کھیل

قومی ہاکی ٹیم نیوزی لینڈ سے آسٹریلیا پہنچ گئی

قومی کھلاڑیوں نے جمعے کو پریکٹس کی، پاکستانی کھلاڑی آ سٹریلیا کو بھی مات دینے کے لئے خاصے پر امید نظر آ رہے تھے اور بہت زیادہ پر جوش دکھائی دے رہے تھے۔

پاکستانی کھلاڑیوں نے فٹنس پر توجہ مرکوز رکھی اور پنالٹی کار نر کو گول میں بدلنے کی بھی پریکٹس کی۔

ٹیم کے ہیڈ کوچ خواجہ جنید نے کہا ہے کہ آ سٹریلیا کے خلاف بھی اچھی پر فارمنس سے سیریز جیتنے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے درمیان چار ہاکی ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ 28 مارچ کو کھیلا جائے گا۔

پاکستانی ورلڈکپ فتح کی سلور جوبلی مکمل

 لاہور: پاکستانی ورلڈ کپ فتح کی سلور جوبلی مکمل ہوگئی، ابتدائی 5 میں سے صرف ایک میچ جیتنے والے سوئے شیر جاگے تو کوئی آگے نہ ٹھہر سکا، گرین شرٹس نے ہمت دکھائی تو قدرت نے بھی ساتھ دیا۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کھیلے جانے والے ورلڈکپ 1992میں میزبان ملکوں کے ساتھ پاکستان، انگلینڈ، بھارت، جنوبی افریقہ، سری لنکا، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کی ٹیمیں شریک ہوئیں۔ گرین شرٹس اچھا آغاز نہ کرسکے، پہلے میچ میں کیریبیئنز کے ہاتھوں 10وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسرے میں زمبابوے کیخلاف 53رنز سے فتح نصیب ہوئی، اگلے معرکے میں انگلینڈ نے پاکستان ٹیم کو صرف 74رنز پر ڈھیر کردیا، موسم خراب کے سبب میچ نامکمل رہنے پر گرین شرٹس کو ایک پوائنٹ ملا جو آگے چل کے سیمی فائنل تک رسائی کیلیے بڑا کار آمد ثابت ہوا۔ ٹیم کو بھارت نے 43 رنز سے مات دی تو جنوبی افریقہ نے بارش زدہ میچ میں 20رنز سے ہرادیا۔ 5میچز میں صرف ایک فتح حاصل کرنے کے بعد کوئی توقع نہیں کررہا تھا کہ پاکستان ایونٹ میں پیش قدمی جاری رکھ پائے گا۔

اگلے تمام مقابلوں میں فتح سمیت دیگر ٹیموں کے مقابلوں کا نتیجہ بھی اثر انداز ہوسکتا تھا لیکن عمران خان نے حوصلے پست نہ ہونے دیے، ان کا خیال تھا کہ سوئے شیر جاگ اٹھے تو کوئی راہ میں نہیں ٹھہر سکے گا پھرایسا ہی ہوا، گرین شرٹس نے دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کو 48رنز سے زیر کرنے کے بعد سری لنکا کو بھی 4وکٹ سے ہرادیا۔ روبن لیگ مرحلے کے آخری میچ میں نیوزی لینڈ پر3وکٹ سے فتح کے ساتھ پاکستان نے سیمی فائنل میں رسائی کی امیدیں زندہ رکھیں۔

اس وقت صورتحال یہ تھی کہ ویسٹ انڈیز کی آسٹریلیا کیخلاف جیت گرین شرٹس کو ایونٹ سے باہر کردیتی، کینگروز سرخرو ہوئے اور انگلینڈ سے بارش زدہ میچ میں ملنے والے پوائنٹ نے پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچا دیا جہاں ایک بار پھر نیوزی لینڈ کا سامنا تھا، کیویز نے مارٹن کرو کے91رنزکی بدولت 262کا مجموعہ حاصل کیا۔

جاوید میانداد (57) اور عمران خان (44) کے بعد انضمام الحق نے صرف37گیندوں پر 60رنز بٹور کر میزبان فتح چھین لی، یوں پاکستان کو اپنی تاریخ میں پہلی بار فائنل تک رسائی کا اعزاز حاصل ہوگیا۔ انگلینڈ نے جنوبی افریقہ کو زیر کرتے ہوئے ٹائٹل کی جانب پیش قدمی جاری رکھی۔

25مارچ کو میلبورن میں فیصلہ کن میچ میں پاکستان کی ابتدائی2 وکٹیں جلد گرنے کے بعد عمران خان(72) اور جاوید میانداد(58) نے قدرے سست بیٹنگ کرتے ہوئے 139رنز کی شراکت بنائی۔ بعدازاں انضمام الحق نے 35گیندوں پر 42اور وسیم اکرم نے 18بالز پر 33 رنز اسکور کیے، ٹیم نے 6وکٹ پر 249 کا مجموعہ حاصل کیا۔

