کھیل

پی ایچ ایف نے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے مکمل واجبات ادا کردیے

لاہور: پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے مکمل واجبات ادا کر دیے۔

فیڈریشن کے صدر بریگیڈیئر (ر) خالد سجاد کھوکھر نے ذاتی حیثیت میں فنڈز کا انتظام کیا۔

ترجمان پی ایچ ایف کے مطابق کھلاڑیوں کے واجبات ان کے اکاؤنٹس میں منتقل کر دیے گئے ہیں جبکہ غیرملکی اسٹاف کو بھی ادائیگیاں کر دی گئیں۔

صدر پی ایچ ایف نے کہا کہ ہم نے اپنا عہد پورا کر دیا،اب کھلاڑی اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے گولڈ میڈل جیت کر لائیں۔

بریگیڈیئر خالد سجاد کھوکھر نے کہا کہ ایشین گیمز میں بھارت کو ہرا کر قوم کو تحفہ دیں، فنڈز کے حوالے سے اسپانسرز کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قومی کھیل میں بہتری کے لیے نجی سیکٹر سے مدد لے رہے ہیں۔

شکیب الحسن کی امریکا میں ہم وطن شائق سے الجھنے کی ویڈیو وائرل

لائوڈرہل:  بنگلہ دیشی ٹیسٹ اور ٹوئنٹی 20 کپتان شکیب الحسن کی امریکا میں ایک ہم وطن شائق سے الجھنے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

فیس بک پر حسن ابن پاشا نے یہ ویڈیو پہلی بار شیئر کی جس میں ہوٹل میں شکیب کو ایک شائق سے الجھتے ہوئے دکھایا گیا جس نے ٹیم جرسی پہنی ہوئی تھی تاہم اس کے دونوں ہاتھ ٹرائوزر کی پاکٹس میں تھے، شکیب کافی برہم دکھائی دے رہے تھے، درشت انداز میں کچھ کہنے کے بعد وہ وہاں سے ہٹے مگر پھر واپس پلٹ کر اس شائق کے پاس پہنچے۔ اس بار انھیں قریب موجود تمیم اقبال و دیگر نے روک دیا اور وہاں سے لے گئے۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں جاری طلباء احتجاج کے حوالے سے شکیب نے چند روز قبل حکومت کی حمایت کی تھی جس پر انھیں شدید تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا، اس پر انھیں وضاحت دینا پڑگئی تھی۔

نجم سیٹھی8، 10 روز میں مستقبل کا فیصلہ کریں گے، اہلیہ

 لاہور:  چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی آئندہ 8 سے 10 روز  میں اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

وائس آف امریکاکو انٹرویو میں پنجاب اسمبلی کی نو منتخب رکن جگنو محسن نے جہاں اپنے سیاسی مقاصد واضح کیے وہاں شوہر نجم سیٹھی کے مستقبل پر بھی بات کی۔ انھوں نے کہا کہ نجم آئندہ 8 سے 10 دنوں میں اس بارے میں اہم فیصلہ کریں گے۔ وہ یہ فیصلہ اپنی عزت نفس کو سامنے رکھتے ہوئے کریں گے۔

یاد رہے کہ قبل ازیں نجم سیٹھی نے 3 اگست کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ انشاء اللہ میں اور میری چڑیا بہت جلد ٹی وی پر جلوہ گر ہوں گے، اس سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کوئی فیصلہ کرنے والے ہیں۔

شاہد آفریدی کریبیئن پریمیئر لیگ سے دستبردار

کراچی: شاہد آفریدی انجری کے سبب کریبیئن پریمیئر لیگ سے دستبردار ہو گئے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق اسٹار آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے کہا کہ ان کا گھٹنے کی انجری سے نجات کیلیے بحالی پروگرام چل رہا ہے، اس لئے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ میں اس مرتبہ سی پی ایل میں جمیکا تلاواز کی نمائندگی نہیں کر سکوں گا

بوم بوم آفریدی کا کہنا تھا کہ گھر بیٹھ کر ٹیم کو بھرپور سپورٹ کروں گا، مجھے یقین ہے کہ عماد وسیم میرا خلا پر کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ کریبیئن پریمیئر لیگ کا آغاز آج ہو رہا ہے جب کہ شاہد آفریدی کو رواں سال جمیکا تلاواز کی جانب سے منتخب کیا گیا تھا۔

