سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

گوگل میپس وہ فیچر اب دستیاب جس کا صارفین کو شدت سے انتظار تھا

گوگل نے تمام اینڈرائیڈ صارفین کے لیے اپنی مقبول ترین سروس میپس میں انکوگنیٹو موڈ استعمال کرنے کی سہولت فراہم کردی ہے۔

رواں سال مئی میں گوگل کی سالانہ ڈویلپر کانفرنس میں اس فیچر کو متعارف کرانے کا وعدہ کیا گیا تھا جبکہ اکتوبر کے شروع میں پرائیویسی کے حوالے سے متعدد فیچرز کا اعلان کیا جن میں گوگل میپس میں انکوگنیٹو موڈ بھی شامل تھا، جو صارفین کو اس ایپ میں اپنی سرگرمیاں گوگل اکاﺅنٹ میں محفوظ ہونے سے روکنے میں مدد دیتا ہے۔

اور اب یہ فیچر آخرکار تمام اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب ہے۔

گوگل نے گزشتہ دنوں ایک سپورٹ پیج پر اس بات کا اعلان کیا کہ میپ انکوگنیٹو موڈ اب اینڈرائیڈ پر دستیاب ہے اور صارفین اسے کسی بھی وقت اپلیکشن اوپن کرکے دائیں جانب اوپر موجود اپنی پروفائل تصویر پر کلک کرکے استعمال کرسکتے ہیں۔

فوٹو بشکریہ گوگل
فوٹو بشکریہ گوگل

ایسا ہونے کے بعد صارف کا گوگل اکاﺅنٹ میپس پر سرچنگ کے دوران غائب ہوجائے گا جس سے سرچ ہسٹری یا سینڈ نوٹیفکیشن گوگل ڈیٹا میں محفوظ نہیں ہوں گے، اسی طرح لوکیشن ہسٹری یا شیئر لوکیشن ڈیٹا وغیرہ بھی اپ ڈیٹ نہیں ہوں گے جبکہ پرسنلائز میپس کے لیے ذاتی ڈیٹا بھی استعمال نہیں ہوگا۔

تاہم انکوگنیٹو موڈ پر میپس کو استعمال کرنے پر چند فیچرز جیسے کمیوٹ، فار یو، لوکیشن ہسٹری (لوکیشن ہسٹری صرف میپس نہیں بلکہ پوری ڈیوائس کے لیے رک جائے گی)، لوکیشن شیئرنگ، نوٹیفکیشنز اور میسجز، سرچ ہسٹری، سرچ کمپلیٹشن سجیشن، ادر میپس، گوگل اسسٹنٹ مائیکروفون نیوی گیشن، گوگل میپس کنٹری بیوشنز اور یور پلیسز وغیرہ استعمال نہیں ہوسکیں گے۔

گوگل کے مطابق یہ انکوگنیٹو موڈ اینڈرائیڈ پر ہر ایک کے لیے دستیاب ہے، تاہم اگر آپ کی ڈیوائس میں نظر نہیں آرہا ہے تو آئندہ چند دن میں اپ ڈیٹ ہوجائے گا۔

آئی او ایس ڈیوائسز کے لیے یہ فیچر آئندہ چند ہفتوں یا مہینوں میں متعارف کرایا جائے گا۔

خیال رہے کہ انکوگنیٹو موڈ کو کروم کے بعد گزشتہ سال یوٹیوب میں بھی متعارف کرایا گیا تھا۔

ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر میں یہ فیچر پہلے ہی کروم کی بدولت دستیاب ہے اور جب کروم میں انکوگنیٹو موڈ پر براﺅز کرتے ہیں تو پرائیویسی سیٹنگ کا اطلاق خودکار طور پر میپس پر ہوجاتا ہے۔

مائیکرو سافٹ کے نئے ایج براؤزر کا لوگو سامنے آگیا

مائیکرو سافٹ نے اپنے ویب براﺅزر ایج کو اب کروم جیسا بنا دیا ہے اور اس مقصد کے لیے کرومیم نامی رینڈرنگ انجن کا استعمال کیا گیا جو کہ گوگل اپنے کروم براﺅزر کے لیے استعمال کررہا ہے۔

