سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

دماغ فالتو یادوں کو کہاں کرتا ہے، اور انہیں کیسے واپس لایا جاتا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ غیرضروری یادداشت کو ایک طرح کے’’ ٹریش فولڈر‘‘ میں پہنچا دیتا ہے لیکن انہیں دوبارہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ امریکا میں میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین کی جانب سے کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ میموری کیا ہوتی ہے، کہاں ہوتی ہے اور اسے دوبارہ واپس لایا جاسکتا ہے۔ ماہرین نے اس کے لیے 3 اقسام کے چوہے استعمال کیے جو بھولنے کے مریض تھے اورچوہوں کے پاؤں پر ہلکا کرنٹ دے کر انہیں ایک مضبوط یادداشت دی گئی تھی جب کہ اس میں نیلی روشنی استعمال کرکے اس تکلیف دہ شاک (کرنٹ) کی یاد کو تازہ کیا گیا۔ماہرین کے مطابق اس تحقیق سے الزائیمر اور ڈینمنشیا جیسے امراض میں یادداشت کھونے کے عمل کو سمجھنے میں بہت مدد مل سکے گی۔ اسی طرح کسی حادثے اور سانحے کے بعد کی تلخ یادیں کس طرح ہمارے وجود کا حصہ بن جاتی ہیں اور بار بار کی کوشش سے بھی وہ نہیں جاتیں اور اس کی وجہ جاننے میں بھی مدد ملے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی سطح پر یاد ہم اس شے کو کہتے ہیں جو دماغی خلیات (سیلز) کیدرمیان سگنلنگ سے وجود میں آتے ہیں اور ان کا انحصار خاص اے ایم پی اے ریسپٹرز پر ہوتا ہے۔ جن جن علاقوں پر دماغی خلیات جڑیں گے اور وہاں زیادہ سے زیادہ اے ایم پی اے ریسپٹرز ہوں گے وہ یادداشت اتنی ہی پکی اور مضبوط ہوگی اور جب جب یادداشت کو دْہرایا نہیں جاتا اے ایم پی اے ریسپٹرز کمزور پڑتے جاتے ہیں اور یاد مٹتی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہیکہ دماغ فالتو یادوں کو ٹریش بن میں ڈال دیتا ہے لیکن اسے واپس لانا ممکن ہے اور دوسری جانب دماغی امراض میں یادداشت کھونے کے عمل کو بھی سمجھنا ممکن ہے

چھتری اور موبائل کا کنکشن،جادوئی چھتری،بارش سے پہلے خبردار کرنا

چھتریاں برسوں سے سے ایک ہی طرح سے بنائی اور استعمال کی جا رہی ہیں لیکن اب فرانس میں تیار کردہ ایک چھتری کو موسمیاتی اسٹیشن کہا جاسکتا ہے جو سوشل نیٹ ورک سے رہنمائی لیتی رہتی ہے۔اس جدید چھتری کو ’’اومبریلا‘‘ کا نام دیا ہے جس میں نصب سینسر ممکنہ بارش سے پہلے ہی خبردار کرسکتے ہیں اور اگر آپ اسے بس یا گھر میں بھول جائیں تو چھتری آپ کے فون پر اس کی اطلاع دیتی ہے۔ چھتری میں نصب حساس سینسر آدھے گھنٹے کا موسم پہلے ہی بتادیتے ہیں اور سوشل میڈیا سے ہاتھوں ہاتھ معلومات لے کر علاقے کے دیگر حصوں یا دوسری اومبریلا سے جڑ کر آپ کو علاقے کا احوال سناتے ہیں۔ اومبریلا کو شوخ رنگوں سے بنایا گیا ہے تاکہ یہ نمایاں دکھائی دے سکے۔اومبریلا کی یہی خاصیت اسے ’’اسمارٹ اور کنیکٹڈ ‘‘ بناتی ہے، اس میں کئی سینسر لگے ہیں جو روشنی ، ہوا میں نمی اور درجہ حرارت نوٹ کرکے آپ کے اسمارٹ فون کو فراہم کرتے ہیں جو اسے چھوٹا موبائل موسمیاتی اسٹیشن بناتے ہیں۔ چھتری میں موجود جی پی ایس ٹریکر چھتری بھول جانے کی صورت میں اپنے مالک کے اسمارٹ فون پر اطلاع دیتا ہے۔ابتدائی آزمائش میں لوگوں نے اسے تھوڑا وزنی قرار دیا جس کے بعد اس کے ہلکے وزن پر کام جاری ہے اور مارچ میں اسے فرانس کی دکانوں پر فروخت کیا جائے گا جب کہ آن لائن فروخت اسی سال کے آخر تک متوقع ہے۔ چھتری کی قیمت 60 سے 80 ڈالر یعنی 6 سے 8 ہزار پاکستانی روپے کے برابر ہے۔

ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب فری سہولت متعارف

ٹیکنالوجی کی دنیا میں بہت تیزی سے انقلاب آرہا ہے ، یوں تو پاکستان میں ٹیکنالوجی میں ترقی کی شرح نہایت کم ہے مگر پھر بھی حکومت کی حتی الامکان کوششیں جاری ہیں ۔اب ایک نئی خبر کیمطابق حکومت پنجاب نے عوام کو مفت وائی فائی دینے کا اعلان کیا ہے جس کیلئے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی سے رابطہ کر لیا گیا ہے ، تفصیلات کیمطابق لاہور میں 115 مقامات پر شہریوں کو فری وائی فائی کی سہولت میسر ہو گی جن میں 12 پارکس ، 17 اہم مارکیٹس،میٹرو اسٹیشنز اور 20 کالج و یونیورسٹیز بھی شامل ہیں۔پارکس میں باغ جناح، ماڈل ٹاو¿ن پارک، حضوری باغ اور گلشن اقبال پارک شامل ہیں۔ جبکہ دیگر مقامات میں میو اسپتال ، چلڈرن اسپتال ، سروسز اسپتال ، شیخ زاید اسپتال، میو اسپتال، ائیر پورٹ ، ریلوے اسٹیشن، بادامی باغ ، بس اسٹینڈ ، آر اے بازار، پنجاب اسمبلی ، ضلع کچہری، جی پی او اور ایل ڈی اے شامل ہیں، واضح رہے کہ فری وائی فائی سروس کیلئے پنجاب حکومت نے پی ٹی سی ایل سے معاہدہ کیا ہے

ایسی بوتل جو اپنا وجود خود ہی ختم کر دیتی ہے

آئس لینڈ کے طالب علم نے دنیا کے سب سے بڑے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایسا پلاسٹک تیار کیا ہے جو کچھ دیر بعد ازخود گھل کر ختم ہوجاتا ہے۔آئس لینڈ میں ڈیزائننگ کے طالب علم ایری جانسن کے مطابق دنیا بھر میں پلاسٹک کا کچرا ایک وبال بن چکا ہے جس کے لیے سرخ الجی سے تیار کردہ اس کا اپنا بنایا ہوا پلاسٹک ایک اچھا متبادل ثابت ہوسکتا ہے۔ جانسن کے مطابق جب انہوں نے یہ سنا کہ دنیا میں بنائے جانے والی پلاسٹک کی نصف مقدار ہی ری سائیکل ہوتی ہے اور اس کے بعد اسے بھی ماحول میں پھینک دیا جاتا ہے، اس پلاسٹک کو سادہ اجزا میں ٹوٹ کر بکھرنے میں سینکڑوں سال کا عرصہ درکار ہوگا اور یوں وہ صدیوں تک ماحول دشمن بنارہے گا۔اس کے لیے ایری جانسن نے پلاسٹک بنانے کے لیے کئی اہم مادوں کو آزمایا تاکہ اس سے پانی کی بوتل بنائی جاسکے۔ آخر کار ان کی نظر ایک پاو¿ڈر اگر پر پڑی جسے سرخ رنگ کی الجی سے حاصل کیا جاتا ہے، اس میں پانی ملاکر جیلی نما شے بنائی گئی، بوتل کے سانچے میں ڈھالا اور اسے ٹھنڈا کردیا۔ طالب علم کی بنائی ہوئی اس پلاسٹک کی بوتل میں جب تک پانی رہتا ہے یہ اپنی صورت برقرار رکھتی ہے اور پانی ختم ہوتے ہی یہ پگھلنا شروع ہوجاتی ہے جسے بایو ڈگریڈیبل مٹیریل کہا جاتا ہے۔ چونکہ یہ بوتل قدرتی اجزا سے بنائی گئی اسی لیے اس میں پانی پینا صحت کے لیے مضر نہیں۔ وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر آپ چاہیں تو بوتل کو چباکر چکھ بھی سکتے ہیں۔

موجودہ سب سے بہترین اور اسمارٹ موبائل فون

ویسے تو دنیا بھر میں ایپل کے آئی فون کو سب سے بہترین اسمارٹ فون قرار دیا جاتا ہے مگر اس سال سام سنگ نے اسے شکست دے دی ہے۔

