سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

2019 کے نئے آئی فونز کا نام کیا ہوگا؟

ایسا لگتا ہے کہ ایپل کے نئے آئی فونز کے حوالے سے کافی تفصیلات لیک ہوکر سامنے آچکی ہیں جو کہ 10 ستمبر کو متعارف کرایا جارہا ہے۔

مگر ایک چیز اب بھی ایسی ہے جس کے بارے میں کسی بھی لیک یا رپورٹ میں کوئی حتمی بات سامنے نہیں آسکی اور وہ ہے ان آئی فونز کے نام۔

ایپل نے 2017 میں آئی فون سیریز کے 10 سال مکمل ہونے پرآئی فون 8 کے بعد نام کو تبدیل کرکے ایکس (10) کو اپنایا تھا، جس کے بعد گزشتہ سال آئی فون ایکس آر، ایکس ایس اور ایکس ایس میکس پیش کیے گئے۔

اور اب 2019 میں آئی فون سیریز کے لیے کمپنی نے کیا سوچا ہے ؟ پہلے کہا جارہا تھا کہ یہ آئی فون 11، آئی فون 11 پرو اور آئی فون 11 پرو میکس ہوگا۔

مگر اب ایک نئی لیک کو مانا جائے تو اس بار یہ کمپنی آئی فون 11، آئی فون 11 پرو اور آئی فون 11 آر متعارف کرانے والی ہے۔

جیسا ناموں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آئی فون 11 آر، ایکس آر کی جگہ لے گا، جبکہ آئی فون 11 اور 11 پرو ایکس ایس اور ایکس ایس میکس کے جانشین ہوں گے۔

ویسے ایپل کی جانب سے رومن ہندسوں یعنی ایکس کو چھوڑ کر ایک بار پھر عام نمبروں کی جانب جانا حیران کن نہیں کیونکہ گوگل بھی اینڈرائیڈ سسٹم کے حوالے سے اب اینڈرائیڈ 10 کے نام سے نیا آپریٹنگ سسٹم متعارف کراچکا ہے اور کسی میٹھے پکوان کا انتخاب چھوڑ دیا ہے تاکہ لوگ زیادہ آسانی سے اسے قبول کرسکیں۔

یہ نئی لیک ایپل کی جانب سے 10 ستمبر کو نئے آئی فونز متعارف کرانے سے پہلے سامنے آئی ہے۔

اس سے پہلے سامنے آنے والی لیکس کے مطابق آئی فون 11 سیریز کے نئے فیچرز میں ریورس وائرلیس چارجنگ، ایپل پینل سپورٹ (ٹاپ اینڈ ماڈل کے لیے) اور پہلی بار 3 بیک کیمروں کا سیٹ اپ نمایاں ہوں گے۔

آئی فون 11 آر میں 6.1 انچ ایل سی ڈی اسکرین دی جائے گی اور سب سے بڑی تبدیلی بیک پر ایک کی بجائے 2 کیمروں کی موجودگی ہوگی، جن میں سے ایک ٹیلی فوٹو لینس ہوگا جبکہ چند نئے رنگ بھی پیش کیے جائیں گے۔

آئی فون 11گزشتہ سال کی طرح 5.8 انچ جبکہ آئی فون 11 پرو 6.5 انچ کے او ایل ای ڈی ڈسپلے سے لیس ہوگا اور ان میں پہلی بار یہ کمپنی بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ دے گی۔

ان فونز میں پہلے سے زیادہ طاقتور اے 13 پراسیسر دیا جائے گا جبکہ تیز فیس آئی ڈی، ریورس وائرلیس چارجنگ اور زیادہ بہتر واٹر ریزیزٹنس خصوصیات دی جائیں گی۔

گزشتہ سال آئی فون ایکس ایس اور ایکس ایس میکس کی قیمت بالترتیب 999 اور 1099 ڈالرز سے شروع ہوئی تھی، مگر اس سال امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ کے نتیجے میں قیمت پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہوسکتی ہے اور اس طرح یہ تاریخ کے مہنگے ترین آئی فونز بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

