سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

موٹرولا کے فولڈ ایبل ریزر فون کی تاریخ رونمائی سامنے آگئی

موٹرولا کا پہلا فولڈ ایبل ریزر فون 13 نومبر کو متعارف کرایا جارہا ہے۔

کمپنی نے اس حوالے سے 13 نومبر کو لاس اینجلس میں شیڈول ایونٹ کے لیے دعوت نامے ارسال کیے ہیں۔

اس دعوت نامے میں یہ تو ذکر نہیں کہ فولڈ ایبل ریزر فون متعارف کرایا جائے گا مگر اس کے متن کا مطلب یہی بنتا ہے کہ کلاسیک فون کو نئے طرز میں متعارف کرایا جارہا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک انیمیٹڈ تصویر بھی پوسٹ کی گئی جس میں ایک ڈیوائس بند اور کھل رہی ہے اور اس پر لکھا ہے ‘ایک اوریجنل، جس جیسا کوئی اور نہیں’، اس کے ساتھ 13 نومبر کی تاریخ ہے۔

جہاں تک دعوت نامے کی بات ہے تو اس میں یہ بھی لکھا ہے ‘یو آر گوئنگ ٹو فلپ’، جو ماضی کے فلپ ریزر تھری فون کی جانب واضح اشارہ بھی ہے۔

موٹرولا اپنے پہلے فولڈ ایبل فون کو رواں سال موسم گرما میں پیش کرنا چاہتی تھی مگر پھر اس کی تاریخ رونمائی کو آگے بڑھا دیا گیا۔

اب تک سام سنگ گلیکسی فولڈ اور ہواوے میٹ ایکس ایسے فولڈ ایبل فونز ہیں جن کو متعارف کرایا جاچکا ہے، جن میں سے سام سنگ کا فون مختلف ممالک میں دستیاب ہے جبکہ ہواوے کا فون اکتوبر کے آخر میں صارفین کے لیے دستیاب ہونے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ موٹرولا ایک چینی کمپنی لیناوو کا حصہ ہے اور یہ مانا جاتا ہے کہ اس کا فولڈ ایبل فون ماضی کے مقبول ترین ریزر برانڈ کی نئی شکل ہوگا۔

سام سنگ اور ہواوے کے فونز جو باہر کی جانب ٹیبلیٹ کی شکل میں کھلتے ہیں، کے برعکس موٹرولا کا فولڈ ایبل فون ریزر فلپ فون کی طرح فولڈ ہوگا، کم از کم 2017 کے ایک پیٹنٹ سے تو یہی عندیہ ملتا ہے۔

اس سے قبل ڈچ سائٹ لیٹس گو ڈیجیٹل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ سام سنگ یا ہواوے کے فولڈ ایبل فونز جتنا طاقتور نہیں ہوگا بلکہ اس میں چھوٹی بیٹری اور مڈرینج پراسیسر دیئے جانے کا امکان ہے۔

مگر یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ماضی کی یادیں لوگوں میں اس نئے فولڈایبل فون کے لیے دلچسپی کو بڑھانے میں کام آیں گی۔

مگر اس بار اوریجنل ریزر کی چھوٹی اسکرین اور کی پیڈ کی بجائے اس میں ڈوئل ڈسپلے ڈیزائن دیا جائے گا۔

اس میں پہلا ڈسپلے بڑا ہوگا جو اس وقت فولڈ ہوگا جب فون کو بند کیا جائے گا جبکہ دوسری اسکرین فرنٹ پر باہر کی جانب ہوگی جس میں نوٹیفکیشنز اور چند دیگر فیچرز موجود ہوں گے۔

یہ فون مکمل اوپن ہونے پر 6.2 انچ کا ہوجائے گا جس کے لیے او ایل ای ڈی پینل دیا جائے گا۔

اس فون میں ممکنہ طور پر کوالکوم اسنیپ ڈراگون 710 پراسیسر، 4 سے 6 جی بی ریم اور 64 سے 128 جی بی اسٹوریج دیئے جانے کا امکان ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے فروری میں اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اس فون کی قیمت 15 سو ڈالرز تک ہوسکتی ہے جو کہ گلیکسی فولڈ سے 500 ڈالرز جبکہ ہواوے کے فولڈ ایبل فون سے ایک ہزار ڈالرز سستا ہوگا۔

