سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

گوگل میں اپنا ڈیٹا خودکار طور پر ڈیلیٹ کرنا سیکھیں

آپ جب بھی گوگل استعمال کرتے ہیں تو نہ چاہتے ہوئے بھی ایک معاہدہ کرلیتے ہیں کہ آپ اس کی جو بھی سروس یعنی جی میل، ڈرائیو، سرچ، یوٹیوب یا میپ استعمال کریں گے، اس کے بدلے میں آپ اپنے بارے میں معلومات اس سرچ انجن کو فراہم کریں گے۔

گوگل اس معلومات کو اشتہاری کمپنیوں کو فراہم کرتا ہے تاکہ آمدنی حاصل کرسکے اور کمپنیاں اسے اپنی مصنوعات کی فروخت کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

گوگل آپ کے بارے میں جاننے کے لیے متعدد طریقہ کار استعمال کرتا ہے، جیسے اگر آپ اینڈرائیڈ فون استعمال کرتے ہیں تو آپ کا نام، فون نمبر، جگہ اور بہت کچھ اس کو معلوم ہوجاتا ہے۔

مگر یہ سرچ انجن انٹرنیٹ پر بھی آپ کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے اور آپ کی دلچسپیوں کا تعین انٹرنیٹ سرچز سے کرتا ہے، یعنی آپ کیا سرچ کررہے ہیں، کس پر کلک کرہے ہیں اور یہ کام گوگل کی اپنی سروسز یا کسی بھی ویب سائٹ پر وزٹ کے دوران جاری رہتا ہے۔

مگر اب پرائیویسی سیٹنگز کو زیادہ بہتر بنانے کے لیے گوگل نے حال ہی میں ایک نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا جو آپ کی سرگرمیوں سے کمپنی کی جانب سے ڈیٹا کے حصول کو روک سکتا ہے۔

اس نئی سیٹنگ کے تحت گوگل خودکار طور پر ویب اور ایپ ایکٹیویٹی ڈیٹا کو 3 یا 18 ماہ کے لیے ڈیلیٹ کرتا ہے، اس سے قبل یہ کام صارف کو خود کرنا پڑتا ہے۔

اس مقصد کے لیے myaccount.google.com پر جائیں۔

وہاں بائیں جانب Data & personalization کے آپشن پر کلک کریں۔

اس کے بعد نیچے Web & App Activity پر کلک کریں اور اس کے بعد Manage Activity کا انتخاب کریں۔

وہاں نیچے Choose to delete automatically بٹن کو پریس کریں۔

وہاں آپ کے سامنے 3 آپشن ہوں گے، ایک آپشن یہ ہے کہ آپ خود ڈیٹا ڈیلیٹ کریں، دوسرا 18 ماہ بعد خودکار طور پر ڈیلیٹ کرنے کا ہے جبکہ تیسرا تین ماہ بعد ڈیٹا ڈیلیٹ کرنے کا ہے۔

اب یہ آپ کی مرضی ہے کہ کس آپشن کا انتخاب کررہے ہیں۔

اینڈرائیڈ فون میں سیٹنگز میں جاکر گوگل پر کلک کریں۔

وہاں گوگل اکاﺅنٹ کے آپشن پر جائیں اور پھر Data & personalization پر چلے جائیں۔

وہاں Web & App Activity پر کلک کرکے Manage activity پر جائیں۔

اس کے بعد Choose to delete automatically میں جاکر اپنی پسند کے آپشن کا انتخاب کریں۔

واٹس ایپ کا ونڈوز اسمارٹ فونز کیلئے سپورٹ ختم کرنے کا فیصلہ

واٹس ایپ نے رواں سال کے آخر تک ونڈوز اسمارٹ فونز کے لیے سپورٹ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واٹس ایپ کی جانب سے سپورٹ ختم ہونے پر ونڈوز فونز کے صارفین کے لیے اس مقبول ترین میسجنگ اپلیکشن میں بگز فکسز، اپ ڈیٹس اور نئے فیچرز کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔

اور ہاں ونڈوز فونز میں اس کے بیشتر فیچرز کسی بھی وقت اچانک کام کرنا بند بھی کردیں گے۔