یعنی اب مائیکرو سافٹ ایج کا نیا کرومیم پاور انجن دے دیا گیا ہے تو یہ کمپنی اس براﺅزر کو ایک نئی شکل دینے کے لیے تیار ہے۔

مائیکروسافٹ کی جانب سے ایج کا نیا ری ڈیزائن لوگو متعارف کرایا گیا ہے جو کہ سمندری لہر سے متاثر ہے اور پرانے انٹرنیٹ ایکسپلورر آئیکون سے بالکل نہیں ملتا۔

یعنی اس میں ای موجود ہے مگر اس سے ہٹ کر یہ لوگو ماضی کے انٹرنیٹ ایکسپلورر سے بالکل مختلف ہے اور یہ کمپنی بھی اس سے زیادہ مشابہت نہیں چاہتی، کیونکہ وہ اسے متروک قرار دے چکی ہے۔

کرومیم پر مبنی ایج براﺅزر رواں سال اگست سے بیٹا ورژن میں دستیاب ہے مگر اس کا حتمی ورژن کب تک متعارف ہوگا، فی الحال یہ کہنا مشکل ہے۔

مائیکروسافٹ کی ڈویلپر کانفرنس 4 نومبر کو ہورہی ہے جس میں اس براﺅزر کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔

اس وقت محض 2 فیصد صارفین ایج کو استعمال کررہے ہیں جبکہ کروم صارفین کی تعداد 62 فیصد سے زائد ہے۔

خیال رہے کہ فائرفوکس 2004 اور گوگل کروم 2008 میں متعارف ہوا تھا اور وہ مائیکرو سافٹ انٹرنیٹ ایکسپلورر کے مقابلے میں زیادہ تیز اور بہتر فیچرز سے لیس تھے، جنھوں نے مائیکرو سافٹ کے براﺅزر کو زوال کا شکار کردیا۔

اس کو دیکھتے ہوئے مائیکرو سافٹ نے انٹرنیٹ ایکسپلورر کو ختم کرکے ایج کو دی۔

‘فائیو جی کیلئے ٹاورز شیئرنگ کا ماڈل اپنانا ضروری ہے’

اسلام آباد: ایڈوکو گروپ کے اسٹریٹجی ڈائریکٹر گیان کورالج نے کہا ہے کہ ٹیلی کام کی بڑھتی ہوئی طلب اور مواصلاتی نظام میں باہمی تعاون کے فقدان کی وجہ سے پاکستان ‘ڈیجیٹائزیشن کی دوڑ’ میں دوسرے ممالک سے پیچھے ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 4 ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس کم از کم 34 ہزار ٹاورز ہیں تاہم 4 جی اور 5 جی کی آمد کے ساتھ 2022 تک ٹاور کی تعداد میں گئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔

انہوں نے بتایا کہا صارفین کو ٹیلی کام کی بہتر سروس فراہم کرنے کے لیے مزید 17 ہزار ٹاور لگانے کی ضرورت پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ 35 ہزار ٹاورز میں سے 40 فیصد صرف 300 میٹر کے فاصلے پر نصب ہیں جس کے نتیجے میں صنعت کے لیے ایک ارب ڈالر کے سرمایے کا ضیاع ہوا کیونکہ ٹاورز کو کمپنیاں شیئر بھی کرسکتی تھیں۔

ایڈوکو گروپ کے اسٹریٹجی ڈائریکٹر نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کی شرح 74 فیصد ہے جو نصف آبادی کو ظاہر کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 سے 2022 کے درمیانی عرصے میں ڈیٹا کی کھپت 7 گنا بڑھ جانے کی پیش گوئی ہے جس کے نتیجے میں ٹاور کی ضروریات میں بھی اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ 5 جی کے دور میں کامیاب ہونے کے لیے تمام ٹیلی کام کمپنیوں کو باہمی تعاون کا رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

گیان کورالج نے بتایا کہ پاکستان میں ٹیلی کام آپریٹرز کو موبائل ٹاورز کا مشترکہ نیٹ ورک فراہم کرنے کی پیش کش کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک میں صارفین کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے موبائل آپریٹرز مشترکہ نیٹ ورک کے ماڈل پر عمل پیرا ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مشترکہ نیٹ ورک کے ماڈل سے اربوں ڈالر کی بچت ہوگی جو مختلف کمپنیاں اپنے ٹاور لگانے میں خرچ کررہی ہیں۔

