سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

اگر کسی نے آئی فون کا اگلا ماڈل خریدا تو اس کے ساتھ کیا ہو گا،دوست ملک کمپنی نے علان کر دیا

بحیرہ جنوبی چین کے معاملات میں امریکی مداخلت کے بعد امریکہ کے خلاف چینی عوام کی نفرت آخری حدوں کو چھونے لگی ہے۔ حال ہی میں جب امریکہ کے اتحادی فلپائن نے عالمی ثالثی عدالت میں چین کے خلاف دائر کیا گیا مقدمہ جیت لیا تو یہ نفرت اور بھی بڑھ گئی۔ چینی عوام ہر ممکن طریقے سے اس نفرت کا اظہار کر رہے ہیں اور صوبے زی جیانگ سے تعلق رکھنے والی کمپنی بینا ٹیکنالوجی کا اعلان بھی اس کی ایک مثال ہے۔<br/> ایک معروف چائنیز ویب سائٹ شنگائسٹ کے مطابق بینا ٹیکنالوجی کے سربراہ نے اپنے تمام ملازمین سے کہا ہے کہ وہ امریکی کمپنی ایپل کے تیار کردہ آئی فون استعمال کرتے ہیں تو فوراً اس سے پہلے اسے توڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں، کیونکہ اس کے بدلے انہیں نیا فون خریدنے کیلئے رقم دی جائے گی۔ کمپنی کے جنرل منیجر یانگ ینلانگ کا کہنا تھا کہ ملازمین کو نہ صرف ان کے پاس موجود آئی فون پھینکنے کو کہا گیا ہے بلکہ یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ نیا آنیوالا آئی فون 7 کسی نے خریدنے کی کوشش بھی کی تو اسے ملازمت سے نکا ل دیا جائے۔ گا یانگ کا کہنا ہے کہ کمپنی نے یہ قدم وطن کی محبت میں اٹھا یا ہے۔ کمپنی کی جانب سے باقاعدہ حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس میں ملازمین پر یہ تمام باتیں واضح کی گئی ہیں۔ اس حکم نامے کی تصویر نے چینی سوشل میڈیا میں خوب ہلچل مچا رکھی ہے اور چینی انٹرنیٹ صارفین اسے بہت سراہ رہے ہیں۔‎

سرائیوو: ’پوکےمون تلاش کرنے والے بارودی سرنگوں سے محتاط رہیں‘

سرائیوو : بوسنیا کی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ مقبول موبائل فون گیم پوکےمون گو کھیلتے ہوئے ان علاقوں میں جانے سے گریز کیا جائے جہاں جنگ کے دوران بارودی سرنگیں بچھائی گئیں تھیں.

تفصیلات کے مطابق بوسنیا میں 1990 کی دہائی کے دوران بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو نکالنے والے فلاحی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ گیم کھیلتے ہوئے کئی افراد خطرناک علاقوں میں گئے ہیں.

بوسنیا میں 1995 میں جنگ ختم ہونے کے بعد سے بارودی سرنگوں کے حادثے میں کم سے کم چھ سو افراد ہلاک ہوئے ہیں اور اب تک مختلف علاقوں سےایک لاکھ بیس ہزار بارودی سرنگیں نکالی گئی ہیں.

یاد رہےاس گیم میں سمارٹ فون کا استعمال کرتے ہوئے حقیقی دنیا میں چھپے ایک کردار کو دریافت کرنا ہوتا ہے،جیسے جسیے سمارٹ فون گیم پوکےمون گو مقبول ہو رہی ہے ویسے ہی ویسے مختلف حادثات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے.

لینڈ مائینگ کے خلاف سرگرم فلاحی تنظیم نے فیس بک پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’ہمیں کچھ ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ بوسنیا میں پوکےمون گو ایپ استعمال کرنے والے پوکےمون کی تلاش میں ایسے علاقوں میں گئے جہاں بارودی سرنگوں کا خطرہ ہے۔‘

انہوں نے’عوام پر زور دیا ہے کہ خطرناک علاقوں میں لگے سائن بورڈ کا خیال رکھیں اور انجان علاقوں میں مت جائیں۔‘

واضح رہےکہ اس سے قبل امریکہ میں دو ایسے لڑکوں کو چور سمجھ کر ان پر فائرنگ کی گئی تھی جو رات کو گیم کے کردار کو ڈھونڈ رہے تھے.