ونڈوز فون مائیکرو سافٹ کا وہ آپریٹنگ سسٹم ہے جس کو خود کمپنی نے سپورٹ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس وقت دنیا بھر میں 0.28 فیصد صارفین ونڈوز موبائل استعمال کررہے ہیں جبکہ اینڈرائیڈ صارفین کی تعداد 74.85 فیصد ہے۔

مائیکرو سافٹ پہلے ہی تمام ونڈوز فونز کے لیے سپورٹ ختم کرنے کا اعلان کرچکی ہے بلکہ صارفین کو اینڈرائیڈ یا آئی او ایس پر منتقل ہونے کا مشورہ دے چکی ہے۔

واٹس ایپ کی جانب سے منگل کو ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کے لیے سپورٹ 31 دسمبر 2019 تک ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔

واٹس ایپ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مائیکرو سافٹ کی جانب سے ونڈوز موبائل ڈیوائسز کے لیے دسمبر میں سپورٹ ختم کرنے کے حالیہ فیصلے کے بعد ہم نے بھی ونڈوز فونز کے لیے آخری اپ ڈیٹ جون میں جاری کرنے کا فیصلہ کیا، واٹس ایپ ونڈوز فونز رواں سال کے آخر تک کام کرتی رہے گی۔

ونڈوز فونز سے پہلے واٹس ایپ بلیک بیری آپریٹنگ سسٹم، بلیک بیری 10، نوکیا ایس 40، نوکیا سامبا ایس 60، اینڈرائیڈ 2.1، اینڈرائیڈ 2.2، ونڈوز فون 7، آئی فون تھری جی/آئی او ایس سکس کے لیے سپورٹ ختم کرچکی ہے۔

واٹس ایپ نے یکم فروری 2020 اینڈرائیڈ 2.3.7 اور آئی فون آئی او ایس کے لیے بھی سپورٹ ختم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

گوگل کا اپنی پراڈکٹس میں بڑی تبدیلیاں کرنے کا اعلان

گوگل کی سالانہ آئی او ڈویلپر کانفرنس کے دوران کمپنی کی جانب سے کئی بڑے اعلان کیے گئے۔

گزشتہ روز شروع ہونے والی کانفرنس کے دوران ڈویلپرز کے ساتھ ساتھ صارفین کے لیے بھی اہم اعلانات کیے گئے۔

گوگل کی جانب سے ان تمام نئی چیزوں پر کام کیا گیا تو اس کی بیشتر پراڈکٹس بدل کر رہ جائیں گی۔

اس کانفرنس میں جو اہم اعلانات کیے گئے وہ درج ذیل ہیں۔

گوگل سرچ

فوٹو بشکریہ گوگل
فوٹو بشکریہ گوگل

گوگل سرچ اس کمپنی کی سب سے اہم پراڈکٹ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے حوالے سے کئی چیزوں کے اعلان کیے گئے۔

سب سے پہلا فیچر گوگل سرچ میں پوڈکاسٹ کا اضافہ ہے جو صارفین کو سرچ میں پوڈکاسٹس کی تلاش میں مدد دے گا اور ان کو سیو کرکے بعد میں سننے کی سہولت بھی دی جائے گی۔

اس کے علاوہ موبائل سرچز میں کیمرا انٹیگریشن اور اگیومینٹڈ رئیلٹی فیچر بھی دیئے جارہے ہیں۔

گوگل کے نئے ویژول سرچ ٹول گوگل لینس کے لیے بھی کئی نئے فیچرز کا اضافہ کیا جارہا ہے اور فون کے کیمرے کو ریسٹورنٹ کے مینیو پر پوائنٹ کرنے پر گوگل لینس اس ریسٹورنٹ کے مقبول ترین پکوان اے آر کے ذریعے ہائی لائٹ کرسکے گا۔

ایک بہترین اضافہ گوگل کا بھی ہے، یہ گوگل کی انٹری لیول فونز کے لیے سرچ ایپ ہے جو صارفین کو کیمرے کی مدد سے کسی اشارے کا تحریری ترجمہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔

ڈپلیکس کا ویب ورژن

فوٹو بشکریہ گوگل
فوٹو بشکریہ گوگل

گوگل ڈپلیکس اے آئی فیچر ہے جو ورچوئل پرسنل اسسٹنٹ کی طرح کام کرتا ہے، یہ سروس گزشتہ سال متعارف کرائی گئی تھی جو کہ ریسٹورنٹس سے فونز کالز کرکے آپ کے لیے نشست ریزرو کرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ڈپلیکس کو اب فون یں گوگل اسسٹنٹ سے منسلک کیا جارہا ہے جبکہ ویب پر یہ فیچر کسی ویب سائٹ میں نیوی گیشن کرکے صارف کے لیے گاڑی بک کرسکے گا۔

تاہم ابھی یہ ویب پر دستیاب نہیں ہوگا بلکہ گوگل کی جانب سے اس پر کام کیا جارہا تھا اور مزید تفصیلات رواں سال کے آخر تک سامنے آئیں گی۔

پہلے سے بہتر گوگل اسسٹنٹ

فوٹو بشکریہ گوگل
فوٹو بشکریہ گوگل

گوگل نے اپنے ڈیجیٹل اسسٹنٹ کو بھی بہتر بنایا ہے اور نیکسٹ جنریشن گوگل اسسٹنٹ پہلے سے بہت زیادہ تیزرفتار ہوگا، صارف کی اسپیک کمانڈ کو بہت تیزی سے سن سکے گا۔ یہ نیا اسسٹنٹ سب سے پہلے رواں سال کسی وقت نئے پکسل فونز میں متعارف کرایا جائے گا۔

تیز اسپیڈ سے ہٹ کر ایک نیا فیچر پرسنل ریفرنسز بھی اسسٹنٹ میں دیا جارہا ہے جبکہ اسسٹنٹ کو گوگل میپس کا بھی حصہ بنایا جارہا ہے۔

لائیو کیپشن

فوٹو بشکریہ گوگل
فوٹو بشکریہ گوگل

یہ فیچر کسی بھی آڈیو یا ویڈیو سورس میں سب ٹائٹلز کا اضافہ کرے گا، یہ مکمل طور پر ڈیوائس پر چلے گا اور اس کے لیے کسی ڈیٹا یعنی انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ لائیو کیپشن کو اینڈرائیڈ کیو آپریٹنگ سسٹم میں متعارف کرایا جائے گا مگر گوگل کی جانب سے اس فیچر کو ویڈیوز اور آڈیو فائلز کے علاوہ دیگر شعبوں کے لیے بھی متعارف کرایا جائے گا، یعنی لائیو کیپشن لائیو فون بات چیت کو بھی سپورٹ کرے گا۔

اینڈرائیڈ کیو

فوٹو بشکریہ گوگل
فوٹو بشکریہ گوگل

گوگل نے کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ اس وقت دنیا بھر میں ڈھائی ارب متحرک اینڈرائیڈ ڈیوائسز موجود ہیں اور اینڈرائیڈ کیو بیٹا میں مزید نئے فیچرز کا اضافہ کیا جارہا ہے۔

اینڈرائیڈ کیو میں فولڈ ایبل ڈسپلے والے اسمارٹ فونز کی سپورٹ پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے جبکہ فائی جی سپورٹ فراہم کرنے کے لیے بھی کام کیا جارہا ہے۔

اس نئے آپریٹنگ سسٹم میں ایک اور بہترین فیچر اسمارٹ ریپلائی ہوگا جو کہ اینڈرائیڈ ڈیوائسز میں تمام میسجنگ ایپس میں کام کرے گا، اسمارٹ ریپلائی صرف الفاظ کی پیشگوئی نہیں کرے گا بلکہ جملے یہاں تک کہ مکمل جواب بھی بتاسکے گا اور ہاں اینڈرائیڈ کیو میں ڈارک تھیم سپورٹ بھی دی جارہی ہے۔

پرائیویسی اور سیکیورٹی پر اس آپریٹنگ سسٹم میں خاص توجہ دی جارہی ہے۔ اینڈرائیڈ کیو بیٹا 3 ورژن اس وقت 23 مختلف ڈیوائسز کے لیے دستیاب ہے۔

