ایکس کا معاہدہ ’’سپر ہیوی‘‘ نامی ایک راکٹ ساز ادارے سے بھی ہوچکا ہے۔ یہ ادارہ ایک بہت بڑا خلائی جہاز بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں لگ بھگ 35 ریپٹر راکٹ انجن نصب کیے جائیں گے۔

اوپو کی رینو 2 سیریز کے 3 فونز متعارف

اوپو نے اپنا نئے فلیگ شپ رینو سیریز کے 3 نئے فونز متعارف کرادیئے ہیں۔

رینو 2، رینو 2 زی اور رینو 2 ایف کے نام سے یہ اسمارٹ فونز رواں سال ہی متعارف کرائے جانے والے رینو فونز کے اپ ڈیٹ ورژن ہیں۔

ان تینوں فونز میں بیک پر 4 بیک کیمرے دیئے گئے ہیں تاہم پراسیسر کا فرق ہے۔

رینو 2 درحقیقت رینو 10 ایکس جتنا طاقتور نہیں جو کہ اب بھی اس سیریز کا تیز ترین فون ہے جس میں اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر دیا گیا ہے۔

بنیادی طور پر اس سیریز کے فونز اسٹینڈرڈ رینو فون کے اپ ڈیٹ ورژن اور مڈرینج سمجھے جاسکتے ہیں۔

رینو 2 میں 6.5 انچ ڈائنامک امولیڈ ڈسپلے، اسنیپ ڈراگون 730 پراسیسر، 8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے۔

اس کے بیک پر 48 میگا پکسل مین کیمرا، 8 میگا پکسل وائیڈ اینگل کیمرا، 13 میگا پکسل ٹیلی فوٹو لینس، 2 میگا پکسل مونوکروم سنسر دیا گیا ہے جس کے ساتھ 5 ایکس ہائیبرڈ اور 25 ایکس ڈیجیٹل زوم موجود ہے۔

اس کے فرنٹ پر شارک فن کی شکل میں 16 میگا پکسل پوپ اپ سیلفی کیمرا موجود ہے جس کے ساتھ ایل ای ڈی فلیش بھی دی گئی ہے۔

فوٹو بشکریہ اوپو
فوٹو بشکریہ اوپو

رینو 2 زی اور رینو 2 ایف فیچرز کے لحاظ سے کمتر سمجھے جاسکتے ہیں جن میں ورٹیکل پوپ اپ سیلفی کیمرا دیا گیا ہے۔

رینو 2 زی میں میڈیا ٹیک ہیلیو پی 90 پراسیسر دیا گیا ہے جبکہ رینو 2 ایف میں ہیلیو پی 70 پراسیسر موجود ہے، دونوں فونز میں 6 جی بی ریم دی گئی ہے جبکہ 6.5 انچ او ایل ای ڈی ڈسپلے ہے۔

دونوں فونز میں بھی بیک پر 4 کیمرے موجود ہیں، جن میں 48 میگا پکسل کیمرا، 8 میگا پکسل وائیڈ اینگل کیمرا، 2 میگا پکسل مونوکروم لین اور 2 میگا پکسل پورٹریٹ لینس شامل ہیں۔

ان تینوں فونز میں یو ایس بی ٹائپ سی، وی او او سی 3.0 فاسٹ چارجنگ سپورٹ، ہیڈ فون جیک، 4000 ایم اے ایچ بیٹری، ڈسپلے کے اندر فنگر پرنٹ سنسر اور اوپو کلر او ایس 6.1 آپریٹنگ سسٹم کا امتزاج اینڈرائیڈ پائی سے کیا گیا ہے۔

فوٹو بشکریہ اوپو
فوٹو بشکریہ اوپو

رینو 2 کی قیمت 515 ڈالرز (81 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) جبکہ 2 زی کی 415 ڈالرز (65 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) رکھی گئی ہے 2 ایف کی قیمت کا فی الحال اعلان نہیں کیا گیا۔

یہ فونز سب سے پہلے بھارت میں دستیاب ہوں گے اور آئندہ چند ہفتوں میں دیگر ممالک میں پیش کیے جائیں گے۔

کیا 10 ستمبر کو آئی فون 11 لانچ کیا جائے گا؟

کیلیفورنیا: ہر سال کی طرح اس سال بھی آئی فون کے اگلے ماڈل یعنی آئی فون 11 کا بڑی شدت سے انتظار کیا جارہا ہے۔ اس کے تین ورژن پیش کیے جائیں گے جو بالترتیب آئی فون 11، آئی فون 11 آر اور آئی فون 11 میکس ہوں گے۔ متوقع طور پر ان ڈیزائنز کی قیمتیں بھی 1000 ڈالر سے 1300 ڈالر کے درمیان ہوں گی۔

ویسے تو آئی فون 11 کی بیشتر تفصیلات منظرِ عام پر آچکی ہیں لیکن اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ اسے کس تاریخ کو لانچ کیا جائے گا۔ ’’سی نیٹ نیوز‘‘ میں موبائل سیکشن کی سینئر ایڈیٹر ’’لائن لاء‘‘ نے اس بارے میں پیش گوئی کرتے ہوئے اپنے تازہ بلاگ میں لکھا ہے کہ نئے آئی فونز کی تقریبِ رونمائی متوقع طور پر 10 ستمبر کو ہوگی جبکہ 20 ستمبر سے ان کی سپلائی شروع کی جائے گی۔

