سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

خلاء میں زمین کی جسامت کے برابر پہلا سیارہ دریافت

واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے زمین کی جسامت کے برابر پہلا سیارہ دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

خلائی سائنس کے جریدے آسٹرو فزیکل جرنل لیٹر کے مطابق ناسا کی سیاروں پر نظر رکھنے والی ٹیلی اسکوپ نے زمین کی جسامت کے برابر ایک سیارہ ( Exoplanet) ڈھونڈ نکالا ہے۔ یہ سیارہ سب نیپچون کا ساتھی سیارہ ہے جسے پہلی مرتبہ رواں برس جنوری میں دیکھا گیا تھا تاہم مسلسل مشاہدے اور دیگر تفصیلات جاننے کے بعد باقاعدہ تصدیق کردی گئی ہے۔

خلائی سائنس دانوں نے دو سال قبل  Transiting Exoplanet Sruvey Satellite  کی مدد سے نظام شمسی سے دور اور چمکدار ستاروں کے نزدیک پائے جانے والے سیاروں کے مشاہدے کا فیصلہ کیا تاکہ ان کی ساخت اور سطح کا بغور جائزہ لیا جا سکے۔

سائنس دانوں نے انکشاف کیا ان دو برسوں میں TESS نے زمین کی جسامت کے برابر یا اس سے بڑے سائز والے تقریباً 300 سیاروں کا مشاہدہ کیا جن میں ایک سیارے کا بغور جائزہ لیا گیا جو زمین سے 13 نوری سال کی مسافت پر زردی مائل سیارے ایچ ڈی 21749 کے گرد مدار میں گھوم رہا ہے۔

سائنس دانوں نے اس دریافت کی ٹیلی اسکوپ مگیلین دوم کی مدد سے بھی تصدیق کی جو اپنے پلانیٹ فائنڈر اسپیکٹروگراف یعنی PFS  کی مدد سے سیارے کی جسامت اور ساخت کے مطالعے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، PFS نے بھی اس سیارے کی جسامت زمین کے برابر ہونے کی تصدیق کردی۔

سائنس دانوں نے اس دریافت کو اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ناصرف ہماری کہکشاں بلکہ خلاء کے رموز و اسرار جاننے کا موقع ملے گا اور اس مشاہدے کائنات میں چھپے رازوں سے پردہ اُٹھنے کی بھی امید ہے۔

انسٹاگرام کے اہم ترین فیچر میں بڑی تبدیلی

انسٹاگرام میں ایک ایسی بڑی تبدیلی آنے والی ہے جو اس کے استعمال کا انداز بدل کر رکھ دے گی۔

فیس بک کی زیرملکیت فوٹو شیئرنگ اپلیکشن میں اب ایک بڑی تبدیلی کی آزمائش ہورہی ہے جس کے تحت پوسٹس پر لائیکس کی تعداد کسی اور کو نظر نہیں آئے گی۔

سوشل میڈیا نیٹ ورکس کی اپ ڈیٹ پر نظر رکھنے والی ٹوئٹر صارف جین مین چون وونگ نے ایک ٹوئیٹ میں اس بارے میں بتایا ۔

ٹوئیٹ میں موجود اسکرین شاٹس میں ایک انسٹاگرام پوسٹ کو لائیک کاﺅنٹ کے بغیر دکھایا گیا ہے اور ایک نوٹ موجود ہے جس میں وضاحت کی گئی ہے صرف آپ ہی اپنی پوسٹس میں لائیکس کی تعداد دیکھ سکتے ہیں۔

ایک اسکرین شاٹ میں نوٹیفکیشن میں یہ لکھا ہے ‘ہم چاہتے ہیں کہ آپ کے فالورز اس بات پر توجہ دیں کہ آپ کیا شیئر کررہے ہیں، یہ نہیں کہ آپ کی پوسٹس پر کتنے لائیکس ہیں، اس ٹیسٹ میں صرف پوسٹ شیئر کرنے والا فرد ہی لائیکس کی مجموعی تعداد کو دیکھ سکے گا’۔

خیال رہے کہ اس فیچر میں انسٹاگرام کے لائیک فیچر کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا بس لائیکس کی تعداد کو پوسٹ کرنے والے تک محدود کردیا گیا ہے۔

اس حوالے سے انسٹاگرام کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم ایسے ذرائع تلاش کرتے رہتے ہیں جو انسٹاگرام صارفین کے اس دباﺅ کو کم کردے جس کے بارے میں وہ ہر وقت سوچتے رہتے ہیں۔

اس سے قبل ٹوئٹر کے سی ای او جیک ڈورسے نے بھی لائیک بٹن کو ختم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فیچر کو ختم کرنے سے صارفین پر فالورز اور لائیکس کا دباﺅ ختم ہوجائے گا۔

برفباری سے بجلی بنانے والا انقلابی آلہ تیار

لاس انجلس: ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ رونما ہوا ہے مصر کے ایک سائنسداں ڈاکٹر ماہر القادی نے ایک ایسی تکنیک وضع کی ہے جس کی بدولت اب برفباری سے بھی بجلی تیار کی جاسکتی ہے.

