سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

پانی وخشکی پر دوڑنے والی لیموزین کارتیار

دنیا میں آرام دہ اور تیزرفتار کاروں کی بھرمار کے بعد مارکیٹ میں ایک ایسی کار متعارف کرائی گئی ہے جو خشکی پر تیز رفتاری سے چلنے کے ساتھ ساتھ پانی میں بھی تیر سکتی ہے۔دنیا کی یہ عجوبہ روزگار لیموزین آن لائن فروخت کے لیے پیش کی گئی ہے جس کی اب تک 15ملین ریال قیمت لگائی جا چکی ہے۔دس میٹر لمبی اس طاقتور کار میں ڈرائیور اور اس کے معاون کے ساتھ 12 دیگر افراد بھی سوار ہو سکتے ہیں۔ دنیا کی منفرد کار پانی میں 20 ناٹیکل میل فی گھنٹہ اور 500 سے 600 ہارس پاور کی طاقت سے سفر کی صلاحیت رکھتی ہے۔اخبارالبیان کی رپورٹ کے مطابق نوویاگ ٹینڈر 33 کو دبئی میں ا?ن لائن بولی کے لیے پیش کیاگیا ہے جس کی اب تک 15 ملین ریال قیمت لگائی جا چکی ہے۔

گوگل کی نئی اسمارٹ مسیجنگ سروس کی تیاری

گوگل ایک نئی موبائل مسیجنگ سروس کی تیاری پر کام کررہا ہے جس میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت) کو شامل کرکے حریف کمپنیوں بشمول فیس بک کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔میسجنگ سروسز اس وقت دنیا بھر میں مقبول ترین اپلیکشنز میں سے ایک ہیں اور ان کو استعمال کرنے والوں کی تعداد دو ارب سے زائد ہے۔مگر گوگل کی دو میسجنگ سروسز ہینگ آﺅٹ اور میسنجر فیس بک کی واٹس ایپ اور میسنجر سے تو کیا دیگر متعدد اپلیکشنز سے بہت پیچھے ہیں۔امریکی روزنامے وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق اپنی نئی سروس میں گوگل کی جانب سے چیٹ بوٹس کو شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جو ایسا سافٹ ویئر پروگرام ہے جو اس میسجنگ اپلیکشن کے اندر سوالات کے جواب دینے کا کام کرے گا۔صارفین اپنے دوستوں یا کسی چیٹ بوٹ کو ٹیکسٹ کرسکیں گے جو اس کے بارے میں ویب اور دیگر ذرائع سے معلومات حاصل کرکے کسی سوال کا جواب دے گا۔یہ ابھی واضح نہیں کہ گوگل کی جانب سے اس سروس کو کب تک متعارف کرایا جاتا ہے یا اسے کیا نام دیا جاتا ہے، بلکہ ابھی تو یہ سوال بھی باقی ہے کہ یہ کوشش کامیاب بھی ہوسکے گی یا نہیں۔صارفین عام طور پر میسجنگ سروسز کا حصہ اس لیے بنتے ہیں کیونکہ وہ دیگر صارفین کو جانتے ہیں، گوگل کو اس طرح کا نیٹ ورک تشکیل دینے میں جدوجہد کا سامنا کرنا پڑے گا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گوگل کی ایک ٹیم اس نئی سروس کی تیاری کے لیے کم از کم ایک سال سے کام کررہی ہے۔توقع کی جارہی ہے کہ اس سروس میں موسم، تصاویر، نیوز اور دیگر موضوعات پر سرچ کے لیے چیٹ بوٹس فراہم کیے جانے کا امکان ہے اور صارفین اس حوالے سے معلومات گوگل سرچ انجن پر تلاش کرنے کی بجائے ایک ٹیکسٹ میسج بھیج کر حاصل کرسکیں گے۔اس رپورٹ پر گوگل کے ترجمان نے بات کرنے سے انکار کیا۔

