سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

واٹس ایپ میں فنگر پرنٹ اور نائٹ موڈ کا اضافہ جلد متوقع

سان فرانسسكو: واٹس ایپ کے مداحوں کے لیے خوش خبری ہے کہ اس ایپ نے اب کئی تبدیلیاں کرتے ہوئے اپنے مداحوں کو دوبارہ حیران کرنے کی ٹھانی ہے جس کے تحت رات کو مسیجنگ اور رابطوں کے لیے نائٹ موڈ اور فنگر پرنٹ سے کھلنے اور بند ہونے کی سہولت بھی پیش کی جارہی ہے۔

واٹس ایپ نے اینڈروئڈ فون کے لیے نیا بی ٹا ورژن کئی جدت کے ساتھ پیش کردیا ہے۔ اب واٹس ایپ بی ٹا 2.19.83 ورژن  میں فنگر پرنٹ کی تصدیق اور رات میں استعمال کرنے والا نائٹ موڈ متعارف کروایا گیا ہے جسے کچھ لوگ استعمال کربھی رہے ہیں لیکن جلد ہی اسے پوری دنیا کے لیے ریلیز کیا جائے گا۔

اس ماہ کے اوائل میں فیس بک میسنجر نے نائٹ موڈ کا آپشن پیش کردیا تھا اور اب عین یہی فیچر واٹس ایپ پر بھی جلد پیش کیا جائے گا۔ مختلف ایپس اور

سافٹ ویئر کے بی ٹا ورژن پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ WABetaInfo  نے بعض اسکرین شاٹ پر شائع کیے ہیں جن میں ’ڈارک موڈ‘ بھی شامل ہے۔

اسکرین شاٹ دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ڈارک موڈ ایپ کی ظاہری کیفیت کو مکمل طور پر تبدیل کردیتا ہے تاہم یہ صرف آپ کی آنکھوں کے لیے ہے ناکہ اس موڈ سے فون کی بیٹری کی کچھ بچت ہوسکے گی۔

دوسری جانب فنگر پرنٹ سے تصدیق کرنے والا ایک نظام بھی پیش کیا جارہا ہے جو ٹائم آؤٹ آپشن دیتا ہے جس کی مدت ایک منٹ، دس منٹ اور تیس منٹ ہے تاہم یاد رہے کہ یہ بی ٹا ورژن ہے جسے چند لوگ ہی استعمال کررہے ہیں۔ ان کی آرا کی روشنی میں واٹس ایپ کمپنی نئے ورژن کو بہتر سے بہتر بنائے گی اور جلد ہی اسے پوری دنیا کے لیے پیش کردیا جائے گا۔

مساجد پر حملوں کے بعد فیس بک کے لائیو اسٹریم قوانین میں سختی

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ میں مساجد پر خوفناک حملے کی براہ راست راست ویڈیو نشر کرنے کے بعد ویب سائٹ اپنی لائیو ویڈیو اسٹریمنگ کے قوانین سخت کر رہی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق چیف آپریٹنگ افسر شیرل سینڈ برگ نے ایک آن لائن پوسٹ میں کہا کہ مختلف افراد کا سوال بجا تھا کہ کس طرح فیس بک جیسے آن لائن پلیٹ فارمز کو حملے کی خوفناک ویڈیو کے لیے استعمال کیا گیا۔

واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 15 مارچ کو 2 مساجد میں سفید فام دہشت گرد نے فائرنگ کی تھی اور 50 افراد کو شہید کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’دہشت گرد حملے کے تناظر میں ہم نے 3 اقدامات اٹھائے ہیں، جس میں فیس بک لائیو کے استعمال کے لیے قوانین کو سخت کرنا، ہمارے پلیٹ فارمز پر نفرت سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھانا اور نیوزی لینڈ کی کمیونٹی کی حمایت کرنا ہے۔

ان کے مطابق فیس بک ایسے افراد کو روکنے کے معاملے کو دیکھ رہا ہے جنہوں نے پہلے اس کے پلیٹ فارم پر لائیو اسٹریمنگ سے سماجی رابطوں کے نیٹ ورک کی کمیونٹی معیار کی خلاف وزری کی۔

