سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

ناسا کے خلائی جہاز نے مریخ پر قدیم نامیاتی مالیکیول دریافت کرلیا

کیلفورنیا: دوسرے سیاروں پر زندگی کی تلاش کےلیے کئی خلائی جہاز بھیجے گئے ہیں۔ ان میں سے ناسا کا ایک چھوٹا روبوٹ ’کیوریوسٹی‘ اب بھی مریخ کی خاک چھان رہا ہے جس نے حال ہی میں سرخ سیارے پر قدیم نامیاتی مالیکیول (سالمے) کے آثار دریافت کیے ہیں جو لگ بھگ تین ارب سال پرانے ہیں۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کی وجہ حیاتیاتی نہیں بلکہ ارضیاتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی میں کبھی مریخ پر زندگی کے آثار موجود تھے اور یہ سالمہ اسی کی جانب نشاندہی کرتا ہے۔ سائنسداں گزشتہ 50 برس سے مریخ پر پانی اور زندگی کے آثار کی تلاش میں ہیں لیکن اب تک خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ تاہم وائیکنگ، سوجرنر اور میرینر جیسے اہم مشنز سے یہ ضرور معلوم ہوا ہے کہ مریخ زندگی کےلیے ہرگز موزوں سیارہ نہیں لیکن اس کے فرش کے کھونے کھدروں میں قدیم بیکٹیریا (جراثیم) یا ان کے آثار موجود ہوسکتے ہیں کیونکہ مریخ کا ماضی نمی سے بھرپور قدرے گرم تھا۔

ناسا نے بتایا ہے کہ مریخ کی مشہور گیل خندق میں کیوروسوٹی نے چار مقامات پر 5 سینٹی میٹر تک کھدائی کرکے مٹی کے نمونے اپنے اندر موجود جدید لیبارٹری میں رکھے جہاں 500 درجے گرمی دے کر ان کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ ان نمونوں میں قدیم شہابیوں کی طرح نامیاتی مالیکیول موجود ہیں جن کی مقدار اب تک مریخ سے ملنے والے نمونوں سے بہت زیادہ ہے۔

ناسا کے مطابق یہ سالمات سلفر ایٹم سے جڑے ہیں اور اسی وجہ سے ان کے آثار موجود ہیں تاہم اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اگلے مرحلے میں 2020 میں ناسا قدرے جدید خلائی جہاز مریخ کی جانب بھیجے گا اور یورپی خلائی ایجنسی بھی ایکسو مارس نامی مشن بھی مریخ کی سمت روانہ کرے گی۔

ناسا نے اعتراف کیا ہے کہ کیوریوسٹی خلائی جہاز نے نامیاتی مالیکیول کا اہم ذریعہ یا منبع معلوم نہیں کیا لیکن اس تحقیق سے مریخ کے ماضی کو سمجھنے میں بہت مدد ملے گی۔

’یاہو‘ میسینجر بند کرنے کا اعلان

معروف آن لائن ٹیکنالوجی کمپنی ’یاہو‘ نے اپنی انسٹنٹ میسیج سروس ایپلی کیشن ’یاہو‘ میسینجر کو بند کرنے کا اعلان کردیا۔

خیال رہے کہ ’یاہو‘ نے اپنی میسینجر ایپلی کیشن کو 2 سال قبل 2016 میں اپ ڈیٹ کیا تھا، کمپنی نے پرانی میسیج ایپلی کیشن بند کرکے نئی ایپلی کیشن متعارف کرائی تھی۔

’یاہو‘ نے انسٹنٹ میسیج ایپلی کیشن 2 دہائیاں قبل 1998 میں متعارف کرائی تھی، اس میسینجر ایپ کا شمار دنیا کی پہلی انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن میں ہوتا ہے۔

’یاہو میسینجر‘ کو ابتدائی طور پر 9 مارچ 1998 کو متعارف کرایا گیا تھا، اس ایپلی کیشن میں گزشتہ 20 سالوں کو دوران صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے متعدد تبدیلیاں بھی کی گئیں۔

یاہو میسینجر چیٹ رومز سمیت دیگر فیچر بھی متعارف کرائے گئے، تاہم گزرتے وقت اور نئی میسیجنگ ایپلی کیشنز اور سوشل ویب سائٹس آنے کے بعد اسے سخت مشکلات درپیش تھیں۔

یاہو میسینجر نے 2012 میں چیٹ روم فیچر بھی بند کردیا تھا، اب اس ایپلی کیشن کو مکمل طور پر آئندہ ماہ سے بند کردیا جائے گا۔

