سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

پاک سوزوکی نے نئی آلٹو گاڑی متعارف کرادی

پاک سوزوکی نے نے پاکستان میں پہلی مرتبہ 660 سی سی انجن سے لیس مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑی آلٹو متعارف کرادی ہے۔

کراچی میں جمعہ کو شروع ہونے والے پاکستان آٹو پارٹس شو کے موقع پر سوزوکی آلٹو 660 سی سی کو متعارف کرایا گیا۔

پاک وہیلز کی ایک رپورٹ کے مطابق اس گاڑی کی باقاعدہ فروخت تو عام صارفین کے لیے جون میں شروع ہوگی مگر ایونٹ کے دوران اس کی پہلی جھلک پیش کی گئی جو کہ ممکنہ طور پر 3 ورژن سوزوکی آلو وی ایکس (اے سی کے بغیر)، آلٹو وی ایکس آر (اے سی کے ساتھ) اور آلٹو وی ایکس ایل اے جی ایس (اے سی اور آٹو گیئر شفٹ کے ساتھ) میں دستیاب ہوگی۔

پاک سوزوکی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ایندھن میں بچت دینے کے ساتھ ماڈرن ڈیزائن والی گاڑی ہے جس کے ساتھ کمپنی 3 سالہ وارنٹی دے گی۔

ٹوئٹر فوٹو
ٹوئٹر فوٹو

آلٹو وی ایکس میں اے سی، پاور اسٹیئرنگ، پاور ونڈوز اور دیگر فیچرز موجود نہیں ہوں گے جبکہ وی ایکس آر ورژن میں اے سی تو ہوگا مگر دیگر فیچرز کی تصدیق فی الحال نہیں ہوئی۔

اس کے مقابلے میں آلٹو وی ایکس ایل ماڈل میں آٹو گیئر شفٹ اور اینٹی لاک بریکنگ سسٹم موجود ہوگا جبکہ 2 ائیربیگز بھی دیئے جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر سوزوکی 660 سی سی آلٹو 2019 کی بکنگ صرف کارپوریٹ صارفین کے لیے کھولی گئی ہے، جو اس گاڑی کو 5 لاکھ روپے میں بک کراسکتے ہیں۔

عام صارفین کے لیے یہ گاڑی جون 2019 میں دستیاب ہوگی اور اس وقت ہی قیمت کا اعلان بھی ہوگا مگر اندازہ ہے کہ یہ ساڑھے 9 لاکھ روپے سے شروع ہوگی اور بارہ لاکھ روپے تک (مختلف ورژن کے مطابق) ہوگی۔

خیال رہے کہ یہ گاڑی سوزوکی جانب سے 800 سی سی مہران کو ختم کرنے کے بعد متعارف کرائی گئی ہے۔

بلیک ہول کی پہلی تصویر کی اتنی اہمیت کیوں ہے؟

بلیک ہول فلکیات کا شوق رکھنے والے لوگوں میں بالخصوص اور عام سائنس کے طالب علموں میں بالعموم سب سے زیادہ حیران کن چیزوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے.

بلیک ہول کے بارے میں بچے بڑے سب ہی متجسس ہوتے ہیں اور رواں ہفتے کی خبر دیکھیں تو سائنسدانوں کی طرف سے یہ پیغام سامنے آیا تھا کہ وہ 10 اپریل 2019 (یعنی بدھ) کو بلیک ہول کی حقیقی تصویر منظر عام پر لائیں گے. اس خبر کے بعد سے دنیا بھر کی نظریں ایونٹ ہورائیزن دوربینوں پر تھیں.

10 اپریل کو ‘ایونٹ ہورائیزن دوربین’ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر شیپرڈ ڈوئلیمن نے نیشنل پریس کلب، واشنگٹن ڈی. سی. میں میڈیا اور عام عوام کے سامنے ہماری زمین سے تقریبا 5.5 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر واقع کہکشاں جس کا نام ‘میسیئر 87’ ہے، کے مرکز میں موجود بلیک ہول کی تصویر پیش کی.