ساتھ ہی سماجی رابطوں کا نیٹ ورک تشدد کی ویڈیو یا تصاویر کے ترمیم شدہ ورژنز کو فوری طور پر پہچاننے کے لیے سافٹ ویئر کو بہتر کرنے میں بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ اس طرح کی چیزوں کو چیئر یا ری پوسٹ ہونے سے روکا جاسکے۔

شیرل سینڈ برگ کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ نیوزی لینڈ حملے کی ویڈیو براہ راست نشر ہوئی لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ ویڈیو لوگوں کی جانب سے ری شیئر کرنے سے زیادہ پھیلی اور اس میں ترمیم کی وجہ سے ہمارے سسٹم کے لیے اسے بلاک کرنا مشکل ہوگیا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’برے ارادوں کے حامل افراد ہمیشہ ہمارے سیکیورٹی کے اقدامات کے ارد گرد تک پہنچنے کی کوشش کریں گے‘۔ ادھر فیس بک کی جانب سے 900 سے زائد ایسی ویڈیوز کی نشاندہی کی جس میں تشدد دکھایا گیا تھا۔

نفرت انگیز قوم پرستی

سینڈ برگ کے مطابق نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں نفرت انگیز گروپ کی نشاندہی اور انہیں ہٹانے کے لیے سوشل نیٹ ورک مصنوعی ذہانت آلات کا استعمال کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام گروپس کو فیس بک کی سروسز کے لیے بند کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے فیس بک کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ نفرت انگیز تقریر کے خلاف کریک ڈاؤن کے سلسلے میں سفید فام قوم پرستی اور سفید علیحدگی پسندی کے لیے کی جانے والی حمایت یا اس کی تعریف پر پابندی لگادی جائے گی۔

یہ پابندی آئندہ ہفتے سے مقبول ترین سوشل میڈٰیا ویب سائٹ اور اس کی تصاویر کی سروس انسٹاگرام پر نافذ کردی جائے گی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کی جانب سے کہا گیا کہ ’یہ واضح ہے کہ ان اقدامات کا تعلق منظم نفرت انگیز گروپس سے ہے اور ہماری سروسز پر ایسے لوگوں کی کوئی جگہ نہیں ہے‘۔

انٹرنیٹ اسپیڈ تیز کرنے کا یہ آسان نسخہ جانتے ہیں؟

انٹرنیٹ اس دور کی ایسی ضرورت بن گئی ہے جس کے بغیر لگتا ہے کہ زندگی ادھوری ہے۔

اب سوشل میڈیا کا استعمال ہو، اسٹریمنگ سروس کو دیکھنا یا بلوں کی آن لائن ادائیگی، ایک اچھا انٹرنیٹ کنکشن ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے۔

مگر کئی بار انٹرنیٹ کی ناقص رفتار ذہنی جھنجھلاہٹ کا باعث بنتی ہے مگر ایک آسان ٹپ ایسی ہے جس کی بدولت آپ کافی حد تک اس کو بہتر بناسکتے ہیں۔

درحقیقت جیسے کمپیوٹر یا اسمارٹ فونز کو اکثر بند کرکے کھولنا ان کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے، یہی کام روٹر کے ساتھ کرنا بھی انٹرنیٹ کی رفتار کو تیز کرسکتا ہے۔

مگر یہ کام کتنی بار کرنا چاہئے ؟ تو ماہرین اس کا جواب کچھ اس طرح دیتے ہیں کہ یہ ایک اچھا خیال ہے کہ مین انٹرنیٹ روٹر کو ایک یا 2 مہینے بعد ری بوٹ کردیں جس سے مخصوص انٹرنیٹ کنکٹیویٹی مسائل جیسے انٹرنیٹ کام نہ کرنے سے لے کر سلو وائرلیس کنکشن وغیرہ کو حل کرنا ممکن ہوجاتا ہے اور یہ گھر میں انٹرنیٹ کے مسائل کے لیے پہلا اقدام ہونا چاہئے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک اچھی سیکیورٹی مشق بھی ہے کہ مہینے 2 مہینے میں روٹر کو ری بوٹ کرلیں، اس سے ہیکنگ کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

