سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

ویڈیو بنانے اور اسے آن لائن اپلوڈ کرنے والی عینک متعارف

سان فرانسسكو: اس سال کے آخر تک اسنیپ چیٹ خصوصی سن گلاس متعارف کرائے گی جس میں لگا حساس کیمرہ 10 سیکنڈ کی وڈیو بناکر اسے ازخود اسنیپ چیٹ پر ریلیز کردیتا ہے۔ 

 

یہ عینک وائی فائی اور بلیو ٹوتھ کے ذریعے اسنیپ چیٹ ایپ کے ذریعے ویب سائٹ پر بھیج دیتی ہے۔ عینک کو اسپیکٹیکلز کا نام دیا گیا ہے جو انسانی آنکھ کی طرح ویڈیو بناتے بناتا اور اس لینس کا زاویہ 115 درجے رکھا گیا ہے۔

ویڈیو رکارڈ کرنے کے لیے چشمے کی کمانی پر لگا بٹن دبائیے جس کے بعد ویڈیو بننا شروع ہوجائے گی اور اگلے ورژن میں 30 سیکنڈ تک کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی جاسکے گی۔ لیکن کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے مطابق اس ایجاد کو دھیرے دھیرے منظرِ عام پر لایا جائے گا کیونکہ ہمیں دیکھنا ہے کہ لوگ اسے کس طرح استعمال کرتےہیں۔ اسنیپ چیٹ پر اس سال جون تک 10 ارب ویڈیو دیکھی گئی تھیں۔ تاہم اس کی آزمائش کے بعد لوگوں نے ویڈیو کے معیار کو حیران کن قرار دیا ہے۔ ان عینکوں کی تعارفی قیمت قریباً 130 ڈالر یا پاکستانی 13 ہزار روپے سے کچھ زائد رکھی گئی ہے۔


 

معروف سوشل میڈیا نیٹورک کے خلاف 2اہم ترین ممالک متحد ۔۔۔ بند کروانے کیلئے کوششیں تیز

نیویارک (این این آئی):سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے کہا ہے کہ رواں برس کے پہلے چھ ماہ میں اسے مواد ہٹانے سے متعلق ملنے والی درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس امریکی کمپنی کے مطابق حکومتوں اور پولیس کی جانب سے موصول ہونے والی درخواستوں میں 13 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، جب کہ اس میں ترکی اور روس ماضی کی طرح اب بھی آگے ہیں۔ ٹوئٹر کے مطابق مختلف ممالک اپنے داخلی قوانین کے تحت کسی مواد کے غیرقانونی ہونے پر اسے ویب سائٹ سے ہٹانے کی درخواست دیتے ہیں۔ اس کمپنی کے مطابق اْسے رواں برس جنوری سے جون تک اس طرح کی چار ہزار چار سو چونتیس درخواستیں موصول ہوئیں۔

بجلی کے تاروں کےذریعے تیز رفتار انٹرنیٹ پہنچانے کا منصوبہ

نیو جرسی: اے ٹی اینڈ ٹی لیبز نے ایک اچھوتے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت دور دراز علاقوں میں تاروں سے بجلی کے ساتھ ساتھ تیز رفتار انٹرنیٹ بھی پہنچایا جائے گا۔

پروجیکٹ ایئرگگ (Project AirGig) نامی اس منصوبے کی بدولت انٹرنیٹ کی سہولت بہم پہنچانے کے لیے بجلی کے کھمبوں پر وقفے وقفے سے خصوصی مواصلاتی آلات لگائے جائیں گے جو اِن تاروں میں دوڑنے والی بجلی کے ساتھ براڈ بینڈ انٹرنیٹ کے سگنل بھی شامل کردیں گے۔ یعنی اضافی تاریں بچھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ منصوبہ خاص طور پر ان دور دراز علاقوں، دیہاتوں، قصبوں اور آبادیوں کے لیے ہے جہاں بجلی تو موجود ہے لیکن وہاں تک مروجہ طریقوں کے ذریعے براڈ بینڈ انٹرنیٹ پہنچانا یا تو بے حد مشکل ہے یا پھر بہت مہنگا سودا ہے۔

