سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

صارفین کا ڈیٹا چوری ہونے پر فیس بک پر ایک ارب ڈالر جرمانہ عائد

واشنگٹن: امریکا میں صارفین کی نجی معلومات لیک کرنے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا گیا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق مقامی عدالت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر 2011ء کے نجی کوائف سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر ایک ارب ڈالر جرمانہ عائد کردیا۔

فیس بک نے 8 کروڑ 7 لاکھ صارفین کا ڈیٹا آئی ٹی فرم ’کیمبرج اینا لائیٹکا‘ کو فروخت کیا تھا۔ اس ڈیٹا سے امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی تھی جس پر کانگریس نے فیس بک کے مالک مارک زکر برگ کو طلب کرکے پوچھ گچھ بھی کی تھی۔

واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ارب ڈالر کے ہرجانے کی شکار فیس بک ہرجانے کی رقم میں کمی کے لیے امریکی کمیشن سے مذاکرات کر رہی ہے تاہم امریکی پارلیمنٹ فیس بک کے خلاف سخت کارروائی کے خواہاں ہیں۔

واضح رہے کہ فیس بک نے آئی ٹی فرم کو صارفین کی معلومات دینے کا اعتراف کیا تھا تاہم مارک زگر برگ نے موقف اختیار کیا تھا کہ ڈیٹا کا منفی استعمال مذکورہ کمپنی نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیا اور فیس بک کو اس سے آگاہ نہیں تھا۔

سام سنگ نے اپنی ڈیوائسز خود لیک کردیں

سام سنگ اگلے ہفتے ایک نئی اسمارٹ واچ، فٹنس ٹریکر اور وائرلیس ائیربڈز متعارف کرانے والی ہے۔

اور حادثاتی طور پر اس کی تصدیق جنوبی کورین کمپنی نے اپنی گلیکسی وئیرایبل ایپ میں خود کردی۔

سام سینٹرل نے ٹوئٹر پر گلیکسی وئیرایبل ایپ میں ان نئی ڈیوائسز کے بارے میں تفصیلات کو شیئر کیا۔

یہ ڈیوائسز اس ایپ میں گزشتہ شب تک نظر آرہی تھیں مگر یہ واضح نہیں کہ اس سے سام سنگ کا مقصد کیا ہے۔

کیونکہ عام طور پر یہ کمپنی اپنی ڈیوائسز کے فیچرز اور دیگر تفصیلات کو انہیں متعارف کرانے تک چھپا کر رکھتی ہے۔

تاہم ایپ میں ان ڈیوائسز کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں دی گئین بس ڈیزائن کو دیکھا جاسکتا ہے۔

یہ تینوں ڈیوائسز 20 فروری کو گلیکسی ایس 10 سیریز کے فونز کے ساتھ متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

ان تینوں میں سے ایک تو گلیکسی واچ ایکٹو اسمارٹ واچ ہے جو کہ اس کمپنی کی اسمارٹ واچز میں نیا اضافہ ہے۔

سام سنگ کی نئی اسمارٹ واچ — فوٹو بشکریہ سام سنگ
سام سنگ کی نئی اسمارٹ واچ — فوٹو بشکریہ سام سنگ

اس ڈیوائس میں خم ڈسپلے دیا گیا ہے جبکہ روٹیٹنگ بیزل غائب ہیں جو پہلے دیکھنے آچکے ہیں۔

اس کے سائیڈ میں 2 بٹن ہیں جو کہ ممکنہ طور پر اسے استعمال کرنے کے لیے دیئے گئے ہیں۔

اس گھڑی میں کمپنی کا اپنا ٹیزن آپریٹنگ سسٹم دیا جائے گا اور چونکہ بیزل نہیں تو نیوی گیشن میں کچھ تبدیلیوں کا امکان ہے۔

یہ ممکنہ طور پر سام سنگ کی پہلی اسمارٹ واچ ہے جس میں نیا بیکسبی ریمائنڈر فیچر دیا جائے گا۔

