سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

پاکستان میں YouTube کھول دی گئی

تازہ ترین اطلاع وزارت آئی ٹی حکام نے بتایا ہے کہ گوگل نے YouTube سے گستاخانہ مواد ہٹا دیا ہے،YouTube  کالوکل ورژن پاکستان میں لانچ کر دیا گیا ہے ۔ وزارت آئی ٹی حکام نےمزید بتایا گیا کہ قابل اعتراض مواداپ لوڈ ہونے کی صورت میں YouTube  انتظامیہ اس کوہٹا دیگی۔

PTA نے گستاخانہ مواد YouTube  سے ہٹانے کے حوالے سے سپریم کورٹ کو آگاہ کر دیا ہے ۔

اب کیلے لُوٹا ہوا مال برآمد کرانے میں استعمال ہونے لگے

گذشتہ ہفتے ممبئی میں ایک چور نے خاتون سے سونے کی چین چھینی اور اپنے جرم کو چھپانے کے لیے چین کو نگل لیا.

پولیس نے چور کو پکڑ تو لیا لیکن اُس نے چین چوری کرنے اور نگلنے کی تردید کردی، تاہم ہسپتال میں کیے گئے ایکسرے نے کچھ اور ہی کہانی سنائی اور رپورٹ سے واضح ہوگیا کہ چین اسی شخص نے نگلی تھی.

ڈاکٹروں کامشورہ تھا کہ آپریشن کے ذریعے چور کے پیٹ سے چین برآمد کی جائے لیکن ممبئی پولیس کے مطابق آپریشن بہت مہنگا ثابت ہوسکتا ہے، لہذا انھوں نے ایک انوکھا طریقہ ڈھونڈا اور چور کو کیلے کھلانے شروع کردیئے.

ممبئی پولیس کے سینیئر انسپکٹر شنکر دھنے واد کے مطابق چور کو پورے دن میں 40 سے زائد کیلے کھلائے گئے اور آخر کار چین برآمد کرلی گئی، جسے دھونے کے بعد جراثیم سے پاک کرلیا گیا.

دھنے واد کے مطابق مذکورہ 25 سالہ شخص کو جمعے کو عدالت میں پیش کیا گیا اور اب وہ پولیس کی تحویل میں ہے.

رپورٹس کے مطابق یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ممبئی پولیس نے کسی چوری کی گئی چیز کو برآمد کرنے کے لیے پھلوں کا سہارا لیا ہے.

گذشتہ برس جولائی میں ایک چور کو 2 درجن کیلے کھلانے اور کئی لیٹر دودھ پلانے کے بعد ایک چین برآمد کی گئی تھی.

اس سے قبل گذشتہ برس اپریل میں بھی ایک بڑے لاکٹ کے ساتھ چین کو نگلنے والے چور کو 5 درجن کیلے کھلا کر چین برآمد کی گئی تھی.

فرانس کی بیکری نےانوکھی پیسٹری متعارف کرا دی

پیرس:  کاروبار کو بڑھانے کے لیے نت نئے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں اور اس کے لیے مارکیٹنگ کے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں اسی طرح فرانس کی بیکری نے بھی اپنی اشیا کی فروخت بڑھانے کے لیے پیسٹریوں میں دو ہیرے چھپادیئے جس سے دکان پر لوگوں کا غیر معمولی رش بڑھ گیا۔پیرس میں واقع بیکری کے مالک نے اعلان کیا کہ ان کی دکان پر 800 پیسٹریاں موجود ہیں جن میں سے کسی دو میں ہیرے موجود ہیں۔ بیکری کی جانب سے اس تعارفی سیل کے دوران لوگ دیوانہ وار ان کی پیسٹریوں پر جھپٹ پڑے۔ بیکری کی جانب سے پیسٹریوں میں اعشاریہ 20 قیراط کا ایک سفید اور ایک نیلا ہیرا ڈالا گیا تھا جن میں سے ایک کی قیمت 600 یورو ( پاکستانی 67 ہزار روپے) ہے اور اسے جیتنے والے کو بعد میں مقامی جوہری کا سرٹیفیکٹ پیش کیا گیا جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ ہیرے اصلی ہیں۔ہیرے کو غلطی سے نگلنے سے بچانے کے لیے بیکری مالکان نے ان کے نمائندے بڑے اور جعلی ہیرے پیسٹری میں چھپائے تھے جنہیں دکھا کر وہ بیکری سے اصلی ہیرا لے سکتے ہیں۔اس سے قبل اسپین کی ایک بیکری نے اپنی ڈبل روٹی پرسونے کے ایسے ذرات چھڑکے تھے جنہیں کھایا جاسکتا تھا لیکن اس کی قیمت پاکستانی 15 ہزار روپے تھی۔ اس کے علاوہ ایک امریکی ریستوران میں 13 کلو رول ایک ہی باری میں کھانے والے کو زندگی بھر کے لیے ہوٹل سے مفت کھانا فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی تھی جسے اب تک کوئی بھی نہیں جیت سکا