فی الحال یہ پروجیکٹ ایئرگگ ابتدائی تجرباتی مرحلے پر ہے جس کے دوران تاروں سے بجلی کے ساتھ ساتھ ایک گیگا بٹ فی سیکنڈ کی برق رفتاری سے انٹرنیٹ ڈیٹا بھیجنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ البتہ اس ٹیکنالوجی کو عملی میدان تک پہنچنے اور استفادہ عام کے لیے دستیاب ہونے میں خاصا وقت لگ جائے گا۔ توقع ہے کہ اس پروجیکٹ کی نسبتاً بڑے پیمانے کی آزمائشیں اگلے سال شروع ہوجائیں گی۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو مزید 3 سے 4 سال میں یہ ٹیکنالوجی پختہ کرکے تجارتی مرحلے تک پہنچائی جاسکے گی۔

تاروں کے ذریعے بجلی کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ ڈیٹا کی منتقلی کم از کم 20 سال پرانا تصور ہے لیکن اب تک بہت سست رفتار انٹرنیٹ ہی ممکن ہوسکا ہے جس سے محدود پیمانے پر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں واپڈا بھی بجلی کے استعمال پر نظر رکھنے کےلیے برقی تاروں میں انٹرنیٹ سگنلوں کا سہارا لے رہا ہے لیکن یہ سہولت پورے پاکستان میں موجود نہیں۔

فیس بُک پر اسرائیل مخالف پوسٹیں نہیں کی جاسکیں گی

یروشلم: فیس بُک انتظامیہ جلد ہی اسرائیلی حکام کے تعاون سے یہ یقینی بنائے گی کہ فیس بُک پر کوئی بھی اسرائیل مخالف پوسٹ نہ لگائی جاسکے۔

یہ پہلا موقع ہوگا کہ جب کوئی بین الاقوامی نجی کمپنی کسی ملک کی ’’قانونی طور پر‘‘ تابعدار ہوجائے گی۔ فیس بُک عہدیداروں کے وفد نے اپنے حالیہ دورہ اسرائیل میں اسرائیلی وزیرِ داخلہ اور خاتون وزیرِ سے ملاقات میں اس پر اتفاق کیا کہ فیس بُک پر ایسی تمام پوسٹیں سینسر کردی جائیں گی جو اسرائیل مخالف ہوں یا جن کی وجہ سے اسرائیل میں ہنگامہ آرائی کا خدشہ ہو۔

اسرائیل کی شدید خواہش ہے کہ سوشل میڈیا اس کے مفادات کا احترام کرے اور فیس بُک سمیت، سوشل میڈیا کی کسی بھی ویب سائٹ پر ایسی کوئی عبارت، تصویر یا ویڈیو شائع نہ کی جاسکے جو اسرائیل مخالف ہو یا جس کی وجہ سے اسرائیل میں ہنگامہ آرائی کا خدشہ ہو۔ آسان الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ سوشل میڈیا اسرائیلی مظالم پر خاموش رہے۔ فیس بُک کی حد تک اسرائیل کی یہ خواہش جلد ہی پوری ہوجائے گی۔

اسرائیلی وزیر داخلہ اور وزیر قانون دونوں ہی کا شمار شدت پسند یہودیوں میں ہوتا ہے جو خود سوشل میڈیا پر فلسطینیوں اور عربوں سے نفرت پر مبنی مواد پیش کرتے رہتے ہیں۔ پہلے ایک موقعے پر وزیر قانون نے کہا تھا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم ہی نہیں کرتیں، اور انہوں نے ہی اسرائیلی کابینہ میں یہ تجویز دی تھی کہ سوشل نیٹ ورکس کو مجبور کیا جائے کہ وہ ایسا تمام مواد ہٹادیں جسے اسرائیل تشدد پر اُکسانے والا تصور کرتا ہو۔ اسرائیلی حکومت پچھلے 4 ماہ میں ’’تشدد پر اُکسانے والے مواد کو ہٹانے‘‘ کے لیے فیس بُک کو 158 جب کہ یوٹیوب کو 15 درخواستیں دے چکی ہے جن میں سے فیس بُک نے 95 فیصد اور یوٹیوب نے 80 فیصد درخواستیں منظور کیں۔

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ’’دی انٹرسیپٹ‘‘ نامی ویب سائٹ کے کالم نگار گلین گرین والڈ نے لکھا کہ اسرائیل اور فیس بُک میں تعاون سے سوشل میڈیا سینسرشپ کی ان کوششوں کا ہدف مسلمان، عرب اور فلسطینی لوگ ہی ہوں گے۔

