کھیل

ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پاکستان کی نمبر ون پوزیشن مزید مستحکم

عالمی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پاکستان کی نمبر ون پوزیشن مزید مستحکم ہوگئی ہے۔

متحدہ عرب امارات میں کیویز کو 3 میچوں کی سیریز میں کلین سویپ کرنے کے بعد قومی ٹیم کے 2 پوائنٹس مزید بڑھ گئے جس سے پاکستان کے پوائنٹس 138 ہوگئے جب کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں فتح پانے والی بھارتی ٹیم نے اپنے پوائنٹس 124 سے بڑھاکر 127 کرلئے،  آسٹریلیا تیسرے، انگلینڈ چوتھے، پاکستان کے ہاتھوں شکستوں کے بعد 4 پوائنٹس کا خسارہ برداشت کرنے کے باوجود نیوزی لینڈ پانچویں نمبر پر ہے، جنوبی افریقہ چھٹی، ویسٹ انڈیز ساتویں، افغانستان آٹھویں، سری لنکا نویں اور بنگلہ دیش دسویں پوزیشن پر ہے۔

بیٹسمینوں میں بابراعظم کی حکمرانی برقرار ہے، فخرزمان پانچویں پوزیشن کے ساتھ ٹاپ ٹین میں شامل دوسرے پاکستانی بیٹسمین ہیں، شعیب ملک 28 ویں نمبر پر موجود ہیں۔ بولرز میں راشد خان کے بعد شاداب خان دوسری پوزیشن پر ہیں، ‏فہیم اشرف ساتویں اور عماد وسیم آٹھویں نمبر پر ہیں۔ کوئی پاکستانی آل راؤنڈر ٹاپ ٹین میں جگہ نہیں بنا سکا۔

پاکستان فٹبال ٹیم کا دورہ فلسطین خطرے میں پڑ گیا

پاکستان فٹبال ٹیم کو ویزے جاری نہ ہونے کی وجہ سے گرین شرٹس کا دورہ فلسطین خطرے میں پڑ گیا۔

پاکستان فٹبال ٹیم کی پیر کی رات علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سے یروشلم روانگی شیڈول تھی تاہم شام تک قومی ٹیم کو ویزے جاری نہ ہو سکے، قومی ٹیم نے فلسطین پہنچ کر 14 نومبر کو میزبان سائیڈ کے خلاف ایک میچ میں شرکت کرنا تھی تاہم تاحال ویزے جاری نہ ہونے کی وجہ سے قومی ٹیم کا دورہ فلسطین مشکوک ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پی ایف ایف حکام پر امید ہیں کہ منگل تک قومی ٹیم کو ویزے جاری کر دیئے جائیں گے، ایسا ہونے کی صورت میں پہلے سے طے شدہ میچ کی تاریخ کو باہمی رضامندی سے آگے بڑھایا جائے گا، پاکستان اور فلسطین کی فٹبال ٹیمیں پہلے بھی ہوم اینڈ اوے کی بنیاد پر سیریز کھیل چکی ہیں۔

پاکستان ہاکی ٹیم ورلڈکپ کیلیے فیورٹ قرار

سابق کوچ محمد ثقلین نے پاکستان ہاکی ٹیم کو ورلڈکپ کے لیے فیورٹ قرار دے دیا۔

قومی ہاکی ٹیم کے سابق کوچ محمد ثقلین کا کہنا ہے کہ اس وقت عماد شکیل بٹ ، محمد عرفان سینئر، رضوان سینئر،  راشد محمود، تصورعباس، توثیق احمد، عمر بھٹہ اور علی شان ایسے پلیئر ہے جو دنیا کی کسی بھی ٹیم کو ہرانے کی بھرپور اہلیت رکھتے ہیں، انہی پلیئرز نے اپنی اہلیت کو ثابت بھی کیا۔

سابق کوچ کا کہنا تھا کہ ان کھلاڑیوں پر مشتمل پاکستانی ٹیم نے  چیمپئنز ٹرافی میں ارجنٹائن کو زیر کیا، آسٹریلیا کے خلاف زبردست کھیل کا مظاہرہ کیا، بیلجیئم کے خلاف غیر معمولی کارکردگی دکھائی، موجودہ پاکستانی ٹیم میں بھی بڑے اچھے کھلاڑی موجود ہیں،  یہ ‏پلیئرز صرف اپنی گیم پر فوکس کریں، گراؤنڈز کے باہر کے ایشوز کو بالکل نظر انداز کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستانی ٹیم ابتدائی مرحلے میں ٹاپ 8 میں جگہ بنانے میں کامیاب نہ ہو۔

