کھیل

نوواک جوکووچ کی لگاتار 26ویں فتح

نیویارک: عالمی نمبر ایک نوواک جوکووچ اسپین کے روبرٹو بوٹسٹا کو شکست دے کر یو ایس اوپن کے کوارٹر فائنل میں پہنچنے کے ساتھ ساتھ لگاتار 26ویں گرینڈ سلیم کے کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے ہیں۔

2011 کے یو ایس اوپن چیمپیئن نے 6-3 کی فتح کے ساتھ پہلا سیٹ اپنے نام کیا لیکن دوسرے سیٹ میں ہسپانوی حریف نے انہیں اپ سیٹ کرتے ہوئے 4-6 سے فتح اپنے نام کی۔

تاہم اس کے بعد جوکووچ نے بوٹسٹا کو کوئی موقع نہ دیا اور اگلے دونوں سیٹ 6-4 اور 6-3 سے جیت کر لگاتار نویں مرتبہ یو ایس اوپن کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی۔

کوارٹر فائنل میں ان کا مقابلہ ایک اور ہسپانوی حریف فلسیانو لوپیز سے ہو گا۔

ادھر خواتین کی عالمی نمبر ایک سرینا ولیمز نے بھی کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی ہے جہاں ان کا مقابلہ اپنی بہن اور سابقہ چیمپیئن وینس ولیمز سے ہو گا۔

سرینا نے اپنی شاندار فارم کا سلسلہ برقرار رکھا اور امریکا کی ہی 19ویں سیڈ میڈیسن کی کو 6-3 اور 6-3 سے شکست دے کر ٹائٹل کے ساتھ ساتھ کیلنڈر گرینڈ سلیم کی جانب پیش قدمی برقرار رکھی۔

ان کی بہن اور 23ویں وینس ولیمز نے 152ویں سیڈ ایسٹونیا کی کوالیفائر اینٹ کونٹاویٹ کو باآسانی 6-2 اور 6-1 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کی جہاں ان کا سامنا اپنی بہن اور عالمی نمبر ایک سرینا سے ہو گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ پانچ سال سے گرینڈ سلیم مقابلوں میں وینس کی کارکردگی اس معیار کی نہیں رہی جس کے لیے وہ ماضی میں مشہور تھیں اور یہی وجہ ہے کہ 2010 کے یو ایس اوپن کے سیمی فائنل میں رسائی کے بعد سے وہ کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھا سکیں۔

اگر سرینا یہ گرینڈ سلیم جیت جاتی ہیں تو وہ سال کے چاروں گرینڈ سلیم مقابلے جیت کر کیلنڈر گرینڈ سلیم مکمل کر لیں گی اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے ٹائٹلر کی تعداد 22 تک پہنچا کر جرمنی کی اسٹیفی گراف کا ریکارڈ برابر کردیں گی۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن(پی ایچ ایف) میں ایک اور بحران کا خدشہ

کراچی: پاکستان ہاکی فیڈریشن(پی ایچ ایف) میں ایک نیا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہو چکا ہے جہاں میر ظفراللہ جمالی کی جانب سے نئے سیکریٹری شہباز سینئیر کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کیے جانے کے بعد کا عہدہ خطرے میں پڑتا نظر آ رہا ہے۔

پاکستان ہاکی کی تاریخ میں پہلی بار اولمپکس تک رسائی میں ناکامی کے بعد باوجود پی ایچ ایف کے صدر، کوچ اور متعلقہ حکام نے استعفے دینے کی زحمت گوارا نہ کی لیکن ٹیم کی بدترین کارکردگی پر وزیر اعظم اور پاکستان ہاکی کے پیٹرن ان چیف نواز شریف کے نوٹس اور اس کی تحقیقات کیئے کمیٹی کے قیام کے بعد استعفوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔

ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے مرتبہ کردہ رپورٹ وزیر اعظم ہاؤس پہنچنے کے ساتھ ہی پی ایچ ایف کے سابق صدر اختر رسول اور پھر ہیڈ کوچ شناز شیخ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا جس کے ساتھ ہی ہاکی فیڈریشن کی کمان بریگیڈیئر ریٹائرڈ سجاد کھوکھر نے سنبھالی۔

