سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

ٹک ٹاک بنانے والی کمپنی نے پہلا فون متعارف کرادیا

متعدد ممالک کے لیے قومی و اخلاقی سلامتی کا مسئلہ بننے والی ویڈیو ایڈیٹنگ شیئرنگ ایپلی کیشن ’ٹک ٹاک‘ بنانے والی چینی کمپنی نے اپنا پہلا اسمارٹ فون متعارف کرادیا۔

’ٹک ٹاک‘ ایپلی کیشن بنانے والی چینی کمپنی ’بائیٹ ڈانس‘ نے دیگر کمپنیوں کے اشتراک سے اپنا پہلا اسمارٹ فون ’نٹ پرو تھری‘ متعارف کرایا ہے۔

’ٹک ٹاک‘ کمپنی کی جانب سے رواں برس مئی میں اس خیال کا اظہار کیا گیا تھا کہ وہ کمپنی اسمارٹ فون متعارف کرانے کی خواہش مند ہے اور جولائی میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ کمپنی سال کے اختتام تک فون متعارف کرائے گا۔

اور اب کمپنی نے اپنا پہلا فون متعارف کرادیا، جسے ابتدائی طور پر چین میں فروخت کے لیے پیش کردیا گیا۔

ٹیکنالوجی ادارے ’انگیجٹ‘ نے اپنی رپورٹ میں چینی و دیگر اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’ٹک ٹاک‘ بنانے والی کمپنی کی جانب سے پیش کیے گئے اسمارٹ فون کو ابتدائی طور پر چین میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا۔

موبائل کو مختلف ورژنز میں پیش کیا گیا ہے—اسکرین شاٹ/ یوٹیوب
موبائل کو مختلف ورژنز میں پیش کیا گیا ہے—اسکرین شاٹ/ یوٹیوب

’نٹ پرو تھری‘ کو چینی زبان میں ’جیانگو پرو تھری‘ کا نام دیا گیا ہے اور کمپنی کے اس پہلے موبائل کو مختلف ورژنز میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

48 میگا پکسل کیمرا سے لیس ’نٹ پرو تھری‘ کا سب سے سستے ورژن کی قیمت 380 امریکی ڈالر پاکستانی تقریبا 60 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔

اسی طرح اسی موبائل کا مہنگا ترین ورژن 412 امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 64 ہزار روپے سے زائد میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے پہلے موبائل میں 12 جی بی ریم دی گئی ہے جب کہ اس میں 256 جی بی تک اسٹوریج کی صلاحیت موجود ہے۔

فون میں کمپنی کے تیار کردہ ’ٹک ٹاک‘ سمیت دیگر ایپلی کیشنز کو بھی دیا گیا ہے، ساتھ ہی کمپنی کے ڈیزائن کو اچھوتے انداز میں پیش کرنے کی کوشش سمیت اس کی ٹیکنالوجی پر بھی خاص دھیان دیا گیا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہےکہ ’ٹک ٹاک‘ بنانے والی کمپنی کا یہ موبائل شائقین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

کمپنی نے اس موبائل کو دیگر ممالک میں فروخت کے لیے پیش کیے جانے کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ برس کے آغاز تک اسے جنوبی ایشیا کے ممالک میں پیش کیا جائے گا۔

کائنات میں سب سے چھوٹا بلکہ کمزور بلیک ہول دریافت

اوہایو: کائنات کے دور دراز علاقے سے ایک گرما گرم خبر آئی ہے کہ اب تک ہماری معلومات کے تحت سب سے چھوٹا بلیک ہول دریافت ہوا ہے جس سے خود بلیک ہول کی تشکیل کے مروجہ نظریات پر نظرثانی کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

اس بلیک ہول کی قطر صرف 20 کلومیٹر ہے اور یہ ایک بہت بڑے ستارے کے گرد گھوم رہا ہے لیکن اسے ہڑپ کرنے یا اس کا مادہ چرانے سے قاصر ہے۔ 83 دنوں میں یہ بلیک ہول اپنا ایک چکر پورا کرلیتا ہے اور اندازہ ہے کہ یہ زمین سے 10 ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

