سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

فوسل کمپنی نے دو اسمارٹ واچز متعارف کرادیں

فوسل کمپنی نے اپنی اینڈرائیڈ اسمارٹ واچز کی فورتھ جنریشن متعارف کرادی ہے۔نئی واچز کو فوسل کیو وینچور ایچ آر اور کیو ایکسپلورسٹ ایچ آر نام دیا گیا ہے۔ایکسپلورسٹ واچ کا ڈائمیٹر 45 ایم ایم ہے جبکہ وینچور کا 40 ایم ایم ہے۔ دونوں واچز میں ہارٹ ریٹ سنسر دیا گیا ہے ۔ گھڑیوں کو تیراکی کے دوران بھی پہنا جاسکتا ہے۔ ان میں جی پی ایس ریسیور بھی دیا گیا ہے۔ این ایف سی سپورٹ کو بھی ان میں شامل کیا گیا ہے یعنی یہ گھڑیاں گوگل پے کو سپورٹ کر سکیں گی۔ دونوں میں چار جی بی اسٹوریج دیا گیا ہے۔ چمڑے کے بینڈ کے ساتھ گھڑی کی قیمت 255 ڈالر جبکہ سٹیل بینڈ کے ساتھ قیمت 275 ڈالر ہے۔ دونوں واچز کو پری آرڈر کے لیے پیش کر دیا گیا ہے اور ان کی شپنگ 26 اگست سے شروع ہوگی۔

سام سنگ گلیکسی ایس 7 فون میں سنگین سیکیورٹی خامی کا انکشاف

اگر تو آپ سام سنگ کا نیا اسمارٹ فون گلیکسی ایس 7 استعمال کررہے ہیں تو بری خبر یہ ہے کہ محققین نے اس میں سنگین سیکیورٹی مسائل کی نشاندہی کی ہے۔

آسٹریا کی Graz ٹیکنیکل یونیورسٹی کے محققین کے مطابق سام سنگ گلیکسی ایس 7 میں مائیکرو چپ سیکیورٹی خامی کی وجہ سے اس کی ہیکنگ کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ میلٹ ڈاﺅن نامی خامی ہیکرز کے حملے کو کامیاب بنانے کا باعث بن سکتی ہے۔

سام سنگ کو ماضی میں اس خامی سے محفوظ سمجھا جاتا تھا جو کہ اکثر کمپیوٹنگ ڈیوائسز کے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔

کمپنی نے بھی اس حوالے سے تسلیم کیا کہ اس نے ایک سیکیورٹی اپ ڈیٹ تیار کرکے گلیکسی ایس 7 فونز کو میلٹ ڈاﺅن سے بچانے کے لیے گزشتہ ماہ صارفین تک پہنچانا شروع کی تھی۔

اس خامی کے ذریعے ہیکرز کو ڈیوائسز میں موجود حساس معلومات پڑھنے کا موقع ملتا ہے جبکہ گزشتہ دہائیوں میں اس کی وجہ سے لاکھوں چپس متاثر ہوچکی ہیں۔

انٹیل اور مائیکرو سافٹ نے رواں سال مئی میں میلٹ ڈاﺅن کے نئے ورژن کو دریافت کیا تھا جس کی وجہ سے وہ نئی سیکیورٹی اپ ڈیٹس ریلیز کرنے پر مجبور ہوگئی تھیں۔

ماضی میں بھی سام سنگ فونز کی سیکیورٹی کے حوالے سے کئی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔

جون 2015 میں ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سام سنگ کے ساٹھ کروڑ گلیکسی سمارٹ فونز کی باآسانی جاسوسی ممکن ہے۔

لندن میں منعقدہ ’بلیک ہیٹ‘ کانفرنس میں موجود سائبر سیکیورٹی فرم ’ناؤ سیکیور‘ کے ایک محقق ریان ویلٹن کے حوالے سے بتایا کہ ان فونز میں پہلے سے موجود ایک خامی کی وجہ سے صارف کی سائبر سیکیورٹی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ سام سنگ گلیکسی کے ساٹھ کروڑ ایس تھری سے ایس سیکس فونز میں پہلے سے انسٹال شدہ ’سوئفٹ کی‘ کی بورڈ کو ہیک کر کے صارف کی معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا کہ ہیکرز گلیکسی صارف کی جاسوسی کرتے ہوئے سینسرز، جی پی ایس، کیمرہ اور مائیکرو فون تک رسائی پا سکتے ہیں۔

