کھیل

حسن رضا نے فکسنگ اسکینڈل کو اپنے خلاف سازش قرار دے دیا

لاہور: سابق پاکستانی کرکٹر حسن رضا نے فکسنگ اسکینڈل کو اپنے خلاف سازش قرار دے دیا۔

اپنے ایک بیان میں  حسن رضاکا کہنا ہے کہ مجھے اس معاملے میں پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے، انہوں نے مجھے یہ کہہ کر بلایا تھا کہ پلیئرز کی خدمات حاصل کرنے کے لیے انہیں میری مدد درکار ہے۔ میں نے تو کھلاڑیوں کو یہ بتایا تھا کہ وہ اس معاملے میں نہ الجھیں، یہ میرے خلاف ایک سازش ہے۔

واضح رہے کہ عرب ٹی وی کےرپورٹر نے فکسنگ اسٹنگ آپریشن کے ذریعے سری لنکا میں کرکٹ میچ فکسنگ کی نئی سازش بے نقاب کی ہے۔ رپورٹر نے سابق بھارتی کرکٹر رابن مورس اور گال اسٹیڈیم کے اسسٹنٹ مینجر تھرانگا اندیکا سے ہونےو الی گفتگو کو خفیہ کیمروں کے ذریعے ریکارڈ کیا جب کہ ان کے ساتھ پاکستان کے کم عمر ترین ٹیسٹ کرکٹر کا اعزاز پانے والے حسن رضا بھی موجود ہیں۔

حسن رضا اگرچہ گفتگو میں شریک نہیں ہوتے تاہم رابن مورس نے مجوزہ پلان کے دوران مثال دیتے ہوئے حسن رضا کا نام لیا۔

باکسر عامر خان ایک اور اسکینڈل کاشکار ہوگئے

لندن: پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان ایک اوراسکینڈل کا شکار ہوگئےصوفیہ ہامانی نامی خاتون نے الزام لگایا ہے کہ عامر خان نے شادی شدہ ہوتے ہوئے بھی ان کے ساتھ تعلقات قائم کیے۔

پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان  کی زندگی سے مشکلات ختم ہونے کانام ہی نہیں لے رہی ہیں، گزشتہ برس اہلیہ فریال مخدوم سے علیحدگی کے اسکینڈل سے عامر خان ابھی باہر نکلے ہی تھےکہ ایک اور اسکینڈل کا شکار ہوگئے۔ لندن سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ بیوٹیشن صوفیہ ہامانی نے عامر خان پرالزام لگاتے ہوئے کہاہے کہ عامر خان نے اپنی بیٹی کی پیدائش کے محض 17 روز بعد ان کے ساتھ تعلقات قائم کیے۔

صوفیہ کا کہنا ہے کہ وہ عامر خان سےرواں ماہ کی ابتدامیں لندن کلب میں ملی تھیں جہاں سے وہ دونوں ہوٹل میں چلے گئے تھے، بعد ازاں عامر نے انہیں 20 یورو کی رقم دے گھر بھیج دیا حالانکہ یہ جگہ لندن سے 8 میل کی دوری پر واقع تھی اور وہاں سے کرایہ 50 یورو بنتاتھا۔ تاہم اپنے فلیٹ واپس جانے کے تھوڑی دیر بعد صوفیہ پر انکشاف ہواکہ عامر خان کا تعلق اسپورٹس کی فیلڈ سے ہے اور وہ نہ صرف شادی شدہ ہیں بلکہ حال ہی میں دوسرے بچے کے والد بھی بنے ہیں۔ صوفیہ کا کہنا ہے کہ انہیں عامر خان کے انسٹاگرام سے ان کی شادی سے متعلق علم ہوا، انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا عامر شادی شادہ ہیں۔ صوفیہ کا کہنا ہے کہ عامر بالکل بھی یقین کے قابل نہیں ہیں۔