ان کہنا تھا کہ موبائل ٹاور لگانے کے لیے کمپنی نے پہلے ہی 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 3 جی اور 4 جی پر منتقل ہونے کے لیے سائٹ اور ان کی تعداد میں اضافے کی ضرورت ہے۔

علاوہ ازیں گیان کورالج نے بتایا کہ اگر کمپنیاں ٹاور شیئرنگ کے ماڈل کو قابل غور نہیں سمجھتیں تو نتیجے میں ٹاورز کی بھرمار ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے ‘ڈیجیٹل پاکستان’ ایجنڈے کو پورا کرنے اور انٹرنیٹ ڈیٹا کی طلب کو پورا کرنے کے لیے ٹاور شیئرنگ ضروری ہے۔

ایڈیٹکو کے عہدیدار نے مزید کہا کہ ڈیجیٹائزیشن کی دوڑ میں پاکستان اب بھی پیچھے ہے کیونکہ دوسرے ممالک نے گزشتہ 5 برس میں شعبہ ٹیلی کام میں مضبوط ترقی کی۔

انہوں نے بتایا کہا کہ 2018 میں ہی ملائیشیا میں 4 جی استعمال کرنے والوں کی شرح 55 فیصد تھی جبکہ پاکستان میں 4 جی کی کوریج پاکستان میں 50 فیصد سے تجاوز نہیں کرسکی۔

ٹک ٹاک بنانے والی کمپنی نے پہلا فون متعارف کرادیا

متعدد ممالک کے لیے قومی و اخلاقی سلامتی کا مسئلہ بننے والی ویڈیو ایڈیٹنگ شیئرنگ ایپلی کیشن ’ٹک ٹاک‘ بنانے والی چینی کمپنی نے اپنا پہلا اسمارٹ فون متعارف کرادیا۔

’ٹک ٹاک‘ ایپلی کیشن بنانے والی چینی کمپنی ’بائیٹ ڈانس‘ نے دیگر کمپنیوں کے اشتراک سے اپنا پہلا اسمارٹ فون ’نٹ پرو تھری‘ متعارف کرایا ہے۔

’ٹک ٹاک‘ کمپنی کی جانب سے رواں برس مئی میں اس خیال کا اظہار کیا گیا تھا کہ وہ کمپنی اسمارٹ فون متعارف کرانے کی خواہش مند ہے اور جولائی میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ کمپنی سال کے اختتام تک فون متعارف کرائے گا۔

اور اب کمپنی نے اپنا پہلا فون متعارف کرادیا، جسے ابتدائی طور پر چین میں فروخت کے لیے پیش کردیا گیا۔

ٹیکنالوجی ادارے ’انگیجٹ‘ نے اپنی رپورٹ میں چینی و دیگر اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’ٹک ٹاک‘ بنانے والی کمپنی کی جانب سے پیش کیے گئے اسمارٹ فون کو ابتدائی طور پر چین میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا۔

موبائل کو مختلف ورژنز میں پیش کیا گیا ہے—اسکرین شاٹ/ یوٹیوب
موبائل کو مختلف ورژنز میں پیش کیا گیا ہے—اسکرین شاٹ/ یوٹیوب

’نٹ پرو تھری‘ کو چینی زبان میں ’جیانگو پرو تھری‘ کا نام دیا گیا ہے اور کمپنی کے اس پہلے موبائل کو مختلف ورژنز میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

48 میگا پکسل کیمرا سے لیس ’نٹ پرو تھری‘ کا سب سے سستے ورژن کی قیمت 380 امریکی ڈالر پاکستانی تقریبا 60 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔

اسی طرح اسی موبائل کا مہنگا ترین ورژن 412 امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 64 ہزار روپے سے زائد میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے پہلے موبائل میں 12 جی بی ریم دی گئی ہے جب کہ اس میں 256 جی بی تک اسٹوریج کی صلاحیت موجود ہے۔