جواب میں انگلینڈ کی بیٹنگ کو وسیم اکرم اور عاقب جاوید کے بعد مشتاق احمد نے بھی مشکلات کا شکار کیا، صرف 69پر 4وکٹ گرنے کے بعد ایلن لیمب اور نیل فیئر برادر نے اسکور140تک پہنچایا لیکن وسیم اکرم نے شراکت توڑتے کے بعد اگلی گیند پر نئے بیٹسمین لیوس کو بھی دھر لیا۔ فیئر برادر کا قصہ عاقب جاوید نے تمام کردیا۔ فتح انگلینڈ کی پہنچ سے دور ہوتی چلے گئی، عمران خان نے آخری بیٹسمین رچرڈ النگورتھ کو رمیز راجہ کا کیچ بنوایا تو ورلڈ کپ بھی پاکستانی قوم کی جھولی میں آگرا۔ رمضان المبارک میں حاصل ہونے والی اس کامیابی نے عیدکی خوشیاں دوبالا کردیں، اسکواڈ میں شامل ہر کرکٹرعوام کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔

بارباڈوس:ویسٹ انڈیز سے نمٹنے کیلئے پاکستانی کرکٹرز کی پریکٹس

گرین شرٹس نے مختصر فارمیٹ کی عالمی چیمپئن ٹیم سے نمٹنے کیلئے خوب پسینہ بہایا، کوچز کا زور فیلڈنگ اور بیٹنگ پر زیادہ رہا۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین اب تک ہونے والے ٹی ٹوئنٹی میچز میں جیت کے حوالے سے پاکستان کی ٹیم کا پلڑا بھاری ہے۔

دونوں ٹیموں کے مابین 2011سے لے کر 2016تک دنیا کی مختلف گراؤنڈز میں سات ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گئے جس میں سے پاکستان کی ٹیم نے پانچ اور ویسٹ انڈیزنے دو جیتے ہیں۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میچز میں اب تک پاکستان کے تین کپتانوں سرفراز احمد ،شاہد آفریدی اور محمدحفیظ نے کپتانی کی جس میں سے سرفراز احمد سب سے کامیاب کپتان رہے ۔ ان کی کپتانی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گئے جس میں تینوں میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی ۔

قومی کرکٹ ٹیم دورہ ویسٹ انڈیز کے دوران چار ٹی ٹوئنٹی، تین ون ڈے اور تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلے گی ۔ اس سیریز کو پاکستان کی ورلڈ کپ تک رسائی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

کپتان سرفرازاحمد کہتے ہیں کہ یہ دورہ ہمارے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے جہاں کامیابی کی صورت میں کوالیفائر کھیلے بغیر ورلڈ کپ میں جانے کی ہماری توقعات مزید مضبوط ہوں گی۔

شاہ رخ خان سمیت کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے مالکان کو شوکاز نوٹس جاری

نئی دہلی: بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان سمیت کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے مالکان کو شوکاز نوٹس جاری کردیے گئے۔

بھارتی انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ نے زرمبادلہ قوانین کی خلاف ورزی پر کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے مالکان شاہ رخ خان، ان کی اہلیہ گوری خان اور جوہی چاؤلہ کو شوکاز نوٹس جاری کردیے ہیں۔

آئی پی ایل کی 2 مرتبہ کی چیمپئن سائیڈ کے مالکان پر الزام ہے کہ انہوں نے کے کے آر اسپورٹس کے شیئر ماریشیس کی ایک کمپنی کو اپنی قدر سے کم پر فروخت کیے۔

شاہد آفریدی نے پشاور زلمی چھوڑنے کا اعلان کردیا

شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ ذاتی وجوہات کی بنیاد پر پشاورزلمی سےبطورصدراورکھلاڑی علیحدگی اختیارکررہاہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک ٹیم سےکپ جیتا،اب دوسری ٹیم کی باری ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی بارباڈوس میں بھرپور پریکٹس

بارباڈوس: پاکستان کرکٹ ٹیم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے بارباڈوس میں بھرپور پریکٹس کی۔

گرین شرٹس منگل کی شب کراچی سے روانہ ہوئیں، دبئی اور لندن میں مختصر قیام کے بعد گزشتہ روز بارباڈوس میں یہ طویل سفر ختم ہوا۔ پاکستان کی ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی، ون ڈے اور ٹیسٹ سیریز کھیلے گی۔ ٹی ٹوئنٹی سیریز کا پہلا میچ 26 مارچ کو برج ٹاؤن میں کھیلا جائے گا۔

