سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

آئی ایم ایف کا مذاکرات کیلئے اپریل کے آخر میں پاکستان کے دورے کا اعلان

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ پاکستانی بیل آؤٹ پیکج کو حتمی شکل دینے کے لیے آئی ایم ایف کا مشن اپریل کے آخر میں اسلام آباد کا دورہ کرے گا۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے مجوزہ مذاکرات پر اہم بات چیت میں مصروف ہونے کی وجہ سے بیل آؤٹ پیکج کو حتمی شکل دینے کے لیے وفد کے اسلام آباد آنے میں تاخیر کی رپورٹس کے بعد آئی ایم ایف کی جانب سے پریس ریلیز کے ذریعے مذکورہ اعلان کیا گیا۔

آئی ایم ایف کے بیان میں کہا گیا کہ ’ پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے عملے کے درمیان واشنگٹن میں موسم بہار میں کیے گئے مذاکرات تعمیری رہے‘۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ حکام کی درخواست پر مذاکرات جاری رکھنے کے لیے آئی ایم ایف کا مشن اپریل کے اواخر میں پاکستان کا دورہ کرے گا‘۔

رواں ماہ کے اوائل میں وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ تھا کہ عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے گروپ کی موسم بہار کی ملاقات کے بعد مشن جلد اسلام آباد کا دورہ کرے گا۔

اس سے قبل ڈان کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وزیر خزانہ 12 اپریل کو نیویارک گئے تھے جبکہ وزارت خزانہ کے سینئر عہدیداران اور دیگر حکومتی اراکان پر مشتمل ٹیم مزید مذاکرات کے لیے واشنگٹن ہی میں قیام کیا تھا۔

11 اپریل کو واشنگٹن میں نیوز بریفنگ میں اسد عمر نے کہا تھا کہ دونوں فریق بیل آؤٹ پیکج پر ’کم و بیش معاہدے پر پہنچ گئے‘ ہیں اور ’ہمیں امید ہے کہ ایک یا 2 روز میں مکمل معاہدے پر پہنچ جائیں گے‘۔

پاکستان-آئی ایم ایف مذاکرات سے جڑے ایک اور عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد کو اب بھی جون سے پہلے معاہدہ مکمل ہونے کی امید ہے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ بیل آؤٹ پیکج بجٹ کے حوالے سے مدد دے گا‘۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف حکام نے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں، ساتھ ہی پاکستان اور چین دونوں سے تحریری ضمانت مانگی ہے کہ آئی ایم ایف کی امداد چین کے قرض کی ادائیگی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔

مذکورہ ذرائع نے مزید بتایا تھا کہ وزیر خزانہ اسد عمر کا سی پیک پر آئی ایم ایف کے تحفظات سے متعلق بات چیت کے لیے 25 اپریل کو دورہ چین کا امکان ہے اور بین الاقوامی مانیٹری فنڈ بیل آؤٹ پیکج کو حتمی شکل دینے سے قبل وزیر خزانہ کو سننے کا انتظار کرے گا۔

علاوہ ازیں دونوں فریق مجوزہ آئی ایم ایف پروگرام کی تفصیل پر ’فائن ٹیوننگ‘ میں مصروف ہیں، پاکستان چاہتا ہے کہ آئی ایم ایف پیکج سے جڑی کچھ شرائط کا جائزہ لے جبکہ آئی ایم ایف کا اصرار ہے کہ یہ شرائط پروگرام کی کامیاب تکمیل کے لیے ضروری ہیں۔

پاکستان نقطہ اٹھاتا ہے کہ اگر یہ حتمی صورت اختیار کرلیتے ہے تو یہ آئی ایم اے ساتھ اس کا 14 واں پیکج ہوگا، تاہم اس کا اعتراض یہ ہے کہ گزشتہ پروگرامز سے منسلک شرائط پر بھی مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوا کیونکہ یہ بہت زیادہ محدود تھیں۔

اسلام آباد آئی ایم ایف سے چاہتا ہے کہ پروگرام کو شرائط سے منسلک ہونے کے بجائے طویل مدتی تعمیری اصلاحات پر توجہ رکھنی چاہیے تاکہ اس کی معیشت کی بحالی میں مدد ملے کیونکہ شرائط پر عملدرآمد مشکل ہوگا۔

نئے پیکج پر مذاکرات کے دوران پاکستانی وفد نے آئی ایف ایم کو کہا کہ وہ ’ اس پر وعدہ نہیں کریں گے جس پر وہ عمل درآمد نہیں کرسکتے‘۔