محمد حفیظ کا سنٹرل کنٹریکٹ کو مسترد کرنے کا فیصلہ

لاہور: محمد حفیظ نے سنٹرل کنٹریکٹ کو مسترد کرنے کا فیصلہ کرلیا

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے نئے سینٹرل کنٹریکٹس نے ایک نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔ سابق کپتان محمد حفیظ اے سے بی کیٹگری میں تنرلی پر سخت  خفا ہیں اور انہوں نے بورڈ حکام کے فیصلے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ٹیسٹ کرکٹر اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر سخت دلبرداشتہ ہیں۔ ٹیسٹ اور ون ڈے میں بہترین اسٹرائیک ریٹ اور ایوریج کے باوجود ٹیم سے ان اور آوٹ رکھے جانے کے بعد اب اعلان کردہ نئے کنٹریکٹس نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔

 سابق کپتان کے  قریبی حلقوں کے مطابق کرکٹرکو کھڈے لائن لگانے کی کوشش بہت عرصہ پہلے سے کی جارہی ہیں، اور بی کیٹگری میں پھینکنے کا یہ فیصلہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان کے مطابق پیسے ایشو نہیں، بلکہ وہ عزت ہے جس کے تحت وہ ہمیشہ پاکستان کی نمائندگی کرتے آئے ہیں، اس لیے کرکٹر آئندہ بھی اسی  عزت اور وقار کے ساتھ ہی  کھیلنے کے خواہشمند ہیں، بصورت دیگر گھر بیٹھنا زیادہ مناسب ہوگا۔

ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئِنٹی سمیت تینوں فارمیٹس کھیلنے والے محمد حفیظ اس بات پر بھی خفا ہیں کہ کچھ کرکٹرز کو صرف ایک دو فارمیٹس پر ہی اے کیٹگری میں رکھاگیا ہے، ایک خراب سیریز پر ان کے ساتھ ایسا سلوک ٹھیک نہیں۔

اوپنر کا موقف ہے کہ کردار، ڈسپلن اور پرفارمنس پر کوئی انگلی نہیں اٹھاسکتا تو پھر ایسا سلوک کیوں کیا جارہا ہے، یہ پاکستان کی ٹیم ہے، اور وہ ہی فیصلے ہونے چاہئیں جس سے اس کی نیک نامی اور عزت میں اضافہ ہو، ایک سینئر کرکٹر کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے اچھی مثال قائم نہیں ہورہی۔

سابق کپتان کے مطابق کوچ، کپتان سمیت کسی سے سے ان کا کوئی اختلاف نہیں، بس عزت کے ساتھ  ورلڈ کپ 2019 کھیلنے کی خواہش ہے، بی کیٹگری لے کر کسی مستحق کی حق تلفی نہیں کرنا چاہتے، وہ یہ جاننے میں حق بجانب ہیں کہ آخر ان کا قصور کیا ہے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کھلاڑیوں اور ٹورنامنٹ کی انعامی رقوم میں کئی گنا اضافہ کر دیا

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈومیسٹک سیزن میں کھلاڑیوں کی میچ فیسوں اور ٹورنامنٹ کی انعامی رقوم میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پہلی بار سیزن کے آغاز سے قبل ہی پورے سیزن کے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

قائداعظم ٹرافی کی انعامی رقم میں 10 لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ٹورنامنٹ کی انعامی رقم 44 لاکھ سے بڑھا کر 54 لاکھ روپے ہو گئی ہے۔

ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کی انعامی رقم 49 لاکھ سے بڑھا کر 57 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔

پی سی بی نے قومی سیزن میں پچوں اور گیندوں کے معیار کو بہتر بنانے کا دعوی کیا ہے لیکن کھلاڑیوں کے لیے زبردست مالی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔

قائد اعظم ٹرافی کے ساتھ ون ڈے ٹورنامنٹ چیف سلیکٹر انضمام الحق کی تجویز پر ایک ساتھ کرایا جا رہا ہے۔

ون ڈے ٹورنامنٹ کا ہر میچ مختلف گراونڈ میں کھیلا جائے گا۔ اس سے قبل ٹورنامنٹ ایک ہی گراونڈ میں کھیلا جاتا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے 19-2018کے کرکٹ کلینڈر کا اعلان کر دیا ہے۔

