کھیل

شاداب خان نے وائرس کے حوالے سے چلنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیدیا

شاداب خان نے ڈینٹسٹ کے اوزاروں سے وائرس کا شکار ہونے کی اطلاعات غلط قرار دیدیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کے دوران قومی ٹیم کے لیگ اسپنر شاداب خان سے جب پوچھا گیا کہ سینٹرل کنٹریکٹ کا پابند ہونے کی وجہ سے آپ پی سی بی کے میڈیکل پینل کی اجازت کے بغیر نجی طور پر دانتوں کا علاج کروانے کیلیے راولپنڈی کے ڈاکٹر کے پاس کیوں گئے؟ جواب میں لیگ اسپنر کا کہنا تھا کہ میں کسی ڈاکٹر کے پاس گیا ہی نہیں، نہ جانے یہ من گھڑت خبر کہاں سے آئی ہے، مجھے معلوم نہیں کہ وائرس کا شکار کہاں اور کیسے ہوا، قسمت میں لکھا تھا ہوگیا۔

یاد رہے کہ ورلڈ کپ اسکواڈ میں جگہ بنانے کے بعد آنے والی میڈیکل ٹیسٹ کی رپورٹ میں شاداب خان کے خون میں خطرناک وائرس کی نشاندہی ہوئی تھی جس کا علاج کیا جا چکا اور لیگ اسپنر جمعرات کو انگلینڈ کیلیے اڑان بھریں گے۔

کپتان کو بولرز سے بہتر کارکردگی کی امیدیں وابستہ

لاہور: سرفراز احمد نے بولرز سے بہتر کارکردگی کی امیدیں وابستہ کرلیں۔

قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کیخلاف دوسرے ون ڈے میں پاکستان نے مثبت کرکٹ کھیلی، آخری اوورز میں بہتر بولنگ نہیں کرسکے، اس ضمن میں کام کرنے کی ضرورت ہے، بولرز میں اتنی صلاحیت ہے کہ کم بیک کرسکیں، امید ہے کہ تیسرے ون ڈے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ شکست کے باوجود کئی مثبت چیزیں سامنے آئیں، فخر زمان نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے غیر معمولی اننگز کھیلی،اوپنر کا نیچرل انداز میں کھیلنا اور کامیاب ہونا ٹیم کیلیے بہت اہمیت کا حامل ہے، بابر اعظم نے بھی ان کا اچھا ساتھ نبھایا، آصف علی نے میچ کی صورتحال کے مطابق بہترین اننگزکھیلی، اسی مثبت سوچ کے ساتھ ہم تیسرے ون ڈے کیلیے میدان میں اتریں گے۔

کپتان نے کہا کہ محمد حفیظ بھرپور بیٹنگ اور بولنگ پریکٹس کررہے ہیں، امید ہے کہ محمد عامر آخری 2 ون ڈے میچز کیلیے دستیاب ہوں گے۔

دوسری جانب قومی کرکٹرز نے برسٹل میں بھرپور مشقوں کا سلسلہ جاری رکھا، وارم اپ کے بعد فیلڈنگ کا طویل سیشن ہوا، سلپ اور گلی میں تیز گیندوں کی خاص طور پر پریکٹس کرائی گئی، بولنگ کوچ اظہر محمود نے پیسرز پر بھرپور توجہ دیتے ہوئے لائن اور لینتھ بہتر بنانے پرکام کیا، بیٹسمین جارحانہ اسٹروکس کھیلنے کیلیے کوشاں نظر آئے۔

حسن علی اور فہیم اشرف کو باہر بٹھانے کا مشورہ

لاہور: رمیز راجہ نے حسن علی اور فہیم اشرف کو باہر بٹھانے کا مشورہ دیدیا۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں پاک انگلینڈ دوسرے ون ڈے پر گفتگوکرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی فتوحات کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ درمیانی اوورز میں حریف ٹیموں کو تیزی سے رنز بنانے میں مشکل پیش آتی،شاداب خان کا بھی اہم کردار ادا ہوتا تھا لیکن ان کی جگہ کھیلنے والے یاسر شاہ نے سخت مایوس کیا،حسن علی اور فہیم اشرف بھی رنز روکنے میں ناکام رہے۔

