سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

180 ممالک کا سمندر میں پلاسٹک کے فضلے کو کم کرنے کیلئے معاہدہ

180 ممالک کے درمیان سمندر میں پھینکے جانے والے پلاسٹک کو کم کرنے کے لیے معاہدہ طے پاگیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ تمام ممالک باسل کنونشن میں ترمیم کرنے پر آمادہ ہوئے تاکہ پلاسٹک پر عالمی تجارت کو مزید شفاف، بہتر اور اصولوں کے مطابق کیا جاسکے اور ساتھ ہی اس بات کی یقین دہانی کرائی جاسکے کہ اس کا استعمال انسانی صحت اور ماحول کے لیے محفوظ ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیات برائے باسل، روٹرڈیم اور اسٹاک ہوم کنونشنز کے ایگزیکٹو سیکریٹری رولف پایٹ کا کہنا تھا کہ ’مجھے فخر ہے کہ رواں ہفتے جنیوا میں باسل کنونشن کے شریک ممالک کے درمیان معاہدہ طے پایا ہے کہ قانونی طور پر پلاسٹک کے فضلے کی عالمی سطح پر نگرانی کی جائے گی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ پلاسٹک کے فضلے سے پھیلنے والی آلودگی ماحولیاتی مسائل کی سب سے بڑی وجہ ہے اور یہ عالمی توجہ کا مرکز بھی ہے، سمندروں میں اس وقت 10 کروڑ ٹن پلاسٹک موجود ہے جس میں سے 80 سے 90 فیصد زمین سے وہاں پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 11 روز قبل شروع ہونے والے مذاکرات، جس میں 1400 کے قریب وفود نے شرکت کی تھی، امیدوں سے کہیں بڑھ کر بہتر رہے۔

رولف پایٹ کا کہنا تھا کہ ’نئے قوانین سے سمندری آلودگی پر اثرات سامنے آئیں گے اور پلاسٹک وہاں نہیں جائے گا جہاں اسے نہیں جانا چاہیے‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے سامنے آنے والے ’جنت میں پلاسٹک کو پھینکنا بند کرو‘ کے نام سے ایک آن لائن پٹیشن پر لاکھوں افراد دستخط کرچکے ہیں۔

ان نئے قوانین کا اطلاق ہونے میں ایک سال کا وقت لگے گا تاہم رولف پایٹ کا کہنا تھا کہ ’متعدد ممالک نے کہا ہے کہ وہ اس میں تاخیر نہیں چاہتے‘۔

میتھین کو ایندھن میں بدلنے والے بیکٹیریا کا راز دریافت

شکاگو: ایک اہم دریافت کے بعد ماہرین نے کئی برس سے زیرِ بحث ایک معمہ حل کیا ہے جس کے تحت میتھین جذب کرنے والے اور اسے ایندھن میں بدلنے والے بیکٹیریا کا یہ اہم راز فاش ہوگیا ہے۔

قدرت کے کارخانے میں خاص بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جنہیں ’میتھونوٹروفِک‘ بیکٹیریا کہا جاتا ہے اور وہ میتھین گیس کھاتے ہیں اور اس کے بدلے میتھانول ایندھن بناتے ہیں۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں کئی علوم اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے مختلف ماہرین نے کہا ہے کہ ایسے بیکٹیریا میں ایک خاص قسم کا ’اینزائم یا خامرہ‘ پورے عمل کو بڑھا کر میتھین کو میتھانول میں تبدیل کرتا ہے۔ اس عمل میں تانبے (کاپر) کا ایک آئن استعمال ہوتا ہے۔

ماحولیاتی لحاظ سے یہ ایک اہم خبر ہے کیونکہ اس سے ایسے عمل انگیز بنانا ممکن ہوں گے جو انتہائی ماحول دشمن گیس میتھین کو ہضم کرکے اسے قابلِ استعمال میتھانول میں بدلیں گے اور اس سے خود ہماری توانائی کی ضروریات بھی پوری ہوسکیں گی۔

