سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

جسم میں حقیقی طور پر چلنے پھرنے والا ’چوپایا‘ روبوٹ

نیویارک: ماہرین نے چار پیروں والا ایک روبوٹ بنایا ہے جو انسانی جسم میں باقاعدہ طور پر چلتا ہے، اس روبوٹ کو کئی طرح سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یونیورسٹی آف پینسلوانیا کے نائب پروفیسر مارک مِسکن اور دیگر ماہرین نے اس انقلابی شے پر کام کیا ہے۔ اسے کثیرمراحل کی مدد سے نینو فیبریکیشن کے تحت بنایا گیا ہے۔ تیزرفتارعمل کے ذریعے صرف چند ہفتوں میں ایسے ڈھیروں روبوٹس بنائے جاسکتے ہیں یعنی مخصوص مٹیریل کے چار انچ کے ٹکڑے سے دسیوں لاکھوں روبوٹ تیار کرنا بہت آسان ہے۔

ہر روبوٹ سلیکون کی ایک چھوٹی سی پرت پر انتہائی باریک شیشے کا ٹکڑا رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ سلیکون والے ٹکڑے میں سولر سیل اور دیگر برقی آلات کاڑھے گئے ہیں۔ روبوٹ کی ٹانگوں کی موٹائی اتنی ہے جتنی ایک سو ایٹموں کی چوڑائی ہوتی ہے۔ روبوٹ کے پیروں کو پلاٹینم ، ٹائٹانیئم اور گرافین کی مدد سے بنایا گیا ہے۔

جب روبوٹ کے شمسی سیلوں پر روشنی ڈالی جاتی ہے تو روبوٹ کے اگلے اور پچھلے پیر حرکت کرتے ہیں اور یوں روبوٹ آگے بڑھتا ہے۔ یہ روبوٹ اتنا چھوٹا اور باریک ہے کہ اسے انجکشن میں بھر کر جسم میں داخل کیا جاسکتا ہے۔ لیزر کے علاوہ اسے مقناطیسی میدان اور الٹرا ساؤنڈ امواج کے ذریعے بھی چلایا جاسکتا ہے۔ اگلے مرحلے میں روبوٹ کے اندر سینسر، سیلف کنٹرولر اور دیگر اہم فیچرز کا اضافہ کیا جائے گا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس روبوٹ کو جسم کے اندر دوا پہنچانے اور دیگر اہم امور کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

’فیس بک پولیو ویکسینیشن کے مخالفین سے لڑنے کو تیار‘

اسلام آباد: سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے پاکستان میں ویکسین مخالف ویڈیوز کی رسائی کو محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

وزیر اعظم کے ترجمان برائے پولیو بابر بن عطا نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت چاہتی تھی کہ ویکسینیشن کو مسلمانوں کے خلاف سازش بتانے والی ویڈیوز کو ڈیلیٹ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈرو ادھانوم اور بل اینڈ ملینڈا گیٹس کو اعتماد میں لے لیا ہے اور ایسی ویڈیوز کو فیس بک اور یوٹیوب سے مکمل طور پر خاتمے کے لیے ہم اقوام متحدہ کی دیگر ایجنسیوں کو شامل کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں گزشتہ ماہ خسرہ کے پھیلنے کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ویکسین مخالف ویڈیوز کی وجہ سے کئی افراد نے اپنے بچوں کو ویکسین نہیں دی تھی۔

امریکا کے محکمہ صحت نے اس کے بعد فیصلہ کیا کہ ’اینٹی ویکسر‘ کے خلاف مہم چلائی جائے گی۔

واضح رہے کہ اینٹی ویکسر وہ ہوتے ہیں جو ویکسینیشن کے مخالفین ہوں، عمومی طور پر وہ والدین جو اپنے بچوں کو ادویات پلانا نہ چاہتے ہوں۔

