کھیل

دورہ انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم روانہ

لاہور: دورہ انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل قومی کرکٹ ٹیم روانہ ہوگی۔ 

قومی کرکٹ ٹیم آئرلینڈ کے خلاف واحد ٹیسٹ میچ کھیلے گی جس کا آغاز 11 مئی سے ہوگا، جس کے بعد پاکستان ٹیم انگلینڈ کے خلاف 2 ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز کھیلے گی۔

قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ نوجوان ٹیم انگلینڈ لے جارہے ہیں اور امید ہے کہ سب کھلاڑی اچھے نتائج دیں گے۔

دورہ آئرلینڈ و انگلینڈ کے خلاف قومی ٹیم کا مختصر کیمپ قذافی اسٹیڈیم میں لگایا گیا جس کے دوران کھلاڑیوں نے بیٹنگ ، بولنگ اور فیلڈنگ کی بھرپور پریکٹس کی۔

مذکورہ سیریز کے لئے سلیکشن کمیٹی نے نوجوان کھلاڑیوں کا انتخاب کیا ہے جب کہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر بھی نئے تجربات کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے بابر اعظم پاکستان کی جانب سے ون ڈے میں تیسرے نمبر پر اور ٹی ٹوئنٹی میں اوپننگ کرتے ہیں لیکن آئرلینڈ اور انگلینڈ میں انہیں چوتھے یا پانچویں نمبر پر کھلانے کی تجویز ہے۔

سب سے اہم اور مشکل ترین پوزیشن ون ڈاؤن پر لیفٹ ہینڈ بیٹسمین حارث سہیل کھیلیں گے۔ حیران کن طور پر جارح مزاج اوپنر فخر زمان کو بھی مڈل آرڈر میں پانچویں یا چھٹے نمبر پر آزمایا جائے گا اور انہیں ذمے داری دی جائے گی کہ وہ اٹیک کریں۔

کوچ کے جذباتی خطاب نے کرکٹرز میں نیا جوش بھر دیا

لاہور: مشکل ٹور سے قبل مکی آرتھر کے جذباتی خطاب نے کرکٹرز میں نیا جوش بھر دیا، انہوں نے ٹیم کو100فیصد صلاحیتوں کے اظہار کی تلقین کردی۔

آئرلینڈ اور انگلینڈ سے ٹیسٹ میچز کی تیاری کیلیے لاہور میں تربیتی کیمپ کا اختتام ہو گیا،اس موقع پر ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے جذباتی خطاب بھی کیا،میدان میں ایک طرف لگائے گئے شامیانے کے نیچے جمع ہونے والے کرکٹرز کو چیمپئنز ٹرافی کی فتح کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر بھرپور توجہ اور محنت کے ساتھ میچز میں کم سے کم غلطیاں کی جائیں تو مضبوط حریفوں کو بھی زیر کرنا ناممکن نہیں۔

مکی آرتھر نے کہا کہ ٹور ایک نیا چیلنج ہے جس کو قبول کرتے ہوئے اپنا بہترین کھیل پیش کرنا ہوگا،سینئر ہوں یا جونیئرز کسی کی جانب سے سہل پسندی برداشت نہیں کی جائے گی، سب کو اپنی 100 فیصد صلاحیتوں کا اظہار کرنا ہوگا۔

بولنگ کوچ اظہر محمود نے کہا کہ انگلینڈ میں کارکردگی دکھانے کیلیے کنڈیشنز کو جلد سمجھنے اور ہمت سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے، غیر ضروری دباؤ سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ حاضر دماغی سے حریف کی کمزوریوں کیخلاف اپنی طاقت کا استعمال کریں۔

ذرائع کے مطابق اسکواڈ میں شامل تمام کھلاڑیوں کو آج شام 7 بجے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں اکٹھے ہونے کی ہدایت دی گئی ہے، ایئرپورٹ روانگی رات 12 بجے ہوگی، حساس ٹور کو پیش نظر رکھتے ہوئے ٹیم کو اینٹی کرپشن لیکچر میں غیر ضروری سرگرمیوں اور منفی عناصر سے دور رہنے کی بھی ہدایت دی جائے گی۔

فواد عالم کو اسکواڈ میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ مشترکہ تھا، سرفراز

