سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

چہروں کی ڈرائنگ کو تصویروں میں بدلنے والا سافٹ ویئر

نیمیگن: ہالینڈ کی ریڈباؤڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک ایسا الگورتھم وضع کرلیا ہے جو ہاتھ سے بنائے ہوئے خاکوں کو کیمرے سے لی گئی تصاویر میں تبدیل کرسکتا ہے۔

آج کل ’’پرزما‘‘ موبائل ایپ کا بڑا چرچا ہے جو کیمرے سے لی گئی تصاویر کو مصوری کے فن پاروں میں تبدیل کرکے لوگوں کا دل بہلاتی ہے لیکن آنے والے وقت میں اس الگورتھم پر بننے والا سافٹ ویئر آرٹ گیلریوں کے علاوہ مجرموں کو پکڑنے میں پولیس کی مدد بھی کرسکے گا۔

یوں تو اسے مصوری کے نمونوں کو اصل تصاویر میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن اس کا سب سے زیادہ فائدہ جرائم کی تفتیش میں اٹھایا جاسکے گا۔ اس وقت عینی شاہدین کی مدد سے جائے واردات پر ملزموں کے جو خاکے بنوائے جاتے ہیں وہ خاصے مبہم ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے مجرموں کی شناخت بھی اکثر بہت مشکل ثابت ہوتی ہے لیکن اس الگورتھم کی مدد سے ان خاکوں کے تصاویر میں تبدیل ہوجانے کے بعد مجرموں کو پہچاننا زیادہ آسان ہوجائے گا جب کہ عینی شاہدین کو بھی مجرموں کی شناخت میں زیادہ سہولت ہوجائے گی۔

الگورتھم کو تربیت دینے کے لیے مختلف ڈیٹابیسز سے کئی ہزار افراد کے قلمی خاکے (اسکیچز)  اور اصل تصاویر کا باہم موازنہ کیا گیا جس کے بعد یہ الگورتھم اس قابل ہوگیا کہ کسی بھی قلمی خاکے کو انتہائی درستگی کے ساتھ عکسی تصویر (فوٹوگراف) میں تبدیل کرسکے۔

اب ماہرین اس الگورتھم پر مبنی ایک ایسا سافٹ ویئر تیار کرنے میں مصروف ہیں جو آرٹ گیلریوں اور محکمہ پولیس دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید ثابت ہوسکے گا۔

انٹرنیٹ کے ذریعے کمائی کے مواقع

انٹر نیٹ کی سہولت عام دستیاب ہونے کی وجہ سے اس کے استعمال میں بے حد اضافہ ہوا ہے ۔انٹر نیٹ کے ساتھ اس بے پناہ لگاؤ کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اب لوگ اسے وسیلہ روزگار بھی بنانے لگے ہیں۔ آج کل آن لائن ارننگ اور آن لائن بزنس انٹرنیٹ کا مقبول ترین موضوع ہے۔سوشل سائٹس سے لے کر بزنس سائٹس تک مختلف ذرائع سے پیسے کمائے جارہے ہیں۔

انٹرنیٹ سے پیسے کمانے کو کبھی خواب سمجھا جاتا تھا اور اکا دکا لوگ ہی یہ کام کرپاتے تھے لیکن آج بے شمار پرائیویٹ اور پبلک کمپنیاں یہ کاروبار کررہی ہیں۔ ہر دوسری ویب سائٹ آن لائن ارننگ کا اشتہار دیتی نظر آتی ہے۔ یوٹیوب چینل سے سٹارٹ لینے والے بیش تر افراد پہلے پہل آن لائن ارننگ کے طریقہ کار کی ویڈیوز شیئر کرتے ہیں اور اکثر ایسے ہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں کیوں کہ سارا دن سوشل سائٹس پر وقت ضائع کرنے والے افراد کو جب معلوم ہوتا ہے کہ اس تفریح کے ذریعے پیسے بھی کمائے جاسکتے ہیں تو ان کی دلچسپی میں اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ سوشل سائٹس کو چھوڑ کر یوٹیوب کی ویڈیوز کے دیوانے ہو جاتے ہیں۔

