کھیل

شین واٹسن کا ویرات کوہلی بارے بیان

آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کے اسٹار آل راو¿نڈر شین واٹسن کا کہنا ہے کہ ویرات کوہلی کی طرح کبھی کوئی نہیں کھیل سکتا۔شین واٹسن کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی کے پورے کیرئر میں ایک سنچری بنانا غیرمعمولی احساس ہوتا ہے لیکن اگر کوئی آئی پی ایل کے صرف ایک سیزن میں چار دفعہ یہ کارنامہ انجام دے!واٹسن نے ہندوستانی بلے باز کی تیکنیک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ویرات کوہلی اور اے بی ڈی ولیئرز ایک وقت میں مختلف گیم کھیلتے ہیں، کھیل پر ان کی گرفت اور جو کچھ وہ کررہے ہوتے ہیں وہ شاندار ہے۔آسٹریلوی آل راو¿نڈر نے رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) ٹیم کا حصہ ہونے پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آر سی بی کے ساتھ کھیلنے پر فخر ہے جہاں میدان سے باہر ویرات کوہلی اور ڈی ولیئرز کے حوالے سے اور وہ کتنے بہترین لوگ سب جاننے کا موقع ملا۔ان کا کہنا ہے کہ وہ آسٹریلیا کی جانب سے ویرات کوہلی کے خلاف ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت کھیلتے ہیں اور انھیں زیادہ سے زیادہ مصروف رکھنے کی کوشش کی ہے کیونکہ وہ بہت کم غلطیاں کرتے ہیں۔واٹسن کے مطا بق ویرات کوہلی میرے تین اوور کا سامنا کرنے کے بعد مجھے کتاب کی طرح پڑھتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں وہی کھیلتے ہیں.

کرکٹ کی دنیا میں نئی تاریخ رقم

ویسٹ انڈیز سے تعلق رکھنے والے معمر کرکٹر سیسل رائٹ نے اپنے کیریئر کی 7000وکٹیں مکمل کرلی ہیں۔79سالہ فاسٹ باو¿لر سیسل رائٹ گزشتہ 65سالوں سے کرکٹ کھیل رہے ہیں اور گزشتہ ہفتے ہیں انہوں نے اپنے کلب کے لیے ایک میچ میں 6شکار کیے ہیں۔سیسل 1959ئ میں جمیکا سے لیگ کرکٹ کھیلنے کے لیے مانچسٹر منتقل ہوئے تھے اور 3سیزن کھیلنے کے بعد انہوں نے برطانیہ میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا جہاں لنکاشائر لیگ کے لیے انہوں نے 27بالز فی وکٹ کے سٹرائیک ریٹ سے 538شکار کیے اور اب بھی وہ وہاں کے بلے بازوں کے لیے ڈراو¿نا خواب بنے ہوئے ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ گزشتہ 4میچز میں 15شکار کرچکے ہیں ،وہ اس سیزن میں تقریبا 40کے قریب میچز کھیلیں گے۔سیسل اپنی جوانی میں عظیم ویسٹ انڈین کھلاڑیوں سر ووین رچرڈز ، سر گیری سوبرز اور جوئیل گارنر کے ساتھ ساتھ سابق برطانوی بلے باز ڈینس کامپٹن کے ہمراہ کھیل چکے ہیں۔اپنے بیٹے اور اسکے دو بچوں کے ساتھ اولڈھم کے قریب رائٹن میں رہائش پذیر سیسل کا کہنا تھا کہ وہ 50کی دہائی سے کرکٹ کھیل رہے ہیں اور ابھی ریٹائرمنٹ لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔اپنے فٹنس کے راز کے بارے میں سوال پر سیسل کا کہنا تھا کہ وہ ٹی وی کے سامنے بیٹھنے پر میدان میں جاکر واک کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ شراب کو کبھی کبھی ہی ہاتھ لگاتے ہیں۔

شاہد آفریدی کا حیران کن فیصلہ، ٹیم میں واپسی کا علان

سابق ٹی ٹوئنٹی کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے ورلڈکپ کی شکست کو بھلا کر کاؤنٹی کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھا کر قومی ٹیم میں واپسی جگہ بناوں گا،

