سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

آواران زلزلے سے بننے والا جزیرہ چھ سال بعد غائب ہوگیا

لندن: اب سے چھ برس قبل بلوچستان میں آنے والے جان لیوا زلزلے کے بعد بحیرہ عرب میں بننے والا ایک جزیرہ اب دھیرے دھیرے تقریباً مکمل طور پر غائب ہوچکا ہے۔

24 ستمبر 2013 کو بلوچستان کے ضلع آواراں میں اس زلزلے نے شدید تباہی مچائی تھی اور مرنے والوں کی تعداد 400 سے 600 بتائی گئی تھی۔ آواراں کے علاوہ بلوچستان کے دیگر چھ علاقے بھی زلزلے سے متاثر ہوئے تھے جس کی ریکٹر اسکیل پر شدت 7.7 تھی ۔

اس سانحے کے بعد گوادر کے پاس ایک جزیرہ نمودار ہوگیا تھا جسے ’کوہِ زلزلہ‘ کا نام دیا گیا تھا۔ زلزلے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد نے اسے دیکھا تھا ۔ ماہرین کا خیال تھا کہ اس جزیرے پر ہائیڈروکاربنز موجود ہوسکتے ہیں کیونکہ 2010 میں ہنگول کے قریب پانیوں میں بھی ایسا ہی ایک زلزلہ پھوٹ پڑا تھا جس سے میتھین گیس خارج ہورہی تھی۔

اب ناسا کی خلائی تصاویر سے عیاں کہ ہے دھیرے دھیرے سمندر میں جاتا ہوا جزیرہ اب مکمل طور پر غائب ہوچکا ہے اور ثبوت کے طور پر اس کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔ ناسا کے مطابق اس مقام پر نرم گاڑھے کا ایک آتش فشاں پہاڑ ہے جس کی وجہ جزیرہ نمودار ہوا تھا۔

اگرچہ اب بھی یہ تصاویر میں دکھائی دے رہا ہے لیکن جزیرے کی دھندلی تصویر سے عیاں ہے کہ جزیرہ اب اتھلے پانی میں جاچکا ہے۔ سطح آب پر ظاہر ہونے کے بعد کوہِ زلزلہ کی کل لمبائی 20 میٹر اور اونچائی 135 فٹ تک نوٹ کی گئی تھی۔

ناسا کے زمینی مشاہدے کے سیٹلائٹ ارتھ آبزرونگ ون اور لینڈ سیٹ 8 نے یہ تصاویر لی ہیں اور ماہرین نے اس پر گہری نظر رکھی ہوئی تھی۔

یوایس جیالوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے پروفیسر بِل برنارٹ ایران اور پاکستان کے زلزلے کے ماہر ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان کا سمندر ایسے جزائر کی تشکیل کے لیے نہایت موزوں جگہ ہے۔ ارضیاتی طور پر کم گہرے پانی میں میتھین، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر مائعات موجود ہیں۔ زلزلے سے یہ نظام متاثر ہوتا ہے اور اوپر کی جانب ابل پڑتا ہے۔

واضح رہے کہ مکران کے قریب تین ارضیاتی پلیٹیں انتہائی سرگرم ہیں اور یوں اس خطے میں زلزلے کے خطرات اب بھی موجود ہیں۔ ان ٹیکٹونک پلیٹوں میں یورپی، عربین اور ایشین پلیٹیں شامل ہیں۔

ہواوے کا اینڈرائیڈ پر انحصار ختم کرنے کا فیصلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں ہواوے پر پابندیوں کو نرم کرنے کا عندیہ دیا تھا جس کے بعد چینی کمپنی کے لیے گوگل کے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کا لائسنس منسوخ ہونے کا خطرہ ختم ہوگیا تھا۔

تاہم صورتحال میں بہتری کے باوجود ہواوے نے دنیا کے مقبول ترین موبائل آپریٹنگ سسٹم پر انحصار ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہواوے کے بانی رین زین فائی نے فرنچ میگزین لی پوائنٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی کا ہونگ مینگ آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ کے متبادل سے بڑھ کر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ نیا آپریٹنگ سسٹم صرف اسمارٹ فونز یا ٹیبلیٹ تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اسے راﺅٹرز، ڈیٹا سینٹرز، پرنٹڈ سرکٹ بورڈ اور دیگر میں بھی استعمال کی جاسکے گا جبکہ خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیوں میں بھی اسے استعمال کرنا ممکن ہوگا۔

