سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

سام سنگ کا سستا ترین 3 کیمروں والا فون اب پاکستان میں دستیاب

سام سنگ نے اپنا سب سے سستا 3 کیمروں والا اسمارٹ فون گلیکسی اے 20 ایس کو پاکستان میں فروخت کے لیے پیش کردیا ہے۔

یہ رواں سال ہی متعارف کرائے جانے والے گلیکسی اے 20 کا اپ ڈیٹ ورژن ہے مگر اس میں کیمرا سیٹ اپ بہتر کردیا گیا ہے جبکہ دیگر فیچرز کو بھی اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔

گلیکسی اے 20 ایس میں 6.5 انچ انفٹنی وی ایچ ڈی پلس ایل سی ڈی ڈسپلے دیا گیا ہے، انفٹنی وی سے مراد پانی کے قطرے جیسا نوچ ہے۔

اس فون میں 1.8 گیگا ہرٹز اوکٹا کور کورٹیکس اے 53 سی پی یو، کوالکوم اسنیپ ڈراگوم 450 پراسیسر اور ایڈرینو 506 جی پی یو دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ 3 جی بی ریم اور 32 جی بی اسٹوریج موجود ہے جس میں ایس ڈی کارڈ سے مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے جبکہ ڈوئل سم سپورٹ بھی موجود ہے۔

اس فون میں 4000 ایم اے ایچ بیٹری 15 واٹ فاسٹ چارجنگ سپورٹ کے ساتھ دی گئی ہے۔

سام سنگ نے اینڈرائیڈ پائی کا امتزاج اپنے ون یو آئی یوزر انٹرفیس سے کیا ہے جبکہ فنگرپرنٹ اسکینر بیک پر موجود ہے اور چہرے کی شناخت سے بھی ڈیوائس کو ان لاک کیا جاسکتا ہے۔

تاہم اس کی خاص بات اس کا کیمرا سسٹم ہی ہے۔

اس کے بیک پر 13 میگا پکسل کا مین کیمرا موجود ہے جس کے ساتھ 5 میگا پکسل ڈیپتھ کیمرا اور 8 میگا پکسل الٹرا وائیڈ کیمرا دیا گیا ہے جبکہ فرنٹ پر 8 میگا پکسل کیمرا سیلفی لینے میں مدد دے گا۔

اس کی قیمت پاکستان میں 30 ہزار 999 روپے رکھی گئی ہے اور یہ 3 رنگوں میں دستیاب ہوگا۔

فوٹو بشکریہ سام سنگ
فوٹو بشکریہ سام سنگ

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ سام سنگ کی جانب سے گلیکسی اے 10 ایس کو بھی متعارف کرایا گیا تھا جس کی قیمت 24 ہزار روپے رکھی گئی تھی جبکہ اے 30 ایس کو بھی پیش کیا جارہا ہے۔

سام سنگ کا کانسیپٹ فلپ فولڈ ایبل فون سامنے آگیا

سام سنگ نے ایک ایسا فولڈ ایبل فون متعارف کرانے کا عندیہ دیا ہے جو کسی روایتی فلپ فون کی طرح بند ہوسکے گا۔

سام سنگ کی سالانہ ڈویلپر کانفرنس کے دوران جنوبی کورین کمپنی نے اس کانسیپٹ فولڈ ایبل فون کی مختصر ویڈیو پیش کی۔

سام سنگ کے فریم ورک آر اینڈ ڈی گروپ کے سربراہ ہیسن جیونگ نے بتایا ‘یہ ایک نئی ڈیوائس ہے جس کے بارے میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ نہ صرف جیب میں آسانی سے آسکتی ہے بلکہ فون کے استعمال کے ساتھ شکل بھی بدل سکتی ہے’۔

اس ڈیوائس کے پیچھے یہ تصور ہے کہ سام سنگ کی فولڈ ایبل ٹیکنالوجی کو زیادہ کامپیکٹ بنایا جائے۔

سام سنگ نے اس ڈیوائس کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں بتائیں اور نہ اس کی دستیابی کے بارے میں کوئی بات کی، یہاں تک کہ ہارڈ وئیر کا ذکر بھی نہیں کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ سام سنگ نے گزشتہ سال سے اب تک فولڈ ایبل ٹیکنالوجی کو کس حد تک بہتر بنایا ہے۔

