سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

ایف آئی اے کی کارروائی، غیر ملکی کرنسی کا آن لائن کاروبار کرنے والا ملزم گرفتار

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سائبر کرائم سرکل سکھر نے کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر بٹ کوائن/کرپٹو کرنسی کا کاروبار کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا۔

ملزم کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق سکھر میں نیراج نامی نوجوان بٹ کوائن کرنسی کی خریدوفروخت میں ملوث ہے اور ملزم نے اپنے والد کے نام پر کھولے گئے اکاؤنٹ سے ماسٹر کارڈ بنوا رکھا تھا۔

مذکورہ ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ ملزم اس کارڈ کی مدد سے بٹ کوائنز کی آن لائن خرید و فروخت کرتا تھا جبکہ ملزم کا رشتے دار ساگر کمار بھی اس ممنوع کرنسی کی خرید و فروخت میں شامل ہے۔

اس حوالے سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر امجد عباسی کا کہنا تھا کہ ملزم کو اسٹیٹ بینک کی شکایت پر تفتیش کے بعد گرفتار کیا گیا جبکہ اس کے ساتھی کے حوالے سے مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔

خیال رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے 6 اپریل 2018 کو جاری سرکولر میں بٹ کوائن/کرپٹو کرنسی کو غیرقانونی/غیر تصدیق شدہ قرار دیا گیا تھا۔

اس سرکولر میں کہا گیا تھا کہ بٹ کوائن/ ون کوائن، کرپٹو کرنسی ورچوئل کرنسی میں شمار ہوتے ہیں اور یہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے درست نہیں ہیں۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسٹیٹ بینک کسی فرد کو ورچوئل/کرپٹو کرنسی میں لین دین کی اجازت نہیں دیتا، لہٰذا اس طریقے سے کی گئی کوئی بھی منتقلی غیرتصدیق شدہ ہوگی۔

فیس بک نے بچوں کی میسنجر ایپ میں خامی تسلیم کرلی

سان فرانسسکو: سماجی رابطوں کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک نے اپنی میسنجر کڈز سروس (بچوں کے لیے میسنجر کی سروس) میں اس خامی کو تسلیم کیا ہے جو بچوں کو گروپ چیٹس میں ان لوگوں کے ساتھ رابطے کی اجازت دیتی ہے جن کی ان کے والدین نے منظوری نہ دی ہو۔

فیس بک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس کی جانب سے ایسی گروپ چیٹس کو بند کردیا گیا جو ہزاروں والدین کو مطلع کرنے میں شامل تھے کہ ان کے بچے غیر ارادی طور پر اجنبیوں سے جڑ سکتے ہیں۔

فیس بک کی جانب سے ایک انکوائری کے جواب میں کہا گیا کہ ’ہمیں حال ہی میں میسنجر کڈز اکاؤنٹس صارفین کے کچھ والدین کی جانب سے تکنیکی خرابی کے بارے میں معلوم ہوا اور ہم نے قلیل تعداد میں متاثر گروپس چیٹس کی نشاندہی کی‘۔

’ہم نے متاثرہ چیٹس کو بند کردیا اور میسنجر کڈز پر والدین کو اضافی وسائل کے ساتھ آن لائن تحفظ فراہم کیا‘۔

ٹیکنالوجی نیوز ویب سائٹ دی ورج نے اس معاملے پر پہلے رپورٹ کیا تھا اور ایک خطرے کے بارے میں والدین کو آگاہ کیا تھا کہ یہ خامی بچوں کے دوستوں کو ایک گروپ بنانے کی اجازت دیتے ہیں، جس میں وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جو بچوں کے لیے منظور کی گئی فہرست میں شامل نہیں ہوتے۔

تاہم گروپ چیٹ کی سرگرمیوں کو اب بھی والدین کی جانب سے محدود کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ دسمبر 2017 میں فیس بک نے 6 سے 12 سال کے بچوں والدین کی سرپرستی میں دیگر لوگوں سے جوڑنے کے لیے ایک میسنجر ایپلی کیشن تیار کی گئی تھی، تاہم اس میں ایپس کے درمیان خریداری کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

