سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

سام سنگ اپنے فون کی تشہیر آئی فون سے کرتے ہوئے ‘پکڑی’ گئی

جنوبی کورین کمپنی سام سنگ اسمارٹ فونز کی دنیا پر راج کرتی ہے اور اس کا مقابلہ امریکا کی کمپنی ایپل کے آئی فون سے ہے۔

تو اس کمپنی کے لیے اس سے زیادہ شرمندہ کردینے والی بات کیا ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے کسی اسمارٹ فون کی ٹوئٹر پر تشہیر آئی فون کے ذریعے کرے؟

کچھ ایسا ہی گزشتہ دنوں سامنے آیا ہے جس نے یقیناً سام سنگ کو شرمندہ کردیا ہوگا۔

ویسے تو ایسی غلطیاں اکثر سامنے آتی ہیں مگر عام طور پر یہ کسی برانڈ ایمبیسڈر کی جانب سے ہوتا ہے مگر اس وقت کیا ہو جب ایسا کام ایک آفیشل سام سنگ ٹوئٹر اکاﺅنٹ سے ہو؟

جی ہاں واقعی ایسا ہوا ہے اور ایک ٹوئٹر صارف مارکیوس براﺅنی نے ایک ٹوئیٹ میں اسکرین شاٹ شیئر کیا جس میں سام سنگ موبائل نائیجریا نے نومبر کے آخر میں گلیکسی نوٹ نائن کے بارے میں ایک تشہیری ویڈیو ٹوئیٹ کی۔

اس میں تو کوئی برائی نہیں مگر یہ ٹوئیٹ کسی آئی فون کے مداح نے کی جو کہ ٹوئٹر کی آنکھ سے چھپ نہیں سکی۔

اسکرین شاٹ آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

ٹوئٹر کے اینالسٹ لوکا ہیمر نے سام سنگ کے اس اکاﺅنٹ کے 3200 ٹوئیٹس کا تجزیہ کرنے کے بعد دریافت کیا کہ 10 فیصد سے زائد (331) ٹوئیٹس آئی فون سے ہی کیے گئے ہیں۔

۔

یہ غلطی سامنے آنے کے بعد کمپنی نے کچھ دیر کے لیے سام سنگ موبائل نائیجریا کا ٹوئٹر اکاﺅنٹ بند کردیا اور آئی فونز سے کیے گئے ٹوئیٹس ڈیلیٹ کرنے کے بعد اکاﺅنٹ بحال کردیا۔

یہ پہلی بار نہیں کہ مارکیوس براﺅنی نے اس طرح کی غلطی پکڑی ہو۔

ستمبر میں انہوں نے ایک ٹوئیٹ میں دکھایا تھا کہ بولی وڈ اداکارہ انوشکا شرما جو کہ گوگل پکسل ٹو کو پروموٹ کررہی تھیں، نے آئی فون سے ٹوئیٹ کیا۔

اسی طرح چند دیگر مشہور شخصیات جیسے ہولی وڈ اداکارہ گال گدوت اور ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے سام سنگ ڈیوائسز کی تشہیر آئی فونز سے کی۔

2018 کی بہترین اینڈرائیڈ ایپس سامنے آگئیں

2018 اختتام کی جانب گامزن ہے اور اس موقع پر گوگل نے رواں سال کی بہترین اینڈرائیڈ ایپس کی فہرست جاری کردی ہے جو ہوسکتا ہے آپ کو حیران کردے۔

کمپنی کی جانب سے سال کے آخر میں جاری فہرست میں گوگل پلے کی بہترین ایپس کے نام دیئے گئے ہیں اور حیران کن طور پر زبان سیکھنے میں مدد دینے والی ایپ ڈراپس سرفہرست رہی ہے۔

یہ اپلیکشن 31 مختلف زبانوں کو سیکھنے میں مدد دیتی ہے اور گوگل نے اسے 2018 کی بہترین ایپ قرار دیا ہے، اسی طرح پی بی یو جی موبائل کے حصے میں بہترین گیم کا اعزاز آیا ہے۔