تو اگر آپ تیز کنکشن چاہتے ہیں تو اپنے روٹر کو آن اور آف کرنا معمول بنالیں ۔

عام طور پر انٹرنیٹ پروائڈر اپنی ہر ڈیوائس کو ایک عارضی آئی پی ایڈریس دیتے رہتے ہیں اور اگر روٹر اس تبدیلی کو پکڑ نہ سکے تو کنکشن سست ہوجاتا ہے، ایسا اس وقت بھی ہوسکتا ہے جب روٹر سے بہت زیادہ ڈیوائسز کنکٹ ہوں۔

مگر ایک یا 2 مہینے میں روٹر کو ری اسٹارٹ کرنا معمول بنانا ہوم نیٹ ورک کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

انسٹاگرام میں آخرکار ویڈیوز کیلئے فاسٹ فارورڈ فیچر کی آزمائش

انسٹاگرام نے آخرکار وہ فیچر متعارف کرانے کا فیصلہ کرہی لیا، جس کا مطالبہ اس فوٹو شیئرنگ ایپ کے صارفین عرصے سے کررہے تھے۔

درحقیقت یہ وہ فیچر ہے جو اس اپلیکشن کے استعمال کا تجربہ زیادہ بہتر بنادے گا۔

جی ہاں انسٹاگرام نے یوزر فیڈ میں پوسٹ ویڈیوز کے لیے سیک بار (Seek bar) کے فیچر کی آزمائش شروع کردی ہے۔

اس فیچر کی بدولت آپ انسٹاگرام ویڈیوز کو اپنی مرضی کے مطابق آگے پیچھے کرسکیں گے جو کہ فی الحال ممکن نہیں، بلکہ کسی خاص منظر کو دیکھنے کے لیے پوری ویڈیو کو ہی دوبارہ شروع سے آخر تک دیکھنا پڑتا ہے۔

ٹوئٹر صارف جین مینچون وونگ نے اس فیچر کی آزمائش کا انکشاف ایک ٹوئیٹ میں کیا۔

یہ فیچر آئی جی ٹی وی میں پوسٹ ہونے والی ویڈیوز میں تو کام کررہا ہے مگر یوزر فیڈز کے لیے تاحال دستیاب نہیں۔

مگر یہ فیچر کب تک باقاعدہ طور پر صارفین کے لیے دستیاب ہوگا، فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے مگر امکان ہے کہ بہت جلد اسے متعارف کرادیا جائے گا۔

خیال رہے کہ انسٹاگرام صارفین کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کرچکی ہے اور یہ نوجوانوں میں بہت زیادہ مقبول ایپ ہے۔

سیلفی کیمرا کے منفرد ڈیزائن سے لیس اوپو کا نیا اسمارٹ فون

چینی کمپنی اوپو کو سیلفی کیمرا فونز کے لیے جانا جاتا ہے اور وہ ان کے ڈیزائن کو مسلسل بدلتی رہتی ہے اور اب ایک ایسا ہی نیا خیال نئے فون میں حقیقت کا روپ دھارنے والا ہے۔

اوپو کے نئے فون رینو میں سیلفی کیمرے کو بالکل مختلف انداز سے چھپایا گیا ہے جو کہ روایتی سلائیڈر کیمرے سے ہٹ کر ہے۔

اس فون کی کئی تصاویر بشمول ویڈیو سلیش لیکس نے لیک کی ہے، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں سیلفی کیمرا مستطیل (ریکٹینگولر) پوپ اپ باکس میں چھپا ہوا ہے اور یہ فون کے دائیں جانب سے نمودار ہوتا ہے۔

اس سے ہٹ کر یہ پوپ اپ کیمرا دیگر پوپ اپ کیمروں جیسا ہی ہے اور یہ اس وقت نمودار ہوتا ہے جب صارف سیلفی کیمرا ایپ ٹرن آن کرتے ہیں اور اسے ٹرن آف کرنے پر چھپ جاتا ہے۔

اس نئے ڈیزائن کا کیا فائدہ ہے وہ تو ابھی واضح نہیں مگر ہوسکتا ہے کہ کمپنی کو یہ ڈیزائن بہترین محسوس ہوا ہو۔

اس فون کے بیک پر ڈوئل کیمرا سیٹ اپ دیا جارہا ہے اور فرنٹ پر بیزل نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اس میں اسنیپ ڈراگون 710 پراسیسر دیا جائے گا مگر اسنیپ ڈراگون 855 کا ورژن بھی متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