لیکن اس فیڈریشن ایک بار پھر بحرانی کیفیت سے اس وقت دوچار ہوئی جب سابق سیکریٹری رانا مجاہد نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا اور نئے صدر نے 1994 کا ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان اور سابق اولمپیئن شہباز سینئر کو سیکریٹری مقرر کیا جس پر میر ظفراللہ جمالی نے شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم نے پی ایچ ایف میں نئے سیٹ اپ کی تشکیل کی ذمہ داری میرظفراللہ جمالی کو سونپتے ہوئے سیکریٹری وزارت بین الصوبائی رابطہ اعجاز چوہدری کو ہدایت کی تھی کہ قومی ہاکی سے متعلق تمام فیصلے میرظفراللہ جمالی کی مشاورت سے کیے جائیں گے۔

تاہم میرظفراللہ جمالی نے سیکریٹری اور دیگر عہدوں پر ہونے والی تقرریوں کے سلسلے میں انہیں نظرانداز کیے جانے پر وزیراعظم ہاؤس فون کر کے پیٹرن ان چیف سے سخت ناراضی کا اظہار کیا۔

نواز شریف نے اس کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر خالد کھوکھر کو میرظفراللہ جمالی سے فوری طور پر ملنے کی ہدایت کی تھی۔

ڈان نیوز سے گفتگو میں میر ظفراللہ جمالی نے تصدیق کی کہ ہفتے کو صدر اور نئے سیکرٹری ہاکی فیڈریشن نے ان سے ملاقات کی تاہم انہوں نے واضح کردیا کہ نئی تقرریاں ان سے بغیر مشاورت اور جلد بازی میں کی گئی ہے جس پر انہیں تحفظات ہیں۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ایک دو روز میں اسلام آباد جاکر وہ صدر ہاکی فیڈریشن سے ملاقات کریں گے جس میں وزیراعظم کی نمائندگی ملٹری سیکرٹری کریں گے۔

اس ملاقات میں پاکستان ہاکی فیڈریشن میں کی گئی حالیہ تقرریوں پر بات چیت ہوگی اور ان تبدیلیوں میں مزید تبدیلی کے امکانات موجود ہیں جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر شہباز سینئر اپنے عہدے سے محروم ہو سکتے ہیں۔

شین واٹسن نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا

آسٹریلین آل راؤنڈر شین واٹسن نے پنڈلی کی انجری کے سبب ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔

دورہ انگلینڈ میں ایک بار پھر انجری کا شکار ہونے والے شین وارن نے فوری طور پر ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔

وہ ہفتے کو لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف ہونے والے پانچ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ کے دوران انجری کا شکار ہوئے، اس میچ میں آسٹریلیا 64 رنز سے فتحیاب رہا۔

اپنے دس سالہ ٹیسٹ کیریئر میں وقتاً فوقتاً انجری کا شکار رہنے والے 34 سالہ آسٹریلین کھلاڑی نے آج صبح ہی اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ آگے بڑھنے کا صحیح وقت ہے تاہم میں ابھی ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیلنے کیلئے پرامید ہوں۔

واضح رہے کہ شین واٹسن کو گزشتہ کچھ عرصے سے اپنی انجری اور فارم کی وجہ سے آسٹریلین ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے میں شدید دشواری کا سامنا تھا۔

انہوں نے 59 ٹیسٹ میچوں میں آسٹریلیا کی نمائندگی کرتے ہوئے تین ہزار 731 رنز بنائے جبکہ 75 کھلاڑیوں کو بھی ٹھکانے لگایا۔

انہوں نے اپنی شاندار کارکردگی سے آسٹریلیا کو 14-2013 ایشز سیریز جتوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا جبکہ وہ 2011 میں سال کے بہترین ٹیسٹ کھلاڑی کا آئی سی سی کا ایوارڈ جیتنے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ انہیں دو بار ایلن بارڈر میڈل جیتنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

جنوری 2005 میں پاکستان کے خلاف پہلا یسٹ کھیلنے والے واٹسن نے 23 سال کی عمر میں اپنی پہلی اننگ میں 31 رنز اسکور کرنے کے ساتھ ساتھ یونس خان کو اپنے کیریئر کی پہلی وکٹ بنایا تھا۔

واٹسن نے کہا کہ میں اپنے ٹیسٹ کیریئر میں وہ سب حاصل نہ کر سکا جس کا میں نے خواب دیکھا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بحیثیت آل راؤنڈ میرا خواب تھا کہ میں بلے سے 50 سے زائد کی اوسط اور گیند سے 20 کے ہندسے میں اپنا ایوریج رکھ سکوں اور میں اس کے قریب بھی کچھ نہ کر سکا۔