بھارت بھی سوشل میڈیا کے حوالے سے اسی طرح کی غیراعلانیہ پالیسی پر عمل کررہا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف نہ صرف سیکڑوں احتجاجی فیس بُک پوسٹس ڈیلیٹ کی جاچکی ہیں بلکہ ایسی پوسٹوں پر مشتمل درجنوں فیس بُک پیجز بھی ڈیلیٹ کروائے جاچکے ہیں۔

اس کے برعکس مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے والی اور توہینِ رسالت پر مبنی لاکھوں فیس بُک پوسٹس آج تک موجود ہیں جنہیں ’’آزادئ اظہار‘‘ کے نام پر برقرار رکھا جارہا ہے۔

ٹویوٹا نے بغیر ایندھن طویل فاصلہ طے کرنے والی شاندار گاڑی متعارف کروا دی

اسلام آباد : معروف کمپنی ٹویوٹا نے اپنی نئی گاڑی پریوز پرائم 2017 کو متعارف کرا دیا ہے جو کہ اس کا ہائیبرڈ ماڈل ہے۔اس گاڑی کی پہلی جھلک رواں سال مارچ میں نیویارک آٹو شو میں پیش کی گئی تھی تاہم اب ٹویوٹا نے اسے مکمل طور پر متعارف کرا دیا ہے جبکہ اسے جلد فروخت کے لیے پیش کردیا جائے گا۔کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ اپنی پیشرو کے مقابلے میں الیکٹرک رینج کے مقابلے میں دوگنا بہتر ہے اور 120 میل فی گیلن سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ٹویوٹا نے اس نئی گاڑی میں الیکٹرک ڈرائیو موٹر اور ایک بڑی 8.8 کلو واٹ آور لیتھم اون بیٹری پیک کے ساتھ 1.8 گیسولین انجن دیا ہے۔اس بیٹری پیک کو چارج کرنے سے یہ گاڑی صرف بجلی کی طاقت سے ہی 84 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بائیس میل تک چلائی جاسکتی ہے جو کہ عام طور پر ایک طرفہ سفر کے لیے کافی ہے۔ایک بار جب بجلی کا چارج ختم ہونے لگے تو ہائیبرڈ آپریشن شروع ہوجاتا ہے ، جبکہ گاڑی میں 11.6 انچ ٹچ اسکرین پینل بھی موجود ہے۔ایل ای ڈی ہیڈ لائٹس سے بجلی کی موٹر کی طاقت بچانے میں مدد ملتی ہے جبکہ ٹویوٹا کے نئے حفاظتی سسٹمز کو بھی اس میں نصب کیا گیا ہے جو راہ گیروں کو شناخت کرکے آٹومیٹک بریک وغیرہ پر مبنی ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ اس گاڑی کو ری ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ توانائی کی بچت ہوسکے۔ابھی تک کمپنی نے اس کی فروخت کی تاریخ اور قیمت کا اعلان نہیں کیا تاہم توقع ہے کہ یہ لگ بھگ 25 سے 30 ہزار ڈالرز (25 سے 30 لاکھ پاکستانی روپے) کی ہوسکتی ہے۔

ایپل آئی فون کی فروخت کا آغاز کئی کلومیٹر طویل قطاریں لگ گئیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک):معروف امریکی کمپنی ایپل کی طرف سے آئی فون سیون کی فروخت کا آغاز مختلف ملکوں میں کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر اس نئے آئی فون کو خریدنے کے لیے گھنٹون قبل سے ہی لوگوں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ تاہم آسٹریلیا، جاپان اور ہانگ کانگ وغیرہ میں آئی فون سیون بہت جلد فروخت ہو جانے کی وجہ سے بہت سے صارفین کو خالی ہاتھ بھی لوٹنا پڑا۔ اس کے دو ماڈل پہلے ہی آن لائن فروخت ہو چکے ہیں اس لیے یہ دکانوں میں آنے والے صارفین کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔

سوشل میڈیا اور موبائل ایپس استعمال کرتے وقت محتاط رہیں

کراچی: اسمارٹ فون اور تھری جی/ فور جی کی بدولت سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر موجود دوسری ویب سائٹس تک رسائی اتنی آسان ہوگئی ہے کہ ہمارے روزمرہ معمولات کا حصہ بنتی جارہی ہے جب کہ آج انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے کوئی خاص مہارت درکار نہیں اور صرف چند سال کا چھوٹا بچہ بھی بہ آسانی انٹرنیٹ استعمال کرلیتا ہے لیکن اگر لاپرواہی برتی جائے تو یہی سہولت اور آسانی بہت سی مشکلات کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہےالبتہ سوشل میڈیا اور موبائل ایپس کے بارے میں کچھ احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے آپ خود کو ان مشکلوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

