سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

ڈاٹ کام (.com) کس لفظ کا مخفف ہے؟

یقیناً یہ جملہ آپ انٹرنیٹ پر ہی پڑھ رہے ہوں گے اور موبائل، لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر پر لوگ آن لائن جاتے ہیں، مگر کبھی آپ نے سوچا کہ کسی ویب سائٹ کے آخر میں ڈاٹ کام (.com) کا مطلب کیا ہے؟

انگلش زبان میں ایسا لگتا ہے کہ ہر لفظ کا کوئی نہ کوئی مخفف ہوتا ہے جو بہت عام ہوتا ہے، مگر ان کے اصل مطلب اکثر افراد کو معلوم نہیں ہوتے۔

جیسے ٹیکنالوجی کی دنیا کے معروف مخفف سم کارڈ اور یو ایس بی، مگر سب سے عام ٹیکنالوجی مخفف لگ بھگ ہر ویب سائٹ کا حصہ ہوتا ہے یعنی ڈاٹ کام۔

ڈاٹ کام کس لفظ کا مخفف ہے؟

ویسے کچھ ویب سائٹ ڈومین تو سمجھنا آسان ہوتے ہیں جیسے ڈاٹ ای ڈی یو (.edu) یا ڈاٹ جی او وی (.gov) وغیرہ، مگر جب پوچھا جائے تو کہ ڈاٹ کام کا مطلب کیا ہے تو اکثر افراد ہوسکتا ہے کہ اس کا مطلب کمپیوٹر یا کمیونیکشن بتائیں۔

مگر یہ دونوں ہی اس مخفف کے اصل معنی نہیں۔

درحقیقت ڈاٹ کام لفظ کمرشل کا مخفف ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر ویب سائٹ کمرشل مقاصد کے لیے استعمال ہو (اگر بیشتر کمرشل ویب سائٹس اس ڈومین کو استعمال کرتے ہیں)۔

مگر چونکہ ڈاٹ کام ڈومین نام ہر ایک کو دستیاب تھا اور یہ مخصوص ڈومین جیسے ای ڈی یو یا جی او وی سے مختلف تھا، تو یہ ہر جگہ چھا گیا۔

کیا اس کا کچھ اور مطلب بھی ہے؟

ویسے تو ڈاٹ کام کمرشل کا مخفف ہے مگر کچھ ٹیکنالوجی ماہرین کے خیال میں یہ کسی اور لفظ کو چھوٹا کیا گیا ہے اور وہ ہے کمپنی۔

انٹرنیٹ کی ابتدا یعنی 1980 اور 90 کی دہائی میں ایم آئی ٹی کے ڈویلپر جیک ہیورٹی کے مطابق اس زمانے میں انٹرنیٹ کاروباری اداروں سے کنکٹ نہیں تھا اور اس زمانے میں ڈاٹ کام سے کاروبار کا خیال ذہن میں نہیں آتا تھا جہاں لوگ کچھ خرید سکیں۔

درحقیقت اس وقت مختلف کمپنیاں حکومتی معاہدوں پر انٹرنیٹ پر کام کرتی تھیں تو ڈاٹ کام کے لیے کمپنی زیادہ منطقی مخفف ہے۔

مگر اب چونکہ انٹرنیٹ بہت زیادہ پھیل چکا ہے اور تجارت کے لیے بنیادی پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتا ہے تو کمرشل غیرمتنازعہ طور پر ڈاٹ کام کے معنی کی جگہ لے چکا ہے۔

وہ ڈیوائسز جو جلد واٹس ایپ سپورٹ سے محروم ہوجائیں گی

اگر تو آپ اینڈرائیڈ 2.3.7 آپریٹنگ سسٹم اور آئی او ایس 7 پر چلنے والے اسمارٹ فونز استعمال کررہے ہیں تو آئندہ چند ماہ بعد ان میں واٹس ایپ استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

واٹس ایپ نے اپنے ایف اے کیو پیج کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یکم فروری 2020 سے اینڈرائیڈ 4.0.3 یا اس کے بعد کا ورژن اور آئی او ایس 8 یا اس کے بعد کے ورژن والے فونز یا ڈیوائسز میں واٹس ایپ سپورٹ فراہم کی جائے گی۔

واٹس ایپ پیج کے مطابق ‘اینڈرائیڈ 2.3.7 اور آئی او ایس 7.1.2 والی ڈیوائسز استعمال کرنے والے افراد اب نئے اکاﺅنٹس نہیں بناسکیں گے اور موجودہ اکاﺅنٹس کو بھی دوبارہ ویریفائی نہیں کرسکیں گے، تاہم واٹس ایپ کو یکم فروری 2020 تک استعمال کرنا ممکن ہوگا، اس کے بعد سپورٹ ختم ہوجائے گی’۔

