کھیل

بھارت پاکستانی ویمنزکرکٹ ٹیم کی میزبانی سے گریزاں

ممبئی: بھارت نے پاکستانی ویمنز ٹیم کی میزبانی سے انکار کا ذہن بنالیا، حکومت کی جانب سے اجازت نہ ملنے کو جواز بناکر آئی سی سی سے پوائنٹس دونوں ٹیموں میں ’شیئر‘ کرنے کی درخواست کی جائے گی۔

بھارت نے 2016 میں پاکستانی ویمنز ٹیم کے ساتھ ورلڈ کپ 2017 کیلیے راؤنڈ 6 میچز کھیلنے سے انکار کیا تھا، جس پر آئی سی سی نے تمام دستیاب پوائنٹس گرین شرٹس کو دے دیے تھے، اب ایک بار پھر بھارت کو پاکستان ویمنز ٹیم کی آئندہ ماہ میزبانی کرنی ہے،بورڈ اس سیریز سے جان چھڑانے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔

ایک بھارتی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی سی سی آئی نے حال ہی میں حکومت سے پاکستانی ویمنز ٹیم کی نومبر کے آخر میں میزبانی کیلیے اجازت مانگی تھی مگر وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا، اس لیے اب آئی سی سی کو خط لکھا جائے گا کہ حکومت سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے وہ سیریز کھیلنے سے قاصر ہیں لہذا پوائنٹس دونوں ٹیموں میں شیئر کردیے جائیں۔

دوسری جانب آئی سی سی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم اپنے ممبر بورڈز کی جانب سے اس حوالے سے کچھ سننے کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ آپس میں سیریز کھیلنا چاہتے ہیں یا نہیں، اگر کوئی ایک یہ کہے کہ وہ یہ سیریز حکومت کی اجازت نہ ملنے پر نہیں کھیل سکتا تو پھر اسے اپنی حکومت کی جانب سے ایک خط پیش کرنا ہوگا جس میں سیریز کی میزبانی نہ کرنے کی وجہ بتانا ہوگی، یہ لیٹر آئی سی سی کی ٹیکنیکل کمیٹی کو پیش کیا جائے گا جویہ فیصلہ کرے گی کہ پوائنٹس دونوں میں شیئر کیے جائیں یا پھر ایک ہی ٹیم کو ایوارڈ کردیے جائیں۔

یاد رہے کہ بی سی سی آئی کے نئے صدر ساروگنگولی پہلے ہی کہہ چکے کہ پاکستان سے سیریز کا فیصلہ حکومت کو کرنا ہوگا، وہ اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتے۔

 

باؤنسی پچز پر کینگروز کا سامنا کرنے کیلیے تیار ہیں، بابراعظم

لاہور: قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان بابراعظم کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کیخلاف سیریز کیلیے ٹیم میں جونیئرز اور سینئرز کا امتزاج ہے اور اچھی کرکٹ کھیلیں گے۔ 

قذافی اسٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان بابراعظم نے کہا ہے کہ 12 سال قبل اسی اسٹیڈیم میچ دیکھنے کیلیے آیا، اب یہاں بطور کپتان قومی ٹیم موجود ہوں، آسٹریلیا کیخلاف سیریز کیلیے ٹیم میں جونیئرز اور سینئرز کا امتزاج ہے،  اچھی کرکٹ کھیلیں اور جیتیں گے، ٹیم کا انتخاب سلیکشن کمیٹی کا کام ہے۔

بابراعظم نے کہا ڈومیسٹک اور جونیئرسطح پر کپتانی کی، سینٹرل پنجاب ٹیم کو بولنگ کی وجہ سے شکستیں ہوئیں، کپتانی کی وجہ سے ذمہ داری بڑھ گئی، صلاحیتوں سے انصاف کرنے کی کوشش کروں گا،  ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں انفرادی کارکردگی کا گراف نہیں اپنی اور ٹیم کی پرفارمنس دونوں پر توجہ دوں گا۔

