سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

’راولپنڈی ایکسپریس‘ شعیب اختر کے لیے یوٹیوب کا اعزاز

سابق پاکستانی کرکٹر شعیب اختر کو ویڈیو اسٹریمنگ ویب سائٹ ’یوٹیوب‘ کی جانب سے ’گولڈن پلے بٹن‘ کے اعزاز سے نواز دیا گیا۔

شعیب اختر کو یوٹیوب کی جانب سے ’گولڈن پلے بٹن‘ کے اعزاز سے ان کے یوٹیوب چینل پر 10 لاکھ سبسکرائبر ہونے کے بعد نوازا گیا۔

شعیب اختر نے یوٹیوب کی جانب سے ’گولڈن پلے بٹن‘ کے اعزاز سے نوازے جانے سے متعلق یوٹیوب پر ایک ویڈیو شیئر کی اور مداحوں کو بتایا کہ انہیں یہ اعزاز حاصل کرنے پر کتنی خوشی ملی ہے۔

مختصر دورانیے کی ویڈٰیو میں شعیب اختر نے اپنے سبسکرائبر اور مداحوں کو شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی انہوں نے ’گولڈن پلے بٹن‘ دیے جانے پر ویڈیو اسٹریمنگ ویب سائٹ کا بھی شکریہ ادا کیا۔

شعیب اختر نے ویڈیو میں انکشاف کیا کہ یوٹیوب کی جانب سے ’گولڈن پلے بٹن‘ کا اعزاز دیے جانے کے بعد ان کےحوصلے بلند ہوئے ہیں اور وہ جلد ہی یوٹیوب پر ایک ٹاک شو بھی شروع کریں گے۔

انہوں نے ویڈیو میں پاکستانی مداحوں سمیت بھارتی، بنگلہ دیشی اور سری لنکن مداحوں سمیت دنیا کے دیگر ممالک کے مداحوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔

خیال رہے کہ شعیب اختر کے یوٹیوب چینل پر گزشتہ ماہ جون کے آخر میں ہی 10 لاکھ سبسکرائبر ہوگئے تھے، تاہم انہیں یوٹیوب کی جانب سے اب ’گولڈن پلے بٹن‘ بھیجا گیا۔

شعیب اختر نے ویڈیو اسٹریمنگ ویب سائٹ پر رواں برس کے آغاز میں چینل کھولا تھا اور وقتا بوقتا وہ مختلف ویڈیوز اپ لوڈ کرتے رہتے تھے۔

شعیب اختر پہلے پاکستانی نہیں ہیں جنہیں یوٹیوب نے ’گولڈن پلے بٹن‘ کے اعزاز سے نوازا ہو، اس سے قبل رواں برس اپریل میں یوٹیوب نے مولانا طارق جمیل کو بھی اس اعزاز سے نوازا تھا۔

طارق جمیل کو بھی یوٹیوب پر 10 لاکھ سبسکرائبر ہونے پر ’گولڈن پلے بٹن‘ بھیجا گیا تھا۔

طارق جمیل سے قبل کامیڈین ادریس شام، کامیڈین چینل ’پی فار پکاؤ‘ کے نادر علی، ’کچن ود آمنہ‘ کی خاتون آمنہ کو بھی یوٹیوب کی جانب سے ’گولڈن پلے بٹن‘ دیا گیا تھا۔

یوٹیوب پلے بٹنز کیا ہیں؟

دنیا کی مشہور یہ ویڈیو ویب سائٹ اپنے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے اور اس پر مواد ڈالنے والے افراد کی خدمات کو تسلیم کرتی ہے اور انہیں مختلف بٹنز سے نوازتی ہے۔

یوٹیوب پلے بٹنز، یوٹیوب کرئیٹر ریوارڈ کا ایک حصہ ہے جو اس بات کا اعتراف ہے کہ آپ کا چینل یوٹیوب پر کافی مشہور ہے۔

یہ یوٹیوب ایوارڈ سے مختلف ہوتا ہے، تاہم یہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ویڈیو ویب سائٹ پر آپ کے چینلز کی ویڈیوز کا معیار بہترین ہے اور لوگ آپ کے چینلز کو پسند کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یوٹیوب کا مولانا طارق جمیل کیلئے اعزاز

یوٹیوب کی جانب سے یہ ریوارڈ چینل کے سبسکرائبر کی تعداد پر انحصار کرتا ہے لیکن یہ یوٹیوب کا صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ کسے اس ایوارڈ سے نوازے، اس سلسلے میں ایوارڈ دینے سے قبل چینل کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ چینل نے یوٹیوب کمیونٹی گائیڈ لائنز پر عمل درآمد کیا یا نہیں، اسی طرح یوٹیوب یہ اختیار بھی رکھتا ہے کہ وہ کسی بھی کرئیٹر کے ریوارڈ سے انکار کردے۔

ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب کی جانب سے اس پلے بٹن کے مجموعی طور پر 4 کٹیگری سلور، گولڈن، ڈائمنڈ اور کسٹم ہیں، جن میں سے 3مختلف ہیں جبکہ ایک 2 مرتبہ پیش کیا جاتا ہے، تاہم ہر ٹرافی کا سائز مختلف ہوتا ہے اور سبسکرائبر کے حساب سے بٹن کے سائز میں تبدیلی ہوتی ہے۔

سلور پلے بٹن: یوٹیوب پر جب کوئی چینل ایک لاکھ سبسکرائبر کی حد کو عبور کرتا ہے تو وہ سلور کٹیگری میں شامل ہوجاتا ہے اور ویب سائٹ کی جانب سے چینل کا نام تحریر کرکے کرئیٹر کو وہ بٹن دیا جاتا ہے۔