اس میں ٹرائبوالیکٹرک کا سادہ اصول کارفرما ہے یعنی جب دو مختلف مادے (مٹیریل) آپس میں ملتے ہیں تو چارج پیدا ہوتا ہے۔ اسے بنانے والے ماہرین کہتے ہیں کہ برفباری کے ذرات میں قدرتی طور پر مثبت برقی چارج ہوتا ہے۔

’ برف پر پہلے سے ہی چارج ہوتا ہے تو کیوں نہ اسے مخالف چارج والے سے ملایا جائے تاکہ بجلی اخذ کی جاسکے؟ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کے کیمیاداں ماہرالقادی نے کہا جو نینوٹیک انرجی کمپنی کے سی ٹی او بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے پہلے اس ٹیکنالوجی پر کبھی غور نہیں کیا گیا۔

اگرچہ اب تک بہت سارے ایسے ٹرائبوالیکٹرک نینوجنریٹر( ٹی ای این جی) تیار ہوچکے ہیں جو بارش کے قطروں، ہلکی حرکت، ٹائروں کی رگڑ اور خاص بورڈ پر چہل قدمی سے بھی بجلی بناسکتے ہیں۔ تحقیقی ٹیم کے دوسرے رکن رچرڈ کینر نے کہا کہ جب ایک مٹیریل کے الیکٹرون اتر کر دوسرے مٹیریل پر جاتے ہیں تو اس عمل کو برق سکونی (اسٹیٹک الیکٹرسٹی) کہا جاتا ہے۔

ماہرالقادی نے بتایا کہ انہوں نے بہت سے مادے آزمائے جن میں سلیکون سے بنے نینوجنریٹرنے سب سے بہتر کام دکھایا ہے۔ انہوں نے تھری ڈی پرنٹنگ سے الیکٹروڈ تیار کئے ہیں اور انہیں خاص قسم کے جوتوں کے نیچے لگایا ہے مگران سے بجلی کی بہت معمولی مقدار ہی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم ٹی ای این جی میں شمسی پینل لگا کر اس کمی کو دور کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر ماہر اور دیگر کہتے ہیں کہ کرہ ارض پر چار کروڑ 60 لاکھ مربع کلومیٹر کے رقبے پر برف پڑتی ہے اور اس طرح بہت بڑے پیمانے پر بجلی بنائی جاسکتی ہے۔ تاہم ایک فرد ضرور اس قابل ہوجائے گا کہ وہ برف پر چلتا یا پھسلتا جائے تو اپنے فون اور دیگر دستی آلات کے لیے بجلی تیار کرسکے۔

اس کے علاوہ برف سے بجلی بنانے والے ٹی ای این جی سے موسمیاتی اسٹیشن اور دیگر آلات کو بجلی فراہم کرنا ممکن ہوگی اور اس کے لیے بیرونی ذرائع سے بجلی دینے کی ضرورت نہ ہوگی۔ یہ تفصیلات نینو انرجی میں شائع ہوئی ہے۔

فیس بک نے ویڈیو گیمز کی دنیا کا حیرت انگیز اور حقیقی کریکٹر والا ورژن تیار کرلیا

سان فرانسسکو: فیس بک نے انٹیلی جنس آرٹی فیشل کی مدد سے حقیقی کھلاڑیوں کو اُن کے فطری انداز کے ساتھ ویڈیو گیم کے کریکٹرز کے طور پر استعمال کرنے کے لیے حیرت انگیز سسٹم تیار کرلیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فیس بک کے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ویڈیو گیم ’Vid2Play‘  تیار کی ہے جس میں کھلاڑیوں کے کریکٹر مصنوعی نہیں بلکہ حقیقی دنیا سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی ہوں گے اور صارف اپنی پسند کے کھلاڑی کا انتخاب کرکے اسے ویڈیو گیم کھلاڑی کے طور پر استعمال کرسکتا ہے۔

