کھیل

ورلڈکپ میں انگلینڈ نے ویسٹ انڈیز کو با آسانی شکست دیدی

ساوتھمپٹن: کرکٹ ورلڈکپ کے 19ویں میچ میں میزبان انگلینڈ نے ویسٹ انڈیز کو با آسانی 8 وکٹوں سے شکست دے دی۔

ساوتھمپٹن میں کھیلےگئے میچ میں انگلش کپتان کی بہترین حکمت عملی کارگرثابت ہوئی، ٹاس جیت کر ویسٹ انڈیز کو بیٹنگ کی دعوت دی تو شاندار بولنگ کی بدولت پوری ٹیم کو صرف 212 رنز پر ڈھیر کردیا۔

کرس گیل اور ایون لیوس نے اننگز کا آغاز کیا لیکن لیوس صرف 2 رنز کے ہی مہمان ثابت ہوئے جس کے بعد شائے ہوپ بیٹنگ کے لیے آئے لیکن وہ بھی 11 رنز بناکر پویلین واپس لوٹ گئے۔

کرس گیل کی اننگز بھی 36 رنز تک محدود رہی، نکولس پورن اور شمرون ہیٹمیئر نے ذمہ دارنہ بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالترتیب 63 اور 39 رنز بنائے جب کہ کپتان جیسن ہولڈر بھی صرف 9 رنز ہی بناسکے، آندرے رسل 21 اور کارلوس بریتھ ویٹ کی اننگز 14 رنز تک محدود رہی۔

انگلینڈ کی جانب سے جوفرا آرچر اور مارک ووڈ نے 3،3 جب کہ جوئے روٹ 2، کرس ووکس اور لیام پلنکٹ نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

بولنگ کے بعد بلے بازوں نے بھی زبردست بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مطلوبہ ہدف صرف دو وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا،  تجربہ کار بیٹسمین جوئے روٹ نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے سنچری اسکور کی اور وہ 100 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے ،کرس وواکس نے 40 اور بیرسٹو45 رنز بناکر آؤٹ ہوئے جب کہ بین اسٹوکس 10 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے گیبرل نے دونوں وکٹیں حاصل کیں ان کے سوا کوئی بولر خاطر خواہ کارکردگی پیش نہ کرسکا۔

پاک بھارت میچ بھی بارش کی نذر ہونے کا خطرہ

مانچسٹر:  پاک بھارت میچ بھی بارش کی نذر ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔

ورلڈکپ کی اولین مہم میں پاکستانی بیٹنگ بری طرح فلاپ ہوئی اور ویسٹ انڈیز نے باآسانی 7وکٹ سے کامیابی حاصل کی، دوسرے میچ میں گرین شرٹس نے انگلینڈ کے خلاف عمدہ بیٹنگ کے بعد بولنگ میں بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 14رنز سے فتح پائی، سری لنکا کو ہرانے کا موقع بارش کی وجہ سے ضائع ہونے کے بعد ایک پوائنٹ پر اکتفا کرنا پڑا۔

بدھ کو آسٹریلیا کیخلاف میچ میں پاکستانی بولرز ابتدا میں وکٹیں لے پائے نہ رنز روک سکے، فیلڈرز نے کیچز بھی چھوڑے، محمد عامر اور وہاب ریاض نے آخر میں عمدہ بولنگ سے کینگروز کو 307تک محدود کیا تو چند بیٹسمین اچھے آغاز کو بڑے اسکور میں بدلنے میں ناکام رہے۔

شعیب ملک اور آصف علی بھی غیر ذمہ دارانہ اسٹروکس کھیل کے ٹیم کی کشتی بیچ منجدھار چھوڑ گئے، وہاب ریاض اور حسن علی نے خلاف توقع کینگروز کی دھلائی کرتے ہوئے فتح کی امید دلائی لیکن مشن مکمل نہ کرپائے۔