اس بارے میں جب پوچھا گیا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے کتنی رقم ملنے کا امکان ہے تو ذرائع کا کہنا تھا کہ ’رقم اور پروگرام کا دورانیہ بھی پیکج کی نوعیت پر منحصر ہے، اگر شرائط بہت زیادہ محدود ہوئی تو پاکستان بڑے پیکج کی توقع کرسکتا ہے‘۔

آئی ایم ایف کی جانب سے تجویز کردہ کچھ شرائط میں اسٹیٹ بینک کو خودمختار بنانا، مارکیٹ پر مبنی ایکسچیج ریٹ، ٹیکس ہدف کو 5 ہزار ارب روپے تک بڑھانا، انکم ٹیکس رعایت کو ختم کرنا، تنخواہوں پر مزید ٹیکس لگانا، قابل ٹیکس آمدنی کی رقم کو 12 لاکھ سالانہ سے کم کرکے 4 لاکھ سالانہ کرنا، بجلی اور گیس نقصانات کو کم کرنا، نیپرا اور اوگرا کی پالیسیز میں حکومتی مداخلت نہ ہونا اور بجلی اور گیس ریونیو کے 140 ارب روپے خسارے کو صارفین سے وصول کرنا شامل ہے۔

فیس بک نیوزفیڈ اور اسٹوریز کو اکٹھا کرنے کیلئے تیار

گزشتہ ہفتے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ فیس بک میسنجر کو ایک بار پھر اپنی مرکزی ایپ کا حصہ بنانے جارہی ہے اور اب اس کمپنی نے نیوز فیڈ اور اسٹوریز کو اکٹھا کرنے کا ٹیسٹ شروع کردیا ہے۔

جی ہاں ایسا لگتا ہے کہ فیس بک نیوز فیڈ اور اسٹوریز کو ایک سوائپ ایبل ہائیبرڈ بنانے جارہی ہے۔

فیس بک سمیت مختلف سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر آنے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والی سافٹ وئیر انجنیئر جین مین چون وونگ نے ایک ٹوئیٹ میں فیس بک کی اس نئی تبدیلی کا اسکرین شاٹ پوسٹ کیا۔

اس ٹوئیٹ میں انہوں نے بتایا کہ فیس بک نئے فارمیٹ کی آزمائش کررہی ہے اور اینیمیٹڈ تصویر میں وہ نیوز فیڈ کو اسٹوریز کی طرح استعمال کررہی ہیں۔

اگر فیس بک اس تبدیلی پر عملدرآمد کرتی ہے تو صارفین اوپر سے نیچے اسکرول کی بجائے دائیں یا بائیں سوائپ یا کلک کرکے نیوز فیڈ کا مواد دیکھ سکیں گے۔

اس تصویر میں یہ بھی نظر آتا ہے کہ نیوز فیڈ اور اسٹوریز کا مواد پہلو بہ پہلو رن کریں گے اور اس طرح یہ دونوں ایک دوسرے میں مدغم ہونے کے قریب ہوجائیں گے اور ہاں اشتہارات بھی اس مکسچر میں اپنی جگہ ڈھونڈ ہی لیں گے۔

فیس بک میں یہ بہت بڑی تبدیلی ہے مگر زیادہ حیران کن نہیں کیونکہ فیس بک اسٹوریز پر بہت زیادہ توجہ دے رہی ہے۔

گزشتہ سال فیس بک کے چیف پراڈکٹ آفیسر کرس کوس نے کہا تھا کہ اسٹوریز فارمیٹ بہت جلد لوگوں کی جانب سے مواد شیئر کرنے کے معاملے میں نیوزفیڈ کو پیچھے چھوڑ دے گا۔

اور یہ نئی تبدیلی اس عمل کو مزید تیز کردے گا اور امکان ہے کہ اسے بہت جلد صارفین کے لیے بھی متعارف کرادیا جائے گا۔

چین نے پانی اور زمین پر چلنے والی دنیا کی پہلی ڈرون کشتی تیار کرلی

بیجنگ: چین نے ڈرون ٹیکنالوجی سے لیس دنیا کی پہلی بحری اور بری محاذ پر کار آمد کشتی تیار کرلی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق چین نے پہلی ڈرون کشتی کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے، یہ کشتی پانی اور زمین میں یکساں طور پر سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے سٹیلائٹ سے بھی چلایا جا سکتا ہے۔

چین کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ڈرون کشتی بری اور بحری محاذ پر یکساں طور پر جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ حیرت انگیز صلاحیتوں سے مالامال ہونے کی وجہ سے اس ڈرون کشتی کو Marine Lizard یعنی ’سمندری چھپکلی‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس کشتی کی سب سے خاص بات زمین پر پہنچتے ہی اپنے اندر موجود جنگی ٹینک کی طرح کے لوہے کے پٹے میں بند پہیوں Tracks کو نکالنا اور ان پر سفر جاری رکھنا ہے، ان ٹریکس کے ذریعے ڈرون کشتی 20 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر طے کرسکتی ہے جب کہ پانی میں تیرتے ہوئے یہ ٹریکس کشتی کے اندر رہتے ہیں۔