یہ فون تین مختلف ورژن میں دستیاب ہوگا یعنی سکس جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج، 6 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج اور 8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج کے آپشن دیئے جائیں گے۔

6?4 انچ امولیڈ ڈسپلے والے اس فون میں فنگرپرنٹ سنسر اسکرین کے اندر ہوگا جبکہ 3680 ایم اے ایچ بیٹری دی جائے گی۔

اسنیپ ڈراگون 710 پراسیسر والے فون میں بیک پر 48 میگا پکسل اور 5 میگا پکسل کیمرا سیٹ اپ دیا گیا ہے جبکہ 16 میگا پکسل سیلفی کیمرا ہوگا۔

اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر والے ورژن میں بیک پر تین بیک کیمروں کا سیٹ اپ، لیکوئیڈ کولنگ اور 50 واٹ فاسٹ چارجنگ سپورٹ والی بڑی بیٹری دی جائے گی۔

پاکستانی نژاد کینیڈین سائنسدان انقلابی دماغی چپ جلد انسانوں پر آزمائیں گے

کراچی: پاکستانی نژاد کینیڈین سائنسدان نے مصنوعی دماغی چپ بنا لی ہے جس کا تجربہ اسی سال انسانوں پر کیا جارہا ہے۔ 

فرض کریں آپ کو لاعلاج دماغی بیماری کا سامنا ہے اور آپ کی زندگی بچانے کے لیے آپ کے دماغ میں مصنوعی سیمی کنڈکٹر چپ لگا دی جائے تو آپ کیسا محسوس کریں گے, یقیناً بہت خوش ہوں گے اب ایساکچھ ممکن ہونے کو ہے اور وہ بھی ایک پاکستانی نژاد کینیڈین سائنسدان ڈاکٹرنوید سیدکی کاوشوں سے۔

مسلسل دو دہائیوں کی ڈیزائننگ، تحقیق، ری ڈیزائننگ اور لاتعداد تجربات کے بعد دو طرفہ کام کرنے والی دماغی برقی چپ اب انسانوں پر آزمائش کے لیے تیار ہے۔ سب سے پہلے یہ بایونِک چپ مرگی کے ایسے مریضوں پر آزمائی جائے گی جو ہمارے پاس موجود کسی بھی دوا سے ٹھیک نہیں ہوتا۔

پاکستانی نژاد امریکی سائنسداں، ڈاکٹر نوید امام سید دماغ پڑھنے اور اس سے رابطہ کرنے والی دوطرفہ انقلابی چپ کے بانی ہیں اور یہ حساس ترین چپ پہلی مرتبہ کئی طریقوں سے مرگی میں مبتلا لاعلاج مریضوں کے لیے استعمال کی جائے گی۔

دماغی سگنل اور مرگی کا مرض

ہم ایک عرصے سے جانتے ہیں کہ دماغ میں غیرضروری اور غیرمعمولی برقی سگنلوں کی بوچھاڑ مرگی سمیت کئی امراض کی وجہ ہوتی ہے۔ اگر انسانی دماغ کو پھیلا کر ایک بڑے ہال کی صورت دیدی جائے اور اس میں آپ پیشانی کا سامنے کی جانب سے قدم رکھیں تو آپ کو لاتعداد برقی جھماکے ایک جگہ سے دوسری اور بقیہ جسم تک جاتے نظر آئیں گے۔ اگر ہم حرکت کریں تو دماغ کے اوپری حصے میں بجلی کے کوندے چمکتے ہیں اور اگر ہم کسی خوشگوار لمحے کو یاد کریں تو دماغ کے نچلے حصے میں چمک پیدا ہوگی۔ یہ سب دماغی سگنل کہلاتےہیں جو بدن کے پٹھوں اور عضلات تک جاکر کیمیائی سگنلوں میں تبدیل ہوتے ہیں۔ یہ سگنل خاص دماغی خلیات سے نکلتے ہیں جنہیں نیورون کہا جاتا ہے ۔ ایک صحت مند دماغ میں 100 ارب سے زائد نیورون پائے جاتے ہیں۔