اس سے پہلے مختلف رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ ہونگ مینگ آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ کے مقابلے میں 60 فیصد تیز ہے اور ہواوے کے بانی نے بھی تصدیق کی ہے کہ کمپنی کا یہ نیا آپریٹنگ سسٹم گوگل کے اینڈرائیڈ اور ایپل کے میک او ایس سے تیز ہوسکتا ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس سے مقابلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ دونوں پلیٹ فارمز کو اچھی ڈویلپر سپورٹ حاصل ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ کمپنی ایک ایپ اسٹور کی تیاری پر کام کررہی ہے تاکہ ڈویلپرز کی توجہ حاصل کی جاسکے اور اس حوالے سے اگست میں چین میں ایک ڈویلپر کانفرنس کا انعقاد بھی کیا جارہا ہے۔

ہواوے کا یہ نیا آپریٹنگ سسٹم رواں سال کے آخر تک سب سے پہلے چین میں متعارف کرایا جائے گا جس کے بعد اگلے سال کسی وقت دنیا بھر میں صارفین کے لیے پیش کیا جائے گا۔

ایسا مانا جارہا ہے کہ کمپنی کا نیا فلیگ شپ فون میٹ 30 پرو میں اس آپریٹنگ سسٹم کو دیا جاسکتا ہے، جو کہ اکتوبر یا نومبر میں متعارف کرایا جائے گا۔

خیال رہے کہ رواں سال مئی میں امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے بعد امریکی محکمہ تجارت نے ہواوے کو بلیک لسٹ کردیا تھا، تاہم 3 ماہ کے لیے عارضی لائسنس جاری کیا، تاکہ وہ اپنا کام اگست تک جاری رکھ سکے۔

کچھ دن پہلے امریکی صدر نے پابندیوں کو نرم کرنے کا عندیہ دیا مگر امریکی محکمہ تجارت نے تاحال ہواوے کو بلیک لسٹ کی فہرست سے نہیں نکالا۔

اردن میں آن لائن گیم ‘پَب جی’ پر پابندی عائد

اردن نے انتہائی مشہور لیکن سفاک آن لائن گیم پَب جی (PUBG) پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سلطنت کے شہریوں پر ‘منفی اثرات’ پڑ رہے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کے مطابق پَب جی، دنیا کی سب سے معروف موبائل گیم ہے جس میں کھلاڑی گمنام مقامات پر ایک دوسرے کو حملہ کرکے قتل کرتے ہیں۔

اردن کی ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹری اتھارٹی کے ذرائع نے خبردار کیا تھا کہ گیم کے اس کے کھیلنے والے پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں اور یہی وجہ سرکاری طور پر اس پر پابندی کا باعث بنی۔

اس سے قبل گیم پر عراق، نیپال، بھارتی ریاست گجرات اور انڈونیشیا کے صوبے آچے میں بھی پابندی عائد کی جاچکی ہے۔

مئی میں چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ‘ٹینسنٹ’ نے گیم کو صارفین کے لیے مزید پیش کرنا روک دیا تھا اور اس کے بجائے صارفین کے لیے نئی اور تقریباً اسی طرح کی دوسری گیم پیش کی تھی۔

واضح رہے کہ اردن میں پَب جی گیم بڑے پیمانے پر کھیلی جاتی ہے تاہم ادارے اپنے ملازمین کو کئی بار یہ گیم کھیلنے پر تنبیہ کر چکے ہیں۔

ملک کے ماہر نفسیات کئی بار خبردار کر چکے ہیں کہ یہ گیم نواجوانوں میں تشدد اور بدمعاشی کو فروغ دے رہی ہے۔

گوگل ’اینڈرائڈ کیو‘ نامی نیا سسٹم بنانے میں مصروف

انٹرنیٹ ٹیکنالوجی میں گرو کی اہمیت رکھنے والی کمپنی گوگل نئے آپریٹنگ سسٹم بنانے میں مصروف ہے، جس کا کمپنی پہلے ہی بیٹا ورژن متعارف کرا چکی ہے۔

