سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

صرف چند منٹوں میں ڈی این اے علیحدہ کرنے والی مائیکروچپ

ہالینڈ: کئی امراض کی تشخیص اور متعدد بار جرائم کی تفتیش میں بھی ڈی این اے الگ کرنا بہت ضروری ہوتا ہے لیکن اب تک کے بہترین آلات کے ذریعے بھی یہ کام کئی گھنٹوں میں مکمل ہوتا ہے جس پر بہت اخراجات بھی آتے ہیں۔

ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ٹوینٹی میں انجینئروں نے اس مسئلے کے حل کے طور پر ایک ننھی سی چپ ایجاد کرلی ہے جو کسی نمونے میں موجود ڈی این اے کو صرف چند منٹوں میں پوری درستگی سے علیحدہ کرسکتی ہے جبکہ یہ پورا عمل بہت ہی کم خرچ ہوتا ہے۔

ریسرچ جرنل ’’مائیکروسسٹمز اینڈ نینو انجینئرنگ‘‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، شیشے کے ایک نیم شفاف ٹکڑے جیسی دکھائی دینے والی یہ چھوٹی سی چپ تیاری میں بھی بہت آسان ہے جو ایک طرف ڈی این اے کو خالص حالت میں علیحدہ کرسکتی ہے جب کہ دوسری جانب اسی چپ پر مکمل ڈی این اے کو مختلف لمبائیوں والے سالماتی ٹکڑوں (فریگمینٹس) میں توڑا جاتا ہے تاکہ انہیں اگلے مرحلے پر تجزیئے کےلیے تیار کیا جاسکے۔ اس پورے کام میں صرف چند منٹ لگتے ہیں۔

ڈی این اے کی تیز رفتار علیحدگی کا راز ایک نئی تکنیک ہے جو یونیورسٹی آف ٹوینٹی میں ماہرین کی اسی ٹیم نے وضع کی ہے اور جس میں خاص طرح کے برقی میدان سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ چونکہ اس چپ کو تیار کرنے کا طریقہ تقریباً ویسا ہی ہے جس پر روایتی مائیکروچپس تیار کی جاتی ہیں اس لیے یہ مستقبل میں ان ہی مشینوں اور تجربہ گاہوں میں بڑے پیمانے پر تیار کی جاسکے گی جہاں آج کمپیوٹروں کےلیے مائیکروچپس (بشمول مائیکرو پروسیسر) تیار کیے جارہے ہیں۔

بدین کی 5 لاکھ ہیکٹر زرعی اراضی سمندر کا نوالہ بن گئی

کراچی: سندھ ڈیلٹا کے علاقے میں دریائی بہاؤ کمزور ہونے کے باعث سمندر دریا کو کئی کلومیٹر پیچھے دھکیل چکا ہے اور اس سے زرخیز ڈیلٹا کی 55 لاکھ ہیکٹر اراضی مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔

غربت کے خاتمے اور انسانی فلاح کی بین الاقوامی تنظیم ’اوکسفام‘ پاکستان نے چند روز قبل اپنی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ ڈیلٹا کے علاقے میں دریائی بہاؤ کمزور ہونے کے بعد سمندر دریا کو کئی کلومیٹر پیچھے دھکیل چکا ہے بلکہ اس سے زرخیز ڈیلٹا کی 5 لاکھ ہیکٹر اراضی مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ دریا اور سمندری بہاؤ کے درمیان توازن اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک دریا سے پانی کی خاص مقدار سمندر میں گرتی رہتی ہے تاہم پانی کی شدید کمی کی وجہ سے سمندری پانی دریا کے راستے اوپر چڑھ گیا ہے اور گزشتہ 16 برس میں سمندری پانی سندھ ڈیلٹا میں 85 کلومیٹراندر تک گھس آیا ہے جس کی وجہ سے ایک جانب تو اطراف کے زرخیز کھیت ختم ہو گئے ہیں تو دوسری جانب خود سمندر نے بھی زرخیز زمین کو نگلنا شروع کردیا ہے۔

اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں اور شدید موسمیاتی کیفیات سے ماہی گیری، پولٹری فارمنگ اور کھیتی باڑی متاثر ہوئی ہے۔ روز بروز کم ہوتے وسائل سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ بدین کے علاقے میں 65 فیصد افراد اسی روزگار سے وابستہ رہے ہیں لیکن اب وہاں کے باسیوں پر زندگی تنگ ہوتی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2001 اور 2002 تک بدین ایک زرخیز علاقہ تھا جہاں 82,200 ہیکٹر علاقہ سرسبز تھا اور 2016 میں یہ زمین گھٹتے گھٹتے صرف 61,900 ہیکٹر رہ گئی جس کی وجہ سے خوراک اور زراعت کا نظام بری طرح متاثر ہوا، اب یہاں کے لوگ دیگر علاقوں سے چاول اور گندم خریدنے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب یہاں کے لوگ پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہو چکے ہیں جب کہ غریب افراد یا تو قرض لینے پر مجبور ہیں یا پھر اپنے عزیزو اقارب کے ہاں سکونت اختیار کر گئے ہیں۔