روایتی طور پر لاعلاج مِرگی کے مرض میں دماغی سرجن اپنے بہترین اندازے کے مطابق دماغ کے اس مقام کا اندازہ لگاتے ہیں جہاں سگنلوں کا شور پیدا ہورہا ہوتا ہے۔ پھر ان خلیات اور ٹشوز (بافتوں) کو نکالا جاتا ہے تاہم اکثر اوقات متاثرہ حصے کے ساتھ دماغ کے صحتمند حصے بھی نکل آتے ہیں۔ لیکن اس مہنگے، پیچیدہ اور تکلیف دہ آپریشن کے باوجود بھی ، چار یا پانچ سال میں مرض دوبارہ لوٹ آتا ہے۔

دوہری بایونِک چپ ان تین اہم ترین چپس میں سے ایک ہے جنہیں برسوں کی محنت کے بعد ڈاکٹر نوید نے تیار کیا ہے۔ یہ انتہائی وضاحت سے مرگی کے دوروں کی شناخت کرسکتی ہے۔ ایک جانب تو یہ مرگی کے دورے کو پہلے ہی بھانپ سکے گی اور جسم سے لٹکے بیک پیک یا آلے کو وائرلیس سگنل بھیجے گی۔ اس سے قبل اس کام کے لیے تیس فٹ طویل تار دماغ سے لگایا جاتا تھا!

اس چپ کا ایک اور ہم پہلو یہ ہے کہ یہ میگنیٹک ریزونینس (ایم آر) آلات سے مطابقت رکھتی ہے ۔ یعنی سرجن اور معالجین اس چپ کی نشاندہی پر دماغ میں مرگی کے دورے کی وجہ بننے والے متام کی انتہائی درستگی سے شناخت کرسکتے ہیں۔ اس طرح جراحی میں آسانی ہوگی ۔ توقع ہے کہ یہ تجربات اس سال کے وسط تک یونیورسٹی آف کیلگری میں انجام دیئے جائیں گے۔

’ انسانی آزمائش کے دوران یہ اہم چپ پہلے سے ہی مرگی کے دورے سے خبردار کردے گی اور اس کا پیغام مریض کو مل سکے گا کہ وہ چل رہا ہو یا کار ڈرائیونگ کررہا تو وہ پرسکون رہے یا ٹھہرجائے۔ اس کے علاوہ چپ ایک آلے کے ذریعے ہسپتال کو ایس ایم ایس بھیجے گی اور آپ کے عزیزوں کو بھی مطلع کرسکے گی،‘ ڈاکٹر نوید نے ایکسپریس کو بتایا۔

اگلے مرحلے میں یہ چپ مزید حیرت انگیز کام کرے گی۔ جیسے ہی چپ دماغ میں مرگی والی سرگرمی نوٹ کرے گی تو اسے منسوخ کرنے کے لیے منفی سگنل خارج کرے گی جس سے دماغ سگنلوں کا شور اور پھیلاؤ کم ہوجائے گا اور مرض کی شدت میں کمی ممکن ہوسکے گی۔

یہ چپ دماغ کے لیے نقصاندہ نہیں اور دماغ کے اندر تھری ڈی ماڈل کی تشکیل کرتے ہوئے متاثرہ حصے اور ٹشو کی نشاندہی کرتی ہے۔

پیچ کلیمپ چپ ، ایک اور کارنامہ

ڈاکٹر نوید سید نے حال ہی میں ایک ’پیچ کلیمپ ٹیکنالوجی کی طرز پر کام کرنے والی چپ‘ بھی تیار کی ہے۔ جس پر آئن چینل کی طرز پر 90 سے زائد دوائیں ٹیسٹ کی جاسکتی ہیں۔ یعنی دماغ کے متاثرہ

حصے کے خلیات لے کر اس پر ایک وقت میں درجنوں دوائیں ڈال کر ان کی افادیت نوٹ کی جاسکتی ہے اور یوں مریض کے لیے مؤثر ترین دوا یا کسی سائیڈ افیکٹس والی دوا کی شناخت ممکن ہوجائے گی۔ اس طرح ہر مریض کے لیے اس کی خاص دماغی کیفیت کے لیے دوا بنائی جاسکے گی۔

