سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

پاپ کارن سے بنے بہت کارآمد روبوٹ

نیویارک: کورنیل یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے پاپ کارن استعمال کرتے ہوئے ایک بہت دلچسپ روبوٹ بنایا ہے جو انگلی نما ساخت رکھتا ہے۔ اس سادہ روبوٹ سے کسی شے کو گرفت کرنے کا کام لیا جاسکتا ہے۔

یونیورسٹی کے پروفیسر کرسٹین ایچ پیٹرسن اور طالب علم اسٹیون سیرون ایسا سستا روبوٹ بنانا چاہتے تھے جو پھیل سکے، اپنی سختی میں تبدیلی لائے اور اشیا کو تھامنے کا کام کرسکے۔ اس لیے ان کے ذہن میں پاپ کارن کا خیال آیا جو آسانی سے دستیاب ہیں اور مکئی سے پاپ کارن بنتے وقت دس گنا تک پھیل سکتے ہیں۔

ٹیم نے ایسے پاپ کارن کا انتخاب کیا جس میں کوئی کیمیکل شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اس سے قبل انہوں نے مختلف اقسام کی مکئی اور ان سے پھوٹنے والے پاپ کارن پر بھی غور کیا۔ پھر سب سے زیادہ پھیلنے والی مکئی کو روبوٹ سازی میں استعمال کیا گیا۔ ابتدائی طور پر انگلی نما سادہ روبوٹ تیار کیا گیا۔

مکئ  کے دانوں کو نائیکروم سے بنے تار پر لگایا گیا۔ جیسے ہی دانوں کو حرارت دی گئی وہ پھوٹ کر پاپ کارن بنے اور انہوں نے نائیکروم کے تار سے بنی انگلیوں پر دباؤ بڑھا کر ایک غبارے کو گرفت میں لے لیا۔ دوسرے تجربے میں مکئی کے 36 دانوں کو سلیکون پر لگایا گیا اور جو سخت ہوکر ایک ٹھوس شکل اختیار کرگیا۔ تیسرے روبوٹ کو مکئی سے ایک خاص شکل دے کر اس سے چار کلوگرام وزن تھامنے کا مظاہرہ کیا گیا۔

سادہ روبوٹ بنانے والی اس ٹیکنالوجی سے چھوٹے جمپنگ روبوٹ بنائے جاسکتے ہیں۔ تاہم پاپ کارن والے روبوٹ صرف ایک مرتبہ ہی استعمال ہوسکتے ہیں۔ لیکن بہت سستے اور فراواں ہونے کی وجہ سے یہ بہت سے کام کرسکتےہیں۔

کورنیل میں انجینئروں کی ٹیم کہتی ہے کہ ان روبوٹس کو بڑی تعداد میں بناکر ان سے بہت سارے کام لیے جاسکتے ہیں۔ یہ خودکار انداز میں ناکام ہوئے بغیر اپنی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ اسی بنا پر پاپ کارن روبوٹ بہت مفید ہیں۔

گوگل نے پکسل فونز کی تاریخ رونمائی ‘خود لیک’ کردی

گوگل کی پکسل سیریز کے نئے فونز کی تاریخ رونمائی کمپنی نے خود ہی لیک کردی۔

جی ہاں گوگل پکسل تھری اور پکسل تھری ایکس 4 اکتوبر کو متعارف کرائے جائیں گے اور یہ انکشاف کمپنی نے اپنی ہی ایک ویب سائٹ پر خود کردیا۔

دس از ٹیک ٹوڈے نامی یوٹیوب چینیل کے مطابق پکسل تھری سیریز کے فونز کی تاریخ رونمائی گوگل کی اپنی فیم بٹ ویب سائٹ پر دی گئی۔

اس ویب سائٹ میں برانڈز اور کمپنیاں یوٹیوب ویڈیوز بنانے والے افراد کے لیے اپنی اشیاءکی تفصیلات دیتے ہیں تاکہ ان پر ویڈیوز بن سکیں۔

گوگل نے اس پر ایک کینیڈین یوٹیوبر کے لیے تفصیلات کا اندراج کیا جس کے مطابق یہ فونز 4 اکتوبر 2018 کو متعارف ہوں گے یا دستیاب ہوں گے۔

فوٹو بشکریہ دس از ٹیک ٹوڈے یوٹیوب پیج
فوٹو بشکریہ دس از ٹیک ٹوڈے یوٹیوب پیج

تاہم ان تفصیلات کے ساتھ جو تصویر دی گئی وہ 2 سال پرانے گوگل پکسل کی ہے اور پکسل 3 کا ڈیزائن اس سے مختلف ہوگا بلکہ آئی فون ایکس جیسے نوچ کے ساتھ ہوگا۔