فیس بک کا یہ ہائی ٹیکنالوجی والا ورژن 80 کی دہائی کی ایف ایم وی یعنی فل موشن ویڈیو کی یاد تازہ کردے گی لیکن یہ زیادہ جدید ہے اور حقیقت سے نہایت قریب بھی جس کے لیے ہزاروں کھلاڑیوں کے ایکشن کا مطالعہ کیا گیا اور ان کے ہر انداز کو سسٹم کا حصہ بنایا گیا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ماہرین نے ویڈیو گیم کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے پوز ٹو پوز اور پوز ٹو فریم نیٹ ورک کا استعمال کیا ہے جس کی مدد سے رقص کرنے یا ٹینس کھیلتے وقت جسم کی حرکات میں تبدیلی کو کریکٹر کا حصہ بنادیا گیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ حقیقی کھلاڑیوں کے انتخاب اور ان کی حرکات کا کنٹرول صارف کے ہاتھ میں ہوگا۔

فیس بک کا لاکھوں پاس ورڈ سادہ ٹیکسٹ میں محفوظ کرنے کا اعتراف

گزشتہ ماہ یہ خبر سامنے آئی تھی کہ فیس بک کے عملے کو 60 کروڑ صارفین کے پاس ورڈز تک رسائی حاصل ہے جن کو انکرپٹ کی بجائے سادہ ٹیکسٹ میں محفوظ کیا گیا ہے۔

اب فیس بک نے ہی انکشاف کیا ہے کہ لاکھوں انسٹاگرام پاس ورڈ بھی اسی طرح کے پلین ٹیکسٹ فارمیٹ میں محفوظ کیے گئے ہیں۔

اب کمپنی کی جانب سے تحقیقات کی جارہی ہے کہ اس پاس ورڈز کو اندرونی طور پر کسی غلط مقصد کے لیے تو استعمال نہیں کیا گیا یا کسی کو اس تک رسائی حاصل تو نہیں ہوئی۔

اس کے بعد فیس بک کے پرائیویسی اسکینڈلز کی فہرست میں ایک اور معاملے کا اضافہ ہوگیا ہے۔

فیس بک نے یہ اعتراف ایک ماہ پرانے بلاگ پوسٹ میں ایک اپ ڈیٹ کے ذریعے کیا جس کا بظاہر مقصد لوگوں کی توجہ اس طرف جانے سے بچانا لگتا ہے۔

تاہم فیس بک ترجمان کا کہنا تھا کہ کمپنی کو اب علم ہوا کہ توقعات سے زیادہ انسٹاگرام پاس ورڈز اس طریقے سے محفوظ کیے گئے ہیں۔

فیس بک کا خیال تھا کہ اس مسئلے سے ہزاروں انسٹاگرام صارفین متاثر ہوئے ہیں مگر اب معلوم ہوا ہے کہ یہ تعداد لاکھوں میں ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز یہ بات سامنے آئی تھی کہ فیس بک نے غیردانستہ طور پر 15 لاکھ سے زائد صارفین کی ای میل کانٹیکٹس لسٹیں اپ لوڈ کرلی ہیں۔

انسٹاگرام صارفین کے معاملے پر فیس بک نے اپنے بیان میں کہا ‘یہ ایسا معاملہ ہے جو پہلے ہی رپورٹ ہوچکا ہے مگر ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس طریقے سے توقعات سے زیادہ پاس ورڈز محفوظ کیے گئے ہیں، مگر ابھی تک ان پاس ورڈز کے غلط استعمال کے کوئی شواہد نہیں ملے’۔

جب ایک خراب فون کی جگہ صارف کو 10 نئے فونز مل گئے

جب کوئی فرد وارنٹی میں اسمارٹ فون خریدتا ہے تو خرابی کی صورت میں اسے واپس کرکے نیا فون مل جاتا ہے۔

مگر سوچیں اس وقت کیا ہو جب ایک شخص اپنے خراب نئے فون کو کمپنی کے پاس واپس بھجوائے اور جواب میں اسے ایک نہیں بلکہ 10 نئے فونز دے دیئے جائیں۔

جی ہاں ایسا انوکھا واقعہ سوشل میڈیا سائٹ ریڈیٹ کے ایک رکن چیتوز (یوزر نیم) کے ساتھ پیش آیا جن کا گوگل پکسل 3 فون خراب ہوگیا تو وہ اس کے ری فنڈ کے خواہشمند تھے مگر گوگل نے پیسوں کی بجائے 10 مزید فونز ان کے حوالے کردیئے۔

