سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

ہواوے کی نووا سیریز کے 3 نئے فونز متعارف

یہ ہواوے کا پہلا فون ہے جس میں کمپنی نے اپنا نیا ایٹ کور کیرین 810 پراسیسر استعمال کیا ہے۔

اس فون میں 6.39 انچ کا او ایل ای ڈی واٹر ڈراپ نوج ڈسپلے دیا گیا ہے، جبکہ 6 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج موجود ہے۔

اس کے بیک پر 4 کیمروں کا سیٹ اپ موجود ہے جو کہ 48 میگا پکسل مین سنسر، 16 میگا پکسل الٹرا وائیڈ سنسر، 2 میگا پکسل ڈیپتھ سنسر اور 2 میگا پکسل میکرو سنسر پر مشتمل ہے، اسی طرح 32 میگا پکسل سیلفی کیمرا دیا گیا ہے۔

اس میں 3500 ایم اے ایچ بیٹری 40 واٹ ہواوے سپرچارج ٹیکنالوجی سپورٹ کے ساتھ ہے جبکہ فنگرپرنٹ اسکینر ڈسپلے کے اندر دیا گیا ہے ، کمپنی کی ایس ڈی ایسوسی ایشن کی رکنیت کے حوالے سے غیریقینی کے باوجود مائیکرو ایس ڈی کارڈ سلاٹ بھی موجود ہے۔

یہ فون رواں ماہ کے آخر تک چین میں فروخت کے لیے دستیاب ہوگا اور اس کی قیمت 2 ہزار 8 سو یوآن (64 ہزار پاکستانی روپے کے لگ بھگ) رکھی گئی ہے۔

نووا 5 پرو

فوٹو بشکریہ ہواوے
فوٹو بشکریہ ہواوے

یہ تینوں فونز میں سب سے بہتر ہے جس میں 6.39 انچ او ایل ای ڈی واٹر ڈراپ ؛ ایچ ڈی پلس ڈسپلے دیا گیا ہے۔

اس فون میں کمپنی کا فلیگ شپ کیرین 980 پراسیسر دیا گیا ہے جبکہ 8 جی بی ریم اور 128 سے 256 جی بی اسٹوریج کے آپشن موجود ہیں۔

4000 ایم اے ایچ بیٹری کے ساتھ کمپنی نے 40 واٹ ہواوے سپرچارج ٹیکنالوجی سپورٹ دی ہے۔

جہاں تک فرنٹ اور بیک کیمروں کی بات ہے تو وہ نووا 5 جیسے ہی ہیں یعنی بیک پر 4 کیمروں کا سیٹ اپ جبکہ فرنٹ پر 32 میگا پکسل سیلفی کیمرا۔

اس فون کے 8 جی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج والا فون 3 ہزار یوآن (68 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) جبکہ 8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج والا فون 3 ہزار 400 یوآن (77 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت کیا جائے گا۔

نووا 5 آئی

فوٹو بشکریہ ہواوے
فوٹو بشکریہ ہواوے

یہ اس سیریز کا سستا اور کم طاقتور فون ہے جس میں کیرین 710 پراسیسر دیا گیا ہے مگر یہ دونوں فونز سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس میں نوچ کی جگہ ہول پنچ سیلفی کیمرا دیا گیا ہے۔

اسی طرح 6.39 انچ ڈسپلے میں او ایل ای ڈی کی بجائے ایل سی ڈی اسکرین دی گئی ہے جبکہ بیک پر دونوں فونز کی طرح 4 کیمروں کا سیٹ اپ ہے مگر پکسلز کے لحاظ سے کمتر ہیں، جن میں 24 میگا پکسل کیمرا، 8 میگا پکسل وائیڈ اینگل، 2 میگا پکسل ڈیپتھ اور 2 میگا پکسل میکرو لینس دیئے گئے ہیں جبکہ فرنٹ پر 24 میگا پکسل کیمرا دیا گیا ہے۔

اس میں سکس جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج یا 8 جی بی ریم اور 128 اسٹوریج کے آپشن موجود ہیں جبکہ 4000 ایم اے ایچ بیٹری کے ساتھ 18 واٹ فاسٹ چارجنگ سپورٹ دی گئی ہے۔

