سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

روبوٹ کو چہرہ دیں اور کروڑ پتی بن جائیں

کیا اپنے چہرے کو کسی روبوٹ پر دیکھنا پسند کریں گے اور وہ بھی مفت نہیں بلکہ کروڑوں روپوں کے عوض؟

اگر ہاں تو ایسا بہترین موقع دستیاب ہے کیونکہ ایک برطانوی انجنیئرنگ و مینوفیکچرنگ کمپنی جیو مک (Geomiq) ایسے افراد کی خواہشمند ہے جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس انسان جیسے روبوٹ کا چہرہ بننے کے لیے تیار ہوجائیں جو ایک نامعلوم کمپنی تیار کرہی ہے۔

کمپنی نے اپنے ایک بلاگ پوسٹ پر اس پراجیکٹ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ‘کمپنی ایسے نرم اور دوستانہ چہرے کو تلاش کررہی ہے جو ایک روبوٹ کا چہرہ بن سکے جس کی پروڈکشن شروع ہونے والی ہے، منتخب افراد کے چہرے کو دنیا بھر میں ہزاروں روبوٹس کے لیے استعمال ہوں گے’۔

بیان میں بتایا گیا کہ یہ روبوٹ 5 برسوں میں دستیاب ہوں گے اور بزرگ افراد کے ساتھی کے طور پر کام کریں گے۔

اور جو چہرہ منتخب ہوگا، اس فرد کو ایک لاکھ 30 ہزار ڈالرز (2 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) دیئے جائیں گے۔

روبوٹ کو بنانے والی کمپنی کے بارے میں زیادہ تفصیلات موجود نہیں بس یہ معلوم ہے کہ اس کو زیادہ سرمایہ شنگھائی سے تعلق رکھنے والے فنڈ اور کمپنیوں سے ملا ہے۔

بلاگ میں عمر یا جنس کا ذکر نہیں بس جو لوگ اپنا چہرہ کو روبوٹ کے منہ پر دیکھنے کے خواہشمند ہیں، انہیں ایک تصویر ای میل کے ذریعے بھیجنی ہوگی، تاکہ ایک لاکھ 30 ہزار ڈالرز کے انعام حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔

جن افراد کو اگلے مرحلے کے لیے منتخب کیا جائے گا، انہیں پراجیکٹ کی تمام تر تفصیلات بتائی جائیں گے۔

ایک اندازے کے مطابق 2050 تک 85 سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد میں 3 گنا اضافہ ہوجائے گا اور ایسے بزرگوں کے لیے روبوٹس کی تیاری کا عمل بھی تیز ہوگیا ہے۔

ٹریفک جام سے بچنے کا بہترین طریقہ چیونٹیوں سے سیکھیے!

پیرس: چیونٹیاں کہنے کو تو کیڑے مکوڑوں میں شمار ہوتی ہیں لیکن یہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں بے مثال نظم و ضبط کا مظاہرہ بھی کرتی ہیں جو ان کی چھوٹی بڑی بستیوں (کالونیوں) سے لے کر ہجوم کی صورت میں ایک سے دوسری جگہ حرکت کرنے تک میں دکھائی دیتا ہے۔

کسی جگہ سے گزرنے والی چیونٹیوں کی تعداد چاہے کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، مگر نہ وہ ایک دوسرے کا راستہ روکتی ہیں اور نہ ہی ان کی آمد و رفت میں ٹریفک جام کا کوئی مسئلہ ہوتا ہے۔

لیکن ایک معمولی سا کیڑا یہ غیرمعمولی کام کیسے کرلیتا ہے؟ یہ جاننے کےلیے فرانسسیسی اور امریکی سائنسدانوں نے کچھ دلچسپ تجربات کیے۔ انہوں نے ’’ارجنٹینا اینٹس‘‘ کہلانے والی ننھی منی چیونٹیوں کو مختلف تنگ اور چوڑے راستوں سے گزار کر ان کی حکمتِ عملی کا مشاہدہ کیا۔

