کھیل

ہم انگلینڈ میچز جیتنے اور اچھا رویہ دکھانے آئے ہیں ، شہریار خان

لنڈن : کھلاڑی پروپیگنڈا بھول کر صرف میچ پر توجہ دیں، چیئرمین پی سی بی شہریار خان کی ٹیم کو ہدایتلارڈز ٹیسٹ سے قبل چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے کھلاڑیوں سے ملاقات کر کے ان کی خوب حوصلہ افزائی کی ہے ۔

چھ سال بعد گرین شرٹس کا لارڈز کے میدان میں بڑا امتحان ہے، شہریار خان نے حوصلہ افزائی کیلئے  قومی کرکٹرز کیساتھ ملاقات کی ۔ انہوں نے گرین شرٹس کو منفی پراپیگنڈا کو بھول کر میچ پر توجہ دینے کا مشورہ دیا ۔

چیئرمین پی سی بی کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے مثبت امیج کو اجاگر کرنا سب کی ذمہ داری ہے ۔ کرکٹ ایک جینٹیل مین گیم ہے اور اسے ایسے ہی کھیلنا چائیے ۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم فیلڈ اور آف دی فیلڈ اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کرے

لارڈز ٹیسٹ: پاکستان کی انگلینڈ کیخلاف بیٹنگ جاری

 لندن :  2010 میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے بعد پاکستانی ٹیم کا یہ پہلا دورۂ انگلینڈ ہے ، کپتان مصباح الحق اس سیریز کو اپنے کریئر کا سخت ترین امتحان قرار دے رہے ہیں . پاکستان کی پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ جاری ہے جس کے بعد اوپننگ بلے باز محمد حفیظ اور شان مسعود نے کھیل کا آغاز کیا، پاکستان کو 38 رنز پر پہلا نقصان اٹھانا پڑا ہے، آؤٹ ہونے والے کھلاڑی شان مسعود تھے جو سات رنز بنا کرس ووکس کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ ہو گئے۔

کپتان مصباح الحق نے کہا کہ وکٹ بیٹنگ کیلئے سازگار نظر آ رہی ہے اسی لیے ہم ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کر رہے ہیں ۔ لارڈز گزشتہ کچھ عرصے سے بیٹنگ کیلئے سازگار تصور کی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس وکٹ پر بھی بڑی تعداد میں رنز بننے کا امکان ہے ۔

انگلش کھلاڑیوں اور میڈیا کی نظریں قومی ٹیم کے فاسٹ بولر محمد عامر اور لیگ اسپنر یاسر شاہ پر مرکوز ہیں ۔

پاکستان کی 12 رکنی ٹیم میں کپتان مصباح الحق ، محمد حفیظ ، شان مسعود، اظہرعلی، یونس خان، اسد شفیق اور وکٹ کیپر سرفراز احمد ، یاسر شاہ، محمد عامر، وہاب ریاض، راحت علی اور عمران خان کے نام شامل ہیں۔

جب کہ انگلش اسکواڈ کپتان السٹرکک، الیکس ہیلز، جوئے روٹ، گیری بیلنس، جیمس ونس، جونی بریسٹو، معین علی، کرس ووکس، اسٹارٹ براڈ، جیک بال، اسٹیون فن اور ٹوبی رولینڈ پر مشتمل ہے ۔

اس سے پہلے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 1954ء سے 2016ء تک 23 ٹیسٹ سیریز کھیلی جا چکیں۔ 13 بار انگلینڈ میزبان بنا اور 8 سیریز پاکستانی سرزمین پر کھیلی گئیں۔ 2 سیریز کا میلہ یو اے ای کے میدانوں پر سجا۔ 8 میں پاکستان فاتح رہا اور 9 بار جیت انگلینڈ کا مقدر بنی جبکہ 6 سیریز برابر رہیں۔

یو اے ای کی دونوں سیریز میں پاکستان ٹیم سرخرو رہی۔ 23 سیریز میں دونوں ٹیموں کے درمیان 77 ٹیسٹ میچ کھیلے جا چکے۔ انگلینڈ نے 22 اور پاکستان نے 18 میں کامیابی سمیٹی، 37 میچ ڈرا ہوئے۔

پاکستان اور انگلینڈ کا لارڈز کے میدان پر 13 بار ٹاکرا ہو چکا۔ جیت نے 4 دفعہ انگلش اور 3 مرتبہ گرین شرٹس کے قدم چومے جبکہ لارڈز کرکٹ گراؤنڈ پر 6 ٹیسٹ میچوں کا نتیجہ نہ نکل سکا۔