شکاگو میں واقع نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ایمی روزن زوائگ نے بتایا کہ ’ عمل انگیز (کیٹے لسٹ) کی نشاندہی کئی دہائیوں سے ایک معمہ بنی ہوئی تھی۔ اب ہماری تحقیقات سے میتھین سے میتھانول بنانے والے بیکٹیریا کا راز معلوم ہوگیا ہے۔ اس میں تانبے کا عمل دخل ہے جس سے پتا چلا ہے کہ آخر کسطرح قدرت میتھین کو میتھانول بناتی ہے۔‘

نیچر نامی جرنل میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میتھینوٹروفک بیکٹیریا ایک وار میں دو کام کرتے ہیں۔ ایک جانب تو وہ ماحول دشمن گرین ہاؤس گیسوں میں سرِفہرست میتھین کو جذب کرتے ہیں اور اسے ماحول دشمن ایندھن میں بدلتے ہیں۔ اگر یہ طریقہ قابلِ عمل ہوجاتا ہے تو دنیا کو صاف ایندھن کی تیاری کا ایک اور طریقہ مل جائے گا۔

مروجہ صنعتی طریقوں میں میتھین سے میتھانول بنانے کے لیے بہت بلند درجہ حرارت درکار ہوتا ہے جو 1300 درجے سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔ اگر ہم بیکٹیریا والے نظام کی نقل بنانے میں کامیاب ہوجاتےہیں تو ہمارے ہاتھ میں آسان توانائی کا ایک نیا طریقہ بھی آجائے گا۔

گلیکسی ایس میں ‘ایس’ کا مطلب جانتے ہیں؟

سام سنگ گلیکسی ایس سیریز کو 2019 میں 10 سال مکمل ہوگئے اور اس موقع پر کمپنی نے اپنی مکمل ری ڈیزائن فونز ایس 10 فونز بھی متعارف کرائے۔

اگر آئی فون کو ٹچ اسکرین ٹیکنالوجی پر مبنی ڈیوائسز کے حوالے سے انقلابی قرار دیا جاتا ہے تو سام سنگ گلیکسی ایس وہ سیریز ہے جو بیشتر افراد خریدنے کے قابل ہوسکے (کیونکہ ایپل کے فونز بہت مہنگے ہوتے ہیں)۔

اور اگر آپ کے ذہن میں کبھی خیال آیا ہو کہ آخر گلیکسی ایس میں ایس کا مطلب کیا ہے تو اس کا جواب کیا ہوگا؟

یہ وہ سوال ہے جو بیشتر افراد کے ذہن میں ہوتا ہے اور کیوں نہ آخر سام سنگ استعمال کرنے والے افراد کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔

تو اس کا جواب سام سنگ درحقیقت 2011 میں ایک پریس ریلیز میں دیا تھا۔

ویسے آپ اندازہ لگائیں کہ ایس کا مطلب کیا ہوسکتا ہے ؟ یہ اتنا مشکل نہیں مگر کافی حد تک غیرمتوقع ضرور ہے۔

اگر جواب دینے میں مشکل کا سامنا ہے تو سام سنگ کے مطابق ایس لفظ درحقیقت سپر اسمارٹ کا مخفف ہے۔

جی ہاں سپر اسمارٹ، کیا آپ اندازہ لگاسکتے تھے کہ کہ گلیکسی ایس میں ایس کا مطلب یہ ہے ؟

دراصل گلیکسی ایس سام سنگ کی فلیگ شپ سیریز ہے اور اسی لیے اسے سپراسمارٹ کا نام بھی دیا گیا۔

2011 میں اس کمپنی کے اور بھی مختلف ماڈلز تھے جیسے گلیکسی آر، جس میں آر سے مراد رائل/ریفائنڈ تھا، ایک گلیکسی ڈبلیو تھا جس میں ڈبلیو سے مراد ونڈر تھا، گلیکسی وائے میں وائے کا مطلب ینگ تھا۔