اس تجربے کےلیے انہوں نے ارجنٹینا چیونٹیوں کی ایک کالونی سے کچھ فاصلے پر چیونٹیوں کے کھانے کی کچھ چیزیں رکھ دیں جبکہ اس جگہ تک صرف ایک چھوٹا سا پل عبور کرکے ہی پہنچا جاسکتا تھا۔ تجربے کی غرض سے 5 ملی میٹر، 10 ملی میٹر اور 20 ملی میٹر چوڑے مختلف پل بنائے گئے جن پر ایک وقت میں 400 سے لے کر 25600 چیونٹیوں کی گنجائش تھی۔ 170 مرتبہ دوہرائے گئے ان مشاہداتی تجربات میں طاقتور کیمرا استعمال کرتے ہوئے تمام مناظر فلمائے گئے۔

جب ان تمام مناظر کا باریک بینی سے تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ جگہ تنگ ہو یا کشادہ، وہاں سے گزرنے والی چیونٹیوں کی تعداد کم ہو یا زیادہ، کسی بھی صورت میں ان کی آمد و رفت بڑے ہموار انداز سے جاری رہتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر کسی سڑک پر گنجائش کے اعتبار سے صرف 40 فیصد جگہ پر بھی گاڑیاں آجائیں تو ٹریفک آہستہ ہونے لگتا ہے اور اس سے زیادہ بڑھنے پر بتدریج ٹریفک جام ہوجاتا ہے۔

ارجنٹینا چیونٹیوں میں معاملہ اس کے برعکس رہا۔ یوں لگتا ہے جیسے انہیں ٹریفک جام پر کنٹرول کرنے میں خصوصی مہارت حاصل ہے کیونکہ گزرگاہ کے 80 فیصد حصے پر بھی چیونٹیوں کا ہجوم جمع ہونے کے باوجود، اس پر چیونٹیوں کے گزرنے کی رفتار میں کوئی کمی نہیں آئی۔

معلوم ہوا کہ جب ان کی گزرگاہ قدرے کم مصروف ہو تو چیونٹیاں اپنی رفتار بڑھانے لگتی ہیں، یہاں تک کہ پوری گزرگاہ پر چیونٹیوں کا ایک ہجوم حرکت کرنے لگتا ہے۔ اسی طرح کسی راستے سے گزرنے والی چیونٹیوں کا ہجوم بہت زیادہ ہونے کی صورت میں مزید چیونٹیاں کچھ ٹھہر کر اس راستے پر آتی ہیں تاکہ آمد و رفت متاثر نہ ہو۔

دوسری جانب، ہجوم کی حالت میں اس راستے سے گزرنے والی چیونٹیاں بھی اپنی رفتار کچھ آہستہ کرلیتی ہیں تاکہ وہ آپس میں ٹکرانے سے اور ایک دوسرے کا وقت برباد کرنے سے محفوظ رہیں۔

آن لائن ریسرچ جرنل ’’ای لائف‘‘ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ساری حکمتِ عملی کے ذریعے چیونٹیاں صرف ایک مقصد حاصل کرنا چاہتی ہیں: اپنی بستی کی بقاء۔

نتیجہ: انسانی معاشروں میں سخت قوانین ہونے کے باوجود اس لیے ٹریفک جام ہوتا ہے کیونکہ ہر شخص کو صرف اپنی فکر ہوتی ہے اور وہ سب سے پہلے اپنی منزل تک پہنچنا چاہتا ہے۔ اگر انسانوں میں بھی چیونٹیوں جیسا اجتماعی شعور آجائے تو نہ صرف ٹریفک جام، بلکہ بہت سے سنگین معاشرتی مسائل کبھی پیدا ہی نہ ہوں۔

گوگل کے کوانٹم کمپیوٹر نے 10 ہزار سال کا حساب صرف تین منٹ میں لگا لیا!