‘ایونٹ ہورائیزن دوربین’ ایک دوربین نہیں ہے بلکہ کل آٹھ دوربینوں کا مجموعہ ہے. یہ دوربین نظر آنے والی روشنی کی بجاے ریڈیائی روشنی دیکھتی ہے. اس دوربین میں ایک تیکنیک کا استعمال کیا گیا ہے جسے ‘ویری لونگ بیس لائن انٹرفیرومیٹری’ کہا جاتا ہے.

اس کا مطلب یہ ہے کہ پوری دنیا میں کل آٹھ ریڈیائی دوربینوں کو ایک دوسرے سے سیٹلائٹ کے ذریعے رابطے میں رکھا گیا اور ان تمام دوربینوں سے ایک ہی فلکیاتی جسم سے آنے والے ریڈیائی سگنلز حاصل کرکے ایک تصویر بنائی گئی، چونکہ اس تکنیک میں استعمال کی جانے والی دوربینیں دنیا کے آٹھ مختلف مقامات (ہوائی کے جزیرے، شمالی امریکا، جنوبی امریکا، جنوبی پول، یورپ) پر موجود تھیں اس لئے ان تمام کے ملنے سے بننے والی تصویر ایسی دوربین سے حاصل کی گئی تصویر کے مساوی ہوتی ہے جس کا حجم ہماری زمین کے برابر ہو.

اس تیکنیک کا استعمال اس لئے کیا گیا کیونکہ زمین جتنی دوربین بنانے کے لئے کئی سالوں کا وقت اور کھربوں ڈالر چاہیے جو کہ بہت مشکل ہے. اس تکنیک کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ جب ایک ہی جسم کو کئی دوربینیں دیکھیں گی تو ہمیں اس کی چیز کے بارے میں زیادہ ڈیٹا ملے گا اور اس وجہ سے تصویر کا معیار بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ زیادہ معلومات بھی ملے گی. اس تیکنیک کا استعمال بہت سی دوربینوں میں کیا جاتا ہے.

فلکیاتی اصطلاح میں ایونٹ ہورائیزن بلیک ہول کے گرد اس مقام کو کہا جاتا ہے جس کو پار کرنے کے بعد کوئی بھی چیز، یہاں تک کہ روشنی خود بھی، واپس نہیں آسکتی.

چونکہ اس دوربین کو سائنسدانوں نے بلیک ہول کی تصویر لینے اور اس پر تحقیق کرنے کے لئے استعمال کرنا تھا اس وجہ سے اس دوربین کا نام ‘ایونٹ ہورائیزن دوربین’ رکھ دیا گیا.

اس کی مدد سے جس بلیک ہول کی تصویر لی گئی وہ ایک ‘سپر میسو بلیک ہول’ (بہت بڑا بلیک ہول) ہے یعنی اس کا ماس ہمارے سورج سے تقریبا 6.5 کھرب گنا زیادہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس بلیک ہول میں 6.5 کھرب سورج سما سکتے ہیں.

اس بلیک ہول کا قطر 3 کروڑ 40 لاکھ کلومیٹر ہے اور یہ ہماری زمین سے تقریبا 5.5 کروڑ نوری سال (ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال کے عرصے میں طے کرتی ہے اور یہ فاصلہ تقریبا 9 کھرب کلومیٹر ہے) کے فاصلے پر موجود ہے.

واضح رہے کہ یہاں ‘بلیک ہول کے قطر’ سے مراد بلیک ہول کی ایونٹ ہورائیزن کا قطر ہے جو کہ دائرے کی شکل میں تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے.

جہاں دنیا بھر سے شائقین پرجوش ہیں وہیں بہت سے لوگ یہ سوال کرتے دکھائی دیے کہ بلیک ہول تو سائنس کے مطابق کسی طرح کی روشنی خارج نہیں کرتا تو پھر یہ تصویر کس طرح لی گئی؟

یہ سوال بلیک ہول کے بارے میں سب سے زیادہ پوچھے جانے والا سوال ہے. اس سوال کا آسان سا جواب یہ ہے کہ آج تک سائنسدانوں نے نہ کبھی بلیک ہول کو دیکھا ہے اور نہ ہی آنے والے وقتوں میں دیکھ سکیں گے.