درحقیقت کمپنی نے اس گمنام فون کو اپنے اینڈرائیڈ کے یوزر انٹرفیس ون یو آئی میں کی جانے والی اپ ڈیٹس پر بات کرنے کے لیے استعمال کیا اور ہیسن جیونگ کا کہنا تھا کہ فولڈ ایبل ٹیکنالوجی کے قائد ہونے کے باعث ہم صارفین کے تجربے میں بہترین اور تنوع کو سمجھتے ہیں۔

سام سنگ نے رواں سال کے شروع میں یو آئی یوزر انٹرفیس متعارف کرایا تھا اور اب اس کی جانب سے ون یو آئی 2 پر کام کیا جارہا ہے جو کہ پہلے سے زیادہ بہتر محسوس ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ ستمبر میں بلومبرگ نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سام سنگ کا اگلا فولڈ ایبل فون کسی فلپ فون کی طرح بند ہوسکے گا اور اب جس کانسیپٹ فون کی جھلک پیش کی گئی ہے وہ اس سے ملتا جلتا ہے۔

جنوبی کورین کمپنی نے اس فون کی جھلک اس وقت پیش کی ہے جب موٹرولا کی جانب سے فولڈ ایبل موٹو ریزر کو ممکنہ طور پر 13 نومبر کو متعارف کرایا جارہا ہے۔

سام سنگ کا یہ نیا فولڈ ایبل فلپ فون ممکنہ طور پر گلیکسی فولڈ میں آنے والے مسائل کو مدنظر رکھ کر تیار کیا جائے گا اور یہ کمپنی فولڈ ایبل ڈسپلے ٹیکنالوجی کے معاملے میں پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔

واٹس ایپ نے اسرائیلی کمپنی کے خلاف ہیکنگ کا مقدمہ دائر کردیا

دنیا کی مقبول ترین میسجنگ سروس واٹس ایپ نے اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ کے خلاف مبینہ ہیکنگ میں مختلف حکومتی اداروں کو مدد دینے پر مقدمہ دائر کردیا۔

اسرائیلی کمپنی پر الزام ہے کہ مختلف ممالک میں سفارتکاروں، سیاسی رہنماﺅں، صحافیوں اور سنیئر حکومتی عہدیداران کو ہدف بنا کر ان کے فونز میں اس ایپ کو ہیک کیا گیا۔

سان فرانسسکو کی عدالت میں دائر مقدمے میں فیس بک کی زیر ملکیت واٹس ایپ نے این ایس او پر الزام عائد کیا کہ اس نے 20 ممالک کی حکومتوں کو ہیکنگ میں مدد فراہم کی ہے لیکن صرف میکسیکو، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے نام دیئے گئے ہیں۔

واٹس ایپ نے ایک بیان میں بتایا کہ سول سوسائٹی کے 100 اراکین کو ہدف بنایا گیا جبکہ این ایس او نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

اس کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ‘ہم ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں اور اس کے خلاف پوری قوت سے لڑیں گے، این ایس او کا واحد مقصد لائسنس حکومتی انٹیلی جنس ٹیکنالوجی فراہم کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشتگردی اور سنگین جرائم کے خلاف لڑنے میں مدد دینا ہے’۔

واٹس ایپ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ متعدد صارفین کی موبائل ڈیوائسز پر ویڈیو کالنگ سسٹم کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر میل وئیر بھیجے گئے، جن کی بدولت این ایس او کے موکلین (مختلف حکومتیں او رانٹیلی جنس ادارے وغیرہ) کو فون کے مالک کی خفیہ جاسوسی میں مدد ملی جبکہ ان کی ڈیجیٹل زندگیاں حکومتی اسکروٹنی کی زد میں آگئیں۔

واضح رہے کہ واٹس ایپ کے ماہانہ صارفین کی تعداد ڈیڑھ ارب سے زائد ہے اور اسے سیکیورٹی کے لحاظ سے اچھی ایپ سمجھا جاتا ہے جس میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا فیچر موجود ہے جس کے باعث پیغامات کو واٹس ایپ یا تھرڈ پارٹیز نہیں پڑھ سکتے۔