اب پاکستان کا اگلا معرکہ بھارت کے ساتھ مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ اسٹیڈیم میں اتوار کو ہوگا، بھارتی ٹیم نے جنوبی افریقہ کو 6وکٹ سے مات دینے کے بعد آسٹریلیا کو 36 رنز سے شکست دی، جمعرات کو بھارت اور نیوزی لینڈ کا مقابلہ بارش کی وجہ سے منسوخ ہوگیا، دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ ملا، بھارتی ٹیم 5پوائنٹس کیساتھ تیسرے نمبر پر ہے، ایک میچ بارش کی نذر ہونے جبکہ 2میں ناکامی کے بعد پاکستان 3پوائنٹس کیساتھ آٹھویں پوزیشن پر اور سیمی فائنل تک رسائی کا سفر دشوار ہوتا جارہا ہے۔

بھارت کیخلاف میچ میں فتح گرین شرٹس کی امیدوں کے چراغ روشن کرسکتی ہے لیکن بارش رنگ میں بھنگ ڈال سکتی ہے، اس وقت مانچسٹر میں بارشوں کا سلسلہ جاری اور برطانوی محکمہ موسمیات نے اتوار کو بھی بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ صبح 10 بجے سے بارش کے 50 فیصد امکانات ہیں۔

یاد رہے کہ ڈے میچ مقامی وقت کے مطابق10.30پر شروع ہوگا، اس وقت پاکستان میں ڈھائی بجے ہوں گے، روایتی حریفوں کے مقابلوں کو کرکٹ کی جان کہا جاتا ہے۔

اس بار ورلڈکپ کے اس ہائی وولٹیج مقابلے کو دیکھنے کے خواہشمند لاکھوں شائقین میں سے چند ہزار خوش نصیب ہی ٹکٹ حاصل کرپائے، اتوار کو دنیا بھر سے شائقین کی مانچسٹر آمد متوقع ہے، بلیک میں ٹکٹ 4 گنا قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں مگر ٹیموں کو ایکشن میں دیکھنے کے خواہشمند بڑی خوشدلی سے جیب پر اضافی بوجھ برداشت کرنے کو تیار اور موسم کی مداخلت نہ ہونے کی دعا بھی کررہے ہیں۔

پاکستان ٹیم گزشتہ روز ہی مانچسٹر پہنچ گئی تھی، جمعے کی صبح 10سے ایک بجے تک پریکٹس سیشن میں اپنی خامیوں پر قابو پانے کی کوشش کرے گی،کینگروز کی لیگ اسپن اور گگلی بولنگ پر کمزوریوں کے باوجود شاداب خان کو ڈراپ کرکے شاہین شاہ آفریدی کو شامل کرنے کے ناکام تجربے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، بھارت کیخلاف میچ میں نوجوان لیگ اسپنر کی پلیئنگ الیون میں واپسی ہوگی۔

پاک بھارت میچ کی ٹکٹ 5 لاکھ روپے میں بکنے لگی

ساؤتھمپٹن:  پاک بھارت  ورلڈکپ میچ کیلیے سخت سیکیورٹی انتظامات کر لیے گئے، مسلح پولیس اہلکاروں کو بھی تعینات کیا جائے گا جب کہ میچ کے ٹکٹس پانچ لاکھ روپے تک میں فروخت ہونے لگے۔

روایتی حریفوں کا ٹکراؤ اتوار کو اولڈ ٹریفورڈ میں ہونا ہے، دونوں ممالک میں سیاسی کشیدگی کے سبب  منتظمین  غیرمعمولی حفاظتی انتظامات کر رہے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق میچ میں کسی گڑبڑ کی کوئی انٹیلی جنس رپورٹ تو موجود نہیں مگر پھر بھی حکام سیکیورٹی میں کوئی  کسر نہیں چھوڑنا چاہتے، انگلینڈ میں عموماً ایسا ہوتا تو نہیں البتہ پاک بھارت مقابلے کے دوران مسلح پولیس اہلکار اسٹیڈیم کے اطراف اور سٹی سینٹر میں گشت کریں گے،ٹیم ہوٹل میں بھی سخت سیکیورٹی ہے اورسادہ لباس اہلکار آنے جانے والوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ میچ ٹکٹس کیلیے آئی سی سی کو 5 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہوئی تھیں، گراؤنڈ میں محض 25 ہزار شائقین کی گنجائش ہے، مقامی ویب سائٹس پر ڈھائی ہزار پاؤنڈ (تقریباً5 لاکھ پاکستانی روپے) تک میں بھی ٹکٹیں فروخت ہو رہی ہے۔

