کھیل

ون ڈے سیریز، ’’پرفارم کرو ورلڈ کپ کھیلو‘‘ کپتان نے محمد عامر کو راہ دکھا دی

کراچی:  قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے محمد عامر کو ورلڈکپ کھیلنے کی راہ دکھا دی، ان کا کہنا ہے کہ پیسر انگلینڈ سے ون ڈے سیریز میں عمدہ پرفارم کر کے اسکواڈ میں جگہ بنا سکتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pk کے پروگرام ’’کرکٹ کارنر ود سلیم خالق‘‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سرفراز احمد نے کہاکہ بطور سینئر بولر محمد عامر ٹیم کیلیے پرفارم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،ان کو ورلڈکپ اسکواڈ سے ڈراپ کرنا مشکل فیصلہ تھا لیکن انگلینڈ کیخلاف سیریز میں اچھی کارکردگی دکھائیں تو جگہ بنا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ورلڈکپ کیلیے پلیئرز ذہنی اور جسمانی طور پر تیار ہیں، اسکواڈ کے انتخاب میں میری مشاورت شامل تھی،1،2پلیئرزکو چھوڑ کر بیشتر وہی ہیں جو ایک، ڈیڑھ سال سے پاکستان کیلیے کھیل رہے ہیں، متوازن اسکواڈ میں تجربہ کار سینئرز اور باصلاحیت جونیئرز شامل ہیں، مجھ سمیت آرام کرنے والوں نے تازہ دم ہوکر ٹیم کو جوائن کیا، کھلاڑیوں نے فٹنس بھی ثابت کردی، ہمارا مورال بلند اور سخت محنت کررہے ہیں۔

سرفراز احمد نے کہا کہ میگا ایونٹ کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کا بہترین موقع پاکستان کو ملا ہے، پریکٹس میچز شیڈول کیے گئے، میزبان ٹیم کیخلاف 5ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلنے کو مل رہے ہیں، مقابلے مختلف وینیوز پر ہونے کی وجہ سے پچز اور کنڈیشنز کو بھی سمجھنے میں مدد ملے گی۔

ایک سوال پرکپتان نے کہا کہ گذشتہ 3سال میں پاکستان نے انگلینڈ میں کئی یادگار کامیابیاں حاصل کی ہیں،2016میں ٹیسٹ سیریز برابر کی،اگلے برس چیمپئنز ٹرافی جیتی،2018میں بھی ٹیسٹ سیریز برابر کی،اس ٹریک ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے امید کی جا سکتی ہے کہ پُرعزم گرین شرٹس ورلڈکپ میں بھی بہترین کارکردگی پیش کریں گے۔

سرفراز نے کہا کہ ہمارا اصل ہدف تو ٹائٹل جیتنا ہے لیکن اس سے قبل بہترین حکمت عملی سے ایک ایک کرکے رکاوٹیں عبور کرنا ہوں گی۔ ٹورنامنٹ فارمیٹ کے مطابق 9میچز کے بعد سیمی فائنل اور پھر فائنل ہوگا،ایونٹ میں شریک ہر ٹیم کیخلاف میچ ہونے کی وجہ سے تسلسل کے ساتھ پرفارم کرنا ہوگا،سیمی فائنل تک رسائی کیلیے 5سے 6میچز جیتنا پڑیں گے۔انھوں نے کہا کہ ٹورنامنٹ کا فارمیٹ مختلف ہونے سے کسی ایک میچ میں بدقسمتی لے ڈوبتی ہے۔

ورلڈکپ 1992میں بہترین ٹیم نیوزی لینڈ کو سیمی فائنل میں شکست ہوئی،1999کے میگا ایونٹ میں پاکستان مسلسل فتوحات کے بعد فائنل ہار گیا، اس بار کوئی ٹیم بھی کمزور خیال نہیں کی جا سکتی، ہمیں ہر میچ فائنل سمجھ کر کھیلنا ہوگا۔