کمپنی کے مطابق ہم نے ان آپریٹنگ سسٹمز کے لیے ہم اپ ڈیٹس نہیں بنارہے، تو کچھ فیچرز کسی بھی وقت کام کرنا بند کرسکتے ہیں۔

واٹس ایپ کی جانب سے لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ان آپریٹنگ سسٹمز کو استعمال کرنے والے صارفین نئے فونز لے لیں جن میں بہتر آپریٹنگ سسٹمز موجود ہوں تاکہ وہ نئے فیچرز استعمال کرسکیں۔

اس سے پہلے واٹس ایپ کی جانب سے یہ اعلان بھی ہوچکا ہے کہ تمام ونڈوز آپریٹنگ سسٹمز پر 31 دسمبر کے بعد صارفین واٹس ایپ کو استعمال نہیں کرسکیں گے جبکہ ہوسکتا ہے کہ یکم جولائی کے بعد یہ مائیکرو سافٹ اسٹور پر بھی دستیاب نہ ہو۔

اس بیان میں یکم جولائی کے بعد ایپ کی عدم دستیابی کے حوالے سے شاید کا لفظ استعمال ہوا ہے مگر یہ واضح ہے کہ یہ بہت جلد مائیکرو سافٹ اسٹور سے ڈیلیٹ کردی جائے گی۔

رواں سال کے آخر تک واٹس ایپ کی جانب سے سپورٹ ختم ہونے پر ونڈوز فونز کے صارفین کے لیے اس مقبول ترین میسجنگ اپلیکشن میں بگز فکسز، اپ ڈیٹس اور نئے فیچرز کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔

اور ہاں ونڈوز فونز میں اس کے بیشتر فیچرز کسی بھی وقت اچانک کام کرنا بند بھی کردیں گے۔

ونڈوز فون مائیکرو سافٹ کا وہ آپریٹنگ سسٹم ہے جس کو خود کمپنی نے سپورٹ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس وقت دنیا بھر میں 0.28 فیصد صارفین ونڈوز موبائل استعمال کررہے ہیں جبکہ اینڈرائیڈ صارفین کی تعداد 74.85 فیصد ہے۔

اس سے پہلے واٹس ایپ بلیک بیری آپریٹنگ سسٹم، بلیک بیری 10، نوکیا ایس 40، نوکیا سامبا ایس 60، اینڈرائیڈ 2.1، اینڈرائیڈ 2.2، ونڈوز فون 7، آئی فون تھری جی/آئی او ایس سکس کے لیے سپورٹ ختم کرچکی ہے۔

ڈرون اب دیواروں پر پینٹنگ بھی بنانے لگے

روم، اٹلی: اٹلی میں ماہرین نے چار عدد ڈرون کو ایک ساتھ استعمال کرکے ایک بڑی دیوار پر خوبصورت پینٹنگ بنانے کا عملی مظاہرہ کیا ہے جسے عام طور پر گریفیٹی کہا جاتا ہے۔

یہ مظاہرہ ایک منصوبے کے تحت کیا گیا جسے ’اربن فلائنگ اوپرا‘ (یو ایف او) پروجیکٹ کا نام دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت شہر کی انتظامیہ نے مختلف افراد سے کئی متاثرکن منصوبوں کی تفصیل مانگی تھی۔ یہ مقابلہ ایک ڈیزائننگ کمپنی کارلو ریٹی کمپنی نے کرایا تھا جس میں ایک ہزار لوگوں نے اپنے اپنے پروجیکٹ بھیجے جن میں سے 100 قبول کئے گئے۔

اس پروجیکٹ کے تحت پولی ٹیکنک یونیورسٹی آف ٹیورن اور ٹیورن یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر ڈرون کی مدد سے ایک بڑی دیوار پینٹ کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا جسے عملی مظاہرے کی دعوت دی گئی۔

پینٹنگ کے لیے ایک کار ساز کمپنی میں متروک دیوار کا انتخاب کیا گیا جو اٹلی کے شہر ٹیورن میں واقع ہے۔ 25 اور 26 جون کو پروگرام سے کنٹرول کئے گئےچار ڈرون نے پوری دیوار پر ایک خوبصورت پینٹنگ بناڈالی ۔ مرکزی کنٹرول سسٹم نے ہر ڈرون اور رنگوں کو الگ الگ کنٹرول کیا اور ماہرین اس پورے عمل کا بغور جائزہ لیتے رہے۔

