سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

یہ میسجنگ ایپ پاکستان میں مقبول کیوں ہورہی ہے؟

کیا آپ بھی ایک نئی میسجنگ اپلیکشن صراحة کو استعمال کرنا پسند کرتے ہیں جو لگتا ہے کہ پاکستان میں کسی طوفان کی طرح چھاتی جارہی ہے۔

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے زین العابدین توفیق نے گزشتہ سال ایک ویب سائٹ کے طور پر متعارف کرایا تھا جس کا مقصد دفتری ملازمین کو اپنے باسز کو اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر فیڈ بیک دینے کی سہولت فراہم کرنا تھا۔

ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے بتایا ‘ مجھے لگا تھا کہ کاروباری اداروں کے درمیان بہتر کمیونیکشن کی ضرورت ہے، اور شناخت ظاہر نہ ہونے پر فیڈ بیک دینا عام دفتری عملے کے لیے زیادہ آسان ہوگا’۔

مگر جلد ہی انہیں معلوم ہوا کہ بیشتر صارفین یہ جاننے کے خواہشمند ہیں کہ ان کے دوست اور رشتے دار ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں اور رواں سال جون میں اسے عام لوگوں کے لیے ایپ کی صورت میں متعارف کرا دیا گیا۔

اور چند ہفتوں میں دو کروڑ سے زائد صارفین حاصل کرنے کے بعد اب یہ پچیس ممالک میں ایپل کے ایپ اسٹور میں نمبرون اپلیکشن ہے جبکہ گوگل اسٹور پر بھی اسے کروڑوں مرتبہ ڈاﺅن لوڈ کیا جاچکا ہے۔

پاکستان میں بھی یہ تیزی سے مقبول ہوتی جارہی ہے، جس کے ذریعے کوئی بھی اپنے دوستوں اور دفتری ساتھیوں کو مشورہ، تبصرہ یا ان کی کمزوریوں یا مسائل وغیرہ سے شناخت چھپا کر آگاہ کرسکتا ہے۔

فیس بک اور ٹوئٹر پر صراحة استعمال کرنے والے افراد کی جانب سے اس کے اسپیچ ببل پیغامات کے اسکرین شاٹ پوسٹ کیے جارہے ہیں۔

اس ایپ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ہر ایک کو کسی بھی صارف کو ٹیکسٹ میسج شناخت چھپا کر بھیجنے کی سہولت دیتا ہے جبکہ اسے موصول کرنے والے کے پاس ردعمل ظاہر کرنے یا گفتگو جاری رکھنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا

سام سنگ کا سب سے ‘بہترین’ گلیکسی نوٹ متعارف

اگر آپ کو یاد نہ ہو تو گزشتہ سال یہی دن تھے جب سام سنگ نے اپنی تاریخ کا تباہ کن فون گلیکسی نوٹ سیون متعارف کرایا تھا جو اس کے لیے بہت بڑا دھچکا ثابت ہوا۔

تاہم اب جنوبی کورین کمپنی اس دھچکے سے باہر نکل چکی ہے اور اس نے اپنا نیا فلیگ شپ فون گلیکسی نوٹ 8 متعارف کرا دیا ہے اور اسے کمپنی کی اب تک کی سب سے بہترین ڈیوائس قرار دیا ہے۔

فیس بک نے بازار فیچر متعارف کرا دیا

 واشنگٹن: فیس بُک نے یورپ کے 17 ممالک میں ’مارکیٹ پلیس‘ کی سہولیات متعارف کرا دی ہیں جس کے تحت لوگ اپنے قریبی علاقے میں اشیا کی خریدوفروخت کر سکیں گے۔ 

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کریگ لسٹ کی طرح کی ایک سروس ہے جہاں لوگ اپنی اشیا فروخت اور خرید سکیں گے خواہ وہ پرانی اور غیر معیاری اشیا ہی کیوں نہ ہوں۔ واضح رہے کہ فیس بُک مارکیٹ پلیس کا اعلان سب سے پہلے 2016 کے اینڈروئڈ پلیٹ فارم پر کیا گیا تھا تاہم یورپ میں اسے فیس بُک ایپ کے ساتھ ساتھ فیس بک کی ڈیسک ٹاپ ورژن کے لیے بھی پیش کیا جا رہا ہے۔

