کھیل

ٹیسٹ اسپنرعبدالرحمان کا انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر باد کہنے کا اعلان

لاہور: ٹیسٹ اسپنر عبدالرحمان نے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر باد کہنے کا اعلان کردیا۔

بائیں ہاتھ سے بولنگ کرنے والے آف اسپنرعبدالرحمان نے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہنے کااعلان کردیا تاہم وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنے محکمے حبیب بینک کی طرف سے بدستورکھیلتے رہیں گے۔ 2014 میں سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں عبدالرحمان  نے آخری بار قومی ٹیم کی نمائندگی کی تھی، سیالکوٹ سےتعلق رکھنے والے آف اسپنر نے 22 ٹیسٹ میچز میں 99 وکٹ اپنےنام کی ہیں، جبکہ 31 ون ڈے میچز میں ان کےشکار کی تعداد 30 رہی۔ عبدالرحمان نے8 ٹی ٹوئنٹی میچز میں 11 وکٹیں بھی اپنے نام کیں۔

ٹیسٹ اسپنرعبدالرحمان نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے فیصلے سے پی سی بی حکام کو آگاہ کیا۔ قذافی اسٹیڈیم میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا، لیکن ہر کرکٹر کو کرنا ہوتا ہے، چار سال سے ٹیم سے باہر تھا، اب واپسی کا بھی کوئی چانس نہیں لگ رہا تھا جس پر مناسب یہ ہی سمجھا کہ باقاعدہ طورپریہ اعلان کردوں۔ اب سارافوکس فرسٹ کلاس کرکٹ اور لیگ کرکٹ پر مرکوز کروں گا۔

اپنے والدین اور اہلیہ کے بعد شاہد آفریدی اور مصباح الحق کا بہت شکرگزار ہوں جنہوں نے مجھ  پر اعتماد کیا اور بھر پورسپورٹ کیا۔ پاکستان کی نمائندگی پر فخر ہے، ملک نے بہت عزت اور نام دیا۔ 2011- 12 کی سیریز میں انگلینڈ کے خلاف  ٹیسٹ میچ میں 11 گیندوں پر 5 وکٹ لینے کا ریکارڈ قائم کرنے والے عبدالرحمان نے ساتھی کرکٹرز کا بھی شکریہ ادارکیا اور کہا کہ سعید اجمل کے ساتھ بہت اچھا ساتھ رہا، جب ایک اینڈ سے وہ اور دوسرے اینڈ سے بولنگ کرتاتھا تو بہت مزہ آتا تھا۔ خواہش تھی کہ ایک ٹیسٹ اور کھیلنے کا موقع ملتا تو وکٹوں کی سنچری ضرور بنانےمیں کامیاب رہتا لیکن قسمت میں ایسا نہیں تھا۔

پاک بھارت کرکٹ دونوں ممالک کے عوام کی خواہش ہے، شگدیش شیٹھی

کراچی: آئی سی سی کے نمائندے شگدیش شیٹھی نے کہا ہے کہ پاک بھارت کرکٹ دونوں ممالک کے عوام کی خواہش ہے۔

کراچی میں نمائندہ سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے آئی سی سی کے نمائندے شگدیش شیٹھی نے کہا ہے کہ عالمی کپ ٹرافی کے ہمراہ پاکستان ٹور بہت دلچسپ رہا، شائقین کرکٹ کی کھیل سے والہانہ رغبت اور لگائوقابل رشک ہے، کھیل محبتوں کوبڑھاتے اور فاصلوں کوکم کرتے ہیں۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ کھیل محبتوں کو پروان دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ، پاک بھارت کرکٹ کا انعقاد دونوں ممالک کے عوام کی خواہش ہے۔

دبئی ٹیسٹ ، پاکستان کے دوسری اننگز میں 3 وکٹوں پر 45 رنز

دبئی ٹیسٹ میں تیسرے دن کھیل کر اختتام پر پاکستان نے اپنی دوسری اننگز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر45 رنز بنا لیے جب کہ قومی ٹیم کو مجموعی طور پر 325 رنز کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے خلاف آسٹریلیا کی ٹیم پہلی اننگز میں 202 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی تاہم قومی ٹیم نے آسٹریلیا کو فالوآن نہ کرواکر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