اوپو کے نئے فلیگ شپ فونز پاکستان میں متعارف

اوپو نے اپنے فلیگ شپ رینو سیریز کے 2 نئے فونز پاکستان میں متعارف کرادیئے ہیں۔

رینو 2 اور رینو 2 ایف کے نام سے یہ اسمارٹ فونز رواں سال ہی متعارف کرائے جانے والے رینو فونز کے اپ ڈیٹ ورژن ہیں۔

ان دونوں فونز میں بیک پر 4 بیک کیمرے دیئے گئے ہیں تاہم پراسیسر کا فرق ہے۔

رینو 2 درحقیقت رینو 10 ایکس جتنا طاقتور نہیں جو کہ اب بھی اس سیریز کا تیز ترین فون ہے جس میں اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر دیا گیا ہے۔

بنیادی طور پر اس سیریز کے فونز اسٹینڈرڈ رینو فون کے اپ ڈیٹ ورژن اور مڈرینج سمجھے جاسکتے ہیں۔

رینو 2 میں 6.5 انچ ڈائنامک امولیڈ ڈسپلے، اسنیپ ڈراگون 730 پراسیسر، 8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے۔

اس کے بیک پر 48 میگا پکسل مین کیمرا، 8 میگا پکسل وائیڈ اینگل کیمرا، 13 میگا پکسل ٹیلی فوٹو لینس اور 2 میگا پکسل مونوکروم سنسر دیا گیا ہے جس کے ساتھ 5 ایکس ہائیبرڈ اور 25 ایکس ڈیجیٹل زوم موجود ہے۔

اس کے فرنٹ پر شارک فن کی شکل میں 16 میگا پکسل پوپ اپ سیلفی کیمرا موجود ہے جس کے ساتھ ایل ای ڈی فلیش بھی دی گئی ہے۔

فوٹو بشکریہ اوپو
فوٹو بشکریہ اوپو

رینو 2 ایف فیچرز کے لحاظ سے کمتر سمجھا جاسکتا ہے جس میں ورٹیکل پوپ اپ سیلفی کیمرا دیا گیا ہے۔

رینو 2 ایف میں ہیلیو پی 70 پراسیسر موجود ہے،8 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے جبکہ 6.5 انچ او ایل ای ڈی ڈسپلے ہے۔

اس فون میں بھی بیک پر 4 کیمرے موجود ہیں، جن میں 48 میگا پکسل کیمرا، 8 میگا پکسل وائیڈ اینگل کیمرا، 2 میگا پکسل مونوکروم لین اور 2 میگا پکسل پورٹریٹ لینس شامل ہیں۔

رینو 2 ایف — فوٹو بشکریہ اوپو
رینو 2 ایف — فوٹو بشکریہ اوپو

دونوں فونز میں یو ایس بی ٹائپ سی، وی او او سی 3.0 فاسٹ چارجنگ سپورٹ، ہیڈ فون جیک، 4000 ایم اے ایچ بیٹری، ڈسپلے کے اندر فنگر پرنٹ سنسر اور اوپو کلر او ایس 6.1 آپریٹنگ سسٹم کا امتزاج اینڈرائیڈ پائی سے کیا گیا ہے۔

اسی طرح ایس ڈی کارڈ سپورٹ بھی موجود ہے جس سے اسٹوریج کو بڑھایا جاسکتا ہے۔

یہ دونوں فونز پری آرڈر میں دستیاب ہیں اور رینو 2 کی قیمت 79 ہزار 999 روپے جبکہ 2 ایف کی 59 ہزار 999 روپے رکھی گئی ہے۔

سام سنگ گلیکسی ایس 10 کے فنگرپرنٹ سنسر میں مسئلہ سامنے آگیا

سام سنگ کے فلیگ شپ فون گلیکسی ایس 10 میں فنگرپرنٹ سنسر کے حوالے سے شکایات سامنے آئی ہے اور کمپنی نے بھی اس کا اعتراف کرتے ہوئے جلد سافٹ وئیر اپ ڈیٹ جاری کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک برطانوی صارف نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گلیکسی ایس 10 میں ایک بگ سامنے آیا ہے جو صارف کی بجائے کسی کے بھی فنگرپرنٹ سے ڈیوائس کو ان لاک کردیتا ہے۔

