کھیل

گل پانڑہ پشاور زلمی کی ریجنل برانڈ ایمبیسیڈر مقرر

پشتو کی معروف گلوکارہ گل پانڑہ کو پشاور زلمی، زلمی فاونڈیشن اور گلوبل زلمی کی ریجنل برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کیا گیا ہے۔

پاکستان اور بالخصوص خیبر پختونخواہ میں اپنی آواز سے لاکھوں فینز کے دلوں میں جگہ بنانے والی سنگر گل پانڑہ کو پشاور زلمی، زلمی فاونڈیشن اور گلوبل زلمی کا ریجنل برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کیا گیا ہے۔

پشاور زلمی کے چیرمین جاوید آفریدی نے اپنے ٹوئٹر پیغام زریعے گل پانڑہ کو  ریجنل برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کرنے کا اعلان کیا ۔ انہوں نے کہا گل پانڑہ سیزن ون سے پشاور زلمی کی سپورٹر رہی ہیں۔ پشاور زلمی کے ساتھ گل پانڑہ زلمی فاونڈیشن کی سرگرمیوں خصوصا ویمن اینڈ یوتھ ایمپاور منٹ میں بھی شریک رہیں گیں۔

گل پانڑہ نے بھی پشاور زلمی کا حصہ بننے پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ پوری امید ہے کہ ٹیم زلمی پی ایس ایل فور میں اپنی کارکردگی سے ایک بار پھر شائقین کرکٹ کا دل جیتنے میں کامیاب رہے گی۔ انہوں نے زلمی فاونڈیشن کے زریعے خیبر پختونخواہ میں ویمن اینڈ یوتھ ایمپاورمنٹ اور زلمی اسکول لیگ، زلمی مدرسہ لیگ اور ہائیر زلمی ہنڈر پچز پراجیکٹ جیسے مثالی پروگرام منعقد کرنے پر چیرمین پشاور زلمی جاوید آفریدی کو مبارکباد دی۔

واضح ہے گل پانڑہ نے پی ایس ایل سیزن ون کے لیے پشاور زلمی کے اینتھم تیار کیا تھا جس نے مقبولیت حاصل کی تھی۔ جلد گل پانڑہ سیزن فور کے لیے بھی زلمی اینتھم ریلیز کریں گی۔

جنوبی افریقہ 164 رنز پر ڈھیر، پاکستان 8وکٹوں سے کامیاب

پاکستان نے امام الحق کی عمدہ بیٹنگ اور باؤلرز کی شاندار کارکردگی کی بدولت جنوبی افریقہ کو چوتھے ون ڈے میچ میں یکطرفہ مقابلے کے بعد 8وکٹوں سے شکست دے کر سیریز 2-2 سے برابر کردی۔

سرفراز پر پابندی کے بعد پاکستان ٹیم کی قیادت کرنے والے قائم مقام کپتان شعیب ملک نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلرز کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔

شاہین شاہ آفریدی نے کپتان کو مایوس نہ کیا اور اپنے پہلے ہی اوور میں کوئنٹن ڈی کوک کو پویلین واپسی پر مجبور کردیا جبکہ اننگز کے چھٹے اوور میں ریزا ہینڈرکس کی اننگز کا بھی خاتمہ کردیا۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے فاف ڈیو پلیسی اور ہاشم آملا نے نصف سنچریاں اسکور کیں— فوٹو: اے ایف پی
جنوبی افریقہ کی جانب سے فاف ڈیو پلیسی اور ہاشم آملا نے نصف سنچریاں اسکور کیں— فوٹو: اے ایف پی

18رنز پر دو وکٹیں گرنے کے بعد ہاشم آملا اور کپتان فاف ڈیو پلیسی کی جوڑی وکٹ پر اکٹھا ہوئی اور دونوں کھلاڑیوں نے ذمے دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیسری وکٹ کے لیے 101 رنز کی شراکت قائم کر کے اتدائی نقصان کا ازالہ کردیا۔

اس شراکت کا خاتمہ اس وقت ہوا جب ڈیو پلیسی ایک بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں شاداب خان کا شکار بن گئے، انہوں نے آؤٹ ہونے سے قبل 57رنز بنائے۔

