کھیل

پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ کے معاملے پر محمد حفیظ کی وضاحت

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کھلاڑیوں کو حال ہی میں دیے گئے سینٹرل کنٹریکٹ کے معاملے پر قومی ٹیم کے تجربہ کار آل راؤندر محمد حفیظ نے میڈیا پر اپنے حوالے سے چلنے والے خبروں پر وضاحتی بیان جاری کر دیا ہے۔

محمد حفیظ نے سوشل میڈیا پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ہمیشہ عزت اور جذبے کے ساتھ پاکستان کے لیے کھیلا ہوں۔

Mohammad Hafeez

@MHafeez22

Regarding Central contract issue,I want to yet again clear 2 all my fans & media ppl that I always played for Pakistan🇵🇰 with Highest Passion,Dignity & Honour surely not for money,M happy to serve my beloved county in even C or D category no matter what but to play with Respect

قومی ٹیم کے کھلاڑی نے کہا کہ کبھی پیسے کے لیے نہیں کھیلا، عزت کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہوں۔

محمدحفیظ نے مزید کہا کہ ملک کی خدمت کرنا چاہتا ہوں چاہے سی کیٹیگری میں ہوں یا ڈی میں۔

خیال رہے کہ چند روز قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کھلاڑیوں کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کیا گیا تھا جس میں محمد حفیظ کو اے کیٹیگری سے بی کیٹیگری میں شامل کیا گیا تھا۔

محمد حفیظ کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹر پی سی بی کے اس فیصلے سے ناخوش ہیں اور کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے حوالے سے سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں۔

اسپاٹ فکسنگ کیس: شاہ زیب حسن کی سزا بڑھا کر 4 سال کردی گئی

قومی ٹیم کے کھلاڑی شاہ زیب حسن کی پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے فیصلے میں عائد 10 لاکھ روپے جرمانے کے خلاف اپیل کو مسترد کردیا گیا جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی درخواست قبول کرتے ہوئے پابندی کو بڑھا کر 4 سال کر دیا گیا۔

پی ایس ایل اسکینڈل کے فیصلے کی اپیل کی سماعت کے لیے مقرر جسٹس حامد فاروق نے دونوں جانب سے دلائل سننے کے بعد نظرثانی اپیلوں پر فیصلہ سنایا۔

یاد رہے کہ پی سی بی کی جانب سے قائم انسداد کرپشن ٹربیونل نے رواں سال 28 فروری کو شاہ زیب حسن کو جرم ثابت ہونے پر ایک سال کی پابندی اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

انسداد کرپشن ٹربیونل نے شاہ زیب حسن کو پی سی بی کے آئین کی تین شقوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا تھا۔

شاہ زیب حسن پہلے ہی ایک سالہ پابندی مکمل کرچکے تھے تاہم انھوں نے جرمانے کے خلاف اپیل دائر کی تھی جبکہ پی سی بی نے ٹریبونل کے ایک سالہ پابندی کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

جسٹس حامد فاروق نے پی سی بی کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے شاہ زیب حسن کی سزا ایک سال سے بڑھا کر چار سال کر دی جبکہ شاہ زیب حسن کی اپیل مسترد کرتے ہوئے 10 لاکھ روپے جرمانے کو بھی برقرار رکھا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شاہ زیب حسن پر عدم تعاون اور کھلاڑیوں کو اکسانے کا جرم ثابت ہوا جبکہ شاہ زیب حسن ایک سال کی سزا کاٹ چکے ہیں۔

پی سی بی کے وکیل تفضل رضوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے شاہ زیب کی پابندی میں توسیع کی درخواست کی تھی جس کو منظور کرلیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارا موقف تھا کہ شاہ زیب کو تین شقوں کی خلاف ورزی پر ایک سال سے زائد سزا ہونی چاہیے اور آج ہمارے موقف کو تسلیم کیا گیا۔

خیال رہے کہ شاہ زیب حسن کو گزشتہ برس 18 مارچ کو معطل کیا گیا تھا اس لیے ان کی سزا 17 مارچ 2018 کو ختم ہو جائے گی۔

شاہ زیب حسن کیس کی اینٹی کرپشن ٹریبونل میں گزشتہ سال 21 اپریل سے سماعت شروع ہوئی اور ان کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کیس کا فیصلہ 31 جنوری کو محفوظ کیا گیا تھا۔

