سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

مناسب قیمت اور اچھے فیچرز سے لیس نیا نوکیا 7.1 فون متعارف

اگر تو آپ مناسب قیمت میں اچھے ڈیزائن، بہتر کیمروں اور فیچرز والا فون چاہتے ہیں، تو نوکیا 7.1 آپ کو ضرور پسند آئے گا۔

ایچ ایم ڈی گلوبل نے نوکیا ایک اور اسمارٹ فون متعارف کرادیا ہے جس کی قیمت اور فیچرز کافی مناسب قرار دیئے جاسکتے ہیں۔

گزشتہ سال کے نوکیا 7 کا یہ اپ ڈیٹ ورژن مڈرینج اسمارٹ فون ہے جس میں آئی فون ایکس جیسا نوچ اور بیزل کافی حدک تک کم کیے گئے ہیں۔

5.8 انچ اسکرین کے ساتھ ایچ ڈی آر ڈسپلے کے ساتھ ‘خالص’ اینڈرائیڈ ون سپورٹ کو اس فون کی خاصیت ہی سمجھی جاسکتی ہے کیونکہ سیکیورٹی اپ ڈیٹس 3 سال جبکہ سافٹ وئیر اپ ڈیٹس 2 سال تک فوری صارفین کو دستیاب ہوں گی۔

اور یہ ایسے فون کے لیے انتہائی زبردست ہے جو کہ قیمت کے لحاظ سے سام سنگ کے لیے گلیکسی نوٹ 9 سے 50 فیصد سے بھی زیادہ سستی ہو۔

اس فون میں کسی حد تک ڈسٹ ریزیزٹنس اور واٹر اسپرے تحفظ بھی فراہم کیا گیا ہے تاہم پانی میں ڈوبنے پر یہ ضرور خراب ہوجائے گا۔

فوٹو بشکریہ نوکیا
فوٹو بشکریہ نوکیا

اس فون میں کوالکوم اسنیپ ڈراگون 636 پراسیسر دیا گیا ہے جو کہ گزشتہ ماڈل کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ تیز ہے۔

اسی طرح 32 جی بی اسٹوریج اور تھری جی بی ریم یا 64 جی بی اسٹوریج اور فور جی بی ریم کے آپشنز دیئے گئے ہیں، یو ایس بی سی فاسٹ چارجنگ سپورٹ موجود ہے (50 فیصد بیٹری آدھے گھنٹے میں چارج ہوسکتی ہے)۔

3600 ایم اے ایچ بیٹری، ہیڈفون جیک اور فرنٹ پر 8 میگا پکسل کیمرہ دیا گیا ہے جس میں پورٹریٹ موڈ کے لیے سافٹ وئیر سپورٹ موجود ہے۔

فون کے بیک پر 12 اور 5 میگا پکسل کا ڈوئل کیمرہ سسٹم ہے جو کہ دھندلے پس منظر والی تصاویر لینے میں مدد دیتا ہے جبکہ اسپلٹ اسکرین فون موڈ پر آپ فرنٹ اور بیک کیمروں کو بیک وقت تصاویر اور ویڈیو کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، جس کمپنی بوتھیز قرار دیتی ہے۔

فوٹو بشکریہ نوکیا
فوٹو بشکریہ نوکیا

یہ فیچر گزشتہ سال نوکیا 8 میں سامنے آیا تھا۔

یہ فون رواں ماہ کے آخر میں 349 ڈالرز (لگ بھگ 37 یا 38 ہزار پاکستانی روپے) میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔

ونڈوز 10 میں ڈیٹا غائب ہونے سے صارفین پریشان

اگر تو آپ اپنے کمپیوٹر میں موجود فائلوں کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو ونڈوز 10 کے نئے ورژن کو اپ ڈیٹ کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔

ڈیجیٹل ٹرینڈز کی رپورٹ کے مطابق کچھ ونڈوز 10 صارفین نے ونڈوز 10 اکتوبر اپ ڈیٹ کو انسٹال کیا، جو کہ رواں ہفتے ہی ریلیز کی گئی تھی، تو انہیں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جن میں فائلیں ڈیلیٹ ہوجانا، جو دوبارہ ریکور بھی نہیں ہورہیں جبکہ پراسیسر کا غیرضروری استعمال، جس سے بیٹری لائف کم ہورہی ہے۔

