کھیل

پاکستان ہاکی چمپیئن شپ میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروانے کا اعلان

کراچی: پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے 62 ویں قومی ہاکی چمپیئن شپ میں تھرڈ امپائر ویڈیو ریفریل سسٹم متعارف کروانے کا اعلان کردیا.سابق اولمپیئن قمر ابراہیم نے چمپیئن شپ کی تفصیلات سے آگا ہ کرتے ہوئے کہا کہ “اس سسٹم کو شروع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر میچوں کے دوران کوئی خامی ہوتواس کو کم سے کم کیا جائے”۔انھوں نے کہا کہ سسٹم کے باوجود دوامپائرمیچ کا انتظام سنبھالیں گے جو ٹیموں کو منصفانہ فائدہ پہنچانے کے لیے امپائر منیجر کے ساتھ ویڈیو سے منسلک ہوں گے۔سابق اولمپیئن نے کہا کہ چمپیئن شپ میں اسلام آباد، چاروں صوبوں اور 15 اداروں کی 25 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جبکہ ٹورنامنٹ کا آغاز 10 جنوری سے کراچی میں ہوگا۔انھوں نے کہا کہ ٹیموں کو چار پول میں تقسیم کیا گیا جہاں لیگ میچوں کے بعد ہر پول سے دو دو ٹیمیں کوارٹر فائنل میں جائیں گی.کوارٹر فائنل سے فائنل تک تمام میچ فلڈ لائٹ میں کھیلے جائیں گے اور ٹی وی پر براہ راست نشر بھی کئے جائیں گے۔قمر نے کہا کہ ٹورنامنٹ کی انتظامیہ میں ڈسپلنری کمیٹی جس میں ٹیکنیکل اور امپائر منیجر، چیف سلیکٹر اور ٹورنامنٹ کے چیف کوآرڈینیٹر کو شامل کیا گیا ہے، دلاور بھٹی کو امپائر کا منیجر مقرر کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ گولڈ، سلوراور برونز میڈل جیتنے والی ٹیموں کو بھاری انعامات کے علاوہ چمپیئن شپ کا بہترین کھلاڑی، سب سے زیادہ گول کرنے والے اور بہترین گول کیپر کے انعامات بھی دیے جائیں گے تاہم انھوں نے بجٹ کے حوالے سے کچھ کہنے سے انکار کیا۔قمر کا کہنا تھا کہ پی ایچ ایف نے تمام سابق اولمپیئنز اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کو دعوت دی ہے کہ وہ ٹورنامنٹ میں آئیں اور ملک میں کھیل کے فروغ کے لیے اپنے خیالات سے نوازیں۔انھوں نے سندھ گورنرز الیون اور سندھ وزیراعلیٰ الیون کے درمیان نمائشی میچ منعقد کروانے کا بھی اعلان کیا جس میں سابق مشہور کھلاڑی حصہ لیں گے۔کراچی میں ہونے والی 62 ویں قومی ہاکی چمپیئن شپ کے ابتدائی دومیچ اصلاح الدین-ڈاکٹرایم اے شاہ اکیڈمی میں کھیلے جائیں گے۔سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کے صدر اور سابق گول کیپر اولمپیئن شاہد علی خان نے چمپیئن شپ کا لوگو”پاکستان ہاکی کی واپسی” بھی متعارف کروایا۔اس موقع پر آرگنائزنگ سیکرٹری محمد فاروق خان، چیف کوآرڈینیٹر کامران اشرف، حال ہی میں تعینات ہونے والے پی ایچ ایف کیمپ آفس کے ڈائرکٹر ایڈمنسٹریشن واثق احمد اور افتخار سید بھی موجود تھے۔