اس اندازے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ امریکا میں ’’لیبر ڈے‘‘ ہر سال ستمبر کے پہلے پیر کو منایا جاتا ہے۔ گزشتہ سات سال کے دوران آئی فون کی تقریبِ رونمائی لیبر ڈے والے ہفتے میں یا پھر اس سے اگلے ہفتے کے دوران، منگل یا بدھ کے روز منعقد کی جاتی رہی ہے۔ جس سال میں لیبر ڈے 3 ستمبر یا اس سے پہلے کی کسی تاریخ کو پڑا، تو آئی فون کے نئے ماڈل کی تقریبِ رونمائی اس سے اگلے ہفتے میں منعقد کی گئی۔ تاہم جس سال لیبر ڈے 5 ستمبر یا اس کے بعد والی تاریخ میں آیا، تو اس سال ایپل کارپوریشن نے آئی فون کا نیا ماڈل اسی ہفتے کے دوران (منگل یا بدھ کے روز) عوام کے سامنے پیش کیا۔

امریکا میں اس سال لیبر ڈے 2 ستمبر کو پڑ رہا ہے اس لیے نیا آئی فون لانچ ہونے کی متوقع تاریخ اس سے اگلے ہفتے میں آنے والے منگل یا بدھ کا دن ہوسکتا ہے۔ منگل کو 10 ستمبر جبکہ بدھ کو 11 ستمبر ہوگی۔ البتہ 11 ستمبر 2019 کو نائن الیون کے اٹھارہ سال بھی مکمل ہورہے ہیں اس لیے گیارہ ستمبر کو آئی فون کا نیا ورژن لانچ کرنے کا امکان، نہ ہونے کے برابر ہے۔

ان تمام باتوں کی بنیاد پر لائن لاء کا کہنا ہے کہ آئی فون 11 کی لانچ ڈیٹ، کم و بیش یقینی طور پر، 10 ستمبر 2019 ہی ہوگی۔

دنیا کا پہلا آل اسکرین فون ستمبر میں متعارف ہونے کا امکان

دنیا کا پہلا لگ بھگ سو فیصد باڈی ٹو اسکرین ریشو والا اسمارٹ فون ستمبر میں متعارف کرایا جارہا ہے۔

ویوو نیکس 3 کو حقیقی معنوں میں آل اسکرین فون قرار دیا جارہا ہے جس میں خم ایجز کو بڑھایا جائے گا جس سے بیزل خودکار طور پر کم ہوجائیں گے۔

اس فون کی پروموشنل ویڈیو بھی کمپنی نے جاری کی ہے اور اس کا ڈیزائن دیگر کمپنیوں کے اسمارٹ فونز کو بھولنے پر مجبور کردیں گے۔

اس نئے فون میں اسکرین ایجز لگ بھگ فون کے بیک تک ہوں گی اور بظاہر اس میں کوئی بٹن نہیں ہوگا۔

ویوو کے پراڈکٹ منیجر لی شیانگ کے ایک سوال پر نیکس کے آفیشل اکاﺅنٹ میں یکم ستمبر لکھا گیا، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ اس دن یہ فون متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

ویسے تو یقینی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے مگر یہ واضح ہے کہ یہ فون ستمبر میں پیش کردیا جائے گا۔

اس فون میں فائیو جی سپورٹ دی جائے گی اور پروموشنل ویڈیو مین اس کی جھلک بھی دیکھی جاسکتی ہے جبکہ بیک پر 3 کیمرے دیئے جارہے ہیں۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

ویڈیو سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس میں پوپ اپ سیلفی کیمرا دیا جارہا ہے جو کہ ویوو فونز میں نیا نہیں، مگر اس بار نیکس 3 میں ڈوئل سیلفی کیمرا دیا جارہا ہے۔

اس کے بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ درمیان میں دیا جائے گا جو کہ کسی گھڑی سے ملتا جلتا ہوگا۔

اس فون میں اسنیپ ڈراگون 855+ پراسیسر دیئے جانے کا امکان ہے جو کہ فائیو جی اسپیڈ کے لیے اسنیپ ڈراگون ایکس 50 موڈیم کو سپورٹ کرتا ہے۔

ویوو کا پہلا نیکس فون دنیا کا پہلا فون تھا جس میں سلائیڈ آﺅٹ کیمرا دیا گیا تھا جبکہ نیکس 2 میں آگے کے ساتھ پیچھے بھی ڈسپے دیا گیا تھا، جس میں پرائمری کیمرے کو سیلفی کے بھی استعمال کیا جاسکتا تھا۔

enter image description here

شیاؤمی کا 64 میگا پکسل کیمرے والا فون رواں ہفتے متعارف ہوگا

یل می دنیا کا سب سے پہلا 64 میگا پکسل کیمرے سے لیس اسمارٹ فون متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے مگر لگتا ہے کہ اس معاملے میں شیاﺅمی اسے شکست دینے کے لیے تیار ہے۔

درحقیقت شیاﺅمی کی جانب سے ریڈمی نوٹ سیریز کے نئے فونز 29 اگست کو متعارف کرائے جارہے ہیں، جن میں سے ایک میں 64 میگا پکسل کیمرا دیا جائے گا۔

شیاﺅمی کی جانب سے ریڈمی نوٹ 8 اور ریڈمی نوٹ 8 پرو کو چین میں ایک ایونٹ کے دوران پیش کیا جائے گا جبکہ کمپنی کی جانب سے فونز کے حوالے سے تفصیلات بھی جاری کی گئی ہیں۔

چیی سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر ریڈمی برانڈ منیجر لیو ویبنگ نے اعلان کیا ہے کہ ریڈمی نوٹ 8 میں کوالکوم اسنیپ ڈراگون 665 پراسیسر دیا جائے گا جبکہ اس میں بیک پر 4 کیمرے ہوں گے، جن میں سے ایک 48 میگا پکسل سنسر سے لیس ہوگا۔

اس کے علاوہ سپر وائیڈ اینگل لینس، ڈیپتھ سنسر اور میکرو لینس بھی دیئے جائیں گے، کم روشنی کے لیے سپر نائٹ سین فنکشن بھی پہلی بار دیا جارہا ہے۔