تین خانوں والی ڈرون کشتی  کی لمبائی 12 میٹر ہے جسے ہائیڈرو جیٹ کی مدد سے چلایا جائے گا اور اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے وزن کے ساتھ اس کی رفتار 50 نوٹس تک ہوسکتی ہے جب کہ اس کی رینج 1200 کلو میٹر تک ہے۔

واضح رہے کہ چین نے اپنے دفاعی نظام کو مضبوط اور طاقت ور بنانے کے لیے جدید ہتھیاروں کی تیاری میں تیزی لایا ہے، سمندری حدود اور ساحلوں تنازعوں میں گھرے چین کی بحری فوج کے لیے ’ڈرون کشتی‘ نہایت کارگر ثابت ہوگی۔

اسرائیل کا ناکامی کے باوجود چاند پر قدم رکھنے کا نیا منصوبہ

اسرائیل کے ناکام خلائی مشن کی ذمہ دار فضائی کمپنی نے سرکاری اور نجی فنڈز کی مدد سے چاند پر قدم رکھنے کے لیے دوبارہ منصوبہ بندی کا اعلان کردیا۔

خیال رہے کہ سرکاری کمپنی اسرائیلی ایرواسپین انڈسٹریز (آئی اے آئی) اور غیر منافع بخش کمپنی اسپیس آئی ایل کی جانب سے تیارہ کردہ روبوٹ کرافٹ بریشیٹ دو روز قبل اپنے مشن کے دوران تباہ ہوگیا تھا جس کے بعد اسرائیل کا چاند پر قدم رکھنے والا تیسرا ملک بننے کا خواب دھرا رہ گیا تھا۔

خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسپیس آئی ایل کے صدر مورس کیہن کا کہنا تھا کہ ‘چھٹی کے دنوں میں میرے پاس سوچنے کا وقت تھا جس دوران مجھے حوصلے کا موقع ملا اور عوام کی جانب سے تعاون بھی حاصل رہا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں آج نئے منصوبے بریشیٹ ٹو کا اعلان کررہا ہوں’۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مشن میں تقریباً 100 ملین ڈالر کا خرچہ آیا تھا جس میں زیادہ تر حصہ مورس کیہن جیسے کئی نجی افراد نے ڈالا تھا۔

مورس کا کہنا تھا کہ اس مشن میں اسرائیلی حکومت کا حصہ صرف 30 لاکھ ڈالر تھا اور اب ڈونرز دوبارہ نئے منصوبے کے لیے بھی فنڈنگ کریں گے لیکن سرکاری پیسہ اسرائیلی عوام کے منصوبے کے لیے ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم سرکاری پیسے پر انحصار نہیں کریں گے’۔

مورس کیہن نے کہا کہ بریشیٹ ٹو کی ٹاسک فورس جلد کام شروع کرے گی اور ‘ہم ایسا کام شروع کریں گے جس کو مکمل کریں اور چاند پر ہم اپنا جھنڈا لہرا سکیں’۔

اسرائیلی سرکاری سرکاری کمپنی آئی اے آئی نے ایک بیان میں کہا کہ مورس کیہن کی زیر سرپرستی اسپیس آئی ایل کے ساتھ مزید مشن کا حصہ بننا خوشی کی بات ہوگی۔

واضح رہے کہ اب تک صرف تین ممالک امریکا، روس اور چین ایسے ہیں جو چاند تک پہنچنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔

اسرائیل کی پہلی کوشش کی ناکامی کی تصدیق اسرائیلی ایرواسپیس انڈسٹریز کے ایک عہدیدار نے کی تھی اور کہا تھا کہ ’ہمارا خلائی جہاز یقیناً چاند کی سطح پر کریش ہوچکا ہے‘، ان کا کہنا تھا کہ طے شدہ لینڈنگ کے مقام پر خلائی جہاز کا ملبہ موجود ہے۔

خلائی جہاز کا انجن لینڈنگ سے قبل عین وقت پر منقطع ہوا اور جب تک توانائی بحال ہوئی خلائی جہاز بحفاظت اترنےکے لیے انتہائی تیزی سے حرکت کررہا تھا۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ پہلے جمود کی پیمائش کرنے والا یونٹ خراب ہوا جس کے باعث خرابیوں کا سلسلہ چل نکلا جس کے بارے میں ہم ابھی یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔

