کھیل

یونس خان ٹیسٹ سیریز میں 10 کیچ لینے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے

پاکستان کے مایہ ناز کرکٹر یونس خان ٹیسٹ سیریز میں 10 کیچ لینے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں۔ویسٹ انڈیز کے خلاف جاری سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں یونس خان نے بشو کا کیچ لے کر سیریز میں 10 کیچ لینے کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔اس سے قبل ایک سیریز میں یوسف اور توفیق عمر نے 9 ، 9 کیچ لئے تھے، یونس خان ایک سیریز میں 10 کیچ کانے والے پہلے پاکستانی فیلڈر بن گئے ہیں۔

مصباح الحق اوریونس خان کا شاندار کیریئر اختتام پزیر،آخری اننگز ایک بھی ففٹی نہ کر سکا

لیجنڈ بلے بازمصباح الحق اور یونس خان کا شاندار کیریئر اپنے اختتام کو پہنچ گیا ۔ آخری اننگز میں ویسٹ انڈین پلیئرز، مداحوں اور پاکستانی کھلاڑیوں نے کھڑے ہوکر اسٹار بلے بازوں کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ڈومینیکا ٹیسٹ میچ کی دوسری اننگز میں یونس خان 35 اورمصباح الحق 2 رنز بنا کر آٹ ہوئے اور پویلین واپس جاتے ہوئے ویسٹ انڈین پلیئرزاور مداحوں نے کھڑے ہوکر اسٹار بلے بازوں کو ٹربیوٹ پیش کیا جب کہ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں نے دونوں لیجنڈ بلے بازوں کو گارڈ آف آنرپیش کیا۔یونس خان نے 118 ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی اور 53 کی اوسط سے 34 سنچریوں اور 33 نصف سنچریوں کی بدولت 10099 رنز بنائے، ٹیسٹ کیرئیر میں یونس خان کا سب سے زیادہ انفرادی اسکور 313 تھا جب کہ پارٹ ٹائم بولر کی حیثیت سے انہوں نے 9 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ یونس خان پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار رنز بنانے والے پہلے بلے باز ہیں جب کہ مایہ ناز بلے باز نے پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ کیچز بھی پکڑے۔مصباح الحق نے 75 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی جب کہ ٹیسٹ کیریئرمیں 46.91 کی اوسط سے 10 سنچریوں اور39 نصف سنچریوں کی بدولت5222 رنز بنائے۔ مصباح الحق کا ٹیسٹ کیرئیر میں سب سے زیادہ انفرادی اسکور 161 رنز ناٹ آٹ ہے۔

پاکستان نہیں آرہے تواپنے ملک ہی بلا لو؛ پی سی بی کی بھارت کو پیشکش

کراچی: چیئرمین شہریار خان کا کہنا ہے کہ مالی خسارہ پورا کرنے کیلیے سیکیورٹی رسک کے باوجود پڑوسی ملک بھی کھیلنے جا سکتے ہیں، نیوٹرل وینیو سمیت تمام ممکنات پرغور کیا جاسکتا ہے۔

ان کے مطابق بی سی سی آئی اپنے ملک میں بھی میزبانی کو تیار نہیں، ہم نے واضح کر دیا کہ سیریزکھیلیں ورنہ ہمارے نقصان کا ازالہ کیا جائے،خالد لطیف سمیت اسپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث کرکٹرز پر اعترافی بیان کیلیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا جارہا، محمد عرفان نے اپنی کوتاہی کا اعتراف کیا،انھیں قوانین کے مطابق سزا مل گئی،دیگر کیلیے بھی راستہ کھلا ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی پریس کلب میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے کہاکہ  2012 کے بعد پاک بھارت سیریز کا انعقاد نہیں ہو سکا، ہم تمام آپشنز پر غور کرنے کو تیار ہیں لیکن اس سے پہلے بی سی سی آئی کو کھیلنے پر رضامند ہونا ہو گا۔

خسارہ پورا کرنے کیلیے سیکیورٹی خدشات کے باوجود پاکستان اپنی ٹیم بھارت بھیج سکتا ہے لیکن بی سی سی آئی اپنے ملک میں بھی ہماری میزبانی کیلیے تیار نہیں،اگر وہ چاہے تو نیوٹرل مقام پر بھی کھیل سکتے ہیں،آئی سی سی بھی تسلیم کرتی ہے کہ روایتی حریفوں کی سیریز دنیائے کرکٹ میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے، باہمی مقابلوں سے بہت زیادہ مالی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں، انھوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ نہ کھیلنے سے پی سی بی کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے لیکن بی سی سی آئی سیریز کیلیے تیار ہی نہیں تو پھر کیا کیا جا سکتا ہے،بھارت پاکستان سے کرکٹ کھیلنے کی حامی بھر رہا نہ ہی قانونی نوٹس کا جواب دے رہا ہے۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ پڑوسی ملک سیریز کھیلے ورنہ ہمارے نقصان کا ازالہ کرے،ایک سوال پر شہریارخان نے اپنا موقف دہرایا کہ بی سی سی آئی سے معاہدے میں کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں کہ پاکستان سے کھیلنے کا انحصار حکومتی اجازت سے مشروط ہوگا۔ شہریار خان نے کہا کہ پی سی بی کی طرف سے خالد لطیف سمیت پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث کرکٹرز پر اعترافی بیان کیلیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا جا رہا، نہ ہی کوئی پیشکش کی جا رہی ہے کہ بات مان لینے پر محفوظ راستہ دیا جائیگا، یہ ایک قانونی کیس ہے جس کی تحقیقات ٹریبیونل کررہا ہے۔