سام سنگ نے خاموشی سے ‘سستا’ فائیو جی فون متعارف کرادیا

سام سنگ کی جانب سے رواں سال 2 فائیو جی اسمارٹ فونز گلیکسی ایس 10 فائیو جی اور گلیکسی نوٹ 10 فائیو جی متعارف کرائے جاچکے ہیں، مگر اب خاموشی سے اس نے ایک نیا اور مناسب قیمت والی ڈیوائس بھی پیش کردی ہے۔

جی ہاں سام سنگ نے اپنا سب سے سستا فائیو جی فلیگ شپ فون گلیکسی اے 90 متعارف کرا دیا ہے۔

ویسے تو کمپنی کی جانب سے اس کی قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا، مگر یہ فون گلیکسی ایس 10 اور گلیکسی نوٹ 10 جتنا مہنگا نہیں ہوسکتا کیونکہ فیچرز کے لحاظ سے ان سے کمتر ہے۔

اس میں 6.7 انچ کا فل ایچ ڈی پلس انفٹنی یو او ایل ای ڈی ڈسپلے دیا گیا ہے جبکہ باقی دونوں میں خم اسکرین کے ساتھ ہول پنچ سیلفی کیمرے موجود ہیں۔

اے 90 میں فنگرپرنٹ سنسر اسکرین کے اندر دیا گیا ہے جبکہ 2 ڈی چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی بھی موجود ہے۔

اس کے بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ ہے جس میں 48 میگا پکسل مین کیمرا، 8 میگا پکسل الٹرا وائیڈ لینس اور 5 میگا پکسل ڈیپتھ لینس ہے جبکہ فرنٹ پر 32 میگا پکسل کیمرا دیا گیا ہے۔

اس میں اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر دیا گیا ہے جو فائیو جی سپورٹ رکھتا ہے جبکہ 6 سے 8 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج دی جائے گی۔

فوٹو بشکریہ سام سنگ
فوٹو بشکریہ سام سنگ

حیران کن طور پر 6 جی بی ریم والے ورژن میں مائیکرو ایس ڈی کارڈ سپورٹ ہے جبکہ 8 جی بی ریم والے ماڈل میں نہیں۔

جہاں تک بیٹری کی بات ہے تو 4500 ایم اے ایچ بیٹری 25 واٹ فاسٹ چارجنگ سپورٹ کے ساتھ دی گئی ہے مگر وائرلیس چارجنگ نہیں دی گئی۔

اس فون میں ہیڈفون جیک نہیں دیا گیا اور یہ آئندہ چند ہفتوں میں مختلف ممالک میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا، جب ہی اس کی قیمت سامنے آئے گی۔

اب تک کی سب سے تیز رفتار اور مضبوط ہائبرڈ ’لامبور گینی‘ تیار

اسپورٹس و نایاب کاریں بنانے والی اٹلی کی کمپنی ’لامبور گینی‘ نے اب تک کی دنیا کی سب سے مضبوط اور سب سے تیز رفتار ہائبرڈ کار تیار کرلی۔

لامبور گینی کی جانب سے تیار کی گئی ہائبرڈ کار کو آئندہ ہفتے جرمنی کے شہر ’فرینکفرٹ‘ میں ہونے والے آٹو شو میں متعارف کرایا جائے گا۔

یہ کار محض تین سیکنڈ میں 60 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار پکڑتی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس گاڑی کو دنیا کی اب تک کی تیار کی جانے والی ہائبرڈ گاڑیوں میں سب سے مضبوط قرار دیا گیا ہے۔

سیان نامی کار کی رفتار 217 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوگی—فوٹو: لامبور گینی
سیان نامی کار کی رفتار 217 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوگی—فوٹو: لامبور گینی