سلیکان ویلی: عالمی شہرت یافتہ تحقیقی جریدے ’’نیچر‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع شدہ ایک ریسرچ پیپر میں گوگل سے وابستہ ماہرین کی ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اپنا ’’سائیکامور‘‘ کوانٹم کمپیوٹر استعمال کرتے ہوئے، صرف 200 سیکنڈ میں وہ حساب لگایا ہے جسے مکمل کرنے میں موجودہ طاقتور ترین سپر کمپیوٹر کو بھی 10 ہزار سال لگ جائیں گے۔

وضاحت کی جائے تو معلوم ہوگا کہ گوگل کا یہ کوانٹم کمپیوٹر، آج کے روایتی سپر کمپیوٹروں کے مقابلے میں تقریباً 1,576,800,000 گنا (ایک ارب 57 کروڑ اور 68 لاکھ گنا) زیادہ حسابی طاقت کا حامل ہے۔

یہ دعویٰ اتنا غیرمعمولی ہے کہ اس پر دنیا بھر میں کوانٹم کمپیوٹر پر کام کرنے والے اداروں میں کھلبلی مچ گئی ہے کیونکہ اب تک تیار کیا جانے والا کوئی بھی کوانٹم کمپیوٹر، اپنی کارکردگی اور رفتار میں عام روایتی کمپیوٹروں کے برابر بھی نہیں پہنچ پائے تھے۔

نیچر کو تحقیقی جرائد کی دنیا میں بلند ترین مقام حاصل ہے لیکن اگر آنے والے دنوں میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوگیا تو یقیناً اس سے ’’نیچر‘‘ کی ساکھ کو بدترین نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔

امریکی جریدے فائنانشل ٹائمز نے ایسے ہی ایک مقالے کی نشاندہی گزشتہ ماہ ناسا کے ٹیکنیکل رپورٹس سرور پر بھی کی تھی جس میں گوگل کے ماہرین نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے کوانٹم کمپیوٹر نے روایتی سپر کمپیوٹروں کو ’’ایک بڑے مارجن‘‘ سے شکست دے دی ہے۔

البتہ، وہ مقالہ جلد ہی ہٹا دیا گیا اور اس کے بارے میں صرف چہ مگوئیاں رہ گئیں۔ تاہم، نیچر میں اشاعت کے بعد اب یہ دعویٰ اپنی تمام تر جزئیات سمیت سب کے سامنے آگیا ہے۔

تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ سائیکامور کوانٹم کمپیوٹر کی اصل طاقت ’’سائیکامور چپ‘‘ ہے جو 53 سپرکنڈکٹنگ کوانٹم بِٹس (کیو بٹس) کے ذریعے کام کرتی ہے، جو آپس میں مربوط ہیں۔

جریدے ’’ٹیکنالوجی ریویو‘‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی نے فخریہ انداز میں کہا کہ یہ کوانٹم کمپیوٹر اسی طرح ہے جیسے رائٹ برادران کا ایجاد کیا ہوا سب سے پہلا ہوائی جہاز کہ جو صرف چند سیکنڈ تک فضا میں رہا اور چند فٹ کی بلندی تک ہی پہنچ پایا۔ مطلب یہ کہ کوانٹم کمپیوٹرز پر کام تو صحیح معنوں میں اب شروع ہوا ہے۔

البتہ، کوانٹم کمپیوٹرز کے میدان میں گوگل کے سب سے بڑے حریف ’’آئی بی ایم‘‘ نے اپنے آفیشل بلاگ میں ردِعمل دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس ریسرچ پیپر میں ڈسک اسٹوریج کی مد میں استعمال کی گئی وہ بے تحاشا جگہ اور آپٹیمائزیشن (کارکردگی بہتر بنانے کے) دوسرے طریقوں کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔

اس لیے ’’گوگل کا یہ تجربہ سپر کنڈکٹر پر مبنی کوانٹم کمپیوٹنگ کے میدان میں پیش رفت کا ایک زبردست مظاہرہ ضرور ہے لیکن اسے اس بات کا ثبوت ہر گز نہیں سمجھنا چاہیے کہ کوانٹم کمپیوٹروں کو کلاسیکی/ روایتی کمپیوٹروں پر ’بالادستی‘ حاصل ہوگئی ہے۔‘‘

‘ٹک ٹاک امریکا کیلئے سیکیورٹی خدشات کا باعث ہوسکتی ہے’

امریکا کے دو سینئر سینیٹرز نے اپنی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘ٹک ٹاک’ ویڈیو ایپ چین کے لیے جاسوسی کے سلسلے میں امریکی صارفین کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر اور ری پبلکن سینیٹر ٹام کوٹن نے قائم مقام ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس جوزف میگویئر کو ایک خط میں لکھا ہے کہ ٹک ٹاک کے مالک بیٹ ڈینس کو چینی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے صارفین کی معلومات دینے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔

دنیا بھر میں 50 کروڑ صارفین کے ساتھ ٹک ٹاک گزشتہ دو برس میں مقبولیت حاصل کرچکی ہے جس میں 60 سیکنڈ طویل ویڈیو تیار اور نشر کی جاسکتی ہے۔

امریکی سینیٹرز کو خدشات ہیں کہ ٹک ٹاک صارفین کے موبائل اور کمپیوٹر سے خاموشی سے رابطہ چینی خفیہ ایجنسیوں سے کرا سکتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے چینی ٹیلی کام کمپنی ‘ہواوے’ کے خلاف الزامات ہیں۔

انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ‘صرف امریکا میں 11 کروڑ سے زائد صارفین اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں اور ٹک ٹاک انٹیلی جنس خطرہ ہوسکتا ہے جس کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں’۔

انٹیلی جنس حکام پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ‘اس ایپ سے قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا جائے’۔

سینیٹرز کو خدشات ہیں کہ ‘چینی قوانین اس کمپنی کو چین کی کمیونسٹ پارٹی کے زیر کنٹرول انٹیلی جنس کے لیے تعاون اور مدد کے لیے مجبور کرسکتے ہیں’۔

ایپ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک صارفین کی ذاتی معلومات زیادہ حاصل کرتی ہے جو سیکیورٹی رسک ہونے کا عندیہ دیتی ہے۔

دوسری جانب ٹک ٹاک نے اپنی ویب سائٹ میں جاری بیان میں واضح کردیا ہے کہ ‘ہمارے اوپر چین سمیت کسی بھی بیرونی حکومت کا کوئی دباؤ نہیں ہے’۔

چین سے اپنا انتظام چلانے کے امکان کو رد کرتے ہوئے کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کا ڈیٹا سینٹر چین سے باہر واقع ہیں اور ‘ہمارے ڈیٹا کا چین کے قوانین سے کوئی لینا دینا نہیں ہے’۔

امریکی سینیٹرز کے دعوؤں کو رد کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘ہمیں چینی حکومت کی جانب سے کبھی بھی کسی مواد کو ہٹانے کے لیے نہیں کہا گیا اور اگر ایسا کہا گیا تو ہم نہیں کریں گے’۔

ٹک ٹاک کے حوالے سے امریکی سینیڑز نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ یہ ویڈیو ایپ اگلے برس کے انتخابات میں ووٹرز پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے جس طرح 2016 کی مہم میں روس نے امریکی سوشل میڈیا پر گڑ بڑ کی تھی۔

گوگل کا 10 ہزار سال کا کام 200 سیکنڈ میں کرنے والے کمپیوٹر تیار کرنے کا دعویٰ

دنیا کا ذہین سے ذہین انسان ایک گھنٹے میں کتنے اربوں، کھربوں اور ٹریلین کا حساب کر سکتا ہے؟

