سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

ایسی ٹارچ تیار,جو ایک جانب تو طاقتور روشنی فراہم کرتی ہے اور دوسری جانب گھاس پھوس میں آگ لگاسکتی ہے

لیزر آلات بنانے والی ایک کمپنی نے ایسی ٹارچ تیار کی ہے جو ایک جانب تو طاقتور روشنی فراہم کرتی ہے اور دوسری جانب گھاس پھوس میں آگ لگاسکتی ہے جب کہ ٹارچ پر برتن رکھ کر انڈے بھی تلے جاسکتے ہیں۔

ٹارچ کو چائنیز کمپنی نے تیار کیا ہے اور اس کا نام فلیش ٹارچ منی فلیش لائٹ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ 2300 لیومن کی حامل ہیلوجن لائٹ ہے جو آگ بھڑکاسکتی ہے۔ ٹارچ میں ہوائی جہاز میں استعمال ہونے والا  المونیم لگایا گیا ہے اور اس کا لینس اور ریفلیکٹر بھی گرمی سے خراب نہیں ہوتا۔ تھوڑی دیر ٹارچ کو کسی بھی جلنے والی شے کے پاس لایا جائے تو وہ دھواں دینے کے بعد بھڑک جاتی ہے۔ پھر اس ٹارچ پر براہِ راست چھوٹا برتن رکھ کرانڈہ تلا جاسکتا ہے لیکن یاد رہے کہ اس کی حرارت پلاسٹک پگھلاسکتی ہے۔

فلیش ٹارچ مِنی 100 چھوٹے بلبوں کے برابر روشنی دیتی ہے۔ اس کی لمبائی 8 انچ اور وزن 385 گرام ہے۔ لیکن اس کا چھوٹا ورژن بھی بنایا گیا ہے جسے فلیش ٹارچ مِنی کا نام دیا گیا ہے۔  اس میں روشنی کی شدت کے لحاظ سے 3 سیٹنگز ہیں اور پورے پاور پر یہ ایک گھنٹہ تک چل سکتی ہے جب کہ کم ترین شدت پر 100 منٹ تک روشنی دیتی رہتی ہے۔ چارجنگ کے لیے ایک بیٹری پیک دیا گیا ہے۔ ٹارچ کی قیمت 20 ہزار روپے رکھی گئی ہے جو اسے ایک بہت مہنگی شے بناتی ہے

انٹارکٹیکا میں دنیا کےسب بڑے تحفظ شدہ آبی حیاتیاتی مقام کی منظوری

نیوزی لینڈ: انٹارکٹیکا آبادی سے خالی برفیلا خطہ نہیں بلکہ یہاں سمندری حیاتیات سے تعلق رکھنے والے ایسے انوکھے جاندار موجود ہیں جنہیں اب تک مکمل طور پر سمجھا اور دریافت ہی نہیں کیا گیا ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ اب اسے دنیا بھر میں آبی حیات کا سب سے بڑا تحفظاتی مقام کا درجہ دیا جارہا ہے اور اس کی بین الاقوامی توثیق ہوچکی ہے۔

معاہدے کے تحت دسمبر 2017 سے انٹارکٹیکا کے جنوب میں واقع واقع روس Ross  سمندر کا چھ لاکھ مربع میل کا علاقہ زیرِ تحفظ ہوگا جہاں 72 فیصد رقبے پر تجارتی ماہی گیری پر مکمل پابندی عائد ہوگی کیونکہ اس سے قبل یہاں دنیا بھر کے بڑے بڑے جہاز مچھلیوں کا بے دریغ شکار کررہے تھے۔ بقیہ 28 فیصد علاقے پر محدود پیمانے پر مچھلیوں کے شکار کی اجازت صرف سائنسی تحقیق اور مطالعے کے لیے دی جائے گی۔

اس کا اعلان انٹارکٹک میں آبی حیات کے کمیشن (سی سی ایم اے ایل آر) نے کیا ہے جو ایک بین الاقوامی تنظیم ہے۔ اس طرح یہ دنیا کا سب سے بڑا آبی خطہ ہے جسے بین الاقوامی تحفظ حاصل ہوگا۔ 28 اکتوبر کو 25 ممالک نے اس معاہدے کی توثیق کردی ہے۔

