کھیل

ابوظہبی ٹیسٹ کا پہلا دن ختم، آسٹریلیا کے 2 وکٹوں پر 20 رنز

ابو ظہبی: آسٹریلیا نے ابوظہبی ٹیسٹ میں پہلی اننگز میں کھیل کے اختتام پر 2 وکٹوں کے نقصان پر 20 رنز بنا لیے جب کہ قومی ٹیم پہلی اننگز میں 282 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی۔

ابوظہبی کے شیخ زید اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے دوسرے ٹیسٹ میچ میں قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کے خلاف پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو درست ثابت نہ ہوسکا اور لنچ سے پہلے ہی آدھی ٹیم صرف 57 رنزپر پویلین واپس لوٹ گئی۔

قومی ٹیم کی جانب سے محمد حفیظ اور فخرزمان نے اننگز کا آغاز کیا لیکن حفیظ چوتھے ہی اوور میں مچل اسٹارک کا شکار بن گئے وہ صرف 4 رنز بناسکے جس کے بعد اظہر علی بیٹنگ کے لیے آئے اور فخرزمان کے ساتھ ملکر 52 رنز کی شراکت قائم کی تاہم اس کے بعد آسٹریلین اسپنر ناتھن لیون نے کسی کی چلنے نہ دی اور صرف 6 گیندوں پر 4 کھلاڑیوں کو پویلین بھیج کر پاکستانی بیٹنگ لائن کی کمر توڑ دی۔

اظہر علی 15 رنز پر ناتھن لیون کا شکار بنے جب کہ اسپنر نے حارث سہیل، اسد شفیق اور بابر اعظم کو کھاتہ کھولنے کی بھی مہلت نہ دی۔ کھانے سے وقفے سے قبل ہی آدھی ٹیم کے صرف 57 رنز پر پویلین لوٹ جانے کے بعد کپتان سرفراز خود بیٹنگ کے لیے آئے اور اوپننگ بلے باز فخرزمان کے ساتھ ملکر محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کا اسکور آگے بڑھایا۔

فخرزمان اور سرفراز احمد نے چھٹی وکٹ کے لیے 147 رنز کی قیمتی شراکت قائم کی اس دوران دونوں بلے بازوں نے اپنی نصف سنچریاں مکمل کیں، فخرزمان ڈیبیو ٹیسٹ میں ہی نروس نائینٹیز کا شکار ہوگئے اور صرف 6 رنز کی کمی سے سنچری مکمل نہ کرسکے جس کے بعد بلال آصف بیٹنگ کے لیے آئے اور 12 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔

بعد ازاں کپتان سرفراز احمد بھی 6 رنز کی کمی سے اپنی سنچری مکمل نہ کرسکے اور 94 رنز پر لیبسچگنی کا شکار بنے جب کہ یاسر شاہ 28 رنز بناکر پویلین واپس لوٹے۔ آسٹریلیا کی جانب سے ناتھن لیون نے 4، لیبسچگنی نے 3 ، مچل مارش اور مچل اسٹاک نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

آسٹریلیا نے پاکستان کی پہلی اننگز کے 282 رنز کے جواب میں بیٹنگ شروع کی تو محمد عباس کی نپی تلی بالنگ کے باعث کینگروز کے 2 کھلاڑی صرف 20 کے مجموعے پر پویلین لوٹ گئے، اوپنر عثمان خواجہ 3 اور نائٹ واچ مین پیٹر سڈل 4 رنز پر چلتے بنے جس کے بعد کھیل ختم کردیا گیا۔

پاکستان کی جانب سے دو کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کیپ دی گئی ہے، پہلے میچ میں ان فٹ ہونے والے امام الحق کی جگہ فخر زمان کو ٹیسٹ کیپ دی گئی ہے جب کہ وہاب ریاض کی جگہ میر حمزہ کو ٹیسٹ ڈیبیو کا موقع دیا گیا۔

قومی ٹیم کپتان سرفراز احمد، محمد حفیظ، اظہر علی، حارث سہیل، اسد شفیق، بابر اعظم، فخر زمان، بلال آصف، یاسر شاہ، محمد عباس اور میر حمزہ پر مشتمل ہے۔

آسٹریلین ٹیم کی قیادت ٹم پین کررہے ہیں جب کہ دیگر کھلاڑیوں میں عثمان خواجہ، ایرون فنچ، شان مارش، مچل مارش، ٹریوس ہیڈ، لیبسچگنی، مچل اسٹارک، پیٹر سڈل، ناتھن لیون اور جیمز ہولاند شامل ہیں۔