اس صارف نے ایک تھرڈ پارٹی اسکرین پروٹیکٹر خریدا تھا، جس کے بعد اس کے شوہر نے اپنے فنگرپرنٹ سے فون ان لاک کردیا، حالانکہ اس کی انگلیوں کے نشان ڈیوائس میں رجسٹر نہیں تھے۔

سام سنگ نے کسٹمر سپورٹ ایپ میں اس مسئلے کا نوٹس لیا جبکہ جنوبی کوریا کے آن لائن بینک کاکاﺅ بینک نے صارفین کو مشورہ دیا کہ وہ اس وقت تک گلیکسی ایس 10 میں فنگرپرنٹ کے ذریعے فون لاک یا ان لاک کرنے کا سلسلہ منقطع کردیں جب تک مسئلہ حل نہیں ہوجاتا۔

خیال رہے کہ رواں سال مارچ سے صارفین کو دستیاب گلیکسی ایس 10 سام سنگ کا پہلا فون تھا جس میں فنگرپرنٹ سنسر ڈسپلے کے اندر دیا گیا تھا اور کمپنی نے اسے بائیومیٹرک تصدیق کا انقلابی فیچر قرار دیا تھا۔

یہ تو واضح نہیں کہ مسئلہ اصل میں ہے کیا، مگر گلیکسی ایس 10 میں الٹرا سانک سنسر فنگرپرنٹ کی شناخت کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

پلاسٹک یا سیلیکون اسکرین پروٹیکٹر سے وہ متاثر ہوسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سام سنگ کی جانب سے صارفین کو منظورہ شدہ پروٹیکٹر خریدنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

سام سنگ نے اس حوالے سے ٹیکنالوجی سائٹ انگیجیٹ کو بتایا ‘ہم اس معاملے کی تحقیقات کررہے ہیں، ہم اپنے تمام صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ سام سنگ کی منظورہ کردہ ایسیسریز استعمال کریں جو صرف سام سنگ منصوعات کے لیے ڈیزائن کی گئی ہو’۔

دنیا کا سب سے بڑا چائلڈ پورنوگرافی نیٹ ورک بے نقاب

واشنگٹن: امریکا، برطانیہ اور جنوبی کوریا کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں دنیا کا سب سے بڑا چائلڈ پورنوگرافی نیٹ ورک بے نقاب کرلیا۔

جنوبی کوریا کے حکام نے کمپیوٹر سرورکو تحویل میں لینے کے بعد بتایا کہ ویب سائٹ پر 10 لاکھ سے زائد بٹ کوئن ایڈریس (نمبروں پر مشتمل خاص طرح کا لنک) برآمد کرلیے۔

انہوں نے بتایا کہ ویب سائٹ میں رجسٹریشن کے لیے تقریباً 10 لاکھ صارفین کی گنجائش تھی۔

اس ضمن میں بتایا گیا کہ آپریشن کے نتیجے میں امریکا، اسپین اور برطانیہ سے کم از کم 23 چھوٹے بچے بھی بازیاب کرالیے گئے۔

امریکی ڈپٹی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ریچرڈ ڈاؤنگ نے بتایا کہ ’انٹرنیٹ پر مشتمل چائلڈ پورنوگرافی نیٹ ورک مواد کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی جنسی استحصال کی مارکیٹ ہے‘۔

حکام نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ چائلڈ پورنوگرافی ویب سائٹس کو بٹ کوئن کے ذریعے مالی تعاون حاصل رہا لیکن دنیا بھر سے سیکڑوں مشتبہ ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا۔

واشنگٹن میں فیڈرل جیوری نے 23 سالہ جنوبی کورین باشندے پر ’ویلکم ویڈیو‘ نیٹ ورک چلانے کے الزام میں فرد جرم عائد کی۔

برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے 16 اکتوبر کو جاری کی گئی تصویر
برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے 16 اکتوبر کو جاری کی گئی تصویر