برینڈن میک کولم کی ورلڈ کپ سے متعلق پیشگوئیوں نے ہلچل مچا دی

کرائسٹ چرچ: نیوزی لینڈ کے سابق کپتان برینڈن میک کولم کی ورلڈ کپ بارے پیشگوئیوں نے ہلچل مچا دی ہے۔

برینڈن میک کولم نے سوشل میڈیا پر 2019 ورلڈ کپ میں شریک ٹیموں کی کارکردگی کے حوالے پیش گوئی کرتے ہوئے لکھا کہ بھارت، انگلینڈ ، آسٹریلیا سیمی فائنل میں ہوں گے جبکہ چوتھی ٹیم کا فیصلہ رن ریٹ پر ہوگا۔ وہ ویسٹ انڈیز ، جنوبی افریقا اور پاکستان میں سے کوئی بھی ہوسکتی ہے۔

برینڈن مک کولم کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ مقابلوں میں انگلینڈ اور بھارت کی ٹیمیں صرف ایک ایک میچ ہاریں گے۔ انگلش ٹیم کینگروز جبکہ بھارتی ٹیم انگلینڈ سے شکست کھائے گی۔ نیوزی لینڈ 4 میچ پاکستان ، بھارت ، آسٹریلیا اور انگلینڈ سے ہارے گی۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم جنوبی افریقا ، انگلینڈ ، بھارت ور نیوزی لینڈ سے ہارے گی۔ جنوبی افریقا اور پاکستان 5،5 میچ جیتیں گے۔

پاکستان کی کارکردگی کے حوالے سے سابق کیوی کپتان کا کہنا ہے کہ پاکستان سری لنکا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، افغانستان اور بنگلا دیش کو شکست دینے میں کامیاب رہے گا جب کہ ویسٹ انڈیز، انگلینڈ، بھارت اور جنوبی افریقا سے ہار جائے گا۔ جنوبی افریقا کی ٹیم انگلینڈ، بھارت، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا سے ہارے گا تو وہ بنگلا دیش،ویسٹ انڈیز، افغانستان، پاکستان اور سری لنکا کے خلاف فتح پائے گا۔

ملکہ الزبتھ سے ملاقات میں شلوار قمیض پہننے پر سرفراز کے بھارت میں چرچے

ممبئی: پاکستانی کپتان سرفراز احمد کے ورلڈ کپ سے قبل ملکہ برطانیہ سے ملاقات کے دوران شلوار قمیض پہننے پر جہاں سوشل میڈیا پر ان کی تعریف کی جارہی ہے وہیں بھارت میں بھی اپنی ثقافت کی نمائندگی کرنے پر انہیں سراہا جارہا ہے۔

ورلڈ کپ سے قبل ایونٹ میں حصہ لینے والی ٹیموں کے کپتانوں نے شاہی محل میں ملکہ الزبتھ سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں باقی کپتانوں نے تو سوٹ پہنے ہوئے تھے، تاہم کپتان سرفراز احمد نے سفید شلوار قمیض اورسبز کوٹ پہن کر ملکہ سے ملاقات کی، سرفراز کے اس انداز نے لوگوں کے دل جیت لیے۔

تاہم کینیڈین صحافی طارق فتح نے اپنی چھوٹی سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرفراز کے لباس کو تنقید کا نشانہ بنایاتھا۔ طارق فتح کی بے مقصد تنقید پرجہاں پاکستانیوں نے تحٖفظات کا اظہار کیا وہیں بالی ووڈ اداکارہ گوہر خان بھی قومی کپتان کی حمایت میں بول پڑیں اور طارق فتح کو کھری کھری سنادیں۔

