تازہ ترین

کھیل

100سے زائد انٹرنیشنل کھلاڑیوں کی پی ایس ایل کھیلنے کی تصدیق.

لاہور : پاکستان کرکٹ بورڈ کی گورننگ باڈی کے چیئر مین نجم سیٹھی نے شائقین کرکٹ کو خوشخبری دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایس ایل کرئبین سپر لیگ اوربگ بیش سے بڑی لیگ ہو گی۔انٹرنیشنل کھلاڑی بھر پور طریقے سے پی ایس ایل کھیلنے کے لیے رضا مند ہوچکے ہیں ۔ نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ آئی پی ایل کے بعد دوسری بڑی لیگ ہو گی اور اس سے کوپی سی بی اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی مدد ملے گی۔نجی ٹی وی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کے لیے 150انٹرنیشنل کھلاڑیوں سے رابطہ کیا گیا ہے جن میں سے 100سے زائد کھلاڑیوں نے تصدیق کی ہے۔انہو ں نے مزید کہا کہ ہر پی ایس ایل ٹیم میں دو ایمرجنگ کھلاڑی ہو نگے جنہیں انٹرنیشنل میچ کھیلنے سے پہلے ہی بین الاقوامی کھلاڑیوں سے کھیلنے کا موقع ملے گا۔

پاکستان سپر لیگ میں نوجوانوں کو کم از کم 25 ہزار ڈالر تک کی رقم ملے گی۔

اسلام آباد: پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کی گورننگ کونسل کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ابھرتے ہوئے باصلاحیت کھلاڑیوں سے ایونٹ کیلئے کیے جانے والے معاہدوں کی رقم 25ہزار ڈالر سے شروع ہو گی۔

اتوار کو مشہور نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان کھلاڑیوں کو لیگ کے ذریعے عالمی سطح کے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملے گا جس سے پاکستان کرکٹ کو فروغ ملے گا۔

’ایونٹ میں حصہ لینے والی ہر ٹیم کے اسکواڈ میں کم از کم چار غیر ملکی اور دو مقامی ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کا ہونا لازمی ہے، نوجوانوں کو کم از کم 25 ہزار ڈالر تک کی رقم ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ سے ایک نوجوان کھلاڑی بمشکل 25 سے 50 ہزار ماہانہ کما سکتا تھا لیکن اب لیگ کے ذریعے کھلاڑی 20 دنوں میں 25 لاکھ روپے کما سکیں گے جس سے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہو گی اور نئے لڑکے کھیل کی جانب راغب ہوں گے۔

سابق چیئرمین پی سی بی نے بتایا کہ پی ایس ایل سے پی سی بی بھی مالی سطح پر آزاد ہو جائے گا، لیگ سے حاصل ہونے والی آمدنی ایک سینٹرل پول میں جائے گی جہاں فرنچائز کو 75 فیصد شیئر ملے گا جبکہ بورڈ کو حاصل ہونے والی آمدنی ملک میں کرکٹ کے فروغ کیلئے استعمال کی جائے گی۔

نجم سیٹھی نے انکشاف کیا کہ فرنچائز کو کھلاڑیوں کی فیس پی سی بی کو ایڈوانس میں جمع کروانا ہو گی اور پھر بورڈ اسے کھلاڑیوں میں تقسیم کرے گا۔

’20 اہل فریقوں نے پی ایس ایل میں فرنچائز خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، آئندہ چار سال کے دوران فرنچائز کی تعداد پانچ سے بڑھا کر آٹھ کر دی جائے گی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان سپر لیگ عالمی سطح پر انڈین پریمیئر لیگ کے بعد دنیا کی سب سے بڑی لیگ شمار ہو گی کیونکہ جن اوقات میں لیگ کے میچز ہوں گے وہ پاکستان، بنگلہ دیش اور ہندوستان سمیت ایشیائی عوام کیلئے انتہائی موزوں ہیں جس سے لیگ کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے بتایا کہ لیگ کیلئے کرس گیل اور کیون پیٹرسون سمیت متعدد اہم کھلاڑیوں سے لیگ میں شرکت کے حوالے سے معاہدہ طے پا چکا ہے۔