سائبورگ گھونگھے سے بایونِک چپ تک

ڈاکٹر نوید سید نہ صرف دوطرفہ رابطے کی نیوروچپ کے بانی ہیں بلکہ وہ دماغ سے برقی آلات منسلک کرنے اور اس پورے عمل کو انتہائی گہرائی سے سمجھنے والے ایک بصیرت افروز ماہربھی ہیں۔ اس سفر میں انہیں دوعشروں سے زائد کا عرصہ لگا اور انہوں نے کئی اہم طریقوں اور ٹیکنالوجی پر کام کیا ہے۔

تجربہ گاہوں میں ان کے گروہ نے کئی پہلوؤں پر تفصیلی تحقیق، مشاہدات کئے ہیں۔ کئی طرح کے سادہ اور پیچیدہ جانوروں اور یہاں تک کہ انسانی لاشوں پر تجربات کئے ہیں اور ان سب مراحل سے گزرنے کے بعد ہی اب جدید ترین چپ کو انسانوں پر آزمایا جائے گا۔

بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے ہیں کہ ڈاکٹر نوید نیوروسائنس کی نئے افق کے بانی بھی ہیں۔ مثلاً ایک ٹشو کلچر ڈش میں انہوں نے سانس لیتا (بریدنگ) سرکٹ تیار کیا تھا اور یہ اس وقت دنیا میں اول ترین کاوش تھی جسے ممتاز سائنسی جریدے ’سائنس‘ میں جگہ دی گئی تھی۔ اس طرح عین جانوروں میں سانس لینے کا پورا عمل کسی تجربہ گاہی ڈش میں دیکھا گیا ۔

وہ دنیا کے پہلے ماہر ہیں جنہوں نے ایک واحد دماغی خلیہ گھونگھوں میں کامیابی سے منتقل کیا تھا۔ اسی بنا پر ان کے تحقیقی گروپ کو امریکا میں منعقدہ نیوروسائنس کے اہم اجلاس میں ’ اس عشرے دماغی اختراعت کرنے والے سب سے اہم تحقیقی گروہ ‘ قرار دیا گیا ہے۔

جلد ہی ڈاکٹر نوید پر انکشاف ہوا کہ دماغ یا اس کے ایک خلیے سے برقی چپ جوڑنے کے لیے پوری الیکٹرانکس میں انقلابی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ اپنے تجربات اور عشروں کی محنت سے انہوں نے دوطرفہ چپ بنانے کا درست ترین ’نسخہ‘ معلوم کرلیا۔ ’ اب کیمیائی اور برقی انجینیئرنگ سے انہوں نے چپ کا اندرونی ماحول اس طرح بنایا ہے کہ نامیاتی نیورون اسے بے کار ٹکڑا نہیں سمجھتا بلکہ اپنے ہی ماحول کا ایک حصہ گردانتے  ہوئے اس (چپ) سے  خوشی خوشی رابطہ کرتا ہے۔‘ ڈاکٹر نوید نے بتایا۔

2004 میں اس کارنامے کو ٹائم میگزین سے ڈسکوری چینل سمیت عالمی ذرائع ابلاغ میں نمایاں جگہ دی گئی۔ یہ پہلی ٹیکنالوجی ہے جس کے ذریعے چِپ دماغی خلیات کو سنتی ہے اور اس کے بدلے اپنا پیغام بھی دیتی ہے۔ برین چپ پر موجود باریک کیپیسٹر نیورون کو تحریک دیتے ہیں جبکہ نیچے رکھے ٹرانسسٹر ان کے سگنل پڑھ لیتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ چپ اپنی ہدایت بھی خلیات تک پہنچاسکتی ہے۔

جملہ حقوق ’غیرمحفوظ‘ ہیں

نرم خو اور درویش صفت ڈاکٹر نوید سید نے ابتدائی تعلیم اور ماسٹرز کی ڈگری کراچی سے حاصل کی۔ اس کے بعد وہ کینیڈا منتقل ہوگئے اور اپنے علم سے وابستہ 130 سے زائد اعلیٰ ترین معیار کے تحقیقی مقالہ جات لکھے جو نیچر، نیورون اور سائنس جیسے ممتاز جرائد میں شائع ہوئے ہیں۔ لیکن ان کی ایجادات اور اختراعات کی فہرست بھی بہت طویل ہے۔