خبردار! ہماری زمین بہت جلد ’’دہکتا ہوا سیارہ‘‘ بن سکتی ہے، ماہرین

واشنگٹن: دنیا کے ممتاز سائنسدانوں کی ٹیم نے اپنے ایک تازہ تحقیقی مقالے میں خبردار کیا ہے کہ اگر انسان نے اپنا قبلہ درست نہ کیا اور ماحولیاتی آلودگی کا سلسلہ یونہی جاری رکھا تو صرف چند عشروں بعد ہی زمین کا اوسط درجہ حرارت قبل صنعتی عہد (پری انڈسٹریل ایج) کے اوسط سے دو درجہ سینٹی گریڈ بڑھ سکتا ہے جس کے بعد زمین نہ صرف شدید گرم ہوجائے گی بلکہ اس کے نہ رکنے والے سانحاتی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔

سائنس کی زبان میں اسے ’’ہاٹ ہاؤس‘‘ یا ’’گرم گھر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی ممکنہ کیفیت کا نام ہے کہ جب (انسانی کارگزاریوں کے باعث) گرمی بڑھنے کے نتیجے میں قطبین اور دوسرے سرد مقامات پر موجود بیشتر گلیشیئرز پگھل جائیں گے جس سے سطح سمندر بلند ہوگی اور زمین کے بعض علاقے رہائش کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کو دو درجہ سینٹی گریڈ تک برقرار رکھنے سے بھی انسانیت کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔

یہ رپورٹ پیرکے روز امریکی تحقیقی جریدے ’’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘‘ (PNAS) کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر زمینی سطح کے درجہ حرارت کا اوسط، صنعتی عہد سے پہلے کے اوسط زمینی درجہ حرارت کے مقابلے میں صرف 2 درجہ سینٹی گریڈ بھی بڑھ گیا تو زمین کی ماحولیاتی تباہی ایک نیا رُخ اختیار کرلے گی، وہ ’’گرم گھر‘‘ میں بدل جائے گی اور اس کے بعد ہولناک قدرتی آفات کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔

قدرتی سانحات پر بات کرتے ہوئے اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے ماہر اور تحقیق ٹیم کے رکن پروفیسر جوہان راکسٹروم کہتے ہیں کہ اوسط گرمی بڑھنے سے ڈومینو اثر کے تحت واقعات کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور زمین کے بعض علاقے رہنے کے قابل نہ ہوں گے۔

اس ضمن میں ماہرین نے زمین پر رونما ہونے والے 9 اہم قدرتی سانحات کا ذکر بھی کیا ہے جن میں مستقل برفیلے علاقوں (پرما فروسٹ) میں برف کا پگھلاؤ، سمندری فرش سے میتھین ہائیڈریٹس کا اخراج، خشکی اور سمندروں میں کاربن جذب کرنے والے قدرتی نظام (carbon sink) کی کمزوری، عالمی تپش بڑھنے سے سمندری بیکٹیریا میں اضافہ اور نتیجتاً سطح سمندر سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا زیادہ اخراج، ایمیزون جنگلات کی موت، موسمِ گرما کے دوران قطب شمالی پر برف میں غیرمعمولی کمی، صنوبر کے جنگلات (کونیفیرس فارسٹس) میں کمی، قطب جنوبی پر برف کا پگھلاؤ اور قطبین پر برف کی چادروں کا سکڑنا شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ ہولناک واقعات تو تشویشناک مستقبل کی صرف ایک جھلک ہیں جبکہ گرمی بڑھنے سے مزید ایسے سانحات بھی ہوسکتے ہیں جن کے بارے میں ہم نے سوچا بھی نہیں۔ مثلاً آج دنیا کے جو جنگلات اور سمندر ہر سال ساڑھے چار ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کررہے ہیں وہ الٹا کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے لگ جائیں گے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ ہمارے نیلگوں سیارے کا حساس نظام ایک حد کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اسے دوبارہ سے ٹھیک کرنا ممکن نہ ہوگا۔ اس ہولناک صورتحال سے زمین کے کچھ علاقے انسانوں کے رہنے کے قابل نہ رہیں گے۔