پکسل تھری اے اور پکسل تھری اے ایکس ایل

فوٹو بشکریہ گوگل
فوٹو بشکریہ گوگل

گوگل نے اس ایونٹ کے دوران اپنے مڈرینج اسمارٹ فونز پکسل تھری اے اور تھری اے ایکس ایل بھی متعارف کرائے جو اس کے فلیگ شپ پکسل تھری سیریز جیسے کیمرے سے لیس ہونے کے ساتھ قیمت میں 50 فیصد

گوگل کے مڈرینج پکسل اسمارٹ فونز متعارف

گوگل کے فلیگ شپ فونز پکسل 3 اور پکسل 3 ایکس ایل فونز کے بارے میں لگ بھگ ہر ایک 2 چیزوں پر اتفاق کرتے ہیں، ایک تو یہ کہ ان کا کیمرا سسٹم زبردست ہے (خصوصاً نائٹ سائٹ موڈ) اور دوسری یہ ڈیوائسز بہت زیادہ مہنگی ہیں (799 ڈالرز اور 899 ڈالرز)۔

یہی وجہ ہے کہ اب گوگل نے اپنے فلیگ شپ فونز کے سستے ورژن پکسل 3 اے اور پکسل 3 اے ایکس ایل متعارف کرادیئے ہیں جن میں بیشتر فیچر پکسل 3 جیسے ہی ہیں بشمول بہترین کیمرا سسٹم مگر قیمت کے لحاظ سے یہ کافی سستے ہیں۔

گوگل نے پکسل 3 اور پکسل 3 ایکس ایل کو میٹل اور گلاس سے تیار کیا تھا جبکہ پکسل 3 اے اور 3 اے ایکس ایل پلاسٹک سے بنائے گئے ہیں مگر ان کا ڈیزائن فلیگ شپ فونز جیسا ہی ہے جبکہ پلاسٹک باڈی ہونے کے باوجود اس میں گوگل اسسٹنٹ کے لیے اسکیوز کا فیچر برقرار رکھا گیا ہے۔

پکسل تھری اے 5.6 انچ ڈسپلے کے ساتھ ہے جبکہ پکسل تھری اے ایکس ایل میں 6 انچ اسکرین دی گئی ہے، یہ دونوں ڈسپلے او ایل ای ڈی پینل والے ہیں جبکہ نوچ نہیں دیا گیا۔

جہاں تک ہارڈوئیر کی بات ہے تو دونوں میں مڈرینج کوالکوم اسنیپ ڈراگون 670 پراسیسر دیا گیا ہے جبکہ 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے، مگر گوگل نے دونوں میں مائیکرو ایس ڈی کارڈ سلاٹ نہیں دی۔

پکسل تھری اے اور تھری اے ایکس ایل میں بالترتیب 3000 اور 3700 ایم اے ایچ بیٹریاں دی گئی ہیں اور گوگل کا دعویٰ ہے کہ مکمل چارج پر یہ بیٹریاں ڈیڑھ دن تک کام کرسکتی ہیں، مگر اس کا انحصار صارف کے استعمال پر ہے۔

دونوں میں کوئیک چارجنگ سپورٹ دی گئی ہے اور 15 منٹ میں 7 گھنٹے تک استعمال کے قابل بیٹری لائف حاصل کرنا ممکن ہے مگر وائرلیس چارجنگ کا آپشن موجود نہیں جو فلیگ شپ پکسل تھری فونز میں دیا گیا۔

فوٹو بشکریہ گوگل
فوٹو بشکریہ گوگل

فلیگ شپ پکسل تھری کے برعکس دونوں میں ہیڈفون جیک بھی دیا گیا ہے۔

دونوں فونز کے بیک پر 12.2 میگا پکسل سنگل کیمرا ایف 1.8 آپرچر کے ساتھ دیا گیا ہے جبکہ فرنٹ پر 8 میگا پکسل سیلفی کیمرا موجود ہے۔