صوفیہ نے عامر خان کی اہلیہ فریال  مخدوم کے لیے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب اس کے لیے ایک برا خواب ہے اسے چاہئیے کہ وہ عامر کو چھوڑدے۔

واضح رہے کہ صوفیہ ہامانی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے جواب میں فی الحال عامر خان کاکوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

لارڈز ٹیسٹ؛ تیسرے دن کے اختتام پر انگلینڈ کو 56 رنز کی برتری حاصل

 لندن: لارڈز ٹیسٹ میں انگلش  بلے باز جوس بٹلر اور ڈومینک بیس نے انگلینڈ کو اننگز کی شکست سے بچالیا۔

لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کے 179 رنز کی برتری کے جواب میں انگلینڈ کی بیٹنگ دوسری اننگز میں بھی مشکلات کا شکار رہی اور ایک موقع پر ان کے 6 ابتدائی بلے باز 110 رنز پر پویلین لوٹ گئے جس سے بظاہر یہ دکھائی دے رہا تھا کہ پاکستان نہ صرف یہ ٹیسٹ باآسانی جیت جائے گا بلکہ انگلینڈ کو اننگز کی شکست سے دوچار ہونا پڑے گا تاہم انگلش بلے باز جوس بٹلر اور ڈومینک پاکستانی بولرز کے سامنے ڈٹ گئے۔

دونوں بلے بازوں نے ساتویں وکٹ کے لیے 125 رنز کی شراکت قائم کرکے نہ صرف پاکستانی کی برتری ختم کی بلکہ اب انگلینڈ کو قومی ٹیم پر 56 رنز کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔ تیسرے دن کے اختتام پر انگلینڈ نے 6 وکٹوں کے نقصان پر 235 رنز بنالیے ہیں۔ بٹلر 66 اور ڈومینک 55  رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود ہیں۔

اس سے قبل انگلینڈ نے جب اپنی دوسری اننگز کا آغاز کیا تو پاکستان کو 179 رنز کی برتری حاصل تھی۔  قومی ٹیم کے بولرز نے ایک بار پھر شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگلش بلے بازوں کی ایک نہ چلنے دی۔ قومی ٹیم کی جانب سے محمد عباس، محمد عامر اور شاداب خان نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔

انگلینڈ کی پہلی اننگز میں 184 رنز کے جواب میں پاکستان کی ٹیم 363 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی تھی۔ قومی ٹیم نے تیسرے دن کا آغاز 350 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ سے کیا لیکن آخری دونوں بلے باز 13 رنز ہی کا اضافہ کرنے میں کامیاب ہوسکے اور پویلین لوٹ گئے۔

میزبان ٹیم کے 184 رنز کے جواب میں پاکستان کی جانب سے چار بلے بازوں نے نصف سینچریاں اسکور کیں۔ قومی ٹیم کی جانب سے بابر اعظم 68 رنز پر ریٹائرڈ ہرٹ ہوئے جب کہ اسد شفیق 59، شاداب خان 52 اور اظہر علی 50 رنز پر آؤٹ ہوئے۔

بابراعظم 68 رنز کے ساتھ سرفہرست رہے لیکن بین اسٹوک کی ایک ڈیلیوری کو روکتے ہوئے گیند ان کے ہاتھ پر جالگی جس کے باعث انہیں ریٹائرڈ ہرٹ ہونا پڑا۔ بعد ازاں ان کی انجری سنگین نوعیت کے ہونے کے باعث وہانگلیںڈ کے خلاف مکمل سیریز سے باہر ہوگئے ہیں۔

سری لنکا میں پچ فکسنگ کا انکشاف، آئی سی سی کی تحقیقات شروع

کرکٹ کی دنیا میں ایک اور فکسنگ اسکینڈل نے تہلکہ مچا دیا ہے اور سری لنکا میں کھیلے گئے دو ٹیسٹ میچوں میں دو سری لنکن اور ایک سابق بھارتی کھلاڑی کی جانب سے پچ فکسنگ کا انکشاف ہوا ہے جس کی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