پانی وخشکی پر دوڑنے والی لیموزین کارتیار

دنیا میں آرام دہ اور تیزرفتار کاروں کی بھرمار کے بعد مارکیٹ میں ایک ایسی کار متعارف کرائی گئی ہے جو خشکی پر تیز رفتاری سے چلنے کے ساتھ ساتھ پانی میں بھی تیر سکتی ہے۔دنیا کی یہ عجوبہ روزگار لیموزین آن لائن فروخت کے لیے پیش کی گئی ہے جس کی اب تک 15ملین ریال قیمت لگائی جا چکی ہے۔دس میٹر لمبی اس طاقتور کار میں ڈرائیور اور اس کے معاون کے ساتھ 12 دیگر افراد بھی سوار ہو سکتے ہیں۔ دنیا کی منفرد کار پانی میں 20 ناٹیکل میل فی گھنٹہ اور 500 سے 600 ہارس پاور کی طاقت سے سفر کی صلاحیت رکھتی ہے۔اخبارالبیان کی رپورٹ کے مطابق نوویاگ ٹینڈر 33 کو دبئی میں ا?ن لائن بولی کے لیے پیش کیاگیا ہے جس کی اب تک 15 ملین ریال قیمت لگائی جا چکی ہے۔

گوگل کی نئی اسمارٹ مسیجنگ سروس کی تیاری

گوگل ایک نئی موبائل مسیجنگ سروس کی تیاری پر کام کررہا ہے جس میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت) کو شامل کرکے حریف کمپنیوں بشمول فیس بک کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔میسجنگ سروسز اس وقت دنیا بھر میں مقبول ترین اپلیکشنز میں سے ایک ہیں اور ان کو استعمال کرنے والوں کی تعداد دو ارب سے زائد ہے۔مگر گوگل کی دو میسجنگ سروسز ہینگ آﺅٹ اور میسنجر فیس بک کی واٹس ایپ اور میسنجر سے تو کیا دیگر متعدد اپلیکشنز سے بہت پیچھے ہیں۔امریکی روزنامے وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق اپنی نئی سروس میں گوگل کی جانب سے چیٹ بوٹس کو شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جو ایسا سافٹ ویئر پروگرام ہے جو اس میسجنگ اپلیکشن کے اندر سوالات کے جواب دینے کا کام کرے گا۔صارفین اپنے دوستوں یا کسی چیٹ بوٹ کو ٹیکسٹ کرسکیں گے جو اس کے بارے میں ویب اور دیگر ذرائع سے معلومات حاصل کرکے کسی سوال کا جواب دے گا۔یہ ابھی واضح نہیں کہ گوگل کی جانب سے اس سروس کو کب تک متعارف کرایا جاتا ہے یا اسے کیا نام دیا جاتا ہے، بلکہ ابھی تو یہ سوال بھی باقی ہے کہ یہ کوشش کامیاب بھی ہوسکے گی یا نہیں۔صارفین عام طور پر میسجنگ سروسز کا حصہ اس لیے بنتے ہیں کیونکہ وہ دیگر صارفین کو جانتے ہیں، گوگل کو اس طرح کا نیٹ ورک تشکیل دینے میں جدوجہد کا سامنا کرنا پڑے گا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گوگل کی ایک ٹیم اس نئی سروس کی تیاری کے لیے کم از کم ایک سال سے کام کررہی ہے۔توقع کی جارہی ہے کہ اس سروس میں موسم، تصاویر، نیوز اور دیگر موضوعات پر سرچ کے لیے چیٹ بوٹس فراہم کیے جانے کا امکان ہے اور صارفین اس حوالے سے معلومات گوگل سرچ انجن پر تلاش کرنے کی بجائے ایک ٹیکسٹ میسج بھیج کر حاصل کرسکیں گے۔اس رپورٹ پر گوگل کے ترجمان نے بات کرنے سے انکار کیا۔