اسی طرح گلیکسی فٹ اور گلیکسی فٹ ای فٹنس ٹریکر بھی ڈیزائن کے لحاظ سے سام سنگ کے گیئر فٹ 2 پرو ٹریکر سے ملتے جلتے ہیں۔

سام سنگ کا نیا فٹنس ٹریکر — فوٹو بشکریہ سام سنگ
سام سنگ کا نیا فٹنس ٹریکر — فوٹو بشکریہ سام سنگ

مگر سب سے خاص وائرلیس ائیربڈز ہیں جو کہ سام سنگ کے گیئر آئیکون ایکس بڈز کے زیادہ بہتر ورژن نظر آتے ہیں۔

سام سنگ وائرلیس بڈز — فوٹو بشکریہ سام سنگ
سام سنگ وائرلیس بڈز — فوٹو بشکریہ سام سنگ

سام سنگ کی جانب سے ان ڈیوائسز کی قیمت اور دیگر خصوصیات سان فرانسسکو میں شیڈول ایونٹ میں سامنے لائی جائیں گی۔

سورج کی حرارت روکنے کا منصوبہ کیا ہے اور اسے کیسے کامیاب بنایا جائے؟

دنیا میں تیزی سے بڑھتا ہوا درجہ حرارت سنگین مسئلے کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ترقی پزیر ممالک کے چند سائنسدانوں نے کچھ عرصے پہلے سورج کی حرارت کو روکنے کا ایک منصوبہ بنایا تھا جسے ‘سولر جیو انجینئرنگ’ کا نام دیا گیا۔

اس تکنیک کے مطابق اگر زمین کے ماحول میں ایک مناسب بلندی پر جسے سائنسی اصطلاح میں ‘اسٹریٹو سفیئر’ کہا جاتا ہے، ایرو سول پارٹیکلز (ذرات) کا چھڑکاؤ کیا جائے تو اس سے سورج کی روشنی و حرارت پر کسی حد تک قابو کیا جاسکتا ہے۔

سولر جیو انجینئرنگ پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اسٹریٹو سفیئر میں تقریبا 50 میگا ٹن تک سلفر ڈائی آکسائیڈ کا اسپرے کیا جائے جو ماؤنٹ پینا ٹوبو سے خارج ہونے والی سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار سے 4 گنا زیادہ مقدار ہے۔

اس طرح تقریبا 2 سال تک زمین پر درجہ حرارت میں اضافہ نہیں ہوگا اور گلوبل وارمنگ کی بدولت ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کو کچھ عرصے کے لیے روکا جا سکے گا۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے محقق گیرناٹ ویجنر کے مطابق یہ طریقہ کار سستا ہو نے کے باعث قابل عمل ہے اور اندازاََ اس پر 2 کروڑ ڈالر کا خرچ آئے گا جو گلوبل وارمنگ پر قابو پانے کے لیے کیے جانے والے دیگر انتظامات اور تکنیک کی نسبت بہت سستا ہے جن پر ہر برس تقریبا 500 کروڑ ڈالر خرچ کیے جارہے ہیں۔

اگرچہ یہ تصور نیا نہیں ہے اور تقریبا ایک عشرے سے سولر جیو انجینئرنگ کی تکنیک پر تحقیقات کی جارہی ہیں اور ماہرین کو اندیشہ ہے کہ اس سے ایشیا کے خطے میں بارشوں کا سبب بننے والا مون سون کا نظام تبدیل ہوسکتا ہے۔

مگر گزشتہ 5 سال سے ایشیائی ممالک میں بارشیں ویسے ہی بے قاعدگی کا شکار ہیں اور کچھ علاقوں میں حد سے زیادہ تو کہیں نہ ہونے کے برابر بارشیں برسنے لگی ہیں، اس کے باوجود سولر جیو انجینئرنگ کا آئیڈیا ابھی تک متنازع ہے اور ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ یہ محض ایک عارضی حل ہے جس کے وقت کے ساتھ ساتھ نقصانات سامنے آئیں گے اور گلوبل وارمنگ کو روکنے کے لیے کی جانے والی عالمی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچے گا۔