مضبوط پاس ورڈ: ای میل یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ میں سائن ان ہونے کے لیے پاس ورڈ ایسا رکھیے جو نسبتاً طویل ہو اور جس میں حروف کے ساتھ ساتھ اعداد بھی استعمال کیے جائیں۔ اس طرح کے پاس ورڈز مضبوط خیال کیے جاتے ہیں کیونکہ ہیکرز انہیں آسانی سے توڑ نہیں سکتے۔ اس کے علاوہ کوشش کریں کہ سال میں کم از کم 2 مرتبہ اپنا پاس ورڈ تبدیل کریں ورنہ ہیکنگ کی صورت میں آپ کا پرانا پاس ورڈ لمبے عرصے تک خطرے کا باعث بنا رہے گا۔

شیئرنگ میں احتیاط: سوشل میڈیا پر اپنے بارے میں بہت ہی نجی قسم کی معلومات نہ دیں۔ اگر کچھ ایسی باتیں ہیں جن سے آپ صرف اپنے دوستوں ہی کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں تو فیس بُک اور انسٹاگرام، دونوں پر یہ آپشن موجود ہے اس کا استعمال کریں۔

محفوظ پروٹوکول کا استعمال: سوشل میڈیا، ای میل اور ایسی دوسری ویب سائٹس HTTPS (سیکیور ہائپر ٹیکسٹ ٹرانسفر پروٹوکول) کا استعمال کرتی ہیں۔ یہ پروٹوکول ان ویب سائٹس تک محفوظ رسائی کو یقینی بناتا ہے۔ اگر کسی عوامی جگہ پر دستیاب انٹرنیٹ کنکشن سے لاگ اِن کرنے کا ارادہ ہو تو پہلے دیکھ لیں کہ متعلقہ ویب سائٹ کے ایڈریس میں کہیں صرف HTTP تو نہیں لکھا ہوا کیونکہ اگر ایسا ہے تو سمجھ لیں کہ آپ غیرمحفوظ نیٹ ورک کے ذریعے اپنی مطلوبہ سروس سے لاگ اِن ہورہے ہیں اور کسی بھی ہیکر کا آسان ہدف ثابت ہوسکتے ہیں۔

سوچ سمجھ کر دوست بنائیے: جب بھی سوشل میڈیا پر آپ کو دوستی کی درخواست موصول ہو تو سب سے پہلے درخواست بھیجنے والے کے بارے میں  معلومات حاصل کرلیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی دھوکے باز ہو اور مستقبل میں انٹرنیٹ پر جان پہچان بڑھا کر آپ کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہو۔

مدد کی جھوٹی درخواستیں:  یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کے کسی واقف کار یا دوست کا اکاؤنٹ ہیک کرلیا گیا ہو جس سے آپ کو مدد کے لیے فوری رقم مہیا کرنے کی درخواست دی جارہی ہو۔ ہیکروں کی جانب سے اس طرح کے حملوں کو ’’فشنگ اٹیک‘‘ کہتے ہیں۔ ایسی کسی بھی ای میل یا پیغام پر جذباتی ہونے کے بجائے پہلے اس فرد سے براہِ راست رابطہ کرکے یہ معلوم کریں کہ کیا اس نے واقعی آپ کو ای میل کی ہے یا نہیں۔ اگر وہ منع کرے تو فوری طور پر اسے پاس ورڈ تبدیل کرنے کے لیے کہیں۔

ضرورت سے زیادہ جاننے کی خواہشمند ایپس سے ہوشیار: غیر معروف اور نامعلوم کمپنیوں کی بنائی ہوئی ایپس اگر انسٹال کرتے وقت آپ سے بہت زیادہ سوالات کریں اور آپ کی کونٹیکٹ لسٹ تک رسائی بھی مانگ بیٹھیں تو ہوشیار ہوجائیں کیونکہ یہ کسی ہیکر کی چال بھی ہوسکتی ہے جو آپ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرکے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کرسکتا ہے۔

پاس ورڈ خفیہ رکھئے: اپنے ای میل/ سوشل میڈیا پاس ورڈز خفیہ رکھیں اور کسی کو بھی ان کے بارے میں نہ بتائیں۔ یہ بھی اہم ہے کہ کوئی سی بھی دو الگ الگ سروسز کے لیے یکساں پاس ورڈ ہرگز نہ رکھیں۔