اس مقام پر صرف خوردنی مچھلیاں ہی نہیں پائی جاتیں  بلکہ دنیا کے  ایک تہائی اڈائیلے پینگوئن، 25 فیصد ایمپرر پینگوئن اور نایاب سیلز موجود ہیں۔ بڑے جہازوں کی اندھا دھند ماہی گیری سے یہ معصوم جاندار بہت مشکل میں تھے۔

یہاں پایا جانے والا کِرل جھینگا وھیل اور دیگر بڑے جانوروں کی اہم خوراک ہے اور انسانوں کی جانب سے کِرل کے شکار کے بعد خود ان جانوروں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں رہا ہے۔ واضح رہے کہ روس سمندر میں رنگا رنگ آبی حیات موجود ہے۔ یہاں اورکا وھیل بھی بڑی تعداد میں پائی جاتی ہیں۔

دنیا بھر میں جانوروں کے تحفظ کی تنظیموں نے اس قدم کو سراہا ہے اور امید ظاہر کی ہے اس سے خطے میں موجود کئی اہم اور نایاب جانداروں کو بچانے میں مدد ملے گی۔

امریکی ٹیکنالوجی نے ایسی ٹائلز متعارف کروائے,جن میں شمسی توانائی کے پینل لگے ہوئے ہیں۔

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے چھتوں پر لگنے والی ایسی ٹائلز متعارف کروائی ہیں جن میں شمسی توانائی کے پینل لگے ہوئے ہیں۔

شیشے کی بنی یہ ٹائلز گھروں میں شمسی توانائی کے پینل لگانے کا ایک قدرے خوبصورت انداز ہے۔

امریکی شہر لاس ایجنلس میں ٹی وی سو ڈیسپریٹ ہاؤس وائزز کے سیٹ پر ان ٹائلز کی نمائش کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ ٹیسلا حال ہی میں مشکلات کی شکار شمسی توانائی کی کمپنی سولر سٹی کا کنٹرول سنبھالنے والی ہے۔

تاہم ٹیسلا میں سرمایہ کاری کرنے والے بہت سے افراد نے ایلون مسک کی جانب سے سولر سٹی کو خریدنے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سولر سٹی کے سی ای او ایلون مسک کے کزن ہیں۔ نومبر 17 کو ٹیسلا کے سرمایہ کار سولر سٹی کو خریدنے پر ووٹ دیں گے۔

یاد رہے کہ ٹیسلا برقی گاڑیاں بنانے والی کمپنی ہے اور حال ہی میں کیے گئے اعلان کے مطابق اب اس کی تمام گاڑیوں میں انھیں خودکار طریقے سے چلانے کے لیے درکار آلات نصب کیے جائیں گے۔

تاہم کیمرے، سینسرز اور ریڈارز متعارف کروائے جانے کے بعد بھی یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گاڑیوں کو مکمل طور پر خودکار بنانے کے لیے کئی سال لگ سکتے ہیں۔

ٹیسلا نے گذشتہ سال آٹو پائلٹ نظام متعارف کروایا تھا جس میں خودکار بریک کا نظام شامل کیا گیا تھا۔

لیکن فی الحال کمپنی نے اس نئے نظام کا ’بھرپور‘ تجزیہ کرنے کے لیے اس آٹو پائلٹ نظام کو تمام نئی گاڑیوں میں بند کر دیا ہے۔

تعلیم کا فروغ، جنوبی کوریا نے 10 سولر سسٹم اسکول انتظامیہ کے حوالے کردیے-

کراچی: :جنوبی  کوریا کی جانب سے پاکستان میں تعلیم عام کرنے کیلئے ایک مہم کے تحت تعلیم اداروں میں نصب کرنے کے لیے دس سولر انرجی سسٹم نجی ادارے کے حوالے کر دیے۔

تفصیلات کے مطابق  پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے کورین کمپنی کے نمائندوں اورکورین ٹریڈ کمیشن کے ڈائریکٹر نے نجی ادارے کو ایک تقریب میں تعلیمی اداروں کے لیے شمسی توانائی سے بجلی بنانے والا سسٹم انتظامیہ کے حوالے کیے۔