لاہور: قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے کہ دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے لیے منتخب اسکواڈ میں فواد عالم کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ مشترکہ تھا اور امید ہے کہ ٹیم دوروں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے لیے اتوار کو 16رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان کیا گیا لیکن عمدہ کارکردگی اور شاندار فٹنس کے باوجود فواد عالم کو اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا جس پر چیف سلیکٹر انضمام الحق شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

تاہم چیف سلیکٹر نے فواد عالم کو منتخب نہ کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 3 سال میں انہوں نے فواد سے بہتر کھلاڑی دیکھے لیکن مجموعی اعدادوشمار ان کی اس دلیل کے حق میں نظر نہیں آتے۔

چیف سلیکٹر پر شدید تنقید کے بعد کپتان سرفراز احمد نے انضمام کی حمایت میں سامنے آتے ہوئے کہا ہے کہ دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے لیے ٹیم سب کی مشاورت سے منتخب کی گئی اور ایسا نہیں کہ کسی خاص کھلاڑی کی حق تلفی کی گئی ہو۔

دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کی تیاریوں کے لیے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں جاری قومی ٹیم کا تربیتی کیمپ آج اختتام پذیر ہو گیا جہاں کھلاڑیوں کو سخت ٹریننگ کرائی گئی۔

آج ٹریننگ سیشن میں باؤلرز کو لمبے اسپیل اور بیٹسمینوں کو مستقل 45 منٹ بیٹنگ کرنے کا ٹاسک دیا گیا اور ٹریننگ کے دوران پیر پر گیند لگنے کے سبب فاسٹ باؤلر محمد عامر گراؤنڈ چھوڑ کر باہر چلے گئے۔

تربیتی کیمپ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سرفراز احمد نے کہا کہ دورے کے لیے 16 کھلاڑیوں کو ہی منتخب کیا جا سکتا تھا اور اگر ان کا بس چلتا تو وہ کیمپ میں طلب کیے گئے تمام 25 کھلاڑیوں کو منتخب کر لیتے۔

اس موقع پر کپتان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ فواد کو خراب تکنیک، مینجمنٹ سے مسائل یا دیگر کسی وجہ سے منتخب نہیں کیا گیا۔

‘ہمارے پاس 4 سلیکٹرز، ایک کوچ اور ایک کپتان ہے۔ جب بھی اسکواڈ منتخب ہوتا ہے تو ہر کوئی اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے اور باہمی مشاورت اور تعاون سے اسکواڈ منتخب کیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں کہ اسکواڈ کسی ایک فرد کی رائے یا مشاورت کے بغیر منتخب کیا جائے’۔

ان کا کہنا تھا کہ فواد نے 2009 سے ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی لیکن انہیں کیمپ میں طلب کیا گیا جہاں وہ دورے کے لیے منتخب کیے جانے والے ممکنہ کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل تھے۔ ایسا نہیں کہ انہیں طلب کیا گیا تو ان کو ٹیم میں ہر حال میں منتخب بھی کیا جائے گا بلکہ سعد علی اور عثمان صلاح الدین کی کارکردگی ان سے بہتر تھی، اس لیے ان دونوں کا انتخاب کیا گیا۔

کپتان نے دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے لیے منتخب اسکواڈ کو متوازن قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایسا نہیں کہ جن کھلاڑیوں کو منتخب نہیں کیا گیا، انہیں دوبارہ منتخب نہیں کیا جائے گا بلکہ جو کوئی بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا اس کے لیے قومی ٹیم کے دروازے کھلے ہوں گے۔

اسکواڈ میں صرف ایک اسپنر کی شمولیت کے سوال پر سرفراز نے کہا کہ ہم نے چار اسپنرز کو کیمپ میں طلب کیا تھا جن میں سے شاداب بہترین تھے لیکن انگلینڈ میں سرد موسم اور فاسٹ باؤلر کے لیے سازگار کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے ہو سکتا ہے کہ ہم 4 فاسٹ باؤلرز کے ساتھ میدان میں اتر کر حارث سہیل یا اسد شفیق جیسے پارٹ ٹائم اسپنرز پر انحصار کریں۔

پاکستان ٹیم 23 اپریل کو لاہور سے کینٹربری روانہ ہوگی اور پہلا 4 روزہ وارم اپ میچ 28 اپریل سے کینٹ کے خلاف کھیلے گی۔