فیس بک میں کئی طرح کی نیوزفیڈز کا فیچر متعارف

اگر آپ اپنے فیس بک کے نیوز فیڈ پر پوسٹس کی بھرمار میں کٹوتی کے خواہشمند ہیں تو آپ کی یہ خواہش جلد پوری ہونے والی ہےسماجی رابطے کی یہ مقبول ترین سائٹ اپنی موبائل اپلیکشن میں ملٹی پل یا کئی طرح کے نیوز فیڈز کے فیچر کو چند محدود صارفین کے ذریعے آزما کر دیکھ رہی ہے۔مین فیڈ سے ہٹ کر بھی مخصوص ٹاپکس جیسے اسٹائل، ہیڈلائنز یا کسی اور کے ٹیب انٹرفیس کے اوپر اس فیچر کے تحت نظر آرہے ہیں۔ان میں سے آپ جس ٹیب کا انتخاب کریں گے تو آپ کے دوستوں یا پیجز کی متعلقہ پوسٹس نیوز فیڈ پر ظاہر ہونے لگیں گی۔فیس بک کا کہنا ہے کہ ابھی یہ فیچر آزمائشی مراحل میں ہے لہذا تمام صارفین تک اس کی رسائی میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔فیس بک کا روایتی نیوز فیڈ تو برقرار رہے گا تاہم آپ کے منتخب کردہ سیکشن کی پوسٹس اس پر زیادہ نظر آنے لگے گیں۔فیس بک کے ترجمان کے مطابق لوگ ہمیشہ ہم سے کہتے ہیں کہ انہیں نئے آپشنز دیکھنا پسند ہے اور ہم فیس بک پر وہی دیکھنا چاہتے ہیں جس میں ہمیں دلچسپی ہو۔اس فیچر سے ہٹ کر بھی فیس بک کی جانب سے محدود تعداد میں صارفین کو شاپنگ سیکشن یا مارکیٹ پلیس تک آسان تر رسائی بھی دی جارہی ہے اور اس ایپ کا ٹیسٹ ورژن ریکوئسٹس اور نوٹیفکیشنز کے درمیان دیا گیا ہے۔

امریکا لیزر لیس طیارے بنانے میں مصروف

میزائل اور بموں سے اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بنانا لڑاکا طیاروں کے لیے عام سی بات ہے اور اب جدید ٹیکنالوجی اس تاریخ کو بدل رہی ہے اور امریکا میں لیزر سے حملہ آور ہونے اور اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بنانے والے طیارے کو تیار کرنے کے منصوبے کا آغاز کردیا ہے۔امریکی فضائیہ کی ریسرچ لیبارٹری کے مطابق لیزر لڑاکا طیاروں پر بڑی تیزی سے کام جاری ہے اور انہیں 2020 تک میدان میں اتار دیا جائے گا۔ فضائیہ کی ریسرچ لیبارٹری کے چیف انجینئر کا کہنا ہے کہ یہ طیارے جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار ہوں گے اور امریکی ترقی کا منہ بولتا ثبوت بھی دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیزر ہتیھاروں سے لیس بڑے طیارے کئی سال سے منصوبے کا حصہ تھے لیکن اس کے راستے میں سب سے بڑی مشکل چھوٹی، درست اور طاقتور شعاعوں کو تخلیق کرنا تھا، جی فورس اور قریبی سپر سونک طیاروں کی رفتار اسے اور بھی مختلف بنا رہی تھی لیکن ان پر قابو پایا جا رہا ہے اور آئندہ 5 سال میں اس مسئلے کا حل نکال کر یہ طیارہ تیار ہوجائے گا۔امریکی فضائیہ کے چیف انجینئر کے مطابق اس کے علاوہ اسٹار ٹریک طرز کے بلبلے نما شیلڈ بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے جس میں ایک بلبلہ نما شیلڈ 360 ڈگری پر فائٹر جیٹ کے گرد چکر لگائے گی اور اس کی جانب آنے والے کسی بھی میزائل یا دوسرے ہتھیار کو تباہ کردے گی۔ ان کا کہنا تھاکہ اس طرح کی شیلڈ بنانے کےلیے ”ٹوریٹ“ کی ضرورت ہوتی ہے جو جیٹ کے ایرو ڈائنا مکس میں مداخلت نہیں کرتی جب کہ اس ٹوریٹ کا اس لیبارٹری میں کامیاب تجربہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے اور اسے بھی تیار کرنے پر کام جاری ہے۔ امریکی فضائیہ کے کمانڈر جنرل نے انکشاف کیا ہے کہ اس لیزر لیس طیارے کا ابتدائی ٹیسٹ آئندہ ایک سے دوسال میں کردیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ لیزر اور روایتی ہتھیاروں کے امتزاج سے لیس یہ طیارے آئندہ 20 سے 25 سال میں فضائی جنگ کا نقشہ ہی بدل ڈالیں گے۔لیزر ہتھیار کیسے کام کریں گے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے امریکی فضائی حکام کا کہنا تھا کہ طیارے میں نکلنے والی لیزرز کی توجہ اپنے ٹارگٹ پر ہوگی اور جیسے ہی یہ اپنے ٹارگٹ سے ٹکرائی گی اسے اتنا شدید گرم کردیں گی کہ وہ طیارہ گرماہٹ سے جل کر تباہ ہوجائے گا۔