ایک سوال پر سرفراز نے کہا کہ مجھ سے اکثر لوگ کہتے ہیں کہ باقی کسی سے ہار بھی جائو تو بھارت کیخلاف میچ ضرور جیتو،ہماری بھی خواہش ہوتی ہے کہ روایتی حریف کیخلاف فتحیاب ہوں، دنیا بھرکی نظریں اس میچ پر ہونگی لیکن بطور کپتان میں یہ کہوں گا کہ ساری ٹیمیں مضبوط ہیں، ورلڈکپ جیتنے کیلیے صرف بھارت ہی نہیں بلکہ ایونٹ میں شریک تمام ٹیموں کیخلاف اچھی کارکردگی دکھانا ہوگی۔

عمران خان نے ورلڈ کپ میں بے خوف ہوکر کھیلنے کا مشورہ دیا، سرفراز

سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی خوبیوں اور خامیوں کو نظر میں رکھتے ہوئے بے خوف ہوکر کھیلنے کا مشورہ دیا، بے پناہ مصروفیات کی وجہ سے انھوں نے ہمیں نصف گھنٹے کیلیے بلایا تھا لیکن ایک گھنٹہ وقت دیا،سابق کپتان نے کھلاڑیوں کو زبردست تحریک دلاتے ہوئے کہا کہ بھرپور اعتماد کے ساتھ میدان میں جائیں، پوری قوم آپ کو سپورٹ کرے گی،نتائج کی پرواہ کیے بغیر بے خوف ہوکر اپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کریں۔

عمران خان نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اپنی خوبیوں اور خامیوں کا پتہ ہونا چاہیے،میدان میں جو بھی کرنا ہوکھل کرکریں، آپ ضرور کامیاب ہوں گے، میں حوصلہ بڑھانے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

کپتان شاداب کا ساتھ میسر ہونے کی دعا کرنے لگے

شاداب خان بیماری کی وجہ سے ٹیم کے ساتھ انگلینڈ نہیں جا سکے، ان کے حوالے سے سرفراز احمد نے کہا کہ لیگ اسپنر کی بیماری ہمارے لیے ایک بڑا دھچکا ہے،وہ بولنگ کے ساتھ بیٹنگ اور فیلڈنگ میں بھی پرفارم کرتے اور ٹیم کی جان ہیں،امید ہے کہ شاداب خان ورلڈکپ سے قبل مکمل طور پر فٹ ہوکر اسکواڈ میں شامل ہوجائیں گے۔

سرفراز احمد انگلینڈ کیخلاف دوسرے یا تیسرے ون ڈے میں محمد حفیظ کی دستیابی کیلیے پُرامید ہیں، انھوں نے کہاکہ آل رائونڈر کے ہاتھ کی سرجری ہوئی،بحالی پروگرام پر عمل درآمد کے بعد انھوں نے بیٹنگ بھی شروع کردی، امید ہے کہ انگلینڈ کیخلاف دوسرے یا تیسرے ون ڈے تک مکمل فٹ ہوکر کھیلنے کے قابل ہوجائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ عماد وسیم کی میچ فٹنس میں کوئی مسائل نہیں ہیں، گھٹنے کی انجری کا مسئلہ 7ماہ سے چل رہا تھا، صرف ایک خاص زاویے سے حرکت میں انھیں تھوڑی مشکل پیش آتی ہے،نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں عماد نے فٹنس ٹیسٹ کی بیشتر آزمائشوں میں 17کے قریب پوائنٹس لیے لیکن ڈاکٹر کی ہدایت پر ٹائم ٹرائلز وغیرہ میں ان کو رعایت دی گئی، ٹیسٹ کے دوران کسی آزمائش میں ایک دم پیچھے کو مڑنا پڑتا ہے جو ان کیلیے موزوں نہیں تھا، میچ کھیلتے ہوئے وہ کسی مسئلے کا سامنا نہیں کریں گے۔

کپتان کوحسنین سے بلند توقعات وابستہ

سرفراز احمد کو پیسر محمد حسنین سے بلند توقعات وابستہ ہیں،قومی ٹیم کے کپتان نے کہاکہ نوجوان بولر اپنی رفتار کی وجہ سے حریفوں کیلیے خوف کی علامت بن سکتے ہیں،متاثر کن پیسر نے اپنی صلاحیتوں کی جھلک دکھ دی ہے،انھوں نے کینگروز کیخلاف ون ڈے سیریز میں بھی ظاہر کیا کہ تیز بولنگ سے ٹیم کیلیے کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں،انگلش کنڈیشنز میں 150کی رفتار سے گیندیں پھینکنے والا بولر کسی بھی ٹیم میں ہو’’ایکس فیکٹر‘‘ بن سکتا ہے۔