مائیکرو سافٹ کے ایک ترجمان کے مطابق ان دعوﺅں پر تحقیقات کی جارہی ہے جبکہ اس نکتے کی جانب بھی نشاندہی کی کہ صرف ایڈوانسڈ صارفین نے ہی اس اپ ڈیٹ کو انسٹال کیا ہے۔

فی الحال ونڈوز 10 والے کمپیوٹرز میں اس اپ ڈیٹ کو انسٹال کرنے کا 9 اکتوبر تک نہیں کہا جائے گا۔

متاثرہ صارفین کے مطابق ان کے یوزر ڈائریکٹری کے فولڈرز جیسے ڈاکومینٹس اور پکچرز میں موجود فائلیں اپ ڈیٹ کے بعد غائب ہوگئیں۔

جب ان صارفین نے اپ ڈیٹ کو ریورس کرکے ونڈوز کے پرانے ورژن کو بحال کیا تو بھی وہ فائلیں واپس نہیں آئیں۔

ایک صارف نے تو مائیکرو سافٹ سپورٹ فورم میں بتایا کہ اس کا 200 جی بی ڈیٹا نئی اپ ڈیٹ انسٹال کرنے کے بعد اڑ گیا، جبکہ دیگر فورمز میں بھی لوگوں نے اس سے ملنے جلتے مسائل کا ذکر کیا۔

اسی طرح انٹیل ڈسپلے سے مطابقت نہ کرپانے پر اس نئی اپ ڈیٹ کے نتیجے میں پراسیسر غیرضروری طور پر کام کرکے لیپ ٹاپس کی بیٹری لائف کم کررہا ہے اور اس مسئلے سے بھی مائیکرو سافٹ آگاہ ہے۔

کمپنی نے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والی ڈیوائسز میں اس نئی اپ ڈیٹ کو ڈاﺅن لوڈ بلاک کرنا شروع کردیا ہے۔

کمپنی کے مطابق صارفین ونڈوز 10 اکتوبر اپ ڈیٹ کو مینوئلی اپ ڈیٹ نہ کریں بلکہ اپ ڈیٹ ناﺅ بٹن یا میڈین کرئیشین ٹول کو استعمال کریں۔

دنیا کا پہلا 5 کیمروں والا اسمارٹ فون متعارف

دنیا کا پہلا ایسا اسمارٹ فون متعارف کرا دیا ہے جس میں مجموعی طور پر 5 کیمرے دیئے گئے ہیں۔

نیویارک میں ایک ایونٹ کے دوران ایل جی نے اپنا نیا فلیگ شپ فون وی 40 متعارف کرایا جو کہ پہلا فون ہے جس میں آگے اور پیچھے مجموعی طور پر 5 کیمرے دیئے گئے ہیں۔

ابھی مارکیٹ میں 4 کیمروں والے فون تو دستیاب ہیں مگر وی 40 پہلا فون ہے جس کے بیک پر 3 جبکہ فرنٹ پر 2 کیمرے دیئے گئے ہیں۔

اس فون میں 6.4 انچ کا لگ بھگ بیزل لیس ڈسپلے دیا گیا ہے جبکہ اوپری حصے میں آئی فون ایکس جیسا نوچ موجود ہے، تاہم صارف چاہے تو اسے ہائیڈ کرسکتا ہے۔

فوٹو بشکریہ ایل جی
فوٹو بشکریہ ایل جی

اس میں آڈیو کے لیے بلٹ ان ڈی اے سی دیا گیا ہے جو کہ ہیڈفونز کے لیے آواز کو بہتر کرے گا۔

فون میں گوگل اسسٹنٹ کا بٹن بھی دیا گیا ہے جس سے آپ ریمائنڈر، موسم جاننے اور چند دیگر دوسرے کام یعنی وائیڈ اینگل کیمرے سے تصویر لینا وغیرہ کرسکتے ہیں۔

یہ فون آئی پی 68 واٹر ریزیزٹنس ریٹنگ رکھتا ہے اور کمپنی کے مطابق ایک میٹر پانی میں آدھے گھنٹے تک رہنے پر بھی اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