گوہر خان نے اپنے ٹوئٹ میں سرفراز احمد کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ’’سرفرازیہاں اپنی ثقافت کی نمائندگی کررہے ہیں، اور اس لباس میں وہ بہت خوبصورت لگ رہے ہیں، ہر انسان کووقار اور فخر کے ساتھ اپنی مرضی کالباس پہننے کا حق ہے، لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ آپ کو اس بارے میں کچھ نہیں پتہ کہ اپنے ملک کی نمائندگی کیسے کی جاتی ہے، شاید  آپ کو اپنی شناخت کا مسئلہ ہے۔‘‘

ویسٹ انڈیز کے خلاف ناقص کارکردگی، کئی بدترین ریکارڈز پاکستانی ٹیم کے نام

پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ 7وکٹ کی بدترین شکست سے دوچار ہوئی لیکن اس کے ساتھ ہی قومی ٹیم نے کئی منفی ریکارڈ توڑتے ہوئے اپنے نام کر لیے۔

یاد رہے کہ قومی ٹیم عالمی کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصے سے انگلینڈ میں موجود ہے اور اس دوران انگلینڈ کے خلاف ون ڈے میچوں کی سیریز بھی کھیلی لیکن اس کے باوجود ویسٹ انڈیز کے خلاف ناقص کارکردگی نے قومی ٹیم کی عالمی کپ کی تیاریوں کی قلعی کھول دی۔

ناٹنگھم میں کھیلے گئے قومی ٹیم کے ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں ویسٹ انڈین باؤلرز نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے کنڈیشنز کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور پاکستانی ٹیم کو 105رنز پر ڈھیر کردیا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی پوری ٹیم 21.4اوورز میں پویلین رخصت ہو گئی جو ورلڈ کپ کرکٹ کی تاریخ میں پاکستان کی گیندوں کے اعتبار سے سب سے چھوٹی اننگز ہے۔

105 رنز ورلڈ کپ کی تاریخ میں پاکستان کا دوسرا کم ترین اسکور ہے جہاں اس سے قبل 1992 کے عالمی کپ میں گرین شرٹس صرف 74رنز پر ڈھیر ہو گئے تھے تاہم یہ میچ بارش کی نذر ہو گیا تھا۔

البتہ ورلڈ کپ کے کسی بھی مکمل میچ میں یہ پاکستان کا سب سے کم ترین اسکور ہے، اس سے قبل عالمی کپ کے سکی بھی مکمل میچ میں قومی ٹیم کا کم ترین اسکور 132 رنز ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ قومی ٹیم نے انگلینڈ میں منعقدہ ورلڈ کپ کے آخری میچ میں بھی سب سے کم رنز اسکور کیے تھے اور یہ وہی ورلڈ کپ کا فائنل تھا جس میں آسٹریلیا نے پاکستان کو شکست دے کر چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

صرف یہی نہیں بلکہ اس میچ میں شکست کے ساتھ ہی پاکستانی ٹیم نے بدترین کارکردگی کی نئی تاریخ رقم کردی۔

یہ پاکستان کی ون ڈے کرکٹ میں مستقل 11ویں شکست ہے جس کے ساتھ پاکستان نے مستقل 10شکستوں کا اپنا 31سالہ ریکارڈ توڑ دیا۔

جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے میچ میں شکست کے بعد پاکستانی ٹیم کو آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں 0-5 سے کلین سوئپ اور پھر انگلینڈ نے سیریز میں 0-4 سے مات دی جبکہ آج ویسٹ انڈیز کے خلاف لگاتار 11ویں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ پاکستان کرکٹ کی ون ڈے کرکٹ کی 46سالہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ اسے لگاتار 11ون ڈے میچوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جب ویسٹ انڈیز نے ہدف حاصل کیا تو 218 گیندوں کا کھیل باقی تھا اور گیندوں کے اعتبار سے اس سلسلے میں بھی یہ پاکستان کی ورلڈ کپ میں بدترین شکست ہے۔