اس عجیب و غریب بلیک ہول کی دریافت کا سہرا اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی کے ٹوڈ تھامپسن اور ان کے ساتھیوں کے سر جاتا ہے۔ یہ اپنے ساتھی ستارے سے کوئی گیس یا مادہ چوری بھی نہیں کررہا ۔ ماہرین نے بڑے ستارے کی ڈگمگاہٹ سے بلیک ہول دریافت کیا ہے۔ عین اسی طریقے سے ماہرین نظامِ شمسی سے باہر سیارے دریافت کرتے ہیں۔

تاہم اس کے سب سے چھوٹے بلیک ہول ہونے کی مزید تصدیق ہونا باقی ہے۔ اس کی کمیت ہمارے سورج سے صرف ساڑھے تین گنا زائد ہے جو اس کے چھوٹے ترین بلیک ہول ہونے کا سب سے مضبوط ثبوت ہے۔

اگر کوئی نیوٹران ستارہ یا بلیک ہول ہمارے سورج سے دوگنا سے پانچ گنا تک کی جسامت کا ہو تو ماہرین اسے ’کمیتی وقفہ‘ یا ماس گیپ قرار دیتے ہیں۔ نیوٹران ستارے ہوں یا بلیک ہول ہوں دونو ہی بہت بڑے ستاروں کے پھٹنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان پر تحقیق کرکے ہم بتاسکتے ہیں کہ بہت بڑے اور ضخیم ستارے کیسے وجود میں آتے ہیں اور ان میں سے کونسے ستارے پھٹ کر سپرنووا بن سکتے ہیں۔

اسی بنیاد پر ٹوڈ تھامپسن کہتے ہیں کہ شاید ہم اس طرح کے چھوٹے بلیک ہول کی ایک نئی قسم دریافت کرنے جارہے ہیں اور ان کی درست انداز میں درجہ بندی کی ضرورت ہے۔ اسی بنیاد پر چھوٹے بلیک ہول اور نیوٹران ستاروں پر تحقیق کی مزید ضرورت سامنے آئی ہے۔

جاپان میں لکڑی کے اجزا سے کاروں کی تیاری

کیوٹو: اگرچہ دنیا بھر میں کاریں بنانے والے ادارے ایک عرصے سے گاڑیوں کے بیرونی ڈھانچے کو لکڑی یا اس کے اجزا سے بنانے پر غور کررہے ہیں لیکن اس میں کامیابی نہیں مل رہی تھی۔ اب جاپان کی ایک کمپنی نے لکڑی کے گودے سیلولیوز کے نینو فائبر (ریشوں) سے گاڑی کا مضبوط اور دیرپا اسٹرکچر بنانے کا اعلان کیا ہے۔

جاپانی کمپنی کا خیال ہے کہ لکڑی کے گودے میں پایا جانے والے اجزا سیلولیوز سے نینو تار بنائے جائیں تو ان سے بنی ہوئی کاریں پانچ گنا ہلکی پھلکی اور فولاد سے بنی گاڑیوں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ مضبوط ہوسکتی ہیں۔ سیلولیوز نینو فائبر (سی این ایف) سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بھی کم ہوتا ہے کیونکہ اول ان کی تیاری میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کم خارج ہوتی ہے اور گاڑیوں کا وزن کم ہونے سے ایندھن بھی کم خرچ ہوتا ہے۔

سی این ایف کی تیاری میں خاص درخت کی لکڑی کو کاٹا جاتا ہے اور اس کا گودا نکال کر اسے بعض کیمیکل میں ڈبویا جاتا ہے تاکہ لِگنن اور ہیمی سیلیولوزختم ہوجائیں، اس سے ٹھوس، مضبوط لیکن کم وزن مٹیریل ہاتھ آتا ہے۔

اب کیوٹو یونیورسٹی نے ایک کارساز کمپنی کے تعاون سے سپرکار کا ڈیزائن بنایا ہے۔ اس میں سی این ایف کی پٹیوں کو خاص زاویوں پر موڑ کر اس سے دروازے اور چھت وغیرہ بنانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ اس عمل میں گاڑی کا وزن روایتی طریقے کے مقابلے میں 10 فیصد کم ہوا اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بھی کم ہوسکتا ہے۔

لیکن اگلا مرحلہ اس سے مشکل ہے جس میں کار کے یہ خاص حصے کئی مراحل سے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں تاکہ سڑک پر ان کی افادیت کا اندازہ لگایا جاسکے، اب تک کے نتائج بہت حوصلہ افزا ہیں۔ اس کے بعد ٹویوٹا سمیت کئی کمپنیوں نے کیوٹو یونیورسٹی کے سائنس دانوں سے رابطہ کیا۔