بعض افراد نے کرکٹ میں اپنے عہدے بچانے کے لئے میرا میڈیا ٹرائل کرنے کی کوشش کی۔غیر ملکی خبررساں ادارے کو انٹریو دیتے ہوئے قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ ملک کی خاطر کھیلنے کے لیے ہمیشہ تیار ہوں جب کہ میری اچھی فارم کے ذریعے پاکستان 2009 میں ٹی ٹوئنٹی چیمپئن بنا تھا اور اس بار کانٹی کرکٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرکے قومی ٹیم میں واپسی جگہ بنانے کی ہرممکن کوشش کروں گا۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2016 میں بدترین کپتانی پر شاہد آفریدی کو ٹیم مینجر اور کوچ کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر آفریدی کا کہنا تھا کہ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ لوگ جھوٹ بول کر دوسروں پر کیچڑ اچھالتے ہیں جب کہ ان لوگوں نے خود کو بچا کر میرا میڈیا ٹرائل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ ہم نے ورلڈکپ میں خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن اس کی ذمہ داری کسی ایک شخص پر نہیں ڈالی جاسکتی۔شاہد آفریدی ٹیسٹ کرکٹ کے بعد گزشتہ سال ایک روزہ کرکٹ سے بھی ریٹائرڈ ہوگئے تھے تاہم انہوں نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ نہیں لی تھی۔واضح رہے پاکستان جولائی میں انگلینڈ کا دورہ کرے گا جہاں ایک ٹی ٹوئنٹی، 4 ٹیسٹ اور 5 ون ڈے میچز کھیلے جائیں گے لیکن سلیکٹرز کی جانب سے دورہ انگلینڈ کے لیے شاہد آفریدی سمیت کئی اہم کھلاڑیوں کو نظرانداز کیا گیا۔

شاہد آفریدی نے قومی ٹیم میں واپسی کا اعلان کر دیا

سابق ٹی ٹوئنٹی کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے ورلڈکپ کی شکست کو بھلا کر کاؤنٹی کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھا کر قومی ٹیم میں واپسی جگہ بناوں گا۔

بعض افراد نے کرکٹ میں اپنے عہدے بچانے کے لئے میرا میڈیا ٹرائل کرنے کی کوشش کی۔غیر ملکی خبررساں ادارے کو انٹریو دیتے ہوئے قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ ملک کی خاطر کھیلنے کے لیے ہمیشہ تیار ہوں جب کہ میری اچھی فارم کے ذریعے پاکستان 2009 میں ٹی ٹوئنٹی چیمپئن بنا تھا اور اس بار کانٹی کرکٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرکے قومی ٹیم میں واپسی جگہ بنانے کی ہرممکن کوشش کروں گا۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2016 میں بدترین کپتانی پر شاہد آفریدی کو ٹیم مینجر اور کوچ کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر آفریدی کا کہنا تھا کہ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ لوگ جھوٹ بول کر دوسروں پر کیچڑ اچھالتے ہیں جب کہ ان لوگوں نے خود کو بچا کر میرا میڈیا ٹرائل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ ہم نے ورلڈکپ میں خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن اس کی ذمہ داری کسی ایک شخص پر نہیں ڈالی جاسکتی۔شاہد آفریدی ٹیسٹ کرکٹ کے بعد گزشتہ سال ایک روزہ کرکٹ سے بھی ریٹائرڈ ہوگئے تھے تاہم انہوں نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ نہیں لی تھی۔واضح رہے پاکستان جولائی میں انگلینڈ کا دورہ کرے گا جہاں ایک ٹی ٹوئنٹی، 4 ٹیسٹ اور 5 ون ڈے میچز کھیلے جائیں گے لیکن سلیکٹرز کی جانب سے دورہ انگلینڈ کے لیے شاہد آفریدی سمیت کئی اہم کھلاڑیوں کو نظرانداز کیا گیا۔

یوئیفا یورو فٹ بال کپ 10 جون سے فرانس میں شروع ہوگا

پیرس: یوئیفا یورو فٹ بال کپ 10 جون سے فرانس میں شروع ہو گا جس میں 24 ٹیمیں حصہ لیں گی، اسپین کی ٹیم ٹائٹل کا دفاع کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق 15 ویں یوئیفا یورو کپ 2016 کا آغاز 10 جون سے فرانس میں ہوگا، ہسپانوی ٹیم مسلسل تیسری بار ٹائٹل کا دفاع کرےگی۔ 10 جولائی تک جاری رہنے والے ٹورنامٹ میں 24 ٹیمیں حصہ لیں گی جنہیں چھ گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

