سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

گوگل کے پکسل 3 کی تصاویر سامنے آگئیں

گوگل کے پکسل اسمارٹ فونز کو بہترین اینڈرائیڈ ڈیوائس قرار دیا جاتا ہے اور اب کمپنی اپنے پکسل کے مزید 2 نئے فونز متعارف کرانے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔

اگرچہ گوگل نے آفیشلی اس بات کا اعلان نہیں کیا کہ وہ رواں برس پکسل تھری اور پکسل تھری ایکس ایل متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم اب ان موبائلز کی تصاویر اور تفصیلات لیک ہوکر سامنے آئی ہیں۔

لیک ہوکر سامنے آنے والی تصاویر میں فون کے ڈیزائن کو ابتدائی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔

فوربز میں شائع ہونے والی تصاویر میں گوگل پکسل 3 اور گوگل پکسل 3 ایکس ایل کو بلیک کلر میں دکھایا گیا ہے۔

ان فونز کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق یہ دونوں فونز گوگل کے پہلے متعارف کرائے گئے پکسل فونز کا نہ صرف اپڈیٹ ورژن ہوں گے، بلکہ ان میں جدید اور بہترین ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جائے گا۔

پکسل فونز کی لیک ہونے والی تصاویر—فوٹو: فوربز میگزین
پکسل فونز کی لیک ہونے والی تصاویر—فوٹو: فوربز میگزین

تفصیلات کے مطابق پکسل 3 ایکس ایل کے فرنٹ پر 2 کیمرے ہوں گے، جب کہ بیک سائڈ پر ایک ہی کیمرہ ہوگا، جب کہ پکسل 3 میں فرنٹ اور بیک پر ایک ایک کیمرہ دیا جانے کا امکان ہے۔

گوگل نے ان پکسل فون کی ایل ای ڈی اسکرین جنوبی کورین کمپنی ایل جی تیار کرے گی، اس سے قبل یہ اطلاعات تھیں کہ گوگل پکسلز کی اسکرین سام سنگ تیار کرے گی۔

نشریاتی ادارے ٹی 3 کے مطابق گوگل اپنے ان نئے موبائلز میں پہلی بار اینڈرائڈ پی کا آپریٹنگ سسٹم متعارف کرائے گا۔

—فوٹو: ایکس ڈی ایل ڈویلپرز
—فوٹو: ایکس ڈی ایل ڈویلپرز

گوگل کے ان پکسل فونز کی خاص بات یہ ہوگی کہ ان کا کیمرہ ماضی کے پکسل فونز سے بہتر ہوگا۔

گوگل پکسل 3 کی اسکرین 3۔5 انچ ہوگی، جب کہ پکسل تھری ایکس ایل کی اسکرین 2۔6 انچ ہوگی۔

ممکنہ طور پر پکسل 3 کی قیمت 650 ڈالر یعنی پاکستانی 72 ہزار روپے سے زائد جب کہ پکسل 3 ایکس ایل کی قیمت 850 ڈالر یعنی پاکستانی 92 ہزار روپے سے زائد ہوگی۔

دونوں موبائل کو رواں برس اکتوبر میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے، کیوں کہ گوگل نے پکسل کے پہلے 2 فونز بھی اکتوبر 2016 جب کہ پکسل 2 اور پکسل ٹو ایکس ایل بھی اکتوبر 2017 میں متعارف کرائے تھے۔

فوٹو: بی جی آر
فوٹو: بی جی آر

ہیواوے کا ڈوئل کیمرا بجٹ فون ’آنر پلے‘ متعارف

چینی کمپنی ہیواوے نے اپنے برانڈ ’آنر‘ کا ڈوئل کیمرا بجٹ فون ’آنر پلے‘ متعارف کرادیا۔

’آنر پلے‘ کی خاص بات یہ ہے کہ اسے گیمنگ فون قرار دیا جا رہا ہے، کیوں کہ اس کی ایل سی ڈی اور گرافکس میں جدید ٹیکنالوجی کا استمال کیا گیا ہے۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ’آنر پلے‘ کی ایل سی ڈی اور گرافکس کا رزلٹ دیگر فونز کے مقابلے میں 60 فیصد بہتر جب کہ توانائی کا استعمال 40 فیصد کم ہوگا۔