گوگل نے دیگر اینڈرائیڈ ایپس کو کو ان زمروں میں شامل کیا ہے۔

موسٹ انٹرٹینگ کیٹیگری

وائیمیگ، یہ ایپ صارفین کو تصاویر میں اینیمیشن شامل کرنے میں مدد دیتی ہے۔

نو ڈرا نامی ایپ کلرنگ کے لیے ہے۔

نیور تھنک ایپ انٹرنیٹ ویڈیو دیکھنے کے لیے ہے۔

ٹک ٹاک میوزیکلی کا ری برانڈڈ ورژن ہے۔

اسکاﺅٹ ایف ایم پوڈ کاسٹس سننے کے لیے ہے۔

بیسٹ ہیڈن جیم کیٹیگری

سلولی نامی ایپ پرانے دوستوں کے ساتھ کھیلنے میں مدد دینے والی ایپ ہے۔

ان فولڈ اسٹوریز بنانے میں مدد دیتی ہے۔

جسٹ اے لائن اگیومینٹڈ رئیلٹی ڈرائنگ ایپ گوگل نے خود تیار کی ہے۔

لیوسی، ایک ڈریم جرنل ایپ ہے۔

لرن اسپینش ود لیریسا اسپینش زبان سیکھنے میں مدد دینے والی ایپ ہے۔

بیسٹ سیلف امپروومنٹ کیٹیگری

می مو نامی ایپ کوڈ لکھنا جاننے میں مدد دیتی ہے۔

10% ہیپیر مراقبے میں مدد دینے والی ایپ ہے۔

کیپ ٹرینر ایپ فٹنس کوچنگ فراہم کرتی ہے۔

ماسٹر کلاس اداکاری، گلوکاری اور کھانا پکانے کی کلاسز کی پیشکش کرتی ہے۔

بیسٹ ڈیلی ہیلپر کیٹیگری

ٹیسٹی ریسیپز کو سوشل میڈیا فرینڈلی ویڈیوز میں بدلتی ہے۔

اوٹر وائس نوٹس اے آئی استمال کرکے تحریر کو وائس ریکارڈنگ میں بدل دیتی ہے۔

سیفٹ ایک شاپنگ ایپ ہے۔

کانوا پوسٹرز اور سوشل میڈیا پوسٹس ڈیزائن کرنے میں مدد دیتی ہے۔

نوشن ٹوڈو لسٹس اور نوٹس ٹریک کرتی ہے۔

آخر میں یوٹیوب ٹی وی ایپ ہے جسے گوگل نے ٹاپ فین فیورٹ ایپ قرار دیا۔

چین نے20 گھنٹے پروازکرنے والا ڈرون بنالیا

بیجنگ: نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے پروفیسر لی ووئی نے کہا ہے کہ چینی ڈورن جی جے ۔2سرحدی نگرانی اور دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو مضبوط بنانے کیلیے پاکستان اور دیگر ممالک کیلیے ایک موثر ذریعہ بن سکتا ہے ۔

چین کا یہ نیا مسلح جاسوسی ڈورن خودکار دفاعی فوائد کا حامل ہے ۔جس کا مظاہرہ رواں ماہ کے اوائل میں ایئرشو چائنہ 2018میں کیا گیا۔جی جے ۔2 چینی سرحد کی نگرانی کو بہتر بنانے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی کوششوں میں یقینی طور پر اضافے کا باعث ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ممالک کو مشترکہ مقاصد کے حصول میں بھی مدد دے سکتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے یہ ڈورن چھنگ تاؤ کے ایئرکرافٹ ڈیزائن انسٹی ٹیوٹ نے ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنہ کے تعاون سے ڈیزائن کیا ہے ۔جی جے ۔2 کے درمیانی اور زیادہ بلندی جا کر بغیر انسان کے دیکھ بھال کرنے والا فضائی ڈورن ہے ۔چین کے معروف اخبار ’’یوتھ ڈیلی‘‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں پرفیسر ووئی نے کہا ہے کہ اس میں ایک بڑا انجن نصب کیا گیا ہے اور یہ ڈورن 370کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے9ہزار کلو میٹر کی بلند ی پر 20گھنٹے تک لگاتار پرواز کر سکتا ہے ۔