الجزیرہ ٹی وی کی دستاویزی فلم میں سری لنکا کے گال انٹرنیشنل اسٹیڈیم کے کیوریٹر کو مبینہ طور پر میچ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث دکھایا گیا ہے جہاں سری لنکا اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے اس میچ میں مہمان آسٹریلین ٹیم صرف 3 دن میں میچ ہار گئی تھی۔

یہ دستاویزی فلم اتوار کی صبح مکمل طور پر نشر کی جائے گی جس کی کچھ جھلکیاں ابھی سامنے آئی ہیں اور اس میں دکھایا گیا ہے کہ گال اسٹیڈیم کے اسسٹنٹ منیجر اور کیوریٹر تھارنگا اندیکا یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسی وکٹ تیار کریں گے جو ان کی مرضی کے نتائج دے سکے۔

دستاویزی فلم میں انکشاف کیا گیا کہ سری لنکا اور انڈیا کے درمیان 2017 میں گال میں کھیلے گئے میچ میں جانب بوجھ کر بلے بازوں کے لیے موزوں وکٹ تیار کی گئی جبکہ اس میں روبن مورس اور تھرندو مینڈس نامی میچ فکسرز کو بھی سامنے لایا گیا ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نومبر میں اسی مقام پر ہونے والے اگلے میچ میں انگلینڈ کو ہدف بنایا جائے گا۔

دی آسٹریلین نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ 2016 میں گال کے مقام پر آسٹریلیا اور سری لنکا کے درمیان کھیلے گئے میچ کی پچ کی ساخت کو جان بوجھ کر تبدیل کیا گیا۔

اس میچ میں آسٹریلیا پہلی اننگز میں 106 اور دوسری میں 183 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی اور اسے میچ میں 229 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ اس کے 18 کھلاڑی اسپن باؤلنگ کا نشانہ بنے تھے اور مہمان ٹیم دونوں اننگز میں مجموعی طور پر 85 اوورز بھی بیٹنگ نہیں کر سکی تھی۔

الجزیرہ نے تحقیقات کے لیے خفیہ کیمروں کا استعمال کیا اور یہ انکشاف کیا کہ میچ فکسر مورس نے گراؤنڈ مین اندیکا کو غیرقانونی طور پر اپنی مرضی کی وکٹ تیار کرنے کے لیے مبینہ طور پر 37ہزار ڈالر دیے۔

دستاویزی فلم میں بھارت اور سری لنکا کے درمیان 2017 میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کی بھی تفصیلات بیان کی گئیں کہ کس طرح بیٹنگ کے لیے سازگار وکٹ تیار کی گئی جس کے بعد مذکورہ شخص نے پہلی اننگز میں بڑے اسکور پر رقم لگائی اور جیتنے میں کامیاب رہا کیونکہ بھارت نے اس میچ کی پہلی اننگز میں 600 رنز بنائے تھے۔

41سالہ رابن مورس بھارت کے لیے 42 فرسٹ کلاس میچ کھیل چکے ہیں اور ان کے خلاف اس سے قبل بھی میچ فکسنگ کے چند اسکینڈل سامنے آئے لیکن ثبوت نہ ہونے کے سبب ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔

ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اندیکا اور مورس نے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کیا ہے جبکہ مینڈس نے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔

دوسری جانب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے سری لنکن گراؤنڈ مین کے مبینہ طور پر وکٹ تبدیل کرنے کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

آئی سی سی نے کہا کہ الجزیرہ کی دستاویزی فلم میں لگائے گئے الزامات بہت سنگین ہیں اور انہوں نے صحافتی ادارے سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں تمام تر ثبوت تفتیشی اداروں کے سپرد کریں۔

