سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

واٹس ایپ میں پہلی بار الگورتھم فیڈ کی آزمائش

واٹس ایپ نے اپنے ایک مقبول ترین فیچر میں بڑی تبدیلی کی آزمائش شروع کردی ہے۔

اور یہ تبدیلی فیس بک نیوزفیڈ کے الگورتھم سے ملتی جلتی ہے جو صارفین کے لیے دھچکا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

دنیا کی مقبول ترین میسجنگ اپلیکشن میں اسٹیٹس فیچر کے لیے ایک الگورتھم کی آزمائش کی جارہی ہے جس میں دوستوں کے اسٹیٹس یا اسٹوریز وقت یا تاریخ کی بجائے لوگوں کی دلچسپی کو مدنظر رکھ کر نظر آئیں گے۔

اس تبدیلی کی آزمائش برازیل، اسپین اور بھارت میں محدود صارفین میں کی جارہی ہے اور مستقبل قریب میں اسے تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔

واٹس ایپ اسٹیٹس بنیادی طور پر اسٹوریز جیسا فیچر ہے جس میں صارفین تصاویر، ٹیکسٹ پیغامات یا ویڈیوز وغیرہ کو 24 گھنٹے کے لیے پوسٹ کرسکتے ہیں۔

اس وقت اسٹیٹس فیڈ میں وقت یا تاریخ کے لحاظ سے دوستوں کی اسٹوریز نظر آتی ہیں یا یوں کہہ لیں کہ تازہ ترین سب سے اوپر ہوتی ہے۔

مگر یہ طریقہ کار کچھ افراد کو زیادہ پسند نہیں جو چند مخصوص دوستوں کی اسٹوریز ہی دیکھنا پسند کرتے ہیں۔

اس کا حل نئے الگورتھم میں دیا جائے گا جو صارفین کے رجحان کو دیکھ کر اسٹیٹس کی ترتیب کا تعین کرے گا یعنی آپ کس دوست کی اسٹوری اکثر دیکھتے اور اس پر کسی قسم کا ریپلائی کرتے ہیں یا کس دوست کے ساتھ واٹس ایپ پر زیادہ رابطے میں رہتے ہیں۔

کسی اور ایپ میں اس طرح کی تبدیلی حیرت انگیز نہیں ہوتی مگر واٹس ایپ دیگر سے مختلف ہے جس میں پرائیویسی پر زور دیا جاتا ہے۔

فیس بک اور انسٹاگرام کے برعکس اس انکرپٹڈ ایپ میں صارفین کا زیادہ ڈیٹا اکھٹا نہیں کیا جاتا، مگر الگورتھم کے لیے اپلیکشن کو صارفین کے ڈیٹا کی ضرورت ہوگی (اگر آپ واٹس ایپ ڈیٹا بیک اپ آپشن اپناچکے ہیں تو آپ کی ترجیحات پہلے ہی اس کمپنی کے پاس محفوظ ہیں)۔

پھر فیس بک اور انسٹاگرام کے الگورتھم کو متعدد افراد پسند نہیں کرتے جس میں لگتا ہے کہ جیسے یہ کمپنی جان بوجھ کر مختلف پوسٹس کو نیچے دبا دیتی ہے۔

نوکیا کا سب سے دلچسپ فلیگ شپ اسمارٹ فون

نوکیا فونز فروخت کرنے کا لائسنس رکھنے والی کمپنی ایچ ایم ڈی گلوبل ممکنہ طور پر رواں ماہ دنیا کا پہلا 5 بیک کیمروں والا فون متعارف کرانے والی ہے۔

نوکیا 9 پیور ویو کو بارسلونا میں شیڈول موبائل ورلڈ کانگریس کے موقع پر پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس کی تصاویر پہلے ہی سامنے آچکی ہیں

