کھیل

ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ کے لیے انٹرویوز

 لاہور:  ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ کے لیے انٹرویوز مکمل ہوگئے اور مصباح الحق کو ہیڈ کوچ بنایا گیا تو کسی بیٹنگ کوچ کا تقرر نہ کیے جانے کا امکان ہے۔

پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان، ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ ذاکر خان، رکن گورننگ بورڈ اسد علی خان، سابق کپتان انتخاب عالم اور سابق کرکٹر و کمنٹیٹر بازید خان پر مشتمل 5 رکنی پینل نے امیدواروں کی اہلیت کا جائزہ لیا۔

آج ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ کیلیے انٹرویوز مکمل کرنے کے بعد اگلے مرحلے میں بیٹنگ، اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچز کا معاملہ دیکھا جائے گا، قومی ٹیم میں ہیڈ کوچ کیلیے مصباح الحق فیورٹ سمجھے جارہے ہیں، محسن خان اور ڈین جونز نے بھی درخواست جمع کروا رکھی ہے، وقار یونس بولنگ کوچ کیلیے امیدوار ہیں، محمد اکرم اور جلال الدین بھی اس عہدے کو سنبھالنے کی آس لگائے بیٹھے ہیں، معلوم ہوا کہ یاسر عرفات بھی بولنگ کوچ کیلیے امیدوار کے طور پر اپنا نام درج کروا چکے ہیں۔ بیٹنگ کوچ کیلیے محمد وسیم اور فیصل اقبال نے بھی درخواست جمع کروارکھی ہے۔

دوسری طرف ذرائع سے یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ اگر مصباح الحق کو ہیڈ کوچ بنایا گیا تو کسی بیٹنگ کوچ کا تقرر نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا جا سکتا ہے، یہ ذمہ داری بھی سابق کپتان خود ہی نبھا سکتے ہیں۔

مصباح الحق کے چیک پر بڑی رقم لکھنے میں بورڈ ہچکچاہٹ کا شکار

کراچی: سابق کپتان پی ایس ایل میں ذمہ داری نہ نبھانے کی شرط سے متفق نہیں جب کہ مصباح الحق کے چیک پربڑی رقم لکھنے میں بھی بورڈہچکچاہٹ کا شکار ہے۔

ورلڈکپ میں ناقص کارکردگی پر ہیڈکوچ مکی آرتھر سمیت بیشتر سپورٹنگ اسٹاف کے معاہدوں میں توسیع نہیں کی گئی تھی، پی سی بی نے اشتہار جاری کیا جس کے بعد اب نئے کوچز کی تلاش جاری ہے، مصباح نے اپنی درخواست آخری دن جمع کرائی، اس دوران قیاس آرائیوں پر وہ یہی کہتے رہے کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، ذرائع نے بتایا کہ تاخیر کی2اہم وجوہات تھیں۔

مصباح سے کہا گیا کہ اب جو بھی ہیڈ کوچ، سلیکٹر یا کسی اور عہدے پر فائز ہوا وہ پی ایس ایل سمیت کسی دوسری جگہ کام نہیں کر سکے گا، سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر، بولنگ کوچ اظہر محمود اور چیف سلیکٹر انضمام الحق سمیت کئی دیگر آفیشلز مختلف فرنچائززکیلیے بھی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

البتہ چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے واضح کردیا تھا کہ یہ سلسلہ برقرار نہیں رہے گا، نئے معاہدوں میں اس حوالے سے شق بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ماضی میں اسلام آباد کی ٹائٹل فتوحات میں کردار نبھانے والے مصباح الحق رواں برس پشاور زلمی کیلیے ایکشن میں دکھائی دیے۔