کمپنی کے مطابق ’آنر پلے‘ میں جی پی یو ٹربو نامی نئی گیمنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی مدد سے فون کی اسکرین اور گرافکس سمیت اس کا رزلٹ بہتر بنایا گیا ہے۔

—فوٹو: گزمو چائنا
—فوٹو: گزمو چائنا

ساتھ ہی کمپنی نے یہ بھی اعلان کیا کہ ’آنر‘ اپنے پہلے متعارف کرائے گئے فونز ’آنر 10، ویو 10، آنر لائٹ 9، اور آنر 7‘ کے اپڈیٹ ورژنز میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گی۔

3۔6 انچ اسکرین کے حامل آنر پلے میں کرن کا ہسلیکون کرن 970 کا پراسیسر دیا گیا ہے، جب کہ اس میں 6 جی بی ریم دی گئی ہے۔

آنر پلے میں اسٹوریج بڑھانے کی صلاحیت 64 جی بی تک بڑھائی جا سکتی ہے۔

ہیواوے کے برانڈ کے اس بجٹ فون میں بیک پر ڈوئل کیمرے دیے گئے ہیں، جس میں سے ایک 16 میگا پکسل جب کہ دوسرا 2 میگا پکسل ہے۔

16 میگا پکسل کے فرنٹ کیمرا کے حامل اس موبائل کی بیٹری 3500 ایم اے ایچ رکھی ہے، جب کہ اس کی رقم انتہائی مناسب رکھی ہے۔

آنر پلے کی قیمت 375 امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 25 ہزار روپے سے زائد ہے۔

کمپنی نے فوری طور پر اسے آن لائن فروخت کے لیے پیش کیا ہے، جب کہ رواں برس اگست تک اسے دنیا بھر کی مارکیٹس میں بھی فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔

مائیکرو سافٹ کا گیم اسٹریمنگ سروس متعارف کرانے کا اعلان

سافٹ ویئر، موبائل و کمپیوٹر آلات بنانے والی امریکی کمپنی مائیکرو سافٹ نے سونی کی طرح آن لائن گیم اسٹریمنگ سروس متعارف کرانے کا اعلان کردیا۔

خیال رہے کہ مائیکرو سافٹ سے قبل جاپانی ملٹی نیشنل کمپنی سونی نے آن لائن گیم اسٹریمنگ سروس متعارف کرا رکھی ہے۔

سونی کی گیم اسٹریمنگ سروس ’پلے اسٹیشن‘ میں 650 سے زائد گیمز موجود ہیں، تاہم یہ گیم اسٹریمنگ متعدد موبائل فونز سمیت ٹیبلیٹس اور لیپ ٹاپ پر نہیں چلتی۔

مائیکرو سافٹ نے سونی کی گیم اسٹریمنگ سے بہتر گیم اسٹریمنگ سروس متعارف کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے انجنیئرز ایسی اسٹریمنگ سروس بنانے میں مصروف ہیں، جو ہر طرح کی ڈیوائسز پر چلے گی۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں 12 جون سے ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے گیمنگ ایکسپو ‘دی الیکٹرانک انٹرٹینمنٹ ایکسپو‘ (ای 3) کے آغاز سے قبل کی جانے والی پریس کانفرنس میں مائیکرو سافٹ گیم کے سربراہ فل اسپینسر کے مطابق ان کی کمپنی جلد گیم اسٹریمنگ سروس متعارف کرائے گی۔

پریس کانفرنس کے دوران فل اسپینسر نے گیم اسٹریمنگ سروس کو متعارف کرانے کی حتمی تاریخ نہیں بتائی، تاہم عندیہ دیا کہ آئندہ برس تک اسے متعارف کرایا جائے گا۔

ان کے مطابق مائیکرو سافٹ کی گیم اسٹریمنگ سروس نہ صرف کمپیوٹرز و ہر طرح کے لیپ ٹاپ اور ٹیبلیٹس پر چلے گی، بلکہ وہ موبائل فونز پر بھی چلے گی۔

اس موقع پر مائیکرو سافٹ نے اپنی آنے والی معروف ویڈیو گیمز کے ٹریلر بھی جاری کیے۔

مائیکرو سافٹ کی جانب سے آنے والی 15 ویڈیو گیمز کے ٹریلر جاری کیے گئے۔

دو لاکھ ٹریلین حسابات فی سیکنڈ لگانے والا، دنیا کا طاقتورترین سپرکمپیوٹر

واشنگٹن: امریکا نے دنیا کا اب تک کا طاقت ور ترین سپر کمپیوٹر منظر عام پر پیش کردیا ہے جو ایک سیکنڈ میں دو لاکھ ٹریلین حسابی سوالات حل کرسکتا ہے۔