واضح رہے پہلے ٹیسٹ میں آسٹریلین بلے بازوں نے عمدہ بیٹنگ کے ذریعے میچ ڈرا کرکے پاکستان کو یقینی فتح سے محروم کردیا تھا۔

ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے کوچ 2 میچز کیلیے معطل

ممبئی: آئی سی سی نے ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے کوچ اسٹورٹ لاء کو دو میچز کے لیے معطل کر دیا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کاؤنسل (آئی سی سی) نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے کوچ اسٹورٹ لاء کو دو میچز کے لیے معطل کردیا۔ ویسٹ انڈین کوچ بھارت کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے آخری روز کیران پوول کو آوٹ دینے پر غصے میں آگئے تھے اور انہوں نے ٹی وی امپائر کے کمرے میں جا کر متنازع جملے کسے اور بعد ازاں چوتھے امپائر کے پاس گئے جہاں کھلاڑیوں کی موجودگی میں ان کو برا بھلا کہا۔

آئی سی سی نے ویسٹ انڈین کوچ کی حرکت پر نوٹس لیتے ہوئے ان پر میچ فیس کا 100 فیصد جرمانہ عائد کرتے ہوئے تین ڈی میرٹ پوائنٹس دے دیے، 24 ماہ کے دوران 4 ڈی میرٹ پوائنٹس ہونے پر اسٹورٹ لاء کو بھارت کے خلاف ون ڈے سیریز کے پہلے دو میچوں کے لیے معطل کر دیا گیا۔

برطانوی نژاد پاکستانی نوجوان نے تن سازی میں ملک کا نام روشن کردیا

برطانوی نژاد پاکستانی نوجوان راحت علی شاہ نے برطانیہ میں تن سازی کی چیمپئن شپ جیت کر پہلے ایشین ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔

یوکے بی ایف ایف آرگنائزیشن کے زیر اہتمام 14 اکتوبرکو نوٹنگھم میں منعقدہ برٹش باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ مقابلوں کی مینز ماسٹرز فزیک کیٹگری میں 20 تن ساز شریک ہوئے جن میں راحت علی شاہ نے پہلی پوزیشن اپنے نام کی۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے راحت اللہ شاہ نے دو ہفتے پہلے اسپین میں منعقدہ آرنلڈ ورلڈ کلاسک مقابلوں کی ماسٹرز مینز فزیک کیٹگری میں چھٹی پوزیشن حاصل کی تھی، ان مقابلوں میں 25 تن سازوں نے شرکت کی۔

ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے راحت علی شاہ کا کہنا تھا کہ برٹش چیمپئن شپ میں کامیابی پر بے حد خوشی ہے ، بیرون ملک رہ کر اپنے وطن کا نام روشن کرنے کے جذبات الفاظ بیان میں نہیں کئے جاسکتے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے آرنلڈ کلاسک مقابلوں میں چھٹی پوزیشن پاکر دنیا بھر میں ہونے والے تن سازی کے مقابلوں میں براہ راست شرکت کرنے کا اہل ہوگیا ہوں، خواہش ہے کہ ورلڈ چیمپئن بنوں۔

سابق قومی ویمن کرکٹر مرینہ اقبال نے کمنٹری باکس سنبھال لیا

لاہور: سابق قومی خاتون کرکٹر مرینہ اقبال کرکٹ کے بعد اب کمنٹری کے جوہر دکھائیں گی۔

سابق ویمن کرکٹر مرینہ  اقبال پاکستان اور آسٹریلیا کی خواتین کرکٹ ٹیموں کے درمیان 18 اکتوبر سے شروع ہونے والی آئی سی سی چیمپئن شپ کے دوران بطور کمنٹیٹر فرائض انجام دیں گی۔

یاد رہے کہ 31 سالہ مرینہ اقبال 36 ایک روزہ اور 42 ٹوئنٹی20 میچوں میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ پاکستان اور آسٹریلیا کے دوران آئی سی سی چیمپئن شپ میں 3 ایک روزہ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ جمعرات سے ملائیشیا کے کنرارا اوول گراﺅنڈ میں ہوگا۔

پاکستان جیتی بازی ہار گیا، آسٹریلیا پہلا ٹیسٹ میچ ڈرا کرنے میں کامیاب

یاسر شاہ کی عمدہ باؤلنگ رائیگاں گئی اور عثمان خواجہ، ٹریوس ہیڈ اور ٹم پین کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف چوتھا ٹیسٹ میچ ڈرا کر دیا۔

پاکستان نے ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ کے چوتھے روز دوسری اننگز 181 رنز پر ڈیکلیئر کرکے آسٹریلیا کو جیت کے لیے 462 رنز کا ہدف دیا تھا۔