جیمز اینڈرسن زخمی ہوکر ڈربن ٹیسٹ سے باہر ہوگئے

محمدعامر کی واپسی ،پی سی بی کا اہم اعتراف

لاہور:پاکستان کرکٹ بورڈ نے آخر کار تسلیم کر لیا ہے کہ کچھ کھلاڑی ٹیم میں محمد عامر کی واپسی کےخلاف ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کےچیئرمین شہریار خان نے اسپاٹ فکسنگ کیس کے سزا یافتہ محمد عامر کو تلقین کی ہے کہ وہ عاجزی اور اپنے رویئے میں ڈسپلن کا مظاہرہ کریں۔کھلاڑیوں، میڈیا اورکمنٹیٹرز کی جانب سے محمد عامر کے لئے قومی ٹیم کی راہیں ہموار کرنے پر تنقیدکے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے وضاحت کی ہے کہ عامر کو کیوں منتخب کیا جا رہا ہے۔اپنے اعلامئے میں پی سی بی نے کہا کہ محمد عامر نے بحالی کا پروگرام مکمل کیا ہے ، انہوں نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگی ، عامر سے جب جرم سرزد ہوا ان کی عمر 19 برس جبکہ بیک گراﺅنڈ پسماندہ تھا۔ پی سی بی کے اعلامئے کے مطابق آئی سی سی نے محمد عامر کو پابندی ختم ہونے سے چھ ماہ پہلے ہی کھیلنے کی اجازت دی ، محمد عامر نے ڈومیسٹک کرکٹ اور بی پی ایل میں اچھا پرفارم کیا، چیئرمین پی سی بی نے محمد عامر سے ملاقات میں ان کو مثالی رویہ اپنانے کی تلقین کی ہے جس کی محمد عامر نے یقین دہانی کرائی ہے

امپائر کے فیصلے پر خراب رویہ، فواد عالم پر جرمانہ عائد

سٹیون سمتھ، آئی سی سی پلیئر آف دی ائیر قرار

دبئی:آئی سی سی نے 2015 کے ایوارڈ پانے والے کرکٹ سے وابستہ افراد کے ناموں کا اعلان کردیا ، آسٹریلوی بیٹسمین سٹیون سمتھ کو آئی سی سی پلیئر آف دی ائیر 2015 قرار ددیدیا گیا۔تفصیلات کے مطابق آئی سی سی پلیئر آف دی ایئر ایوارڈ کی تقریب دبئی میں ہوئی جس میں سٹیون سمتھ کو آئی سی سی پلیئر آف دی ائیر 2015 قرار ددیدیا گیا اس کے علاوہ ٹیسٹ کرکٹر آف دی ایئر کا ایوارڈ بھی سٹیون سمتھ کے نام رہا۔ ون ڈے پلیئر آف دی ایئر 2015 کا اعزازجنوبی افریقہ کے اے بی ڈی ویلیئرزکے نا م رہا جبکہ ٹی 20 کے پرفارمر کا ایوارڈ بھی جنوبی افریقہ کے ہی نام رہا اورجنوبی افریقہ کے فاف ڈوپلیسی ٹی 20 پرفارمرآف دی ایئر قرار پائے۔ڈو پلیسی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 56 گیندوں پر 119 رنز بنائے تھے۔ سپرٹ آف دی کرکٹ ایوارڈ کا اعزاز نیوزی لینڈ کے کپتان میک کولم کے نام رہا جبکہ ایمرجنگ پلیئر آف دی ایئر کا ایوارڈ آسٹریلیا کے جوش ہیزل ووڈ کے نام رہا۔ویمنز پلیئر آف ٹی 20 کا ایوارڈ ویسٹ انڈیز کی اسٹیفنی ٹیلر نے جیتا جبکہ سال 2015 کے بہترین امپائر کاایوارڈ انگلینڈ کے رچرڈ کیٹل برو نے جیت