یاہو نے اپنے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ 17 جولائی 2018 کے بعد ’یاہو میسینجر‘ کو بند کردیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ کمپنی آئندہ ماہ سے اپنی معروف ایپلی کیشن کو برقرار نہیں رکھ سکے گی، جس کے لیے وہ اپنے جذباتی صارفین سے معزرت خواہ ہے۔

ساتھ ہی کمپنی کی جانب سے صارفین کو اپنی چیٹ بھی ڈاؤن لوڈ کرنے کی سہولت فراہم کی گئی۔

یاہو نے اپنے بیان میں صارفین کو ’یاہو میسینجر‘ کی جگہ نئی میسیجنگ ایپلی کیشن استعمال کرنے کا مشورہ بھی دیا۔

یاہو نے اپنے صارفین کو ’اسکئرل‘ نامی اپنی نئی میسیجنگ ایپلی کیشناستعمال کرنے کا مشورہ دیا، جسے 17 جولائی کے بعد آن لائن کیا جائے گا۔

یاہو سے قبل ماضی کی دیگر مقبول میسیجنگ ایپلی کیشنز ’اے او ایل‘ کو 2017 جب کہ ’ایم ایس این‘ کو 2014 میں بند کیا جا چکا ہے۔

زلزلے کے ایموجی بنانے کے لیے عالمی مہم

سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں نت نئے ٹرینڈز کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے، وہیں ایموجیز بھی ایک نئی عالمی زبان کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

اس وقت اگرچہ مختلف سوشل میڈیا اور موبائل کمپنیز کی جانب سے ہزاروں ایموجیز تیار کیے جاچکے ہیں، تاہم پھر بھی نئے ایموجیز بنانے پر تیزی سے کام جاری ہے۔

ایموجیز کی اہمیت اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب لوگ سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لیے الفاظ کے بجائے ایموجیز کا ہی استعمال کرتے ہیں۔

اسی ضروت اور اہمیت کو دیکھتے ہوئے اب امریکی ماہرین نے دنیا بھر میں زلزلے کی صورتحال سے لوگوں کو باخبر رکھنے اور اس سے نمٹنے کے لیے ایک ایسے ایموجی بنانے کی مہم شروع کردی ہے جو دنیا کے تمام ممالک میں رہنے والے افراد کے لیے سمجھنا آسان ہو۔

برطانیہ کی ساؤتھیمپٹین یونیورسٹی کے زلزلہ سے متعلق تعلیم کے پروفیسر اسٹیفن ہاکس اور ان کے دیگر سائنسدان ساتھیوں کی جانب سے شروع کی گئی عالمی مہم کا مطلب زلزلہ سے متعلق ایک ایسا ایموجی تیار کرنا ہے، جو عالمی سطح پر لوگوں میں رابطے کی زبان کا کام کرسکے۔

اس غرض کے لیے ماہرین نے ’ایموجی کئک‘ نامی آن لائن مہم بھی شروع کر رکھی ہے، جس کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں کو ایک ایسے ایموجی کا خاکہ پیش کرنے کی دعوت دی گئی ہے جو دنیا کے تمام ممالک میں بسنے والے افراد کے لیے سمجھ میں آنے والی عالمی زبان کا کام کر سکے۔

ماہرین نے اس کام کے لیے دنیا بھر کے افراد کو ایموجیز کے خاکے جولائی کے وسط تک بھیجنے کی پیش کش کی ہے، جس کے بعد ماہرین کی ٹیم دنیا بھر سے بھیجے گئے خاکوں کا جائزہ لے کر ان میں سے ایک ایموجی کو منتخب کرے گی۔

زلزلے سے متعلق ایموجی کو بعد ازاں یونیکوڈ سسٹم میں شامل کرایا جائے گا،تاکہ اسے سوشل میڈیا اور موبائل فونز کمپنیاں اپنے سسٹم میں داخل کریں اور لوگ با آسانی زلزلے سے متعلق عالمی سطح پر بات چیت کر سکیں۔