پاکستان کو جلد ہی ایک اور بڑی کامیابی ملی جب عماد وسیم نے 59رنز بنانے والے تجربہ کار ہاشم آملا کی وکٹیں بکھیر دیں۔

ہاشم آملا کے آؤٹ ہوتے ہی پاکستانی باؤلرز نے عمدہ باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزبان ٹیم کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کرتے ہوئے 161 رنز پر پوری ٹیم کو ٹھکانے لگا دیا۔

عثمان شنواری کی گیند پر جنوبی افریقہ کے ڈیل اسٹین کے باؤلڈ ہونے کا منظر— فوٹو: اے ایف پی
عثمان شنواری کی گیند پر جنوبی افریقہ کے ڈیل اسٹین کے باؤلڈ ہونے کا منظر— فوٹو: اے ایف پی

جنوبی افریقہ کی بیٹنگ لائن کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آخری پانچ وکٹیں صرف 5 رنز کے اضافے سے گریں۔

پاکستان کی جانب سے عثمان شنواری 4 وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ شاداب خان اور شاہین آفریدی نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

ہدف کے تعاقب میں فخر زمان اور امام الحق پر مشتمل اوپننگ جوڑی نے ٹیم کو 70رنز کا آغاز فراہم کر کے فتح کی بنیاد رکھی، فخر 44 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔

امام الحق نے شاندار فارم کا سلسلہ جاری رکھا اور شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچری مکمل کی اور بابر اعظإ کے ہمراہ 94رنز کی شراکت قائم کر کے ٹیم کی فتح کو یقینی بنا دیا، وہ 164 کے اسکور پر 71 رن بنانے کے بعد فلکوایو کی وکٹ بنے۔

امام الحق نے عمدہ فارم برقرار رکھتے ہوئے 71رنز کی اننگز کھیلی— فوٹو: اے ایف پی
امام الحق نے عمدہ فارم برقرار رکھتے ہوئے 71رنز کی اننگز کھیلی— فوٹو: اے ایف پی

پاکستان نے 32ویں اوور میں دو وکٹوں کے نقصان پر باآسانی ہدف حاصل کر کے پانچ میچوں کی سیریز 2-2 سے برابر کردی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم کو پنک ڈریس میں ون ڈے میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جہیاں گزشتہ 7 میچوں میں وہ اب تک ناقابل شکست تھے۔

عثمان خان شنواری کو عمدہ اسپیل اور شار وکٹیں لینے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا پانچواں اور فیصلہ کن میچ بدھ کو کیپ ٹاؤن میں کھیلا جائے گا۔

میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل تھیں۔

پاکستان: شعیب ملک (کپتان)، امام الحق، فخر زمان، بابر اعظم، محمد رضوان، محمد حفیظ، شاداب خان، عماد وسیم، فہیم شاہین شاہ آفریدی، عثمان شنواری اور محمد عامر۔

جنوبی افریقہ: فاف ڈیو پلیسی (کپتان)، ہاشم آملا، ریزا ہینڈرکس، ریسی وین در ڈوسن، ڈیوڈ ملر، ایندائل فلکوایو، کگیسو ربادا، عمران طاہر اور بیورین ہینڈریکس

یاد رہے کہ جنوبی افریقہ نے تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں کلین سوئپ کرتے ہوئے سیریز 0-3 سے اپنے نام کی تھی۔

سرفراز احمد پر 4 میچز کی پابندی، پی سی بی کا اظہار مایوسی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے جنوبی افریقی کرکٹر ایندائل فلکوایو پر نسلی تعصب پر مبنی جملے کسنے پر پاکستان کے کپتان سرفراز احمد پر 4 میچز پر پابندی عائد کردی اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اس سے قبل جوہانسبرگ میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ایک روزہ سیریز کے چوتھے میچ میں ٹاس کے موقع پر میزبان ٹیم کے کپتان نے بتایا تھا کہ انہیں سرفراز احمد پر 4 میچز کی پابندی سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔

جنوبی افریقہ کے کپتان فاف ڈیو پلیسی کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں بتایا گیا ہے کہ سر فراز احمد پر 4 میچز کی پابندی عائد کی گئی ہے’۔

خیال رہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے جارہے چوتھے ایک روزہ میچ میں قومی ٹیم کی کپتانی شعیب ملک کے سپرد کی گئی۔

واضح رہے کہ آئی سی سی نے سرفراز احمد پر اپنے ضابطہ اخلاق کے تحت پابندی عائد کی ہے جس کے مطابق ‘کسی بھی کھلاڑی کو اس کی نسل، مذہب، رنگ اور قومی شناخت کی وجہ سے دھمکانا، حملہ کرنا یا نفرت انگیز جملوں کا تبادلہ کرنا قابل گرفت ہے’۔

اس کے علاوہ آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے مطابق سرفراز احمد کو آرٹیکل 7.3 کے تحت ان کی جانب سے کیے جانے والے اقدام پر تعلیمی پروگرام کا حصہ بھی بننا پڑے گا۔

آئی سی سی کی موجودہ پابندی کے باعث سرفراز احمد اگلے 2 ایک روزہ میچ اور ٹی 20 سیریز کے پہلے 2 میچوں میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔

یاد رہے کہ سرفراز احمد نے جنوبی افریقہ کے خلاف ایک روزہ سیریز کے دوسرے میچ میں متوقع شکست کو دیکھتے ہوئے غصے کے عالم میں جنوبی افریقہ کے آل راؤنڈر ایندائل فلکوایو پر ‘نسل پرستانہ’ جملے کہے تھے جس کو براہ راست سنا گیا تھا۔

سرفراز نے میچ کی دوسری اننگز کے دوران ایندائل فلکوایو کو پکارتے ہوئے کہا تھا کہ ’ابے کالے، تیری امی کہاں بیٹھی ہوئی ہیں آج، کیا پڑھوا کے آیا ہے تو‘۔

قومی ٹیم کے کپتان کی یہ ویڈیو میچ کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی اور انہیں پاکستانی شائقین کے ساتھ ساتھ سابق کرکٹرز نے بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔

جس کے بعد سرفراز احمد نے اپنے الفاظ پر معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مقصد کسی کو نشانہ بنانا نہیں تھا جبکہ پی سی بی نے بھی ٹیم کے کپتان کی جانب سے نسل پرستانہ جملے کسنے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

بعد ازاں جنوبی افریقی ٹیم کے کپتان فاف ڈیو پلیسی نے قومی ٹیم کے کپتان کی معذرت قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی ٹیم نے نسل پرستانہ جملے کسنے والے سرفراز احمد کو معاف کردیا ہے۔

سیریز کے تیسرے میچ سے قبل سرفراز احمد نے ایندائل فلکوایو سے ذاتی حیثیت میں ملاقات کر کے معذرت کی تھی اور اس موقع پر دونوں ٹیموں کے منیجرز بھی موجود تھے۔

بعد ازاں آئی سی سی میچ ریفری رنجن مدوگالے نے معاملے کی رپورٹ کھیل کی عالمی گورننگ باڈی کو بھجوا دی تھی۔

آئی سی سی کے فیصلے پر پی سی بی مایوس

پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے آئی سی سی کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں لگتا تھا کہ سرفراز کی معذرت کے بعد دونوں کھلاڑیوں اور کرکٹ بورڈز کے درمیان مسئلہ خوشگوار انداز میں حل ہو گیا تھا کیونکہ جنوبی افریقی ٹیم اور بورڈ دونوں نے ہی سرفراز احمد کی معافی کو قبول کر لیا تھا۔

پی سی بی کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ہم اس معاملے کو آئی سی سی کے فورم پر اٹھائیں گے تاکہ ضابطہ اخلاق میں اصلاحات لائی جا سکیں سزاؤں کے بجائے خوشگوار انداز میں مسئلے کو حل کرنے کو فروغ دیا جا سکے۔

