سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

سام سنگ نے پہلی بار ’انفنٹی او‘ ڈسپلے فون متعارف کرادیا

اسمارٹ موبائل فون بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی جنوبی کورین کمپنی سام سنگ نے ویسے تو متعدد ایسے اسمارٹ فون متعارف کرائے ہیں، جن میں بہترین فرنٹ کیمرہ دیا گیا ہو۔

تاہم اب کمپنی نے پہلی بار ایک ایسا فون متعارف کرایا ہے، جس کے فرنٹ پر سیلفی کیمرہ کا ہول دیا گیا ہے۔

یعنی سام سنگ کا یہ پہلا فون ہوگا جس کی اسکرین پر بیک کی طرح کیمرہ کا ہول نظر آئے گا۔

اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ سام سنگ کے اس پہلے ’انفنٹی او‘ ہول ڈسپلے فون ’اے 8 ایس‘ کے بیک پر 3 ریئر کیمرے دیے گئے ہیں، جن میں سے ایک 24 میگا پکسل ہے۔

نشریاتی ادارے ’دی ورج‘ کے مطابق سام سنگ نے پہلے ’انفنٹی او‘ ہول ڈسپلے فون کو گزشتہ ماہ متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔

کمپنی نے سام سنگ اے 8 ایس کو سب سے پہلے چین میں متعارف کرایا ہے اور فوری طور پر اس کی قیمت کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔

لیکن آنر اور سام سنگ سے پہلے ایسا فون آئی فون نے متعارف کرایا تھا، آئی فون ایکس کے ڈسپلے پر بھی سیلفی کیمرہ کا ہول دیا گیا تھا، جس کا ابتدائی طور پر سام سنگ نے مذاق اڑایا تھا۔
سام سنگ اے 8 ایس کے فرنٹ پر بھی بیک کی طرح کیمرہ نظر آئے گا—فوٹو: سام سنگ
سام سنگ اے 8 ایس کے فرنٹ پر بھی بیک کی طرح کیمرہ نظر آئے گا—فوٹو: سام سنگ

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس فون کو دیگر ممالک میں کب تک متعارف کرایا جائے گا، تاہم امکان ہے کہ جلد ہی اسے پہلے ایشیا اور پھر امریکا اور یورپی ممالک میں متعارف کرایا جائے گا۔

سام سنگ اے 8 ایس کمپنی کا وہ پہلا فون ہے، جس کے فرنٹ پر اسکرین میں سیلفی کیمرے کا ڈسپلے دیا گیا ہے، جس طرح بیک کیمرے کا ڈسپلے ہوتا ہے۔

اس فون سےقبل سام سنگ کے اب تک کے تمام موبائل فونز کے سیلفی کیمرے اسکرین کے اندر ہی دیے گئے ہیں۔

سام سنگ کے علاوہ بھی دیگر کمپنیوں کے اسمارٹ موبائل کے سیلفی کیمرے اسکرین کے اندر ہی نصب ہوتے ہیں، تاہم سام سنگ سے قبل گزشتہ ماہ چینی کمپنی ہواوے کی ذیلی کمپنی ’آنر‘ نے بھی ایک موبائل کے فرنٹ پر سیلفی کیمرے کا ہول دیا تھا۔

سام سنگ اے 8 ایس کے بیک سائیڈ پر دیے گئے تین کیمروں میں سے مین کیمرہ 24 میگا پکسل ہے، جب کہ ایک 10 اور تیسرا 5 میگا پکسل کیمرہ ہے۔

اسی طرح اس موبائل کا فرنٹ سیلفی کیمرہ بھی 24 میگا پکسل دیا گیا ہے۔

3400 ایم اے ایچ بیٹری اور 128 جی بی ریم کے ساتھ اس موبائل میں اینڈرائیڈ کا اپ ڈیٹ ورژن اوریو استعمال کیا گیا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ اس موبائل کی قیمت پاکستانی ایک لاکھ روپے تک ہوگی، تاہم کمپنی نے اس کی قیمت کا اعلان نہیں کیا۔