گولڈن پلے بٹن: اس ایوارڈ کو حاصل کرنے کے لیے یوٹیوب پر چینل کے سبسکرائبر کی حد 10 لاکھ سے تجاوز کرنی چاہیے، جس کے بات آپ یوٹیوب کی اس کیٹیگری میں شامل ہوتے ہیں، جس میں آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کے چینل کے نام کے ساتھ گولڈن پلے بٹن دیا جاتا ہے۔

ڈائمنڈ پلے بٹن: یوٹیوب کے اس اعزاز کو حاصل کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، اس کے لیے ویب سائٹ پر چینل کے ایک کروڑ سے زائد سبسکرائبر ہونا ضروری ہیں جبکہ اب تک صرف دنیا بھر میں 374 چینلز ہی اس تعداد تک پہنچ چکے ہیں۔

کسٹم پلے بٹن: یہ ایوارڈ یوٹیوب کا سب سے بڑا ایوارڈ ہے جو 5 کروڑ سبسکرائبر کی تعداد کو حد کرنے کے بعد دیا جاتا ہے، اس منفرد ایوارڈ کے حصول کےلیے اب تک صرف 3 چینل ایسے ہیں جو یوٹیوب کی بتائی گئی حد کو عبور کر چکے ہیں۔

چاند پر انسان کے قدم کو نصف صدی مکمل

انسان کی چاند سے انسیت زمانہ قدیم سے ہے اور تہذیب و تمدن کے آغاز سے بہت پہلے جب انسان غاروں اور جنگلوں میں رہتے تھے تب بھی رات میں آسمان پر چمکتا چاند ان کی خصوصی توجہ کا مرکز تھا۔

کئی صدیوں بعد انسان نے باقاعدہ گھر بنا کر رہنے کا آغاز کیا تب چاند کی روشنی رات کے سفر میں اس کی معاونت کرتی اور چاند، ستاروں ہی کے ذریعے وہ سمت کا تعین کرتا تھا۔ مگر چاند کا گھٹنا بڑھنا اور کچھ راتوں میں بالکل غائب ہو جانا اسے طرح طرح کے شکوک میں مبتلا کرتا رہا اور ہر دور میں چاند و سورج سے متعلق ماورائی قصے کہانیاں نسل در نسل منتقل ہوتی رہیں۔

وقت کا دھارا اپنی مخصوص رفتار سے بہتا رہا یہاں تک کہ 19ویں صدی کے اوائل میں جرمن اور امریکی سائنسدانوں نے جنگ میں استعمال کیے جانے والے راکٹس پر کام کا آغاز کیا، پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں مخالفین کی جانب سے انہیں محدود پیمانے پر استعمال بھی کیا گیا۔ تب امریکی سائنسدان و محقق رابرٹ ایچ گوڈارڈ نے پہلی دفعہ ان راکٹوں کے ذریعے خلا میں سفر اور بعد ازاں چاند تک رسائی کا تصور پیش کیا۔ جسے پہلے پہل دیوانے کی بڑ قرار دے کر گوڈارڈ کا باقاعدہ مذاق اڑایا گیا۔ مگر یہ با ہمت اور حوصلہ مند انسان آخری دم تک اپنے پیش کردہ تصورات پر نہ صرف قائم رہے بلکہ نجی ذرائع سے مالی امداد حاصل کر کے راکٹ تیار کر کے ان پر تجربات بھی کیے۔

دستیاب ریکارڈ کے مطابق 16مارچ 1926 کو گوڈارڈ نے اپنا تیار کردہ پہلا مائع ایندھن والا راکٹ خلا میں بھیجا اور یہ تجربہ کامیاب رہا۔ اس کے بعد 1926 سے 1940 کے دوران گوڈارڈ نے متعدد راکٹ خلا میں بھیجے، چند ذرائع کے مطابق ان میں ایک چاند کی سطح تک پہنچنے میں بھی کامیاب رہا۔

گوڈارڈ کی وفات کے بعد امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کو احساس ہوا کہ سائنسدان کے قوانین پر عمل کر کے ہی خلا کے سفر کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ لہذا 1950 کے بعد اس حوالے سے تیز تر پیش رفت ہوئی اور 1961 میں ناسا نے چاند تک رسائی کے لیے اپولو مشن کا آغاز کیا۔

اپولو دراصل مصری زبان کا لفظ ہے اور روشنی کے دیوتا کا نام ہے۔ ابتدا میں 6 سال تک محض خلائی گاڑیوں کو خلا میں بھیجا گیا جن کا مقصد آخری انسانی مشن کے متعلق تمام معلومات جمع کرنا اور اسے محفوظ ترین بنانا تھا۔

1967 میں اپولو مشن اس وقت شدید مشکلات سے دوچار ہوگیا جب لانچنگ سے قبل ویکیوم میں کیے جانے والے کچھ تجربات کے دوران خلائی کیپسول میں آگ بھڑک اٹھی اور تین خلا بازوں پر مشتمل عملہ ہلاک ہو گیا۔ اس کے بعد مکمل تحقیق کے ساتھ 1969 میں اپولو 11 مشن چاند کی طرف روانہ کیا گیا جسے تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ اپولو الیون مشن کے پچاس سال مکمل ہونے پر 2019 میں پوری دنیا میں خصوصی تقریبات منعقد کی جارہی ہیں۔

آئیے اس تاریخی موقع پر چاند کی جانب بھیجے جانے والے تمام انسان بردار مشنز کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