اس موقع پر کوٹرا کے ڈا ئریکٹر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں کے لیے مستقبل میں بھی تعلیم کے فروغ کے لیے تعاون جاری رہے گا، ہم پاکستان میں تعلیم کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

یاد رہے سولر سسٹم شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان جہاں سورج سارا سال اپنی آب و تاب کے ساتھ چمکتا ہے یہ سسٹم ملک کے لیے بہت ثود مند ہے۔

پاکستان جہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے مسائل عام ہے وہیں اس سسٹم کے نصب کیے جانے سےاس سنگین مسئلے پر باآسانی قابو پایا جاسکتا ہے۔

ایک درخت بھی ماحول کے لیے ضروری جانداروں کو بڑھا سکتا ہے، تحقیق

کیلیفورنیا: سائنسدانوں نے ثابت کیا ہےکہ صرف ایک درخت لگانے سے بھی اطراف کے ماحول میں حیاتیاتی تنوع (بایوڈائیورسٹی) بڑھ جاتی ہے جس کا مطلب ہے کہ ایک درخت بھی ماحول کے لیے ضروری جانداروں کو بڑھا سکتا ہے۔

اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے طویل مطالعے، تحقیق اور نقشہ کشی کے بعد اب درختوں کے زیرِتحت موجود حیاتیاتی تنوع معلوم کرنے کا نیا طریقہ دریافت کیا ہے۔ اس سے خطرے کے سے دوچار جانوروں اور ان کےتحفظ میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ اس کے لیے 10 سال تک 15 ماہرین نے کوسٹا ریکا میں ایک حیاتیاتی اہمیت کے مقام جائزہ لیا اور 908 مختلف انواع کے جانداروں، ان کے ساتھ لگے پودوں اور کیڑے مکوڑوں کے علاوہ پرندوں، رینگنے والے جانور اور دیگر جانداروں کا جائزہ لیا اور ہزاروں مشاہدات کیے۔

اس مقام پر خالی جگہوں پر پودے لگائے گئے اور گوگل میپس سے ان کا جائزہ لیا گیا۔ اس سے درختوں کی اہمیت واضح ہوکر سامنے آگئی۔ جیسے جیسے درخت بڑھتے گئے ویسے ویسے اہم جانوروں اور پرندوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ کسی چراہ گاہ میں ایک درخت لگانے سے پرندوں کی تعداد 0 سے 80 تک دیکھی گئی۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے دیگر جانور بھی درخت کی جانب لوٹ آئے اور ان میں اہم جاندار بھی نمودار ہونے لگے۔

اس اہم دریافت سے معلوم ہوا ہے کہ ایک درخت بھی جانوروں کو کشش کرکے ماحول کو بہتر بناتا ہے اور حیاتیاتی تنوع اور درختوں کےدرمیان ایک اہم تعلق ہوتا ہے۔

ایکشن اور سنسنی سے بھرپور گیم ‘ڈساونر ٹو’ کے ٹریلر نے دھوم مچادی

لاس اینجلس :ایکشن کے دیوانوں کیلئے خوشخبری ہے کہ سنسنی سے بھرپور نئی ویڈیو گیم ڈس اونرڈ ٹو کے ٹریلر نے ریلیز ہوتے ہی ہر طرف دھوم مچادی۔

تفصیلات کے مطابق مار دھاڑ اور ماہر نشانے باز خاتون پر مبنی اس ویڈیوگیم میں بہادرخاتون فائٹر اپنے روایتی انداز میں دشمنوں کاخاتمہ کرتی نظر آرہی ہے ، ہتھیاروں سے لیس طاقتورجنگجو اور اہداف کو نشانہ بناتے کردار سے بھرپور یہ ویڈیو گیم رواں سال11 نومبر کو لانچ کر دی جائیگی ۔

انٹرنیٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا حملہ، مکمل بلیک آؤٹ، ویب سائٹس بند