دنیا بھر میں صارفین کی آراءپر ڈیوائسز کی درجہ بندی کرنے والی سائٹ کے مطابق نئے گلیکسی ایس سیون اور ایس سیون ایج اس وقت سب سے بہترین اسمارٹ فون ہیں۔

اس رپورٹ میں گلیکسی ایس سیون (Galaxy S7) اور ایس سیوم ایج (S7 edge) کے کیمروں کو سب سے زیادہ سراہا گیا ہے جس کے سامنے آئی فون سکس ایس پلس کا کیمرہ ناکام نظر آتا ہے۔

رپورٹ میں نئے گلیکسی فونز کے دیگر فیچرز جیسے واٹر ریزیزٹنس، پہلے سے بہتر ڈیزائن، طویل بیٹری لائف اور اسٹوریج میموری میں اضافے وغیرہ کو بھی سراہا گیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ دونوں فونز گزشتہ سال کے گلیکسی ایس سکس سے بہت زیادہ بہتر ہیں اور سام سنگ نے اس میں بیٹری لائف سمیت کیمرے کی کارکردگی کے مسائل کو بھی حل کیا ہے۔

اس وقت یہ دونوں فونز تمام اسمارٹ فونز کی ریٹنگ میں سب سے اوپر ہیں۔

خیال رہے کہ سام سنگ گلیکسی ایس سیون اور ایس سیون ایج کو 21 فروری کو بارسلونا میں موبائل ورلڈ کانگریس کے موقع پر متعارف کرایا گیا تھا جبکہ اسے فروخت کے لیے رواں ماہ پیش کیا گیا۔

تاہم گلیکسی ایس سیون کو جلد ہی ایک حریف کا سامنا ہوگا اور وہ ایل جی کا جی فائیو، جس کا ماڈیولر ڈیزائن اور فیچرز فروخت سے پہلے ہی صارفین میں تہلکہ مچانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔

ایل جی کا یہ نیا فلیگ شپ اسمارٹ فون بھی گلیکسی فونز کے ساتھ متعارف کرایا گیا تھا تاہم اسے فروخت کے لیے اپریل میں پیش کیا جائے گا۔

واٹس ایپ (Whatsapp) کا نیا فیچر سامنے آ گیا

واٹس ایپ (Whatsapp) نے آخر کار اپنے صارفین کو اپنا ٹیکسٹ فارمیٹ کرنے کی سہولت فراہم کردی ہے۔جی ہاں واٹس ایپ نے خاموشی سے ایک نیا فیچر متعارف کرادیا ہے جس کی مدد سے صارفین اپنے ٹیکسٹ کو بولڈ، اٹالک یا اسٹرائیک تھرو کرسکتے ہیں۔اس فیچر کو بیٹا ورڑن میں آزمایا گیا مگر آئی او ایس اور اینڈرائیڈ ایپ کو اپ ڈیٹ کرنے پر تمام صارفین اسے استعمال کرسکتے ہیں۔بیشتر افراد کے واٹس ایپ میں تو یہ اپ ڈیٹس خودکار طور پر انسٹال ہوگئی ہیں۔یہ فیچر کسی بٹن کو کلک کرنے سے کام نہیں کرتا بلکہ یہ ایپ کے اندر چھپا ہوا ہے اور مخصوص الفاظ پر آن ہوجاتا ہے۔آپ کو اپنے الفاظ کے شروع اور آخر میں * بنانا ہوگا جس سے ٹیکسٹ بولڈ ہوجائے گا، جبکہ ہر سائیڈ پر _ ڈالنے سے وہ اٹالک میں تبدیل ہوجائے گا۔اور جملے شروع اور آخر میں ~ ڈالنے سے اس پر لکیر آجائے گی۔یہ تینوں فیچرز اکھٹے بھی کام کرسکتے ہیں اور آپ کسی ایک لفظ پر بھی انہیں آزما کر دیکھ سکتے ہیں۔اس اقدام کا مقصاد واٹس ایپ کو تمام فیچرز سے لیس کمیونیکشن ٹول بنانا اور دفتری استعمال کے لیے بہترین بنانا ہے۔اس کی مثال اس وقت بھی سامنے آئی تھی جب گزشتہ ماہ اس میں لوگوں کو دستاویزات شیئر کرنے کا آپشن فراہم کیا گیا تھا۔