حیرت انگیز طور پر ان کی درجنوں ایجادات ، ٹیکنالوجی اور دیگراختراعات میں سے انہوں نے  صرف چند کی ہی پیٹنٹ (حقِ ملکیت) حاصل کی ہیں۔ وہ اس عمل کو دیگر ماہرین کے لیے کسی رکاوٹ کے بغیر رکھنا چاہتے ہیں تاکہ دیگر لوگ اس پر کام کریں اور آگے بڑھیں۔ ان کے مطابق ایجادات کے طریقہ کار کے نقل کی پابندی سے تحقیق میں جمود آجاتا ہے اور دماغی علوم کی جانب لوگوں کی آمد بہت کم ہے۔

’ میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کی خدمت ہی طب کا اصل مقصد ہونا چاہیئے۔ کسی چہرے پر مسکراہٹ لوٹانا یا کسی کو دوبارہ چلنے کے قابل بنانا ہی تحقیق کا اصل مقصد ہونا چاہیے۔

اعزازات اور انعامات

ڈاکٹرنوید سید کو ان کے غیرمعمولی کام پر دنیا بھر سے اعلیٰ ترین انعامات اور اعزازات ملے ہیں ۔ سال 2017 میں انہیں حکومتِ پاکستان نے ’تمغہ امتیاز‘ سے نوازا اور اسی سال انہیں کینیڈا سے ’سینیٹ آف دی کینیڈا 150 میڈل‘ دیا گیا ۔ کینیڈا کی سینیٹ کی جانب سے سماجی خدمات انجام دینے والوں کو یہ اعلیٰ ترین اعزاز دیا جاتا ہے اور وہ اسے حاصل کرنے والے پہلے مسلمان سائنسداں بھی ہیں۔

اس کے علاوہ انہیں ایلفرڈ پی سلون فیلوشپ (امریکا) پارکر بی فرانسس فیلوشپ (امریکا)، کینیڈیئن ریسرچ انویسٹی گیٹر ایوارڈ، رائل کالج آف فزیشن کی فیلوشپ، اور دیگر غیرمعمولی انعام و اعزازت عطا کئے گئےہیں۔

بھارتی ’سیٹلائٹ شکن‘ تجربے سے خلائی کچرے میں اضافے کا خدشہ

ٹمپا: قائم مقام امریکی سیکریٹری دفاع پیٹرک شناہن نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سیٹلائٹ شکن ہتھیار کے ٹیسٹ کے نتیجے میں باقیات خلا میں معلق رہ کر دوسری سیٹلائٹ کے لیے خطرہ بننے کے بجائے فضا میں ہی جل جائیں گی۔

خیال رہے کہ بھارت کے اعلیٰ دفاعی سائنسدان نے دعویٰ کیا تھا کہ باقیات 45 دن میں جل کر راکھ ہوجائیں گی، اس بارے میں جب امریکی سیکریٹری دفاع سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی مخصوص مدت کی تصدیق نہیں کرسکتے۔

فلوریڈا میں صحافیوں کے ہمراہ سفر کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’دوسری اشیا کو اس سے متواتر خطرات لاحق ہیں‘ تاہم میں نے سنا ہے کہ یہ فضا میں جل کر راکھ ہوجائیں گی۔

خیال رہے کہ بھارت نے اپنے خلائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے 186 میل دور موجود اپنی ہی سیٹلائٹ کو ملک میں تیار کردہ بیلسٹک میزائل سے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

سیکیور ورلڈ فاؤنڈیشن کے مطابق 2017 میں چین نے قطبی مدار (پولر آربٹ) میں موجود سیٹلائٹ تباہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 3 ہزار ٹکڑوں پر مشتمل باقیات کا خلائی تاریخ کا سب سے بڑا ڈھیر پیدا ہوگیا تھا۔

واضح رہے کہ 500 میل اونچائی پر جانے کے بعد زیادہ تر خلائی کچرا مدار میں ہی موجود رہتا ہے۔

اس بارے میں امریکی سیکریٹری دفاع سے جب پوچھا گیا کہ کیا انہیں اس بات کا یقین ہے کہ بھارت کا نسبتاً کم اونچائی پر کیا جانے والا تجربہ چینی تجربے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے مختلف ہوگا تو انہوں نے جواب دیا کہ ’میرے خیال سے ایسا ہی ہوگا‘۔