انسان کو چھوڑیے، یہ بتائیے کہ ایک عام کمپیوٹر ٹریلین سے آگے کواڈریلین، کواٹریلین یا سیکسوٹیلین کا حساب لگانے میں کتنا وقت لے گا؟

نہیں جانتے نا!، لیکن اب انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی گوگل نے ایک ایسا کمپیوٹر تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو دنیا میں موجود طاقتور ترین ‘سپر کمپوٹرز‘ کے مقابلے اتنا زیادہ تیز ہے کہ عام انسان اس کا حساب ہی نہیں لگا سکتا۔

جی ہاں، گوگل نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے سائنسدان ایک ایسا کمپیوٹر بنانے میں کامیاب گئے ہیں جو محض 200 سیکنڈز میں وہ کام سر انجام دے سکتا ہے جو ’سپر کمیپوٹرز‘ 10 ہزار سال میں سر انجام دے سکتے ہیں۔

اس وقت دنیا بھر میں سب سے تیز اور ذہین کمپیوٹر ’سپر کمپیوٹرز‘ ہوتے ہیں جو عام استعمال کے بجائے انتہائی اعلیٰ تحقیق کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اور ایسے کمپیوٹرز کی رفتار یا کام کرنے کی صلاحیت انسانی سوچ سے بھی آگے ہوتی ہے۔

دنیا کا سب سے طاقتور اور ذہین ترین کمپیوٹر چین کے پاس تھا مگر گزشتہ برس نومبر میں امریکا نے ایک ایسا کمپیوٹر تیار کیا تھا جو چینی کمپیوٹر سے بھی چار گنا تیز اور ذہین تھا۔

گوگل کے نئے سسٹم کو کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا عروج قرار دیا جا رہا ہے—فوٹو: گوگل
گوگل کے نئے سسٹم کو کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا عروج قرار دیا جا رہا ہے—فوٹو: گوگل

امریکا کی جانب سے تیار کیا گیا سپر کمپیوٹر اس وقت دنیا کا تیز اور ذہین ترین کمپیوٹر ہے ایک سیکنڈ میں 143 کواڈریلین سے بھی زیادہ کا حساب کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

اس کمپیوٹر کو ’سمٹ‘ کا نام دیا گیا تھا جسے چلانے کے لیے یومیہ کروڑوں ڈالر کا خرچ کیا جا رہا ہے۔

‘سمٹ’ کا مجموعی وزن 340 ٹن ہے اور اس کے سرورز اور مشینیں 5 ہزار 600 اسکوائر فٹ کے رقبے پر تعمیر کی عمارت میں رکھی گئی ہیں۔

آئی بی ایم اور نیویڈیا کے آلات سے تیار کیے گئے اس کمپیوٹرز کو چلانے کے لیے 4 ہزار 608 سرورز مدد فراہم کرتے ہیں اور یہ کمپیوٹر تقریبا ایک شہر کے استعمال میں آنے والی بجلی استعمال کرتا ہے۔

لیکن اب گوگل نے اس کمپیوٹر سے بھی تیز، بہت تیز اور انتہائی ذہین کمپیوٹر سسٹم بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

سائنس جرنل ’نیچر‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق گوگل کے ماہرین کئی سال کی محنت کے بعد ایک ایسا کمپیوٹر بنانے میں کامیاب گئے ہیں جو طاقتور کمپیوٹر کی جانب سے 10 ہزار سال میں کیے جانے والے کام کو محض 200 سیکنڈز یعنی صرف سوا تین منٹ میں کر سکتا ہے۔

گوگل کے نئے سسٹم سے قبل امریکا کے سمٹ کمپیوٹر کو دنیا کے طاقتور و ذہین ترین کمپیوٹر کا اعزاز حاصل ہے—فوٹو:فوٹو: دی ورج
گوگل کے نئے سسٹم سے قبل امریکا کے سمٹ کمپیوٹر کو دنیا کے طاقتور و ذہین ترین کمپیوٹر کا اعزاز حاصل ہے—فوٹو:فوٹو: دی ورج