سائبر سیکیورٹی کمپنی سٹیزن لیب نے واٹس ایپ کے ساتھ اس فون ہیکنگ معاملے کی تحقیقات کیں اور اس حوالے سے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا گیا کہ اسرائیلی کمپنی کے اہداف میں معروف ٹیلی ویژن شخصیات، معروف خواتین (جو آن لائن نفرت انگیز مہمات کا شکار ہوئیں) اور ایسے افراد شامل تھے جن کو قاتلانہ حملے اور تشدد کی دھمکیوں کا سامنا ہوا۔

تاہم سٹیزن لیب یا واٹس ایپ نے ان اہداف کے ناموں کو سامنے لانے سے گریز کیا۔

سائبر سیکیورٹی کے مقدمات دیکھنے والے وکیل اسکاٹ واٹینک نے واٹس ایپ کے اقدام کو بہترین قرار دیا ہے کیونکہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک اہم سروس نے ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے بہت زیادہ باتیں سامنے آنے کے ڈر کو پیچھے چھوڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دیگر کمپنیاں اس مقدمے کی پیشرفت میں دلچسپی لیں گی ‘اس سے ایک مثال قائم ہوگی’۔

اس مقدمے میں این ایس او کو واٹس ایپ اور فیس بک سروسز تک رسائی یا اس کی کوششوں سے روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

رواں سال مئی میں امریکی اخبار فنانشنل ٹائمز نے سب سے پہلے واٹس ایپ کی کمزوری کے بارے میں رپورٹ کیا تھا جس سے حملہ آور فون کال کے ذریعے اسپائی ویئر (جاسوسی کا سافٹ ویئر) داخل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

امریکی اخبار کا کہنا تھا کہ یہ اسپائی ویئر اسرائیل کی سائبر سرویلینس کمپنی (این ایس او) نے تیار کیا تھا جو موبائل فونز کی نگرانی کے آلات بنانے کے لیے مشہور ہے اور اس نے اینڈرائیڈ اور آئی فون دونوں کو ہی متاثر کیا۔

واٹس ایپ کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کی چھان بین کررہی ہے لیکن اسے یقین ہے کہ ’جدید سائبر ٹیکنالوجی کے ذریعے صرف کچھ صارفین کو نشانہ بنایا گیا‘۔

واٹس ایپ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ بہت منظم طریقے سے کیا گیا جس میں اس بات کے تمام اشارے موجود ہیں کہ ’یہ نگرانی ایک حکومت نے ایک نجی کمپنی کے ذریعے کی‘۔

شیاؤمی کی پہلی اسمارٹ واچ آئندہ ہفتے متعارف ہوگی

شیاﺅمی کی جانب سے آئندہ ہفتے 108 میگا پکسل کیمرے سے لیس فون متعارف کرایا جارہا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ کمپنی پہلی بار ایک اسمارٹ واچ بھی پیش کرنے والی ہے۔

کمپنی کی جانب سے اس اسمارٹ واچ کی تفصیلات ظاہر کی گئی ہیں جو 5 نومبر کو ہی متعارف کرائی جائے گی اور دیکھنے میں یہ بالکل ایپل واچ جیسی ہے۔

شیاﺅمی کی جانب سے چینی سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر اس اسمارٹ واچ کے بنیادی فیچرز بتائے گئے۔

اسے می واچ کا نام دیا جائے گا اور اس میں کوالکوم اسنیپ ڈراگون وئیر 3100 پراسیسر ہوگا۔

اسی طرح وائی فائی، جی پی ایس اور این ایف سی سپورٹ کے ساتھ ای سم کی سہولت بھی دی جائے گی جس کی بدولت صارفین اس ڈیوائس سے فون کالز بھی کرسکیں گے۔

خیال رہے کہ شیاﺅمی اس سے پہلے اسمارٹ واچ سے ملتی جلتی ڈیوائسز می بینڈ کے نام سے متعارف کراچکی ہے مگر یہ پہلی بار ہے کہ ایسی ڈیوائس پیش کی جارہی ہے جسے باقاعدہ یا حقیقی اسمارٹ واچ قرار دیا جاسکتا ہے۔

شکل میں ایپل واچ سے ملتی جلتی ہونے کے باوجود یہ قیمت کے لحاظ سے کافی سستی ہوسکتی ہے تو صارفین کے لیے ایپل واچ کا اچھا متبادل بھی ثابت ہوسکے گی۔