اگر اپنی غلطی تسلیم کرنے سے ان کا فائدہ ہے تو بورڈ ہمیشہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کریگا کہ وہ ایسا کریں، محمد عرفان نے پی سی بی کو معاملے سے آگاہ نہ کرنے میں اپنی کوتاہی کا اعتراف کیا،انھیں قوانین کے مطابق سزا مل گئی،دیگر کے لیے بھی یہ راستہ کھلا ہے،اگر وہ چاہیں تو اسے استعمال کر لیں مگر انھوں نے یہ معاملہ آگے لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

فاف ڈوپلیسی کا ورلڈکپ کے بعد کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا عندیہ

اگلے 2 برس تک تینوں فارمیٹس میں بھرپور انداز سے ٹیم کی نمائندگی جاری رکھوں گا اور ورلڈکپ کے بعد کیریئر اختتام کرنے کا اعلان کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ اے بی ڈی ویلیئرز ورلڈ کلاس کرکٹر ہیں، میں چاہتا ہوں کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلیں لیکن انہوں نے 2019 ورلڈکپ کو سامنے رکھتے ہوئے پانچ روزہ کرکٹ سے دوری اختیار کر رکھی ہے۔

ڈوپلیسی نےاب تک 40 ٹیسٹ میچز میں 2426 رنز، 107 ون ڈے میچز میں 3943 اور 36 ٹی ٹوئنٹی میچز میں 1129 رنز بنا رکھے ہیں۔

پاک-بھارت سیریز: نجم سیٹھی اور شہریار خان میں اختلاف؟

ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا کو چیمپئنز ٹرافی کے پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان میچ کا انتظار ہے، دونوں جنوبی ایشیائی حریفوں کے درمیان سیریز کا مستقبل تاحال واضح نہیں ہے۔

ایسی صورتحال میں پاک- بھارت کرکٹ سیریز کے ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان اور بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی بھی دو مختلف قطبوں پر دکھائی دیتے ہیں۔

جمعرات کو شہریار خان کا صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان بھارت سے اسی کی سرزمین کو پر بھی سیریز کھیلنے کو تیار ہے۔ ‘اس کے باوجود کہ ہمیں بھارت میں سیکیورٹی کے کئی خطرات ہیں، اگر بھارت نے ہمیں دعوت دی تو ہم وہاں کھیلنے کو تیار ہیں’۔

شہریار خان نے کسی تیسرے ملک میں بھی بھارت سے سیریز کھیلنے پر رضامندی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے قبل انہیں (بھارت کو) ہم سے کھیلنے پر رضامندی ظاہر کرنا ہوگی کیونکہ اس وقت تو وہ کھیلنے پر ہی تیار نہیں ہیں۔

کرکٹ بورڈ سربراہ کے اس بیان کے بعد نجم سیٹھی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کا سہارا لیا اور کہا کہ یہ پی سی بی کی پالیسی کے خلاف ہے کہ پاکستان پہلے بھارت میں جا کر کھیلے۔

نجم سیٹھی کے مطابق ‘2014 کے ایم او یو کے تحت پی سی بی کی پالیسی ہے کہ پاکستان اس وقت تک بھارت میں جا کر نہیں کھیلے گا جب تک بھارت خود پاکستان یا کسی تیسرے ملک میں ہم سے سیریز نہیں کھیلتا۔ اس پر کوئی سمجھوتا ممکن نہیں’۔

دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان آخری کرکٹ سیریز 13-2012 میں کھیل گئی تھی جب پاکستان نے بھارت کا دورہ کیا اور سیریز میں 2-3 سے کامیابی حاصل کی۔

اگرچہ مذکورہ سیریز کے بعد آخری دفعہ دونوں ٹیمیں آسٹریلیا میں 2015 کے آئی سی سی ورلڈکپ میں مدمقابل آئیں تھیں مگر 2014 میں ہونے والے معائدے کے باوجود بھارت مسلسل پاکستان سے سیریز کھیلنے سے انکار کر رہا ہے۔