1۔ اپولو الیون: 16 جولائی 1969

بز الڈرین کی چاند پر چہل قدمی جس کی تصویر نیل آرم سٹرانگ نے لی —فوٹو بشکریہ ناسا
بز الڈرین کی چاند پر چہل قدمی جس کی تصویر نیل آرم سٹرانگ نے لی —فوٹو بشکریہ ناسا

اپولو الیون چاند کی جانب بھیجا جانے والا پہلا مشن تھا جس میں تین خلا بازوں کو ایک خلائی گاڑی “ایگل”میں چاند کی جانب بھیجا گیا جن میں کمانڈرنیل آرم سٹرانگ، فلائٹ پائلٹ بز الڈرین، اور معاون فلائٹ پائلٹ مائیکل کولنز شامل تھے۔ یہ خلائی گاڑی 16 جولائی 1969 کو فلوریڈا کے ساحل ِسمندر کے قریب واقع کیپ کارنیوال لانچنگ پیڈ سے روانہ کی گئی اور 4 دن کا سفر کر کے 20 جولائی 1969 کو چاند کی سطح پر جس مقام پر اتری اسے ‘ ساکت سمندر’ کہا جاتا ہے۔

جس وقت ایگل نامی خلائی گاڑی نے چاند کی سطح کو چھوا تو نیل آرم سٹرانگ نے ہاسٹن میں واقع فلائٹ کنٹرول سینٹر کو اطلاع دی کہ ایگل کامیابی کے ساتھ لینڈ کر گیا ہے او ر ساتھ ہی چاند پر پہلی دفعہ قدم رکھنے والے انسان کی حیثیت سے خود کو تاریخ میں امر کر لیا ۔ آرم سٹرانگ اور بز الڈرین نے تقریباً 21 گھنٹے اور 36 منٹ چاند کی سطح پر چہل قدمی کی اور وہاں سے مٹی ، چٹانوں اور پتھروں کے نمونے جمع کرنے کے علاوہ تصاویر بھی کھینچیں۔

واپسی پر نیل آرم سٹرانگ نے چاند کی ایک دلدلی زمین پر اپنی بیٹی کا بریسلٹ یادگار کے طور پر چھوڑ دیا جو چند برس قبل برین کینسر سے انتقال کر گئی تھی۔ اس دوران مائیکل کولنز اندر خلائی گاڑی میں زمین سے مستقل رابطے میں رہے۔ جبکہ دنیا بھر سے کروڑوں افراد نے اس منظر کو ٹی وی پر براہ راست بھی دیکھا۔چار دن کے سفر کے بعد 24 جولائی کو ایگل بحر الکاہل میں باحفاظت لینڈ کر گیااور خلا بازوں کو امریکی نیوی (یو ایس ایس ہارنٹ) کی کشتیوں نے ساحل تک پہنچایا۔

اگرچہ اپولو الیون مشن اور نیل آرم سٹرانگ دونوں ہی ہمیشہ تنازعات کا شکار رہے اور ہر دور میں سائنس و فلکیات سے متعلق لا علمی یا پروفیشنل مخاصمت کے باعث اس مشن کو جعلی اور ہولی وڈ اسٹوڈیو میں فلمائی گئی فلم قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ مگر آج امریکہ کے بعد کئی اور ممالک کے مشن بھی چاند تک رسائی حاصل کر نے کے بعد حقیقت کھل کر سامنے آچکی ہے۔

اپولو 12: نومبر 1969

فوٹو بشکریہ ناسا
فوٹو بشکریہ ناسا

اپولو الیون مشن کی شاندار کامیابی سے ناسا کے ماہرین و انجینئرز کے حوصلے بہت بلند ہو چکے تھے لہذاٰ اس کے محض چار ماہ بعد 14 نومبر 1969 کو اپولو 12 مشن چاند کی طرف روانہ کیا گیا جس کے عملے میں کمانڈر چارلس کانرڈ ، فلائٹ پائلٹ ایلن بین اور معاون پائلٹ ریچرڈ گورڈن شامل تھے۔ یہ خلائی گاڑی کامیا بی سے اپنا سفر طے کرتی ہوئی 19 نومبر کو چاند کی سطح پر جس مقام پر اتری وہ چاند کے مغربی اور زمین سے قدرے قریب تاریک علاقہ تھا۔ جہاں کبھی آتش فشانی ہوئی ہوگی اور اب یہ دلدل نما علاقہ ہے۔

یہ وہی جگہ ہے جہاں تین برس قبل ناسا کی ایک اور خلائی گاڑی سرویئر 3اتری تھی مگر اس میں خلاباز نہیں تھے۔ لہذاٰ یہاں قدم رکھتے ہی خلابازوں نے سرویئر 3 کی تلاش شروع کی اور اس کے کچھ ٹکڑوں کے ساتھ مٹی اور چٹانوں کے نمونے جمع کیےاور تصاویر بھی بنا ئیں۔ چونکہ اس مشن کو بھیجنے کا مقصد اپولو الیون سے حاصل ہونے والےتکنیکی معلومات اور ڈیٹا کی تصدیق بھی تھا اس لیے خلا بازوں کے چاند پر قیام کے دورانیے کو بڑھا کر 31 گھنٹے ، 31 منٹ کر دیا گیا ۔

اختتامی مرحلوں میں مشن اس وقت مشکلات سے دوچار ہوگیا جب چاند سے روانگی کے وقت چاند پر اترنے میں مدد کرنے والی چاند گاڑی (لیونر ماڈیول) چاند کی سطح پر گر کر تباہ ہوگیا جس سے پیدا ہونے والا دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ چاند کی سطح پر پہلی دفعہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جوکہ مصنوعی زلزلہ تھا۔ واضح رہے کہ ابتدا میں چاند کی جانب بھیجے جانے والی خلا ئی گاڑیا ں دو حصوں پر مشتمل ہوتی تھیں جن میں ایک حصہ انھیں چاند پر اترنے میں مدد دیتا تھا۔