اس ایونٹ میں یہ کمپنی ایک اسمارٹ ٹیلیویژن اور 108 میگا پکسل کیمرے سے لیس فون می سی سی 9 پرو (عالمی سطح پر ممکنہ طور پر می نوٹ 10 نام ہوگا) بھی متعارف کرائے جائیں گے۔

108 میگا پکسل کیمرے والا پہلا کمرشل اسمارٹ فون

شیاﺅمی نے ایک نیا فون متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جو دنیا کا پہلا ایسا کمرشل فون ہوگا جس میں 108 میگا پکسل کیمرا موجود ہوگا۔

شیاﺅمی می سی سی 9 پرو نامی اس فون میں بیک پر مجموعی طور پر 5 کیمرے ہوں گے جن میں سے ایک 108 میگا پکسل سنسر سے لیس ہوگا۔

کمپنی کی جانب سے 5 نومبر کو یہ فون پیش کیا جارہا ہے جس میں عمودی کیمرا سیٹ اپ میں 5 کیمرے اور ڈوئل ایل ای ڈی فلیش موجود ہے جس پر 5 ایک آپٹیکل زوم بھی لکھا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شیاﺅمی ہی وہ کمپنی ہے جس نے می مکس الفا میں پہلی بار 108 میگا پکسل کیمرا دیا تھا مگر وہ عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں بلکہ ایک کانسیپٹ فون ہے۔

سی سی 9 پرو پہلا ایسا فون ہوگا جس میں سام سنگ کے 108 میگا پکسل سنسر والا کیمرا عام صارفین کے لیے بھی دستیاب دیا جارہا ہے جو کہ بائی ڈیفالٹ 27 میگاپکسل تصاویر لے گا۔

یہ دنیا کا دوسرا فون بھی ہوگا جس میں بیک پر 5 کیمرے دیئے جارہے ہیں، اس سے قبل نوکیا 9 پیورویو پہلا ایسا فون تھا۔

کمپنی اس فون کو ایسے افراد کے لیے متعارف کرا رہی ہے جو اسمارٹ فن فوٹوگرافی میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ہر طرح کی تصاویر ایک فون سے لے سکیں جیسے وائیڈ اینگل لینڈ اسکیپ، 5 ایکس زوم فوٹو، کم روشنی میں بہتر تصاویر، میکرو شاٹس اور دھندلے پس منظر والی تصاویر۔

اس فون کے بارے میں کمپنی نے مزید تفصیلات تو ظاہر نہیں کیں مگر مختلف لیکس کے مطابق اس میں 30 واٹ فاسٹ چارجنگ سپورٹ بھی دی جائے گی۔

فوٹو بشکریہ شیاؤمی
فوٹو بشکریہ شیاؤمی

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ شیاﺅمی کے فونز فیچرز کے لحاظ سے متاثر کن ہونے کے باوجود کافی حد تک سستے ہوتے ہیں تو یہ نیا فون بھی ممکنہ طور پر مڈرینج فونز والی قیمت کا ہوسکتا ہے۔

ویسے یہ جان لیں کہ زیادہ میگاپکسلز کی موجودگی کا مطلب ہمیشہ اچھی تصاویر لینا نہیں ہوتا، ہواوے پی 20 پرو 40 میگا پکسل لینس سے بہترین تصاویر لیتا ہے مگر گوگل پکسل تھری لگ بھگ اتنی ہی اچھی تصاویر 12.2 میگا پکسل لینس سے لے لیتا ہے۔

مگر پھر بھی یہ بہت مشکل ہے کہ 108 کے ہندسے کو نظرانداز کیا جاسکے جو کہ 8 گنا زوم کرسکتا ہے جبکہ تصویر کا معیار بھی خراب نہیں ہوتا۔

امریکی پابندیوں کے باوجود ہواوے سام سنگ کو پیچھے چھوڑنے کے قریب

امریکی پابندیوں اور دباﺅ کے باوجود ہواوے رواں سال سام سنگ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے زیادہ اسمارٹ فونز فروخت کرنے والی کمپنی بننے کے لیے پرعزم ہے۔

گزشتہ ہفتے یہ بات سامنے آئی تھی کہ ہواوے 2019 میں اب تک 20 کروڑ فونز فروخت کرچکی ہے اور یہ ہدف اس نے 2018 کے مقابلے میں 64 دن پہلے حاصل کرلیا ہے، حالانکہ اس دوران امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کے نتیجے میں اسے مشکلات کا بھی سامنا ہوا۔