ایل جی نے اس فون میں ہیڈفون جیک کو برقرار رکھا ہے اور صارفین کو ڈونگل یا بلیوٹوتھ سے کنکٹ کرکے ہیڈفون استعمال کرنے کی تکلیف کا سامنا نہیں ہوگا۔

ایل جی نے اس میں اسنیپ ڈراگون 845 پراسیسر دیا ہے اور کمپنی کے مطابق یہ سابقہ ماڈل کے مقابلے زیادہ تیز ہے۔

فوٹو بشکریہ ایل جی
فوٹو بشکریہ ایل جی

بینچ مارک میں وی 40 نے سام سنگ کے گلیکسی نوٹ 9 جتنا اسکور ہی حاصل کیا ہے تاہم یہ دونوں فونز اس معاملے میں آئی فون ایکس ایس میکس سے پیچھے ہیں۔

اس فون میں 3300 ایم اے ایچ بیٹری، سکس جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے، تاہم ایس ڈی کارڈ سے اسے 2 ٹی بی تک بڑھایا جاسکتا ہے۔

اس کے بیک پر 12 میگا پکسل کا اسٹینڈرڈ لینس آپٹیکل امیج اسٹیبلائزیشن کے ساتھ ہے، دوسرا کیمرہ 16 میگا پکسل وائیڈ اینگل لینس اور تیسرا ٹیلی فوٹو 12 میگا پکسل کیمرہ ہے جس میں 2x زوم دیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق وائیڈ اینگل لینس سے آپ ہر فریم میں زیادہ مواد فٹ کرکے تصویر لے سکتے ہیں جبکہ ٹیلی فوٹو لینس زومنگ کے ساتھ ساتھ دھندلے پس منظر والی تصاویر لینے میں مدد دیتا ہے۔

فون کے فرنٹ پر 5 اور 8 میگا پکسل پر مشتمل ڈوئل کیمرہ سیٹ اپ ہے جو کہ پورٹریٹ تصاویر لینے کے ساتھ پس منظر کو صارف کی پسند کے مطابق دھندلا کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ایل جی کیمروں میں گوگل لینس کو بھی شامل کیا ہے تاکہ اشیاءاور مقامات کی شناخت کرسکے جبکہ اے آئی فیچرز بھی کیمروں کا حصہ بنائیں گئے ہیں۔

اس فون کی قیمت 900 ڈالرز (ایک لاکھ پاکستانی روپے کے قریب) سے شروع ہوگی جبکہ یہ اکتوبر کے وسط میں مختلف ممالک میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔

زرعی تحقیق کی آڑ میں ’زرعی دہشت گردی‘ کا ایک اور امریکی منصوبہ؟

کراچی: امریکی فوج کے زیرِنگرانی گزشتہ کئی سال سے ’’انسیکٹ ایلائیز‘‘ نامی ایک ایسے منصوبے پر کام ہورہا ہے جس کے تحت کیڑے مکوڑوں کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی پودے میں وقتی طور پر جینیاتی تبدیلیاں (genetic modifications) کی جاسکیں گی؛ اور یوں اس میں ناموافق حالات کے خلاف مزاحمت پیدا کر دی جائے گی۔ مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر بے ضرر اور پرامن دکھائی دینے والا یہی منصوبہ، مستقبل میں حیاتیاتی/ زرعی دہشت گردی کےلیے نئی اور انتہائی خطرناک ٹیکنالوجی کو بھی جنم دے سکتا ہے جسے ممکنہ طور پر امریکا مخالف ملکوں کی زراعت تباہ کرنے میں استعمال کیا جاسکے گا۔

گزشتہ روز ’’امریکن ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف سائنس‘‘ (AAAS) کے ہفت روزہ تحقیقی جریدے ’’سائنس‘‘ میں جرمن اور فرانسیسی ماہرین کا ایک مشترکہ مقالہ شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے اس منصوبے پر شدید اعتراضات کیے ہیں۔ ان کے مؤقف کا لبِ لباب یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کسی دو دھاری تلوار کی مانند ہے جسے انسانیت کےلیے فائدے کے ساتھ ساتھ انسانوں کی تباہی و بربادی میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