ان مشکلات کے باوجود فلائٹ پائلٹس کمانڈ ماڈیول کو با حفاظت زمین تک لانے میں کامیاب رہے۔ اور امریکی ساحلی علاقے سے نیوی کے عملے نے تینوں خلابازوں کو باحفاظت نکالا۔اپولو 12 کئی حوالے سے یادگار مشن رہا کیونکہ اپولو الیون کے برعکس اس میں خلائی گاڑی بالکل اسی مقام پر اتری جو منصوبہ بندی میں طے کیا گیا تھا۔یعنی اپولو الیون میں جو تکنیکی غلطیاں کی گئیں ناسا کے ماہرین نے محض چار ماہ میں ان پر قابو پالیا۔

اپولو 14: جنوری 1971

فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

31 جنوری 1971کو ناسا نے اپولو 14 کے نام سے نیا مشن چاند کی جانب بھیجا جس کے عملے میں کمانڈر ایلن شیپارڈ اور فلائٹ پائلٹ ایڈ گر میچل شامل تھے۔ جبکہ کمانڈ موڈیول کو پائلٹ سٹیورٹ روزا چلا رہے تھے جو لیونر ماڈیول سے الگ ہو کر مسلسل مدار میں گردش کرتی رہی۔ اس مشن میں خلائی گاڑی کے دونوں حصوں کو چاند پر اتارنے کے بجائے صرف لیونر ماڈیول کو اتارا گیا جبکہ دوسرا حصہ مدار میں گردش کرتا رہا اور واپسی پر لیونر ماڈیول اس سے جڑ گیا۔

یہ خلائی گاڑی پانچ دن کے سفر کے بعد 5 فروری کو چاند پر جس مقام پر اتری وہ فرا مورو کریٹر(دلدلی سطح) سے شمال میں 21 کلومیٹر کے فاصلے پر تھی۔ جو چاند کا پہاڑوں سے گھرا چٹانی علاقہ کہلاتا ہے۔اس مشن کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے ناسا کے ماہرین بہت زیادہ محتاط تھے جس کی وجہ اپولو 13 کو پیش آنے والا حادثہ تھا جس میں لانچنگ کے دو دن بعد تکنیکی خرابی کے باعث آگ بھڑک اٹھی تھی اور خلاباز بہت سی دشواریوں سے گزر نے کے بعد مشن ادھورا چھوڑ کر زمین پر واپس آگئے تھے۔

9 ماہ کی مکمل تحقیقات کے بعد یہ مشن کامیابی سے چاند پر اترا اور خلابازوں نے چاند کے نمونے حاصل کیئے۔ یہ مشن خلابازوں کی جانب سے کیے جانے والے تجربات کی باعث اب تک یادگار ہے جس میں ایلن شیپرڈکا گالف کھیلنااور اس سیارچے کے ٹکڑوں کی تلاش شامل تھی جس کے اربوں سال قبل چاند سے ٹکرانے کے باعث یہاں ایک بہت بڑا اور گہرا گڑھا پڑ گیا تھا۔ خلابازوں کے پاس چونکہ با قاعدہ نقشے نہیں تھے سو وہ درست حساب لگانے میں ناکام رہے اور اس علاقے سے محض سو میل کے فاصلے سے لوٹ آئے۔

تقریباً 33 گھنٹے، 31 منٹ قیام کے بعد چاند سے روانگی ہوئی اور بحرالکاہل پر امریکی نیوی نے خلابازوں کو باحفاظت نکالا۔

اپولو 15:جولائی 1971

فوٹو بشکریہ ناسا
فوٹو بشکریہ ناسا

چھ ماہ کے وقفے کے بعد 10 جولائی 1971 کو اپولو 15 مشن کو چاند کی جانب بھیجا گیا جس کے عملے میں کمانڈر جیمز ارون، فلائٹ پائلٹ الفریڈ وورڈن ، اور کمانڈ ماڈیول پائلٹ ڈیوڈسکاٹ شامل تھے۔ اس مشن کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں خلائی گاڑی کے ساتھ ایک مون روور یا ‘ چاند بگی ” کو بھی شامل کیا گیا تھا جس کی مدد سے خلابازوں نے تقریباً 66 گھنٹے 55 منٹ کا قیام کرتے ہوئے چاند پر بہت دور دراز علاقوں تک سفر کیا ۔

یہ مشن بہت زیادہ کامیاب رہا اور ناسا کے ماہرین کو اس سے بہت سی اہم معلومات حاصل ہوئیں ۔چاند کے جس مقام پر اس خلائی گاڑی کو اتارا گیا تھا وہ اور اس کے آس پاس کا علاقہ چاند کا خوبصورت اور جغرافیائی حوالے سے انتہائی اہم علاقہ کہلاتا ہے۔ جس میں بلند پہاڑ، دلدلی علاقہ اور ایک آبی چشمہ شامل ہیں جسے “ہیڈلے”کہا جاتا ہے۔ اس مشن میں جو نمونے خلابازوں نے جمع کیے ان کے مشاہدے سے معلوم ہوا کہ وہ تقریباً 4 کروڑ 5 لاکھ سال پرانی جینیاتی چٹانوں کے تھے۔