رضوان کو ڈراپ کرنا مشکل فیصلہ تھا،عابد علی متبادل وکٹ کیپرہوںگے

سرفراز احمد نے کہاکہ محمد رضوان ایک بہترین بیٹسمین اور وکٹ کیپر ہیں،کینگروز کیخلاف ون ڈے سیریز میں 2سنچریاں بنانے کے باوجود ان کو ڈراپ کرنا ہمارے لیے بھی بڑا مشکل فیصلہ تھا، بطور اسپیشلسٹ بیٹسمین ان کی جگہ مڈل آرڈر میں نہیں بنتی تھی جہاں بابر اعظم،حارث سہیل، محمد حفیظ اور شعیب ملک پہلے سے موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ محمد رضوان کیلیے بدقسمتی کی بات ہے کہ میں وکٹ کیپر ہونے کے ساتھ کپتان بھی ہوں، البتہ پاکستان کرکٹ کیلیے خوش آئند بات یہ ہے کہ خدانخواستہ کسی کو مسئلہ ہوجائے تو بیک اپ میں باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں۔

ایک سوال پر سرفراز احمد نے کہا کہ عابد علی اور شان مسعود میں ٹیم میں جگہ بنانے کیلیے سخت مقابلہ تھا،دونوں کی ڈومیسٹک اور اے ٹیموں کی جانب سے کارکردگی اچھی رہی ہے،حالیہ فارم اور وکٹ کیپنگ کی اضافی خوبی کو دیکھتے ہوئے عابد علی کو ترجیح دی،اگر میری کوئی انجری وغیرہ ہوئی تو ان کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی رینکنگ؛ پاکستان کا پہلی پوزیشن پر قبضہ برقرار

آئی سی سی نے گلوبل ٹی ٹوئنٹی رینکنگ جاری کی ہے جس میں پاکستان نے بدستور پہلی پوزیشن پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔

آئی سی سی گلوبل ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پاکستان 286 پوائنٹس کے ساتھ بدستورنمبرون پوزیشن پر ہے، جب کہ جنوبی افریقہ 262 پوائنٹس کے ساتھ دوسری، انگلینڈ261 کے ساتھ تیسری، آسٹریلیا 261 کے ساتھ چوتھی اور بھارت 260 پوائنٹس کے ساتھ پانچویں پوزیشن پر قبضہ جمائے ہوئے ہے۔

نیوزی لینڈ 254 پوائنٹس کے ساتھ چھٹے، افغانستان 241 کے ساتھ ساتویں، سری لنکا 227 کے ساتھ آٹھویں، ویسٹ انڈیز 226 کے ساتھ نویں اور بنگلہ دیش220 پوائنٹس کے ساتھ دسویں نمبر پر ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال آئی سی سی نے فیصلہ کیا تھا کہ یکم جنوری 2019 سے تمام ممبر ملکوں کے درمیان میچز کو انٹرنیشنل کا درجہ حاصل ہوگا اور ان کی بنیاد پر رینکنگ بھی جاری کی جائے گی۔ اس بار گلوبل رینکنگ میں 80 ٹیموں کو شامل کیا گیا ہے جن میں روانڈا اور لیسوتھو آخری نمبروں پر ہیں۔

پاکستانی ہتھیاروں کی جانچ مکمل، بیشتر تیر نشانے پر بیٹھ گئے

لاہور: دورۂ انگلینڈ کے ابتدائی معرکوں میں پاکستانی ہتھیاروں کی جانچ مکمل ہو گئی جب کہ بیشتر تیر نشانے پر بیٹھنے سے مینجمنٹ نے سکھ کا سانس لے لیا۔