اب سام سنگ کی جو مختلف فون سیریز ہیں، ان میں گلیکسی اے کے اے کا مطلب الفا ہے جو کہ اس کمپنی کے اپر مڈرینج فونز ہیں۔

حال ہی میں سام سنگ نے گلیکسی جے سیریز کو منقطع کرنے کا اعلان کیا، مگر اس میں جے کا مطلب جوائے تھا جبکہ گلیکسی ایم سے مراد میجکل ہے جس کے ماڈل قیمت کے لحاظ سے مناسب جبکہ کارکردگی کے لحاظ سے بہترین ہوتے ہیں۔

جیف بیزوز تیرنے والی خلائی کالونیاں تعمیر کرنے کے خواہشمند

ایمازون کے بانی جیف بیزوز دنیا کے امیر ترین شخص ہیں اور اب وہ زمین کے مدار میں تیرنے والی خلائی کالونیاں تعمیر کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

گزشتہ روز واشنگٹن ڈی سی میں چاند تک انسانوں کے لیے جانے والے بلیو مون لینڈر کو متعارف کراتے ہوئے جیف بیزوز نے اپنے اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان خلائی رہائشی بستیوں میں پورا سال موسم ایک جیسا اچھا رہے گا۔

بلیو مون لینڈر کو جیف بیزوز کی راکٹ کمپنی بلیو اوریجن نے تیار کیا ہے جو پہلے سائنسی سامان چاند تک لے جائے گا جبکہ 2024 میں انسانوں کو وہاں پہنچانے کا کام کرے گا۔

اس ایونٹ کے دوران جیف بیزوز نے کہا کہ وہ دس کھرب افراد کو خلا میں او نیل کالونیوں میں بسانے کا عزم رکھتے ہیں۔

اونیل کالونیاں ایسی خلائی ٹیکنالوجی ہے جس میں انسانی زندگی خلائی ماحول میں پھل پھول سکے گی۔

یہ کالونیاں خلا میں اسپیننگ سلینڈرز کی شکل کی ہوں گی جن میں کشش ثقل ہوگی جبکہ یہ زمین کے گرد چکر لگاتے ہوئے لوگوں اور پودوں کو رہنے کا موقع فراہم کریں گی۔

فوٹو بشکریہ بلیو اوریجن
فوٹو بشکریہ بلیو اوریجن

جیف بیزوز نے ان کالونیوں کو ہائی اسپیڈ ٹرانسپورٹ، زرعی علاقے اور شہر قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ان کالونیوں میں زمین جیسی کشش ثقل نہیں ہوگی بلکہ کچھ جگہوں پر صفر کشش ثقل ہوگی جہاں آپ کود اڑ سکیں گے جبکہ کچھ مقامات کو نیشنل پارکس بنایا جائے گا۔

ان سلینڈرز کو پرنسٹن یونیورسٹی کے سائنسدان جیراڈ او نیل کا نام دیا گیا ہے جنہوں نے 1976 میں کہا تھا کہ دیگر سیارے ممکنہ طور پر انسانوں کے قیام کے لیے بہتر مقامات ثابت نہیں ہوں گے۔

فوٹو بشکریہ بلیو اوریجن
فوٹو بشکریہ بلیو اوریجن

جیف بیزوز کے منصوبے کے مطابق ان خلائی کالونیوں میں قیام زمین جتنا آسان ہوگا جبکہ درجہ حرارت امریکی ریاست ہوائی جیسا ہوگا، جہاں بارش نہیں ہوگی، زلزلہ نہیں آئے گا اور لوگ وہاں ضرور رہنا پسند کریں گے۔

جیف بیزوز کے مطابق کچھ کالونیاں زمین کے کچھ شہروں کی نقل ہوں گی جبکہ کچھ بالکل نئی طرز کی تعمیرات کی حامل ہوں گی۔