مشن کے آخری مراحل میں خلا بازوں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ زمین پر اترتے وقت تین میں سے ایک پیرا شوٹ تکنیکی خرابی کے باعث کھل نہیں سکا اس کے باوجود وہ بحرالکاہل میں باحفاظت اترنے میں کامیاب رہے۔

اپولو 16:16 اپریل 1972

فوٹو بشکریہ ناسا
فوٹو بشکریہ ناسا

اپولو 16 مشن کو ناسا کے ماہرین نے کچھ اس طرح سے ڈیزائن کیا تھا کہ انھیں چاند کی جغرافیائی تشکیل اور زمانۂ قدیم سے متعلق اہم معلومات حاصل ہوسکیں ۔ اس مقصد کے لیئے اورین نامی خلائی گاڑی کو چاند کی سطح پر جس مقام پر اترنا تھا وہ چاند کا اہم پہاڑی علاقہ ہے جہاں کبھی آتش فشاں رہے ہوں گے۔

مگر مشن ابتدا میں ہی مشکلات سے دوچار ہوا جب کمانڈ ماڈیول سے علیحدہ ہونے بعد لیونر ماڈیول میں کچھ تکنیکی خرابی محسوس کی گئی۔ اس ماڈیول میں موجود کمانڈر جان ینگ اور فلائٹ پائلٹ چارلس ڈیوک کئی گھنٹوں تک مدار میں گردش کرتی خلائی گاڑی میں کنٹرول سینٹر کے اگلے حکم کا انتظار کرتے رہے۔ بلاآخر کمانڈماڈیول پائلٹ تھامس میٹنگ لے نے ہاسٹن کا اجازت نامہ انھیں پہنچایا اور خلائی گاڑی کو چاند پر اتارا گیا۔

تقریباً 71 گھنٹے 21 منٹ تک چاند بگی کے ذریعے خلابازوں نے 27 کلومیٹر علاقے کا سفر کرتے ہوئے چٹانوں کے نمونے جمع کیے۔ اگرچہ وہ آتش فشانی چٹانوں کے نمونے حاصل کرنے میں ناکام رہے مگر اس مشن سے اور بہت سا اہم ڈیٹا حاصل ہوا۔ یہ مشن اس کے عملے کی ذہانت، دور اندیشی اور معاملہ فہمی کے حوالے سے بھی بہت اہمیت ر کھتا ہے جنھوں نے اپنے طے شدہ پلان سے ہٹ کر چاند کے ماحول اور زمینی ساخت سے متعلق اہم معلومات جمع کیں ۔27 اپریل 1972 کو یہ خلاباز امریکی کرسمس ساحلوں کے قریب باحفاظت زمین پر اترنے میں کامیاب ہوئے۔

اپولو17: دسمبر 1972

فوٹو بشکریہ ناسا
فوٹو بشکریہ ناسا

اپولو 17 چاند کی جانب بھیجا جانے والا آخری اور اپولو پروگرام سیریز کا بھی آخری مشن تھا۔ اس کے بعد سے چاند کی جانب کسی ملک نے ایسا مشن نہیں بھیجا جس میں خلاباز شامل ہوں ۔

7دسمبر 1972 کو بھیجے جانے والے اس آخری مشن کو کئی اور حوالوں سے بھی تاریخی حیثیت حاصل ہے جس میں سے ایک یہ بھی تھی کہ اس کے عملے میں پہلی دفعہ خلابازوں کے علاوہ کسی سائنسدان کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ مایہ ناز ماہر ارضیات ہیریسن جیک ان چھ سائنسدانوں میں سے ایک تھے جنہیں 1965 میں چاند پر تحقیق کے لیے منتخب کیا گیا تھا اور سات برس کی تربیت کے بعد 1972 میں چاند پر بھیجا گیا۔ عملے کے دیگر ارکان میں کمانڈر اوجین سرنن اور کمانڈ پائلٹ رونالڈ ایوانز شامل تھے۔

تقریباً 75 گھنٹے کے قیام کے دوران خلابازوں نے 30 کلومیٹر علاقے کا سفر کرتے ہوئے نمونے اور چاند کی سطح کے متعلق اہم معلومات حاصل کیں ۔ جبکہ ہیریسن جیک نے چاند کی سطح پر کچھ اہم تجربات بھی کیئے جس کے لیئے خاص طور پر ٹورس ویلی کا ا نتخاب کیا گیا تھا۔ بارہ دن بعد 19 دسمبر کو خلاباز زمین پر اترنے میں کامیاب رہے۔

اگرچہ یہ آخری مشن توقعات سے زیادہ کامیاب ثابت ہوا تھا مگر بعد میں حکومتی توجہ ویت نام کی جنگ کی جانب مبذول ہوجانے کے باعث اپولو پروگرام کا بجٹ کم کر دیا گیا لہذاٰ ناسا نے بھی اپنا رخ دیگر منصوبوں کی جانب موڑ لیا جن میں مریخ مشن قابل ذکر ہے۔

آرٹیمس :2017

اس مشن کا تصوراتی خاکہ — فوٹو بشکریہ ناسا
اس مشن کا تصوراتی خاکہ — فوٹو بشکریہ ناسا

ایک طویل وقفے تک نظر انداز کیے جانے کے بعد چاند ایک دفعہ پھر اس وقت عالمی خبروں کا مرکز بن گیا جب 2017 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ 2024 تک چاند کی جانب مزید انسان بردار مشن بھیجے جائیں گے جن کی ایک خصوصیت یہ بھی ہوگی اس بار خواتین خلا باز بھی مشن میں شامل ہونگی۔