لامبور گینی کے مطابق دنیا کی سب سے تیز رفتار ہائبرڈ کار کی سب سے زیادہ اسپیڈ 217 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوگی۔

کمپنی نے اس نئی کار کو ’سیان‘ کا نام دیا ہے اور گاڑی پر یہ نام اٹلی کے ایک گاؤں کے نام پر رکھا گیا ہے۔

لامبور گینی کمپنی اس کار کی محض 63 کاریں تیار کرے گی جو پہلے ہی فروخت ہو چکی ہیں۔

کار کو آئندہ ہفتے متعارف کرایا جائے گا—فوٹو: لامبور گینی
کار کو آئندہ ہفتے متعارف کرایا جائے گا—فوٹو: لامبور گینی

کمپنی کی جانب سے 1963 میں کاریں بنانے کے آغاز کے وقت بھی اسی طرح کم تعداد میں گاڑیاں بنائی گئی تھیں اور اب 65 سال بعد کم تعداد میں گاڑیاں بنائی جا رہی ہیں۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ کار ہائبرڈ سسٹم کے ذریعے انتہائی کم وقت میں بجلی پیدا کرتی ہے اور اس سسٹم کے لیے کار میں سپر کیپیسٹر نصب کیے گئے ہیں جو ایک بار بریک لگانے پر بھی چارج ہوجاتے ہیں۔

یہ واضح نہیں ہے کہ اس کار کی قیمت کیا ہے، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کار کی قیمت لاکھوں ڈالر میں ہوگی۔

کمپنی نے اس گاڑی کی محض 63 کاریں تیار کی ہیں—فوٹو: لامبور گینی
کمپنی نے اس گاڑی کی محض 63 کاریں تیار کی ہیں—فوٹو: لامبور گینی

دیواروں پر چڑھنے کے قابل ’’جونک روبوٹ‘‘ بنالیا گیا

کیمبرج: جاپانی اور برطانوی انجینئروں نے ایک ایسا انوکھا روبوٹ ایجاد کرلیا ہے جس کا جسم کسی جونک کی طرح لچک دار اور خم کھانے کے قابل ہے جبکہ وہ کسی دیوار پر چپک کر چڑھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

ایسے روبوٹ کا تصور پہلے پہل تویوہاشی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، جاپان کے ایاتو کناڈا نے پیش کیا جسے انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی کی فومیا ایڈا کے تعاون سے عملی جامہ پہنایا۔ اس روبوٹ کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’سافٹ روبوٹکس‘‘ میں شائع ہوئی ہیں جبکہ کیمبرج یونیورسٹی کی جانب سے اس کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے:

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس روبوٹ کی تیاری میں ویسا ہی لچک دار اور منقسم (segmented) پائپ استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ غسل خانوں میں عام استعمال ہوتا ہے۔ اس کے لچک دار اور بل دار جسم کے آخری سرے پر ایک سکشن کپ لگا ہے جو اسے دیوار سے چپکنے اور تھوڑا تھوڑا کرکے اوپر چڑھنے میں مدد دیتا ہے۔

جونک سے مشابہت کی بنیاد پر اس کے نام کا مخفف بھی ’’لیچ‘‘ (LEeCH) رکھا گیا ہے جو ایک ایسے روبوٹ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو نہ صرف لچکدار ہو بلکہ ضرورت پڑھنے پر اپنی لمبائی میں اضافے یا کمی کرنے کے قابل بھی ہو اور دیواروں پر بھی چڑھ سکتا ہو۔

ابھی یہ روبوٹ ابتدائی مرحلے پر ہے جسے امدادی کارروائیوں میں استعمال کےلیے مزید بہتر بنانے کا کام جاری ہے۔

ہواوے کے نئے فلیگ شپ فونز 19 ستمبر کو متعارف ہوں گے

اس ماہ صرف ایپل کے نئے آئی فونز ہی متعارف نہیں ہورہے بلکہ چینی کمپنی ہواوے بھی اپنے نئے فلیگ شپ میٹ 30 سیریز کے فونز پیش کرنے والی ہے۔