انھوں نے کہا کہ جوز بٹلر کو محدود رکھنے میں کامیابی ہوتی تو گرین شرٹس کو اتنے بڑے ہدف کا تعاقب نہ کرنا پڑتا،فہیم اشرف کی بولنگ بالکل بے جان نظر آرہی ہے،حسن بھی اپنا رعب و دبدبہ برقرار نہیں رکھ پا رہے،میرے خیال میں تیسرے ون ڈے میں فہیم کو باہر بٹھاکر حسنین کو موقع دینا چاہیے،نوجوان پیسر کا تجربہ کم لیکن کم از کم اپنی برق رفتاری سے بیٹسمینوں کیلیے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں، حسن علی کو بھی باہر بٹھانے میں کوئی حرج نہیں، ان کی جگہ انگلش کنڈیشنز میں جنید خان کی فارم چیک کرنا غلط فیصلہ نہیں ہوگا۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کہا کہ ہدف بڑا ہونے کے باوجود پاکستان نے اپنی اننگز کی بہتر پلاننگ کر کے جیت کے امکانات روشن رکھے،فخرزمان کی سنچری اپنی جگہ بابر اعظم نے بھی کردار بخوبی نبھایا،آصف علی پاکستان ٹیم میں پاور ہٹر کی کمی پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،ان کو انگلینڈ سے سیریز کے باقی تمام میچز کھیلنے کا موقع ملنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ سرفراز احمد، فہیم اشرف اور عماد وسیم میں سے کوئی ایک بھی چند گیندوں کو باؤنڈری کے پار بھیجنے میں کامیاب ہوجاتا تو پاکستان میچ جیت سکتا تھا،بہرحال ان غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔

محمد عامر وائرل انفیکشن کا شکار، ورلڈکپ اسکواڈ میں شرکت مشکوک

پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر محمد عامر وائرل انفیکشن کا شکار ہوگئے اور اب ان کی یہ بیماری شدت اختیار کرگئی جس کے بعد ان کی ورلڈکپ اسکواڈ میں شرکت بھی مشکوک ہے۔

کرک انفو کی رپورٹ کے مطابق محمد عامر پاکستان ٹیم کے ہمراہ اس وقت ٹیم کے دورہ انگلینڈ میں موجود ہیں، جہاں انہیں پہلے میچ میں ٹیم کا حصہ بنایا گیا لیکن دوسرے میچ میں انہیں ڈراپ کردیا گیا تھا۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ محمد عامر کو جو انفیکشن لاحق ہوا ہے وہ ممکنہ طور پر ’چکن پوکس‘ ہے۔

کرک انفو کے مطابق ممکنہ طور پر انگلینڈ کے خلاف ہونے والے ہونے والے تیسری ون ڈے میں بھی محمد عامر کو ٹیم میں شامل نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ ٹیم کو چھوڑ کر لندن میں اپنے اہلِ خانہ کے پاس چلے گئے۔

ابھی تک یہ بات بھی سامنے نہیں آئی کہ ان کی بیماری کو ختم ہونے میں مزید کتنا وقت لگے گا، تاہم کرکٹ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ انہیں ورلڈکپ اسکواڈ میں شامل کرلیا جائے گا۔

اس حوالے سے ڈان نیوز کے پروگرام ری پلے میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر اسپورٹس جرنلسٹ عبدالغفار کا کہنا ہے کہ پی سی بی ذرائع کے مطابق محمد عامر کو اس وقت انگلینڈ کے خلاف ہونے والی سیریز سے بھی باہر نہیں کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ محمد عامر کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی سلیکشن کمیٹی نے ورلڈکپ کے عبوری اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا تھا جبکہ امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ انگینڈ کے خلاف ہونے والی سیریز میں ان کی کارکردگی ورلڈکپ کے حتمی اسکواڈ میں ان کی شمولیت سے مشروط ہوگی۔

پلیئرز کا فائٹ بیک کرنا خوش آئند ہے، انضمام الحق

لاہور:  چیف سلیکٹر انضمام الحق کا کہنا ہے کہ ٹیم کا فائٹ بیک کرنا خوش آئند ہے، اسپنر شاداب خان کی رپورٹس مثبت آئی ہیں، امید ہے ورلڈ کپ سے قبل فٹ ہوجائیں گے، محمد حفیظ بھی فٹ ہیں اور  جلد ایکشن میں دکھائی دیں گے۔

لاہور پریس کلب میں پولیو کے خلاف جنگ کے حوالے سے سیمینار میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انضمام الحق نے کہا کہ ہم میچ تو نہیں جیت سکے لیکن 373 رنز بننے کے باوجود گرین شرٹس نے جس عمدگی کے ساتھ کم بیک کیا ہے، یہ بڑی خوش آئند بات ہے، پلیئرزنے زبردست فائٹ کی ہے، عممومی طورپراتنے بڑے ہدف پر ٹیم کا مورال گرجاتا ہے لیکن پاکستانی ٹیم نے شاندار مقابلہ کیا ،یہ اچھی علامت ہے، چیف سلیکٹر نے امید ظاہر کی کہ جس طرح پاکستانی ٹیم نے دوسرے میچ میں عمدہ کھیل پیش کیا، اس کے بعد گرین شرٹس کو سیریز کا تیسرے میچ جیتنا چاہیے، دوسروں کی طرح میری بھی خواہش ہے کہ پاکستان جیت کر ورلڈ کپ کا حصہ بنے۔

