سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

ڈرون چھتری بارش سے بچنے کا جدید طریقہ

ویب ڈیسک : تیز رفتار ٹیکنالوجی نے بنا چھتری کے بارش کے موسم میں باہر نکلنے کی مشکل آسان کر دی، ڈرون چھتری لیں اور بارش میں مزے سے گھومیں اور بنا بھیگے اپنی وڈیو بھی بنائیں۔ 

Channel24-HD-drone-umbrella

ذرائع کے مطابق  فینٹم فور ایمبریلا ڈرون جی پی ایس سسٹم کے ذریعے چلتا ہے، چھتری ڈرون کا مالک جہاں جہاں جائے گ ا، یہ چھتری والا ڈرون اس کے ساتھ چلتا جائے گا اور اسے بارش میں بھیگنے سے بچائے گا  ، ایمبریلا ڈرون کی رفتار چوالیس ، یہ ڈرون چھتری ابھی آزمائشی مراحل میں ہے، اس کی قیمت ایک ہزار تین سو پاؤنڈ ہو گی۔

اب انٹرنیٹ کے بغیر واٹس ایپ کا استعمال ممکن

واٹس ایپ نے اب ایپل آئی او ایس کے لئے نئی اپ ڈیٹس جاری کی ہیں جن کی بدولت اب آئی فون صارفین بھی انٹرنیٹ کنکشن کے بغیر واٹس ایپ استعمال کرسکیں گے۔

آئی فون پر انسٹال واٹس ایپ میں یہ قباحت تھی کہ اگر کبھی یہ اسمارٹ فون انٹرنیٹ سے کنکٹ نہ ہو تو واٹس ایپ سے میسج بھیجنے کی کوشش ناکام ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد جب آئی فون دوبارہ آن لائن ہوتا ہے تو صارف کو یہ پیغامات خود ہی بھیجنا ہوتے ہیں۔

آئی او ایس کے لئے واٹس ایپ کی نئی اپ ڈیٹ میں یہ جھنجھٹ ہی ختم کردیا گیا ہے: اگر آن لائن نہ ہونے پر کوئی پیغام بھیجنے کی کوشش ناکام ہوجائے تو کوئی بات نہیں۔ دوبارہ آن لائن ہونے پر واٹس ایپ ان پیغامات کو خودبخود بھیج دے گا اور صارف کو اپنے طور پر یہ کام کرنا نہیں پڑے گا۔ یہ فیچر اینڈروئیڈ پر چلنے والے واٹس ایپ ایپلی کیشن میں پہلے ہی سے موجود تھا جسے آئی او ایس میں بھی متعارف کروایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اب آئی فون صارفین بہ یک وقت 30 تصویریں تک منتخب کرکے انہیں ایک ساتھ واٹس ایپ پر بھیج سکتے ہیں۔ پہلے یہ حد 10 تصویروں تک تھی۔

واٹس ایپ (آئی او ایس ورژن) میں ایک اور اپ ڈیٹ یہ بھی دی گئی ہے کہ صارف اپنے پیغامات کے سلسلے (میسج تھریڈ) کا کوئی بھی حصہ سلیکٹ کرکے ڈیلیٹ کرسکتا ہے۔ پیغامات کے ان غیرضروری حصوں میں ٹیکسٹ کمنٹس کے علاوہ تصویریں اور ویڈیوز بھی شامل ہیں جنہیں ڈیلیٹ کرکے میموری میں دوسرے ڈیٹا کےلئے جگہ خالی کی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت آئی فون کےلئے واٹس ایپ کا تازہ ترین ورژن 2.17.1 ہے جو ایپل کارپوریشن کے آن لائن اسٹور ’’آئی ٹیون‘‘ سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے البتہ یہ آئی او ایس 7 یا اس سے بعد کے ورژن ہی پر کام کرسکتا ہے۔