قومی ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں پچز پر باؤنس ہوگا،  تیاری کرلی ہے، ہماری پیس بیٹری بھی اچھی ہے، محمد عامر کیساتھ پرجوش پیسرز محمد موسی اور محمد حسنین بھی موجود ہوں گے، آسٹریلوی کنڈیشنز میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی تیاریوں کا موقع ملے گا، امام الحق بیک اپ میں ہوں گے۔  فخرزمان  کیساتھ اننگز کا آغاز خود کروں گا۔

عثمان قادر نے والد کی سکھائی ہوئی ’خفیہ ورائٹی‘ متعارف کرانے کا اعلان کردیا

لاہور: قومی کرکٹر عثمان قادر کا کہنا ہے کہ والد عبدالقادر کے بعد پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کرنا اعزاز کی بات ہے، آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے دوران بولنگ میں نئی وڑائٹی متعارف کراؤں گا۔

پاکستان کی سب سے بڑی ویب سائٹ ’کرکٹ پاکستان ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے‘  سے خصوصی بات چیت میں عثمان قادر نے کہا کہ میرے والد کی خواہش تھی کہ میں ایک دن گرین شرٹس کی نمائندگی کروں،ان کا یہ خواب حقیقت کا روپ اختیار کر رہا ہے تو وہ اس دنیا میں نہیں رہے، والد کی زندگی میرے لئے مشعل راہ ہے، ان ہی کی بتائی ہوئی ٹپس میرے انٹرنیشنل کیریئر میں بہت کام آئیں گی۔

عثمان قادر نے کہا کہ میں آسٹریلین کرکٹ ٹیم کی نمائندگی ضرور کرنے کا خواہش مند تھا لیکن والد یہی چاہتے تھے کہ ان کی طرح میں بھی پاکستان کی طرف سے کھیلوں اور پاکستان کا نام روشن کروں،وہ بلاشبہ لیگ اسپن بولنگ کے بے تاج بادشاہ تھے،اپنی زندگی کے آخری سات، آٹھ ماہ انہوں نے میری بولنگ میں بہتری لانے کے لئے بڑا کام کیا،ان کی کوچنگ کی روشنی میں ہی آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے دوران بولنگ میں نئی وڑائٹی متعارف کراؤں گا۔

ایک سوال پر عثمان قادر نے کہا کہ میں بگ بیش سمیت بہت زیادہ کرکٹ آسٹریلیا میں کھیل چکا ہوں، اس لئے وہاں کی کنڈیشنز سے بخوبی آگاہ ہوں،کوشش ہو گی کہ کینگروز کے خلاف سیریز کے دوران ایسی کارکردگی دکھاؤں جس کا مجموعی طور پر فائدہ پاکستانی ٹیم کو ہو۔

ایک سوال پر عثمان قادر نے کہا کہ میں بولنگ کے ساتھ بیٹنگ میں بھی بھر پور محنت کر رہا ہوں اور مستقبل میں ٹوئنٹی20 کے بعد ایک روزہ اور ٹیسٹ کرکٹ میں بھی قومی ٹیم کی نمائندگی کرنا ہدف ہوگا۔

ثنا میر نے ایشیا گیم چینجر ایوارڈ وصول کرلیا

قومی ٹیم کی سابق کپتان ثنامیر نے ایشیا گیم چینجرایوارڈ وصول کرلیا۔

نیویارک میں ہونے والی تقریب میں ثنامیر کو یہ ایوارڈ دیا گیا، وہ ایوارڈ پانے والوں میں ایشیا سے تعلق رکھنے والی واحد خاتون ہیں۔ اس موقع  پر ثنامیر نے علامہ اقبال کی نظم لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری، کا خاص طورپر ذکرکیا اور اسے اپنے اوردوسروں کے لیے مشعل راہ قرار دیا۔

سابق کپتان نے اس ایوارڈ کو تین اہم حوالوں سے منسوب کرتے ہوئے  ان بچوں اور بچیوں کے نام کیا جو حالت جنگ، شورش زدہ علاقے  میں مقیم ہیں، جن کو تعلیم، کھیل یا دوسرے شعبوں میں آگے بڑھنے کے مناسب مواقع میسر نہیں، خاص طورپر انہوں نے کشمیر کا حوالہ دیا کہ اگر وہ  پاکستان کے بجائے کشمیر میں پیدا ہوتیں تو آج اس مقام پر نہ پہنچ پاتیں۔