کمپنی کی جانب سے باضابطہ طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ جرمن شہر میونخ میں 19 ستمبر کو میٹ 30 سیریز کے فونز متعارف کرائے جارہے ہیں۔

اس حوالے سے کمپنی نے ایک مختصر ویڈیو ٹوئیٹ کی جس میں میٹ 30 اور میٹ 30 پرو کے کیمرا سسٹم پر زور دیا گیا ہے، جو اس لیے حیران کن نہیں کیونکہ گزشتہ سال کے میٹ 20 کو اس کے بہترین کیمرا سسٹم کے باعث ہی سراہا گیا تھا۔

مگر ٹوئیٹ میں ایونٹ کی ٹیگ لائن ‘ری تھنک پاسبلٹیز’ سے عندیہ ملتا ہے کہ اس بار ہواوے کے فلیگ شپ فونز گوگل کے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کے اہم پہلوﺅں کو استعمال کرنے سے قاصر ہوں گے۔

گزشتہ ہفتے گوگل کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ ہواوے پر عائد امریکی پابندی کے حوالے سے ریلیف دینے والے عارضی لائسنس کا اطلاق اس کمپنی کی نئی مصنوعات میں نہیں ہوتا اور ممکنہ طور پر وہ میٹ 30 سیریز میں گوگل پلے اسٹور، گوگل ایپس اور لائسنس اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم استعمال نہیں کرسکے گی۔

گوگل نے بعد ازاں وضاحت کی تھی کہ ہواوے اینڈرائیڈ کو استعمال کرسکے گی کیونکہ یہ ایک اوپن سورس آپریٹنگ سسٹم ہے مگر اس کے باوجود ایسا ممکن ہے کہ اس میں لائسنس گوگل ایپس نہ ہوں۔

اب تک امریکی محکمہ تجارت کو ہواوے کے ساتھ کاروبار کی خواہشمند کمپنیوں کی جانب سے لائسنس کے لیے 130 سے زائد درخواستیں موصول ہوچکی ہیں، مگر کسی ایک کی بھی فی الحال منظوری نہیں دی گئی۔

میٹ 30 سیریز کے فونز کے حوالے سے غیریقینی صورتحال پر ہواوے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کمپنی اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کا استعمال اس صورت میں جاری رکھے گی جب امریکی حکومت کی جانب سے اس کی اجازت دی جائے گی، دوسری صورت میں ہم اپنے آپریٹنگ سسٹم اور ایپس کی تیاری کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

فیس بک کا اپنا مقبول ترین فیچر ختم کرنے کا فیصلہ

جب آپ فیس بک پر کچھ پوسٹ کرتے ہیں تو کیا توقع رکھتے ہیں؟ یقیناً زیادہ سے زیادہ لائیکس کی۔

مگر دنیا کی مقبول ترین سماجی رابطے کی ویب سائٹ نے صارفین کی نیوزفیڈ پوسٹس پر لائیکس کی تعداد کو لوگوں کی نظروں سے چھپانے پر غور شروع کردیا ہے۔

جی ہاں واقعی فیس بک کی جانب سے انسٹاگرام کی طرح پوسٹس پر لائیکس کی تعداد کو چھپانے پر غور کیا جارہا ہے۔

ایپ ریسرچر جین مین چون وونگ نے فیس بک کی اینڈرائیڈ ایپ کے اندر ایک کوڈ دریافت کیا ہے جو کہ کسی پوسٹ پر لائیکس کی تعداد چھپانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، بس پوسٹ کرنے والا ہی جان سکے گا کہ کسی پوسٹ پر کتنے لائیکس ملے۔

دیگر صارفین کے سامنے کچھ ری ایکشن ایموجی ہوں گے اور یہ لکھا ہوگا کہ لائیک بائی اے فرینڈ اینڈ ادرز۔