اس عمل میں 14 میٹر لمبی اور 12 میٹر چوڑی دیوار کا انتخاب کیا گیا جس پر تین مختلف رنگوں کی تہیں چڑھائی گئیں۔اس میں سیاہ رنگت کو مضمون بیان کرنے میں استعمال کیا گیا ۔ سرخ رنگت سے ٹیورن کی شہری زندگی اور دیگر اجزا دکھائے گئے۔ جبکہ سبزی مائل نیلگوں پرت سے پورے مضمون یا اسٹوری کا احاطہ کیا گیا۔ اس طرح ایک عمودی بڑی دیوار پر پہلی مرتبہ ڈرون سے کوئی پیچیدہ ڈرائنگ بنانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔

گزشتہ دنوں ڈرون کے ان گنت استعمال سامنے آئے ہیں تاہم اب وہ دن دور نہیں جب ڈرون عمارتوں پر رنگ و روغن ، پینٹنگ یا تزئین و آرائش کا کام بھی کریں گے۔

سام سنگ پر آسٹریلیا میں صارفین کو گمراہ کرنے کا الزام

کیا سام سنگ کے واٹر ریزیزٹنٹ گلیکسی اسمارٹ فونز کو سوئمنگ پول اور سمندر کی سطح پر استعمال کیا جاسکتا ہے ؟

کمپنی کی جانب سے ایسا اشتہارات دکھایا جاتا ہے مگر اب اسے اس وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ آسٹریلیا کے کمپیٹیشن اینڈ کنزیومر کمیشن (اے سی سی سی) اس معاملے پر سام سنگ کو عدالت میں لے گئی ہے۔

آسٹریلین کمیشن نے سام سنگ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ فونز کے واٹر ریزیزٹنس کے معاملے پر صارفین کو گمراہ کررہی ہے کیونکہ یہ کمپنی 2016 سے اپنے فونز کی اس صلاحیت کے بارے میں ایسا ظاہر کرتی ہے کہ انہیں سوئمنگ پول اور سمندر میں لے جاسکتی ہے، حالانکہ ایسا ہوتا نہیں۔

اے سی سی سی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سام سنگ کے گلیکسی فونز کے اشتہارات لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں کیونکہ ان میں دکھایا جاتا ہے کہ یہ فونز ہر طرح کے پانی جیسے سمندر اور سوئمنگ پول وغیرہ کے لیے موزوں ہیں اور اس سے فونز کی زندگی متاثر نہیں ہوتی، حالانکہ یہ درست نہیں’۔

اے سی سی سی کی جانب سے دائر مقدمہ 300 سے زائد اشتہارات کے تجزیے پر مبنی ہے۔

بیشتر گلیکسی فونز کے اشتہارات میں انہیں آئی پی 68 واٹر ریزیزٹنس کا حامل قرار دیا جاتا ہے، یعنی یہ ڈیوائسز ڈیڑھ میٹر گہرے پانی میں 30 منٹ تک رہ سکتی ہیں، مگر اے سی سی سی کے مطابق اس میں ہر طرح کے پانی کو کور نہیں کیا جاسکتا، یہاں تک کہ سام سنے نے خود کہا ہے کہ گلیکسی ایس 10 ساحل پر استعمال کے لیے نہیں۔

اے سی سی سی کے مطابق سام سنگ کی جانب سے گلیکسی فونز کو ایسی جگہوں پر استعمال کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے جو اسے صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے نہیں کرنا چاہیے۔

دوسری جانب سام سنگ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنی مارکیٹنگ حکمت عملی کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے مقدمہ لڑنے کے لیے تیار ہے۔

3 بیک کیمروں اور ان ڈسپلے فنگرپرنٹ سنسر والے ‘سستے’ فونز متعارف

چینی کمپنی شیاﺅمی نے 3 بیک کیمروں والے سستے ترین فونز کی می سی سی 9 سیریز متعارف کرا دی ہے۔

می سی سی 9 اور می سی سی 9 ای فونز کو چین میں ایک ایونٹ کے دوران متعارف کرایا گیا اور دونوں ڈیوائسز تھری ڈی گلاس باڈی، فنگرپرنٹ سنسر اسکرین کے اندر جبکہ 3 بیک کیمروں کے ساتھ ہیں۔