اس فون میں 6.217 انچ ایچ ڈی پلس اٹی ایف ٹی ڈسپلے ہوگا جبکہ 2 سے 4 جی بی ریم اور 16 سے 64 جی بی اسٹوریج آپشن ہوں گے۔

جہاں تک ریڈمی نوٹ 8 پرو کی بات ہے تو اس میں بھی بیک پر 4 کیمرے ہوں گے جن میں سے ایک 64 میگا پکسل سنسر والا ہوگا۔

اس کے علاوہ 4500 ایم اے ایچ بیٹری، میڈیا ٹیک ہیلیو جی 90 ٹی پراسیسر دیا جائے گا اور یہ پراسیسر گیمنگ کے حوالے سے بہترین سمجھا جاتا ہے جیسے فورٹ نائٹ، پب جی موبائل اور کے او جی وغیرہ۔

نوٹ 8 پرو میں لیکوئیڈ کولنگ سسٹم بھی دیا جائے گا تاکہ صارفین زیادہ گرافک والی گیمز کو دیر تک کھیل سکیں اور فون بھی گرم نہ ہو۔

ایمیزون جنگلات کی آگ سے کاربن مونوآکسائیڈ کا غیرمعمولی اخراج

ناسا کےماہرین نے کہا ہے کہ 7 اگست سے شروع ہونے والی ایمیزون کے جنگلات میں آتشزدگی کے بعد کاربن مونو آکسائیڈ گیس کا خوفناک اخراج دیکھا گیا ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ایمیزون جنگلات کی آگ اب ایک چیلنج بن چکی ہے اور ناسا نے ایٹماسفیئرک انفراریڈ ساؤنڈر (اے آئی آر ایس) کے ذریعے یہ ڈیٹا حاصل کیا ہے۔ یہ حساس آلات ناسا نے ایکو سیٹلائٹ پر لگائے ہیں۔ یہ سیٹلائٹ فضائی آلودگی، فضائی درجہ حرارت سمیت دیگر اہم معلومات جمع کرتی ہے۔

ناسا کے مطابق 8 سے 22 اگست کے درمیان 18 ہزار میٹر یا 5500 میٹر بلندی تک کاربن مونو آکسائیڈ کےآثار ملے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگل کی آگ نے فضا میں غیرمعمولی طور پر کاربن مونو آکسائیڈ خارج کی ہے جو تصویر میں سبز، پیلے اور گہرے سرخ رنگ میں نمایاں ہے۔ ہر رنگ فی ارب حصے کاربن مونو آکسائیڈ کو ظاہر کرتا ہے۔

پریس ریلیز کے متن میں لکھا ہے کہ ’ سبز رنگ کا مطلب ہے کہ فضا میں ایک ارب میں سے ایک سو حصے کاربن ڈائی آکسائیڈ موجود ہے ۔ پیلا رنگ 120 حصے ارب بالحاظ حجم اور سرخ رنگت 160 حصے فی ارب کو ظاہر کررہا ہے جبکہ دیگر مقامات پر کاربن مونو آکسائیڈ کی مقدار اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔‘

ہم جانتے ہیں کہ کاربن مونو آکسائیڈ عالمی تپش اور کلائمٹ چینج میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور ایمیزون جنگلات کی ہولناک تباہی سے خارج ہونے والی یہ گیسی کئی ماہ تک فضا میں برقرار رہے گی۔ پھر تیز رفتار ہواؤں سے یہ زمین کے قریب پہنچ کر مزید نقصان کی وجہ بن سکتی ہیں۔

سرد جنگ میں جاسوسی کی وہ ٹیکنالوجی جو آج ہم سب استعمال کر رہے ہیں

ماسکو 4 اگست 1945۔ دوسری عالمی جنگ کا یورپی باب ختم ہوچکا تھا اور امریکہ اور سوویت یونین اپنے مستقبل کے تعلقات پر غور کر رہے تھے۔

امریکی سفارت خانے میں سوویت یونین کی ینگ پائینیئر آرگنائزیشن سے تعلق رکھنے والے نوجوان لڑکوں کے ایک گروہ نے دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان دوستی کی علامت کے طور پر ایک تحفہ پیش کیا۔

انھوں نے اس وقت روس میں امریکی سفیر ایویرل ہیریمین کو ہاتھ سے تیار کردہ امریکی مہر کا ایک طغرہ پیش کیا۔ اسے بعد میں صرف ‘دی تھِنگ’ کہا جانے لگا تھا۔

ظاہر ہے کہ ہیریمین کے دفتر نے لکڑی سے بنے ہوئے اس آرائشی پیس کی تلاشی لی ہوگی کہ کہیں اس میں خفیہ آلات تو نصب نہیں، مگر نہ اس میں تاریں ملیں نہ بیٹریاں، تو اس سے کیا نقصان ہو سکتا تھا؟

چنانچہ ہیریمین نے اس چیز کو نمایاں جگہ پر اپنے سٹڈی روم کی دیوار پر آویزاں کر دیا، جہاں سے یہ اگلے سات سال تک ان کی ذاتی گفتگو سنتی رہی۔

انھیں کبھی یہ احساس نہیں ہوسکتا تھا کہ یہ ڈیوائس 20 ویں صدی کے ذہین ترین دماغوں میں سے ایک لیون تھیریمین نے بنائی تھی۔

وہ اپنے نام پر موجود انقلابی برقی آل موسیقی کے لیے مشہور تھے جو بغیر چھوئے بجایا جا سکتا تھا۔

لیون تھیریمینتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionلیون تھیریمین 1927 میں پیرس میں اپنے نام پر موجود موسیقی کے آلے کا مظاہرہ کر رہے ہیں

