سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

جاز، ٹیلی نار کو لائسنس تجدید کیلئے 21 اگست کی نئی ڈیڈ لائن

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے جاز اور ٹیلی نار کو لائسنس کی تجدید کروانے کے لیے 21 اگست کی نئی حتمی تاریخ دے دی۔

تاہم ٹیلی کام سیکٹر کی ان 2 بڑی کمپنیوں کو یقین ہے کہ ان کی سروسز بند ہونا تو درکنار متاثر بھی نہیں ہوں گی، دونوں کمپنیوں کو لائسنس کی تجدید کے لیے درکار رقم پر اعتراض ہے۔

مذکورہ لائسنس دونوں کمپنیوں نے 2004 میں ایک نیلامی کے دوران 29 کروڑ 10 لاکھ ڈالر یعنی تقریباً 17 ارب روپے میں حاصل کیا تھا جس کی مدت 2 ماہ قبل 25 مئی کو اختتام پذیر ہوچکی ہے۔

حکومت اب لائسنس کی تجدید کے لیے 45 کروڑ ڈالر کا مطالبہ کررہی ہے یہ رقم بظاہر 4 جی سروسز کے لیے سال 2016 اور 2017 میں ہونے والی نیلامی کو بنیاد بنا کر طے کی گئی ہے۔

تاہم مئی میں جاز نے عدالت میں لائسنس کی تجدید کے لیے مقرر کردہ رقم کو چیلنج کردیا تھا جہاں یہ معاملہ اب تک زیِر التوا ہے۔

کمپنی کا موقف ہے کہ وہ لائسنس کی اصل شرائط اور 2015 کی ٹیلی کام پالیسی کی بنیاد پر لائسنس کی تجدید چاہتی ہے۔

ٹیلی کام انڈسٹری سے وابستہ ذرائع کا کہنا تھا کہ عدالت نے پی ٹی اے کو 25 جون کی ڈیڈ لائن واپس لینے اور سیلولر کمپنیوں کی شکایات 15 جولائی تک دور کرنے کی ہدایت کی تھی۔

تاہم موبائل آپریٹرز اب بھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی شکایات حل نہیں ہوئیں جبکہ پی ٹی اے نے بھی عدالت میں جواب جمع کروادیا جو گزشتہ موقف سے مختلف نہیں اور اسی شرائط پر آپریٹر سے لائسنس تجدید کے لیے 45 کروڑ ڈالر ادا کرنے کا کہا گیا ہے۔

اس ضمن میں بات کرتے ہوئے ٹیلی نار کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ اب معاملہ عدالت کے ذمے ہے جس نے فیصلہ کرنا ہے کہ کس طرح ردِ عمل دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آپریٹرز کے پاس 3 راستے ہیں یا تو ہم لائسنس تجدید کے لیے زیادہ فیس ادا کرنے پر راضی ہوجائیں یا اس معاملے کو دوبارہ عدالت میں چیلنج کریں یا ریگولیٹری باڈی سے مزید توسیع کی درخواست کریں‘۔

انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ 21 اگست کے بعد آپریٹرز کو لائسنس تجدید کے لیے جرمانے کے ساتھ فیس بھی جمع کروانی پڑے گی۔

پاکستان میں کاروبار کے فروغ کیلئے آئی ایف سی کا سرمایہ کاری کا اعلان

عالمی بینک کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن ( آئی ایف سی )نے پاکستان میں آنٹرپرینرشپ ( کاروبار) کے فروغ کے لیے ٹیکنالوجی وینچر کیپٹل فرم ’ سرمایہ کار‘ میں 25 لاکھ ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔

اس حوالے سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق آئی ایف سی نے پاکستان میں آنٹرپرینرشپ اور اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا۔