نوکیا کا ایپل آئی پیڈ کے مدِمقابل ٹیبلٹ لانے کا فیصلہ

سلیکان ویلی: نوکیا نے اسمارٹ فونز کے علاوہ ٹیبلٹ پیش کرنے کی بھی پوری تیاری کرلی ہے جو اپنی جسامت اور کارکردگی میں ’’ایپل آئی پیڈ پرو‘‘ کے ہم پلہ ہوگا۔

موبائل ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے ایک معتبر ادارے ’’جی ایف ایکس بینچ‘‘ کے مطابق نوکیا نے اپنے اگلے ٹیبلٹ کمپیوٹر کو حتمی شکل دے دی ہے جس کی چوڑائی 18.4 انچ ہوگی یعنی وہ جسامت میں ایپل کارپوریشن کے ’’آئی پیڈ پرو‘‘ جتنا بڑا ہوگا؛ لیکن بات صرف یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی۔

مذکورہ ادارے کا کہنا ہے کہ بظاہر اس نئے نوکیا ٹیبلٹ میں اوکٹاکور اسنیپ ڈریگن پروسیسر کے ساتھ آرڈینو 540 جی پی یو (گرافیکل پروسیسنگ یونٹ) بھی ہوگا۔ اس ٹیبلٹ کی دوسری ممکنہ خصوصیات میں 4 جی بی ریم، 64 میگابائٹ انٹرنل اسٹوریج اور 12 میگا پکسل والے فرنٹ اور بیک کیمروں کے علاوہ ہر وقت انٹرنیٹ سے مربوط رہنے کےلئے ’’سم‘‘ کا اضافی آپشن بھی شامل ہوگا۔

واضح رہے کہ نوکیا کا پچھلا ٹیبلٹ کمپیوٹر ’’نوکیا سی ون‘‘ 2015 میں پیش کیا گیا تھا لیکن اندازہ ہے کہ اگلا نوکیا ٹیبلٹ اس سے کہیں زیادہ مختلف اور جدید ہوگا جسے آئندہ ماہ (فروری 2017 میں) ’’موبائل ورلڈ کانفرنس‘‘ کے موقع پر عوامی نمائش کے لئے رکھا جائے گا۔

یہ تمام باتیں اسی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس کی دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کرنے کے لئے نوکیا کس قدر شدت سے کوششوں میں مصروف ہے۔

مینار نما چھوٹا ایٹمی بجلی گھر

اوریگون: ’’نیواسکیل پاور‘‘ نامی ایک امریکی کمپنی نے ایٹمی بجلی گھر کا ایسا ڈیزائن تیار کرلیا ہے جو 50 میگاواٹ بجلی بناسکے گا لیکن اتنا چھوٹا ہوگا کہ ایک ٹرالر میں آسانی سے سما جائے گا البتہ اس کی اونچائی کسی 9 منزلہ مینار جتنی ہوگی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ کسی چھوٹے علاقے میں ایسے کئی ایٹمی بجلی گھر پہلو بہ پہلو نصب کیے جاسکیں گے اور یوں بہت کم جگہ استعمال کرتے ہوئے کہیں زیادہ بجلی بنائی جاسکے گی۔ اندازہ ہے کہ ایسے ایک ایٹمی بجلی گھر پر تقریباً 95 لاکھ ڈالر لاگت آئے گی اور ایک بار ایندھن بھرے جانے کے بعد کم از کم 3 سال تک مسلسل بجلی حاصل کی جاسکے گی۔

اس ایٹمی بجلی گھر کا ڈیزائن تکنیکی جائزے کے لیے امریکی محکمہ توانائی کے پاس جمع کروا دیا گیا ہے جہاں سے منظوری ملتے ہی ایسے پہلے ایٹمی بجلی گھر کی تیاری شروع کردی جائے گی۔