اس کی قیمت 2 ہزار یوآن (45 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) سے شروع ہوگی۔

یوٹیوب کا بچوں کی تمام ویڈیوز کڈز ایپ میں منتقل کرنے پر غور

یوٹیوب ویڈیوز دیکھنے کے لیے دنیا کی مقبول ترین سائٹ (ڈیسک ٹاپ) یا موبائل ایپ ہے جس کا استعمال بچے بھی بہت زیادہ کرتے ہیں مگر اب گوگل نے اس میں کافی کچھ بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق یوٹیوب میں بچوں کی ویڈیوز کو مین ایپ سے ہٹا کر صرف یوٹیوب کڈز ایپ تک مخصوص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب گوگل کو یوٹیوب میں بچوں کے مواد کے حوالے سے کافی مسائل کا سامنا ہے اور وہ اس سے بچنے کے لیے پالیسی میں اہم تبدیلیاں کررہا ہے۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ بچوں سے متعلق تمام ویڈیوز یوٹیوب سے ہٹا کر کڈز ایپ میں منتقل کی جائیں گی جبکہ اس میں آٹو پلے فیچر کو ڈس ایبل کردیا جائے گا۔

ان تبدیلیوں سے گوگل کی اشتہاری آمدنی تو متاثر ہوگی مگر اسے توقع ہے کہ بچے ‘قابل اعتراض’ مواد سے بچ سکیں گے۔

اس وقت یوٹیوب میں قابل اعتراض مواد کے حوالے سے ان کی رینکنگ ڈاﺅن اور رسائی کو محدود کیا جاتا ہے مگر اس سے مسائل پر قابو ممکن نہیں ہورہا ہے۔

اس حوالے سے گوگل نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور گوگل کے سی ای او سندرپچائی یوٹیوب کے مسائل پر قابو پانے کے لیے زیادہ متحرک کردار ادا کررہے ہیں۔

حال ہی میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملے کی ویڈیو اور بچوں کے جنسی استحصال کرنے والے گروپس کے مواد کو ریکومینڈ کرنے والے الگورتھم پر کمپنی کے اندر بھی کافی احتجاج دیکھنے میں آیا تھا۔

کمپنی کی جانب سے بچوں کے تحفظ کے لیے ہزاروں ویڈیوز میں کمنٹس کو بین بھی کیا گیا۔

اس رپورٹ پر یوٹیوب کی ایک ترجمان نے بتایا کہ ہم یوٹیوب کو بہتر بنانے کے لیے کافی خیالات پر غور کررہے ہیں اور کچھ تاحال آئیڈیاز ہی ہیں، جبکہ دیگر پر کام ہورہا ہے۔

دوسری جانب امریکا کے فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے بچوں کے تحفظ میں ناکامی اور بچوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کے حوالے سے یوٹیوب کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق یہ تحقیقات اس وقت اختتامی مراحل میں ہے اور کمپنی کو جرمانے کا سامنا

13 منٹ میں اسمارٹ فون بیٹری چارج کرنے والی ٹیکنالوجی تیار

اسمارٹ فونز کا استعمال اب لگتا ہے کہ ہر ایک ہی کرتا ہے مگر اس کی بیٹری کو بار بار گھنٹوں تک چارج کرنا کسی کو پسند نہیں آتا۔

مگر بہت جلد آپ اپنے موبائل کو چند منٹوں میں مکمل چارج کرسکیں گے کیونکہ پہلی بار 120 واٹ فاسٹ چارجنگ ٹیکنالوجی متعارف ہونے والی ہے۔

چینی کمپنی ویوو نے سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر یہ اعلان کیا ہے کہ وہ 26 جون کو شنگھائی میں شیڈول موبائل ورلڈ کانگریس میں یہ تیز ترین چارجنگ ٹیکنالوجی متعارف کرانے والی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کی بدولت 4000 ایم اے ایچ بیٹری کو محض 13 منٹ میں مکمل چارج کرنا ممکن ہوگا جبکہ 5 منٹ میں 50 فیصد چارج ہوسکے گی۔

اسے ویوو فلیش چارج کا نام دیتے ہوئے تیزترین فاسٹ چارجنگ ٹیکنالوجی قرار دیا ہے اور اس طرح وہ دیگر چینی کمپنیوں جیسے ون پلس، ہواوے اور اوپو کے مقابلے پر آگئی ہے۔