پاکستان اور افغانستان کے لیے آئی ایف سی کے سینئر مینیجر ندیم صدیقی نے کہا کہ ’سرمایہ فراہم کرنے والی مقامی کمپنیوں کا ابتدائی مرحلہ مضبوط آنٹرپرینرشپ کا اہم ترین اور بنیادی جزو ہے جو معاشی ترقی اور معیاری ملازمتیں پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ ہمارا مقصد پاکستان میں کاروباری نظام کو مضبوط کرنا اور ناکافی سرمایہ سے متعلق مسائل کا حل کرکے آنٹرپرینرز ( کاروباری افراد) کے ساتھ تعاون کرنا ہے‘۔

پریس ریلیز کے مطابق آئی ایف سی کے مجموعی فنڈ میں سے 20 لاکھ ڈالر اسٹارٹ اپ کیٹلسٹ ، بنیادی فنڈز کی فراہمی کے لیے آئی ایف سی کے عالمی پروگرام کے تحت خرچ کیے جائیں گے جس میں ابھرتی ہوئی مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور روابط قائم کرنے سمیت اس سلسلے میں رہنمائی فراہم کرنا شامل ہیں۔

انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کی جانب سے فراہم کیے جانے والے باقی 5 لاکھ ڈالر وومن انٹرپرینرشپ فنانس انیشی ایٹو ( وی-فائی) کے تحت استعمال کیے جائیں گے تاکہ ترقی پذیر ممالک میں خواتین آنٹرپرینرز کو مالی خدمات، مقامی اور عالمی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرکے ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جاسکے۔

وی-فائی پروگرام عالمی بینک کا منصوبہ ہے جو حکومتوں، ترقیاتی بینکوں اور نجی و سرکاری اسٹیک ہولڈرز کے درمیان شراکت پر مبنی ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ آئی ایف سی کی سرمایہ کاری سے مارکیٹ میں مقابلے کے رجحان سے ملک میں کاروباری نظام کو فروغ ملے اور کاروباری افراد نئی مارکیٹس تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔

سرمایہ کار کمپنی کے بانی رابیل وڑائچ نے آئی ایف سی کے اقدام کو سراہا اور کہا کہ ’ یہ عالمی بینک گروپ کی جانب سے پاکستان میں اس نوعیت کی پہلی سرمایہ کاری ہے جس سے ہم عالمی نیٹ ورک، نئی مارکیٹس تک رسائی سے ملک میں مزید نئے کاروباری افراد کے ساتھ تعاون کرسکیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ پاکستان استحکام میں بہتری، نوجوان آبادی کی زیادہ تعداد، متوسط طبقے میں اضافہ، انٹرنیٹ کا بڑھتا ہوا استعمال، اسمارٹ فون تک رسائی اور معاشرے میں وینچر کیپٹل کی کمی سے سرمایہ کاری کے لیے ایک منفرد موقع فراہم کرتا ہے‘۔

رابیل وڑائچ نے کہا کہ ’ سرمایہ کار میں ہمارا مقصد ایسے کاروباری افراد (آنٹرپرینر) کو کام کے آغاز میں فنڈز فراہم کرنا ہے جو پاکستان میں توسیع پذیر، مارکیٹ کو تبدیل کرنے والے صارف کے رجحان اور انٹرپرائز ٹیکنالوجی کے کاروبار کو فروغ دے رہے ہیں‘۔

سرمایہ کار ویب سائٹ کے مطابق یہ نیدرلینڈ میں واقع ایک وینچر کیپٹل فرم ہے جو ٹیکنالوجی سے متعلق نئے شعبوں میں سرمایہ کاری کرتی ہے، اس کا مقصد پاکستان میں توسیع پذیر، مارکیٹ کو تبدیل کرنے والے صارف کے رجحان اور انٹرپرائز ٹیکنالوجی سے متعلق کاروباروں میں مدد کرنا ہے۔

کمپنی کے کلائنٹس میں پاکستان کے مقامی اسٹارٹ اپس بائیکیا، ڈاٹ اینڈ لائن، پٹاری شامل ہیں۔