مگر اب گوگل اور امریکا کے فیڈرل کمیونیکشنز کمیشن (ایف سی سی) جیسے اداروں نے اس فون کے تمام تر فیچر لیک کردیئے ہیں اور یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ یہ فون واقعی موجود ہے اور متعارف ہونے والا ہے۔

گوگل نے غلطی سے نوکیا 9 کو اپنی اینڈرائیڈ انٹرپرائز ڈیوائس سائٹ میں شال کردیا تھا جسے بعد میں ہٹا دیا گیا۔

مگر انٹرنیٹ صارفین نے اس کے اسکرین شاٹ اور تفصیلات محفوظ کرلیں اور یہ نوکیا کا اب تک کا سب سے دلچسپ فون ثابت ہونے والا ہے۔

گوگل کی سائٹ پر درج تفصیلات کے مطابق نوکیا 9 میں 6 انچ ڈسپلے دیا جائے گا جبکہ 4 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج (ممکنہ طور پر زیادہ ریم اور اسٹوریج والا ورژن بھی ہوگا) اور اینڈرائیڈ 9 آپریٹنگ سسٹم دیا جائے گا۔

فوٹو بشکریہ نوکیا پاور یوزر
فوٹو بشکریہ نوکیا پاور یوزر

اس فون میں بیزل کم کیے گئے ہیں مگر پھر بھی اوپر اور نیچے بیزل موجود ہیں مگر نوچ نہیں دیا جارہا ہے۔

ماضی میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق اس فون میں فنگرپرنٹ سنسر اسکرین کے اندر نصب ہوگا تاہم گوگل کی تفصیلات میں اس بارے میں کچھ واضح نہیں کیا گیا۔

ایف سی سی نے بھی فون کے خاکے کو اپنی ویب سائٹ میں جاری کیا جس میں 5 کیمرے دیکھے جاسکتے ہیں مگر فنگرپرنٹ سنسر کی کوئی جگہ نہیں، جو کہ ممکنہ طور پر اسکرین کے اندر ہی ہوگا۔

فوٹو بشکریہ ایف سی سی/اسکرین شاٹ
فوٹو بشکریہ ایف سی سی/اسکرین شاٹ

اس فون کی خاص بات اس کے 5 کیمروں کا سیٹ اپ ہوگا جو پہلی بار کسی اسمارٹ فون میں نظر آئے گا۔

سام سنگ نے کچھ ماہ پہلے 4 بیک کیمروں والا فون متعارف کرایا تھا مگر نوکیا 5 بیک کیمروں کے ساتھ یہ ریکارڈ توڑنے کے قریب ہے۔

پاکستان سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے دنیا کے 10 بدترین ممالک میں شامل

ماسکو: روسی سائبر سیکیورٹی کے ادارے کیسپر اسکائے نے سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کو دنیا کے 10 بدترین ممالک میں شامل کرلیا ہے۔

روسی سائبر سیکیورٹی کے ادارے کیسپر اسکائے نے دنیا بھر کے 10 ایسے ممالک کی فہرست جاری کی ہے جہاں سائبر سیکیورٹی سب سے کم ہے، ان ممالک میں انٹرنیٹ صارفین سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔

تحقیق میں دنیا کے صرف 60 ممالک کو شامل کیا گیا کیونکہ ان کے اعدادوشمار مکمل اور باآسانی دستیاب ہیں، ادارے نے 10 ایسے ممالک کی فہرست جاری کی ہے جن میں انٹرنیٹ صارفین کا ڈیٹا چاہے موبائل، کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ سے استعمال کیا جائے، سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔

فہرست میں بنگلادیش سرفہرست ہے، جہاں تقریباً 36 فیصد انٹرنیٹ صارفین پر سائبر حملے ہوئے، دوسرے نمبر پر نائیجیریا رہا، جہاں 28.5 فیصد صارفین پر سائبر حملے ہوئے، ایران 28.07 فیصد کے ساتھ تیسرے، تنزانیا 28 فیصد کے ساتھ چوتھے، چین 25.6 فیصد کے ساتھ پانچویں اور بھارت 25.2 کے ساتھ چھٹے نمبر پر رہا۔