آپ کے گھر کو بیٹری میں تبدیل کرنے والا انقلابی کنکریٹ

لندن: اب جدید ٹیکنالوجی کی بدولت کسی بھی مکان یا عمارت کو ایک بہت بڑی بیٹری میں بدلا جاسکتا ہے۔

کمپوزٹ اسٹرکچر نامی جرنل میں شائع تحقیق کے مطابق تعمیراتی انجینئرز نے اس کے لیے ایک خاص قسم کا کنکریٹ بنایا ہے جو گرمیوں میں جمع شدہ توانائی کو سردی یا ضرورت کے وقت استعمال کے قابل بناتا ہے۔ ماہرین نے کنکریٹ میں پوٹاشیئم آئن شامل کیا ہے جو ہر دیوار بلکہ ہر اینٹ کو ایک غیر روایتی توانائی گھر میں تبدیل کردیتا ہے۔

سائنسی لحاظ سے پوٹاشیئم آئن جیسے چارج شدہ ذرات کنکریٹ کی مانند کسی کرسٹل (قلمی) ساخت میں سفر کرکے ایک جانب جمع ہوسکتے ہیں۔ اس طرح کے کنکریٹ سے بنی دیوار اگرچہ بیٹری تو نہیں بنتی لیکن ایک بہت بڑے کیپیسٹر میں ضرور تبدیل ہوجاتی ہے۔

لنکاسٹر یونیورسٹی کے انجینئر محمد صافی اور ان کے ساتھیوں نے کنکریٹ میں آئن شامل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے عمارتوں میں توانائی کے مسائل پر بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے اور یہ توانائی حاصل کرنے کا بہت کم خرچ طریقہ بھی ہے۔

محمد صافی نے کہا ہے کہ کیپیسٹر کنکریٹ بنانے کا عمل عام کنکریٹ کی طرح ہی ہے لیکن ابھی چھوٹے پیمانے پر کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ تجارتی پیمانے پر اس کی تیاری میں کچھ سال لگ سکتے ہیں۔ لنکاسٹر کی ٹیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے 10 سال میں ایسی عمارتیں بنائیں گے جو توانائی ذخیرہ کرکے اسے قومی گِرڈ میں بھی داخل کرسکیں گے۔

غیر متوقع فیچرز کے ساتھ ہواوے آنر نوٹ 10 لانچ

ہواوے کمپنی نے آنر نوٹ 10 اسمارٹ فون متعارف کرا دیا ہے۔فون میں 6.95 انچ ایچ ڈی پلس امولڈ ڈسپلے دیا گیا ہے۔ ڈسپلے کے اطراف میں انتہائی کم بیزل دیے گئے ہیں جبکہ نوچ کو بھی فون کا حصہ نہیں بنایا گیا۔فون میں ہواوے کا کرن 970 پروسیسر دیا گیا ہے۔ اسمارٹ فون کو 6 جی بی ریم کے ساتھ 64 جی بی اور 128 جی بی اسٹوریج جبکہ 8 جی بی ریم کے ساتھ 128 جی بی اسٹوریج کے ایکسکلوزیو ماڈل میں بھی پیش کیا گیا ہے۔فون میں لکوئیڈ کولنگ سالوشن سسٹم دیا گیا ہے جو 41 فیصد بہتر ہیٹ مینجمنٹ کرسکتا ہے۔فون میں نیا سی پی یو ٹربو فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ اسمارٹ فون کے کیمرہ سیٹ اپ میں پشت پر 24 میگا پکسل کا مین کیمرہ اور 16 میگا پکسل کا سکینڈری کیمرہ دیا گیا ہے۔ فون کا فرنٹ شوٹر 13 میگا پکسل کا ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سافٹ ویئر کو بھی کیمرے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ یہ فون اینڈرائیڈ اوریو آپریٹنگ سسٹم کے تحت کام کرتا ہے اور اس کی بیٹری 5000 ملی ایمپیئر آورز کی ہے۔ 6 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج کے ساتھ فون کی قیمت 409 ڈالر ، 6 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج کے ساتھ فون کی قیمت 468 ڈالر جبکہ 8 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج کے ساتھ قیمت 527 ڈالر ہے۔فون کو کالے اور نیلے رنگ میں متعارف کرایا گیا ہے۔