تیسرے دن آسٹریلیا نے اننگز کا آغاز کیا تو اوپنرز نے 142 رنز کی شراکت قائم کی۔عثمان خواجہ اور ایرون فنچ نے نصف سنچریاں مکمل کیں تاہم ایرون فنچ 62 اور عثمان خواجہ 85 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔

آسٹریلیا کی جانب سے ون ڈاؤن آنے والے شان مارچ نے صرف 7 رنز بنائے جب کہ ٹراوس ہیڈ بغیر کوئی رن بنائے پویلین واپس لوٹ گئے، اوپنرز کے بعد آسٹریلیا کا کوئی بھی کھلاڑی زیادہ دیر تک وکٹ پر کھڑا نہ رہ سکا، آسٹریلیا کے 4 کھلاڑی صفر پر آؤٹ ہوئے۔

پاکستان کی جانب سے بلال آصف نے 6 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی جب کہ محمد عباس نے 4 وکٹیں حاصل کی۔

قومی کپتان سرفراز احمد نےآسٹریلیا کو فالوآن نہ کرواکر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو پہلی اننگز میں 200سے زائد رنز کی ریکارڈ شراکت داری قائم کرنے والے اوپنرز ناکام ہوگئے، پاکستان کی ابتدائی 3 کھلاڑی صرف 45 کے مجموعے پر پویلین لوٹے۔

محمدحفیظ 17،بلال آصف صفر اور اظہر علی 4 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، امام الحق 23 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

دوسرا دن؛

ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن قومی ٹیم نے کھیل کا آغاز 3 وکٹوں کے نقصان پر 255 رنز سے کیا تو صرف 5 رنز کے اضافے سے محمد عباس آؤٹ ہوگئے۔ حارث سہیل اور اسد شفیق کے درمیان 150 رنز کی شراکت قائم ہوئی تاہم اسد شفیق 80 رنز بناکر پویلین واپس لوٹ گئے۔

بابر اعظم  4 رنز بناکر رن آؤٹ ہوئے جب کہ حارث سہیل نے سنچری اسکور کی اور 110 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ کپتان سرفراز احمد 15 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے ، بلال آصف 12 اور یاسر شاہ 3 رنزبناسکے۔

آسٹریلیا کی جانب سے پیٹرسڈل نے 3، نیتھن لیون نے 2 جب کہ جون ہولاند، مارنس لیبسچگنی اور مچل اسٹارک نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

پہلا دن؛

ٹیسٹ میچ کے پہلے دن قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ تو پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز محمد حفیظ اور امام الحق نے انتہائی پراعتماد انداز میں کیا اور دونوں اوپنرز نے 205 رنز کی شراکت قائم کی جس کے بعد  امام الحق 76 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔

محمد حفیظ نے شاندار کھیل پیش کیا اور سنچری مکمل کی تاہم وہ 126 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے، تیسرے آؤٹ ہونے والے بیٹسمین اظہر علی تھے جو 18 رنز پر ہالینڈ کی گیند پر اسٹارک کو کیچ تھما بیٹھے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں دونوں ٹیموں کے درمیان آخری ٹیسٹ میچ 2014 میں کھیلا گیا تھا جس میں قومی ٹیم نے آسٹریلیا کو 221 رنز سے شکست دی تھی۔

بیچ ریسلنگ ورلڈ چیمپئن محمد انعام بٹ کا وطن واپسی پر ’ٹھنڈا‘ استقبال

اسلام آباد: بیچ ریسلنگ ورلڈ چیمپئن محمد انعام بٹ وطن واپس پہنچ گئے تاہم ایئر پورٹ پر قومی ہیرو کے استقبال کیلئے  کوئی حکومتی عہدیدار یا کھیلوں کی بڑی شخصیت موجود نہیں تھی، قومی ہیرو کا استقبال ان کے قریبی دوستوں نے کیا۔