فون میں کمپنی کے تیار کردہ ’ٹک ٹاک‘ سمیت دیگر ایپلی کیشنز کو بھی دیا گیا ہے، ساتھ ہی کمپنی کے ڈیزائن کو اچھوتے انداز میں پیش کرنے کی کوشش سمیت اس کی ٹیکنالوجی پر بھی خاص دھیان دیا گیا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہےکہ ’ٹک ٹاک‘ بنانے والی کمپنی کا یہ موبائل شائقین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

کمپنی نے اس موبائل کو دیگر ممالک میں فروخت کے لیے پیش کیے جانے کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ برس کے آغاز تک اسے جنوبی ایشیا کے ممالک میں پیش کیا جائے گا۔

کائنات میں سب سے چھوٹا بلکہ کمزور بلیک ہول دریافت

اوہایو: کائنات کے دور دراز علاقے سے ایک گرما گرم خبر آئی ہے کہ اب تک ہماری معلومات کے تحت سب سے چھوٹا بلیک ہول دریافت ہوا ہے جس سے خود بلیک ہول کی تشکیل کے مروجہ نظریات پر نظرثانی کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

اس بلیک ہول کی قطر صرف 20 کلومیٹر ہے اور یہ ایک بہت بڑے ستارے کے گرد گھوم رہا ہے لیکن اسے ہڑپ کرنے یا اس کا مادہ چرانے سے قاصر ہے۔ 83 دنوں میں یہ بلیک ہول اپنا ایک چکر پورا کرلیتا ہے اور اندازہ ہے کہ یہ زمین سے 10 ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

اس عجیب و غریب بلیک ہول کی دریافت کا سہرا اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی کے ٹوڈ تھامپسن اور ان کے ساتھیوں کے سر جاتا ہے۔ یہ اپنے ساتھی ستارے سے کوئی گیس یا مادہ چوری بھی نہیں کررہا ۔ ماہرین نے بڑے ستارے کی ڈگمگاہٹ سے بلیک ہول دریافت کیا ہے۔ عین اسی طریقے سے ماہرین نظامِ شمسی سے باہر سیارے دریافت کرتے ہیں۔

تاہم اس کے سب سے چھوٹے بلیک ہول ہونے کی مزید تصدیق ہونا باقی ہے۔ اس کی کمیت ہمارے سورج سے صرف ساڑھے تین گنا زائد ہے جو اس کے چھوٹے ترین بلیک ہول ہونے کا سب سے مضبوط ثبوت ہے۔

اگر کوئی نیوٹران ستارہ یا بلیک ہول ہمارے سورج سے دوگنا سے پانچ گنا تک کی جسامت کا ہو تو ماہرین اسے ’کمیتی وقفہ‘ یا ماس گیپ قرار دیتے ہیں۔ نیوٹران ستارے ہوں یا بلیک ہول ہوں دونو ہی بہت بڑے ستاروں کے پھٹنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان پر تحقیق کرکے ہم بتاسکتے ہیں کہ بہت بڑے اور ضخیم ستارے کیسے وجود میں آتے ہیں اور ان میں سے کونسے ستارے پھٹ کر سپرنووا بن سکتے ہیں۔

اسی بنیاد پر ٹوڈ تھامپسن کہتے ہیں کہ شاید ہم اس طرح کے چھوٹے بلیک ہول کی ایک نئی قسم دریافت کرنے جارہے ہیں اور ان کی درست انداز میں درجہ بندی کی ضرورت ہے۔ اسی بنیاد پر چھوٹے بلیک ہول اور نیوٹران ستاروں پر تحقیق کی مزید ضرورت سامنے آئی ہے۔

جاپان میں لکڑی کے اجزا سے کاروں کی تیاری

کیوٹو: اگرچہ دنیا بھر میں کاریں بنانے والے ادارے ایک عرصے سے گاڑیوں کے بیرونی ڈھانچے کو لکڑی یا اس کے اجزا سے بنانے پر غور کررہے ہیں لیکن اس میں کامیابی نہیں مل رہی تھی۔ اب جاپان کی ایک کمپنی نے لکڑی کے گودے سیلولیوز کے نینو فائبر (ریشوں) سے گاڑی کا مضبوط اور دیرپا اسٹرکچر بنانے کا اعلان کیا ہے۔