چوتھے روز کا کھیل ختم ہونے تک آسٹریلیا کے 136 رنز پر 3 کھلاڑی آؤٹ ہوگئے تھے اور اسے جیت کے لیے مزید 326 رنز درکار تھے۔

آج پانچویں اور آخری روز کا کھیل شروع ہوا تو عثمان خواجہ اور ٹریوس ہیڈ نے محتاط انداز میں کھیلتے ہوئے اننگز کو آگے بڑھایا۔

دونوں کھلاڑیوں نے ذمے دارانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی باؤلرز کا خوب امتحان لیا اور دن کے پہلے سیشن میں کوئی وکٹ نہ لی۔

ٹریوس ہیڈ 219 کے مجموعے پر محمد حفیظ کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہوئے، انہوں نے 72 قیمتی رنز بنائے۔

252 کے مجموعے پر آسٹریلیا کو چھٹا نقصان پہنچا جب پہلا میچ کھیلنے والے مارنس لبوشین محض 13 رنز بناکر یاشر شاہ کیوکٹ بنے اور ایک مرتبہ پھر پاکستان کی میچ جیتنے کی امیدیں پیدا ہو گئیں۔

لیکن دوسرے اینڈ پر موجود عثمان خواجہ ڈٹے رہے اور ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی ساتویں سنچری اسکور کی۔

انہوں نے کپتان ٹم پین کے ہمراہ پاکستانی باؤلرز کے خلاف بھرپور مزاحمت کی اور ساتویں وکٹ کے لیے 79رنز جوڑ کر پاکستان سے فتح چھیننے کی کوشش لیکن یاسر شاہ کے شاندار اسپیل نے میچ کا رخ یکدم پلٹ دیا۔

لیگ اسپنر نے 141رنز کی شاندار اننگز کھیلنے والے عثمان کو آؤٹ کر کے اہم شراکت کا خاتمہ کیا اور پھر اگلے اوور میں پیٹر سڈل اور مچل اسٹارک کی وکٹیں حاصل کر کے میچ کا نتیجہ آنے کی امیدیں پھر سے زندہ کردیں۔

لیکن کپتان ٹم پین کا ساتھ دینے نیتھن لایون آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے ڈٹ کر پاکستانی باؤلرز کا سامنا کیا اور آخری 12اوورز تک کوئی وکٹ نہ گرنے دی اور یوں آسٹریلیا نے پاکستان کو یقینی فتح سے محروم کرتے ہوئے پہلا ٹیسٹ میچ ڈرا کردیا۔

آسٹریلیا نے چوتھی اننگز میں 140اوورز تک بیٹنگ کی اور پاکستان کی میچ میں جیت کے ارمانوں کو خاک میں ملا دیا۔

جب میچ کے پانچویں دن کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تو آسٹریلیا نے 8وکٹوں کے نقصان پر 362رنز بنائے تھے۔

عثمان خواجہ کو شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ 16اکتوبر سے ابوظہبی میں کھیلا جائے گا۔

آسٹریلیا اور عثمان خواجہ نے متعدد ریکارڈز پاش پاش کر دیے

پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں عثمان خواجہ کی شاندار کارکردگی کی بدولت آسٹریلیا نے میچ ڈرا کرنے کے ساتھ ساتھ کئی نئے ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیے۔

پاکستان نے دبئی ٹیسٹ میں آسٹریلیا کو فتح کے لیے 462رنز کا ہدف دیا تھا اور آسٹریلیا کو میچ ڈرا کرنے کے لیے 140اوورز تک بیٹنگ کرنا تھی۔

آسٹریلیا نے اوپنرز ایرون فنچ اور عثمان خواجہ کے عمدہ کھیل کے بعد ٹریوس ہیڈ اور کپتان ٹم پین کی عمدہ اننگز کی بدولت سنسنی خیز مقابلے کے بعد میچ ڈرا کر دیا۔

اس اننگز کے دوران آسٹریلیا نے 8وکٹوں کے نقصان پر 462رنز بنائے جو متحدہ عرب امارات میں کسی بھی ٹیم کا چوتھی اننگز میں سب سے بڑا اسکور ہے۔

اس سے قبل متحدہ عرب امارات میں چوتھی اننگز میں سب سے بڑے اسکور کا ریکارڈ پاکستان کے پاس تھا جب اس نے 2010 میں اسی گراؤنڈ پر جنوبی افریقہ کے خلاف 3وکٹوں کے نقصان پر 343رنز بنائے تھے۔

آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف میچ کی چوتھی اننگز میں 139.5اوورز تک بیٹنگ کی جو تکنیکی اعتبار سے آسٹریلیا کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ڈرا میچ کی طویل ترین اننگز ہے۔

گیندوں کے اعتبار سے آسٹریلیا نے ڈرا ٹیسٹ میں اپنی سب سے طویل چوتھی اننگز 1961میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ایڈیلیڈ کے مقام پر کھیلی تھی جب 8 گیندوں کا اوور ہوتا تھا اور آسٹریلین بلے باز نے 120اوورز کا سامنا کرتے ہوئے کُل 960گیندیں کھیلی تھیں۔

10سال بعد 1971 میں اسی میدان پر آسٹریلین ٹیم نے چوتھی اننگز میں انگلینڈ کے خلاف ایشز ٹیسٹ میں 115 اوورز تک بیٹنگ کی تھی اور 8 گیندوں کا اوور ہونے کے سبب میزبان بلے بازوں نے 920 گیندوں کا سامنا کیا تھا۔

تاہم ٹیسٹ کرکٹ میں 6گیندیں فی اوور کا قانون متعارف کرانے کے بعد سے یہ ڈرا پر ختم ہونے والے میچ میں آسٹریلین کرکٹ کی تاریخ کی طویل ترین اننگز ہے اور انہوں نے آج تک 139.5اوورز سے زائد چوتھی اوورز میں بیٹنگ نہیں کی۔

یہ ایشیا میں کسی بھی ڈرا ٹیسٹ میچ کی تیسری طویل ترین چوتھی اننگز ہے جہاں ڈرا ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں سب سے زیادہ 142اوورز کھیلنے کا ریکارڈ بنگلہ دیش کے پاس ہے جس نے 2005 میں زمبابوے کے خلاف یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

اس فہرست میں دوسرے نمبر پر انگلش ٹیم موجود ہے جس نے 2003 میں سری لنکا کے خلاف متیاہ مرلی دھرن کا سامنا کرتے ہوئے چوتھی اننگز میں 140اوورز کھیلنے کا کارنامہ انجام دیا تھا۔

یہ مجموعی طور پر آسٹریلیا کی چھٹی اور ایشیا میں کھیلی گئی چوتھی طویل ترین چوتھی اننگز ہے۔

دوسری جانب مین آف دی میچ کا ایوارڈ حاصل کرنے والے عثمان خواجہ آسٹریلیا کی جانب سے چوتھی اننگز میں طویل ترین اننگز کھیلنے والے بلے باز بن گئے جبکہ مجموعی طور پر وہ مائیک ایتھرٹن کے بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والے دوسرے بلے باز ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں چوتھی اننگز میں سب سے طویل اننگز کھیلنے کا ریکارڈ مائیک ایتھرٹن کے پاس ہے جنہوں نے 1995 میں جنوبی افریقہ کے خلاف 645منٹ تک بیٹنگ کی تھی جبکہ عثمان خواجہ نے دبئی ٹیسٹ 524 منٹ تک بیٹنگ کر کے یہ کارنامہ انجام دیا۔

عثمان خواجہ نے اس میچ میں مجموعی طور پر 767 منٹ تک بیٹنگ کی اور اس طرح وہ آسٹریلیا کی جانب سے کسی بھی ٹیسٹ میچ میں سب سے زیادہ منٹ تک بیٹنگ کرنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آ گئے۔

اس سلسلے میں مارک ٹیلر سرفہرست ہیں جنہوں نے آج سے ٹھیک 20سال قبل پاکستان ہی کے خلاف کراچی ٹیسٹ میچ میں 334 اور 92رنز کی اننگز کے دوران مجموعی طور پر 938منٹ تک بیٹنگ کی تھی۔

اس کے ساتھ ساتھ عثمان خواجہ نے ایک اور منفرد ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا اور وہ پاکستان میں پیدا ہونے والے واحد کرکٹر ہیں جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان ہی کے خلاف سنچری اسکور کی۔

سابق کپتان یونس خان بھی سرفراز احمد کے حق میں بول پڑے

کراچی: سابق ٹیسٹ کپتان یونس خان نے قومی کپتان سرفراز احمد کی بھرپور سپورٹ اور حمایت کرتے ہوئے محمد حفیظ کے انتخاب کے حوالے سے سلیکشن اسٹائل پر حیرانگی ظاہر کردی۔