وہ امریکہ میں اپنی اہلیہ لیوینیا ولیمز کے ساتھ رہتے تھے مگر پھر 1938 میں سوویت یونین واپس لوٹ آئے۔ ان کی اہلیہ نے بعد میں بتایا کہ لیون کو اغوا کیا گیا تھا۔ لیکن کچھ بھی ہو، انھیں فوراً ہی ایک جیل کیمپ میں کام سے لگا دیا گیا جہاں انھیں سن سکنے والی دیگر ڈیوائسز کے ساتھ ساتھ ‘دی تھِنگ’ ڈیزائن کرنے کے لیے مجبور کیا گیا۔

کچھ عرصے بعد امریکی ریڈیو آپریٹرز نے پایا کہ امریکی سفیر کی گفتگو ہوا کی لہروں پر نشر ہو رہی تھی۔ مگر یہ نشریات کافی ناقابلِ پیشگوئی تھیں: ریڈیو کی لہریں کہاں سے نشر ہورہی ہیں، یہ جاننے کے لیے جب سفارتخانے کی تلاشی لی گئی تو کوئی خفیہ آلہ نہیں مل سکا۔ اس راز کی تلاش میں ابھی مزید کچھ عرصہ لگنے والا تھا۔

سفیر کی گفتگو سن سکنے والی ڈیوائس ’دی تھنگ‘ کے اندر تھی۔ اور یہ ایک انتہائی سادہ سا اینٹینا تھا جس پر ایک چاندی کی جھلی چڑھا کر مائیک بنا دیا گیا تھا، اور ایک چھوٹے سے خانے میں چھپا دیا گیا تھا۔ اس میں نہ کوئی بیٹری اور نہ ہی توانائی کا کوئی دوسرا ذریعہ موجود تھا، کیونکہ دی تھنگ کو اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

 

جب سوویت سائنسدان امریکی سفارتخانے کی جانب ریڈیو لہریں پھینکتے تو یہ ڈیوائس فعال ہوجاتی۔ یہ اپنی جانب آنے والے سگنلز سے توانائی حاصل کرتی اور گفتگو واپس نشر کرتی۔ جب سوویت سگنل بند ہوجاتا تو یہ ڈیوائس بھی خاموش ہوجاتی۔

تھیریمین کے پراسرار آلہ موسیقی کی طرح دی تھنگ بھی شاید ایک ٹیکنالوجیکل پہیلی معلوم ہوتی ہو، مگر اپنی جانب آنے والے ریڈیو سگنلز سے فعال ہو کر معلومات واپس بھیجنے والی ڈیوائس کا تصور اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ریڈیو فریکوئنسی آئیڈینٹیفکیشن (آر ایف آئی ڈی) ٹیگز تقریباً ہر جگہ ہی استعمال ہو رہے ہیں۔

میرے پاسپورٹ میں بھی ایک ٹیگ ہے، اور ایسا ہی ایک ٹیگ میرے کریڈٹ کارڈ میں بھی ہے جس کی وجہ سے کسی آر ایف آئی ڈی ریڈر کے پاس گھما کر ہی ادائیگی کی جا سکتی ہے۔

لائبریری کی کتابوں میں بھی اکثر ٹیگز ہوتے ہیں جبکہ ایئرلائنز اکثر مسافروں کا سامان ٹریک کرنے کے لیے جبکہ دکانیں سامان چوری ہونے سے بچانے کے لیے اس کا استعمال کرتی ہیں۔

امریکہتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image caption26 مئی 1960 کو امریکہ نے اقوامِ متحدہ کے سامنے اس کی نشاندہی کی

ان میں سے کچھ میں کرنٹ کا ذریعہ موجود ہوتا ہے مگر تھیریمین کے آلے کی طرح ان میں سے زیادہ تر اپنی جانب آنے والے کسی ریڈیو سگنل سے توانائی حاصل کرتے ہیں۔ اس سے ان کی قیمت کم ہوجاتی ہے اور کم قیمت ہونا ہی ان کی مقبولیت کی وجہ ہوتا ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران اتحادی طیاروں نے آر ایف آئی ڈی کی ہی ایک صورت استعمال کی تھی۔ ریڈار جب کسی طیارے پر لہریں پھینکتا تو ٹرانسپونڈر کہلانے والا ایک آلہ ریڈار کی جانب ایک سگنل واپس بھیجتا جس سے یہ مطلب لیا جاتا کہ ‘ہم تمہارے ساتھی ہیں، ہمیں مار مت گرانا۔’

مگر جب سلیکون سے بننے والے سرکٹس کی سائز میں کمی ہونے لگی تو ایسے ٹیگز کا تصور بھی عام ہوا جنھیں آپ طیارے سے کہیں کم قیمت چیزوں پر بھی لگا سکتے ہیں۔

بار کوڈز کی طرح آر ایف آئی ڈی ٹیگز کو بھی کسی چیز کی فوراً شناخت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مگر بار کوڈز کے برعکس انھیں خودکار انداز میں سکین کیا جا سکتا ہے اور انھیں مخصوص روشنی کی سیدھ میں رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کچھ ٹیگز کو کئی فٹ دور سے پڑھا جا سکتا ہے، کچھ کو غلطیوں کے ساتھ ہی مگر مجموعوں کی صورت میں بھی پڑھا جا سکتا ہے۔

اور ان میں صرف بار کوڈ کے علاوہ اور بھی بہت کچھ محفوظ کیا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف کسی چیز کو پہچانا جا سکتا ہے، بلکہ اس ٹیگ میں یہ بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے کہ یہ مخصوص چیز کہاں اور کس دن تیار کی گئی تھی۔

آر ایف آئی ڈی ٹیگز کو 1970 کی دہائی میں ریل کے ڈبوں اور مویشیوں پر نظر رکھنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

آر ایف آئی ڈیتصویر کے کاپی رائٹALAMY
Image captionاس شرٹ میں ایک آر ایف آئی ڈی ٹیگ لگا ہوا ہے جس کی وجہ سے اسے پہننے یا دھونے سے قبل نکل دینے کی ہدایت کی گئی ہے