آرٹیمس مصری زبان کا لفظ ہے اور اسے اپولو دیوتا کی جڑواں بہن کہا جاتا ہے جو ” وحشت یا جنون کی دیوی” کہلاتی ہے۔ ناسا کی جانب سے چاند کے لیے ایک نئے مشن کا یہ نام منتخب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تکنیکی حوالے سے یہ اپولو مشن کا تسلسل ہی ہونگے مگر ان کا مقصد دور رس نتائج حاصل کر کے چاند پر انسانی کالونی کے قیام کی راہ ہموار کرنا ہے۔ دنیا بھر سے خلائی سفر اور چاند سے جنونی رغبت رکھنے والے لوگ اس مشن کی مزید تفصیلات جاننے کے لیئے بے چین ہیں جو شاید اگلے ایک برس تک جاری کردی جائیں گی۔

مکمل سونے سے تیار کردہ فون خریدنا پسند کریں گے؟

شیاﺅمی ایسی کمپنی ہے جو اپنے مناسب قیمت والے فونز کی وجہ سے جانی جاتی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ مہنگی ڈیوائسز تیار نہیں کرسکتی۔

درحقیقت آپ اس کمپنی کا مکمل طور پر سونے سے تیار فون خرید سکتے ہیں، اگر آپ بھارت میں موجود ہوں تو۔

شیاﺅمی نے گزشتہ دنوں بھارت میں اپنی ریڈمی کے 20 سیریز کے فونز متعارف کرائے تھے۔

کے 20 پرو کی قیمت 405 ڈالرز (64 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) رکھی گئی تھی جس میں اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر، سکس جی بی ریم، ان ڈسپلے فنگر پرنٹ سنسر اور 3 بیک کیمروں کا سیٹ اپ قابل ذکر فیچر ہیں۔

تاہم اس کا کمپنی نے ایک خصوصی ایڈیشن بھی تیار کیا ہے جس کی قیمت 7 ہزار ڈالرز (11 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) رکھی گئی ہے۔

اور ہاں یہ سونے کے پانی سے مزئین نہیں بلکہ مکمل طور پر سونے سے ہی تیار کیا گیا ہے جبکہ اس کی زیبائش بڑھانے کے لیے ہیروں کو بھی استعمال کیا گیا ہے، جس کی تصدیق کمپنی نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں کی۔

اس خصوصی ایڈیشن کے فیچرز سستے ورژن جیسے ہی ہیں بس اس کی خوبصورتی نے اس کی قیمت کو کئی گنا زیادہ بڑھا دیا ہے، اور اس طرح یہ شیاﺅمی کا سب سے مہنگا فون بھی بن گیا ہے۔

اس فون کے صرف 20 یونٹ ہی تیار کیے گئے ہیں، یعنی خریدنے والوں کے پاس مواقع بہت کم ہیں۔

ویسے اکثر اسمارٹ فونز کے گولڈ ایڈیشن سامنے آتے رہتے ہیں مگر عام طور پر کمپنیاں خود اس طرح کے ایڈیشن تیار کرنے سے گریز کرتی ہیں۔

ہواوے کا اینڈرائیڈ کو ہی اپنے فونز میں برقرار رکھنے کا فیصلہ

امریکا کی جانب سے بلیک لسٹ کیے جانے کے بعد جب گوگل کے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کا لائسنس منسوخ ہونے کا خدشہ پیدا ہوا تو ہواوے نے اپنا آپریٹنگ سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کیا۔

تاہم اب امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی جارہی ہے تو چینی کمپنی نے اپنے فونز کے لیے اپنے تیار کردہ ہونگ مینگ سسٹم کی بجائے گوگل کے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کو ہی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چین کے سرکاری خبررساں ادارے ژنہوا کے مطابق ہواوے کی سنیئر نائب صدر کیتھرین چین نے کہا ہے کہ ہونگ مینگ آپریٹنگ درحقیقت فونز کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس آپریٹنگ سسٹم کو صنعتی مقاصد کے لیے تیار کیا گیا ہے اور اس میں کسی فون آپریٹنگ سسٹم کے مقابلے میں کوڈز بہت کم ہیں جبکہ کسی فون کے مقابلے میں لیٹنسی بہت کم ہے، یعنی یہ بہت زیادہ والیوم کا دیٹا بہت کم وقت میں پراسیس کرسکتا ہے۔

ہواوے کے چیئرمین لیانگ ہوا نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ہونگ مینگ کو انٹرنیٹ آف تھنگز ڈیوائسز کے لیے تیار کیا گیا تھا اور کمپنی نے تاحال فیصلہ نہیں کیا کہ اسے فون آپریٹنگ سسٹم کے لیے استعمال کرنا چاہیے یا نہیں۔

خیال رہے کہ رائٹرز نے اتوار کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ آئندہ 2 سے 4 ہفتوں میں ہواوے کو مصنوعات فروخت کرنے والی کمپنیوں کے لائسنسز کی منظوری دینے کے لیے تیار ہے، تاکہ وہ پرزہ جات چینی کمپنی کو فروخت کرسکیں۔

یہ ہواوے کو مئی میں بلیک لسٹ کیے جانے کے بعد پابندیوں میں نرمی کا عندیہ دینے والا پہلا نمایاں اقدام ہوگا۔

گزشتہ ماہ جی 20 کانفرنس کے دوران چینی صدر سے ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی کمپنیوں کو ہواوے کے ساتھ کاروبار جاری رکھنے کی اجازت دی جائے گی جبکہ گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ تجارت نے چینی کمپنی سے کاروبار کے لیے امریکی کمپنیوں کو خصوصی لائسنس کا اجرا جاری رکھنے کا عندیہ دیا تھا۔