ہندوستانی کھلاڑیوں کو (پی ایس ایل) میں شرکت کی دعوت دی جائے۔ جاوید میاںداد

اسلام آباد: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید میاںداد نے پی سی بی کو مشورہ دیا ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں پاکستانی کھلاڑیوں کو نظرانداز کرنے کے باوجود پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ابتدائی سیزن کے لیے ہندوستانی کھلاڑیوں کوشرکت کی دعوت دی جائے۔

پی ایس ایل، ہندوستانی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کی طرح فرنچائز پر مشتمل ٹورنامنٹ ہے جو اگلے سال کے اوائل میں قطر یا متحدہ عرب امارات میں منعقد ہوگا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے میاں داد نے کہا کہ پی سی بی لیگ کے انعقاد کے لیے بہترین انتظامات کرے کیونکہ ملک کی ساکھ دائو پر لگی ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ “پی سی بی کھلاڑیوں کو ان کے معیار کے مطابق کیٹیگریوں میں تقسیم کرے، وہ تمام بین الاقوامی کھلاڑی جو لیگ کھیلنے کے مستحق ہیں، انھیں زبانی یا کسی اور طرح سے تصدیق کرنے کے بجائے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے کہنا چاہیے”۔

سابق عظیم بلے باز نے کہا کہ یہ ہمارے ملک کی ساکھ کا مسئلہ ہے اس لیے کچھ غلط نہیں ہونا چاہیے۔ دلچسپی رکھنے والے ہر کھلاڑی سے پہلے معاہدے پر دستخط کرنا چاہیے، اگر وہ آخری لمحات میں شرکت سے انکار کرتے ہیں تو لیگ پر برا اثر پڑے گا۔”

پی ایس ایل کا انعقاد فروری 2016 میں ہونے جارہاہے جو گزشتہ کئی سالوں کی کوششوں کے بعد منعقد ہوگی جہاں منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ اب پی ایس ایل کے انعقاد میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

ٹی ٹوئنٹی لیگ دیگر ٹورنامنٹوں (آئی پی ایل اور بگ بیش )کی طرز کا ٹورنامنٹ ہے جو 2013 سے زیرغور تھا لیکن پی سی بی کو2014اور2015میں دومرتبہ اسے ملتوی کرنا پڑا جس کی وجہ اسپانسرز کی جانب سے عدم دلچسپی اور جگہ کا تعین نہیں ہونا تھا۔

لیکن پی سی بی ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیف نجم سیٹھی کی سربراہی میں لیگ انتظامیہ اس کے انعقاد کیلئے انتھک کوششوں میں مصروف رہی۔

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اب ٹورنامنٹ میں مالی دلچسپیاں بڑھ گئی ہیں اور غیرملکی کھلاڑی بھی شامل ہورہے ہیں۔

میانداد نے کہاکہ پی سی بی کو چاہیے تھا کہ لیگ کے لوگو کی افتتاحی تقریب میں کاروباری تائیکون کو بھی دعوت دیتا کیونکہ پی ایس ایل کے لیے اشتہارات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

ان کاکہناتھا کہ “پی سی بی لیگ میں دلچسپی رکھنے والے بینکوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے صدور بھی بلا سکتا تھا۔”

پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز نے کہا کہ ہو سکتا تھا کہ ان میں سے کوئی شخص پی ایس ایل کی ایک ٹیم خرید لیتا اور اسی طرح ٹیموں کی تعداد بھی بڑھائی جا سکتی ہے اور ٹورنامنٹ مزید بڑی شکل اختیار رک جاتا۔

پاک ہندوستان سیریز کے حوالے سے کئے گئے ایک سوال کے جواب میں میانداد کا کہناتھا کہ انھیں زیادہ توقعات نہیں تھیں۔ “جہاں تک سیریز کا تعلق ہے ہر کوئی جانتا ہے کہ کس نے کس کو دھوکا دیا۔”