پی سی بی نے حال ہی میں بھارتی کرکٹ بورڈ کو ایم او یو کی خلاف ورزی پر 64 ملین ڈالرز کا قانونی نوٹس بھیجا تھا۔ مگر، بھارتی کرکٹ بورڈ نے اس قانونی نوٹس کو مسترد کر دیا اور ایم او یو کو صرف کاغذ کا ٹکڑا قرار دیا۔

تاہم، شہریار خان کا اصرار ہے کہ دونوں بورڈز میں طے پانے والا ایم او یو، ایک باقاعدہ معاہدہ تھا کیونکہ اس وقت بھارت نے بگ تھری پر اپنی اجارہ داری کے لیے پاکستان کی مدد طلب کی تھی۔

پی ایس ایل سپاٹ فکسنگ کیس، کرکٹرمحمد نواز نے اپنی غلطی تسلیم کرلی

لاہور : پی ایس ایل سپاٹ فکسنگ کیس میں کرکٹر محمد نواز نے اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے اپنی غلطی تسلیم کر لی۔

تفصیلات کے مطابق محمد نواز کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ان سے بکیز نے خود رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں کوئی ڈیل نہیں ہوئی تھی۔ پی ایس ایل فکسنگ کیس میں کرکٹر پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے پیش ہوئے، ان سے ایک گھنٹے تک مختلف سوالات پوچھے گئے۔

ذرائع کے مطابق آسٹر یلیا کے خلاف دوسرے ون ڈے سے قبل بکیز نے محمد نواز سے رابطہ کیا تاہم کرکٹر نے پی ایس ایل کے دوران 12 فروری کو اینٹی کرپشن یونٹ کو آگاہ کیا۔ محمد نواز سے پوچھ گچھ میں ان کے تاخیر سے اے سی یو کو آگاہ کرنے کی وجوہات کے حوالے سے سوالات کئے گئے۔

ڈومینیکا ٹیسٹ: دوسرا دن بھی پاکستان کے نام،قومی ٹیم 376 رنز بنا کر آؤٹ

برج ٹاؤن : ڈومینیکا ٹیسٹ میں پاکستان کی ٹیم پہلی اننگز میں تین سو چھہتر رنز بنا کرآؤٹ ہوگئی،ویسٹ انڈیز چودہ رنز بغیر کسی نقصان کے تیسرے دن کے کھیل کا آغاز کرے گا۔ 

24NewsHD-3rd-DMA-WIS-PAK

ذرائع کے مطابق قومی بلے بازدوسرے دن بھی پچ پر ڈٹے رہے ،پاکستان ڈومینیکا ٹیسٹ کی پہلی اننگزمیں بڑا سکورکرنے میں کامیاب رہا ، دوسرے دن کے کھیل کے آخری سیشن میں قومی ٹیم تین سو چھہتر پرآؤٹ ہوئی۔

24newsHD-DMA-WIS-PAK

پاکستان کی طرف سے اظہر علی نے شاندارایک سوستائیس رنزکی اننگز کھیلی ، مصباح الحق،بابراعظم اورسرفرازاحمد نے نصف سنچریاں سکور کیں ، کیرئیر کا آخری ٹیسٹ کھیلنے والے یونس خان اٹھارہ رنز ہی بنا سکے ، تیسرے ٹیسٹ میں بھی اوپپنگ کا مسئلہ حل نہ ہوسکا ،شان مسعود کا تجربہ بھی ناکام گی۔

24NewsHD-WIS-PAK

ویسٹ انڈیز کی طرف سے روسٹن چیز نے چار،جیسن ہولڈر نے تین اورالزاری جوزف نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ، ویسٹ انڈیز چودہ رنز بغیر کسی کھلاڑی آؤٹ کے پہلی اننگزدوبارہ شروع کرے گا ، کیرن پاول نو اورکریگ بریتھ ویٹ پانچ رنز کے ساتھ کریزپرموجود ہیں۔

برازیل میں سرفنگ کے عالمی مقابلے کا آغاز

ورلڈ سرفنگ لیگ کے چوتھے راؤنڈمیں حصہ لینے کیلئے دنیا بھر سے سینکڑوں ماہرخواتین اور مرد سرفرز یہاں پہنچے ہیں اوراپنی سرفنگ کی صلاحیتوں کا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔

عالمی مقابلے تک پہنچنے کے لیے کھلا ڑی سر دھڑ کی با زی لگا تے ہو ئے پا نی کی پُرزور لہر وں پر سرفنگ کے کمالات دکھانے اور ایک دوسرے کو پیچھا چھو ڑنے کی کو ششوں میں مصروف ہیں۔

واضح رہے کہ 12روز تک جاری رہنے والا یہ مقابلہ 20مئی کو اختتام پذیر ہوگا۔

Google Analytics Alternative