کھیل

ہربھجن سنگھ کا ورلڈ کپ میں پاکستان کے ساتھ میچ کے بائیکاٹ کا مطالبہ

بھارتی کرکٹر ہربھجن سنگھ نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف بھارتی ٹیم کے میچ کا بائیکاٹ کرے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’ اے ایف پی‘ کے مطابق ہربھجن سنگھ نے کہا کہ ’ 16 جون کو پاکستان کے ساتھ ورلڈ کپ کا میچ نہیں کھیلیں، ملک ہمارے لیے پہلے ہے اور ہم اپنی تمام فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان سرحد پار دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے اور یہ حملہ ناقابل یقین حد تک حیران کن تھا‘۔

ہربھجن سنگھ نے 2015 میں اپنا آخری ٹیسٹ کھیلا تھا وہ اب صرف انڈین پریمیئر لیگ کے لیے کھیلتے ہیں،انہوں نے ٹیسٹ میچز میں 417 وکٹیں لی ہیں۔

بھارت اگر مانچسٹر میں کھیلے جانے والے میچ کا بائیکاٹ کرتا ہے تو وہ ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف کھیلے جانے والے میچ کے پوائنٹس سے محروم ہوجائے گا لیکن ہربھجن سنگھ کا کہنا ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

انہوں نے گزشتہ روز آج تک ہندی نیوز چینل کو بتایا کہ ‘ ہمیں پوائنٹس سے محروم ہونے کی فکر نہیں کیونکہ بھارتی ٹیم اتنی مضبوط ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ میچ کھیلے بغیر بھی جیت سکتی ہے‘۔

کرکٹ کلب آف انڈیا کے سیکریٹری نے پاکستان سے میچ کے بائیکاٹ کا معاملہ آگے پہنچایا ہے۔

سریش بافنا نے پلوامہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’ کرکٹ کلب آف انڈیا ایک اسپورٹس ایسوسی ایشن ہے لیکن قوم سب سے پہلے ہے‘۔

مزید برآں بھارت کی فٹ بال لیگ بھی مشکلات کا شکار ہوگئی ہے کیونکہ دفاعی چیمپئنز منروا پنجاب ایف سی 25 فروری کو رئیل کشمیر کے ساتھ میچ کھیلنے کے لیے سری نگر جانے سے انکار کردیا ہے۔

مشرقی بنگال کی جانب سے بھی 28 فروری کو رئیل کشمیر کے خلاف کھیلےجانے والے میچ پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

رئیل کشمیر کے شریک مالک سندیپ کا کہنا ہے کہ ’وہ میچ نہ کھیلنے کے لیے انتہائی بدقسمت واقعے کو بہانے کے طور پر استعمال کررہے ہیں‘۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ ہم امن اور کشمیر کے لوگوں کے لیے کھیلنا چاہتے ہیں‘۔

یاد رہے گزشتہ ہفتے بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے پلوامہ میں فوجی دستے پر ہونے والے ایک خود کش حملے میں 41 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

حملے کے بعد بھارت نے روایتی طور پر پاکستان کے خلاف بیان بازی کرتے ہوئے تمام تر ذمہ داری پاکستان پر عائد کی اور ساتھ ہی دھمکیاں دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

تاہم پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے نہ صرف اس حملے کی مذمت کی بلکہ بھارت کو پیشکش بھی کی کہ اگر معلومات فراہم کی جائیں گی تو پاکستان تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔

پی ایس ایل کی دریافت ہونے پر مجھے فخر ہے، حسن علی

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) دنیا بھر کی بڑی کرکٹ لیگ کی طرح ایک بڑا برانڈ بن گئی ہے اور اس سے سامنے آنے والے کھلاڑی دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔

پی ایس ایل کے 3 کامیاب سیزن کے بعد اب چوتھا سیزن متحدہ عرب امارات میں جاری ہے جبکہ اس مرتبہ ایونٹ کے 8 میچز پاکستان میں بھی کھیلے جائیں گے۔