ترجمان برائے پولیو کا کہنا تھا کہ ’اس پیش رفت سے ہمیں ایک موقع ملا ہے کیونکہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر بڑی تعداد میں ویڈیوز پھیل رہی ہیں جس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ویکسین حرام ہیں اور انہیں مسلمانوں کے خلاف سازش کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسی ویڈیوز کو سماجی رابطے کی ویب سائٹس سے ہٹانے کے لیے ہر ممکن کوششیں کریں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ر) عامر عظیم باجوہ کے ہمراہ گزشتہ ہفتے اجلاس کے دوران میں نے اس مسئلے پر پی ٹی اے کا تعاون بھی طلب کیا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے طور پر تمام موبائیل فون کمپنیاں اپنے صارفین کو یہ پیغام بھیجیں گی کہ پولیو کے قطرے کیوں پینے ضروری ہیں اور بچوں کو اس وبا سے بچانے کا یہی واحد حل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ٹول فری نمبر پر تقریباً 50 ماہرین پولیو ویکسین کے حوالے سے سوالات کا جواب دینے کے لیے دستیاب ہوں گے جبکہ عوام ہر مہم میں باقی رہ جانے والے بچوں کی اطلاع بھی دے سکیں گے اور پولیو پروگرام والے ان کالز کے چارجز ادا کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پی ٹی اے کے چیئرمین سے ویکسین مخالف سوشل میڈیا مہمات کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔

بابر بن عطاء کا کہنا تھا کہ ’فیس بک نے پی ٹی اے کو بتایا ہے کہ وہ ویڈیوز کو ڈیلیٹ نہیں کرسکتے تاہم انہوں نے پاکستان میں ایسی ویڈیوز کی رسائی کو محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے تاہم ہم نے ان سے ویڈیوز کو ہٹانے پر زور دیا ہے کیونکہ ان ویڈیوز اور پیغامات سے نئی نسل کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے‘۔

پاکستان دنیا کے واحد 3 ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو وبا بچوں کو مفلوج بنا رہی ہے۔

واضح رہے کہ پولیو کیسز کی تعداد دو دہائیوں میں کئی ہزاروں میں تھی تاہم گزشتہ ایک دہائی میں اس کے خلاف مہمات سے کیسز کی تعداد کم ہوئی جس کے بعد 2016 میں صرف 20 کیسز سامنے آئے اور 2017 میں کیسز کی تعداد صرف 8 تھی۔

تاہم گزشتہ سال ایک درجن بچوں میں اس موزی وبا کی تشخیص ہوئی تھی اور رواں سال کے پہلے حصے میں 4 پولیو کیسز سامنے آچکے ہیں۔

ٹک ٹاک کے وہ فیچرز جن سے بیشتر افراد واقف نہیں

ٹک ٹاک دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہونے والی ایسی ایپ ہے جس کی مقبولیت درحقیقت فیس بک کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔

نوجوانوں میں اس ایپ کا استعمال بہت زیادہ بڑھ چکا ہے اور اس میں مہارت کا حصول بھی کچھ زیادہ مشکل نہیں۔

تاہم ہوسکتا ہے کہ ایسے افراد جو روز ٹک ٹاک کو استعمال کرتے ہوں مگر اس کے چند خفیہ فیچرز سے واقف نہ ہوں جو اس کا استعمال زیادہ بہتر بنادیتے ہیں۔

تو ایسے ہی فیچرز جانیں جو ٹک ٹاک کے حوالے سے متعدد افراد نہیں جانتے حالانکہ بظاہر وہ سامنے ہی ہوتے ہیں۔

اپنے اسمارٹ فون سے ویڈیو اپ لوڈ کریں

فوری طور پر کسی ویڈیو کو ریکارڈ کرنا اکثر مشکل کام ہوتا ہے، تو ایسے وقت کے لیے آپ پرانی ویڈیوز کو گیلری سے اپ لوڈ کرسکتے ہیں جس کا آپشن اپ لوڈ پر کلک کرنے پر دائیں جانب نیچے نظر آتا ہے۔

دیگر کے ساتھ ڈوئیٹ ویڈیو

ہوسکتا ہے کہ آپ اور آپ کا دوست الگ الگ شہروں یا علاقوں میں ہوں، مگر اکھٹی ویڈیو بنانا چاہتے ہیں تو الگ الگ ویڈیوز ریکارڈ کرکے انہیں اکھٹے کرنے پر گھنٹوں ضائع کرنے کی بجائے ٹک ٹاک میں موجود ڈوئیٹ فیچر کو استعمال کریں۔

سلائیڈ شو بنائیں

تصاویر سے ویڈیو بنانے کے لیے کسی علیحدہ ایپ کو ڈاﺅن لوڈ کرنے کی بجائے آپ ٹک ٹاک سے بھی ایسا کرسکتے ہیں، اپ لوڈ کے آپشن میں جاکر اپنی پسند کی تصاویر کا انتخاب کریں اور پھر دائیں جانب اوپر سلائیڈ شو کے آپشن پر کلک کردیں۔