چیف سلیکٹر نے کہا کہ ابھی سیریز کے تین اور میچز ہیں، ان میں دیکھیں گے کہ آگے کیا کرنا ہے، ویسے تو ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کا اعلان کر رکھا ہے، اگر کوئی کھلاڑی اچھی کارکردگی دکھاتا ہے تو ورلڈ کپ کے حتمی اسکواڈ میںاس کے نام پر ضرور غور کریں گے لیکن کسی بھی کھلاڑی کے بارے میںا بھی کوئی رائے دینا قبل ازوقت ہوگا۔

انضمام الحق نے کہا کہ اسپنر شاداب خان کی اب تک کی رپورٹس بہت مثبت ہیں، آئندہ دو چار روز میں ان کے مزید ٹیسٹ ہو نگے، امید ہے ورلڈ کپ سے قبل شاداب خان مکمل فٹ ہو جائیں گے،ایک اور سوال پر انضمام الحق نے کہا کہ محمد حفیظ نے پاکستان میں ہی بیٹنگ اور بولنگ شروع کردی تھی، میری رپورٹس کے مطابق محمدحفیظ فٹ ہیں، وہ جلد ایکشن میں دکھائی دے گا۔

بیچ ریسلنگ میں سلور میڈل حاصل کرنے والے انعام بٹ وطن واپس پہنچ گئے

لاہور: بیچ ریسلنگ ورلڈ سیریز میں سلور میڈل حاصل کرنے والے پاکستانی پہلوان انعام بٹ وطن واپس پہنچ گئے۔

انعام بٹ برازیل سے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔

برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں منعقدہ بیچ ریسلنگ ورلڈ سیریز کے ابتدائی دو مقابلوں میں انعام بٹ نے شاندار کامیابی حاصل کی اور فائنل میں انہیں جارجیا کے ریسلر دیتو مرساگشیو نے دو صفر سے ہرایا۔

بیچ ریسلنگ ورلڈ سیریز میں سلور میڈل حاصل کرنے کے بعد انعام بٹ نے ورلڈ بیچ گیمز کے لیے بھی کوالیفائی کرلیا جو رواں سال اکتوبر میں امریکا کے شہر سین ڈیاگو میں شیڈول ہے۔

فیفا اور اے ایف سی وفد کو حقائق بتائیں گے، پی ایف ایف چیف

لاہور: پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر سید اشفاق حسین شاہ کا کہنا ہے کہ 28 مئی کو پاکستان آنے والے فیفا اور اے ایف سی وفدکوحقائق سے آگاہ کرنے کے لیے بھرپور تیاری کرلی، ثابت کریں گے کہ ہم ہی فٹبال کے حقیقی وارث ہیں۔

صدر پی ایف ایف سید اشفاق حسین شاہ کا دیگرعہدیداروں کے ہمراہ مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ فیفا وفد کو مطمئن کرنے کے لیے اپنی طرف سے بھرپور تیاری کی ، ہم وفد کو بتائیں گے کہ گزشتہ16برسوں میں پاکستانی فٹبال تباہی کے دہانے پرکیوں پہنچا، امید ہے کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب رہیں گے۔

صدر فیڈریشن نے واضح کیا کہ ہم نے ورلڈکپ کوالیفائرکے لیے کیمپ لگایا ہے،جو کھلاڑی کیمپ میں شریک نہیں ہوئے ان کے خلاف ایکشن لیا جائیگا، فیڈریشن نائب صدرسردارنوید حیدر خان بولے کہ ہم الیکشن جیت کر پاکستان فٹبال فیڈریشن کا حصہ بنے، ہم فٹبال فیڈریشن کونہیں چھوڑیں گے، فیفا کو سپریم کورٹ آف پاکستان کا حکم ماننا پڑیگا۔

نائب صدرعامرڈوگر نے کہا کہ ہمیں فٹبال کے تمام کھلاڑیوں کا احساس ہے لیکن سابقہ باڈی اپنی فرعونیت دکھارہی ہے۔

بیٹنگ کا جارحانہ انداز نہیں بدلوں گا، فخر زمان

لاہور: فخرزمان کا کہنا ہے کہ تکنیک پر کام ضرور کیا مگر جارحانہ انداز نہیں بدلوں گا۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pk کے پروگرام ’’کرکٹ کارنر ود سلیم خالق‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے فخرزمان نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کی مصروفیات کے دوران تکنیک اور مہارت پر کام کرنے کا موقع کم ہی ملتا ہے، اگر کچھ سیکھنے کی کوشش کرو بھی تو  اگلے ہی روز میدان میں اترنا ہوتا ہے،آسٹریلیا کیخلاف ون ڈے سیریز میں آرام دیا گیا تو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تکنیک بہتر بنائی۔