ماہرین کا خیال تھا کہ اس شرح کو دیکھتے ہوئے یہ کمپنی سال کے اختتام تک 25 کروڑ فونز فروخت کرنے میں کامیاب ہوسکے گی مگر ہواوے کے بانی رین زینگ فائی نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا کہ رواں سال اسمارٹ فون پروڈکشن 27 کروڑ یونٹ تک پہنچ جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پروڈکشن بہت زیادہ ہے اور اس کے لیے متعدد چپ فیکٹریوں کی ضرورت ہے جو ہواوے کو سپلائی دے سکیں۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ہواوے کے اسمارٹ فونز بزنس کو رواں سال کچھ مشکلات کا سامنا رہا اور اس کے لیے نمبرون کمپنی بننے کے ہدف کا حصول مشکل نظر آرہا تھا۔

مگر حالیہ مہینوں کے دوران امریکی پابندیوں کے باوجود بھی ہواوے نے اسمارٹ فون بزنس کی شرح کو بڑھانے میں کامیابی حاصل کی، اب 25 کروڑ فونز کی فروخت تو یقینی نظر آتی ہے۔

تاہم اگر یہ کمپنی 27 کروڑ کے ہدف کو حاصل کرلیتی ہے تو یہ سام سنگ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے بڑی اسمارٹ فون کمپنی بن جائے گی، مگر یہ نکتہ قابل ذکر ہے کہ مئی میں امریکی پابندیوں کے بعد چین سے باہر ہواوے کے فونز کی فروخت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

مگر گزشتہ 6 ماہ کے دوران کمپنی کی کارکردگی سے عندیہ ملتا ہے کہ ان پابندیوں سے اس پر زیادہ اثرات مرتب نہیں ہوئے اور اکتوبر تک 20 کروڑ فونز کو فروخت کرچکی ہے۔

عام طور پر ہواوے ہر ماہ 2 کروڑ فونز فروخت کرتی ہے مگر گزشتہ 2 ماہ کے دوران یہ تعداد بہت زیادہ رہی اور 27 کروڑ فونز کا ہدف ممکن نظر آتا ہے۔

2018 میں ہواوے نے مجموعی طور پر 20 کروڑ 60 لاکھ فونز فروخت کیے اور اگر 27 کروڑ کا ہدف حاصل ہوجاتا ہے تو ایک سال میں فروخت کی شرح میں 31 فیصد اضافہ ہوگا۔

گزشتہ سال سام سنگ نے 29 کروڑ فونز فروخت کیے تھے مگر اس سال کمپنی کی ڈیوائسز کی فروخت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور ہواوے کے لیے اسے پیچھے چھوڑنا ممکن ہے۔

ہواوے کے بانی کا کہنا تھا کہ کمپنی کو اینڈرائیڈ کے متبادل کی ضرورت نہیں اور وہ گوگل کے آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ ہی کام جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہواوے کو رواں سال مئی میں ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بلیک لسٹ کیا تھا جس کے لیے کمپنی کے چینی حکومت سے مبینہ روابط کو بنیاد بنایا گیا تھا۔

تاہم اب امریکی حکومت نے پابندیوں میں نرمی کا عندیہ دیتے ہوئے امریکی کمپنیوں کو ہواوے سے کاروبار کے لیے لائسنس کے اجرا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مگر اس پابندی سے کمپنی نے نئے فلیگ شپ میٹ 30 سیریز کے فونز متاثر ہوئے ہیں جو گوگل ایپس سے محروم ہیں جبکہ اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم بھی اوپن سورس استعمال ہوا، جس کے باعث فونز کی فروخت متاثر ہونے کا بھی امکان ہے۔

ہونڈا کی نئی فٹ 2020 متعارف

ہونڈا نے اپنی نئی گاڑی فٹ 2020 کو متعارف کرادیا ہے اور اس بار اس کا ہائیبرڈ ورژن بھی پیش کیا جارہا ہے۔

ٹوکیو موٹر شو کے دوران ہونڈا نے اپنی اس گاڑی کو متعارف کرایا اور یہ پہلی گاڑی ہے جس میں ای : ایچ ای وی نامی 2 موٹر ہائبرڈ سسٹم استعمال کیا جائے گا۔