اس کے علاوہ اسٹریٹو سفیئر میں اتنی زیادہ مقدار میں سلفر ڈائی آکسائیڈ کا چھڑکاؤ کر نے سے نہ صرف خشک سالی میں اضافہ ہوگا بلکہ کھڑی فصلوں پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے، جس سے غذائی قلت کے علاوہ کینسر سمیت متعدد دیگر امراض کے تیزی سے پھیلنے کے امکانات کو بھی ہر گز رد نہیں کیا جاسکتا، اسی لیے 2018 کے اواخر میں تقریبا 100 سول سوسائٹیز نے سولر جیو انجینئرنگ کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا کہ یہ تکنیک زمین پر بسنے والے جانداروں کے لیے کسی صورت بھی قابل قبول نہیں۔

مگر اس تکنیک کے حق میں دلائل دینے والے سائنسدانوں اور ماہرین کا مؤقف ہے کہ گلوبل وارمنگ کا مسئلہ دن بدن اس قدر سنگین ہوتا جارہا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی اور چارہ بھی نہیں اور یہی صحیح وقت ہے جب دنیا بھر کے ممالک ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر کسی ایک فیصلے تک پہنچیں۔

اس حوالے سے چند ماہرین نے یہ تحفظات بھی پیش کیے کہ اس تکنیک سے دنیا بھر کے ممالک میں فضائی حدود کی خلاف ورزی جیسے سنگین مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں کیوں کہ بہت سے ممالک کی حکومتیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں مگر ایک خاص بلندی پر اسٹریٹو سفیئر میں اتنی مقدار میں سلفر ڈائی آکسائیڈ کا چھڑکاؤ اگر کمرشل جیٹ جہازوں کے ذریعے کیا گیا تو یہ ذرات کچھ ہی دن میں ہر جانب آزادانہ بکھر کر معدوم ہو جائیں گے، لہذاٰ ضروری ہے کہ یہ چھڑکاؤ مخصوص قسم کے نئے تیار کردہ جہازوں یا ایئر کرافٹ کے ذریعے کیا جائے جو ان ذرات کو محض 20 کلومیٹر یا 12 میل کی بلندی پر اس طرح منتشر کریں گے کہ تقریبا ایک سال تک بادلوں کی موٹی تہہ کی طرح چھائے رہیں گے اور اس مقصد کے لیے راکٹس کا استعمال کیا جاسکتا ہے مگر اس سے پراجیکٹ کی لاگت بہت زیادہ بڑھ جانے کا امکان ہے، لہذاٰ وہ ممالک جو تکنیک کے حق میں ہیں انہیں 4 انجنوں والے ایسے جہاز ڈیزائن کروانا ہوں گے جن کے پر (ونگ) کافی زیادہ بڑے ہوں چونکہ 12 میل کی بلندی پر ہوا کا دباؤ سطحِ سمندر کی نسبت گھٹ کر محض 7 فیصد رہ جاتا ہے، اس لیے اس تکنیک کے لیے استعمال ہونے والے جہازوں کے ونگز کا لمبا ہونا انتہائی ضروری ہے۔

سولر جیو انجینئرنگ پر کام کرنے والے انجینئرز کے مطابق انہوں نے 15 سال کے دورانیے پر مشتمل ایک مکمل پلان تشکیل دیا ہے جس میں ان جہازوں کی تیاری، مرمت، سالانہ دیکھ بھال سمیت تمام اخراجات شامل کیے گئے ہیں، اس منصوبے کے مطابق سلفر ڈائی آکسائیڈ کا اسپرے کرنے کے لیے ابتدا میں ہر برس 400 فلائٹس بھیجی جائیں گی جو آہستہ آہستہ بڑھا کر تقریبا 60 ہزار تک کر دی جائیں گی لیکن ان فلائٹس کی تعداد ابھی تک حتمی نہیں ہے کیوں کہ انہیں خفیہ نہیں رکھا جاسکتا اور اس کے لیے دیگر ممالک سے فضائی حدود کی ا جازت بھی لینی ہوگی ورنہ کوئی بڑا تنازع بھی کھڑا ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ سولر جیو انجینئرنگ ایک ایسی نئی جہت ہے جس پر ابھی مزید بہت سا کام اور تحقیق کرنا ضروری ہے، اس کے صرف اس پہلو کو سامنے رکھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اس سے مستقبل میں بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں کیوں کہ اس تکنیک کا بنیادی نکتہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو روکنا اور فضا میں کاربن کی مقدار کو ایک مخصوص حد تک رکھنا ہے، لہذاٰ اسے فوری طور پر گلوبل کلائیمیٹ پالیسی کا حصہ بنانا چاہیے۔