فیس بک میسنجر کے صارفین ایک ارب سے تجاوز

معلوم ہوتا ہے کہ فیس بک اپنی میسنجر سروس کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں تندہی سے مصروف ہے، یہی وجہ ہے کہ میسجنگ ایپ نے ایک نیا سنگ میل طے کرلیا ہے اور اس کے ماہانہ صارفین کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس سے قبل رواں سال اپریل میں بتایا گیا تھا کہ 90 کروڑ افراد فیس بک میسنجر استعمال کررہے ہیں۔

فیس بک نے اس موقع پر ایک نیا بیلون فیچر میسنجر میں شامل کیا ہے جو پیغامات میں اُس وقت اینیمیشن کا اضافہ کردیتا ہے جب کوئی بیلون یا غبارے کا ایموجی استعمال کرتا ہے۔

فیس بک نے میسنجر کے حوالے سے نئے اعدادوشمار بھی پیش کیے ہیں۔

ان اعدادوشمار کے مطابق میسنجر استعمال کرنے والے ہر ماہ 17 ارب سے زائد تصاویر کا تبادلہ کرتے ہیں جبکہ روزانہ 22 ملین اینیمیٹڈ جی آئی ایف ارسال کیے جاتے ہیں۔

اس وقت میسنجر میں 18 ہزار سے زائد چَیٹنگ بوٹس بھی موجود ہیں جو صارفین کو مختلف خدمات فراہم کرتے ہیں۔

میسنجر فیس بک کی چوتھی ایپ ہے جس نے ایک ارب صارفین کا سنگ میل طے کیا ہے، اس سے قبل فیس بک، واٹس ایپ اور فیس بک گروپس نے بھی یہ سنگ میل طے کیا تھا جبکہ انسٹاگرام کے صارفین کی تعداد 50 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔

میسنجر کا یہ سنگ میل اس لیے بھی حیران کن ہے کیونکہ 2 سال قبل اس کے صارفین کی تعداد صرف 20 کروڑ تھی جس کے بعد فیس بک نے لوگوں کو زبردستی اس کے استعمال پر مجبور کرنے کے لیے اسے الگ ایپ کی شکل دی اور متعدد نئے فیچرز متعارف کرائے۔

آئی فون کے 3 نئے ماڈلز سامنے آنے کا امکان

ایپل کی جانب سے ہر سال ستمبر میں اپنے نئے آئی فون کو متعارف کرایا جاتا ہے مگر اس بار یہ کمپنی ایک یا دو نہیں بلکہ 3 نئی ڈیوائسز کو پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

جی ہاں ایپل سے متعلق لیکس جاری کرنے والی ویب سائٹ نو ویئر ایلس ڈاٹ ایف آر نے نئی تصاویر لیک کی ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ ایپل کی جانب سے اس سال تین آئی فون 7 متعارف کرائے جائیں گے۔

ان تصاویر کے مطابق ہر سال کی طرح اس بار بھی ایپل کی جانب سے 4.7 انچ کا آئی فون 7 اور 5.5 انچ کا آئی فون پلس ماڈل تو پیش کیا ہی جائے گا۔

تاہم اس کے ساتھ ساتھ ایپل کی جانب سے آئی فون سیون پرو نامی ماڈل بھی متعارف کرایا جائے گا جس میں ڈوئل رئیر کیمروں کو دیا گیا ہے۔

یہ رپورٹس پہلے بھی سامنے آچکی ہیں کہ ایپل کی جانب سے 5.5 انچ کے دو آئی فون 7 ماڈلز کو ٹیسٹ کیا جارہا ہے۔

تاہم یہ پہلی بار ہے کہ تصاویر سے عندیہ ملا ہے کہ آئی فون پلس میں بھی ایک ہی کیمرہ ہوگا جبکہ آئی فون پرو میں دو کیمروں کو دیا جائے گا۔

بظاہر یہ اقدام ایپل کی جانب سے سام سنگ کے گلیکسی ایس سیون، ایس سیون ایج اور آئندہ ماہ گلیکسی نوٹ 7 کے مقابلے پر کیا جارہا ہے۔

ان تصاویر میں نئے آئی فون کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں دی گئیں۔