میزبان ٹیم سے سیریز اور ورلڈکپ کی تیاریوں کیلیے قبل ازوقت انگلینڈ پہنچنے والی پاکستان ٹیم فٹنس اور دیگر مسائل سے پیچھا چھڑانے میں ناکام رہی ہے، شاداب خان خطرناک وائرس کا شکار ہونے کی وجہ سے زیر علاج ہیں، محمد حفیظ ہاتھ کا کامیاب آپریشن کرانے کے بعد بحالی فٹنس کیلیے کوشاں ہیں، شعیب ملک پہلا پریکٹس میچ کھیلنے کے بعد نجی مسائل کی وجہ سے 10دن کی رخصت پر چلے گئے۔ اس کے باوجود پاکستان نے تینوں پریکٹس میچز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔

سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ آسٹریلیا سے سیریز میں آرام کرنے والے کھلاڑی بھی تسلسل کے ساتھ پرفارم کررہے ہیں، فخرزمان نے کینٹ سے میچ میں76رنز بنانے کے بعد نارتھمپٹن شائر کیخلاف سنچری جڑ دی،دونوں ایک روزہ میچز کے بعد لیسٹر شائر سے ٹی ٹوئنٹی میں بھی انھوں نے 30گیندوں پر52کی اننگز کھیلی، چیمپئنز ٹرافی کے ہیرو کی حالیہ فارم پاکستان کیلیے باعث اطمینان بات ہے۔

بابر اعظم پہلے میچ میں ڈبل فیگر تک نہیں پہنچ پائے، دوسرے میں 68پر ناقابل شکست رہے۔ ٹی ٹوئنٹی میں انھوں نے صرف 63گیندوں پر 101کی اننگز کھیلی،عماد وسیم نے پہلے ون ڈے میں جارحانہ 117رنز بناکر ٹیم کا ٹوٹل 7وکٹ پر 358تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا،حارث سہیل نے بھی 75کی اننگز کھیلی۔

نارتھمپٹن شائر کیخلاف امام الحق 71رنز بنانے میں کامیاب ہوئے،حیران کن طور پر ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھی ان کو شامل کیا گیا جبکہ عابد علی کوابھی تک صرف پانی پلانے تک محدود رکھا گیا ہے۔ آصف علی تیسرے میچ میں موقع ملنے پر 22کی اننگز کھیل سکے،مجموعی طور پر بیٹنگ لائن کی کارکردگی حوصلہ افزا ہے۔

بولرز میں حسن علی،فہیم اشرف،شاہین شاہ آفریدی،محمد عامر اور محمد حسنین پیس اور باؤنس کا فائدہ اٹھاتے نظر آئے،جیند خان نے ایک میچ میں حصہ لیا اور 79رنز دے کر ایک شکار کیا، شاداب خان کی بیماری کے سبب اچانک اسکواڈ میں شامل کیے جانے والے یاسر شاہ کو ایک میچ میں 90اور دوسرے میں 61رنزکی پٹائی برداشت کرنا پڑی،وہ ٹی ٹوئنٹی میچ کیلیے ٹیم میں جگہ بنا سکے۔

محدود اوورز کی کرکٹ میں یاسر کی فارم منیجمنٹ کیلیے باعث تشویش ہے تاہم عماد وسیم نے بہت کفایتی بولنگ کرتے ہوئے وکٹیں بھی حاصل کی ہیں،خدشہ یہی ہے کہ محمد حفیظ 5مئی کو انگلینڈ سے واحد ٹی ٹوئنٹی کے بعد 2ون ڈے میچز کیلیے بھی دستیاب نہیں ہوں گے،شعیب ملک بھی پہلے ایک روزہ میچ سے قبل ٹیم کو جوائن نہیں کرسکیں گے۔اس صورت میں پاکستان کو یاسر شاہ کا جوا کھیلنے یا پھر حارث سہیل اور فخرزمان جیسے پارٹ ٹائم بولرز کا سہارا لینا ہوگا۔

دریں اثناء انگلینڈ سے واحد ٹی ٹوئنٹی میچ کیلیے گرین شرٹس گزشتہ روز بذریعہ بس 3گھنٹے کا سفر طے کرکے لیسٹر سے کارڈف پہنچ گئے، پلیئرزجمعے کو صبح ساڑھے 9سے ساڑھے 12بجے تک پریکٹس سیشن میں صلاحیتیں نکھارنے کی کوشش کریں گے۔

ميانداد کو بڑا کھلاڑی سمجھا جاتا ہے مگر وہ چھوٹے آدمی ہيں، شاہد آفریدی

کراچی: شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں وقاریونس کو اوسط درجے کا کپتان اور خوفناک کوچ قراردے دیا۔