کسی کی ویڈیو ڈاﺅن لوڈ کرنا

ٹک ٹاک میں روزانہ ہی ہزاروں لاکھوں ویڈیوز اپ لوڈ ہوتی ہیں اور ہوسکتا ہے کہ کچھ ویڈیوز آپ دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا یا فون میں ڈاﺅن لوڈ کرنا چاہیں، تو اس کے لیے اپنی پسند کی ویڈیو پر جاکر دائیں جانب موجود شیئر آئیکون پر کلک کریں، وہاں آپ کو سیو ویڈیو بٹن نظر آئے گا جس پر کلک کرنے سے ویڈیو فون میں ڈاﺅن لوڈ ہوجائے گی۔

پرائیویٹ پروفائل پر سوئچ کرنا

اگر آپ اپنی پروفائیل کو دیگر کی پہنچ سے دور رکھنا چاہتے ہیں تو پروفائل پیج میں جاکر اوپر دائیں کونے میں تھری ڈاٹ مینیو پر کلک کریں اور پرائیویسی اینڈ سیفٹی میں اپنے اکاﺅنٹ کو پرائیویٹ کرلیں۔

اپنی ویڈیو ڈیلیٹ کریں

اگر آپ کو اپنی پوسٹ کردہ ویڈیو پسند نہیں تو آپ اسے ڈیلیٹ کرکے نئی ویڈیو اپ لوڈ کرسکتے ہیں، اس کے لیے اس ویڈیو کو اوپن کریں جس کو ڈیلیٹ کرنا چاہتے ہیں اور تھری ڈاٹ مینیو میں جاکر نیچے موجود ڈیلیٹ کے آپشن کو سلیکٹ کرلیں۔

لپ سنک ویڈیو بنانا

ٹک ٹاک کا ایک اہم فیچر لپ سنک ویڈیو بنانا ہے اور یہ آسان کام نہیں ہوتا کہ کسی گانے کے ساتھ ہونٹوں کی حرکت کو بالکل درست رکھ سکیں، تاہم اس کا آسان طریقہ بھی ہے۔ سب سے پہلے تو ایک گانا منتخب کریں اور پھر دائیں جانب موجود قینچی کے آئیکون کو سلیکٹ کرکے گانے کا وہ حصہ منتخب کریں جو آپ ویڈیو کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح جب آپ ویڈیو ریکارڈ کرلیں تو پھر قینچی کے آئیکون پر کلک کرکے تعین کریں کہ گانا کہاں سے شروع ہو۔

کسی اور کی لپ سنک ویڈیو سے گانے کو استعمال کرنا

کئی بار ہمیں وہ گانا پسند آتا ہے جو کسی اور کی لپ سنک ویڈیو کا حصہ ہوتا ہے اور اسے استعمال کرکے اپنا ورژن بنانے کو دل کرتا ہے، تو گانے کو سرچ کرنے کی بجائے آپ اسے براہ راست ریکارڈ کرسکتے ہیں، اس کے لیے اس ویڈیو کے دائیں جانب نیچے موجود البم آرٹ سرکل پر کلک کرکے ریکارڈ آپشن کا انتخاب کرلیں اور بس۔

بٹن دبائے بغیر ریکارڈ کرنا

اس سے بچنے کے لیے آپ ٹائمر فیچر کو استعمال کرسکتے ہیں اور اسے ان ایبل کرنے کے چند سیکنڈ بعد آپ اپنی ویڈیو ریکارڈ کرنا شروع کرسکتے ہیں، اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے ویڈیو ریکارڈنگ میں جاکر دائیں جانب ٹائمر آئیکون پر کلک کرکے کاﺅنٹ ڈاﺅن اسٹارٹ بٹن کو دبائیں۔

اب اسکائپ کے ویب ورژن پر ایچ ڈی ویڈیو کالز کرنا ممکن

گوگل ڈو کی جانب سے ویڈیو چیٹ کے لیے ویب ورژن متعارف کرانے پر مائیکرو سافٹ نے اسکائپ کی ویب ورژن سروس کو ری ڈیزائن کردیا ہے۔

اسکائپ فار ویب میں اب پرائیویٹ اور گروپ کالز کے لیے ایچ ڈی ویڈیو سپورٹ دی گئی ہے۔

مگر یہ سہولت صرف کروم اور ایج براﺅزر استعمال کرنے والوں کے لیے ہی ہے، فائر فوکس یا کسی اور براﺅزر میں ایسا ممکن نہیں ہوگا۔