روسی سائبر سیکیورٹی کے ادارے کی فہرست کے مطابق سائبر حملوں سے غیر محفوظ ممالک کی فہرست میں پاکستان ساتویں نمبر پر ہے جبکہ انڈونیشیا آٹھویں، فلپائن نویں اور الجزائر دسویں نمبر پر ہیں۔

جی میل کا یہ نیا فیچر آپ کو ضرور پسند آئے گا

کیا آپ نے کبھی ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر میں جی میل پر ماﺅس کے رائٹ کلک کو دبا کر آزمانے کی کوشش کی؟

بیشتر افراد نہیں کرتے تاہم اگر آپ نے کبھی کی بھی ہے تو صرف 3 آپشن ہی نظر آئے ہوں گے، آرکائیو، مارک ایز ان ریڈ اور ڈیلیٹ۔

مگر اب اس میں بڑی تبدیلی آگئی ہے اور گوگل نے جی میل رائٹ کلک مینیو میں متعدد اہم اضافے کردیئے ہیں۔

اب جی میل کے نئے رائٹ کلک مینیو میں 12 آپشن موجود ہیں، ریپلائی، ریپلائی آل، فارورڈ، آرکائیو، ڈیلیٹ، مارک ایز ان ریڈ، سنوز، موو ٹو، لیبل ایز، میوٹ، فائنڈ ای میلز فرام سیم سینڈر اور اوپن ان نیو ونڈو۔

اگر آپ نے کنورزیشن ویو ٹرن آف کررکھا ہے تو آپ ایسی تمام ای میلز بھی سرچ کرسکیں گے جن کا سبجیکٹ ایک جیسا ہوگا۔

ایسے افراد جن کو بہت زیادہ ای میلز کرنا ہوتی ہے ان کے لیے یہ نئے اضافے انتہائی فائدہ مند ہوں گے، کیونکہ گوگل نے اس میں وہ سب کچھ دے دیا ہے جس کی آپ کو مینیو میں ضرورت ہوتی ہے۔

جیسے آپ بہت زیادہ تعداد میں ای میلز کو کیس خاص کیٹیگری میں منتقل کرنا چاہتے ہیں یا 2 ای میلز نئی ونڈو میں کھولنا چاہتے ہیں تاکہ ان کا موازنہ کرسکیں، تو یہ اب ایک رائٹ کلک کی دوری پر ہے۔

فوٹو بشکریہ گوگل
فوٹو بشکریہ گوگل

ویسے یہ سب ااپشن جی میل ٹاپ مینیو میں موجود ہیں جبکہ کچھ تھری ڈاٹ مینیو میں دیکھے جاسکتے ہیں اور کی بورڈ شارٹ کٹس سے بھی ان تک رسائی ممکن ہے۔

مگر جب ایک رائٹ کلک پر سب کچھ مل جائے تو یہ نیا فیچر زیادہ قابل ترجیح ثابت ہوگا۔

یہ نیا فیچر بائی ڈیفالٹ پر صارف کو دستیاب ہوگا اور دنیا بھر میں اسے متعارف کرانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے جو کہ بتدریج تمام افراد تک پہنچے گا۔

تو اگر ابھی آپ کو نظر نہیں آرہا ہو تو فکر مت کریں، کیونکہ یہ بہت جلد آپ کو دستیاب ہوگا۔

بل گیٹس کونسا اسمارٹ فون استعمال کرنا پسند کرتے ہیں؟

مائیکرو سافٹ نے 2017 میں ونڈوز 8.1 موبائل آپریٹنگ سسٹم کے لیے سپورٹ ختم کی اور گزشتہ ماہ اس کمپنی نے ونڈوز 10 آپریٹنگ سسٹم سے لیس اسمارٹ فونز کے لیے بھی یہی اعلان کرتے ہوئے باضابطہ طور پر صارفین اینڈرائیڈ یا آئی او ایس ڈیوائسز لینے کا مشورہ دیا۔

