سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

ہواوے کا ان ڈسپلے کیمرہ فون نووا 4 متعارف‎

ہواوے کمپنی کی جانب سے 48 میگاپکسل کے بیک کیمرے کا حامل اسمارٹ فون نووا 4 متعارف کرا دیا گیا ہے۔یہ دنیا کا پہلا اسمارٹ فون ہے جس میں 48 میگا پکسل کا کیمرہ دیا گیا ہے۔ اسمارٹ فون کا ڈسپلے 6.4 انچ کا ہے اور اسکرین پر بیزل نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ کیمرے کو ڈسپلے کے اندر جگہ دی گئی ہے۔ اسمارٹ فون میں کیرین 980 پروسیسر دیا گیا ہے ۔ ‏یہ فون اینڈرائڈ پائی آپریٹنگ سسٹم کے تحت کام کرتا ہے۔ اسمارٹ فون کی بیٹری 3750 ملی ایمپیئر آورز کی ہے اور اس میں فاسٹ چارجنگ سپورٹ بھی شامل ہے۔فنگر پرنٹ سینسر کو فون کی پشت پر شامل کیا گیا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ فون میں فیس ان لاک فیچر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔فون کو 8 جی بی ریم کے ساتھ 128 جی بی اسٹوریج کے آپشن میں پیش کیا گیا ہے۔ فون کو دو مختلف ورژن میں پیش کیا گیا ہے۔ ایک ورژن میں پشت پر 48 میگا پکسل کا پرائمری کیمرہ اور اس کے ساتھ 16 میگا پکسل اور 2 میگا پکسل کے دو مزید کیمرے دیے گئے ہیں جبکہ دوسرے ورژن میں 20 میگا پکسل کا پرائمری کیمرہ اور 16 میگا پکسل اور 2 میگاپکسل کے دو مزید سنسر شامل ہیں۔ اسمارٹ فون کا فرنٹ کیمرہ 25 میگا پکسل کا ہے اور اس میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس فیچرز بھی شامل ہیں۔ 20 میگا پکسل کیمرے کے ساتھ فون کی قیمت 3099 یان جبکہ 48 میگاپکسل کے ساتھ فون کی قیمت تین ہزار 3399 یان ہے۔

واٹس ایپ پکچر ان پکچر سپورٹ ویب ورژن پر کیسے استعمال کریں؟

واٹس ایپ نے موبائل کے بعد ویب ورژن کے لیے بھی پکچر ان پکچر سپورٹ متعارف کرادی ہے۔

پکچر ان پکچر یا پی آئی پی سپورٹ سے صارفین اس میسجنگ اپلیکشن میں شیئر ہونے والی ویڈیوز کو تھرڈ پارٹی ایپس جیسے انسٹاگرام یا یوٹیوب میں جائے بغیر موبائل پر چیٹ ونڈو میں دیکھ سکتے ہیں۔

یہ فیچر واٹس ایپ موبائل ایپ میں تو گزشتہ ہفتے ہی متعارف کرا دیا گیا تھا اور اب اسے ویب ورژن کے لیے بھی اپ ڈیٹ کردیا گیا ہے۔

یہ فیچر کیسے کام کرتا ہے؟

اس وقت یہ فیچر ویب ورژن میں شیئر ویڈیوز تک محدود ہے۔

جب آپ کسی ویڈیو کو واٹس ایپ ویب پر پلے کرتے ہیں تو وہ چیٹ ونڈو میں اوپن ہوجاتی ہے اور اسکرین پہلے کی طرح ڈارک نہیں ہوتی، جس کے بعد آپ ویڈیو کے ساتھ ساتھ اپنے کانٹیکٹ یا گروپ میں چیٹ بھی جاری رکھ سکتے ہیں۔

واٹس ایپ کی جانب سے اس فیچر میں دیگر ایپس جیسے فیس بک، یوٹیوب اور انسٹاگرام کو بہت جلد شامل کیا جائے گا، جس طرح موبائل میں کیا گیا ہے۔

اس فیچر کو ویب ورژن پر استعمال کرنے کے لیے اپنی واٹس ایپ اپلیکشن کو اپ ڈیٹ کریں۔

اگر آپ کی ایپ پہلے ہی اپ ڈیٹ ہے تو واٹس ایپ ویب اپنے ڈیسک ٹاپ پر اوپن کریں۔

اس کے بعد شیئر ویڈیو میں پوپ اپ آئیکون پر کلک کریں۔

آپ ویڈیو کو اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی پوزیشن میں رکھ سکتے ہیں جبکہ والیوم ایڈجسٹ کرنے کے ساتھ پلے اور پوز بھی کرسکتے ہیں۔

قیمتی پتھراورجواہرات سے بھرے سیارے کی نئی قسم دریافت

سوئزرلینڈ: زمین پر قیمتی پتھر اور جواہرات اس کی گہرائیوں میں ہی ملتے ہیں لیکن ماہرین نے دور خلا میں جواہرات سے مالا مال ایک سیارہ دریافت کیا ہے جسے HD 219134 b کا نام دیا گیا ہے۔

فلکیات دانوں کے مطابق یہ سیارے کی ایک بالکل نئی قسم ہوسکتی ہے کیونکہ یہاں نیلم اور یاقوت کی تشکیل کرنے والے بنیادی اجزا کی بہتات ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ سیارہ غیرمعمولی طور پر روشن ہوسکتا ہے۔ اس سیارے کو بینادی قسم کے حوالے سے زمین اور مریخ کے درجے میں رکھا جاسکتا ہے جو قدرے ٹھوس ہوتے ہیں۔ تاہم یہ خاصہ بڑا سیارہ ہے جوچٹانوں اور دھاتوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔

اگر زمین سے سورج کا موازنہ کیا جائے تو یہ سیارہ اپنے ستارے کے بے حد قریب رہ کر گردش اس کا قلب (کور) ٹھوس لوہے کی بجائے کیلشیئم اور المونیئم سے بھرپور ہوسکتا ہے اور اس صورت میں وہاں لعل، یاقوت اور نیلم موجود ہوسکتے ہیں جو حقیقت میں المونیم آکسائیڈ کی قلمی (کرسٹل) صورتیں ہیں۔

یونیورسٹی آف زیورخ سوئزرلینڈ اور برطانیہ میں کیمبرج یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر ایسے تین سیارے دریافت کئے ہیں جو سپر گرم زمینوں کی طرح ہوسکتے ہیں۔ ان میں HD 219134 b صرف 21 نوری سال کے فاصلے پر کیسیوپیا جھرمٹ میں واقع ہے جو اپنے سورج کے گرد ایک چکر صرف تین دن میں پورا کرلیتا ہے۔ دوسرا سیارہ کینسرائی ای 55 ہے جو 41 نوری سال دوری پر موجود ہے جو اپنے سورج کے گرد ایک چکر صرف 18 گھنٹے میں مکمل کرلیتا ہے۔ تیسرا سیارہ ڈبلیو اے ایس پی 47 ہے جو ہمارے گھر سے 870 نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے اور 18 گھنٹے میں سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرلیتا ہے۔

زیورخ یونیورسٹی کی ماہرِ فلکیات کیرولِن ڈرون کے مطابق سیارے کے اجزا اس وقت تشکیل پذیر ہوئے جب وہ گیسی حالت میں تھا اور ٹھوس نہیں بنے تھے۔ اس سیارے پر فولاد نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ میگنیشیئم ، المونیئم اور کیلشیئم وافر مقدار میں موجود ہیں۔

سیارے کا میں آہنی قلب نہ ہونے کی وجہ سے اس میں مقناطیسی میدان نہیں ہے اور زمین جیسے سیارے میں یہ سب کچھ بہت حیران کن ہے اور یہی وجہ ہے کہ نودریافت سیارے بالکل انوکھی اور نئی قسم سے تعلق رکھتےہیں۔ ان میں HD 219134 b سیارے پر سرخ اور نیلے یاقوت اور نیلم ہوسکتے ہیں۔

یہ تحقیق جرنل منتھلی نوٹسس آف دی رائل ایسٹرونامیکل سوسائٹی میں شائع ہوئی ہے۔

فیس بک واٹس ایپ کے لیے ڈیجیٹل کرنسی تیار کرنے میں مصروف

فیس بک نے رواں سال کے شروع میں کرپٹو کرنسی اشتہارات پر پابندی عائد کی تھی مگر یہ سوشل نیٹ ورک خود ڈیجیٹل کرنسی استعمال کرنے کے لیے تیار نظر آتا ہے۔

بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق فیس بک کی جانب سے ایک ڈیجیٹل کرنسی تیار کی جارہی ہے جو کہ واٹس ایپ صارفین رقوم کی منتقلی کے لیے استعمال کرسکیں گے۔

اس کرینسی کو اسٹیبل کوائن کا نام دیا جارہا ہے اور اسے امریکی ڈالر سے منسلک کیا جائے گا جو اسے بٹ کوائن جیسی دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں زیادہ مستحکم بنانے میں مدد دے گا۔

رپورٹ کے مطابق یہ کرنسی سب سے پہلے بھارت میں متعارف کرائی جاسکتی ہے جہاں واٹس ایپ کا منی ٹرانسفر فیچر کا ٹیسٹ کافی عرصے سے چل رہا ہے۔

واٹس ایپ کے بھارت میں 20 کروڑ سے زائد صارفین ہیں اور بھارتی شہریوں نے 2017 میں 69 ارب ڈالرز بیرون ملک سے اپنے ملک بھیجے تھے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ فیس بک کی جانب سے اس طرح کے کسی منصوبے پر کام کیا جارہا ہو۔

اس کمپنی نے رواں سال مئی میں میسنجر ایپ کے سابق سربراہ ڈیوڈ مارکوس کو بلاک چین ڈویژن کی سربراہی دی تھی جن کی ٹیم اس طرح کے منصوبوں پر کام کررہی ہے۔

اس وقت یہ ٹیم اسٹیبل کوائن کی حکمت عملی اور اس کے اثاثوں پر کام کررہی ہے جو کہ کرنسی کی ویلیو کو تحفظ فراہم کریں گے۔

یہ کرنسی ممکنہ طور پر کچھ عرصے تک متعارف ہونے کا امکان نہیں مگر فیس بک نے فی الحال اس حوالے سے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

2018 فیس بک کے لیے مشکلات سے بھرا سال

فیس بک 2018 کا اختتام بھی اسی طرح کرنے والی ہے جس طرح اس کا آغاز کیا تھا، یعنی صارفین اور ماہرین کی تنقید، جس کی وجہ ان کے اعتماد اور ذاتی معلومات کا غلط استعمال ہے۔

ہوسکتا ہے آپ کو علم نہ ہو یا یاد نہ ہو مگر 2018 وہ سال ہے جسے سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ کے بانی مارک زکربرگ نے سوشل میڈیا نیٹ ورک کے تمام مسائل حل کرنے کا سال قرار دیا تھا مگر انہوں نے خود تسلیم کیا تھا کہ اس کے کچھ مسائل کو حل نہیں کیا جاسکتا۔