زراعت ختم ہونے سے یہاں کے لوگوں نے ’’مینگرووز‘‘ (تمر) درختوں کی بے دریغ کٹائی شروع کردی ہے اور انہیں کوئلے میں بدل کرمعمولی قیمت پر فروخت کیا جارہا ہے۔ اس طرح سمندری اتار چڑھاؤ اور طوفان کو روکنے والے مینگرووز تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ ماہی گیری ختم ہونے سے معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور اب مچھلیاں پکڑنے کے لیے مچھیرے ڈیلٹا کے بجائے گہرے پانیوں کا رخ کر رہے ہیں۔

ویڈیو سب ٹائٹل وائرس: موبائل اور کمپیوٹر کےلیے خطرے کی نئی گھنٹی

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے کمپیوٹر اور اسمارٹ فون صارفین کو خبردار کیا ہے کہ اب ہیکرز آن لائن ویڈیوز کے سب ٹائٹلز میں ایسا وائرس چھپا رہے ہیں جس سے سب ٹائٹل آن کرکے موویز دیکھنے پر آپ کا کمپیوٹر، اسمارٹ فون اور یہاں تک کہ انٹرنیٹ سے منسلک اسمارٹ ٹی وی بھی ہیک کیا جاسکتا ہے۔

کمپیوٹر سیکیورٹی کمپنی ’چیک پوائنٹ‘ کا کہنا ہے کہ ویڈیو سافٹ ویئر استعمال کرنے والے کروڑوں افراد جو آن لائن فلمیں اور ٹی وی شوز دیکھتے ہیں، ان کے اسمارٹ فونز اور کمپیوٹر خطرے میں ہیں۔ چیک پوائنٹ اب تک ایسے چار ویڈیو سافٹ ویئر کی نشاندہی کرچکی ہے جن کے ذریعے ہیکنگ کی جاسکتی ہے اور ان میں وی ایل سی، کوڈی، پاپ کارن اور اسٹریمیو شامل ہیں؛ تاہم اس ہیکنگ کے خطرے میں مبتلا ویڈیو سافٹ ویئر کی تعداد ممکنہ طور پر اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ ہیکرز انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کی جانے والی فلموں کے سب ٹائٹلز میں وائرس کی کوڈنگ شامل کررہے ہیں، خاص کر غیر قانونی طور پر ڈاؤن لوڈ کی گئی فلموں اور پروگراموں کے سب ٹائٹلز میں وائرس شامل کیا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی مروجہ اینٹی وائرس سافٹ ویئر اس کا راستہ نہیں روک سکتا۔

واضح رہے کہ زیادہ تر ویڈیوز میں بائی ڈیفالٹ سب ٹائٹلز شامل نہیں ہوتے بلکہ کمپیوٹر میڈیا پلیئرز انٹرنیٹ سے رابطہ کرکے خود ہی متعلقہ ویب سائٹ سے خصوصی ٹیکسٹ فائلز ڈاؤن لوڈ کرلیتے ہیں۔ اور چونکہ یہ ٹیکسٹ فائلز ہوتی ہیں اس لیے عموماً اینٹی وائرس انہیں نہیں کھنگالتے۔

چیک پوائنٹ سیکیورٹی نے مزید خبردار کیا ہے کہ اس طرح سب ٹائٹلز میں کسی بھی قسم کا وائرس کوڈ کیا جاسکتا ہے چاہے وہ کوئی ’’رینسم ویئر‘‘ ہی کیوں نہ ہو جو ایک بار سرگرم ہونے کے بعد سسٹم کا کوئی مخصوص حصہ یرغمال بنالیتا ہے اور اس ڈیٹا تک رسائی کےلیے صارف سے تاوان کی رقم طلب کی جاتی ہے۔

ٹویٹر نے 69 نئے اور دلچسپ ایموجی متعارف کرادیے

لندن: ٹویٹر نے اپنے صارفین کے احساسات کو بہتر طور پر بیان کرنے کے لیے 69 نئے اور دلچسپ ایموجی متعارف کرا دیئے ہیں۔