ایپل کی جانب سے نیا آئی فون ستمبر میں متعارف کرائے جانے کی روایت ہے تاہم اس سال لگتا ہے کہ گزشتہ سال کے ماڈل کے مقابلے میں کچھ زیادہ اہم ری ڈیزائننگ نہیں کی گئی تاہم ہیڈ فون جیک کو ضرور ختم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

اے ٹی ایم فراڈ سے کیسے بچیں؟

حال ہی میں کراچی میں دریافت ہونے والے اے ٹی ایم فراڈ کے حوالے سے کچھ خبریں سامنے آئی تھیں۔ ملزمان نے اسکیمر کو ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کے بینکنگ ڈیٹا کے حصول کے لیے استعمال کیا۔

یہ اس طرح کے فراڈ کو دریافت کرنے کا پہلا موقع تھا، جس میں گرفتاریاں بھی عمل میں آئی تھیں۔ اسکیمرز ایسی ڈیوائس ہے جسے اے ٹی ایم کارڈ سلاٹ پر نصب کیا جاتا ہے جو میگنیٹک پٹی کے ڈیٹا کو پڑھتی ہے۔

اس دھوکے میں نہ رہیں کہ آپ کا کارڈ، جس میں ایک چپ ہوتی ہے، اس طرح کی ڈیوائس سے بچ سکتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ خاص طور پر پاکستان میں بیشتر ٹرمینلز ایسے ہیں جہاں میگنیٹک پٹی کے ڈیٹا کو پڑھنے کے لیے پرانی ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جارہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ڈیٹا اب تک اس پٹی میں اسٹور ہوتا ہے۔

جب کارڈ سلاٹ میں ڈالیں، تو ہلکے سے ہلا جلا لیں، ایسا کرنے سے اسکیمر کی ڈیٹا پڑھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، ایسی بیشتر ڈیوائسز کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ کارڈ کو ہموار طریقے سے سلاٹ میں ڈالا جائے۔

جب پن کوڈ انٹر کریں تو بٹنوں کو ہمیشہ اپنے ہاتھ سے کور کرلیں چاہے وہاں کوئی اسکیمر یا کیمرہ نہ ہو، اس طرح کرنے سے آپ اپنے قریب موجود افراد کو پن کوڈ کے نمبر جاننے سے بھی روک سکتے ہیں۔

ایسے اے ٹی ایم کو استعمال کرنے سے گریز کریں جو سائیڈ واک میں نصب ہو یا ویران اور ایسے مقامات پر ہو جہاں لوگوں کا آنا جانا کم ہو۔

اب آپ بھی ٹوئٹر پر ‘سلیبرٹی’ بن سکتے ہیں

سان فرانسسکو: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے اپنے عام صارفین اور دیگر غیر تصدیق شدہ تنظیموں کے اکاؤنٹس کو بھی تصدیق شدہ ہونے کا موقع فراہم کردیا۔

اس فیصلے کے بعد اب ہر کوئی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ‘بلیو ٹک’ (Blue Tick) حاصل کرکے ‘سلیبرٹی’ کا درجہ حاصل کرسکے گا۔

اس سے قبل تک ٹوئٹر، صارفین تک رسائی حاصل کرکے ان کے اکاؤنٹ کی تصدیق کیا کرتا تھا، لیکن اب ویب سائٹ نے صارفین کو یہ سہولت فراہم کردی ہے کہ وہ محض ایک آن لائن فارم بھر کر ہی اپنے اکاؤنٹ کو تصدیق شدہ بنا کر اس پر بلیو ٹک حاصل کرسکیں گے۔

اسکائپ کا پرانے فونز پر سپورٹ ختم کرنے کا اعلان

انٹرنیٹ پر اپنے پیاروں سے ویڈیو کالز کے ذریعے رابطے کی بات ہو تو سب سے پہلے ذہن میں اسکائپ کا خیال آتا ہے تاہم اب اس کے صارفین کے لیے بری خبر سامنے آئی ہے۔

جی ہاں مائیکروسافٹ نے اسکائپ کے حوالے سے اہم اعلان کیا ہے جس کے تحت ونڈوز فون 8 یا اینڈرائیڈ کے پرانے ورژن کے اسمارٹ فونز استعمال کرنے والے اب اسکائپ تک رسائی حاصل نہیں کرسکیں گے۔