اس کے ساتھ ہی سولر جیو انجینئرنگ کی تکنیک پر عمل کرنے سے پہلے دنیا بھر کے ممالک کو پیرس ایگریمنٹ کی طرح کا کوئی معاہدہ کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں اس کے مضر اثرات کسی بڑے جھگڑے یا عالمی جنگ کا سبب نہ بن جائیں کیوں کہ ہر ملک کی اپنی فضائی حدود ہیں، اس کے علاوہ کون سے علاقوں میں سلفر کی کتنی مقدار کا سپرے کرنا ہوگا، اس کا فیصلہ بھی ایک مشکل امر ہے۔

سب سے بڑھ کر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا اس تکنیک سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو تو کسی حد تک کنٹرول کیا جاسکے گا مگر دوسری جانب اس کے باعث رو نما ہونے والی دیگر موسمیاتی تبدیلیاں، جیسے زمینی و جنگلی حیات کو در پیش خطرات، ساحلوں کا کٹاؤ اور براعظم انٹارکٹیکا کی تیزی سے پگھلتی برف اور متعدد بڑے شہروں کے غرق آب ہونے کے جو خطرات سر پر منڈلا رہے ہیں، وہ کہیں حقیقت ہی نہ بن جائیں اور صورتحال بلکل ہی بے قابو نہ ہو جائے، لہذا اس کے لیے طویل تحقیق اور ابتدا میں چھوٹے پیمانے پر تجربات کی ضرورت ہے۔

ایپل کے اسپیشل ایڈیشن آئی فون رواں ماہ سامنے آنے کا امکان

ایپل کی جانب سے عام طور پر نئے آئی فون کو ستمبر میں متعارف کرایا جاتا ہے۔

مگر ایپل رواں ماہ ہی آئی فون اسپیشل ایڈیشن کے نام سے اپنی نئی ڈیوائسز متعارف کرانے جارہی ہے۔

چینی سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر ایک پوسٹ میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ایپل کی جانب سے فروری کے آخر تک آئی فون ایکس ایس اور ایکس ایس میکس کے اسپیشل ایڈیشن کو متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

یہ اسپیشل ایڈیشن سرخ رنگ میں ہوگا، اس وقت یہ فونز سلور، بلیک اور گولڈ رنگوں میں دستیاب ہے۔

فوٹو بشکریہ ایپل
فوٹو بشکریہ ایپل

پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ اسپیشل ایڈیشن آئی فونز صرف چین کے لیے متعارف کرائے جانے کا امکان ہے کیونکہ اس ملک میں ایپل کی ڈیوائسز کی مانگ میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

مگر ہوسکتا ہے کہ چین کے بعد یہ سرخ آئی فونز دیگر ممالک میں بھی متعارف کرائے جائیں۔

عام طور پر ایپل کی جانب سے اس طرح کے اسپیشل ایڈیشن آئی فون کو اپریل سے جون کی سہ ماہی میں متعارف کرایا جاتا ہے۔

اس سلسلے کا آغاز آئی فون 7 اور 7 پلس سے ہوا تھا جن کے ریڈ ورژن 2017 میں متعارف کرائے گئے تھے جبکہ آئی فون 8 اور 8 پلس کے اسپیشل ایڈیشن اپریل 2018 میں سامنے آئے۔