کراچی جیم خانہ میں انٹر اسکول کرکٹ ٹورنامنٹ  کی افتتاحی تقریب میں میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے سابق ٹیسٹ کپتان یونس خان نے کہا کہ سینئر بیٹسمین محمد حفیظ کی ٹیسٹ ٹیم میں شمولیت عجیب انداز میں ہوئی، پہلے حفیظ کو 15 کھلاڑیوں میں شامل ہی نہیں کیا گیا، پھر 16 کھلاڑیوں  میں بھی نام نہ آیا، بعد میں 17 رکنی ٹیم میں بھی شامل نہ کیے گئے لیکن پھر حفیظ ٹیم میں آئے اور پلینگ الیون میں شامل ہوئے، انہوں نے اپنی عمدہ کارکردگی سے خود کو ثابت  بھی کیا۔

یونس خان نے کہا کہ  قومی کرکٹ ٹیم کےسینئرکھلاڑیوں  کے ساتھ ایسابرتاؤ افسوس ناک ہے، ایک سوال کے جواب میں یونس خان نے کہا کہ  سرفراز احمد کو پاکستان ٹیم کا کپتان برقرار رہنا چاہیے، ہمارے یہاں ایک ایونٹ کے بعد ہی کپتان کی تبدیلی کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں جو درست عمل نہیں۔

ہمیں کپتان کو سپورٹ کرنا چاہیے تاکہ اسے یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ وہ ایک ہفتے سے سویا نہیں،  یونس خان نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ سرفراز کبھی دھوکا نہیں دے گا، سرفراز احمد بہترین صلاحیت رکھتا ہے، سرفراز احمد کو بھرپور سپورٹ کیا جائے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں بتدریج  مزید بہتری آئے گی۔

دبئی ٹیسٹ پر پاکستان کی گرفت مضبوط، جیت کیلئے 7 وکٹیں درکار

پاکستان نے ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ کے چوتھے روز دوسری اننگز 181 رنز پر ڈیکلیئر کرکے آسٹریلیا کو جیت کے لیے 462 رنز کا ہدف دے دیا، جس کے تعاقب میں 3 آسٹریلوی بلے باز آؤٹ ہوگئے۔

چوتھے روز کا کھیل ختم ہوا تو آسٹریلیا کے 136 رنز تھے اور اسے جیت کے لیے کل آخری روز مزید 326 رنز درکار ہیں۔

دبئی میں کھیلے جارہے ٹیسٹ کے چوتھے روز دن کا آغاز ہوا تو پاکستان کا اسکور 3 وکٹوں پر 45 رنز تھا تاہم امام الحق اور حارث سہیل نے اسکور کو مزید آگے بڑھایا اور دوسری اننگز میں ٹیم کی سنچری مکمل کرادی۔

امام الحق اور حارث سہیل 110 کے اسکور پر آؤٹ ہوئے اور دونوں بلےبازوں نے بالترتیب 48 اور 39 رنز بنائے۔

اسد شفیق اور بابر اعظم نے پاکستان کی برتری مزید بہتر بناتے ہوئے اسکور کو 181 رنز تک پہنچایا تاہم اسد شفیق 41 رنز بنا کر لایون کی گیند پر آؤٹ ہوئے جس کے بعد پاکستان نے دوسری اننگز ڈیکلیئر کرنے کا فیصلہ کیا۔

پاکستان نے 461 رنز کی برتری حاصل کرنے کے بعد آسٹریلیا کو ایک مشکل ہدف دیا۔

بابراعظم نے آؤٹ ہوئے بغیر 28 رنز بنائے جبکہ آسٹریلیا کی جانب سے ہولینڈ نے 3 اور ناتھن لایون نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔

عثمان خواجہ اور ارون فنچ نے دوسری اننگز میں بھی ذمہ دارانہ بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہتر آغاز کیا۔

تاہم 87 رنز کے مجموعی اسکور پر ارون فنچ، محمد عباس کا شکار بن گئے اور اس کے بعد لگاتار دو مزید وکٹیں 87رنز پر ہی گرگئیں، ان دونوں کھلاڑیوں کو محمد عباس نے ہی پوہلین بھیجا، شان مارش اور مچل مارش بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔

جس کے بعد چوتھے دن کا کھیل ختم ہونے تک اوپنر عثمان خواجہ اور ٹریوس ہیڈ نے بالترتیب 50 اور 37 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلتے ہوئے اسکور کو 136 رنز تک پہنچادیا۔

خیال رہے کہ پہلی اننگز میں آسٹریلیا کی پوری ٹیم عثمان خواجہ اور ارون فنچ کی 142 رنز کی بہترین اوپننگ شراکت کے باوجود 202 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی۔

پاکستان کی جانب سے اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے بلال آصف نے تباہ کن باؤلنگ کرتے ہوئے 6 وکٹیں حاصل کی تھیں اور محمد عباس نے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔

Google Analytics Alternative