جاپانی کمپنی کا خیال ہے کہ لکڑی کے گودے میں پایا جانے والے اجزا سیلولیوز سے نینو تار بنائے جائیں تو ان سے بنی ہوئی کاریں پانچ گنا ہلکی پھلکی اور فولاد سے بنی گاڑیوں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ مضبوط ہوسکتی ہیں۔ سیلولیوز نینو فائبر (سی این ایف) سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بھی کم ہوتا ہے کیونکہ اول ان کی تیاری میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کم خارج ہوتی ہے اور گاڑیوں کا وزن کم ہونے سے ایندھن بھی کم خرچ ہوتا ہے۔

سی این ایف کی تیاری میں خاص درخت کی لکڑی کو کاٹا جاتا ہے اور اس کا گودا نکال کر اسے بعض کیمیکل میں ڈبویا جاتا ہے تاکہ لِگنن اور ہیمی سیلیولوزختم ہوجائیں، اس سے ٹھوس، مضبوط لیکن کم وزن مٹیریل ہاتھ آتا ہے۔

اب کیوٹو یونیورسٹی نے ایک کارساز کمپنی کے تعاون سے سپرکار کا ڈیزائن بنایا ہے۔ اس میں سی این ایف کی پٹیوں کو خاص زاویوں پر موڑ کر اس سے دروازے اور چھت وغیرہ بنانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ اس عمل میں گاڑی کا وزن روایتی طریقے کے مقابلے میں 10 فیصد کم ہوا اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بھی کم ہوسکتا ہے۔

لیکن اگلا مرحلہ اس سے مشکل ہے جس میں کار کے یہ خاص حصے کئی مراحل سے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں تاکہ سڑک پر ان کی افادیت کا اندازہ لگایا جاسکے، اب تک کے نتائج بہت حوصلہ افزا ہیں۔ اس کے بعد ٹویوٹا سمیت کئی کمپنیوں نے کیوٹو یونیورسٹی کے سائنس دانوں سے رابطہ کیا۔

‘آن لائن بدسلوکی95 فیصد خواتین صحافیوں کے کام پر اثر انداز ہوتی ہے’

اسلام آباد: پاکستان کی 95 فیصد خواتین صحافیوں کا کہنا ہے کہ آن لائن بدسلوکی ان کے پیشہ وارانہ کام کو متاثر کرتی ہے۔

میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی (ایم ایم ایف ڈی) کی جانب سے خواتین صحافیوں کے خلاف آن لائن بدسلوکی پر مرتب کردہ’ہوسٹائل بائٹس‘ نامی رپورٹ صحافیوں کے خلاف امتیاز کے خاتمے کے عالمی دن پر جاری کی گئی۔

مذکورہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 77 فیصد خواتین صحافی آن لائن بدسلوکی سے نمٹنے کے لیے خود سے سینسر شپ کا استعمال کرتی ہیں۔

ایم ایم ایف ڈی کی رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ صحافیوں کے خلاف بدسلوکی کے معاملے میں زیادہ تر توجہ جسمانی تشدد کو دی جاتی ہے لیکن آن لائن معاملات بھی سنگین ہوسکتے ہیں، بالخصوص خواتین صحافیوں کے خلاف، جنہیں دھمکانے والوں یا ان پلیٹ فارم کو ناقابلِ برداشت بنانے والوں کی سرزنش بھی نہیں ہوتی۔

خواتین صحافیوں کو جس قسم کی آن لائن بد سلوکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسے سنجیدہ ہی نہیں لیا جاتا لیکن اس کے ان پر گہرے اثرات پڑتے ہیں۔

تحقیق کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ 110 میں سے 105 خواتین صحافیوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ آن لائن بدسلوکی ان کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوئی۔

اس کے ساتھ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ہر 10 میں 3 خواتین صحافیوں کو بلیک میل اور ان خلاف تشدد پر اکسانے جیسے سنگین آن لائن جرائم کا سامنا ہوا۔

تحقیق میں شامل صحافیوں نے جب اپنے خلاف آن لائن بدسلوکی کو رپورٹ کیا تو اس کے جواب میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ملنے والا ردِ عمل انہیں مطمئن نہیں کرسکا۔

اس کے علاوہ وہ ان واقعات کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس رپورٹ کرنے میں بھی ہچکچاہٹ کا شکار نظر آئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے ادارے جس طرح آن لائن تشدد کے خلاف کارروائی کرتے ہیں اس طریقہ کار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