منگل کو نیویارک ٹائمز نے چونکا دینے والا انکشاف کیا تھا کہ فیس بک صارفین کے ڈیٹا کو متعدد شراکت دار کمپنیوں سے شیئر کرتی ہے۔

سال کا آغاز

فوٹو بشکریہ مارک زکربرگ فیس بک پیج
فوٹو بشکریہ مارک زکربرگ فیس بک پیج

4 جنوری کو مارک زکربرگ نے اپنا سالانہ چیلنج فیس بک کو درست کرنا قرار دیا تھا کیونکہ اس وقت سوشل میڈیا نیٹ ورک متعدد سیکیورٹی خامیوں اور پرائیویسی کے باعث حملوں کی زد میں تھا، خصوصاً 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت اور صارفین کے وقت کا ضیاع زیادہ توجہ کا مرکز تھے۔

مگر کوششوں کا انجام یہ ہوا کہ مارک زکربرگ نے بیان دیا کہ مسائل کے حل کے لیے کم از کم 3 برس درکار ہوں گے اور سال کے اختتام پر انہوں نے اعتراف کیا کہ فیس بک کے مسائل کو دیکھا تو جاسکتا ہے مگر حل نہیں کیا جاسکتا۔

مارچ: کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل

اے ایف پی فائل فوٹو
اے ایف پی فائل فوٹو

یہ اسکینڈل دی گارڈین اور نیویارک ٹائمز کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آیا تھا جس میں انکشاف کیا گیا کہ برطانیہ سے تعلق رکھنے والی مشاورتی کمپنی کا تعلق ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم سے جڑا ہوا ہے، جس نے کروڑوں فیس بک صارفین کے ڈیٹا کا غلط استعمال کیا۔

اس رپورٹ کے بعد فیس بک کے خلاف طوفان اٹھ کھڑا ہوا مگر معاملہ اس وقت بدتر ہوگیا جب مارک زکربرگ اور کمپنی کی سی او او شیرل سینڈبرگ دنوں آخری وقت تک اس معاملے پر خاموش رہے۔

بتدریج فیس بک نے اس مسئلے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ یہ توقعات سے بھی زیادہ بڑھا ہے، ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 5 کروڑ افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں، بعد ازاں یہ تعداد 8 کروڑ 70 لاکھ تک جاپہنچی۔

فیس بک نے اس کے بعد ایک ٹول بنایا تاکہ لوگ جان سکیں کہ ان کے ڈیٹا تک رسائی ہوئی یا نہیں۔

مارک زکربرگ کو امریکی ایوان نمائندگان میں جاکر اس حوالے سے صفائی بھی دینا پڑی تھی۔

فیس بک میسنجر چیٹ اسکین کیے جانے کا انکشاف

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اپریل میں یہ انکشاف سامنے آیا تھا کہ فیس بک میسنجر ایپ میں صارفین کی جانب سے ایک دوسرے کو بھیجے جانے والے پیغامات کے مواد کو اسکین کرتی ہے تاکہ کمپنی کے اصولوں کی خلاف ورزی پر انہیں بلاک کیا جاسکے۔

بعد ازاں فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے خود میسنجر کے تمام مواد کو اسکین کرنے کی تصدیق ایک انٹرویو کے دوران کی۔

انہوں نے ووکس کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ فیس بک کی جانب سے میانمار میں میسنجر کے پرائیویٹ پیغامات میں روہینگیا مسلمانوں کے قتل عام کے حوالے سے مواد کو اسکین اور ہٹایا گیا۔

اس بیان کے بعد یہ خدشہ سامنے آیا کہ فیس بک کی جانب سے تمام میسنجر صارفین کے پیغامات کو اسکین جاتا ہے، جس کی تصدیق اب فیس بک کے ایک ترجمان نے کی۔

ترجمان کے مطابق ‘ جب فیس بک پر صارف کوئی تصویر بھیجتا ہے تو ہمارا آٹومیٹڈ سسٹم اسکین اپنی فوٹو میچنگ ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے بچوں کے استحصال کی تصاویر کو شناخت کرتی ہے یا جب کوئی لنک بھیجا جاتا ہے تو ہم میل وئیر یا وائرسز کے لیے اسے اسکین کرتے ہیں، کمپنی نے یہ ٹولز اس لیے بنائے ہیں تاکہ فوری طور پر اپنے پلیٹ فارم پر برے رویے کو روک سکیں’۔

کمپنی کے مطابق میسجز کے اسکین سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو اشتہارات کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ یہ لوگوں کو دوسروں کے استحصال، توہین یا دیگر معاملات سے روکنے کے لیے ہے۔

ڈیٹا ہیک

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

معاملہ یہاں ہی ختم نہیں ہوا بلکہ فیس بک نے ستمبر میں اعتراف کیا کہ سوشل نیٹ ورک پر 5 کروڑ افراد ہیکنگ سے متاثر ہوئے ہیں۔

اس بار فیس بک کے ویو ایز فیچر کی کمزوری نے لوگوں کو ہیکرز کے لیے آسان شکار بنادیا جو فیچر سے جڑے کوڈ کی مدد سے ایسسز ٹوکنز چوری کرکے کسی کے اکاﺅنٹ کو ہیک کرسکتے تھے۔

اگرچہ ایسسز ٹوکنز پاس ورڈ نہیں مگر اس کی بدولت لوگ پاس ورڈ کے بغیر لاگ ان ہوسکتے ہیں۔