ثنامیر نے یہ ایوارڈ ان لڑکیوں سے بھی منسوب کیا جو کھیل یا دوسرے شعبوں میں آگے بڑھنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ انہوں نے  قدرتی وسائل کی بقا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے دنیا کو محفوظ بنانے کے اقدامات کرنے کی آواز بلند کرنے والوں کے نام بھی یہ ایوارڈ کیا۔

پاکستان آنے پر بنگلا دیشی ٹیم کے شکرگزار ہیں، بسمہ معروف

لاہور: قومی ٹیم کی کپتان بسمہ معروف کا کہنا ہے کہ پاکستان آنے پر بنگلا دیش ٹیم کے شکرگزار ہیں۔

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی ٹیم کی کپتان بسمہ معروف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قوت ہمیشہ بولنگ رہی لیکن دونوں شعبوں میں بہترین کارکردگی دکھائیں گے، بنگلہ دیش کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی 6 اہم پلیئرز سری لنکا میں جاری ایشین کپ میں شریک ہونے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ عالمی کرکٹ میں کسی بھی ٹیم کو کمزور نہیں سمجھا جاسکتا، ہمیں بہترین کرکٹ کھیلنا ہوگی، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل یہ ہوم  گراؤنڈ پر تیاریوں کا اچھا موقع ہے جس کا بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سابق کوچ مارک کولز کا کام کرنے کا انداز بہترین تھا، ہمیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، چھوٹی موٹی چیزیں ہوتی رہتی ہیں لیکن ان کے سخت رویہ کے مثبت نتائج بھی حاصل ہوئے، ندار ڈار کی قومی ٹیم میں شمولیت کے بجائے بگ بیش لیگ کھیلنے کے سوال پر بسمہ معروف نے کہا کہ فیصلہ  بورڈ نے کیا ہے تاہم پاکستانی کرکٹرز کو ایک بڑے پلیٹ فارم پر کھیلنے کی ضرورت تھی،  اگر ندا کو موقع ملا تو اچھی بات ہے۔

دوسری جانب بنگلہ دیشی ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان سلمی خاتون نے کہا کہ پاکستان کےخلاف سیریز کیلیے پرجوش ہیں، ورلڈکپ کی تیاری کا اچھا موقع ملے گا، جیت اور ہار کھیل کا حصہ ہے، بہترین کرکٹ کھیلیں گی، پاکستان بہتر ٹیم ہے، ہمیں صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرنا ہوگا۔

شاہین 26 اکتوبر کو کینگروز کے دیس اڑان بھریں گے

لاہور: دورہ آسٹریلیا کے لئے پاکستان ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی جمعہ کی شام نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں اکٹھے ہوں گے اور 26 اکتوبرکی صبح  پاکستان ٹیم علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سے کینگروز کے دیس کے لئے روانہ ہو گی ۔

دورے کے دوران پاکستان ٹوئنٹی20 ٹیم کی قیادت بابراعظم کریں گے، دیگر کھلاڑیوں میں آصف علی، فخرزمان، حارث سہیل، افتخار احمد، عماد وسیم، امام الحق، خوشدل شاہ، محمد عامر، محمد حسنین، محمد عرفان، محمد رضوان(وکٹ کیپر)، موسی خان، شاداب خان، عثمان قادر اور وہاب ریاض شامل ہیں۔

قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم سیریز سے قبل ایک وارم اپ میچ کھیلے گی جبکہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹوئنٹی 20میچ3 نومبر کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا، دوسرا میچ 5نومبر کو کینبرا میں شیڈول ہے جبکہ سیریز کے تیسرے اور آخری ٹوئنٹی20 میچ میں دونوں ٹیمیں 8 نومبر کو پرتھ اسٹیڈیم میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گی۔