موٹرولا کے فولڈایبل ریزر فون کی مزید تصاویر سامنے آگئیں

گزشتہ روز موٹرولا نے پہلے فولڈ ایبل ریزر فون کی آفیشل تصاویر سامنے آئی تھیں اور آج اس ڈیوائس کی مزید فوٹوز بھی پوسٹ کردی گئی ہیں۔

جمعرات کو اسمارٹ فونز کمپنیوں کی تفصیلات اور تصاویر لیک کرنے کے حوالے سے مشہور ٹوئٹر صارف ایون بلاس نے موٹرولا کے فولڈ ایبل ریزر فون کی پہلی جھلک پوسٹ کی تھی اور اب انہوں نے ہی اس کی مزید تصاویر کو لیک کیا ہے۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ان تصاویر سے فون کے پورا ڈیزائن سامنے آگیا ہے۔

یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ فون فلپ یا بند ہونے کی شکل میں کیسا ہوگا اور اس کا سیلفی کیمرا کس طرح کام کرے گا یا سیکنڈری ڈسپلے کیسا ہوگا۔

یہ فون 2003 کے ریزر وی 3 سے ملتا جلتا ہے اور اس کو اب نئی شکل میں واپس متعارف کرایا جارہا ہے، جس کو بند کرنے پر ایک چھوٹی اسکرین پر وقت اور تاریخ دیکھنا ممکن ہوگی جبکہ سنگل مین کیمرے کے لیے ویو فائنڈر کے طور پر ھبی کام کرے گی۔

فوٹو بشکریہ ایون بلاس
فوٹو بشکریہ ایون بلاس
فوٹو بشکریہ ایون بلاس
فوٹو بشکریہ ایون بلاس
فوٹو بشکریہ ایون بلاس
فوٹو بشکریہ ایون بلاس

ایک اور تصویر میں اسے پوری طرح کھلا ہوا یا ان فولڈ دکھایا گیا ہے۔

اس تصویر سے عندیہ ملتا ہے کہ فون کی اسکرین درمیان سے بند ہوتی ہے اور کھلنے کے بعد یہ 6.2 انچ ڈسپلے کی شکل اکتیار کرلیتا ہے۔

اس کے نچلے حصے میں فولڈنگ میکنزم موجود ہوگا جبکہ فنگرپرنٹ ریڈر بھی وہاں نظر آرہا ہے۔

فوٹو بشکریہ ایون بلاس
فوٹو بشکریہ ایون بلاس

گزشتہ روز ایک ڈچ سائٹ نے اس فون کے فیچرز بھی ایک رپورٹ میں بتائے تھے جس کے مطابق اس فون میں اسنیپ ڈراگون 710 پراسیسر، 4 سے 6 جی بی ریم اور 128 سے 256 جی بی اسٹوریج دی جائے گی جبکہ 2730 ایم اے ایچ بیٹری ہوگی۔

اس سے پہلے لیکس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس کی قیمت ڈیڑھ ہزار ڈالرز تک ہوگی جبکہ فلپ فولڈ ایبل فون کھلنے پر 6.2 انچ ڈیوائس کی شکل اختیار کرے گا۔

ریزر فولڈ ایبل فون 13 نومبر کو متعارف کرائے جانے کا امکان ہے کیونکہ کمپنی نے اس تاریخ کو لاس اینجلس میں ایک ایونٹ کے انعقاد کا اعلان کررکھا ہے۔

اس دعوت نامے میں یہ تو ذکر نہیں کہ فولڈ ایبل ریزر فون متعارف کرایا جائے گا مگر اس کے متن کا مطلب یہی بنتا ہے کہ کلاسیک فون کو نئے طرز میں متعارف کرایا جارہا ہے۔

اب تک سام سنگ گلیکسی فولڈ اور ہواوے میٹ ایکس ایسے فولڈ ایبل فونز ہیں جن کو متعارف کرایا جاچکا ہے، جن میں سے سام سنگ کا فون مختلف ممالک میں دستیاب ہے جبکہ ہواوے کا فون چین میں پیش کیا جاچکا ہے دیگر ممالک میں آئندہ چند ہفتوں میں متعارف ہونے کا امکان ہے۔

Google Analytics Alternative