‘آن لائن بدسلوکی95 فیصد خواتین صحافیوں کے کام پر اثر انداز ہوتی ہے’

اسلام آباد: پاکستان کی 95 فیصد خواتین صحافیوں کا کہنا ہے کہ آن لائن بدسلوکی ان کے پیشہ وارانہ کام کو متاثر کرتی ہے۔

میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی (ایم ایم ایف ڈی) کی جانب سے خواتین صحافیوں کے خلاف آن لائن بدسلوکی پر مرتب کردہ’ہوسٹائل بائٹس‘ نامی رپورٹ صحافیوں کے خلاف امتیاز کے خاتمے کے عالمی دن پر جاری کی گئی۔

مذکورہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 77 فیصد خواتین صحافی آن لائن بدسلوکی سے نمٹنے کے لیے خود سے سینسر شپ کا استعمال کرتی ہیں۔

ایم ایم ایف ڈی کی رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ صحافیوں کے خلاف بدسلوکی کے معاملے میں زیادہ تر توجہ جسمانی تشدد کو دی جاتی ہے لیکن آن لائن معاملات بھی سنگین ہوسکتے ہیں، بالخصوص خواتین صحافیوں کے خلاف، جنہیں دھمکانے والوں یا ان پلیٹ فارم کو ناقابلِ برداشت بنانے والوں کی سرزنش بھی نہیں ہوتی۔

خواتین صحافیوں کو جس قسم کی آن لائن بد سلوکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسے سنجیدہ ہی نہیں لیا جاتا لیکن اس کے ان پر گہرے اثرات پڑتے ہیں۔

تحقیق کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ 110 میں سے 105 خواتین صحافیوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ آن لائن بدسلوکی ان کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوئی۔

اس کے ساتھ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ہر 10 میں 3 خواتین صحافیوں کو بلیک میل اور ان خلاف تشدد پر اکسانے جیسے سنگین آن لائن جرائم کا سامنا ہوا۔

تحقیق میں شامل صحافیوں نے جب اپنے خلاف آن لائن بدسلوکی کو رپورٹ کیا تو اس کے جواب میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ملنے والا ردِ عمل انہیں مطمئن نہیں کرسکا۔

اس کے علاوہ وہ ان واقعات کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس رپورٹ کرنے میں بھی ہچکچاہٹ کا شکار نظر آئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے ادارے جس طرح آن لائن تشدد کے خلاف کارروائی کرتے ہیں اس طریقہ کار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

موٹرولا کے فولڈایبل ریزر فون کی مزید تصاویر سامنے آگئیں

گزشتہ روز موٹرولا نے پہلے فولڈ ایبل ریزر فون کی آفیشل تصاویر سامنے آئی تھیں اور آج اس ڈیوائس کی مزید فوٹوز بھی پوسٹ کردی گئی ہیں۔

جمعرات کو اسمارٹ فونز کمپنیوں کی تفصیلات اور تصاویر لیک کرنے کے حوالے سے مشہور ٹوئٹر صارف ایون بلاس نے موٹرولا کے فولڈ ایبل ریزر فون کی پہلی جھلک پوسٹ کی تھی اور اب انہوں نے ہی اس کی مزید تصاویر کو لیک کیا ہے۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ان تصاویر سے فون کے پورا ڈیزائن سامنے آگیا ہے۔

یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ فون فلپ یا بند ہونے کی شکل میں کیسا ہوگا اور اس کا سیلفی کیمرا کس طرح کام کرے گا یا سیکنڈری ڈسپلے کیسا ہوگا۔

یہ فون 2003 کے ریزر وی 3 سے ملتا جلتا ہے اور اس کو اب نئی شکل میں واپس متعارف کرایا جارہا ہے، جس کو بند کرنے پر ایک چھوٹی اسکرین پر وقت اور تاریخ دیکھنا ممکن ہوگی جبکہ سنگل مین کیمرے کے لیے ویو فائنڈر کے طور پر ھبی کام کرے گی۔

فوٹو بشکریہ ایون بلاس
فوٹو بشکریہ ایون بلاس
فوٹو بشکریہ ایون بلاس
فوٹو بشکریہ ایون بلاس
فوٹو بشکریہ ایون بلاس
فوٹو بشکریہ ایون بلاس