پاکستان کے خلاف سیریز؛ آسٹریلیا اہم پیس ہتھیاروں سے محروم

سڈنی: پاکستان کے خلاف میدان سنبھالنے سے قبل ہی آسٹریلیااہم پیس ہتھیاروں سے محروم ہوگیا۔

آسٹریلیا کی پہلے سے ہی کمزور سائیڈ کیلیے بُری خبر یہ ہے کہ وہ پاکستان سے متحدہ عرب امارات میں اکتوبر میں شیڈول سیریز میں2 اہم فاسٹ بولرز پیٹ کمنز اور جوش ہیزل ووڈ کے بغیر میدان سنبھالے گی، دونوں کمر کی تکالیف میں مبتلا اور جنوبی افریقہ میں مارچ میں کھیلی گئی سیریز کا بھی حصہ نہیں تھے، وہاں سامنے آنے والے بال ٹیمپرنگ اسکینڈل کے بعد کینگروز اپنے کپتان اسٹیون اسمتھ، ڈیوڈ وارنر اور بین کرافٹ کی خدمات سے محروم ہوچکے ہیں۔

اس عرصے میں انھیں انگلینڈ میں محدود اوورز کے مقابلوں میں وائٹ واش اور پھرزمبابوے میں کھیلی جانے والی ٹوئنٹی 20 ٹرائنگولر سیریز میں پاکستان کے ہاتھوں 2 مرتبہ شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔

ٹیم فزیو ڈیوڈ بیکلے نے کہاکہ پیٹ کمنز اور جوش ہیزل ووڈکمر کی تکالیف سے نجات حاصل نہیں کرپائے، بدقسمتی سے ان کی فٹنس کا لیول اتنا نہیں جتنااکتوبر میں یو اے ای میں شیڈول سیریز کیلیے درکار ہے۔ البتہ ہمیں امید ہے کہ یہ دونوں ڈومیسٹک ون ڈے کپ میں لوٹیں گے،پھر نومبر میں جنوبی افریقہ سے ہوم ون ڈے سیریز کیلیے دستیاب ہوں گے۔

تین میچز کی یہ سیریز 4 نومبر سے پرتھ میں شروع ہوگی جس کے بعد بھارت کے خلاف آسٹریلیا کو ہوم گرائونڈز پر 3 ٹوئنٹی 20، 4 ٹیسٹ اور 3 ون ڈے میچز کھیلنے ہیں تاہم اب پاکستان سے سیریز کیلیے آسٹریلوی پیس اٹیک کا بوجھ مچل اسٹارک کے کندھوں پر ہوگا، اگرچہ وہ بھی بعض معمولی انجریز سے دوچار ہیں، مگر ٹیم منیجمنٹ کو امید ہے کہ وہ پاکستان کیخلاف سیریز سے قبل مکمل فٹ ہوجائیں گے۔

فخرزمان نے اپنا ایوارڈ اے پی ایس کے شہدا کے نام کردیا

قومی کرکٹ ٹیم کے جارح مزاج اوپننگ بلے باز فخر زمان نے پی سی بی کی جانب سے دیا گیا ایوارڈ آرمی پبلک اسکول کے شہدا کے نام کردیا۔ 

گزشتہ روز پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے رنگا رنگ تقریب سجائی گئی جس میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں سمیت ڈومیسٹک میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو بھی ایوارڈز دیے گئے جب کہ پاکستان کی جانب سے حال ہی میں واحد ڈبل سنچری بنانے والے جارح مزاج بلے باز فخرزمان کو بھی اسپیشل ایوارڈ برائے آؤٹ اسٹینڈنگ پرفارمر کا ایوارڈ دیا گیا۔

فخرزمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے اپنا ایوارڈ سانحہ آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) میں جانوں کی قربانی دینے والے شہدا کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے اصل ہیرو وہ بچے ہیں جو دہشتگردی کا نشانہ بنے، ہم تو صرف کرکٹ انجوائے کرنے کے لیے کھیلتے ہیں۔

جارح مزاج بلے باز کا کہنا تھا کہ میں یہ ایوارڈ گھر نہیں لے کرجاؤں گا بلکہ خود اے پی ایس پشاور جاکر دوں گا۔ اس سے قبل انہوں نے ایوارڈ دینے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

