سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

ایپل واچ کےلیے ’’واکی ٹاکی ایپ‘‘ لانچ کردی گئی

کیلیفورنیا: موبائل فون کی آمد سے قبل وائرلیس اور واکی ٹاکی بہت اہم اشیا تصور کئے جاتے تھے اور اب ان ہی کی یاد میں ایپل کمپنی نے ایپل واچ کے لیے واکی ٹاکی ایپ پیش کردی ہے۔ اس ایپ کے ذریعے دو افراد اپنی ایپل ایپ پر ایک بٹن دباکر ایک دوسرے سے بات کرسکیں گے۔

یہ ایپ واچ او ایس فائیو نامی نئے ایپل آپریٹنگ سسٹم پر چلتی ہے۔ جس میں واٹس ایپ کی طرح رابطہ فہرست میں شامل دیگر دوستوں کو بھی اپنا وائس میسج بھیج سکتے ہیں۔ اس ایپ کو ’واکی ٹاکی‘ کا ہی نام دیا گیا ہے۔

پیر کے روز ورلڈ وائڈ ڈیویلپرز کانفرنس میں ایپل کے چیف آپریٹنگ آفیسر جیف ولیمز نے اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایپل واچ رابطے، جان بچانے اور صحت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔

’اب نئے اوایس فائیو کی لانچنگ کے بعد ایپل واچ رابطے اور دیگر سرگرمیوں میں ایک نئے درجے پر جائے گی،‘ جیف ولیمز نے کہا۔ انہوں نے کہا کہ واکی ٹاکی ایپ کے ذریعے دو افراد بہت آسانی سے ایک دوسرے سے بات کرسکتے ہیں۔

ایپل نے اس کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ایپ وائی فائی اور سیلولر نیٹ ورک، دونوں پر کام کرتی ہے جبکہ اس کے ذریعے پوری دنیا سے تیزرفتار، ذاتی اور خفیہ رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح فون کال کے مقابلے میں ایک بٹن دبا کر بات کرنا بہت آسان اور محفوظ طریقہ بھی ہے۔

ایپل کے مطابق نئے آپریٹنگ سسٹم میں واچ فیس میں بہت تبدیلیاں کی گئی ہیں جبکہ نقشوں، اسپورٹس اور صحت کی معلومات بھی بہتر بنائی گئی ہیں۔

واکی ٹاکی ایپ کےلیے بٹن کو کسمٹائز یا تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے۔

صارفین کا ڈیٹا موبائل کمپنیوں کو فراہم کیا،فیس بک کا اعتراف

دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک کے حوالے سے 3 دن قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ اس نے صارفین کی انتہائی ذاتی معلومات مختلف موبائل کمپنیوں کو فراہم کی۔

فیس بک پر الزام تھا کہ اس نے اپنی ایپلی کیشن کو بہتر سے بہتر انداز میں بنانے کی پیش کش کرتے ہوئے دنیا بھر کی 60 سے زائد موبائل و کمپیوٹر بنانے والی کمپنیوں کو صارفین کا ڈیٹا فراہم کیا۔

نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فیس بک نے ایپل، مائیکرو سافٹ، سام سنگ اور موٹرولا سمیت مجموعی طور پر 60 سے زائد موبائل کمپنیوں کو اپنے صارفین کی معلومات فراہم کی۔

اب فیس بک نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس نے چین کی موبائل کمپنیوں سمیت دیگر ممالک کی موبائل کمپنیوں کو صارفین کا ڈیٹا فراہم کیا۔

امریکی نشریاتی ادارے ’نیو یارک پوسٹ‘ کے مطابق فیس بک کے نائب صدر فرانسسکو ویریلا نے اپنے بیان میں اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کی ویب سائٹ نے 4 چینی موبائل کمپنیوں کو بھی فیس بک صارفین کا ڈیٹا فراہم کیا۔

رپورٹ کے مطابق فیس بک نے اسمارٹ موبائل تیار کرنے والی دنیا کی تیسری بڑی اور چین کی سب سے بڑی کمپنی ہواوے کو بھی صارفین کے ڈیٹا تک رسائی دی۔

فیس بک کی جانب سے اعترافی بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ہواوے سمیت، لنووو، اوپو اور ٹی سی ایل جیسی چینی کمپنیوں کو بھی فیس بک صارفین کے ڈیٹا تک رسائی دی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیس بک نے ایسے ملک کی موبائل کمپنیوں کو صارفین کا ڈیٹا فراہم کیا، جہاں ویب سائٹ کے استعمال پر بھی پابندی ہے۔

رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ فیس بک نے موبائل کمپنیوں کو صارفین کی ذاتی معلومات مثلا ان کے تعلقات، پروفیشن اور تعلیم سمیت دیگر معاملات کی معلومات تک رسائی دی۔