سیزن کا آغاز جولائی میں سنیئر انٹر ڈسٹرکٹ سے ہو چکا ہے جو مئی میں ختم ہو گا۔

پی سی بی نے چار دن پہلے جیو کی خبر کی تصدیق کی کہ قائداعظم ٹرافی کی میچ فیس 25 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کر دی گئی ہے جب کہ ون ڈے ٹورنامنٹ کی فیس 20 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کردی گئی ہے۔

ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کی فیس 24 سے بڑھا کر 30 ہزار روپے فی میچ کر دی گئی ہے۔

پاکستان کپ میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کو فی میچ معاوضہ 30 سے بڑھا کر 35 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔

انٹر ریجنل انڈر 19 ٹورنامنٹ کی انعامی رقم میں بھی ایک لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے اور ٹورنامنٹ کی انعامی رقم اب ڈھائی لاکھ روپے ہو گی۔

سنیئر انٹر ڈسٹرکٹ کی فاتح ٹیم کو ڈھائی لاکھ روپے ملیں گے، اس انعامی رقم میں بھی ایک لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

قائد اعظم ٹرافی کے ساتھ ون ڈے ٹورنامنٹ کے میچ بھی ہوں گے، اگر کوئی ریجنل کھلاڑی دونوں میچ کھیلے گا تو اسے ڈیلی الاونس ملا کر 91 ہزار روپے ملیں گے۔

پندرہ رکنی ٹیم کے بقیہ چار کھلاڑیوں کو 34750 فی کس ملیں گے۔

پی سی بی کے مطابق قائد اعظم ٹرافی اور ون ڈے ٹورنامنٹ یکم ستمبر سے 8 دسمبر تک ہوں گے جب کہ قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ 10 سے 25 دسمبر تک کھیلا جائے گا۔

ریجنل انٹر ڈسٹرکٹ انڈر 19 یکم سے 20 جنوری تک ہو گا اور پاکستان کپ ون ڈے ٹورنامنٹ فیصل آباد اور ملتان میں دو سے 14 اپریل تک ہو گا۔

قائد اعظم ٹرافی گریڈ ٹو 16 اپریل سے15 مئی تک سندھ میں ہو گا جب کہ پیٹرنز ٹرافی گریڈ ٹو ٹورنامنٹ 16 اپریل سے 7 مئی تک ہو گا۔

آئی سی سی نے ٹی10 لیگ کی باضابطہ منظوری دے دی

شارجہ: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے کھیل کے نئے فارمیٹ ٹی10لیگ کے دوسرے ایڈیشن کی باضابطہ طور پر منظوری دے دی ہے۔

ٹی20 فارمیٹ کی شاندار کامیابی کے بعد گزشتہ سال پہلی مرتبہ ٹی10 فارمیٹ متعارف کرایا گیا جس کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا تھا تاہم گزشتہ ایڈیشن کی آئی سی سی نے منظوری نہیں دی تھی۔

تاہم 23نومبر 2018 سے شارجہ میں شروع ہونے والے لیگ کے دوسرے ایڈیشن کی آئی سی سی نے منظوری دے دی ہے۔

گزشتہ ایڈیشن کے برعکس اس بار 2 نئی ٹیموں کا اضافہ کیا گیا ہے جس سے اس مرتبہ کرکٹ لیگ کا دورانیہ 10 دن ہوجائے گا۔

گزشتہ برس شارجہ میں اپنی طرز کی پہلی لیگ میں آئن مورگن کی قیادت میں کیرالہ کنگ نے کامیابی حاصل کی تھی۔

ٹی 10 لیگ کے چیئرمین شجیع الملک نے کہا کہ ہم ایک سال قبل دی گئی ذمے داری پر پورا اترے اور ٹی10 کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ فارمیٹ بنادیا ہے۔

ٹی 10 لیگ کے صدر سلمان اقبال کا کہنا ہے کہ اس منظوری سے اس فارمیٹ کی عالمی سطح پر مقبولیت میں مزید اضافہ ہوگا اور محض ایک سال میں 2 نئی ٹیموں کا اضافہ اس بات کا ثبوت ہے ٹیموں کی تعداد میں اضافے سے نہ صرف لیگ کا دورانیہ 4 دن سے بڑھ کر 10 ہوجائے گا بلکہ اس سے مزید کھلاڑیوں کو لیگ کا حصہ بننے کا موقع بھی ملے گا۔

