کھیل

ميانداد کو بڑا کھلاڑی سمجھا جاتا ہے مگر وہ چھوٹے آدمی ہيں، شاہد آفریدی

کراچی: شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں وقاریونس کو اوسط درجے کا کپتان اور خوفناک کوچ قراردے دیا۔

قومی ٹیم کے سابق کپتان کی آپ بیتی گیم چینجر ہفتے کومنظرِ عام پر آئے گی، بوم بوم شاہد آفریدی نے اپنی کتاب گیم چینجرمیں سنسنی خیزانکشافات کردیے، سابق کپتان کی آپ بیتی گیم چینجرکی تقریب رونمائی کراچی کے ایک شاپنگ مال میں ہوگی۔ کتاب میں بوم بوم آفریدی نے اپنے سابق سینئراورکوچ وقاریونس کو اوسط درجے کا کپتان اورخوفناک کوچ قراردیتے ہوئے کہا کہ وقار یونس جب سے  پاکستان ٹیم کےکوچ بنے تو اُن کی وسیم اکرم سے کشمکش رہی، وقار یونس نے ہرکام میں مداخلت کی، اسی لیے وسیم  اور وقار یونس کے درمیان اختلافات رہے۔

شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں جاوید میانداد کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ميانداد کو بڑا کھلاڑی سمجھا جاتا ہے مگروہ چھوٹے آدمی ہيں، جاوید میانداد کو میرے بیٹنگ اسٹائل سے نفرت تھی، کراچی سیریز شروع ہونے سے پہلے ہی میانداد نے میرے خلاف ایک محاذ قائم کر لیا تھا جب کہ پريزينٹيشن تقريب ميں جاوید میانداد نے مجھ سے زبردستی تعريف کرائی۔

سابق کپتان نے کہا کہ اسپاَٹ فکسنگ اسکينڈل کا بہت پہلے علم ہوگيا تھا، مظہر مجید نے فون مرمت کيلئے لندن میں ایک دکان پر دیا تھا، دکان کا مالک میرے دوست کا دوست نکلا، مظہر مجید کے فون سے پاکستانی کھلاڑیوں کوکیے گئے پیغامات ملے، ٹيم مينجمنٹ کوثبوت دکھائے مگر کوئی ايکشن نہ ہوا، میں نے یہ پیغامات وقار یونس اور یاورسعيد سے شیئر کیے، یاور سعید نے یہ پیغامات دیکھ کر بے بسی کا اظہار کیا، یاور سعید نے مجھ سے پیغامات کی کاپی مانگنے کی زحمت بھی نہ کی، منجمنٹ خوفزدہ تھی يا اسے ملک کے وقار کا خيال نہ تھا۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ عبدالرزاق نے بھی سلمان، عامر اور آصف پر شک کا اظہار کيا تھا، لارڈز ٹیسٹ کے دوران کپتانی  چھوڑنے کا فيصلہ کرليا تھا، چوتھے دن سلمان سے پوچھا وہ قيادت سنبھال سکتا ہے، میرا پورے سیٹ اپ سے اعتبار اٹھ چکا تھا، ٹیم مینجمنٹ معاملے کی فعال تحقیقات نہیں کررہی تھی، سلمان بٹ کو مستقبل میں قومی ٹیم میں جگہ نہیں ملنی چاہیے، اس وقت شعیب ملک کپتانی کے لیے فٹ نہیں تھے، ناتجربہ کاری شعیب ملک کی کمزوری تھی، شعیب ملک کو کپتان اور سلمان بٹ کو نائب کپتان بنانا غلط اقدام تھا، کان کا کچا شعيب ملک برے لوگوں سے برے مشورے ليتا تھا۔

دوسری جانب شاہد آفریدی اپنی کتاب کی رونمائی سے قبل ہی اس کے چرچوں پر کھل اٹھے، فوری ردعمل دیتے ہوئے ٹوئٹ بھی کر ڈالا تاہم انہوں نے کتاب میں کی جانے والی تنقید کومیڈیا کی جانب سے بڑھاوا قرار دے دیا، ان کا کہنا ہے کہ میں نے تنقید کے ساتھ اسٹار کھلاڑیوں کو سراہتے ہوئے تعریفی کلمات بھی ادا کیے ہیں، ازراہ کرم سوانح عمری پر مشتمل میری کتاب کا مطالعہ کریں۔