فیس بک میں کئی طرح کی نیوزفیڈز کا فیچر متعارف

اگر آپ اپنے فیس بک کے نیوز فیڈ پر پوسٹس کی بھرمار میں کٹوتی کے خواہشمند ہیں تو آپ کی یہ خواہش جلد پوری ہونے والی ہےسماجی رابطے کی یہ مقبول ترین سائٹ اپنی موبائل اپلیکشن میں ملٹی پل یا کئی طرح کے نیوز فیڈز کے فیچر کو چند محدود صارفین کے ذریعے آزما کر دیکھ رہی ہے۔مین فیڈ سے ہٹ کر بھی مخصوص ٹاپکس جیسے اسٹائل، ہیڈلائنز یا کسی اور کے ٹیب انٹرفیس کے اوپر اس فیچر کے تحت نظر آرہے ہیں۔ان میں سے آپ جس ٹیب کا انتخاب کریں گے تو آپ کے دوستوں یا پیجز کی متعلقہ پوسٹس نیوز فیڈ پر ظاہر ہونے لگیں گی۔فیس بک کا کہنا ہے کہ ابھی یہ فیچر آزمائشی مراحل میں ہے لہذا تمام صارفین تک اس کی رسائی میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔فیس بک کا روایتی نیوز فیڈ تو برقرار رہے گا تاہم آپ کے منتخب کردہ سیکشن کی پوسٹس اس پر زیادہ نظر آنے لگے گیں۔فیس بک کے ترجمان کے مطابق لوگ ہمیشہ ہم سے کہتے ہیں کہ انہیں نئے آپشنز دیکھنا پسند ہے اور ہم فیس بک پر وہی دیکھنا چاہتے ہیں جس میں ہمیں دلچسپی ہو۔اس فیچر سے ہٹ کر بھی فیس بک کی جانب سے محدود تعداد میں صارفین کو شاپنگ سیکشن یا مارکیٹ پلیس تک آسان تر رسائی بھی دی جارہی ہے اور اس ایپ کا ٹیسٹ ورژن ریکوئسٹس اور نوٹیفکیشنز کے درمیان دیا گیا ہے۔