پاکستان پہلے معرکے میں ناکام، ویسٹ انڈیز کا ورلڈ کپ میں فاتحانہ آغاز

ویسٹ انڈیز نے باؤلرز کی عمدہ کارکردگی کی بدولت ورلڈ کپ 2019 میں اپنے پہلے میچ میں پاکستان کو 7وکٹوں سے شکست دے کر ایونٹ کا فاتحانہ انداز میں آغاز کردیا۔

ناٹنگھم کے ٹرینٹ برج میں دونوں ٹیموں نے اپنی مہم کا آغاز کیا، جہاں ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا جو ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا۔

کالی آندھی کے لقب سے مشہور ویسٹ انڈیز ٹیم کی باؤلنگ لائن پاکستانی بلے بازوں کو لپیٹ میں لے کر تمام ہی وکٹیں لے اڑیں۔

حسن علی آؤٹ ہوکر پویلین جارہے ہیں۔ — فوٹو: رائٹرز
حسن علی آؤٹ ہوکر پویلین جارہے ہیں۔ — فوٹو: رائٹرز

پاکستان کی بیٹنگ کا آغاز اچھا نہ تھا اور امام الحق 2 رنز بنا کر 17 کے مجموعے جبکہ آندرے رسل کی گیند پر فخر زمان 22 رنز بنا کر 35 کے مجموعے پر بدقسمت انداز میں بولڈ ہوگئے۔

ٹیم کے اسکور میں 10 رنز کا ہی اضافہ ہوا تھا کہ حارث سہیل 8 رنز بنانے کے بعد آندرے رسل کی گیند پر وکٹ کیپر شے ہوپ کو کیچ دے بیٹھے۔

سرفراز احمد اور بابر اعظم نے اسکور کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تاہم پہلے بابر اعظم 22 رنز بنانے کے بعد 62 پر آؤٹ ہوئے جن کا اوشین تھومس کی گیند پر شے ہوپ نے ایک بہترین کیچ لیا، جبکہ سرفراز احمد بھی 8 رنز بنا کر 75 کے مجموعے پر جیسن ہولڈر کی گیند پر شے ہوپ کو کیچ دے بیٹھے۔

آدھی ٹیم پویلین لوٹ چکی تھی، امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ تجربہ کار بلے باز محمد حفیظ ٹیم کا اسکور آگے لے جانے کی کوشش کریں گے، لیکن ایسا نہیں ہوسکا کیونکہ وکٹ کی دوسرے جانب عماد وسیم اور حسن علی ایک ایک جبکہ شاداب خان بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔

محمد حفیظ کی مزاحمت بھی زیادہ دیر نہ چل سکی اور وہ 16 رنز بنانے کےبعد اوشین تھومس کا شکار بنے جس کے ساتھ ہی پاکستانی بیٹنگ لائن 83 رنز پر 9 وکٹوں سے محروم ہوگئی۔

اس مقام پر ایسا محسوس ہورہا تھا کہ شاید پاکستانی ٹیم 100 کا ہندسہ بھی عبور نہ کر سکے لیکن ایسے میں ٹیل اینڈر وہاب ریاض نے 2 چھکے اور ایک چوکا لگا کر 18 رنز بنائے اور ٹیم کو 105 رنز تک پہنچا دیا جہاں وہ بھی اوشین تھومس کی گیند پر بولڈ ہوگئے اور پوری ٹیم آل آؤٹ ہوگئی۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے اوشین تھومس نے 4، جیسن ہولڈر نے 3، آندرے رسل نے 2 جبکہ شیلڈن کوٹریل نے ایک وکٹ حاصل کی۔

پاکستان ٹیم ورلڈکپ کی تاریخ کے اپنے دوسرے کم ترین اسکور پر آؤٹ ہوئی جہاں قومی ٹیم کے 7 بیٹسمین 10 کے ہندسے میں بھی نہیں پہنچ سکے۔