پی سی بی سے ناراض حفیظ ایوارڈ تقریب میں شریک نہیں ہوئے

 لاہور:  سینٹرل کنٹریکٹ میں تنزلی پرپی سی بی حکام سے ناراض محمد حفیظ ایوارڈز کی تقریب میں شریک نہ ہوئے۔

کرکٹر کے قریبی ذرائع کے مطابق بورڈ نے ان کو ایونٹ میں شرکت کی دعوت دی تھی تاہم انھوں نے معذرت کرلی تھی۔ محمد حفیظ ان دنوں اپنی فیملی کے ہمراہ شمالی علاقوں کے تفریحی دورے پر ہیں۔

یاد رہے کہ پی سی بی نے سینٹرل کنٹریکٹ میں محمد حفیظ کی ’’اے‘‘ سے ’’بی‘‘ کیٹیگری میں تنزلی کردی تھی جس پر آل رائونڈر نے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

دوسری طرف شعیب ملک کیریبیئن پریمئیر لیگ میں مصروف ہونے کی وجہ سے تقریب میں شامل نہیں ہوسکے۔ایک انٹرویو میں آل رائونڈر نے کہا کہ ایوارڈز کا انعقاد ایک بہت اچھا قدم ہے اور کھلاڑیوں کی محنت کو سراہا جانا قابل ستائش ہے۔

خیبرپختونخوا کو14 سال بعد انٹرنیشنل اسکواش مقابلوں کی میزبانی مل گئی

پشاور: پاکستان اسکواش فیڈریشن نے 14 سال بعد خیبرپختونخوا کو بین الاقوامی اسکواش مقابلوں کی میزبانی دے دی رواں ماہ کے آخر میں مقابلوں کا انعقاد کیا جائے گا۔

پاکستان اسکواش فیڈریشن نے خیبرپختونخوا کو بھی بین الاقوامی ایونٹ کے انعقاد کی میزبانی کرنے کا موقع دے دیا ہے اور رواں ماہ کے آخر میں 14 سال بعد اسکواش کے بین الاقوامی مقابلوں کا انعقاد کیا جائے گا۔

اس حوالے سے اسکواش کے سابق عالمی چیمپئین قمر زمان نے میڈیا کو بتایا کہ مصر، انگلینڈ، ہانگ کانگ، کینیڈا اور دوسری ٹیموں نے پشاور میں کھیلنے پر اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے اور بین الاقوامی مقابلوں کے شیڈول کے لیے ورلڈ اسکواش فیڈریشن کو خط لکھ دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی مقابلے15 سے 25 ہزارڈالر انعامی رقم کےعوض کرائے جائیں گے، اسکواش کے فروغ کے لیے نامزد وزیراعظم عمران خان سے بھی ملنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور پاکستان اسکواش فیڈریشن کے صدر بہت جلد سابق عالمی چیمپئینز کے ہمراہ عمران خان سے ملیں گے۔

قمر زمان  نے کہاخیبرپختونخوا کو پشاور میں خواتین کے بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی بھی دی جارہی ہے، بین الاقوامی مقابلوں کے لیے اسپانسر شپ کی ضرورت ہے حکومت کو بھی تعاون کرنا ہوگا۔

جس دن تبدیلی کا اشارہ ملا پی سی بی کو خیر باد کہہ دوں گا، نجم سیٹھی

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین، سابق کرکٹ کپتان اور اپنے دور کے عظیم آل راؤنڈرعمران خان پاکستان کے وزیراعظم بننے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار ہیں اور ایسے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے نئے چیئرمین کی تقرری کے حوالے سے گیند عمران خان کے کورٹ میں ڈال دی ہے۔