کمپنی کے مطابق اگرچہ اس ایٹمی بجلی گھر کی دیکھ بھال کے لیے عملے کی ضرورت ہوگی لیکن مروجہ ایٹمی بجلی گھروں کی نسبت یہ ضرورت بہت کم ہوگی۔ علاوہ ازیں ناگہانی حادثات سے بچنے کے لیے بھی اس میں کم درجے خالص یورینیم استعمال کی جائے گی جب کہ دیگر حفاظتی اقدامات اس کے علاوہ ہیں۔

محفوظ، کم خرچ اور چھوٹے بجلی گھروں کا یہ پہلا منصوبہ نہیں بلکہ Gen4Energy (سابقہ ’’ہائپریون‘‘) نامی ایک اور کمپنی اس سے پہلے ہی 255 میگاواٹ بجلی بنانے والی ’’نیوکلیئر بیٹریز‘‘ پر کام شروع کرچکی ہے۔

واضح رہے کہ اگرچہ ایٹمی توانائی کو دنیا میں کم آلودہ بجلی کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے لیکن یہ اب تک اس وجہ سے کم خرچ نہیں بن پائی ہے کیونکہ کسی بھی ایٹمی بجلی گھر میں تابکاری سے بچاؤ اور اسی نوعیت کے دوسرے حفاظتی اقدامات کے لیے بہت زیادہ اخراجات کرنے پڑجاتے ہیں جو اسے مہنگا اور غریب ممالک کے لیے ناقابلِ برداشت بنادیتے ہیں۔

2 ٹن وزنی بم لیجانے والا چینی اسٹیلتھ ڈرون

بیجنگ: چین نے ’تیز تلوار‘ کے نام سے ایک حیرت انگیز ڈرون تیار کیا ہے جو 4000 پونڈ وزنی بم اٹھا کر اضافی ایندھن بھرے بغیر دو دن تک مسلسل پرواز کرسکتا ہے۔

امریکی سائنسی جریدے کے مطابق اسے چین میں سائنس و ٹیکنالوجی کے پروگرام میں دوسرا انعام دیا گیا ہے اور یہ اپنی نوعیت کا واحد اسلحہ بردار ڈرون ہے جو نیٹو کی بجائے کسی ایک ملک نے تیار کیا ہے۔ چینی حکام اسے 2019 اور 2020 تک اپنے استعمال میں لانا چاہتے ہیں تاکہ غیرملکی بحری جہازوں کی جاسوسی اور اپنے علاقے کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

تیز تلوار کی دوسری اہم خاصیت اس کا ’’اسٹیلتھ‘‘ ہونا ہے یعنی یہ ریڈار پر نظر نہیں آتا۔ اسے ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنا نے بنایا ہے اور اس کے بازوؤں کے دائیں اور بائیں بم رکھنے کی جگہیں بنائی ہیں۔ جہاز کی لمبائی 33 فٹ اور بازوؤں کا گھیر 46 فٹ ہے ۔ اس کی پہلی آزمائشی پرواز نومبر 2017 میں متوقع ہے۔ دیکھنے میں یہ امریکی بی ٹو کا چھوٹا ماڈل اور امریکی ایکس 47 بی بمبار جیسا بھی دکھائی دیتا ہے۔

اس ہوائی جہاز میں مزید بہتری لاکر اسے اہم اہداف (ٹارگٹس) کو نشانہ بنانے کے علاوہ ہوا میں دیگر طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کے قابل بھی بنایا جائے گا۔ ایک مرتبہ مکمل طور پر ایندھن بھرجانے کے بعد یہ دو روز تک مسلسل پرواز کرسکتا ہے جبکہ اس دوران یہ 24000 ہزار کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کرسکے گا۔

واضح رہے کہ چین میں نئی نسل کے اسٹیلتھ طیاروں پر تیزی سے کام جاری ہے اور پنٹاگون کے مطابق اب تک چین ایسے چھ مختلف ماڈلز پر کام کرچکا ہے۔

سیلولر کمپنی زونگ نے واٹس کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت صارفین کیلئے زبردست پیکیج متعارف کرا دیا