اسلام آباد ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عالمی چیمپئن محمد انعام کا کہنا تھا کہ اپنی اس بڑی کامیابی پر اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے، عالمی ایونٹ میں دنیا کے 5 کھلاڑی بھی اپنے ٹائٹل کے دفاع کیلئے آئے تھے تاہم قوم کی دعاؤں اور سخت محنت کی وجہ سے اپنے عالمی ٹائٹل کا دفاع کرنے میں کامیاب رہا۔

پہلی بار عالمی ایونٹ میں شرکت کیلئے گیا تو ہمیں ایسے سمجھا گیا کہ جیسے کوئی بہت بڑے دہشت گرد آ گئے ہیں لیکن جب ہم نے ان کے ساتھ وقت گزارا نماز بھی پڑھی تو ان کی پاکستان کے بارے میں رائے بالکل تبدیل ہوگئی، وہ غیر ملکی جو ہمیں عجیب سی نظروں سے دیکھ رہے تھے وہی پاکستان کے گن گا رہے تھے اور میرے ساتھ سیلفیاں بنوا رہے تھے۔

محمد انعام نے کہا کہ وہ اپنی جیت کا سہرا اپنے والد کو دیتے ہیں، پاکستان ریسلنگ  فیڈریشن کا شکریہ جنہوں نے اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے بھی ہمیں باہر بجھوایا۔ حکومت بھرپوراندازمیں سپورٹ کرے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے مزید ٹائٹل پاکستان کو جتوا کر ملک کا نام روشن کر سکتا ہوں۔

پاکستان ہاکی ٹیم کی کپتانی کی دوڑ میں عمران بٹ کا پلڑہ بھاری

لاہور: پاکستان ہاکی ٹیم کی کپتانی کی دوڑ میں عمران بٹ کا پلڑہ بھاری ہے جب کہ عرفان سینئر کے خلاف ٹیم مینجمنٹ متحد ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق فیڈریشن کے ایک اعلی عہدیدار بھی قومی ٹیم کی کمان عمران بٹ کو سونپنے کے حق میں ہیں تاہم حتمی فیصلہ صدر فیڈریشن بریگیڈیئر خالد سجاد کھوکھر 11 اکتوبر کو کراچی میں شیڈول ٹرائلز کے موقع پر کریں گے۔

ذرائع کے مطابق قومی ہاکی کیمپ میں رضوان سینئر کی غیرموجودگی کے بعد نئے قومی ہاکی ٹیم کے کپتان کی جگہ کے حصول کے لئے رسہ کشی عروج پرپہنچ گئی ہے، 9اکتوبر سے کراچی سے  شروع ہونے والے قومی ہاکی تربیتی کیمپ میں قومی ٹیم کی تربیت کا رسمی سیشن دوبارہ شروع ہونے جارہا ہے جس کے اختتام پر قومی سلیکشن کمیٹی اولمپیئن اصلاح الدین صدیقی کی سربراہی میں قومی ہاکی ٹیم کا انتخاب عمل میں لائے گی جو کہ اومان میں ہونے والی ایشین چیمپینز ہاکی ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان ہاکی ٹیم کی کپتانی کی دوڑ میں شامل عمران بٹ جوکہ ٹیم کے کوچ ریحان بٹ کے حقیقی بھائی ہیں کا پلڑہ بھاری نظرآرہا ہے، عرفان سینئر کو اس حوالے سے ٹیم مینجمنٹ کی رائے کا اپنے حق میں حصول مشکل نظر آرہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹیم مینجمنٹ عرفان کے ماضی کے ڈسپلن وجوہات کی بنا پر ان کو ٹیم کا کپتان بنانے کے حق میں نہیں۔

اس حوالے سے ایکسپریس نے جب سیکرٹری پی ایچ ایف شہباز سینئر سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا ایشیائی ایونٹ کے لیے کپتانی کی امید روشن ہے تاہم ایشیائی ون کے لیے ٹیم کے کپتان کاحتمی فیصلہ ٹرائلز کے موقع پر ہی کیا جائے گا۔

دبئی ٹیسٹ: پاکستان نے آسٹریلیا کیخلاف پہلے روز 3 وکٹوں پر 255 رنز بنالیے

دبئی: پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف پہلے روز 3 وکٹوں کے نقصان پر 255 رنز بنالیے ہیں۔

دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو محمد حفیظ اور امام الحق نے اننگز کا آغاز کیا۔

دونوں بلے بازوں نے ابتدا سے ہی پراعتماد انداز سے کھیل پیش کیا اور کھانے کے وقفے تک 89 رنز جوڑے، وقفے کے بعد بیٹںگ دوبارہ شروع ہوئی تو محمد حفیظ نے 170 گیندوں پر سنچری مکمل کی۔

قومی ٹیم کا مجموعی اسکور 205 تک پہنچا تو امام الحق 2 چھکوں اور 7 چوکوں کی مدد سے 76 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے جس کے بعد محمد حفیظ بھی 126 رنز بنا کر ایل بھی ڈبلیو آؤٹ ہوئے، انہیں پیٹر سڈل نے پویلین کی راہ دکھائی۔

دو سال بعد قومی ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بننے والے محمد حفیظ نے 15 چوکوں کی مدد سے 208 گیندوں پر 126 رنز بنائے۔

اظہر علی 18 رنز بناکر ہولینڈ کی گیند پر آؤٹ ہوئے جب کہ قومی ٹیم پہلے روز میچ کے اختتام پر مجموعی طور پر 255 رنز بناسکی۔

قومی ٹیم میں بلال آصف کو ٹیسٹ کیپ دی گئی ہے جب کہ آسٹریلیا کے ایرون فنچ، مارنوس لابوسشان اور ٹریوس ہیڈ اپنا ڈیبیو میچ کھیل رہے ہیں۔

آسٹریلیا کے خلاف میچ کے لیے قومی ٹیم محمد حفیظ، امام الحق، اظہر علی، اسد شفیق، حارث سہیل، بابراعظم، کپتان سرفراز احمد، یاسر شاہ، بلال آصف، وہاب ریاض اور محمد عباس پر مشتمل ہے۔

آسٹریلوی ٹیم کی قیادت ٹم پین کررہے ہیں جب کہ ٹیم میں شامل دیگر کھلاڑیوں میں، عثمان خواجہ، مچل مارش، ٹریوس ہیڈ، مارنس لیبسچگنی، مچل اسٹارک، پیٹر سڈل، جون ہولاند اور نیتھن لیون ہیں۔

پاکستان ہاکی ٹیم میں تبدیلی آئے گی، چیف سلیکٹر پی ایچ ایف

کراچی: پاکستان ہاکی فیڈریشن کے چیف سلیکٹر اصلاح الدین صدیقی کا کہنا ہے کہ قومی ہاکی ٹیم میں تبدیلی آئے گی، ہمار اصل ہدف عالمی کپ اور اولمپک ہے۔

پی ایچ ایف کی جانب سے ایک مرتبہ پھر چیف سلیکٹر بنائے جانے والے اپنے دور کے عظیم کھلاڑی اور سابق قومی کپتان اولمپئین اصلاح الدین صدیقی نے کہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر اعتماد پر شکر گزار ہوں اور میری کوشش ہوگی کہ اس اعتماد پر پورا اتروں، اس سے قبل بھی میں نے اپنی ہر ذمہ داری کو قومی فریضہ سمجھ کر انجام دینے کی کوشش کی ہے۔

اصلاح الدین صدیقی نے کہا کہ 18 اکتوبر سے اومان کے دارالحکومت مسقط کے سلطان قابوس اسٹیڈیم میں شیڈول ایشین چیمپئینز ٹرافی کے لیے دستیاب بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب عمل میں لایا  جائے گا، ایونٹ کی تیاری کے سلسلے میں لاہورمیں قومی تربیتی کیمپ کے پہلے مرحلے کے بعد منگل سے کراچی  میں شیڈول دوسرے فیز میں ممکنہ کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو جانچا جائےگا، اگر ضرروت محسوس کی گئی تو مزید کھلاڑیوں کو اہلیت  کے اظہار کے لیے کیمپ میں طلب کیا جائے گا۔