گوگل ان دنوں اپنے نئے آپریٹنگ سسٹم ’اینڈرائڈ کیو‘ بنانے میں مصروف ہے اور کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ سسٹم ماضی میں متعارف کرائے گئے تمام سسٹمز سے زیادہ بہتر ہوگا۔

گوگل ’اینڈرائڈ کیو‘ سے قبل 16 آپریٹنگ سسٹم متعارف کرا چکا ہے جو اسمارٹ موبائلز میں استعمال ہوتے ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ گوگل نئے ’اینڈرائڈ کیو‘ کو رواں برس ستمبر یا اکتوبر میں متعارف کرائے گی، کمپنی نے رواں برس مارچ میں آزمائشی بنیادوں پر اس آپریٹنگ سسٹم کو متعارف کرایا تھا۔

اینڈرائڈ کیو کے ذریعے کیمرا کو بہتر بنایا جائے گا—فوٹو: گوگل 9 ٹو 5
اینڈرائڈ کیو کے ذریعے کیمرا کو بہتر بنایا جائے گا—فوٹو: گوگل 9 ٹو 5

اس آپریٹنگ سسٹم کا سب سے بہترین فیچر کیمرا کو بہتر بنانا ہے اور نئے سسٹم کے ذریعے گوگل رات کے وقت یا روشنی کی کمی کے وقت تصاویر کھینچنے اور ویڈیوز بنانے پر کام کر رہا ہے۔

گوگل 9 ٹو 5 کے مطابق اینڈرائڈ کیو کا سب سے اہم فیچر پکسل فونز کے کیمرے کو دیگر کمپنیوں کے موبائل فونز کے کیمروں سے بہتر بنانا ہے۔

اس سسٹم میں کمپنی 6 پوائنٹ 3 کا کیمرا دے گی جو گوگل کے پہلے کیمرے 6 پوائنٹ 2 سے زیادہ اپڈیٹ ہوگا۔

نئے آپریٹنگ سسٹم کے ذریعے کیمروں میں رات کے وقت میں بھی دن کی طرح تصاویر بنانے اور ویڈیوز ریکارڈ کرنے کا فیچر رکھا جائے گا۔

گوگل کے آنے والے پکسل فون کے کیمرے نئے فیچرز سے لیس ہوں گے—فوٹو: گوگل 9 ٹو 5
گوگل کے آنے والے پکسل فون کے کیمرے نئے فیچرز سے لیس ہوں گے—فوٹو: گوگل 9 ٹو 5

ساتھ ہی کیمرے میں نائٹ موڈ کے علاوہ ’پورٹریٹ، سلو موشن، پینوراما، پلے گراؤنڈ اور لینز‘ سمیت دیگر فیچرز شامل کیے جائیں گے۔

گوگل نے جہاں اینڈرائڈ کیو کو پلے اسٹور پر محدود صارفین کے لیے آزمائشی بنیادوں پر متعارف کرایا ہے، وہیں کمپنی نے اسی فیچر کے تحت کیمرے کے ان فیچرز کو بھی محدود صارفین کے لیے متعارف کرادیا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ گوگل کے آنے والے پکسل فونز میں جہاں ایںڈرائڈ کیو آپریٹنگ سسٹم کو شامل کیا جائے گا، وہیں ان میں کیمرے کے بھی نئے فیچرز کو شامل کیا جائے گا۔

اینڈرائڈ کیو کو پکسل فون کے محدود صارفین کے لیے متعارف کرایا جا چکا ہے—فوٹو: اینڈرائڈ سینٹرل
اینڈرائڈ کیو کو پکسل فون کے محدود صارفین کے لیے متعارف کرایا جا چکا ہے—فوٹو: اینڈرائڈ سینٹرل

ڈاٹ کام (.com) کس لفظ کا مخفف ہے؟

یقیناً یہ جملہ آپ انٹرنیٹ پر ہی پڑھ رہے ہوں گے اور موبائل، لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر پر لوگ آن لائن جاتے ہیں، مگر کبھی آپ نے سوچا کہ کسی ویب سائٹ کے آخر میں ڈاٹ کام (.com) کا مطلب کیا ہے؟