فوٹو بشکریہ بلیو اوریجن
فوٹو بشکریہ بلیو اوریجن

انہوں نے کہا کہ یہ کالونیاں بہت خوبصورت ہوں گی اور لوگ ہنسی خوشی وہاں رہنے جائیں گے اور چونکہ یہ زمین کے قریب ہوں گی تو جب دل کرے گا تو واپس بھی آجائیں گے۔

تاہم جیف بیزوز کا کہنا تھا کہ او نیل کالونیاں مستقل کی نسلیں تعمیر کریں گی کیونکہ اس وقت ان کی تعمیر کے لیے درکار ٹیکنالوجی دستیاب نہیں مگر انہوں نے اس مقصد کے لیے انفراسٹرکچر کی تعمیر کا وعدہ کیا، جس کا آغاز بلیومون لینڈر سے ہوگا۔

فوٹو بشکریہ بلیو اوریجن
فوٹو بشکریہ بلیو اوریجن

جاپان میں دنیا کی تیز ترین بلٹ ٹرین متعارف

جاپان نے دنیا کی تیز ترین بلٹ ٹرین الفا ایکس متعارف کرا دی ہے جو کہ 224 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتی ہے۔

یعنی یہ ٹرین کراچی اور لاہور کے درمیان کا 790 میل کا فاصلہ ساڑھے 3 سے 4 گھنٹے میں طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس نئی ٹرین کا ٹیسٹ رن جمعہ سے شروع ہوگیا اور جاپان 2030 تک اس نئی ٹرین کو عام افراد کے لیے متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس دوران اس ملک میں بلٹ ٹرین نیٹ ورک ساپورو تک پہنچ جائے گا جو کہ جاپان کے شمالی ہوکائیدو خطے میں واقع ہے۔

10 بوگیوں پر مشتمل الفا ایکس ٹرین نئی ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور اس میں ایک بڑی ایروڈائنامک نوز دی گئی ہے جو ٹرین کے دباﺅ اور آواز کو سرنگوں میں سے گزرتے ہوئے کم کردیتی ہے۔

اس ٹرین کے دیگر فیچر میں ایسے خاص آلات کی موجودگی ہے جو زلزلے کے جھٹکے کے اثرات کو کم کردیتے ہیں۔

یہ نئی ٹرین چین میں دوڑنے والی تیز ترین بلٹ ٹرین کو پیچھے چھوڑ دے گی جس کی رفتار 217 میل فی گھنٹہ ہے۔

فوٹو بشکریہ JIJI PRESS
فوٹو بشکریہ JIJI PRESS

اس نئی ٹرین کا ٹیسٹ رن مارچ 2022 تک جاری رہے گا اور اس ٹرین کو کاواساکی ہیوی انڈسٹریز اور ہٹاچی نے تیار کیا ہے۔

ٹرین کے آپریٹرز کا ارادہ ہے کہ اس نئی بلٹ ٹرین کو لگ بھگ 249 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی دوڑا کر دیکھا جائے، حالانکہ کمرشل آپریشن کے لیے اس کی حد رفتار 224 میل فی گھنٹہ ہے۔

جاپانی ریل حکام اس ٹرین کی نوز کو 72 فٹ سے کم کرکے 52 فٹ تک لانا چاہتے ہیں تاکہ اندازہ لگایا جاسکے کہ مسافروں کو تیز ترین اور کم شور والا سفر فراہم کرنا کس نوز سے ممکن ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ ہم صرف رفتار نہیں بلکہ مسافروں کے تحفظ اور آرام کو بھی بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

جاپان وہ ملک ہے جس نے 1964 کے ٹوکیو اولمپکس کے موقع پر دنیا کی پہلی بلٹ ٹرین فلیٹ کو متعارف کرایا تھا اور پھر تیز ٹرینیں اس ملک کی اقتصادی ترقی کی علامت بن گئیں۔

ویسے اس وقت دنیا کی تیز ترین ٹرین شنگھائی کے اندر کام کررہی ہے جو شہر کے اندر 19 میل کا فاصلہ 268 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے محض 7 منٹ اور 20 سیکنڈ میں طے کرتی ہے۔