قومی ٹیم کے سابق کپتان کی آپ بیتی گیم چینجر ہفتے کومنظرِ عام پر آئے گی، بوم بوم شاہد آفریدی نے اپنی کتاب گیم چینجرمیں سنسنی خیزانکشافات کردیے، سابق کپتان کی آپ بیتی گیم چینجرکی تقریب رونمائی کراچی کے ایک شاپنگ مال میں ہوگی۔ کتاب میں بوم بوم آفریدی نے اپنے سابق سینئراورکوچ وقاریونس کو اوسط درجے کا کپتان اورخوفناک کوچ قراردیتے ہوئے کہا کہ وقار یونس جب سے  پاکستان ٹیم کےکوچ بنے تو اُن کی وسیم اکرم سے کشمکش رہی، وقار یونس نے ہرکام میں مداخلت کی، اسی لیے وسیم  اور وقار یونس کے درمیان اختلافات رہے۔

شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں جاوید میانداد کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ميانداد کو بڑا کھلاڑی سمجھا جاتا ہے مگروہ چھوٹے آدمی ہيں، جاوید میانداد کو میرے بیٹنگ اسٹائل سے نفرت تھی، کراچی سیریز شروع ہونے سے پہلے ہی میانداد نے میرے خلاف ایک محاذ قائم کر لیا تھا جب کہ پريزينٹيشن تقريب ميں جاوید میانداد نے مجھ سے زبردستی تعريف کرائی۔

سابق کپتان نے کہا کہ اسپاَٹ فکسنگ اسکينڈل کا بہت پہلے علم ہوگيا تھا، مظہر مجید نے فون مرمت کيلئے لندن میں ایک دکان پر دیا تھا، دکان کا مالک میرے دوست کا دوست نکلا، مظہر مجید کے فون سے پاکستانی کھلاڑیوں کوکیے گئے پیغامات ملے، ٹيم مينجمنٹ کوثبوت دکھائے مگر کوئی ايکشن نہ ہوا، میں نے یہ پیغامات وقار یونس اور یاورسعيد سے شیئر کیے، یاور سعید نے یہ پیغامات دیکھ کر بے بسی کا اظہار کیا، یاور سعید نے مجھ سے پیغامات کی کاپی مانگنے کی زحمت بھی نہ کی، منجمنٹ خوفزدہ تھی يا اسے ملک کے وقار کا خيال نہ تھا۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ عبدالرزاق نے بھی سلمان، عامر اور آصف پر شک کا اظہار کيا تھا، لارڈز ٹیسٹ کے دوران کپتانی  چھوڑنے کا فيصلہ کرليا تھا، چوتھے دن سلمان سے پوچھا وہ قيادت سنبھال سکتا ہے، میرا پورے سیٹ اپ سے اعتبار اٹھ چکا تھا، ٹیم مینجمنٹ معاملے کی فعال تحقیقات نہیں کررہی تھی، سلمان بٹ کو مستقبل میں قومی ٹیم میں جگہ نہیں ملنی چاہیے، اس وقت شعیب ملک کپتانی کے لیے فٹ نہیں تھے، ناتجربہ کاری شعیب ملک کی کمزوری تھی، شعیب ملک کو کپتان اور سلمان بٹ کو نائب کپتان بنانا غلط اقدام تھا، کان کا کچا شعيب ملک برے لوگوں سے برے مشورے ليتا تھا۔

دوسری جانب شاہد آفریدی اپنی کتاب کی رونمائی سے قبل ہی اس کے چرچوں پر کھل اٹھے، فوری ردعمل دیتے ہوئے ٹوئٹ بھی کر ڈالا تاہم انہوں نے کتاب میں کی جانے والی تنقید کومیڈیا کی جانب سے بڑھاوا قرار دے دیا، ان کا کہنا ہے کہ میں نے تنقید کے ساتھ اسٹار کھلاڑیوں کو سراہتے ہوئے تعریفی کلمات بھی ادا کیے ہیں، ازراہ کرم سوانح عمری پر مشتمل میری کتاب کا مطالعہ کریں۔