ایک اور تصویر میں اسے پوری طرح کھلا ہوا یا ان فولڈ دکھایا گیا ہے۔

اس تصویر سے عندیہ ملتا ہے کہ فون کی اسکرین درمیان سے بند ہوتی ہے اور کھلنے کے بعد یہ 6.2 انچ ڈسپلے کی شکل اکتیار کرلیتا ہے۔

اس کے نچلے حصے میں فولڈنگ میکنزم موجود ہوگا جبکہ فنگرپرنٹ ریڈر بھی وہاں نظر آرہا ہے۔

فوٹو بشکریہ ایون بلاس
فوٹو بشکریہ ایون بلاس

گزشتہ روز ایک ڈچ سائٹ نے اس فون کے فیچرز بھی ایک رپورٹ میں بتائے تھے جس کے مطابق اس فون میں اسنیپ ڈراگون 710 پراسیسر، 4 سے 6 جی بی ریم اور 128 سے 256 جی بی اسٹوریج دی جائے گی جبکہ 2730 ایم اے ایچ بیٹری ہوگی۔

اس سے پہلے لیکس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس کی قیمت ڈیڑھ ہزار ڈالرز تک ہوگی جبکہ فلپ فولڈ ایبل فون کھلنے پر 6.2 انچ ڈیوائس کی شکل اختیار کرے گا۔

ریزر فولڈ ایبل فون 13 نومبر کو متعارف کرائے جانے کا امکان ہے کیونکہ کمپنی نے اس تاریخ کو لاس اینجلس میں ایک ایونٹ کے انعقاد کا اعلان کررکھا ہے۔

اس دعوت نامے میں یہ تو ذکر نہیں کہ فولڈ ایبل ریزر فون متعارف کرایا جائے گا مگر اس کے متن کا مطلب یہی بنتا ہے کہ کلاسیک فون کو نئے طرز میں متعارف کرایا جارہا ہے۔

اب تک سام سنگ گلیکسی فولڈ اور ہواوے میٹ ایکس ایسے فولڈ ایبل فونز ہیں جن کو متعارف کرایا جاچکا ہے، جن میں سے سام سنگ کا فون مختلف ممالک میں دستیاب ہے جبکہ ہواوے کا فون چین میں پیش کیا جاچکا ہے دیگر ممالک میں آئندہ چند ہفتوں میں متعارف ہونے کا امکان ہے۔

5 جی سروسز باقاعدہ طور پر چین میں متعارف

چین میں باضابطہ طور پر 5 جی موبائل سروسز کو متعارف کرادیا گیا ہے بلکہ اس حوالے سے اس نے اہم اعزاز بھی اپنے نام کرلیا ہے۔

اس وقت امریکا، برطانیہ اور جنوبی کوریا میں 5 جی سروسز محدود مقامات پر صارفین کو دستیاب ہیں مگر چین نے اس معاملے میں سب کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کے سب سے بڑے 5 جی نیٹ والے ملک کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہے۔

3 کمپنیوں چائنا موبائل، چائنا یونی کام اور چائنا ٹیلی کام کی جانب سے 5 جی سروسز کو صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا ہے اور 30 جی بی ڈیٹا 128 یوآن (28 سو پاکستانی روپے) جبکہ 300 جی بی ڈیٹا 599 یوآن (ایک لاکھ 31 ہزار پاکستانی روپے) میں صارفین کو دستیاب ہوگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 4 جی انٹرنیٹ کے ڈیٹا پلان کی قیمتیں بھی اس سے ملتی جلتی ہیں تو نئی نسل کے نیٹ ورک کو عام صارفین بھی استعمال کرسکیں گے۔

چونکہ چین کی 3 بڑی موبائل آپریٹر کمپنیوں نے 5 جی سروسز کو متعارف کرایا ہے تو ملک بھر میں 86 ہزار بیس اسٹیشنز کی تنصیب ہوئی ہے اور 50 اہم ترین شہروں جیسے بیجنگ، شنگھائی اور دیگر میں یہ سروس صارفین کے لیے دستیاب ہوگی۔

چین میں 5 جی سروسز کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی ایک کروڑ سے زائد افراد نے موبائل آپریٹرز میں اس کے حصول کے لیے رجسٹریشن کرائی ہوئی تھی۔

