سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

مائیکرو سافٹ سیکیورٹی ریسرچ میں پاکستانی نوجوان اشعر جاوید کی پہلی پوزیشن

نیویارک:  پاکستانی نوجوان اشعر جاوید نے دنیا بھر کے تمام آئی ٹی ماہرین کو شکست دیتے ہوئے مائیکرو سافٹ سیکیورٹی ریسرچ میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔

پاکستانی نوجوان اشعر جاوید ان دنوں جرمنی میں آئی ٹی سیکیورٹی ریسرچر کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر کے تمام آئی ٹی ماہرین کو شکست دیتے ہوئے مائیکرو سافٹ سیکیورٹی ریسرچ میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔

واضح رہے کہ مائیکرو سافٹ ہر سال دنیا بھر سے 100 نئے آئی ٹی ایکسپرٹ سیکیورٹی ریسرچر منتخب کرتا ہے جس میں دنیا بھر سے ہزاروں آئی ٹی ایکسپرٹس حصہ لیتے ہیں۔

انسٹاگرام اسٹوریز اب صرف اپنے قریبی دوستوں سے شیئر کرنا ممکن

اگر تو آپ کو یہ ڈر رہتا ہے کہ انسٹاگرام پر اپنی ذاتی زندگی کی مصروفیات اسٹوریز میں شیئر کرنے سے تمام فالورز تک اس کی رسائی ہوتی ہے تو اب اس خدشے کا حل فیس بک کی زیرملکیت اس فوٹوشیئرنگ ایپ نے پیش کردیا ہے۔

جی ہاں انسٹاگرام نے اپنے قریبی لوگوں تک مواد کو شیئر کرنا اب آسان بنادیا ہے۔

اس کمپنی نے کلوز فرینڈز کے نام سے ایک فیچر متعارف کرایا ہے جس کے تحت صارفین اسٹوریز کو چند مخصوص افراد کے ساتھ شیئر کرسکیں گے۔

انسٹاگرام بلاگ پوسٹ میں کہا گیا کہ اسٹوریز اب ایسا پلیٹ فارم بن ہے جہاں لوگ اپنے جذبات کا اظہار اور روزمرہ کی مصروفیات شیئر کرتے ہیں، مگر ہماری برادری تیزی سے پھیل رہی ہے اور کئی بار لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی ذاتی زندگی ہر ایک کے ساتھ شیئر نہ ہو۔

اسی لیے کلوز فرینڈز کو متعارف کرایا گیا جس کے تحت صارفین اپنی پسند کے افراد کے ساتھ ذاتی لمھات کو شیئر کرسکیں گے۔

خیال رہے کہ رواں سال انسٹاگرام صارفین کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کرگئی تھی اور اس میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

کلوز فرینڈز بھی اسٹوریز جیسا ہی فیچر ہے جس میں تصاویر اور ویڈیوز 24 گھنٹوں بعد غائب ہوجائیں گی، فرق بس فالورز کی تعداد کا ہوگا۔

کمپنی کے مطابق اس فیچر کی تیاری میں ایک سال سے زائد عرصہ لگا اور یہ جمعے سے دنیا بھر میں صارفین کے لیے متعارف کرا دیا گیا ہے۔

اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے آپ کو اپنے قریبی دوستوں کی فہرست تیار کرنا ہوگی۔

فوٹو بشکریہ انسٹاگرام
فوٹو بشکریہ انسٹاگرام

اس کے بعد اس فہرست میں شامل افراد کے لیے اسٹوری تیار کرکے پوسٹ کردیں، کسی صارف کو اس فہرست میں شامل کرنے پر اسے نوٹیفائیڈ نہیں کیا جائے گا۔

اس طرح کے کئی گروپس تیار کیے جاسکتے ہیں۔

فوٹو بشکریہ انسٹاگرام
فوٹو بشکریہ انسٹاگرام

اس وقت انسٹگرام پر روزانہ 40 کروڑ سے زائد افراد اسٹوریز کا فیچر استعمال کررہے ہیں اور یہ تعداد اس فیچر کی خالق ایپ اسنیپ چیٹ کے مجموعی صارفین سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔

کیا یہ ہے دنیا کا پہلا ‘حقیقی’ بیزل لیس اسمارٹ فون؟

ویوو وہ چینی کمپنی نے جس نے حقیقی معنوں میں پہلا بیزل لیس اسمارٹ فون نیکس متعارف کرایا تھا جس میں متاثکن 91.24 فہصد اسکرین ٹو باڈی ریشو، پوپ اپ کیمرہ اور ڈسپلے میں نصب فنگرپرنٹ اسکینر جیسے فیچرز دیئے تھے۔

اور اب ویوو نیکس 2 بھی سامنے آنے کے لیے تیار ہے جس میں یہ کمپنی آگے اور پیچھے ڈسپلے یعنی ڈوئل اسکرین دینے والی ہے۔

اس فون کی تصاویر لیک ہوکر سامنے آئی ہیں اور ممکنہ طور پر ویوو نیکس 2 کو دسمبر میں متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

نوبیا ایکس کی طرح نیکس 2 ڈوئل اسکرین ڈیزائن دیا جائے گا جس کا مقصد فرنٹ ڈسپلے میں اسکرین ٹو باڈی ریشو کو ہر ممکن حد تک بڑھایا جاسکے۔

یعنی پوپ اپ سیلفی کیمرے کو ختم کردیا گیا ہے بلکہ فون کو پلٹ کر سیکنڈ اسکرین کو سیلفی یا ویڈیو کال کے لیے استعمال کرنا ہوگا اور اس طرح فرنٹ کیمرے کے لیے نوچ یا بیزل کی ضرورت ہی ختم کردی گئی ہے۔

فون کے بیک پر ایک ایل ای ڈی دائرہ بھی موجود ہے جس میں 3 کیمرے دیئے گئے ہیں۔

اس رنگ کا ایک مقصد تو نوٹیفکیشنز پر جگمگانا ہے تاہم کیمروں کی تفصٰلات فی الحال سامنے نہیں آئی مگر مختلف اطلاعات کے مطابق اس میں ٹام آف فلائٹ اسکینر نامی فیچر دیا جارہا ہے جو کہ فوٹوگرافی اور اگیومینٹڈ رئیلٹی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ویوو نیکس کو رواں سال جون میں ہی فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا اور صرف 6 ماہ بعد ہی اس کا اپ ڈیٹ ورژن بھی متعارف ہونے والا ہے۔

ہر طرح کے مسائل اور مشکلات کے باوجود کائنات پھیل کیوں رہی ہے؟

ہماری کائنات پھیل رہی ہے، یہ بات تو بہت سے لوگوں نے سنی ہوگی لیکن 1990 کی دہائی میں ماہرین ایسی دریافت کرنے کو تھے جس کے بعد فلکیاتی میدان میں ایک انقلاب برپا ہوجاتا۔

ماہرین کو اس دریافت سے پہلے یہ معلوم تھا کہ یہ کائنات بگ بینگ یعنی نقطہ آغاز سے مادے اور توانائی کے تیز پھیلاؤ کے بعد وجود میں آئی ہے اور یہ خیال کیا جاتا تھا کہ آج 13 ارب سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد اس کے پھیلاؤ میں کمی دکھائی دینی چاہیے، لیکن نتائج تو کچھ اور ہی بتا رہے ہیں۔

1998میں ہونے والی اس دریافت میں ماہرین فلکیات کی بین عالمی ٹیم نے حصہ لیا جس میں امریکی آسٹرو فزسسٹ ڈاکٹر آدم ریس، آسٹریلیوی آسٹرو فزسسٹ ڈاکٹر برائن شمٹ اور ڈاکٹر سول پرلمٹر شامل تھے.

یہ سائنسدان ایک قسم کے سپرنووا، جسے سپرنووا ٹائپ ون اے کہتے ہیں، سے آنے والی روشنی کا جائزہ لے رہے تھے.