’’انسیکٹ ایلائیز‘‘ میں جس طرح کی حیاتیاتی ٹیکنالوجی کو پختہ کرنے پر کام ہورہا ہے، وہ آنے والے برسوں میں امریکا مخالف ممالک کی فصلیں تباہ کرنے میں بھی اتنی ہی سہولت سے استعمال کی جاسکے گی کہ جتنی سہولت سے اس کے ذریعے فصلوں کو مضبوط اور بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیجیے کہ ’’انسیکٹ ایلائیز‘‘ منصوبے کے تحت کسی وائرس سے متاثر کردہ یا (جینیاتی طور پر) ترمیم شدہ کیڑے کسی پودے (فصل) پر حملہ کرتے ہیں اور اپنا جینیاتی مواد (جین/ ڈی این اے) اس میں داخل کردیتے ہیں۔ اس کے تھوڑی دیر بعد ہی پودے میں وقتی طور پر کچھ ایسی خصوصیات پیدا ہوجاتی ہیں جو اس میں قدرتی طور پر پہلے سے موجود نہیں تھیں۔

اس منصوبے پر ماہرین کا اعتراض ہے کہ جینیاتی ترمیم کے ذریعے کیڑوں کو پودوں میں ایسا جینیاتی مواد داخل کرنے کے قابل بھی بنایا جاسکتا ہے جو انہیں موت کی نیند سلا دے اور صرف چند دنوں میں پوری کی پوری فصل تباہ کردے۔ یہ ٹیکنالوجی پختہ ہوجانے کی صورت میں صرف جینیاتی مواد تبدیل کرنے کی دیر ہوگی کہ یہی ’مفید ٹیکنالوجی‘ چشمِ زدن میں بھیانک اور مہلک روپ دھار لے گی۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسی کوئی بھی صورت، حیاتیاتی ہتھیاروں پر پابندی کے عالمی معاہدے (BWC)کی کھلی خلاف ورزی ہوگی۔

’’انسیکٹ ایلائیز‘‘ پر ماہرین کا دوسرا منطقی اعتراض یہ ہے کہ زراعت سے متعلق منصوبوں پر کام کروانا اور ان کی نگرانی کرنا، امریکی محکمہ زراعت (ڈیپارٹمنٹ آف ایگریکلچر) کا کام ہے لیکن یہ منصوبہ، دفاعی تحقیق کے امریکی فوجی ادارے ’’ڈارپا‘‘ (DARPA) یعنی ’’ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹ ایجنسی‘‘ کی سرپرستی میں جاری ہے۔ امریکی فوج کے حکام یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ آخر دفاعی اُمور سے تعلق رکھنے والا ایک خالص فوجی ادارہ کسی زرعی یا حیاتیاتی منصوبے میں دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟

قصہ مختصر یہ کہ تکنیکی بنیادوں پر ماہرین کی تشویش بالکل درست ہے مگر امریکی حکام اب تک یہ تشویش دُور کرنے میں ناکام ہیں۔

قبل ازیں 1990 کے عشرے میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہوچکا ہے جب ایک نجی امریکی کمپنی نے ’’سیڈ ٹرمنیشن ٹیکنالوجی‘‘ وضع کی تھی جسے ’’گرٹ‘‘ (GURT) کا تکنیکی نام دیا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسے بیج تیار کیے جاتے ہیں جن سے صرف ایک بار ہی فصل حاصل کی جاسکتی ہے؛ اور کاشتکار کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اگلی فصل کےلیے بازار سے نئے بیج خریدے کیونکہ پچھلی فصل سے بچائے گئے بیج اس قابل ہی نہیں ہوتے کہ ان سے کوئی پودا نکل سکے۔ بعد ازاں ایک اور بڑی امریکی کمپنی نے یہ ٹیکنالوجی (متعلقہ کمپنی سمیت) دو ارب ڈالر میں خرید لی اور اسے استعمال کرتے ہوئے بہت سی نئی اور بہتر فصلیں تیار بھی کروالیں۔

آج یہ فصلیں پاکستان اور بھارت سمیت، دنیا کے کئی ممالک میں فروخت ہورہی ہیں جبکہ بھارت میں اب تک لاکھوں کسان اسی ٹیکنالوجی کے باعث خودکشی کرچکے ہیں کیونکہ ایک بار فصل خراب ہونے کے بعد وہ (روایتی طرز پر) اس کے بچے کچھے بیجوں سے دوسری فصل پیدا نہیں کرسکتے تھے اور کمپنی سے منہ مانگے داموں پر نیا بیج خریدنے کےلیے ان کے پاس رقم بھی نہیں تھی۔ ’’سیڈ ٹرمنیشن ٹیکنالوجی‘‘ (GURT) کے طفیل جب ان کے گھروں میں فاقے ہونے لگے تو وہ خودکشی پر مجبور ہوگئے۔