پکسل تھری کے تمام کیمرا موڈ جیسے پورٹریٹ موڈ، ٹاپ شاٹ، موشن آٹو فوکس، سپر ریزولوشن زوم، نائٹ سائٹ اور فوٹو بوتھ ان مڈرینج فونز میں بھی موجود ہیں جبکہ نیا ٹائم لیپ ویڈیو موڈ بھی دیا گیا ہے۔

پکسل تھری اے کی قیمت 399 ڈالرز جبکہ پکسل تھری اے ایکس ایل کی قیمت 479 ڈالرز رکھی گئی ہے۔

حاملہ ماں اور بچے کی نگرانی کرنے والی سولر جی پی ایس بریسلیٹ

کینیا: کینیا اور دیگر افریقی ممالک میں خانہ بدوش اور جانوروں کو چرانے والی خواتین اکثر اپنا خیال نہیں رکھ پاتیں اور اس طرح خود ان کی اور بچوں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ اس کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والی ایک بریسلیٹ بنائی گئی ہے جس میں جی پی ایس نظام موجود ہے۔

کینیا کی جنگلات اور میدانوں میں ایک بڑی آبادی خانہ بدوش ہے جو مویشیوں کے ساتھ ایک سے دوسرے مقام تک طویل سفر کرتی ہے۔ ابتدائی طور پر 50 حاملہ خواتین کو  شمسی توانائی سے چلنے والے بریسلٹ لگائی گئی ہیں جس میں جی پی ایس (گلوبل پوزیشننگ سسٹم) ٹریکر بھی نصب ہے۔ ان میں بعض خواتین ایسے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتی ہیں جہاں ڈاکٹر اور اسپتال کا نام و نشان تک نہیں ہوتا۔

گزشتہ برس فروری میں شروع کیے گئے اس پروگرام میں اب تک 168 حاملہ خواتین کو شامل کیا گیا ہے۔ صحت کی ٹیم کسی گاؤں اور قصبے میں  جانے سے قبل گاؤں کے سربراہ یا کسی رضاکار سے رابطہ کرتی ہے، جو خواتین کو ایک مقام پر جمع کرتا ہے۔

اس کے بعد ڈاکٹر اور نرس آکر ان کا معائنہ کرتے ہیں اور دوا تجویز کرتے ہیں۔ اس طرح ایک وقت میں 150 کے لگ بھگ خواتین کا معائنہ اور علاج ہوتا ہے۔ اگر کوئی خاتون راہ میں ہوں تو جی پی ایس انہیں اس سے باخبر کرتا ہے اور ڈاکٹروں کی ٹیم اس کا انتظار کرتی ہے۔

ہر معائنے پر کئی نئی خواتین کے امید سے ہونے کا انکشاف ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین کو جنسی طریقے سے پھیلنے والے امراض کےلیے بھی ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

کینیا کی دیہی خواتین کے مطابق جی پی ایس بریسلیٹ سے ان کی رجسٹریشن کے بعد مسلسل ان کی صحت کو دیکھا جاتا ہے اور ان کی جان بچائی جاسکتی ہے۔

سعودی عرب: اہلیہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کیلئے موبائل ایپ متعارف

سعودی عرب میں اہلیہ اور ملازمین کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے موبائل ایپلیکیشن متعارف کرادی گئی جبکہ انسانی حقوق کے رضاکاروں نے مذکورہ اقدام کو بنیادی حقوق کے منافی قرار دے دیا۔

دی انٹیپنڈنٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق سعودی وزارت داخلہ کے زیر انتظام متعارف کرائی جانے والی موبائل ایپ ’Absher‘ یعنی ’جی سر‘ کو تقریباً 10 لاکھ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے شوہروں کو اپنی اہلیہ کی جانب سے پاسپورٹ استعمال کرنے پر بذریعہ ایس ایم ایس اطلاع مل جائے گی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے سعودی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایپلیکیشن کے ذریعے مرد کی بالادستی پر مشتمل نظام کو ختم کرے۔