ون پلس اس وقت ڈیش چارج 30 ٹیکنالوجی اپنے صارفین کو فراہم کرچکی ہے، جبکہ ہواوے 40 واٹ فاسٹ چارجنگ کی سہولت مخصوص فونز میں دے رہی ہے۔

اوپو اس وقت فائنڈ ایکس فون میں سب سے تیز 50 واٹ چارجنگ سپورٹ ٹیکنالوجی متعارف کراچکی ہے۔

شیاﺅمی کی جانب سے رواں سال مارچ میں 100 واٹ فاسٹ چارجنگ ٹیکنالوجی کی جھلک پیش کی گئی تھی جو اس کے بقول 4000 ایم اے ایچ بیٹری کو 17 منٹ میں مکمل چارج کرسکتی ہے۔

تاہم ویوو اس سے بھی تیز ترین ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کی تفصیلات اگلے ہفتے ایونٹ میں ہی سامنے آئیں گے جس میں یہ کمپنی اپنا پہلا 5 جی اسمارٹ فون اپیکس 2019 بھی پیش کرے گی۔

اس فون کا پروٹوٹائپ ماڈل جنوری 2019 میں سامنے آیا تھا جس میں فائیو جی سپورٹ، ان ڈسپلے فنگرپرنٹ سنسر، اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر اور 12 جی بی ریم جیسے فیچرز موجود تھے جبکہ آڈیو کے لیے اسکرین ساﺅنڈ ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا تھا۔

اب صارفین کے لیے تیار ہونے والے فون میں کون کون سے فیچرز ہوں گے، ان کا علم اگلے ہفتے ہی ہوگا۔

فیس بک نے 2020 میں ’لِبرا‘ نامی کرپٹوکرنسی لانے کا اعلان کردیا

کیلیفورنیا: فیس بک نے لِبرا نامی اپنی کرپٹوکرنسی کا اعلان کردیا ہے اور یہ 2020 تک عام دستیاب ہوگی۔ گردش میں آنے کے بعد اسے ڈجیٹل والٹ میں رکھا جاسکے گا اور فیس بک میسنجر یا واٹس ایپ کے ذریعے اس کا لین دین ممکن ہوسکے گا۔

اس کے لیے فیس بک ایک ذیلی ادارے پر بھی کام کررہا ہے۔ لبرا کو کسی پیغام کی طرح میسنجر اور واٹس ایپ پر ایک سے دوسری جگہ بھیجنا ممکن ہوگا۔ فیس بک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ لوگ ’ نہ ہونے کے برابرمعاوضے‘ پررقم بھیجنے اور وصول کرنے کی سہولت حاصل کریں گے جس پر انتہائی معمولی کمیشن لیا جائے گا۔

اگلے مرحلے میں لبرا آف لائن ادائیگی مثلاً بل بھرنے، سودا خریدنے اور عوامی ٹرانسپورٹ میں سفر کے لیے بھی استعمال ہوگی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کی پشت پر ویزا اور ماسٹر کارڈ جیسے ادارے ہیں جبکہ ای بے، اسپوٹیفائی، اور اوبر نے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں اس طریقے سے رقم کی ادائیگی قبول کریں گے۔

لبرا کو بلاک چین ٹٰیکنالوجی پر مرتب کیا جائے گا اور سافٹ ویئر اوپن سورس ہوگا یعنی اسے دیگر آلات پر بھی چلایا اور استعمال کرنا ممکن ہوگا۔

ماہرین نے کہا ہے کہ فیس بک اس کرنسی کے ذریعے اپنے صارفین کو کمپنی کے پلیٹ فارم پر رکھے گا کیونکہ فیس بک اپنے صارفین کو نہیں کھونا چاہتی۔ تاہم فیس بک نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ دنیا میں ایک ارب 70 کروڑ ایسے افراد کے لیے مالیاتی سہولت دے گی جو اب بھی بینک اکاؤنٹ نہیں رکھتے لیکن ان کے پاس موبائل فون موجود ہے۔