ہواوے پی 30 اور پی 30 پرو کے ہزاروں فونز 10 سیکنڈ میں فروخت

ہواوے نے اپنے نئے فلیگ شپ فونز پی 30 اور پی 30 پرو چین میں پری آرڈر میں فروخت کے لیے پیش کیے تو محض 10 سیکنڈ کے اندر 30 سے 50 ہزار ڈیوائسز فروخت ہوگئیں۔

جی ایس ایم ایرینا کے مطابق ہواوے نے چین میں اپنے فلیگ شپ فونز پری آرڈر میں متعارف کرائے تو پہلی فلیش سیل محض 10 سیکنڈ میں ختم ہوگئی۔

ای کامرس پلیٹ فارم پر دستیاب ہوتے ہی ان دونوں ڈیوائسز پر کمپنی نے 200 ملین یوآن سے زائد دس سیکنڈ کے اندر کمالیے۔

کمپنی کی جانب سے یہ تو نہیں بتایا گیا کہ کونسا فون زیادہ فروخت ہوا مگر آمدنی سے اندازہ ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر 30 سے 50 ہزار یونٹ فروخت ہوئے جس کا انحصار ماڈل اور اسٹوریج پر ہے۔

ہیواوے کو امریکی حکومت کی جانب سے مختلف پابندیوں کے باعث عالمی سطح پر کافی دھچکا لگا مگر پھر بھی یہ کمپنی آئندہ چند برسوں میں سام سنگ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے بڑی اسمارٹ فون تیار کرنے والی کمپنی بننے کا عزم رکھتی ہے۔

ہواوے پی 30 میں 6.1 انچ او ایل ای ڈی ڈسپلے دیا گیا ہے جبکہ پی 30 پرو میں 6.47 او ایل ای ڈی ڈسپلے دیا گیا ہے۔

پی 30 پرو فوٹوگرافی کے شوق رکھنے والوں کے لیے زبردست ثابت ہونے والا ہے جس کے بیک پر 4 کیمرے دیئے گئے ہیں۔

اس کا پرائمری کیمرا 40 میگا پکسل سپر سنسنگ سنسر سے لیس ہے جبکہ 20 میگا پکسل الٹرا وائیڈ اینگل کیمرا اور 8 میگا پکسل پیری اسکوپ لینس دیا گیا ہے جو کہ 5 ایکس آپٹیکل زوم، 10 ایکس ہائیبرڈ زوم اور 50 ایکس ڈیجیٹل زوم کی سہولت فراہم کرتا ہے اور چوتھا ٹائم آف فلائٹ کیمرا ہے جو کہ پس منظر کو دھندلا کرنے میں مدد دیتا ہے۔

کمپنی کے مطابق پی 30 پرو میں کم روشنی میں فوٹوگرافی کی صلاحیت کو پہلے سے بہتر بنایا گیا ہے اور سپر ہائی آئی ایس او گہری تاریکی میں بھی تصاویر لینے میں مدد دیتا ہے، جبکہ کم روشنی میں ویڈیو ریکارڈنگ کو بھی بہتر کیا گیا ہے۔

یہ دونوں فون واٹر اور ڈسٹ ریزیزٹنس ہے جبکہ پاکستان میں پی 30 کی قیمت ایک لاکھ 24 ہزار 999 روپے جبکہ پی 30 پرو ایک لاکھ 74 ہزار 999 روپے میں فروخت کے لیے دستیاب ہوگا، تاہم ابھی یہ پری آرڈر میں ہی خریدنا ممکن ہے۔

فیس بک میں بڑی تبدیلی متعارف ہونے کے لیے تیار

کچھ سال پہلے فیس بک نے اپنے اسمارٹ فون صارفین میں دوستوں سے چیٹ کے لیے میسنجر ایپ کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی تھی اور موبائل ایپ پر سے پیغامات بھیجنے کا آپشن ہی ختم کرکے میسجنگ ایپ کو لازمی بنادیا۔

مگر اب لگتا ہے کہ فیس بک اپنی اس حکمت عملی پر یوٹرن لینے والی ہے اور ایک بار اپنی مرکزی ایپ میں مسیجنگ کو واپس لانے والی ہے۔

ایپ محقق اور ٹوئٹر صارف جین مین چون وونگ نے فیس بک کی اس نئی تبدیلی کا اسکرین شاٹ ٹوئیٹ کیا جس پر ابھی کیا جارہا ہے۔

اس تصویر سے فیس بک ایپ کے اوپری دائیں جانب میسجنگ کے لیے ایک نیا ٹیب نظر آرہا ہے۔