محمد ثقلین نے کہا کہ ورلڈکپ کے دوران پاکستان کو گروپ ڈی میں رکھا گیا ہے جس میں پاکستان کے ساتھ جرمنی ہالینڈ اور ملائشیا کی ٹیمیں شامل ہیں، اگرچہ یہ تینوں مضبوط حریف ہیں تاہم پاکستانی ٹیم ان سائیڈز کو زیر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، میری اور پوری قوم کی دعائیں اور نیک خواہشات  پاکستان ٹیم کے ساتھ ہیں ،امید کرتا ہوں کہ گرین شرٹس  بھارت میں ورلڈ کپ کے دوران  عمدہ کارکردگی دکھانے کے بعد وطن واپس لوٹیں گے۔ ایک سوال پر محمد ثقلین کا کہنا تھا کہ ملکی ہاکی مشکل ترین دور میں بھی زندہ رہی اور مستقبل میں بھی اپنی عمدہ کارکردگی سے ملک و قوم کا نام روشن کرتی رہے گی۔

متنازع بیان پر محسن خان کے متبادل کے لیے پی سی بی کے صلاح مشورے

لاہور: کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین محسن حسن خان کے متنازع بیان کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کے متبادل کے لیے صلاح مشورے شروع کردیے۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی احسان مانی کرکٹ کمیٹی کے چئیرمین محسن خان سے ناخوش ہیں جن کے بیانات پی سی بی کے لیے مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔

ذرائع پی سی بی کا کہنا ہے کہ کرکٹ بورڈ نے محسن خان کو متنازع بیانات دینے سے منع کر دیا اور انہیں کرکٹ کے معاملات پر فوکس کرنے کا کہا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق محسن خان مشکلات پیدا کرتے رہے تو پی سی بی نئے چئیرمین کا فیصلہ کرسکتا ہے جب کہ ان کے متبادل کے لیے کرکٹ بورڈ نے صلاح مشورے بھی شروع کر دیے۔

یاد رہے کہ پی سی بی جسٹس قیوم رپورٹ کے حوالے سے اٹھنے والے تنازع پر ابھی وضاحتیں ہی دے رہا تھا کہ کرکٹ کمیٹی کے سربراہ محسن خان نے بھی ایک منفرد بیان داغا اور کہا کہ ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سرفراز احمد کے لیے بوجھ ہے انہیں اس ذمہ داری سے الگ کر دینا چاہیے۔

کمیٹی کے سربراہ کا بیان عین اس وقت سامنے آیا جب قومی ٹیم آسٹریلیا کو شکست دینے کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کیلئے تیاری کر رہی تھی۔

پی سی بی نے محسن خان کے بیان کو غیر ضروری اور نامناسب قرار دیا ہے۔

پاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز سے قبل نیوزی لینڈ کو بڑے جھٹکے

ابوظہبی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ون ڈے سیریز کا آغاز کل سے ہونے جارہا ہے لیکن اس سے قبل کیویز ٹیم دو اہم کھلاڑیوں سے محروم ہوگئی۔

پاکستان کا متحدہ عرب امارات میں کامیابی کا سلسلہ جاری ہے اور گرین شرٹس آسٹریلیا کے بعد نیوزی لینڈ کو بھی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں وائٹ واش کرچکے ہیں۔

شاہین اور کیویز کا اب اگلہ معرکہ تین میچز پر مشتمل ون ڈے سیریز میں ہوگا جس کا باقاعدہ آغاز کل ابوظہبی کے شیخ زید اسٹیڈیم میں ہونے جارہا ہے تاہم اس سے قبل کیویز ٹیم مشکلات کا شکار ہے۔

نیوزی لینڈ کے جارح مزاج آل راؤنڈر کورے اینڈرسن ان فٹ ہو کر اپنے ملک واپس چلے گئے اور انہیں ایڑھی زخمی ہونے کی وجہ سے ون ڈے سیریز میں زیر غور نہیں لایا گیا۔

نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ لیگ اسپنر ٹوڈ آسٹل بھی گھٹنے کی تکلیف کا شکار ہیں جن کے متبادل کے طور پر اعجاز پٹیل کو طلب کر لیا گیا ہے۔

پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے لوکی فرگوسن اور جارج وارکر کو بھی اسکواڈ میں شامل کیا  گیا ہے۔

نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں نئے کھلاڑیوں کو آزمانے کا امکان

پشاور: نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے نئے کھلاڑیوں کو آزمائے جانے کا امکان ہے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں اپنی کارکردگی کا لوہا منوانے والے فاسٹ باؤلر شاہین آفریدی کو بھی میدان میں اتارا جاسکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے بعد ٹیسٹ سیریز 16 نومبر سے ابوظہبی میں شروع ہورہی ہے۔ کھلاڑیوں کے چناؤ کے لئے سیلکٹرز سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے رکن وجاہت اللہ واسطی کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ پر توجہ دینے سے شاہین شنواری ، شاداب، حسن علی، فخر زمان، عثمان صلاح الدین جیسے کھلاڑی سامنے آرہے ہیں، وقاص محمود، محمد عباس ، حمزہ ابھرتے کھلاڑی ہیں جو محنت کرکے ٹیم میں اپنی جگہ بنارہے ہیں، سلیکشن کمیٹی، کوچ اور کپتان ایک پیج پر ہے اور مشاورت سے ٹیم تشکیل دی جاتی ہے۔

پشاور میں ایکسپریس نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے سلیکٹر وجاہت اللہ واسطی کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز سینئر اور جونیئر کمبنیشین کا نتیجہ ہے اور کھلاڑیوں نے سیریز میں کافی محنت کی ہے، موجودہ سلیکشن کمیٹی کی کوشش رہی ہے کہ نیا ٹیلنٹ سامنے لیکر آئیں اور جو کھلاڑی بہتر کھیل پیش کررہا ہے اس کی ٹیم میں جگہ بن رہی ہے۔ بہتر ٹیم بنانے کی وجہ سے مسلسل گیارہ سیریز جیت گئے ہیں، کرکٹ کی بہتری کے لیے چیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی کا مکمل  تعاون ہے اور  پی سی بی کے اقدامات کے اثرات آنا شروع ہوگئے ہیں۔

وجاہت کا کہنا تھا کہ شاہین آفریدی  کو ٹیسٹ سیریز کے لیے ٹیم میں شامل کیا جاسکتا ہے تاہم حتمی فیصلہ سلیکشن کمیٹی ہی کرے گی، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی تشکیل کے بعد اب کوشش ہے کہ ٹیسٹ میں بھی اپنی گرفت کو مضبوط کریں ۔ مصباح الحق اور یونس خان کے بعد ٹیم میں لمبی اننگز کھیلنے کا مسئلہ ہے اور اس کا متبادل بھی جلد ڈھونڈ لیں گے، ٹیسٹ سیریز کے لیے نئے کھلاڑیوں کو موقع دیں گے۔

لوگوں کی رائے کوکارکردگی سے غلط ثابت کیا، محمد حفیظ

آل راؤنڈرمحمد حفیظ کا کہنا ہے لوگوں کی رائے کو کارکردگی سے غلط ثابت کیا، جو رویہ اختیار کیا جا رہا تھا وہ قابل قبول نہیں تھا۔

پاکستان کی فتوحات میں اہم کردار ادا کرنے پر خوش ہوں،فارم کے ساتھ اعتماد کا بحال ہونا بھی ضروری ہے،کئی معاملات کیریئر پر اثر انداز ہوتے ہیں،کم بیک کو آخری موقع سمجھ کر سخت محنت کی اور صلہ پایا،اس طرح کی صورتحال کا ماضی میں بھی کئی بار سامنا کرچکا ہوں،ہمیشہ اپنی کارکردگی سے رائے تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہوں،اس بار بھی ایسا ہی کیا، میری ترجیح پاکستان کیلیے کھیلنا تھی اور رہے گی۔