پاکستان اپنا دوسرا 4 روزہ میچ 4 سے 7 مئی تک نارتھ ہیمپٹن شائر کے خلاف کھیلے گا جس کے بعد آئرلینڈ کے خلاف واحد ٹیسٹ 11 مئی سے شروع ہوگا۔

آئرلینڈ سے میچ کے بعد قومی ٹیم 19 اور 20 مئی کو لیسٹر شائر کے خلاف 2 روزہ پریکٹس میچ کھیلے جس کے بعد 24 مئی سے انگلینڈ کے خلاف 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز شروع ہو گی۔

قومی کرکٹرز کی واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب میں شرکت

لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب میں شریک ہوئے۔

اس موقع موجود شہریوں نے قومی ہیروز کو اپنے درمیان دیکھ کر خوشگوار حیرت کا اظہار کیا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے،فاسٹ بولر حسن علی نے عوام کے سامنے آکر روایتی انداز میں جشن منایا جب کہ پیسرز رینجرز کے نوجوانوں کیساتھ پریڈ میں بھی شریک ہوئے۔

قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد، اظہر علی، سمیع اسلم، بابر اعظم، حارث سہیل،عثمان صلاح الدین، فہیم اشرف،سعد علی، راحت علی، حسن علی کیساتھ آفیشلز بھی تقریب میں موجود تھے۔

2020 ورلڈ ٹی 20؛ آسٹریلیا کا ٹکٹ پانے کی کشمکش جاری

 دبئی: 2020 ورلڈ ٹوئنٹی 20 کے لیے ایسوسی ایٹ ٹیموں میں آسٹریلیا جانے کی کشمکش جاری ہے۔

2 برس بعد شیڈول ٹورنامنٹ کے لیے علاقائی کوالیفیکشن ٹورنامنٹ کویت میں شروع ہوگیا، کوالیفائی مرحلے میں مجموعی طور پر 62 ٹیمیں پانچ براعظموں پر شیڈول 12ایونٹس میں حصہ لیں گی۔

آئی سی سی جنرل منیجر ڈیولپمنٹ ولیم گلین رائٹ نے اس موقع پر کہا کہ ہم ایسوسی ایٹ ممبران پرخاطرخواہ سرمایہ کاری کرکے مختصرفارمیٹ کی کرکٹ کو زیادہ سے زیادہ ممالک میں متعارف کرانے کی پالیسی پر کاربند ہیں۔

اس موقع پر کویت کرکٹ کے صدر حیدر فرمان نے کہا کہ ہوم گرائونڈ پر کوالیفائنگ ایونٹ کی میزبانی کا مقصد مقامی لوگوں کے ساتھ گلف اور ایشیا کے دیگر ہمسایہ ممالک کے شائقین کو راغب کرنا ہے، یہ کوالیفائنگ عمل 2018 سے2020 تک ہے، اس میں افریقہ اور یورپ میں 3،3 جبکہ امریکاز، ایشیا اور ایسٹ ایشیا پیسفک میں 2،2 ایونٹس ہوں گے۔

ایشیا گروپ ’ اے‘ کوالیفائرکویت میں جمعے کو شروع ہوگیا، اس میں بحرین، مالدیپ ، قطر ، سعودی عرب ، یواے ای اور میزبان کویت کی ٹیمیں ایکشن میں ہیں، ایشیا سے تین ٹیمیں علاقائی فائنل تک رسائی حاصل کرپائیں گی۔

ریجنل فائنل آئندہ برس ہوگا، دوسری جانب افریقن ’ اے ‘ کوالیفائر میں گیمبیا، گھانا، سری لیونے اور میزبان نائیجیریا نے 14 سے 21 اپریل تک حصہ لیا، اس سلسلے کا پہلا کوالیفائر رواں برس 26 فروری سے 3 مارچ تک ارجنٹائن میں منعقد ہوچکا جس سے برمودا اور کیمان آئی لینڈ نے کوالیفائی کیا ہے، افریقہ کا ’ بی ‘ کوالیفائر 7 سے 14 جولائی تک روانڈا میں ہوگا، جس میں میزبان ملک کے ساتھ کینیا، تنزانیہ اور یوگینڈا کو موقع ملے گا۔