خواتین کے حقوق کی محقق روتھنا بیگم نے کہا کہ ’سعودی حکام نے موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے مردوں کو خواتین اور مالکان کو ملازمین کی نقل و حرکت کو انتہائی محدود کرنے کا موقع فراہم کر دیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسی پابندیاں لوگوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت کے مترادف ہے جس کے نتیجے میں گھریلو تنازعات جنم لیں گے اور ملازمین کے حقوق متاثر ہوں گے‘۔

خیال رہے کہ مذکورہ ایپلیکیشن کی مدد سے خواتین کے بیرون ملک دوروں سے متعلق تمام معلومات بھی واضح ہو جائیں گی۔

قبل ازیں 6 جنوری کو 18 سالہ رہف محمد مطلق القنون اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کویت کی سیاحت پر تھی جہاں سے وہ بنکاک کے راستے آسٹریلیا جانے کی کوشش کے دوران گرفتار ہوئی تھیں۔

اپنے اہل خانہ کی جانب سے قتل کیے جانے کے خطرے سے دوچار رہف نے کہا تھا کہ ’میں نے مذہب سے متعلق کچھ باتیں کیں اور مجھے خوف ہے کہ سعودی عرب واپس بھیجنے کی صورت میں مجھے قتل کر دیا جائے گا‘۔

بعدازاں سعودی لڑکی کینیڈا میں حفاظتی پناہ کی اجازت ملنے کے بعد براستہ جنوبی کوریا ٹورنٹو پہنچ گئی تھیں۔

رہف محمد القنون نے کہا تھا کہ ان کی کہانی سعودی عرب میں دیگر آزاد خیال خواتین کو بھی ملک سے فرار ہونے کے لیے متاثر کرے گی۔

بعدازاں 26 مارچ کو خبر منظر عام پر آئی کہ ہانگ کانگ میں گزشتہ کئی ماہ سے پھنسی ہوئی دو سعودی بہنوں کو انسانی بنیادوں پر ویزا ملنے کے بعد ایک تیسرے ملک پہنچا دیا گیا جس کا نام تاحال نہیں بتایا گیا۔

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں ریم اور راوان کے قانونی مشیر کا کہنا تھا کہ ان کی مہینوں سے جاری آزمائش ختم ہوچکی ہے اور اب وہ انسانی بنیادوں پر حاصل ویزے پر تیسرے ملک پہنچ چکی ہیں۔

رمضان کی آمد: ہواوے کا اسمارٹ فونز کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان میں اسمارٹ فونز فروخت کرنے والی بڑی کمپنی ہواوے نے مختلف فونز کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

چینی کمپنی کی جانب سے ہواوے پی 30 لائٹ سمیت دیگر فونز کے لیے خصوصی رمضان آفر کا اعلان کیا ہے۔

ہواوے کے مطابق پی 30 لائٹ، نووا 3 آئی، وائے نائن 2019، اور وائے 5 لائٹ کی قیمتوں میں ماہ رمضان کے دوران کمی کی گئی ہے۔

پی 30 لائٹ اس کمپنی کے فلیگ شپ پی 30 سیریز کا فون ہے جسے کمپنی نے سیلفی سپراسٹار قرار دیا ہے کیونہ اس مین 32 میگا پکسل کا طاقتور فرنٹ کیمرا دیا گیا ہے۔

یہ فون ماہ رمضان کے دوران 47 ہزار 999 روپے سے کم کرکے 43 ہزار 999 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔

اسی طرح نووا 3 آئی اسمارٹ فون کی قیمت 45 ہزار 199 روپے سے کم کرکے 40 ہزار 999 روپے رکھی گئی ہے۔

اس فون میں فرنٹ پر 24 میگا پکسل اور 2 میگا پکسل پر ڈوئل کیمرا سیٹ اپ موجود ہے جبکہ اس کے بعد پر 16 اور 2 میگا پکسل کیمرے دیئے گئے ہیں۔

فوٹو بشکریہ ہواوے
فوٹو بشکریہ ہواوے

ہواوے وائے نائن 2019 میں بھی آگے اور پیچھے دو،2 کیمرے دیئے گئے ہیں اور اس کی قیمت 37 ہزار 999 روےے سے کم کرکے 35 ہزار 999 روپے کردی گئی ہے۔