گوگل نے اپنی بلاگ پوسٹ میں بھی اس کمپیوٹر کے حوالے سے بتایا اور کہا کہ تیار کیے گئے نئے کمپیوٹر سسٹم سے دنیا ایک نئے دور میں داخل ہوجائے گی اور کئی ایسے کام کرنے میں چند منٹ لگیں گے جنہیں سر انجام دینے کےلیے طاقتور ترین کمپیوٹر ہزاروں سال لگا لیتے ہیں۔

ابھی گوگل نے اس نئے تیار کیے گئے سسٹم سے کوئی ایسا کمپیوٹر نہیں بنایا جسے نمونے کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے، تاہم کمپنی کے مطابق ماہرین کئی سال کی محنت کے بعد دنیا کے تیز و ذہین ترین کمپیوٹر سسٹم کو بنانے میں کامیاب گئے ہیں۔

گوگل نے اس کمپیوٹر سسٹم کو ’کوانٹم سپرمیسی‘ کا نام دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اسی نام سے بنایا جانے والا کمپیوٹر دنیا کے طاقتور و تیز ترین کمپیوٹرز سے کہیں زیادہ تیز ہوگا۔

گوگل کی جانب سے دنیا کے طاقتور ترین کمپیوٹر بنائے جانے کی چہ مگوئیاں گزشتہ چند ماہ سے چل رہی تھیں اور اس حوالے سے متعدد ٹیکنالوجی اداروں نے اپنی رپورٹس میں دعویٰ بھی کیا تھا کہ گوگل نے طاقتور اور ذہین ترین کمپیوٹر سسٹم تیار کرلیا ہے، تاہم گوگل نے خود اس حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا تھا۔

اب گوگل نے اس کا اعلان کردیا ہے، تاہم کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی دیگر کئی بڑی کمپنیوں نے گوگل کے دعوے پر شکوک کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ گوگل کے دعوے میں سچائی دکھائی نہیں دیتی لیکن گوگل نے اپنے دعوے کو بلکل درست اور سچا کہا ہے۔

گوگل کے دعوے کو دیگر کمپنیوں نے جھوٹا قرار دیا ہے—فوٹو: نیو سائنس
گوگل کے دعوے کو دیگر کمپنیوں نے جھوٹا قرار دیا ہے—فوٹو: نیو سائنس

موبائل فون وائرس سے پاکستانی حکام کو نشانہ بنانے کا انکشاف

اسلام آباد: ایک سیکیورٹی فرم نے بتایا ہے کہ خطرناک ترین وائرس پر مشتمل موبائل فون کی جعلی ایپس پاک فوج اور حکومتی عہدیداران کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق کینیڈین کمپنی بلیک بیری کی جانب سے بدھ کے روز جاری کردہ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ جاسوسی کی نئی مہم میں موبائل ڈیوائسز سے حساس ڈیٹا چُرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ اسے یہ معلوم نہیں کہ اس مہم کے پسِ پردہ کون ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی ریاست کے حمایت یافتہ ہیکنگ گروپ کی کارستانی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان جعلی موبائل فون ایپس میں سے ایک کشمیر کے حوالے سے خبریں فراہم کرنے کا وعدہ کرتی ہے۔

یاد رہے کہ نئی دہلی نے اگست میں مقبوضہ کشیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے قبل وہاں لاک ڈاؤن نافذ کردیا تھا اور اس کے ساتھ ٹیلی مواصلات مکمل طور پر منقطع کردی گئی تھیں جبکہ ہزاروں افراد کو حراست میں بھی لیا جاچکا ہے۔