برطانوی سائنسدانوں نے زلزلہ پروف بیڈ تیار کر لیا

برطانوی سائنسدانوں نے ایسا زلزلہ پروف بیڈ تیار کیا ہے جو زلزلہ آنے کی صورت میں از خود بند ہوجاتا ہے اور اس پر لیٹا ہوا انسان محفوظ رہے گا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق زلزلہ پروف بیڈ کا بنیادی نظریہ 2010 میں پیش کیا گیا مگراسے برطانوی ماہرین نے عملی شکل دے دی ہے جو رات کے اوقات میں سوتے وقت آنے والے زلزلے کے دوران عمارت کے گر جانے کے باوجود اس پر لیٹے انسان کو محفوظ رکھے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے کے آتے ہی بیڈ اچانک ایک باکس میں تبدیل ہو جائے گا اور اپنے اوپر شخص کو اپنے اندر بند کرلے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ زلزلے سے بہت جلد زیادہ خوف زدہ ہوجاتے ہیں اور اس کا فوری اثر لیتے ہیں ان کے لیے یہ بیڈ بہتر نہیں بلکہ ان کی قبر بن جائے گا البتہ جو لوگ زیادہ ہمت اور حوصلے سے کام لینے والے ہیں اور اس خوف کو برداشت کرسکتے ہیں وہ اس بیڈ کا استعمال کر سکتے ہیں جو انہیں زلزلوں میں محفوظ رکھ سکتا ہے۔ لیکن بعض ماہرین کاکہنا ہے کہ زیادہ دیر اس میں رہنے سے انسان کے سانس بند ہونے کا خدشہ بھی ہے اس لیے پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

سائنس کی تعلیم کے حوالے سے جنوبی کوریاپہلے نمبر پر

آرگنائزیشن فار اکنامک کارپوریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (او سی ای ڈی) نے سائنس کی تعلیم کے حوالے سے دنیا کے 41 ممالک کی ایک فہرست جاری کی ہے جس میں ترقی یافتہ ممالک سمجھے جانے والے امریکا، برطانیہ اور دیگر ممالک کی بجائے پہلے نمبر پر جنوبی کوریا ہے۔ اس درجہ بندی کے لیے مختلف ممالک کی آبادی میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجنیئرنگ یا ریاضی کی ڈگریوں کی شرح کو بنیاد بنایا گیا۔ جنوبی کوریا کی کل آبادی میں سے 32 فیصد سائنس کی تعلیم حاصل کرچکی ہے جبکہ یہ شرح 2002 میں 39 فیصد تھی تاہم اب بھی کوریا اس لسٹ میں سرفہرست ہے۔ اس فہرست میںدوسرے نمبر پر 31 فیصد شرح کے ساتھ جرمنی، سوئیڈن اور فن لینڈ 28 فیصد شرح کے ساتھ تیسرے اور چوتھے، فرانس 27 فیصد شرح کے ساتھ پانچویں، یونان 26 فیصد کے ساتھ چھٹے، ساتویں پر ایسٹونیا، آٹھویں پر میکسیکو، نویں پر آسٹریا اور پرتگال دسویں نمبر پر ہے۔ ان 41 ممالک میں صرف 2 مسلم ممالک شامل ہیں جن میں انڈونیشیا 12 ویں اور ترکی 35 ویں نمبر پر موجود ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکا جیسا ملک 39 ویں نمبر پر موجود ہے جس کے نیچے نیدرلینڈ اور برازیل موجود ہیں۔