سام سنگ اے 8 ایس کے بیک پر تین کیمرے دیے گئے ہیں—فوٹو: سام سنگ
سام سنگ اے 8 ایس کے بیک پر تین کیمرے دیے گئے ہیں—فوٹو: سام سنگ

نسان کمپنی کے سابق چیئرمین پر فرد جرم عائد، نئے وارنٹ گرفتاری جاری

معروف کار ساز جاپانی کمپنی نسان کے سابق چیئرمین کارلوس گھوسن پر فنانشل رپورٹس میں آمدن کم بتانے کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد ان کے نئے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے گئے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس بات کے زیادہ امکانات ہیں کہ کارلوس گھوسن کرسمس جیل میں گزاریں گے۔

خیال رہے کہ 19 نومبر کو مشہور کمپنی نسان کے چیئرمین کارلوس گھوسن کو کمپنی کے مالی معاملات میں ہیراپھیری کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔

انہوں نے 2010 سے 2015 کے درمیان اپنی آمدن 5 ارب ین سے کم ظاہر کی تھی۔

تاہم جاپانی حکام نے انہیں آج ( 10 دسمبر کو ) علیحدہ الزامات کے تحت ایک مرتبہ پھر گرفتار کیا ہے، انہوں نے گزشتہ 3 سالوں میں اپنی آمدن کو 4 ارب سے کم ظاہر کیا تھا۔

جاپان کے قانون کے مطابق مشتبہ شخص کو مختلف الزامات کے تحت کئی مرتبہ گرفتار کیا جاسکتا ہے، جس میں پروسیکیوٹرز کو طویل مدت تک پوچھ گچھ کرنےکی اجازت ہوتی ہے،اس نظام کو بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے۔

آج پروسیکیوٹرز کے پاس کارلوس گھوسن اور ان کے ساتھی گریگ کیلی پر فرد جرم عائد ہونے یا دوبارہ گرفتاری سے قبل تحویل میں رکھنے کا آخری روز تھا اور پروسیکیوٹرز کی جانب سے دوبارہ گرفتار کیے جانے کی صورت میں انہیں پوچھ گچھ کے لیے مزید 22 دن کی اجازت مل سکتی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق کمپنی کی جانب سے ذرائع آمدن سے متعلق دستاویزات جمع کروانے کے بعد پروسیکیوٹرز نے کارلوس گھوس سمیت گریگ کیلی اور نسان کمپنی پر بھی الزامات عائد کیے ہیں۔

رینالٹ ذرائع کے مطابق ’ کارلوس گھوس خود پر عائد کیے الزامات کو مسترد کرکے ان کا مقابلہ کرنے کا ذہن بناچکے ہیں‘۔

خیال رہے کہ فرانسیسی کار بنانے والے کمپنی رینالٹ کی جانب سے نگران چیئرمین کی تقرری کے باوجود کارلوس گھوسن اب تک کمپنی کی سربراہی کررہے ہیں۔

لبنانی پس منظر رکھنے والے برازیلی نژاد فرانسیسی شہری کارلوس گھوسن جاپانی کمپنی نسان اور مٹسوبشی کے علاوہ یورپ میں کاریں بنانے کے حوالے سے مشہور کمپنی رینالٹ کی بھی سربراہی کررہے تھے۔

آٹو سیکٹر کے کروڑ پتی شخص کارلوس گھوسن کو پرتعیش طرز زندگی کی وجہ سے تنقید کا سامنا رہتا تھا،اب ٹوکیو کی ایک جیل میں 5 اسکوائر فٹ کے چھوٹے سے کمرے میں تنہا قید ہیں۔

انہوں نے سفارت خانے سے آنے والے افراد کو یقین دلایا ہے کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جارہا ہے تاہم ٹوکیو کا درجہ حرارت 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی وجہ سے انہیں زکام کی شکایت ہے۔

وہ اپنا وقت کتب بینی اور خبریں پڑھ کر گزارتے ہیں لیکن چاول پر مبنی غذا دیے جانے کی وجہ سے ناخوش ہیں۔

مقامی خبرایجنسی کیوڈو کے مطابق انہوں نے دستاویز پر دستخط کرنے کا اعتراف کیا ہے جس کے مطابق وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آمدن کے ظاہر نہ کیے جانے والے حصے سے انحراف کریں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس رقم کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ باقاعدہ طے شدہ نہیں تھی۔