اب یہ گوگل کی کسٹمر کیئر سروس کی غلطی ہے یا کچھ اور، مگر چیتوز اب کمپنی کی اس غلطی پر اسے شرمندہ کرنا چاہے ہیں۔

ریڈیٹ میں ایک پوسٹ میں انہوں نے بتایا کہ ان کا وائٹ پکسل 3 خراب تھا اور وہ اسے واپس کرکے ایک ہزار ڈالرز لینا چاہتے تھے مگر انہیں صرف 80 ڈالرز ملے۔

صارف کا غصہ اس وقت مزید بڑھ گیا جب 900 ڈالرز کی بجائے گوگل کی جانب سے اسے 10 پنک پکسل تھری فونز بھجوادیئے گئے۔

ریڈیٹ میں ان فونز کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے چیتوز نے لکھا ‘گوگل میرے پاس آپ کے فونز ہیں، اور آپ کے پاس میرے پاس، آئیں اس مسئلے کو حل کریں’۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ مالی لحاظ سے ان کو فائدہ ہوا ہے مگر وہ ایسا نہیں چاہتے بلکہ فونز واپس کرکے بس اپنے پیسے لینا چاہتے ہیں۔

مگر ان کا یہ بھی کہنا تھا ‘اگر میری مناسب معاونت نہ کی گئی تو میں تو 9 اضافی فون ایک ہزار ڈالرز میں الگ الگ واپس کروں گا، اگر گوگل ان کو قبول نہیں کرے گا تو میں مارکیٹ میں ان کو فروخت کرکے اپنی رقسم پوری کروں گا، اگرچہ یہ درست نہیں مگر اب میرا صبر اور آپشنز ختم ہورہے ہیں’۔

چیتوز کی یہ پوسٹ لگتا ہے کہ کام کرگئی کیونکہ ان کے بقول جمعرات کو گوگل کے ایک نمائندے نے ان سے رابطہ کرکے مزید تفصیلات طلب کیں تاکہ اس معاملے کو دیکھ سکے۔

گوگل نے باضابطہ طور پر اس پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

ایپل کا نئے آئی فونز میں کیمرے زیادہ بہتر بنانے کا فیصلہ

ایپل کے رواں سال متعارف کرائے جانے والے آئی فونز میں سیلفی کیمرے کو بہت زیادہ بہتر کیا جائے گا اور 2 نئے ماڈلز میں 3 بیک کیمروں کا سیٹ اپ دیا جائے گا جس میں ایک سپر وائیڈ لینس سے لیس ہوگا۔

میک ریومرز کی ایک رپورٹ کے مطابق آئی فون ایکس ایس میکس اور آئی فون ایکس ایس کے اپ ڈیٹ ورژن 6.5 انچ اور 5.8 انچ کے او ایل ای ڈی اسکرین والے نئے آئی فونز میں 3 بیک کیمرے دیئے جائیں گے جبکہ 6.1 انچ کے ایل سی ڈی ماڈل بھی ڈوئل کیمرے سے اپ گریڈ کیا جائے گا۔

اسی طرح کم روشنی میں کیمروں کی کارکردگی کو بھی مزید بہتر بنایا جائے گا۔

اور ہاں تینوں نئے آئی فونز میں 7 کی بجائے 12 میگا پکسل سیلفی کیمرا دیا جائے گا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ایپل کی جانب سے سپر وائیڈ لینس اور فرنٹ کیمرے میں ایک خصوصی بلیک کوٹنگ کی جائے گی تاکہ وہ زیادہ نمایاں نہ ہوں بلکہ لگ بھگ نادیدہ محسوس ہوں تاکہ ڈیزائن آنکھوں کو زیادہ اچھا لگے۔

ایسا سام سنگ کی جانب سے پہلے ہی کچھ فرنٹ کیمروں کے ساتھ کیا گیا ہے تاکہ وہ بیزل میں گم ہوجائیں۔

اب تک نئے آئی فونز کے جو رینڈر سامنے آئے ہیں ان میں بیک کیمرا سیٹ اپ زیادہ خوبصورت نہیں لگ رہا جس کو فائنل ماڈل میں بہتر کیا جائے گا۔

اس سے پہلے ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس سال ایپل کی جانب سے ڈیزائن کے حوالے سے کوئی نمایاں اضافہ نہیں کیا جارہا مگر یہ کمپنی اپنی تاریخ میں پہلی بار 2019 میں 5 نئے آئی فونز ایک ساتھ متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