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ بطور وزیراعظم عمران خان بورڈ کے سرپرست اعلیٰ ہوں گے اور اگر وہ اپنے کسی شخص کو پی سی بی میں لانا چاہتے ہیں تو مجھے اشارہ کردیں میں استعفیٰ دے دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ نیا چیئرمین مقرر کرنا، پیٹرن ان چیف کا استحقاق ہے لیکن ابھی میں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج ابھی مکمل بھی نہیں ہوئے تھے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی ممکنہ تبدیلی کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں اور ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر یہ سوال گردش کرنے لگا کہ عمران خان کی حکومت آنے کی صورت میں کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بھی تبدیل ہو جائے گا؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی سے جب یہ سوال پوچھا کہ کیا آپ عمران خان کے آنے کے بعد چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے تو انہوں نے انتہائی محتاط انداز میں کہا کہ ‘میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنی ذات کی خاطر عدم استحکام اور انتشار سے دوچار نہیں کرنا چاہتا، اگر مجھے عمران خان یا ان کے کسی بھی مشیر کی جانب سے یہ اشارہ مل گیا کہ وہ مجھے چیئرمین کی حیثیت سے نہیں دیکھنا چاہتے اور اپنا آدمی لانا چاہتے ہیں تو میں از خود پاکستان کرکٹ بورڈ کو خیر باد کہہ کر گھر چلا جاؤں گا’۔

عام انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد نجم سیٹھی کا اپنے مستقبل کے حوالے سے یہ پہلا انٹرویو ہے۔ انہوں نے اس مسئلے پر کھل کر اظہار کرنے سے گریز کیا لیکن تاہم واضح طور پر اپنا پیغام پہنچادیا۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاوں گا جس سے پی سی بی کو نقصان ہو، کرکٹ سے میری روزی روٹی وابستہ نہیں ہے، میں ٹی وی پر اپنا شو بھی شروع کرسکتا ہوں، میں نے کوئی کوئی غلط کام نہیں کیا ہے کہ گھبراؤں۔

خیال رہے کہ امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں پنجاب اسمبلی کی نو منتخب آزاد رکن جگنو محسن نے جہاں اپنے سیاسی مقاصد واضح کیے وہیں اپنے شوہر نجم سیٹھی کے مستقبل پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ نجم سیٹھی آئندہ 8 سے 10 دنوں میں اس بارے میں اہم فیصلہ کریں گے اور وہ یہ فیصلہ اپنی عزت نفس کو سامنے رکھتے ہوئے کریں گے۔

اس حوالے سے نجم سیٹھی نے کہا کہ ابھی تک میرا بورڈ چھوڑنے کا ارادہ نہیں ہے لیکن میں اسی صورت میں کام کروں گا جب عمران خان یا ان کے لوگ مجھے کام جاری رکھنے کے بارے میں کہیں گے، اپنے مستقبل کے بارے میں کسی دباؤ پر کوئی فیصلہ نہیں کروں گا۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ میں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات شفاف انداز میں چلائیں ہیں اور ہر سال بورڈ کا آڈٹ بھی باقاعدگی سے کرایا ہے۔ پاکستان سپر لیگ کے دو ایڈیشنز کے آڈٹ ہوچکے ہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایت پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے پہلے پی ایس ایل کا آڈٹ مکمل کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے جس دن بورڈ میں تبدیلی کا اشارہ مل گیا میں پی سی بی کو خیر باد کہہ دوں گا۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ کی ٹائٹل اسپانسر شپ کے علاوہ مختلف حقوق کی فروخت کا عمل شروع کررکھا ہے۔ ایک نجی بینک سے تین سالہ ڈیل ختم ہونے کے بعد پی ایس ایل کی ٹائٹل اسپانسر شپ اور کو-اسپانسرشپ سمیت تقریباً نو نئے معاہدے کرنا ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم سے تین اکتوبر تک دبئی میں آئی سی سی کی تنازعات حل کرنے والی کمیٹی بھارتی بورڈ کے خلاف پاکستان کرکٹ بورڈ کے کیس پر فیصلہ کرے گی۔ اگر اس موقع پر نجم سیٹھی کو عہدے سے ہٹایا جاتا ہے تو پاکستان کا کیس کمزور پڑ سکتا ہے کیوں کہ نجم سیٹھی اس کیس میں اہم گواہ ہیں اور بھارتی بورڈ نے آئی سی سی میں جواب دیا ہے کہ انہیں حکومت نے پاکستان کے خلاف سیریز کھیلنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

اگر نجم سیٹھی کو نئی حکومت نے اکتوبر سے پہلے تبدیل کرنے کا اشارہ دے دیا تو بھارت یہ مؤقف بھی اختیار کرسکتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی حکومت کے زیر اثر ہے۔

