کھیل

دورہ انگلینڈ کیلیے شاداب خان کی جگہ یاسر شاہ ٹیم میں شامل

لاہور: دورہ انگلینڈ کے لیے شاداب خان کی جگہ یاسر شاہ کو ٹیم میں شامل کردیا گیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے لیگ اسپنر یاسر شاہ کی انگلیںڈ کے خلاف سیریز کے لیے ٹیم میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ لیگ اسپنر کو دورہ انگلیںڈ کے لیے ٹیم میں شامل کرلیا گیا ہے اور وہ 23 اپریل کو انگلینڈ جائیں گے۔

واضح رہے یاسر شاہ کو شاداب خان کی میڈیکل رپورٹس مثبت آنے کے بعد انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے تاہم ورلڈکپ اسکواڈ میں ان کی شمولیت کے حوالے سے اب تک حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

پاک بھارت میچ کیلیے جنگ کا لفظ اچھا نہیں، شعیب ملک

لاہور: قومی ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک کا کہنا ہے کہ پاک بھارت میچ کیلیے جنگ کا لفظ اچھا نہیں ، پیار دوریاں ختم کرتا ہے۔ 

ورلڈکپ اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں نے ایکسپریس نیوز کے خصوصی بات کی، شعیب ملک کا کہنا تھا کہ وقت سے بہت پہلے انگلینڈ جانے کا سو فیصد فائدہ ہوگا، ہر میچ کا پریشر ہوتا ہے ، ورلڈ کپ اسکواڈ میں آنے پر انتہائی خوش ہوں یہ میرا آخری ورلڈ کپ ہوگا، امید ہے ورلڈ کپ میں اچھی کارکردگی دکھاؤں گا، تنقید کرنے والوں کے ذاتی ایجنڈے بھی ہوتے ہیں، کھلاڑی پرایسا وقت بھی آتاہے جب وہ اپنا بہترین نہیں دے سکتا جب کہ پاک بھارت میچ کیلیے جنگ کا لفظ ہی اچھا نہیں ، پیار دوریاں ختم کرتا ہے۔

قومی ٹیم کے اوپننگ بلے باز فخرزمان نے کہا کہ ورلڈ کپ میں ٹیم کا کمبی نیشن اچھا ہے، نئے کھلاڑی بھی اچھی پرفارمنس دیں گے، ورلڈ کپ میں ہمارے پاس تجربہ کار کھلاڑی بھی ہیں، ہرمیچ میں بھرپور فائٹ کریں گے، بھارت کے ساتھ میچ کا اپنا مزہ ہے ، قوم کی امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش کروں گا ،اوپنر رنز کریں تو ٹیم کے لیے بہتر ہوتاہے۔

بھارت کے سابق کھلاڑی وریندر سہواگ کے پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ کے حوالے سے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے عماد وسیم نے کہا کہ پاک بھارت میچ جنگ نہیں، دوسری ٹیموں کی طرح بھارت کا مقابلہ ہوگا ، انشااللہ شائقین کو ٹیم لڑتے ہوئے نظر آئے گی ، ورلڈ کپ میں کوئی ٹیم کمزور نہیں ، ہر میچ سنجیدگی سے کھیلیں گے جب کہ اپنی صلاحیت کاسوفیصد دینے کی کوشش کروں گا، انفرادی طور پر کچھ میچز نہیں جتواسکا

پاکستان کیلیے کھیلنے کی خواہش جلد پوری ہوگئی، محمد حسنین

لاہور: نوجوان فاسٹ بولر محمد حسنین نے کہا کہ پاکستان کے لئے کھیلنے کی خواہش تھی ، اللہ نے جلد پوری کر دی جب کہ اپنی اسپیڈ برقرار رکھنے کی کوشش کروں گا۔

شاہین آفریدی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے مل کر بہت اچھا لگا انہوں نے مفید مشورے دیے، ورلڈ کپ میں ایک کھلاڑی ٹارگٹ نہیں ، ویرات کوہلی سمیت سب لوگ میرے نشانے پر ہوں گے۔ نوجوان فاسٹ بولر محمد حسنین نے کہا کہ پاکستان کے لئے کھیلنے کی خواہش تھی ، اللہ نے جلد پوری کر دی، میری اسپیڈ اللہ کا خاص تحفہ ہے ، برقرار رکھنے کی کوشش کروں گا۔

لیگ اسپنر شاداب خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کامیابیوں میں اہم حصہ ڈالنے کی کوشش ہو گی، کوشش کروں کا اپنی فارمنس سے ورلڈ کپ جتواؤں، وزیراعظم عمران خان کے میرے لیے الفاظ اعزاز ہیں جس میں انہوں نے کہا کہ لیگ اسپنرز ورلڈ کپ میں اہم کردار ادا کریں گے۔