جب ایک بڑا ستارہ اپنی آخر عمر کو پہنچ جاتا ہے تو وہ زوردار دھماکے کی صورت میں پھٹ جاتا ہے اور خلاء میں اپنے اندر موجود مادے کو پھیلا دیتا ہے، جس کے بعد اسی مادے سے نئے ستارے جنم لیتے ہیں اور اس دھماکے کو فلکیاتی اصطلاح میں سپرنووا کا نام دیا جاتا ہے.

اس کی 2 اقسام ہوتی ہیں، جن میں ٹائپ ون اے اور ٹائپ 2 شامل ہیں، سپرنووا ٹائپ 2 میں ہمارے سورج سے 8 گنا بڑا ستارہ پھٹتا ہے اور بعد میں نیوٹران ستارہ یا بلیک ہول بن جاتا ہے، جبکہ ٹائپ ون اے میں ستاروں کا جوڑا موجود ہوتا ہے، جن میں ایک بونا ستارہ ہوتا ہے جبکہ اس کا ساتھی کوئی بھی دوسرا ستارہ ہوسکتا ہے۔

جب دوسرا ستارہ اپنی آخر عمر کو پہنچ جاتا ہے تو بونا ستارہ اس کی سطح سے مادہ اپنی جانب کھینچنے لگتا ہے اور جب اس بونے ستارے میں موجود مادے کی مقدار ہمارے سورج سے 1.4 گنا زیادہ ہوجاتی ہے تو یہ بونا ستارہ زوردار دھماکے کی صورت میں پھٹ جاتا ہے.

خیال رہے کہ سب سے پہلے 1929 میں مشہور سائنسدان ایڈون ہبل نے یہ دریافت کی تھی کہ کائنات پھیل رہی ہے اور اس کے بعد بہت سے مذہبی و سائنسی نظریات غلط ثابت ہوئے، اسی کائناتی پھیلاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عالمی ٹیم میں موجود ماہرین نے اس کے بارے میں تین طرح کے خیالات پیش کئے جو مندرجہ ذیل ہیں۔

1-کائنات کے پھیلنے میں کمی: اگر کائنات کے پھیلاؤ میں وقت کے ساتھ کمی واقع ہورہی ہے تو ریاضی کی مدد سے حاصل شدہ اس سپرنووا کی روشنی میں زیادتی ہوگی۔

2-کائنات کا مخصوص رفتار سے پھیلاؤ: اگر کائنات کسی مخصوص رفتار سے پھیل رہی ہے تو سپرنووا کی روشنی حساب سے حاصل شدہ روشنی کے برابر ہوگی۔

3- کائنات کے پھیلاؤ میں تیزی: اگر کائنات کے پھیلاؤ میں تیزی واقع ہورہی ہے تو سپرنووا کی روشنی حساب سے حاصل شدہ روشنی سے کم ہوگی۔

کائنات کے پھیلنے پر تحقیق کرنے والے سائنسدان خود حیران ہیں—فوٹو: پی سی او جی ڈاٹ او آر جی
کائنات کے پھیلنے پر تحقیق کرنے والے سائنسدان خود حیران ہیں—فوٹو: پی سی او جی ڈاٹ او آر جی

عالمی ٹیم نے پہلے ریاضی کی مدد سے یہ معلوم کیا کہ اس وقت یہ سپرنووا زمین سے جتنی دوری پر ہے اس حساب سے کتنی روشنی زمین تک پہنچنی چاہیے، ساتھ ہی جب اس کو بڑی دوربینوں سے دیکھا گیا تو آنے والی روشنی کی مقدار حساب لگائی گئی مقدار سے کم تھی. یہ دیکھ کر ماہرین بہت حیران ہوئے اور سوچا کہ شاید دوربین میں کسی طرح کی خرابی ہے، جس وجہ سے ڈیٹا غلط آرہا ہے، لیکن جب دوربین کا رخ اسی قسم کے دوسرے سپرنووا کی جانب گھمایا گیا تو یہ معلوم ہوا کہ یہ ڈیٹا دوربین میں موجود خراب کی نہیں بلکہ کسی حیران کر دینے والی دریافت کی نوید سنا رہا ہے.