یہاں آن لائن ارننگ کے ذرائع کے بارے چند حقائق پیش کیے جارہے ہیں جو ہر اس نوجوان کے لیے جاننا ضروری ہیں جو انٹر نیٹ سے وابستہ ہے اور اس سے کمانا چاہتا ہے۔تفصیلی طریقہ کار تو کسی بھی ماہر سے پوچھا جاسکتا ہے یا پھر یوٹیوب سے رہنمائی لی جاسکتی ہے، یہاں ان کا مختصر تعارف دیا جارہا ہے ۔

انٹرنیٹ پر کمائی کے مقبول طریقوں میں  (1)یوٹیوب کے چینل سے کمانا  (2) گوگل ایڈسینس (3)کلکس کا کاروبار (4)فیس بک کے ذریعے کمانا (5)فری لانسنگ شامل ہیں ۔

یوٹیوب سے کمائی کا طریقہ کار:یو ٹیوب کے چینل کے ذریعے کمائی سب سے بہترین اور مثبت ذریعہ روزگار ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ آپ یوٹیوب پر چینل بناکراس پر مفید ویڈیوز اور دیگر دلچسپ موضوعات پر ویڈیوز شیئر کرتے ہیں اگر آپ کی ویڈیو ایک ہزار لوگ دیکھتے ہیں تو اس پر آپ کو آدھے ڈالر لے کر 5 ڈالرتک معاوضہ ملتا ہے۔ معاوضے میں کمی زیادتی ہوتی رہتی ہے جس کی بنیاد ملکی معیشت پر ہوتی ہے۔اگر آپ کی ویڈیولاکھوں تک پہنچ جاتی ہے تو اس سے اچھی خاصی معقول آمدن ہو سکتی ہے۔ یوٹیوب چینل پر کام کرتے ہوئے ان باتوں کا خیال کریں:٭مفید ویڈیوز شیئر کریں ٭ایسی ویڈیو اپ لوڈ نہ کریں جس سے کسی کی دلآزاری ہو ٭گندے اور فحش مواد سے پرہیز کریں ٭ویڈیو چوری شدہ نہ ہو٭ویڈیو کا کیپشن یا عنوان سنسنی خیز نہ ہو۔

گوگل ایڈسینس سے کمائی: دوسرا اہم ذریعہ گوگل ایڈ سینس کے ذریعے اشتہارات کی نمائش ہے۔ اس کے لیے آپ کو دو کام کرنے پڑتے ہیں۔ ایک تو ذاتی ویب سائٹ یا بلاگ اور دوسرا ایڈسینس کا اکاؤنٹ۔پہلے آپ ایڈسینس کا اکاؤنٹ بنا کر وہاں سے اشتہارات لیتے ہیں جو ایک خاص لنک کی شکل میں آپ کو ملتا ہے پھر اس لنک کو اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرتے ہیں تو خودکار طریقے سے وہ اشتہار آپ کی سائٹ پر نظر آتا ہے۔ اس اشتہارات کو جتنے لوگ دیکھتے ہیں اس سے ہونے والی آمدن کا (کم و بیش)68 فی صد حصہ آپ کو ملتا ہے۔گوگل ایڈسینس کے ساتھ کام کرتے ہوئے خیال رکھیں کہ٭فحش اشتہارات نہ ہوں ٭آپ کی ویب سائٹ بے معنی نہ ہو کو جو شخص بھی آئے اپنا وقت ضائع کرکے اور آپ کو برا بھلا کہہ کر واپس جائے۔٭ویب سائٹ کی ٹریفک بڑھانے کے لیے آٹومیٹک سافٹ وئیرز استعمال نہ کریں ٭سنسنی خیز عنوانات سے پرہیز کیجیے۔