’’تبدیلیوں‘‘ پر ڈٹے رہو، وزیر اعظم کی چیئرمین بورڈ کو ہدایت

کراچی: وزیر اعظم عمران خان نے چیئرمین پی سی بی کو ’’تبدیلیوں‘‘ پر ڈٹے رہنے کی ہدایت کر دی۔

کوئٹہ میں گورننگ بورڈ کا اجلاس غیرمعمولی ثابت ہوا اور 5 ارکان نے ڈومیسٹک کرکٹ میں مجوزہ تبدیلیوں اور ایم ڈی وسیم خان کے تقرر پر احتجاج کرتے ہوئے بائیکاٹ کر دیا، انھوں نے اپنی دستخط شدہ قرارداد بھی میڈیا کے سامنے پیش کی جس میں ایم ڈی کی تقرری کو کالعدم قرار دیا گیا تھا، بورڈ نے نامناسب رویے پر میٹنگ کے اگلے روز ایک رکن نعمان بٹ کو معطل کر دیا ۔

اس دوران اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے چیئرمین پی سی بی احسان مانی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے انھیں میٹنگ کیلیے طلب کر لیا ہے، البتہ پی سی بی ذرائع کا ابتدا سے یہ موقف رہاکہ یہ ملاقات کافی پہلے سے طے تھی، گذشتہ روز قومی ورلڈکپ اسکواڈ نے وزیر اعظم سے ملاقات کی تو وفد میں احسان مانی بھی شامل تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ واپس جانے سے قبل چیئرمین پی سی بی کی خواہش پر عمران خان نے ان سے اکیلے میں 5 منٹ تک گفتگوکی، اس موقع پر بورڈ کے سرپرست اعلیٰ نے احسان مانی سے کہا کہ وہ ’’تبدیلیوں‘‘ پر ڈٹے رہیں، جو اقدامات کرنے ہیں کریں مکمل حمایت حاصل رہے گی۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ بورڈ چیف کسی کی ’’بلیک میلنگ‘‘ میں نہ آنے کا فیصلہ کر چکے اور مجوزہ تبدیلیوں پر عمل درآمد ضرور کریں گے، ’’باغی گروپ‘‘ میں بھی پھوٹ پڑ چکی اور بعض نے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر کے اپنے رویے پر پشیمانی ظاہر کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بغیرپڑھے قرارداد پر دستخط کیے، بعد میں اندازہ ہوا کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، بورڈ نے ایک رکن کیخلاف تو ایکشن لے لیا دیگرکو بھی شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں گے، ذرائع نے مزید بتایا کہ نئے ڈومیسٹک سسٹم سے بہت سے افراد کے مفادات کو ضرب پہنچے گی اس لیے وہ احتجاج کریں گے، البتہ حکام نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔

اسی طرح ایم ڈی وسیم خان کی تقرری کا فیصلہ بھی تبدیل نہیں ہوگا، پی سی بی کے پاس کئی گورننگ بورڈ ارکان کی جانب سے منظوری کی دستخط شدہ دستاویز موجود ہے، امکان یہی ہے کہ معاملہ آئندہ چند روز میں حل ہو جائے گا، بورڈ کئی آپشنز پر غور کر رہا ہے، البتہ ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس سے ’’باغی گروپ‘‘ کے سامنے جھکنے کا تاثر سامنے آئے،وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بھرپور سپورٹ نے حکام کے حوصلے مزید توانا کر دیے ہیں۔

ورلڈ کپ 2019؛ کرکٹرزکو اہل خانہ کا ساتھ میسر نہیں ہوگا

لاہور: ورلڈکپ کے دوران قومی کرکٹرز کو اہل خانہ کا ساتھ میسر نہیں ہوگا جب کہ انگلینڈ سے سیریز کے بعد کھلاڑی بیوی، بچوں کو وطن واپس بھجوانے پر مجبور ہوں گے۔

ہوم سیریز یواے ای میں ہونے کے سبب پاکستانی کرکٹرز کی فیملز بھی اکثر ہمراہ ہوتی تھیں، یہ سلسلہ ایک عرصے تک چلتا رہا، آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2017کے دوران بھی کھلاڑیوں کے اہل خانہ کو ساتھ رکھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی،البتہ ذرائع کے مطابق پی سی بی نے ورلڈکپ کے دوران اہلیہ اور بچوں کو انگلینڈ میں ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں دی۔