امریکی محکمہ توانائی کے زیر انتظام اوک رِج نیشنل لیبارٹری (او آر این ایل) نے دنیا کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے جو اسی ادارے کے 2012 کے 27 پی ٹا فلاپس کمپیوٹر سے بھی 8 گنا زائد تیز رفتار اور طاقت ور ہے۔

حیرت انگیز طور پر سائنس دان اس کمپیوٹر کے حریص ہیں کیونکہ سائنسی تحقیق کے لیے درکار بلند کمپیوٹنگ قوت صرف ایسے سپرکمپیوٹر ہی فراہم کرسکتے ہیں۔  اس وقت موسمیات، کائناتی علوم، بایو کیمسٹری، مصنوعی ذہانت اور دیگر علوم میں بہت زیادہ ڈیٹا پیدا ہورہا ہے جسے سمجھنا اور اس سے نتیجہ نکالنا عام کمپیوٹروں کے بس کی بات نہیں۔

اسی بنا پر سائنس داں ایک جانب تو کسی بیماری کو سمجھنے کے لیے اس کا پورا ڈیٹا پروسیس کرتے ہیں تو دوسری جانب فلکیات داں کائنات کی گتھیوں کو سلجھانے کے لیے سپرکمپیوٹر استعمال کرتے ہیں۔

اسی لیے دنیا بھر میں جدید ترین سپرکمپیوٹروں کی دوڑ جاری ہے جن میں چین، جاپان، برطانیہ اور یورپ وغیرہ طاقتور ترین سپر کمپیوٹروں پر کام کررہے ہیں۔

یہ کمپیوٹر اوک رج لیبارٹری کے ٹائٹن منصوبے کا حصہ ہے جسے سمّٹ کا نام دیا گیا ہے۔  اس میں 4608 سرورز ہیں اور ہر سرور میں دو عدد 22 کور آئی بی ایم پاور نائن پروسیسر لگے ہیں جبکہ گرافکس کےلیے جدید ترین کارڈز اور پروسیسرز الگ سے لگائے گئے ہیں۔ اس کی میموری 10 پی ٹا بائٹ کی ہے اور ڈیٹا کو سنبھالنے کےلیے خاص بینڈ وڈتھ دی گئی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس کمپیوٹر سے جینیاتی تحقیق اور بیماریوں کو سمجھنے میں بھی مدد لی جاسکے گی۔

سامسنگ گیلیکسی اے 9 اسٹار اور اے 9 اسٹار لائٹ لانچ‎

سام سنگ کمپنی کی جانب سے گیلکسی اے 9 اسٹار اور اے 9 اسٹار لائٹ اسمارٹ فون لانچ کر دئیے گئے ہیں۔اے 9 اسٹار میں 6.28 انچ ایچ ڈی پلس ڈسپلے ، اینڈرائیڈ اوریو آپریٹنگ سسٹم ، اسنیپ ڈریگن 660 پروسیسر ، 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج دیا گیا ہے۔ اسٹوریج کو ایس ڈی کارڈ کی مدد سے 256 جی بی تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ فون کی پشت پر ایل ای ڈی فلیش کے ساتھ 16 میگا پکسل اور 24 میگاپکسل کے دو کیمرے شامل کیے گئے ہیں۔ سیلفی کے لئے فون میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس بیوٹی فیچرز کے ساتھ 24 میگا پکسل کا کیمرہ دیا گیا ہے۔ اسمارٹ فون کی بیٹری 3700 ملی ایمپیئر آورز کی ہے اور اس میں فاسٹ چارجنگ سپورٹ بھی شامل ہے۔ فون کو کالے اور سفید رنگ میں پیش کیا گیا ہے اور اس کی قیمت 2999 یان ہے۔ فون کو پری آرڈر کے لیے پیش کر دیا گیا ہے اور اس کی فروخت 15 جون سے شروع ہو گی۔