فیس بک کے ذریعے کمائی:فیس بک بذات خود کچھ نہیںدیتا۔ اگر آپ پیج بنائیں تو اس کا (Boost) دو تین ڈالر کے عوض سستی تشہیر کی آفر دینے آجاتا ہے۔ فیس بک سے کمانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی وال پر کوئی ادھوری معلومات مہیاکرتے ہیں۔ فیس بک کا تماشائی غلطی سے کلک کربیٹھتا ہے اور ایک نئی دنیا میں جا نکلتا ہے اور اپنا ٹائم ضائع کرکے آپ کے بارے میں برے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فیس بک پر واپس آجاتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی سائٹ کا جو لنک فیس بک پر شیئر کریں اس پر کلک کرنے کے بعد صارف کو مایوسی نہ ہو۔ اس طرح آپ فیس بک سے اپنی سائٹ یا بلاگ کے لیے صارفین مہیا کر سکتے ہیں۔

کلکس(Clicks)کا کاروبار: انٹرنیٹ پر کمائی کا ایک ذریعہ کلک سینس اور کلک بینک وغیرہ ہیں جہاں آپ ان کی ویب سائٹ پر رجسٹر ہو کر اشتہارات دیکھتے ہیں۔ ہر اشتہار کے ذریعے آپ کو مخصوص قیمت ملتی ہے۔ مختلف ویب سائٹس مختلف ریٹس مہیا کررہی ہیں۔ حقیقی دنیا میں آپ کو محض اشتہارات دیکھنے کے پیسے کوئی نہیں دیتا لہٰذا انٹرنیٹ پر اس کاروبار کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اکثر ہمارے کلک کرنے سے اشتہارات دیکھنے والوں کی تعداد میں جو اضافہ ہوتا ہے وہ مکمل طور پر بوگس ہوتا ہے۔یہ کاروبار کئی جہات سے تنقید کا نشانہ بن سکتا ہے تاہم فی الوقت یہ امور پیش نظر رہنے چاہئیں۔ ٭ایک کلک پر انتہائی کم معاوضہ ملتا ہے جو صرف ٹائم ضائع کرتا ہے۔٭آپ جب ایک ٹارگٹ پورا کرکے خوش ہو رہے ہوتے ہیںاور پیسے نکلوانے کی کوشش کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ آپ نے کلکس کی مطلوبہ مقدار پوری نہیں کی(مثلاً 100)۔ لہٰذا آپ پیسے نہیں لے سکتے اور مزید کلکس آپ کل کریں گے،آج مزید اشتہارات نہیں لے سکتے کیوں کہ ایک دن میں مخصوص مقدار میں اشتہارات ملیں گے۔ لہٰذا کل کا انتظار کیجیے۔٭دوسرے دن آپ نے 100 کلکس مکمل کرلیے۔

کیش نکلوانے لگے تو پتہ چلا کہ کم از کم 10 ڈالر نکلوا سکتے ہیں جب کہ آپ نے ابھی 2 یا 3 کمائے ہیں۔٭کئی دن کی محنت سے آپ نے 10 ڈالر کما لیے۔ اب آپ کیش نکلوانے کی کوشش کرتے ہیں تو بتایا جاتا ہے کہ آپ کو 10 ریفرلز کی ضرورت ہے جو ایکٹو بھی ہوں۔ اور اس کام میں آپ جتنی بھی کوشش کرلیں کامیاب نہیں ہوپاتے۔ ٭اگر آپ یہ کام کرلیتے ہیں تو ایک دن ویب سائٹ اچانک آپ کو یہ کہہ کر مایوس کر دیتی ہے کہ یہ کام توآپ کو 21 دن میں کرنا تھا۔ آپ ان سارے مسائل کے حل کے لیے یوٹیوب پر جاتے ہیں وہاں بے شمار ایسے ٹرکس(Trick)ملتے ہیں جو ایکسپائر ہوچکے ہوتے ہیں اور آپ نتیجے میں ساری جمع پونجی گنوا دیتے ہیں۔

اس لیے اس کاروبار میں کودنے سے پہلے تمام احتیاطی تدابیر سے آگاہی حاصل کر لینی چاہئے۔ آن لائن ارننگ کے لیے کسی ویب سائٹ کا انتخاب کرتے ہوئےScam History چیک کر لیں۔ اس کے ذریعے آپ ان لوگوں کی آراء کو معلوم کرسکتے ہیں جنہوں نے اس ویب سائٹ کو چھوڑدیا ہے یا وہ اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ان تمام حقائق کے باجود یہ کہنا دشوار ہے کہ اس طریقے سے پیسے نہیں کمائے جاسکتے۔ یقیناً لوگ کماتے ہوں گے لیکن غلط کام اور غلط طریقے کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے، اس لیے اس کے قریب نہ جائیں۔غیر صحت مند سرگرمیوں سے دور رہیں اور مثبت ذرائع تلاش کریں۔