خیال رہے کہ امریکی ماہرین و قانون ساز چینی موبائل کمپنیوں کو اپنے لیے قومی سلامتی کا خطرہ قرار دے چکے ہیں۔

ایسے میں فیس بک کی جانب سے چینی موبائل کمپنیوں کو صارفین کا ڈیٹا فراہم کرنے کے اعتراف کے بعد کمپنی پر مزید سختیاں یا پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

فیس بک پر پہلے ہی 8 کروڑ صارفین کا ڈیٹا امریکی و برطانوی سروے کمپنی کیمبرج اینالاٹکا کو فراہم کرنے کا الزام ہے، جس نے 2016 میں امریکی انتخابات کے دوران صارفین کے ڈیٹا کو غیر قانونی طریقے سے استعمال کرکے ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

فیس بک نے کیمبرج اینالاٹکا کو بھی ڈیٹا فراہم کرنے کا اعتراف کیا تھا، جب کہ اسی اسکینڈل سامنے آنے کے بعد پہلی بار فیس بک کے بانی مارک زکر برگ رواں برس اپریل میں امریکا کی سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے۔

ہواوے کا ڈیٹا حاصل کرنے کا انکار

دوسری جانب چینی کمپنی ہواوے نے اپنے ایک بیان میں اس بات کی تردید کی ہے کہ اس نے کبھی فیس بک سے صارفین کا ڈیٹا حاصل کیا تھا۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ چینی کمپنی ہواوے نے اپنے بیان میں اس بات کی تردید کردی کہ اس نے کبھی فیس بک سے صارفین کا ڈیٹا حاصل کیا تھا۔

علاوہ ازیں اس معاملے پر چین کی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں نے بھی فوری طور پر کوئی بیان دینے سے گریز کیا۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ فیس بک کی جانب سے چینی کمپنیوں کو صارفین کا ڈیٹا فراہم کرنے کے معاملے پر امریکا و چینی حکومت کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگی، کیوں کہ امریکی عہدیدار و قانون ساز پہلے ہی چین کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے لیے قومی سلامتی کا خطرہ قرار دے چکے ہیں۔

لینووو کے 5 نوٹ اسمارٹ فون لانچ‎

‏لینوو کمپنی کی جانب سے زیڈ 5 اسمارٹ فون کے ساتھ لینووو کے 5 نوٹ اسمارٹ فون کا ریفریش ورژن بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ اسمارٹ فون میں 6 انچ آئی پی ایس ڈسپلے ، اسنیپ ڈریگن 450 پروسیسر اور اینڈرائیڈ اوریو آپریٹنگ سسٹم دیا گیا ہے۔

فون کو 3 جی بی اور 4 جی بی ریم کے ساتھ 32 جی بی اور 64 جی بی اسٹوریج کے آپشنز میں پیش کیا گیا ہے۔اسٹوریج کو ایس ڈی کارڈ کی مدد سے 256 جی بی تک بڑھایا جا سکتا ہے۔فون کے کیمرہ سیٹ اپ میں 16 میگا پکسل اور 2 میگا پکسل کے دو بیک کیمرے اور 8 میگا پکسل کا فرنٹ کیمرہ دیا گیا ہے۔ اسمارٹ فون کی بیٹری 3,760 ملی ایمپیئر آورز کی ہے۔3 جی بی ریم اور 32 جی بی اسٹوریج کے ساتھ فون کی قیمت 125 ڈالر جبکہ 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج کے ساتھ فون کی قیمت 156 ڈالر ہے۔

شارپ ایکوس ایس 3 ہائی ایڈیشن 7 جون کو لانچ ہوگا‎

شارپ کمپنی اپنے اسمارٹ فون ایکوس ایس 3 کا اپگریڈڈ ورژن سات جون کو پیش کرنے جا رہے ہیں۔

فون میں پروسیسر اور میموری کو اپ گریڈ کیا جائے گا جبکہ دیگر خصوصیات وہی رہیں گی۔ تفصیلات کے مطابق اس اسمارٹ فون میں 6 انچ ڈسپلے ، اسنیپ ڈریگن 660 پروسیسر ، 4 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج دیا جائے گا۔فون کے کیمرہ سیٹ اپ میں 12 میگا پکسل اور 13 میگا پکسل کے دو بیک کیمرے اور 16 میگا پکسل کا سیلفی کیمرہ شامل ہوگا۔

اسمارٹ فون کی بیٹری 3200 ملی ایمپیئر آورز کی ہوگی اور اس میں وائرلیس چارجنگ سپورٹ بھی شامل ہوگی۔ فون اینڈرائیڈ اوریو آپریٹنگ سسٹم کے تحت کام کرے گا۔فون کی قیمت سے متعلق تاحال کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہے۔