مگر سنہ 2000 کی ابتداء تک ٹیسکو، وال مارٹ اور امریکی محکمۂ دفاع نے مطالبہ کرنا شروع کر دیا کہ ان کے سپلائرز فراہم کیے جانے والے سامان پر ٹیگز لازماً چسپاں کریں۔ چنانچہ نتیجتاً آر ایف آئی ڈی ٹیگز ہر جگہ نظر آنے لگے۔

کچھ جوشیلے افراد نے تو اپنے جسموں میں بھی آر ایف آئی ڈی ٹیگز لگوا لیے جن کی مدد سے ان کے لیے دروازے کھولنا یا صرف ہاتھ کے اشارے سے سب وے میں سوار ہونا آسان ہوگیا۔

1999 میں گھریلو استعمال کی اشیا بنانے والی کمپنی پروکٹر اینڈ گیمبل میں کام کرنے والے کیوین ایشٹن نے آر ایف آئی ڈی کے گرد گھوم رہے اس تمام جوش و جذبے کے لیے ایک نئی اصطلاح ایجاد کی۔ انھوں نے کہا کہ آر ایف آئی ڈی بالآخر ہمیں انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) کی جانب لے جائے گا، یعنی ایک ایسی دنیا جس میں ہر چیز دوسری چیز سے منسلک ہوگی۔

مگر جلد ہی آر ایف آئی ڈی کے بارے میں سارا جوش و خروش چمک دھمک والی مصنوعات کی جانب مڑ گیا جس میں 2007 میں متعارف ہونے والے سمارٹ فون، سمارٹ واچ، سمارٹ تھرموسٹیٹ، سمارٹ سپیکر اور یہاں تک کہ سمارٹ کارز تک شامل ہیں۔

آر ایف آئی ڈیتصویر کے کاپی رائٹALAMY
Image captionصرف مصنوعات ہی نہیں بلکہ آر ایف آئی ڈی کو مویشیوں کی ٹریکنگ کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے

یہ تمام مصنوعات جدید ہیں، کمپیوٹنگ کی بے پناہ قوت رکھتی ہیں، مگر اس کے علاوہ یہ مہنگی بھی ہوتی ہیں اور انھیں کافی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

جب ہم آج انٹرنیٹ آف تھنگز کی بات کرتے ہیں تو ہم آر ایف آئی ڈی کی بات نہیں کرتے بلکہ ان ڈیوائسز کی بات کرتے ہیں۔ یہ اتنی پیچیدہ انجینیئرنگ والی ایک دنیا ہوگی جس میں آپ کا ٹوسٹر بلاوجہ آپ کے فرج سے رابطے میں ہوگا جبکہ ریموٹ کنٹرولڈ سیکس ٹوائز آپ کی ان عادات کے بارے میں بھی معلومات رکھتے ہوں گے جنھیں ہم نہایت ذاتی نوعیت کی سمجھتے ہیں۔

ایک ایسے دور میں رہنے کی وجہ سے ہمیں شاید حیران نہیں ہونا چاہیے جسے ماہرِ سماجیات شوشانہ زوبوف سرویلینس کیپٹل ازم یا ‘جاسوسانہ سرمایہ داری’ کہتی ہیں۔ اس دور میں لوگوں کی ذاتی زندگی پر نظر رکھنا ایک مقبول کاروباری ماڈل ہے۔

مگر اس تمام جوش اور فکر کے درمیان آر ایف آئی ڈی خاموشی سے اپنے کام میں مصروف ہے اور میں شرط لگا کر کہہ سکتا ہوں کہ اس کے عروج کے دن ابھی آگے ہیں۔

انٹرنیٹ آف تھنگز کے بارے میں ایشٹن کا نقطہ نظر سادہ تھا: کمپیوٹرز کو اگر صرف برقی دنیا کے بجائے حقیقی دنیا کے بارے میں فہم پیدا کرنی ہو تو انھیں ڈیٹا کی ضرورت ہوگی۔

انسانوں کے پاس اس ڈیٹا کے ساتھ کام کرنے سے زیادہ بہتر دوسرے کام ہیں، چنانچہ ایسی چیزیں بنائی جائیں گی جو خود ہی کمپیوٹر کو یہ معلومات فراہم کریں جس سے حقیقی دنیا ڈیجیٹل معنوں میں زیادہ قابلِ فہم بن جائے گی۔

ملائشیا: سکولوں کی لڑکیاں بد روحوں کے چنگل میں یا ذہنی دباؤ کا شکار

اس دن جمعہ تھا اور سہ پہر کا وقت، جب شمال مشرقی ملائشیا کے ایک سکول میں اچانک شور شرابا شروع ہو گیا اور افراتفری پھیل گئی۔ اس بگھدڑ کا مرکزی کردار ایک سترہ سالہ لڑکی سیتی نورالنساء تھی۔

سیتی بتاتی ہیں کہ اصل میں ہوا کیا تھا:

’ اسمبلی کی گھنٹیاں بج رہی تھیں۔

اس وقت میں اپنے ڈیسک پر بیٹھی تھی اور مجھے نیند آ رہی تھی۔ اچانک مجھے لگا کہ کسی نے بہت زور سے میرے کاندھے پر ہاتھ مارا۔

میں دیکھنے کے لیے پیچھے مڑی کہ کس نے مجھے اتنے زور سے مارا ہے۔

میں جیسے ہی پیچھے مڑی تو پورا کمرہ تاریکی میں ڈوب گیا۔

میں خوفزہ ہو گئی۔ میری کمر میں بہتدرد ہونے لگا، شدید چکر آنے لگے اور میں زمین پر گر گئی۔

اس سے پہلے کہ مجھے کچھ پتہ چلتا، میں ’کسی دوسری دنیا میں پہنچ چکی تھی جہاں ہر طرف خون ہی خون اور وحشت تھی۔