تحقیقاتی ٹیم کے قریبی ذرائع کے مطابق کارلوس گھوسن اور گریگ کیلی نے نیا قانون آنے کے بعد ایسا کیا تھا، نئےقانون کے مطابق زیادہ تنخواہ دیے جانے والے کمپنی ملازمین کو اپنی آمدن کا اعلان کرنا تھا۔

کارلوس گھوسن نے اپنی تنخواہ کا حصہ دیگر عملے اور شیئر ہولڈرز کی تنقید سےبچنےکے لیے خفیہ رکھا تھا کیونکہ ان کی آمدن کافی زیادہ تھی۔

ٹوکیو میں مقیم تجزیہ کار ستارو تکادا کا کہنا تھا کہ ‘ ہم اس چیز کو قریب سے دیکھ رہے ہیں کہ ان پر واقعی الزام لگایا اور وہ قصوروار نکلتے ہیں یا نہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ اگر انہیں پروسیکیوشن سے استثنیٰ دی گئی یا وہ بے قصور قرار پائے تو اس وجہ سے نسان کمپنی کی انتظامیہ شدید کنفیوژن کا شکار ہوجائے گی۔

تاہم ٹرائل سے قبل کارلوس گھوس کی ضمانت پر رہائی واضح نہیں ہے۔

جاپان میں پروسیکیوٹرز اور دفاعی وکیل ضلعی عدالت میں ٹرائل کا آغاز کرکے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرسکتے ہیں، اس طریقے سے حتمی فیصلہ آنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔

اگر کارلوس گھوسن قصوروار قرار پائے تو انہیں 10 سال قید کی سزا دی جائے گی۔

یاد رہے کہ رینالٹ نے 1999 میں خسارے میں جانے والی کمپنی نسان کو بہتر بنانے کے لیے کارلوس گھوسن کی خدمات حاصل کی تھیں جس کےبعد کمپنی کو زبردست مالی فائدہ ہوا تھا۔

تاہم اب نسان کی جانب سے کارلوس گھوسن کی جگہ نیا سربراہ منتخب کرنے کے عمل کا آغاز کردیا گیا ہے جس کا حتمی فیصلہ 17 دسمبر کو کیا جائے گا۔

کارلوس گھوسن کی گرفتاری نے رینالٹ کی بداعتمادی میں اضافہ کردیا ہے جس کا کہنا ہے کہ انہیں کارلوس گھوسن پر عائد کیے گئے الزامات کی تفصیل کا علم نہیں ہے۔

خیال رہے کہ آٹو کمپنی رینالٹ ، نسان کمپنی کے 43 فیصد حصص کی مالک ہے۔

کارلوس گھوسن کی گرفتاری پر لبنان کے عوام غم و غصے میں مبتلا ہیں اور بیروت میں ’ ہم کارلوس گھوسن ہیں ‘ کے ڈیجیٹل بل بورڈز کے ذریعے ان کے حق میں آواز اٹھارہے ہیں۔

لبنان کے وزیر داخلہ نہاد مشنوق نے اعلان کیا تھا کہ ’ لبنانی ققنس ( کارلوس گھوسن ) کو جاپان کے سورج سے جلنے نہیں دیا جائے گا‘۔

مصنوعی ذہانت، فنگر پرنٹ سیکیورٹی سسٹم کو دھوکہ دے سکتی ہے

نیویارک: کمپیوٹر سیکیورٹی ماہرین نے کہا ہے کہ نیورل نیٹ ورک پر مبنی مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلی جنس یا اے آئی) سسٹم فنگرپرنٹ سیکیورٹی سسٹم کو بھی ناکام بناسکتی ہے جو اب تک دنیا میں سب سے قابلِ اعتبار سیکیورٹی نظام تصور کئے جاتے رہے ہیں۔