گزشتہ سال متعارف کرائے گئے آئی فون ایکس آر میں یہ رنگ آغاز سے ہی موجود ہے تو یہ حیران کن نہیں کہ ایپل ریڈ ورژن متعارف کرانے جارہی ہے جو پہلے ہی کمپنی کی آمدنی میں کمی سے پریشان ہے۔

سرخ رنگ کے اسپیشل ایڈیشن آئی فون ایپل کے ریڈ پروگرام کا حصہ ہوتے ہیں جس کا مقصد افریقہ میں ایچ آئی وی اور ایڈز سے مقابلے کے لیے فنڈز اکھٹا کرنا ہے۔

ایپل کے مطابق 2006 سے ریڈ پروگرام کے ساتھ شراکت داری کے دوران وہ 16 کروڑ ڈالرز سے زائد عطیہ کرچکی ہے۔

چینی پوسٹ کے مطابق اس بار ایپل کی جانب سے سرخ آئی فونز کو پراڈکٹ ریڈ برانڈ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا، تاہم عام طور پر اس طرح کے اسپیشل ایڈیشن آئی فون کی قیمت ریگولر ماڈل جتنی ہی ہوتی ہے۔

ایپل نے فی الحال اس حوالے سے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

سام سنگ کے سب سے مہنگے فون کی پہلی جھلک سامنے آگئی

سام سنگ کی جانب سے آئندہ ہفتے دنیا کا پہلا 12 جی بی ریم اور ایک ٹی بی اسٹوریج والا اسمارٹ فون متعارف کرانے والا ہے۔

سام سنگ گلیکسی ایس 10 سیریز کا فون گلیکسی ایس 10 پلس دنیا کا پہلا فون ہوگا جس میں اتنی زیادہ ریم اور اسٹوریج دی جائے گی۔

یہ سام سنگ کی تاریخ کا مہنگا ترین فون بھی ہوگا جس کی قیمت مختلف لیکس کے مطابق 18 سو ڈالرز تک ہوسکتی ہے۔

یہ فون محدود تعداد میں دستیاب ہوگا اور اس میں ایک فیچر ایسا ہوگا جو کسی اور گلیکسی ایس 10 فون میں نہیں ہوگا۔

اس فون میں سرامکس بیک پینل دیا جائے گا اور اب اس کی پہلی تصویر لیک ہوکر سامنے آگئی ہے۔

ایک ٹوئٹر صارف نے گلیکس ایس 10 پلس کے لمیٹڈ ایڈیشن کی تصاویر لیک کیں جس میں بیک پر تین کیمرے جبکہ فرنٹ پر 2 کیمرے دیئے جارہے ہیں۔

انفٹنی او ڈسپلے اور بہت کم بیزل کے ساتھ اس میں فنگرپرنٹ سنسر ڈسپلے کے اندر نصب ہوگا۔

یعنی یہ ریگولر گلیکسی ایس 10 پلس جیسا ہی ہے بس فرق اس کے میٹریل ڈیزائن اور ریم و اسٹوریج کے فرق کا ہوگا۔

یہ فون بلیک اور وائٹ میں دستیاب ہوگا جس کی اصل قیمت کا اندازہ 20 فروری کو سان فرانسسکو میں ایک ایونٹ کے دوران ہوگا جب سام سنگ کی جانب سے گلیکسی ایس 10 کو متعارف کرایا جائے گا۔

یہ نیا فون آئی فون اور اینڈرائیڈ ڈیوائسز سے بالکل مختلف

عام طور پر اسمارٹ فونز کی بات کی جائے تو اکثر افراد کے ذہن میں سام سنگ اور ایپل کا نام سب سے پہلے آتا ہے مگر ایل جی کی ڈیوائسز کا خیال بہت کم لوگوں کو آتا ہے۔

آئی فون ایکس ایس (10 ایس) اور گلیکسی کے نتئے انفٹنی او ڈیزائن والے گلیکسی ایس 10 (جو 20 فروری کو متعارف ہورہے ہیں)، سب لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