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جب بلیک ہول مادے کو نگلتا ہے تو ایونٹ ہورائزن سے پہلے، شدید کشش کی وجہ سے مادہ ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے اور انرجی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس سب کے نتیجے میں ایونٹ ہورائزن کے بہت قریب ایکس ریز اور ریڈیائی روشنی پیدا ہوتی ہیں جسے زمین پر موجود دوربینوں کی مدد سے تصویر میں قید کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح ہم بلیک ہولز کا مشاہدہ کرتے ہیں.

اس کانفرنس سے پہلے یہ بتایا گیا تھا کہ اس دوربین کی مدد سے دو کہکشاؤں، جن میں ایک ہماری اپنی کہکشاں اور دوسری ایم 87 کہکشاں شامل ہے، کی تصویریں شائع کی جائیں گیں لیکن 10 اپریل کو صرف ایم 87 کہکشاں کے مرکز میں موجود بلیک ہول کی تصویر ہی دکھائی گئی.

اس کی وجہ یہ ہے کہ رواں سال جنوری میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ ملکی وے کے درمیان موجود سپر میسو بلیک ہول سے خارج ہونے والے مادے کا رخ (جس کو جیٹس کہا جاتا ہے) زمین کی طرف ہے. اس وجہ سے دوربینوں کو بلیک ہول کی بجائے تیز روشنی دکھائی دی. اسی لئے آج ہماری کہکشاں کے بلیک ہول کی تصویر نہیں پیش کی گئی.

10 اپریل 2019 کا دن ایک نئی انسانی تاریخ رقم کرگیا کیونکہ آج سائنسدانوں نے جو چیز دیکھی وہ آج سے پہلی کسی سے نہیں دیکھی. بلیک ہول کی اس تصویر سے پہلے آپ نے انٹرنیٹ پر یا سائنس فکشن فلموں میں جتنی بھی تصاویر دیکھیں وہ صرف کمپیوٹر سافٹ ویئر کی مدد سے بنائی گئی اسمولیشنز ہیں، لیکن یہ تصویر کسی سافٹ ویئر کی مدد سے نہیں بنائی گئی بلکہ اس پروجیکٹ میں شامل دنیا بھر کے سائنسدانوں کی ان تھک محنت اور لگن کا نتیجہ ہے.

آج انسان کو پچھلی اقوام پر یہ امتیاز حاصل ہوگیا کہ وہ اس سائنسی دور میں اتنی ترقی کرگیا ہے کہ اس نے کائنات کی چھپی ہوئی چیزوں میں سے ایک پر سے پردہ اٹھا دیا ہے.

آخر میں یہ کہوں گا کہ بلیک ہول کی یہ تصویر ریاضی اور فزکس کے ان تمام حسابات کے عین مطابق ہے جو ایک صدی پہلے بیسویں صدی کے مشہور سائنسدان البرٹ آئن سٹائن اور اکیسویں صدی کے نامور سائنسدان ڈاکٹر سٹیفن ہاکنگ نے کیے، اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ آج کی سائنس صحیح سمت میں جارہی ہے کیونکہ اگر اس کی سمت غلط ہوتی تو کائنات سائنس کی انکاری بن کر خود کو ثبوت کے طور پر پیش کردیتی۔

اوپو کا نیا فلیگ شپ فون رینو 10 ایکس زوم

چینی کمپنی اوپو کو سیلفی کیمرا فونز کے لیے جانا جاتا ہے اور وہ ان کے ڈیزائن کو مسلسل بدلتی رہتی ہے اور اب ایک ایسا ہی خیال ایک نئے فون میں حقیقت کی شکل اختیار کرگیا ہے۔