زنگ اور نمکین پانی سے بجلی بنانے کا کامیاب تجربہ

کیلیفورنیا: ہم جانتے ہیں کہ نمکین پانی فولاد کو بھی زنگ آلود کردیتا ہے لیکن اب ان دونوں کو ملاکر بجلی بنائی جاسکتی ہے۔

کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ( کیل ٹٰیک) اور نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے انجینیئروں نے دریافت کیا ہے کہ اگر زنگ آلود پرت پر نمکین پانی بہا جائے تو بجلی کی معمولی مقدار پیدا ہوتی ہے۔ اس سے قبل گرافین پر نمکین پانی سے بجلی بنانے کا تجربہ کیا جاچکا ہے لیکن گرافین کے مقابلے میں زنگ آلود سطح قدرے آسانی سے بنائی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ نمک ملا پانی بیٹریوں میں عام طور پر بھرا جاتا ہے۔ اسی بنا پر نمک پانی والے چھوٹے کھلونا لیمپ اور چھوٹے بجلی گھر بھی بنائے جاتے ہیں۔

تاہم یہ نیا نظام ایک مختلف اصول پر کام کرتا ہے۔ اس میں کیمیائی تعامل (ری ایکشن) کی بجائے برقی حرکی (الیکٹروکائنیٹک) اثر کے ذریعے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ یعنی جب نمکین پانی زنگ آلود پرت سے گزرتا ہے تو تو اس کی حرکت سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔

بنیادی طور پر نمک میں موجود آئن زنگ پر موجود الیکٹرون کو کشش کرتے ہیں۔ جیسے ہی نمک والا پانی اور اس کے آئن بہتے ہیں وہ زنگ سے الیکٹرون کھینچتا ہے اور بجلی بننے لگتی ہے۔

ہموار انداز میں زنگ آلود سطح بنانے کے لیے ماہرین نے ایک جدید طریقہ فزیکل ویپر ڈیپوزیشن (پی وی ڈی) استعمال کیا۔ اس سے 10 نینومیٹر موٹی زنگ کی ہموار پرت بنی ۔ اس کے بعد مختلف شدت کے نمک کے محلول کو ان پر سے گزارا گیا۔

ابتدائی طور پر کچھ ملی وولٹ کے برابر بجلی پیدا ہوئی جبکہ فی مربع سینٹی میٹر پر چند مائیکروایمپیئرکرنٹ بنا۔ اب اسی کا پیمانہ بڑھایا جائے تو دس مربع میٹر زنگ آلود چادر پر نمکین پانی گزارنے س ےچند کلوواٹ فی گھنٹہ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے نہ صرف سمندر کنارے بجلی گھر بنائے جاسکتے ہیں بلکہ خود انسانی جسم میں موجود نمکیات سے بھی بجلی بنائی جاسکتی ہے جو بدن کے اندر نصب چھوٹے آلات کو بجلی فراہم کریں گے۔

پاکستان میں سام سنگ گلیکسی اے سیریز کے فونزکی قیمتوں میں کمی

سام سنگ نے پاکستان میں گلیکسی اے سیریز کے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں کمی کردی ہے۔

واٹ موبائل کی ایک رپورٹ کے مطابق سام سنگ کی جانب سے گلیکسی اے سیریز کے 6 فونز کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ سام سنگ دنیا میں سب سے زیادہ اسمارٹ فونز فروخت کرنے والی کمپنی ہے اور پاکستان میں بھی اس کی ڈیوائسز کو بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔

سام سنگ کی جانب سے گلیکسی اے 10، اے 20، اے 30، اے 50، اے 70 اور اے 80 کی قیمتوں میں ڈیڑھ ہزار سے 5 ہزار روپے تک کی کمی کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ گلیکسی اے 10، اے 30 اور اے 50 کو رواں سال مارچ میں پاکستان میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا، گلیکسی اے 20 اور اے 70 اپریل میں متعارف ہوئے تھے جبکہ اے 80 رواں ماہ ہی صارفین کو دستیاب ہوا۔