رونالڈو نے دنیا کی مہنگی ترین گاڑی خریدلی

کرسٹیانو رونالڈو نے دنیا کی مہنگی ترین گاڑی بوگاٹی لا ووتیورے نوئرے خرید لی ہے۔

خبر رساں ویب سائٹ ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق رونالڈو نے 1 کروڑ 10 لاکھ یورو کی منفرد بوگاٹی گاڑی خریدی جسے رواں سال جنیوا موٹر شو میں پیش کیا گیا تھا۔

فرانسیسی کمپنی نے اپنی 110ویں سالگرہ پر واحد پروٹو ٹائپ گاڑی بنائی تھی جسے موٹر شو میں پیش کیا گیا تھا۔

فوٹو بشکریہ بوگاٹی ویب سائٹ
فوٹو بشکریہ بوگاٹی ویب سائٹ

یہ گاڑی معروف بوگاٹی ٹائپ 57 ایس سی ایٹلانٹک کی جدید شکل ہے جو 1936 اور 1938 میں کمپنی کی جانب سے صرف 4 گاڑیاں بنائی گئی تھیں۔

گاڑی میں 8.0 لیٹر ٹربو چارجڈ ڈبلیو 16 انجن اور یہ 260 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

بوگاٹی نے تصدیق کی کہ ان کی واحد گاڑیا کا مالک مل گیا ہے تاہم انہوں نے اس کی شناخت نہیں بتائی۔

رپورٹ کے مطابق رونالڈو یہ گاڑی 2021 تک چلا نہیں سکیں کیونکہ کمپنی نے اب بھی اس پروٹو ٹائپ گاڑی میں مزید کام کرنا ہے۔

خیال رہے کہ رونالڈو کے پاس متعدد پرتعیش گاڑیاں ہیں جن میں مرسڈیز سی کلا اسپورٹ کوپے، رولز رائس فینٹم، یو جے این فراری 599 جی ٹی او، لمبرگنی ایونٹاڈور ایل پی 700-4، ایسٹن مارٹن ڈی بی 89، مکلارن ایم پی 4 12سی اور بینٹلے کونٹینینٹل جی ٹی سی اسپیڈ شامل ہیں۔

آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں انگلینڈ کی بادشاہت برقرار

دبئی: آئی سی سی کی سالانہ ون ڈے رینکنگ میں انگلینڈ اور ٹیسٹ میں بھارت کی بادشاہت برقرار ہے۔

آئی سی سی کی سالانہ ون ڈے رینکنگ میں انگلینڈ 123 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے، بھارت صرف 2 پوائنٹس کے فرق کیساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جنوبی افریقہ (115) تیسرے،نیوزی لینڈ (113) چوتھے، آسٹریلیا (109) پانچویں، پاکستان (96) چھٹے، بنگلہ دیش( 86 ) ساتویں، ویسٹ انڈیز (80) آٹھویں، سری لنکا (76) نویں،  افغانستان (64) دسویں نمبر پر ہے۔

سالانہ ٹیسٹ رینکنگ میں بھارت سرفہرست جب کہ دیگر ٹاپ 10 ٹیموں میں بالترتیب نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، انگلینڈ، آسٹریلیا، سری لنکا، پاکستان، ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش اور زمبابوے شامل ہیں۔

بورڈ حکام ورلڈکپ کے بعد انضمام الحق کے معاہدے میں توسیع کے خواہش مند

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام نے ورلڈکپ کے بعد بھی انضمام الحق کے معاہدے میں توسیع کی خواہش ظاہر کردی۔