اب میسنجر میں ایسی اپ ڈیٹ پر غور کررہے ہیں جس کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہ ہو۔

فیس بک کی جانب سے اکثر نئے فیچرز سامنے آتے رہتے ہیں تاہم اب وہ میسنجر میں ایسی اپ ڈیٹ پر غور کررہی ہے جس کے بارے میں صارفین نے ہوسکتا ہے کبھی سوچا بھی نہ ہو۔

فیس بک میسنجر میں یہ مقبول ویب سائٹ ‘خفیہ بات چیت’ کا فیچر شامل کرنے جارہی ہے۔

فیس بک نے تو اس کی ابھی تصدیق نہیں کی مگر میسنجر کے کوڈ کے اندر اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ ‘secret conversations’ نامی فیچر کو اس میں شامل کیا جارہا ہے۔

اس سے عندیہ ملتا ہے کہ فیس بک میسنجر میں چیٹ کو زیادہ انکرپٹڈ بنانے پر توجہ دے رہی ہے اور صارفین کو اپنی ڈیوائسز میں اپنی مرضی کی چیٹ کو چھپانے کا موقع مل سکے گا۔

اس فیچر کی بدولت فیس بک واٹس ایپ کے برابر آجائے گی جس کی جانب سے صارفین کو محفوظ بات چیت کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

اس کوڈ سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ میسنجر میں عام استعمال کی اشیاءکی خریداری کے لیے بھی میسنجر کو استعمال کیا جاسکے گا۔

اس طرح فیس بک ایپل پے اور گوگل کے اینڈرائیڈ پے کے مقابلے پر آجائے گی مگر ابھی واضح نہیں کہ میسنجر کے ذریعے ادائیگیاں کیسے ہوں گی اور اس ٹیکنالوجی کو کس طرح استعمال کیا جاسکے گا۔

فیس بک نے اس کی تردید کرنے کی بجائے کہا ہے کہ وہ ابھی اس حوالے سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔

Nik collection اب مفت ملے گا

فوٹو گرافی کے شوقین کے لیے اچھی خبر ہے کہ گوگل نے اپنا 150 ڈالرز (15 ہزار 700 پاکستانی روپے) کا فوٹو ایڈیٹنگ سافٹ ویئر Nik Collection اب مفت فراہم کرنا شروع کردیا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق Nik Collection نامی یہ سافٹ فوٹو ایڈیٹنگ کے لیے مختلف پلگ ان فراہم کرتا ہے اور اسے اب کمپنی کی ویب سائٹ سے مفت ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔اس سافٹ ویئر کے پیچھے مقبول سنیپ سیڈ ایڈیٹنگ ایپ تیار کرنے والی کمپنی تھی جسے گوگل نے 2012 میں خرید لیا تھا۔گوگل نے اس سافٹ ویئر کی ملکیت حاصل کرنے کے بعد اس کے پلگ انز کی قیمت 500 ڈالرز سے کم کرکے ڈیڑھ سو ڈالرز کردی تھی مگر اب اسے مکمل طور پر مفت کردیا گیا ہے۔اور جس شخص نے بھی رواں سال اسے خریدا ہے وہ اپنی رقم واپسی کے لیے گوگل سے رجوع کرسکتا ہے۔اس سافٹ ویئر میں 7 پلگ انز فراہم کیے جاتے ہیں جنھیں فوٹوشاپ کے اندر یا خودمختار سافٹ ویئر کے طور پر استعمال کیے جاسکتے ہیں۔اس کے فلٹرز میں ایچ ڈی آر ایفیکس پرو بھی موجود ہے جو متعدد ایچ ڈی آر فلٹر آپشنز فراہم کرتا ہے، اسی طرح کلر ایفیکس پرو کے ذریعے متعدد کلرز فلٹرز ملتے ہیں جبکہ ایڈوانس ان ہانسمنٹ ٹول Viveza بھی اس کا حصہ ہے۔گوگل کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں فوٹو گرافی کے شوقین اپنی تصاویر کو بہترین بنانے کے لیے Nik Collection کا استعمال کرتے ہیں۔گوگل کے مطابق ہم موبائل ایڈیٹنگ ٹول کو بہترین بنانے کے لیے طویل المعیاد سرمایہ کاری کررہے ہیں جن میں گوگل فوٹوز اور سنیپ سیڈ وغیرہ شامل ہیں اور اس کو دیکھتے ہوئے ہم نے Nik Collection کو مفت کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ہر ایک اسے استعمال کرسکے.

Google Analytics Alternative