ٹویٹر نے مختلف اشکال اور احساسات پر مبنی ان ایموجیز کو 5.0 ورژن کے تحت ریلیز کیا ہے، پہلے مرحلے میں یہ ٹویٹر کے براؤزر ورژن کے تحت ریلیز کئے گئے ہیں جب کہ اس کے بعد اسمارٹ فون پر بھی ریلیز کئے جائیں گے۔ ٹویٹر نے بعض عجیب وغریب ایموجیز بھی متعارف کرائے ہیں جن میں مردانہ پری، ذرافہ، مردانہ اور زنانہ جن، دعائیہ ہاتھ، دو طرح کے ڈائنوسار، کھوپرا، بروکولی، یوگا اور کئی ممالک کے پرچم شامل ہیں۔ اس اضافے کے بعد ٹویٹر پر ایموجی کی مجموعی تعداد 239 ہو گئی ہے۔

ٹویٹر کے ویب ورژن کے لیے یہ ایموجی فوری طور پر دستیاب ہیں جب کہ اسمارٹ فونز پر اینڈارئڈ اور آئی او ایس ورژنز استعمال کرنے والے صارفین کو ان نئے ایموجیز کے لئے تھوڑا انتظار کرنا ہو گا۔

ٹویٹر کے ڈیزائنر برائن ہیگرٹی کا کہنا ہے کہ ہم نے ٹویٹر ڈاٹ کام پر ٹویموجی شامل کئے ہیں جو اوپن سورس بھی ہے، اس پیغام میں ستارہ آنکھوں والا ایک ایموجی بھی شامل کیا گیا ہے جو بالکل نیا بھی ہے۔

یہ تمام آئکن ایموجی پیڈیا پر دستیاب ہیں جنہیں آپ ہی کے لیے بنایا گیا ہے، ان میں ڈریکولا، جل پری اور اس جیسے دیگر دیومالائی ایموجیز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سینڈوچ اور کریم پائی کے ایموجی بھی موجود ہیں۔ ڈاڑھی والے شخص، سر ڈھانپی خواتین و مرد اور بچے کو دودھ پلانے والی خاتون کا ایموجی بھی موجود ہے۔ اس میں جانوروں میں کانٹوں والا سہہ، زرافہ، زیبرا، ٹڈا اور دو ڈائنوسار شامل کئے گئے ہیں جب کہ مختلف پروفیشنلز میں راک اسٹار سے سائنسدان تک 11 ایموجی موجود ہیں۔

سڈنی میں سالانہ لائٹ فیسٹیول کا آغاز

آسٹریلیا میں سجائے گئے اس 23 روزہ میلے میں دیوہیکل فن پارے بھی رکھے گئے ہیں جس نے شہر کی رونقوں میں چار چاند لگا دیئے۔

اس موقع پر تھری ڈی لائٹ شو، لائٹ پروجیکشن، میوزیکل پرفارمنس سمیت ڈھائی سو کے قریب ایونٹس ہوں گے۔

منتظمین کو امید ہے کہ اس لائٹ فیسٹیول میں 25 لاکھ افراد شرکت کریں گے ۔

روس میں سجا انٹرنیشنل ہیلی کاپٹر ایکسپو کا میل

روسی شہرKrasnogorskمیں نت نئی ٹیکنالوجی سے تیار ہیلی کاپٹرز کی اس نمائش میں ڈرونز بھی رکھے گئے، جبکہ ہیلی کاپٹر ایمبولینس سے لے کرجنگی استعمال میں کارآمد ہیلی کاپٹرز، گن شپ اورریموٹ کنٹرول کاپٹرز حاضرین کی توجہ کا مرکز بنے رہے ۔

صرف یہی نہیں بلکہ کئی دہائیاں قبل استعمال ہونے والے کاپٹرز بھی لوگوں کی دلچسپی کے پیشِ نظر ایکسپو میں موجود تھے، جبکہ مختلف کمپنیاں اپنے جدید کاپٹرز کو متعارف کروانے کیلئے بھی اس ایکسپو میں شریک دکھائی دیں۔

اب وائی فائی کے ذریعے دیواروں کے پار دیکھنا ممکن

برلن: ہم جانتے ہیں کہ وائی فائی دیواروں سے گزر سکتی ہے اور اسی لیے ایک کمرے کا راؤٹر دوسرے کمرے میں سگنل بھیجتا ہے لیکن اسی کیفیت کو استعمال کرتے ہوئے کمرے میں موجود اشیا مثلاً میز ، کرسی اور خود انسانوں کے تھری ڈی ہولوگرام بناکر ان کی موجودگی کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔

ٹیکنکل یونیورسٹی آف میونخ کے 23 سالہ طالب علم فلپ ہول کہتے ہیں کہ وائی فائی سے کسی کمرے کو اسکین کیا جاسکتا ہے، فلپ نے ایک چھوٹا سا آلہ بنایا ہے جس کی تفصیل فزیکل لیٹر نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے، یہ ایک آزمائشی آلہ ہے جو کمرے میں رکھی اشیا سے ٹکرانے اور دوبارہ پلٹنے والی وائی فائی امواج کے ذریعے اس شے کا ایک ہیولہ یا خاکہ سا بناتا ہے۔