قومی کرکٹ ٹیم دورہ ویسٹ انڈیز کے دوران 4 ٹی ٹوئنٹی، 3 ون ڈے اور3 ٹیسٹ  میچز کھیلے گی جب کہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آغاز 26مارچ کو ہوگا دوسرا مقابلہ 30 مارچ، تیسرا یکم اپریل اور چوتھا 2 اپریل کو کھیلا جائے گا۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ون ڈے سیریز 7 اپریل سے شروع ہوگی، دوسرا ون ڈے 9 اپریل اور تیسرا 11 اپریل کومنعقد ہوگا، تین ٹیسٹ میچزکی سیریزکا پہلا میچ 22 اپریل کوجمیکا، دوسرا 30 اپریل کوبارباڈوس اورتیسرا 10مئی کو ڈومینیکا میں ہوگا۔

آسٹریلوی میڈیا نے کوہلی کو کھیلوں کا ٹرمپ قرار دیدیا

آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان چار ٹیسٹ پر مشتمل سریز ایک ایک سے برابر ایک طرف میدان میں دونوں ٹیمیں نبرد آزما ہیں تو دوسری جانب دونوں ممالک کے میڈیا کے درمیان بھی سنسنی خیز سریز چل رہی ہے۔

آسٹریلوی میڈیا نے ویرات کوہلی کو جارح مزاج،کامیاب اور بدتمیز قراردیا اور کہا کہ وہ کھیلوں کی دنیا کے ٹرمپ ہیں۔

سابق بھارتی کرکٹرز نے ویرات کی دھونی کے برعکس جارحانہ کپتانی ،لڑنے جھگڑنے کی حکمت عملی کو آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ سے ملادیا ۔

لیکن یہ حقیقت ہے کہ کوہلی کپتان بننے کے چکر میں بعض اوقات بدتمیزی پر اتر آتے ہیں،ویرات کوہلی کی ان ہی حرکتوں کی وجہ سے آسٹریلین میڈیا نے انہیں اسپورٹس کی دنیا کا ڈونلڈ ٹرمپ قرار دے دیا۔

آسٹریلوی میڈیا کے مطابق ویرات کوہلی بھی ٹرمپ کی طرح اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار میڈیا کو ٹھہراتے ہیں، آسٹریلین میڈیا کے ان ریمارکس پر بھارتی میڈیا بھی تلملا گیا۔

بھارت کے موجودہ اور سابق کرکٹرز ویرات کوہلی کی حمایت میں آگئے،یہاں تک کے بگ بی امیتابھ بچن نے بھی ویرات کوہلی کے حق میں ٹوئٹ کردیا ۔وہ کہتے ہیں آسٹریلین میڈیا نے مان لیا کہ ویرات ونر ہیں اسی لئے انہیں ٹرمپ سے ملایا۔

بات کچھ بھی ہو آسٹریلین میڈیا نے ویرات کوہلی کو پریشر میں لے لیا ہے ،شاید یہی وجہ ہے کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف3 ٹیسٹ میں صرف 46 رنز بناسکے ہیں ۔

سیریز تو ایک ایک سے برابر ہے لیکن کل سے شروع ہونے والے آخری ٹیسٹ میں بھارتی ٹیم سخت دباؤ میں آچکی ہے،اگر بھارت سیریز ہارا تو کوہلی کو بھی اپنی کچھ عادات کو بدلنا پڑ سکتا ہے۔

اسپاٹ فکسنگ؛ شرجیل خان ٹربیونل کے سامنے پیش، خالد لطیف غیرحاضر

لاہور: پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس میں شرجیل خان 3 رکنی ٹربیونل کے سامنے پیش ہوگئے جب کہ خالد لطیف علالت کے باعث غیر حاضر رہے۔

نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں معطل کرکٹر شرجیل خان اپنے وکیل کے ہمراہ پیش ہوئے جبکہ پی سی بی شعبہ سکیورٹی اینڈ ویجیلنس کے سربراہ کرنل (ر) محمد اعظم خان اور پی سی بی کے لیگل ایڈوائرز طفیل رضوی و دیگر پیش ہوئے۔

اس موقع پر پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات پڑھ کر سنائے گئے، ٹربیونل نے فریقین کے ساتھ اگلی کارروائی کا طریقہ کار طے کیا۔ اینٹی کرپشن یونٹ 14 اپریل کو کرکٹرز پر لگائے گئے الزامات کی تفصیل اور شواہد پیش کرے گا جس پر شرجیل خان 5 مئی کو جواب جمع کروائیں گے اور کرکٹرز کی جانب سے الزامات سے انکار پر پی سی بی اپنے موقف کے حق میں دلائل دے گا۔ حتمی سماعت 15 مئی سے روزانہ کی بنیاد پر کی جائے گی۔

دوسری جانب شرجیل خان کے ساتھ خالد لطیف کو بھی پیش ہونا تھا لیکن انہوں نے طبیعت میں خرابی کے باعث معذرت کر لی جس کے بعد سماعت 31 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔

Skip to toolbar
Google Analytics Alternative