کرکٹ کی عالمی گورننگ باڈی نے کہا کہ ہم نے اینٹی کریونٹ کے حکام کے ساتھ مل کر اس معاملے کی تفتیش شروع کردی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گال کے سابق کیوریٹر جیانندا ورناویرا کو آئی سی سی کی جانب سے 3سال کی پابندی کا سامنا ہے جو جنوری 2019 میں ختم ہو گی جہاں ان پر الزام ہے تھا کہ انہوں نے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ سے تعاون نہیں کیا۔

اسپاٹ فکسنگ کیس، سلمان نصیر نے ناصر جمشید کیخلاف گواہی دے دی

لاہور: پی سی بی اینٹی کرپشن ٹریبیونل میں سلمان نصیر کی گواہی سے ناصر جمشید کیخلاف کیس مضبوط ہوگیا ہے۔

پی سی بی اینٹی کرپشن ٹریبیونل میں ناصرجمشید کیخلاف اسپاٹ فکسنگ کیس کی سماعت ہوئی اور پی سی بی کی جانب سے وکیل سلمان نصیر بطور گواہ پیش ہوئے۔

پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی سی بی کی جانب سے گواہان پیش کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، سلمان نصیر کی گواہی سے ناصر جمشید کیخلاف کیس مضبوط ہوگیا ہے۔

اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ کرنل (ر) اعظم اگلی سماعت پر ہمارے اگلے گواہ کے طور پر پیش ہوں گے، ناصر جمشید کے وکیل حسن وڑائچ نے کہا کہ پی سی بی کے خلاف ناصر جمشید کے خلاف کوئی ثبوت نہیں، کرکٹ بورڈ اوپنر پر تاحیات پابندی لگوانا چاہتا ہے۔

پاکستان ٹیم کو تنبیہ کے بعد ’’اسمارٹ واچز‘‘ تنازع ختم

 لندن:  آئی سی سی نے پاکستانی پلیئرز کو مستقبل میں اسمارٹ واچز نہ پہننے کی تنبیہ کرتے ہوئے معاملہ ختم کر دیا۔

چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے لارڈز میں پاکستانی صحافیوں کے ساتھ غیررسمی گفتگو میں کہا کہ ہمارے اینٹی کرپشن یونٹ کو یہ بات نہیں پتا تھی کہ دوران میچ اسمارٹ واچز پہننے پر پابندی ہے، انھوں نے آئی سی سی اے سی یو سے پوچھا وہ بھی اس حوالے سے نہیں جانتے تھے ، پھر چیک کر کے ہمیں بتایا کہ کوئی بڑی بات نہیں ہے ، بس آپ اپنے کھلاڑیوں سے کہیں کہ یہ گھڑیاں اتار دیں اور مستقبل میں ایسا نہ کریں، ہم نے پھر یہی کیا، یہ معاملہ اب حل ہو چکا ہے۔

ایک سوال پر چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ اگست میں آئرلینڈ سے نائٹ ٹیسٹ کی تجویز سامنے آئی تھی، ہم نے اس حوالے سے انھیں خط بھی تحریر کیا لیکن دونوں ٹیموں کی مصروفیات کے سبب آئندہ سال تک مزید میچز ہونا ممکن نہیں ہیں۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ رواں برس ٹی ٹین لیگ کا انعقاد ہماری ہوم سیریز کے فوری بعد ہو گا اس لیے ممکن ہے کہ ہمارے کھلاڑی دستیاب نہ ہوسکیں، ویسے بھی ہم نے سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کیلیے سخت پالیسی بنائی ہے جس کے تحت وہ سال میں 2 لیگز ہی کھیل سکتے ہیں۔

کوچ مکی آرتھر کا اس حوالے سے سخت موقف ہے، وہ جہاں سمجھیں کہ کسی پلیئر کو آرام کی ضرورت ہے تو ہم اسے لیگ میں جانے سے روک سکتے ہیں،البتہ اگر کوئی کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ میں حصہ لے اور کوچ کو اعتراض نہ ہو تو کمیٹی سے اجازت لے کر مزید لیگز کھیل سکتا ہے،انھوں نے کہا کہ جون، جولائی میں شیڈول دورئہ زمبابوے کو کوئی خطرات لاحق نہیں اور ٹیم شیڈول کے مطابق وہاں جائیگی۔