جی ہاں! اس وقت ان ماہرین کو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ انہوں نے ایک ایسی دریافت کرلی ہے جو فلکیات کے شعبہ میں تہلکہ مچا دے گی، اس تجربے کے بعد ان 3 خیالات میں سے تیسرا خیال ثابت ہوا، جس کے مطابق کائنات کے پھیلنے میں وقت کے ساتھ ساتھ تیزی آرہی ہے، لیکن اب یہ بات قابل غور تھی کہ عام طور پر تو ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی دھماکا ہو تو وقت کے ساتھ بکھرتے مادے کی رفتار میں کمی آتی ہے اور اگر بگ بینگ کے نظریے جس کے حق میں سائنسدانوں کی اکثریت پائی جاتی ہے کو دیکھا جائے تو اس کے مطابق بھی بگ بینگ نقطہ آغاز سے کائنات کے زوردار پھیلاؤ (دھماکے) کو کہا جاتا ہے تو آج تقریبا 13 ارب سال سے زائد کے بعد تو کائنات کے پھیلاؤ میں بھی کمی واقع ہونی چاہیے جبکہ ایسا دیکھنے میں نہیں آیا.

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کیا چیز ہے جو کائنات کے پھیلاؤ میں تیزی لارہی ہے؟

اس کو سمجھنے کے لیے ان ماہرین نے ایک اور اصطلاح پیش کی، جسے فلکیات میں “ڈارک انرجی” کا نام دیا گیا.

13 ارب سال گزرنے کے باجود کائنات کا پھیلاؤ جاری ہے—فوٹو: نیو ایٹلس
13 ارب سال گزرنے کے باجود کائنات کا پھیلاؤ جاری ہے—فوٹو: نیو ایٹلس

واضع رہے کہ فلکیات میں اگر کسی بھی چیز کے ساتھ “ڈارک” کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سائنس اس چیز کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتی اور نہ ہی اس کا کبھی مشاہدہ کیا گیا ہے، لیکن اس کے اثرات کائنات میں ہر جگہ دیکھنے کو ملتے ہیں.

ڈارک انرجی کے اثرات ہمیں کائنات کے پھیلاؤ کی تیزی میں نظر آتے ہیں، اس دریافت کے تقریبا 13 سال بعد، 2011 میں ان تینوں سائنسدانوں کو اس دریافت پر نوبل انعام سے نوازا گیا.

یہ سب پڑھنے کے بعد ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ اگر ڈارک انرجی موجود ہے اور کائناتی پھیلاؤ جاری ہے تو پھر اربوں سالوں میں سورج زمین سے دور کیوں نہیں چلا گیا؟ یا پھر ستارے ابھی تک کہکشاؤں میں موجود کیوں ہیں؟ ہمیں یہ بھی ہمیں سننے کو ملتا ہے کہ ہماری مِلکی وے کہکشاں اور ہمسایہ کہکشاں اندرومیڈہ قریب آرہی ہیں، تو اس میں کتنی سچائی ہے؟

اس کا آسان جواب یہ ہے کہ اندرومیڈہ کا ہماری کہکشاں کے قریب آنے والی بات بھی اتنی ہی حقیقی ہے جتنی ڈارک انرجی سے کائناتی پھیلاؤ والی بات ہے، کائنات میں ازل سے کشش ثقل اور کائناتی پھیلاؤ کے درمیان “رسہ کشی” چلتی آ رہی ہے.

مثلا نظام شمسی میں سیارے، سورج سے جس فاصلے پر ہیں اس پر کشش ثقل کا اثر ڈارک انرجی کے اثر سے کہیں زیادہ ہے، جس کی وجہ سے یہاں ہمیں کائناتی پھیلاؤ نظر نہیں آتا جبکہ اگر ہم دور کہکشاؤں کا بغور جائزہ لیں تو یہ بات واضع ہوجاتی ہے کہ یہ کہکشائیں ہم سے اتنا دور ہیں کہ اتنی دوری پر کشش ثقل سے زیادہ ڈارک انرجی کا اثر دکھائی دیتا ہے، جس وجہ سے یہ کہکشائیں ہم سے دور جاتی دکھائی دیتی ہیں.