اس زبردست کرکٹ ایونٹ نے پاکستانی کرکٹ کو بہت سے ابھرتے کھلاڑی فراہم کیے ہیں، جن میں سے ایک فاسٹ باؤلر حسن علی بھی شامل ہیں۔

تین سال قبل ایک ڈرے، سہمے دکھنے والے حسن علی نے پاکستان سپر لیگ میں اپنا پہلا میچ کھیلا تو کسے معلوم تھا کہ یہ نوجوان آگے جا کر پاکستان کا ایک اسٹار بن جائے گا۔

پی ایس ایل کی ویب سائٹ پر شائع ایک انٹرویو کے مطابق پی ایس ایل میں اچھی کارکردگی نے نہ صرف ابھرتے ہوئے کھلاڑی حسن علی کو پاکستانی ٹیم کےلیے کھیلنے کا موقع دیا بلکہ ان کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا۔

پاکستان سپر لیگ کے جاری رواں سیزن میں حسن علی نے اب تک کی بہترین کارکردگی اس وقت دکھائی جب لاہور قلندرز کے خلاف میچ میں انہوں نے صرف 15 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جس میں جنوبی افریقی کے مایہ ناز بلے باز اے بی ڈی ویلیئرز کی وکٹ بھی شامل تھی۔

حسن علی بھی خود اسبات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ڈرے ہوئے دکھنے والے کھلاڑی کے طور پر شروع ہونے والے اس سفر نے انہیں سدابہار کے لیے ایک پختہ فاسٹ بالر میں تبدیل کردیا۔

فاسٹ باؤلر حسن علی اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہاں، انہیں پی ایس ایل کی پہلی پروڈکٹ ہونے پر فخر ہے‘۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جب میں پہلی مرتبہ پریس کانفرنس کے لیے آیا تھا تو میں خوفزدہ اور بے چین تھا لیکن 2016 سے 2019 تک میرا سفر بہت زبردست تھا اور اس سے میں نے عزت اور شہرت حاصل کی‘۔

حسن علی کا کہنا ہے کہ ’میرے لیے یہاں پاکستان کے لیے ایک پختہ کھلاڑی کے طور پر بیٹھنا اچھی بات ہے، یہ میری سخت محنت کا اعزاز اور پی سی بی، پشاور زلمی کی ٹیم منیجمنٹ اور پاکستان کا مجھ پر اعتماد کا اظہار ہے‘۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2016 میں 3 میچز میں حسن علی نے صرف 2 وکٹیں حاصل کیں لیکن پشاور کے ہیڈ کوچ محمد اکرم اور اس وقت کے کپتان شاہد آفریدی نے اس ابھرتے ہوئے کھلاڑی کی آنکھوں میں وکٹ لینے کی شدت کو دیکھا اور انہیں اعتماد دیا۔

محمد اکرم حسن علی کے کھیل کے لیے جذبے سے متاثر ہوئے اور اسے سراہا۔

حسن علی کی بات کریں تو پی ایس ایل سے پہلے بہت کم لوگ ہی انہیں جانتے تھے اور انہوں نے گوجرانوالہ کے قریب لادھے والا وڑائچ میں اپنے آبائی علاقے میں پہلی مرتبہ کرکٹ کھیلی۔

جہاں حسن علی کے بڑے بھائی عطا الرحمٰن نے ان کا ٹیلنٹ کو چھوٹی عمر میں ہیں بھانپ لیا اور ان کے لیے گھر کے پچھلے حصے میں ایک پچ اور جم قائم کیا۔

فاسٹ باؤلر حسن علی کہتے ہیں ’ان کے کیریئر میں ان کے بڑے بھائی کا بہت عمل دخل ہے اور کچھ فرسٹ کلاس سیزن کے بعد انہیں پشاور کے فرنچائز نے پی ایس ایل کے پہلے ایڈیشن کے لیے چن لیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے فخر ہے کہ میں پی ایس ایل کی پروڈکٹ کہلاتا ہوں، شاداب خان اور فہیم اشرف کو بھی پی ایس ایل نے تیار کیا اور یہ مستقبل میں نوجوانوں کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے‘۔