اوپو کے نئے فون رینو میں سیلفی کیمرے کو بالکل مختلف انداز سے چھپایا گیا ہے جو کہ روایتی سلائیڈر کیمرے سے ہٹ کر ہے۔

چین میں ایک ایونٹ کے دوران اوپو نے رینو سیریز کے فونز رینو 10 ایکس زوم اور رینو اسٹینڈرڈ ایڈیشن متعارف کرائے۔

اوپو رینو 10 ایکس زوم میں طاقتور اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر دیا گیا ہے جبکہ یہ فون 10 ایکس لوز لیس زوم کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کا مظاہرہ اس کمپنی نے رواں سال فروری میں موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران کیا۔

رینو 10 ایکس زوم

فوٹو بشکریہ اوپو
فوٹو بشکریہ اوپو

اوپو کے اس فون میں 6.65 انچ کا امولیڈ نوچ لیس ایچ ڈی پلس ڈسپلے دیا گیا ہے جس میں اسکرین ٹو باڈی ریشو 91.3 فیصد ہے۔

ڈسپلے کے تحفط کے لیے کورننگ گوریلا گلاس 6 استعمال ہوا ہے جبکہ سکستھ جنریشن ان اسکرین فنگرپرنٹ سنسر دیا گیا ہے۔

8 جی بی ریم اور 256 جی بی تک اسٹوریج کے ساتھ اس فون میں 4065 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے جو کہ اوپو کی وی او او سی 3.0 فاسٹ چارجنگ سپورٹ کے ساتھ ہے۔

اس کے فرنٹ پر شارک فن کی طرح کا پوپ اپ سیلفی کیمرا دیا گیا ہے جو کہ 16 میگا پکسل کا ہے۔

اس کے بیک پر 48 میگا پکسل، 8 میگا پکسل اور 13 میگا پکسل پر مشتمل تین کیمروں کا سیٹ اپ موجود ہے۔

یہ فون 3999 چینی یوآن سے 4799 یوآن میں فروخت کیا جائے گا جس کا انحصار ریم اور اسٹوریج ماڈل کے مختلف ورژن پر ہوگا۔

اوپو رینو اسٹینڈرڈ

فوٹو بشکریہ اوپو
فوٹو بشکریہ اوپو

یہ فون 6.4 انچ کے ڈسپلے سے لیس ہے جس میں اسنیپ ڈراگون 710 پراسیسر دیا گیا ہے۔

3700 ایم اے ایچ بیٹری کے ساتھ فاسٹ چارجنگ سپورٹ موجود ہے جبکہ اس کے بیک پر 48 اور 5 میگا پکسل کیمروں کا ڈوئل سیٹ اپ دیا گیا ہے۔

اس کا سیلفی کیمرا بھی اوپو رینو 10 ایکس زوم جیسا ہی ہے۔

اس کی قیمت 2999 یوآن سے 3599 یوآن کے درمیان ہوگی جس کا انحصار ریم اور اسٹوریج ماڈل کے مختلف ورژن پر ہوگا۔

یہ فون دنیا کے دیگر ممالک میں 24 اپریل کو سوئس شہر زیورخ میں ایک ایونٹ کے لیے دوران متعارف کرایا جائے گا اور امکان ہے کہ اس تقریب میں اوپو رینو 5 جی ورژن بھی پیش کیا جائے۔

واٹس ایپ میں فارورڈ پیغامات روکنے کیلئے نیا فیچر

کیا آپ اکثر واٹس ایپ پر اپنے دوستوں کو گروپس میں فارورڈ پیغامات بھیجتے رہتے ہیں؟ اگر ہاں تو اب ایسا کرنے پر آپ کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔

واٹس ایپ کی جانب سے جعلی خبروں کے پھیلاﺅ کی روک تھام کے لیے کافی عرصے سے مختلف فیچرز متعارف کرائے جارہے ہیں اور اب ایسے فیچر کی آزمائش ہورہی ہے جو گروپ ایڈمن کو ہر وقت فارورڈ پیغامات بھیجنے والے صارفین کو روکنے میں مدد دے گا۔

