کھیل

علیم ڈار ون ڈے میچوں کی ڈبل سنچری سے ایک میچ کی دوری پر

پاکستانی امپائرعلیم ڈار ون ڈے میچوں کی ڈبل سنچری سے ایک میچ کی دوری پر ہیں۔

پاکستانی آئی سی سی ایلیٹ امپائر علیم ڈار کل ون ڈے میچوں کی ڈبل سنچری مکمل کریں گے، آئرلینڈ میں جاری تین ملکی ٹورنامنٹ میں 7 مئی کو  ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کے درمیان میچ ان کے کیرئرکا 200واں میچ ہوگا جس کو وہ سپروائز کرنے کا اعزاز حاصل کریں گے۔

اتوار کو  آئرلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلا گیا ریکارڈ ساز ون ڈے میچ علیم ڈارکا 199واں میچ تھا۔ جھنگ سے تعلق رکھنے والے 50 سالہ علیم سرور ڈار ایک روزہ میچوں کی ڈبل سنچری مکمل  کرنے والے تیسرے امپائر بن جائیں گے۔ اس فہرست میں جنوبی افریقہ کے روڈی کوٹزن 209  میچوں کے ساتھ ٹاپ پر ہیں، نیوزی لینڈ کے بلی باوڈن  206 ایک روزہ میچ سپروائز کرکے دوسرے نمبرپر ہیں۔

پی اینڈ ٹی جم خانہ لاہور کے پلیٹ فارم سے امپائرنگ شروع کرنے والے علیم ڈار 2004 میں آئی سی سی کے ایلیٹ پینل کا حصہ بنے۔ انہیں سب سے زیادہ ٹیسٹ میچوں میں امپائرنگ کا ریکارڈ قائم کرنے کے لیے مزید تین ٹیسٹ میچوں کی ضرورت ہے۔ جمیکا کے اسٹیوبکنر نے 128 ٹیسٹ میچ اپنے نام کے آگَے درج کرواچکے ہیں۔ علیم ڈار کے ٹیسٹ میچز کی تعداد 126 ہے، 2009  سے 2011 تک لگاتار تین بار آئی سی سی کے بیسٹ امپائر کی ٹرافی جیتنے والے یہ قابل فخر پاکستان امپائر اس سے پہلے سب سے زیادہ 43 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں امپائرنگ کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ پرائیڈ آف پرفارمنس سمیت متعدد ایوارڈ اپنے نام کرنے والے علیم ڈار اس بار پانچویں بار ورلڈکپ میں ذمہ داریاں بھی نبھائیں گے۔

سیکریٹری ہاکی فیڈریشن شہباز سینئر کی عہدے سے مستعفی ہونے کی تردید

شہباز احمد سینئر نے سیکریٹری فیڈریشن کے عہدے سے مستعفی ہونے کی خبروں تردید کردی۔

شہباز سینئر نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ صدر ہاکی فیڈریشن کو کوئی استعفیٰ نہیں دیا، ایسے بیانات چلنا یا چلوانا غیراخلاقی عمل ہے، میرے لئے سیکرٹری پی ایچ ایف کا عہدہ کوئی بڑا نہیں، میں نے دنیا بھر میں پاکستان کے لئے عزت کمائی جس کے بعد مجھے عہدے کا لالچ نہیں لیکن مجھے افسوس ہے کہ میری لاعلمی میں مجھ سے منسوب کرکے بیانات جاری کرائے گئے جو کہ غیر اخلاقی عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہاکی فیڈریشن کے صدر خالد سجاد کھوکھر کو استعفیٰ نہیں دیا اور نہ ہی مجھے اس بات کا علم ہے، اگر کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ میں پاکستان ہاکی فیڈریشن میں کام نہ کروں تو بغیر کسی لڑائی کے میں اس عہدے سے علیحدہ ہونے کے لئے تیار ہوں۔

ادھر میڈیا سے بات چیت میں شہباز سینئر نے کہا کہ استعفی نہیں دیا،صدرنے بغیربتائے عہدے سے ہٹادیا،انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان ہاکی فیڈریشن کے معاملات کاجائزہ لے۔شہبازسینئر نے کہا کہ جب استعفی دیاتھاتواس وقت قبول نہیں کیا،تین ماہ بعداچانک صدرپی ایچ ایف نے خودسے استعفیٰ قبول کرلیا،انہوں نے کہا کہ صدرپی ایچ ایف خالد سجاد کھوکھرکے ساتھ کام نہیں کروں گا،عہدے کالالچ نہیں جوحقیقت ہے وہ بتارہا ہوں۔وا ضح رہے کہ صدرہاکی فیڈریشن نے گزشتہ روزشہبازسینئرکے استعفے کابیان دیاتھااورآصف باجوہ کوگزشتہ روزسیکرٹری پی ایچ ایف نامزد کیا گیا تھا۔