دوسری جانب پینٹاگون کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کا شعبہ اسٹریٹجک کمانڈ بھارتی میزائل کے تجربے سے پیدا ہونے والی باقیات کے 250 ٹکڑوں کا جائزہ لے رہا ہے اور باقیات کے زمینی مدار میں داخل ہونے تک اس سے متعلق ضرورت کے تحت اطلاعات جاری کرتا رہے گا۔

اس سلسلے میں امریکی فضائیہ کے اسپیس کمانڈ کے نائب کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ تھامپسن کا کہنا تھا کہ بھارتی تجربے میں صحیح ہدف کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ باقیات سے اب تک کوئی نیا خطرہ پیدا نہیں ہوا۔

حکام کا مزید کہنا تھا کہ فی الحال کوئی ایسی معلومات نہیں ملیں جس سے بھارتی وزیراعظم کے دعوے پر شک وشبہ ہو۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی صرف امریکا، روس اور چین کے پاس تھی جس سے اب خلا میں ہتھیاروں کی لڑائی کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

اس کے علاوہ اس کے نتیجے میں خلا میں باقیات کے ڈھیر کا خطرہ بھی ہوگا جو برسوں تک خلا میں موجود رہ سکتا ہے۔

امریکی سیکریٹری دفاع کا کہنا تھا کہ بھارتی تجربے سے ایک بار پھر اس جانب اشارہ ملتا ہے کہ کس طرح خلائی مقابلہ بازی میں اضافہ ہورہا ہے۔

دنیا کا پہلا 100 میگا پکسل کیمرے سے لیس اسمارٹ فون

اگر تو آپ اسمارٹ فون کیمرے کی وجہ سے لینا پسند کرتے ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ اب دنیا کا پہلا 100 میگا پکسل سنسر سے لیس فون جلد سامنے آنے والا ہے، یا کم از کم ایک کمپنی نے ایسا عندیہ دیا ہے۔

ابھی کسی فون میں سب سے زیادہ میگا پکسل کا ریکارڈ شیاﺅمی اور ہواوےکے فونز کے پاس ہے جن میں 48 میگا پکسل مین کیمرہ استعمال ہورہا ہے۔

چین کی ہی کمپنی لیناوو نے نے اپنے نئے فونز زی سکس پرو کے لیے سو میگا پکسل کیمرا دینے کا اشارہ دیا ہے۔

ابھی تک فون تو سامنے نہیں آیا مگر لیناوو کے نائب صدر نے چینی سوشل میڈیا سائٹ پر اس ڈیوائس کا ٹیزر جس چینی ہیش ٹیگ کے ساتھ شیئر کیا، اس کا ترجمہ 100 میگا پکسل بنتا ہے۔

ویسے یہ اتنا حیرت انگیز بھی نہیں کیونکہ پراسیسر بنانے والی کمپنی کوالکوم پہلے ہی رواں برس سو میگا پکسل کیمرا فونز کی آمد کی بات کرچکی ہے۔

لیناوو نے فروری میں بارسلونا میں ہونے والی موبائل ورلڈ کانگریس کے موقع پر فائیو جی ٹیکنالوجی سے لیس ایسے فون کی بات کی تھی جس میں ہائپر ویژن کیمرا دیا جائے گا اور زی سکس پرو وہی ڈیوائس ہے۔

اس کمپنی نے اس موقع پر بتایا تھا کہ وہ اپنے نئے فون میں ہائپر ویڈیو اور سپر میکرو کیمرا موڈز دے گی۔

تاہم لیناوو وہ کمپنی جو اس سے پہلے ماضی میں بھی اپنے جلد متعارف کرائے جانے والے فونز کے فیچرز بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر بیان کرچکی ہے جیسے گزشتہ سال کے زی فائیو کے بارے میں اس کا دعویٰ تھا کہ یہ وہ فون ہوگا جس میں بیزل بالکل نہیں ہوں گے جو فون متعارف کرانے پر غلط ثابت ہوا۔

لیناوو زی سکس پرو ممکنہ طور پر اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر اور 12 جی بی ریم سے لیس ہوگا اور یہ رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران کسی وقت متعارف کرایا جائے گا۔

Google Analytics Alternative