واٹس ایپ کی اپ دیٹس پر نظر رکھنے والے ٹوئٹر اکاﺅنٹ WAbetainfo کے مطابق یہ فیچر اس وقت بیٹ اورژن میں موجود ہے جس میں 2 فیچرز فارورڈنگ انفو اور فریکوئنٹلی فارورڈڈ میسج کی آزمائش کی جارہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جب یہ فیچر سب گروپ سیٹنگز میں متعارف کرایا جائے گا تو گروپ ایڈمن ہی اسے دیکھ سکیں گے۔

اس آپشن پر کلک کرنے پر ایڈمن سے پوچھا جائے گا کہ گروپ کا کونسا رکن زیادہ فارورڈ پیغامات بھیجتا ہے جس کے بعد ایڈمن اسے اس کی اجازت دینے یا روکنے کے آپشنز استعمال کرسکے گا۔

اگرچہ گروپ ایڈمن اس طرح اکثر فارورڈ کرنے والے صارفین کو روک سکتے ہیں مگر صارفین جب کسی بھی میسج کو کاپی پیسٹ کرکے بھی گروپس کو بھیج سکتے ہیں۔

فوٹو بشکریہ WAbetainfo
فوٹو بشکریہ WAbetainfo

مگر اس نئے فیچر سے بیشتر صارفین کو روکنے میں ضرور مدد ملے گی کیونکہ سب صارفین کاپی پیسٹ کرنا پسند نہیں کرتے بلکہ براہ راست فارورڈ کردیتے ہیں۔

اس فیچر کی آزمائش اینڈرائیڈ بیٹا ورژن میں ہورہی ہے اور آئی او ایس ایپ میں دستیاب نہیں۔

واٹس ایپ کی جانب سے گزشتہ چند ماہ کے دوران گروپس کے حوالے سے کئی فیچرز متعارف کرائے گئے ہیں جن میں سب سے اہم گروپ میں ایڈ کرنے کے حوالے سے صارفین کو اختیار دینا ہے۔

ابھی کسی بھی واٹس ایپ گروپ میں جس کا دل چاہتا ہے اپنے دوست کو ایڈ کرلیتا ہے مگر اس نئے فیچر کی بدولت یہ اختیار صارف کے پاس چلا گیا ہے۔

سام سنگ کا پہلا روٹیٹنگ کیمرا فون متعارف

سام سنگ نے اپناگلیکسی اے 80 کی شکل میں اپنا پہلا ایسا اسمارٹ فون متعارف کرادیا ہے جس میں گھوم جانے والا (روٹیٹنگ) کیمرا دیا گیا ہے۔

یعنی بیک کیمرا ہی سیلفی کیمرا کا کام کرے گا جس کے لیے فون میں سلائیڈر کی مدد لی گئی ہے۔

سام سنگ کے اس نئے اسمارٹ فون کو تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں ہونے والے ایک ایونٹ کے دوران متعارف کرایا گیا۔

اس فون میں بیزل حقیقی معنوں میں نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ سیلفی کیمرا ہی موجود نہیں جبکہ 6.7 انچ کی بڑی سپر امولیڈ اسکرین ایف ایچ ڈی پلس ریزولوشن کے ساتھ دی گئی ہے۔

اس فون میں سام سنگ نے اوکٹاکور 730 جی پراسیسر دیا ہے جس کے ساتھ 8 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج موجود ہے جس میں اضافہ کرنا ممکن نہیں کیونکہ ایس ڈی کارڈ سپورٹ نہیں دی گئی۔

سام سنگ نے ہیڈفون جیک کی جگہ یو ایس بی ٹائپ سی پورٹ دی ہے جبکہ ڈوئل سم فون ہے۔

فوٹو بشکریہ سام سنگ
فوٹو بشکریہ سام سنگ

اور ہاں اس میں گلیکسی ایس 10 جیسا الٹراسونک فنگرپرنٹ سنسر دیا گیا ہے جو کہ اسکرین کے اندر نصب ہے۔

