سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

موم بتی سے بجلی تیار کرنے والے روبوٹس کا ایجاد

لاہور: لاہورمیں انفارمیشن ٹیکنالوجی یو نیورسٹی کے طالب علموں نے موم بتی سے بجلی تیار کرنے والے روبوٹ بنالیے۔ یہ روبوٹ آگ میں پھنسے لوگوں کو بچا نے جیسی امدادی سرگرمیاں بھی انجام دے سکیں گے۔آئی ٹی یونیورسٹی ارفع کریم ٹاور میں تھرڈ سیمیسٹر کے طلبہ کے تیار کردہ 25ربوٹس کی نمائش کی گئی، روبوٹس دیکھنے کیلئے بڑی تعداد میں شائقین موجود تھے۔ یو نیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمر سیف کاکہنا تھا کہ طلبہ کی یہ تخلیقی کاوش خوش آئندہے ، ا س حوالےسے انہیں بھرپور تعاون فراہم کریں گے۔روبوٹس تیار کرنے والے طلبہ کا کہنا تھا کہ یہ روبوٹ موم بتی سے بجلی تیار کریں گے اوراگر کہیں آتشزدگی کی صورت میں شیشے توڑ کر پھنسے لوگوں کو بچائیں گے۔نمائش کے شرکاء کا کہناتھاکہ پاکستان میں روبوٹس کی تیاری پہلا اور حیران کن واقعہ ہے۔

“محمد‘‘ اور ’’اسلام‘‘ کو گوگل میں سب سے زیادہ سرچ کیا گیا

لاہور : عالمی شہرت یافتہ بلاگ پیپل کین چینج دی ورلڈ کی طرف سے اپنی حالیہ پوسٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ رمضان المبارک میں دنیا بھر میں استعمال ہونے والے سرچ انجن گوگل پر صارفین کی طر ف سے سرچ کئے جانے والے الفاظ میں لفظ ’’محمد‘‘ کو سب سے زیادہ سرچ کیا گیا ہے۔ جبکہ عالمی شہرت یافتہ سوشل میڈیا ایجنسی میڈیا ڈور کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق عالمی مذاہب میں لفظ ’’اسلام‘‘ انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ سرچ کیا گیا جبکہ دوسرے نمبر پر عیسائیت اور تیسرے نمبر پر لفظ یہودیت سرچ کیا گیا

سب سے زیادہ آمدنی امریکا اور کینیڈا سے ہوئی”فیس بک”

فیس بک نے گزشتہ سال آپ سے کتنی آمدنی حاصل کی؟ اس بات کا انحصار اس چیز پر ہے کہ آپ دنیا کے کس حصے سے تعلق رکھتے ہیں۔

فیس بک نے 27 جنوری کو اعلان کیا کہ گزشتہ سال اس کی آمدنی 18 ارب ڈالر تھی جو کہ 2014 کے مقابلے میں 40 فیصد گروتھ ہے۔

فیس بک نے گزشتہ سال چار ارب ڈالر صرف منافع میں کمائے جبکہ اس کے ہر ماہ سرگرم صارفین کی تعداد 1.6 ارب تک جاپہنچی۔

دنیا بھر میں اوسطاً ہر ایک فیس بک صارف نے تقریباً 12 ڈالر سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ کی آمدنی میں اضافہ کیا۔

فیس بک کی جانب سے مہیا کیے گئے اعداد و شمار میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ کمپنی کو دنیا کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ آمدنی امریکا اور کینیڈا سے ہوئی۔

ایپل نے ورچوئل رئیلٹی ماہرین کومائیکروسافٹ سے توڑ کر اپنے ساتھ شامل کیا

ایپل نے اپنے ایک اور خفیہ منصوبے پر کام شروع کردیا ہے اور اس بار وہ ورچوئل رئیلٹی ٹیکنالوجی کے حوالے سے کام کررہی ہے۔

ایپل نے اس ٹیکنالوجی پر کام کرنے کے لیے سینکڑوں افراد پر مشتمل ایک خفیہ ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے۔

اس ٹیم میں ورچوئل رئیلٹی ماہرین کو شامل کیا گیا ہے جنھیں ایپل نے مخالف کمپنیوں جیسے مائیکروسافٹ وغیرہ سے توڑ کر اپنے ساتھ شامل کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایپل کی یہ ٹیم ایک ورچوئل رئیلٹی ہیڈسیٹس کے نمونے کی تیاری کے لیے کئی ماہ سے کام کررہی ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ ڈیوائس آئی فون میں توسیع ہوگی جیسے سام سنگ کا گئیر وی آر اور گوگل کا کارڈ بورڈ یا یہ اوکیلوس رفٹ یا ایچ ٹی سی وائیو کی طرح ایک خودمختار ڈیوائس ہوگی۔

ایپل اپنے اکثر منصوبوں کو برسوں تک خفیہ رکھتی ہے اور ان کے بارے میں کسی کو علم بھی نہیں ہوتا۔