پی ایس ایل میں پہلی مرتبہ انتخاب

حسن علی کہتے ہیں کہ ’میں اپنے بھائی کے ساتھ پی ایس ایل کا ڈرافٹ دیکھ رہا تھا، میں ایمرجنگ کٹیگری میں منتخب ہونے والا آخری کھلاڑی تھا اور میں اپنی روکی ہوئی سانس کے ساتھ دیکھ رہا تھا کہ میرے نام کا اعلان ہوا، پھر میں نے اپنے بھائی کو گلے لگا لیا‘۔

حسن علی نے ایک روزہ میچز میں اپنے کیریئر کا آغاز اگست 2016 میں آئرلینڈ کے خلاف میچ میں کیا اور اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

2017 میں وہ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹ لینے والے کھلاڑی تھی جبکہ انہوں نے آئی سی سی چمپئنز ٹرافی میں بھی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے 13 کھلاڑیوں کا شکار کیا۔

حسن علی کا کہنا تھا کہ ’پی ایس ایل نے ان کے کھیل میں کافی نکھار پیدا کرنے میں مدد کی، جب انہوں نے اپنا پہلا بین الاقوامی میچ کھیلا تو ان پر کوئی دباؤ نہیں تھا کیونکہ وہ پی ایس ایل میں پہلے ہی دنیا کے بڑے ناموں کا سامنا کرچکے تھے‘۔

ساتھ ہی ابھرتے ہوئے کھلاڑی حسن علی کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے لیے تینوں فارمیٹ میں کھیلنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

ویمنزون ڈے رینکنگ؛ سدرہ امین اور ندا ڈار نے اونچی اڑان بھرلی

دبئی: ویمنز ون ڈے رینکنگ میں سدرہ  امین اور ندا ڈار نے اونچی اڑان بھر لی، دونوں کو ویسٹ انڈیز کے خلاف فتح گر پرفارمنس کا بھرپور صلہ مل گیا۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف آئی سی سی ویمنز ون ڈے چیمپئن شپ میں شاندار کامیاب کی بدولت پاکستانی پلیئرز کو بھی رینکنگ میں خوب ترقی ملی ہے۔

سیریز میں 2-1 کی فتح میں اہم کردار ادا کرنے والے سدرہ امین کو 36 درجے ترقی نے 57 ویں نمبر پر پہنچایا، انھوں نے دو نصف سنچریوں سے آراستہ 148 رنز بنائے تھے جبکہ 110 رنز بنانے والی ندا ڈار 13 درجے پھلانگ کر55 ویں نمبر پر پہنچ چکی ہیں، ایک درجہ بہتری سے جویریہ خان اب 23 ویں نمبر پر پہنچ چکی ہیں۔

ادھر بولنگ چارٹ میں نشرح سندھوکو5 وکٹوں کے حصول پر 7 درجے ترقی نے 23 ویں نمبر پر پہنچادیا ہے۔ اسی طرح 3 میچز میں 7 وکٹیں اڑا کر گرین شرٹس کی کامیابی میں حصہ ڈالنے والی ڈیانا بیگ کو بھی 5 درجے ترقی حاصل ہوئی، جس کی بدولت وہ اب 51 ویں نمبر پر پہنچ گئی ہیں۔اسی سیریزمیں 5 وکٹیں لینے والی سینئر کھلاڑی ثنامیر نے ویمنز ورلڈ کرکٹ کی نمبر ون بولر کے اعزاز کو مزید مستحکم کیا ہے۔