رونالڈو نے دنیا کی مہنگی ترین گاڑی خریدلی

کرسٹیانو رونالڈو نے دنیا کی مہنگی ترین گاڑی بوگاٹی لا ووتیورے نوئرے خرید لی ہے۔

خبر رساں ویب سائٹ ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق رونالڈو نے 1 کروڑ 10 لاکھ یورو کی منفرد بوگاٹی گاڑی خریدی جسے رواں سال جنیوا موٹر شو میں پیش کیا گیا تھا۔

فرانسیسی کمپنی نے اپنی 110ویں سالگرہ پر واحد پروٹو ٹائپ گاڑی بنائی تھی جسے موٹر شو میں پیش کیا گیا تھا۔

فوٹو بشکریہ بوگاٹی ویب سائٹ
فوٹو بشکریہ بوگاٹی ویب سائٹ

یہ گاڑی معروف بوگاٹی ٹائپ 57 ایس سی ایٹلانٹک کی جدید شکل ہے جو 1936 اور 1938 میں کمپنی کی جانب سے صرف 4 گاڑیاں بنائی گئی تھیں۔

گاڑی میں 8.0 لیٹر ٹربو چارجڈ ڈبلیو 16 انجن اور یہ 260 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

بوگاٹی نے تصدیق کی کہ ان کی واحد گاڑیا کا مالک مل گیا ہے تاہم انہوں نے اس کی شناخت نہیں بتائی۔

رپورٹ کے مطابق رونالڈو یہ گاڑی 2021 تک چلا نہیں سکیں کیونکہ کمپنی نے اب بھی اس پروٹو ٹائپ گاڑی میں مزید کام کرنا ہے۔

خیال رہے کہ رونالڈو کے پاس متعدد پرتعیش گاڑیاں ہیں جن میں مرسڈیز سی کلا اسپورٹ کوپے، رولز رائس فینٹم، یو جے این فراری 599 جی ٹی او، لمبرگنی ایونٹاڈور ایل پی 700-4، ایسٹن مارٹن ڈی بی 89، مکلارن ایم پی 4 12سی اور بینٹلے کونٹینینٹل جی ٹی سی اسپیڈ شامل ہیں۔

آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں انگلینڈ کی بادشاہت برقرار

دبئی: آئی سی سی کی سالانہ ون ڈے رینکنگ میں انگلینڈ اور ٹیسٹ میں بھارت کی بادشاہت برقرار ہے۔

آئی سی سی کی سالانہ ون ڈے رینکنگ میں انگلینڈ 123 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے، بھارت صرف 2 پوائنٹس کے فرق کیساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جنوبی افریقہ (115) تیسرے،نیوزی لینڈ (113) چوتھے، آسٹریلیا (109) پانچویں، پاکستان (96) چھٹے، بنگلہ دیش( 86 ) ساتویں، ویسٹ انڈیز (80) آٹھویں، سری لنکا (76) نویں،  افغانستان (64) دسویں نمبر پر ہے۔

سالانہ ٹیسٹ رینکنگ میں بھارت سرفہرست جب کہ دیگر ٹاپ 10 ٹیموں میں بالترتیب نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، انگلینڈ، آسٹریلیا، سری لنکا، پاکستان، ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش اور زمبابوے شامل ہیں۔

بورڈ حکام ورلڈکپ کے بعد انضمام الحق کے معاہدے میں توسیع کے خواہش مند

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام نے ورلڈکپ کے بعد بھی انضمام الحق کے معاہدے میں توسیع کی خواہش ظاہر کردی۔

پی سی بی کے چیئرمین  احسان مانی اور ایم ڈی وسیم خان کے ساتھ چیف سلیکٹر انضمام الحق بھی  ورلڈکپ میچز دیکھنے انگلینڈ جائیں گے۔ عید الفطر کے فوری بعد پاکستان کو آسٹریلیا اور بھارت کے خلاف اہم میچز کھیلنا ہیں، اس موقع پر بورڈ حکام کے ساتھ چیف سلیکٹر بھی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے وہاں موجود ہوں گے۔