آخر میں میں بس یہی کہوں گا کہ سائنسدان ابھی کائنات کے سربستہ رازوں سے پردے اٹھانا شروع ہوئے ہیں اور آنے والے قابل سائنسدانوں کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ بھی کائنات کے چھپے راز سے دنیا کو آشکار کروائیں اور خلائی تسخیر میں اپنا حصہ ڈالیں۔

لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا کبھی سائنسدان کائنات کے سر بستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کے قابل ہو پائیں گے؟

اسمارٹ فون کے 5 حیرت انگیز فیچر جو اگلے سال پیش کئے جائیں گے

لندن:اسمارٹ فون ہر روز جدت سے گزررہے ہیں اور اب خیال یہ ہےکہ 2019 کا سال اس ضمن میں کئی اختراعات سے بھرپور ہوگا۔

اسمارٹ فون  کے تجزیہ کاروں کے مطابق اگلے برس اسمارٹ فون حیرت انگیز جدتوں سے مرصع ہوں گے اور ان میں زائد لینس اور کیمروں کی پیشگوئی بھی کی جارہی ہے۔ لیکن سب سے پہلے ’’ففتھ جنریشن‘‘ کا احوال سن لیجئے۔

فائیوجی فون

اگلے سال فائیوجی فون عام ہوں گے جبکہ موٹرولا نے اپنے بعض اسمارٹ فون کو فائیو جی موڈ کے ساتھ پیش کرنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔ اگرچہ فائیو جی انفراسٹرکچر پوری دنیا میں ابتدائی مراحل میں ہے لیکن اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیون نے اس کی تیاری شروع کردی ہے۔

اگلے 12 ماہ میں فائیو جی سروس جاری ہونے کا امکان تو ہے اسی بنا پر اس عرصے میں ون پلس، سام سنگ، سونی اور ہواوے نے ایسے فون لانچ کرنے کی تیاری شروع کردی ہے ۔ تاہم ایپل اور گوگل نے اب تک خاموشی نہیں توڑی ہے۔ فائیو جی سروس کے بعد فون میں ڈیٹا کی رفتار کئی گنا بڑھ جائے گی اور لوگ اس حیرت انگیز خوبی کو بہتر طور پر محسوس کریں گے۔

فولڈ ہونے والے فون

ایک ماہ قبل چین کی غیرمعروف کمپنی رویول نے فلیکس پائی کے نام سے دنیا کے پہلے فولڈ ہوجانے والے فون کی تفصیلات دیتے ہوئے دسمبر 2018 میں اس کی فروخت کا اعلان کیا تھا۔

اس کے بعد سام سنگ نے اپنے فولڈ ہوجانے والے فون کی تفصیلات جاری کیں اور اگلے برس کئی کمپنیاں ایسے اسمارٹ فون پیش کریں گی جو کھل کر ٹیبلٹ اور بند ہوکر ایک فون کے برابر رہ جائیں گے۔ ہواوے کے سی ای او رچرڈ یو نے بھی کہا ہے کہ وہ 2019 میں اپنا پہلا تہہ ہوجانے والا اسمارٹ فون فروخت کریں گے۔

کناروں تک ڈسپلے اور نوچ کا ارتقا

قارئین کو یاد ہوگا کہ ایک سال قبل بیزل لیس اسمارٹ فون کا بہت چرچا تھا یعنی فون کے ڈسپلے میں کم سے کم جگہ رکھی جائے اور اوپر تھوڑی سی جگہ پر سینسرز اور فرنٹ کیمرہ لگادیا جائے لیکن وہ بہت کامیاب نہ ہوا ۔ اس کے بعد ایپل نے ایک آپشن متعارف کرایا جس میں اسکرین ڈسپلے کو بڑھایا گیا اور اوپر تھوڑی سی جگہ پر سارے سینسر اور کیمرے سمودیئے گئے۔ ایپل نے اسے نوچ کا نام دیا۔