انگلش زبان میں ایسا لگتا ہے کہ ہر لفظ کا کوئی نہ کوئی مخفف ہوتا ہے جو بہت عام ہوتا ہے، مگر ان کے اصل مطلب اکثر افراد کو معلوم نہیں ہوتے۔

جیسے ٹیکنالوجی کی دنیا کے معروف مخفف سم کارڈ اور یو ایس بی، مگر سب سے عام ٹیکنالوجی مخفف لگ بھگ ہر ویب سائٹ کا حصہ ہوتا ہے یعنی ڈاٹ کام۔

ڈاٹ کام کس لفظ کا مخفف ہے؟

ویسے کچھ ویب سائٹ ڈومین تو سمجھنا آسان ہوتے ہیں جیسے ڈاٹ ای ڈی یو (.edu) یا ڈاٹ جی او وی (.gov) وغیرہ، مگر جب پوچھا جائے تو کہ ڈاٹ کام کا مطلب کیا ہے تو اکثر افراد ہوسکتا ہے کہ اس کا مطلب کمپیوٹر یا کمیونیکشن بتائیں۔

مگر یہ دونوں ہی اس مخفف کے اصل معنی نہیں۔

درحقیقت ڈاٹ کام لفظ کمرشل کا مخفف ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر ویب سائٹ کمرشل مقاصد کے لیے استعمال ہو (اگر بیشتر کمرشل ویب سائٹس اس ڈومین کو استعمال کرتے ہیں)۔

مگر چونکہ ڈاٹ کام ڈومین نام ہر ایک کو دستیاب تھا اور یہ مخصوص ڈومین جیسے ای ڈی یو یا جی او وی سے مختلف تھا، تو یہ ہر جگہ چھا گیا۔

کیا اس کا کچھ اور مطلب بھی ہے؟

ویسے تو ڈاٹ کام کمرشل کا مخفف ہے مگر کچھ ٹیکنالوجی ماہرین کے خیال میں یہ کسی اور لفظ کو چھوٹا کیا گیا ہے اور وہ ہے کمپنی۔

انٹرنیٹ کی ابتدا یعنی 1980 اور 90 کی دہائی میں ایم آئی ٹی کے ڈویلپر جیک ہیورٹی کے مطابق اس زمانے میں انٹرنیٹ کاروباری اداروں سے کنکٹ نہیں تھا اور اس زمانے میں ڈاٹ کام سے کاروبار کا خیال ذہن میں نہیں آتا تھا جہاں لوگ کچھ خرید سکیں۔

درحقیقت اس وقت مختلف کمپنیاں حکومتی معاہدوں پر انٹرنیٹ پر کام کرتی تھیں تو ڈاٹ کام کے لیے کمپنی زیادہ منطقی مخفف ہے۔

مگر اب چونکہ انٹرنیٹ بہت زیادہ پھیل چکا ہے اور تجارت کے لیے بنیادی پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتا ہے تو کمرشل غیرمتنازعہ طور پر ڈاٹ کام کے معنی کی جگہ لے چکا ہے۔

وہ ڈیوائسز جو جلد واٹس ایپ سپورٹ سے محروم ہوجائیں گی

اگر تو آپ اینڈرائیڈ 2.3.7 آپریٹنگ سسٹم اور آئی او ایس 7 پر چلنے والے اسمارٹ فونز استعمال کررہے ہیں تو آئندہ چند ماہ بعد ان میں واٹس ایپ استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

واٹس ایپ نے اپنے ایف اے کیو پیج کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یکم فروری 2020 سے اینڈرائیڈ 4.0.3 یا اس کے بعد کا ورژن اور آئی او ایس 8 یا اس کے بعد کے ورژن والے فونز یا ڈیوائسز میں واٹس ایپ سپورٹ فراہم کی جائے گی۔