ہونڈا نے گاڑی کی زیادہ تفصیلات تو بیان نہیں کیں مگر اس کا کہنا تھا کہ تمام ای : ایچ ای وی ماڈلز کو چلانے کے لیے برقی موٹر کا ہی زیادہ استعمال ہوگا۔

ہونڈا فٹ 5 ورژن میں پیش کی گئی ہے جس میں ایک بیسک ماڈل ہوم ہے، دوسرا نیس ٹائپ ہے جو اسپورٹی انداز کا ہے جبکہ ایک ٹائپ کراس اسٹار ہے جس میں 16 انچ المونیم وہیلز دیئے گئے ہیں۔

ایک اور قسم لیوکس میں خاص لیدر سیٹیں موجود ہیں اور پلاٹینم کروم پلیٹنگ موجود ہے۔

پہلے ای : ایچ ای وی ماڈل سے ہٹ کر نئی فٹ ہونڈا کی پہلی گاڑی ہے جس میں کنکٹ آن بورڈ کمیونیکشن سسٹم دیا گیا ہے۔

اس سسٹم کی بدولت صارفین گاڑی کے کچھ افعال کو دور سے اسمارٹ فون سے بھی کنٹرول کرسکیں گے اور حادثے کی صورت میں خودکار طور پر ایمرجنسی سروسز سے رابطہ ہوگا۔

گاڑی میں ایک وائیڈ ویو کیمرا ہوگا جو کہ ہونڈا سنسنگ ایڈوانسڈ سیفٹی سسٹم میں نیا اضافہ ہے تاکہ گاڑی میں بیٹھنے والوں کے تحفظ کا زیادہ خیال رکھا جاسکے۔

اسی طرح نیا ایل سی ڈی ٹچ اسکرین پینل دیا گیا ہے جس میں وائی فائی ہاٹ اسپاٹ بھی شامل ہے۔

یہ نئی گاڑی فروری 2020 میں جاپان میں فروخت کے لیے پیش کی جائے گی اور قیمت کا اعلان بھی اسی وقت ہوگا۔

جی میل کی وہ ٹرکس جن کا استعمال زندگی آسان بنائے

یکم اپریل 2004 کو گوگل نے اپنی ای میل سروس جی میل کو متعارف کرایا تھا اور 15 سال کے دوران یہ اس کمپنی کامیاب ترین پراڈکٹس میں سے ایک ثابت ہوئی، جس کے ماہانہ صارفین کی تعداد ڈیڑھ ارب سے تجاوز کرچکی ہے۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس وقت یہ دنیا کی مقبول ترین ای میل سروس ہے اور یہی وجہ ہے کہ کمپنی کی جانب سے اس میں اکثر نت نئے فیچرز صارفین کی سہولت کے لیے متعارف ہوتے رہتے ہیں۔

ایسے ہی چند ٹرکس اور دیگر معلومات کے بارے میں جانیں جو اس ای میل سروس کا استعمال زیادہ بہتر طریقے سے کرنے میں مددگار ہوں گے۔

ای میل شیڈول کریں

سب سے پہلے تو نئی ای میل کے لیے کمپوز بٹن پر کلک کریں۔

اس کے بعد سینڈ بٹن کے ساتھ موجود ایرو پر کلک کرکے شیڈول سینڈ کے آپشن پر جائیں۔

اس کے بعد سروس کی جانب سے دیئے گئے کسی ایک وقت کا انتخاب کرلیں یا سلیکٹ ڈیٹ اینڈ ٹائم پر کلک کرکے اس وقت کا تعین کریں جب آپ اپنا پیغام بھیجنا چاہتے ہیں۔

آخر میں شیڈول سینڈ پر کلک کردیں اور بس۔

جی میل موبائل ایپ پر بھی طریقہ کار لگ بھگ یہی ہے، بس وہاں سینڈ بٹن پر کلک کرنے کی بجائے سینڈ ایرو کے برابر میں موجود تھری ڈاٹس پر کلک کرنا ہوتا ہے جہاں شیڈول ٹائم کا آپشن موجود ہے۔

خودکار طور پر ڈیلیٹ ہونے والی ای میل بھیجیں

جی میل میں کانفیڈنشنل موڈ کے تحت ایسی ای میلز کو بھیجنا ممکن ہے جو مخصوص وقت کے بعد خودکار طور پر غائب ہوجاتی ہیں، جن کو دیگر افراد فارورڈ، کاپی، پیسٹ یا ڈاﺅن لوڈ بلکہ پرنٹ تک نہیں کرسکیں گے، تاہم فی الحال کے پاس اسکرین شاٹ کا کوئی علاج نہیں۔