اسی طرح ہواوے نے میٹ 30 فائیو جی اسمارٹ فون کے ایک لاکھ یونٹس محض ایک منٹ میں فروخت کردیئے تھے جس سے بھی صارفین کی اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے دلچسپی کا اندازہ ہوتا ہے۔

چینی حکومت کو توقع ہے کہ 2020 تک 11 کروڑ سے زائد افراد فائیو جی نیٹ ورک کو استعمال کرنے لگیں گے۔

فائیو جی کی رفتار کیا ہوگی؟

گزشتہ سال اس کی آزمائش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ فائیو جی نیٹ ورک موجودہ موبائل انٹرنیٹ کنکشن سے سوگنا جبکہ گھروں کے براڈ بینڈ کنکشن سے دس گنا تیز ہوگا۔ گزشتہ سال موبائل ورلڈ کانگریس میں سام سنگ نے فائیو جی ہوم روٹر کو پیش کیا تھا جس کی رفتار 4 گیگابائٹس فی سیکنڈ تھی، یا یوں بھی کہا جاسکتا ہے 500 میگا بٹس فی سیکنڈ، جس کی مدد سے پچاس جی بی کی فائل صرف دو منٹ جبکہ سو جی بی کی فلم چار منٹ میں ڈا?ن لوڈ کی جاسکتی ہے۔

اس وقت امریکا میں انٹرنیٹ کی اوسط رفتار صرف 55 میگا بٹ فی سیکنڈ ہے۔ تاہم جب فائیو جی ٹیکنالوجی صحیح معنوں میں سامنے آئے گی تو درست اندازہ ہوگا کہ اس کی اوسط رفتار مختلف رکاوٹوں یا لوگوں کے ہجوم کے دوران کیا ہوگی تاہم پھر بھی فور جی ایل ٹی ای سے کئی گنا زیادہ تیز ضرور ہوگی، یعنی اگر پچاس فیصد کم بھی ہوتی تو بھی گھریلو انٹرنیٹ کی رفتار 2 گیگا بائٹس فی سیکنڈ ہوگی جبکہ ایک گیگابائٹ فی سیکنڈ بھی موجودہ تناظر میں زبردست ہی قرار دی جاسکتی ہے۔

واٹس ایپ کے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بہترین فیچر متعارف

دنیا کی سب سے سے مقبول میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ اگرچہ گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل نئے فیچر متعارف کرانے میں مصروف ہے۔

مگر اب اس میسجنگ اپلیکشن میں ایسا فیچر متعارف کرایا گیا ہے جو صارفین کے لیے اپنی چیٹ کو دیگر افراد کی رسائی سے دور رکھنے میں مدد دے گا۔

آئی او ایس کے بعد اب واٹس ایپ کے اینڈرائیڈ ورژن میں بھی فنگرپرنٹ سنسر ان لاک کا فیچر متعارف کرادیا گیا ہے جس کا مقصد صارف کے اکاﺅنٹ کو زیادہ تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس فیچر کے تحت صارفین کے واٹس ایپ اکاؤنٹ تک کوئی بھی شخص اس وقت تک رسائی حاصل نہیں کر سکے گا جب تک اکاؤنٹ ہولڈر فنگر پرنٹ کے ذریعے لاک نہیں کھلے گا۔

اب تک کسی کے بھی واٹس ایپ اکاؤنٹ تک رسائی کرنا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں، لیکن اس فیچر کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ کسی بھی غیر شخص کا کسی کے واٹس ایپ اکاؤنٹ تک رسائی کرنا تقریبا ناممکن بن جائے گا۔

اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے واٹس ایپ سیٹنگز میں جائیں اور وہاں اکاﺅنٹ اور پھر پرائیویسی کے آپشن میں چلے جائیں۔

وہاں سب سے نیچے آپ کو فنگرپرنٹ لاک کا آپشن نظر آئے گا، اس پر کلک کرکے ان لاک ود فنگرپرنٹ کے آپشن کے ٹرن آن کردیں۔

اس کے بعد اینڈرائیڈ فون میں فنگرپرنٹ کے اندراج کی تصدیق کی جائے گی، جبکہ صارف کو وقت کا آپشن بھی دیا جائے گا جس کے بعد اپلیکشن خودکار طور پر لاک ہوجائے گی، یہ بالکل فونز کے اسکرین لاک جیسا ہوگا جو کہ ایک منٹ یا 30 منٹ کا ہوگا۔