مائیکروسافٹ کا کہنا تھا کہ اب آئی او ایس 8 (آئی فون)، اینڈرائیڈ 4.03 اور ونڈوز 10 موبائل استعمال کرنے والے ہی اس ویڈیو کالنگ ایپ کی سروس سے مستفید ہوسکیں گے۔

مائیکروسافٹ کے اسکائپ کے سربراہ گردیپ پال نے تسلیم کیا کہ گزشتہ برسوں کے دوران اسکائپ کو کچھ مسائل کا سامنا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ مسائل جیسے پیغامات کا ڈیوائسز پر سائنک نہ ہونا یا نوٹیفکیشن میں تاخیر کا سامنا صارفین کو ہوا ہے۔

تاہم ان کے بقول ان مسائل کے اپنے صارفین پر اثرات کو دیکھتے ہوئے ہم انہیں فوری طور پر حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم ونڈوز 8.1 فون یا اینڈرائیڈ کے پرانے ورژن استعمال کرنے والے صارفین کو مسائل کا زیادہ سامنا ہوتا ہے لہذا اس کے لیے ہم اسکائپ سپورٹ ختم کررہے ہیں۔

مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ اسکائپ کو پی ٹو پی سے کلاﺅڈ سرورز پر منتقل کیا جارہا ہے جس میں کچھ مشکلات کا سامنا ہے اور ابھی یہ عمل مکمل نہیں ہوا۔

تاہم کمپنی کو توقع ہے کہ یہ عمل آئندہ چند ماہ کے دوران مکمل کرلیا جائے گا۔

دنیا کا سستا ترین اسمارٹ فون متعارف جس کی قیمت 400 روپے صرف

ویسے تو سن کر یقین کرنا مشکل ہے مگر 400 پاکستانی روپے کا اسمارٹ فون خریدنا پسند کریں گے؟

جی ہاں انڈین کمپنی رنگنگ بیلز نے فروری میں فریڈم 251 کے نام سے دنیا کا سستا ترین اسمارٹ فون متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا جس کی قیمت 251 انڈین روپے (4 ڈالر یا 400 پاکستانی روپے) تھی جس کے بعد 73.5 ملین افراد نے کمپنی کی ویب سائٹ پر ڈیوائس کی بکنگ کرالی تھی۔

تاہم صارفین کو موبائل فون نہ ملنے پر کمپنی کے خلاف فراڈ اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کے تحت مقدمات درج ہوگئے تھے تاہم اب لگتا ہے کہ یہ ڈیوائس سامنے آنے کے لیے تیار ہے۔

رنگنگ بیلز کے منیجنگ ڈائریکٹر موہت گوئیل نے کہا ہے کہ ہم تحقیقاتی اداروں کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہیں، ہم لوگوں کو فریڈم 251 سمیت ہر طرح کے سستے اسمارٹ فونز فراہم کرکے رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمپنی 30 جون سے فریڈم 251 فونز کو صارفین تک پہنچانے کا سلسلہ شروع کرنے لگی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے اور اب اپنی ڈیوائس کے باہر آنے تک خاموش رہنے کا فیصلہ کیا ہے، اب ہمارا 4 انچ اسکرین، ڈوئیل سم فون ڈیلیوری کے لیے تیار ہے۔

موہت گوئیل کا کہنا تھا کہ کمپنی کو فون کے ہر سیٹ پر خسارہ ہوگا مگر ہمارا مقصد دیہی اور غریب افراد کو ڈیجیٹل دنیا تک رسائی دینا ہے۔

اس فون کے فیچرز بھی اب سامنے آگئی ہیں جن میں 8 میگا پکسلز ہائیر ریزولوشن بیک کیمرہ اور 3.2 میگا پکسلز فرنٹ کیمرہ، 1800 ایم اے ایچ بیٹری، 4 انچ اسکرین، 1.3 گیگا ہرٹز کواڈ کور پروسیسر، ایک جی بی ریم اور 8 جی بی انٹرنل اسٹوریج قابل ذکر ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ جون کے اختتام تک ڈھائی لاکھ افراد کے آرڈرز کو پورا کردیا جائے گا جبکہ اس کے بعد ہر ماہ 2 لاکھ فونز لوگوں تک پہنچائے جائیں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فون کے فیچرز 9 سال پہلے متعارف کرائے جانے والے سب سے پہلے آئی فون سے بہتر ہیں جس کی قیمت 599 ڈالرز (62 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) تھی۔

Google Analytics Alternative