کھلاڑیوں پر واضح کر دیا گیاکہ میزبان ٹیم سے واحد ٹی ٹوئنٹی اور 5 ون ڈے میچزکے دوران اگر وہ چاہیں توفیملیز کو ساتھ رکھ سکتے ہیں لیکن میگا ایونٹ شروع ہونے پر ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ورلڈکپ کے دوران ٹیم کو بار بار ایک سے دوسرے شہر سفر کرنا پڑے گا،اس دوران فیملیز بھی ساتھ ہونے سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں،مینجمنٹ یہ بھی چاہتی ہے کہ کھلاڑی صرف اور صرف کھیل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کئی قومی کرکٹرز پی سی بی کے اس فیصلے سے خوش دکھائی نہیں دیتے، یاد رہے کہ پرانا فارمیٹ دوبارہ متعارف کرانے کی وجہ سے ورلڈ کپ خاصا طویل ہوگا،آغاز 30 مئی کو ہونا ہے،اگر پاکستان ٹیم 14جولائی کو شیڈول فائنل تک رسائی میں کامیاب ہوئی تواگلے روز وطن واپسی ہو گی، کھلاڑیوں کے تحفظات ہیں کہ ان کو ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصہ فیملیز سے دور رکھنا مناسب نہیں ہوگا۔

وزیراعظم سے قومی ورلڈ کپ اسکواڈ کی ملاقات

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے قومی ورلڈ کپ اسکواڈ سے ملاقات کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی۔

وزیراعظم اور پی سی بی کے پیٹرن ان چیف عمران خان کی دعوت پر بنی گالہ میں پاکستانی ورلڈ کپ اسکواڈ نے عمران خان سے ملاقات کی۔ ان کے ہمراہ چیئرمین پی سی بی احسان مانی اور مینجمنٹ کے ارکان بھی موجود تھے۔ پی سی بی حکام نے وزیراعظم کو ورلڈ کپ کی تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔

ذرائع کے مطابق عمران خان نے کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ کی مشکل کنڈیشنز میں دلیری کے ساتھ کھیلنا ہوگا، سرفراز احمد کو قیادت کا حق ادا کرتے ہوئے خود ذمہ داری کا بوجھ اٹھانا ہوگا۔ عمران خان نے کپتان سرفراز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب تم خود دلیر ہوگے تو ٹیم بھی دلیری کے ساتھ کھیلے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ 1992 کے ورلڈکپ میں قومی ٹیم کمزوریوں کے باوجود اپنے بے مثال جذبہ کی بدولت ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ اس موقع پر انہوں نے جنید خان، فہیم اشرف اور حسن علی سمیت بولرز کو کارکردگی بہتر بنانے کیلیے مفید مشورے بھی دیئے۔

چیف سلیکٹر نے اپنی بنائی ہوئی پالیسی کو بولڈ کردیا

لاہور: چیف سلیکٹر نے اپنی بنائی ہوئی پالیسی کو بولڈ کردیا اور انہوں نے فٹنس ٹیسٹ میں ناکام عماد وسیم کو تھوڑی ’’فیور‘‘ دینے کا اعتراف کرلیا۔

قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ورلڈکپ اسکواڈ کا اعلان کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے کہا کہ ہم نے گزشتہ چند برس سے فٹنس کا ایک خاص معیار وضع کیا لیکن کبھی کبھار ٹیم کمبی نیشن کیلیے تھوڑا مشکل فیصلہ کرنا پڑ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سچ ہے کہ عماد وسیم ٹیسٹ میں دیتے ہوئے ایک دو چیزوں میں تھوڑا پیچھے رہ گئے،گھٹنے کی انجری کے حوالے سے ڈاکٹر کی ہدایات بھی ہیں۔ ہم نے ان کو تھوڑی ’’فیور‘‘ دی اورامید ہے کہ وہ فٹ ہوجائیں گے، محمد حفیظ کی فٹنس کے حوالے سے بھی ایسی ہی توقعات وابستہ ہیں۔

محمد حسنین کو صرف رفتار کی وجہ سے تجربہ کار پیسرز پر ترجیح دینے کے سوال پر انھوں نے صحافی کو کہا کہ کبھی آپ نے 150کلومیٹر کی اسپیڈ سے آنے والی گیند کھیلی ہوتی تو بخوبی ہماری سلیکشن کی وجہ جان جاتے، حسن علی، جنید خان اور فہیم اشرف تجربہ کار ہیں لیکن ان کی رفتار ایک جیسی ہے۔ ان کے ساتھ کوئی ایکسپریس بولر ردھم میں آجائے تو کسی بھی ٹیم کی بیٹنگ تہس نہس کرسکتا ہے، محمد حسنین پاکستان ٹیم کا سرپرائز پیکیج ثابت ہوسکتے ہیں۔