ایپ لاک ہونے پر بھی واٹس ایپ پر کالز کا جواب دینا ممکن ہوگا۔

یہ فیچر ان فونز میں ہی استعمال ہوسکے گا جس میں فنگرپرنٹ سنسر موجود ہوگا۔

موٹرولا کے فولڈ ایبل ریزر فون کی پہلی تصویر سامنے آگئی

موٹرولا کا پہلا فولڈ ایبل فون ممکنہ طور پر 13 نومبر کو متعارف کرایا جارہا ہے جو ماضی کے آئیکونک موبائل فون ریزر 3 کا اپ ڈیٹ ورژن ہوگا۔

مگر یہ نیا ریزر فولڈ ایبل فون کیسا ہوگا، اب تک اس بارے میں کسی کو علم نہیں تھا کیونکہ کانسیپٹ ڈیزائن تو سامنے آئے مگر اصل ڈیوائس کی لیک تصاویر دیکھنے میں نہیں آئیں۔

مگر اسمارٹ فونز کمپنیوں کی تفصیلات اور تصاویر لیک کرنے کے حوالے سے مشہور ٹوئٹر صارف ایون بلاس نے موٹرولا کے فولڈ ایبل ریزر فون کی پہلی جھلک پوسٹ کی ہے۔

جو تصاویر ایون بلاس نے شیئر کی ہیں وہ بظاہر آفیشل مارکیٹنگ فوٹوز لگتی ہیں۔

اور تصاویر سے یہ اوریجنل ریزر جیسا ہی فون ہے جس میں ایسا لگتا ہے کہ فرنٹ کیمرا سیلفی کے ساتھ ریگولر فوٹوز لینے میں بھی مدد دے گا۔

اسی طرح فنگر پرنٹ سنسر بھی فون کے نچلے حصے میں نظر آرہا ہے یا کم از کم ایسا محسوس ضرور ہوتا ہے۔

ایون بلاس کی جانب سے ریزر کی تصویر شیئر کیے جانے کے بعد ڈچ ویب سائٹ Mobielkopen نے بھی اس فون کی تصاویر کو شیئر کیا مگر اس کے ساتھ فون کے ہارڈوئیر تفصیلات بھی لیک کیں۔

فوٹو بشکریہ mobielkopen
فوٹو بشکریہ mobielkopen

اس سائٹ کے مطابق اس فون میں اسنیپ ڈراگون 710 پراسیسر، 4 سے 6 جی بی ریم اور 128 سے 256 جی بی اسٹوریج دی جائے گی جبکہ 2730 ایم اے ایچ بیٹری ہوگی۔

اس سے پہلے لیکس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس کی قیمت ڈیڑھ ہزار ڈالرز تک ہوگی جبکہ فلپ فولڈ ایبل فون کھلنے پر 6.2 انچ ڈیوائس کی شکل اختیار کرے گا۔

جبکہ بند ہونے پر سیکنڈری ڈسپلے پر وقت اور تاریخ کے ساتھ نوٹیفکیشن آئیکون دیکھے جاسکیں گے۔

ریزر فولڈ ایبل فون 13 نومبر کو متعارف کرائے جانے کا امکان ہے کیونکہ کمپنی نے اس تاریخ کو لاس اینجلس میں ایک ایونٹ کے انعقاد کا اعلان کررکھا ہے۔

اس دعوت نامے میں یہ تو ذکر نہیں کہ فولڈ ایبل ریزر فون متعارف کرایا جائے گا مگر اس کے متن کا مطلب یہی بنتا ہے کہ کلاسیک فون کو نئے طرز میں متعارف کرایا جارہا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک انیمیٹڈ تصویر بھی پوسٹ کی گئی جس میں ایک ڈیوائس بند اور کھل رہی ہے اور اس پر لکھا ہے ‘ایک اوریجنل، جس جیسا کوئی اور نہیں’، اس کے ساتھ 13 نومبر کی تاریخ ہے۔

اب تک سام سنگ گلیکسی فولڈ اور ہواوے میٹ ایکس ایسے فولڈ ایبل فونز ہیں جن کو متعارف کرایا جاچکا ہے، جن میں سے سام سنگ کا فون مختلف ممالک میں دستیاب ہے جبکہ ہواوے کا فون چین میں پیش کیا جاچکا ہے دیگر ممالک میں آئندہ چند ہفتوں میں متعارف ہونے کا امکان ہے۔

Google Analytics Alternative