ایچ ڈی ویڈیو سپورٹ سے ہٹ کر بھی اسکائپ میں انٹرفیس ڈیزائن کو پہلے سے بہتر بنایا گیا ہے اور بات چیت کے مواد کو ٹریک کرنا بھی آسان کردیا گیا ہے۔

ایک نیا نوٹیفکیشن پینل دیا گیا ہے جس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کسی نے کب آپ کو مینشن کیا ہے۔

اسی طرح نئی میڈیا گیلری بھی دی گئی ہے جس میں ہر لنک اور میڈیا موجود ہوتا ہے جو ٹیکسٹ چیٹ میں آپ نے شیئر کیا ہو یا کسی نے آپ کے ساتھ شیئر کیا ہو، تاکہ اسکرول کیے بغیر کوءیتصویر تلاش کرسکیں۔

ایک اور فیچر کے ذریعے آپ کسی دوست کی بات چیت میں مخصوص گفتگو سرچ کرسکتے ہیں۔

ری ڈیزائن اسکائپ فار ویب ونڈوز 10 یا میک 10 آپریٹنگ سسٹم پر چلنے والے کمپیوٹرز پر ہی قابل استعمال ہے اور کروم اور ایج پر ہی اسے استعمال کرسکتے ہیں، دیگر براﺅزرز پر ابھی اس کی سپورٹ نہیں دی گئی۔

اسپیس ایکس کیپسول کی واپسی، امریکا سے انسانی خلائی پروازوں کی راہ ہموار

واشنگٹن: اسپیس ایکس کا کریو ڈریگن کیپسول، امریکی خلائی ادارے نیشنل آسٹرونوٹ اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) کا تجرباتی مشن کامیابی سے مکمل کرکے بحرِ اوقیانوس میں اتر گیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اس کی واپسی سے امریکا میں انسانی خلائی پروازوں کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

کئی گھنٹوں کے تجسس کے بعد کریو ڈریگن نے امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحل سے 370 کلومیٹر دور صبح 8 بج کر 45 منٹ پر سطح سمندر کو چھوا۔

کیپسول اپنے سواروں کو تجرباتی طور پر زمین پر اسی طرح واپس لایا جس طرح امریکی خلاباز 1960 سے 1970 کے درمیان اپالو دور میں سیارے پر واپس آئے تھے، اس وقت تک 1981 سے 2011 تک جاری رہنے والے اسپیس شٹل پروگرام کا آغاز نہیں ہوا تھا۔

ڈریگن کریو پیرا شوٹ کی مدد سے بحرالکاہل میں اترا—فوٹو:اے پی
ڈریگن کریو پیرا شوٹ کی مدد سے بحرالکاہل میں اترا—فوٹو:اے پی

ناسا کی فوٹیج میں کیپسول کو بڑے آرام سے سمندر میں اترتے ہوئے دیکھا گیا جس میں پہلے اس نے آرام سے چاروں پیرا شوٹ کھول کر اپنی رفتار کم کی جنہوں نے پانی میں اترتے ساتھ ہی کیپسول سے لپٹ کر کشتی کی شکل اختیار کرلی۔

اس حوالے سے ناسا کے ایک منتظم جم برائیڈینسٹائن نے کیپسول کے اترنے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے انسانی خلائی پروازوں میں نیا سنگِ میل عبور کرلیا‘۔

گزشتہ ہفتے فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے خلا میں بھیجے جانے والا ڈریگن اگلے ہی دن انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن پہنچ کر منسلک ہوگیا تھا اور وہاں 5 دن تک منسلک رہنے کے بعد واپس روانہ ہوا۔

سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق اسپیس ایکس کیپسول نے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن پر موجود 3 افراد کو تقریباٍ 400 پاؤنڈ وزنی اشیا بھی پہنچائی، جس میں آلات و خوراک وغیرہ شامل تھی۔

ناسا کے مطابق ڈریگن کے سواروں میں مصنوعی انسان سوار تھے جس کے بعد اب 2 امریکی خلا باز رواں سال کے آخر میں انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن جا کر واپس آئیں گے۔

دوسری جانب بوئینگ نے بھی 8 سال کے وقفے کے بعد امریکی سرزمین سے انسانی خلائی پروازوں کے منصوبے پر کام بحال کردیا۔