نوچ ایپ ایک طرح کا وال پیپر ہی ہے اور اس کی مقبولیت کے بعد پورا فون قریباً اسکرین ہی دکھائی دیتا ہے۔ اس کی مقبولیت کے بعد اینڈرائڈ فون میں بھی نوچ کے آپشن شامل کئے گئے۔ اب ہر جدید اینڈرائڈ فون میں بھی نوچ دیکھا جاسکتا ہے۔ اگلے سال اس نوچ مزید فیشن میں شامل ہوگا۔ اس کا ذیادہ تعلق ڈسپلے سے ہے جس سے اسمارٹ فون فل اسکرین دکھائی دیتا ہے۔

اس ضمن میں تمام کمپنیاں کوشش کررہی ہیں جبکہ ون پلس سکس ٹی کمپنی کے فون میں نوچ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہواوے بھی اس دوڑ میں شامل ہے اور اگلے برس نوچ کا رحجان برقرار رہے گا۔ دوسری جانب فرنٹ کیمرے کو بھی چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس میں کچھ کامیابی ملی ہے۔

کیمرہ لینسوں کی بھرمار

سام سنگ اے نائن نے اپنے فون میں چار لینس لگادیئے ہیں اور اگلے سال ان کی تعداد بڑھتی جائے گی بلکہ شاید آپ 12 یا 16 لینس والے فون بھی دیکھ سکیں گے۔ ایل جی نے بھی 16 لینس والے کیمرے کی خبر دی ہے۔

لیکن اتنے لینس والے فون کس کام کے ہیں؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ لینس کے اضافے سے تصویر میں گہرائی پیدا ہوتی ہے اور نئے زاویوں سے تھری ڈی ویڈیو اور تصاویر بنانے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ اسمارٹ فون سے سیلفی اور تصاویر کا رحجان اب بھی تازہ ہے اور اسی بنا پر اگلے برس بہت سے لینس والے فون عام ہوں گے۔

مصنوعی ذہانت میں اضافہ

آئی فون میں اے 12 بایونک چپ کے اضافے سے مصنوعی ذہانت یا آرٹیفشل انٹیلی جنس (اے آئی) کا عنصر اسمارٹ فون میں شامل ہوگیا ہے۔

اگلے سال ایسے فون بازار میں مل سکیں گے جو تصویر دیکھ کر ایک کتے یا بلی کے درمیان تمیز کرسکیں گے اور یہ سب کچھ مصنوعی ذہانت کی بدولت ممکن ہوگا۔ اسی طرح آگمینٹیڈ ریئلٹی کے فیچرز بھی بہت بہتر ہوتے جائیں گے۔ اسی طرح گوگل اسسٹنٹ اور دیگر سافٹ ویئر بھی بہتر ہوں گے۔

سام سنگ اور ہیواوے کے درمیان دلچسپ جنگ

چینی کمپنی ہیواوے اور سام سنگ کے درمیان لگتا ہے کہ فولڈ ایبل اسمارٹ فونز متعارف کرانے کی جنگ کے ساتھ اب دنیا کے پہلے ڈسپلے ہول کیمرے والی ڈیوائسز کو پہلے پیش کرنے کا مقابلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔

سام سنگ کی جانب سے اس طرح کا فون گلیکسی اے 8 کی شکل میں دسمبر کے آخر تک متعارف کرائے جانے کا امکان ہے مگر اب ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہیواوے جنوبی کورین کمپنی سے پہلے اس قسم کی ڈیوائس پیش کرسکتی ہے۔

موبائل فونز کمپنیوں کی لیکس سامنے لانے والے معروف ٹوئٹر اکاﺅنٹ آئس یونیورس نے ہیواوے کے ایک ایسے اسمارٹ فون کی تصویر پوسٹ کی ہے جس میں فرنٹ کیمرہ ڈسپلے میں ایک ہول میں دیا گیا ہے۔