2 ہفتے بعد فیس بک نے بتایا کہ 2 کروڑ 90 لاکھ افراد کے نام، ای میل ایڈریسز اور فون نمبر چوری کرلیے گئے ہیں جبکہ ایک کروڑ 40 چالیس افراد کی تاریخ پیدائش، آبائی علاقے اور دفتری معلومات بھی ہیکرز تک پہنچ گئی ہے۔

بعد ازاں فیس بک نے بتایا کہ ایک ڈیجیٹل مارکیٹنگ کمپنی اس سیکیورٹی حملے کے پیچھے ہے اور یہ ہیکرز کسی ریاست کے لیے کام نہیں کررہے۔

تصاویر کا اسکینڈل

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

14 دسمبر کو فیس بک نے ایک اور سیکیورٹی خامی کا اعتراف کیا جس میں سوشل نیٹ ورک میں موجود ایک بَگ نے 68 لاکھ افراد کی تصاویر تک ڈویلپرز کو رسائی دے دی۔

ڈویلپرز کو ان تصاویر تک بھی رسائی مل گئی جو صارفین نے اپ لوڈ تو کیں مگر پوسٹ نہیں کیں۔

ڈیٹا شیئرنگ معاہدے

نیویارک ٹائمز نے 18 دسمبر کو اپنی رپورٹ میں بتایا فیس بک کی جانب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو صارفین کے ذاتی ڈیٹا تک بہت زیادہ رسائی دی جاتی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مائیکروسافٹ کے بنگ سرچ انجن کو فیس بک صارفین کے دوستوں کے ناموں کو دیکھنے کی اجازت ان کی مرضی کے بغیر دی گئی جبکہ مائیکروسافٹ سرورز پر فیس بک صارفین کی پروفائلز بلٹ کی گئیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اسپاٹیفائی، نیٹ فلیکس اور رائل بینک آف کینیڈا صارفین کے ذاتی پیغامات کو پڑھنے، لکھنے اور ڈیلیٹ کرسکتے ہیں جبکہ کسی تھریڈ میں تمام صارفین کو دیکھ بھی سکتے ہیں۔

ایمازون کو صارفین کے ناموں اور کانٹیکٹ انفارمیشن کے حصول کی اجازت دی گئی، ایپل کو کانٹیکٹ نمبروں اور کیلنڈر ایونٹس تک رسائی دی گئی جبکہ صارفین کی ڈیوائسز سے مطلوبہ ڈیٹا چھپانے کی صلاحیت بھی دی گئی۔

فیس بک نے ڈیڑھ سو سے زائد کمپنیوں سے اس طرح کی شراکت داری 2010 میں کی تھی جن میں سے کچھ اب بھی موثر ہیں۔

19 دسمبر کو اس وقت فیس بک کو دھچکا لگا جب امریکی حکومت نے پہلی بار فیس بک کے خلاف قانونی اقدامات کا آغاز کیا۔

مشکلات کے خلاف فیس بک کے اقدامات

اے پی فائل فوٹو
اے پی فائل فوٹو

آغاز میں فیس بک نے بحران پر قابو پانے کے لیے معذرت، مختلف فیچرز اور آگے بڑھنے کا رویہ اپنایا۔

مگر پھر اس کا رویہ جارحانہ ہوتا چلا گیا۔

نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل کے بعد فیس بک کے اندر عہدیداران کا خیال تھا کہ اس نقصان کی بھرپائی ممکن ہے اور اس مقصد کے لیے کمپنی نے ایک نیا چیف آف امریکن لابنگ تعینات کیا تاکہ کانگریس کے غصے کو ٹھنڈا کیا جاسکے۔

اس کے علاوہ خاموشی سے کمپنی کے اندر ایک مہم ‘وی گیٹ اٹ’ کا آغاز کیا تاکہ ملازمین کو یقین دہانی کرائی جاسکے کہ کمپنی 2018 میں ایک بار پھر ٹریک پر واپس آجائے گی۔

اسی طرح جارحانہ لابنگ کی گئی، اپنے مخالفین کے خلاف مہم شروع کی گئی اور بھی ایسے متعدد اقدامات کیے گئے۔

2018 کے بہترین اسمارٹ فونز

ہر ماہ کئی نئے اسمارٹ فونز سامنے آتے ہیں جس کے بعد ان کا انتخاب کرنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔

مگر 2018 کے بہترین اسمارٹ فونز کونسے ہیں؟

ویسے تو کسی ایک فون کو بہترین قرار دینا مشکل ہے مگر مختلف کمپنیوں کی درج ذیل ڈیوائسز دنیا بھر میں انتہائی مقبول ثابت ہوئیں۔

سام سنگ گلیکسی نوٹ 9

فوٹو بشکریہ سام سنگ
فوٹو بشکریہ سام سنگ

یہ اب تک سام سنگ کے سب سے بڑے ڈسپلے والا فون ہے جس میں 6.4 انچ کی انفٹنی بیزل لیس اسکرین دی گئی، مگر دیکھنے میں چھوٹا لگتا ہے جس کی وجہ ٹاپ اور نچلے حصے میں بیزل بہت کم ہونا ہے۔ یہ فون بھی سابقہ ماڈل کی طرح واٹر ریزیزٹنٹ اور ڈسٹ پروف تھا۔ اس میں گلیکسی نوٹ سیریز کی سب سے طاقتور 4000 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی جبکہ پہلی مرتبہ سام سنگ نے 512 جی بی انٹرنل اسٹوریج دی، جس میں 512 جی بی کارڈ کی مدد سے اسے ایک ٹی بی تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ اس فون کے 128 جی بی اسٹوریج والے ماڈل میں 6 جی بی جبکہ 512 جی بی اسٹوریج والے ورڑن میں 8 جی بی ریم دی گئی اور یہ بھی پہلی مرتبہ ہے کہ سام سنگ کے کسی فون میں 8 جی بی ریم دی گئی۔ اس فون میں 12، بارہ میگا پکسل کے 2 کیمرے بیک پر دیئے گئے اور پہلی مرتبہ ایس پین پر بھی توجہ دی گئی جس میں بلیوٹوتھ آپشن دیا گیا، جس کی مدد سے آپ اسکرین پر ڈوڈل کے ساتھ ساتھ بہت کچھ کرسکتے ہیں۔