پاکستان کیخلاف باہمی ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں انگلینڈ کا پلڑا بھاری

لاہور: باہمی ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں انگلینڈ کا پلڑا بھاری رہا ہے۔

انگلینڈ ٹیم نے11 فتوحات حاصل کیں جبکہ  گرین شرٹس نے صرف 4مقابلوں میں فتح پائی ہے جب کہ گزشتہ میچ میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی تھی۔

ٹیم کی 11 سیریز فتوحات کا تسلسل جنوبی افریقہ میں ٹوٹ گیا تھا لیکن ان میچز میں قیادت شعیب ملک کے سپرد تھی، پاکستان نے ان 11 سیریز میں سے پہلے بھی 3سال قبل انگلینڈ کے خلاف جیتی تھی۔

 

شاہد آفریدی کے سچ پر گوتم گھمبیر بلبلا اُٹھے

گوتم گھمبیر نے شاہدآفریدی کو نفسیاتی علاج کروانے کا مشورہ دے دیا۔

بھارت کے سابق اوپننگ بلے باز گوتم گھمبیر کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کو میڈیکل کی بنیاد پر ویزے اب بھی جاری کیے جا رہے ہیں، شاہد آفریدی آئیں، ان کا نفسیاتی علاج کرائیں گے۔

یاد رہے کہ شاہد آفریدی اور گوتم گھمبیر کے میدان کے اندر اور باہر تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے، حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی سوانح حیات گیم چینجر میں شاہد آفریدی نے کہا تھا کہ گوتم گمبھیر ایک بدمزاج کرکٹر ہیں، ریکارڈز اور شخصیت کسی کام کی نہیں، ایسے لوگوں کو ہم اپنی زبان میں سڑیل کہتے ہیں۔

جواب میں گوتم گھمبیر نے بھی شاہد آفریدی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ تم مضحکہ خیز شخصیت کے مالک ہو، پاکستانیوں کو میڈیکل کی بنیاد پر بھارتی ویزے اب بھی مل رہے ہیں، تم آئو میں خود تم کو لے کر ماہر نفسیات کے پاس علاج کیلئے لے کر جاؤں گا۔

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں 80 ممالک شامل، پاکستان سرِ فہرست

کرکٹ کی عالمی تنظیم (آئی سی سی) نے بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی نئی عالمی فہرست جاری کردی جس میں پاکستان سمیت 80 ممالک شامل ہیں۔

آئی سی سی کی رپورٹ کے مطابق کی جانب سے رینکنگ میں توسیع کا مقصد کرکٹ کے کھیل کی عالمی سطح پر فروغ ہے۔

ضابطے کے مطابق ایسوسی ایٹ ممالک کے خلاف کم از کم 6 میچز کھیلنے والی ٹیموں کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن میں دنیا کے تمام برِاعظوں کی ٹیمیں شامل ہیں۔

ان ٹیموں میں آسٹریا، بوٹسوانا، لشوتھو، ارجنٹینا اور موزمبیک جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔

پہلی مرتبہ آئی سی سی کے ممبر ممالک سمیت 80 ممالک کو عالمی سطح پر اپنی پہچان بنانے کا موقع حاصل ہوا ہے، جہاں ان ٹیموں کے مداح حریف ٹیموں کے خلاف اپنی ٹیم کی پوزیشن کا تعین کر سکیں گے۔

واضح رہے کہ آئی سی سی نے 2016 میں ایک قانون متعارف کروایا تھا جس میں ایسوسی ایٹ ممبر ممالک کے 6 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل لینے کے بعد انہیں آئی سی سی انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا درجہ مل جاتا ہے۔

تاہم مذکورہ 80 ممالک کی فہرست میں فل ممبر اور چند ایسوسی ایٹ ممالک کے علاوہ دیگر تمام ممالک کو اسی قانون کے تحت بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی اسٹیٹس دے کر اس میں شامل کیا گیا ہے۔