محمد عامر کی دورہ نیوزی لینڈ میں شرکت مشکوک

لاہور: ویزہ ملنے میں مشکلات کے باعث محمد عامر کی دورہ نیوزی لینڈ کے لئے قومی سکواڈ میں شرکت مشکوک ہوگئی ، پی سی بی نے قانونی مشاورت کے بعد محمد عامر کی ٹیم میں شمولیت کو ویزہ کلیئرنس سے مشروط کر دی ۔ذرائع کے مطابق نیوزی لینڈ کے امیگریشن قوانین کے مطابق جس شخص نے سزا کاٹی ہو اس کو ویزہ نہیں مل سکتا جس کی وجہ سے سپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ محمد عامر کے ویزہ کے حصول میں رکاوٹ بن گئی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ محمد عامر کے ویزہ کے حوالے سے قانونی مشاورت کررہا ہے۔محمدعامرکوویزہ ملنے میں مشکلات کے باعث پی سی بی نے انکی قومی ٹیم میں شمولیت ویزہ کلیرنس سے مشروط کی ہے۔دورہ نیوزی لینڈ کے لئے قومی کرکٹ ٹیم کا تربیتی کیمپ لاہور میں جاری ہے اور محمد عامر بھی کیمپ میں شریک ہیں لیکن سپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے ان کے دورہ نیوزی لینڈ کے ویزا حصول میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں اس وجہ سے ان کے دورہ نیوزی لینڈ کو مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔ کیوں کہ نیوزی لینڈ کے امیگریشن قوانین کے تحت سزا یافتہ شخص کو ویزہ نہیں دیاجاتا۔واضح رہے کہ محمد عامر نے سپاٹ فکسنگ کیس میں برطانیہ میں تین ماہ کی جیل کاٹی تھی۔

آئندہ سال دوبارہ کھلاڑیوں کا انتخاب ہوگا،شہر یار خان

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار خان نے کہاہے کہ پاکستان سپر لیگ میں پانچوں ٹیمیں متوازن ہیں ہونے والے مقابلے دلچسپ ہوں گے . کھلاڑیوں کو اچھا خاصا معاوضہ ملے گا جو ایک سال کےلئے ہوگا . آئندہ سال دوبارہ کھلاڑیوں کا انتخاب ہوگا ۔بی بی سی اردو سروس سے بات چیت کے دور ان پاکستان سپر لیگ میں کھلاڑیوں کے انتخاب کےلئے اپنائے گئے .طریقہ کار کے بارے میں کسی قسم کے نقص یا خامیوں کے بارے میں انہوںنے کہاکہ یہ طریقہ کار انتہائی مناسب تھا اور کھلاڑیوں کو مختلف زمروں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔کھلاڑیوں کو ملنے والے معاوضے کے بارے میں شہر یار خان نے کہا کہ کھلاڑیوں کو اچھا خاصا معاوضہ ملے گا جو ایک سال کےلئے ہو گا اور آئندہ سال دوبارہ کھلاڑیوں کا انتخاب ہو گا۔ انھوں نے اس تاثر کو رد کر دیا کہ پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں کو اس میں موقع نہیں ملے گا۔انھوں نے کہا کہ نوجوان کھلاڑی جن میں سرفراز، عماد وسیم اور رضوان شامل ہیں ان کو ٹیموں میں شامل کر لیا گیا ہے۔

یاسر شاہ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کونسل کے رکن منتخب

لیگ اسپن بالر یاسر شاہ اپنے آبائی علاقے صوابی کی ڈسپیوٹ ریزولیوشن کونسل کے رکن منتخب ہو گئے ہیں اور اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد وہ نہ صرف ڈسٹرکٹ صوابی میں امن و امان کی صورت حال پر نگاہ رکھیں گے بلکہ تنازعات نمٹانے میں بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔ انتیس سالہ پاکستانی کھلاڑی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنا قیمتی وقت دے کر علاقے میں حریفوں کے درمیان مختلف تنازعات کا حل نکالتے ہوئے امن قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔پولیس حکام کا بھی کہنا ہے کہ انہوں نے قومی کھلاڑی میں اپنا کردار نبھانے کا بھرپور جذبہ محسوس کیا ہے۔

Google Analytics Alternative