اس وقت مقبول ترین سوشل میڈیا ویب سائٹ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس نے یہ ایپلیکیشن محفوظ ماحول کے لیے بنائی ہے کیونکہ بہت زیادہ بچے بغیر حفاظتی تدابیر کے آن لائن پلیٹ فارم استعمال کرتے تھے۔

فیس بک کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا گیا تھا کہ اکاؤنٹ بنانے کے لیے کم از کم بچےکی عمر 13 سال ہو۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ کی جانب سے یہ اقدام صارفین اور ریگولیٹرز کے اعتماد کو دوبارہ بحال کرنے کے طور پر سامنے آیا تھا۔

پہلی بار آنر کے پاپ اپ سیلفی کیمرا فون متعارف

ہواوے کی ذیلی کمپنی ’آنر‘ نے پہلی بار پاپ اپ سیلفی کیمرا کے ساتھ مڈ رینج کے 2 بہترین فونز متعارف کرادیے۔

آنر نے گزشتہ برس ریلیز کی گئی 8 ایکس سیریز کی کامیابی کے بعد 9 ایکس اور 9 ایکس پرو کو متعارف کرادیا، جنہیں مڈ رینج کے بہترین فون قرار دیا جا رہا ہے۔

آنر 9 ایکس کو 2 ماڈلز میں پیش کیا گیا ہے، دونوں ماڈلز کے اسکرین کا سائز ایک جتنا ہی 59۔6 انچ رکھا گیا ہے اور ساتھ ہی دونوں میں کرن 810 کی چپ سیٹ رکھی گئی ہے۔

آنر 9 ایکس کو 4 جی بی اور 6 جی بی ریم کے ساتھ دو ماڈلز میں پیش کیا گیا ہے اور دونوں میں 48 میگا پکسل بیک کیمرا دیا گیا ہے۔

آنر 9 ایکس کے دونوں ماڈلز کا سیلفی کیمرا 16 میگا پکسل ہے جو پاپ اپ ہے اور یہ آنر کے پہلے فون ہوں گے جو پاپ اپ سیلفی کیمرا سے لیس ہوں گے۔

آنر 9 ایکس 4 جی بی ماڈل کی قیمت پاکستانی 33 ہزار روپے تک رکھی گئی ہے جب کہ 6 جی بی ماڈل کی قیمت 37 ہزار روپے سے زائد رکھی گئی ہے۔

آنر نے پہلی بار پاپ اپ سیلفی کیمرا کے ساتھ موبائل متعارف کرائے ہیں—فوٹو: آنر
آنر نے پہلی بار پاپ اپ سیلفی کیمرا کے ساتھ موبائل متعارف کرائے ہیں—فوٹو: آنر

اسی طرح آنر 9 ایکس پرو کو بھی دو ماڈلز میں پیش کیا گیا ہے اور ان کے بھی دونوں ماڈلز کی اسکرین کا ایک جیسا ہی سائز59۔6 انچ رکھا گیا ہے۔

آنر 9 ایکس پرو میں بھی 48 میگا پکسل بیک کیمرا دیا گیا ہے، ساتھ ہی ان میں بھی آنر 9 ایکس کی طرح بیک پر 2 میگا پکسل ریئر کیمرا بھی دیا گیا ہے۔

آنر 9 ایکس پرو کے دونوں ماڈلز کا سیلفی کیمرا 16 میگا پکسل ہے اور اس فونز میں بھی پاپ اپ اسٹائل میں کیمرا دیا گیا ہے۔ آنر 9 ایکس پرو کو 8 جی بی اور 8 جی بی سے زائد کے ماڈلز میں پیش کیا گیا ہے۔