اصلی سام سنگ فون کی شناخت کیسے کریں؟

اگر اسمارٹ فونز کی بات کی جائے تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ دنیا بھر میں بیشتر افراد جس کمپنی کی ڈیوائسز کو لینا پسند کرتے ہیں وہ سام سنگ ہے۔

مگر ہم میں سے بیشتر افراد ہزاروں روپے ایسے سام سنگ اسمارٹ فونز خریدنے پر ضائع کردیتے ہیں جو کہ جعلی ہوتے ہیں۔

حالانکہ دیکھنے میں وہ سام سنگ ڈیوائس ہی لگتی ہے مگر وہ جنوبی کورین کمپنی کی تیار کردہ نہیں ہوتی۔

اگر آپ ایسے دھوکے سے بچنا چاہتے ہیں تو اگلی بار سام سنگ کا کوئی فون خریدتے ہوئے ان چند چیزوں کا جائزہ ضرور لے لیں۔

ڈسپلے

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

سام سنگ کے بیشتر ماڈلز میں AMOLED ڈسپلے دیا گیا ہے اور یہی اصلی اور جعلی میں فرق بھی کرسکتا ہے۔ اس طرح کا ڈسپلے برائٹ بلیک کلر کا ہوتا ہے جیسا آپ اوپر تصویر میں دیکھ سکتے ہیں، جعلی ڈیوائس میں عام طور پر گرے، بلیو یا براﺅن ڈسپلے نظر آتا ہے۔

کوڈ چیک کریں

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

فون میں سیکرٹ #7353#* کوڈ کا اندراج کریں، اصلی سام سنگ گلیکسی فون میں ایک خصوصی اپلیکشن ٹیسٹنگ مینیو کھول جائے گا،جس سے اسکرین، اسپیکر اور فون کے دیگر فنکشن کو ٹیسٹ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

آئی ڈی نمبر

فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ
فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ

بیٹری کے نیچے چھپی ٹیبل ماڈل کوڈ، سیریل نمبر اور آئی ایم ای آئی کے ساتھ ہوتی ہے۔ اگر آپ #06#* انٹر کریں تو اسکرین پر آئی ایم ای آئی شو شو ہونے لگتا ہے جبکہ سیریل نمبر بھی دیکھا جاسکتا ہے (یہ طریقہ کچھ

سائنسدانوں نے انٹار کٹیکا کا ایک اور راز جان لیا

انٹارکٹیکا ایسا براعظم ہے جسے اسرار سے بھرپور کہا جائے تو کم نہیں ہوگا کیونکہ وہاں ایسے قدرتی عجوبے موجود ہیں جو دہائیوں سے سائنسدانوں کے لیے الجھن کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

ان میں سے ہی ایک سبز رنگ کے متعدد آئس برگ (برف کی چٹان) کی موجودگی ہے جو دہائیوں سے اس براعظم کو دیکھنے جانے والے سیاحوں اور سائنسدانوں کے لیے معمہ بنا ہوا تھا اور اس پر متعدد سائنسی مقالے بھی شائع ہوئے۔

سائنسدان جاننا چاہتے تھے کہ آخر برف کی اس رنگت کی وجہ کیا ہے اور یہ اب تک برقرار کیوں ہے۔

اب جاکر سائنسدانوں نے ایک نیا خیال پیش کیا ہے جس کی تصدیق ہوگئی تو دہائیوں سے دنیا بھر کو الجھن میں ڈالنے والے اس معمے کو حل کرنا ممکن ہوجائے گا۔

یہ آئس برگ 1988 میں ایک آسٹریلین مہم کے دوران اس وقت دریافت کیا گیا،اسی طرح واشنگٹن یونیورسٹی کے ماہر ارضیات اسٹیفن وارن نے اس طرح کی ایک چٹان پر چڑھ کر اس کا قریب سے جائزہ لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان برفانی چٹانوں میں حیران کن چیز ان کی رنگت نہیں بلکہ ان کی شفافیت تھی کیونکہ اس میں بلبلے نہیں، عام آئس برگ قدرتی برفباری سے بنتے ہیں، یہ برف اپنے وزن سے جم کر ٹھوس ہوجاتی ہے، برفباری میں ہوا بلبلے کی شکل میں مقید ہوتی ہے ، تو گلیشیئر کی برف میں لاتعداد بلبلے ہوتے ہیں، جبکہ آئس برگ روشن اور دھندلے ہوتے ہیں۔

مگر ان انوکھے آئس برگز کی زمرد رنگ برف میں کوئی بلبلے نہیں، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ کوئی عام گلیشیئر آئس نہیں۔