ہوسکتا ہے کہ آنے والے برسوں میں ’’انسیکٹ ایلائیز‘‘ سے وجود میں آنے والی ٹیکنالوجی بھی امریکا مخالف ملکوں کی زراعت تباہ کرنے اور وہاں رہنے والوں کو فاقے کرنے پر مجبور کرکے ’’عظیم امریکی مفادات‘‘ حاصل کرنے میں استعمال کرلی جائے… امریکا بہادر سے کچھ بھی بعید نہیں۔

آئی فون ایکس ایس ‘چارج گیٹ’ مسئلے کا حل متعارف

ایپل نے اپنے مہنگے ترین آئی فون ایکس ایس (10 ایس) اور ایکس ایس میکس (10 ایس میکس) کے چارجنگ مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک حل پیش کیا ہے تاکہ صارفین کو اس مشکل سے بچایا جاسکے۔

گزشتہ ہفتے یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایپل کے متعدد نئے آئی فونز نے چارج ہونے سے انکار کردیا تھا، جس پر سے اسے ‘چارج گیٹ’ کا نام دیا گیا تھا۔

متعدد صارفین نے ایپل سپورٹ کمیونٹیز، ریڈیٹ، میک ریومرز، ٹوئٹر اور یوٹیوب میں شکایت کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ ان کے آئی فونز اس وقت تک چارج نہیں ہوتے جب تک اسکرین ایکٹیو نہ ہو، اس کے لیے انہیں لائٹننگ کیبل نکال کر فون کو دوبارہ چارجنگ کے لیے ری پلگ کرنا پڑتا ہے۔

آسان الفاظ میں آئی فون ایکس ایس یا آئی فون ایکس ایس میکس اس وقت چارج نہیں ہوتے جب وہ وال چارجر پر اسٹینڈبائی موڈ پر چارج ہورہے ہوں، ان میں بیشتر فونز منجمند ہوجاتے ہیں اور دوبارہ ری سیٹ کرنا پڑتے ہیں۔

اب اس مسئلے کے حل کے لیے ایپل نے حل نئے سافٹ وئیر اپ ڈیٹ میں پیش کیا ہے۔

آئی او ایس 12.1 میں یہ اپ ڈیٹ کی جائے گی جو کہ فی الحال صرف بیٹا ورژن میں دستیاب ہے مگر بہت جلد صارفین کی ڈیوائسز میں اسے اپ ڈیٹ کردیا جائے گا۔

ایپل نے باضابطہ طور پر اس بگ کے بارے میں کوئی بات نہیں کی مگر رپورٹس کے مطابق آئی او ایس اپ ڈیٹ کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا جائے گا۔

پہلے کہا جارہا تھا کہ یہ مسئلہ صرف آئی فون ایکس ایس اور ایکس ایس میکس تک محدود ہے مگر پرانے آئی فونز میں بھی یہ مسئلہ سامنے آیا، جس سے عندیہ ملا کہ درحقیقت یہ آئی او ایس 12 میں مسئلہ تھا، جس وجہ سے کمپنی کے لیے اس حل کرنا آسان ہے۔

یہ واضح نہیں کہ یہ بگ آئی او ایس میں کس وجہ سے آیا اور ایپل اس کے لیے آپریٹنگ سسٹم میں کیا تبدیلی کرے گی۔

یوٹیوب نے خاموشی سے انتہائی کارآمد فیچر متعارف کرا دیا

رواں سال مارچ میں یوٹیوب نے 2 ویڈیو ملٹی ٹاسکنگ ڈیسک ٹاپ فیچرز  کی آزمائش شروع کی تھی، جن کا مقصد ایک ہی تھا، یعنی ویڈیو دیکھتے ہوئے سائٹ پر براﺅز کرنے میں مدد دینا۔