ان فونز میں کیمرا سیٹ اپ، ڈیزائن اور فیچرز واقعی کمال کے ہیں مگر ایل جی نے آخرکار ایسا فون تیار کرلیا ہے جو کچھ ایسا کرسکتا ہے جو سام سنگ اور ایپل یا کسی بھی کمپنی کے فونز نہیں کرسکتے۔

ایل جی کا نیا فلیگ شپ فون جی 8 تھن کیو دیکھنے میں تو آئی فون ایکس جیسا ہے جو پہلا اینڈرائیڈ فون ہے جس میں ایپل جیسا فیس آئی ڈی فیچر بھی دیا جارہا ہے۔

یہ جنوبی کورین کمپنی اعلان کرچکی ہے کہ جی 8 کا فرنٹ کیمرا تھری ڈی میں چہرے کی شناخت کرسکے گا جیسا آئی فون ایکس یا ایکس ایس میں موجود ہے۔

تاہم جی 8 میں آئی فون ایکس جیسا نوچ کچھ چھوٹا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں اسپیکر نہیں۔

اور یہی وہ فیچر ہے جو آج تک کسی اسمارٹ فون میں سامنے نہیں آیا کیونکہ جی 8 کی پوری اسکرین ہی اسپیکر ہے۔

ایل جی نے جمرات اس بات کا اعلان کیا کہ کرسٹل ساﺅنڈ او ایل ای ڈی ٹیکنالوجی کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس میں اسکرین کو آڈیو ایمپلی فائر کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ اسپیکر موڈ میں آڈیو ‘متاثر کن bass ‘ کے ساتھ ہوگی جبکہ فل باڈی اسٹیریو پرفارمنس بھی ممکن ہوسکے گی۔

یہ کمپنی پہلے ہی اعلان کرچکی ہے کہ یہ ایسا فون ہوگا جس میں فیچرز استعمال کرنے کے لیے ٹچ اسکرین کو چھونے کی کوئی خاص ضرورت نہیں بلکہ جیسپر کنٹرول اس کی جگہ لے گا۔

فوٹو بشکریہ ایل جی
فوٹو بشکریہ ایل جی

جیسپر کنٹرول میں آپ فون کی اسکری نسے کچھ دور ہاتھ کی حرکت سے اپنی پسند کے فیچرز استعمال کرسکیں گے۔

ایل جی کی جانب سے یہ فون بارسلونا میں شیڈول موبائل ورلڈ کانگریس کے موقع پر 24 فروری کو متعارف کرایا جائے گا۔

ویسے اس فون کی پہلی جھلک بھی سامنے آچکی ہے جو آپ اوپر دیکھ سکتے ہیں جسے ٹوئٹر صارف ایون بلاس نے لیک کیا۔

پلاسٹک سے ایندھن کی تیاری میں ابتدائی کامیابی

نیویارک: ماحول کے ایک بڑے وِلن پلاسٹک کے بارے میں خبر آئی ہے کہ سائنسدانوں نے اسے کئی مراحل سے گزار کر ایندھن میں تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔  

امریکہ میں پورڈوا یونیورسٹی کے ماہرین نے پالیمر کی ایک ایسی قسم کو ایندھنی ہائیڈروکاربنز میں تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس سے دنیا کا 25 فیصد پلاسٹک ایندھن میں بدلا جاسکتا ہے کیونکہ فی الحال پولی پروپائیلین کو ہی ڈیزل کی ایک قسم کے ایندھن میں بدلنے کا تجربہ کیا گیا ہے۔

یہ اہم کام کیمیکل انجینیئر لِنڈا وینگ نے انجام دیا ہے اور وہ کہتی ہیں کہ ان کی ایجاد سے پلاسٹک ری سائیکل (بازیافت) کرنے والے کارخانوں کے منافع میں اضافہ ہوگا اور دنیا میں موجود پلاسٹک کا پہاڑ بھی کم سے کم ہوسکے گا۔ پلاسٹک کو ری سائیکل کرنے کے لیے اسے ایک ساتھ بھینچا اور گرم کیا جاتا ہے۔ 500 درجے سینٹی گریڈ اور 23 میگا پاسکل پریشر پر اسے چند گھنٹوں رکھا جائے تو پلاسٹک اپنی شکل بدل لیتا ہے۔