اب یہ سروس آسٹریا، بیلجیئم، چیک ری پبلک، ڈنمارک، فِن لینڈ، فرانس، جرمنی، ہنگری، آئرلینڈ، اٹلی، لگسمبرگ، ہالینڈ، ناروے، پرتگال، اسپین، سویڈن، اور سوئزرلینڈ کے لیے پیش کی گئی ہے۔ تاہم اسے آسٹریلیا، کینیڈا، چلی، میکسکو، نیوزی لینڈ، اور برطانیہ میں پہلے ہی ریلیز کیا جا چکا ہے۔

جسمانی رطوبتوں سے توانائی حاصل کرنے والی بیٹری

شنگھائی: چینی سائنسدانوں نے ایسی بیٹری تیار کرلی ہے جو نہ صرف لچک دار ہے بلکہ اس میں توانائی بنانے کےلیے ایسے مادّے استعمال کیے گئے ہیں جو انسان کی جسمانی رطوبتوں (باڈی فلوئڈز) میں موجود ہوتے ہیں۔

شنگھائی کی فوڈان یونیورسٹی میں ڈاکٹر یونگانگ وانگ اور ان کے ساتھیوں نے یہ بیٹری ایجاد کی ہے جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ مستقبل میں ایسی ہی بیٹریاں طبی مقاصد کےلیے انسانی جسم کے اندر لگائے جانے والے مصنوعی آلات (میڈیکل امپلانٹس) کو توانائی فراہم کریں گی۔ ان بیٹریوں کو اور بھی جدید تر بنا کر اس قابل کیا جاسکے گا کہ وہ اپنا تمام ضروری ایندھن براہِ راست انسانی خون سے الگ کرلیں۔

روایتی لیتھیم آئن بیٹریاں اگر لیک ہوجائیں تو ان سے زہریلے مادّے خارج ہوتے ہیں جو انسان کےلیے شدید نقصان دہ بلکہ ہلاکت خیز بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی بیٹریوں کو انسانی جسم کے اندر نصب ہونے والے کسی بھی آلے کو توانائی بہم پہنچانے کےلیے خصوصی انتظامات کی ضرورت ہوتی ہے جن کے نتیجے میں یہ آلات بہت مہنگے ہوجاتے ہیں۔

سورج میں پانی

زمین سے سورج آگ کا دہکتا ہوا گولہ دکھائی دیتا ہے۔ ممکن ہے، کبھی آپ کے ذہن میں یہ سوال آیا ہو کہ کیا سورج کی بھڑکتی آگ پانی ڈال کر بجھائی جا سکتی ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ سائنس اس سلسلے میں کیا جواب دیتی ہے۔

عام انسان کے دماغ میں تو فوری طور پر تو یہی خیال آئے گا کہ اربوں گیلن پانی ہو تو شاید سورج کے شعلے ختم ہو جائیں۔ایسا سوچنا قابل فہم ہے کیونکہ آگ کیمیائی ردعمل کا نتیجہ ہوتی اور آکسیجن ملنے کے نتیجے میں بھڑکتی ہے۔ اس پر پانی ڈال کر آکسیجن ختم کرنے کی کوشش ہوتی ہے تاکہ اس کی شدت میں کمی آسکے لیکن خلا میں تو آکسیجن ہوتی نہیں تو پھر وہاں پانی کیا کام دے گا؟

شاید آپ کے لیے یہ بات حیران کن ہو کہ سورج دیکھنے میں تو آگ سے بنا ہوا ہے مگر یہ وہ آگ نہیں جو ہم زمین پر دیکھتے ہیں بلکہ یہ آگ جوہری فیوزن (Nuclear fusion) کے نتیجے میں بھڑکتی ہے۔اس کو پیدا ہونے کے لیے آکسیجن کی ضرورت نہیں ہوتی۔لہذا سورج پر پانی ڈالا گیا تو آگ میں کمی آنے کی بجائے الٹا ردعمل ہوگا اور وہ زیادہ بھڑک جائے گی۔