آنر 9 ایکس پرو 8 جی بی کی قیمت پاکستانی 51 ہزار روپے سے زائد جب کہ آنر 9 ایکس پرو 8 جی بی پلس کی قیمت 56 ہزار روپے تک رکھی گئی ہے۔

آنر نے ابتدائی طور پر دونوں فونز کو صرف چین میں متعارف کرایا ہے اور کمپنی نے فونز کے قبل از فروخت آرڈر کی بکنگ شروع کردی ہے۔

آنر 9 ایکس کو چین کے عام دکانوں پر رواں ماہ 30 جولائی اور آنر 9 ایکس پرو کو آئندہ ماہ اگست کے پہلے ہفتے تک پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ دونوں موبائلز کو چین میں پیش کیے جانے کے بعد انہیں سنگاپور، تھائی لینڈ اور بھارت میں پیش کیے جانے کے بعد پاکستان میں پیش کیا جائے گا۔

آنر کے دونوں ایکس سیریز کے موبائل کو ستمبر کے آخر یا نومبر کے آغاز میں پاکستان میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

رشوت کے الزامات، مائیکروسافٹ ڈھائی کروڑ ڈالر ادا کرنے پر رضامند

مائیکروسافٹ کورپوریشن نے ہنگری سمیت دیگر ممالک میں سرکاری افسران کو رشوت دینے کے مقدمات میں 2 کروڑ 53 لاکھ ڈالر ادا کرنے پر رضامندی کا اظہار کردیا۔

امریکا کے محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ مائیکروسافٹ 87 لاکھ ڈالر جرمانہ ادا کرے گا جو 3 سالہ معاہدے کے تحت ہوگا اور جس میں مائیکروسافٹ ملازمین کے غیر قانونی اقدام کی ذمہ داری کا اعتراف کرے گا۔

مائیکروسافٹ نے ہنگری، سعودی عرب، تھائی لینڈ اور ترکی میں اپنی سرگرمیوں پر اپنی غلطی کا اعتراف کیے بغیر ایک کروڑ 66 لاکھ ڈالر امریکی سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کی جانب سے لگائے گئے سول چارجز پر ایک کروڑ ڈالر ادا کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا۔

ملازمین کو کی گئی ای میل میں مائیکروسافٹ کے صدر بریڈ سمتھ کا کہنا تھا کہ ملازمین کا غیر قانونی عمل ناقابل برداشت ہے، ہنگری میں ملوث ملازمین اب کمپنی کے ساتھ نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘کاروباری سرگرمیوں میں ناقابل قبول عمل پر سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں’۔

واضح رہے کہ اس سے قبل عدالت میں استغاثہ کا کہنا تھا کہ ‘ہنگری کی سرکاری ایجنسیوں کو سافٹ ویئر کا لائسنس فروخت کرنے کی اسکیم سے مائیکروسافٹ کا 2013 سے 2015 کے درمیان ایک کروڑ 46 لاکھ ڈالر کا فائدہ ہوا’۔

مائیکروسافٹ ہنگری کے ایگزیکٹوز اور ملازمین نے مائیکروسافٹ سے کہا کہ ان ٹرانزیکشنز کے لیے ڈسکاؤنٹ درکار ہے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ ‘ڈسکاؤنٹ سے ہونے والی بچت صارف کو جانی چاہیے تھی تاہم یہ درمیان میں ڈیلرز نے حاصل کی اور سرکاری حکام کو اس سے رشوت بھی دی۔

کیا گوگل ٹچ ٹیکنالوجی کو ‘الوداع’ کہنے والا ہے؟

کیا آپ کسی ایسے اسمارٹ فون کا تصور کرسکتے ہیں جس میں ٹچ اسکرین کو چھوئٹ بغیر کچھ فاصلے سے ہاتھ کو حرکت دیکر ڈیوائس کو استعمال کیا جاسکے؟

ایسا لگتا ہے کہ گوگل اپنے نئے فلیگ شپ فون پکسل 4 میں اسکرین سے کچھ دوری پر ہاتھوں کی مدد سے فیچرز کے استعمال کو زیادہ بہتر بنانے والی ہے۔