اس وقت فیس بک ایپ اور موبائل ویب سائٹ پر یہ چیٹ بٹن میسنجر ایپ کے شارٹ کٹ کا کام کرتا ہے اور اگر میسنجر ڈیوائس میں انسٹال نہ ہو تو یہ شارٹ کٹ ایپ اسٹور یا گوگل پلے اسٹور کی جانب بھی لے جاتا ہے، تاہم موبائل ویب پر ریٹرن جاکر چیٹ کرنا ممکن ہے۔

فیس بک نے 2011 میں میسنجر کو خودمختار ایپ کے طور پر متعارف کرایا تھا اور 2014 میں فیس بک ایپ میں چیٹ کا آپشن ختم کرکے میسنجر کو لازمی بنادیا گیا تھا۔

جین مین چون وونگ نے ایک اور ٹوئیٹ میں بتایا کہ فیس بک میں چیٹ میں فیچرز کم ہوں گے یعنی بس میسج بھیج یا موصول ہوسکیں گے جبکہ کالز، فوٹوز یا ویڈیو کال کے لیے میسنجر ایپ کی ہی مدد لینا ہوگی۔

اب 5 سال بعد فیس بک میسنجر، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کو اکھٹا کرنے پر کام کررہی ہے، تو مرکزی ایپ پر چیٹ کی سہولت بھی واپس آرہی ہے۔

یہ واضح نہیں کہ فیس بک میں یہ تبدیلی کب تک تمام صارفین کے لیے دستیاب ہوگی مگر یہ کافی بڑا ریلیف ضرور ہوگا، خاص طور پر ان صارفین کے لیے جو میسنجر کو کچھ زیادہ پسند نہیں کرتے۔

خلا پر انسانی سفر کا خواب اور انسانی خلائی پرواز کا عالمی دن

تاریخ گواہ ہے کہ ہر باصلاحیت انسان کو ہر دور میں اپنا آپ منوانے کے لیے سخت مشکلات برداشت کرنا پڑیں، جن نامور شخصیات کی وفات کے بعد دنیا ان کی صلاحیتوں کا معترف اور دیوانی رہی انھیں اپنی جدوجہد کے ابتدائی ادوار میں شدید تنقید اور مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔

مخالفتوں اور نفرتوں کے طوفان میں بھی یہ عظیم لوگ میدان چھوڑ کر نہیں بھاگے بلکہ تنقید اور رکاوٹوں نے ان کے عزائم مزید بلند کردیے کیونکہ رکاوٹیں وہیں کھڑی کی جاتی ہیں جہاں کسی کے کہیں پہنچ جانے کا ڈر ہو۔

ایسی ہی ایک عظیم ہستی رابرٹ ایچ گوڈارڈ بھی تھے، پاکستان میں شاید گنے چنے افراد ہی گوڈارڈ اور ان کے کارناموں کے بارے میں جانتے ہو۔ 20 ویں صدی کے اس عظیم سائنسدان اور مؤجد جسے دنیا “فادر آف ماڈرن راکٹری ” کے نام سے جانتی ہے، آج کی سائنس کے اہم ستارے ہیں۔

آج دنیا مریخ کے بعد نظام شمسی کے دیگر سیاروں پر کمندیں ڈالنے کا سوچ رہی ہے تو اس کا صحرا بھی گوڈارڈ کو جاتا ہے، کیوں کہ ابتدا میں گوڈارڈ ہی تھے جنھوں نے ایک ایسے راکٹ کا تصور پیش کیا تھا جو چاند تک پہنچ سکے اور اس حوالے سے کئی کامیاب تجربات بھی کیے مگر بدقسمتی سے ان کی زندگی میں ان کے کام کو اہمیت نہیں دی گئی اور کئی مواقع پر باقاعدہ انھیں تضہیک کا نشانہ بھی بنایا گیا لیکن عزم کا پکا یہ شخص مرتے دم تک جدید راکٹ کے ڈیزائن پر کام کرتا رہا۔

رابرٹ ایچ گوڈارڈ 5 اکتوبر 1882 کو امریکی ریاست میسا چوسسٹس کے چھوٹے سے شہر وورکیسٹر میں پیدا ہوئے، وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے، انھیں بچپن سے والدین کی بھرپور توجہ اور محبت میسر آئی، ان کے والد ڈین فورڈ گوڈارڈ نے فلکیات میں ان کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے انھیں دوربین خرید کر دی اور انھیں اکثر ایسے دور دراز مقامات پر لیکر جاتے تھے جہاں وہ رات گئے تک اپنی دوربین سے چاند ستاروں کا مشاہدہ کیا کرتے۔

رابرٹ ایچ گوڈارڈ کو بچپن سے سائنسی تجربات کرنے کا موقع ملا—فائل فوٹو: ماس موومنٹس
رابرٹ ایچ گوڈارڈ کو بچپن سے سائنسی تجربات کرنے کا موقع ملا—فائل فوٹو: ماس موومنٹس