اس عالمی مہم کے آن لائن صفحے پر دستیاب معلومات کے مطابق دنیا بھر کے تقریباً ڈھائی ارب افراد کسی نہ کسی طرح کے زلزلے سے خطرے سے دو چار ہیں، جب کہ دنیا بھر میں سالانہ لاکھوں لوگ زلزلے سے متاثر ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں لوگوں کے اندر زلزلے سے متعلق شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے ایموجی سب سے بہترین قدم ہے، کیوں کہ دنیا کے تمام ممالک کے لوگ ایک دوسرے کی زبان نہیں سمجھتے تاہم ایموجی کے ذریعے وہ ایک دوسرے کے جذبات سمجھنے کے اہل ہوں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال جولائی تک موبائل فونز اور سوشل میڈپا پر 2 ہزار 666 طرح کے ایموجیز دستیاب تھے، جس کے بعد ان میں رواں سال تک مزید اضافہ کیا گیا۔

اندازہ فیس بک ہی یومیہ 50 لاکھ ایموجیز استعمال کیے جاتے ہیں، جب کہ ٹوئٹر، اسنیپ چیٹ اور دیگر سوشل و چیٹ ایپلی کیشنز پر استعمال ہونے والے ایموجیز کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

ایموجیز کی اہمیت و افادیت پر اسی نام سے ہولی وڈ فلم بھی بنائی جا چکی ہے، جب کہ 2014 سے ہر سال 17 جولائی کو ورلڈ ایموجی ڈے بھی منایا جاتا ہے۔

ورلڈ ایموجی ڈے کا آغاز 2014 میں جیریمی برج نامی بلاگر نے کیا، جنہوں نے ایموجی پیڈیا نامی ادارہ بھی بنایا۔

ایموجی پیڈیا کے مطابق ایپل، گوگل، ٹوئٹر اور فیس بک سمیت موبائل کمپنیز کی جانب سے 2 ہزار 666 اقسام کے ایموجیز دنیا بھر میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

پہلی مرتبہ ایموجیز کا استعمال 1990 میں کیا گیا، جبکہ پہلی مرتبہ 2011 میں اسے موبائل فون میں ایپل کمپنی نے استعمال کیا۔

آنر 9 آئی اسمارٹ فون لانچ‎

ہواوے کمپنی کے سب برانڈ آنر کی جانب سے آنر 9 آئی (2018) اسمارٹ فون متعارف کرا دیا گیا ہے۔

اسمارٹ فون میں 5.84 انچ ڈسپلے ، اوکٹا کور ہائی سلیکون کرن 659 پروسیسر اور اینڈرائیڈ اوریو آپریٹنگ سسٹم دیا گیا ہے۔فون کو 4 جی بی ریم کے ساتھ 64 جی بی اور 128 جی بی اسٹوریج کے آپشنز میں پیش کیا گیا ہے۔ اسٹوریج کو ایس ڈی کارڈ کی مدد سے 256 جی بی تک بڑھانے کی سہولت موجود ہے۔ فون کے کیمرہ سیٹ اپ میں پشت پر ایل ای ڈی فلیش کے ساتھ کے ساتھ 13 میگا پکسل اور 2 میگا پکسل کے 2 کیمرے دیئے گئے ہیں۔ فون کا فرنٹ کیمرہ 16 میگا پکسل کا ہے اور اس میں بیوٹی موڈ بھی شامل کیا گیا ہے۔ دونوں کیمروں سے ایچ ڈی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی جا سکتی ہے۔ کنکٹیویٹی کے لئے اسمارٹ فون میں فورجی ، وائی فائی ، بلیوٹوتھ ، جی پی ایس اور مائیکرو یو ایس بی سپورٹ دی گئی ہے۔ سیکورٹی کیلئے فون میں فنگر پرنٹ سنسر اور فیس ان لاک فیچر دیا گیا ہے۔ اسمارٹ فون کی بیٹری 3000 ملی ایمپیئر آورز کی ہے۔ فون کو کالے ، نیلے ، سبز اور جامنی رنگ میں متعارف کرایا گیا ہے۔ 64 جی بی اسٹوریج کے ساتھ فون کی قیمت 1399 یان اور 128 جی بی اسٹوریج کے ساتھ فون کی قیمت 1699 یان ہے۔ اسمارٹ فون کو فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔

گوگل کا جی بورڈ ایپ کے لئے بیٹری سیور موڈ پیش کرنے کا اعلان‎

گوگل کی جانب سے جلد جی بورڈ کی بورڈ کیلئے بیٹری سیور موڈ پیش کردیا جائے گا۔

بیٹری کو کم سے کم خرچ کرنے کے لئے جی بورڈ تمام برائٹ تھیمز ، اسٹیکرز اور بٹموجی وغیرہ کو ڈس ایبل کر دے گا۔جی بورڈ کا بیٹری سیور موڈ اینڈرائیڈ اسمارٹ فون کے بیٹری سیونگ فیچر کو ان ایبل کرتے ہیں کام شروع کردے گا تاہم صارفین چاہیں تو اسے خود سے آف بھی کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ نئی اپڈیٹ میں گوگل جی بورڈ کے لئے گوگل لینس سے ملتا جلتا فیچر ، لو اسٹوریج وارننگ اور فیورٹ اسٹیکرز فیچر بھی پیش کیے جائیں گے۔ صارفین جی ائی ایف کو بھی اپنی مرضی سے ایڈٹ کرسکیں گے اور اس میں ٹیکسٹ شامل کر سکیں گے۔بیٹری سیور موڈ اور دیگر فیچرز کو کو فی الحال آزمائشی بنیادوں پر بیٹا ورژن میں پیش کیا گیا ہے اور امید ہے کہ گوگل انہیں جلد ہی تمام صارفین کے لیے بھی متعارف کرا دے گا۔

آپ کے ہاتھ میں سمانے والا فورکے ویڈیو کا حامل کیڑا ڈرون

نیویارک: دنیا کا جدید ترین ڈرون دو سال کی محنت کے بعد تیار کیا گیا ہے اور اسے ’کیڑا (انسیکٹ) ڈرون‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ جب یہ پرواز نہیں کرتا تو کسی اڑنے والے حشرے کی طرح اس کے پر سکڑے ہوئے ہوتے ہیں اور پرواز کے دوران یہ کھل جاتے ہیں۔ اسی بنا پر اسے فولڈ ہونے والا جدید ترین روبوٹ قرار دیا گیا ہے۔

پیرٹ کمپنی نے اسے انافی ڈرون کا نام دیا ہے جس کے سر میں فورکے ویڈیو کیمرہ ، دھڑ میں فولڈ ہونے والی پنکھڑیاں اور بیٹری وغیرہ لگائی گئی ہیں۔ ڈرون کھولتے ہی دو روٹر والے بازو دائیں اور بائیں جانب کھل جاتے ہیں جو ڈرون کو ہموار انداز میں ہوا میں اڑاتے ہیں۔ اسی بنا پر ڈرون کو آپ جیب میں بھی رکھ سکتے ہیں۔

پورے ڈرون کا وزن صرف 320 گرام ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اسے کاربن فائبر فریم سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے بازوؤں کو سکڑنے اور پھیلنے میں صرف تین سیکنڈ لگتے ہیں۔ طاقتور کیمرہ 4 کے ایچ ڈی آر اور فورکے سینما موڈ میں ویڈیو تیارکرتا ہے۔

21 میگاپکسل کیمرہ 180 درجے کے زاویئے تک گھوم سکتا ہے جس میں سونی کمپنی کا سی ایم او ایس سینسر لگایا گیا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ واحد ڈرون ہے جو 24، 25 اور 30 فریم فی سیکنڈ کے لحاظ سے  فورکے ایچ ڈی آر ویڈیو بناتا ہے۔ ویڈیو میں تین گنا ڈیجیٹل زوم کی سہولت بھی موجود ہے۔ اس میں 25 منٹ تک مسلسل کام کرنے والی 2700 ایم اے ایچ بیٹری نصب کی گئی ہے جو یوایس بی سے چارج ہوتی ہے۔

ڈرون کی رینج 4 کلومیٹر ہے اور اس کی قیمت 700 ڈالر ہے۔

موٹرولا کا ڈوئل کیمرہ موٹو زیڈ 3 متعارف

امریکی کمپنی موٹرولا یوں تو گزشتہ ڈیڑھ سال سے بجٹ اسمارٹ موبائل فون متعارف کرانے میں پیش پیش ہے، تاہم اب کمپنی نے قدرے مہنگا فون بھی پیش کردیا۔

موٹرولا نے زیڈ سیریز کا ڈوئل کیمرہ ’موٹو زیڈ تھری پلے‘ متعارف کرادیا، جس کی قیمت اگرچہ بہت زیادہ نہیں، تاہم اسے پھر بھی مہنگا فون قرار دیا جا رہا ہے۔

کوالکوم اسنیپ ڈریگن 636 کے پروسیسر سے لیس موٹو زیڈ تھری پلے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں 2 ریئر فیسنگ کیمرے دیے گئے ہیں، جس میں سے ایک 12 میگا پکسل جب کہ دوسرا 5 میگا پکسل ہے۔

موٹو زیڈ 3 کا فرنٹ کیمرہ 8 میگا پکسل ہے، جب کہ اس میں 4 جی بی ریم ہے، تاہم اس کی صلاحیت 64 جی بی تک بڑھائی جا سکتی ہے۔