 

چین نے نیا سپر کمپیوٹر پروٹو ٹائپ ‘سن وے’ لانچ کر دیا

بیجنگ: چین نے نیا سپر کمپیوٹر پروٹوٹائپ ‘سن وے’ لانچ کردیا، جو سائنسی ریسرچ اور میڈیکل کی فیلڈ میں مددگار ثابت ہو گا۔ چینی خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق سن وے ایگزا اسکیل کمپیوٹر پروٹو ٹائپ کو نیشنل ریسرچ سینیٹر آف پیرالل کمپیوٹرانجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (این آر سی پی سی)، نیشنل سپر کمپیوٹنگ سینٹر اور پائلٹ نیشنل لیبارٹری فار میرین سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے مشترکہ طور پر بنایا۔

ایک ایگزا اسکیل کمپیوٹر   quintillion یعنی دس لاکھ کی پانچ گنا طاقت (ایک ہزار کی چھٹی طاقت) فی سیکنڈ کے حساب سے کیلکولیشنز کر سکتا ہے۔


واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 22 جولائی کو بھی ایک ایگزا اسکیل سپر کمپیوٹر ٹیانہے-3 کا آزمائشی ٹیسٹ کیا گیا تھا، جس کا فائنل ورژن 2020 تک سامنے آنے کی امید ہے۔ یہ دونوں پروٹوٹائپ چین کے نیکسٹ جنریشن سپرکمپیوٹر کی تیاری میں ایک اہم قدم ثابت ہوں گے۔

سپر کمپیوٹرز موسم کی پیشگوئی، سمندری معلومات، فنانشل ڈیٹا اینالسز اور دیگر اہم شعبوں میں اہم خدمات سرانجام دیتے ہیں۔

چینی صوبے شانڈونگ کے مشرقی شہر جینان میں واقع نیشنل سپر کمپیوٹنگ سینٹر کے ڈائریکٹر ژانگ یونکوان کے مطابق نئے سپرکمپیوٹر کی مدد سے میڈیسن کے شعبے میں ریسرچ اور ڈیولپمنٹ کا عمل کئی سالوں کے مقابلے میں چند ہفتوں پر محیط ہوجائے گا جبکہ اس سے تحقیق کے میدان میں اٹھنے والے اخراجات اور دواؤں کی قیمتوں میں کمی کے سلسلے میں بھی مدد ملے گی۔

فیس بک صارفین کی مالی تفصیلات حاصل کرنے کا خواہاں

فیس بک کافی عرصے سے صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ نہ رکھ پانے پر شدید تنقید کی زد میں ہے مگر پھر بھی یہ کمپنی اب اپنے صارفین کی مالیاتی تفصیلات جمع کرنے کے منصوبے پر کام کررہی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق فیس بک نے بڑے بینکوں سے اپنے صارفین کی مالیاتی تفصیلات شیئر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اگر بینکوں سے معاہدہ طے پاجاتا ہے کہ تو سماجی رابطے کی یہ ویب سائٹ کو لوگوں کے کریڈٹ کارڈ ٹرانزیکشنز اور اکاﺅنٹ بیلنس کی معلومات تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔

صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے خدشات اس ممکنہ معاہدے کے لیے مسائل باعث بن سکتے ہیں اور رپورٹ کے مطابق ایک بینک نے پہلے ہی اس ممکنہ معاہدے سے خود کو پیچھے ہٹالیا ہے۔