پاکستان کا ٹاس جیت کر پہلے بیٹینگ کرنے کا فیصلہ۔

پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف چار کرکٹ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لندن کے تاریخی کرکٹ میدان لارڈز میں کھیلے جانے والے اس میچ میں پاکستانی کپتان مصباح الحق نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا۔

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی بلے بازوں پر کوئی دباؤ نہیں اور وہ انگلش ٹیم کے خلاف ایک بڑا سکور کرنے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان نے اس میچ میں تین لیفٹ آرم فاسٹ بولروں محمد عامر، وہاب ریاض اور راحت علی کو کھلانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ سپن کے شعبے میں ان کا ساتھ لیگ سپنر یاسر شاہ دیں گے۔

ان کے علاوہ پاکستانی ٹیم میں محمد حفیظ، شان مسعود، اظہر علی، یونس خان، کپتان مصباح الحق، سرفراز احمد اور اسد شفیق شامل ہیں۔

پاکستانی بلے بازوں میں صرف محمد حفیظ، یونس خان اور اظہر علی کو اس سے قبل انگلینڈ میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا تجربہ ہے۔
Image captionمحمد عامر انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے بعد اپنا پہلا ٹیسٹ میچ اسی میدان پر کھیل رہے ہیں جہاں انھوں نے پابندی سے قبل آخری ٹیسٹ کھیلا تھا

پاکستانی کرکٹ ٹیم کو لارڈز ٹیسٹ میں انگلش بولر جیمز اینڈرسن کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے جو ان فٹ ہیں اور ان کی جگہ جیک بال کو ملی ہے جو اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلیں گے۔

ان کے علاوہ یہ میچ کھیلنے والے انگلش کھلاڑیوں میں الیسٹر کک، ایلکس ہیلز، جو روٹ، جیمز ونس، گیری بیلنس، جونی بیرسٹو، معین علی، کرس ووکس، سٹوئرٹ براڈ اور سٹیفن فن شامل ہیں۔

پاکستان کی ٹیم سنہ 2010 میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے بعدپہلی مرتبہ انگلینڈ کے دورے پر آئی ہے۔

سپاٹ فکسنگ سکینڈل چھ برس قبل لارڈز ہی میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ میں سامنے آیا تھا جس میں ملوث تینوں پاکستانی کرکٹرز سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کو سزائیں ہوئی تھیں۔

ان میں سے محمد عامر کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی ہو چکی ہے اور وہ واپسی کے بعد پہلی بار اسی میدان پر دوبارہ ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچ جیت چکی ہے جب کہ انگلینڈ کی ٹیم چار ٹیسٹ میچوں میں فاتح رہی ہے۔

وزارت داخلہ کا بھارتی ٹیبل ٹینس ٹیم کو ویزہ دینے سے انکار

وزارت داخلہ نے بھارتی ٹیبل ٹینس ٹیم کو ویزہ دینے سے انکار کردیا، بھارتی ٹیم کو ساؤتھ ایشین جونیئرچیمپئن شپ میں شرکت کیلئے آنا تھا ۔چیمپئن شپ 15سے17جولائی تک کراچی میں شیڈول ہے،ایونٹ میں تمام سارک ممالک کے کھلاڑی کو شرکت کرنی ہے

انگلینڈ کیخلاف پہلا ٹیسٹ:12رکنی پاکستانی ٹیم کا اعلان

پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے پہلے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے لئے 12رکنی ٹیم کا اعلان کردیا ہے ،2010ء میں برطانوی سرزمین پر اسپاٹ فکسنگ کیس میں سزا پانے والے محمد عامر کو بھی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔کل سے لارڈز کرکٹ گرائونڈ پر ہونے والے پانچ روزہ میچ کے لئے حتمی ٹیم کا اعلان کیا گیا ہے،ٹیم میں کپتان مصباح الحق ،یونس خان،اظہر علی،محمد حفیظ،شان مسعود،اسد شفیق ،سرفراز احمد،وہاب ریاض ،سہیل خان ،یاسر شاہ اور راحت علی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔برطانوی میڈیا نے لیفٹ آرم فاسٹ باولر محمد عامر کے خلاف محاذ بنالیا ہے،جس پر سابق کپتان وسیم اکر م نے ٹیم کو مشورہ دیا ہے کہ محتاط رہیں اور انگلش میڈیا کو ئی بھی موقع فراہم نہ کریں۔