موٹو تھری کا فرنٹ کیمرہ 8 میگا پکسل ہے—فوٹو: دی ورج
موٹو تھری کا فرنٹ کیمرہ 8 میگا پکسل ہے—فوٹو: دی ورج

3 ہزار ایم اے ایچ بیٹری کے حامل اس موبائل کی اسکرین 1۔6 انچ ہے، جب کہ اس میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔

کمپنی نے ’موٹو زید 3 پلے‘ کی رقم 499 امریکی ڈالر (پاکستانی تقریبا 57 ہزار روپے) رکھی ہے۔

خیال رہے کہ موٹرولا کا یہ فون گزشتہ برس متعارف کرائے گئے موٹو زیڈ 2 کا تسلسل اور اس کا اپڈیٹ ورژن ہی ہے۔

کمپنی نے زیڈ سیریز کے موڈیولر فون 2016 سے متعارف کرانا شروع کیے، یہ اس کمپنی کا تیسرا موڈیولر فون ہے۔

پانی میں بھی کام کرنے والا دنیا کا سب سے چھوٹا فون

ویسے تو دنیا میں پہلے بھی چھوٹے ترین اسمارٹ موبائل متعارف کرائے جا چکے ہیں۔

گزشتہ برس دسمبر میں برطانوی کمپنی زینکو نے ایک ایسا موبائل متعارف کرایا تھا، جس کی لمبائی محض 7۔46 ملی میٹر جب کہ وزن صرف 13 گرام تھا۔

یہ فون 2 جی تھا، جب کہ اس سے قبل گزشتہ برس اپریل میں ہی چینی کمپنی ’یونی ہرٹز‘ نے جیلی نامی ایک ایسا چھوٹا فون متعارف کرایا تھا، جو فور جی سپورٹڈ تھا۔

جیلی نامی موبائل محض 2.45 انچ اسکرین کا حامل تھا، جبکہ اس کی مجموعی لمبائی 3.6 انچ اور چوڑائی 1.7 انچ تھی۔

چھوٹے موبائل میں فنگر پرنٹ سینسر بھی ہوگا—فوٹو: دی ورج
چھوٹے موبائل میں فنگر پرنٹ سینسر بھی ہوگا—فوٹو: دی ورج

اب اسی کمپنی نے ’ایٹم‘ نامی ایک اور چھوٹا موبائل متعارف کرایا ہے، جسے پانی میں بھی چلایا جا سکے گا۔

یہ موبائل واٹر پروف ہے—فوٹو: موبائل سیرپ
یہ موبائل واٹر پروف ہے—فوٹو: موبائل سیرپ

اس فون کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نہ صرف فور جی سپورٹڈ ہے، بلکہ اس میں پہلی بار فنگر پرنٹ سینسر بھی دیا گیا ہے۔

محض 2.45 انچ کی اسکرین رکھنے والے اس موبائل کے بیک پر 16 میگا جب کہ فرنٹ پر 8 میگا پکسل کیمرہ دیا گیا ہے۔

4 جی بی ریم کے حامل اس موبائل میں اسٹوریج کی صلاحیت 64 جی بی ریم تک بڑھائی جا سکتی ہے۔

موبائل کا بیک کیمرہ 16 میگا پکسل ہے—فوٹو: ٹیک فش نیوز
موبائل کا بیک کیمرہ 16 میگا پکسل ہے—فوٹو: ٹیک فش نیوز

اس چھوٹے موبائل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ جدید ترین اینڈرائڈ 1۔8 آپریٹنگ سسٹم سے چلتا ہے۔

2 ہزار ایم اے ایچ کی بیٹری کے حامل اس موبائل میں وائرلیس اور بلیوٹوتھ کی سہولت بھی ہوگی۔

اس چھوٹے ترین موبائل کی قیمت محض 300 امریکی ڈالر (پاکستانی 30 ہزار روپے سے زائد) رکھی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اس موبائل کو تیار کرنے والی کمپنی ابھی فنڈز اکٹھے کرنے میں مصروف ہے، جیسے ہی کمپنی کو مطلوبہ فنڈز یا سرمایہ کار مل جائیں گے، اس فون کو متعارف کرایا جائے گا۔

موبائل کا ڈیزائن بھی اچھوتا ہے—فوٹو: اینڈرائڈ اتھارٹی
موبائل کا ڈیزائن بھی اچھوتا ہے—فوٹو: اینڈرائڈ اتھارٹی
Google Analytics Alternative