ایسٹ ایشیا پیسفک کا پہلا کوالیفائر فجی میں 25 سے 29 اگست تک شیڈول ہے، اس میں فجی کے ہمراہ پاپوا نیوگنی، سمائو اور ویناتو کی ٹیمیں ایکشن میں دکھائی دیں گی، ایشیا ’ بی ‘ کوالیفائر ملائیشیا میں 3 سے 12 اکتوبر تک ہوگا، اس میں بھوٹان، چین، ملائیشیا، میانمار، نیپال، سنگاپور اورتھائی لینڈ کی ٹیمیں شامل

ایشین جوڈو چیمپئن شپ میں پاکستان نے 4 میڈل جیت لیے

کھٹمنڈو: پاکستان کے شاہ حسین شاہ اور قیصر خان کے سونے کے تمغوں کی بدولت ساؤتھ ایشین جوڈو چیمپئن شپ میں مجموعی طور پر 4 تمغے جیت لیے۔

ہفتہ کو نیپال میں شروع ہونے والی چیمپیئن شپ کے ابتدائی روز پاکستانی جوڈوکاز نے مختلف کیٹگریز کے مقابلوں میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو طلائی اور دو چاندی کے تمغے جیتے۔

پاکستانی جوڈوکا قیصر خان نے مائنس 90 کلوگرام کیٹگری کے پہلے راؤنڈ میں روایتی حریف بھارتی کھلاڑی کو ہرا کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔

فائنل فور مقابلے میں انہوں نے سری لنکن کھلاڑی کو زیر کر کے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا اور فیصلہ کن معرکے میں بھی عمدہ کارکردگی کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے میزبان نیپال کے کھلاڑی کو شکست فاش سے دوچار کر کے طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔

مینز 100 پلس کیٹیگری میں سابق مایہ ناز باکسر حسین شاہ کے بیٹے پاکستان کے اسٹار جوڈوکا شاہ حسین شاہ نے ابتدائی راؤنڈ میں بھارتی کھلاڑی کو زیر کر کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔

سیمی فائنل میں انہوں نے نیپالی کھلاڑی کو ہرا کر فائنل میں جگہ بنائی اور فائنل میں سری لنکن کھلاڑی کو مات دے کر طلائی تمغہ جیتنے کا اعزاز حاصل کر کے پاکستان کو دوسرا سونے کا تمغہ جتا دیا۔

دوسری جانب پاکستان کی حمیرا عاشق اور مریم نے خواتین کی مائنس 48 اور مائنس 52 کلوگرام کیٹیگریز میں چاندی کے تمغے جیتے، دونوں کھلاڑیوں کو فائنلز میں بھارتی کھلاڑیوں کے ہاتھوں شکست ہوئی۔

تین روزہ جوڈو چیمپیئن شپ میں پاکستان کے علاوہ میزبان نیپال، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور بھوٹان کی ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں جہاں ایونٹ میں پاکستان کے 6 مرد اور 5 خواتین جوڈوکاز حصہ لے رہی ہیں۔

مرد کھلاڑیوں میں شاہ حسین شاہ، قیصر خان، مدثر علی، محمد عباس، بابر حسین اور ندیم اکرم جبکہ خواتین کھلاڑیوں میں حمیرا عاشق، مریم، شمائیلہ گل، عاصمہ بانو اور بینش خان شامل ہیں۔

’’بگ تھری ختم پیسہ ہضم ‘‘ بھارتی ڈھٹائی برقرار، تاخیر ی حربوں کا استعمال

نئی دہلی:  پاکستان سے کرکٹ تعلقات کے حوالے سے بھارتی ڈھٹائی برقرار ہےزرتلافی کے کیس میں مضبوط پاکستانی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے تاخیری حربے بھی استعمال کرنا شروع کر دیے گئےبی سی سی آئی کی کوشش ہے کہ سماعت کی تاریخ آگے بڑھا دی جائے۔