جی جے ۔2 پروں کے نیچے 6 ہتھیار جبکہ 12چھوٹے میزائل رکھ سکتا ہے اور یہ پہلے سے موجود جی جے ۔1 کے مقابلے میں حملہ کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے ۔اس میں بہتر جاسوسی نظام نصب کیا گیا ہے ۔جس میں ریڈار اور الیکٹرو آپٹیکل خول بھی نصب ہے جو اپنے ہدف کے بارے میں زیادہ تفصیلی معاملات فراہم کر سکتا ہے ۔بیجنگ میں مقیم ایک عسکری ماہر ووئی ڈانگ زو نے صحافیوں کو بتایا جی جے۔2 دیگر ڈورنزکا توسیع شدہ ایڈیشن ہے جو فیلڈکمانڈروںکو بروقت معلومات فراہم کرسکتا ہے۔ یہ امریکی ڈورنز کے مقابلے میں بہت سستا ہے ۔

سام سنگ کا پہلا 12 جی بی ریم اور 1 ٹی بی اسٹوریج والا فون

سام سنگ کے نئے فلیگ شپ فون گلیکسی ایس 10 کی آمد میں ابھی ڈیڑھ سے 2 ماہ باقی ہیں مگر اس کے حوالے سے افواہیں اور اطلاعات مسلسل سامنے آرہی ہیں۔

2019 کے شروع میں متعارف کرائے جانے والا ایس سیریز کا یہ نیا فون 4 مختلف ورژن میں متعارف ہوگا جس میں سے ایک فائیو جی ٹیکنالوجی کو سپورٹ کرے گا۔

مگر ایک نئی لیک کے مطابق گلیکسی ایس 10 کا ایک ورژن دنیا کے دیگر اسمارٹ فونز سے بالکل مختلف ہوگا کیونکہ اس میں 12 جی بی ریم اور 1 ٹی بی (1 ہزار جی بی) اسٹوریج دی جائے گی۔

جی ہاں واقعی یہ دنیا کا پہلا فون ہوگا جس میں 12 جی بی ریم اور 1 ٹی بی اسٹوریج ہوگی، ابھی سب سے زیادہ اسٹوریج 512 جی بی ہے جو کہ ہیواوے کے پی میٹ آر ایس پورشے ڈیزائن، آئی فون ایکس ایس، ایکس ایس میکس اور گلیکسی نوٹ 9 میں دستیاب ہے۔

اسی طرح اب تک کوئی بھی اسمارٹ فون ایسا نہیں جس میں 12 جی بی ریم دی گئی ہے مگر گلیکسی ایس 10 کے ایک ورژن میں یہ دونوں فیچرز دیئے جائیں گے۔

یہ تو واضح نہیں کہ ایس 10 کے کس ورژن میں یہ فیچرز دیئے جائیں گے مگر امکان ہے کہ وہ ایس 10 پلس ہی ہوگا کیونکہ دیگر فونز میں 8 جی بی سے زیادہ ریم اور 64 سے 128 جی بی اسٹوریج دیئے جانے کا ہی امکان ہے۔

ایس 10 کے چار ورژن میں 5.8 انچ کے فلیٹ اسکرین والا فون نسبتاً سستا ہوگا جس میں فلیگ شپ جیسے کچھ فیچرز تو ہوں گے مگر کیمرے اور دیگر بنیادی چیزوں میں یہ اتنا بہترین نہیں ہوگا۔