نجم سیٹھی گذشتہ سال اگست میں تین سال کے لیے پی سی بی چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ رواں ماہ ان کا ایک سال مکمل ہوجائے گا جبکہ ان کے عہدے کی معیاد اگست 2020 میں مکمل ہوجائے گی۔

حالیہ برسوں میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے بیشتر چیئرمین سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں جن پر یہ بات صادق آتی ہے کہ پیا جسے چاہے وہی سہاگن۔

2013 کے عام انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ ن اقتدار میں آئی تو نواز شریف کے قریب سمجھے جانے والے نجم سیٹھی کو کرکٹ بورڈ کی ذمہ داری سونپ دی گئیں جو ان عام انتخابات کے موقع پر پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ تھے۔

ذکاء اشرف نے اپنی برطرفی کو عدالت میں چیلنج کیا لیکن اس تمام تر صورتحال کا ڈراپ سین یہ ہوا کہ شہریارخان پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین منتخب ہوئے اور نجم سیٹھی نے ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا اور جب شہریارخان اپنی مدت پوری کرکے رخصت ہوئے تو نجم سیٹھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین منتخب ہو گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پی سی بی میں چیئرمین کا عہدہ خالی ہوتا ہے تو قائم مقام چیئرمین کا عہدہ پی سی بی کے الیکشن کمشنر کو مل جائے گا جو اپنی نگرانی میں انتخابات کرائیں گے۔انتخابات کے لیے بورڈ کے پیٹرن کو نجم سیٹھی کی جگہ نئی نامزدگی کرنا ہوگی اور الیکشن کا عمل ایک ماہ میں مکمل ہوگا۔

عمران نذیر نے بیماری کو مات دے دی، ‏ساڑھے چار برس بعد کرکٹ میں واپسی

دائیں ہاتھ کے اوپننگ بیٹسمین عمران نذیر نے اپنے منفرد جارحانہ اندازکی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی، ان کا کیرئیر اتار چڑھاؤ کا شکار رہا لیکن ان کی شہرت میں کبھی کمی نہ آئی۔

ابھی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ نے شہرت حاصل کی ہی تھی کہ عمران نذیر کرکٹ سے دور ہوگئے۔ عمران نذیر نے کرکٹ سے دوری سے قبل تک 8 ٹیسٹ، 79 ایک روزہ اور 25 ٹی ٹوئنٹی میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

اس کے بعد عمران نذیر گمنامی کی زندگی میں چلے گئے اور ہر کوئی جارح مزاج کرکٹر کو یاد کرنے لگا۔ بہت کم لوگوں کو معلوم تھا کہ وہ ایک بیماری سے جنگ لڑ رہے ہیں۔

عمران نذیر نے ساڑھے چار برس جوڑوں کے شدید درد کی خطرناک بیماری سے جنگ لڑی ہے تاہم اب عمران نذیر ایک بار پھر کرکٹ کے میدان میں دیکھے جانے لگے ہیں۔

عمران نذیر نے ایل سی سی گراؤنڈ لاہور میں اپنے کلب پی اینڈ ٹی جیم خانہ میں ٹریننگ کا آغاز کردیا ہے۔

‏عمران نذیر بتاتے ہیں کہ ان کی ایک ہی خواہش تھی کہ وہ دوبارہ کرکٹ کھیلیں اور اللہ نے ان کی خواہش ‏پوری کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری فیملی اور میرے مداحوں نے بہت دعائیں کی ہیں، میں یہاں شاہد آفریدی کا ضرور ذکر کرنا چاہوں گا، انہوں نے میری بہت مدد کی اور آج میں ایک بار پھر کرکٹ کے میدان میں ہوں۔

‏عمران نذیر کہتے ہیں کہ اب وہ مکمل فٹ ہیں اور صرف کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب بہت کرکٹ ہو رہی ہے، بے شمار مواقع ہیں، میں انشاء اللہ موقعوں سے فائدہ اٹھاؤں گا، مجھے جس سطح پر بھی موقع ملا کھیلوں گا۔

عمران نذیر نے کہا کہ گزشتہ برس پی ایس ایل کھیلنے کا موقع ملا تھا لیکن تب 100 فیصد فٹ نہیں تھا، اب فٹ ہوں اگر موقع ملا تو پی ایس ایل ضرور کھیلوں گا۔

Google Analytics Alternative