آئی فون ایکس ایس اور ایکس ایس میکس

فوٹو بشکریہ ایپل
فوٹو بشکریہ ایپل

یہ ایپل کے پہلے اسمارٹ فونز ہیں جن میں 512 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے تاہم جیسا اکثر افراد کو معلوم ہے کہ آئی فونز میں ایس ڈی کارڈ سپورٹ نہیں ہوتی، تو انہیں فون میں دی گئی اسٹوریج یا کلاوڈ اسٹوریج پر انحصار کرنا ہوتا ہے۔ اور ہاں یہ ایپل کے پہلے فونز ہیں جن میں ڈوئل سم سپورٹ اور گیگابٹ کلاس ایل ٹی ای سپورٹ دی گئی ہے جو 5 جی ٹیکنالوجی کی جانب اس کمپنی کا پہلا قدم ہے۔ یعنی ان فونز میں ڈاؤ لوڈنگ اسپیڈ ایک گیگا بائٹ فی سیکنڈ ہوگی، یعنی بہت تیز ڈاؤن لوڈ بلکہ ایک منٹ میں 7 جی بی کا ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کرنا ممکن ہوگا تاہم اس کا انحصار انٹرنیٹ پرووائڈر سروس پر ہوگا۔ آئی فون ایکس ایس 5.8 انچ کے سپر ریٹینا ڈسپلے کے ساتھ ہے جس میں بیزل نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ آئی فون ایکس جیسا نوچ بھی موجود ہے جس میں ڈیپتھ سنسنگ کیمرہ فیس آئی ڈی کے لیے دیا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں آئی فون ایکس ایس میکس 6.5 انچ کے ڈسپلے کے ساتھ ہے جو ایپل کی تاریخ کا سب سے بڑی اسکرین والا فون ہے۔ یہ دونوں فونز او ایل ای ڈی ڈسپلے کے ساتھ ہیں جبکہ واٹر اور ڈسٹ ریزیزٹنٹ کا فیچر بھی موجود ہے۔ اس فون میں ایپل نے اپنی نئی اے 12 بایونک چپ استعمال کی ہے جو کمپنی کے بقول اسمارٹ فون مارکیٹ کی پہلی 7 نانو میٹر چپ ہے۔ دونوں فونز کے بیک پر 12، بارہ میگا پکسل کے 2 کیمرے دیئے گئے ہیں، جو آپٹیکل امیج اسٹیبلائزیشن، ٹرو ٹو سنسر سے لیس ہیں، ان میں سے ایک وائیڈ اینگل ایف 1.8 آپرچر،جبکہ دوسرا ٹیلی فوٹو کیمرہ ایف 2.4 آپرچر اور 2 ایکس آپٹیکل زوم کے ساتھ ہے۔

ون پلس سکس ٹی

فوٹو بشکریہ یوایس ٹوڈے
فوٹو بشکریہ یوایس ٹوڈے

اس فون میں کم قیمت کے ساتھ ہر اس اہم فیچر حصہ بنایا گیا جو دیگر کمپنیوں کو ٹکر دے سکے۔ ون پلس سکس ٹی میں 6.41 انچ کی او ایل ای ڈی اسکرین 19:5:9 ریشو کے ساتھ دی گئی۔ پہلی مرتبہ اس کمپنی نے فنگرپرنٹ ریڈر کو اسکرین کے اندر نصب کیا ہے اور اسے اسکرین ان لاک کا نام دیا۔ کمپنی کے مطابق بیٹری لائف کو 20 فیصد بڑھایا گیا اور یہ فون آدھے گھنٹے چارج پر پورا دن کام کرسکے گا۔ فون میں کوالکوم کا طاقتور اسنیپ ڈراگون 845 پراسیسر دیا گیا، اس کے بیک پر 16 اور 20 میگا پکسل کے 2 کیمرے دیئے گئے ہیں جو آپٹیکل امیج اسٹیبلائزیشن کی سہولت صارفین کو فراہم کریں گے۔

پی 20 پرو

فوٹو بشکریہ ہیواوے
فوٹو بشکریہ ہیواوے

یہ دنیا کا پہلا فون تھا جس میں 3 بیک کیمروں کا سیٹ اپ دیا گیا، خاص بات یہ ہے کہ ان 3 میں سے ایک کیمرہ 40 میگا پکسل کے آر جی بی سنسر کے ساتھ ہے جبکہ ایک 20 میگا پکسل مونوکروم سنسر اور تیسرا 8 میگا پکسل سنسر کے ساتھ ہے جس میں ٹیلی فوٹو لینس اور 3x آپٹیکل زوم (5x ہائیبرڈ زوم) دیا گیا ہے۔ پی 20 پرو میں سکس جی بی ریم، 4000 ایم اے ایچ بیٹری، آئی پی 67 واٹر اور ڈسٹ ریزیزٹنٹ کے فیچرز دیئے گئے جبکہ فیس ان لاک بھی موجود ہے اور ہاں ڈسپلے میں آئی فون ایکس جیسا نوچ نمایاں ہے مگر نیچے بیزل کافی نمایاں ہے جس کی وجہ فنگرپرنٹ اسکینر کی موجودگی ہے۔