دلبرداشتہ ہوکر ریٹائرمنٹ کی باتیں کرنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ میرے ساتھ جو رویہ رکھا گیا، قابل قبول نہیں تھا، مشکل وقت میں فیملی اور دوستوں نے ہمت بندھائی،خود کو سنبھالا اورمتحرک کیا، محنت کرتا رہا، اللہ تعالیٰ نے میرے لیے آسانیاں پیدا کیں،کارکردگی سے رائے تبدیل کرنے کا عزم کیا اور آج ملک کیلیے پرفارم کررہا ہوں، اب ماضی کی باتوں کو بھول کر مستقبل کے بارے میں سوچنے اور اپنی اہلیت منوانے کا وقت ہے۔ شعیب ملک کی طرح ریٹائرمنٹ پلان کے سوال پر محمد حفیظ نے کہا کہ یہ موقع ہر کھلاڑی کی زندگی میں آتا ہے، چاہتا ہوں کہ عزت کیساتھ جاؤں،جب تک لڑنے کی طاقت اور قومی ٹیم کے معیار پر پورا اترنے کی ہمت ہو ملک کیلیے کھیلنا چاہتا ہوں،جگہ لینے کیلیے کوئی نوجوان کرکٹر ہو تو چلا جاؤں گا۔

اگر میری جگہ ہے تو محنت اور فٹنس کیساتھ اس کو برقرار رکھنے کی کوشش کروں گا،تینوں طرز کی کرکٹ کا دباؤمحسوس کرنے کے سوال پر آل راؤنڈر نے کہا کہ اگر میں کسی بھی فارمیٹ کیلیے موزوں ہوں تو کھیلوں گا،سوچ رہا ہوں کہ اپنے اوپر دباؤ تھوڑا کم کروں،اس کیلیے مناسب وقت کا انتظارکررہا ہوں، کسی بھی فارمیٹ میں اپنے سے بہتر متبادل نوجوان کرکٹر نظر آئے تو فیصلہ کرنے میں آسانی اور خوشی محسوس کروں گا۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ کپتان سرفرازاحمد مجھ سے میدان میں مشورے کرتے اور نوجوانوں سے بات کرنے کی اجازت بھی دیتے ہیں،ضروری ہے کہ اپنا تجربہ دوسروں تک منتقل کیا جائے،نوجوان کرکٹرز سے بات کرتے ہوئے ان کی تکنیک یا مہارت سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرتا بلکہ صرف صورتحال کے مطابق حوصلہ جوان رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

ایکشن میں تبدیلی،پہلے جیسا بولر نہیں رہا

محمد حفیظ نے کہا کہ ایکشن کی اصلاح کے بعد بولنگ مہارت میں کمی آگئی، پٹھوں کونئے زاویے کا عادی بنانا مشکل کام ہے، کئی چیزوں میں محدود ہوگیا، پہلے جیسا بولرنہیں ہوں، پابندی ختم کروانے کیلیے 8 ماہ سخت محنت کی،اب بھی اپنے بولنگ کوچ اور بائیو مکینک ایکسپرٹ کیساتھ رابطے میں رہتا ہوں،خود بھی اپنے ایکشن کا جائزہ لیتا رہتا ہوں،چاہتا ہوں کہ بطور آل رائونڈر کھیلوں اور جب بھی ٹیم کو ضرورت ہو بولنگ کروں، ظاہر سی بات ہے کہ مسلز کو نئے ایکشن کا عادی بنانے کے بعد پہلے جیسا بولر نہیں،کئی چیزوں میں محدود ہونا پڑا،اس کے باوجود خود کو ذہنی طور پر تیار کیا، محنت کی،تجربہ بھی استعمال کررہا ہوں لیکن ظاہر ہے کہ اسکلز میں کمی آئی ہے۔

تجربے سے دیگر کو مستفید کرتاہوں اسی لیے ساتھی پروفیسرکہتے ہیں

پروفیسر پکارے جانے کے سوال پر محمد حفیظ نے کہا کہ کرکٹ کی معلومات کوبہتر سمجھتا اور دوسروں کو بتاتا رہتا ہوں، بہتری کیلیے اپنا تجزیہ بھی کرتا رہتا ہوں کہ کس طرح کے حالات میں کیا کرنا بہتر ہوگا، میچ کی صورتحال کو بھی اسی انداز میں دیکھتے ہوئے اپنی سوچ سے ساتھی کھلاڑیوں کو آگاہ کرتا ہوں، شاید اسی لیے پروفیسر کہتے ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں تفریحی عنصرشامل کیا جائے، تجاویز ذہن میں ہیں