کمپنی کی جانب سے ڈیوائس آپریٹنگ سسٹم لائف سائیکل کو 14 جنوری کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ 10 دسمبر 2019 سے ونڈوز 10 موبائل پر چلنے والے فونز کے لیے جاری کی جانے والی سیکیورٹی اپ ڈیٹس کا سلسلہ روک دیا جائے گا۔

مگر اس کمپنی کے بانی بل گیٹس نے تو کئی برس پہلے ہی ونڈوز فون کو چھوڑ کر اینڈرائیڈ فون کا استعمال شروع کردیا تھا۔

مگر دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص کونسا فون یا کس کمپنی کا اسمارٹ فون استعمال کرنا پسند کرتے ہیں؟ یہ جاننا ضرور دلچسپ ہوگا۔

ایک حالیہ انٹرویو کے دوران یہی سوال بل گیٹس سے کیا گیا تو ان کا جواب تھا کہ وہ سام سنگ گلیکسی فون استعمال کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ‘ میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم پر کام کرنے والا ایک سام سنگ فون استعمال کررہا ہوں مگر اس میں مائیکرو سافٹ اپلیکشنز بہت زیادہ ہیں’۔

انہوں نے یہ تو واضح نہیں کیا کہ وہ سام سنگ کا کونسا فون استعمال کررہے ہیں مگر جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ گلیکسی نوٹ استعمال کرتے ہیں اور اسٹائلوس سے کام کرتے ہیں، تو ان کا کہنا تھا ‘نہیں فون پر نہیں، میں اسے اپنے ونڈوز کمپیوٹر پر بیشتر افراد سے زیادہ استعمال کرتا ہوں جو کہ ون نوٹ پر مبنی ہے’۔

بل گیٹس نے ماڈل تو نہیں بتایا مگر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ سام سنگ گلیکسی ایس 8 یا 9 ہوگا۔

بل گیٹس نے بتایا تھا کہ وہ ایسا اینڈرائیڈ فون استعمال کررہے ہیں جس میں بہت زیادہ مائیکرو سافٹ سافٹ وئیر ہیں جو کہ ایس 8 یا ایس کے مائیکرو سافٹ ایڈیشن کا اشارہ لگتا ہے جس میں کمپنی نے اپنے متعدد سافٹ وئیرز دیئے ہیں۔

2017 میں پہلی بار مائیکرو سافٹ نے سام سنگ گلیکسی ایس ایٹ کے اس اسپیشل ایڈیشن کو اپنے ریٹیل اسٹورز میں فروخت کے لیے رکھا تھا۔

اس فون میں مائیکرو سافٹ آفس، ون ڈرائیور، کورٹانا اور آ?ٹ ل±ک سمیت متعدد مائیکرو سافٹ ایپس موجود ہیں۔

ایسا ہی کچھ گزشتہ سال بھی گلیکسی ایس نائن متعارف ہونے کے بعد بھی کیا گیا۔

ویسے بل گیٹس کوئی بھی سام سنگ فون استعمال کررہے ہوں مگر ایک بات واضح ہے کہ انہیں آئی فون میں کوئی دلچسپی نہیں، یہاں تک کے ماضی میں اپنے گھروالوں پر بھی وہ آئی فون اور آئی پوڈز کے استعمال کی پابندی عائد کرچکے ہیں۔

پہلی بار ایک ملک تمام آبادی کیلئے انٹرنیٹ منقطع کرنے کیلئے تیار

روس نے عارضی طور پر پورے ملک کو عالمی انٹرنیٹ سے منقطع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت روسی انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیاں یا آئی ایس پی ایس ملک کے اندر تمام ویب ٹریفک کو حکومتی ٹیلی کام ادارے روسکومنازور کے منظور کردہ روٹنگ پوائنٹس پر ری ڈائریکٹ کردیں گی۔