میں نے جو سب سے زیادہ ڈراؤنی چیز دیکھی وہ شیطان کا چہرہ تھا۔

وہ مسلسل مجھے ڈرا رہا تھا اور میرے لیے اس سے فرار ممکن نہیں تھا۔ میں نے چیخنے کے لیے اپنا منہ کھولا لیکن میری آواز بند ہو چکی تھی۔

اور پھر میں بے ہوش ہو گئی۔

Presentational white space

سیتی کی اس حالت کی وجہ سے پورے سکول میں خوف کی لہر دوڑ گئی اور چند ہی منٹ میں دوسری کلاسوں کی لڑکیوں نے بھی چیخنا چلانا شروع کر دیا اور ان کے رونے کی آوازیں تمام کمروں اور ہال میں گونجنے لگیں۔

ایک اور لڑکی کو بھی کوئی ’تاریک سایہ‘ دکھائی دیا اور وہ بھی بےہوش ہو گئی۔

Presentational white space
سیتی نورالنساء کا اپنا سایہتصویر کے کاپی رائٹJOSHUA PAUL FOR THE BBC
Presentational white space

دیکھتے ہی دیکھتے کیترہ نیشنل سیکنڈری سکول کی لڑکیوں اور سٹاف نے خود کو کمروں میں بند کر لیا اور سکول انتظامیہ نے روحانی علاج کے ماہر لوگوں کو بلا لیا تا کہ وہ خصوصی نماز اور دعائیں کر کے سکول کو شیطانی سائے سے نجات دلائیں۔

اور جب دن کا اختتام ہوا تو بتایا گیا کہ اس وقت تک 39 لڑکیوں کو شدید اعصابی تناؤ کی وجہ سے ہسٹیریا کے دورے پڑ چکے تھے۔

Short presentational grey line

ہسٹیریا کیا ہوتا ہے؟

اس کیفیت کو اجتماعی ہسٹیریا یا اجتماعی خلجان کی کیفیت کہتے ہیں جو تیزی سے پورے گروہ میں پھیل جاتی ہے، بغیر کسی وجہ کے لوگوں کی سانس پھول جاتی ہے اور وہ بےچین ہو جاتے ہیں۔

معروف امریکی میڈیکل سو شیالوجسٹ رابرٹ بارتھلمیو کہتے ہیں کہ یہ کیفیت دراصل شدید دباؤ کے اجتماعی رد عمل کے طور پر ہوتی ہے جس میں گروہ میں شامل اکثر لوگوں کا اعصابی نظام بہت تیزی سے کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔

اس قسم کا اجتماعی ہِسٹیریا کیوں ہوتا ہے، اسے اکثر لوگ نہیں سمجھتے اور نہ ہی ’ماس ہسٹیریا‘ کا اندراج ذہنی امراض کی فہرست میں کیا جاتا ہے۔ لیکن، کنگز کالج ہاسپٹل لندن سے منسلک ڈاکٹر سائمن ویزلی جیسے ذہنی امراض کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ ایک ’اجتماعی رد عمل یا رویہ‘ ہوتا ہے۔

اس کیفیت سے جو لوگ گزر رہے ہوتے ہیں ان کی علامات حقیقی ہوتی ہیں، یعنی واقعی ان کا دل ڈوب رہا ہوتا ہے، سر میں درد ہوتا ہے، سانس پھول جاتی ہے، جی متلانے لگتا ہے، حتیٰ کہ کچھ لوگوں کو باقاعدہ دورہ پڑ جاتا ہے۔

ڈاکٹر سائمن ویزلی بتاتے ہیں کہ اس انفرادی کیفیت کے کسی پورے اجتماع یا گروہ میں پھیل جانے میں جن چیزوں کا عمل دخل ہوتا ہے وہ اصل میں نفسیاتی اور معاشرتی عوامل ہوتے ہیں۔

Presentational white space
سیتی نورالنساءتصویر کے کاپی رائٹJOSHUA PAUL FOR THE BBC
Presentational white space

اس قسم کے واقعات کے شواہد ہمیں پوری دنیا سے ملتے ہیں اور کئی ممالک میں قرون وسطیٰ کی کتابوں وغیرہ میں اس کا ذکر بھی ملتا ہے۔ جہاں تک ملائشیا کا تعلق ہے تو یہاں سنہ 1960 کے عشرے میں فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں میں اجتماعی ہسٹیریا خاصا عام تھا۔ آج کل یہ ملائشیا میں سکولوں اور ہاسٹل میں رہنے والے بچوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔

Presentational white space
کتیرہ کی مسجدتصویر کے کاپی رائٹJOSHUA PAUL FOR THE BBC
Image captionکتیرہ کے قصبے میں کئی ایک مسجدیں ہیں
Presentational white space

رابرٹ بارتھلمیو کئی برس سے ملائیشا میں اس اجتماعی ذہنی کیفیت کا مطالعہ کر رہے ہیں اور وہ ملائشیا کو ’دنیا میں اجتماعی ہسٹیریا کا سب سے بڑا مرکز‘ قرار دیتے ہیں۔

ان کے بقول ’ملائشیا ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں مذہب اور روحانیت لوگوں کے ذہنوں میں راسخ ہے، خاص طور وہ لوگ جو دیہات اور زیادہ قدامت پسند گھرانوں میں پیدا ہوتے ہیں، وہ لوک کہانیوں اور مافوق الفطرت عوامل کی طاقت میں یقین رکھتے ہیں۔‘

لیکن، اس کے باجود ملائشیا میں یہ ایک ایسا موضوع ہے جسے حساس سمجھا جاتا ہے۔

اس قسم کے واقعات، باقی برادریوں کی نسبت، ملے برادری کی لڑکیوں میں زیادہ عام ہیں۔ یاد رہے کہ ملے برادری ملائشیا کی ایک اقلیتی برادری ہے۔