تاہم پی سی بی نے اپنے بیان میں ا بات کو باور کرایا کہ نسلی تعصب پر مبنی رویے کے حوالے سے بورڈ نے عدم برداشت کی پالیسی برقرار رکھی ہوئی ہے۔

سرفراز کے حوالے سے بورڈ نے واضح کیا کہ 4 میچوں کی پابندی کے بعد سرفراز احمد اب ٹی20 سیریز میں شرکت کیے بغیر وطن واپس لوٹ آئیں گے اور بقیہ میچوں میں شعیب ملک قومی ٹیم کی قیادت کریں گے جبکہ محمد رضوان کو ٹی20 اسکواڈ میں شامل کر لیا گیا ہے۔

رمیز راجا نے سرفراز کے نسل پرستانہ جملے کا ترجمہ نہ کرنے کی وجہ بتادی

سابق ٹیسٹ کرکٹر اور کمینٹیٹر رمیز راجا نے قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کے نسل پرستانہ جملے کا انگریزی میں ترجمہ نہ کرنے کی وجہ بتادی۔

قومی کپتان سرفراز احمد نے جنوبی افریقا کے خلاف دوسرے ایک روزہ میچ میں جنوبی افریقین کھلاڑی اینڈائل فیلوکایو پر اردو میں نسل پرستانہ جملہ ’’ابے کالے تیری امی کہاں بیٹھی ہوئی ہیں کیا پڑھوا کے آیا ہے آج تو‘‘ کسا تھا۔ میچ کے دوران دیگر کمینٹیٹر نے رمیز راجا سے اس جملے کا ترجمہ انگریزی میں کرنے کے لیےکہا تھا لیکن انہوں نے بات کو ٹالتے ہوئے کہا تھا کہ جملہ کافی طویل ہے۔

اب رمیز راجا نے اردو کے اس جملے کا انگریزی میں ترجمہ نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ’’کسی بھی طرح کے نسل پرستانہ جملے ناقابل قبول ہیں، کمنٹری کے دوران نسل پرستانہ فقرے یا تبصرے کا ترجمہ کرنا بالکل بھی صحیح نہیں ہے اور یہ بہت ہی غیر مہذبانہ طریقہ ہوگا، یہ اچھی بات ہے کہ سرفراز نے اپنے کیے پر معافی مانگ لی ہے۔

سابق پاکستانی کرکٹر نے کہا کہ وہ کمنٹری کے دوران اردو میں کہے گئے مزاحیہ جملوں کا انگریزی میں ترجمہ کرتے ہیں لیکن اب انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مستقبل میں کسی بھی جملے کا انگریزی میں ترجمہ نہیں کریں گےاورانگریزی میں ہی کمنٹری کریں گے۔‘‘

واضح رہے کہ کپتان سرفراز احمد نے اپنے جملے پر معافی بھی مانگی تھی اور جنوبی افریقین کھلاڑی نے انہیں معاف بھی کردیا تھا تاہم  آئی سی سی نے ان پر چار میچوں کی پابندی لگادی۔

جنوبی افریقا کےخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے 15 رکنی قومی ٹیم کا اعلان

لاہور: جنوبی افریقا کےخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے پندرہ رکنی قومی ٹیم کا اعلان کردیاگیاہے۔

سلیکشن کمیٹی کی طرف سے ٹیم انتظامیہ کی مشاورت کے بعد  بورڈ سربراہ احسان مانی  کی منظوری کے بعد ٹیم کا اعلان کیا گیاہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں شامل وقاص مقصود کو ڈراپ کردیاگیاہے، جب کہ فاسٹ بولر محمد عامر کی واپسی ہوئی ہے ۔

کھلاڑیوں میں کپتان سرفراز احمد ، بابر اعظم، فخر زمان، صاحب زادہ فرحان، شاداب خان، آصف علی، حسن علی ، فہیم اشرف، عثمان شنواری، حسین طلعت، شعیب ملک، محمد حفیظ ،شاہین آفریدی ،عماد وسیم، اور محمد عامر جگہ پانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔  قومی ٹیم کے  جنوبی افریقہ ٹور کے آخری مرحلےمیں  دونوں ٹیموں کے درمیان  ٹی ٹوئنٹی میچز یکم فروری، تین اور چھ فروری کو ہوں گے۔