می سی سی 9

فوٹو بشکریہ شیاؤمی
فوٹو بشکریہ شیاؤمی

یہ فون 6.39 انچ امولیڈ ڈسپلے کے ساتھ ہے جس میں ٹاپ پر واٹر ڈراپ نوچ دیا گیا ہے۔

اس میں مڈرینج کوالکوم اسنیپ ڈراگون 710ای پراسیسر ہے جسے ایڈرینو 616 جی پی یو کے ساتھ پیئر کیا گیا ہے۔

فون میں اینڈرائیڈ پائی کے ساتھ کمپنی نے اپنے ایم آئی یو آئی 10 کا امتزاج کیا ہے جبکہ 6 جی بی اور 64 سے 128 جی بی اسٹوریج کے آپشن موجود ہیں۔

اس میں 4030 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے۔

اس کے بیک پر 48 میگا پکسل، 8 میگا پکسل اور 2 میگا پکسل کیمروں پر مشتمل سیٹ اپ موجود ہے جبکہ فرنٹ پر 32 میگا پکسل کا طاقتور سیلفی کیمرا دیا گیا ہے۔

اس فون کا 6 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج والا فون 1800 چینی یوآن (42 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) جبکہ 6 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج والا ورژن (47 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت کیا جائے گا۔

می سی سی 9 ای

فوٹو بشکریہ شیاؤمی
فوٹو بشکریہ شیاؤمی

6.08 انچ امولیڈ ڈسپلے والے اس فون میں اسنیپ ڈراگون 665 پراسیسر کو ایڈرینو 610 جی پی یو سے پیئر کیا گیا ہے۔

سی سی 9 کی طرح اس میں بھی اینڈرائیڈ پائی آپریٹنگ سسٹم کا امتزاج کمپنی نے اپنے ایم آئی یو آئی سے کیا ہے جبکہ 4030 ایم اے ایچ بیٹری، 4 سے 6 جی بی ریم اور 64 سے 128 جی بی اسٹوریج کے آپشن دیئے گئے ہیں۔

اس کا کیمرا سیٹ اپ بھی سی سی 9 جیسا ہی ہے یعنی بیک پر 48 میگا پکسل، 8 میگا پکسل اور 2 میگا پکسل پر مشتمل تین کیمروں کا سیٹ اپ جبکہ فرنٹ پر 32 میگا پکسل کیمرا دیا گیا ہے۔

اس کے 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج والے فون کی قیمت 1300 یوآن (30 ہزار پاکستانی روپے سے زائد)، سکس جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج والے ماڈل کی قیمت 1400 یوآن (33 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) جبکہ 6 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج والے ورژن کی قیمت 1600 یوآن (37 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) رکھی گئی ہے۔

دنیا بھر میں فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹا گرام کی سروس متاثر

کراچی: پاکستان سمیت دنیا بھر کے مختلف ملکوں میں فیس بک، انسٹا گرام اور واٹس ایپ کی سروس متاثر ہوگئی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں سوشل میڈیا کی سروسز متاثر ہوگئی ہیں اور یورپ، امریکا سمیت ایشیا کے مختلف ممالک میں صارفین کو سروسز کے استعمال میں دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

خبرایجنسی کے مطابق فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر صارفین کو مواد اپ لوڈ اور ڈاؤن لوڈ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم سروسز متاثر ہونے کی وجوہات سامنے نہیں آسکیں

 

ٹک ٹاک کو برطانیہ میں بچوں کی پرائیویسی پر تحقیقات کا سامنا

ٹک ٹاک نوجوانوں میں بہت تیزی سے مقبول ہونے والی اپلیکشن ہے مگر اس میں بچوں کے ڈیٹا کے غلط استعمال کے حوالے سے تحفظات بھی ظاہر کیے جاتے ہیں۔

رواں سال فروری میں امریکا کے فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے اس ایپ پر بچوں کے ڈیٹا کرنے پر 57 لاکھ ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا تھا جس کے بعد کمپنی نے اپلیکشن کے استعمال کی شرائط کو تبدیل کیا تھا۔

ان تبدیلیوں کے بعد 27 فروری کے بعد سے اس ایپ کو استعمال کرنے کی کم از کم 13 سال کردی گئی تھی۔

مگر اب بھی بچوں کے ڈیٹا کے استعمال کے حوالے سے ٹک ٹاک کے خلاف مختلف حلقوں کی جانب سے تحفظات سامنے آتے رہتے ہیں، جس کے بعد برطانیہ نے بھی اس کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہے۔