نیویارک یونیورسٹی میں وقع ٹینڈن اسکول آف انجینیئرنگ کےفلپ بونٹریگر اور ان کے ساتھیوں نے نہ صرف اس نظام کو دھوکہ دینے میں کامیابی حاصل کی ہے بلکہ مشین لرننگ الگورتھم سے جعلی فنگرپرنٹس بھی تشکیل دیئے ہیں جنہیں ’ماسٹرپرنٹس‘ کا نام دیا گیا ہے۔

دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں جگہوں  اور آلات میں یہ فنگر پرنٹ پر مبنی سیکیورٹی نظام روزانہ استعمال ہورہے ہیں ۔ جس طرح تمام تالوں کو کھولنے والی کوئی ’ماسٹرکی‘ ہوتی ہے عین اسی طرح فنگرپرنٹس ڈیٹا بیس کو پڑھ کر ڈیپ لرننگ اور مصنوعی ذہانت کا نظام ’ڈیپ ماسٹر پرنٹس‘ بناتا ہے اور نظری طور پر اس سے بہت سے بند تالے کھولے جاسکتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ فنگرپرنٹ پڑھنے والی مشینیں انگلیوں کے نشانات کی پوری تفصیل کی بجائے جزوی پرنٹ پر ہی اکتفا کرتی ہیں اور اسی کے ذریعے نظام کھلتے اور بند ہوتے ہیں۔ کسی فنگر پرنٹ نظام میں انگلی یا انگوٹھے کا جزوی اور تھوڑا حصہ ہی دیکھتے ہوئے وہ نظام کام کرنے لگتا ہے اور ان لاک ہوجاتا ہے۔

ماہرین نے پہلے مصنوعی فنگر پرنٹ کی مکمل تصاویر بنائیں جس کے دو مقصد تھے۔ اول ماسٹر پرنٹس بناکر انہیں حقیقی فنگرپرنٹ سیکیورٹی نظام یا آلات پر استعمال کیا جانا تھا جسے بعد میں آزمایا جائے گا۔ دوم یہ فنگر پرنٹس معیاری نشانات پر مبنی ہیں انہیں سیکیورٹی نظام کے ڈیٹا بیس سے ہیک بھی کیا جاسکتا ہے جو عین ممکن بھی ہے۔

ماہرین کا اعتراف ہے کہ فنگر پرنٹ ایک ایسا مؤثر طریقہ ہے جو بہت کامیابی سے استعمال ہورہے ہیں۔ مگر اکثر نظام یہ جانتے ہی نہیں کہ یہ اصلی فنگر پرنٹس ہیں یا کسی نے جعلی انداز میں تیار کئے ہیں۔ اسی بنا پر ماسٹرپرنٹس سے کئی آلات کو کھولا جاسکتا ہے۔

دنیا کا پہلا 48 میگا پکسل کیمرے سے لیس اسمارٹ فون

دنیا کا پہلا 48 میگا پکسل کیمرے سے لیس اسمارٹ فون بہت جلد متعارف ہونے والا ہے۔

جی ہاں چینی کمپنی شیاؤمی دنیا کا پہلا 48 میگا پکسل کیمرے والا اسمارٹ فون متعارف کرانے والی ہے۔

رواں برس کے شروع میں سونی اور سام سنگ نے اپنے، اپنے 48 میگا پکسل اسمارٹ فون سنسرز متعارف کرائے تھے تاہم کسی فون میں سب سے زیادہ میگاپکسل کا ریکارڈ نوکیا لومیا 1020 کے پاس تھا جس میں 41 میگاپکسل کیمرہ استعمال کیا گیا۔

حال ہی میں ہیواوے نے میٹ 20 پرو اور پی 20 پرو میں 40 میگا پکسل کیمرے دیئے اور اب لگتا ہے کہ میگا پکسل کی جنگ پھر شروع ہورہی ہے اور شیاﺅمی نیا ریکارڈ بنانے والی ہے۔

شیاؤمی کے صدر لین بن نے چینی سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر بدھ کو ایک تصویر شیئر کی جس میں ایک فون کی کلوزاپ تصویر ہے اور اس پر 48 میگا پکسل کیمرہ اور ڈوئل ایل ای ڈی فلیش نمایاں ہیں۔

یہ تو واضح نہیں کہ اس فون میں کتنے کیمرے دیئے جائیں گے مگر تصویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فون کے بیک پر اوپری بائیں کونے پر ہوگا۔