دوسری جانب ویسٹ انڈین آل راؤنڈر ڈینڈرا ڈوٹن کو تینوں شعبوں میں ایک ایک درجہ ترقی ملی جس سے وہ اب بیٹنگ میں 20 ویں، بولنگ میں 36 ویں اورآل راؤنڈرز میں نویں نمبر پر پہنچ گئی ہیں، کیریبیئن ویمنز کپتان اسٹیفنی ٹیلر نے  2 درجے بہتری سے آٹھویں پوزیشن پالی، بولرزمیں شکیرا سیلمین 8 درجے ترقی پاکر 26 ویں نمبر پر پہنچ چکی ہیں۔

علاوہ ازیں ٹیم رینکنگ میں پاکستانی خواتین سائیڈ ساتویں نمبرپرموجود جبکہ ٹاپ پرآسٹریلیا براجمان ہے۔

 

پی سی بی کا بھارتی پروڈکشن کمپنی کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر غور

 لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ نے معاہدے کی خلاف ورزی پر بھارتی پروڈکشن کمپنی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے مختلف آپشنز پر غور شروع کردیا ہے۔

پی سی بی اور بھارتی براڈ کاسٹ کمپنی کے ساتھ پاکستان سپرلیگ 4 کے یو اے ای اور پاکستان میں شیڈول تمام میچز  دکھانے کا معاہدہ ہوا تھا۔ بورڈ حکام نے بھارتی کمپنی کے راہ فرار کے بعد ہنگامی طور پر بدھ سے لیگ کے شارجہ سمیت دوسرے تمام مقامات پر ہونے والے میچز دکھانے کا بندوبست کرلیاہے۔

اس سلسلے میں دبئی میں ایک براڈ کاسٹ کمپنی سے معاملات  کافی حد تک طے کرکے لاجسٹک انتظامات کو یقینی بنانے پر پیش رفت جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق  بورڈ حکام بھارتی کمپنی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی شرائط کا جائزہ لے رہے ہیں جس کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس سلسلےمیں وکلا سے بات چیت کے بعد باقاعدہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ دوسری جانب نئی کمپنی کے ساتھ معاہدے میں یہ شرط خاص طور پر شامل کی گئی ہے کہ وہ بھارتی کمپنی کی طرح دوران  لیگ کوئی عمل نہیں کرے گی جس سے لیگ کی ساکھ پر حرف آئے۔

حفیظ پاکستان سپر لیگ سے باہر، ورلڈ کپ میں بھی شرکت مشکوک

پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کی فرنچائز لاہور قلندرز کے کپتان محمد حفیظ ہاتھ کی انجری کے سبب ممکنہ طور پر بقیہ پی ایس ایل میں شرکت نہیں کر سکیں گے جبکہ ان کی ورلڈ کپ میں بھی شرکت پر سوالیہ نشان لگ گیا۔

ہفتے کو کراچی کنگز کے خلاف میچ کے دوران محمد حفیظ کی گیند پر کولن انگرام نے انہی کی جانب تیز شاٹ کھیلا اور کیچ پکڑنے کی ناکام کوشش میں وہ انگلی زخمی کرا بیٹھے۔

حفیظ کو فوری طور پر میدان سے باہر لے جا کر معائنہ کیا گیا اور قلندرز کی میچ میں 22رنز سے فتح کے بعد انہیں فوری طور پر ایکسرے اور اسکین کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ابتدائی رپورٹس کے بعد ڈاکٹرز نے حفیظ کو چند دن آرام کا مشورہ دیا تھا اور امید تھی کہ وہ جلد صحتیاب ہو جائیں گے تاہم اب ان کی لیگ میں شرکت مشکوک ہو گئی ہے۔

گزشتہ روز پشاور زلمی کے خلاف میچ میں اے بی ڈی ویلیئرز نے لاہور قلندرز کی قیادت کی اور ٹاس کے موقع پر انکشاف کیا کہ حفیظ کی انگلی میں فریکچر ہوا جس کے سبب وہ 4 سے 6 ہفتوں تک کرکٹ نہیں کھیل سکیں گے۔