ایک دوسری ایپ جو خطرناک بتائی گئی ہے وہ پورنوگرافک ویب سائٹ کے مزاحیہ خاکے کی ایپ ہے۔

اس کے علاوہ ایک ڈیٹنگ چیٹ سروس اور قدرتی آفات کی صورت میں امدادی کارروائیاں کرنے والی انصار فاؤنڈیشن نامی ایپ بھی شامل ہے۔

یہ ایپس زیادہ تر گوگل کا اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم استعمال کرتی ہیں جنہیں ای میل یا سوشل میڈیا میسجنگ سروس مثلاً واٹس ایپ کے ذریعے پھیلایا گیا۔

خیال رہے کہ ماضی میں موبائل فونز بنانے والی مشہور و معروف کمپنی بلیک بیری اب سیکیورٹی بزنس سے منسلک ہوچکی ہے۔

ان کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ یہ مہم عالمی سطح پر اس ٹرینڈ کو ظاہر کرتی ہے کہ ہیکرز اب زیادہ تر موبائل فونز کو نشانہ بناتے ہیں کیوں کہ لوگ انہیں ذاتی استعمال کے ساتھ ساتھ کام کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں‘

کمپنی سے تعلق رکھنے والے عہدیدار برائن رابنسن کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں ہمارے سامنے ایسی کوئی مثال نہیں آئی کہ جس میں ہیکرز مخصوص افراد کو نشانہ بنا رہے ہوں بلکہ یہ ایک وسیع حملہ تھا‘۔

موٹرولا کا مشہور فولڈایبل ریزر اب دوبارہ ریلیز کیا جائے گا

 لندن: جو لوگ عرصے سے موبائل فون استعمال کررہے ہیں انہیں موٹرولا کا مشہور فولڈ ہونے والا ریز فون اب تک یاد ہوگا جس نے پاکستان میں بھی دھوم مچائی تھی۔

اب اسی فولڈایبل کو اسمارٹ فون کے قالب میں ڈھال کر اگلے ماہ فروخت کے لیے پیش کیا جارہا ہے لیکن بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی قیمت بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔ سال کی ابتدا میں موٹرولا نے ایک بیان میں اس کا اشارہ بھی دیا تھا کہ وہ مشہور بند اور کھلنے والے ریزر فون کو نیا روپ دے کر پیش کرے گا۔ موٹرولا ریزر 2000 میں ریلیز کیا گیا تھا اور لوگوں نے اسے کئی سال تک استعمال کیا۔

اب کلاسک ریزر وی تھری کا ایک ٹیزر بھی جاری کیا گیا ہے جس میں اینی میشن دیکھی جاسکتی ہے۔ لیکن آپ اسے سام سنگ گیلکسی فولڈ ایبل فون سے نہیں ملاسکتے کیونکہ دونوں کی نوعیت مختلف ہے۔ لیکن موٹرولا نے فولڈیبل ریزر کی ٹیگ لائن ہی استعمال کی ہے۔ اس میں بار بار ایک جملہ بھی استعمال کیا گیا اور وہ ہے کہ ’ یو آر گوئنگ ٹو فلپ‘۔ یوٹیوب پر شائقین نے اس خبر پر مسرت کا اظہارکیا ہے۔

اسمارٹ فون کے شائقین 13 نومبر کی اس تقریب کے منتظر ہیں جس میں اس فون کا دیدار کرایا جائے۔ تاہم افواہ یہ ہے کہ اس کا ایک ہی ورژن ریلیز کیا جارہا ہے جس کی قیمت 1500 ڈالر رکھی گئی ہے۔

اسے سفید، سیاہ اور سنہرے رنگ میں پیش کیا جارہا ہے اور اب تک کی تصاویر سے یوں لگتا ہے کہ یہ ایک فلپ فون ہی ہوگا تاہم اس میں اسمارٹ فون کے خواص شامل ہوں گے۔ لیکن اس کے پیٹنٹ کی ڈیزائن کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ فولڈنگ آپشن قدرے پیچیدہ بنایا گیا ہے۔

