کھیل

پبلشنگ پارٹنر معجزے کے منتظر ہیں، 500رنز کرنے کی کوشش کریں گے، سرفراز

قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں فتح کی بدولت سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنا کسی معجزے سے کم نہیں لیکن قومی ٹیم 500 رنز اسکور کرنے کی کوشش کرے گی۔

پاکستان کی ٹیم کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک رسائی کا امکان تقریباً ختم ہو گیا ہے اور سیمی فائنل تک پہنچنے کے لیے پاکستان کو میچ میں کم از کم 316 رنز سے فتح درکار ہے۔

اگر حقیقتاً دیکھا جائے تو پاکستان کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا امکان تقریباً ختم ہو چکا ہے لیکن قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد اب بھی پرامید ہیں۔

بنگلہ دیش کے خلاف میچ سے قبل لارڈز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرفراز احمد نے کہا کہ ہم شروع کے میچز میں اچھا نہیں کھیلے جس کی وجہ سے موجودہ صورتحال کا سامنا ہے، ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں بہت بڑے مارجن سے شکست اب ٹیم کے لیے نقصان کا سبب بن رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم آسٹریلیا کے خلاف میچ جیت سکتے ہیں مگر موقع ضائع کیا جبکہ سری لنکا کے خلاف میچ بارش کی نذر ہونے سے بھی نقصان ہوا۔

قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ 500رنز کرنا آسان نہیں، مگر کوشش کرسکتے ہیں، ہم بھی معجزے کے منتظر ہیں، جانتے ہیں مشکل ہے مگر کوشش کریں گے۔

اس موقع پر انہوں نے ٹورنامنٹ کے فارمیٹ پر بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فارمیٹ بنانے والے ہی بہتر بتا سکتے ہیں کیا فارمیٹ بنایا جائے لیکن موجودہ ٹورنامنٹ کے فارمیٹ میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

اپنی قیادت کے بارے میں سوال پر سرفراز کا کہنا تھا کہ میری کپتانی کا فیصلہ ورلڈ کپ کے بعد پی سی بی کرے گا جبکہ ورلڈ کپ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ بہتری کے لیے اقدامات اٹھائے گا۔

پاکستانی ٹیم کس طرح سیمی فائنل میں پہنچ سکتی ہے؟

بنگلہ دیش میچ میں قومی ٹیم کو ہر حال میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنا ہو گی کیونکہ پہلے باؤلنگ کی صورت میں پاکستانی ٹیم سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو جائے گی۔

سرفراز الیون اگر پہلے بیٹنگ میں 350 اسکور کرتی ہے اور بنگلہ دیش کی ٹیم کو 311 رنز سے شکست دیتی ہے تو قومی ٹیم سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر جائے گی۔

اس اسکور کے ساتھ قومی ٹیم کی جیت کا مارجن بہت ہی کم ہے، تاہم 400 رنز بنا کر 316 سے شکت دے کر بھی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچ سکتی ہے۔

اسی طرح اگر پاکستانی بلے باز پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 450 رنز کا ہندسہ عبور کر تے ہیں تو اسے 321 رنز سے میچ جیتنا ہوگا۔

اس کے علاوہ اگر قومی ٹیم ناقابل یقین 500 رنز بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اسے یہ میچ 326 رنز سے جیتنا ہوگا۔

یہ نہیں بتا سکتا کہ ٹاس جیت کر کیا کریں گے، بنگلادیشی کوچ

لارڈز: بنگلا دیشی ٹیم کےہیڈ کوچ اسٹیو رہوڈز کا کہنا ہےکہ یہ نہیں بتاسکتا کہ ٹاس جیت کر کیا کریں گے، صرف میچ جیتنا ہدف ہے۔

لارڈز میں ٹریننگ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوے کوچ نے واضح کیا کہ پاکستان کو ہراکر اچھی یادوں کے ساتھ جانا چایتے ہیں ہم پر کوہی پریشر نہیں البتہ پاکستانی ٹیم دباؤ میں کھیلے گی۔

اسٹیو رہوڈز نے کہا کہ لارڈز کے تاریخی گراونڈ  پر پاکستان اور بنگلا دیش کا میچ آسان نہیں ہوسکتا، دونوں ٹیموں کی خواہش ہے کہ آخری میچ جیت کر ورلڈ کپ اچھے نتیجے کے ساتھ گھر لوٹیں۔ پاکستان ٹیم کے پاس ابھی سیمی فائنل میں جانے کا چانس ہے ،ہمارے ذہن میں یہ چیز ہے اور  اس کو سامنے رکھتے ہوے پلاننگ کریں گے۔