پی سی بی کے چیئرمین  احسان مانی اور ایم ڈی وسیم خان کے ساتھ چیف سلیکٹر انضمام الحق بھی  ورلڈکپ میچز دیکھنے انگلینڈ جائیں گے۔ عید الفطر کے فوری بعد پاکستان کو آسٹریلیا اور بھارت کے خلاف اہم میچز کھیلنا ہیں، اس موقع پر بورڈ حکام کے ساتھ چیف سلیکٹر بھی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے وہاں موجود ہوں گے۔

ورلڈکپ میں پاکستان اورآسٹریلیا کا مقابلہ 12 جون کو طے ہے جب کہ روایتی حریف بھارت اور پاکستان کا  آمنا سامنا 16 جون کو ہوگا۔ ذرائع کےمطابق  ابتدائی  پلان کے مطابق چیف سلیکٹر انضمام الحق دوہفتے انگلینڈ  میں قیام کریں گے اورورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔

چیف سلیکٹر سمیت قومی ٹیم کے ساتھ کام کرنے والے تمام کوچنگ اسٹاف کا کنٹریکٹ ورلڈکپ تک ہے، کرکٹ کے اس عالمی میلے کے لیے منتخب کی جانے والی ٹیم انضمام الحق کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی کی  آخری اسائمنٹ ہے۔ ورلڈکپ کے بعد انضمام الحق  اور ان کے ساتھیوں کا مستقبل کیاہوگا، اس کا فیصلہ قومی ٹیم کی کارکردگی  پر منحصر ہے تاہم بورڈ حکام  کی خواہش ہےکہ انضمام الحق ورلڈکپ کے بعد بھی ذمہ داریاں نبھائیں۔

ایک اعلی حکام نے اس سلسلے میں معاہدے میں توسیع کے لیے سابق کپتان سے بات بھی کی ہے تاہم انضمام الحق نے فوری کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا، ان کا موقف ہے کہ وہ ورلڈکپ میں قومی کرکٹرز کی پرفارمنس اور حالات وواقعات کو سامنے رکھ کر جواب دیں گے۔

قومی کرکٹرز کی ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرنے کی مخالفت

قومی کرکٹر وہاب ریاض اور کامران اکمل نے بھی ڈیپارٹمنٹل کرکٹ جاری رکھنے کے حق میں آواز بلند کردی۔

فاسٹ بولر وہاب ریاض کہتے ہیں کرکٹ کا اسٹرکچر کیا  ہونا چاہیے، اس کا فیصلہ تو بہر حال پی سی بی نے کرناہے لیکن میری ذاتی رائے میں  ڈیپاڑٹمنٹل کرکٹ کی وجہ سے ہی بہترین کرکٹ ہونے کے ساتھ  اچھے کرکٹرز بھی سامنے آرہےہیں۔اس کو ہرگز بند نہیں کرناچاہیے۔ ہمارے زیادہ ترکرکٹرزکو ڈیپارٹمنٹس نے روزگار دے رکھا ہے اگر محکموں کی ٹیمیں ختم ہوجائیں گے توپھر ہمارے کرکٹرز کو بھی بہت نقصان ہوگا،کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اس پہلو کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔

وکٹ کپیر بلے باز کامران اکمل کا کہنا ہے کہ پی سی بی ہرسال ڈومیسٹک سسٹم تبدیل کرتا ہے اور اس کو کتنا مزید بدلیں گے۔ ڈیپارٹمنٹ کرکٹ بند ہونے سے ہماری کرکٹ بہت نیچے چلی جائے گی۔ جاوید میاں داد، عبدالقادر سمیت جتنے بھی کرکٹرز اس پر بات کررہے ہیں، اس کی وجہ صرف یہ ہےکہ وہ صرف یہ احساس دلاناچاہتے ہیں کہ ڈیپارٹمنٹ کرکٹ ہمارے ملک کےلیے کتنی اہم ہے، ہم خود محکموں کی کرکٹ سے یہاں تک پہنچے ہیں۔