اس کے مقابلے میں دیگر 2 مہنگے ورژن خم ڈسپلے، فرنٹ پر سنگل جبکہ بیک پر 3 کیمروں کے سیٹ سے لیس ہوں گے، جبکہ ان میں فنگرپرنٹ سنسر بھی اسکرین کے اندر دیئے جانے کا امکان ہے۔

5 جی ماڈل 6.7 انچ کی اسکرین اور 4 بیک کیمروں کے ساتھ ہوگا اور یہ فونز فروری میں موبائل ورلڈ کانگریس کے موقع پر متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

یہ کمپنی اپنے اس فلیگ شپ فون میں ریورس وائرلیس چارجنگ کا فیچر بھی متعارف کرانے والی ہے جس کی مدد سے گلیکسی ایس 10 ماڈلز اپنی بیٹری لائف کو دیگر ڈیوائسز سے شیئر کرسکیں گے، بالکل ہیواوے کے میٹ 20 پرو کی طرح۔

دنیا کا پہلا ‘سپر ایچ ڈی’ ٹیلی وژن چینل لانچ کرنے کی تیاری

جاپانی براڈ کاسٹر ‘این ایچ کے’ نے اپنے نئے چینل میں سُپر ہائی ڈیفینیشن ‘8 کے’ پکچر کوالٹی پیش کرنے کی تیاری شروع کردی۔

برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ کی رپورٹ کے مطابق ‘این ایچ کے’ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے اپنے نئے چینل کے لیے وارنر برادرز سے کہا ہے کہ وہ اصلی فلم کی ‘نیگیٹوز’ کو ‘8 کے’ میں اسکین کرنا شروع کردیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ادارہ 1995 سے ‘8 کے’، جسے ادارے نے ‘سپر ہائی وژن’ کا نام دیا ہے، کی تیاری کر رہا تھا۔

این ایچ کے کے نئے چینل ‘بی ایس 8 کے’ سے دن میں 12 گھنٹے پروگرامز نشر کیے جائیں گے۔

ادارے نے کہا کہ وہ چینل کی لانچنگ کی رات فلمی تاریخ کا ماسٹرپیس ‘2001: اے اسپیس اوڈیسی’ نشر کرے گا، جو بہترین معیار کی فلم ہے۔

سپر ہائی ڈیفینیشن ‘8 کے’ پکچر ہائی ڈیفینیشن (ایچ ڈی) ٹی وی ریزولوشن سے 16 گنا بہتر پکچر پیش کرتی ہے۔

تاہم اتنی اعلیٰ کوالٹی کی نشریات دیکھنے کے لیے بہت کم لوگوں کے پاس اس وقت ضروری ٹیلی وژن اور آلات موجود ہیں۔

ٹیلی وژن تیار کرنے والی معروف کمپنیاں ‘سام سانگ’ اور ‘ایل جی’ 8 کے ٹیلی وژن سیٹ بنانے کا اعلان کر چکی ہیں، تاہم یہ سیٹ انتہائی مہنگے ہونے کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد کی پہنچ سے دور ہیں۔

برق رفتاری سے انفیکشن معلوم کرنے والا کم خرچ بایو سینسر

کیلگری: امریکی ماہرین نے مختلف امراض اور انفیکشن کا ہاتھوں ہاتھ پتا لگانے والا کم خرچ اور تیز رفتار سینسر تیار کیا ہے جس سے امراض کی تشخیص میں غیر معمولی مدد ملے گی۔

یہ سینسر، کینیڈا کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا اور یونیورسٹی آف کیلگری نے مل کر بنایا ہے۔ بایو سینسر ایسے انفیکشن منٹوں میں شناخت کرسکتا ہے جنہیں عام حالات میں تصدیق کرنے میں تین سے پانچ دن لگ جاتے ہیں۔

بایو سینسر خاص انداز سے کام کرتا ہے اور ڈھائی گیگا ہرٹز کی مائیکرو ویو (خرد امواج) خارج کرتا ہے جو نمونے سے گزرتی ہیں۔ اس کے بعد ماہرین امواج کا جائزہ لیتے ہیں اور اس کی ریزونینس اور ارتعاش میں تبدیلی کو دیکھتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس میں کونسے بیکٹیریا کس تعداد میں موجود ہیں۔