گرمی سے نہ گھبرائیے بلکہ ایئرکنڈیشنڈ ہیلمٹ پہنیے

بنگلورو: پاکستان اور دیگر گرم ممالک میں موسمِ گرما میں دن کے وقت ہیلمٹ پہننا ایک عذاب ہوجاتا ہے جس کے لیے اب ایئرکنڈیشنڈ ہیلمٹ کی صورت میں ایک دلچسپ اور آسان حل پیش کیا گیا ہے۔

اسے بلیو آرمر ہیلمٹ کا نام دیا گیا ہے جس کے اندر ایک جڑنے اور نکل جانے والا ایئرکولر لگایا گیا ہے۔ یہ ایئرکولر سیکنڈوں میں ہیلمٹ کو ایئرکنڈیشنڈ بنا کر سر کو فوری طور پر ٹھنڈا کرتا ہے۔ تاہم اس سے ہیلمٹ کے وزن میں کچھ اضافہ ہوگیا ہے۔ اسے بنگلور کی ایک کمپنی نے تیار کیا ہے۔

ہیلمٹ میں ایک چھوٹی بیٹری لگی ہے جو بہت سادہ انداز میں کام کرتی ہے۔ اس کے اندر پانی سے بھرے دو پائپ ہیں جن کے بخارات پنکھے سے ہیلمٹ کے اندر گھومتے رہتے ہیں اور اندرونی طور پر ہیلمٹ ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ کولر میں 60 ملی لیٹر پانی، برقی پنکھا، فلٹر اور 2500 ایم اے ایچ بیٹری نصب ہے جسے بار بار چارج کیا جاسکتا ہے۔ اگر اسے مکمل طور پر چارج کیا جائے تو یہ دس گھنٹے تک کارآمد رہتی ہے۔

بلیو ہیلمٹ کا ایک اور اہم حصہ بلیو اسنیپ ہے جو لچک دار پٹی کی طرح ٹھوڑی والے حصے سے منسلک ہوجاتا ہے اس میں لگا پنکھا ٹھنڈی ہوا کو ہیلمٹ کے اندر پھینک کر درجہ حرارت کو 6 سے 15 درجے سینٹی گریڈ تک کم کرسکتا ہے۔ پورے ہیلمٹ کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ہیلمٹ کا شیشہ نمی سے دھندلا نہیں ہوتا۔

اس ہیلمٹ کی قیمت 3 ہزار روپے رکھی گئی ہے اور یہ پانچ مختلف ڈیزائنوں میں دستیاب ہے۔

طویل عرصے بعد بلیک بیری کا فون سامنے آگیا

معروف کینیڈین ملٹی نیشنل موبائل اور ٹیبلیٹ کمپنی بلیک بیری کی جانب سے طویل عرصے بعد نیا فون متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کی مزید تصاویر اور تفصیلات لیک ہوئی ہیں۔

بلیک بیری کی جانب سے کئی ماہ بعد رواں ماہ 7 جون کو امریکی شہر نیویارک میں ایک ایونٹ کے دوران ’بلیک بیری کی 2‘ متعارف کرایا جائے گا، جس کا اعلان کمپنی پہلے ہی کر چکی ہے۔

بلیک بیری نے ’کی 2‘ کی پہلی جھلک کی ویڈیو گزشتہ ماہ 24 مئی کو ریلیز کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ فون کو جون کو پیش کیا جائے گا۔

اگرچہ فون کے سامنے آنے میں ابھی 2 دن باقی ہیں، مگر اس فون کی تصاویر اور تفصیلات لیک ہوکر سامنے آئی ہیں، جس کے مطابق یہ فون ڈوئل ریئر کیمرہ ہوگا۔

امریکی موبائل و ٹیکنالوجی رپورٹر ایون بلاس کی جانب سے ’بلیک بیری کی 2‘ کی ٹوئیٹ کی گئی 2 تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فون اسمارٹ نہیں بلکہ فنگر کی بورڈ کا حامل ہے۔

موبائل کی سامنے آنے والی تصاویر دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے بیک پر 2 ریئر کیمرے ہوں گے۔

دوسری جانب ٹیکنالوجی نشریاتی ادارے ’دی ورج‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اگرچہ بلیک بیری کا نیا فون اینڈرائڈ ہوگا، تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ جب موبائل کمپنیاں ٹچ اسکرین کے جدید طریقے متعارف کرانے میں مصروف ہیں، بلیک بیری نے روایتی فنگر کی بورڈ دے کر اپنی پہنچان کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق نئے بلیک بیری میں نئے اور جدید بہترین سیکیورٹی فیچر بھی دیے گئے ہیں، جن سے متعلق کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

لیک ہوکر سامنے آنے والی معلومات کے مطابق کوالکوم اسنیپ ڈریگن 660 کی چپ سے لیس بلیک بیری کی 2 میں 8 اور 12 میگا پکسل کیمرے ہوں گے۔