اسے استعمال کرنے کے لیے سب سے پہلے کمپوز ای میل پر کلک کریں اور کمپوز باکس نے نیچے آپ کو لاک آئیکون کلاک سائن کے ساتھ نظر آئے گا۔

اس آئیکون پر کلک کرنے پر ایک پوپ اپ مینیو سامنے آئے گا جس میں ایکسپائر ڈیٹ کا تعین کیا جاسکے گا جو کہ ایک دن سے 5 سال کے درمیان ہوگی۔

اسی طرح ای میل تک رسائی کے لیے پاس کوڈ کو بھی سیٹ کیا جاسکتا ہے بلکہ زیادہ گہرائی میں جاکر ای میل بیسڈ یا ایس ایم ایس پر مبنی پاس کوڈ رکھا جاسکتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر آپ جس شخص کو ای میل بھیج رہے ہیں، وہ جی میل استعمال نہیں کرتا تو وہ ایس ایم ایس سے پاس کوڈ حاصل کرسکے گا۔

اسی طرح اگر آپ چاہے تو ای میل تک رسائی یا ایسسز کو بھی ریموو کرسکتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے ای میل بھیجنے کے بعد جی میل میں سینٹ کے فولڈ میں جاکر وہ ای میل اوپن کریں اور ریموو ایسسز پر کلک کردیں۔

ان باکس اسٹوریج کا کنٹرول

جی میل میں گوگل کی جانب سے مفت اسٹوریج محدود ہوتی ہے اور کچھ عرصے تک ان باکس کو صاف نہ کرنے پر یہ اسٹوریج بہت تیزی سے ختم ہونے لگتی ہے۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ بڑی تعداد میں پرانی ای میلز کو ڈیلیٹ کرنا چاہتے ہیں تو سرچ میں جاکر “older_than:1y” لکھ لیں یا y کی جگہ m لکھنے پر ایک ماہ یا دو ماہ پرانی ای میلز کو ڈھونڈ کر ڈیلیٹ کای جاسکتا ہے۔

اگر زیادہ تصاویر ای میلز کو تلاش کرکے ڈیلیٹ کرنا چاہتے ہیں تو سرچ میں “Larger:10M” لکھیں تو ایسی ای میلز سامنے آجائیں گی جن میں تصاویر کا سائز 10 ایم بی سے زیادہ ہوگا، پھر دل کرے تو ڈیلیٹ کردیں یا جو مناسب لگے۔

ای میل ایڈریس میں ڈاٹ کی اہمیت نہیں

اگر آپ کا ای میل ایڈریس dawn.news@dawn.com ہو اور آپ dawnnews@dawn.com کو ای میل کریں تو آپ کا میسج با?نس ہوکر واپس آجائے گا کیونکہ اس نام کا کوئی اکاؤنٹ نہیں۔

تاہم اگر آپ گوگل کی میل سروس جی میل استعمال کرتے ہیں تو یہ ڈاٹ اس میں کوئی معنی نہیں رکھتا۔

گوگل کے ہیلپ فورم میں بتایا گیا ہے کہ اگر آپ کا ای میل ایڈریس hom.er.j.sim.ps.on@gmail.com تو ضروری نہیں کہ دوست یا واقف کار اس میں موجود تمام ڈاٹس ڈالیں بلکہ homerjsimpson@gmail.com ڈال کر بھی ای میل کی جاسکتی ہے۔

درحقیقت آپ کا ایڈریس john.smith@gmail.com ہو تو jo.hn.sm.ith@gmail.com اور j.o.h.n.s.m.i.t.h@gmail.com بھی آپ کا ہی ایڈریس ہوگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ فیچر جی میل میں نیا نہیں بلکہ برسوں سے موجود ہے مگر لاتعداد افراد کو اس کا علم ہی نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جی میل استعمال کرنے والے افراد اپنے دوستوں یا دیگر افراد کو جی میل ایڈریس بتاتے ہوئے اس میں ڈاٹ کا ذکر لازمی طور پر کرتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں ایسا نہ کرنے پر ای میل کہیں اور نہ پہنچ جائے۔

Google Analytics Alternative