اس پر ماہرین نے کہا ہے کہ فیس بک ایک بڑا آن لائن بینک بن جائے گا اور یوں لوگوں کا ڈیٹا اس پر موجود ہوگا جبکہ فیس بک سے صارفین کے ڈیٹا چوری ہونے کے ان گنت واقعات ریکارڈ پر ہیں اور اس صورت میں سوشل میڈیا پر کیسے اعتبار کیا جاسکتا ہے۔

فیس بک نے کہا ہےکہ لبرا کی پشت پر کوئی اہم مالیاتی شے یا ایسٹ رکھا جائے گا ناکہ دیگر کرپٹوکرنسیوں کی طرح اس کا انحصار طلب اور رسد پر نہ ہوگا۔

گلیکسی نوٹ 10 اگست میں متعارف کرائے جانے کا امکان

اگر تو آپ سام سنگ کے نئے فلیگ شپ فون گلیکسی نوٹ 10 کے منتظر ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ اس کی ممکنہ تاریخ رونمائی سامنے آگئی ہے۔

ویب سائٹ سی نیٹ نے ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ سام سنگ اپنا نیا فلیگ شپ فون 7 اگست کو نیویارک میں ایک ایونٹ کے دوران متعارف کرائے گی۔

اس سال سام سنگ کی جانب سے گلیکسی نوٹ سیریز کے بیک وقت 2 مختلف فون متعارف کرائے جائیں گے جن کے ڈسپلے سائز مختلف ہوں گے جبکہ ایک 5 جی سپورٹ کے ساتھ ہوسکتا ہے، دونوں فونز میں ہیڈفون جیک نہیں ہوگا۔

یہ سام سنگ کا پہلا فون ہوگا جس میں اوپری اور نچلے بیزل کو لگ بھگ ختم کردیا گیا ہے جبکہ پنچ ہول کیمرا سائیڈ کی بجائے اسکرین کے اوپر سینٹر میں دیاج ائے گا۔

مختلف افواہوں کے مطابق گلیکسی نوٹ 10 کا ایک ماڈل 6?75 انچ اسکرین کے ساتھ ہوگا جبکہ دوسرے ورژن میں 6?3 انچ ڈسپلے دیا جائے گا۔

دونوں فونز کی لیک تصاویر سے عندیہ ملتا ہے کہ بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ موجود ہوگا خصوصاً نوٹ 10 پرو میں گلیکسی ایس 10 فائیو جی کی طرح تھری ڈی ٹائم آف فلائٹ سنسر بھی نظر آرہا ہے۔

اس سے قبل مختلف لیکس میں یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ گلیکسی نوٹ 10 میں 45 واٹ چارجنگ اسپیڈ دیئے جانے کا امکان ہے جو کہ پہلی بار جنوبی کورین کمپنی کے کسی فون میں دی جائے گی، اس وقت سب سے تیز ہواوے میٹ ایکس فولڈ ایبل فون میں 55 واٹ چارجنگ سپورٹ ہے جبکہ اوپو کی سپر وی او او سی ٹیکنالوجی ہے جو کہ 50 واٹ چارجنگ سپورٹ فراہم کرتی ہے۔

ہر سال گلیکسی نوٹ سیریز کے فونز بنیادی طور پر گلیکسی ایس سیریز کے فونز کے بڑے ڈسپلے والے ورڑن ہوتے ہیں جس میں ایس پین اسٹائلوس ہی مختلف ہوتا ہے باقی پراسیسر اور کیمرے وغیرہ یکساں ہوتے ہیں، مگر اس سال بڑی تبدیلی کی جاسکتی ہے۔

دنیا کا پہلا انڈر ڈسپلے کیمرے والا فون چند دن کی دوری پر

اس وقت سام سنگ کی جانب سے ایسے اسمارٹ فون کی تیاری پر کام کیا جارہا ہے جس میں فرنٹ کیمرا نہ ہو بلکہ اس کی اسکرین تصویر کھینچنے کا کام کرے۔

آسان الفاظ میں فرنٹ کیمرا اسکرین کے اندر دے دیا جائے مگر اس معاملے میں لگتا ہے کہ ایک چینی کمپنی سام سنگ کو پیچھے چھوڑنے والی ہے۔

رواں ماہ کے شروع میں اوپو نے ایسے نوچ فری پروٹوٹائپ فون دکھایا تھا جس میں فرنٹ کیمرا اسکرین کے اندر نصب تھا اور اب وہ اس کانسیپٹ ڈیوائس کو 26 جون کو شنگھائی میں شیڈول موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