بلیک بیری کی 2 کو 7 جون کو پیش کیا جائے گا—فوٹو: ٹوئٹر
بلیک بیری کی 2 کو 7 جون کو پیش کیا جائے گا—فوٹو: ٹوئٹر

فون کو 4 جی بی اور 6 جی بی ریم میں پیش کیا جائے گا، تاہم اس میں 64 سے 128 جی بی تک اسٹوریج بڑھانے کی گنجائش ہوگی۔

ممکنہ طور پر اس فون کو اینڈرائڈ کے 8 پوائنٹ ون اوریو آپریٹنگ سسٹم میں متعارف کرایا جائے گا۔

بلیک بیری کی اس فون کو کینیڈین کمپنی خود نہیں بلکہ ان کا لائسنس رکھنے والی چینی و امریکی کمپنی ٹی سی ایل متعارف کرانے جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ بلیک بیری کا آخری فون بھی اسی کمپنی نے بلیک بیری کی ون کے نام سے گزشتہ برس فروری میں متعارف کرایا تھا۔

کینیڈا کی اس کمپنی نے ستمبر 2016 میں اعلان کیا تھا کہ مالی مشکلات کے باعث وہ مزید اسمارٹ فونز تیار نہیں کرے گی اور اس طرح ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا تھا۔

بلیک بیری کسی زمانے میں موبائل فون کی دنیا میں راج کرنے والی کمپنی تھی مگر آئی فون اور اینڈرائیڈ فونز نے اس کی مقبولیت ختم کردی۔

دنیا بھر میں انسٹا گرام کی سروس متاثر

کیلیفورنیا: تصاویر شیئرنگ کی سب سے بڑی سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹا گرام کی سروس دنیا بھر میں کچھ دیر کے لیے متاثر ہوگئی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق انسٹا گرام کی ایپ اور ویب سائٹ کریش کرگئی جس سے صارفین کو انسٹا گرام استعمال کرنے میں ناکامی اور مشکلات کا سامنا رہا۔

عالمی میڈیا کے مطابق یورپ، امریکا، ایشیائی ممالک سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں انسٹا گرام کی سروس متاثر ہوئی ہے۔ ایک ماہ میں یہ دوسرا واقعہ ہے کہ انسٹا گرام نامعلوم وجوہات کی بنا پر بند ہوئی اور بندش کی وجہ سرور میں خرابی کو قرار دیا جارہا ہے۔

عالمی سطح پر انسٹا گرام کی اینڈرائیڈ ایپ متاثر ہوئی تاہم آئی فون اس سے متاثر نہیں ہوا اور آئی فون کے صارفین بغیر کسی تعطل کے اسے استعمال کرتے رہے۔

اس ضمن میں ڈاؤن ڈٹیکٹر نامی ویب سائٹ کو انسٹا گرام کی بندش سے متعلق ہزاروں شکایات موصول ہوئیں، 39 فیصد شکایات نیوز فیڈ سے متعلق اور 35 فیصد لاگ انِ  نہ ہونے سے متعلق تھیں۔

دھوپ اور بارش سے بچانے والی ڈرون چھتری

ٹوکیو: جاپانی کمپنی نے ایک ایسی ڈرون چھتری تیاری کی ہے جسے ہاتھ میں تھامنے کی ضرورت نہیں رہتی اوروہ آپ کو دھوپ اور بارش سے بچاتے ہوئے ازخود آپ کے سرکے اوپررہتے ہوئے پرواز کرتی ہے۔

فری پیراسول نامی یہ چھتری ڈرون مصنوعی ذہانت اور کیمرے کے مدد سے پرواز کرتا ہے اور اسے جاپانی کمپنی آساہی پاورسروسز نے تیار کرکے اسے اڑن چھتری کا نام دیا ہے۔ یہ دھوپ اور بارش میں یکساں طور پر مفید ہے اور مکمل طور پر ہینڈز فری ہیں یعنی آپ اس کے تلے فون استعمال کرسکتے ہیں کا سامان اٹھاکر سفر کرسکتے ہیں۔

اس چھتری کا وزن قریباً 8 کلوگرام ہے اور فی الحال یہ 20 منٹ تک پرواز کرسکتا ہے۔ لیکن اس کے ڈیزائنر اس میں ایک کلوگرام وزن کم کرکے اس کا دورانیہ ایک گھنٹے تک بڑھانے پر غورکررہے ہیں۔ اگر تیز بارش ہو اور ہوا چل رہی ہو تو بھی وہ اس کی پرواز پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔

جاپانی کمپنی کے مطابق فری پیری سول 2019 میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا اوراس کی قیمت 28 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔ واضح رہے کہ 2020 تک عالمی سطح پر ڈرون کی تجارت 100 ارب ڈالر تک جاپہنچے گی۔

Google Analytics Alternative