ذرائع کے مطابق پی ایس ایل5 میں بھی بعض فرنچائزز ان کی خدمات بطور مینٹور لینے میں دلچسپی رکھتی ہیں،البتہ بورڈ نے واضح کر دیا کہ اگر وہ قومی ٹیم کے ہیڈکوچ بنے تو ایسا کرنا ممکن نہ ہوگا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ معاوضے کی وجہ سے بھی ڈیڈ لاک پایا جا رہا ہے، پی سی بی عموماً ملکی کوچز کو غیرملکیوں کے برابر معاوضہ نہیں دیتا، البتہ مصباح اس سے متفق نہیں ہیں، واضح رہے کہ مکی آرتھر کو ماہانہ 20 ہزار ڈالر ( تقریباً 32 لاکھ روپے ) ماہانہ معاوضہ ملتا تھا اور بورڈ اتنی رقم کسی صورت پاکستانی کوچ کو نہیں دے گا۔

البتہ مصباح کے معاملے میں کوئی درمیانی راہ نکالنے کی کوشش ہو رہی ہے،اگر بورڈ سے انھیں شایان شان معاوضہ نہ ملا اور وہ قومی کوچنگ کی وجہ سے پی ایس ایل کنٹریکٹ سے بھی محروم رہ گئے تو انھیں دہرا نقصان ہوگا، اسی لیے درخواست دینے میں تاخیر ہوئی البتہ حکام نے ان پر زور دیا کہ وہ اپلائی کر دیں باقی باتیں بعد میں طے کر لیں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ کوئی دوسرا مناسب آپشن نہ ملنے پر ہی پی سی بی نے مصباح کے حوالے سے فیصلہ کر لیا تھا اور ان کو ذہن میں رکھ کر ہی اشتہار جاری کیا۔ دوسری جانب سابق کپتان وقار یونس بھی لاہور پہنچ چکے ہیں۔

انھوں نے بولنگ کوچ کیلیے درخواست دیتے ہوئے یہ بھی عندیہ دیا تھا کہ ہیڈ کوچ کی دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں، اس کی وجہ مصباح الحق کا ممکنہ طور پر مقابلے سے باہر ہونا تھا مگر سابق کپتان کے اپلائی کرنے پر وقار نے ہیڈ کوچ کی پوسٹ کا سوچنا چھوڑ دیا، انھوں نے درخواست بھی جمع نہیں کرائی۔

وسیم خان کی زیرسربراہی کمیٹی امیدواروں کے انٹرویوز رواں ہفتے لے گی جس کے بعد کوئی حتمی فیصلہ ہوگا،محسن خان مصباح الحق اور موجودہ فیلڈنگ کوچ گرانٹ بریڈبرن کمیٹی سے ملاقات کر کے اپنے منصوبوں سے آگاہ کریں گے،ڈین جونزسے ویڈیو لنک پر رابطہ ہوگا۔

قومی ٹیم کی کوچنگ کے امیدواروں نے انٹرویوز کیلیے کمر کس لی

قّومی کرکٹ ٹیم میں ہیڈ کوچ اور معاون سٹاف کے عہدوں کیلیے امیدواروں نے انٹرویوز کی بھرپور تیاریاں شروع کردی ہیں۔

ہیڈ کوچ کیلیے مصباح الحق فیورٹ جب کہ محسن خان، ڈین جونز اور گرانٹ بریڈ برن  نے بھی درخواست جمع کروا رکھی ہے، وقار یونس بولنگ کوچ کیلیے امیدوار ہیں، محمد اکرم اور جلال الدین بھی اس عہدے کو سنبھالنے کی آس لگائے بیٹھے ہیں ،بیٹنگ کوچ کیلیے محمد وسیم اور فیصل اقبال نے بھی درخواست جمع کروارکھی ہے۔

پی سی بی قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی تعیناتی کا عمل ستمبر کے آغاز میں مکمل کرنا چاہتا ہے تاکہ 27 ستمبر سے شروع ہونے والی سری لنکا کےخلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کی  تیاریوں کا سلسلہ شروع کیا جاسکے، امیدواروں نے رواں ہفتے ہونے والے انٹرویوز کی تیاری اور پاکستان کرکٹ کیلیے اپنے پلان کا پیپر ورک بھی مکمل کررہے ہیں، مصباح الحق کے فیورٹ ہونے کے باوجود ڈین جونز نے امید کا دامن نہیں چھوڑا اور ویڈیو لنک کے ذریعے وسیم خان کی سربراہی میں کمیٹی کے سامنے اپنا کیس مضبوط بنانے کی کوشش کریں گے۔