لاہور : سیلولر کمپنی زونگ نے واٹس کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت صارفین کیلئے زبردست پیکیج متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت زونگ صارفین صرف 15 روپے کے عوض دن بھر واٹس ایپ کے ذریعے پیغامات بھیج سکتے ہیں اور وائس، ویڈیو کالنگ کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ کے ساتھ معاہدہ اپنے صارفین کو مناسب ریٹس پر بہترین سہولیات فراہم کرنے کے عزم کی جانب اور قدم ہے۔ واٹس ایپ کے پارٹنرشپ اور گروتھ ڈائریکٹر مبارک امام کا کہنا ہے کہ ”زونگ کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کے ذریعے وائس اور ویڈیو کالنگ کیلئے سب سے بہترین ایپلی کیشن کا پاکستان میں استعمال اور بھی آسان اور باسہولت ہو جائے گا اور ناصرف خطے کے لوگوں میں روابط بڑھیں گے بلکہ ملک بھر میں رابطہ کرنے میں آسانی ہو گی۔“

زونگ اور واٹس ایپ کے اشتراک سے صارفین کو مہیا کیا جانے والا یہ پیکیج حاصل کرنے کیلئے *4# ڈائل کریں اور روزانہ لاتعداد پیغامات بھیجیں اور وائس یا ویڈیو کالز کریں۔ اس پیکیج کے استعمال پر فیئر یوزیج پالیسی کااطلاق ہو گا جس کے مطابق صارف 24 گھنٹوں میں 300 ایم بی تک استعمال کر سکے گا۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ پیکیج صرف اور صرف واٹس ایپ کے استعمال کیلئے ہے اور اس کے علاوہ انٹرنیٹ استعمال کرنے پر ریگولر چارجز لاگو ہوں گے۔

پاکستانی طلبا کا طب کی دنیا میں بڑا کارنامہ

کراچی: جامعہ کراچی اور سرسید یونیورسٹی  کے طالبعلموں نے دل کے دورے سے خبردار کرنے والا ایک آلہ بنایا ہے جو کسی مریض میں ہارٹ اٹیک کا پتا لگا کر خبردار کرسکتا ہے اور وہ قریبی عزیزوں کو ایس ایم ایس سے مطلع کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

جامعہ میں واقع ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکیولرمیڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی ) کی پی ایچ ڈی طالبات اور سرسید یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ایک طالبعلم نے مشترکہ طور پر یہ آلہ تیار کیا ہے۔ پاکستان میں تیار کیا جانے والا یہ اپنی نوعیت کا واحد پروٹوٹائپ ہے جس میں موجود سرکٹ ڈسپلے پر دل دھڑکنے کی رفتار ظاہر کرتا رہتا ہے۔

فی الحال یہ ایک نمونہ یا پروٹوٹائپ ہے جسے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔  صبا مجید، کنول افتخار، ماہا شاہد، عائشہ عزیز، مہوش سبحان، مہوش تنویراور مریم آسکانی نے اس کے پیرامیٹرز اور اصول وضع کئے ہیں جب کہ سرکٹ ڈیزائننگ اور تیاری کا کام سعد احمد خان نے کیا ہے جو سرسید یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ تمام طالبات نے یہ پروجیکٹ ڈاکٹر پروفیسر شبانہ سیم جی کی نگرانی میں بنایا ہے۔

ٹیم میں شامل طالبات پی سی ایم ڈی میں فارماکولوجی میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ ان میں ایک بلوچ طالبہ مریم آسکانی بھی ہیں جو کراچی کے علاقے لیاری میں رہائش پذیر ہیں اور اپنے خاندان میں ڈاکٹریٹ کرنے والی پہلی لڑکی ہیں۔ مریم نے بتایا کہ انہیں بچپن سے ہی پڑھنے کا شوق تھا اور اب ان کی تعلیم کو دیکھ کر خاندان کے دیگر لوگ بھی اپنی بچیوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کررہے ہیں۔