محمد حفیظ نے ٹیسٹ کرکٹ کو تبدیل کرتے ہوئے اس میں تفریحی عنصر شامل کرنے کی تجویز پیش کردی،ان کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی میچز کو شائقین پسند کرتے اوراسپانسرز بھی اسی کی جانب راغب ہوتے ہیں، پرفارمنس پر ملنے والی پذیرائی کرکٹرز کا بھی حوصلہ بڑھاتی ہے،ایک، دوملکوں کے سوا شائقین ٹیسٹ کرکٹ دیکھنے اسٹیڈیم میں نہیں آتے جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں میدان بھر جاتے ہیں،میرے خیال میں ٹیسٹ کرکٹ کو بدلنا اور اس میں تفریحی عنصر لانا چاہیے،اس حوالے سے تجاویز کے سوال پر انھوں نے کہا بہت سی چیزیں ذہن میں ہیں، وقت آنے پر بتائوں گا۔

پاک بھارت مقابلے دنیائے کرکٹ کیلیے بھی سودمند ہیں، آل راؤنڈر

محمد حفیظ نے پاک بھارت مقابلوں کو دنیائے کرکٹ کے لیے بھی سودمند قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے، جو مزا روایتی حریفوں کا میچ کھیلنے اور دیکھنے میں آتا ہے، وہ کسی اور مقابلے کا خاصا نہیں، ہم بھارت کھیلنے جائیں، وہ سیریز کے لیے پاکستان آئیں تونہ صرف دونوں ملکوں بلکہ دنیائے کرکٹ کے بھی مفاد میں ہے۔

بیٹا ہی میرا کوچ اور ناقد ہے

محمد حفیظ نے بیٹے کو ہی اپنا کوچ قرار دیدیا، آل رائونڈر نے کہا کہ کھیلوں کے معاملے میں اپنے بچوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتا ہوں، میرا بیٹا تمام کرکٹرز کے بارے میں جانتا ہے، وہی میرا کوچ اور سب سے بڑا ناقد ہے، آؤٹ ہونے کے بعد جائوں تو پوچھتا ہے کہ بابا کس طرح کی شاٹ کھیلی ہے آپ نے۔اس کی باتیں سن کر کبھی حوصلہ شکنی نہیں کرتا، بچوں کو جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط بنانے کی بھرپور کوشش کرنا چاہیے۔

خواہش ہے کہ ٹی ٹین لیگ کا کچھ حصہ پاکستان میں ہو، ایم ڈی ٹی ٹین لیگ

لاہور: ایم ڈی ٹی ٹین لیگ سعد اللہ خان کا کہنا ہے کہ خواہش ہے کہ ٹی ٹین لیگ کا کچھ حصہ پاکستان میں ہو۔

ٹی ٹین لیگ کے ایم ڈی اور مینجنگ پارٹنر سعد اللہ خان کا کہنا ہے کہ خواہش ہے کہ ٹی ٹین لیگ کا کچھ حصہ پاکستان میں ہو، سیمی فائنلز اور فائنل پاکستان میں کرانا چاہتے ہیں وقت کی کمی کے باعث اس برس ممکن نہیں ہو سکا آئندہ برس کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دی ہے میچز کا ریونیو پاکستان سے شئیر بھی کریں گے۔

ٹی ٹین لیگ کے ایم ڈی سعد اللہ خان کا کہنا تھا کہ پی سی بی نے 12 کھلاڑیوں کو این او سی جاری کر دیے ہیں باقی نیشنل ڈیوٹی پر ہیں اس لیے زبردستی نہیں کی جاسکتی، دیکھتے ہیں 22 میں سے کتنے پاکستانی کرکٹرز شریک ہوتے ہیں، چیئرمین احسان مانی اور پی سی بی نے ٹی ٹین لیگ کے لیے بہت تعاون کیا ہے۔

Google Analytics Alternative