عمر کے ساتھ ان کی فلکیات و طبیعات میں دلچسپی بھی بڑھتی چلی گئی، 1898 میں جب وہ 16 برس کے تھے تو انھیں ایچ جے ویلز کا مشہور سائنس فکشن ناول “وار آف دی ورلڈز” پڑھنے کا اتفاق ہوا، خلا کے سفر اور مافوق الفطرت کرداروں پر مشتمل اس ناول نے گوڈارڈ میں یہ سوچ بیدار کی کہ کیا کبھی انسان واقعتا خلا میں سفر کر سکے گا؟

انہی سوچوں میں الجھے ایک دن وہ اپنے گھر کے ایک اونچے درخت پر چڑھ کر مردہ شاخوں کو کاٹ رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر آسمان پر پڑی اور وہ شاید آگہی کا لمحہ تھا، درخت سے اتر کر گوڈارڈ اپنے کمرے میں گئے اور اپنی ڈائری میں لکھا کہ ” آج پہلی دفعہ مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ میں دوسرے لوگوں سے کچھ مختلف ہوں، مجھے کچھ غیر معمولی کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔”

اس دن کے بعد انھوں نے اپنی زندگی ایسے راکٹ بنانے کے لیے وقف کردی جن کے ذریعے خلا میں سفر کیا جا سکے، میسا چوسٹس سے گریجوئیشن کے بعد انھوں نےکلارک یونیورسٹی سے فزکس میں پی ایچ ڈی کیا اور اسی یونیورسٹی میں درس و تدریس کا آغاز کیا۔

اگرچہ کلارک یونیورسٹی کی لیبارٹری میں زیادہ سہولیات دستیاب نہیں تھیں مگر عزم کے پکے گوڈارڈ نے ناکافی ذرائع کے باوجود تحقیق کرتے ہوئے راکٹ موشن سے متعلق اہم دریافتیں کیں، آگے چل کر 1916 میں انھوں نے سمتھ سونین انسٹی ٹیوٹ کو ایک خط لکھ کر باقاعدہ فنڈز کی درخواست کی اور ایک سال بعد انسٹی ٹیوٹ نے انھیں 5 ہزار ڈالر کے فنڈز جاری کیے اور ان کی تحقیق کی اشاعت میں بھی معاونت کی۔

اگرچہ راکٹ کی تیاری پر قدیم دور سے کام کیا جاتا رہا ہے اور سب سے پہلے آرکی تاس اور ہیرو آف الیگزینڈر نے ایک ایسا انجن ایجاد کیا جس کی مدد سے سٹیم یا بھاپ کے ذریعے پرندے کی طرح اڑا جاسکتا تھا، تاہم اس کے کئی صدیوں بعد چینیوں نے بانس میں گن پاؤڈر بھر کر راکٹ کے پروٹو ٹائپ ایجاد کیے جو قبائلی جنگوں یا مذہبی رسومات میں آگ لگانے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔

وقت کے بہتے دھارے کے ساتھ یہ پروٹو ٹائپ بہتر ہوتا گیا مگر 19 ویں صدی تک انھیں صرف جنگی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، یہ رابرٹ گوڈارڈ ہی تھے جنھوں نے یہ تصور پیش کیا کہ ان راکٹ کے ڈیزائن کو بہتر بنا کر اور مائع ایندھن استعمال کرکے انھیں خلا میں بھیجا جا سکتا ہے، مگر ان کی تحقیق شائع ہوتے ہی ہر جانب سے مخالفت، تضہیک اور تنقید کا ایک طوفان امڈ پڑا، یہاں تک کہ 1921 کو اپنے ایک ایڈیٹوریل میں نیویارک ٹائمز کے ایڈیٹر گوڈارڈ کا مذاق اڑانے میں اس حد تک چلے گئے کہ انھیں فزکس کی وہ بنیادی معلومات بھی نہیں ہیں جو ہائی اسکول کے طلباء کو بھی معلوم ہیں اور خلا میں سفر کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے۔

تقریبا 50 برس بعد جب اپولو الیون کی کامیاب لینڈنگ کے بعد نیل آرم اسٹرانگ نے چاند پر پہلا قدم رکھا تو نیو یارک ٹائمز کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اخبار نے باقاعدہ معذرت بھی کی۔

رابرٹ ایچ گوڈارڈ پر زندگی میں تنقید کی گئی—فائل فوٹو: فیکٹ ریپبلک
رابرٹ ایچ گوڈارڈ پر زندگی میں تنقید کی گئی—فائل فوٹو: فیکٹ ریپبلک