ٹوئٹر صارف آئس یونیورس نے پکسل 4 اور پکسل 4 ایکس ایل کی تصاویر لیک کی ہیں جن میں اوپر دائیں جانب ایک سوراخ نظر آرہا ہے جو کیمرے یا کسی ویژول سنسر کا نہیں لگتا۔

ان تصاویر سے لگتا ہے کہ گوگل اپنے پراجیکٹ سولی کو آخرکار اسمارٹ فونز میں کسی شکل میں متعارف کراسکتا ہے۔

پراجیکٹ سولی میں یہ کمپنی ایسی ٹیکنالوجی تیار کررہی ہے جو مستقبل قریب میں اسمارٹ ڈیوائسز کو دور سے ہاتھ کی حرکت سے استعمال کرنے میں مدد دے گی۔

یہ ٹیکنالوجی انٹرایکٹو کنٹرول سسٹم ہوگا جس میں یوزر راڈار بیسڈ موشن سنسرز ہاتھوں کی حرکات کو شناخت کریں گے۔

تصاویر میں ڈوئل سیلفی کیمرا اس بار دونوں پکسل ماڈلز میں دینے کا اشارہ موجود ہے جبکہ ایک اسپیکر اور ڈیپتھ سنسر کا سوراخ ہے۔

ابھی واضح طور پر تو کہنا مشکل ہے کہ ہاتھوں کی حرکت سے فیچرز استعمال کرنے کی ٹیکنالوجی کس حد تک بہتر ہوسکتی ہے، تاہم یہ آغاز ضرور ہوسکتا ہے۔

اس سے قبل سامنے آنے والی لکس کے مطابق پکسل 4 ایکس ایل میں 6.25 انچ ڈسپلے دیا جائے گا اور چونکہ اس میں بیزل کافی زیادہ ہیں تو یہ کافی بڑا فون محسوس ہوگا۔

پہلی بار اس سیریز میں بیک پر 2 یا اس سے زائد کیمرے دیئے جارہے ہیں، اس سے قبل گزشتہ سال پکسل تھری ایکس ایل کے فرنٹ پر تو 2 کیمرے تھے مگر بیک پر ایک ہی کیمرا دیا گیا تھا۔

کچھ عرصے پہلے لیک تصاویر سے تو عندیہ ملتا ہے کہ پکسل 4 ایکس ایل کے بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ ہوگا جبکہ فنگرپرنٹ سنسر ڈسپلے کے اندر منتقل کردیا جائے گا۔

گوگل کی جانب سے پکسل 4 اور پکسل 4 ایکس ایل رواں سال اکتوبر میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

‘ہواوے کو بند کرنا امریکا کے پیچھے رہنے کا آغاز ہے’

ہواوے پر امریکی پابندیوں میں آئندہ چند ہفتوں کے دوران کمی آنے کا امکان ہے تاہم کمپنی کے بانی کا کہنا ہے کہ حالات نے ہمیں اس قابل بنادیا ہے کہ ہمیں اب اپنی مصنوعات کے لیے امریکا پر انحصار کی ضرورت نہیں رہے گی۔

یاہو فنانس سے انٹرویو میں ہواوے کے بانی رین زینگ فائی نے امریکی حکومت کی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے کمپنی کے منصوبوں کے ساتھ دیگر چیزوں پر بات کی۔

انہوں نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے جب بلیک لسٹ کیا گیا تو ہواوے اس کے لیے مکمل تیار نہیں تھی اور پابندی کے بعد پہلے 2 ہفتوں میں اسمارٹ فونز کی فروخت میں 40 فیصد کمی آئی، جس کی وجہ آپریٹنگ سسٹم کے حوالے سے خدشات تھے۔

تاہم ان کہنا تھا ‘اب کمپنی اپنی اہم پراڈکٹس کے لیے امریکی انحصار ختم کرنے کے قابل ہوچکی ہے’۔