مثبت ذرائع یہ ہو سکتے ہیں:۱۔یوٹیوب چینل:آپ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے موبائل کیمرہ سے ویڈیوز بنائیں اورشیئر کریں۔۲۔اگر آپ بات سمجھانے کا فن رکھتے ہیں تو تدریسی موضوعات پر چھوٹی چھوٹی ویڈیوز بنا دیں۔۳۔آپ اگر کسی ہلچل والے علاقے میں رہائش پذیر ہیں تو حالات وواقعات یاحادثات کی لائیو رپورٹنگ کریں۔۴۔اگر آپ تھوڑی بہت ایکٹنگ کرسکتے ہیں تو چھوٹی چھوٹی مثبت ویڈیوز بنائیں۔۵۔ آن لائن ٹیوشن پڑھانے کے لیے سکائپ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ سکائپ کے ذریعے بچوں کو مختلف مضامین پڑھائے جاسکتے ہیں۔۶۔ اگر آپ فن کار ہیں ، آئی ٹی سے واقف، ٹرانسلیٹر، مصنف یا لکھاری ہیں تو فری لانسنگ سائٹ پر کاروبار تلاش کریں اور چھوٹے چھوٹے پروجیکٹ سے آغاز کرکے بڑے بڑے پروجیکٹ لیں۔ لیکن اس سلسلے میں کسی ایکسپرٹ کے پاس بیٹھ کر پریکٹس ضرور کریں کیوں کہ فری لانسنگ کا کام آغاز میں بڑا پیچیدہ محسوس ہوتا ہے اور اکثر لوگ چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں حالاں کہ یہاں بے شمار مواقع ہیں اور آپ کو محنت کا صحیح نعم البدل ملتا ہے۔۷۔ آج کل انٹرنیٹ کے ذریعے تجارت کا رجحان زور پکڑتا جارہا ہے اور یہاں اشیاء عام مارکیٹ کے مقابلے معقول ریٹ پر مل جاتی ہیں۔ تو آپ ان اشیاء کی خریدو فروخت شروع کردیں۔ مختصر یہ کہ نوجوان انٹرنیٹ کو تھوڑی سی توجہ کے ذریعے ایک مفید ذریعۂ روزگار بھی بنا سکتے ہیں۔

انک جیٹ پرنٹر سے شمسی سیل تیار کرنے والی ٹیم میں پاکستانی سائنسدان بھی شامل

یلسنکی: فن لینڈ کی آلٹو یونیورسٹی میں ماہرین کی ایک ٹیم نے ایسے شمسی سیل (سولر سیل) تیار کرلئے ہیں جنہیں انک جیٹ پرنٹر کے ذریعے کاغذ پر چھاپا جاسکتا ہے اور اس ٹیم میں نوجوان پاکستانی سائنسدان سید غفران ہاشمی بھی شامل ہیں۔

پرنٹنگ کی مختلف تکنیکیں اختیار کرتے ہوئے کم خرچ شمسی سیل تیار کرنے کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے لیکن ایسے شمسی سیل تیار کرنا اب تک ایک چیلنج ہی رہا ہے جنہیں انک جیٹ پرنٹر کے ذریعے خاص طرح کے کاغذ پر کسی تصویر کی طرح چھاپا جاسکے یعنی اس طرح کاغذ پر چھپنے والی تصویر بجلی بنانے کے ساتھ ساتھ ڈرائنگ روم کی زینت بھی بنی رہے۔