کامران اکمل نے کہا کہ پی سی بی اور وزیر اعظم عمران خان کو اس حوالے سے جلد بازی نہیں کرنی چاہیے بلکہ سوچنا چاہیے کہ ایسا کرنے سے کرکٹ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ہمارے ملک  کی آبادی اب 22 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، اس میں صرف 6  ٹیمیں بنانا بہت مشکل ہے، آسٹریلیا کی آبادی  ہم سے بہت کم ہے، وہاں  کے نظام میں ایسا ہوسکتاہے۔ میری راے میں   ڈیپارٹمنٹ کرکٹ کو کسی صورت بند نہیں ہونا چاہیے، بلکہ محکموں کی کرکٹ کو بڑھانے پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے، انہیں  انڈرنائن ٹین اور انڈر سکسٹین ٹیمیں بھی بنانے کی ہدایت کرنی چاہیے۔

پاکستان جیسی کٹ پر مداحوں کا احتجاج، بنگلہ دیشی ٹیم جرسی بدلنے پر مجبور

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی کٹ کے رنگ سے مشابہت رکھنے والی بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کی جرسی کو مداحوں کے شدید احتجاج کے باعث تبدیل کردیا۔

بی سی بی نے 29 اپریل کو شیر بنگلہ کرکٹ اسٹیڈیم ڈھاکہ میں کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے لیے اپنی ٹیم کی کٹ کی رونمائی کی۔

مذکورہ کٹ مکمل طور پر سبز رنگ کی تھی جس میں عمومی طور پر شامل ہونے والے سرخ رنگ کو اس مرتبہ ٹیم کی کٹ میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔

کٹ منظر عام پر آنے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر بنگلہ دیشی کرکٹ کے مداحوں نے بورڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کٹ کو پاکستان کی کٹ جیسا قرار دیا۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر نجم الحسن قومی ٹیم کی کٹ کو پاکستان کی کٹ جیسا قرار دینے پر مداحوں پر برسے۔

انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس کٹ پر واضح طور پر ’بنگلہ دیش‘ لکھا ہوا ہے، تو آپ کس طرح اسے پاکستان کی کٹ کے ساتھ الجھا سکتے ہیں؟

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کٹ پر ’ٹائیگر‘ کی تصویر اور قومی ٹیم کا لوگو دیکھنے کے باوجود اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ پاکستان کی کٹ ہے تو میرا خیال ہے کہ اس شخص کو پاکستان چلے جانا چاہیے۔

کرک انفو کی رپورٹ کے مطابق نجم الحسن کا کہنا تھا کہ کٹ کی رونمائی کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ساتھ بیٹھے اور کٹ کا جائزہ لیا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم میں سے کسی نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اس کٹ میں سرخ رنگ کی کمی ہے، تاہم اس کے بعد قومی ٹیم کی کٹ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

کرک انفو کے مطابق بی سی بی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) قوانین کے تحت ہی انہیں کٹ کا ڈیزائن فراہم کیا تھا، جس پر سبز رنگ کے ساتھ سرخ رنگ سے کھلاڑیوں کے نام اور نمبر لکھے گئے تھے۔

آئی سی سی نے پڑھنے میں مشکلات آنے کی وجہ سے اس کٹ کو مسترد کردیا تھا، جس کے بعد بی سی بی کی جانب سے سے مکمل سبز رنگ کی کٹ کا ڈیزائن دیا گیا جس میں کھلاڑیوں کے نام سفید رنگ سے لکھے ہوئے تھے جسے آئی سی سی نے منظور کرلیا تھا۔

بی سی بی کے صدر نجم الحسن نے بتایا کہ مداحوں کی شدید مخالفت کی وجہ سے بی سی بی کو عجلت میں ٹیم کا ڈیزائن تبدیل کرتے ہوئے اس میں سرخ رنگ کو شامل کرنا پڑا۔

خیال رہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم انگلینڈ میں ہونے والے کرکٹ ورلڈکپ 2019 میں اپنی مہم کا آغاز جنوبی افریقہ کے خلاف میچ سے کرے گی۔

دوسری جانب کرک انفو کی جانب سے کیے جانے والے سروے میں کرکٹ کے مداحوں نے بنگلہ دیشی کی 2019 کے لیے پہلے متعارف کروائی گئی مکمل سبز رنگ کی کٹ کو تاریخ کی بہترین کٹ قرار دیا۔