صبا مجید نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آلے کو انگلی پر پہنا جاتا ہے جو نبض اور جسمانی درجہ حرارت کو نوٹ کرتا رہتا ہے ۔ اگریہ دونوں اشاریئے معمول سے ذیادہ یا کم ہوں تو اس کا الارم بج جاتا ہے اور اس میں جی ایس ایم ٹیکنالوجی سے مریض کے مقام کی نشاندہی بھی کی جاسکتی ہے جبکہ سم کارڈ کے ذریعے ایمبولینس، ڈاکٹر، عزیز رشتے دار سمیت کئی افراد کو ایس ایم ایس کے ذریعے مریض کی کیفت سے آگاہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

ہارٹ اٹیک ڈٹیکشن ڈیوائس نامی یہ آلہ ای سی جی کی  جگہ تو نہیں لے سکتا لیکن ابتدائی صورتحال سے خبردار کرسکتا ہے۔ دل کے دورے میں فوری طور پر ابتدائی طبی امداد ضروری ہوتی ہے اور ہر گزرتا ہوا منٹ بہت قیمتی ہوتا ہے۔ اسی لیے ابتدائی حالت ظاہر کرکے یہ جانی نقصان سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

طالبات کے مطابق اسے اسلام آباد میں منعقدہ ایک اختراعاتی مقابلے کے لیے طبی و حیاتیاتی اختراع کے زمرے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اس مقابلے کا نام ڈسٹنگوئشڈ انوویشن کولیبریشن اینڈ اینٹرپرونیئرشپ (ڈائس) تھا جہاں اس نے پہلا انعام حاصل کیا تھا۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اس پروٹوٹائپ کی تیاری پر 30 ہزار روپے کی لاگت آئی ہے تاہم تمام طالبات نے اتفاق کیا کہ اسے مریضوں پر آزمانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ آلے کی معیاربندی اور کیلبریشن  کی بہت ضرورت ہے جو فیلڈ ورک کے بعد ہی ممکن ہوگی۔ دوسری جانب پورے آلے کو کسی کڑے (ہینڈ بینڈ) میں سمونے سے یہ مزید بہتر، مختصر اور مؤثر ہوسکتا ہے۔

صبا مجید کے مطابق اس کامیابی کے بعد ہمیں مزید وسائل کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ امراضِ قلب کے ماہرین، بایومیڈیکل انجینئر اور دیگر پروفیشنلز کی ایک سرگرم ٹیم کی ضرورت ہے تاکہ اس کام کو مزید آگے بڑھایا جاسکے۔ دوسری جانب اس کی کامیابی کے لیے امراضِ قلب کے ماہرین اور بایو میڈیکل انیجینئروں پر مشتمل ایک ماہرانہ ٹیم کی ضرورت پر بھی زوردیا گیا ہے۔

ایشیا : ای ویسٹ میں اضافہ، صحت پر اثرات مرتب

نیویارک : اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایشیا میں الیکٹرنک کوڑاکرکٹ میں نہایت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث انسانی صحت اور ماحول پر مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

Channel24-HD-electronics 

ذرائع کے مطابق ایشیا میں الیکٹرونک چیزوں کے کوڑا کرکٹ میں میں 64 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی اصل وجہ لوگوں کی خریدو فروخت میں بے انتہا اضافہ ہے۔

Channel24-HD-ewaste-worker

الیکٹرونک چیزوں کے کوڑے کے باعث ماحول اور انسانی صحت پر اثر انداز ہو رہے ہیں ، ان کوڑے کے ڈھیروں کو مناسب استعمال میں لانے کیلئے کوئی جامع طریقہ موجود نہیں ہے۔

Channel24-HD-electronic-waste

واضح رہے کہ ایشیاء میں سب سے زیادہ ای ویسٹ چین ، ہانگ کانگ اور سنگاپور میں موجود ہے۔

Google Analytics Alternative