فیس بک نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ لائیکس کی تعداد چھپانے کے حوالے سے ٹیسٹ پر غور کررہی ہے تاہم ابھی اس پر کام شروع نہیں کیا گیا۔

یہ کہنا غلط نہیں کہ فیس بک کی مقبولیت میں لائیک بٹن کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور اس کے بغیر یہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ادھوری سمجھی جاسکتی ہے۔

یہ فیچر لگ بھگ ایک دہائی سے فیس بک کا مرکزی حصہ ہے مگر حالیہ برسوں میں صارفین کی جانب سے شکایت کی جارہی تھی کہ اس سے ان کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں اور انہیں ہر وقت فکررہتی ہے کہ ان کی پوسٹس پر مناسب تعداد میں لائیکس ملنے چاہیے۔

درحقیقت بیشتر افراد تو اس خوف سے ہی پوسٹ نہیں کرتے کہ انہیں لائیکس نہیں مل سکیں گے یا زیادہ لائیکس نہ ملنے پر پوسٹس کو ڈیلیٹ کردیا جاتا ہے۔

جسٹن روزینسٹین نامی انجینئر نے یہ فیس بک فیچر 2007 میں تشکیل دیا تھا۔

تاہم 2017 میں انہوں نے کہا تھا کہ فیس بک لائیکس ایک ایسا فیچر ہے جو لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتا ہے اور غیرارادی طور پر کیے جانے والے کلک سے منفی نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔

اسی چیز کو دیکھتے ہوئے انسٹاگرام میں بھی کئی ممالک میں اس وقت لائیکس کی تعداد چھپانے کے فیچر کی آزمائش ہورہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ کافی کامیاب بھی ثابت ہوئی ہے کیونکہ اسے دیگر ممالک تک توسیع دی جارہی ہے۔

اب اگر فیس بک میں لائیکس چھپانے کے فیچر کو کامیابی ملتی ہے تو اس کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ لوگوں کی جانب سے زیادہ پوسٹس کی جائیں گی اور وہ اس سائٹ پر زیادہ وقت بھی گزاریں گے، جو اس کمپنی کی خواہش بھی ہے۔

چند سیکنڈز میں حقیقت کے قریب تر جعلی ویڈیوز بنانے والی ایپ

انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے اس دور میں کسی بھی واقعے کی جعلی ویڈیوز اور تصاویر کو وائرل کرنا کوئی نئی بات نہیں۔

تاہم گزشتہ 2 سال میں ’ٹک ٹاک، ڈیپ فیک اور حال ہی میں مشہور ہونے والی ’فیس ایپ‘ کے بعد انٹرنیٹ پر جعلی اور غلط مواد کے پھیلنے میں اضافہ دیکھا گیا۔

لیکن اب چینی کمپنی نے انٹرنیٹ پر جعلی مواد کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرنے والی ایک اور نئی ایپلی کیشن تیار کرلی، جس کے ریلیز کے چند گھنٹوں بعد ہی اسے سیکیورٹی رسک قرار دے دیا گیا۔

جی ہاں، چین میں ’ٹنڈر‘ کے چینی ورژن کی ڈیٹنگ ایپلی کیشن بنانے والے گروپ مومو کی جانب سے ’زاؤِ’ نامی ایپلی کیشن کو سیکیورٹی مسئلہ قرار دے کر اس پر پابندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

ٹیکنالوجی ادارے ’ٹیک کرنچ‘ کے مطابق ’زاؤ‘ نامی ڈیپ فیک جیسی ٹیکنالوجی پر مبنی ایپ کو ابتدائی طور پر چند دن قبل صرف چین میں ہی متعارف کرایا گیا تھا، جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر مقبول ہوگئی۔

اس ایپلی کیشن کو چین میں’آ او ایس‘ کے ایپ اسٹور پر متعارف کرایا گیا اور اسے متعارف کرائے جانے کے بعد ہی ریکارڈ تعداد میں ڈاؤن لوڈ کیا گیا۔