سیریز کے دوران عثمان قادر سمیت5 نئے کھلاڑی پہلی بار صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کھلاڑی قائداعظم ٹرافی کے پانچویں راؤنڈ میں شرکت کے بعد نومبر کے پہلے ہفتے میں آسٹریلیا کے لئے روانہ ہوں گے۔

ٹیسٹ ٹیم کی قیادت اظہر علی کریں گے، دیگر کھلاڑیوں میں عابد علی، اسد شفیق، بابراعظم، حارث سہیل، امام الحق، عمران خان (سینئر)، افتخار احمد، کاشف بھٹی، محمد عباس، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، موسی خان، نسیم شاہ، شاہین شاہ آفریدی، شان مسعود اور یاسر شاہ شامل ہیں۔

ٹیسٹ سیریز سے قبل قومی ٹیم 2 وارم اپ میچز کھیلے جائیں گے۔پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ 21 تا 25 نومبر تک برسبین کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا میچ 29 نومبر سے 3 دسمبر تک ایڈیلیڈ اوول میں کھیلا جائے گا۔

شاداب خان کا سرے کاؤنٹی سے معاہدہ طے پاگیا

پاکستانی کرکٹر شاداب خان کا سرے کاؤنٹی سے کھیلنے کا معاہدہ ہوا ہے۔

لیگ اسپنرآئندہ برس سرے کی جانب سے ٹی ٹونٹی بلاسٹ کھیلیں گے، 35 ٹی ٹوئنٹی اور 43 ایک روزہ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے 22 سالہ اسپنر نے ورلڈکپ کے سات میچوں میں نوشکار کرکے اپنی اہلیت کا لوہا منوایا تھا۔

شاداب خان  نے سرے کاؤنٹی کے ساتھ معاہدے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ سرے کی جانب سے کھیلنا اعزاز سمجھتے ہیں، بڑے عرصے سے کاونٹی کھیلنے کے موقع کا منظر تھا۔ آسٹریلوی بگ بیش کے بعد یہ انگلش کاؤنٹی سے معاہدہ ان کے کیرئر کا اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔

سرے نے پہلی بار 2003 میں ٹی ٹوئنٹی ٹائٹل جیتا تھا جس کے بعد وہ  2013 میں فائنل تک ضرور پہنچی لیکن ناکام رہی، سرے کاؤنٹی کے ڈائریکٹر ایلک اسٹیورٹ کا کہنا ہے کہ شاداب خان ٹی ٹوئنٹی کے شاندار باولر ہیں، ان کے آنے سے ہماری ٹیم کمبی نیشن بہتر ہوگا۔

سندھ اسمبلی میں سرفرازاحمد کو کپتانی سے ہٹانے کیخلاف قرارداد متفقہ طورپرمنظور

کراچی سے تعلق رکھنے والے  کرکٹر سرفراز احمد کو قومی ٹیم کے تینوں فارمیٹ کی کپتانی سے ہٹانے کے خلاف سندھ اسمبلی میں قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔

سرفراز احمد کوقومی ٹیم کی قیادت سے ہٹانے کا معاملہ ایوان تک جا پہنچا۔ قانون ساز ادارے میں بھی سرفراز احمد کے حق میں  آوازیں اٹھنے لگیں۔ معمولی باتوں پر جھگڑنے والے سیاستدان تمام تلخیاں اور اختلافات بھلا کر سرفراز احمدکے معاملے پر یک زبان ہوگئے۔

اسپیکرسندھ اسمبلی آغاسراج درانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ایم کیوایم کے رکن محمد حسین  نے سرفراز احمد کو قومی ٹیم کی کپتانی سے ہٹانے کے خلاف قرار داد پیش کی جو متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔قرار داد میں سرفراز احمد کو کپتان بنانے کے ساتھ ساتھ  سندھ کے لیے کرکٹ میں کوٹا مقرر کرکے 6 کھلاڑی شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

وزیراطلاعات سندھ  سعید غنی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سرفراز کوہٹانے کے فیصلے سے مزید مایوسی پیدا ہوئی۔

Google Analytics Alternative