واٹس ایپ پیج کے مطابق ‘اینڈرائیڈ 2.3.7 اور آئی او ایس 7.1.2 والی ڈیوائسز استعمال کرنے والے افراد اب نئے اکاﺅنٹس نہیں بناسکیں گے اور موجودہ اکاﺅنٹس کو بھی دوبارہ ویریفائی نہیں کرسکیں گے، تاہم واٹس ایپ کو یکم فروری 2020 تک استعمال کرنا ممکن ہوگا، اس کے بعد سپورٹ ختم ہوجائے گی’۔

کمپنی کے مطابق ہم نے ان آپریٹنگ سسٹمز کے لیے ہم اپ ڈیٹس نہیں بنارہے، تو کچھ فیچرز کسی بھی وقت کام کرنا بند کرسکتے ہیں۔

واٹس ایپ کی جانب سے لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ان آپریٹنگ سسٹمز کو استعمال کرنے والے صارفین نئے فونز لے لیں جن میں بہتر آپریٹنگ سسٹمز موجود ہوں تاکہ وہ نئے فیچرز استعمال کرسکیں۔

اس سے پہلے واٹس ایپ کی جانب سے یہ اعلان بھی ہوچکا ہے کہ تمام ونڈوز آپریٹنگ سسٹمز پر 31 دسمبر کے بعد صارفین واٹس ایپ کو استعمال نہیں کرسکیں گے جبکہ ہوسکتا ہے کہ یکم جولائی کے بعد یہ مائیکرو سافٹ اسٹور پر بھی دستیاب نہ ہو۔

اس بیان میں یکم جولائی کے بعد ایپ کی عدم دستیابی کے حوالے سے شاید کا لفظ استعمال ہوا ہے مگر یہ واضح ہے کہ یہ بہت جلد مائیکرو سافٹ اسٹور سے ڈیلیٹ کردی جائے گی۔

رواں سال کے آخر تک واٹس ایپ کی جانب سے سپورٹ ختم ہونے پر ونڈوز فونز کے صارفین کے لیے اس مقبول ترین میسجنگ اپلیکشن میں بگز فکسز، اپ ڈیٹس اور نئے فیچرز کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔

اور ہاں ونڈوز فونز میں اس کے بیشتر فیچرز کسی بھی وقت اچانک کام کرنا بند بھی کردیں گے۔

ونڈوز فون مائیکرو سافٹ کا وہ آپریٹنگ سسٹم ہے جس کو خود کمپنی نے سپورٹ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس وقت دنیا بھر میں 0.28 فیصد صارفین ونڈوز موبائل استعمال کررہے ہیں جبکہ اینڈرائیڈ صارفین کی تعداد 74.85 فیصد ہے۔

اس سے پہلے واٹس ایپ بلیک بیری آپریٹنگ سسٹم، بلیک بیری 10، نوکیا ایس 40، نوکیا سامبا ایس 60، اینڈرائیڈ 2.1، اینڈرائیڈ 2.2، ونڈوز فون 7، آئی فون تھری جی/آئی او ایس سکس کے لیے سپورٹ ختم کرچکی ہے۔

ڈرون اب دیواروں پر پینٹنگ بھی بنانے لگے

روم، اٹلی: اٹلی میں ماہرین نے چار عدد ڈرون کو ایک ساتھ استعمال کرکے ایک بڑی دیوار پر خوبصورت پینٹنگ بنانے کا عملی مظاہرہ کیا ہے جسے عام طور پر گریفیٹی کہا جاتا ہے۔

یہ مظاہرہ ایک منصوبے کے تحت کیا گیا جسے ’اربن فلائنگ اوپرا‘ (یو ایف او) پروجیکٹ کا نام دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت شہر کی انتظامیہ نے مختلف افراد سے کئی متاثرکن منصوبوں کی تفصیل مانگی تھی۔ یہ مقابلہ ایک ڈیزائننگ کمپنی کارلو ریٹی کمپنی نے کرایا تھا جس میں ایک ہزار لوگوں نے اپنے اپنے پروجیکٹ بھیجے جن میں سے 100 قبول کئے گئے۔

اس پروجیکٹ کے تحت پولی ٹیکنک یونیورسٹی آف ٹیورن اور ٹیورن یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر ڈرون کی مدد سے ایک بڑی دیوار پینٹ کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا جسے عملی مظاہرے کی دعوت دی گئی۔