جس کی مثال ایپل کے مبینہ کار کی تیاری کا منصوبہ ہے جسے پراجیکٹ ٹائٹن کا نام دیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس پراجیکٹ کے تحت ایپل کی جانب سے ایک الیکٹرک کار کی تیاری پر کام کیا جارہا ہے تاہم کمپنی نے ابھی تک اس کا اعتراف نہیں کیا ہے۔

تاہم ایپل کے سی ای او ٹم کک نے رواں ہفتے کے دوران کہا تھا کہ ورچوئل رئیلٹی میں چند دلچسپ اپلیکشنز موجود ہیں جن پر کام کیا جاسکتا ہے

فیس بک نے ایک دلچسپ فیچر متعارف کرایا

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک اکثر نت نئے فیچرز متعارف کراتی رہتی ہے جن کا اعلان بھی ہوتا ہے۔

مگر کئی بار وہ چپکے سے کوئی چیز صارفین کے لیے پیش کردیتی ہے جس کا انہیں اندازہ بھی نہیں ہوتا۔

تو ایسا ہی اس بار بھی ہوا ہے اور فیس بک نے ایک دلچسپ فیچر متعارف کرایا ہے جس کا اکثر بلکہ کروڑوں افراد کو علم ہی نہیں ہوسکا۔

اور وہ ہے ایموجیز میں آنے لیے ایک دلچسپ تبدیلی۔

جی ہاں فیس بک نے اپنے چیٹنگ کے شوقین صارفین کے لیے عام ایموجیز میں ایک تبدیلی کی ہے جس کا اندازہ اکثر افراد کو نہیں ہوسکا۔

وہ تبدیلی یہ ہے کہ اگر آپ مسکراہٹ کا ایموجی کے الفاظ 🙂 ٹائپ کرکے بھیجتے ہیں تو اس کا سائز بڑا ہوجاتا ہے۔

اور یہ سائز صرف اسی وقت بڑا ہوسکتا ہے جب کسی بھی ایموجی کو ٹائپ کرکے بغیر کوئی جملہ لکھے فیس بک فرینڈ کو بھیج دیا جائے۔

آپ بھی ایسا کرکے دیکھیں اور فیس بک کے اس دلچسپ خفیہ فیچر سے لطف اندوز ہو جو اس نے چپکے سے بغیر کسی اعلان کے متعارف کرایا۔

پاکستان سمندری ہواﺅں کے خطرناک طوفان النینو کے زد میں

کراچی: پاکستان سمیت دنیا کے اکثر ممالک سمندری ہواﺅں کے خطرناک طوفان النینو کے زد میں ہیں۔ انٹرنیشنل پینل آن کلامیٹ چینج نے النینو طوفان کے خطرے سے آگاہ کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق انسانوں کی پھیلائی ہوئی تباہی کے اثرات اب موسمیاتی تبدیلیوں کی صورت میں ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔امریکہ میں برف اور برفیلی ہواوں کا تباہ کن طوفان برپا ہے کسی خطے میں گرمی کی شدید لہر نے لوگوں کو پریشان کیے رکھا اور کہیں طویل خشک سالی کا راج طویل عرصے سے جاری ہے جبکہ پہاڑی علاقوں میں شدید دھند جان چھوڑنے کا نام نہیں لے رہی۔عالمی سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک سمندروں میں چلنے والی خط استوا پرٹریڈ ہواوں کے کرنٹ النینو کے زیراثر ہیں جس سے امریکہ آسٹریلیا فلپائن سنگاپور سمیت جنوبی ایشیا کے موسم بر ی طرح تبدیل ہو چکے ہیں۔ انٹرنیشنل پینل آن کلائمیٹ چینج کی رپورٹ فائیو میں کہا گیا ہے کہ النینو طوفان سے پاکستان کے جنوبی علاقے خشک سالی اور شمالی علاقے بارشوں سے بری طرح متاثر ہونے کا امکان ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ امریکہ کی طرح یہاں بھی حکومت خطرے کو بھانپ جاتی لیکن یہاں وزارت موسمیاتی تبدیلیاں اس سے لاعلم اور متعلقہ محکمے چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ رپورٹ میں خبر دار کیا گیا ہے کہ بحرہند پر بننے والے ہوائی غبارے سے سنگاپور بھارت اور کراچی سمیت ساحلی علاقوں میں گرمی کی شدید لہر آنے کا پھر خطرہ ہے۔

کائنات دو عظیم دھماکوں ( بگ بینگ) سے گزری ہے “امریکی ماہرِ طبیعیات”