مذکورہ فہرست میں پاکستان 286 پوائنٹس لے کر واضح مارجن کے ساتھ پہلی پوزیشن پر موجود ہے جبکہ دوسرے سے پانچویں نمبر کی ٹیمیں صرف 2 پوائنٹس کے فرق سے ایک دوسرے کے پیچھے ہیں۔

جنوبی افریقہ 262 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے، انگلینڈ 261 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے، آسٹریلیا 261 پوائنٹس کے ساتھ چوتھے اور بھارت 260 پوائنٹس کے ساتھ پانچویں نمبر پر موجو ہے۔

اختتامی 6 نمبروں پر موجود انڈونیشیا، چین، گمبیا، سوازی لینڈ، روانڈا اور لشوتھو کے صفر پوائنٹس نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ قبرص، سائمن آئی لینڈ، اسٹونیا، یونان، اٹلی، ناروے، پرتگال، رومانیہ، روس، ترکی، کمرون اور برمودا کی ٹیموں کو بھی بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی اسٹیٹس موجود ہے لیکن وہ ٹاپ 80 میں جگہ نہیں بناسکیں۔

ون ڈے سیریز، ’’پرفارم کرو ورلڈ کپ کھیلو‘‘ کپتان نے محمد عامر کو راہ دکھا دی

کراچی:  قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے محمد عامر کو ورلڈکپ کھیلنے کی راہ دکھا دی، ان کا کہنا ہے کہ پیسر انگلینڈ سے ون ڈے سیریز میں عمدہ پرفارم کر کے اسکواڈ میں جگہ بنا سکتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pk کے پروگرام ’’کرکٹ کارنر ود سلیم خالق‘‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سرفراز احمد نے کہاکہ بطور سینئر بولر محمد عامر ٹیم کیلیے پرفارم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،ان کو ورلڈکپ اسکواڈ سے ڈراپ کرنا مشکل فیصلہ تھا لیکن انگلینڈ کیخلاف سیریز میں اچھی کارکردگی دکھائیں تو جگہ بنا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ورلڈکپ کیلیے پلیئرز ذہنی اور جسمانی طور پر تیار ہیں، اسکواڈ کے انتخاب میں میری مشاورت شامل تھی،1،2پلیئرزکو چھوڑ کر بیشتر وہی ہیں جو ایک، ڈیڑھ سال سے پاکستان کیلیے کھیل رہے ہیں، متوازن اسکواڈ میں تجربہ کار سینئرز اور باصلاحیت جونیئرز شامل ہیں، مجھ سمیت آرام کرنے والوں نے تازہ دم ہوکر ٹیم کو جوائن کیا، کھلاڑیوں نے فٹنس بھی ثابت کردی، ہمارا مورال بلند اور سخت محنت کررہے ہیں۔

سرفراز احمد نے کہا کہ میگا ایونٹ کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کا بہترین موقع پاکستان کو ملا ہے، پریکٹس میچز شیڈول کیے گئے، میزبان ٹیم کیخلاف 5ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلنے کو مل رہے ہیں، مقابلے مختلف وینیوز پر ہونے کی وجہ سے پچز اور کنڈیشنز کو بھی سمجھنے میں مدد ملے گی۔

ایک سوال پرکپتان نے کہا کہ گذشتہ 3سال میں پاکستان نے انگلینڈ میں کئی یادگار کامیابیاں حاصل کی ہیں،2016میں ٹیسٹ سیریز برابر کی،اگلے برس چیمپئنز ٹرافی جیتی،2018میں بھی ٹیسٹ سیریز برابر کی،اس ٹریک ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے امید کی جا سکتی ہے کہ پُرعزم گرین شرٹس ورلڈکپ میں بھی بہترین کارکردگی پیش کریں گے۔

سرفراز نے کہا کہ ہمارا اصل ہدف تو ٹائٹل جیتنا ہے لیکن اس سے قبل بہترین حکمت عملی سے ایک ایک کرکے رکاوٹیں عبور کرنا ہوں گی۔ ٹورنامنٹ فارمیٹ کے مطابق 9میچز کے بعد سیمی فائنل اور پھر فائنل ہوگا،ایونٹ میں شریک ہر ٹیم کیخلاف میچ ہونے کی وجہ سے تسلسل کے ساتھ پرفارم کرنا ہوگا،سیمی فائنل تک رسائی کیلیے 5سے 6میچز جیتنا پڑیں گے۔انھوں نے کہا کہ ٹورنامنٹ کا فارمیٹ مختلف ہونے سے کسی ایک میچ میں بدقسمتی لے ڈوبتی ہے۔