اس میں 3700 ایم اے ایچ بیٹری جبکہ بیک پر میٹل فریم کے ساتھ تھری ڈی گلاس ڈیزائن دیا گیا ہے۔

فون کی خاص بات اس کا 3 کیمروں کا سیٹ اپ ہے جس میں پہلی بار سام سنگ نے 48 میگا پکسل پرائمری کیمرا ایف 2.0 آپرچر کے ساتھ دیا ہے جبکہ دوسرا کیمرا 8 میگا پکسل الٹرا وائیڈ (123 ڈگری) ایف 2.2 آپرچری سے لیس ہے جبکہ تیسرا تھری ڈی ڈیپتھ کیمرا ہے۔

یہ ٹرپل کیمرا سسٹم بیک اور فرنٹ دونوں جگہ کام کرتا ہے جو کہ سیلفی کے وقت سلائیڈر کے ذریعے اوپر اٹھ کر گھوم جاتا ہے تاکہ فرنٹ سے تصویر لی جاسکے۔

فوٹو بشکریہ سام سنگ
فوٹو بشکریہ سام سنگ

یہ فون 29 مئی کو فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا مگر کمپنی نے فی الحال اس کی قیمت کا اعلان نہیں کیا۔

گلیکسی نوٹ 10 پہلی بار 2 ورژن میں متعارف کرائے جانے کا امکان

جنوبی کورین سائٹ ای ٹی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سال سام سنگ پہلی بار گلیکسی نوٹ 10 کو 2 مختلف ورژن میں متعارف کراسکتی ہے۔

ان میں سے ایک ڈیوائس 6.28 انچ اسکرین کے ساتھ ہوگی جبکہ دوسرا ماڈل 6.75 انچ ڈسپلے سے لیس ہوگا۔

یہ فونز ایل ٹی ای اور فائیو جی ورژن میں متعارف کرائے جاسکتے ہیں۔

فروری میں سام سنگ نے پہلی بار ایک ساتھ 4 گلیکسی ایس 10 فونز متعارف کرائے تھے، ایس 10، ایس 10 پلس، ایس 10 ای اور ایس 10 فائیو جی۔

اگر سام سنگ کی جانب سے اس سال 2 گلیکسی نوٹ فون متعارف کرائے جاتے ہیں تو اس سال جنوبی کورین کمپنی 6 فلیگ شپ فونز پیش کردے گی۔

اس سے قبل سامنے آنے والی لیکس کے مطابق گلیکسی نوٹ 10 میں 4 بیک کیمروں کا سیٹ اپ دیا جائے گا جیسا گلیکسی ایس 10 فائیو جی میں دیا گیا ہے۔

یعنی گلیکسی نوٹ 10 میں 12 میگا پکسل اسٹینڈرڈ لینس، 12 میگا پکسل ٹیلی فوٹو لینس، 16 میگا پکسل وائیڈ اینگل لینس اور تھری ڈی ڈیپتھ کیمرا دیا جاسکتا ہے۔

گلیکسی نوٹ 10 میں ایس 10 جیسا انفٹنی او ڈسپلے، ہول پنچ ڈوئل سیلفی کیمرا سیٹ اپ اور اسکرین میں نصب فنگرپرنٹ سنسر بھی دیئے جانے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ اس سال گلیکسی نوٹ سیریز کو 9 سال مکمل ہورہے ہیں مگر پھر بھی یہ نوٹ 10 کہلائے گا کیونکہ کمپنی نے نوٹ 6 کی بجائے براہ راست نوٹ 7 متعارف کرادیا تھا۔

ایپل کی جانب سے 5 نئے آئی فونز متعارف کرائے جانے کا امکان

ایپل کے نئے آئی فونز متعارف ہونے میں ابھی کئی ماہ باقی ہیں مگر ایس ایکس، ایکس ایس میکس اور ایکس آر کے اپ ڈیٹ ورژن کے حوالے سے مختلف لیکس سامنے آرہی ہیں۔