زی ڈی نیٹ کی رپورٹ کے مطابق اس وقت بیشتر ممالک کی طرح روس میں بھی انٹرنیٹ ٹریفک کو عالمی سسٹمز کو استعمال کیا جاتا ہے جو دنیا بھر میں ڈیوائسز کو آن لائن کنکٹ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

روس کی جانب سے عارضی طور پر انٹرنیٹ کو منقطع کرنے کا تجربہ اگلے چند ہفتوں میں ہوگا۔

اس تجربے کے دوران روس انٹرنیٹ کے لیے اپنے ڈومین نیم سسٹم (ڈی این ایس)، ویب ڈومین ڈائریکٹری اور ایڈریسز پر انحصار کرے گا۔

اس تجربے کو یکم اپریل سے پہلے مکمل کیا جائے گا تاہم ابھی کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔

یہ تجربہ روس کے ڈیجیٹل اکانومی نیشنل پروگرام کے تحت ہوگا، یہ مجوزہ قانون گزشتہ سال پیش کیا گیا تھا جس کا مقصد روسی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو اس وقت بھی تحفظ فراہم کرنا ہے جب دیگر کمپنیاں روس کے لیے انٹرنیٹ سروسز کاٹ دیں۔

روسی حکومت کے اس پروگرام کا مقصد غیرملکی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں پر انحصار ختم کرنا اور روس کو اس حوالے سے خودمختار کرنا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ سائبر حملے سے بھی تحفظ مل سکے۔

رپورٹ کے مطابق تمام انٹرنیٹ ٹریفک حکومتی روٹنگ پوائنٹس کے ذریعے کنٹرول کرنے سے ماسکو کو ویب سنسرشپ سسٹم کی تشکیل دینے کا موقع بھی ملے گا جیسا چین میں ہورہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تمام انٹرنیٹ ٹریفک حکومتی روٹنگ پوائنٹس کے ذریعے کنٹرول کرنے سے ماسکو کو ویب سنسرشپ سسٹم کی تشکیل دینے کا موقع بھی ملے گا جیسا چین میں ہورہا ہے۔

روس نے اس منصوبے پر اس وقت کام شروع کیا جب ناٹو کی جانب روس کے خلاف سالانہ سائبر وار گیمز کا عمل تیز کردیا گیا جبکہ امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین کی جانب سے بھی روس پر سائبر حملوں کے بعد پابندیاں لگانے کی دھمکی دی گئی تھی۔

سام سنگ کا پہلا فولڈ ایبل فون ایک ہفتے کی دوری پر

 سام سنگ اپنے پہلے فولڈ ایبل فون کے حقیقی ڈیزائن کی پہلی جھلک اگلے ہفتے سامنے لارہی ہے۔

جنوبی کورین کمپنی نے اس حوالے سے ایک ٹیزر ویڈیو ریلیز کی جس میں 20 فروری کو ‘فیوچر ان فولڈز’ کے الفاظ سے فولڈ ایبل فون کی جھلک پیش کرنے کا عندیہ دیا گیا۔

اس ویڈیو میں ڈیوائس کا ڈیزائن ایک کتاب جیسا لگ رہا تھا۔

سام سنگ نے گزشتہ سال نومبر میں اپنے فولڈ ایبل فون کا پروٹوٹائپ ڈیزائن پیش کیا تھا جو کہ کافی متاثر کن تھا مگر اسے تاریکی میں رکھا گیا تھا جس سے مکمل ڈیزائن سامنے نہیں آسکا جبکہ فیچرز کی تفصیلات بتانے سے بھی گریز کیا گیا۔