فاسٹ باولر وہاب ریاض کا کہنا ہے کہ ٹیم مصباح الحق کی قیادت میں متحد ہے،محمد عامر چھوٹا بھائی ہے ،چاہتا ہوں کہ وہ میچ میں 5وکٹ لے کر اپنا کھویا ہوا نام واپس لے ۔پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 2010سے اب تک 3کرکٹ سیریز کھیلی جاچکی ہیں،10ٹیسٹ میچ میں 6میں پاکستان فاتح رہا ہے جبکہ انگلش ٹیم کے حصے میں 3کامیابیاں آئی ہیں

سوری!پاکستان میں ٹیلنٹ نہیں ، شاہد آفریدی کا متنازعہ بیان ، پی سی بی کا نوٹس

لاہور : شاہد آفریدی کا کہنا ہے محمد عامر ایک قابل بولر ہیں ان سے وابستہ تمام امیدیں پوری ہوں گی. پاکستان کے سابق ٹی 20 کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ پی سی بی میں بہت سی چیزوں میں بہتری کی گنجائش ہے ، انہوں نے محمد عامر کے کم بیک کو بھی خوب سراہا ۔

لالہ نے برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں بوم بوم باتیں کہہ ڈالیں ۔ آفریدی کا کہنا ہے کہ پی سی بی میں بہت سی چیزوں کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ، اگر وہ بورڈ سے متعلق کچھ زیادہ کہیں گے تو نوٹس ملنے کا خطرہ ہے ۔

ٹیم سلیکشن میں میرٹ کی اہمیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہد آفریدی کا کہنا تھا جس طریقے کا ٹیلنٹ اس وقت سامنے آ رہا ہے اور جس کے حوالے سے ہم بہت باتیں کرتے ہیں کہ پاکستان میں بڑا ٹیلنٹ ہے، سوری نو ٹیلنٹ۔ پاکستان میں ابھی وہ ٹیلنٹ نہیں ہے جس لیول کی کرکٹ کی ڈیمانڈ ہے ۔

محمد عامر سے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ ایک قابل بولر ہیں ان سے وابستہ تمام امیدیں پوری ہوں گی ۔ ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عامر کو برطانوی میڈیا سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ انگلش میڈیا ہمیشہ اہم کھلاڑی پر دباؤ ڈلانے کی کوشش کرتا ہے ۔

ریٹائرمنٹ سے متعلق سابق ٹی 20 کپتان کا موقف ہے کہ وہ عزت سے ریٹائر ہونا چاہتے ہیں ۔ وہ مستقبل کیلئے ایک اچھی ٹیم بنانا چاہتے تھے لیکن ایسا نہ ہو سکا ۔

آفریدی نے یہ بھی کہا جدید دور کی کرکٹ کے تقاضوں کی مناسبت سے پاکستان میں ابھی اس لیول کا ٹیلنٹ نہیں ہے

عامر سمیت ہر میچ فکسرپر تاحیات پابندی کامطالبہ، پیٹرسن

لندن: انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کئی کھلاڑیوں نے محمد عامر کی کرکٹ میں واپسی کو دل سے قبول نہیں کیا اور اس پر کھل کر اظہار خیال بھی کیا اسی طرح سابق بلے باز کیون پیٹرسن بھی اس صف میں شامل ہوگئے ہیں اور کہنا ہے کہ محمد عامر سمیت کسی بھی قسم کی غلطی کے مرتکب ہونے والے کھلاڑی پر تاحیات پابندی لگا دینی چاہیے۔برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کو اپنی ایک تحریر میں انگلینڈ کے بعض کھلاڑیوں کی طرح پیٹرسن نے بھی عامر کو دوبارہ موقع دینے کی مخالفت کی ہے تاہم انگلش کھلاڑیوں اور تماشائیوں کو عامر سے خبردار کیا ہے۔کیون پیٹرسن کا کہنا تھا کہ ‘کوئی بھی کھلاڑی خواہ مرد ہو یا عورت جو میچ فکسنگ، اسپاٹ فکسنگ یا ممنوعہ ادویات کے استعمال کرتے ہوئے پکڑا جائے ان ہر تاحیات پابندی ہونی چاہیے’۔’انھوں نے اصول کو توڑا اس لیے اس کی قیمت چکانی چاہیے اور دوسراموقع نہیں دیا جائے’۔محمد عامر 2010 میں اسپاٹ فکسنگ کے جرم میں سزاپانے کے بعد مختصر طرز کرکٹ میں واپسی کرچکے ہیں جبکہ 14 جولائی سے انگلینڈ کے خلاف اسی مقام سے ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کرنے جارہے ہیں جہاں وہ اس جرم کے مرتکب ہوئے تھے۔