زیادہ معلومات نہیں: سوشل میڈیا پر اپنے بارے میں صرف وہی معلومات دیں جنہیں فراہم کرنا اشد ضروری ہو، بہت ممکن ہے کہ آپ بے دھیانی میں اپنے متعلق کچھ ایسی معلومات فراہم کر بیٹھیں جنہیں استعمال کرکے کوئی ہیکر بہ آسانی آپ کو مالی، جسمانی اور نفسیاتی نقصان پہنچاسکے۔

ہر بات نہ بتائیے: سوشل میڈیا پر یہ رجحان بڑھتا جارہا ہے کہ لوگ اپنی چھوٹی چھوٹی باتوں سے لے کر ہوائی جہاز کے سفر اور خریدی گئی مہنگی چیزوں تک کے بارے میں معلومات شیئر کرارہے ہوتے ہیں۔ یہ معلومات مجرموں اور اغوا برائے تاوان کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کو آپ کی طرف متوجہ کرسکتی ہیں اور آپ کو ان کا اگلا ہدف بناسکتے ہیں۔

آٹو جیوٹیگنگ سے ہوشیار: کچھ سروسز جی پی ایس کی مدد سے آپ کے موجودہ مقام پر نظر رکھتی ہیں اور جیسے ہی آپ اپنا اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرتے ہیں وہ خود بخود آپ کی موجودہ جگہ بھی اس میں شامل کردیتی ہیں۔ یہ عمل آٹو جیوٹیگنگ کہلاتا ہے جو حفاظت کے نقطہ نگاہ سے بہت خطرناک ہے۔ اگر کسی سروس میں آٹو جیوٹیگنگ کا آپشن موجود ہے تو اس ڈس ایبل ہی رکھیں۔

اب پچھتاوے کا کیا فائدہ: آپ کا اسٹیٹس ہو یا کوئی تصویر، جو کچھ بھی آپ انٹرنیٹ پر شیئر کراتے ہیں وہ ہمیشہ کسی نہ کسی سرور پر موجود رہتی ہے، چاہے آپ اسے ڈیلیٹ ہی کیوں نہ کرچکے ہوں۔ اس لیے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر کچھ بھی شیئر کرانے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں ورنہ بعد میں پچھتانا بھی پڑسکتا ہے۔

حساس معلومات میں احتیاط: اگر آپ کسی کمپنی میں ملازم ہیں تو اپنے کام سے متعلق حساس یا خفیہ معلومات بھول کر بھی انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا پر پیش نہ کریں گا ورنہ آپ اپنی ملازمت سے بھی ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

ہیکرز کیلئے خوشخبری گوگل موبائل فونز ہیک کرنے والوں کو بھاری مالیت کی رقم دینے لگا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک): گوگل نے اپنے پراجیکٹ زیرو کے تحت ساڑھے تین لاکھ ڈالرز کے انعامات دینے کا اعلان کیا ہے جس کے لیے لوگوں کو بس ایک نیکسز سکس پی اور ایک فائیو ایکس کو ہیک کرنا ہوگا۔گوگل کے مطابق ہیک کرنے والے کو بس ڈیوائس میں محفوظ فون نمبرز اور ای میلز کو ہی جاننا ہوگا۔اسی طرح ہیکر کو ایسی کمزوری کو سامنے لانا ہوگا جس کی مدد سے کہٰں دور بیٹھ کر بھی دونوں فونز میں ایک ای میل یا ٹیکسٹ میسج بھیجا جاسکے۔گوگل کو توقع ہے کہ ان کمزوریوں کی دریافت پر اسے اپنی خامیوں پر قابو پانے میں مدد مل سکے گی۔گوگل آپ کی جانب سے جمع کرائی گئی معلومات سے جانے گا کہ کس طرح ہیکر کمزوریوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جبکہ اس سے بچنے کے لیے کیا حفاظتی اقدامات کرنا ہوں گے۔اگر تو آپ اس مقابلے کا پہلا انعام حاصل کرنے میں کامیاب رہے تو آپ کے حصے میں دو لاکھ ڈالرز یا دو کروڑ پاکستانی روپے سے زائد آسکتے ہیں۔اسی طرح دوسرا انعام ایک لاکھ ڈالرز جبکہ تیسرا پچاس ہزار ڈالرز ہے۔گوگل کے بقول گھر بیٹھے جیتنے کے لیے یہ کوئی بری رقم نہیں۔

Google Analytics Alternative