شیاؤمی کے صدر نے فون کی تفصیلات تو نہیں بتائیں مگر یہ ضرور کہا کہ یہ فون جنوری میں متعارف ہوگا۔

اگر ایسا ہوا تو شیاؤمی کے حصے میں دنیا کا پہلا ایسا اسمارٹ فون متعارف کرانے کا اعزاز آجائے گا جس میں 48 میگا پکسل کیمرہ دیا جائے گا اور ممکنہ طور پر یہ سونی یا سام سنگ میں سے کسی کا تیار کردہ ہوگا۔

بہت زیادہ روشنی میں بھی 48 میگا پکسل ریزولوشن ہموار ڈیجیٹل زوم کی سہولت فراہم کرے گا جبکہ تفصیلات غائب نہیں ہوں گی۔

چین نے آگ میں پھنسے لوگوں کو بچانے والا خود کار ڈرون ڈیزائن کرلیا

چین: چینی طلبا و طالبات نے ایسے ڈرون کا تصور پیش کیا ہے جو ایک مضبوط جال اٹھائے جلتی عمارتوں میں لوگوں کو تلاش کریں گے۔ کواڈ کاپٹر ڈرون چاروں کونوں سے جال کو تھامے اور پھیلائے رکھیں گے اور لوگ اپنی جان بچانے کے لیے اس پر کود سکیں گے۔

سمندری لائف گارڈ کی طرح اس ڈیزائن کو نیٹ ڈرون کا نام دیا گیا ہے، قابلِ اعتبار ڈرون از خود پرواز کریں گے اور ہوا کے درمیان جال کو پھیلادیں گے۔

جی پی ایس نظام سے لیس ڈرون سسٹم کو جیسے ہی کسی عمارت میں آگ لگنے کا اشارہ ملے گا چار کواڈ کاپٹر وہاں پہنچ کر جال پھیلائیں گے اور خود لوگوں کی شناخت کرکے انہیں بچائیں گے۔ چاروں طرف سے ڈرون جال کو کھینچ کر چادر کی مانند تان لیں گے۔

یہ آئیڈیا گوانگ ڈونگ پولی ٹیکنک نارمل یونیورسٹی کے شعبہ برقی انجینئرنگ کے 6 طالب علموں نے خود ڈیزائن کیا ہے جس پر انہیں بہترین ڈیزائن کا ایوارڈ  دیا گیا ہے۔

پولی یوریتھین کی کئی تہوں سے یہ جال بنایا گیا ہے جو آسانی سے ایک بالغ شخص کا وزن اٹھا سکتا ہے جبکہ ڈرون اس عمل میں ڈگمگاتے بھی نہیں۔ سینسر کے ذریعے یہ چھلانگ لگانے والے شخص کی پوزیشن اور اس پر نظر بھی رکھتے ہیں اسی لحاظ سے یہ جال کو منظم بھی رکھ سکتے ہیں۔

تاہم ابھی یہ ایک ڈیزائن مرحلہ ہے اور اس کی عملی تعبیر میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ ڈیزائن کو عملی صورت دینے کے بعد اسے کئی صورتحال اور واقعات میں آزمایا جائے گا اور اس کے بعد ہی جان بچانے والے جال ڈرون عام ہوسکیں گے۔

یہ ہے سام سنگ کا پہلا 5 جی پروٹوٹائپ اسمارٹ فون

سام سنگ نے آئی فون ایکس جیسے نوچ والے کسی فلیگ شپ فون کو متعارف نہیں کرایا مگر ایسا لگتا ہے کہ اس پر سنجیدگی سے غور ضرور کررہی ہے۔

اور وہ بھی کوئی عام فون نہیں، اس کمپنی کا فائیو جی فون۔

جی ہاں گزشتہ شب امریکی ریاست ہوائی میں کوالکوم اسنیپ ڈراگون کی ٹیک کانفرنس کے دوران سام سنگ نے ایک فائیو جی پروٹوٹائپ فون کو پیش کیا جس میں ایک دلچسپ نوچ دیا گیا ہے جو کہ ڈیوائس کے اوپری دائیں کونے پر موجود ہے۔