ورلڈکپ 1992میں بہترین ٹیم نیوزی لینڈ کو سیمی فائنل میں شکست ہوئی،1999کے میگا ایونٹ میں پاکستان مسلسل فتوحات کے بعد فائنل ہار گیا، اس بار کوئی ٹیم بھی کمزور خیال نہیں کی جا سکتی، ہمیں ہر میچ فائنل سمجھ کر کھیلنا ہوگا۔

ایک سوال پر سرفراز نے کہا کہ مجھ سے اکثر لوگ کہتے ہیں کہ باقی کسی سے ہار بھی جائو تو بھارت کیخلاف میچ ضرور جیتو،ہماری بھی خواہش ہوتی ہے کہ روایتی حریف کیخلاف فتحیاب ہوں، دنیا بھرکی نظریں اس میچ پر ہونگی لیکن بطور کپتان میں یہ کہوں گا کہ ساری ٹیمیں مضبوط ہیں، ورلڈکپ جیتنے کیلیے صرف بھارت ہی نہیں بلکہ ایونٹ میں شریک تمام ٹیموں کیخلاف اچھی کارکردگی دکھانا ہوگی۔

عمران خان نے ورلڈ کپ میں بے خوف ہوکر کھیلنے کا مشورہ دیا، سرفراز

سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی خوبیوں اور خامیوں کو نظر میں رکھتے ہوئے بے خوف ہوکر کھیلنے کا مشورہ دیا، بے پناہ مصروفیات کی وجہ سے انھوں نے ہمیں نصف گھنٹے کیلیے بلایا تھا لیکن ایک گھنٹہ وقت دیا،سابق کپتان نے کھلاڑیوں کو زبردست تحریک دلاتے ہوئے کہا کہ بھرپور اعتماد کے ساتھ میدان میں جائیں، پوری قوم آپ کو سپورٹ کرے گی،نتائج کی پرواہ کیے بغیر بے خوف ہوکر اپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کریں۔

عمران خان نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اپنی خوبیوں اور خامیوں کا پتہ ہونا چاہیے،میدان میں جو بھی کرنا ہوکھل کرکریں، آپ ضرور کامیاب ہوں گے، میں حوصلہ بڑھانے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

کپتان شاداب کا ساتھ میسر ہونے کی دعا کرنے لگے

شاداب خان بیماری کی وجہ سے ٹیم کے ساتھ انگلینڈ نہیں جا سکے، ان کے حوالے سے سرفراز احمد نے کہا کہ لیگ اسپنر کی بیماری ہمارے لیے ایک بڑا دھچکا ہے،وہ بولنگ کے ساتھ بیٹنگ اور فیلڈنگ میں بھی پرفارم کرتے اور ٹیم کی جان ہیں،امید ہے کہ شاداب خان ورلڈکپ سے قبل مکمل طور پر فٹ ہوکر اسکواڈ میں شامل ہوجائیں گے۔

سرفراز احمد انگلینڈ کیخلاف دوسرے یا تیسرے ون ڈے میں محمد حفیظ کی دستیابی کیلیے پُرامید ہیں، انھوں نے کہاکہ آل رائونڈر کے ہاتھ کی سرجری ہوئی،بحالی پروگرام پر عمل درآمد کے بعد انھوں نے بیٹنگ بھی شروع کردی، امید ہے کہ انگلینڈ کیخلاف دوسرے یا تیسرے ون ڈے تک مکمل فٹ ہوکر کھیلنے کے قابل ہوجائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ عماد وسیم کی میچ فٹنس میں کوئی مسائل نہیں ہیں، گھٹنے کی انجری کا مسئلہ 7ماہ سے چل رہا تھا، صرف ایک خاص زاویے سے حرکت میں انھیں تھوڑی مشکل پیش آتی ہے،نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں عماد نے فٹنس ٹیسٹ کی بیشتر آزمائشوں میں 17کے قریب پوائنٹس لیے لیکن ڈاکٹر کی ہدایت پر ٹائم ٹرائلز وغیرہ میں ان کو رعایت دی گئی، ٹیسٹ کے دوران کسی آزمائش میں ایک دم پیچھے کو مڑنا پڑتا ہے جو ان کیلیے موزوں نہیں تھا، میچ کھیلتے ہوئے وہ کسی مسئلے کا سامنا نہیں کریں گے۔