۔

اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں لاپروائی سے اپنی ڈیوائسز کی معلومات انٹرنیٹ پر خود لیک کررہی ہیں۔

پہلے سام سنگ نے اپنے گلیکسی نوٹ 9 کی تصویر اور ویڈیو ‘غلطی’ سے لیک کی جبکہ ایپل نے بھی اپنے نئے آئی فونز کا عندیہ اپنے آپریٹنگ سسٹم کے بیٹا ورژن میں دے دیا۔

گوگل کا یہ نیا فون ممکنہ طور پر فور جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج کے ساتھ ہوگا، تاہم فرنٹ کے نوچ میں 2 کیمرے ہوسکتے ہیں جبکہ ایک فرنٹ اسپیکر بھی وہاں دیا جائے گا۔

مگر اس کے بیک پر ہمیشہ کی طرح سنگل کیمرہ دیئے جانے کا امکان ہے جبکہ فنگرپرنٹ سنسر بھی بیک پر ہی ہوگا۔

اس میں یو ایس بی ٹائپ سی کنکٹر دیئے جانے کا امکان ہے جبکہ ہیڈفون جیک یہ کمپنی پہلے ہی ختم کرچکی ہے۔

اب ملازمتوں کا حصول فیس بک سے بھی ممکن

اب ملازمتوں کا حصول فیس بک سے بھی ممکن سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے زندگی کے مختلف شعبوں کو بدل کر رکھ دیا ہے، خاص طور پر فیس بک، جس کے اثرات سے انکار کرنا ممکن نہیں۔

اور اب فیس بک پاکستان کے شہریوں کو ملازمتوں کے حصول میں مدد دینے کے لیے مددگار ثابت ہونے والی ہے۔

جی ہاں فیس بک نے آخرکار پاکستان میں اپنا جاب فیچر متعارف کرا دیا ہے جو کافی عرصے پہلے امریکا میں متعارف کرایا گیا تھا اور پھر دیگر ممالک میں اسے پیش کیا۔

فیس بک نے درحقیقت مائیکرو سافٹ کی زیرملکیت سوشل میڈیا سائٹ لنکڈان کو ٹکر دینے کے لیے جاب فیچر متعارف کرایا تھا۔

اور اب وہ پاکستانی صارفین کے لیے بھی دستیاب ہوگا بلکہ کچھ افراد کو وہ بھی دستیاب بھی ہے جبکہ دیگر کے پاس کمنگ سون کا آپشن آرہا ہے۔

اس فیچر کی مدد سے فیس بک پیجز کو چلانے والے جاب پوسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ امیدواروں کی سی ویز بھی موصول کرسکیں گے، جبکہ امیدوار اپنی مطلوبہ پوسٹ پر فیس بک کی مدد سے اپلائی کرسکیں گے۔

اس فیچر کو متعارف کرانے کے موقع پر فیس بک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ متعدد چھوٹے کاروباری ادارے اپنے فیس بک پیجز پر ملازمتوں کے حوالے سے پوسٹس کرتے ہیں، لہذا اسے مدنظر رکھ کر یہ فیچر متعارف کرایا گیا۔

لنکڈان نامی سوشل نیٹ ورک کو بیشتر آمدنی ان کاروباری اداروں یا افراد سے حاصل ہوتی ہے جو مختلف ملازمتوں کے لیے لوگوں کو ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔

فیس بک کو توقع ہے کہ اس جاب فیچر کی بدولت وہ اپنے فیس بک پیجز پر زیادہ ٹریفک لانے میں کامیاب ہوسکے گی جبکہ اسی طرح پیجز سے بھی آمدنی حاصل کرسکے گی۔

جابز کا یہ آپشن نیوزفیڈ پر بائیں جانب ایکسپلور کے سیکشن میں کہیں موجود ہوسکتا ہے جو ڈیسک ٹاپ سائٹ پر بائیں جانب ہوگا۔

تاہم اگر وہ آپشن نظر نہیں آرہا تو ممکنہ طور پر ابھی آپ کے پاس اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا، اس لنک پر کلک کرکے دیکھیں کہ آپ کے سامنے ملازمتوں کے اشتہارات سامنے آتے ہیں یا کمنگ سون۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