اس ڈیوائس کے بارے میں تفصیلات تو معلوم نہیں مگر یہ ضرور معلوم ہے کہ اسے فائیو جی ویڈیو اسٹریمنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں سیلفی کیمرہ نوچ کے اندر ہے۔

ویسے تو ڈیزائن کے لحاظ سے فون کچھ منفرد محسوس ہوتا ہے کیونکہ نوچ کافی بڑا جبکہ کیمرہ لوکیشن کافی عجیب ہے مگر پھر بھی منفرد ضرور ہے، جیسا نیچے تصویر میں دیکھ سکتے ہیں۔

اور یہ نہ بھولیں کہ یہ ڈیوائس پروٹوٹائپ ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ ماس پروڈکشن کے لیے نہیں۔

یعنی اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ یہ عام صارفین کے لیے کبھی دستیاب نہ ہو کیونکہ پروٹوٹائپ ماڈلز اکثر مختلف شکلوں میں متعارف کرائے جاتے ہیں۔

مگر پھر بھی یہ پہلا موقع ہے کہ سام سنگ کی جانب سے نوچ پر تجربہ کیا جارہا ہے جو کہ اس سے پہلے آئی فون کے اس فیچر کا مذاق اڑا چکی ہے۔

اسی طرح آئندہ سال کے شروع میں سامنے آنے والے فلیگ شپ فون گلیکسی ایس 10 میں پنچ ہول فرنٹ ڈسپلے پر سیلفی کیمرے کے لیے دیا جارہا ہے۔

اور یہ ڈیزائن ہیواوے کی جانب سے بھی نقل کیا جارہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جنوبی کورین کمپنی اپنی ڈیوائسز کو زیادہ بہتر بنانے کے لیے کچھ اور سوچنے پر مجبور ہوگئی ہے۔

مائیکرو سافٹ کروم جیسا ویب براؤزر لانے کیلئے تیار

مائیکرو سافٹ نے اپنے براؤزر ایج سے مایوس ہوکر ونڈوز 10 میں اس کے متبادل کی تیاری پر کام شروع کردیا ہے۔

ونڈوز سینٹرل کی رپورٹ کے مطابق اس نئے براؤزر کو اناہیم کا کوڈ نام دیا گیا ہے جبکہ اس کے لیے کرومیم نامی رینڈرنگ انجن استعمال کیا جائے گا جو کہ گوگل اپنے کروم براﺅزر کے لیے استعمال کررہا ہے۔

مائیکرو سافٹ ایج میں یہ کمپنی ایج ایچ ٹی ایم ایل رینڈرنگ انجن استعمال کررہی ہے اور 2015 میں انٹرنیٹ ایکسپلورر کی جگہ ونڈوز 10 میں متعارف ہونے کے بعد سے اسے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں مشکل کا سامنا ہے۔

اسٹارٹ کاﺅنٹر کے مطابق اس وقت محض 2 فیصد صارفین ایج کو استعمال کررہے ہیں جبکہ کروم صارفین کی تعداد 62 فیصد سے زائد ہے۔

رپورٹ کے مطابق نئے براﺅزر میں کرومیم کے استعمال کا مقصد اس کی کارکردگی کو متاثر نہ ہونے دینا ہے جس کا سامنا ایج کی شکل میں صارفین کو ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ فائرفوکس 2004 اور گوگل کروم 2008 میں متعارف ہوا تھا اور وہ مائیکرو سافٹ انٹرنیٹ ایکسپلورر کے مقابلے میں زیادہ تیز اور بہتر فیچرز سے لیس تھے، جنھوں نے مائیکرو سافٹ کے براﺅزر کو زوال کا شکار کردیا۔

اس کو دیکھتے ہوئے مائیکرو سافٹ نے انٹرنیٹ ایکسپلورر کو ختم کرکے ایج کو دی۔

مگر اب مائیکروسافٹ نے گوگل کو اسی کے میدان میں شکست دینے کا فیصلہ کیا ہے اور کرومیم جو کہ گوگل کا اوپن سورس براﺅزر پراجیکٹ ہے کو نئے براﺅزر کی بنیاد بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ اس نئے براﺅزر کا نام کیا ہوگا۔