پی ایس ایل 2019ء کن نئی منزلوں کا پتہ دے رہی ہے؟

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چوتھے سیزن کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ موسم سرما کی ابتدا میں لاہور شہر کی دھند کی طرح اس لیگ پربھی خدشات کے بادل منڈلا رہے تھے لیکن پھرجلد ہی نشریاتی حقوق کی فروخت کے ساتھ سب کچھ معمول پرآگیا۔ اب شاہ جہاں کے قلعہ سے قذافی اسٹیڈیم تک ہر جگہ مطلع صاف دکھائی دیتا ہے۔

پہلے تین برسوں میں حیرت انگیز کامیابیاں سمیٹنے والی پی ایس ایل کو چوتھے دور میں داخل ہونے کےلئے کئی مختلف چیلنچز درپیش تھے۔ 2019ء ورلڈ کپ کا سال ہے اور ہرطرف بین الاقوامی مقابلوں کی بھرمار ہے۔ دنیا کی دیگر تمام ٹیموں کی باہمی مصروفیت کے باعث پی ایس ایل ڈرافٹنگ میں غیرملکی کرکٹرز کی دستیابی اور کھوج سب سے مشکل کام تھا۔

لیگ کے بانی نجم سیٹھی کے منظر سے ہٹنے کے بعد نئے نشریاتی اور اشتہاری معاہدوں کے علاوہ ٹورنامنٹ کا پہلی بار پانچ مختلف مقامات پر انعقاد وغیرہ یہ سب مراحل طے ہونا باقی تھے۔

پاکستان سپر لیگ 2019ء کا ایک اور دلسچپ پہلو بولی میں ملتان سلطانز کا آئی پی ایل ٹیم راجھستان رائلز کی برابری کرنا ہے۔

پی ایس ایل اور’ٹوئنٹی ٹوئنٹی’ نجم سیٹھی کی ہمیشہ سے پہلی ترجیح رہی۔ پی سی بی کے موجودہ چیئرمین احسان مانی اپنے پیش رو کے برعکس ٹیسٹ کرکٹ کے پاسبانوں میں شمار کیے جاتے ہیں لیکن وہ کبھی افتاد طبع کے اسیر نہیں ہوئے۔ پی ایس ایل کی تجارتی اہمیت کو سجھتے ہوئے ہی مانی نے اس منصوبے کومزید وسعت دینے کی جا ٹھانی۔

‘نئے پاکستان’ میں پی ایس ایل کتنی مختلف ہوگی۔

تو پھر سب سے خوش کن پہلو پہلی بار آٹھ میچوں کا اپنے وطن میں انعقاد ہے۔ دس مارچ 2019ء کے روز پاکستان سپر لیگ ایک نیا سنگ میل عبور کرے گی۔ آئی پی ایل کی طرز پر کراچی اور لاہور میں ایک ہی دن میں میچ کھیلے جائیں گے۔ تزئین وآرائش کے بعد نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں سہہ پہر کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرزاور کراچی کنگز کا مقابلہ ہوگا۔ اسی شام اپنے ہوم گراونڈ قذافی اسٹیڈیم پر لاہور قلندرز کی ٹیم ملتان سلطانز کے روبرو ہوگی۔

ایک دن میں دو میچز کے انعقاد سے براڈ کاسٹنگ کے دو الگ الگ ‘کرو’ ایک ہزار کلومیٹر دور پاکستان کے دو بڑے شہروں میں کام کررہے ہوں گے۔ ماضی میں اتنے بڑے پیمانےپر یہ کام یہاں کبھی نہیں ہوا۔ اس سے جہاں پی سی بی کی انتظامی کارگزاری بڑھے گی وہیں پاکستانی حفاظتی انتظامات کی استعداد اور اس پر عالمی ایتھلیٹس کے اعتماد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

پی ایس ایل سیکریٹریٹ کے غیر ملکی کرکٹر سے پیشہ ورانہ برتاؤ اور بروقت ادائیگیوں کے نتیجے میں ہی پاکستانی لیگ کی سمندر پاراچھی ساکھ قائم ہوئی ہے۔