اس نئے فیچر میں صارفین کے سامنے اپنے شہر یا قریبی علاقوں میں دستیاب ملازمتوں کے مواقع سامنے آئیں گے اور پیجز کے اشتہارات میںکسی ملازمت کو متعلقہ تفصیلات جیسے تنخواہ وغیرہ کے ساتھ شیئر کیا جائے گا، تو وہ نظر آئے گا۔

ہر اشتہار کے ساتھ ‘اپلائی ناﺅ’ کا بٹن بھی ہوگا، جس پر کلک کرنے پر آپ کے سامنے ایک پوپ اپ ونڈو میں آپ کا نام، فون نمبر، شہر کا نام اور ای میل ایڈریسز آجائیں گے جبکہ ملازمت کا تجربہ، تعلیم وغیرہ بھی درج ہوگی (اگر آپ نے پروفائل تفصیلات میں بھری ہو تو)، اس کے علاوہ نئی جاب اوپننگز کے نوٹیفکیشنز کی اجازت ہوگی۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

جمع کرائے جانے والی درخواستوں کو اشتہار دینے والے پیج کو فیس بک میسج کی شکل میں موصول ہوگی۔

یہ فیچر پاکستان میں کچھ لوگوں کو دستیاب ہے جبکہ دیگر کے پاس کمنگ سون کا آپشن آرہا ہے تاہم امکان ہے کہ جلد یہ سب کو دستیاب ہوگا۔

ایپل کے نئے آئی فون ایکس پلس کا ڈیزائن سامنے آگیا

یہ تو کافی عرصے سے افواہوں میں آرہا ہے کہ ایپل کی جانب سے رواں سال ایک بڑا آئی فون ایکس پلس ماڈل متعارف کرایا جائے گا اور اب لگتا ہے کہ اس نئی ڈیوائس کی تصدیق بھی ہوگئی ہے۔

درحقیقت ایپل کے اپنے آپریٹنگ سسٹم کے بیٹا ورژن میں اس نئے فون کے ڈیزائن کی تصدیق ہوگئی ہے۔

آئی او ایس 12 بیٹا ورژن میں آئی فون ایکس پلس کے ڈیزائن کی تصویر کو ایک انجنیئر Guilherme Rambo نے دریافت کیا جبکہ اس کے ساتھ بیزل لیس آئی پیڈ کا ڈیزائن بھی انہوں نے دریافت کیا۔

ایک ٹوئیٹ میں انہوں نے ایپل کی نئی ڈیوائسز کی لیک تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ آئیکون ابھی ابتدائی ہیں تو ضروری نہیں کہ نئی ڈیوائسز دیکھنے میں ایسی ہی ہوں، تاہم امکان ہے کہ ان کا ڈیزائن ایسا ہی ہوگا۔

یہ پہلا موقع نہیں جب ایپل کے حادثاتی طور پر کسی آئی فون ڈیزائن کو اپنے آپریٹنگ سسٹم کے بیٹا ورژن میں لیک کردیا ہو۔

اس سے قبل گزشتہ سال کے آئی فون ایکس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا اور اس وقت بھی Guilherme Rambo نے ہی اس فون کے ڈیزائن کی تصویر کو ٹوئٹر پر شیئر کیا تھا۔

دوسری جانب میک ریومرز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس سال کے آئی فونز میں 3.5 ایم ایم لائٹننگ پورٹ ہیڈفون ڈونگل موجود نہیں ہوگا۔

یہ ڈونگل ایپل کو سپلائی کرنے والی کمپنی نے بھی ‘تصدیق’ کی ہے کہ اس بار یہ نئے آئی فونز کے ساتھ ڈبوں میں نہیں ہوگا۔

ایپل کی جانب سے ائیرپورڈز اور وائرلیس بیٹس ہیڈفونز صارفین کی اولین ترجیح بنانے کی کوشش کی جارہی ہے تو ڈونگل کا نہ ہونا زیادہ حیرت انگیز نہیں۔

تاہم اگر صارفین چاہیں گے تو الگ سے یہ ڈونگل 9 ڈالرز کے عوض خرید سکیں گے۔

کیا اگلے آئی فون میں 2 سِموں کی گنجائش ہوگی؟

کیلیفورنیا: اس بات کے بہت زیادہ امکانات ہیں کہ اس سال ایپل کے کسی نئے ماڈل کے اسمارٹ فون میں دو سم لگانے کی سہولت میسر ہوگی۔ اس بات کا انکشاف ایپل کی خبریں چھاپنے والی ویب سائٹ نائن ٹو فائیو میک نے کیا ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق اس بات کا انکشاف آئی او ایس 12 کے بی ٹا ورژن میں کیا گیا ہے جس میں ایک جگہ ’سیکنڈ سِم اسٹیٹس‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ویب سائٹ نے پورے آئی او ایس کو دیکھتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جگہ ’سیکنڈ سِم ٹرے‘ اور ’ڈیوئل سِم اسٹیٹس‘ بھی لکھا گیا ہے۔