ذرائع کے مطابق ماضی میں قومی ٹیم کے ہیڈکوچ اور چیف سلیکٹر جیسے عہدوں پر فائز رہنے والے محسن خان دوبارہ پی سی بی کیساتھ وابستگی کیلیے پر امید ہیں،موجودہ فیلڈنگ کوچ گرانٹ بریڈبرن بھی ہیڈ کوچ بننا چاہتے ہیں۔بولنگ کوچ کیلیے وقار یونس اور محمد اکرم میں مقابلہ ہے، سابق ہیڈ کوچ آسٹریلیا سے لاہور پہنچ گئے اور تیاریوں میں مصروف ہیں۔ محمد وسیم اور فیصل اقبال بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر میرٹ پر فیصلہ ہو تو بیٹنگ کوچ کا عہدہ ان کو ہی ملے گا۔

رومن رینز پر ‘قاتلانہ حملے’ کرنے والے کی شناخت ہوگئی

رومن رینز پر ‘قاتلانہ حملے’ کرنے والے ریسلر کا نام مختلف نشیب و فراز کے بعد آخر کار سامنے آگیا ہے۔

رومن رینز پر قاتلانہ حملوں کا سلسلہ سمرسلیم سے پہلے اس وقت شروع ہوا جب ایک شو کے دوران سابق یونیورسل چیمپئن کے اوپر بھاری سامان گرایا گیا مگر خوش قسمتی سے وہ زخمی ہونے سے بچ گئے۔

اس وقت رومن رینز نے اس حملے کا الزام سموا جوئی پر عائد کیا تھا مگر اسمیک ڈاﺅن شو کی ایک قسط کے دوران ان کا رومن رینز سے سامان اس وقت ہوا جب کسی نے رومن رنز کو گاڑی سے ٹکر مارنے کی کوشش کی، اس موقع پر سموا جوئی نے اپنی گاڑی میں بٹھا کر رومن رینز کو بچایا۔

اس پر رومن رینز نے سموا جوئی پر الزام لگانے پر معافی مانگی مگر بڈی مرفی سے سوالات پوچھے، جو پہلے حملے کے موقع پر پہچانے گئے تھے، جس نے بتایا کہ اس حملے کے وقت ایرک رون بھی وہاں موجود تھے۔

ایرک رون ڈینیئل برائن کے ٹیگ ٹیم پارٹنر ہیں اور ڈینیئل برائن نے ان کا دفاع کرتے ہوئے بڈی مرفی کو یہ اعتراف کرنے پر تسلیم کیا کہ انہوں نے جھوٹ بولا تھا۔

اس کے بعد یہ معاملہ اس وقت انتہائی عجیب ہوگیا جب گزشتہ ہفتے شو کے آخر میں ڈینیئل برائن نے ایک شخص کو حملہ آور قرار دیا جو ایرک رون سے بہت ملتا جلتا تھا۔

اب رومن رینز نے حقیقی حملہ آور کی شناخت کے بارے میں اسمیک ڈاﺅن میں بتایا اور وہ ایرک رون ہی ہے۔

اس سے قبل ڈینیئل برائن نے رومن رینز سے مطالبہ کیا تھا کہ جھوٹے الزام پر معافی مانگی جائے تو رومن رینز نے ایک ویڈیو چلائی جس میں پہلے حملے کے وقت ایرک رون کو بلیک ہڈ میں جاتے ہوئے دکھایا گیا۔

یہ ثبوت دیکھنے کے بعد ڈینیئل برائن نے اپنے ساتھی کو تھپڑ مارے اور وہاں سے جانے کو کہا، جس کے بعد رنگ میں جاکر وضاحت کی کوشش کی تو رومن رینز نے ان کو اپنی مخصوص ٹکر کا نشانہ بنایا۔

ویسے ڈبلیو ڈبلیو ای کے ماضی کو دیکھا جائے تو درحقیقت یہ ایسا بالکل ممکن نظر آتا ہے کہ ڈینیئل برائن ہی ان حملوں کے ماسٹر مائنڈ ہوں گے، اس اسٹوری لائن کا مقصد رومن رینز اور ڈینیئل برائن کو ایک دوسرے کے مدمقابل لانا ہوگا۔