فیس بک صحافتی اداروں کے ساتھ ’نیوز ٹیب‘ متعارف کرانے کو تیار

رواں برس اپریل میں فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے خیال ظاہر کیا تھا کہ جلد ہی سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے نیا سیکشن متعارف کرایا جائے گا۔

مارک زکربرگ کے اعلان کے بعد رواں برس اگست میں کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ ’فیس بک‘ پر ’نیوز ٹیب‘ نامی خبروں کا نیا سیکشن متعارف کرایا جائے گا۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ ’نیوز ٹیب‘ سیکشن کے لیے صحافیوں اور صحافتی اداروں کی خدمات حاصل کی جائیں گی اور فوری طور پر اس سیکشن پر امریکا میں کام کیا جائے گا۔

فیس بک نے واضح نہیں کیا تھا کہ کب تک ’نیوز ٹیب‘ کو متعارف کرایا جائے گا، تاہم خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ رواں برس کے آخر یا 2020 کے آغاز میں نئے سیکشن کو متعارف کرایا جائے گا۔

اور اب خبر سامنے آئی ہے کہ فیس بک اور امریکا کے مختلف صحافتی ادارے ’نیوز ٹیب‘ سیکشن کو متعارف کرانے کے سمجھوتے پر رضامند ہوگئے۔

نیوز ٹیب متعارف کرائے جانے کے لوگ فیس بک پر ہی انحصار کریں گے، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک
نیوز ٹیب متعارف کرائے جانے کے لوگ فیس بک پر ہی انحصار کریں گے، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک

امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق ’نیوز ٹیب‘ کو متعارف کرانے کے لیے فیس بک کا مختلف امریکی میڈیا ہاؤسز کے درمیان سمجھوتہ پا گیا ہے، تاہم اسے حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ‘نیوز فیڈ‘ کے لیے اہم اور بڑی خبریں فراہم کرنے والے میڈیا ہاؤسز کو فیس بک رقم ادا کرے گا اور اس کام کے لیے اداروں کے درمیان تحریری معاہدہ ہوگاْ۔

رپورٹ کے مطابق ’نیوز ٹیب‘ کے لیے فیس بک کے ساتھ ’نیوز کارپوریشن، وال اسٹریٹ جرنل، واشنگٹن پوسٹ، ڈاؤ جونس اور نیو یارک ٹائمز‘ کے درمیان ابتدائی معاہدہ طے پاگیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیویارک ٹائمز نے فیس بک سے معاہدہ طے پاجانے کے حوالے سے تصدیق یا تردید نہیں کی، تاہم امکان ہے کہ جلد معاہدہ کا حتمی اعلان کردیا جائے گا۔

فیس بک اور میڈیا ہاؤسز کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت مذکورہ ادارے اپنی اہم اور بڑی خبریں، تجزیے و رپورٹس ’نیوز ٹیب‘ سیکشن کے لیے فراہم کریں گے۔

’نیوز ٹیب‘ سیکشن فیس بک پر دیگر سیکشنز کی طرح کام کرے گا، جس طرح اس وقت سوشل ویب سائٹ پر نیوز فیڈ، واچ پارٹی اور دیگر سیکشن کام کر رہے ہیں۔

فیس بک اور صحافتی اداروں کے درمیان ابتدائی معاہدے طے پاجانےکے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ رواں برس کے آخر یا پھر آئندہ سال کے آغاز تک ’نیوز ٹیب‘ کو متعارف کرادیا جائے گا۔

اس منصوبے کو روایتی میڈیا کی تباہی قرار دیا جا رہا ہے—فوٹو: شٹر اسٹاک
اس منصوبے کو روایتی میڈیا کی تباہی قرار دیا جا رہا ہے—فوٹو: شٹر اسٹاک
Google Analytics Alternative