’’انرجی اینڈ اینوائرونمنٹل سائنس‘‘ نامی تحقیقی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق فن لینڈ کی آلٹو یونیورسٹی میں خاصی تگ و دو کے بعد بالآخر ایک ایسا مائع تیار کرلیا گیا جو ان مادّوں کو نقصان پہنچائے بغیر انہیں اپنے اندر حل کرکے روشنائی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے تحت تصویر کے جس حصے کا رنگ جتنا زیادہ گہرا ہوتا ہے، وہاں روشنی کو بجلی میں بدلنے کی کارکردگی  بھی اسی قدر زیادہ ہوتی ہے۔

انک جیٹ پرنٹر کے ذریعے فی الحال تجرباتی طور پر تصویریں چھاپی جارہی ہیں جو شمسی سیل بھی ہیں لیکن توقع ہے کہ ماہرین جلد ہی اس ٹیکنالوجی میں موجود خامیاں دور کرنے کے بعد شمسی سیلوں کی گھریلو پیداوار کے قابل بھی ہوجائیں گے، جس کے بعد آپ کو بازار سے صرف انک جیٹ پرنٹر کی ایک خاص کارٹریج اور خصوصی کاغذ خریدنا ہوں گے جن پر یہ شمسی سیل کسی  بھی شکل میں پرنٹ کئے جاسکیں گے۔

پاکستانی سائنسدان غفران ہاشمی بھی ماہرین کی اس ٹیم میں شامل ہیں، وہ آج کل آلٹو یونیورسٹی سے بطور  پوسٹ ڈاکٹرل ریسرچ فیلو وابستہ ہیں،غفران ہاشمی سوئٹزرلینڈ کے ایک تحقیقی ادارے میں ایسے مختلف رنگ دار نامیاتی (آرگینک) مادّوں کی تیاری میں معاونت کرچکے تھے جو اپنے اوپر پڑنے والی روشنی سے بجلی بنانے کی صلاحیت رکھتے تھے البتہ یہ انک جیٹ پرنٹر میں روشنائی (اِنک) کی حیثیت سے استعمال کے قابل نہیں تھے۔

غفران ہاشمی اس بارے میں بتاتے ہیں کہ انک جیٹ سے مختلف رنگوں کی صورت چھاپے جانے والے یہ شمسی سیل اتنے ہی کارآمد اور پائیدار ہیں جتنے کہ عام شمسی سیل ہوتے ہیں۔ غفران ہاشمی نے بتایا کہ اب تک ہم انہیں لگاتار ایک ہزار گھنٹوں تک بجلی بنانے کےلئے کامیابی سے آزما چکے ہیں اور ان کی کارکردگی میں کوئی فرق نہیں پڑا۔

سولر امپلس طیارے نے دنیا کا چکر پورا کر لیا

سولر امپلس دنیا کا چکر مکمل کرنے والا ایسا پہلا جہاز بن گيا ہے جو صرف سورج سے حاصل ہونے والی توانائی سے چلتا ہے۔

سولر امپلس نے اپنی مہم کے آخری مرحلے میں قاہرہ سے ابو ظہبی تک سفر تقریبا 48 گھنٹوں میں طے کیا۔

گذشتہ برس نو مارچ کو اس طیارے نے دنیا کا چکر لگانے کی غرض سے ابوظہبی سے ہی اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔

اس ایک آدمی کی گنجائش والے طیارے کو آندرے بورشبرگ اور برٹرینڈ پیکارڈ نے مختلف مراحل میں باری باری اڑایا ہے اور آخری پرواز کے پائلٹ برٹرینڈ پیکارڈ ہی تھے۔

انھوں نے ابو ظہبی میں جہاز کو محفوظ طریقے سے لینڈ کیا۔

قاہرہ سے ابو ظہبی کے درمیان کی پرواز میں مشکلیں بھی آئیں۔ راستے میں کئی مقامات پر گرم ہواؤں سے بننے والے گردابوں اور خلل سے طیارے کو محفوظ کرنا پڑا۔

سعودی صحرا کے اوپر ہوا کم تھی جس کی وجہ سے طیارے کے انجن کو زیادہ مشقت کرنی پڑي۔

اس پرواز کے ساتھ ہی دنیا کا چکر لگانے کا اس جہاز کا سفر یہیں ختم ہوا۔ اپنی پرواز کے دوران جہاز نے چار براعظم، تین بحیرے اور دو بحر عبور کیے۔