چین میں چند گھنٹوں میں مقبولیت حاصل کرنے کے بعد اسے جاپان، جنوبی کوریا اور بھارت سمیت ایشیا کے دیگر چند ممالک میں بھی متعارف کرایا گیا اور وہاں بھی اس ایپ نے مقبولیت حاصل کرلی۔

شکایات کے بعد چین میں اس ایپ کی ڈاؤن لوڈنگ بند کردی گئی—اسکرین شاٹ
شکایات کے بعد چین میں اس ایپ کی ڈاؤن لوڈنگ بند کردی گئی—اسکرین شاٹ

یہ ایپ بھی دیگر ایپلی کیشن کی طرح مفت ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد اور اس پر صارف کی جانب سے اکاؤنٹ بنائے جانے کے بعد کام کرتی ہے۔

صارف کو اکاؤنٹ بنانے کے لیے اپنا ای میل اور فون نمبر ایپلی کیشن کو فراہم کرنا پڑتا ہے۔

یہ ایپلی کیشن کسی بھی صارف کی محض ایک ہی سیلفی سے اس کی مرضی کی ویڈیوز کو 8 سیکنڈ یا اس سے بھی کم وقت میں تخلیق دیتی ہے۔

یہ ایپ صارف کو ہزاروں ویڈیوز تک رسائی دے کر اسے اپنی مرضی کی ویڈیو منتخب کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے اور صارف اپنی مرضی کی کوئی بھی ویڈیو منتخب کرکے اپنی ایک سیلفی اپ لوڈ کرتا ہے اور اگلے 8 سیکنڈ میں وہ اس ویڈیو کا مرکزی کردار ہوتا ہے۔

یہ ایپلی کیشن صارف کی سیلفی کو ویڈیوز میں منتخب کیے گئے کردار یا شخص کے چہرے میں بدل دیتی ہے اور ایپ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی مدد سے حقیقت سے قریب تر ایسی ویڈیوز بناتی ہے جنہیں دیکھ کر یہ گمان ہی نہیں ہوتا کہ وہ جعلی ہیں۔

یہ ایپ ایک سیلفی پر حقیقت سے قریب تر ویڈیو بنا دیتی ہے—اسکرین شاٹ
یہ ایپ ایک سیلفی پر حقیقت سے قریب تر ویڈیو بنا دیتی ہے—اسکرین شاٹ

ایپلی کیشن کو متعارف کرائے جانے کے بعد درجنوں چینی افراد نے اس ایپ کو استعمال کرتے ہوئے ہولی وڈ فلموں کے مشہور کلپس کی ویڈیوز بنائیں، جن میں چینی افراد کو ہولی وڈ کے معروف اداکاروں کی جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی ایپ کو استعمال کرتے ہوئے ایک چینی نوجوان نے ہولی وڈ اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو کے فلمی مناظر میں خود کو پیش کیا جب کہ ایک لڑکی نے ہولی وڈ اداکارہ کیٹ ونسلیٹ کی جگہ خود کو پیش کیا۔

ان کے علاوہ دیگر کئی افراد نے بھی اس ایپ کا استعمال کرتے ہوئے ہولی وڈ فلموں کے سین میں چینی چہروں کو شامل کرکے ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔

صارفین نے اس ویڈیو کو ’ڈیپ فیک‘ کی بہترین ایپ قرار دیتے ہوئے اسے سیکیورٹی کے لیے رسک قرار دیا اور ہزاروں افراد نے اس ایپ کو رپورٹ کرنا شروع کیا جس کے بعد ابتدائی طور پر ان ویڈیوز کو ایپ اسٹور سے ہٹالیا گیا، تاہم یہ ایپ کچھ ممالک میں اب بھی کام کر رہی ہے۔