ٹی 10 کرکٹ لیگ کا دوسرا ایڈیشن 23 نومبر 2018 سے شارجہ کے کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا اور 10دن تک جاری رہنے والی اس ٹورنامنٹ میں 8 ٹیمیں شرکت کررہی ہیں۔

ایونٹ میں مراٹھا عریبینز کی قیادت افغانستان کے اسپنر راشد خان کریں گے جبکہ پختونز کے کپتان پاکستان کے شاہد آفریدی، پنجابی لیجنڈ کے کپتان شعیب ملک، کیرالہ کنگز کے کپتان انگلینڈ کے آئن مورگن، راجپوتز کے کپتان نیوزی لینڈ کے براینڈن میک کولم، بنگال ٹائیگرز کے کپتان ویسٹ انڈیز کے سنیل نارائن، نادرن واریئرز کے کپتان ڈیرن سیمی اور کراچیئین کے کپتان آسٹریلیا کے شین واٹسن ہوں گے۔

دوسرے ایڈیشن کے لیے ٹیموں کی ڈرافٹنگ آئندہ ماہ ستمبر میں ہو گی۔

بولنگ کوچ نے محمد عامر سے بہتر کھیل کا مطالبہ کر دیا

لندن: پاکستانی بولنگ کوچ اظہر محمود نے فاسٹ بولر محمد عامر سے نئی گیند کے ساتھ ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ کردیا۔

اظہر محمود بدستور عامر کے ناقص کھیل اور فٹنس مسائل پر پانچ برس کی کرکٹ سے دوری اور ڈراپ کیچز کا پردہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں، فکسنگ میں جیل کی ہوا کھانے والے پیسر کو دوبارہ انٹرنیشنل کرکٹ میں آئے ہوئے تین برس ہونے والے ہیں۔

بولنگ کوچ نے کہاکہ دورئہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے دوران عامر کچھ فٹنس مسائل کا شکار ہوئے مگر ہمارے فزیو کی کوشش سے کافی بہتر ہوچکے، وہ  اسی وجہ سے تینوں ٹیسٹ کھیلنے کے قابل ہوگئے مگر انھیں بدستور اپنی فٹنس بہتر بنانے کی ضرورت ہے، ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ وہ پانچ برس کی غیرحاضری کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آئے ہیں، ہم سب عامرکی فٹنس بہتر بنانے کیلیے کوشاں ہیں۔

 اظہر محمود نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پیسر کافی باصلاحیت ہیں مگر انھیں نئی گیند کے ساتھ کچھ زیادہ اسٹرائیک کی ضرورت ہے، بدقسمتی سے ان کی بولنگ پر کچھ کیچز بھی ڈراپ ہوئے، ہم چاہتے ہیں کہ وہ اننگز کے آغاز پر کچھ زیادہ موثر ثابت ہوں، اگر وہ نئی گیند کے ساتھ مستقل مزاجی سے اسٹرائیک کرتے رہے تو دوسرے بولرز پر سے دبائو کم ہوگا وہ وہ زیادہ اچھا پرفارم کریں گے۔

اظہر محمود نے کہاکہ عامر کی کلائی پوزیشن میں کچھ مسئلہ ہے جس کو ہم دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں، امید ہے کہ اس ایک ماہ کے وقفے سے وہ مختلف اور زیادہ موثر بولر کے طور پر سامنے آئیں گے۔

محمد حفیظ کے بارے میں بولنگ کوچ نے کہاکہ کوئی بھی ان کی صلاحیتوں پر انگلی نہیں اٹھاسکتا مگر ٹیم منیجمنٹ سمجھتی ہے کہ ہمیں نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے،اس لیے ہم حفیظ کو امام الحق کے بیک اپ اوپننگ بیٹسمین کے طور پر لے رہے ہیں، نوجوان اوپنر 9 ون ڈے میچز میں 4 سنچریاں اسکور کرچکے، اتنا اچھا کھیلنے والے پلیئر کو ڈراپ نہیں کیا جا سکتا، اس کے ساتھ ٹیم منیجمنٹ یہ بھی دیکھنا چاہتی ہے کہ ورلڈ کپ سے قبل ٹیم کہاں موجود ہے،محمد حفیظ کو زمبابوے میں ون ڈے نہ کھلانے کی اور کوئی بھی وجہ نہیں ہے۔

 

Google Analytics Alternative