اگر کمرے کی میز پر کوئی کپ رکھا ہے تو یہ اسے ایک شکل کی مانند دکھائے گا، صوفے پر بیٹھے شخص یا پالتو جانور کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ مختصراً یہ کسی بھی چار سینٹی میٹر لمبی شے کو دکھا سکتا ہے۔

اگرچہ وائی فائی کے ایک دو اینٹینا سے کمرے کی اشیا کی دو جہتی (ٹو ڈائمینشنل) تصاویر لی جاسکتی ہے لیکن فلپ کا تیار کردہ نظام کمرے کی ایک ایک شے کا تھری ڈی ہولوگرام بناسکتا ہے۔

اس نظام میں دو اینٹینا ہیں ، ایک ساکت رہتا ہے اور دوسرا حرکت کرتا رہتا ہے۔ فکسڈ اینٹینا وائی فائی سے بیک گراؤنڈ (پس منظر) کی تصویر لیتا رہتا ہے جبکہ ایک اینٹینا کو کمرے میں گھماکر اشیا کی مختلف زاویوں سے تصاویر لی جاتی ہے اور ایک سافٹ ویئر فوری طور پر اس کی نقشہ سازی کرتا رہتا ہے، اگرچہ ابھی ٹھوس اشیا کے دھندلے ہولوگرام بن رہے ہیں لیکن جلد ہی اس ٹیکنالوجی کو بہتر بنایاجاسکتا ہے ۔

فلپ کے مطابق ایک اضافی ریفرنس اینٹینا کے ذریعے حادثات میں ملبے تلے دبے افراد کی نشاندہی کی جاسکتی ہے جب کہ اس سے جاسوسی کا کام بھی لیا جاسکتا ہے۔

گرمی میں ٹھنڈا رکھنے والی ’’زندہ خلیات‘‘ کی حامل ٹی شرٹ

بوسٹن: اب وہ دن دور نہیں جب زندہ خلیات (سیلز) سے بنے اسمارٹ کپڑے عام ہوں گے اور ایسی ہی ایک ٹی شرٹ میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے سائنسدانوں نے بنائی ہے۔ بائیولوجِک نامی کمپنی کی اس ٹی شرٹ پر خردنامیوں (مائیکروبس) کی ایک باریک لکیر بنائی گئی ہے جو گرمی اور پسینے کی صورت میں پہننے والوں کو ٹھنڈک فراہم کرے گی۔  

ٹی شرٹ پر کام کرنے والے ماہر وین وینگ نے کہا کہ خردنامیوں اور جراثیم کے خلیات ماحول میں نمی کی تبدیلی کا احساس کرتے ہیں اور خود کو تبدیل کرتے ہیں۔ خشکی میں یہ سکڑ جاتے ہیں اور نمی کی موجودگی میں پھیل کر ان کی جسامت بڑھ جاتی ہے۔

وینگ اور ان کے ساتھیوں نے ایک کوٹ کی تیاری میں ای کولائی بیکٹیریا کے خلیات شامل کئے ہیں اور اس عمل کو بایوپرنٹنگ کا نام دیا ہے، خلیات کو ربڑ کی باریک شیٹ لیٹکس پر لگایا گیا۔ جب جب گرمی اور نمی پیدا ہوئی تو کپڑا مڑگیا اور اس میں چھوٹے چھوٹے سوراخ کھل گئے جن سے باہر کی ہوا بدن میں آنے لگی اور اس طرح ایک عام قمیض سانس لینے والی شرٹ میں تبدیل ہوگئی۔

وینگ کہتے ہیں کہ یہ کپڑا بدن کی نمی کے لحاظ سے خمیدہ ہوجاتا ہے اور جسم سے پسینے کو سکھانے میں مدد دیتا ہے، آزمائش کے طور پر اسے 100 مرتبہ خشک اور گیلے مراحل سے گزارا گیا اور اس کی صلاحیت پر کوئی فرق نہیں پڑا تاہم کمرشل اسپورٹس شرٹ اور کپڑوں کے لیے مزید تحقیق کی جارہی ہے تاکہ اسے بہتر سے بہتر بنایا جاسکے۔

اسی ٹیم نے ایک ایسا ٹی بیگ بھی بنایا ہے جو چائے تیار ہوجانے پر آپ کو مطلع کرتا ہے اور اب وہ ایسے لیمپ شیڈ پر کام کررہے ہیں جو بلب کی حرارت کے ساتھ مختلف اشکال اختیار کرلیتے ہیں۔ ماہرین پرامید ہیں کہ وہ اپنی اس ایجاد کو عام افراد کے لیے 2020 کے اولمپکس کے موقع پر پیش کریں گے۔

Google Analytics Alternative