لارڈز ٹیسٹ پاکستان کی گرفت میں، 166 رنز کی برتری

بلے بازوں کی شاندار بیٹنگ کی بدولت پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے 8 وکٹوں کے نقصان پر 350 رنز بنا کر 166رنز کی بڑی برتری حاصل کر لی ہے۔

لارڈز میں کھیلے جا رہے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن پاکستان نے 50 رنز ایک کھلاڑی آؤٹ سے اپنی نامکمل اننگز دوبارہ شروع کی تو حارث سہیل اور اظہر علی بیٹنگ کر رہے تھے۔

دونوں کھلاڑیوں نے عمدہ بیٹگ کا سلسلہ جاری رکھا اور دن کے پہلے گھنٹے میں کوئی وکٹ نہ گرنے دی، دونوں نے دوسری وکٹ کے لیے 75رنز کی عمدہ شراکت قائم کی اور اس پارٹنرشپ کا خاتمہ مارک وڈ نے 39رنز بنانے والے حارث کو آؤٹ کر کے کیا۔

اس کے بعد اظہر کا ساتھ دینے اسد شفیق آئے اور دونوں نے ٹیم کی سنچری مکمل کرانے کے ساتھ ساتھ 32 رنزجوڑے ہی تھے کہ اظہر نصف سنچری مکمل ہوتے ہی اینڈرسن کی گیند پر وکٹوں کے سامنے پیڈ لانے کی پاداش میں وکٹ گنوا بیٹھے۔

پھر اسد شفیق کا ساتھ دینے بابر اعظم آئے اور دونوں کھلاڑی اب تک چوتھی وکٹ کے لیے 84 رنز جوڑ کر انگلینڈ کی برتری کا خاتمہ کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی پوزیشن کو بھی مستحکم کر چکے ہیں۔

59 کے انفرادری اسکور پر سلپ میں اسد شفیق کا کیچ ڈراپ ہوا لیکن وہ اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور اگلی ہی گیند پر دوبارہ سلپ میں کیچ دے کر بین اسٹوکس کی وکٹ بن گئے جس کے ساتھ ہی 84 رنز کی شراکت کا خاتمہ بھی ہو گیا۔

کپتان سرفراز احمد ایک مرتبہ پھر جلدی میں نظر آئے اور ایک ایسے موقع پر جب ٹیم کو ان سے بڑی اننگز کی ضرورت تھی، وہ صرف 9 رنز بنانے کے بعد ایک غیرضروری شاٹ کھیل کر پویلین لوٹ گئے۔

پاکستان کو بڑا دھچکا اس وقت لگا جب 68 رنز پر بیٹنگ کرنے والے بابر اعظم بین اسٹوکس کی گیند ہاتھ پر لگنے کے سبب زخمی ہو گئے اور انہیں ریٹائرڈ ہرٹ ہو کر واپس لوٹنا پڑا۔

بابر کے میدان سے جانے کے بعد شاداب خان کا ساتھ دینے فہیم اشرف آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے انگلش فیلڈرز کی ناقص فیلڈنگ کی مدد سے 72رنز کی شراکت قائم کر کے پاکستان کی برتری کو مستحکم کیا۔

تجربہ کار جیمز اینڈرسن نے 37 رنز بنانے والے فیم اشرف کی وکٹیں بکھیر کر انگلینڈ کو اہم کامیابی دلائی جس کے بعد بین اسٹوکس نے شاداب کو میدان بدر کیا جنہوں نے آؤٹ ہونے سے قبل 52رنز کی اننگز کھیلی جبکہ حسن علی کی اننگز کا خاتمہ بھی اینڈرسن کے ہاتھوں ہوا۔