سام سنگ گلیکسی اے 10 اس سیریز کا سب سے کم قیمت فون ہے جس کی قیمت اب ڈیڑھ ہزار روپے کمی سے 23 ہزار 500 روپے کی بجائے 21 ہزار 999 روپے کردی گئی ہے۔

اسی طرح گلیکسی اے 20 کی قیمت بھی 1500 روپے کمی سے 31 ہزار 500 روپے سے کم ہوکر 29 ہزار 999 روپے ہوگئی ہے۔

گلیکسی اے 30 کی قیمت میں 3 ہزار روپے کی کمی کی گئی ہے جو اب 40 ہزار 999 روپے کی بجائے 37 ہزار 999 روپے میں فروخت کیا جائے گا۔

گلیکسی اے 50 کی قیمت 54 ہزار 999 روپے سے کم کرکے 51 ہزار 999 روپے جبکہ گلیکسی اے 70 کی قیمت 67 ہزار 999 روپے کی جگہ 64 ہزار 999 روپے کردی گئی ہے۔

سب سے زیادہ کمی گلیکسی اے 80 کی قیمت میں کی گئی ہے جو ایک لاکھ 19 ہزار 999 روپے میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا، مگر اب 5 ہزار روپے کمی سے ایک لاکھ 14 ہزار 999 روپے میں فروخت کیا جائے گا۔

پودوں کے امراض کی فوری شناخت کرنے والا اسمارٹ فون آلہ

نارتھ کیرولائنا: اسمارٹ فون اب کئی امراض کی شناخت کے لیے استعمال ہورہے ہیں ۔ تازہ خبر یہ ہے کہ اسمارٹ فون سے جڑ کر کام کرنے والا ایک آلہ بنایا گیا ہے جو ہاتھوں ہاتھ پودے کے امراض کی شناخت میں مدد فراہم کرتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ پودے کے پتوں پر ننھے سوراخ ہوتے ہیں جہاں سے وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ ضیائی تالیف کے ذریعے یہ عمل انجام پاتا ہے۔ صرف یہی نہیں پودے طیران پذیرنامیاتی مرکبات یا وولیٹائل آرگینک کمپاؤنڈز ( وی او سی) بھی خارج کرتے رہتے ہیں۔ ان کیمیکلز میں پودے کی صحت اور بیماری کا راز بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔

اگر پتے سے خارج ہونے والے کیمیائی مرکبات کو پڑھ لیا جائے تو اس طرح پودے کی صحت کا حال بھی معلوم کیا جاسکتا ہے۔

نارتھ کیرولینا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق پودے سے خارج ہونے والی گیسیں ان کی صحت کا پتا دیتی ہیں۔ ان کی شدت معلوم کرکے کسان حضرات صرف چند منٹوں میں پودے کی بیماری کو جانچ سکتے ہیں۔ یہ آلہ کیمرہ لینس کے اوپر نصب ہوجاتا ہے۔

جانچ کے لیے پودے کے پتے کو ایک ٹیسٹ ٹیوب میں 15 منٹ کے لیے بند کیا جاتا ہے اور پتہ مکمل طور پر سیل بند ہوتا ہے۔ اس طرح پتے سے خارج گیس کو پمپ کے ذریعے ایک چھوٹی شیشی تک بھیجا جاتا ہے جہاں سینسر اور ریڈر لگا ہوتا ہے ۔ یہ سینسر اس پتے کی گیس میں موجود وی او سی کی شناخت کرتا ہے اور اس کے پیچھے ایک وسیع ڈیٹا بیس موجود ہوتا ہے جو فوری طور پر مرض کی شناخت کرتا ہے۔

فی الحال اس میں ایک رنگ بدلنے والی پٹی لگی ہے جو رنگ کی تبدیلی سے پودے کی بیماری سے آگاہ کرتی ہے۔ اگلے مرحلے میں ایک ایپ یہ سارا کام کرے گی جس کی بدولت فوری طور پر پودے یا درخت کی بیماری کا اندازہ کرنا ممکن ہوگا۔