بعض فرنچائز مالکان کو اس بات پراعتراض تھا کہ ایک دن میں دو مقامات پر ‘ڈبل ہیڈر’ کے انعقاد سے نشریاتی اخراجات دوگنا ہو جائیں گے لیکن جب یہ بات سمجھ آئی کہ لاہور اور کراچی میں الگ الگ مقابلے ہونے سے ٹکٹوں کی آمدن بھی تو دوگنا ہوگی جو نشریاتی اخراجات سے کہیں زیادہ ہوگی تو سب کی تسلی ہوگئی۔

پی ایس ایل میں ایک اور نیا رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ تمام ٹیموں نے اس بار ایسے غیرملکی کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جنہیں پاکستان آکر کھیلنے پراعتراض نہ تھا۔ آسٹریلیا کے سبکدوش کپتان اسٹیو سمتھ نے ناک بھوں ضرورچڑھائی تھی لیکن پہلے گیند سے چھیڑ چھاڑ اور پھراب کہنی کی چوٹ نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ سنا ہے کہ ویسٹ انڈین ڈوائن براوو، انگلینڈ کے ای این بیل اور نیوزی لینڈ کے لیوک رونکی سمیت سب نے پاکستانی ویزے کیلئے اپنے پاسپورٹ پیش کردیے ہیں۔

2019ء ایڈیشن کی سب سے اچھی خبر لاہور قلندرز کے ہاں سے سننے کو ملی کہ ٹونٹی ٹونٹی کے فتنہ دہر کھلاڑی  اے بی ڈویلیئرز بھی پاکستان آکر کھیلنے پر رضامند ہیں۔ لاہور کے موسم بہار کی نوچندی شام جب ویوین رچرڈز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور ابراہم ڈویلیرز لاہور قلندرز کے خیموں میں موجود ہوں گے تو وہ پی ایس ایل کے قابل دید لمحات میں سے ایک ہوگا۔

اے بی ڈویلیرز کو لاہور آکر کھیلنے پہ قائل کرنے میں لاہورقلندرز فرنچائز کے ہر دلعزیز مالک فواد رانا اور پی ایس ایل ‘پلئیرزایکوزیشن ایند مینجمنٹ’ کے نوجوان سربراہ عمران احمد خان نے اپنا کردار خوش اسلوبی سے ادا کیا۔ پی ایس ایل سیکریٹریٹ کے غیر ملکی کرکٹر سے پیشہ ورانہ برتاؤ اور بروقت ادائیگیوں کے نتیجے میں ہی پاکستانی لیگ کی سمندر پاراچھی ساکھ قائم ہوئی ہے۔

لیگ کے نشریاتی حقوق تین گنا سے زائد قیمت (مبینہ طور پر) 36 ملین ڈالرز کےعوض بک چکے ہیں۔ صرف ریڈیو کمنٹری کے حقوق 4 لاکھ امریکی ڈالرز میں ہاتھوں ہاتھ بکے۔