آئی فون ایکس آر

فوٹو بشکریہ ایپل
فوٹو بشکریہ ایپل

اس سال ایپل نے مہنگے فونز کے ساتھ آئی فون ایکس جیسے ڈیزائن کا نسبتاً سستا 6.1 انچ کا ایل سی ڈی ڈسپلے والا انٹری لیول آئی فون ایکس آر بھی متعارف کرایا۔ اس کا ڈسپلے آئی فون ایکس کی طرح لگ بھگ بیزل لیس ہے جس میں نوچ بھی دیا گیا ہے جبکہ واٹر اور ڈسٹ ریزیزٹنس بھی موجود ہے تاہم ایکس ایس اور ایکس ایس پلس کے مقابلے میں کچھ کمتر ہے۔ اس میں فیس آئی ڈی کا فیچر بھی موجود ہے جبکہ طاقتور اے 12 بایونک چپ بھی دی گئی ہے جو دیگر 2 فونز میں بھی موجود ہے۔ اس میں نیا کیمرہ سسٹم دیا گیا ہے یعنی بیک پر 12 میگا پکسل کا وائیڈ اینگل لینس جو آپٹیکل امیج اسٹیبلائزیشن، ایف 1.18 آپرچر اور ٹرو ٹون فلیش سے لیس ہے۔

ایل جی وی 40

فوٹو بشکریہ ایل جی
فوٹو بشکریہ ایل جی

یہ دنیا کا پہلا فون ہے جس میں آگے اور پیچھے مجموعی طور پر 5 کیمرے دیئے گئے، وی 40 پہلا فون ہے جس کے بیک پر 3 جبکہ فرنٹ پر 2 کیمرے دیئے گئے۔ اس فون میں 6.4 انچ کا لگ بھگ بیزل لیس ڈسپلے دیا گیا ہے جبکہ اوپری حصے میں آئی فون ایکس جیسا نوچ موجود ہے، تاہم صارف چاہے تو اسے ہائیڈ کرسکتا ہے۔ اس میں آڈیو کے لیے بلٹ ان ڈی اے سی دیا گیا ہے جو ہیڈفونز کے لیے آواز کو بہتر کرے گا۔ فون میں گوگل اسسٹنٹ کا بٹن بھی دیا گیا ہے جس سے آپ ریمائنڈر، موسم جاننے اور چند دیگر دوسرے کام یعنی وائیڈ اینگل کیمرے سے تصویر لینا وغیرہ کرسکتے ہیں۔ یہ فون آئی پی 68 واٹر ریزیزٹنس ریٹنگ رکھتا ہے اور کمپنی کے مطابق ایک میٹر پانی میں آدھے گھنٹے تک رہنے پر بھی اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ایل جی نے اس فون میں ہیڈفون جیک کو برقرار رکھا ہے اور صارفین کو ڈونگل یا بلیوٹوتھ سے کنکٹ کرکے ہیڈفون استعمال کرنے کی تکلیف کا سامنا نہیں ہوگا۔ اس فون میں 3300 ایم اے ایچ بیٹری، سکس جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے، تاہم ایس ڈی کارڈ سے اسے 2 ٹی بی تک بڑھایا جاسکتا ہے۔

سونی ایکسپیریا ایکس زی تھری

فوٹو بشکریہ سونی
فوٹو بشکریہ سونی

یہ سونی کا پہلا فون ہے جس میں او ایل ای ڈی ڈسپلے دیا گیا ہے جبکہ سائیڈ سنس ٹیکنالوجی دی گئی ہے جس میں فیورٹ ایپس کو ڈیوائس کی کسی بھی سائیڈ کو دبا کر لانچ کیا جاسکے گا۔ سونی کا یہ فون 6 انچ کے کیو ایچ ڈی پلس ڈسپلے کے ساتھ ہے جس کے تحفظ کے لیے کورننگ گوریلا گلاس 5 کو استعمال کیا گیا ہے۔ اس میں کوالکوم کا طاقتور اسنیپ ڈراگون 845 اوکٹا کور پراسیسر دیا گیا ہے جبکہ 4 جی بی اور 64 جی بی اسٹوریج ہے، تاہم مائیکرو ایس ڈی کارڈ سے اسے 512 جی بی تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ 3300 ایم اے ایچ بیٹری کو کوئیک چارجنگ اور وائرلیس چارجنگ سپورٹ دی گئی ہے جبکہ واٹر اور ڈسٹ ریزیزٹنس آئی پی 68 سرٹیفکیشن کے ساتھ ہے اور اینڈرائیڈ پائی آپریٹنگ سسٹم موجود ہے۔ سونی کے فونز کو کیمروں کی وجہ سے جانا جاتا ہے اور ایکسپیریا ایکس زی تھری بھی اس حوالے سے کم نہیں۔ اس فون میں 19 میگا پکسل موشن آئی کیمرہ دیا گیا ہے جو کہ پریڈیکٹو ہائیبرڈ آٹو فوکس اور سپرسلوموشن ویڈیو ریکارڈنگ کے فیچرز موجود ہیں۔