مسٹر بارتھلمیو کہتے ہیں کہ اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہ چیز خواتین میں بہت زیادہ ہوتی ہے، اور (ذہنی اور طبعی امراض کے ) علمی مواد میں سب کا اس بات پر اتفاق ہے۔

Presentational white space
کیلنٹان کا نواحتصویر کے کاپی رائٹJOSHUA PAUL FOR THE BBC
Presentational white space

ملے کمیونٹی کا پڈانگ لیمبک نامی گاؤں کلینٹن صوبے کے دارالحکومت کوٹا بھرو کے نواح میں ایک سرسبز مقام پر واقع ہے۔

یہ ایک ایسا چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں ہر کوئی ایک دوسرے کو جانتا ہے، یعنی ایسا دیہات جو ملائشیا کے اکثر لوگوں کو ان کے ماضی کے پرسکون ملائشیا کی یاد دلاتا ہے۔ یہاں کچھ ریستوران ہیں، بیوٹی پارلر ہیں، ایک مسجد ہے اور ایک اچھا سکول بھی۔

Presentational white space
سیتی نورالنساءتصویر کے کاپی رائٹJOSHUA PAUL FOR THE BBC
Image captionسیتی نورالنسا اپنے والدین کے ساتھ
Presentational white space

سیتی نورالنسا اپنے گھر والوں کے ساتھ ایک عام سے گھر میں رہتی ہیں جسے آپ اس کی سرخ چھت اور سبز دیواروں سے آسانی سے پہچان سکتے ہیں۔ باہر ایک پرانی موٹر سائیکل بھی کھڑی ہے جو سیتی اور ان کی بہت اچھی سہیلی، رشیدہ روزلان کی مشترکہ سواری ہے۔

’جس دن مجھے ’بدروحوں‘ نے اپنی لپیٹ میں لیا تھا، اس صبح بھی ہم دونوں اسی موٹر سائیکل پر سکول گئے تھے۔‘

Presentational white space
Siti Nurannisaaتصویر کے کاپی رائٹJOSHUA PAUL FOR THE BBC
Presentational white space

ہر نوجوان لڑکی کی طرح سیتی پر بھی ذہنی دباؤ کے اثرات ہوتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں سب سے زیادہ دباؤ کا سامنا سنہ 2018 میں تھا جب وہ سکول کے آخری سال میں تھیں اور سالانہ امتحان ہونے والے تھے۔

’میں کئی ہفتوں سے امتحانوں کی تیاری کر رہی تھی، تمام نوٹس یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن کچھ گڑ بڑ تھی، کیونکہ مجھے لگ رہا تھا کہ کوئی بھی چیز میرے دماغ میں بیٹھ نہیں رہی۔‘

اور پھر جب جولائی میں یہ واقعہ پیش آیا تو اس کے بعد سیتی نہ سو پا رہی تھیں اور نہ ہی ٹھیک سے کھا رہی تھیں۔ ان کی طبیعت بحال ہونے میں ایک مہینہ لگ گیا اور اس کے بعد بھی جب انھوں نے سکول جانا شروع کیا تو وہ بمشکل نارمل محسوس کر رہی تھیں۔

Short presentational grey line

ماہرین کہتے ہیں کہ ہسٹیریا کا اجتماعی دورہ اس وقت پڑتا ہے جب گروپ میں کسی ایک شحض کو ایسا محسوس ہونا شروع ہوتا ہے۔ اس پہلے شخص کو ’انڈیکس کیس‘ کہا جاتا ہے۔

اس کہانی میں ایڈیکس کیس سیتی تھیں۔

رابرٹ بارتھلمیو بتاتے ہیں کہ ہسٹیریا ’ایک رات‘ میں نہیں ہوتا، بلکہ یہ پہلے ایک بچے کو ہوتا ہے اور پھر بڑی تیزی کے ساتھ دوسروں تک پھیل جاتا ہے کیونکہ ان تمام بچوں کے دماغ میں ایک پریشر کُکر کی طرح دباؤ جمع ہوتا ہے۔

جب تمام بچے شدید ذہنی دباؤ میں ہوتے ہیں تو پھر پورے گروپ کو ہسٹیریا ہونے کے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے ہوتا کہ ایک کلاس فیلو ذہنی دباؤ سے بے ہوش ہو جائے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ کیفیت دوسرے بچے پر بھی طاری ہو جائے۔

Presentational white space
سیتی نورالنساءتصویر کے کاپی رائٹJOSHUA PAUL FOR THE BBC
Image captionسیتی کہتی ہیں کہ جب بدروح نے انھیں دبوچا تو ان کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا
Presentational white space

رشیدہ کبھی بھی بھُلا نہیں سکتیں کہ ان کی بہترین دوست سیتی نورالنسا کس حال میں تھی۔ ان کے بقول ’سیتی بالکل بے قابو ہو کر زور زور سے چیخ رہی تھی۔ کسی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کریں۔ ہم اتنے خوفزدہ ہو گئے تھے کہ سیتی کو ہاتھ لگانے سے بھی ڈر رہے تھے۔‘

رشیدہ اور نورالنسا ہمیشہ سے ایک دوسرے کے بہت قریب رہی ہیں، تاہم گذشتہ ایک سال کے دوران ان دونوں کا رشتہ اور بھی مضبوط ہو گیا ہے۔ رشیدہ کہتی ہیں کہ ’ہم دونوں جب اس واقعے کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہمیں اسے بھول کر آگے بڑھنے میں مدد ملتی ہے۔‘

Short presentational grey line

باہر سے دیکھیں تو سیتی اور رشیدہ کا سکول آپ کو ویسا ہی دکھائی دیتا ہے جیسے ملائشیا کے اس علاقے میں ہائی سکول ہوتے ہیں، یعنی بڑے بڑے درختوں کے سائے میں گھری ہوئی شوخ ہرے رنگ والی عمارت۔