اے 9 اسٹار لائٹ میں 6 انچ ایچ ڈی پلس ڈسپلے ، اسنیپ ڈریگن 450 پروسیسر اور اینڈرائیڈ اوریو آپریٹنگ سسٹم دیا گیا ہے۔ فون کے کیمرہ سیٹ اپ میں 16 میگا پکسل اور 5 میگا پکسل کے 2 بیک کیمرے اور 24 میگا پکسل کا فرنٹ کیمرہ دیا گیا ہے۔ اسمارٹ فون کی بیٹری 3500 ملی ایمپیئر آورز کی ہے۔فون کو کالے اور نیلے رنگ میں پیش کیا گیا ہے اور اس کی قیمت 1999 یان ہے۔ فون کی فروخت 15 جون سے شروع ہو گی۔

ایک کروڑ 40 لاکھ فیس بک صارفین کی خفیہ پوسٹس عام ہوگئیں

دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک پر گزشتہ کئی ماہ سے پرائیویسی پالیسی اور صارفین کے ڈیٹا کا تحفظ نہ کرپانے کے حوالے سے تنقید کی جا رہی ہے۔

حال ہی میں جہاں فیس بک نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس نے صارفین کا ذاتی ڈیٹا موبائل بنانے والی 60 کمپنیوں کو فراہم کیا، وہیں اب سماجی ویب سائٹ کی ایک بہت خرابی سامنے آگئی۔

جی ہاں فیس بک نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ماہ مئی میں دنیا بھر کےایک کروڑ 40 لاکھ فیس بک صارفین کی ایسی خفیہ پوسٹیں از خود عام ہوگئیں جنہیں صارفین نے ’پبلک‘ نہیں کر رکھا تھا۔

فیس بک انتظامیہ کی جانب سے اپنے وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ سماجی ویب سائٹ پر خود کار سافٹ ویئر کی خرابی کی وجہ سے دنیا بھر کے ایک کروڑ 40 لاکھ صارفین کی محدود پوسٹس از خود پبلک ہوگئیں، جس وجہ سے کئی صارفین کی خفیہ معلومات بھی عام ہوگئیں۔

بیان میں کہا گیا کہ سافٹ ویئر میں خرابی کا پتہ چلنے کے بعد کمپنی نے اس خرابی کو دور کردیا، ساتھ ہی کمپنی نے متاثرہ افراد کو خصوصی پیغامات کے ذریعے آگاہ کرنے کا سلسلہ بھی شروع کردیا۔

بیان کے مطابق کمپنی نے متاثرہ افراد سمیت اپنے عام صارفین کو بھی اپنی پرائیویسی پالیسی پر نظر ثانی کی تجاویز دی ہیں، تاکہ صارفین کی معلومات اور پوسٹس کو زیادہ سے زیادہ خفیہ رکھا جاسکے۔

کمپنی نے یہ وضاحت نہیں کی کہ سافٹ ویئر کی خرابی سے کن ممالک کے صارفین کی محدود پوسٹس عام ہوئیں اور ایسی پوسٹس میں کس طرح کا مواد شامل ہے۔

ماحول دشمن کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ایندھن میں بدلنے والا کارخانہ

ہارورڈ: عالمی پیمانے پر تپش میں اضافے کی سب سے بدنام گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے جس کا اخراج کم کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے اس ضمن میں جرمنی میں ایک کم خرچ پلانٹ لگایا گیا ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے اسے ایندھن میں تبدیل کرتا ہے۔

اس ضمن میں برسوں قبل ڈائریکٹ ایئرکیپچر (ڈی اے سی ) ٹیکنالوجی پر کئی پلانٹ اور ری ایکٹر بنائے گئے ہیں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پتھروں میں بدلتے ہیں یا پھر کسی اور بے ضرر اجزا میں ڈھالتے ہیں تاہم ان پر خرچ بہت آتا ہے اور ایک میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کو تعدیل کرنے پر 500 سے 1000 ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔

لیکن اب ایک نیا پائلٹ پلانٹ بنایا گیا جو صرف 94 سے 232 ڈالر فی میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کو تلف کرسکتا ہے۔ اسے ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے تیار کیا ہے ۔ اس پر کام کرنے والے انجینئر ڈیوڈ کائتھ کہتے ہیں کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ شامل کرنا بہت آسان ہے جبکہ اسے ختم کرنا بہت مہنگا نسخہ تھا اور ہم نے 9 برس کی مسلسل محنت کے بعد یہ ٹیکنالوجی تیار کی ہے۔