گلیکسی ایس نائن اور ایس نائن پلس

فوٹو بشکریہ سام سنگ
فوٹو بشکریہ سام سنگ

یہ فون دیکھنے میں ایس ایٹ جیسے ڈیزائن کے ساتھ ہیں، جن میں سے ایس نائن 5.8 انچ جبکہ ایس نائن پلش میں 6.2 انچ ڈسپلے دیا گیا ہے۔ اسٹیریو اسپیکرز، پہلے سے بہتر مقام پر فنگرپرنٹ سنسر، پہلے سے بہتر فیس ان لاک جو تاریکی میں کام کرسکے گا، کوالکوم اسنیپ ڈراگون 845 پراسیسر یا ایکسینوس 9810 اوکٹا کور پراسیسر، اینڈرائیڈ اوریو آپریٹنگ سسٹم، 4 جی بی ریم (ایس نائن)، سکس جی بی ریم (ایس نائن پلس) ڈسٹ اینڈ واٹر پروف اور اینی موجی جیسے فیچرز اس میں دیئے گئے ہیں۔ اس سال کے فونز میں سب سے بڑا اور نمایاں فیچر ان کا نیا کیمرہ سسٹم ہے، تاہم اس بار کمپنی نے ایس نائن کے بیک پر ایک جبکہ دوسرے میں ڈوئل کیمرہ سیٹ اپ دیا ہے۔ یہ نیا کیمرہ سام سنگ کا پہلا ایسا سیٹ اپ ہے جو مکینیکلی طور پر ایڈجسٹ ایبل آپرچر کے ساتھ ہے جو کہ بہت روشن ایف 1.5 سے لے کر چھوٹے ایف 2.4 پر سوئچ ہوسکتا ہے، جس کا انحصار ایکسپوزر کنڈیشن پر ہے۔

میٹ 20 پرو

فوٹو بشکریہ ہیواوے
فوٹو بشکریہ ہیواوے

ہیواوے نے سال کا دوسرا فلیگ شپ فون پی 20 پرو سے بھی زیادہ طاقتور قرار دیا تھا جو پہلا اینڈرائیڈ فون تھا جس میں 7nm پراسیسر دیا گیا، اس کے بیک پر بھی تین کیمروں کا سیٹ موجود ہے مگر پی 2 پرو کے مقابلے میں یہ چوکور شکل میں دیا گیا ہے۔ تینوں میں سے ایک 40 میگا پکسل، دوسرا 20 میگا پکسل اور تیسرا 8 میگاپکسل کا ہے جبکہ فرنٹ پر 24 میگاپکسل کیمرہ دیا گیا۔ 6.39 انچ او ایل ای ڈی ڈسپلے نوچ کے ساتھ ہے، اس میں ایس ایس ڈی کارڈ سلاٹ کو روایتی ایس ڈی کارڈ کی بجائے نانو میموری کارڈ کے لیے دیا گیا ہے۔ یہ چینی کمپنی کا وہ فون ہے جس میں فنگرپرنٹ سنسر اسکرین کے اندر دیا گیا جبکہ بیٹری کے لحاظ سے بھی یہ کافی طاقتور ہے جس میں 4200 ایم اے ایچ بیٹری موجود ہے۔

گوگل پکسل تھری اور پکسل تھری ایکس ایل

فوٹو بشکریہ سی نیٹ
فوٹو بشکریہ سی نیٹ

ویسے تو دیگر اینڈرائیڈ فونز میں سب کچھ مل جائے گا مگر سافٹ وئیر اپ ڈیٹس کے حوالے سے گوگل کے اپنے فونز کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا جو تازہ ترین فرم وئیر اور سیکیورٹی اپ ڈیٹس حاصل کرتے ہیں۔ پکسل تھری اور پکسل تھری ایکس ایل بھی ایسے ہی فونز ہیں، جن میں سے ایکس ایل میں 6.3 انچ ڈسپلے، اسنیپ ڈراگون پراسیسر، 4 جی بی ریم، 64 سے 128 جی بی اسٹوریج دی گئی، تاہم بیک پر 12 میگاپکسل کا ایک ہی کیمرہ ہے اور فرنٹ پر ڈوئل کیمرہ سیٹ اپ دیا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں پکسل تھری 5.5 انچ ڈسپلے کے ساتھ ہے باقی فیچرز ایکس ایل والے ہی ہیں۔ اس بار گوگل نے اپنے فونز میں وائرلیس چارجنگ کو بھی شامل کیا ہے اور ہاں گوگل پکسل سیریز کیمرے کے لیے جانی جاتی ہے کیونکہ فوٹوگرافی کے میدان میں اس کا ایک بیک کیمرہ بھی ڈوئل یا ٹرپل کیمرہ سیٹ اپ کا مقابلہ کرسکتا ہے۔

دنیا کا پہلا 12 جی بی ریم والا اسمارٹ فون

آئندہ چند ہفتوں میں کئی اینڈرائیڈ فلیگ شپ فونز 10 جی بی ریم کے ساتھ متعارف ہونے والے ہیں خصوصاً چینی کمپنیاں شیاﺅمی اور ون پلس ایسی ڈیوائسز پیش کرنے والی ہیں۔

مگر ان کو بھول جائیں دنیا کا پہلا 12 جی بی ریم والا اسمارٹ فون اب متعارف کرا دیا گیا ہے اور یہ بھی چین میں ہی سامنے آیا ہے۔

لیناوو نے اپنا نیا فلیگ شپ فون زی 5 پرو متعارف کرا دیا ہے جس میں 12 جی بی ریم اور 512 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے۔

اس میں کوالکوم اسنیپ ڈراگون کا نیا 855 پراسیسر بھی دیا گیا ہے جو کہ چین میں 2019 میں کسی وقت فروخت کے لیے دستیاب ہوگا۔

اس سے پہلے ایک لیک میں دعویٰ سامنے آیا تھا کہ سام سنگ گلیکسی ایس 10 کے ایک ورژن میں دنیا کا پہلا 12 جی بی ریم اور ایک ٹی بی اسٹوریج والا اسمارٹ فون متعارف کرانے والی ہے۔