چینی سوشل میڈیا سائٹ ویبو میں اس کمپنی نے ایک ٹیزر جاری کیا ہے جس میں پوسٹر میں فرنٹ کیمرے کو اسکرین کے اندر چھپانے کو ایک رنگ کے ذریعے ہائی لائٹ کیا گیا ہے جبکہ اس فون کو 26 جون کو متعارف کرانے کا عندیہ دیا گیا۔

اس ٹیزر میں زیادہ تفصیلات تو نہیں دی گئیں مگر یہ تو واضح ہے کہ اس کے فرنٹ پر بس اسکرین ہی ہوگی کیونکہ پنچ ہول یا پوپ اپ کیمرا جو نہیں دیا جارہا۔

تاہم ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ فی الحال صرف نمائشی فون ہوگا یا صارفین اسے خرید بھی سکیں گے۔

فوٹو بشکریہ ویبو
فوٹو بشکریہ ویبو

اس سے قبل رواں ماہ کے شروع میں جو ٹیزر ویڈیو سامنے آئی تھی، اس کے بارے میں اوپو کے نائب صدر برائن شین نے کہا تھا کہ انڈر اسکرین کیمرا ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس مرحلے میں انڈر ڈسپلے کیمروں کے لیے عام کیمروں جیسے نتائج فراہم کرنا بہت مشکل ہے، کیونکہ اس ٹیکنالوجی میں آپٹیکل کوالٹی کم ہوجاتی ہے، تاہم کوئی بھی نئی ٹیکنالوجی اچانک ہی پرفیکٹ نہیں ہوجاتی۔

اس طرح کی ٹیکنالوجی پر صرف اوپو ہی نہیں بلکہ ایک اور چینی کمپنی شیاﺅمی بھی کام کررہی ہے جس نے بھی اس طرح کے انڈر ڈسپلے سیلفی کیمرے والے ایک فون کا ٹیزر جون کے آغاز میں جاری کیا تھا۔

مگر اس کمپنی نے اس فون کو متعارف کرانے کی تاریخ کا فی الحال کوئی اعلان نہیں کیا۔

واٹس ایپ کے مقابلے میں گوگل کا سب سے بڑا ہتھیار پیش

گوگل نے آخرکار دنیا کی مقبول ترین میسجنگ سروسز واٹس ایپ اور فیس بک مینسجر وغیرہ کو شکست دینے کے لیے اپنا ہتھیار متعارف کرادیا ہے۔

گوگل نے آخرکار رچ کمیونیکشن سروس (آر سی ایس چیٹ) کو اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے متعارف کرانا شروع کردیا ہے۔

گوگل کی جانب سے 2 سال سے آر سی ایس پر کام کیا جارہا تھا جس کے لیے اس نے دنیا بھر کے موبائل آپریٹرز اور اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں سے اشتراک کیام مگر صارفین تک اس کی رسائی تاحال ممکن نہیں ہوئی تھی، جس کی وجہ موبائل آپریٹرز کی سستی تھی۔

مگر اب گوگل نے یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور رواں ماہ برطانیہ اور فرانس میں آر سی ایس سروسز کو متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ویب سائٹ دی ورج کی رپورٹ کے مطابق آر سی ایس سروس اینڈرائیڈ میسجز ایپ کے صارفین کے لیے دستیاب ہوگی مگر اس وقت جب وہ اس کو استعمال کرنا پسند کریں گے۔

یہ چیٹ سروس درحقیقت ہر فون میں موجود ایس ایم ایس سروس کی جدید شکل ہے۔

مگر آر سی ایس میں روایتی ایس ایم ایس کے مقابلے میں مختلف جدید فیچرز صارفین کو دستیاب ہوں گے، جیسے ریڈ receipts، اپنے دوست کی ٹائپنگ کرتے دیکھنے کا عندیہ، ایچ ڈی تصاویر اور ویڈیو اور گروپ ٹیکسٹ وغیرہ ارسال کرنا، جبکہ اس میں ایس ایم ایس کی طرح ٹیکسٹ لمٹ بھی نہیں ہوگی۔