اس کے علاوہ اسمارٹ فون کا کیمرہ پودے کی رنگت اور پتوں کے داغ کا جائزہ لے کر بھی مرض کی پیشگوئی کرسکے گا۔ ابتدائی تجربات میں اس آلے نے دس مختلف بیماریوں کا کامیابی سے پتا لگایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسمارٹ فون نے پانچ منٹ میں یہ کام کردکھایا جبکہ روایتی طریقے سے اس کی شناخت میں دو دن لگے تھے۔

امریکی پابندیاں بھی ہواوے کو آگے بڑھنے سے روکنے میں ناکام

امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کے باعث بلیک لسٹ میں شامل ہوکر مختلف پابندیوں کا سامنا کرنے والی چینی کمپنی ہواوے کے منافع میں کوئی کمی نہیں آسکی اور اپریل سے جون کی سہ ماہی کے دوران اس کی آمدنی میں گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 23 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ہواوے کو بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کے باعث امریکی پابندیوں سے کاروبار پر پابندی کا سامنا ہے مگر 2019 کے پہلے 6 ماہ کے دوران اس کا منافع 8.7 فیصد اضافے کے ساتھ 58.3 ارب ڈالرز رہا۔

رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران ہواوے نے 11 کروڑ 80 لاکھ اسمارٹ فونز استعمال کیے، جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ تھے، اگرچہ پہلی سہ ماہی کے دوران کمپنی نے زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا مگر مجموعی طور پر 6 ماہ کے دوران اس کی مجموعی فروخت کی شرح میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ہواوے کے چیئرمین لیانگ ہوا کی جانب سے بیان کے مطابق آمدنی میں مئی تک بہت تیزی سے اضافہ ہوا، جس سے ہمیں پہلی ششماہی کے لیے بہتر نشوونما کی بنیاد رکھنے میں مدد ملی، یہی وجہ ہے کہ بلیک لسٹ کیے جانے بعد بھی کمپنی کی آمدنی میں اضافے کی توقع رکھتے ہیں، ایسا نہیں کہ ہمیں ااگے مشکلات کا سامنا نہیں ہوگا، یقیناً ہوگا اور اس سے مختصر مدت کے لیے نشوونما کی رفتار پر اثر پڑسکتا ہے، مگر ہم درست سمت کی جانب گامزن ہیں۔

ہواوے نے پہلی بار اپریل سے جون تک کی سہ ماہی کے نتائج جاری کیے ہیں، ایسا پہلے کبھی نہیں کیا گیا، جس کی ممکنہ وجہ امریکی پابندیوں پر پریشان صارفین کے تحفظات کو دور کرنا ہوسکتی ہے۔

ہواوے کی مصنوعات کی سب سے زیادہ فروخت چین میں ہوئی، جہاں اپریل سے جون کے درمیان 3 کروڑ 73 لاکھ سے زائد اسمارٹ فونز فروخت ہوئے اور مجموعی طور پر مارکیٹ شیئر 38 فیصد تک پہنچ گیا، یہ اس وقت ہوا ہے جب چینی مارکیٹ میں 6 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

ہواوے کے مقابلے میں شیاﺅمی، اوپو، ویوو اور ایپل کی فروخت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ہواوے کو رواں سال مئی میں ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بلیک لسٹ کیا تھا جس کے لیے کمپنی کے چینی حکومت سے مبینہ روابط کو بنیاد بنایا گیا تھا۔

تاہم اب امریکی حکومت نے پابندیوں میں نرمی کا عندیہ دیتے ہوئے امریکی کمپنیوں کو ہواوے سے کاروبار کے لیے لائسنس کے اجرا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس حوالے سے جولائی میں ایک انٹرویو کے دوران یاہو فنانس سے انٹرویو میں ہواوے کے بانی رین زینگ فائی نے امریکی حکومت کی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے کمپنی کے منصوبوں کے ساتھ دیگر چیزوں پر بات کی۔