سکول کے سامنے ’آنٹی زین‘ کا ڈھابہ ہے جہاں سے سکول کی لڑکیاں بڑے شوق سے چاول کے مختلف پکوان کھاتی ہیں۔ آنٹی زین بتاتی ہیں کہ گزشتہ سال اُس صبح خاصا حبس تھا، وہ اپنے ٹھیلے پر کھانا تیار کر رہی تھیں کہ اچانک سکول سے چیخوں کی آوازیں آنے لگیں۔

’چیخنے کی آوازیں اتنی زیادہ تھیں کہ انسان بہرہ ہو جائے۔‘

Presentational white space
سیتی کا سکولتصویر کے کاپی رائٹJOSHUA PAUL FOR THE BBC
سیتی کا سکول ایس ایم کے کتیرہ شہر کی ایک مصروف سڑک کے کنارے ہیں
Presentational white space

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کم از کم نو لڑکیوں کو دیکھا جنھیں مختلف کمروں سے اٹھا کر باہر لایا جا رہا تھا۔ یہ لڑکیاں ہاتھ پاؤں مار رہی تھیں اور سب چیخ رہی تھیں۔ ’یہ بڑا دلخراش منظر تھا۔‘

کچھ دیر بعد انھوں نے دیکھا کہ کوئی پیر صاحب اپنے شاگرد کے ساتھ وہاں پہنچے اور سکول کے اس چھوٹے سے کمرے میں چلے گئے جو نماز کے لیے مختص ہے۔ ’یہ دونوں کئی گھنٹے تک اس کمرے میں موجود رہے۔ اس دن جو ان لڑکیوں پر گزری، مجھے اسے دیکھ کر بچیوں پر بہت ترس آ رہا تھا۔‘

Presentational white space
Local vendorتصویر کے کاپی رائٹJOSHUA PAUL FOR THE BBC
Presentational white space

جولائی 2018 کے اس واقعے کے بعد سے سکول میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

سکول انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’مستقبل میں کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کی غرض سے ہم نے اپنے سکیورٹی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لیا اور سٹاف کے ایک اہلکار کو تبدیل بھی کیا۔‘

اہلکار کے مطابق سکیورٹی انتظامات میں بہتری کے علاوہ، سکول میں نماز کا انتظام بھی متعارف کرایا گیا ہے اور بچوں کے لیے نفسیاتی بہبود کی کلاسیں بھی شروع کی گئی ہیں۔

’سب سے پہلے سکیورٹی آتی ہے، لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس قسم کے واقعے کے بعد بچوں کی بحالی کے لیے دیگر اقدامات کرنا بھی اہم ہوتا ہے۔‘

اہلکار کی باتوں سے یہ واضح نہیں ہوا کہ روحانی اور نفسیاتی بحالی کی ان کلاسوں میں کیا ہوتا ہے، اور آیا یہ پروگرام ترتیب دینے میں ذہنی امراض کے کسی ماہر سے مشورہ بھی کیا گیا یا نہیں۔ اہلکار نے ہمیں اس حوالے سے مزید معلومات دینے سے انکار کر دیا۔

لیکن رابرٹ بارتھلمیو جیسے ماہرین کا پرزور مطالبہ ہے کہ ملائشیا میں سکولوں کے لڑکے لڑکیوں کو ہسٹیریا جیسے مسائل کے بارے میں تعلیم دینا ضروری ہے، کیونکہ ملک میں یہ مسئلہ خاصا زیادہ ہے۔

مسٹر بارتھلمیو کہتے ہیں ان بچوں کو بتایا جانا چاہیے کہ اجتماعی ہسٹیریا کیوں ہوتا ہے اور یہ کس طرح پھیلتا ہے۔ ’ان کے لیے یا بات سمجھنا بھی اہم ہے کہ ذہنی دباؤ اور پریشانی سے کیسے نمٹا جاتا ہے۔‘

ہم نے ملائشیا کی وزارتِ تعلیم سے بھی اس حوالے سے رائے جاننے کی کوشش کی، تاہم انھوں نے ابھی تک ہماری درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔

Presentational white space

کیلنٹان کے صوبے میں کتیرہ سیکنڈری سکول جیسے 68 سیکنڈری سکول ہیں، لیکن یہ وہ اکیلا سکول نہیں ہے جہاں اجتماعی ہسٹیریا کے واقعات پیش آئے ہیں۔

سنہ 2016 کی ابتدا میں صوبے کے کئی سکولوں میں اس قسم کے واقعات ہوئے تھے، جہاں ایک مقامی رپورٹر کے مطابق ’حکام اتنے زیادہ واقعات پر کنٹرول نہیں کر سکے اور انھیں صوبے کے تمام سکول بند کرنا پڑے۔‘

مذکورہ رپورٹر اور ان کے ساتھی کیمرا مین کو اچھی طرح یاد ہے کہ اس سال اپریل میں یہاں حالات کیا تھے۔

کیمرا مین شائی لِن کہتے ہیں کہ ’یہ اجتماعی ہسٹیریا کا موسم تھا اور ہر طرف اس قسم کے واقعات ہو رہے تھے، اور یہ وبا کی طرح ایک سکول سے دوسرے میں پھیل رہا تھا۔‘

کتیرہ کے قریب کے قصبے پینگکلان چیپا میں ہونے والے واقعے کو ذرائع ابلاغ میں بھی خاصی توجہ دی گئی۔ میڈیا میں آنے والی خبروں میں بتایا جا رہا تھا کہ کس طرح طلبا اور اساتذہ کو سکول کی عمارت کے کسی کونے میں کوئی ’سایہ‘ دکھائی دیتا تھا جس کے بعد کوئی چیز انھیں ’جکڑ‘ لیتی تھی۔ اس سائے یا بدروح سے تقریباً ایک سو طلبا اور اساتذہ متاثر ہوئے تھے۔

Google Analytics Alternative