کپتان کوحسنین سے بلند توقعات وابستہ

سرفراز احمد کو پیسر محمد حسنین سے بلند توقعات وابستہ ہیں،قومی ٹیم کے کپتان نے کہاکہ نوجوان بولر اپنی رفتار کی وجہ سے حریفوں کیلیے خوف کی علامت بن سکتے ہیں،متاثر کن پیسر نے اپنی صلاحیتوں کی جھلک دکھ دی ہے،انھوں نے کینگروز کیخلاف ون ڈے سیریز میں بھی ظاہر کیا کہ تیز بولنگ سے ٹیم کیلیے کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں،انگلش کنڈیشنز میں 150کی رفتار سے گیندیں پھینکنے والا بولر کسی بھی ٹیم میں ہو’’ایکس فیکٹر‘‘ بن سکتا ہے۔

رضوان کو ڈراپ کرنا مشکل فیصلہ تھا،عابد علی متبادل وکٹ کیپرہوںگے

سرفراز احمد نے کہاکہ محمد رضوان ایک بہترین بیٹسمین اور وکٹ کیپر ہیں،کینگروز کیخلاف ون ڈے سیریز میں 2سنچریاں بنانے کے باوجود ان کو ڈراپ کرنا ہمارے لیے بھی بڑا مشکل فیصلہ تھا، بطور اسپیشلسٹ بیٹسمین ان کی جگہ مڈل آرڈر میں نہیں بنتی تھی جہاں بابر اعظم،حارث سہیل، محمد حفیظ اور شعیب ملک پہلے سے موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ محمد رضوان کیلیے بدقسمتی کی بات ہے کہ میں وکٹ کیپر ہونے کے ساتھ کپتان بھی ہوں، البتہ پاکستان کرکٹ کیلیے خوش آئند بات یہ ہے کہ خدانخواستہ کسی کو مسئلہ ہوجائے تو بیک اپ میں باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں۔

ایک سوال پر سرفراز احمد نے کہا کہ عابد علی اور شان مسعود میں ٹیم میں جگہ بنانے کیلیے سخت مقابلہ تھا،دونوں کی ڈومیسٹک اور اے ٹیموں کی جانب سے کارکردگی اچھی رہی ہے،حالیہ فارم اور وکٹ کیپنگ کی اضافی خوبی کو دیکھتے ہوئے عابد علی کو ترجیح دی،اگر میری کوئی انجری وغیرہ ہوئی تو ان کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی رینکنگ؛ پاکستان کا پہلی پوزیشن پر قبضہ برقرار

آئی سی سی نے گلوبل ٹی ٹوئنٹی رینکنگ جاری کی ہے جس میں پاکستان نے بدستور پہلی پوزیشن پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔

آئی سی سی گلوبل ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پاکستان 286 پوائنٹس کے ساتھ بدستورنمبرون پوزیشن پر ہے، جب کہ جنوبی افریقہ 262 پوائنٹس کے ساتھ دوسری، انگلینڈ261 کے ساتھ تیسری، آسٹریلیا 261 کے ساتھ چوتھی اور بھارت 260 پوائنٹس کے ساتھ پانچویں پوزیشن پر قبضہ جمائے ہوئے ہے۔

نیوزی لینڈ 254 پوائنٹس کے ساتھ چھٹے، افغانستان 241 کے ساتھ ساتویں، سری لنکا 227 کے ساتھ آٹھویں، ویسٹ انڈیز 226 کے ساتھ نویں اور بنگلہ دیش220 پوائنٹس کے ساتھ دسویں نمبر پر ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال آئی سی سی نے فیصلہ کیا تھا کہ یکم جنوری 2019 سے تمام ممبر ملکوں کے درمیان میچز کو انٹرنیشنل کا درجہ حاصل ہوگا اور ان کی بنیاد پر رینکنگ بھی جاری کی جائے گی۔ اس بار گلوبل رینکنگ میں 80 ٹیموں کو شامل کیا گیا ہے جن میں روانڈا اور لیسوتھو آخری نمبروں پر ہیں۔

پاکستانی ہتھیاروں کی جانچ مکمل، بیشتر تیر نشانے پر بیٹھ گئے

لاہور: دورۂ انگلینڈ کے ابتدائی معرکوں میں پاکستانی ہتھیاروں کی جانچ مکمل ہو گئی جب کہ بیشتر تیر نشانے پر بیٹھنے سے مینجمنٹ نے سکھ کا سانس لے لیا۔