آزمائش کے لیے اسے ای کولائی بیکٹیریا والے نمونے میں آزمایا گیا جس کے محلول کے پی ایچ لیول مختلف سطح کے تھے اور اس موقع پر سینسر نے فوری طور پر نتائج دکھائے جو بالکل درست تھے۔ اس تحقیقی ٹیم کے سربراہ پروفیسر محمد ظریفی ہیں اور تحقیق کی روداد نیچر سائنٹفک رپورٹس میں شائع ہوئی ہے۔

محمد ظریفی نے بتایا کہ ’ جدید رجحانات کی وجہ سے ہم (بیماریوں کے حامل) مائع نمونے شناخت کرنے والی پوری تجربہ گاہ ایک چپ پر بناسکتے ہیں۔ اس بایو سینسر چپ کے نتائج قابلِ بھروسا ہیں اور اس کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ فوری نتیجہ دیتی ہے‘ ۔

ماہرین کے مطابق بعض انفیکشن اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ اگر شناخت میں ایک گھنٹہ تاخیر ہوجائے تو مریض کے مرنے کا خدشہ 8 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ یہ بایوسینسر اس کمی کو بطریقِ احسن پورا کرسکتا ہے۔

گوگل کروم پر کونسی سائٹ کمپیوٹر سست کررہی ہے؟

گوگل کروم دنیا کا مقبول ترین ویب براﺅزر ہے مگر وہ ویب سائٹس اوپن کرنے کے لیے بہت زیادہ کمپیوٹر میموری استعمال کرتا ہے۔

اس کے نتیجے میں گوگل کروم استعمال کرنے والے افراد کو اکثر کمپیوٹر سست ہونے کا تجربہ ہوتا ہے، تاہم ایک آسان طریقے سے کمپیوٹر کو دوبارہ تیز کیا جاسکتا ہے۔

اور اس طریقے کے لیے آپ کو کروم ٹاسک منیجر نامی فیچر کو استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جس کا علم اکثر کروم صارفین کو نہیں ہے۔

کروم ٹاسک منیجر اس براﺅزر کو بہترین طریقے سے استعمال کرنے کے لیے دیا گیا ہے جو کہ کمپیوٹر کی رفتار سست نہیں ہونے دیتا۔

اگر تو آپ نے کروم پر بہت زیادہ ٹیب اوپن کیے ہوئے ہیں تو وہ بہت زیادہ پراسیسنگ پاور کے باعث کمپیوٹر سست کردیتے ہیں۔

کروم ٹاسک منیجر سے آپ جان سکتے ہیں کہ کونسا ٹیب زیادہ پاور کھا رہا ہے، کسے بند کرنا چاہئے، وغیرہ وغیرہ۔

طریقہ کار

سب سے پہلے تو آپ کو کروم ٹاسک منیجر کو اوپن کرنا ہوگا، اس کے لیے اوپر دائیں جانب کروم مینیو میں جاکر مور ٹولز کے آپشن پر جائیں، جہاں ٹاسک منیجر کا آپشن موجود ہے۔

اس پر کلک کرنے پر پوپ اپ ونڈو کی شکل میں ٹاسک منیجر اوپن ہوجائے گا۔

ویسے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے والے Shift + Esc کے شارٹ کٹ سے بھی ٹاسک منیجر کو اوپن کرسکتے ہیں۔

وہاں آپ کے سامنے اوپن ٹیب کی فہرست آجائے گی جبکہ کروم پر کام کرنے والی ایکسٹیشنز اور دیگر معلومات بھی سامنے ہوگی۔

اس معلومات میں ہر ٹیب اور ایکسٹینشن کی معلومات جیسے کور میموری، سی پی یو اور نیٹ ورک یوز ایج ہے۔