ایک جانب تو اس سے خود امریکی اور یورپی صارفین ایک سے زائد سِم استعمال کرسکیں گے تو دوسری جانب ڈبل سِم کی سہولت سے بین الاقوامی سفر کرنے والے افراد بھی مستفید ہوسکیں گے۔ علاوہ ازیں اس تبدیلی کا ایک اور مقصد دنیا کے کئی ممالک میں ایک سے زائد سِم فون استعمال کرنے والے ایپل صارفین کو بھی ڈبل سِم کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

اس سے قبل ایپل کی مدِمقابل اسمارٹ فون کمپنیاں مثلاً سام سنگ، ہواوے اور ون پلس بھی اپنے جدید فونز میں دوہری سِم کی سہولت پیش کرتی آرہی ہیں۔ پھر ایپل ترقی پذیر ممالک میں بھی اپنے قدم جمانا چاہتا ہے جہاں دو سِموں والے موبائل عام استعمال کئے جاتے ہیں۔

تاہم بعض تجزیہ نگاروں نے کہا ہے کہ شاید سیکنڈ سِم کے تحت ایپل ایک ای سِم کارڈ بھی پیش کرے گا جو وہ پہلے ہی اسمارٹ واچ میں پیش کرچکا ہے۔ ایپل مصنوعات کی پیش گوئی کرنے والے مشہور ماہر مِنگ چی کواؤ کا اصرار ہے کہ ستمبر میں ایپل کم ازکم تین نئے فون پیش کررہا ہے جن میں ساڑھے چھ ایچ اسکرین کا آئی فون ایکس پلس، 6.1 انچ کا سادہ آئی فون اور اس سے کم اسکرین کا ایسا ماڈل بھی ہوگا جو آئی فون ایکس سے مشابہ ہوگا۔

واٹس ایپ میں گروپ ویڈیو کال فیچر متعارف‎

واٹس ایپ صارفین کی جانب سے لمبے عرصے سے گروپ ویڈیو کالنگ کا مطالبہ کیا جا رہا تھا جس کو پورا کرتے ہوئے واٹس ایپ نے اپنے گروپ وائس اور ویڈیو کال فیچر کو متعارف کرا دیا ہے۔ واٹس ایپ کی جانب سے اعلامیے کے مطابق ون آن ون آڈیو یا ویڈیو کال کے دوران گروپ کالنگ کا آپشن نئے بٹن کی شکل میں دستیاب ہوگا۔صارفین کال کے دوران ہی ایڈ پارٹیسیپینٹ کے بٹن کو دبا کر دیگر دوستوں کو کال میں ایڈ کر سکیں گے۔ ایک وقت میں صارفین چار افراد سے آڈیو یا ویڈیو کال کر سکیں گے۔یہ کالز اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ بھی ہوںگی۔ کمپنی نے اپنے ایک بلاگ میں بتایا ہے کہ صارفین روزانہ واٹس ایپ کو استعمال کرتے ہوئے 2 ارب منٹ کالز کرتے ہیں۔

’نیلا ہیرا‘ زمین کی گہرائیوں میں دفن راز افشا کر سکتا ہے

واشنگٹن: زینت و زیبائش کو چار چاند لگانے والا نایاب ہیرا ’ بلیو ڈائمنڈ‘ اپنی ساخت اور بناوٹ کے لحاظ سے منفرد مقام رکھتا ہے لیکن کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ اس ہیرے کے سینے میں زمین کی قدیم تاریخ بھی دفن ہے۔ 

معروف سائنسی جریدے نیچر میں امریکا کے جیولوجیکل انسٹیٹیوٹ سے وابستہ سائنس دان اوون سمتھ کی قیادت میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے نیلے ہیرے پر اپنی تحقیق پیش کی ہے جس میں نیلے ہیرے سے متعلق اہم حقائق اور اس کی رنگت کی سائنسی وجوہات پر گفتگو کی گئی ہے۔

سائنس دانوں نے دنیا بھر سے منتخب کیے گئے نیلے ہیروں کا مطالعہ کیا جس میں 2016 میں 25 ملین ڈالر کے عوض نیلام ہونے والا جنوبی افریقہ کا قیمتی ’ نیلا ہیرا‘ بھی شامل تھا۔ مطالعے سے حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ یہ نیلا ہیرا زمین کے اندر 410 میل کی گہرائی میں پیدا ہوتا ہے۔