اس کے بعد محمد عباس اور محمد عامر نے دن کے اختتام تک کوئی وکٹ نہ گرنے اور جب میچ کا دوسرا دن ختم ہوا تو پاکستان نے 8 وکٹ کے نقصان پر 350 رنز بنا کر 166 رنز کی برتری حاصل کر لی تھی۔ انگلینڈ کی جانب سے جیمز اینڈرسن اور بین اسٹوکس نے 3، 3 وکٹیں حاصل کیں۔

کیوی پلیئرز کو دورۂ پاکستان پر تحفظات، فیصلہ 15 دن میں ہوگا

ویلنگٹن:  کرکٹرز ایسوسی ایشن کے چیف ہیتھ ملز کا کہنا ہے کہ سب ہی اس دورے سے انکاری نہیں، کچھ سیکیورٹی کلیئرنس پر ٹور کیلیے تیار جبکہ بعض دبئی میں ہی کھیلنے کے خواہاں ہیں، حتمی فیصلہ 15 روز کے اندر سیکیورٹی رپورٹ ملنے کے بعد کیا جائے گا۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم نے اکتوبر نومبر میں یو اے ای میں پاکستان کیساتھ تین ٹیسٹ، اتنے ہی ون ڈے اور ٹوئنٹی 20 میچز کی سیریز کھیلنی ہے، پی سی بی کی جانب سے کیوی ٹیم کو دو ٹوئنٹی 20 میچز پاکستان میں کھیلنے کی دعوت دی گئی تھی جس پر نیوزی لینڈ کرکٹ نہ صرف غور کررہا ہے بلکہ اس نے سیکیورٹی صورتحال کے جائزے کیلیے ریگ ڈکسن کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔

اب معلوم ہوا ہے کہ کیوی پلیئرز نے اس ٹور کے حوالے سے خدشات کا اظہار کردیا ہے۔ جس سے نیوزی لینڈ ٹیم کے 15 برس بعد پاکستان کے ٹور کے امکانات کم پڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ فی الحال نیوزی لینڈ کرکٹ کو سیکیورٹی رپورٹ کا انتظار ہے، 15 دن میں اس بارے میں حتمی فیصلے کا امکان ہے۔

چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ وائٹ اور کرکٹ پلیئرز ایسوسی ایشن باس ہیتھ ملز دونوں نے ہی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پلیئرز کی جانب سے اس ٹور پر خدشات کا اظہار کیا گیا ہے تاہم بورڈ نے واضح کیا ہے کہ اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کیلیے وہ کھلے ذہن سے چیزوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ملز کہتے ہیں کہ پاکستان کے دورے کے حوالے سے کھلاڑیوں کی آرا منقسم ہے، سب ہی اس ٹور کیخلاف نہیں ہیں، کچھ کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ اگر سیکیورٹی کلیئرنس ملتی ہے تو ان کو کوئی اعتراض نہیں جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ کیا ہم دبئی میں ہی نہیں رک سکتے۔ واضح رہے کہ اگر نیوزی لینڈ کی ٹیم اس ٹور پر راضی ہوئی تو وہ یکے بعد دیگر دو دن میں دو ٹوئنٹی 20 میچز کھیل کر واپس لوٹ جائیگی۔

ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اگر آدھے پلیئرز پاکستان کے ٹور سے انکار کرتے ہیں تو پھر نیوزی لینڈ اپنی کمزور ٹیم نہیں بھیجے گا۔ بیٹنگ کوچ کریگ میک ملن کا ٹور پر جانے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ وہ 2002 کی اس ٹیم میں شامل تھے، جس کے کراچی میں ہوٹل کے سامنے بم بلاسٹ ہوا تھا۔

نیوزی لینڈ کے مارک کولز اس وقت پاکستان ویمنز ٹیم کے کوچ ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ مجھے پاکستان میں قیام کے دوران سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اگر کیوی ٹیم اس ٹور پر راضی ہوتی ہے تو یہ پاکستان کرکٹ کیلیے بہت زیادہ فائدہ مند ہوگا۔

Google Analytics Alternative