مداحوں نے 2019 کے لیے مکمل سبز رنگ کی جرسی کو اب تک کی بہترین جرسی قرار دیتے ہوئے سب سے زیادہ 36 فیصد ووٹ دیے۔

اس کے علاوہ مداحوں کی نظر میں بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کی 2015 میں متعارف کروائی جانے والی کٹ 2 بہترین جرسی قرار پائی۔

کرک انفو کے پول کے نتائج — فوٹو: اسکرین گریب
کرک انفو کے پول کے نتائج — فوٹو: اسکرین گری

چیئرمین پی سی بی اور گورننگ باڈی کی شاہ خرچیاں

 لاہور: چیئرمین پی سی بی اور گورننگ باڈی نے وزیر اعظم کی کفایت شعاری مہم کو ہوا میں اڑاتے ہوئے شاہ خرچیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے گزشتہ 7 ماہ میں 65 لاکھ روپے خرچ کر ڈالے، انہوں نے گھر کے کرائے کی مد میں 20 لاکھ روپے، 4 لاکھ 54 ہزار روپے گاڑی کے پیٹرول اور ڈرائیور کی تنخواہ کی مد میں خرچ کئے، اس کے علاوہ چیئرمین پی سی بی نے 33 لاکھ 46 ہزار روپے کی رقم بیرون ممالک دوروں پر خرچ کی جب کہ2 لاکھ 62 ہزار روپے ڈومیسٹک سطح کے سفری اخراجات پر خرچ ہوئے۔ پی سی بی کے گورننگ بورڈ میں اجلاسوں میں شرکت کی حثییت سے بھی چیئرمین پی سی بی نے بورڈ سے 20 ہزار روپے وصول کئے۔

دوسری جانب پی سی بی کی گورننگ بورڈ کی شاہ خرچیوں کا بھی کوئی جواب نہیں،احسان مانی کی زیر صدارت ہونے والی 3 بورڈ میٹنگز پر 29 لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ ہوئی، 7 لاکھ 20 ہزار روپے سے زائد رقم صرف میٹنگ الاﺅنسز اور 6 لاکھ 80 ہزار روپے ڈیلی الاﺅنس کی مد میں خرچ کئے گئے، گورننگ بورڈ کے ارکان کی رہائش پر 5 لاکھ جبکہ سفری اخراجات پر10 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔

محسن خان نے وسیم اکرم کی ایک بار پھر مخالفت کردی

کراچی: کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین محسن حسن خان کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم ورلڈکپ جیتنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور میگا ایونٹ میں میرٹ کا خیال رکھا گیا تو پاکستان ضرور جیتے گا۔ 

کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کرکٹ کمیٹی کے چیرمین محسن حسن خان کا کہنا تھا کہ کوئی ممبر کچھ بھی کہے کرکٹ کمیٹٰی کا وجود ہے اور میں پی سی بی کی کمیٹی کا چیئرمین ہوں، چیئرمین  بورڈ سے جب بھی بات ہوتی ہے وہ کمیٹی کے بارے میں ضرور پوچھتے ہیں۔

محسن حسن خان نے کہا کہ ڈیپارٹمن کرکٹ کا پاکستان میں ہمیشہ سے  اہم کردار رہا ہے، میں خود  ڈیپارٹمنٹل ٹیم سے کھیلتا تھا، جلد چیئرمین پی سی بی سے ملاقات متوقع ہے اور احسان مانی  سے ملاقات کے بعد ہی ڈیپارٹمن کرکٹ کے حوالے سے اصل تصویر منظر عام پر آئے گی جب کہ ملاقات کے بعد ڈیپارٹمنٹل کرکٹ پر اپنا نقطہ نظر پیش کروں گا۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کرکٹ کمیٹی کے رکن  وسیم اکرم کی ایک بار پھر مخالفت کردی، ورلڈکپ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم ورلڈکپ جیتنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، ورلڈکپ میں میرٹ  کا خیال رکھا گیا تو پاکستان  ضرور جیتے گا۔

Google Analytics Alternative