اس میں سے سب سے طویل سفر جاپان کے شہر نگویا سے امریکہ میں ہوائی کے درمیان کا تھا۔ یہ سفر 118 گھنٹوں میں مکمل ہوا –

اس طویل پرواز کے ساتھ ہی پائلٹ بورشبرگ نے تن تنہا طویل وقت تک بغیر کسی رکاوٹ کے جہاز اڑانے کا ایک نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا تھا۔

سولر امپلس 30 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے شمسی توانائی کی مدد سے دنیا کا چکر لگانے والا پہلا طیارہ بن گیا ہے۔

قاہرہ سے ابوظہبی کی پرواز اس کے سفر کا 17واں اور آخری مرحلہ تھا۔

 

دنیا کا پہلا لچکدار اسمارٹ فون تیار

مختلف کمپنیاں ہر آئے دن اپنے صارفین کے لیے نت نئے ماڈلز متعارف کراتی ہیں لیکن موکسی نامی چائنیز کمپنی نے دنیا کا سب سے پہلا لچکدار موبائل بنا نے کا اعلان کر دیا ، کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس سال کے اختتام تک چین میں ایک لاکھ لچکدار ڈیوائسز کو فروخت کے لیے پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کی قیمت 5 ہزار یوآن کے قریب ہوگی۔ یہ ڈیوائس سیدھی ہونے پر ایک لمبا اور پتلا اسمارٹ فون نظر آئے گی جس کی اسکرین کی چوڑائی کم اور بڑی بیٹری نیچے نصب ہوگی۔ اور صارفین اسے بریسلیٹ کی طرح کلائی پر باندھ سکتے ہیں۔

اگر کسی نے آئی فون کا اگلا ماڈل خریدا تو اس کے ساتھ کیا ہو گا،دوست ملک کمپنی نے علان کر دیا

بحیرہ جنوبی چین کے معاملات میں امریکی مداخلت کے بعد امریکہ کے خلاف چینی عوام کی نفرت آخری حدوں کو چھونے لگی ہے۔ حال ہی میں جب امریکہ کے اتحادی فلپائن نے عالمی ثالثی عدالت میں چین کے خلاف دائر کیا گیا مقدمہ جیت لیا تو یہ نفرت اور بھی بڑھ گئی۔ چینی عوام ہر ممکن طریقے سے اس نفرت کا اظہار کر رہے ہیں اور صوبے زی جیانگ سے تعلق رکھنے والی کمپنی بینا ٹیکنالوجی کا اعلان بھی اس کی ایک مثال ہے۔<br/> ایک معروف چائنیز ویب سائٹ شنگائسٹ کے مطابق بینا ٹیکنالوجی کے سربراہ نے اپنے تمام ملازمین سے کہا ہے کہ وہ امریکی کمپنی ایپل کے تیار کردہ آئی فون استعمال کرتے ہیں تو فوراً اس سے پہلے اسے توڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں، کیونکہ اس کے بدلے انہیں نیا فون خریدنے کیلئے رقم دی جائے گی۔ کمپنی کے جنرل منیجر یانگ ینلانگ کا کہنا تھا کہ ملازمین کو نہ صرف ان کے پاس موجود آئی فون پھینکنے کو کہا گیا ہے بلکہ یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ نیا آنیوالا آئی فون 7 کسی نے خریدنے کی کوشش بھی کی تو اسے ملازمت سے نکا ل دیا جائے۔ گا یانگ کا کہنا ہے کہ کمپنی نے یہ قدم وطن کی محبت میں اٹھا یا ہے۔ کمپنی کی جانب سے باقاعدہ حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس میں ملازمین پر یہ تمام باتیں واضح کی گئی ہیں۔ اس حکم نامے کی تصویر نے چینی سوشل میڈیا میں خوب ہلچل مچا رکھی ہے اور چینی انٹرنیٹ صارفین اسے بہت سراہ رہے ہیں۔‎

سرائیوو: ’پوکےمون تلاش کرنے والے بارودی سرنگوں سے محتاط رہیں‘

سرائیوو : بوسنیا کی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ مقبول موبائل فون گیم پوکےمون گو کھیلتے ہوئے ان علاقوں میں جانے سے گریز کیا جائے جہاں جنگ کے دوران بارودی سرنگیں بچھائی گئیں تھیں.