اس عمل کو ہائیڈروتھرمل لیکوفیکیشن کہا جاتا ہے اور پلاسٹک کی 90 فیصد مقدار ایندھنی درجے کی ایک شے نیفتھا میں بدل گئی جس میں ہائیڈروکاربنز کی اچھی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ عمل کچھ مہنگا ہے لیکن یاد رہے کہ ماحول دوست عمل اور پلاسٹک ٹھکانے لگانے کی یہ کوئی زیادہ قیمت نہیں ہے۔

لِنڈا وینگ کے مطابق اگلے مراحل میں اس سے نیفتھا اور صاف ایندھن بنانے کی کوشش کی جائے گی تاہم حتمی منزل ابھی بہت دور ہے۔

پلاسٹک اس وقت ماحول کے لیے خوفناک عذاب بن چکا ہے۔ اول یہ کبھی ختم نہیں ہوتا اور دھیرے دھیرے ٹوٹ کر مزید باریک ٹکڑوں میں تقیسم ہوتا ہے اور ان کی مقدار اب ہماری غذا میں بھی شامل ہوتی جارہی ہے۔ سمندروں میں پلاسٹک نے ہولناک تباہی پھیلائی ہے جس سے جانور مررہے ہیں اور خوردنی مچھلیوں میں بھی ان کے آثار نمایاں ہیں۔

سام سنگ نے گلیکسی ایس 10 کے تین اہم فیچرز کی تصدیق کردی

سام سنگ کے نئے فلیگ شپ فون گلیکسی ایس 10 سیریز کے فونز اگلے ہفتے منظرعام پر آئیں گے جن کے بارے میں متعدد افواہیں، رپورٹس اور لیکس سامنے آچکی ہیں، جن کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ان ڈیوائسز کے بارے میں لگ بھگ تمام تر تفصیلات لوگ جان چکے ہیں۔

یقیناً لیکس یا رپورٹس مصدقہ نہیں ہوتیں اور ان کی تصدیق کے لیے 20 فروری کو لاس اینجلس میں شیڈول ایونٹ کا انتظار کرنا ہوگا۔

مگر اب جنوبی کورین کمپنی نے خود اپنے فلیگ شپ فونز (3 یا 4 جتنے میں متعارف ہوں گے)، کے چند فیچرز کی تصدیق خود کردی ہے۔

سام سنگ ویت نام نے یوٹیوب چینیل پر چند ویڈیو کے ذریعے اپنی فلیگ شپ فون سیریز کے چند فیچرز کی تصدیق کی۔

سب سے پہلا فیچر جس کی تصدیق ویڈیو میں کی گئی وہ تو انفٹنی او ڈسپلے تھا یعنی بیزل ختم کرنے کے لیے فرنٹ کیمرے کو ایک سوراخ میں دیا جارہا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اسکرین میں فنگرپرنٹ سنسر نصب کرنے کی تصدیق بھی ہوئی۔

دوسری ویڈیو میں جس فیچر کی تصدیق ہوئی وہ 4 کے کیمرا ود پروفیشنل وائبریشن کی موجودگی کی ہے، جو کہ آپٹیکل امیج اسٹیبلائزیشن کا حوالہ ہے۔

ویڈیو میں سام سنگ نے دیگر کمپنیوں کے فونز میں موجود نوچ ڈیزائن کا مذاق بھی اڑایا ہے۔

آخری ویڈیو میں سام سنگ نے تصدیق کی ہے کہ ایس 10 سیریز ریورس وائرلیس چارجنگ کے فیچر سے لیس ہے یعنی اس فون سے آپ وائرلیس دیگر ڈیوائسز کو بھی چارج کرسکیں گے۔

مختلف لیکس کے مطابق ایس 10 نئے گلیکسی وائرلیس ہیڈفونز کو بھی چارج کرسکے گا جو اس فون کے ساتھ ہی متعارف ہوں گے۔

Google Analytics Alternative