ایپل کے ایک ارب آئی فون صارفین پر ہیکرز کے حملے کا انکشاف

ایپل کے آئی فون کو سیکیورٹی کے لحاظ سے بہترین سمجھا جاتا ہے تو یہ ان ڈیوائسز کو استعمال کرنے والے کروڑوں افراد کے لیے گوگل نے ایک دھچکا پہنچا دینے والی رپورٹ جاری کی ہے۔

درحقیقت گوگل کے سیکیورٹی محققین نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے رواں سال کے شروع میں آئی فونز میں ایسی کمزوری دریافت کی تھی، جس کے باعث ان ڈیوائسز سے مخصوص ویب سائٹس پر جانے سے ہی انہیں ہیک کیا جاسکتا ہے۔

اور یہ بہت بڑے پیمانے پر ہوا جو کہ ایپل کے مشہور زمانہ اسمارٹ فون کے تمام صارفین کے لیے بہت زیادہ باعث تشویش ہے۔

گوگل محققین کے مطابق کسی ویب سائٹ پر وزٹ کرنے پر ہی نامعلوم عناصر انہیں خاموشی سے ہیک کرلیتے اور وہ انکرپٹڈ پیغامات جیسے واٹس ایپ، آئی میسج اور ٹیلیگرام سمیت دیگر تک رسائی کرلیتے۔

رپورٹ کے مطابق ان ویب سائٹس پر جانے کے بعد ہیکرز کی جانب سے آئی فون میں ایک مانیٹرنگ امپلانٹ انسٹال کردیا جاتا جس کو تمام ڈیٹا بیس فائلز تک رسائی ہوتی، جن میں تصاویر، ویڈیوز اور اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ ایپس کا ڈیٹا شامل تھا۔

اس امپلانٹ کی بدولت یہ ہیکرز جی میل اور گوگل ہینگ آﺅٹس کے مواد کی جاسوسی کرتے، کانٹیکٹس دیکھ سکتے اور صارف کی لائیو جی پی ایس لوکیشن ٹریکر کو بھی دیکھ سکتے۔

اور ہاں یہ میل وئیر کی چین کو بھی چوری کرلیتا جہاں پاس ورڈز جیسے وائی فائی پوائنٹس کے پاس ورڈ موجود ہوتے ہیں۔

گوگل کی پراجیکٹ زیرو ٹیم نے اس کمزوری کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ہیکرز کی جانب سے یہ کام 2 برسوں سے کیا جارہا تھا اور ہر آئی فون اس کا شکار ہوسکتا تھا، بس چند مخصوص ویب سائٹس پر وزٹ کرنا ہی کافی تھا۔

ان مخصوص ویب سائٹس کی تفصیلات تو رپورٹ میں نہیں دی گئیں مگر یہ ضرور بتایا گیا کہ ایپل نے رپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے اس کے لیے فروری میں سیکیورٹی اپ ڈیٹ آئی او پایس 12.1.14 میں جاری کی تھی۔

ٹیک کرنچ کی ایک الگ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ مخصوص وی سائٹس ایک اسٹیٹ بیک اٹیک کا حصہ ہے اور بظاہر یہ ریاست چین ہے۔

آئی فون کے حوالے سے یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب ایپل کی جانب سے 10 ستمبر کو آئی فون 11 متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا۔

گوگل کے محققین کے مطابق اس امپلانٹ کا ایک توڑ تو یہی تھا کہ فون کو ری اسٹارٹ کردیا جائے مگر ہیکرز کو جن معلومات تک رسائی مل جاتی وہ انہیں استعمال کرسکتے تھے۔

انہوں نے صارفین کو مشورہ دیا کہ اگر انہوں نے اب تک اپنے آئی فون کے آئی او ایس کو اپ ڈیٹ نہیں کیا تو فوراً سے پہلے ایسا کرلیں اور ویب سائٹس کے حوالے سے ایسی سائٹس کو ترجیح دیں جو عالمی سطح پر قابل اعتبار سمجھ جاتی ہیں۔

ایپل کی جان سے اس معاملے میں تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

Google Analytics Alternative