7 ماہ بعد آخرکار یوٹیوب میں منی پلیئر کے نام سے یہ پکچر ان پکچر پلے بیک کا آپشن صارفین کے لیے پیش کردیا گیا ہے، یہ فیچر یوٹیوب میں ویڈیو اوپن ہونے پر نیچے موجود ویڈیو ٹولز میں چھپا ہوا ہے۔

ایکواڈور سے ہمنگ برڈ کی نئی قسم دریافت

ایکواڈور: پرندوں کے ماہرین نے ہمنگ برڈ (شکر خورے) کی ایک نئی نوع دریافت کی ہے۔ سبز اور نیلے رنگ کا یہ خوبصورت پرندہ ہر روز اپنے وزن سے دوگنا رس پی جاتا ہے لیکن معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار ہے۔

ایک سال قبل ماہرین کی ٹیم کے سربراہ فرانسسکو سورنوزا نے اس پرندے کو دوربین سے دیکھا تھا اور ان کا خیال تھا کہ یہ ایک نئی نوع (اسپیشیز) ہے۔  اوریئٹروکائلس سیانولیمس نامی یہ پرندہ گیارہ سینٹی میٹر لمبا ہے جس کی گہری نیلی چونچ ہے۔ اس کا سینہ سفید ہے اور بدن پر نیلا اور ہرا رنگ نمایاں ہے۔

اس کی تفصیل پرندوں کے ایک تحقیقی جرنل اورنیتھولوجیکل ایڈوانسس میں شائع ہوئی ہے۔ یہ پرندہ سرد اور انتہائی بلند علاقوں میں رہتا ہے۔ ایکواڈور کے علاقوں لوجا اور ایل اورو میں یہ پایا جاتا ہے۔ اس کا قدرتی مسکن کان کنی کی وجہ سے تیزی سے تباہ ہورہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے صرف 300 پرندے موجود ہیں۔

ایکواڈور ہمنگ برڈ کا گھر ہے اور یہاں اس کی 123 کے قریب اقسام پائی جاتی ہیں۔ ہمنگ برڈ کا دل ایک منٹ میں 1600 مرتبہ دھڑکتا ہے لیکن رات کے وقت اور شدید سردی میں دل کی دھڑکن کم ہوکر 200 فی منٹ رہ جاتی ہے۔

اب اینڈرائیڈ فون کو صرف آواز سے استعمال کرنا بھی ممکن

گوگل نے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے ایک نئی ایپ متعارف کرائی ہے جس کو استعمال کرنے پر آپ کو اسمارٹ فون پر ٹائپ یا کلک کرنے کی ضروت نہیں ہوگی بلکہ صرف اپنی آواز سے تمام اپلیکشنز کو استعمال کرسکیں گے۔

وائس ایسسز نامی یہ ایپ یہ ایپ ویسے ہی کام کرتی ہے جیسے آپ گوگل اسسٹنٹ پر وائس کمانڈز دیتے ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ایپ کو مکتلف امراض جیسے پارکنسن کے شکار افراد کے لیے ڈیزائن کیا گیا مگر یہ عام لوگوں کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔

اس ایپ کی مدد سے آپ ایپس میں نیوی گیٹ، ٹیکسٹ لکھنے یا ایڈٹ کرنے اور گوگل اسسٹنٹ سے بات کرسکیں گے۔

اسی طرح آواز سے مختلف ایپس میں ٹیپ بٹن کا کام لیا جاسکے گا یا کنٹرول ایڈجسٹ کیے جاسکیں گے۔

اگر کوئی صارف ٹیکسٹ لکھنا یا ایڈٹ کرنا چاہتا ہے تو وہ اوکے گوگل کہنے کے بعد اپنی مطلوبہ ایپ جیسے واٹس ایپ کو اوپن واٹس ایپ کمانڈ سے کھولے گا اور ٹیکسٹ لکھنے کے لیے اپنے جملے بولے گا۔

یہ ایپ اینڈرائیڈ 5.0 یا اس سے بعد کے آپریٹنگ سسٹم والے فونز پر کام کرے گی جس کو انسٹال کرنے کے بعد اوکے گوگل کہنے پر فون وائس ایسسز موڈ پر چلا جائے گا۔

یہ ایپ فی الحال صرف انگلش زبان کے لےی دستیاب ہے مگر جلد اس میں دیگر زبانوں کا اضافہ بھی کیا جائے گا۔

Google Analytics Alternative