یہ تو ابھی واضح نہیں کہ 20 فروری کو فون کو باقاعدہ طور پر متعارف کرایا جائے گا یا اس بارے میں مزید تفصیلات بیان کی جائیں گی۔

خیال رہے کہ 20 فروری کو سام سنگ کے نئے فلیگ شپ فون گلیکسی ایس 10 سیریز کے 3 یا چار فون متعارف کرائے جائیں گے اور اس موقع پر فولڈ ایبل فون کی پہلی جھلک بھی سامنے آئے گی۔

سام سنگ پہلے ہی اپنے فولڈ ایبل فون کو مستقبل کا موبائل قرار دے چکی ہے جو کہ کھلنے پر ٹیبلیٹ کی شکل جبکہ بند ہونے پر فون کی شکل اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔

اگر اگلے ہفتے سام سنگ اسے باقاعدہ متعارف کراتی ہے تو یہ اس کمپنی کا پہلا فولڈ ایبل فون ہوگا جو صارفین خرید بھی سکیں گے۔

اس کی قیمت کا ابھی واضح تعین کرنا تو ممکن نہیں مگر مختلف لیکس کے مطابق یہ کم از کم 1700 ڈالرز سے زیادہ ہوگی۔

کروٹ بدلنے میں مدد دینے والے اسمارٹ بیڈ تیار

واشنگٹن: سائنس دان ایسے اسمارٹ بستر تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو نہ صرف کروٹ بدلنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں بلکہ بستر سے گرنے اور ایک ساتھ سوتے ہوئے دو افراد کو مخصوص جگہ تک محدود رکھ سکتے ہیں۔

انسان نیند کے معاملے میں نہایت عجیب ہے، خراٹوں بھری نیند ہو یا پورے بستر پر لوٹ پوٹ کر سونے کی عادت، حضرت انسان دیگر مخلوقات سے بالکل منفرد نظر آتے ہیں اور کہیں تو ایک بستر پر سونے والے دو افراد پوری رات ایک دوسرے کی لاتیں کھاتے گزارتے ہیں۔

دوسری جانب ایسے مریض جو فالج یا کسی اعصابی مرض میں مبتلا ہونے کے باعث کروٹ لینے سے قاصر ہوتے ہیں انہیں ’بیڈ سول‘ سے بچانے کے لیے بار بار پوزیشن تبدیل کرنی ہوتی ہے جس کے لیے ایک مددگار شخص کی ہر وقت ضرورت رہتی ہے۔

امریکی سائنس دانوں نے انسانی ’عادات‘ اور بیماری کی صورت میں ’ضرورت‘ کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک ایسا ’اسمارٹ بیڈ‘ تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جسے حسب ضرورت پروگرامنگ سیٹ کر کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس بیڈ میں موجود پروگرام کے تحت بیڈ پر بارڈر لائن بھی بنائی جا سکتی ہے جس سے ایک حصے میں لیٹا شخص دوسرے شخص پر گر نہیں سکتا۔

جیسے ہی ایک شخص بیڈ کی بارڈر کراس کرنے لگتا ہے بستر پہلے شخص کو اس کے حصے کی جانب دھکیل دیتا ہے اور اس عمل کے دوران دوسرے شخص کو بیڈ میں ہونے والی تبدیلیوں کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ بیڈ کے چاروں طرف بارڈر بھی بنایا جا سکتا ہے جس سے بچوں کو بستر سے گرنے سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

علاوہ ازیں اس اسمارٹ بستر میں ایسی پروگرامنگ بھی سیٹ کی جاسکتی ہے جس کی مدد سے کسی مریض کو وقفے وقفے سے کروٹ بھی دلائی جا سکتی ہے اس طرح مریض کو بیڈ سول نہیں ہوتا۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس یہ بیڈ ضرورت کے وقت اپنی شکل اس طرح تبدیل کرتا ہے کہ سوئے ہوئے شخص کی نیند میں خلل تک نہیں آتا۔

Google Analytics Alternative