نیویارک:  امریکی ماہرِ طبیعیات نے دعویٰ کیا ہے کہ کائنات دو عظیم دھماکوں ( بگ بینگ) سے گزری ہے اور دوسرے دھماکے کی وجہ سے کائنات کے پھیلاؤ میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔امریکا میں طبیعیات کے سائنسدان کے مطابق کائنات میں جابجا موجود تاریک مادہ (ڈارک میٹر) اسی عمل کی وجہ سے وجود میں آیا تھا جب کہ یہ دلچسپ نظریہ کہتا ہے کہ ایک ’’بگ بینگ‘‘ سے کائنات وجود میں آئی اور دوسرے لیکن کم شدت کے بگ بینگ سے کائنات میں سرد تاریک مادہ پیدا ہوا تھا۔ سائنسدان کے مطابق ہم جانتے ہیں کہ پہلے بگ بینگ میں ایک سیکنڈ کے کم وقفے کے لیے کائنات فوری طور پر پھیلی تھی جس کے بعد مادہ اور ضدِ مادہ اور دیگر تمام ذرات وجود میں آئے لیکن کائنات پھیلتے ہی ٹھنڈی ہوتی گئی اور کائناتی ذرات کے ٹکرانے اور آپس میں ردِ عمل کی رفتار سست پڑگئی تھی۔امریکی سائنسدان کا خیال ہے کہ کائنات کے پہلے پھیلاؤ کے بعد ایک اور دھماکا یا واقعہ ہوا تھا اور نظریئے کی رو سے کائنات مزید وسیع ہوئی اور ذرات کو مزید پھیلنے اور حرکت کی جگہ ملی جب کہ اسی وجہ سے کائنات میں تاریک مادہ وجود میں آیا تھا، اس طرح پہلے دھماکے سے کائنات میں مادے کی بھرمار ہوئی تو دوسرے دھماکے سے مادہ بننا بند ہوگیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئے نظریئے کی رو سے کائنات میں موجود پراسرار مادے کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔سائنسدان کے مطابق کائنات کی پیدائش کے صرف چند سیکنڈ کے بعد ہی دوسرا چھوٹا دھماکا ہوا تھا جس سے تاریک مادہ کثافت سے مزید ہلکا ہوگیا تھا اور آج بھی اسی ترتیب میں موجود ہے۔ سائنسدان کا کہنا ہے کہ ان کے نظریات کو تجربات کے ذریعے جانچا بھی جاسکتا ہے۔سائنسدان کے مطابق ان کا نظریہ کائنات کے مروجہ علوم کے تحت نہیں لیکن یہ ضرور ماننا پڑے گا کہ کائنات پر ان قوتوں کا راج نہیں جو ہم سوچتے ہیں جب کہ کائنات میں میں مجموعی طور پر 85 فیصد مادہ تاریک مادے پر مشتمل ہے جو دکھائی نہیں دیتا۔

ایک ایسی ویب سائٹ جس سے موبائل فون کریش ہوکر بند ہوجائے گا

نیویارک: گزشتہ سال سوشل میڈیا پر ایک ایسا ٹیکسٹ لوگوں کی توجہ کا مرکز رہا جسے کھولتے ہی موبائل فون کریش کرجاتا تھا لیکن اب ایک ایسی پراسرار ویب سائٹ نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ہے جسے کھولتے ہی آپ کے موبائل کا ویب براؤزر یا پھر موبائل فون کریش ہوکر بند ہوجائے گا۔

اگر آپ آئی فون صارف ہیں تو خبردار رہیں کیونکہ ایک ایسی ویب سائٹ یا لنک بھی ہے جسے کھولتے ہی آپ کا موبائل کریش کرجائے گا اور آپ کو مجبورکرے گا کہ آپ اپنے موبائل کو ری بوٹ کریں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کریش سفاری ڈاٹ کام وہ ویب سائٹ ہے جسے کلر ویب سائٹ کا نام دیا جا رہا ہے اور جسے کھولتے ہی فون پر بے شمار نمبرز آنے لگتے ہیں اور فون کریش کرجاتا ہے۔ ایک اور ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ آئی فون سکس ایس اور آئی فون 5 ایس رکھنے والے صارفین کے لیے یہ ویب سائٹ زیادہ خطرناک ہے جب کہ گوگل کروم کے ذریعے اس ویب سائٹ کو کھولنے سے انیڈرائڈ موبائل کی رفتار بھی سست پڑ جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ویب سائٹ موبائل کو مستقل طور پر نقصان نہیں پہنچاتی تاہم آپ کو پریشان کردیتی ہے کیوں کہ اس کے بعد موبائل فون کو ری اسٹارٹ کرنا لازمی ہوجاتا ہے اسی لیے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اجنبی ویب سائٹ اور لنکس سے ہوشیار رہیں یہ آپ کے فون کو کریش کرسکتی ہیں۔ ٹویٹرپر سفاری کریش ڈاٹ کام کے بارے میں لوگوں کو متنبہ کرنے کے باوجود اب تک ایک لاکھ صارفین اس لنک پر کلک کر کے نقصان اٹھا چکے ہیں۔

Google Analytics Alternative