میانداد نے کہاکہ میں دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز پر بات کرنے کے بجائے بی سی سی آئی کے سربراہ جگموہن ڈالمیا کے انتقال پر ان کے دوستوں اور خاندان سے تعزیت کرنے کو اہمیت دوں گا۔

“میں بی سی سی آئی کے مرحوم سربراہ کے خاندان اوردوستوں سےدلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ وہ بہترین انسان تھے اور پاکستانی کھلاڑیوں کی عزت کرتے تھے، ان کی موت سے کرکٹ میں بڑا خلا پیدا ہوا ہے۔

فکسنگ میں ملوث تینوں کھلاڑی عالمی کرکٹ میں واپسی کے مستحق نہیں. رمیز راجہ

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور پاکستان سپر لیگ( پی ایس ایل) کے سفیر رمیز راجہ نے کہا ہے کہ اسپاٹ فلسنگ میں ملوث سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف عالمی کرکٹ میں واپسی کے مستحق نہیں اور ان کی پی ایس ایل میں شرکت کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔  رمیز راجہ نے کہا کہ اسپاٹ فکسنگ میں ملوث تینوں کھلاڑیوں کو کسی بھی سطح پر بالکل نہیں کھلانا چاہیے۔ انھوں نے جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ پاکستان کے اتنا خراب ہے کہ ان کی کرکٹ کی اصطلاح میں بھی معافی نہیں ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ رمیز راجہ نے اسپاٹ فکسرز کی کرکٹ میں واپسی کی سختی سے مخالفت کی ہے بلکہ وہ اس سے قبل بھی اس معاملے پر دوٹوک موقف اپناتے ہوئے ان کی واپسی کو ٹیم کیلئے وائرس سے تعبیر کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ کوئی پاکستانی کھلاڑیوں سے پوچھے کہ کیا وہ عامر کی واپسی چاہتے بھی ہیں یا نہیں۔ کئی سالوں کی ثابت قدمی کے بعد، مصباح الحق اور ان کی ٹیم پاکستان کرکٹ اور اس کے امیج کو بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں’۔

قومی ٹیم کے سابق کپتان نے اسپاٹ فکسرز کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی(این سی اے) میں ٹریننگ کی اجازت دینے پر پی سی بی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

رمیز نے کہا کہ یہ تینوں کھلاڑی این سی اے میں دندناتے پھر رہے ہیں، این سی اے نیا ٹیلنٹ پیدا کرنے اور رول ماڈل بنانے کیلئے بنائی گئی تھی، ان سے خصوصی برتاؤ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح تو وہاں ٹریننگ کرنے والا کوئی 19 سال کا بچہ یہی سوچے گا کہ میں بھی جرم کر کے آؤں گا تو میری بھی فائیو اسٹار این سی اے جیسے ادارے میں واہ واہ ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ تینوں کھلاڑی دوبارہ عالمی کرکٹ کھیلنے کے مستحق نہیں، اگر پاکستان کرکٹ بورڈ انہیں پی ایس ایل میں کھلانے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس سے لیگ متنازع ہو جائے گی اور اس کے لیگ پر انتہائی خراب نتائج مرتب ہوں گے۔

پاکستان کرکٹ کی پہلی باقاعدہ ٹی ٹوئنٹی لیگ پاکستان سپر لیگ کا انعقاد آئندہ سال فروری میں متحدہ عرب امارات یا قطر میں ہو گا جس میں دنیا بھر کے ٹی20 اسٹارز شرکت کریں گے۔

رمیز نے لیگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے لیگ کی ساکھ ہی اسے اوپر لے جائے گی، لیگ کے کامیاب انعقاد کے لیے کرکٹ کے پہلوئوں کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں سے پہشہ ورانہ انداز میں معاملات طے کرنے کی ضرورت ہے ۔