اسٹیفن وارن نے اس طرح کے 2 آئس برگز کی سطح کے نمونوں کا موازنہ کیا تو انہوں نے دریافت کیا کہ اس کی شفاف رنگت کی وجہ گلیشیئر آئس نہیں بلکہ سمندری ٹھوس برف ہے۔

انٹارکٹیکا میں اکثر آئس برگ سفید یا نیلے رنگ کے ہیں جبکہ کچھ میں دھاریاں بھی ہیں مگر سبز رنگ نایاب ہے اور آغاز میں اسٹیفن وارن کی ٹیم کا خیال تھا کہ اس کے نیچے موجود سمندری پانی میں پھنسے مردہ سمندری پودوں اور جانوروں کے ننھے ذرات کے نتیجے میں برف سبز ہوئی، مگر برف کے نمونے نے اس خیال کو غلط ثابت کیا۔

درحقیقت سبز اور نیلی سمندری برف میں اس طرح کے مواد کی یکساں مقدار دریافت کی گئی۔

چند سال بعد اسٹیفن وارن نے ایک اور خیال پیش کیا جس میں کہا گیا کہ ان آئس برگز کی رنگت کی وجہ اس علاقے میں آئرن کی سطح بہت زیادہ ہونا ہے۔

اس سے پہلے تسمانیہ یونیورسٹی کی ایک تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا تھا کہ ان انوکھے آئس برگز والے خطے کی برفانی سطح میں آئرن کی مقدار 500 گنا زیادہ ہے اور اسی کو دیکھ کر یہ خیال پیش کیا گیا۔

اسٹیفن کا ماننا ہے کہ اس کی وجہ گلیشیئر سے تہہ میں موجود چٹانوں کا پس جانا ہے، جن کے آئرن سے بھرپور ذرات سمندر میں تیرتے ہوئے برف کی تہہ کے نیچے قید ہوگئے اور اس طرح برفانی برف بنی۔

سائنسدان اس خیال کو درست ثابت کرنے کے لیے ابھی مختلف آئس برگ کی سطح کے تجزیے کریں گے جس کے بعد اس کا فیصلہ ہوگا۔

برطانوی فوج کےلیے دنیا کے سب سے چھوٹے جاسوس ڈرون تیار

لندن: برطانیہ کے محکمہ دفاع نے جاسوسی کے لیے دنیا کے سب سے چھوٹے ڈرون تیار کیے ہیں جو میدانِ جنگ میں فوج کے لیے جاسوسی کریں گے۔

وزارتِ دفاع نے اس مقصد کےلیے 8 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم رکھی ہے جس کے تحت کم سے کم 200 ڈرون بنائے جائیں گے۔ ان میں سرِ فہرست انسانی ہاتھ سے چھوٹے ’بلیک ہورنیٹ تھری‘ جاسوس ڈرون ہیں جنہیں دنیا کے سب سے چھوٹے ڈرون قراردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سامان پہنچانے والے خودکار ڈرون بھی بنائے جائیں گے۔

ہورنیٹ کا وزن 200 گرام سے بھی کم ہے جو ایک وسیع علاقے کی ایچ ڈی ویڈیو بناکر براہِ راست سپاہی کے اسمارٹ فون پر نشرکرسکتا ہے۔

برطانوی سیکریٹری دفاع گیوون ولیم سن نے کہا کہ جاسوس ڈرون آسمانی آنکھ کا کام کرے گا اور اس سے اوجھل دشمنوں کا پتا لگایا جاسکے گا۔ جاسوس طیارے ہر فوجی کو جنگ کا ایک خاص زاویہ فراہم کریں گے۔ برطانیہ اگلے مرحلے میں مزید تین کروڑ ڈالر خرچ کرکے افواج کو کمک پہنچانے والی خود کار زمینی اور ہوائی سواریاں بھی بنائے گا۔

برطانیہ کے مطابق خطرناک اور دشوار گزار علاقوں میں جدید اور چھوٹے جاسوس ڈرون اہم کردار ادا کرتے ہوئے افواج کی رہنمائی کرسکتے ہیں۔ برطانوی تجزیہ کاروں کے مطابق انہیں بھرپور مواقع پر آزمایا گیا ہے۔ ولیم سن کے مطابق برطانیہ ، ایسٹونیا اور عراق میں  بلیک ہورنیٹ نینو ڈرون کو حقیقی جنگ میں آزمایا گیا ہے۔

Google Analytics Alternative