پینٹنگ کے لیے ایک کار ساز کمپنی میں متروک دیوار کا انتخاب کیا گیا جو اٹلی کے شہر ٹیورن میں واقع ہے۔ 25 اور 26 جون کو پروگرام سے کنٹرول کئے گئےچار ڈرون نے پوری دیوار پر ایک خوبصورت پینٹنگ بناڈالی ۔ مرکزی کنٹرول سسٹم نے ہر ڈرون اور رنگوں کو الگ الگ کنٹرول کیا اور ماہرین اس پورے عمل کا بغور جائزہ لیتے رہے۔

اس عمل میں 14 میٹر لمبی اور 12 میٹر چوڑی دیوار کا انتخاب کیا گیا جس پر تین مختلف رنگوں کی تہیں چڑھائی گئیں۔اس میں سیاہ رنگت کو مضمون بیان کرنے میں استعمال کیا گیا ۔ سرخ رنگت سے ٹیورن کی شہری زندگی اور دیگر اجزا دکھائے گئے۔ جبکہ سبزی مائل نیلگوں پرت سے پورے مضمون یا اسٹوری کا احاطہ کیا گیا۔ اس طرح ایک عمودی بڑی دیوار پر پہلی مرتبہ ڈرون سے کوئی پیچیدہ ڈرائنگ بنانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔

گزشتہ دنوں ڈرون کے ان گنت استعمال سامنے آئے ہیں تاہم اب وہ دن دور نہیں جب ڈرون عمارتوں پر رنگ و روغن ، پینٹنگ یا تزئین و آرائش کا کام بھی کریں گے۔

سام سنگ پر آسٹریلیا میں صارفین کو گمراہ کرنے کا الزام

کیا سام سنگ کے واٹر ریزیزٹنٹ گلیکسی اسمارٹ فونز کو سوئمنگ پول اور سمندر کی سطح پر استعمال کیا جاسکتا ہے ؟

کمپنی کی جانب سے ایسا اشتہارات دکھایا جاتا ہے مگر اب اسے اس وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ آسٹریلیا کے کمپیٹیشن اینڈ کنزیومر کمیشن (اے سی سی سی) اس معاملے پر سام سنگ کو عدالت میں لے گئی ہے۔

آسٹریلین کمیشن نے سام سنگ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ فونز کے واٹر ریزیزٹنس کے معاملے پر صارفین کو گمراہ کررہی ہے کیونکہ یہ کمپنی 2016 سے اپنے فونز کی اس صلاحیت کے بارے میں ایسا ظاہر کرتی ہے کہ انہیں سوئمنگ پول اور سمندر میں لے جاسکتی ہے، حالانکہ ایسا ہوتا نہیں۔

اے سی سی سی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سام سنگ کے گلیکسی فونز کے اشتہارات لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں کیونکہ ان میں دکھایا جاتا ہے کہ یہ فونز ہر طرح کے پانی جیسے سمندر اور سوئمنگ پول وغیرہ کے لیے موزوں ہیں اور اس سے فونز کی زندگی متاثر نہیں ہوتی، حالانکہ یہ درست نہیں’۔

اے سی سی سی کی جانب سے دائر مقدمہ 300 سے زائد اشتہارات کے تجزیے پر مبنی ہے۔

بیشتر گلیکسی فونز کے اشتہارات میں انہیں آئی پی 68 واٹر ریزیزٹنس کا حامل قرار دیا جاتا ہے، یعنی یہ ڈیوائسز ڈیڑھ میٹر گہرے پانی میں 30 منٹ تک رہ سکتی ہیں، مگر اے سی سی سی کے مطابق اس میں ہر طرح کے پانی کو کور نہیں کیا جاسکتا، یہاں تک کہ سام سنے نے خود کہا ہے کہ گلیکسی ایس 10 ساحل پر استعمال کے لیے نہیں۔

اے سی سی سی کے مطابق سام سنگ کی جانب سے گلیکسی فونز کو ایسی جگہوں پر استعمال کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے جو اسے صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے نہیں کرنا چاہیے۔

دوسری جانب سام سنگ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنی مارکیٹنگ حکمت عملی کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے مقدمہ لڑنے کے لیے تیار ہے۔

Google Analytics Alternative