اس فون میں فرنٹ پر 16MP+2MP جبکہ بیک پر13MP+2MP کیمرے دیئے گئے ہیں جبکہ کمپنی کا اپنا کیرین 710 اوکٹا کور پراسیسر موجود ہے جو کہ گیمنگ کے تجر بے کے لیے بہترین مواقع فراہم کرتا ہے ۔

کمپنی کے انٹری لیول اسمارٹ فون وائے 5 لائٹ کی قیمت ڈیڑھ ہزار روپے کمی 15 ہزار 499 روپے ہوگئی ہے۔

یہ خصوصی ڈسکاﺅنٹ آفر محدود مدت کے لیے پیش کی گئی ہے تاکہ رمضان کے اس مہینے میں صارفین اپنے پیاروں کو فونز تحفے کے طور پر پیش کر سکیں ۔

ٹوئٹر ری ٹوئیٹس میں اب انیمیٹڈ تصاویر کا اضافہ ممکن

تیار ہوجائیں آپ کی ٹوئٹر فیڈ اب بہت زیادہ انیمیٹڈ ہونے والی ہے۔

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اب ٹوئٹر صارفین ری ٹوئیٹس میں انیمیٹڈ تصاویر (GIF) کو ایڈ کرسکتے ہیں۔

اس بات کا اعلان ٹوئٹر نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کیا اور کمپنی کے مطابق یہ فیچر اس وقت مددگار ثابت ہوگا جب آپ کو کچھ لکھنے کے لیے الفاظ کا انتخاب کرنے میں مشکل کا سامنا ہو۔

اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے کسی بھی ٹوئیٹ پر ری ٹوئیٹ بٹن پر کلک کریں اور وہاں ری ٹوئیٹ وڈ کمنٹ کے آپشن کا انتخاب کریں، جس کے بعد جی آئی ایف، ویڈیو یا تصویر کو ایڈ کردیں اور پھر ری ٹوئیٹ بٹن پر کلک کردیں۔

یہ فیچر اس وقت آئی او ایس، اینڈرائیڈ اور mobile.twitter.com میں دستیاب ہے جبکہ ڈیسک ٹاپ ورژن میں یہ آنے والے مہینوں میں متعارف کرایا جائے گا۔

ٹوئٹر صارفین نے اس نئے فیچر پر کافی جوش کا اظہار کیا ہے کیونکہ لوگوں کی جانب سے سوشل میڈیا سائٹ پر اس فیچر کے لیے کافی عرصے سے زور دیا جارہا تھا۔

اس سے پہلے گزشتہ ماہ ٹوئٹر نے ’لیبل‘ نامی فیچر متعارف کرایا تھا۔

اس فیچر کے تحت جب بھی کوئی ٹوئٹر صارف کسی ٹوئیٹ میں دوسرے شخص کو مینشن کرے گا اور مینشن کیا گیا شخص جب بھی اسی ٹوئیٹ کے پر ریپلائی کرے گا تو اس کے ٹوئیٹ کے اوپر ’مینشن‘ کا لفط لکھا ہوا آئے گا۔

ساتھ جب اسی ٹوئیٹ پر پہلا ٹوئیٹ کرنے والا شخص دوبارہ کوئی کمنٹ کرے گا تو اس کے ٹوئیٹ کے اوپر ’آتھر‘ کا لفظ لکھا ہوا آئے گا۔

کمپنی کی جانب سے ٹوئٹر کے ری ڈیزائن ویب ورژن کی آزمائش گزشتہ سال ستمبر سے کی جارہی تھی مگر اب اسے عام صارفین کے لیے متعارف کرانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔

اس ری ڈیزائن کے بعد ٹوئٹر میں بک مارکس، ایکسپلور ٹیب اور ایک نیا ڈیٹا سیور موڈ بھی متعارف کرایا گیا ہے ۔

اکثر صارفین کو اس ری ڈیزائن کو استعمال کرنے کا موقع بھی فراہم کیا جارہا ہے جو کہ سائٹ کے دائیں جانب اوپر موجود ہے جس پر ٹیک اے لک پر کلک کرنا ہوگا۔

Google Analytics Alternative