حکام نے بتایا کہ امریکا، برطانیہ، جنوبی کوریا، جرمنی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کینیڈا، آئرلینڈ، اسپین، برازیل اور آسٹریلیا سے متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی کی مختلف ریاستوں الاباما، آرکنساس، کیلیفورنیا، کونیکٹی کٹ، فلوریڈا، جارجیا، کینساس، لوزیانا، میری لینڈ، میساچوسٹس، نیبراسکا، نیو جرسی، نیو یارک، نارتھ کیرولائنا، اوہائیو، اوریگون، پنسلوانیہ، رہوڈ جزیرہ، جنوبی کیرولائنا، ٹیکساس، یوٹاہ، ورجینیا، واشنگٹن اسٹیٹ اور واشنگٹن، ڈی سی سے 337 ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔

اسسٹنٹ اٹارنی جنرل برین اے نے کہا کہ امریکی محکمہ انصاف جنوبی کوریا سمیت دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر جنسی استحصال کے لیے استعمال ہونے والے بچوں کی بازیابی کے لیے کام کررہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حساس نوعیت کے آپریشن میں پہلے بٹ کوئن کے ذریعے رقوم کی منتقلی کا پتا لگایا گیا جس کے بعد آئی آر ایس سی ای کے اسپیشل ایجنٹوں نے پورنوگرافی کمپیوٹر سرور کی لوکیشن کا تعین کیا اور ویب سائٹ کے ایڈمنسٹر کی نشاندہی کی۔

انہوں نے بتایا کہ جنوبی کوریا میں کمپیوٹر سرور موجود تھا۔

واضح رہے کہ طبی ماہرین متفق ہیں کہ پورنوگرافی مواد دیکھنے سے ذہنی بری طرح متاثر ہوتا ہے اور اس کے منفی اثرات جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے انسان کو مجرمانہ حد تک فعل کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔

اسی حوالے سے بھارت میں 12 جون کو واقعہ پیش آیا تھا جس میں پورن ویڈیوز کے عادی 14 سالہ لڑکے نے اپنی بڑی بہن کا ریپ کردیا تھا۔

بھارتی عدالت نے گاؤں کموتھے کے رہائشی 14 سالہ لڑکے کو اپنی 16 سالہ بہن کے ساتھ ریپ اور اسے حاملہ کرنے کے الزام میں بچوں کی جیل منتقل کردیا تھا۔

فلم بنانے والے ڈرون اب ہدایت کار بھی بن گئے

نیویارک: عکس بندی کرنے والے روبوٹ اب دنیا بھر میں عام ہوچکے ہیں لیکن کسی بھی منظر کشی کے لیے وہ انسانی آپریٹر کےمحتاج ہوتے ہیں لیکن اب انہی ڈرون کو بہترین ہدایت کاری کے گر سکھائے گئے ہیں جن سے وہ فلم ڈائریکٹر یا ڈائریکٹر کے مددگار ضرور بن سکتے ہیں۔

اگرچہ ڈرون کئی طریقوں سے فلم اور تصاویر لیتا ہے لیکن کونسا زاویہ کیسا ہے یا پھر کونسا منظر خوبصورت دکھائی دے رہا ہے اس کا فیصلہ آخر کار انسان کو ہی کرنا پڑتا ہے۔ اب کارنیگی میلون یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک تکنیک ڈیپ انفورسمنٹ لرننگ کے ذریعے ڈرون کو بہترین مناظر لینے کا ہنر سکھایا ہے۔

اس کے لیے سائنس دانوں نے انسانی رضاکاروں کو کمپیوٹر کی جانب سے بنائے گئے حقیقی مناظر دکھائے گئے تھے۔ یہ مناظر دائیں، بائیں، اوپر نیچے سمیت کئی طرح سے دیکھے جاسکتے تھے۔ ساتھ ہی اس میں منظر کو دور یا قریب سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد رضا کاروں نے آنکھوں کو اچھا لگنے والے بہترین مناظر اور زاویوں کی نشاندہی کی اور اسے نمبر دیئے گئے۔

اس کے بعد یہ معلومات ڈرون میں شامل کی گئیں۔ اس سے ڈرون کی تربیت ہوگئی کہ کونسے مناظر ہدایت کاری کے لحاظ سے بہترہیں اور کس طرح ایک گاڑی کا پیچھا کرتے ہوئے ڈرون دائیں اور بائیں زاویے سے ایک ہی منظر کو دلچسپ بناسکتا ہے۔ اس طرح منظر میں بوریت کم کرنے کی ہدایات بھی ڈرون کو دی گئی ہیں۔