یاد رہے کہ ورلڈکپ میں پاکستان کا کم ترین اسکور 74 رنز ہے جو اس نے 1992 کے ورلڈکپ میں انگلینڈ کے خلاف اسکور کیا تھا، تاہم وہ میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا اور ٹیم شکست سے بچ گئی تھی۔

وہاب ریاض آؤٹ ہونے والے پاکستان کے آخری کھلاڑی تھے۔ — فوٹو: رائٹرز
وہاب ریاض آؤٹ ہونے والے پاکستان کے آخری کھلاڑی تھے۔ — فوٹو: رائٹرز

ویسٹ انڈیز نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو اوپنرز نے ٹیم کو 36رنز کا آغاز فراہم کیا لیکن اس مرحلے پر عامر نے شے ہوپ کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔

فاسٹ باؤلر نے پاکستان کو ایک اور اہم کامیابی دلاتے ہوئے ڈیرن براوو کی اننگز کا بھی خاتمہ کردیا۔

محمد عامر نے ہی ویسٹ انڈیز کی تیسری وکٹ حاصل کی، اوپنر کرس گیل 34 گیندوں پر 50 رنز بناکر شاداب خان کو کیچ تھماگئے۔

تاہم اس کے باوجود ویسٹ انڈین ٹیم نے 14ویں اوور کی چوتھی گیند پر باآسانی ہدف حاصل کر لیا۔

پاکستان کی جانب سے تینوں وکٹیں محمد عامر نے حاصل کیں۔

27رنز کے عوض 4وکٹیں لینے والے اوشین تھامس کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

میچ کے لیے پاکستان کی ٹیم میں کپتان سرفراز احمد کے علاوہ فخر زمان، امام الحق، محمد حفیظ، بابر اعظم، حارث سہیل، عماد وسیم، شاداب خان، محمد عامر، حسن علی اور وہاب ریاض شامل تھے۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم کپتان جیسن ہولڈر، کرس گیل، شے ہوپ، ڈیرن براوو، شمرون ہیٹمیئر، نکولس پورن، آندرے رسل، کارلوس بریتھ ویٹ، ایشلے نرس، شیلڈن کوٹریل اور اوشین تھامس پر مشتمل تھی۔

پاکستان ٹیم کی موجودہ صورتحال زیادہ تسلی بخش نہیں، مصباح الحق

لاہور: سابق قومی کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم کی موجودہ صورتحال زیادہ تسلی بخش نہیں۔ 

سابق قومی کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف فتح کے حصول میں 2 اسپنرز کا کردار اہم ہوگا، عماد وسیم اور شاداب خان گرین شرٹس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، مصباح الحق کے مطابق ویسٹ انڈیز بیٹسمین اسپنرز کو زیادہ بہتر انداز میں نہیں کھیل پاتے جس کا فائدہ پاکستانی ٹیم کو اٹھانا چاہیے۔

مصباح الحق نے کہا کہ عماد وسیم کی ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیابیوں کا گراف بہت زیادہ ہے جب کہ شاداب خان بھی بھرپور فارم میں ہیں، پاکستان کا ویسٹ انڈیز کے خلاف ماضی کا ریکارڈ بھی بہت اچھا ہے، ان دونوں چیزوں کا فائدہ پاکستان ٹیم کو اٹھانا چاہیے۔

سابق قومی کپتان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم کی موجودہ صورتحال زیادہ تسلی بخش نہیں ہے جب آپ جیت نہیں رہے ہوتے ہیں تو مورال بھی ڈاؤن ہوتا ہے، اس بات کا فائدہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم اٹھانے کی کوشش کری گی لیکن ورلڈ کپ کے اپنے ابتدائی میچز میں زیادہ اہم یہ ہے کہ کون سی ٹیم کس حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترتی ہے اور میچ کے دوران ملنے والے مواقعوں  سے کتنا فائدہ اٹھاتی ہے۔

Google Analytics Alternative