انھوں نے کہا کہ سب سے بڑ اچیلنج ساکھ کا ہے اور غلط چیزوں کو روکنے کے لیے ہم زیادہ سے زیادہ موجودہ کھلاڑیوں کو شامل کریں کیونکہ انھیں دوسری لیگ اور اپنے ملک کے لیے بھی کھیلنا ہوتا ہے، اس سے میچ فکسنگ کے امکانات بھی کم ہوں گے کیونکہ ان کے پاس کھونے کو بہت کچھ ہے۔

انھوں نے کہا کہ کھلاڑی تفریح کو پسند کرتے ہیں اور ان ٹی ٹوئنٹی کھلاڑیوں کو چوکے چھکے مارنے اور انٹرٹینمنٹ کی عادت ہے، یہ چاہیں گے ان کے لیے ایک ایسا اسٹیج بنایاجائے جہاں یہ لطف اندوز ہوں۔

سابق کپتان نے کہاکہ ہندوستانی کھلاڑیوں نے ابھی دلچسپی نہیں دکھائی، وہ پی ایس ایل ہی نہیں بلکہ دنیا کی کسی بھی لیگ میں نہیں کھیلتے اور اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ وہ نہیں چاہتے ہوں کہ ان کھلاڑیوں کی وجہ سے جو ٹی وی رائٹس اور اشتہارات ملتے ہیں، اس کا فائدہ کوئی اور ملک اٹھائے۔

شعیب اختر نے پاکستان سپرلیگ کی فرنچائز خریدنے کا اعلان کردیا.

لاہور: سابق فاسٹ باﺅلرشعیب اختر نے پاکستان سپرلیگ کی فرنچائز خریدنے کا اعلان کردیا ہے۔ سابق سپیڈسٹار کا کہنا ہے کہ اپنی ٹیم میں محمد عامر کو بھی خرید کر اسے دوبارہ کامیاب باﺅلر بنانے کی خواہش ہے جبکہ یونس خان کو وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردینا چاہئے۔ قذافی سٹیڈیم میں پاکستان سپرلیگ کے سربراہ نجم سیٹھی سے ملاقات کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شعیب اختر نے کہاکہ پی ایس ایل کرکٹ بورڈ کی نہیں پورے ملک کی لیگ ہے۔ سپرلیگ سے پاکستان کرکٹ میں نئی روح جائے گی۔ سپیڈسٹار نے کہاکہ وہ اپنے آئی ٹی کمپنی پارٹنرز کے ساتھ ملکر پاکستان سپرلیگ کی ایک ٹیم خریدیں گے اور پی ایس ایل فرنچائز حاصل کرنے کیلئے بولی دینے کیلئے تیار یاں کررہے ہیں۔ شعیب اختر نے کہاکہ میچ فکسنگ میں سزا یافتہ سلمان بٹ ، محمد عامر اور محمد آصف کے ساتھ ایک جیسا برتاﺅ کرنا چاہئے ، ان کی خواہش ہے کہ اپنی ٹیم میں محمد عامر کو خرید کر نئے سرے سے تیار کریں۔ شعیب اختر نے کہاکہ وہ گراس روٹ پر کرکٹ کے فروغ کیلئے روالپنڈی ریجن کی ٹیم کی آنر شپ خریدنے کیلئے بھی تیار ہیں۔ سپیڈ سٹاریونس خان کو مشورہ دیا کہ وہ وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیں کیونکہ عموماً مڈل آرڈر بلے باز روتے ہوئے ریٹائرمنٹ لیتے ہیں

کرکٹ ٹیم مینجمنٹ میں ایک بار پھر انتخاب عالم منیجر مقرر.