امریکا لیزر لیس طیارے بنانے میں مصروف

میزائل اور بموں سے اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بنانا لڑاکا طیاروں کے لیے عام سی بات ہے اور اب جدید ٹیکنالوجی اس تاریخ کو بدل رہی ہے اور امریکا میں لیزر سے حملہ آور ہونے اور اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بنانے والے طیارے کو تیار کرنے کے منصوبے کا آغاز کردیا ہے۔امریکی فضائیہ کی ریسرچ لیبارٹری کے مطابق لیزر لڑاکا طیاروں پر بڑی تیزی سے کام جاری ہے اور انہیں 2020 تک میدان میں اتار دیا جائے گا۔ فضائیہ کی ریسرچ لیبارٹری کے چیف انجینئر کا کہنا ہے کہ یہ طیارے جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار ہوں گے اور امریکی ترقی کا منہ بولتا ثبوت بھی دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیزر ہتیھاروں سے لیس بڑے طیارے کئی سال سے منصوبے کا حصہ تھے لیکن اس کے راستے میں سب سے بڑی مشکل چھوٹی، درست اور طاقتور شعاعوں کو تخلیق کرنا تھا، جی فورس اور قریبی سپر سونک طیاروں کی رفتار اسے اور بھی مختلف بنا رہی تھی لیکن ان پر قابو پایا جا رہا ہے اور آئندہ 5 سال میں اس مسئلے کا حل نکال کر یہ طیارہ تیار ہوجائے گا۔امریکی فضائیہ کے چیف انجینئر کے مطابق اس کے علاوہ اسٹار ٹریک طرز کے بلبلے نما شیلڈ بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے جس میں ایک بلبلہ نما شیلڈ 360 ڈگری پر فائٹر جیٹ کے گرد چکر لگائے گی اور اس کی جانب آنے والے کسی بھی میزائل یا دوسرے ہتھیار کو تباہ کردے گی۔ ان کا کہنا تھاکہ اس طرح کی شیلڈ بنانے کےلیے ”ٹوریٹ“ کی ضرورت ہوتی ہے جو جیٹ کے ایرو ڈائنا مکس میں مداخلت نہیں کرتی جب کہ اس ٹوریٹ کا اس لیبارٹری میں کامیاب تجربہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے اور اسے بھی تیار کرنے پر کام جاری ہے۔ امریکی فضائیہ کے کمانڈر جنرل نے انکشاف کیا ہے کہ اس لیزر لیس طیارے کا ابتدائی ٹیسٹ آئندہ ایک سے دوسال میں کردیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ لیزر اور روایتی ہتھیاروں کے امتزاج سے لیس یہ طیارے آئندہ 20 سے 25 سال میں فضائی جنگ کا نقشہ ہی بدل ڈالیں گے۔لیزر ہتھیار کیسے کام کریں گے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے امریکی فضائی حکام کا کہنا تھا کہ طیارے میں نکلنے والی لیزرز کی توجہ اپنے ٹارگٹ پر ہوگی اور جیسے ہی یہ اپنے ٹارگٹ سے ٹکرائی گی اسے اتنا شدید گرم کردیں گی کہ وہ طیارہ گرماہٹ سے جل کر تباہ ہوجائے گا۔

برطانوی سائنسدانوں نے زلزلہ پروف بیڈ تیار کر لیا

برطانوی سائنسدانوں نے ایسا زلزلہ پروف بیڈ تیار کیا ہے جو زلزلہ آنے کی صورت میں از خود بند ہوجاتا ہے اور اس پر لیٹا ہوا انسان محفوظ رہے گا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق زلزلہ پروف بیڈ کا بنیادی نظریہ 2010 میں پیش کیا گیا مگراسے برطانوی ماہرین نے عملی شکل دے دی ہے جو رات کے اوقات میں سوتے وقت آنے والے زلزلے کے دوران عمارت کے گر جانے کے باوجود اس پر لیٹے انسان کو محفوظ رکھے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے کے آتے ہی بیڈ اچانک ایک باکس میں تبدیل ہو جائے گا اور اپنے اوپر شخص کو اپنے اندر بند کرلے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ زلزلے سے بہت جلد زیادہ خوف زدہ ہوجاتے ہیں اور اس کا فوری اثر لیتے ہیں ان کے لیے یہ بیڈ بہتر نہیں بلکہ ان کی قبر بن جائے گا البتہ جو لوگ زیادہ ہمت اور حوصلے سے کام لینے والے ہیں اور اس خوف کو برداشت کرسکتے ہیں وہ اس بیڈ کا استعمال کر سکتے ہیں جو انہیں زلزلوں میں محفوظ رکھ سکتا ہے۔ لیکن بعض ماہرین کاکہنا ہے کہ زیادہ دیر اس میں رہنے سے انسان کے سانس بند ہونے کا خدشہ بھی ہے اس لیے پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

Google Analytics Alternative