دنیا کا پہلا 50میگا پکسل کیمرہ متعارف

دنیا بھر میں پروفیشنل کیمرے بنانے والی شہرہ آفاق کمپنی کینن نے دنیا کا پہلا فل فریم 35ایم ایم سنسرکے ساتھ50میگا پکسل والا کیمرہ فائیو ڈی ایس آر متعارف کرادیاہے۔اس حوالے سے گزشتہ روز لاہور میں باقاعدہ ایک تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں ملک کے نامور فوٹوگرافرز اور ڈیلرز نے شرکت کی۔کینن پاکستان کے سربراہ رکسن وانگ نے شرکا کو کیمرہ کے منفرد فیچرز سے متعلق بریفنگ دی جبکہ دنیا کے معروف فوٹوگرافرٹیو پینگ نے شرکا کو کینن فائیو ڈی ایس آر ، ای او ایس کے ساتھ اپنے تجربہ کو آگاہ کیااور اس کیمرہ سے لی جانے والی تصاویر دکھائیں۔کینن کا سب سے زیادہ ریزولوشن والا کیمرہ 20میگا پکسلزکا تھااور اب کینن نے اس سے ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے 50اعشارہ6میگا پکسلز کے ساتھ بہترین آٹو فوکس کیمرہ متعارف کرایا ہے۔یہ کیمرہ صارفین کو تصویر ی معیار اوراستعمال میں بہترین نتائج دیتا ہے۔کینن پاکستان کے کنٹری منیجر سردار علی نے کہا کہ ہم کیمرے کے اجرا کے ساتھ فوٹوگرافی کے فن کو ایک نئے معیار کی طرف لے جارہے ہیں۔یہ کیمرہ کسی بھی عکس کو اس کی باریک ترین جزئیات کے ساتھ محفوظ کرنے کے صلاحیت رکھتا ہے اور ہر دفعہ دیکھے جانے پرتصویر حقیقت سے قریب ترمحسوس ہوتی ہے۔اس کیمرے میں بیک وقت دو کارڈز لگانے کے لئے پہلی مرتبہ 2 سلاٹس جیسی کئی منفرد خصوصیات بھی موجود ہیں۔

فیس بک کی جانب سے ”پروفیشنل ورڑن“ پیش کرنے کا اعلان

فیس بک کی جانب سے ”پروفیشنل ورڑن“ پیش کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جسے اگلے چند ماہ میں ریلیز کردیا جائے گا جس میں 95 فیصد فیچرز فیس بک سے مشابہت رکھتے ہیں جب کہ اس میں کام کرنے کی جگہ پر تعاون اور رابطے پر خاص زور دیا گیا ہے تاکہ ا?فس میں کمپیوٹر کے ذریعے افراد باہمی طور پر کام کرسکیں۔فیس بک کے اس ورڑن میں فیڈز، لائکس اور چیٹ کی سروس بھی ویسی ہی ہوگی لیکن پروفائلز کو خاص رکھا گیا ہے تاہم فیس بک نے کام کی جگہ کے فیس بک کے لیے نئے سیکیورٹی ٹولز تیار کیے ہیں اور ا?فس میں موجود افراد اپنے عام پروفائلز کی جگہ ”پرفیشنلز یا پیشہ ورانہ پروفائلز“ استعمال کرسکیں گے جب کہ پروفیشنل فیس بک پر ”کینڈی کرش“ گیم نہیں کھیلا جاسکے گا۔اس کی بی ٹا سروس کا آغاز جنوری 2016 سے ہورہا ہے لیکن اس کا پروفائل بنانے کے لیے دعوت ( انویٹیشن) کی ضرورت ہوگی اور افراد کی بجائے کمپنیوں کو ترجیح دی جائے گی۔ فیس بک ترجمان کے مطابق کمپنیوں اور دفاتر کو ”پریمیئم“ سروس فراہم کی جائے گی جس کے لیے ماہانہ چند ڈالر وصول کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ دنیا کی 300 بڑی کمپنیاں ا?فیشلی فیس بک کو کاروبار اور روابط کے لیے ا?فس میں استعمال کررہی ہیں جب کہ ایک ادارے نے اپنے 13 ہزار ملازمین کے لیے فیس بک کا پروفیشنل اکاو¿نٹ بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

Google Analytics Alternative