فی الحال مائیکروسافٹ نے اس رپورٹ پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

سام سنگ کا اپنے فون کے کیمرے کے لیے جعلی تصویر کا استعمال

اگر آپ کا خیال ہے کہ اسمارٹ فونز کمپنیاں اپنی ڈیوائسز کے کیمرے کی تشہیر کے لیے اسی سے لی گئی تصاویر کا استعمال کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ اسے بدل دینا چاہئے کیونکہ اس سے الٹ بھی ہوسکتا ہے۔

ویسے تو کبھی ایسی تصاویر کو استعمال نہیں کرنا چاہئے جو کہ ڈی ایس ایل آر کیمرے سے لی گئی ہو اور اسے بطور فون کیمرہ سیمپل کے طور استعمال کرنا صارفین کو گمراہ کرنا ہے مگر لگتا ہے کہ سام سنگ کو اس اصول کی پروا نہیں۔

رواں سال کے شروع میں سام سنگ برازیل نے گلیکسی اے 8 کو لوگوں کے لیے پرکشش بنانے کے لیے اسٹاک فوٹو کا استعمال بطور فون کیمرے کے نمونے کے طور پر کیا اور اب ایک بار پھر ایسا ہوا ہے۔

جی ہاں واقعی، رواں سال کے شروع میں سام سنگ نے گیٹی امیجز کی 2 تصاویر کو سیلفی سیمپل کے طور پر استعمال کیا اور اب ایک بار پھر ایسا ہوا اور اب کی بار یہ کام سام سنگ ملائیشیا نے گلیکسی اے 8 اسٹار کے ساتھ کیا۔

اس بار یہ ‘چوری’ اس تصویر کو لینے والی فوٹوگرافر ڈیونجا جوڈک نے پکڑ کر اس بارے میں ڈی آئی وائے فوٹوگرافی میں بلاگ شائع کیا۔

فوٹوگرافر نے اپنی تصاویر طاقتور ڈی ایس ایل آر سے کھینچ کر انہیں ایکاسٹاک فوٹو سائٹ پر اپ لوڈ کیا۔

اب فوٹوگرافر نے تفریحاً گوگل پر ریورس سرچ امیج کرکے دیکھا کہ اس تصویر کو کہیں استعمال تو نہیں کیا گیا اور دریافت کیا گیا کہ سام سنگ نے اسے گلیکسی اے 8 اسٹار کے کیمرے کے نمونے کے طور پر لگا رکھا ہے۔

نیچے آپ وہ تصاویر دیکھ سکتے ہیں جو سام سنگ نے پورٹریٹ موڈ کے نمونے کے طور پر اپنی سائٹ پر لگائی ہوئی ہیں۔

فوٹو بشکریہ سام سنگ ملائیشیا
فوٹو بشکریہ سام سنگ ملائیشیا
فوٹو بشکریہ سام سنگ ملائیشیا
فوٹو بشکریہ سام سنگ ملائیشیا

اس کے مقابلے میں فوٹوگرافر کی اصل تصویر میں پس منظر بالکل مختلف ہے اور جنوبی کورین کمپنی نے اپنی پسند کے بیک گراﺅنڈ کا انتخاب تو کیا مگر تصویر وہی اٹھالی۔

فوٹو بشکریہ دی آئی وائے فوٹوگرافی
فوٹو بشکریہ دی آئی وائے فوٹوگرافی

یقیناً سام سنگ نے اس تصویر کے حقوق قانونی طور پر خرید کر اسے استعمال کیا ہوگا مگر اشتہار کے طور پر اسے استعمال کرنا کیا واقعی ٹھیک ہے ؟ اس کا فیصلہ تو آپ لوگوں کو ہی کرنا ہے۔

سام سنگ ہی واحد کمپنی نہیں جو ایسا کرچکی ہے کچھ عرصہ قبلہیواوے بھی اپنے فون نووا 3 کی اشتہاری مہم کے دوران ایسا کرنے پر تنقید کی زد میں آچکی ہے۔

Google Analytics Alternative