اس کے ساتھ ہی حفیظ کے لیے پاکستان سپر لیگ کے چوتھے ایڈیشن کا اختتام ہو گیا ہے اور اب وہ شاید ہی کسی میچ میں قلندرز کی نمائندگی کر سکیں۔

حفیظ کی صرف پی ایس ایل میں ہی شرکت پر سوالیہ نشان نہیں لگا بلکہ دو ماہ بعد شیڈول کرکٹ ورلڈ کپ میں بھی ان کی شرکت مشکوک ہو گئی ہے اور ان کی شرکت کا انحصار فٹننس پر ہو گا۔

محمد حفیظ نے اس سے قبل گزشتہ تینوں سیزن میں پشاور زلمی کی نمائندگی کی تھی اور اس سال وہ لاہور قلندرز کے کپتان مقرر کیے گئے تھے لیکن بدقسمتی سے اپنی ٹیم کے دوسرے ہی میچ میں وہ زخمی ہو کر ایونٹ سے باہر ہو گئے۔

حفیظ کی غیرموجودگی میں پاکستان سپر لیگ کے بقیہ میچز میں اے بی ڈی ویلیئرز لاہور قلندرز کی قیادت کریں گے۔

پی ایس ایل میں سامنے آنے والے ٹیلنٹ سے گریم اسمتھ بھی متاثر

سابق جنوبی افریقی کپتان کا کہنا ہے کہ ایونٹ میں نوجوان کھلاڑیوں کو پرفارم کرتے دیکھنا شاندار تجربہ ہے۔

پی ایس ایل کی ویب سائٹ کو انٹرویو میں جنوبی افریقا کے سابق کپتان گریم اسمتھ کا کہنا تھا کہ اے بی ڈی ویلیئرز کی جانب سے پی ایس ایل میں شرکت اور پاکستان میں کھیلنے کا فیصلہ بڑا خوش آئند ہے، اس اقدام سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں مدد ملے گی، پاکستان کے نوجوان پلیئرز کو اے بی ڈی ویلیئرز سمیت سپر اسٹارز کے ساتھ کھیلتے ہوئے بہت کچھ سیکھنے اور اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔

گریم اسمتھ نے کہا کہ جنوبی افریقہ میں پاکستان کرکٹ ٹیم ناکامیوں کے باوجود ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لئے کوشاں نظر آئی، خاص طور پر بابراعظم اور شاہین شاہ آفریدی نے بہت متاثر کیا، پاکستان میں بولنگ ٹیلنٹ کی کبھی کمی نہیں رہی، پی ایس ایل میں بھی بولرز اپنی مہارت کا بھرپور مظاہرہ کر رہے ہیں، امید ہے کہ اس ایونٹ سے پاکستان کرکٹ کی قوت میں مزید اضافہ ہوگا، مضبوط ٹیمیں انٹرنیشنل کرکٹ کے مستقبل کے لیے بھی خوش آئند ہیں۔

لاہور قلندرز کی قیادت اے بی ڈویلیئرز کو مل گئی

دبئی : لاہور قلندرز کے کپتان محمد حفیظ انجری کے باعث آج پشاور زلمی کے خلاف میچ نہیں کھیل سکیں گے اور ان کی غیر موجودگی میں  اے بی ڈویلیئرز قیادت کے فرائض انجام دیں گے۔

محمد حفیظ گزشتہ روز کراچی کنگز کے خلاف میچ کے دوران انگوٹھے پر چوٹ لگنے کی وجہ سے زخمی ہوگئے تھے اور ابتدائی ٹیسٹ کے بعد انہیں چند روز آرام کا مشورہ دیا گیا ہے۔

محمد حفیظ کی غیر موجودگی میں جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والے بلے باز اے بی ڈویلیئرز لاہور قلندرز کی قیادت کریں گے۔