اب چونکہ رومن رینز نے ڈینیئل برائن پر حملہ کیا ہے تو ان دونوں کے درمیان 15 ستمبر کو شیڈول ایونٹ کلیش آف چیمپئنز میں مقابلہ ہوسکتا ہے۔

سری لنکا 122رنز پر ڈھیر، نیوزی لینڈ نے دوسرا ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کردی

نیوزی لینڈ نے بلے بازوں اور باؤلرز کی شاندار کارکردگی کی بدولت سری لنکا کو دوسرے ٹیسٹ میچ میں اننگز اور 65رنز سے شکست دے کر دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کردی۔

کولمبو میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور دھننجیا ڈی سلوا کی سنچری اور دمتھ کرونارتنے کی نصف سنچری کی بدولت 244 رنز بنائے۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے ٹم ساؤدھی نے 4 اور ٹرینٹ بولٹ نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔

بارش سے متاثرہ میچ میں نیوزی لینڈ کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 126رنز پر 4 وکٹیں گنوا کر مشکلات سے دوچار تھی لیکن اس موقع پر ٹام لیتھم اور بی جے واٹلنگ سری لنکن باؤلرز کے خلاف ڈٹ گئے۔

دونوں کھلاڑیوں نے سنچری اسکور کی جبکہ بعدازاں کولن ڈی گرینڈ ہوم نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا جس کی بدولت نیوزی لینڈ نے پہلی اننگز 431رنز 6 وکٹ کے نقصان پر ڈکلیئر کردی اور 187رنز کی برتری حاصل کی۔

میچ کے پانچویں دن 187 رنز کے خسارے سے دوچار سری لنکن ٹیم ابتدا سے ہی مشکلات کا شکار رہی اور پہلے ہی اوور میں لہیرو تھری مانے بغیر کوئی رن بنائے رن آؤٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔

دوسرے اوپنر کوشل پریرا بھی کھاتا کھولے بغیر پویلین لوٹ گئے جبکہ تجربہ اینجلو میتھیوز کی اننگز بھی 7رنز پر تمام ہوئی۔

دھننجیا ڈی سلوا بھی صرف ایک رن بنا کر اعجاز پٹیل کی وکٹ بن گئے جبکہ کوشل مینڈس آؤٹ ہوئے تو سری لنکا کی آدھی ٹیم 32رنز پر پویلین لوٹ چکے تھے۔

اس موقع پر دمتھ کرونا رتنے اور نروشن ڈکویلا نے کچھ دیر تک کیوی باؤلرز کے خلاف مزاحمت کی لیکن 41رنز کی شراکت کے بعد کپتان کرونارتنے کی ہمت بھی جواب دے گئی اور وہ 21رنز بنا کر چلتے بنے جبکہ دو رنز کے اضافے سے ساتویں وکٹ بھی گر گئی۔

سورنگا لکمل اور 51رنز کی اننگز کھیلنے والے ڈکویلا نے 40رنز کی شراکت قائم کر کے کچھ دیر تک مزاحمت کی لیکن یہ دونوں بھی اپنی ٹیم کی شکست کو نہ ٹال سکے اور 122 رنز پر پوری ٹیم پویلین لوٹ گئی۔

نیوزی لینڈ نے میچ میں اننگز اور 65رنز سے کامیابی سمیٹ کر سیریز 1-1 سے برابر کردی۔

نیوزی لینڈ کی جانب ٹم ساؤدھی، بولٹ، اعجاز پٹیل اور ولیم سومر ویل نے دو، دو وکٹیں حاصل کر کے اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرایا۔

ٹام لیتھم کو 154رنز کی اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ بی جے واٹلنگ سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے جاوید میانداد کا لائن آف کنٹرول کے دورے کا اعلان

قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز جاوید میانداد نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور لائن آف کنٹرول پر جارحیت کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے کھیلوں سمیت تمام شعبوں کی اہم شخصیات کے ہمراہ لائن آف کنٹرول پر جانے کا اعلان کردیا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ویڈیو میں سابق عظیم بلے باز نے کہا کہ وہ امن کے لیے سرحد پر جائیں گے اور کھیلوں سمیت تمام شعبوں کی اہم شخصیات کو لائن آف کنٹرول پر لے جا کر احتجاج کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر امن کا جھنڈا لے کر جاؤں گا لیکن اگر اس کے باوجود بھی امن قائم نہ ہوا تو بھی وہ دنیا بھر سے لوگوں کے ہمراہ سرحد کا ضرور دورہ کریں گے۔

جاوید میانداد نے ویڈیو بیان میں دنیا بھر کے تمام عظیم کرکٹرز کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دی اور کہا کہ احتجاج سے دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر پر بھارتی مظالم کی جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں۔

قومی ٹیم کے سابق کپتان نے کہا کہ ہم سرحد پر جا کر پیغام دیں گے ہم امن چاہتے ہیں، ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے کیونکہ کوئی بھی پاکستان اور مسلمانوں کو کشمیریوں ان سے الگ نہیں کر سکتا۔

جاوید میانداد کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ پاکستان اور بھارت پرامن طریقے سے تمام معامالت ختم کریں اور جس کا جو حق ہے اسے وہ دے کر آزاد کیا جائے۔

124 ٹیسٹ اور 233 ون ڈے میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے مایہ ناز بلے باز نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد کبھی ختم نہیں ہوسکتی، دنیا میں نئے ملک بنتے رہیں گے اور یہ ایک سسٹم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح پاکستان کو بننے سے کوئی نہیں روک سکا، بالکل اسی طرح کشمیر کو آزاد ہونے سے بھی کوئی نہیں روک سکتا۔

بعدازاں انہوں نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ انہیں دنیا بھر میں انسانیت سے محبت کرنے والوں کی جانب سے بہت مثبت ردعمل ملا ہے اور لوگوں سے درخواست کی کہ وہ بتائیں کہ کس تاریخ کو لائن آف کنترول کا دورہ کیا جائے۔

مصباح الحق کے ہیڈ کوچ بننے کے واضح امکانات

قومِی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوج کیلیے درخواست جمع کروانے کی ڈیڈ لائن آج ختم ہورہی ہے۔

تاحال ڈین جونز کے علاوہ کسی ہائی پروفائل غیر ملکی کی جانب سے دلچسپی ظاہر نہ کئے جانے پر مصباح الحق مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں، ان کی طرف سے درخواست آج جمع کروادی جائے گی، سابق کپتان اس وقت پری سیزن کیمپ کی نگرانی کررہے ہیں،  بولنگ کوچ کیلئے وقار یونس امیدواروں میں شامل ہو چکے ہیں، ان کی جانب سے ہیڈ کوچ کے لیے بھی درخواست جمع کروائی جا سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق کورٹنی واش بھی پاکستان ٹیم کا ہیڈ کوچ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن ڈین جونز کی طرح ان کا کیس بھی کمزور نظر آرہا ہے، ذرائع کے مطابق راشد لطیف نے چیف سلیکٹر کے عہدے پر کام کرنے میں عدم دلچسپی کا اظہار کردیا ہے، ہیڈ کوچ کو ہی نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کے تحت بننے والی 6 صوبائی ٹیموں کے کوچز اور سلیکٹرز کی سلیکشن کی معاونت سے چیف سلیکٹر کی ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے۔

دوسری جانب مصباح الحق نے کمیٹی رکن کی حیثیت سے استعفیٰ ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ ذاکر خان کو پیش کردیا ان کے ہیڈ کوچ بننے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں، سابق کپتان نے ذاکر خان سے ملاقات کی، ان کا کہنا ہے کہ قومی کرکٹ کے ہیڈ کوچ کےلیے آج باضابطہ طور پر درخواست جمع کرادی ہے، جانتا ہوں اس عہدے کےلیے کئی نامور افراد دلچسپی رکھتے ہیں، قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی تعیناتی کےلیے سخت مقابلے کی توقع ہے، درخواست جمع کروانے سے قبل میرا نام گردش کرنا دلچسپ امر تھا، پی سی بی قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی تعیناتی کا عمل ستمبر کے آغاز میں مکمل کرلے گا۔