انٹرنیٹ کی دنیا میں تاریخ کا سب سے بڑا حملہ کیا گیا  اور مکمل بلیک آؤٹ رہا،حملی اس قدر شدید تھا کہ سے دنیا کی بڑی بڑی ویب سائٹس بند ہوگئیں۔

تفصیلات کے مطابق انٹرنیٹ کی تاریخ میں سب سے مہلک حملہ کیا گیا ہے ، بڑی بڑی ویب جن میں نیٹ فلیکس،پے پیل،ٹوئٹر،واٹس ایپ ، اے بی کی ویب سائٹس گھنٹوں بند رہیں۔ سائبرکرائم کے اس حملے میں پلے اسٹیشن جیسے آن لائن سرور بھی متاثررہے۔

تاہم گوگل اور فیس بک جیسے اداروں کو اس سب سے کوئی اثر نہیں پڑا۔ اس بلیک آوٹ کے دوران یہ ادارے اپنی جگہ انٹرنیٹ پر موجود تھے، تاہم ان کے علاوہ کوئی بھی اس بلیک آوٹ سے بچ نہیں سکا

نامعلوم ہیکرز نے امریکا اور برطانیہ میں لگے بڑے سرورز کو نشانہ بنایا۔حملے کے بعد ٹوئٹر، واٹس ایپ، نیٹ فلیکس، پے پیل، ای بے پر مکمل بلیک آؤٹ رہا۔

ماہرین کے مطابق بلیک آوٹ کے بعد پہلے یہ سمجھا گیا کہ انٹرنیٹ کو توانائی فراہم نے والے ادارے پر حملہ کیا گیا لیکن جب دنیا بھر میں انٹرنیٹ اداروں کے رابطے منقطع ہوئے تو پتہ چلا کہ یہ خیال غلط ہے۔

ماہرین کو خدشہ ہے کہ ہیکرز نے کروڑوں صارفین کا ڈیٹا چرا لیا گیا ہے البتہ مضبوط نظام کی وجہ سے گوگل اور فیس بک جیسے اداروں کے سسٹم میں نقب نہیں لگائی جاسکی۔

امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق حملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔حملے کے دوران دنیا کی چند اہم ترین ویب سائٹس گھنٹوں بند رہیں جنہیں اب بحال کردیا گیا ہے۔

پراسرار بیماری میں مبتلا خاتون کے چہرے کی کامیاب پیوندکاری

پولینڈ: ایک عجیب و غریب مرض میں مبتلا پولینڈ کی خاتون کا چہرہ ناقابلِ دید تھا لیکن اب انہیں عطیہ کردہ چہرے کی پیوندکاری کےبعد ان کی صورت بالکل بدل چکی ہے۔

جوآنا نامی خاتون ایک جینیاتی مرض ’ نیوروفائبرومیٹوسِس‘ میں مبتلا تھیں اور ایک بہت بڑی رسولی نے ان کا چہرہ چھپایا ہوا تھا۔

poland1

اس کی وجہ سے وہ بہت تکلیف میں تھیں اور بولنے، کھانے اور پینے میں شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ جب آپریشن کے 3 سال بعد انہیں ایک پریس کانفرنس میں پیش کیا گیا تو لوگ ان کا پہلےاور بعد کا روپ دیکھ کر حیران رہ گئے تاہم ان کے چہرے پر سرجری کے نشانات تھے جو دھیرے دھیرے زائل ہوجائیں گے۔

خاتون کا 23 گھنٹے کے آپریشن میں چہرے کا 80 فیصد حصہ  تبدیل کیا گیا جس میں انہیں ایک مردہ خاتون کا عطیہ کردہ چہرہ لگا گیا۔ نیوروفائبرومیٹوسِس میں نہ صرف چہرے بلکہ اعصاب اور چہرے کی ہڈیوں پر بھی اثر ڈالتے ہیں جس سے شدید درد ہوتا ہے اور نظر اور سماعت متاثر ہوتی ہے۔ یہ کیفیت والدین سے ورثے سے ملتی ہے اور یہ ایک ناقابلِ علاج جینیاتی مرض ہے تاہم یہ کینسر نہیں ہوتا۔

 

Google Analytics Alternative