دوسری جانب ڈرون میں لیزر ریڈار (لیڈار) لگایا گیا ہے جو اطراف کی نقشہ سازی کرکے پورے منظرکا سب سے بہترین زاویہ فراہم کرتا ہے۔ ساتھ ہی وہ رکاوٹوں کی جی پی ایس ٹیگنگ بھی کرتا رہتا ہے۔ اس طرح بڑی حد تک ڈرون ازخود بہترین مناظر لینے کے قابل ہوچکا ہے۔

گوگل اسسٹنٹ سے لیس نئے پکسل ائیرفون

انگلش نہیں آتی یا دنیا کی کسی اور زبان سے واقف نہیں اور اس کی وجہ سے غیرملکی دوستوں سے بات کرنا مشکل ہوتا ہے؟ تو اب یہ مسئلہ درحقیقت کوئی مسئلہ نہیں۔

جی ہاں گوگل نے ایسا نیا ائیرفون پکسل بڈز متعارف کرایا ہے جو کسی بھی زبان سے عدم واقفیت کو مسئلہ نہیں بننے دے گا۔

گوگل کے مطابق مشین لرننگ اور آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی سے لیس اس ائیرفون کے ذریعے لوگ گوگل ٹرانسلیٹ سے رئیل ٹائم میں الفاظ کا ترجمہ سن سکیں گے، یعنی ایک سائنس فکشن خیال کو کافی حد تک حقیقت کی شکل دے دی گئی ہے۔

پکسل بڈز میں گوگل اسسٹنٹ تک ہیڈ فری رسائی دی گئی ہے جس کی مدد سے فون پر فوری طور پر کام کیے جاسکتے ہیں، بس ہے گوگل کہہ کر اپنی مطلب کا کام کہہ دیں جیسے ایس ایم ایس بھیجنا یا کسی غیرملکی زبان کا ترجمہ، راستوں کی آگاہی، موسیقی کو کنٹرول اور بھی بہت کچھ۔

کان میں آسانی سے فٹ ہوجانے والی یہ ڈیوائس نئے اڈاپٹو ساﺅنڈ فیچر سے لیس ہے جو ارگرد کے ماحول کے شور کے مطابق والیوم کو ایڈجسٹ کردیتا ہے۔

بلیوٹوتھ کی مدد سے اسے فون سے 100 گز دور سے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سنگل چارج پر لگاتار استعمال پر یہ 5 گھنٹے تک کام کریں گے مگر ایک چارجنگ کیس کی بدولت یہ وقت 24 گھنٹے تک بڑھایا جاسکتا ہے۔

گوگل کے مطابق نئے پکسل بڈز میں بہتر ساﺅنڈ کوالٹی دی گئی ہے اور پرشور ماحول میں آپ کے جبڑوں کی حرکت کے ذریعے مائیکرو فون کی بیم فارمنگ پرفارمنس بہتر بناتا ہے۔

اس سے پہلے 2017 میں بھی گوگل نے پکسل بڈز متعارف کرائے تھے مگر وہ اتنے زیادہ بہتر ثابت نہیں ہوئے تھے اور وائرلیس بھی نہیں تھے کیونکہ وہ ایک کنٹنگ کیبل سے منسلک تھے۔

یہ نئے پکسل بڈز اگلے سال 179 ڈالرز میں فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

امریکی پابندیوں کے باوجود ہواوے فونز کی فروخت میں اضافہ

امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کے باعث بلیک لسٹ میں شامل ہوکر مختلف پابندیوں کا سامنا کرنے والی چینی کمپنی ہواوے کے منافع میں کوئی کمی نہیں آسکی اور جنوری سے ستمبر تک اس کمپنی نے 18 کروڑ 50 لاکھ فونز دنیا بھر میں فروخت کیے جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ ہیں۔

کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس عرصے میں آمدنی 86 ارب ڈالرز رہی جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 24.4 فیصد زیادہ ہے اور یہ اس وقت ہے جب کمپنی نے خود چند ماہ پہلے اپنی مصنوعات کی فروخت سے آمدنی میں 10 ارب ڈالرز کمی کی پیشگوئی کی تھی، جس کی وجہ امریکا کے محکمہ تجارت کی جانب سے بلیک لسٹ کیا جانا تھا۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ اس عرصے میں ہواوے نے دنیا بھر میں 5 جی نیٹ ورک آلات کی فراہمی کے 60 کمرشل معاہدے کیے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہواوے کو رواں سال مئی میں ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بلیک لسٹ کیا تھا جس کے لیے کمپنی کے چینی حکومت سے مبینہ روابط کو بنیاد بنایا گیا تھا۔

تاہم اب امریکی حکومت نے پابندیوں میں نرمی کا عندیہ دیتے ہوئے امریکی کمپنیوں کو ہواوے سے کاروبار کے لیے لائسنس کے اجرا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مگر اس پابندی سے کمپنی نے نئے فلیگ شپ میٹ 30 سیریز کے فونز متاثر ہوئے ہیں جو گوگل ایپس سے محروم ہیں جبکہ اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم بھی اوپن سورس استعمال ہوا، جس کے باعث فونز کی فروخت متاثر ہونے کا بھی امکان ہے۔

ہواوے نے 2018 میں ایپل سے دنیا کی دوسری بڑی اسمارٹ فون فروخت کرنے والی کمپنی کا اعزاز چھینا تھا اور 2019 میں وہ سام سنگ کو پیچھے چھوڑنے کی خواہشمند تھی، مگر امریکی پابندیوں سے فی الحال ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔

جولائی میں یاہو فنانس سے انٹرویو میں ہواوے کے بانی رین زینگ فائی نے امریکی حکومت کی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے کمپنی کے منصوبوں کے ساتھ دیگر چیزوں پر بات کی۔

انہوں نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے جب بلیک لسٹ کیا گیا تو ہواوے اس کے لیے مکمل تیار نہیں تھی اور پابندی کے بعد پہلے 2 ہفتوں میں اسمارٹ فونز کی فروخت میں 40 فیصد کمی آئی، جس کی وجہ آپریٹنگ سسٹم کے حوالے سے خدشات تھے۔

تاہم ان کہنا تھا ‘اب کمپنی اپنی اہم پراڈکٹس کے لیے امریکی انحصار ختم کرنے کے قابل ہوچکی ہے’۔

ان کے بقول ہواوے کو بلیک لسٹ کرنا امریکا کی جانب سے کمپنی کو جدید ٹیکنالوجی سے دور رکھنے کی کوشش تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کمپنی امریکا کے لیے سیکیورٹی خطرہ نہیں ‘ہمارا امریکا میں کوئی نیٹ ور نہیں اور نہ ہی ہم اپنی 5 جی مصنوعات وہاں فروخت کرنے کی خواہ رکھتے ہیں، ٹرمپ کے پاس ہمارے خلاف کچھ نہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ہواوے پر پابندی سے امریکا کو زیادہ نقصان ہوگا خصوصاً فائیو جی کنکشنز کے حوالے سے ‘اگر ان کے پاس سپر کمپیوٹر اور سپر لارچ کیپیسٹی کنکشنز ہیں، تو بھی امریکا کو سپر فاسٹ کنکشنز نہ ہونے پر نقصان ہوگا’۔

ان کا کہنا تھا ‘ہواوے کو بند کرنا امریکا کے پیچھے رہنے کا آغاز ہے’۔

راڈار ٹیکنالوجی سے لیس گوگل کے نئے پکسل فونز

گوگل نے اپنے نئے اسمارٹ فونز پکسل 4 اور پکسل 4 ایکس ایل متعارف کرادیئے ہیں۔

یہ وہ اسمارٹ فونز ہیں جس کے بارے میں سب کچھ پہلے سے ہی لیک ہوچکا تھا اور اب نیویارک میں ایک ایونٹ کے باقاعدہ طور پر اسے متعارف کرادیا گیا۔

گوگل پکسل 4 میں 5.7 انچ اور پکسل 4 ایکس ایل 6.3 انچ او ایل ای ڈی ڈسپلے 90 ہرٹز ریفریش ریٹ کے ساتھ دیا گیا ہے، جو کہ اسکرولنگ اور گیمنگ کا تجربہ بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔

دونوں فونز میں اینڈرائیڈ 10 آپریٹنگ سسٹم موجود ہے جبکہ اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر، 6 جی بی ریم اور 64 سے 128 جی بی اسٹوریج کے آپشن دیئے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ فون ان لاک کرنے کے آئی فون جیسا فیس آئی جیسا فیچر بھی دیا جارہا ہے جبکہ ایک فیچر موشن سنس ہے جس کی بدولت آپ متعدد فیچرز فون کی اسکرین کو چھوئے بغیر کچھ دور سے ہاتھ کی حرکت سے بھی استعمال کرسکیں گے۔

درحقیقت یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پکسل فور سیریز کے فونز میں راڈار موجود ہے جو کہ کمپنی کے 2015 کے پراجیکٹ سولی کا حصہ ہے۔

اس مقصد کے لیے کمپنی نے نئی طرز کے راڈار سنسرز فون میں دیئے ہیں جو ہاتھوں کی حرکت کو مانیٹر کرکے ڈیوائس کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ آپ ہوا میں کلائی کی مدد سے فون کو بھی ریسیو کرسکتے ہیں۔

گوگل کے مطابق اس چپ کی بدولت فیس ان لاک کا وقت بھی ڈرامائی حد تک کم ہوگیا ہے۔

پکسل 4 میں 2800 ایم اے ایچ جبکہ 4 ایکس ایل میں 3700 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے، آل ویز آن نوٹیفکیشن اور ایک خاص فیچر لائیو ٹرانسکرائب آڈیو ریکارڈنگ ہے جو ریکارڈنگ کے دوران ہی ٹرانسکرائب کرنے میں مدد دیتا ہے۔

جہاں تک کیمرا سسٹم کی بات ہے تو پکسل سیریز کے فونز کیمرا سسٹم کی وجہ سے ہی زیادہ جانے جاتے ہیں۔

فوٹو بشکریہ گوگل
فوٹو بشکریہ گوگل

پہلی بار گوگل نے پکسل سیریز کے فونز میں بیک پر ڈوئل کیمرا سیٹ اپ دیا ہے جبکہ فرنٹ پر ایک کیمرا ہے۔

بیک کیمرا سیٹ ایپ چوکور شکل کے ڈبے میں ایل ای ڈی لائٹ، مائیکروفون اور 2 لینسز موجود ہیں اور دونوں فونز میں کیمرا سیٹ اپ ایک جیسا ہی ہے۔

یعنی مین کیمرا 16 میگا پکسل لینس کے ساتھ ہے جس میں ایف 2.4 آپرچر ، ہائیبرڈ او آئی ایس اور 52 ڈگری فیلڈ آف ویو موجود ہے جبکہ دوسرا کیمرا 12.2 میگا پکسل ٹیلی فوٹو ہے جس میں ایف 1.7 آپرچر اور 77 ڈگری فیلڈ آف ویو ہے۔

گوگل کا کیمروں کے حوالے سے کہنا ہے کہ یہ دونوں لینس گوگل الگورتھم نو ہاﺅ سے لیس ہے جو زومنگ کے حوالے سے مدد دیتا ہے، اس کے علاوہ گوگل نائٹ سائٹ کی بدولت رات کو ستاروں کی تصاویر بھی لی جاسکتی ہے اور یہ ایسا فیچر ہے جو آج تک کسی اسمارٹ فون میں نہیں دیا گیا۔

فوٹو بشکریہ گوگل
فوٹو بشکریہ گوگل

جہاں تک ویڈیو کی بات ہے تو دونوں کیمروں سے 1080p ویڈیو 30، 60 یا 120 فریم فی سیکنڈ پر بنائی جاسکتی ہے۔

فرنٹ پر 8 میگا پکسل سیلفی کیمرا دیا گیا ہے۔

پکسل فور کے 64 جی بی اسٹوریج والے ماڈل کی قیمت 799 ڈالرز (ایک لاکھ 27 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب گوگل پکسل 4 ایکس ایل کے 64 جی بی اسٹوریج والے ماڈل کی قیمت 899 ڈالرز (ایک لاکھ 40 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) سے شروع ہوتی ہے اور یہ دونوں فونز پری آرڈر میں دستیاب ہے اور 21 اکتوبر سے صارفین کو دستیاب ہوں گے۔

Google Analytics Alternative