یہ بنیادی طور پر اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے ایپل کے آئی میسج کی طرح کام کرے گا مگر اس میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فی الحال دستیاب نہیں ہوگی، جبکہ یہ سروس فون نمبر کے بغیر کام نہیں کرے گی، یعنی فون ڈیوائسز ضروری ہوگی۔

گوگل کے مطابق ابتدائی آزمائش کے بعد اسے دیگر ممالک میں بھی آنے والے مہینوں میں کسی وقت متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ گوگل نے اس حوالے سے گزشتہ سال اینڈرائیڈ میسجز کو متعارف کرایا تھا جس کا مقصد صارفین کو آر سی ایس کی ابتدائی جھلک دیکھنے کا موقع مل سکے اور وہ اسے اپنے فون میں اسٹینڈرڈ ایس ایم ایس ایپ کی جگہ استعمال کرسکیں۔

اب تک گوگل 55 موبائل آپریٹرز، 11 اسمارٹ فونز بنانے والی کمپنیوں اور آپریٹنگ سسٹم بنانے والی ایک کمپنی مائیکرو سافٹ سے آر سی ایس کے لیے معاہدے کرچکا ہے۔

آسان الفاظ میں گوگل اپنے نئے پلیٹ فارم کو واٹس ایپ اور میسنجر کے تمام فیچرز سے بھر دینا چاہتا ہے۔

ایس ایم ایس 160 حروف کی وہ سروس ہے جو کئی دہائیوں سے موجود ہے مگر آج کے فونز زیادہ طاقتور اور صارف زیادہ فیچرز مانگتے ہیں اور یہی چیز واٹس ایپ اور میسنجر کی کامیابی کا باعث بنی۔

اب گوگل اس نئی سروس کے ذریعے انہیں ٹکر دینا چاہتا ہے جس میں دیگر فیچرز کے ساتھ گوگل کے ڈیجیٹل اسسٹنٹ کی خدمات بھی صارف کو حاصل ہوگی۔

آئی فونز میں 5 جی ٹیکنالوجی 2020 میں متعارف کرائے جانے کا امکان

اب تک اینڈرائیڈ ڈیوائسز تیار کرنے والی کئی کمپنیاں 5 جی ٹیکنالوجی سے لیس اسمارٹ فونز متعارف کراچکی ہیں مگر آئی فون صارفین کو اس کے لیے 2020 تک انتظار کرنا ہوگا۔

ایپل کی فائیو جی دوڑ میں کامیابی کا منصوبہ کوالکوم سے قانونی جنگ کی وجہ سے ناکام ہوگیا مگر اب کوالکوم سے معاملات طے پانے کے بعد ایپل 2020 میں اپنے اولین 5 جی آئی فونز متعارف کرائے گی۔

ایپل سے متعلق مختلف لیکس کرنے والے تجزیہ کار منگ چی کیو کے مطابق ایپل کی جانب سے اگلے سال کم از کم 2 آئی فون ماڈلز فائیو جی سپورٹ کے ساتھ متعارف کرائے جاسکتے ہیں۔

تجزیہ کار کا دعویٰ تھا کہ 2020 میں ایپل کی جانب سے 3 آئی فونز پیش کیے جائیں گے جن میں سے 2 فلیگ شپ 6.7 انچ اور 5.4 انچ او ایل ای ڈی ڈسپلے والے آئی فونز ہوں گے جبکہ ایک کم لاگت والا 6.1 انچ کا آئی فون ہوگا۔

فلیگ شپ آئی فونز میں فائیو جی سپورٹ دیئے جانے کا امکان ہے۔

اس سے قبل گزشتہ سال دسمبر میں بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں بھی اسی قسم کا دعویٰ سامنے آیا تھا۔

اس رپورٹ میں ایپل کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ یہ کمپنی فائیو جی آئی فون کم از کم 2020 تک متعارف نہیں کرائے گی۔

اس وقت انٹیل کی جانب سے فائیو جی موڈیم فراہم کرنے میں ناکامی کی وجہ سے یہ فیصلہ ہوا تھا، اب ایپل اور کوالکوم کے درمیان معاملات طے پاچکے ہیں مگر ایپل 2022 یا 2023 تک خود فائیو جی موڈیمز تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ کوالکوم پر انحصار نہ کرنا پڑے۔

Google Analytics Alternative