پاکستان سپر لیگ 2019ء کا ایک اور دلسچپ پہلو بولی میں ملتان سلطانز کا آئی پی ایل ٹیم راجھستان رائلز کی برابری کرنا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ ملتان سلطانز کے نئے مالک علی ترین اینڈ کمپنی نے فرنچائز کو 6ملین امریکی ڈالرز سے زائد رقم کےعوض خریدا ہے اور یہ بولی آئی پی ایل کے پہلے سیزن کی چمپئن ٹیم راجستھان رائلز کی قیمت خرید کے برابرہے۔ اس سے پی ایس ایل کے پرامید مستقبل اور آنے والے برسوں میں برینڈ کی بڑھتی قدر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آج علامتی طور پر ہی سہی لیکن پی ایس ایل کا بڑی اسپورٹس لیگز سے کوئی بھی موازنہ معمولی بات نہیں۔ یاد رہنا چاہیے کہ آئی پی ایل امریکا کی باسکٹ بال لیگ (این بی اے) کے بعد اجرتوں کے ضمن میں دنیا کی دوسری بڑی اسپورٹس لیگ بن چکی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کے اگلے تین برس کے ٹائٹل اسپانسرشپ حقوق حبیب بینک لمیٹڈ کو ماضی سے تین گنا زائد قمیت پر چودہ اعشاریہ تین ملین ڈالرز میں پہلے ہی فروخت کر دیے تھے۔ لیگ کے نشریاتی حقوق تین گنا سے زائد قیمت (مبینہ طور پر) 36 ملین ڈالرز کےعوض بک چکے ہیں۔ صرف ریڈیو کمنٹری کے حقوق 4 لاکھ امریکی ڈالرز میں ہاتھوں ہاتھ بکے۔ آج تک آئی سی سی ورلڈ کپ جیسے عالمی ایونٹس میں بھی ریڈیو کمنڑی کی اتنی بڑی بولی پاکستان میں نہیں لگ سکی۔ گیٹ منی اور ٹائٹل اسپنانسرشپ کی آمدن پی سی بی اور فرنچائزز میں مساوی تقسیم ہوتی ہے اور باقی آمدن میں بورڈ فرنچائزز کو 75 فیصد دینے کا پابند ہے۔

 ڈی ویلئرز کی بیٹنگ اور محمد حفیظ کی کپتانی میں لاہور قلندرز اس بارآسانی سے ہتھیار نہیں ڈالے گی۔

پی ایس ایل میں روپے کی اسی ریل پیل کے بعد اب یہ بات طے ہے کہ آئندہ سیزن کے اختتام پر کم از کم دو فرنچائزز اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز منافع میں آجائیں گی اوردیگرمیں دو کا خسارہ ختم ہوسکتا ہے۔ یہ پاکستانی کھیل کی 71 سالہ تاریخ میں میں بہت بڑی پیش رفت ہوگی۔

امسال میدان پر بھی کافی کچھ مختلف ہوگا۔ دو بار کے چمپئن کپتان مصباح الحق مارگلہ سے راہیں جدا ہونے کے بعد جرنیلی سڑک کے زیرو پوائنٹ جا پہنچے ہیں۔ دفاعی چمپئن اسلام آباد نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ایک مضبوط سکواڈ تیار کیا ہے جس میں رضوان حسین اور موسی خان پر تول رہے ہیں۔ لیکن یونائیٹڈ کی کپتانی لیوک رونکی یا شاداب خان کے ساتھ سب دیکھنے والوں کےلئے بھی دلچسپ تجربہ ہوگی۔

لاہور قلندرز کی ٹیم ناصرف مضبوط اور متوازن لگ رہی ہے بلکہ اسے پہلی بار ہوم گراونڈ اور ہوم کراوڈ کے سامنے نئے کپتان کے ساتھ اترنے کا موقع ہے۔ ڈی ویلئرز کی بیٹنگ اور محمد حفیظ کی کپتانی میں یہ ٹیم اس بارآسانی سے ہتھیارنہیں ڈالے گی۔

اسٹیو سمتھ اورجو ڈینلی کا دستبردار ہونا ملتان سلطانز کےلئے کسی دھچکے سے کم نہیں لیکن شاہد آفریدی اورشعیب ملک جو پہلی بار پاکستان سپرلیگ میں ایک ٹیم میں کھیلیں گے دونوں کی موجودگی میں یہ ایک خطرناک ٹیم لگتی ہے۔ اگلے ہفتے لیگ کا متبادل ڈرافٹ ہوگا جس میں 21 ویں کھلاڑی کے ساتھ اسٹیو اور ڈینلی کی جگہ نئے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جائے گا۔

دراصل پی ایس ایل 2019ء نئے کھلاڑیوں کا ہی نہیں کچھ نئی منزلوں کا بھی پتہ دے رہی ہے۔8

امام الحق کا سنچری بنانے کے بعد “اب چپ ہوجاؤ” اندازسوشل میڈیا پرمقبول

لاہور:

جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے ون ڈے میں امام الحق کا سنچری بنانے کے بعد” اب چپ ہوجاؤ ” انداز سوشل میڈیا پر مقبول ہوگیا ہے۔ہیش ٹیگ امام الحق پر ان کے ون ڈے کرکٹ میں کم ترین میچز میں ہزاررنز کے اعزازپربات بہت کم جبکہ ان کے انداز کو زیادہ ڈسکس کیا جارہا ہے۔ امام کے حامیوں کے ساتھ مخالفین بھی بڑھ چڑھ کر اس مہم میں شریک ہیں۔ امام کے ایک فین کا کہنا ہے کہ
” امام الحق ہے اسکا نام۔ جب تک ہم انضمام کا بھتیجا کہہ کر پکاریں گے تو ایسا ہی جواب ملے گا۔ ویلڈن امام قابلیت اور اہلیت کے بغیر اُنّیس اننگز میں 1000 رنز نہیں بنتے، جنوبی افریقہ میں 100 نہیں ہوتا، چار 50اور پانچ 100نہیں بنتے تنقید اس لیے نا کی جائے کہ انضمام کا بھتیجا ہے”

ایک صارف نے اپنی رائے میں جہاں امام الحق کو مبارک باد دی ہے وہاں وہ ہمیشہ کی طرح تنقید کرنے سے بھی باز نہیں آئے۔
موصوف لکھتے ہیں”ون ڈے کرکٹ میں پانچویں سنچری بنانے پر امام الحق کا جواب! مجھ پر تنقید کرنے والے میڈیا والے اب خاموش ہو جائیں، انضمام الحق کے بھتیجے کے لئے صرف اتنا ہی جواب ہے، سفارش کی جگہ قابلیت اور اہلیت پر قومی ٹیم میں آتے، تو آج یہ تصویر نہ کھنچوانا پڑتی۔ خیر سنچری پر مبارک باد

116 گیندوں پر ایک سو ایک رنز بنانے والے امام الحق کے بارے میں اس طرح کی رائے بھی سامنے آرہی ہے کہ وہ اپنے لیے کھیلے، ٹیم کے لیے کھیلتے تو کم بالز پر زیادہ رنز ہوتے۔ ایک صاحب کی رائے ہے کہ امام نے سنچری تو ضرور بنالی لیکن اس کے بعد جلد وکٹ گنوائی، اور وکٹ پر قیام کرتے تو زیادہ بہتر تھا۔ایک مداح کے مطابق بھائی شکریہ سنچری کا، وہ جو پرچی کہتے تھے، اب وہ خود پرچی ہوگئے ہیں۔

” اب چپ ہوجاؤ” اسٹائل پر تعریف اور تنقید کا یہ سلسلہ لگتا ہے کہ اب ختم نہیں ہوگا، جب جب امام الحق بیٹنگ کرنے آئیں گے، تب تب ” اب چپ ہوجاؤ ” انداز بھی لوگوں کو یاد آئے گا، وہ رنز کریں گے تو مخالفین کم اور مداح زیادہ بات کرتے نظر آئیں گے، اگر وہ جلد آوٹ ہوتے ہیں تو مخالفین انہیں اسی انداز میں مخاطب کرکے کہیں گے کہ ” اب چپ ہوجاؤ “۔

سرفراز احمد نے نسل پرستانہ جملے پر جنوبی افریقین کھلاڑی سے معافی مانگ لی

قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے نسل پرستانہ جملہ کہنے پر 

جنوبی افریقین آل راؤنڈر اینڈائل فیلکوایو سے معافی مانگ لی۔پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے جنوبی افریقین بلے باز اینڈائل فیلکوایو سے معافی مانگ لی، ٹیم مینجر طلعت علی بھی سرفراز احمد کے ہمراہ دکھائی دیے۔

سرفراز احمد نے سوشل میڈیا پر اپنی ٹویٹ کے ساتھ تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ اینڈائل فیلکوایو نے میری بات سنی اور موقف کو تسلیم کرتے ہوئے مجھے معاف کردیا، سرفراز احمد نے جنوبی افریقین عوام سے بھی معافی مانگی ہے اور اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ عوام بھی میری معافی قبول کرے گی۔

Google Analytics Alternative