ان کے بقول ہواوے کو بلیک لسٹ کرنا امریکا کی جانب سے کمپنی کو جدید ٹیکنالوجی سے دور رکھنے کی کوشش تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کمپنی امریکا کے لیے سیکیورٹی خطرہ نہیں ‘ہمارا امریکا میں کوئی نیٹ ور نہیں اور نہ ہی ہم اپنی 5 جی مصنوعات وہاں فروخت کرنے کی خواہ رکھتے ہیں، ٹرمپ کے پاس ہمارے خلاف کچھ نہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ہواوے پر پابندی سے امریکا کو زیادہ نقصان ہوگا خصوصاً فائیو جی کنکشنز کے حوالے سے ‘اگر ان کے پاس سپر کمپیوٹر اور سپر لارچ کیپیسٹی کنکشنز ہیں، تو بھی امریکا کو سپر فاسٹ کنکشنز نہ ہونے پر نقصان ہوگا’۔

ان کا کہنا تھا ‘ہواوے کو بند کرنا امریکا کے پیچھے رہنے کا آغاز ہے’۔

انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکی قانونی نظام ان مسائل کا حل نکال لے گا۔

اس سے کچھ عرصہ قبل ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں کمپنی کو 30 ارب ڈالرز کا نقصان ہوسکتا ہے، مگر ہواوے آئندہ چند برسوں میں پھر ابھرے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ہواوے کو رواں سال مئی میں ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بلیک لسٹ کیا تھا جس کے لیے کمپنی کے چینی حکومت سے مبینہ روابط کو بنیاد بنایا گیا تھا۔

واٹس ایپ کا قوانین کی خلاف ورزی پر پابندی لگانے کا فیصلہ

واٹس ایپ دنیا کی مقبول ترین میسجنگ اپلیکشن ہے جس کے ڈیڑھ ارب سے زائد صارفین روزانہ 65 ارب سے زائد پیغامات ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں۔

درحقیقت واٹس ایپ اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر میں لوگوں کی ضرورت بن چکی ہے کیونکہ اس اپلیکشن نے روایتی ایس ایم ایس کی جگہ لے لی ہے جبکہ اس پر آڈیو یا ویڈیو کال کرنے پر بھی کوئی کرچہ نہیں ہوتا۔

مگر اس کے ساتھ جعلی خبروں یا افواہوں کی اس کے ذریعے پھیلاﺅ جیسے مسائل بھی سامنے آئے ہیں جبکہ کچھ صارفین اسے مارکیٹنگ کا ذریعہ بنا کر دیگر افراد کو پریشان کرتے رہتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ واٹس ایپ نے اب ایسے صارفین پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے جو اس ایپ کے اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کریں گے۔

ایسے صارفین کو عارضی پابندی کا سامنا ہوگا جس کا نوٹیفکیشن بھی انہیں کمپنی کی جانب سے بھیجا جائے گا۔

کن صارفین کو پابندی کا سامنا ہوسکتا ہے؟

واٹس ایپ کی جانب سے اپلیکشن کی تھرڈ پارٹی ایپس جیسے واٹس ایپ پلس اور جی بی واٹس ایپ استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے اور ان کو استعمال کرنے والے صارفین کو عارضی پابندی کا سامنا ہوگا۔

ایسے صارفین کو یہ میسجز بھیجیں جائیں گے کہ وہ آفیشل واٹس ایپ پر واپس سوئچ کریں ورنہ مستقل پابندی بھی لگائی جاسکتی ہے۔

اس کے علاوہ ایسے فرد کو پابندی کا سامنا ہوسکتا ہے جو ایسے صارفین کو بہت زیادہ میسجز بھیجے جو اس کی کانٹیکٹ لسٹ میں شامل نہیں۔

اسی طرح کوئی ایسا صارف جسے بہت کم وقت میں بہت زیادہ افراد نے بلاک کیا ہو، اس پر بھی پابندی لگائی جائے گی۔