تفصیلات کے مطابق بوسنیا میں 1990 کی دہائی کے دوران بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو نکالنے والے فلاحی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ گیم کھیلتے ہوئے کئی افراد خطرناک علاقوں میں گئے ہیں.

بوسنیا میں 1995 میں جنگ ختم ہونے کے بعد سے بارودی سرنگوں کے حادثے میں کم سے کم چھ سو افراد ہلاک ہوئے ہیں اور اب تک مختلف علاقوں سےایک لاکھ بیس ہزار بارودی سرنگیں نکالی گئی ہیں.

یاد رہےاس گیم میں سمارٹ فون کا استعمال کرتے ہوئے حقیقی دنیا میں چھپے ایک کردار کو دریافت کرنا ہوتا ہے،جیسے جسیے سمارٹ فون گیم پوکےمون گو مقبول ہو رہی ہے ویسے ہی ویسے مختلف حادثات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے.

لینڈ مائینگ کے خلاف سرگرم فلاحی تنظیم نے فیس بک پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’ہمیں کچھ ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ بوسنیا میں پوکےمون گو ایپ استعمال کرنے والے پوکےمون کی تلاش میں ایسے علاقوں میں گئے جہاں بارودی سرنگوں کا خطرہ ہے۔‘

انہوں نے’عوام پر زور دیا ہے کہ خطرناک علاقوں میں لگے سائن بورڈ کا خیال رکھیں اور انجان علاقوں میں مت جائیں۔‘

واضح رہےکہ اس سے قبل امریکہ میں دو ایسے لڑکوں کو چور سمجھ کر ان پر فائرنگ کی گئی تھی جو رات کو گیم کے کردار کو ڈھونڈ رہے تھے.

فیس بک میسنجر کے صارفین ایک ارب سے تجاوز

معلوم ہوتا ہے کہ فیس بک اپنی میسنجر سروس کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں تندہی سے مصروف ہے، یہی وجہ ہے کہ میسجنگ ایپ نے ایک نیا سنگ میل طے کرلیا ہے اور اس کے ماہانہ صارفین کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس سے قبل رواں سال اپریل میں بتایا گیا تھا کہ 90 کروڑ افراد فیس بک میسنجر استعمال کررہے ہیں۔

فیس بک نے اس موقع پر ایک نیا بیلون فیچر میسنجر میں شامل کیا ہے جو پیغامات میں اُس وقت اینیمیشن کا اضافہ کردیتا ہے جب کوئی بیلون یا غبارے کا ایموجی استعمال کرتا ہے۔

فیس بک نے میسنجر کے حوالے سے نئے اعدادوشمار بھی پیش کیے ہیں۔

ان اعدادوشمار کے مطابق میسنجر استعمال کرنے والے ہر ماہ 17 ارب سے زائد تصاویر کا تبادلہ کرتے ہیں جبکہ روزانہ 22 ملین اینیمیٹڈ جی آئی ایف ارسال کیے جاتے ہیں۔

اس وقت میسنجر میں 18 ہزار سے زائد چَیٹنگ بوٹس بھی موجود ہیں جو صارفین کو مختلف خدمات فراہم کرتے ہیں۔

میسنجر فیس بک کی چوتھی ایپ ہے جس نے ایک ارب صارفین کا سنگ میل طے کیا ہے، اس سے قبل فیس بک، واٹس ایپ اور فیس بک گروپس نے بھی یہ سنگ میل طے کیا تھا جبکہ انسٹاگرام کے صارفین کی تعداد 50 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔

میسنجر کا یہ سنگ میل اس لیے بھی حیران کن ہے کیونکہ 2 سال قبل اس کے صارفین کی تعداد صرف 20 کروڑ تھی جس کے بعد فیس بک نے لوگوں کو زبردستی اس کے استعمال پر مجبور کرنے کے لیے اسے الگ ایپ کی شکل دی اور متعدد نئے فیچرز متعارف کرائے۔

Google Analytics Alternative