گروپ اے میں فرانس، رومانیہ، البانیہ اور سوئٹزرلینڈ، گروپ بی میں انگلینڈ، روس، ویلز اور سلواکیہ، گروپ سی میں جرمنی یوکرائن، پولینڈ اور نادرن آئرلینڈ شامل ہیں۔

گروپ ڈی میں اسپین، جمہوریہ چیک، ترکی اور کروشیا، گروپ ای میں بیلجیئم، اٹلی، جمہوریہ آئرلینڈ اور سویڈن اور گروپ ایف میں پرتگال، آئس لینڈ، آسٹریا اور ہنگری شامل ہے۔ ٹورنامنٹ کا فائنل 10 جولائی کو کھیلا جائے گا۔

پاکستان کرکٹ میں تعلیم کی کمی ہے،شہریارخان

کوئٹہ: چیئرمین پی سی بی نے قومی کرکٹرزکی تعلیم پرسوالات اٹھا دیئے۔ شہریار خان کا کہنا ہے کہ سیکورٹی خدشات کی وجہ سے بین الاقوامی ٹیمیں پاکستان آنے سے ڈرتی ہیں۔

کوئٹہ کےنواب اکبربگٹی کرکٹ اسٹیڈیم میں نیوز کانفرنس میں چیئرمین پی سی بی نے کھری کھری باتیں کیں ۔ انھوں نے کہاکہ  پاکستان کی کرکٹ میں آنے والے لڑکے ناخواندہ یا نیم تعلیم یافتہ ہیں۔ قومی ٹیم میں صرف مصباح الحق گریجویٹ ہیں۔

انھوں نے واضح کیاکہ  پی سی بی ڈسپلن پردو لڑکوں کو فارغ کرچکا ہے۔ مدثرنذرکونیشنل کرکٹ اورعلاقائی اکیڈمیز کا کوچ مقرر کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ سلیکشن میں میرٹ کی پامالی ختم کی جائے گی ، شدید تنقید کے بعد اب فٹنس کلچرلارہےہیں۔ انھوں نے مزیدکہاکہ سخت کوچ کا تقرربھی اسی لئے کیا گیاہے۔

چئیرمین پی سی بی نے کہاکہ افغانستان کی کرکٹ ٹیم جلد پاکستان کا دورہ کرے گی۔ انھوں نے انکشاف کیاکہ حساس اداروں کی رپورٹ ہے کہ دہشت گرد آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے چھوٹے شہروں میں آسان مقامات کو نشانہ بناکرغیرملکی ٹیموں کے لئے خوف کی فضا پیدا کرنا چاہتےہیں۔

جھوٹ بول کرمجھ پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے

پاکستان کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شکست کے بعد سینئرز کے رویے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص کو اس کا ذمے دار ٹھہرانا ٹھیک نہیں۔ ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی ناکام مہمات کے بعد شاہد آفریدی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور پھر فیس بک پر جاری ایک ویڈیو میں اپنی اور ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر قوم سے معافی مانگی تھی۔ پاکستان کرکٹ کی نئی سلیکشن کمیٹی نے نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنے کے لیے سابق کپتان کو دورہ انگلینڈ کی تیاریوں کے سلسلے میں لگائے گئے بوٹ کیمپ کا حصہ نہیں بنایا تھا۔ بوٹ کیمپ سے اخراج کے بعد اکثر ماہرین کرکٹ کا ماننا ہے کہ شاہد آفریدی کا دو دہائیوں پر مشتمل شاندار کیریئر اختتام پذیر ہو گیا ہے جہاں سابق کوچ وقار یونس اور منیجر انتخاب عالم نے اپنی رپورٹ میں ٹیم کی شکست کا ذمے دار آفریدی کو قرار دیا تھا۔