ایک سوال پرکوچ نے جواب دیا کہ اس پر بات نہیں کرنا چاہتا کہ ہم ٹاس جیت کر کیا کریں گے، ہمارا فوکس بس  میچ جیتنے پر ہے، ورلڈ کپ میں پاکستان کیخلاف جیت بنگلا دیش کیلئے کافی اہم ہوگی ۔

مشرقی مرتضی کے آخری ورلڈ کپ کے حوالے سےان کا کہنا تھاکہ وہ اس ورلڈ کپ کے بارے میں کافی جذباتی ہے لیکن ایسا وقت ہر کرکٹر پر آتا ہے اور کسی کے نہ ہونے سے زندگی رکتی نہیں جس نے آنا ہے اسے ایک دن میدان سے رخصت بھی ہونا ہے۔ ہمیں اسی چیز کو مدنظر رکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔

پبلشنگ پارٹنر ‘ہم اس ڈری ہوئی ٹیم کے ساتھ نہیں کھیل سکتے’

سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب اختر نے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں اور اس کی انتظامیہ کو ‘ڈرا ہوا’ قرار دے دیا۔

ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں سابق اسپیڈ اسٹار شعیب اختر نے سیمی فائنل میں قومی ٹیم کی رسائی سے بھی امیدیں وابستہ کرلیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم کے لیے سیمی فائنل میں پہنچنا مشکل ہوگیا ہے لیکن بطور پاکستانی ان کی ٹیم سے ابھی بھی امیدیں وابستہ ہیں۔

شعیب اختر نے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو خوفزدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اسی ڈری ہوئی ٹیم اور انتظامیہ کے ساتھ جیت کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ ٹیم کو جیت کی راہ پر لانے کے لیے دلیر کھلاڑی اور انتظامیہ کی ضرورت ہے۔

شعیب اختر نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کو 1990 کی دہائی کے وہی کھلاڑی چاہیئں جو ‘بدمعاش کردار’ کے ساتھ دلیرانہ کرکٹ کھیلا کرتے تھے اور دلیر ہی انتظامیہ کی ضرورت ہے۔

اسپیڈ اسٹار نے موجودہ دور میں کرکٹ کے معیار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اب دنیا میں معیاری کرکٹ دیکھنے کو نہیں ملتی۔

اس کے علاوہ انہوں نے انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہونے والے میچ میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کیویز نے اتنی آسانی کے ساتھ یہ میچ میزبان ٹیم کو کیسے دے دیا؟

انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم اپنے پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ایونٹ کی بدترین شکست کے بعد ہی ایونٹ سے باہر ہوگئی تھی۔

شعیب اختر نے اگر مگر کی صورتحال کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیم کو میچز جیت کر اپنی پریشانیوں کو خود ختم کرنا چاہیے تھا۔

انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی

چیسٹرلی اسٹریٹ: ورلڈکپ کے اہم میچ میں انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو چاروں شانے چت کرتے ہوئے سیمی فائنل میں جگہ پکی کرلی جب کہ کیوی ٹیم کی شکست کے بعد پاکستان کی فائنل فور میں رسائی قریباً ناممکن ہوگئی ہے۔

پاکستان کو اپنے آخری میچ میں بنگلا دیش کے خلاف 316 رنز سے کامیابی حاصل کرنا ہو گی، اگر گرین شرٹس بنگلادیش کو مطلوبہ مارجن سے شکست نہ دے سکا تو بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر نیوزی لینڈ سیمی فائنل میں پہنچ جائے گا۔

چیسٹر لی اسٹریٹ کے میدان پر کھیلے گئے میچ میں میزبان انگلینڈ نے کیویز کو دبوچ لیا، ہاٹ فیورٹ انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو آؤٹ کلاس کرتے ہوئے اگلے مرحلے تک رسائی کی امیدوں کو برقرار رکھا ہے۔

انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 306 رنز کا مجموعہ کھڑا کیا جو نیوزی لینڈ کے لیے پہاڑجیسا ثابت ہوا، بلیک کیپس ہدف کے تعاقب میں مکمل طور پر ناکام رہی اور پوری ٹیم 186 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

ہدف کے جواب میں بلیک کیپس کا آغاز اچھا نہ تھا اور صرف 14 رنز پر دونوں اوپنر پویلین لوٹ گئے، نکولس صفر اور مارٹن گپٹل 8 رنز ہی بنا سکے، ابتدائی نقصان کے بعد کپتان ولیمسن نے تجربہ کار بیٹسمین راس ٹیلر کے ساتھ محتاط انداز میں اننگز کو آگے بڑھاتے ہوئے 47 رنز جوڑے تاہم 61 کے مجموعی اسکور پر کپتان رن آؤٹ ہوگئے۔