درحقیقت اس سال ایپل کی جانب سے دیزائن کے حوالے سے کوئی نمایاں اضافہ نہیں کیا جارہا مگر یہ کمپنی اپنی تاریخ میں پہلی بار 2019 میں 5 نئے آئی فونز ایک ساتھ متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

جاپانی ٹیکنالوجی ویب سائٹ ماکوٹکارا نے ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا کہ آئی فون ایکس ایس، ایکس ایس میکس اور ایکس آر کے اپ ڈیٹ ماڈلز کے ساتھ ساتھ ایپل کی جانب سے 2 نئے او ایل ای ڈی آئی فونز ماڈلز پر کام کیا جارہا ہے جن میں بیک پر 3 کیمرے دیئے جائیں گے۔

ان میں سے ایک 6.1 انچ جبکہ دوسرا 6.5 انچ او ایل ای ڈی اسکرین سے لیس ہوگا۔

اس رپورٹ میں چین میں موجود ایپل سپلائی چین کے ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ان دونوں کے کیمروں میں پہلے سے بڑے لینسز اور سنسرز دیئے جائیں گے۔

یہ دونوں فونز دیگر ماڈلز سے کچھ موٹے ہوں گے جبکہ پہلی بار ان میں ایپل کی جانب سے یو ایس بی سی کنکٹر چارجنگ کے لیے دیا جائے گا یعنی پہلے سے فاسٹ چارجنگ اور ریورس وائرلیس چارجنگ کا فیچر بھی موجود ہوگا۔

آئی فون ایکس، آئی فون ایکس ایس میکس اور آئی فون ایکس آر کے اپ ڈیٹ ورژن کا ڈیزائن تو گزشتہ سال کا ہوگا مگر ہارڈ وئیر کو بہتر بنایا جائے گا۔

اگر ایپل واقعی 5 آئی فونز متعارف کراتی ہے تو صارفین کے لیے کافی مشکل ہوجائے گی تاہم یہ کمپنی اس وقت آئی پیڈ میں 5 ماڈلز کی پیشکش کررہی ہے۔

ہواوے پاکستان میں 5 جی ٹیکنالوجی لانے کی خواہشمند

امریکا اور جنوبی کوریا میں موبائل فونز کے لیے نئی 5 جی ٹیکنالوجی کو متعارف کرا دیا گیا ہے مگر پاکستان میں اس مہنگی ٹیکنالوجی کی کم داموں میں آمد کیسے ممکن ہوگی؟

تو اس کا جواب چین کی کمپنی ہواوے کے پاس موجود ہے جو جنوبی ایشیائی ممالک میں کم قیمت 5 جی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانا چاہتی ہے جس کو امریکا اور یورپ میں اس ٹیکنالوجی کے نیٹ ورک قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکا کی جانب سے ہواوے کو چینی حکومت کا جاسوس قرار دے کر اس کے فائیو جی ٹیکنالوجی نیٹ ورکس کی مختلف ممالک کی تشکیل میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔

اس کا توڑ ہواوے نے ایشیائی ممالک میں فائیو جی کو پھیلانے کی شکل میں نکالا ہے جہاں پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں اس کمپنی کو پہلے ہی کافی مضبوط پوزیشن حاصل ہے جبکہ یہ بھارتی تحفظات دور کرنے کے لیے بھی کام کررہی ہے جہاں فائیو جی کی آزمائش رواں سال کے آخر میں شروع ہونے کا امکان ہے۔