تجربہ کار بلے باز اے بی ڈویلیئرز پہلی مرتبہ پی ایس ایل کا حصہ بنیں ہیں اور ابتدائی دو میچز میں ان کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔

یاد رہے کہ لاہور قلندرز کی ٹیم اب تک ایونٹ میں دو میچز کھیل چکی ہے، ایونٹ کے افتتاحی میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے اسے شکست دی جب کہ گزشتہ روز قلندرز نے کراچی کنگز کو 22 رنز سے شکست دی تھی۔

عثمان شنواری کی ٹیم آسٹریلین بگ بیش کی چیمپیئن بن گئی

آسٹریلین بگ بیش میں ڈینیئل کرسچن کی شاندار آل راؤنڈر کارکردگی کی بدولت پاکستانی فاسٹ باؤلر عثمان شنواری کی ٹیم میلبرن رینی گیڈز نے فائنل میں میلبرن اسٹارز کو 13 رنز سے شکست دے کر چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

میلبرن میں کھیلے گئے میچ میں میلبرن اسٹارز نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جو ابتدا میں بالکل درست ثابت ہوا اور گیارہویں اوور میں رینی گیڈز 65 رنز پر آدھی ٹیم سے محروم ہو چکے تھے۔

اس موقع پر تجربہ کار ڈینیئل کرسچن اور ٹام کوپر وکٹ پر ڈٹ گئے اور دونوں کھلاڑیوں نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اننگز کے اختتام تک مزید کوئی وکٹ نہ گرنے دی۔

کرسچن اور کوپر نے چھٹی وکٹ کے لیے 80رنز کی شراکت قائم کر کے اپنی ٹیم کی معقول مجموعے تک رسائی یقینی بنائی، کوپر نے 43 اور کرسچن نے 38 رنز کی اننگز کھیلی۔

میلبرن اسٹارز کے جیکسن برڈ اور ایڈم زامپا نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

ہدف کے تعاقب میں اسٹارز کے اوپنرز مارکس اسٹوئنس اور بین ڈنک نے اپنی ٹیم کو 13اوورز میں 93 رنز کا جاندار آغاز فراہم کر کے میچ کو یکطرفہ بنانے کی کوشش کی۔

93 کے اسکور پر اسٹوئنس 39رنز بنا کر پویلین لوٹے تو میلبرن اسٹارز کو فتھ کے لیے مزید محض 53رنز درکار تھے لیکن اگلے چند ہی اوورز میں میچ کا نقشہ بدل گیا۔

ایک رن کے اضافے سے پیٹر ہینڈزکومب بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹے جبکہ 99 کے مجموعے پر بین ڈنک اور گلین میکس ویل بھی یکے بعد دیگرے دو گیندوں پر پویلین لوٹ کر ٹیم کی مشکلات بڑھا گئے، ڈنک 57 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔

نک میڈنسن اور ڈیوین براوو بھی ٹیم کے کسی کام نہ آ سکے اور 112 رنز پر میلبرن اسٹارز 7 وکٹوں سے محروم ہو گئے۔

اس کے بعد ایڈم زامپا نے کچھ بڑے شاٹس کھیلے لیکن ان کی یہ کوشش بھی اسٹارز کے کسی کام نہ آ سکی اور وہ مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 132رنز بنا سکی، میلبرن اسٹارز کی تمام 7 وکٹیں صرف 19 رنز کے اضافے سے گریں۔

میلبرن رینی گیڈز نے میچ میں 13رنز کی فتح کے ساتھ ہی پہلی مرتبہ بگ بیش کی چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

ڈینئل کرسچن کو 38 رنز کی اننگز اور 2 وکٹیں لینے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستانی فاسٹ باؤلر عثمان شنواری بھی میلبرن رینی گیڈز کی نمائندگی کر رہے تھے لیکن وہ پاکستان سپر لیگ میں کراچی کنگز کی نمائندگی کے لیے وطن واپس لوٹ آئے تھے۔

Google Analytics Alternative