فیس بک دہشت گردوں کا مواد تیار کررہا ہے، امریکی تحقیق

سان فرانسسکو: ایک تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ فیس بک نادانستہ طور پر خودکار طریقے سے دہشت گرد سے منسلک تنظیموں کے لیے مواد تیار کررہا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق فیس بک انتظامیہ کو کی گئی ایک شکایت کے منظرِ عام پر آنے سے یہ انکشاف ہوا کہ فیس بک کا مصنوعی ذہانت کا نظام ایسے مواد کی انتہا پسندانہ حیثیت کو پہچان نہیں پا رہا۔

واشنگٹن میں موجود نیشنل وسل بلوور سینٹر نے 5 ماہ تک ایسے 3 ہزار افراد پر تحقیق کی جنہوں نے ایسی تنظیموں کے پیجز کو لائیک کر رکھا تھا جنہیں امریکی حکومت دہشت گرد قرار دے چکی ہے یا اس سے منسلک تھے۔

تحقیق کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ داعش اور القاعدہ کھلے عام سوشل میڈیا پر متحرک ہیں۔

تشویش کی بات یہ ہے کہ ایسے پیجز کو جنہیں بہت لوگ دیکھتے ہوں یا زیادہ افراد نے لائیک کیا ہو ان کے لیے فیس بک کا سافٹ ویئر خودکار طریقے سے خوشی کے موقع پر جشن (سیلیبریشن) اور یادگار مواقعوں پر (میموری) کی ویڈیوز بناتا ہے۔

سینٹر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک ذریعے، جس نے شناخت پوشیدہ رکھنے کو ترجیح دی، کی طرف سے امریکی سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن میں شکایت درج کردی ہے۔

سینٹر کی جانب سے مہیا کردہ 48 صفحات پر مشتمل دستاویز کے خلاصے میں کہا گیا کہ ’فیس بک کی جانب سے دہشت گردی کے مواد کو نکال باہر کرنے کی کوششیں کمزور اور بے اثر ہوچکی ہیں‘۔

دستاویز میں مزید کہا گیا کہ ’تشویشناک بات یہ ہے کہ فیس بک خود اپنی خودکار ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسا مواد پیدا کررہی ہے جس سے دہشت کو فروغ ملے‘۔

درج کروائی گئی شکایت میں شامل کیے گئے سروے کے نتائج اس بات کی جانب اشارہ کررہے ہیں کہ فیس بک انتہا پسندی پر مبنی پوسٹ اور اکاؤنٹس کو ختم کرنے کے اپنے دعوے پر عمل نہیں کررہی۔

دوسری جانب فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ دہشت سے منسلک مواد کو 2 سال پہلے کے مقابلے میں نہایت تیزی سے اور کامیابی سے ختم کررہی ہے۔

کمپنی کی جانب سے مزید کہا گیا کہ ’ہم ہر چیز تلاش کرنے کا دعویٰ نہیں کرتے البتہ ہم اپنی بھرپور کوششوں سے دنیا بھر میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف کڑی نگرانی رکھتے ہیں‘۔

خیال رہے کہ فیس بک اور سماجی روابط کی دیگر ویب سائٹس پر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ نفرت اور تشدد کی لہر کو روکنے کے لیے اطمینان بخش اقدامات نہیں کرتیں۔

اس کے ساتھ انہیں اس بات پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ یہ پلیٹ فارمز ہر طرح کے نقطہ نظر کو یکساں مواقع فراہم نہیں کرتے۔

خیال رہے کہ مارچ میں کرائسٹ چرچ حملے کے بعد فیس بک نے سفید فام انتہا پسندوں کو سراہنے والے اور ان کی مدد کرنے والوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔

فیس بک کے شریک بانی کا سوشل میڈیا نیٹ ورک کو ریگولیٹ کرنیکا مطالبہ

ہارورڈ یونیورسٹی میں 15 سال قبل فیس بک متعارف کرانے میں مارک زکربرگ کی مدد کرنے والے کرس ہیگز نے اس سوشل میڈیا نیٹ ورک میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے لیے تحریر کیے گئے ایک مضمون میں فیس بک کے شریک بانیوں میں شامل کرس ہیگز نے کہا کہ فیڈرل ٹریڈ کمیشن کو فیس بک کی جانب سے واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی خریداری کو ریورس کردینا چاہیے تاکہ سوشل میڈیا اور میسجنگ مارکیٹ میں مسابقت پیدا کی جاسکے۔

انہوں کے کہا کہ فیس بک نے اجارہ داری قائم کررکھی ہے اور اس کے نتیجے میں مسابقت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے جبکہ صارفین کے لیے کسی متبادل سوشل نیٹ ورک پر منتقل ہونا ناممکن ہوگیا ہے کیونکہ کوئی اچھی ایپ ہی موجود نہیں۔

کرس ہیگز نے لکھا کہ 2011 سے کوئی سوشل نیٹ ورک متعارف نہیں ہوا اور 84 فیصد سوشل میڈیا اشتہارات براہ راست فیس بک کو ملتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ فیس بک کے مسائل کا تعلق مالیاتی نہیں۔

ان کے بقول فیس بک نیوزفیڈ کا الگورتھم اس مواد کا تعین کرتا ہے جو کروڑوں افراد روز دیکھتے ہیں، وہ مواد نفرت انگیز مواد کا تعین کرتا ہے اور اس عمل پر نظرثانی کے لیے کوئی جمہوری طریقہ کار موجود نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مارک زکربرگ کو فیس بک کے حصص کی اکثریت کی ملکیت حاصل ہے اور ان کی طاقت پر کوئی اندرونی چیک نہیں، جبکہ کوئی حکومتی ادارہ فیس بک جیسی کمپنی پر نظر رکھنے کے لیے موجود نہیں۔

کرس ہیگز کا کہنا تھا ‘مارک کا اثررسوخ بہت زیادہ ہے، کسی بھی نجی شعبے یا حکومتی فرد سے زیادہ، وہ 3 اہم ترین پلیٹ فارمز کو کنٹرول کرتے ہیں یعنی فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ، جن کو اربوں افراد روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ مارک زکربرگ اکیلے فیصلے کرتے ہیں کہ فیس بک الگورتھم کیسا ہونا چاہیے اور لوگوں کی نیوزفیڈ پر کیا نظر آنا چاہیے۔ کیسی پرائیویسی سیٹنگز استعمال ہونی چاہیے اور کونسا میسج بھیجنا چاہیے’۔

انہوں نے لکھا ‘مارک ایک اچھے اور نیک شخص ہیں، مگر میں اس بات پر غصہ ہوں کہ ان کی پوری توجہ کمپنی کی ترقی پر ہے جبکہ کلک کے لیے سیکیورٹی اور شہریوں کی قربانی دی جارہی ہے’۔

فیس بک کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دیتے ہوئےانہوں نے امریکا سے ایک ایسا حکومتی ادارہ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا جو فیس بک جیسی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ریگولیٹ کرے۔

سام سنگ کا نیا فلیگ شپ فون طاقتور ترین کیمرے سے لیس ہوگا؟

سام سنگ کا نیا فلیگ شپ فون گلیکسی نوٹ 10 اگست یا ستمبر میں متعارف کرایا جائے گا اور یہ اس کمپنی کا پہلا ایسا فون ہوسکتا ہے جس میں 64 میگا پکسل کیمرا ہوگا۔

جی ہاں سام سنگ اپنے پہلے فولڈ ایبل فون میں آنے والی خرابیوں کے دھچکے سے نکلنے کے لیے نوٹ 10 کو بالکل منفرد بنانے کی خواہشمند ہے۔

گلیکسی فولڈ میں فولڈ ایبل اسکرین کی خرابی کے باعث کمپنی کو اس کی فروخت کی تاریخ کو التوا میں ڈالنا پڑا مگر وہ تیسرے فلیگ شپ فون کے ذریعے ایک بار پھر صارفین کا اعتماد جیتنا چاہتی ہے۔