جاپانی روزنامے نکائی ایشین رویو سے بات کرتے ہوئے جنوبی مشرقی ایشیا کے لیے ہواوے کے ایک ترجمان نے کہا ‘ سیاست نہیں، بس ڈیجیٹل، یہ وہ انتخاب ہے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کا فائدہ ہے، ہم اپنے صارفین کے لیے ٹرائل مکمل کرنے کی کوشش کریں گے اور فائیو جی ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے میں انڈسٹری کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے’۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان، سری لنکا اور بھارت فائیو جی سروسز کو کمرشل بنیادوں پر اگلے سال کی دوسری ششماہی کے دوران متعارف کرانے کے خواہشمند ہیں جبکہ بنگلہ دیش میں فائیو جی نیٹ ورک کا قیام 2021 تک ممکن ہوسکے گا۔

جنوبی ایشیا میں دنیا کی کل آبادی کا 25 فیصد حصہ رہائش پذیر ہے اور یہاں موبائل انٹرنیٹ کے استعمال کی شرح 2025 تک 61 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے اور یہی وجہ ہے کہ فائیو جی آلات بنانے والے کمپنیوں جیسے ہواوے کے لیے یہ کسی سونے کے کان سے کم نہیں۔

اس کمپنی نے 2018 کے دوران 105 ارب ڈالرز کمائے حالانکہ اسے امریکا کی جانب سے فائیو جی نیٹ ورکس کے حوالے سے مشکلات کا بھی سامنا ہے اور کیرئیر بزنس میں 1.3 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

رپورٹ میں پی ٹی اے کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہواوے پہلے ہی پاکستانی مارکیٹ میں مضبوطی سے قدم جماچکی ہے، جس کا اسے فائدہ ہوگا’۔

چین اور پاکستان کے قریبی تعلقات بھی اس کمپنی کو فائیو جی کے پھیلاﺅ کے عزائم کے حوالے سے ممکنہ طور پر مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

ہواوے کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا اور جنوبی مشرقی ایشیا میں اگلے 5 برسوں کے دوران 1.2 ٹریلین ڈالرز کے اقتصادی مواقعوں کو فراہم کرے گی۔

کمپنی کے مطابق فائیو جی صارفین کی تعداد 8 کروڑ سے تجاوز کرجائے گی، انٹرنیٹ ٹریفک میں مجموعی طور پر 5 گنا اضافہ ہوگا جبکہ بیس سے زائد اسمارٹ سٹی قائم ہوں گے، وائرلیس، ڈیجیٹل اور انٹیلی جنٹ آلات سماجی ترقی کو اوسطاً 4 سے 8 فیصد بہتر کردیں گے۔

مگر ہواوے کے لیے ایک بڑی مشکل جنوبی ایشیا میں اس مہنگی ٹیکنالوجی کو مناسب داموں میں صارفین تک پہنچانا ہوسکتی ہے کیونکہ پرکشش ٹیرف ہی زیادہ تعداد میں لوگوں کو فائیو جی کی جانب لے کر جائیں گے۔

پاکستان کی ٹاپ لائن سیکیورٹی انویسٹرز ایڈوائزری کے سربراہ محمد سہیل کے مطابق پاکستان میں اس وقت انٹرنیٹ ڈیٹا چارجز دیگر ترقی پذیر ممالک سے کافی زیادہ ہیں، فائیو جی کی زیاہد قیمت سے لاگت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ فائیو جی نیٹ ورک موجودہ موبائل انٹرنیٹ کنکشنز سے سو گنا جبکہ گھروں کے براڈ بینڈ کنکشنز سے 10 گنا تیز ہوگا۔

فائیو جی کے ذریعے ڈھائی سے تین گھنٹے کی فلم محض ایک سیکنڈ میں ڈاؤن لوڈ کی جا سکے گی۔

فائیو جی ٹیکنالوجی کو جدید انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب قرار دیا جا رہا ہے یہ ٹیکنالوجی آرٹیفیشل انٹیلی جنس، خود کار گاڑیوں، بجلی گھروں، ہسپتالوں کے آلات سمیت دفتری امور کے دیگر آلات میں بھی استعمال کی جا سکے گی اور اس سے کام کا معیار حالیہ معیار سے 100 فیصد بہتر ہونے کا امکان ہے۔

Google Analytics Alternative