میزبان ٹیم سے سیریز اور ورلڈکپ کی تیاریوں کیلیے قبل ازوقت انگلینڈ پہنچنے والی پاکستان ٹیم فٹنس اور دیگر مسائل سے پیچھا چھڑانے میں ناکام رہی ہے، شاداب خان خطرناک وائرس کا شکار ہونے کی وجہ سے زیر علاج ہیں، محمد حفیظ ہاتھ کا کامیاب آپریشن کرانے کے بعد بحالی فٹنس کیلیے کوشاں ہیں، شعیب ملک پہلا پریکٹس میچ کھیلنے کے بعد نجی مسائل کی وجہ سے 10دن کی رخصت پر چلے گئے۔ اس کے باوجود پاکستان نے تینوں پریکٹس میچز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔

سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ آسٹریلیا سے سیریز میں آرام کرنے والے کھلاڑی بھی تسلسل کے ساتھ پرفارم کررہے ہیں، فخرزمان نے کینٹ سے میچ میں76رنز بنانے کے بعد نارتھمپٹن شائر کیخلاف سنچری جڑ دی،دونوں ایک روزہ میچز کے بعد لیسٹر شائر سے ٹی ٹوئنٹی میں بھی انھوں نے 30گیندوں پر52کی اننگز کھیلی، چیمپئنز ٹرافی کے ہیرو کی حالیہ فارم پاکستان کیلیے باعث اطمینان بات ہے۔

بابر اعظم پہلے میچ میں ڈبل فیگر تک نہیں پہنچ پائے، دوسرے میں 68پر ناقابل شکست رہے۔ ٹی ٹوئنٹی میں انھوں نے صرف 63گیندوں پر 101کی اننگز کھیلی،عماد وسیم نے پہلے ون ڈے میں جارحانہ 117رنز بناکر ٹیم کا ٹوٹل 7وکٹ پر 358تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا،حارث سہیل نے بھی 75کی اننگز کھیلی۔

نارتھمپٹن شائر کیخلاف امام الحق 71رنز بنانے میں کامیاب ہوئے،حیران کن طور پر ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھی ان کو شامل کیا گیا جبکہ عابد علی کوابھی تک صرف پانی پلانے تک محدود رکھا گیا ہے۔ آصف علی تیسرے میچ میں موقع ملنے پر 22کی اننگز کھیل سکے،مجموعی طور پر بیٹنگ لائن کی کارکردگی حوصلہ افزا ہے۔

بولرز میں حسن علی،فہیم اشرف،شاہین شاہ آفریدی،محمد عامر اور محمد حسنین پیس اور باؤنس کا فائدہ اٹھاتے نظر آئے،جیند خان نے ایک میچ میں حصہ لیا اور 79رنز دے کر ایک شکار کیا، شاداب خان کی بیماری کے سبب اچانک اسکواڈ میں شامل کیے جانے والے یاسر شاہ کو ایک میچ میں 90اور دوسرے میں 61رنزکی پٹائی برداشت کرنا پڑی،وہ ٹی ٹوئنٹی میچ کیلیے ٹیم میں جگہ بنا سکے۔

محدود اوورز کی کرکٹ میں یاسر کی فارم منیجمنٹ کیلیے باعث تشویش ہے تاہم عماد وسیم نے بہت کفایتی بولنگ کرتے ہوئے وکٹیں بھی حاصل کی ہیں،خدشہ یہی ہے کہ محمد حفیظ 5مئی کو انگلینڈ سے واحد ٹی ٹوئنٹی کے بعد 2ون ڈے میچز کیلیے بھی دستیاب نہیں ہوں گے،شعیب ملک بھی پہلے ایک روزہ میچ سے قبل ٹیم کو جوائن نہیں کرسکیں گے۔اس صورت میں پاکستان کو یاسر شاہ کا جوا کھیلنے یا پھر حارث سہیل اور فخرزمان جیسے پارٹ ٹائم بولرز کا سہارا لینا ہوگا۔

دریں اثناء انگلینڈ سے واحد ٹی ٹوئنٹی میچ کیلیے گرین شرٹس گزشتہ روز بذریعہ بس 3گھنٹے کا سفر طے کرکے لیسٹر سے کارڈف پہنچ گئے، پلیئرزجمعے کو صبح ساڑھے 9سے ساڑھے 12بجے تک پریکٹس سیشن میں صلاحیتیں نکھارنے کی کوشش کریں گے۔

Google Analytics Alternative