اسٹوکس کی ایشز میں شاندار کارکردگی، آسٹریلیا کو دوسرے میچ میں شکست

انگلینڈ نے بین اسٹوکس کی شان دار کارکردگی کے باعث ایشز کے دوسرے میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے کامیابی حاصل کرکے سیریز 1-1 سے برابر کردی۔

لیڈز میں کھیلے گئے دوسرے ایشز ٹیسٹ میں پہلی اننگز میں میزبان انگلینڈ اور آسٹریلیا دونوں ٹیموں مختصر اسکور پر آوٹ ہوئی تاہم دوسری اننگز میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

پہلی اننگز میں آسٹریلیا نے آرچر کی بہترین باؤلنگ کے سامنے 179 رنز بنائے تھے جبکہ آسٹریلیا کے ہیزل ووڈ نے تباہ کن باؤلنگ کی تھی جس کے نتیجے میں انگلینڈ کی پوری ٹیم صرف 67 رنز پر ڈھیر ہوئی تھی۔

آسٹریلیا نے پہلی اننگز میں 67 رنز پر آوٹ کرنے کے بعد اپنی دوسری اننگز میں 246 رنز بنا کر انگلینڈ کو میچ میں کامیابی کے لیے 359 رنز کا ایک مشکل ہدف ضرور دیا تھا لیکن بین اسٹوکس نے مرد بحران کا کردار نبھاتے ہوئے ٹیم کو شکست سے نکال کر سیریز بھی برابر کردی۔

لیڈز میں چوتھے روز کا کھیل شروع ہوا تو انگلینڈ نے 3 وکٹوں پر 156 رنز بنائے تھے جہاں کپتان جو روٹ 75 اور اسٹوکس 2 رنز بنا کر وکٹ پر موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں:آسٹریلیا کی تباہ کن باؤلنگ، انگلینڈ 67رنز پر ڈھیر

جوروٹ صرف 2 رنز کا اضافہ کرکے پویلین لوٹ گئے تاہم جونی بیئراسٹو نے 36 رنز بنا کر انگلینڈ کو 200 کا مجموعہ عبور کرنے میں اسٹوکس کا ساتھ دیا لیکن دیگر بلے باز یکے بعد دیگر آوٹ ہوتے رہے۔

آرچر نے مشکل وقت میں 33 گیندوں کا سامنا کرکے 15 رنز بنائے جبکہ جوز بٹلر، کرس ووکس ایک،ایک اور اسٹورٹ براڈ 286 کے مجموعی اسکور پر صفر پر آوٹ ہوگئے تھے۔

انگلینڈ کی 9 وکٹیں جب گریں تھی تو انہیں جیت کے لیے مزید 73 رنز درکار تھے جو اس وقت مشکل دکھائی دے رہا تھا تاہم اسٹوکس نے آسٹریلیا کے باؤلرز کا سامنا کیا اور لیچ کو صرف 17 گیندیں کھیلنے کا موقع دیا۔

اسٹوکس اور لیچ کے درمیان آخری وکٹ میں ناقابل شکست 76 رنز کی شراکت ہوئی جس میں لیچ کا حصہ صرف ایک رن کا تھا جبکہ اسٹوکس نے انتہائی ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کو ناقابل یقین فتح دلائی۔

انگلینڈ نے 9 وکٹوں کے نقصان پر 362 رنز بنا کر ایشز کے دوسرے ٹیسٹ میں آسٹریلیا کو ایک وکٹ سے شکست دے کر اہم کامیابی حاصل کی۔

بین اسٹوکس 135 رنز اور لیچ صرف ایک رن بنا کر ناقابل شکست رہے۔

آسٹریلیا کی جانب سے جوش ہیزل ووڈ نے سب سے زیادہ 4 وکٹیں حاصل کیں، ناتھن لائیون نے 2، کمنز اور پٹیسن نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

بین اسٹوکس کا شان دار کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا نے پہلے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرکے سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کی تھی۔

Google Analytics Alternative