امریکی پابندیوں میں نرمی کے اشارے کے بعد اب تجزیہ کاروں نے تخمینہ لگایا ہے کہ 2019 میں ہواوے فونز کی فروخت 26 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے خصوصاً اگر اسے جلد دوبارہ گوگل لائسنس تک رسائی مل جائے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جولائی کے آخر تک اگر ہواوے کو گوگل موبائل سروسز تک رسائی مل جائے تو رواں سال ڈیوائسز کی فروخت 26 کروڑ سے تجاوز کرسکتی ہے جبکہ لائسنس کے بغیر یہ اعدادوشمار 23 کروڑ کے قریب ہوسکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ہواوے کو رواں سال مئی میں ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بلیک لسٹ کیا تھا جس کے لیے کمپنی کے چینی حکومت سے مبینہ روابط کو بنیاد بنایا گیا تھا۔

پہلی بار اسمارٹ فونز کے لیے ڈوئل وائی فائی ٹیکنالوجی متعارف

کیا آپ اکثر اپنے اسمارٹ فون پر وائی فائی کی ناقص اسپیڈ سے پریشان رہتے ہیں؟

تو بہت جلد ایک ایسا فیچر متعارف ہونے والا ہے جو اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کردے گا۔

درحقیقت چینی کمپنیوں ویوو اور اوپو نے ایک نئے فیچر کو متعارف کرایا ہے جسے ڈوئل وائی فائی کا نام دیا گیا ہے۔

ویوو کے ڈوئل وائی فائی ایکسیلریشن نامی فیچر سے صارفین ایک ڈیوائس میں بیک وقت 2 وائی فائی کنکشنز سے کنکٹ ہوسکے گا اور کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی بدولت گیمنگ اور انٹرنیٹ براﺅزنگ کے لیے مستحکم کنکشن قائم ہوگا۔

اس فیچر میں ڈیوائس 2.4گیگا ہرٹز اور 5 گیگاہرٹز وائی فائی سے بیک وقت کنکٹ ہوسکے گی۔

کمپنی نے اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی چینی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی جس میں ڈوئل وائی فائی نیٹ ورک کو آئی کیو او او فون میں کام کرتے دکھایا گیا ہے۔

دوسری جانب اوپو نے بھی اسی طرح کے فیچر کی ویڈیو اوپو رینو 10 ایکس زوم میں استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس میں ڈیوائس 2.4 گیگا ہرٹز اور 5 گیگا ہرٹز نیٹ ورک پر بیک وقت کنکٹ ہوگئی۔

کمپنی کے مطابق اس سے ڈاﺅن لوڈ اسپیڈ عام وائی فائی کنکشن کے مقابلے میں 322 فیصد بڑھ جاتی ہے جبکہ پیج لوڈ اسپینڈ 44.5 فیصد بڑھ جاتی ہے۔

شیاؤمی کا ایک اور مڈرینج فون متعارف

چینی کمپنی شیاﺅمی نے اپنی اینڈرائیڈ ون اسمارٹ فون سیریز کا نیا فون می اے 3 متعارف کرا دیا ہے۔

یہ فون 2 ورژن میں دستیاب ہوگا، ایک ورژن میں 6 جی بی ریم، 64 جی بی اسٹوریج جبکہ دوسرے میں 6 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے، اسٹوریج بڑھانے کے لیے مائیکرو ایس ڈی کارڈ سپورٹ بھی فون میں موجود ہے۔

6.1 انچ کے او ایل ای ڈی اسکرین والے فون میں واٹر ڈراپ نوچ دیا گیا ہے جبکہ 720p ریزولوشن دی گئی ہےحالانکہ گزشتہ سال می اے 2 میں 1080p ریزولوشن دیا گیا تھا۔

فون میں اسنیپ ڈراگون 665 پراسیسر دیا گیا ہے جبکہ4030 ایم اے ایچ بیٹری 18 واٹ فاسٹ چارجنگ سپورٹ کے ساتھ دی گئی ہے، گزشتہ سال کے فون میں 3000 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی تھی۔

اور ہاں فون میں ہیڈفون جیک کی واپسی ہوئی ہے جبکہ فنگرپرنٹ ریڈر کو اسکرین کے اندر منتقل کردیا گیا ہے۔

فون میں ایک نمایاں اپ گریڈ کیمرا سسٹم میں ہوئی ہے۔

اس کے بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ ہے جن میں 48 میگا پکسل کا مرکزی کیمرا ، 8 میگا پکسل کا الٹرا وائیڈ اینگل کیمرا جبکہ 2 میگا پکسل ڈیپتھ سنسر کیمرا دیا گیا ہے۔

بیک کیمروں سے 2160p ویڈیو کو 30 فریم فی سیکنڈ پر ریکارڈ کیا جاسکتا ہے جبکہ فرنٹ پر 32 میگا پکسل سیلفی کیمرا موجود ہے۔

یہ فون آئندہ ہفتے سب سے پہلے اسپین میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا جس کے بعد یہ دیگر ممالک میں متعارف کرایا جائے گا۔

اس کا 6 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج والا فون 249 یورو (44 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) جبکہ 6 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج والا ورژن 279 یورو (لگ بھگ 50 ہزار روپے) میں فروخت کیا جائے گا۔

چھوئے بغیر محض دماغ سے کمپیوٹر کنٹرول کرنا جلد ممکن ہوگا

بہت جلد انسان ہاتھ سے چھوئے بغیر دماغ سے کمپیوٹر کو استعمال کرسکیں گے اور جانوروں پر یہ تجربات کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔

یہ بات ٹیسلا اور اسپیس ایکس جیسی کمپنیوں کے بانی ایلون مسک نے بتائی۔

ان کی ایک اور کمپنی نیورلنک انسان دماغ اور کمپیوٹر کو براہ راست منسل کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اس ٹیکنالوجی کی انسانوں پر آزمائش 2020 میں شروع کردی جائے گی۔

یوٹیوب پر لائیو اسٹریمنگ کے دوران ایلون مسک کا کہنا تھا کہ جانوروں پر تجربات کامیاب رہے ہیں ‘ایک بندر اپنے دماغ سے کمپیوٹر کنٹرول کرنے کے قابل ہوگیا’۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی کے سائنسدانوں کی جانب سے جلد مزید تحقیقی نتائج کو جاری کیا جائے گا۔

اس کمپنی کے قیام کا مقصد دماغی اور ریڑھ کی ہڈی کی انجری یا پیدائشی نقائض کے شکار افراد کی مدد کی جاسکے اور اس ٹیکنالوجی سے چلنے پھرنے یا فہم سے محروم افراد کا علاج ممکن ہوسکے۔

مگر طویل المعیاد بنیادوں پر اس ٹیکنالوجی کا مقصد ڈیجیٹل سپرانٹیلی جنس لیئر کو تشکیل دینا ہے، یعنی انسانوں کو مصنوعی ذہانت سے منسلک کردیا جائے، حیران کن طور پر ایلون مسک آرٹی فیشل انٹیلی جنس کو ماضی میں انسانیت کے لیے خطرہ قرار دے چکے ہیں۔

ایلون مسک کے مطابق ‘ہم یقیناً مکمل دماغی مشین انٹرفیس بنانے کی کوشش کریں گے اور اس ٹیکنالوجی کی بدولت لوگ محض سوچ کر ایک منٹ میں 40 الفاظ ٹائپ کرسکیں گے’۔

اس کمپنی نے رواں سال کے شروع میں سلائی مشین جیسی ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے جانوروں کے دماغوں میں ڈرل سے چھوٹے سوراخ کیے اور الیکٹروڈ کو داخل کیا۔

ایلون مسک کا کہنا تھا ‘ہمیں توقع ہے کہ رواں سال کے آخر تک ایک انسانی مریض پر اس کا تجربہ ممکن ہوسکے گا’۔

تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے اس کی منظوری ملنا مشکل ہوسکتا ہے۔

واٹس ایپ میں ایک بڑی سیکیورٹی کمزوری سامنے آگئی

دنیا کی مقبول ترین میسجنگ اپلیکشنز واٹس ایپ اور ٹیلیگرام میں ایک ایسی کمزوری سامنے آئی ہے جو ہیکرز کو صارفین کی تصاویر اور آڈیو فائلز تک رسائی فراہم کرتی ہے۔

آن لائن سیکیورٹی کمپنی Symantec نے یہ کمزوری دریافت کی۔

کمپنی کے مطابق اس میل وئیر سے واٹس ایپ اور ٹیلیگرام میں ہیکرز صارف کی بھیجی جانے والی تصویر کو بدل سکتے ہیں یا میل کسی انوائس کی تصویر میں نمبروں کو بدلا جاسکتا ہے اور متاثر فرد کسی غلط فرد کو رقم بھیج سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ ان ایپس میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن موجود ہے جو صارفین کو حکومتی نگرانی سے تحفظ فراہم کرنے والا فیچر ہے، یہاں تک کہ یہ کمپنیاں بھی صارفین کے پیغامات نہیں پڑھ سکتی۔

اگرچہ انکرپشن پیغامات کو تحفظ فراہم کرنے والا فیچر ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ایپس انتہائی محفوظ ہیں۔

اس سے قبل رواں سال مئی میں ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ واٹس ایپ میں موجود ایک خامی ہیکرز کو ڈیوائسز میں صرف ایک فون کال سے اسپائی وئیر انسٹال کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

اب Symantec کے مطابق جو نئی کمزوری سامنے آئی ہے، وہ اکاﺅنٹ کو تو ہیک نہیں ہونے دیتی مگر اسے فراڈ کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ کمزوری واٹس ایپ اور ٹیلیگرام میں میڈیا فائلز کو اسٹور کرنے کے طریقہ کار میں چھپی ہے۔

جب فائلز کو ایکسٹرنل اسٹوریج میں محفوظ کیا جاتا ہے تو دیگر ایپس کو اس تک رسائی اور اسے بدلنے کا موقع مل جاتا ہے، جیسے واٹس ایپ میں تصاویر، ویڈیو یا آڈیو فائلز فون ڈیوائسز میں ڈیفالٹ محفوظ ہوتی ہیں جبکہ ٹیلیگران میں اگر گیلری میں محفوظ کرنے کا آپشن ان ایبل ہو تو یہ کمزور پیدا ہوجاتی ہے۔

اس کمپنی کے محققین نے اس میل وئیر کو آزمانے کے لیے واٹس ایپ اور ٹیلیگرام میں بھیجی گئی تصاویر اور آڈیو فائلز میں تبدیلی کا کامیاب تجربہ کیا۔

واٹس ایپ اور ٹیلیگرام کی جانب سے فی الحال اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

تاہم اگر آپ یہ ان ایپس کو استعمال کرتے ہیں تو اس کطرے سے بچنے کے لیے میڈیا اسٹوریج کی سیٹنگز تبدیل کرلیں، یعنی واٹس ایپ میں سیٹنگز اوپن کریں اور میڈیا ویزیبلٹی کو آف کردیں جبکہ ٹیلیگران میں سیو ٹو گیلری کو آف کردیں۔

Google Analytics Alternative