جاپانی ٹیکنالوجی ویب سائٹ ماکوٹکارا نے ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا کہ آئی فون ایکس ایس، ایکس ایس میکس اور ایکس آر کے اپ ڈیٹ ماڈلز کے ساتھ ساتھ ایپل کی جانب سے 2 نئے او ایل ای ڈی آئی فونز ماڈلز پر کام کیا جارہا ہے جن میں بیک پر 3 کیمرے دیئے جائیں گے۔

آئی فون ایکس، آئی فون ایکس ایس میکس اور آئی فون ایکس آر کے اپ ڈیٹ ورژن کا ڈیزائن تو گزشتہ سال کا ہوگا مگر ہارڈ وئیر کو بہتر بنایا جائے گا۔

فیس بک کا ایک اور اسکینڈل سامنے آگیا

فیس بک میں صارفین کی پرائیویسی کا ایک اور اسکینڈل سامنے آیا ہے اور کمپنی نے بھی اس کی تصدیق کردی ہے۔

بزنس انسائیڈر کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ فیس بک نے مئی 2016 کے بعد اس سوشل میڈیا نیٹ ورک کا حصہ بننے والے 15 لاکھ سے زائد صارفین کی کانٹیکٹ لسٹیں ان کی اجازت کے بغیر اپ لوڈ کردیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک سیکیورٹی محقق نے توجہ دلائی تھی کہ فیس بک کی جان سے کچھ صارفین سے ان کے ای میل اکاﺅنٹ کے پاس ورڈ کے اندراج کا مطالبہ نئے اکاﺅنٹ کو بناتے ہوئے کیا جارہا ہے۔

اور جب صارف اپنے پاس ورڈ کا اندراج کردیتا تو اس کے سامنے ایک میسج آتا جس میں لکھا ہوتا امپورٹنگ یور کانٹیکٹس، جس کو منسوخ کرنے کا آپشن ہی نہیں دیا گیا۔

بعد ازاں کانٹیکٹس اپ لوڈ کرنے کے عمل کا نوٹیفکیشن بھیجنے کا سلسلہ ختم ہوگیا مگر کمپنی وہ کوڈ ہٹانا بھول گئی جو اس ٹاسک کو سرانجام دیتا تھا۔

فیس بک نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے ای میل ویریفکیشن کا سلسلہ ایک ماہ قبل ختم کردیا تھا اور اپ لوڈ ڈیٹا ڈیلیٹ کردیا۔

بیان میں بتایا گیا ‘گزشتہ ماہ ہم نے پہلی بار فیس بک پر سائن اپ ہونے والے افراد کے اکاﺅنٹ کی تصدیق کے لیے ای میل پاس ورڈ ویریفکیشن کا سلسلہ ختم کردیا تھا، جب ہم نے جائزہ لیا کہ لوگ اپنے اکاﺅنٹس کی تصدیق کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں تو ہم نے دریافت کیا کہ کچھ معاملات میں لوگوں کے ای میل کانٹیکٹس فیس بک اکاﺅنٹ بناتے ہوئے اپ لوڈ ہوجاتے۔ ہمارے تخمینے کے مطابق 15 لاکھ سے زائد افراد کے ای میل کانٹیکٹس اس طرح اپ لوڈ ہوگئے، یہ کانٹیکٹس کسی سے شیئر نہیں کیے گئے اور ہم انہیں ڈیلیٹ کررہے ہیں۔ ہم اس مسئلے کو حل کررہے ہیں اور ان لوگوں کو آگاہ کیا جارہا ہے جن کے کانٹیکٹس امپورٹ ہوگئے ہیں، لوگ فیس بک سیٹنگز میں جاکر اس کا جائزہ اور نظرثانی کرسکتے ہیں’۔

مگر کمپنی نے بزنس انسائیڈر کو یہ بھی بتایا کہ یہ اپ لوڈ ڈیٹا نئے دوستوں کی تلاش اور ‘اشتہارات بہتر’ کرنے کے لیے بھی استعمال ہورہا ہے۔

اس معاملے پر فیس بک کا بیان کافی کمزور ہے اور کمپنی کی ساکھ کو اس نئے اسکینڈل سے ایک اور دھچکا لگا ہے کیونکہ گزشتہ ماہ بھی یہ کمپنی صارفین کے پاس ورڈ پلین ٹیکسٹ میں محفوظ کرتے ہوئے پکڑی گئی تھی۔

Google Analytics Alternative