فیس بک کی جانب سے فی الحال اس حوالے سے امریکی بینکوں سے معاہدے کی کوشش کی جارہی ہے اور کمپنی یہ معلومات اپنی میسنجر ایپ صارفین کے لیے نئی سروسز کی فراہمی کے لیے چاہتی ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ فیس بک نے وعدہ کیا ہے کہ اس ڈیٹا کو اشتہارات کے لیے یا تھرڈ پارٹیز کو فراہمی کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

فیس بک کو پہلے ہی صارفین کے ڈیٹا دیگر کمپنیوں سے شیئر کرنے کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈ بھی سامنے آیا تھا۔

فیس بک میسنجر میں پہلے ہی محدود مالیاتی خدمات فراہم کی جارہی ہیں جن میں مختلف ممالک میں دوستوں کو پیسوں کی ادائیگی قابل ذکر ہے۔

اسی طرح بینکوں اور دیگر مالیاتی ادارے ایسے چیٹنگ بوٹ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو لوگوں کو یہ ایپ استعمال کرکے اپنی اکاﺅنٹس کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی بینک جیسے جے پی مورگن چیس، سٹی گروپ اور دیگر سے فیس بک کی جانب سے معاہدوں کی کوشش کی جارہی ہے۔

اگر یہ معاہدے ہوجاتے ہیں تو میسنجر میں نئے فیچرز صارفین کی مدد کے لیے متعارف کرائے جائیں گے جیسے اکاﺅنٹ بیلنس چیک کرنا یا بینک فراڈ سے ارٹ کرنا وغیرہ۔

نیا اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم ’پائی‘ متعارف

گوگل نے اپنا نیا موبائل آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ پی متعارف کرادیا ہے جسے آفیشلی طور پر پائی کا نام دیا گیا ہے۔

ویسے یہ نام غیر متوقع بھی نہیں کیونکہ انگلش لفظ پی سے کچھ زیادہ میٹھے پکوان موجود نہیں جبکہ پائی تو دنیا بھر میں شناخت رکھنے والی میٹھی سوغات ہے۔

گوگل کی جانب سے نئے اینڈرائیڈ 9.0 کے نام کا اعلان پیر کی شب کیا گیا جس کے ساتھ اسے ابتدائی طور پر ریلیز بھی کردیا گیا۔

کمپنی کے مطابق اینڈرائیڈ پائی باقاعدہ طور پر صارفین تک پہنچنے کا سلسلہ پکسل فونز سے شروع ہوگا اور دیگر کمپنیوں کی ڈیوائسز میں یہ سال کے آخر تک دستیاب ہوگا۔

رواں سال مارچ سے یہ آپریٹنگ سسٹم بیٹا ورژن میں دستیاب تھا، جس میں متعدد نئے فیچرز کا اضافہ کیا جارہا ہے جن میں پرسنلائزیشن فیچرز، بیٹری سیونگ ایڈجسٹمنٹ اور ایسے ٹولز جو فون پر گزارے جانے والے وقت کو ٹریک کرنے میں مدد دیں گے۔

تاہم سب سے بڑی تبدیلی نیا نیوی گیشن سسٹم ہے اور یہ پہلا آپریٹنگ سسٹم ہے جس میں اپ ڈیٹس کو نئے اسمارٹ ڈیزائن کو مدنظر رکھ کر متعارف کرایا گیا ہے جیسے ڈسپلے نوچ اور ایج ٹو ایج اسکرینز وغیرہ۔

گوگل نے ان تبدیلیوں کو نیوی گیشن کنٹرول کے مطابق کیا ہے۔

اس میں نیا gesture سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، ہوم بٹن تو موجود ہے مگر بیک بٹن کو نیا کیا گیا ہے جبکہ ایپ سوئچنگ کے بٹن کی ضرورت ختم کردی گئی ہے۔

اس کی بجائے اب سوائپ کے ذریعے جان سکیں گے کہ حال میں کونسی ایپس کو استعمال کیا ہے، بالکل آئی فون ایکس کی طرح۔

اس آپریٹنگ سسٹم کا بیٹا پروگرام منگل سے پیش کردیا گیا ہے جسے پکسل اسمارٹ فونز استعمال کرنے والے گوگل کے بیٹا پروگرام پر سائن اپ کرکے حاصل کرسکتے ہیں۔

Google Analytics Alternative