زی فائیو پرو 12 جی بی کے علاوہ 8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج، سکس جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج کے ورژن میں بھی دستیاب ہوگا جبکہ اس کا ایک سستا ورژن بھی ہوگا جو کہ اسنیپ ڈراگون 710 پراسیسر، 6 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج دی جائے گی۔

فوٹو بشکریہ آئس یونیورس ٹوئٹر اکاؤنٹ
فوٹو بشکریہ آئس یونیورس ٹوئٹر اکاؤنٹ

اس فون میں لگ بھگ بیزل لیس اسکرین دی جائے گی تاہم زی فائیو پرو میں نوچ نہیں ہوگا بلکہ فرنٹ کیمرے کے لیے سلائیڈ آﺅٹ میکنزم دیا جائے گا۔

اس سلائیڈر میں 16 اور 8 میگا پکسل کے 2 سیلفی کیمرے دیئے جائیں گے جبکہ بیک پر 24 اور 16 میگا پکسل کا ڈوئل کیمرہ سیٹ اپ ہوگا۔

اس فون کے دیگر فیچرز میں 6.39 انچ او ایل ای ڈی اسکرین، بلیوٹوتھ 5.0، ڈوئل سم سپورٹ اور 3350 ایم اے ایچ بیٹری دی جائے گی۔

اس فون کی قیمت 4398 یوآن (88 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) ہوگی جبکہ اس کا 8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج اور 6 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج والا ورژن بالترتیب 3998 یو آن اور 2998 یوآن میں دستیاب ہوں گے۔

اس ماڈل کا سب سے سستا ورژن 2698 یوآن میں فروخت کیا جائے گا۔

شہد کی مکھیوں کو ڈرون بنانے کا تجربہ

واشگٹن: شہد کی مکھیاں بہت طویل فاصلہ طے کرتی ہیں۔ ان کی پیٹھ پر ہلکے برقی آلات لگا کر ایک وسیع علاقے کے متعلق معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

یونیورسٹی آف واشنگٹن میں پال ایلن اسکول آف کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ کے شیام گولکاٹا اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ عام ڈرون 20 سے 30 منٹ تک پرواز کرسکتا ہے اور اسے دوبارہ چارج کرنا ہوتا ہے لیکن اگر مکھیوں پر نہایت مختصر اور نفیس آلات لگا دیئے جائیں تو وہ کئی گھنٹوں تک ڈرون بن کر ہمیں کسی علاقے کا درجہ حرارت، نمی یا فصل کی کیفیت سے آگاہ کرسکتے ہیں یوں زندہ مکھیاں بہت کارآمد برقی ڈرون میں بدل سکتی ہیں۔

ماہرین نے برقی آلات کا ایک ایسا مجموعہ تیار کیا ہے جس میں کئی طرح کے سینسرموجود ہیں جو کسی بھی علاقے کی خبر دے سکتے ہیں۔ انہیں چلانےوالی بیٹری ایک مرتبہ چارج ہونے کے بعد سات گھنٹے مسلسل چلتی رہتی ہے اور جوں ہی مکھیاں واپس اپنے چھتے میں جاتی ہیں تو رات کے وقت بیٹری چارج ہونے لگتی ہے۔

ماہرین کا دعویٰ ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی محنتی کیڑے کو ڈرون بنانے کا تجربہ کیا گیا ہے لیکن اس میں کئی مسائل آڑے آئے۔ ننھی مکھی زیادہ وزن نہیں سہار سکتی جبکہ جی پی ایس ریسیور بہت زیادہ توانائی استعمال کرتے ہیں۔ ان دونوں کے لیے ماہرین نے کئی ٹیکنالوجی کو آزمایا اور آخرکار یہ مسائل حل کرلیے۔

پہلے مرحلے میں مکھیوں پر صرف سادہ ٹریکنگ آلات لگائے اور انہیں 10 انچ کے فاصلے تک اڑایا۔ اس پورے سامان کا وزن 102 ملی گرام تھا جو چاول کے سات کچے دانوں کے برابر ہے اور چارج ہونے والی بیٹری کا وزن 70 ملی گرام تھا جبکہ بقیہ 30 ملی گرام میں تمام سینسر اور آلات لگائے گئے۔

چونکہ جی پی ایس اینٹینا زیادہ بجلی کھاتا ہے اس لیے ماہرین نے مکھی کا محلِ وقوع ناپنے کے لیے لوکلائز تکنیک کی طرز پر جگہ جگہ بیس اسٹیشن قائم کرکے کئی انٹینا لگائے جس سے مکھیوں کی پوزیشن کو 80 میٹر کے اندر اندر جاننے میں مدد ملی۔ اس کے بعد کئی سینسر سے مکھیوں کو آزادانہ گھمایا گیا اور اس سے ڈیٹا لیا گیا۔

چھتے میں واپسی پر ’بیک اسکیٹر‘ نامی طریقے سے مکھیوں کا ڈیٹا جمع کیا گیا۔ اگلے مرحلے میں ڈرون مکھیوں پر کیمرے لگا کر براہِ راست کسی جگہ کی ویڈیو بنانا ممکن ہوسکے گا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس تحقیق سے نہ صرف فصلوں اور باغات میں تحقیق پر مدد ملے گی بلکہ کسان ڈرون کے مقابلے میں مکھوں کے ذریعے بہتر طور پر اپنی زراعت کو سمجھ سکیں گے۔

Google Analytics Alternative