چیف سلیکٹر نے کہا کہ وہ ایونٹ  کے لیے ممکنہ طور پر 11 اکتوبر کو ہونے والے ٹرائلز کے بعد قومی سلیکشن کمیٹی کے ارکان اولمپئین قاسم خان، اولمپئین مصدق حسین اور اولمپئین  ایاز محمود کے ہمراہ 18 رکنی حتمی اسکواڈ کا انتخاب کسی بھی دباؤ سے بالاتر ہوکر میرٹ کی بنیاد پر کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں اصلاح الدین صدیقی نے کہا کہ اب ہمیں حالیہ ناکامیوں کو بھلا کر آگے کی جانب دیکھنا ہے، کیمپ کمانڈنٹ اور ہیڈ کوچ اولمپئین حسن سردار کی زیر نگرانی کیمپ میں کھلاڑیوں کی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

چیف سلیکٹر نے کہا کہ پاکستان کو ہاکی میں فتوحات پانے کے لیے سخت محنت اور وقت درکار ہے، اس ضمن میں پی ایچ ایف نے طویل المدتی منصوبہ تیار کیا ہے جس پر عمل پیرا ہوکر مقاصد کا حصوصل ممکن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے شہر بوبھینیشور میں 28 نومبر سے شیڈول عالمی کپ اہمیت کا حامل ہے، عالمی ایونٹ میں بہتر نتائج پانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی جب کہ روایتی حریف بھارت کے خلاف ٹاکرے میں فتح پاکر قوم کی امیدوں پر پور اتریں گے۔

نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کی ٹرافی کی تقریب رونمائی

کراچی: کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کی چمچماتی ٹرافی کی نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں رونمائی کردی گئی۔

پاکستان کے 6 روزہ ٹور کے تیسرے اور آخری مرحلے میں شہر قائد پہنچنے والی ٹرافی کی تقریب رونمائی نیشنل اسٹیڈیم میں قائم ہائی پرفارمنس سینٹر میں کی گئی۔

تقریب میں 1992 کے ورلڈ کپ کی فاتح پاکستان کرکٹ ٹیم کے  وکٹ کیپر بیٹسمین و سابق ٹیسٹ کپتان معین خان اور پی سی بی کے گورننگ بورڈ کے سابق رکن پروفیسر اعجاز فاروقی  بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معین خان  نے کہا کہ قومی ٹیم ایک مرتبہ پھر عالمی  چیمپئین بننے کی صلاحیت رکھتی ہے تاہم اس کے لیے سخت محنت اور  ہر طرح کے دباؤ سے بالاتر ہوکر کامیابی کی امنگ پیدا کرنا ہوگی، سابق کپتان اور وزیر اعظم عمران خان کی طرح سرفراز احمد بھی بہترین قائدانہ صلاحیتوں کے حامل ہیں، امید ہے کہ اگلا عالمی کپ سرفراز جیتیں گے۔

بعد ازاں ٹرافی کو موہٹہ پلیس لے جایا گیا، اس کے بعد ٹرافی کی فریئر ہال میں نمائش منعقد ہوئی، سب سے آخر میں ٹرافی کو معین خان خان اکیڈمی پہنچایا گیا جہاں پر  اکیڈمی کے سیکڑوں بچوں سمیت شائقین کرکٹ کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

آئی سی سی کے پلان کے مطابق  پیر کو ٹرافی کو کلفٹن کے شاپنگ سینٹر میں دوپہر ایک بجے سے رات 9 بجے تک نمائش کے لیے  رکھا جائے گا، جس کے بعد سونے اور چاندی سے تیار کی جانے والی 29 کلو وزنی کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کی ٹرافی پیر کو اپنے اگلے سفر پر  بنگلا دیش روانہ ہوجائے گی۔

واضح رہے کہ انگلینڈ میں 30 مئی سے شروع ہونے والے عالمی کپ کی ٹرافی نے 27 اگست کو دبئی سے اپنے عالمی سفر کو آغاز کیا تھا جس کے دوران وہ 21 ممالک کے 60 شہروں کا سفر کرکے 19 فروری کو لندن پہنچ جائے گی۔

Google Analytics Alternative