لاہور: پاکستان کرکٹ ٹیم کی مینجمنٹ میں ایک بار پھر سابق کپتان انتخاب عالم کی واپسی ہوئی ہے جنہیں نوید اکرم چیمہ کی جگہ دورہ زمبابوے کیلئے قومی ٹیم کا منیجر مقرر کردیا گیا ہے۔

ہر دور میں کسی نہ کسی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ سے منسلک رہنے والے انتخاب عالم کو ایک بار پھر قومی ٹیم مینجمنٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 1992 کے عالمی کپ اور 2009 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں جب پاکستانی ٹیم چیمپیئن بنی تو قومی ٹیم کے منیجر انتخاب عالم ہی تھے۔

لیکن جب کبھی بھی انہیں منیجر کے عہدے سے ہٹایا گیا تو ساتھ میں بورڈ میں کسی اور اہم عہدے سے نواز دیا گیا۔

قومی ٹیم کے سابق منیجر نوید اکرم چیمہ کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا چیئرمین مقرر کردیا گیا تھا اور انہوں نے اپنی نئی ذمے داریوں کے سبب قومی ٹیم منیجر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس حوالے سے چیئرمین پی سی بی شہریار خان کو بھی آگاہ کردیا تھا۔

پی سی بی نے گزشتہ اخراجات میں کمی کیلئے ڈاؤن سائزنگ کا عمل شروع کرتے ہوئے ڈائریکٹر ڈومیسٹک اور ڈائریکٹر انٹرنیشنل کے عہدوں کو ختم کردیا تھا اور ان عہدوں پر بالترتیب مامور انتخاب عالم اور ذاکر خان کو بھی عہدوں سے فارغ کردیا گیا تھا۔

لیکن اس اعلان کے چند دن بعد ہی 73 سالہ انتخاب عالم کو ایک اور ذمے داری سونپتے پوئے قومی ٹیم کے منیجر کے عہدے پر فائض کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق انتخاب عالم کو یہ ذمے داری فی الحال صرف دورہ زمبابوے کے لیے سونپی گئی ہے اور دورہ انگلینڈ کے لیے منیجر کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

ادھر پاکستان اور زمبابوے کے درمیان کھیلی جانے والی کرکٹ سیریز کے لوگو کی رونمائی کے موقع پر مہمان خصوصی انتخاب عالم نے کہا کہ سیریز میں ڈسپلن کے خلاف ورزی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ڈسپلن ہو گا تو ہی ٹیم کامیاب ہو گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ زمبابوبے ہمیشہ ہوم کنڈیشنز میں سخت حریف ہوتی ہے اور کامیابی کے لئے کھلاڑیوں کو سخت محنت کرنا ہو گی۔

مینجر قومی کرکٹ ٹیم کے مطابق پاکستانی ٹیم نے خوب محنت کی ہے اور دورہ زمبابوے انگلینڈ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہوم کرکٹ سیریز کے لئے تیاری کا بہترین موقع ثابت ہوگی۔

شین وارن کی منتخب کردہ بہترین پاکستان کرکٹ ٹیم.

ایک عرصے تک بلے بازوں کے اعصاب پر سوار رہنے والے دنیا کے عظیم ترین لیگ اسپنر اور سابق آسٹریلین کرکٹر شین وارن نے دنیا کی تمام ٹیموں کی گزشتہ 25 سال کی بہترین ٹیم تشکیل دینے کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔

اس سے قبل وہ آسٹریلیا، انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کی بہترین ٹیموں کا انتخاب کر چکے ہیں.

1990 سے لے کر 2015 تک پاکستان کی بہترین ٹیم کا انتخاب کرنے والے شین وارن نے کہا کہ انہوں نے ان کھلاڑیوں کا انتخاب کیا ہے جن کے خلاف وہ کھیلے یا جن کو انہوں نے اپنے سامنے کھیلتے ہوئے دیکھا۔

عالمی کرکٹ میں ایک ہزار ایک وکٹیں لینے والے باؤلر نے کہا کہ میں نے اپنی ٹیم میں رچرڈ ہیڈلی، عمران خان اور آئن بوتھم جیسے عظیم کھلاڑیوں کے خلاف بہت کم کھیلا یا بالکل نہیں کھیلا، اس لیے انہیں ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیا لیکن جب میں سب سے آخر میں اپنی منتخب کردہ دنیا کی بہترین ٹیسٹ ٹیم تشکیل دوں گا تو اس میں مجھے یقین ہے کہ یہ کھلاڑی شامل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس ٹیم میں متعدد بہترین کھلاڑی جگہ نہ بنا سکے اور سب سے مشکل کام اپنے دوست اور بہترین لیگ اسپنر مشتاق احمد کو اس ٹیم سے باہر کرنا تھا لیکن میں نے لیگ اسپن آل راؤنڈر ہونے کی وجہ سے شاہد آفریدی کا انتخاب کیا ورنہ میں ثقلین، وقار یونس یا شعیب اختر میں سے کسی کی جگہ انہیں منتخب کرتا۔