وہاں اگر آپ کو نظر آئے کہ کوئی ٹیب یا ایکسٹینشن بہت زیادہ میموری، سی پی یو یا نیٹ ورک کو خرچ کررہا ہے تو آپ اسے سلیکٹ کریں اور پھر اینڈ پراسیس سلیکٹ کرلیں۔

ایسا کرنے پر وہ ٹیب یا ایکسٹینشن بند ہوجائے گی۔

ٹاسک منیجر میں کسی بھی ٹیب پر رائٹ کلک کرکے پرائیویٹ میموری، شیئر میموری، جاوا اسکرپٹ اور دیگر معلومات بھی دیکھی جاسکتی ہے۔

اگر آپ کا کمپیوٹر انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران اکثر سست ہوجاتا ہے تو کروم کے اس کارآمد فیچر سے اس مسئلے پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

چینی کمپنی کا پوری دنیا کو مفت انٹرنیٹ دینے کا اعلان

بیجنگ: انٹرنیٹ اور وائی فائی کے دور میں دنیا کے ایسے ممالک بھی شامل ہیں جہاں ڈیجیٹل اندھیرا ہے اور وہاں یہ سہولیات موجود نہیں، اس تناظر میں چین کی ایک مشہور کمپنی نے پوری دنیا کو مفت انٹرنیٹ فراہم کرنے کے ایک اہم منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

چینی کمپنی لنک شیورنیٹ ورک نے کہا ہے کہ وہ 2026ء تک ایک دو نہیں بلکہ 272 سیٹلائٹ مدار میں بھیجے گی جو پوری دنیا کا احاطہ کرتے ہوئے مفت وائی فائی فراہم کریں گے۔ اس ضمن میں پہلا سیٹلائٹ لنک شیور ون اگلے سال روانہ کیا جائے گا، 2020ء میں مزید 10 اور 2026ء تک 272  سیٹلائٹ خلا میں کام شروع کردیں گے۔

کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس میں ایک سیٹلائٹ سے دوسرے سیٹلائٹ تک انٹرنیٹ رابطے کو یقینی بنایا جاسکے گا جس کا تجربہ اسپیس ایکس راکٹ کے ذریعے کیا جاچکا ہے۔ اس طرح جوں ہی آپ کے فون پر سیٹلائٹ کا خاکہ نمودار ہوگا تو سمجھیں کہ آپ آن لائن ہوگئے ہیں۔

لنک شیور کمپنی پہلے بھی وائی فائی ماسٹر کی ایپ پیش کرکے بہت شہرت کما چکی ہے۔ اب چینی اکیڈمی آف اسپیس کے تعاون سے وہ سیٹلائٹ نظاموں پر کام کررہی ہے۔

اس وقت دنیا میں چار ارب لوگ انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔ بعض تنظیموں نے انٹرنیٹ کو بنیادی انسانی حقوق میں شمار کیا ہے اور دنیا میں ڈیجیٹل سہولیات کے فرق کو کم کرنے پر زور دیا ہے۔

اگرچہ یہ اربوں ڈالر کا منصوبہ ہے لیکن کمپنی کا مؤقف ہے کہ شریک ادارے اور ایپلی کیشن ساز ادارے اس میں سرمایہ کاری کریں گے۔ مفت انٹرنیٹ کے لیے اشتہار دیکھنے ہوں گے اور اس کی آمدنی سے تمام اخراجات پورے کیے جاسکیں گے تاہم اس منصوبے کا ابتدائی تخمینہ 43 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔

قبل ازیں گوگل پروجیکٹ لون نے بھی گرم غباروں کے ذریعے ترقی پذیر ممالک میں وائی فائی سگنلز بھیجنے کا ایک منصوبہ شروع کیا تھا جو آگے نہ چل سکا لیکن لنک شیور کے منصوبے کے بعد امید پیدا ہوئی ہے کہ دنیا کی بڑی آبادی انٹرنیٹ سے وابستہ ہوجائے گی۔

Google Analytics Alternative