حکام کا موقف ہے کہ پاکستان سے معاہدہ بگ تھری کی حمایت کے بدلے سیریز کھیلنے پر تھا اب چونکہ وہ ماڈل نہیں رہا اور اس کی وجہ سے ہمیں مالی نقصان بھی ہوچکا اس لیے پی سی بی سے کنٹریکٹ بھی ختم ہوگیا، پاکستان کی جانب سے70 ملین ڈالر کے ہرجانہ وصولی کیس کیلیے بی سی سی آئی نے پرانا ریکارڈ جمع کرنا شروع کردیا ہے،2014 سے معاملات کو دیکھنے والے تمام آفیشلز کو مدد کیلیے خطوط بھیج دیے گئے، آئی سی سی میٹنگز میں پاک بھارت باہمی کرکٹ پر ہونے والی بات چیت کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا گیا۔

دوسری جانب پی سی بی چیئرمین نجم سیٹھی اور چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمدکے دورہ بھارت کا وقت بھی قریب آگیا، دونوں کولکتہ میں شیڈول آئی سی سی میٹنگز میں حصہ لیں گے، اس دوران انکی کوشش ہوگی کہ پاک بھارت کرکٹ پر اپنا موقف بھی بھرپور انداز میں پیش کیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے باہمی سیریز کھیلنے کے معاہدے کی پاسداری نہ کرنے پر آئی سی سی کی تنازعات کمیٹی میں بھارت کیخلاف70 ملین ڈالر ہرجانے کا کیس کیا ہے، جس کیلیے کمیٹی قائم کردی گئی ہے جبکہ سماعت اکتوبر میں ہوگی۔

ذرائع نے بتایا کہ بھارتی ڈھٹائی برقرار ہے،زرتلافی کے کیس میں مضبوط پاکستانی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے اب اس نے تاخیری حربے بھی استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں،بی سی سی آئی کی کوشش ہے کہ سماعت کی تاریخ آگے بڑھا دی جائے، ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بی سی سی آئی اس ایک نقطے پر اپنا کیس لڑے گاکہ ’ پاکستان سے معاہدہ بگ تھری کی حمایت کے بدلے سیریز کھیلنے پر تھا اب چونکہ وہ ماڈل نہیں رہا اور اس کی وجہ سے ہمیں مالی نقصان بھی ہوچکااس لیے پی سی بی سے کنٹریکٹ بھی ختم ہوچکا۔ بھارتی حکام نے کیس ہارنے سے بچنے کیلیے اپنی تیاریاں شروع کردی ہیں۔

اس سلسلے میں قائم مقام سیکریٹری امیتابھ چوہدری نے 2014 کے بعد بی سی سی آئی کے اہم عہدوں پر کام کرنے والے تمام آفیشلز کو خطوط بھیجے ہیں، سب سے کہا گیاکہ اپنے دور میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے ہونے والی بات چیت کے جتنے بھی شواہد اور ریکارڈ موجود ہیں وہ ان سے بورڈ کو آگاہ کریں، ان حکام میں آئی سی سی کے موجودہ چیئرمین ششانک منوہر، این سری نواسن، سنجے پٹیل، انوراگ ٹھاکر اور آئی پی ایل کے سابق چیف آپریٹنگ آفیسر سندر رامن شامل ہیں۔ ایک بھارتی اخبارکی رپورٹ کے مطابق امیتابھ چوہدری نے آئی سی سی کو بھی ایک خط بھیجا جس میں اس سے بورڈ میٹنگز کے دوران پاکستان اور بھارت کی باہمی کرکٹ سے متعلق ہونے والی بات چیت کا ریکارڈ فراہم کرنے کوکہا گیا۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بی سی سی آئی کو ابھی تک سابق سربراہان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا مگر اس بات کا امکان موجود ہے کہ جلد ہی سب مل کر اپنا موقف پیش کردیں گے، پاکستان کے ساتھ اس معاملے کو سپریم کورٹ کی مقرر کردہ کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرز نہیں بلکہ خود بی سی سی آئی حکام ہی دیکھ رہے ہیں۔ امیتابھ چوہدری نے رابطہ کرنے پر دعویٰ کیا کہ بھارت کا پاکستان بورڈ کے خلاف کیس مضبوط ہے۔ یاد رہے کہ بی سی سی آئی نے دنیا کو دکھانے کیلیے اپنے نئے ایف ٹی پی میں بھی پاکستان سے باہمی سیریز کیلیے جگہ رکھی ہوئی ہے لیکن اس کا جواز ہے کہ حکومت کی اجازت کے بغیر سیریز ممکن نہیں ہوگی۔