امریکا کی جانب سے یہ تحقیقات فروری سے جاری ایک پارلیمانی کمیٹی کررہی ہے۔

دی گارڈین نے اس کمیٹی کی سربراہ ایلزبتھ ڈینہم سے بات کی، جنہوں نے بتایا ‘ٹک ٹاک کے خلاف ہماری تحقیقات آگے بڑھ رہی ہے اور ہم بچوں کے لیے ٹولز، میسجنگ سسٹم (جو کہ مکمل طور پر اوپن ہے) اور وہ ویڈیوز دیکھ رہے ہیں جو بچے آن لائن دیکھتے یا شیئر کرتے ہیں، کی شفافیت کا جائزہ لے رہے ہیں ‘۔

فروری میں ٹک ٹاپ پر جرمانہ امریکا نے چلڈرنز آن لائن پرائیویسی پروٹیکشن ایکٹ کے تحت عائد کیا گیا، جس کے تحت 13 سال سے کم عمر بچوں کو ایپس اور ویب سائٹس کے استعمال کے لیے والدین کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کے بعد کمپنی نے امریکی ادارے سے معاہدہ کیا تھا جس کے تحت 13 سال سے کم عمر صارفین کی اپ لوڈ پوسٹس کو ڈیلیٹ کیا جائے گا اور سائن اپ کے لیے مختلف شرائط کو پورا کرنا ہوگا۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ ٹک ٹاک نے کم عمر صارفین کے لیے محدود اور علیحدہ ایپ تجربہ فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

یعنی13 سال سے کم عمر صارفین ویڈیوز دیکھ سکیں گے مگر اس کی نگرانی کی جائے گی مگر یہ صارفین اپنی ویڈیوز پوسٹ نہیں کرسکیں گے۔

سوشل میڈیا نیٹ ورکس کی 2 روزہ ہڑتال کا حصہ بنیں گے؟

کیا آپ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر جانا پسند کرتے ہیں اور اس کے بغیر دن گزارنا مشکل لگتا ہے؟ اگر ہاں تو اگر کوئی آپ سے 48 گھنٹے کے لیے ان سے دور رہنے کا مطالبہ کرے تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا؟

درحقیقت انٹرنیٹ کے معروف ترین انسائیکلوپیڈیا وکی پیڈیا کے شریک بانی ڈاکٹر لیری سانگیر نے سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ رواں ہفتے 48 گھنٹے کے لیے ان نیٹ ورکس سے دوری اختیار کرلیں تاکہ ان کمپنیوں پر صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے کنٹرول واپس دینے کے لیے دباﺅ ڈالا جاسکے۔

وکی پیڈیا کے شریک بانی نے 4 اور 5 جولائی کو سوشل میڈیا نیٹ ورکس سے دور رہنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تبدیلی کے لیے لوگوں کا دباﺅ ان کمپنیوں پر بڑھایا جاسکے۔

انہوں نے ایک بلاگ میں لکھا ‘ہم اس حوالے سے کافی کچھ کرنے والے ہیں اور ہم سب مل کر ان بڑی کمپنیوں سے اپنے ڈیٹا کے کنٹرول کی واپسی کا مطالبہ کریں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ اس عمل میں جتنے لوگ شامل ہوں گے، اس سے اندازہ ہوگا کہ کتنے زیادہ لوگ موجودہ صورتحال سے مطمئن نہیں۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس سے بڑے سوشل نیٹ ورکس میں تبدیلیوں کے عمل کا آغاز ہوگا اور لوگوں کو اپنے ڈیٹا پر زیادہ کنٹرول مل سکے گا۔

جو لوگ اس ہڑتال کا حصہ بنیں گے انہیں ڈیکلریشن آف ڈیجیٹل انڈیپینڈنس پر سائن کا بھی کہا گیا ہے جو کہ وکی پیڈیا کے شریک بانی نے تیار کیا ہے۔

اس دستاویز میں سوشل میڈیا نیٹ ورکس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آزاد رائے، پرائیویسی اور سیکیورٹی کے حقوق کا احترام کریں اور ڈی سینٹرلائز پالیسی اختیار کریں۔

اس ہڑتال کا چرچا ریڈیٹ، ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر ہورہا ہے اور کچھ حلقوں کی جانب سے دلچسپی کا اظہار بھی کیا ہے جبکہ کچھ نے اس پر سوالات کیے ہیں۔

جیسے ایک صارف نے لکھا کہ چاہے ہر ایک اس ہڑتال کا حصہ بن جائے مگر روزانہ کے صارفین کی تعداد میں کوئی خاص فرق نہیں آئے گا۔

Google Analytics Alternative