انٹارکٹیکا میں91 نئے آتش فشانوں کی دریافت

لندن: عالمی ماہرین کی ایک ٹیم نے برفانی براعظم قطب جنوبی یعنی انٹارکٹیکا میں 138 آتش فشانوں کا پتا چلایا ہے جن میں سے 91 ایسے ہیں جن کے بارے میں پہلی بار ہمیں علم ہوا ہے۔

ریموٹ سینسنگ نامی تکنیک استعمال کرتے ہوئے، خصوصی مصنوعی سیارچوں کے ذریعے انٹارکٹیکا کا جائزہ لینے کے بعد ماہرین نے ایک خصوصی رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس برفیلے براعظم پر ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ آتش فشاں پہاڑ موجود ہیں۔

البتہ ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ ان میں سے کتنے آتش فشاں سرگرم اور کتنے مردہ یعنی غیر سرگرم ہیں۔ یہ جاننا اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ سرگرم آتش فشاں کسی وقت بھی اچانک پھٹ پڑ سکتے ہیں اور ان سے خارج ہونے والا گرم لاوا اور راکھ زمینی ماحول کو شدید طور پر متاثر کرسکتے ہیں۔

گوگل نے نئے اینڈروئیڈ آپریٹنگ سسٹم کے نام کا اعلان کردیا

نیویارک: ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے اپنے نئے اینڈروئیڈ آپریٹنگ سسٹم ’’اینڈروئیڈ O‘‘ کا آفیشل نام جاری کردیا۔

گوگل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے نئے موبائل آپریٹنگ سسٹم کا نام ’’اینڈروئیڈ اوریو 8.0‘‘ ہوگا۔ اس طرح گوگل نے اپنے اینڈروئیڈ آپریٹنگ سسٹم کو کسی میٹھی چیز کا نام دینے کی روایت برقرار رکھی ہے، اس سے قبل اینڈروئیڈ ورژن کے نام بھی نوگاٹ، مارش میلو، لالی پاپ، کِٹ کیٹ، جیلی بین وغیرہ رکھے جاچکے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گوگل اپنے آپریٹنگ سسٹم کو ہمیشہ میٹھی چیزوں کے نام ہی دیتا ہے۔ کمپنی کے ترجمان نے تین برس قبل اپنے انٹرویو میں اس کی وجہ یہ بیان کی تھی کہ چونکہ اینڈروئیڈ دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ اسمارٹ فونز اور ٹیبلیٹس میں موجود ہے اور اس کی وجہ سے صارفین کی زندگی میں خوشیاں آتی ہیں لہٰذا خوشی کے موقع پر میٹھا ضروری ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے آپریٹنگ سسٹم کو میٹھی چیز کا نام دیتے ہیں۔

دس ہاتھیوں سے بھی زیادہ بھاری، دنیا کا سب سے بڑا ڈائنوسار

واشنگٹن: امریکن میوزیم آف نیچرل ہسٹری نے گزشتہ سال ایک بہت بڑے ڈائنوسار کے ادھورے رکازات (فوسلز) کو مختلف تکنیکوں کی مدد سے مکمل کیا جس سے معلوم ہوا کہ یہ 122 فٹ لمبا اور 63 ٹن وزنی ڈائنوسار تھا۔

اب اس کا تفصیلی جائزہ ریسرچ جرنل ’’پروسیڈنگز آف دی رائل سوسائٹی بی‘‘ میں شائع ہوا ہے جس میں اسے ’’پیٹاگوٹائٹن مایورم‘‘ (Patagotitan mayorum) کا نام دیتے ہوئے دعوی کیا گیا ہے کہ یہ اب تک کا دریافت ہونے والا، دنیا کا سب سے بڑا ڈائنوسار بھی ہے۔

اس کا عجیب و غریب نام ظاہر کرتا ہے کہ یہ ارجنٹینا کے علاقے ’’پیٹاگونیا‘‘ سے دریافت کیا گیا، اس کا تعلق دیوقامت ڈائنوساروں کے گھرانے ’’ٹائٹانوسارس‘‘ ہے جبکہ ’’مایورم‘‘ اس قبیلے کا نام ہے جو اس کے دریافت ہونے کی جگہ کے قریب واقع ہے۔

Google Analytics Alternative