کیون پیٹرسن 2010 میں اس وقت کی انگلینڈ ٹیم کے مضبوط رکن تھے۔ پیٹرسن کا کہنا تھا کہ اگر آپ ادویات یا پیسوں کے عوض کمزور کھیلتے ہیں تو آپ نظام سے غداری کے مرتکب ہوتے ہیں اسی طرح آپ مداحوں، ساتھی کھلاڑیوں اور کھیل کے ساتھ بھی دھوکا کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘لوگ ہمیشہ دوسرے موقع کے مستحق ہوتے ہیں لیکن کھیل مختلف ہے’۔محمد عامر کا حوالہ دیے بغیر انھوں نے لکھا ہے کہ ‘میں سمجھتا ہوں کہ برصغیر میں کرکٹرز دیہاتوں سے آتے ہیں جہاں غربت اور محرومی ہوتی ہے لیکن زیادہ پیسہ کمانے کی خاطر 50 ہزار پاؤنڈ کے لیے نو بال کرنا صرف لالچ ہے’۔پیٹرسن کا کہنا تھا کہ ‘یہ صرف انگلینڈ کے خلاف لارڈ میں ٹیسٹ میں واپسی کرنے والے عامر کے حوالے سے نہیں ہے بلکہ تمام دھوکا دینے والوں کے لیے ہے، عامر ان اکثر لوگوں میں سے واحد ہیں جو پکڑے گئے’۔انگلینڈ کے سابق مایہ ناز بلےباز نے سیریز میں پاکستان ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں پی ایس ایل میں شرکت کے بعد ان کے کھیل کی بڑی قدر کرتا ہوں، یہ میرے لیے فخر کی بات تھی کہ انھوں نے اس دورے میں بیٹنگ کنسلٹنٹ کے لیے مجھ سے رابطہ کیا لیکن میں مصروف تھا’۔پاکستان اور انگلینڈ 14 جولائی سے شروع ہونے والی سیریز میں 4 ٹیسٹ ، 5 ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلیں گے۔

پاکستان کے پاس عالمی نمبر ایک بننے کا موقع

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ سیریز میں بہترین کارکردگی کی بدولت گرین شرٹس کو پہلی مرتبہ عالمی نمبر ایک بننے کا نادر موقع مل گیا ہے۔انگلینڈ کی سرزمین پر 14 جولائی سے شروع ہونے والی سیریز میں 3-0 یا 4-0 سے کامیابی کی صورت میں پاکستانی ٹیم عالمی نمبر ایک آسٹریلیا کو پیچھے چھوڑ کر پہلی مرتبہ یہ منصب سنبھال لے گی۔آئی سی سی کی عالمی درجہ بندی میں اس وقت آسٹریلیا 118 پوائنٹس کے ساتھ پہلے،ہندوستان 112 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے، پاکستانی ٹیم 111 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے جبکہ چوتھے نمبر پر موجود انگلینڈ کے 108 پوائنٹس ہیں۔انگلش کنڈیشنز اور موسم کو دیکھتے ہوئے سیریز کیلئے میزبان انگلینڈ کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے اور سیریز میں کلین سوئپ یا 3-0 سے کامیابی کی صورت میں اس کے پاس بھی عالمی نمبر دو بننے کا موقع ہے۔پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کے ممکنہ نتائج اور پوائنٹس کی صورتھال کچھ ایسی ہو گی۔تاہم پاکستانی ٹیم بہترین کامیابی دکھا کر آئی سی سی رینکنگ کے اجرا کے بعد پہلی مرتبہ عالمی نمبرایک بن سکتی ہے۔اگر پاکستانی ٹیم سیریز میں 4-0 یا 3-0 سے کامیابی حاصل کرتی ہے تو اس کے پوائنٹس بالترتیب 119 اور 121 ہو جائیں گے اور وہ آسٹریلیا کو پیچھے چھوڑ کر عالمی نمبر ایک بن جائے گی۔تاہم یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ قومی ٹیم نے آج تک انگلینڈ کے خلاف 2-0 سے زیادہ مارجن سے ٹیسٹ سیریز نہیں جیتی اور اس نے یہ کارنامہ 1996 میں انجام دیا تھا۔سیریز میں 2-1 یا 3-1 سے کامیابی کی صورت پوائنٹس بالترتیب 114 اور 115 ہو جائیں گے اور یوں گرین شرٹس عالمی درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر پہنچ جائے گی لیکن ساتھ ساتھ رینکنگ کا انحصار ویسٹ انڈیز اور ہندوستان کے درمیان نتائج پر بھی ہو گا جہاں بڑے مارجن سے کامیابی ہندوستان کو بھی عالمی نمبر ایک بنا دے گی۔

 

Google Analytics Alternative