انہوں نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کے ساتھی آفتاب خان اور کبیر خان گزشتہ 7 سال سے مجھے کھیلتا دیکھ رہے ہیں، ان کی معاونت اور رہنمائی سے بیٹنگ میں نکھارلانے کیلیے کام کیا، کافی بہتر محسوس کررہا ہوں، تکنیک بہتر ضرور بنائی لیکن اپنا انداز تبدیل نہیں کروں گا، اپنے مزاج کے مطابق جارحانہ بیٹنگ کرنے کی کوشش کروں گا، پرستاروں کی توقعات کا علم ہے، ٹیم کی فتوحات میں اہم کردار ادا کرنے کیلیے پرعزم ہوں۔

اوپنر نے کہا کہ آسٹریلیا کیخلاف سیریز میں آرام کرنے کی ضرورت تھی،گھٹنے کی انجری اور تکنیکی مسائل پر کام کرنا تھا،کسی ایک سیریز میں نہ کھیلنے سے انٹرنیشنل کرکٹرز کی فارم پر کوئی اثر نہیں پڑتا، انگلینڈ کیخلاف ون ڈے میچز میں بھی تیاری کا اچھا موقع ملے گا، تازہ دم اور ورلڈکپ میں پرفارم کرنے کیلیے بیتاب ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں فخرزمان نے کہا کہ پاک بھارت میچ پر دنیا کی نگاہیں مرکوز ہوتی ہیں،ہمارے لیے بھی یہ مقابلہ اہم ہوگا، ورلڈکپ جیسے میگا ایونٹ میں بڑا میچ ہوتو توقعات بھی زیادہ ہوتی ہیں،ان پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے لیکن ہمیں ہر میچ بڑے جذبے کیساتھ کھیلنا اور بھرپور قوت کیساتھ تمام حریفوں سے ٹکرانا ہے، ٹیم کا ماحول بڑا اچھا اور کھلاڑی بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے پر جوش ہیں۔

لاہور قلندرز کی انتظامیہ مسلسل ناکامیوں کی وجوہات پر غور کرے،فخر زمان

فخرزمان نے لاہور قلندرز کی مینجمنٹ کو ناکامیوں کے اسباب پر غور کرنے کا مشورہ دیدیا،اوپنر کا کہنا ہے کہ فرنچائز پورا سال متحرک رہتے ہوئے کرکٹ کے فروغ کے لیے بڑا کام کرتی ہے، دور دراز کے دیہات سے ٹیلنٹ نکال کر لاتے ہیں، پی ایس ایل کی دیگر ٹیموں کو بھی اس کام کی تقلید کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کرکٹ بائی چانس ہے لیکن پی ایس ایل کے گزشتہ 4ایڈیشنز میں لاہور قلندرز کی صورتحال تبدیل نہیں ہوئی،کوئی نہ کوئی وجوہات تو ہوں گی، مینجمنٹ کو بیٹھ کر سوچنا اور سنجیدہ فیصلے کرنا چاہئیں کہ کہاں غلطیاں ہورہی ہیں جن میں سدھار لاکر کارکردگی میں بہتری آسکتی ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ لاہور قلندرز کی قیادت ایک اچھا تجربہ تھا، بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، مستقبل میں کسی بھی موقع پر کپتانی کرتے ہوئے یہ تجربہ کام آئے گا۔

عمران خان سے ملاقات کا احساس ہی الگ تھا

فخرزمان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کا احساس ہی الگ تھا،قومی کرکٹر کے حوصلے جوان ہوگئے۔اوپنر نے کہا کہ عمران خان قومی ہیرو ہیں،تمام کھلاڑی ان سے ملاقات کے حوالے سے بڑے پر جوش تھے،ایک گھنٹہ تک بات ہوئی،سابق کپتان نے قیمتی مشورے دیئے، قومی کرکٹرز کا حوصلہ بڑھا اور ملک کیلیے کچھ کردکھانے کا جوش پیدا ہوا،اس ملاقات کا احساس ہی الگ تھا۔

گھٹنے کی انجری سے مکمل نجات حاصل کر لی

فخرزمان نے گھٹنے کی انجری سے مکمل طور پر نجات پالی، آسٹریلیا کیخلاف سیریز میں آرام کے دوران اس مسئلہ سے بھی نجات پالی،اب مکمل طور پر فٹ اور اپنی کارکردگی سے ٹیم کی فتوحات کا راستہ بنانے کے لیے پرعزم ہوں۔

 

Google Analytics Alternative