اسی دوران جنگ عظیم دوئم کا آغاز ہوا تو گوڈارڈ نے امریکی ملٹری کو راکٹ کے ڈیزائن سے متعلق اپنی تحقیق پیش کی جس سے زیادہ فاصلے تک پہنچنے والے راکٹ بنائے جا سکتے تھے، مگر انھیں وہاں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، مگر کچھ عرصے بعد امریکی آرمی کو جرمن آرمی کا تباہ شدہ ایک راکٹ ملا جس کا مشاہدہ کر کے گوڈارڈ کو احساس ہوا کے جرمن سائنسدانوں نے مائع ایندھن والا ان کا آئیڈیا چوری کر لیا ہے، لیکن اس سے دلبرداشتہ ہونے کے بجائے انھوں نے اپنا کام مزید جذبے کے ساتھ شروع کیا کیونکہ ان کی تحقیق کے نتائج حوصلہ افزا تھے اور یوں انہوں نے 1914 میں کئی حصوں پر مشتمل ملٹی اسٹیج راکٹ کا تصور پیش کیا اور پھر 1916 میں اسے لاؤنچ کیا گیا۔

سولہ مارچ 1926 کو راکٹ لانچنگ کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے گوڈارڈ نے خلائی سفر کے ایک نئے دور کا آغاز کیا اور اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے 1929 میں گوڈارڈ نے راکٹ کے ساتھ ایک بیرو میٹر (سمت معلوم کرنے والا آلہ) اور ایک چھوٹا کیمرہ بھی نصب کیا جو مکمل طور پر کامیاب رہا، اپنی ٹیم کے تعاون سے انھوں نے 1926 سے1941تک 15برس کے دوران 34 راکٹ لانچنگ کے تجربات کیے جن میں سے کئی 2600 میٹر کی بلندی تک گئے اور ان کی رفتار 885 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

اگرچہ اس دور میں امریکی و روسی خلائی تحقیقاتی ادارے بھی خلا کے سفر میں استعمال ہونے والے راکٹ کے ڈیزائن پر کام کر رہے تھے مگر گوڈارڈ تحقیق میں ان سے بہت آگے تھے، مگر زیادہ تر امریکی انجینئر اور محققین ان کے کام سے مطمئن نہیں تھے جس کی کوئی معقول وجہ کسی دور میں سامنے نہ نہیں آسکی، یہاں تک کے 10 اگست 1945 کو جب اچانک گوڈارڈ کی موت کی خبر سامنے آئی تو کئی امریکی اخبارات نے اسے اس شہ سرخی کے ساتھ شائع کیا کہ “مون مین” اپنے ہی تیارکردہ راکٹ کی زد میں آکر مارا گیا۔

واضح رہے کہ مون مین کا خطاب گوڈارڈ کو طنز یہ انداز میں دیا گیا تھا کیونکہ وہ پہلے شخص تھے جھنوں نے یہ تصور پیش کیا کہ راکٹ کے ذریعے انسان چاند پر جا سکتا ہے۔

گوڈارڈ کے خواب دیکھنے کے 60 سال بعد پہلی بار انسان نے چاند پر قدم رکھا اور خلا میں سفر کیا—فائل فوٹو: نیو یارک ٹائمز
گوڈارڈ کے خواب دیکھنے کے 60 سال بعد پہلی بار انسان نے چاند پر قدم رکھا اور خلا میں سفر کیا—فائل فوٹو: نیو یارک ٹائمز

مگر گوڈارڈ کی موت کے کچھ عرصے بعد مزید تحقیق کرتے ہوئے ناسا اور روس کے خلائی تحقیقاتی ادارے کو ادراک ہوا کہ گوڈارڈ اپنے تصورات، تحقیق، ملٹی اسٹیج راکٹ کے ڈیزائن اور مائع ایندھن استعمال کرنے کے آئیڈیے میں 100 فیصد درست تھے اور ان کے پیش کردہ ڈیزائن کو استعمال کیے بغیر خلا میں سفر کسی صورت ممکن نہیں، بعد ازاں ان کی خدمات کو سراہتے ہو ئے 1959میں انھیں امریکی حکومت کی جانب سے کانگریشنل گولڈ میڈل دینے کا اعلان کیا گیا اور 1961 میں ناسا نے اپنے سب سے بڑے اسپیس فلائٹ سینٹر کو گوڈارڈ کے نام سے منسوب کیا۔