امریکی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نیلے ہیرا کی تشکیل زمین کے نچلے حصے ’ مینٹل‘ میں ہوتی ہے جہاں معدنیات کے کچھ ٹکڑوں کے پھنس جاتے ہیں۔ معدنیات کے ان ٹکڑوں پر کثیف دباؤ کی وجہ سے ’نیلا ہیرا‘ جنم لیتا ہے۔ نیلے ہیرے کی پیدائش میں کاربن کی قلموں کا بھی کلیدی کردار ہوتا ہے۔

چنانچہ ارضیاتی مطالعے میں ’نیلے ہیرے‘ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے کیوں کہ اس کے علاوہ جتنے بھی ہیروں کی اقسام کی ہے وہ زیادہ سے زیادہ زمین کی اندر محض 125 میل کی گہرائی میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے جو زمینی راز نیلا ہیرا افشا کرسکتا ہے وہ کسی اور ہیرے کے بس میں نہیں۔

نیلے ہیرے میں بورون نامی عنصر بھی پایا جاتا ہے جو لاکھوں سال قبل سمندری پانی میں پایا جاتا تھا اور اب حیران کن طور پر زمین کی تہہ کے اندر تک پہنچ چکا ہے اسی بناء پر سائنس دانوں کا خیال ہے کہ نیلے ہیرے پر مزید تحقیق سے اپنے سیارے کے بری اور بحری حصے کی تاریخ معلوم کی  جاسکتی ہے۔

سائنس دانوں کا دعوی ہے کہ ’ نیلے ہیرے‘ کو محض زیبائش کی چیز نہ سمجھا جائے بلکہ یہ ارضیاتی تبدیلیوں اور زمین کی ساخت و تاریخ کے مطالعے میں ایک اہم اور موثر ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔

گوگل میپس میں ایک اور کارآمد فیچر کا اضافہ

اگر تو آپ گوگل میپ استعمال کرتے ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ اس میں ایک کارآمد فیچر خاموشی سے متعارف کرا دیا گیا ہے۔

درحقیقت اب جب آپ کا کسی دوست کو اپنی لوکیشن ٹریکنگ کی دعوت دیں گے تو اب ایک نیا آئیکون بھی لوکیشن انفارمیشن کے ساتھ سامنے آجائے گا، اور وہ ہے بیٹری لیول۔

جی ہاں اب اگر کوئی پیارا آپ کا متنظر ہوگا تو اس ایپ سے اسے علم ہوسکے گا کہ آپ کا فون بند ہونے والا ہے یا بیٹری انتہائی لو ہے۔

یہ فیچر آپٹ ان ہے تو یہ معلومات اس وقت تک شیئر نہیں ہوسکے گی جب تک آپ کسی کو اس تک رسائی نہیں دیتے۔

گوگل کی جانب سے اس فیچر کو خاموشی سے متعارف کرایا گیا تھا مگر ایک ریڈیٹ صارف کو اس کا علم اس وقت ہوا جب وہ اپنی بیوی کے راستوں پر نظر رکھتا تھا۔

یہ نئی معلومات اب لوگوں کے لیے یہ بہانہ ناممکن بنادے گا کہ ان کا فون مرگیا تھا یا مرنے والا ہے، اس لیے وہ تاخیر سے پہنچے۔

لوکیشن شیئرنگ کا فیچر گوگل میپس میں گزشتہ سال متعارف کرایا گیا تھا اور کمپنی کے مطابق یہ فیچر گمشدہ فون کو تلاش کرنے کے لیے بھی کارآمد ہے۔

اس سے قبل گوگل میپ کے ویب ورژن میں گزشتہ ماہ ایک بہترین فیچر کا اضافہ کیا گیا تھا، ویب ورژن میں اب صارفین کو نوٹیفائی کیا جارہا ہے کہ کس وقت انہیں اپنے گھر یا دفتر سے نکلنا چاہیے تاکہ وہ بروقت اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔

گوگل میپ کے ویب ورژن میں رواں سال جنوری سے نوٹیفکیشنز کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا مگر یہ اب تک کچھ زیادہ مددگار نہیں تھا۔

مگر اب نوٹیفکیشن میں ایک نئے آپشن کا اضافہ کیا گیا ہے جسے ٹائم ٹو لیو (Time to leave) کا نام دیا گیا۔

Google Analytics Alternative