متعدد گروپس بناکر ان میں ایسے افراد کو ایڈ کرلینا جو کانٹیکٹ لسٹ میں شامل نہ ہو، اس پر بھی پابندی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اسرائیلی کمپنی کا سوشل میڈیا سے کسی کی بھی معلومات حاصل کرنے کا دعویٰ

یروشلم: ماضی میں واٹس ایپ ہیک کرنے کے الزام میں خبروں کی زینت بننے والی ایک اسرائیلی خفیہ کمپنی نے اپنے صارفین کو آگاہ کیا ہے کہ وہ دنیا کی بڑی سماجی روابط کی ویب سائٹس سے صارفین کا ڈیٹا جمع کرسکتی ہے۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں لکھا گیا کہ این ایس او گروپ نے اپنے خریداروں کو بتایا ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی خفیہ طریقے سے ایپل، گوگل، فیس بک، ایمازون اور مائیکروسافٹ کے سرورز سے کسی بھی شخص کا ڈیٹا برآمد کرسکتی ہیں۔

تاہم اس حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے تحریری جوابات دیتے ہوئے این ایس او جے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کردیا کرتے ہوئے کہا کہ ’این ایس او کی سروسز اور ٹیکنالوجی کے بارے میں بنیادی غلط فہمی پائی جاتی ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’این ایس او کی مصنوعات آج کے شائع شدہ آرٹیکل میں دیے گئے انفرا اسٹرکچر، سروسز کسی قسم کی کلیکشن کرنے کی صلاحیت اور کلاؤڈ ایپلکیشن تک رسائی فراہم نہیں کرتیں‘۔

مئی میں واٹس ایپ نے کہا تھا کہ اس نے ایپلیکشن میں موجود ایک سیکیورٹی ہول پلگ کرنے کے لیے ایک اپڈیٹ جاری کررہی ہے جس سے جدید ترین اسپائی ویئر داخل کیا جاسکتا تھا جسے ممکنہ طور پر صحافیوں، رضاکاروں اور دیگر کے خلاف استعمال کیا جاسکتا تھا۔

کمپنی کی جانب سے مشتبہ ادارے کا نام نہیں دیا گیا تھا تاہم یہ ہیک منظر عام پر آنے کے وقت واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار جوزف ہال جو سینـٹر فار ڈیموکریسی اینڈ ٹیکنالوجی کے چیف ٹیکنالوجسٹ بھی ہیں، نے کہا تھا کہ اس کا تعلق این ایس او کے پیگاس سافٹ ویئر سے ہے۔

یہ سافٹ ویئر عموماً قانون نافذ کرنے والے اور خفیہ اداروں کو فروخت کیے جاتے ہیں۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں پروڈکٹ کی تفصیلات اور دستاویز کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پروگرام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ وہ فون سے بڑھ کر کلاؤڈ میں محفوظ معلومات حاصل کر لے‘۔

مثلاً جس کی معلومات حاصل کی جارہی ہے اس کی موجودگی کی مکمل تاریخ، ڈیلیٹ کردہ پیغامات اور تصاویر وغیرہ‘۔ این ایس او کا کہنا تھا کہ وہ پیگاسز سسٹم آپریٹ نہیں کرتی صرف حکومتی صارفین کو لائسنس جاری کرتی ہے ’جس کا واحد مقصد سنگین جرائم یا دہشت گردی کو روکنا یا اس کی تفتیش کرنا ہے‘۔

یہ ادارہ 2016 میں اس وقت خبروں کی زینت بنا تھا جب ریسرچرز نے اس پر متحدہ عرب امارات کے ایک سماجی رضاکار کی جاسوسی میں معاونت کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

این ایس او اسرائیل کے دارلحکومت تل ابیب کے نزدیک واقع ساحلی اور جدید ٹیکنالوجی کے مرکز شہر ہرزیلیا میں ہے۔

Google Analytics Alternative