اس کا آزمائشی پلانٹ ایک فیکٹری کے کولنگ ٹاور جیسا ہے جس میں کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس میں مائع ہائیڈروآکسائیڈ محلول کے ذریعے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو قید کیا جاتا ہے جس سے کاربونیٹ وجود میں آتے ہیں اور ان کے ڈلے بن جاتے ہیں۔ اب اگر ان ڈیلوں کو بھٹی میں گرم کیا جائے تو یہ دوبارہ خالص کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کریں گے۔

اس تصور کو ہوا سے ایندھن کا نام دیا گیا ہے جس میں پکڑی جانے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو مائع ہائیڈروکاربنز میں بھی تبدیل کرکے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس ایندھن کو ایک سے دوسری جگہ آسانی سے منتقل کیا جاسکتا ہے۔ یہ تحقیق ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی ذیلی کمپنی نے کی ہے۔

شاندار کیمرے کے ساتھ بلیک بیری کا نیا فون متعارف

معروف کینیڈین موبائل فون کمپنی ’بلیک بیری‘ کا نیا اسمارٹ فون چین کی کمپنی ٹی سی ایل نے متعارف کرادیا۔

قریبا 16 ماہ کے وقفے کے بعد بلیک بیری کے فون کو متعارف کرایا گیا ہے، اس سے قبل فروری 2017 میں کمپنی کا آخری موبائل چین کی کمپنی ٹی سی ایل نے ہی متعارف کرایا تھا۔

بلیک بیری نے مالی مشکلات کے باعث 2016 میں اعلان کیا تھا کہ وہ اب موبائل پیش نہیں کرے گی، تاہم بعد ازاں کمپنی نے اپنا لائسنس چینی کمپنی ٹی سی ایل کو دے دیا تھا، جس نے اب تیسرا فون متعارف کرادیا۔

بلیک بیری کا متعارف کرایا گیا نیا فون ’کی ٹو‘ دراصل 2017 میں متعارف کرائے گئے ’کی ون‘ کا اپڈیٹ ورژن ہے، لیکن نئے موبائل کی خاص بات اس کا شاندار کیمرہ ہے۔

ڈوئل کیمرہ کی ٹو کے کیمرے کو جنوبی کورین کمپنی سام سنگ گلیکسی نوٹ 8 کے کیمرے سے بہتر قرار دیا جا رہا ہے۔

—فوٹو: ٹی این ڈبلیو
—فوٹو: ٹی این ڈبلیو

بلیک بیری کی ٹو کے بیک پر 16 اور 5 میگا پکسل کے ڈوئل کیمرے دیے گئے ہیں، جب کہ فرنٹ پر 8 میگا پکسل کیمرہ دیا گیا ہے۔

فون کو 4 جی بی اور 6 جی بی ریم میں پیش کیا گیا ہے، تاہم اس میں 64 سے 128 جی بی تک اسٹوریج بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔

اینڈرائڈ 8 پوائنٹ ون اوریو آپریٹنگ سسٹم میں متعارف کرائے گئے بلیک بیری کی ٹو میں روایتی فنگر پرنٹ کی بورڈ دیا گیا ہے۔

کوالکوم اسنیپ ڈریگن 660 کی چپ سے لیس اس فون میں نئے جدید سیکیورٹی ایپس کا اضافہ کیا گیا ہے، جب کہ اس میں جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کراتے ہوئے ماضی کے فون سے بہتر بنایا گیا ہے۔

—فوٹو: اینڈرائڈ سینٹرل
—فوٹو: اینڈرائڈ سینٹرل

بلیک بیری کی ٹو کو مناسب قیمت کی وجہ سے اسے مڈ رینج فون قرار دیا جا رہا ہے۔

بلیک بیری کی ٹو کی قیمت 649 امریکی ڈالر (پاکستانی 74 ہزار روپے سے زائد رکھی گئی ہے)۔

فون کو اگرچہ ٹی سی ایل نے 7 جون کو متعارف کرادیا، تاہم اسے فروخت کے لیے رواں ماہ کے آخر تک پیش کیا جائے گا۔

امکان ہے کہ اسے سب سے پہلے امریکا و یورپ میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد اسے وسطی ایشیائی ممالک میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ بلیک بیری کی ٹو کو پاکستان میں کب تک فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔

—فوٹو: ٹوئٹر
—فوٹو: ٹوئٹر
Google Analytics Alternative