اس تصویر میں ہیواوے کا لوگو ٹاپ پر موجود ہے تاہم دیگر تفصیلات فی الحال سامنے نہیں آسکی ہیں، مگر یہ ممکنہ طور پر نووا 4 ہے۔

ٹوئیٹ کے مطابق چینی کمپنی اس فون کو تیار کررہی ہے اور تصویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فل اسکرین ہونے کے ساتھ نوچ سے پاک ہوگا۔

اس کے بائیں کونے میں یک گول سوراخ موجود ہے جس میں سے لائٹ کارج ہورہی ہے اور اس میں یہ ان ڈسپلے کیمرہ دیا جائے گا۔

ہیواوے کے اس فون کی تیاری کی خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب سام سنگ کے اسی طرح کے ڈیزائن والے گلیکسی اے 8 کی لیک تصاویر کچھ عرصے پہلے سامنے آئیں۔

گلیکسی اے 8 میں انفٹنی او ڈسپلے متعارف کرائے جانے کا امکان ہے جو کہ اس جنوبی کورین کمپنی نے کچھ عرصے پہلے پیٹنٹ کرایا تھا۔

گلیکسی اے 8 کا کانسیپٹ ڈیزائن— فوٹو بشکریہ AllAboutSamsung
گلیکسی اے 8 کا کانسیپٹ ڈیزائن— فوٹو بشکریہ AllAboutSamsung

گلیکسی اے 8 کی لیک تفصیلات کے مطابق اس فون میں 6.4 انچ ڈسپلے دیا جائے گا، اسنیپ ڈراگون 710 پراسیسر، سام سنگ کا ون یو آئی سسٹم کو اینڈرائیڈ 9 سے ملایا جائے گا جبکہ 3400 ایم اے ایچ بیٹری بھی موجود ہوگی۔

یہ فون ممکنہ طور پر 6 جی بی ریم، 128 جی بی اسٹوریج ہوگی جس میں ایس ڈی کارڈ سے 256 جی بی تک اضافہ کیا جاسکے گا۔

گلیکسی اے 8 کے بیک پر 3 کیمرے دیئے جانے کا بھی امکان ہے جس میں سے ایک 24 میگاپکسل، دوسرا 10 میگاپکسل جبکہ تیسرا 5 میگا پکسل کا ہوگا جبکہ فرنٹ ہول میں 24 میگا پکسل سیلفی کیمرہ دیا جائے گا۔

فیس بک صارفین کیلئے نئی پریشانی،سالوں پرانے پیغامات موصول ہونے لگے

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر سالوں پرانے پیغامات دوبارہ موصول ہونے لگے۔

فیس بک انتظامیہ نے میسنجر میں پرانے پیغامات دوبارہ بھیجے جانے کی شکایات موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔

اکثر فیس بک صارفین نے ٹوئٹر پر فیس بک پر ظاہر ہونے والے سالوں پرانے پیغامات ان ریڈ (نہ پڑھا ہوا) ظاہر ہونے سے متعلق شکایت کی اور اسے صارفین کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بھی قرار دیا۔تھا۔

دی ورج کی رپورٹ کے مطابق فیس بک کے ترجمان نے بتایا کہ ’ بعض افراد کو فیس بک پر پرانے پیغامات دوبارہ موصول ہوئے ہیں ، ہم اس مسئلے سے آگاہ ہیں اور اسے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’صارفین کو مشکلات پیش آنے پر ہم معذرت کرتے ہیں‘۔

تاہم بعض صارفین نے اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا کہ پرانے پیغامات دوبارہ موصول ہونے سے ثابت ہوتا ہے کہ صارفین کی جانب سے سالوں پرانی میسنجر پر کی گئی ذاتی نوعیت کی بات چیت کو فیس بک محفوظ رکھتا ہے۔

فیس بک میسنجر میں یہ نیا مسئلہ ان افراد کے لیے کسی بڑے صدمے سے کم نہیں جن کے خاندان کا کوئی فرد یا کوئی دوست انتقال کرچکا ہو اور ان کے پرانے میسیجز دوبارہ موصول ہورہے ہوں۔

ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ فیس بک حادثاتی طور پرصارفین کے سامنے ان کا ماضی سامنے لارہی ہے بلکہ اس سے قبل 2015 میں فیس بک آن دز ڈے نامی فیچر کے ذریعے لوگوں کی پرانی دردناک یادوں کو سامنے لے آئی تھی۔

یہ مسئلہ اس الگورتھم کی وجہ سے ہوا تھا جسے خوشی یا غم کی پوسٹس میں فرق کرنے کا طریقہ درج نہیں کیا گیا تھا۔

تاہم اس مرتبہ یہ کسی کوڈ کی ناکامی کے بجائے انسانی سمجھ بوجھ کی ناکامی ہے اور اس ’بگ‘ کی شکایت کرنے والے اکثر افراد اسے سماجی ویب سائٹ کے ایک پیچیدہ اور انوکھے مسئلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس کی وضاحت نہیں کی جاسکتی ۔

منگل (27 نومبر) کی شام میں فیس بک انتظامیہ نے کہا کہ میسنجر سے متعلق مسئلہ حل ہوگیا ہے جو کہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کی وجہ سے پیش آیا تھا۔

فیس بک ترجمان نے بتایا کہ ’بعض افراد کو فیس بک کی جانب سے پرانے پیغامات دوبارہ بھیجے گئے تھے، یہ مسئلہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کی وجہ سے ہوا تھا اور اسے حل کیا جاچکا ہے، صارفین کو مشکلات پیش آنے پر ہم معذرت خواہ ہیں‘۔

پاکستانی کمپنی کے چیٹ بوٹ ’عورت راج‘ نے بیفٹا ایوارڈ جیت لیا

کراچی:پاکستان میں قائم ایک سماجی کمپنی (entrepreneur) ’عورت راج‘ کی جانب سے تیارکردہ ایک خاص چیٹ بوٹ کو بیفٹا ایوارڈ سے نواز گیا ہے۔

واضح رہے کہ عورت راج کی بنیاد پاکستانی خاتون صبا خالد اور جرمنی سے تعلق رکھنے والے ماہر ٹینو ہان نے رکھی ہے جسے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کہا جاسکتا ہے۔ خواتین کے تحفظ، حقوق، ناانصافی کے خاتمے اور تعلیم کے کئی پروگراموں کے علاوہ عورت راج نے ایک ورچول (مجازی) کردار تخلیق کیا ہے جسے ’راجی‘ کا نام دیا گیا ہے۔

راجی چیٹ بوٹ ونڈو میں جنسی ، تولیدی صحت، مدد اور ناانصافی کے خاتمے کے متعلق سوالات کسی بھی وقت ٹائپ کرکے فوری مدد اور رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے تاہم یہ چیٹ بوٹ انگریزی میں ہے جبکہ پاکستانی خواتین کی اکثریت اردو میں ہی پڑھ اور لکھ سکتی ہے۔

عورت راج کو بیفٹا ایوارڈز کی تقریب میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) مستقبل کے استحکام کے زمرے میں نامزد کیا گیا ہے۔ راجی پر بنی چھوٹی اینی میشن فلم ’ دی الٹی میٹ سروائیور‘ کو گلوبل سسٹین ایبلٹی فلم ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ یہ فلم ایوارڈ ایسے ادارے یا کمپنیوں کو دیا جاتا ہے جو پائیدار ترقی کے لیے حل پیش کرتے ہیں۔

اس موقع پر صبا خالد نے ایوارڈ کی تصویر بھی ٹویٹ کی ہے۔ واضح رہے کہ فلم ایوارڈ کے مقابلے کا اعلان اس سال 11 مئی کو کیا گیا تھا اور اس ضمن میں بیفٹا کی شاندار تقریب 26 نومبر کو لندن کے مشہور علاقے پکاڈلی میں منعقد کی گئی تھی۔

Google Analytics Alternative