ورلڈکپ میں پاکستان اورآسٹریلیا کا مقابلہ 12 جون کو طے ہے جب کہ روایتی حریف بھارت اور پاکستان کا  آمنا سامنا 16 جون کو ہوگا۔ ذرائع کےمطابق  ابتدائی  پلان کے مطابق چیف سلیکٹر انضمام الحق دوہفتے انگلینڈ  میں قیام کریں گے اورورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔

چیف سلیکٹر سمیت قومی ٹیم کے ساتھ کام کرنے والے تمام کوچنگ اسٹاف کا کنٹریکٹ ورلڈکپ تک ہے، کرکٹ کے اس عالمی میلے کے لیے منتخب کی جانے والی ٹیم انضمام الحق کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی کی  آخری اسائمنٹ ہے۔ ورلڈکپ کے بعد انضمام الحق  اور ان کے ساتھیوں کا مستقبل کیاہوگا، اس کا فیصلہ قومی ٹیم کی کارکردگی  پر منحصر ہے تاہم بورڈ حکام  کی خواہش ہےکہ انضمام الحق ورلڈکپ کے بعد بھی ذمہ داریاں نبھائیں۔

ایک اعلی حکام نے اس سلسلے میں معاہدے میں توسیع کے لیے سابق کپتان سے بات بھی کی ہے تاہم انضمام الحق نے فوری کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا، ان کا موقف ہے کہ وہ ورلڈکپ میں قومی کرکٹرز کی پرفارمنس اور حالات وواقعات کو سامنے رکھ کر جواب دیں گے۔

قومی کرکٹرز کی ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرنے کی مخالفت

قومی کرکٹر وہاب ریاض اور کامران اکمل نے بھی ڈیپارٹمنٹل کرکٹ جاری رکھنے کے حق میں آواز بلند کردی۔

فاسٹ بولر وہاب ریاض کہتے ہیں کرکٹ کا اسٹرکچر کیا  ہونا چاہیے، اس کا فیصلہ تو بہر حال پی سی بی نے کرناہے لیکن میری ذاتی رائے میں  ڈیپاڑٹمنٹل کرکٹ کی وجہ سے ہی بہترین کرکٹ ہونے کے ساتھ  اچھے کرکٹرز بھی سامنے آرہےہیں۔اس کو ہرگز بند نہیں کرناچاہیے۔ ہمارے زیادہ ترکرکٹرزکو ڈیپارٹمنٹس نے روزگار دے رکھا ہے اگر محکموں کی ٹیمیں ختم ہوجائیں گے توپھر ہمارے کرکٹرز کو بھی بہت نقصان ہوگا،کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اس پہلو کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔

وکٹ کپیر بلے باز کامران اکمل کا کہنا ہے کہ پی سی بی ہرسال ڈومیسٹک سسٹم تبدیل کرتا ہے اور اس کو کتنا مزید بدلیں گے۔ ڈیپارٹمنٹ کرکٹ بند ہونے سے ہماری کرکٹ بہت نیچے چلی جائے گی۔ جاوید میاں داد، عبدالقادر سمیت جتنے بھی کرکٹرز اس پر بات کررہے ہیں، اس کی وجہ صرف یہ ہےکہ وہ صرف یہ احساس دلاناچاہتے ہیں کہ ڈیپارٹمنٹ کرکٹ ہمارے ملک کےلیے کتنی اہم ہے، ہم خود محکموں کی کرکٹ سے یہاں تک پہنچے ہیں۔

کامران اکمل نے کہا کہ پی سی بی اور وزیر اعظم عمران خان کو اس حوالے سے جلد بازی نہیں کرنی چاہیے بلکہ سوچنا چاہیے کہ ایسا کرنے سے کرکٹ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ہمارے ملک  کی آبادی اب 22 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، اس میں صرف 6  ٹیمیں بنانا بہت مشکل ہے، آسٹریلیا کی آبادی  ہم سے بہت کم ہے، وہاں  کے نظام میں ایسا ہوسکتاہے۔ میری راے میں   ڈیپارٹمنٹ کرکٹ کو کسی صورت بند نہیں ہونا چاہیے، بلکہ محکموں کی کرکٹ کو بڑھانے پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے، انہیں  انڈرنائن ٹین اور انڈر سکسٹین ٹیمیں بھی بنانے کی ہدایت کرنی چاہیے۔

Google Analytics Alternative