دریں اثنا پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی اور چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کے دورئہ بھارت کا وقت بھی آ گیا ہے، دونوں ہفتے سے کولکتہ میں شروع ہونے والی آئی سی سی میٹنگز میں شریک ہوں گے، ڈھائی برس میں یہ پہلا موقع ہے جب پی سی بی کا وفد بھارت کا دورہ کررہا ہے، آخری مرتبہ 2015 میں اس وقت کے پی سی بی سربراہ شہریار خان ممبئی گئے تھے،مگر انتہا پسندوں کے بی سی سی آئی ہیڈکوارٹر میں گھسنے کے بعد بھارتی بورڈ حکام سے ان کی بات چیت نہیں ہوسکی تھی،اس بار پی سی بی حکام کی کوشش ہوگی کہ اپنا موقف بھرپور انداز میں پیش کیا جائے۔

دورہ انگلینڈ کیلئے قومی ٹیم کے تربیتی کیمپ میں حیران کن مناظر

لاہور: دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کیلئے پاکستان ٹیم کا تربیتی کیمپ لاہور میں جاری ہے جس میں کھلاڑی جوش و خروش سے حصہ لے رہے ہیں اور خود کو انگلینڈ کے مشکل ٹور کیلئے تیار کر رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کی زیادہ تر توجہ فخر زماں اور لوئرآرڈر بیٹسمینوں پر رہی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان ٹیم منیجمنٹ دورہ آئرلینڈ و انگلینڈ میں ٹاپ آرڈر کی ناکامی کی صورت میں نچلے نمبروں کے بلے بازو ں کو تیار کر رہی ہے۔
فخر زماں نے ٹاپ گرین وکٹ پر طویل پریکٹس سیشن کے دوران بڑے اسٹروکس کھیلنے کے بجائے دفاعی اور زمینی شاٹس کھیلنے کی بھرپور مشق کی۔ وہ کراس بیٹ سے کھیلنے سے گریز کرنے کی مشق کرتے رہے جبکہ راحت علی کو ڈیڑھ گھنٹے تک بیٹنگ کی پریکٹس کرائی گئی جبکہ لیگ اسپنر شاداب خان اور فاسٹ بولر حسن علی بھی بولنگ کے بجائے بیٹنگ کی زیادہ پریکٹس کرتے رہے۔ پاکستانی اسکواڈ میں موجود چار ہزار سے زائد ٹیسٹ رنز بنانے والے واحد بلے باز اظہرعلی نے بھی بیٹنگ کی بھرپور پریکٹس کی جبکہ اسد شفیق اور بابر اعظم بھی بیٹنگ پریکٹس میں خاصے مشغول رہے۔ بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور نے انہیں انگلش کنڈیشنز میں کھیلنے کے حوالے سے ٹپس بھی دیں۔
واضح رہے کہ شاداب خان اسپن بولنگ کے ساتھ ساتھ اچھی بیٹنگ بھی کر لیتے ہیں جنہیں حالیہ پی ایس ایل 3 کے دوران بھی اوپری نمبروں پر کھلایا گیا تھا۔ اس طرح حارث سہیل نے بھی بیٹنگ کے ساتھ ساتھ بولنگ کی بھرپور مشق کی۔ یاسر شاہ کے ان فٹ ہوجانے کے سبب حارث سہیل سے دورے میں اسپن بولنگ کا بھی کام لیا جانا ہے جس نے سری لنکا کے خلاف گزشتہ سیریز میں پانچ وکٹیں حاصل کرکے سلیکٹرز اور ٹیم مینجمنٹ کا اعتماد حاصل کیا تھا۔ تربیتی کیمپ کے دوران کھلاڑیوں نے وارم اپ اور فٹنس ڈرلز پر بھرپور پسینہ بہایا جبکہ وہ شارٹ رننگ کے بعد جمپ کی پریکٹس بھی کرتے دکھائی دیئے۔

تمام کھلاڑیوں کو کمر میں رسی ڈال کر آگے بھاگنے کی مشق بھی کرائی گئی۔ فیلڈنگ کوچ اسٹیورکسن نے کھلاڑیوں کو بیٹ سے ٹکرا کر اچانک اچھل کر آنے والے سلپ کیچز کی پریکٹس کرائی۔

Google Analytics Alternative