انہوں نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے جب بلیک لسٹ کیا گیا تو ہواوے اس کے لیے مکمل تیار نہیں تھی اور پابندی کے بعد پہلے 2 ہفتوں میں اسمارٹ فونز کی فروخت میں 40 فیصد کمی آئی، جس کی وجہ آپریٹنگ سسٹم کے حوالے سے خدشات تھے۔

تاہم ان کہنا تھا ‘اب کمپنی اپنی اہم پراڈکٹس کے لیے امریکی انحصار ختم کرنے کے قابل ہوچکی ہے’۔

ان کے بقول ہواوے کو بلیک لسٹ کرنا امریکا کی جانب سے کمپنی کو جدید ٹیکنالوجی سے دور رکھنے کی کوشش تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کمپنی امریکا کے لیے سیکیورٹی خطرہ نہیں ‘ہمارا امریکا میں کوئی نیٹ ور نہیں اور نہ ہی ہم اپنی 5 جی مصنوعات وہاں فروخت کرنے کی خواہ رکھتے ہیں، ٹرمپ کے پاس ہمارے خلاف کچھ نہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ہواوے پر پابندی سے امریکا کو زیادہ نقصان ہوگا خصوصاً فائیو جی کنکشنز کے حوالے سے ‘اگر ان کے پاس سپر کمپیوٹر اور سپر لارچ کیپیسٹی کنکشنز ہیں، تو بھی امریکا کو سپر فاسٹ کنکشنز نہ ہونے پر نقصان ہوگا’۔

ان کا کہنا تھا ‘ہواوے کو بند کرنا امریکا کے پیچھے رہنے کا آغاز ہے’۔

طفیلی پودے ’جین کی چوری‘ بھی کرتے ہیں، تحقیق

پنسلوانیا: تحقیقی جریدے ’’نیچر پلانٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع شدہ ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دوسرے پودوں پر پلنے والے طفیلی پودے (پیراسائٹک پلانٹس) صرف اپنے میزبان (ہوسٹ) پودوں کے غذائی اجزاء ہی استعمال نہیں کرتے بلکہ ان کے جین بھی چوری کرلیتے ہیں تاکہ مستقبل میں اپنا ’’طفیلی پن‘‘ مزید بہتر بنا سکیں۔

واضح رہے کہ ’’طفیلیے‘‘ یا پیراسائٹ وہ جاندار ہوتے ہیں جو اپنی غذا خود نہیں بنا سکتے۔ اس لیے وہ کسی دوسرے جاندار (میزبان) پر حملہ کرکے اس کے غذائی ذرائع پر قابض ہوجاتے ہیں؛ اور بعض مرتبہ اپنے میزبان کو ہلاک بھی کردیتے ہیں۔

ویسے تو دنیا کا سب سے خطرناک طفیلیہ ’’انسان‘‘ خود ہے جو دنیا بھر کے بیشتر غذائی وسائل پر قابض ہے اور جس کی وجہ سے کئی جاندار معدومیت کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں، البتہ عالمِ نباتات (پودوں کی دنیا) میں اس کی سب سے مشہور مثال ’’آکاس بیل‘‘ (dodder plant) ہے جو کسی سرسبز پودے کے گرد لپٹ جاتی ہے اور اس کی بنائی ہوئی غذا کو ’’مالِ مفت، دلِ بے رحم‘‘ کے محاورے پر عمل کرتے ہوئے، بے دردی سے استعمال کرتی ہے۔

پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی اور جیورجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں آکاس بیل اور دوسرے طفیلی پودوں پر کی گئی مشترکہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ طفیلی پودے نہ صرف اپنے میزبان کی تیار کردہ غذا استعمال کرتے ہیں بلکہ ان کے جین بھی چوری کرکے انہیں اپنے جینوم (جین کے مجموعے) کا حصہ بنا لیتے ہیں تاکہ مستقبل میں اپنے طفیلی پن کو بہتر بناسکیں اور اپنے میزبان کو زیادہ مؤثر انداز سے متاثر بھی کرسکیں۔

پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں حیاتیات کے پروفیسر اور اس مقالے کے سینئر مصنف، ڈاکٹر کلاڈ ڈی پامفلس کا کہنا ہے کہ جین کی چوری کا عمل اب تک وائرس اور بیکٹیریا میں زیادہ دیکھا گیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے اندر مزاحمت بڑھاتے رہتے ہیں۔ یہ عمل جسے ’’جین کی افقی منتقلی‘‘ (ہوریزونٹل جین ٹرانسفر) کہتے ہیں، پودوں اور دوسرے پیچیدہ جانداروں میں بہت کم دیکھا گیا ہے جبکہ اس طرح سے ان جانداروں میں منتقل ہونے والے جین بھی غیر فعال ہوتے ہیں… یعنی بالعموم اپنا کام کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔

اس کے برعکس، آکاس بیل کے تجزیئے سے معلوم ہوا ہے کہ اس نے اپنے میزبان پودوں سے بڑی تعداد میں جین نہ صرف چرائے ہوئے ہیں بلکہ ان میں سے بھی کم از کم 100 جین ایسے ہیں جو (آکاس بیل میں پہنچ جانے کے باوجود) پوری طرح فعال ہیں اور متعلقہ پروٹین بنانے کی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کررہے ہیں۔

اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں آنے والے برسوں میں حیاتیات سے متعلق اپنے مروجہ تصورات و نظریات پر نظرِ ثانی کی اشد ضرورت پڑ سکتی ہے۔

دنیا کا پہلا آل اسکرین اسمارٹ فون ڈیزائن سامنے آگیا

اس وقت تمام اسمارٹ فونز کا ڈیزائن لگ بھگ ایک جیسا ہوتا ہے اور ڈسپلے میں اسکرین ٹو باڈی ریشو بھی سو فیصد تک نہیں سکا ہے، کیونکہ نوچ یا دیگر سنسرز کی وجہ سے بیزل دینے پڑتے ہیں۔

مگر ا ایک چینی کمپنی نے اس کا حل ڈھونڈ نکالا ہے اور اسے توقع ہے کہ اس کی بدولت وہ فون کی اسکرین کو بیزل سے مکمل پاک کرسکے گی۔

ٹوئٹر صارف آئس یونیورس نے چینی کمپنی ویوو کے نئے کانسیپٹ فون نیکس 3 کے فرنٹ اور بیک کے گلاس کی تصویر شیئر کی ہے جس میں ایجز 90 ڈگری تک موجود ہیں۔

اس سے پہلے ویوو نیکس میں متاثر کن 91.24 فیصد اسکرین ٹو باڈی ریشو دیا گیا تھا جبکہ نیکس 2 میں بیزل کو اور کم کیا گیا تھا۔

مگر ویوو نیکس 3 میں ہول اور نوچ کو ختم کرکے وارپ راﺅنڈ گلاس کا استعمال کیا جائے گا اور امکان ہے کہ اسکرین ٹو باڈی ریشو 100 فیصد ہوجائے گا۔

ابھی اس فون کی دیگر تفصیلات سامنے نہیں آئیں اور نہ ہی کمپنی نے اس کی تیاری کا عندیہ دیا ہے۔

ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ اس میں سیلفی کیمرا پوپ اپ شکل میں دیا جائے گا یا اسکرین کے اندر نصب کردیا جائے گا۔

اس فون میں اسنیپ ڈراگون 855+ پراسیسر دیئے جانے کا امکان ہے اور یہ رواں سال کے آخر میں کسی وقت سامنے آسکتا ہے۔

اس کمپنی نے نیکس ڈوئل میں ڈیوائس کے فرنٹ کے ساتھ ساتھ بیک پر بھی ڈسپلے دیا تھا۔

اس کا مقصد فرنٹ اسکرین پر سیلفی کیمرے کی ضرورت کو ختم کرنا تھا، بیک پر اسکرین کو ہی سیلفی کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا۔

Google Analytics Alternative