عظیم لیگ اسپنر نے مزید کہا کہ آل راؤنڈر عبدالرزاق اور اظہر محمود کو بھی اس ٹیم سے باہر کرنا بہت مشکل تھا لیکن یہ ایک انتہائی باصلاحیت ٹیم تھی۔

شین وارن کی منتخب کردہ پاکستان کی بہترین ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔

وسیم اکرم(کپتان)

سعید انور

عامر سہیل

یونس خان

انضمام الحق

محمد یوسف

شاہد آفریدی

معین خان

ثقلین مشتاق

شعیب اختر

وقار یونس

کیون پیٹرسن نے پاکستان سپر لیگ میں شمولیت کا فیصلہ کر لیا.

پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) میں حصہ لینے والے نامور کھلاڑیوں کی فہرست میں انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق بلے باز کیون پیٹرسن کی شکل میں ایک اور بڑا نام شامل ہو گیا ہے۔لاہور میں لیگ کے لوگو کی شاندار تقریب رونمائی میں پی سی بی کی جانب سے دی گئی کھلاڑیوں کی فہرست میں پیٹرسن کی شمولیت قابل ذکرتھی۔تقریب کے دوران پیٹرسن کا ویڈیو پیغام دیکھاگیا جس میں ان کا کہناتھاکہ” میں فروری میں ہونے والے پاکستانی میلے کا حصہ بننے پر بہت خوش ہوں، اور مجھے بے تابی سے اس کے آغاز کا انتظار ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ ایک زبردست اور شاندار مقابلہ ثابت ہو گا۔ روایتی ٹی ٹوئنٹی کی طرح بہت سارا مزہ، چھکے اور وکٹیں، میں اس بڑے ٹورنامنٹ کا حصہ بننے پر پرجوش ہوں۔پی ایس ایل فرنچائز طرز کا ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ ہے جو چار سے 24 فروری 2016 کو کھیلا جائے گا جس میں ممکنہ طور پر صوبائی سطح کی پانچ ٹیمیں اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ شامل ہوں گی۔ٹورنامنٹ میں بڑے کھلاڑیوں کی شرکت کے حوالے سے سوالیہ نشان لگنے کی وجہ سے اسے دو مرتبہ ملتوی کیا گیا لیکن نامور بین الاقوامی کھلاڑیوں کرس گیل، اینجیلو میتھیوز، لاستھ ملنگا، ڈیوین براوو اور کئی دوسرے کھلاڑیوں اور اسٹار کیجانب سے شمولیت کی یقین دہانی کے بعد پی سی بی نے لیگ کے انعقاد کا باقاعدہ فیصلہ کیا۔کھلاڑیوں سے لیگ میں شمولیت کے لیے انفرادی طورپر دستخطوں کا سلسلہ بعد میں شروع ہو گا۔تاہم پی سی بی کو ابھی لیگ کے انعقاد کی جگہ کا تعین کرناہے جہاں ماسٹر چمپینز لیگ میں ردوبدل کے بعد اب ٹورنامنٹ کے دوبارہ متحدہ عرب امارات میں انعقاد کا کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔پی سی بی کے پاس ٹورنامنٹ کو قطرمیں منعقد کروانے کا بھی موقع ہے لیکن مالی فوائد کے پیش نظر بورڈ متحدہ عرب امارات میں انعقاد کو ترجیح دے رہاہے جہاں پاکستان 2010 سے اپنے بین الاقوامی میچ کھیل رہاہے۔

Google Analytics Alternative