مختلف لیکس کے مطابق گلیکسی نوٹ 10 میں ایس 10 جیسا ہی ڈسپلے ڈیزائن دیا جائے گا یعنی پنچ ہول سیلفی کیمرا۔

ہر سال گلیکسی نوٹ سیریز کے فونز بنیادی طور پر گلیکسی ایس سیریز کے فونز کے بڑے ڈسپلے والے ورژن ہوتے ہیں جس میں ایس پین اسٹائلوس ہی مختلف ہوتا ہے باقی پراسیسر اور کیمرے وغیرہ یکساں ہوتے ہیں، مگر اس سال بڑی تبدیلی کی جاسکتی ہے۔

سام سنگ نے جمعرات کو 2 نئے موبائل امیجنگ سنسرز متعارف کرائے جو 64 میگاپکسل اور 48 میگا پکسل کے ہیں۔

سام سنگ کے مطابق موبائل کیمرے حالیہ برسوں میں صارفین کے لیے بہت اہمیت اختیار کرگئے ہیں جس میں زیادہ پکسلز اور ایڈوانسڈ پکسل ٹیکنالوجیز متعارف کرائی جارہی ہیں، سام سنگ کے نئے امیجنگ سنسز آج کی موبائل ڈیوائسز میں نئی سطح کی فوٹوگرافی کو لائیں گے۔

یہ نئے سنسرز کم روشنی میں فوٹوگرافی کو زیادہ بہتر بنائیں گے، ان میں سے 64 میگا پکسل سنسر 100 ڈیسی بل تک ایچ ڈی آر سپورٹ فراہم کرتا ہے اور یہ ممکنہ طور پر گلیکسی نوٹ 10 کا حصہ ہوسکتا ہے۔

یعنی گلیکسی نوٹ 10 میں 64 میگا پکسل کا بیک کیمرا کم روشنی میں ڈرامائی حد تک بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکے گا۔

اس سے قبل ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس سال سام سنگ پہلی بار گلیکسی نوٹ 10 کو 2 مختلف ورڑن میں متعارف کراسکتی ہے۔

ان میں سے ایک ڈیوائس 6.28 انچ اسکرین کے ساتھ ہوگی جبکہ دوسرا ماڈل 6.75 انچ ڈسپلے سے لیس ہوگا۔

یہ فونز ایل ٹی ای اور فائیو جی ورڑن میں متعارف کرائے جاسکتے ہیں۔

فروری میں سام سنگ نے پہلی بار ایک ساتھ 4 گلیکسی ایس 10 فونز متعارف کرائے تھے، ایس 10، ایس 10 پلس، ایس 10 ای اور ایس 10 فائیو جی۔

اس سے قبل سامنے آنے والی لیکس کے مطابق گلیکسی نوٹ 10 میں 4 بیک کیمروں کا سیٹ اپ دیا جائے گا جیسا گلیکسی ایس 10 فائیو جی میں دیا گیا ہے۔

یعنی گلیکسی نوٹ 10 میں 12 میگا پکسل اسٹینڈرڈ لینس، 12 میگا پکسل ٹیلی فوٹو لینس، 16 میگا پکسل وائیڈ اینگل لینس اور تھری ڈی ڈیپتھ کیمرا دیا جاسکتا ہے۔

گلیکسی نوٹ 10 میں ایس 10 جیسا انفٹنی او ڈسپلے، ہول پنچ ڈوئل سیلفی کیمرا سیٹ اپ اور اسکرین میں نصب فنگرپرنٹ سنسر بھی دیئے جانے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ اس سال گلیکسی نوٹ سیریز کو 9 سال مکمل ہورہے ہیں مگر پھر بھی یہ نوٹ 10 کہلائے گا کیونکہ کمپنی نے نوٹ 6 کی بجائے براہ راست نوٹ 7 متعارف کرادیا تھا۔

Google Analytics Alternative