آٹھ رنز کے اضافے سے راس ٹیلر بھی رن آؤٹ ہو کر ٹیم کو مشکلات میں چھوڑ کر چلتے بنے جب کہ جیمس نیشن 123 رنز پر آؤٹ ہوگئے، جارح مزاج بیٹسمین گرینڈ ہوم بھی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور 3 رنز بنا کر کیچ تھما بیٹھے۔ آخری پانچ کھلاڑی 58 رنز کا ہی اضافہ کر سکے اور پوری ٹیم 186 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ ٹوم لیتھم 57 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے جب کہ مچل سنٹنر اور ہنری نے 7،7 اور بولٹ نے 4 رنز بنائے۔ کیوی ٹیم کے 6 بلے باز ڈبل فیگرز میں بھی داخل نہ ہوسکے۔

انگلش بولر ووڈ نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں حاصل کیں، ووکس، آرچر، پلنکٹ، عادل رشید اور بین اسٹوکس نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

اس سے قبل انگلینڈ کی جانب سے اننگز کا آغاز جیسن رائے اور بیراسٹو نے کیا، دونوں اوپنرز نے ٹیم کو جارحانہ کھیل پیش کیا اور 132 رنز کی شراکت قائم کی تاہم جیسن رائے 60 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوگئے۔

ون ڈاؤن آنے والے جوئے روٹ نے صرف 24 رنز بنائے اور آؤٹ ہوگئے جب کہ اوپنر بیراسٹو نے جارحانہ انداز میں سنچری مکمل کی اور 106 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔ بہترین اوپننگ شراکت ملنے کے باوجود بعد میں آنے والے بلے باز بڑا ٹوٹل بنانے میں ناکام رہے، جوس بٹلر اور بین اسٹوکس 11،11 رنز بناکر آؤٹ ہوئے جب کہ کپتان اون مورگن بھی 42 رنز کی اننگز کھیل کر پویلین واپس لوٹ گئے۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے ٹرینٹ بولٹ، میٹ ہنری، جیمز نیشام نے 2،2 اور مائیکل سینٹنر نے ایک وکٹ حاصل کی۔

 

وزیراعظم نے نئے کرکٹ ڈھانچے کی منظوری دیدی

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے نئے کرکٹ ڈھانچے کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے نظرثانی شدہ سسٹم منظور کرلیا، وزیراعظم نے بطور پیٹرن ان چیف پی سی بی نئے نظام کی منظوری دی جس کا باضابطہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں وزیراعظم عمران خان نے ڈیپارٹمنٹس کو نئے نظام میں تعاون کی ہدایات کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ ٹیمیں رکھنے والے تمام سرکاری ڈیپارٹمنٹس پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں

نوٹی فکیشن کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کی جانب  سے 11 سرکاری ڈیپارٹمنٹس کو ہدایت نامہ بھجوایا گیا جن میں واپڈا، ایس این جی پی ایل، اسٹیٹ بینک، نیشنل بینک، کے آر ایل، پی ٹی وی، زیڈ ٹی بی ایل، پی آئی اے، ریلوے اور سول ایوی ایشن شامل ہیں۔

نئے کرکٹ ڈھانچے میں 15 ریجنل ایسوسی ایشنز کو 6 میں تبدیل کر دیا گیا اور نئے سیٹ اپ میں پنجاب سینٹرل، پنجاب ساؤتھ، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور ناردرن کے ریجنز اور ٹیمیں شامل ہیں۔

ٹیم نے غلطیوں سے سبق سیکھ لیا، سرفراز احمد

لندن: قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ ٹیم نے غلطیوں سے سبق سیکھ لیا اب بنگلا دیش کیخلاف بھرپور تیاری کیساتھ میدان میں اتریں گے۔

لندن میں ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کیخلاف میچ کے بعد تمام کھلاڑیوں کو اکٹھاکرکےبات کی کہ کھلاڑیوں اور منیجمنٹ کی بھرپور محنت کے باوجود کہاں غلطیاں کررہے ہیں؟ کہ بطور ٹیم اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ نہیں کرپارہے،اپنے مسائل کا جائزہ لینے کے بعد سینئرز اور جونیئرز سب نے کہا کہ گزشتہ میچز میں جو ہوا، اس کو بھلا کر آئندہ میچز کیلیے نئے عزم کیساتھ میدان میں اتریں گے،اس کے بعد پاکستان نے بطور ٹیم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فتوحات حاصل کیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دوسری ٹیموں کے میچز کا نتیجہ ہمارے کنٹرول میں نہیں،ہماری توجہ اپنی پرفارمنس پر ہے،بنگلا دیش کیخلاف میچ سے قبل وقفہ ہونے کی وجہ سے تیاری کا اچھا موقع مل گیا، آخری میچ میں بھی جیت کا تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔

سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ انگلینڈ میں پرستاروں اور پاکستانی عوام کی سپورٹ سے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہیں، امید ہے کہ بنگلا دیش کیخلاف میچ میں بھی ان کی حوصلہ افزائی برقرار رہے گی۔

ایک سوال پر سرفراز احمد نے کہا کہ حارث سہیل نمبر 5پر بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کیلیے زیادہ بہتر پرفارم کرسکتے تھے،اس لئے خود بعد میں بیٹنگ کا فیصلہ کیا،مجھ سمیت کسی کے بھی بیٹنگ نمبر سے زیادہ ٹیم کے مفاد میں فیصلوں کی اہمیت ہے۔

سیمی فائنل میں رسائی؛ پاکستانی ٹیم کو راستے سے پتھر ہٹنے کا انتظار

لاہور: سیمی فائنل میں رسائی کیلیے پاکستان کی نگاہیں انگلینڈ ونیوزی لینڈ کے میچ پر مرکوز ہیں جب کہ بدھ کے روز میزبان ٹیم کی شکست راستے کا ایک پتھر ہٹا دے گی۔

انگلینڈ کی بھارت سے شکست پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی کے امکانات میں اضافہ کرسکتی تھی،مگر اتوار کو کھیلے جانے والے میچ میں ویرات کوہلی الیون کی ناکامی نے پوائنٹس ٹیبل کی صورتحال میں اگر مگر کا چکر بڑھا دیا۔

اس وقت دفاعی چیمپئن آسٹریلیا 8 میچز میں 14پوائنٹس کے ساتھ کوالیفائی کرنے والی واحد ٹیم اور جنوبی افریقہ کیخلاف غیر اہم میچ باقی ہے،پاکستان کے اس وقت 9 پوائنٹس اور بنگلہ دیش سے میچ ہونا ہے، 10پوائنٹس کے حامل انگلینڈ کو اپنے آخری مقابلے میں بدھ کو چیسٹرلی اسٹریٹ میں نیوزی لینڈ کا سامنا کرنا ہوگا۔

میزبان ٹیم کو شکست اور پاکستان جمعے کو لارڈز میں بنگلہ دیش پر فتح حاصل کرلے تو 11پوائنٹس کے ساتھ سیمی فائنل میں جگہ پکی کرلے گا،اگر انگلینڈ نے نیوزی لینڈکو مات دیدی اور پاکستان نے ٹائیگرزکو ہرادیا توگرین شرٹس اور کیویز کے 11،11 پوائنٹس اور فیصلہ نیٹ رن ریٹ پر ہوگا، اس وقت نیوزی لینڈ کا رن ریٹ پاکستان سے بہتر ہے۔

7 پوائنٹس کا حامل بنگلہ دیش بھی سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر نہیں لیکن اس کیلیے اسے منگل کو بھارت اور پھر جمعے کو پاکستان کو بھی مات دینے کے ساتھ انگلینڈ کی نیوزی لینڈ سے شکست کی دعاکرنا ہوگی۔

بھارت نے 7 میچز کھیلے اور11 پوائنٹس ہیں، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے میچز باقی ہیں، ایک فتح بلو شرٹس کو رن ریٹ کی محتاجی سے آزاد کردے گی۔

شیکھر دھون کے بعد وجے شنکر بھی ورلڈکپ سے باہر

فٹنس مسائل کے باعث بھارتی آل راﺅنڈر وجے شنکر ورلڈ کپ سے باہر ہو گئے۔

وجے شنکر نیٹ پریکٹس کے دوران جسپریت بمرا کی جانب سے کرایا گیا یارکر انگوٹھے پر لگنے سے زخمی ہو گئے تھے جس کے بعد وہ عالمی کپ کے دیگر میچز میں بلیو شرٹس کی نمائندگی نہیں کر سکیں گے، مزید معلوم ہوا ہے کہ وجے شنکر کی جگہ مایانک اگروال کو اسکواڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس ضمن میں آئی سی سی سے اجازت بھی طلب کر لی ہے، مایانک اگروال نے گزشتہ سال دسمبر میں آسٹریلیا کیخلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا لیکن ابھی تو وہ ون ڈے انٹرنیشنل میں شروعات نہیں کرسکے ہیں۔

Google Analytics Alternative