شاہد آفریدی نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو میں کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ انتہائی مایوس کن بات ہے کہ کچھ لوگ جھوٹ بول کر مجھ پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے اپنے عہدے بچانے کی کوشش کی اور میرا میڈیا ٹرائل کیا، ہم بُرا کھیلے اور ہار گئے لیکن ایک شخص کو اس کا ذمے دار ٹھہرانا ٹھیک نہیں، یہ ایک مجموعی ناکامی تھی۔ پاکستان کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ناکامی کو پس پشت ڈالتے ہوئے کاؤنٹی میں بہترین کارکردگی کے ذریعے قومی ٹیم میں واپسی کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اپنے کام میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کروں گا, مکی آرتھر

قومی کرکٹ ٹیم کے نئے کوچ مکی آرتھر نے کہا ہے کہ وہ اپنے کام میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کریں گے اور کسی بھی بیرونی طاقت کو اپنے کام میں ‘ڈکٹیٹ’ نہیں کرنے دیں گے۔

جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے آرتھر نے کہا کہ مجھے چیلنجز پسند ہیں، یہ میرے لیے بہت بڑا چیلنج ہے اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں واقعی تبدیلی لا سکتا ہوں۔

پاکستان ٹیم میں بیرونی مداخلت کے حوالے سے سوال پر ہیڈ کوچ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم میں اتنی صلاحیت ہونی چاہیے کہ ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے ان چیزوں کو روک دیں اور میں بھی ایسا ہی کروں گا۔ میں اپنے کام سے کام رکھتے ہوئے پاکستان کو ایک کامیاب ٹیم بنانے کی کوشش کروں گا اور اس کے لیے کسی بھی بیرونی طاقت کو ‘ڈکٹیٹ’ کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

پاک پیشن کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے تینوں فارمیٹ کے لیے الگ کپتان کے نظریے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ تین کپتانوں کے ساتھ کام کرنا انتہائی مشکل ہے، چیف سلیکٹر انضمام الحق کے ساتھ بات کر کے دیکھوں گا کہ مستقبل کو دیکھتے ہوئے کیا بہتر سمجھتے ہیں، آئیڈیل صورتحال تو یہ ہے کہ تینوں فارمیٹ میں زیادہ سے زیادہ دو کپتان ہونے چاہئیں لیکن ہمیں جو سب سے بہتر لگے گا وہی کریں گے۔

خراب ڈسپلن کے لیے مشہور قومی کرکٹرز کے بارے میں سوال پر مکی آرتھر نے کہا کہ میں ایک ایسا ماحول بنانے کی کوشش کروں گا جہاں کھلاڑی بہتر کارکردگی دکھا سکیں، کوئی بھی ایسا ماحول جہاں اقدار ہوں وہاں جیت کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں لہٰذا میں ایسا ماحول بنانے کی کوشش کروں گا جہاں کھلاڑی اپنے کھیل سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔

ماضی میں جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کی کوچنگ کا تجربہ رکھنے والے مایہ ناز کوچ نے کہا کہ میں دیکھوں گا کہ سخت رویہ اختیار کروں یا نرم، فی الحال اس حوالے سے کوئی رائے قائم کرنا کافی مشکل ہے، مجھے انتہائی احتیاط سے چیزوں کا جائزہ لینا ہو گا اور پھر صورتحال کے مطابق فیصلہ کروں گا۔

انہوں نے کوچنگ کے اپنے گزشتہ تجربے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی افریقہ کے ساتھ ساڑھے پانچ سال انتہائی کامیابی کے ساتھ گزارے جبکہ آسٹریلیا کے ساتھ بھی میرا ایک سال انتہائی اچھا گزرا لیکن پھر دوسرے سال چیزیں ٹھیک نہ رہیں اور یہ سب ہم تجربے سے سیکھتے ہیں، میں یقیناً وہ غلطیاں اپنی زندگی میں دوبارہ نہیں دہراؤں گا۔ ہم چند چیزوں سے سیکھ کر ہی بہتر کوچ بنتے ہیں اور ماضی کے تجربات کی روشنی میں اب میں بہتر کوچ رہوں گا۔

مکی آرتھر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ انڈین پریمیئر لیگ میں نہ کھیلنے کے سبب کھلاڑیوں کو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں جدوجہد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، فرنچائز کرکٹ سے آپ بہت کچھ سیکھتے ہیں، آئی پی ایل میں نہ کھیلنے سے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پاکستان کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔

Google Analytics Alternative