محمد عامر کی اسکواڈ میں واپسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انضمام الحق نے کہا کہ پیسر ایک سال سے اچھا پرفارم نہیں کررہے لیکن ردھم میں آگئے تو بہت خوش آئند بات ہوگی، چیمپئنز ٹرافی فائنل میں انھوں نے بھارتی بیٹنگ لائن تباہ کردی تھی، اسی لیے ان کو انگلینڈ ساتھ لے کر جارہے ہیں، عثمان شنواری اور وہاب ریاض بھی اچھے بولر ہیں لیکن 8 پیسرز میں سے 5کو شامل کرنا ہو تو کسی نہ کسی کو ڈراپ کرنا ہی پڑے گا۔

اسکواڈ کا اعلان کرتے ہوئےانضمام بار بار غلطیاں کرتے رہے

ورلڈکپ کیلیے اسکواڈ کا اعلان کرتے ہوئے چیف سلیکٹر انضمام الحق بار بار غلطیاں کرتے رہے،پہلے فہرست میں حارث سہیل کا نام چھوڑ گئے، محمد حسنین کو ایم حسن کہہ گئے۔

صحافیوں نے تصحیح کرائی اور ساتھ یہ بھی بتایا کہ ابھی 14کرکٹرز کے نام لیے گئے ہیں،فہرست دوبارہ پڑھنا شروع کی تو اندازہ ہوا کہ حارث سہیل کا نام رہ گیا تھا، میڈیا کے نمائندوں نے کہا کہ کسی غلط فہمی سے بچنے کیلیے سارے نام دوبارہ پڑھ دیں،تیسری کوشش میں انضمام الحق پوری فہرست درست پڑھنے میں کامیاب ہوگئے۔

آسٹریلیا نے پاکستان کو نائٹ ٹیسٹ پر راضی کرلیا

کراچی:  آسٹریلیا نے پاکستان کو ایڈیلیڈ میں نائٹ ٹیسٹ کھیلنے پرراضی کرلیا تاہم ٹورکے دوران اضافی تیسرا پانچ روزہ میچ کھیلنے کی تجویز پر اتفاق نہیں ہوسکا۔

پاکستان نے رواں برس کے آخر میں شیڈول دورئہ آسٹریلیا کے دوران ایڈیلیڈ میں پنک گیند سے ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ کھیلنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ اس حوالے سے دونوں بورڈز کے درمیان بات چیت جاری اور اس سلسلے میں تاخیر کی وجہ پاکستان کا ٹور نہ کرنے کے آسٹریلوی فیصلے سے متعلق پی سی بی کی ناراضی کو قرار دیا جا رہا تھا، یہ بھی رپورٹس تھیں کہ پی سی بی کینگروز سے اگلے ٹور میں پاکستان میں کھیلنے کی یقین دہانی چاہتا ہے جو2022 میں شیڈول ہے۔

اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان نے ایک آسٹریلوی اخبار سے بات چیت میں کہاکہ ہم جانتے ہیں کہ آنے والے عرصے میں ہمیں مختلف ٹیموں سے بہت زیادہ باہمی کرکٹ کھیلنی ہے، ہمیں بدستور یہ ثبوت دینے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے ملک میں مقابلوں کے دوران بہترین سیکیورٹی فراہم کرسکتے ہیں، سب چیزیں بہتر رہنے پر ہم آسٹریلیا کے پاکستان میں کھیلنے سے متعلق بات چیت 2022 کے آغاز میں کریں گے۔ انھوں  نے کہا کہ کرکٹ آسٹریلیا پاکستان کو نائٹ ٹیسٹ کیلیے کوئی رقم نہیں دے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے دورئہ آسٹریلیا کے دوران 2 ٹور میچز کھیلنے کا امکان ہے جس میں سے ایک پرتھ میں پہلے ٹیسٹ سے قبل منعقد ہوگا، پی سی بی کو امید ہے کہ پرتھ کے فرسٹ گریڈ کلبز سے اس بارے میں ڈیل ہوجائے گی۔ ادھر کرکٹ آسٹریلیا نے اس بات کی بھی تصدیق کردی کہ 40 برس میں پہلی بار اس کی ٹیم جنوری میں ہوم سیزن کے دوران ہی بھارت کا ون ڈے سیریز کیلیے دورہ بھی کرے گی۔

Google Analytics Alternative