اگرچہ یہ اعزازات وصول کرنے کے لیے گوڈارڈ دنیا میں موجود نہیں تھے مگر میری لینڈ میں واقع گوڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر دنیا کو یہ یاد دلا تا رہے گا کہ اگر انسان کے عزائم بلند ہوں تو راہ کی مشکلات کوئی معنی نہیں رکھتیں، ساتھ ہی 12 اپریل کو منایا جانے والا ” انٹر نیشنل ڈے آف ہیومن اسپیس فلائٹ ” بھی لوگوں کو یہ یاد دلاتا رہے گا کہ عظیم انسانوں کے خواب کبھی ادھورے نہیں رہتے۔

علاوہ ازیں دنیا کے اس عظیم سائنسدان کو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہر سال 12 اپریل کو منائے جانے والے ” انٹر نیشنل ڈے آف ہیومن اسپیس فلائٹ “(انسانی خلائی پرواز کے عالمی دن) پر بھی خصوصی خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے، اگرچیہ یہ دن اقوام متحدہ نے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے منانے کا اعلان نہیں کیا، تاہم فلکیاتی سائنس کے ماہرین جانتے ہیں کہ سب سے پہلے گوڈارڈ نے 17 برس کی عمر میں 12 اپریل 1899 کو خلا میں انسان کے سفر کا خواب دیکھا تھا جو آج حقیقت بن چکا ہے۔

ان کے خواب دیکھنے کے 60 سال بعد 12 اپریل 1961 کو پہلی بار انسان نے چاند کا سفر شروع کیا تھا اور اسی دن کی مناسبت سے ہی اقوام متحدہ کے زیر اہتمام دنیا میں ہر سال 12 اپریل کو انسانی خلائی پرواز کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔


سام سنگ کا پاکستان کیلئے ایس 10 سیریز کے فونز سستے کرنے کا اعلان

سام سنگ نے اپنے نئے فلیگ شپ فونز گلیکسی ایس 10 اور ایس 10 پلس کی قیمتیں پاکستانی صارفین کے لیے کم کردی ہیں۔

سام سنگ کے یہ فلیگ شپ فونز 20 فروری کو سان فرانسسکو میں ایک ایونٹ کے دوران متعارف کرائے گئے جبکہ پاکستان میں گزشتہ ماہ فروخت کے لیے پیش کیے گئے۔

اس وقت گلیکسی ایس 10 کی قیمت ایک لاکھ 64 ہزار 999 روپے جبکہ ایس پلس کی ایک لاکھ 79 ہزار 999 روپے رکھی گئی تھی۔

مگر ایک ماہ بعد ہی سام سنگ نے دونوں فونز کی قیمتوں میں کمی کا اعلان اس وقت کیا ہے جب ہواوے پی 30 پرو کو جلد پاکستان میں فروخت کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔

سام سنگ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ان فونز کی قیمتوں کی کمی کا اعلان کیا گیا۔

اس وقت پاکستان میں ایس 10 اور ایس 10 پلس کے 8 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج والے ورژن دستیاب ہیں۔

سام سنگ نے گلیکسی ایس 10 کی قیمت 25 ہزار روپے کمی سے ایک لاکھ 40 ہزار جبکہ ایس 10 پلس کی قیمت 20 ہزار روپے کمی سے ایک لاکھ 60 ہزار روپے کردی ہے۔

اے پی فوٹو
اے پی فوٹو

یہ فونز گزشتہ سال کے گلیکسی ایس نائن سیریز کے فونز کے مقابلے میں کچھ بڑے ہیں، گلیکسی ایس 10 میں 6.1 انچ ڈسپلے، 3 بیک کیمروں کا سیٹ اپ اور ایک سیلفی کیمرا دیا گیا ہے۔

گلیکسی ایس 10 پلس میں 6.4 انچ ڈسپلے ہول پنچ ڈوئل کیمرا سیٹ اپ موجود ہے، یہ دونوں فون گزشتہ سال کے گلیکسی ایس 9 کی طرح واٹر ریزیزٹنٹ اور ڈسٹ پروف ہے۔

گلیکسی ایس 10 میں 3400 ایم اے ایچ جبکہ گلیکسی ایس 10 پلس میں 4100 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے ، جو کہ کسی بھی گلیکسی ایس فون میں اب تک کی سب سے طاقتور بیٹری ہے۔

دونوں فونز میں کوالکوم اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر اور بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ ہے، جن میں سے ایک 16 میگا پکسل الٹرا وائیڈ اینگل لینس ہے، دوسرا 12 میگا پکسل وائیڈ اینگل جبکہ تیسرا 12 میگا پکسل ٹیلی فوٹو کیمرا ہے۔

دونوں میں وائرلیس چارجنگ کا فیچر بھی موجود ہے بلکہ اس سے دیگر ڈیوائسز کو بھی وائرلیس چارج کیا جاسکتا ہے۔

Google Analytics Alternative