لیکن انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں نے جتنی بھی کرکٹ کھیلی، اس میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

یاد رہے کہ واٹسن ایک ماہ کے عرصے میں ریٹائر ہونے والے تیسرے آسٹریلین کھلاڑی ہیں جہاں اس سے قبل سابق کپتان مائیکل کلارک اور اوپنر کرس راجرز ایشز سیریز کے اختتام پر کرکٹ سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں۔

پاک-انڈیا کرکٹ سیریز,دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔وقار یونس

کراچی: قومی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس نے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان دوطرفہ سیریز کی امید ظایر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرکٹ دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔

ہندوستان نے گزشتہ سال پاکستان کے ساتھ ایک معاہدے کی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان 2023 تک چھ مکمل سیریز کھیلی جانی ہیں جس میں سے چار کی میزبانی پاکستان کرے گا۔

اس معاہدے کے تحت دونوں روایتی حریفوں کے درمیان پہلی سیریز رواں سال دسمبر میں ہونی تھی کی جس کی میزبانی ممکنہ طور پر پاکستان کرتا لیکن دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر جاری کشیدگی اور سفارتی تعلقات ایک بار پھر خراب ہونے کے سبب اس سیریز کے امکانات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔

لیکن پاکستانی ٹیم کے کوچ وقار یونس اس صورتحال میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان سیریز کے لیے پرامید ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے اب بھی سیریز کی امید ہے اور ہندوستان کے نام پیغام میں کہا کہ مستقل بنیادوں پر دوطرفہ سیریز کھیلنے سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں موجود تناؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

سابق فاسٹ باؤلر نے دونوں ملکوں کے درمیان 2007 سے اب تک ایک بھی ٹیسٹ میچ نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ سیریز خطرے میں دکھائی دیتی ہے لیکن مجھے اب بھی امید ہے کہ دسمبر میں سیریز ہو گی۔

’اگر سیریز نہیں ہو پاتی تو یہ پوری کرکٹ کی بہت بڑی بدقسمتی ہو گی ہر کوئی پاکستان ہندوستان کے میچ دیکھنا چاہتا ہے لیکن میرے خیال میں یہ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ کرکٹ میچز شروع کرنے کا نادر موقع ہے‘۔

اس موقع پر انہوں نے آئندہ سال ہونے والی پاکستان سپر لیگ کیلئے اپنی دستیابی ظاہر کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ پر زور دیا کہ وہ لیگ میں زیادہ سے زیادہ انڈر19 اور انڈر23 کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کرے۔

ماضی کے مایہ ناز فاسٹ باؤلر نے کہا کہ بورڈ کو بیرون ملک سے بڑے کھلاڑیوں کو ضرور بلانا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پی ایس ایل ہمارے نوجوان کھلاڑیوں کو بھی عالمی منظر نامے پر متعارف کرانے کا شاندار موقع ہے۔

’اس طرح کی لیگ دوسرے ملکوں میں بھی ہوئی ہیں اور انہیں اس طرح کے مقابلوں سے فائدہ ہوا ہے‘۔

وقار نے انڈین پریمیئر لیگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آئی پی ایل کے ذریعے سے ہندوستان بے انتہا نوجوان باصلاحیت کھلاڑی ملے، اس سے ناصرف کھلاڑیوں کا مالی فائدہ ہوا بلکہ نئے کھلاڑیوں کو درکار اعلیٰ سطح کا تجربہ بھی حاصل ہوا۔

قومی ٹیم کے کوچ حال ہی میں سڈنی میں اہل خانہ کے ہمراہ چھٹیاں گزارنے کے بعد لاہور پہنچے ہیں۔

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث محمد عامر، سلمان بٹ کی قومی ٹیم میں واپسی کے حوالے سے سوال پر وقار نے کہا کہ ان تینوں کی پابندی کا ابھی خاتمہ ہوا ہے اور امجھے اس سلسلے میں بورڈ حکام سے بات چیت کا موقع نہیں ملا لہذٰا شاید ایک یا دو ہفتے بعد میں اس سلسلے میں بہتر جواب دے سکوں۔

سعید اجمل کی قومی ٹیم میں دوبارہ شمولیت کے بارے میں وقار کا کہنا تھا کہ اجمل اس وقت اپنے کیریئر کے سب سے مشکل وقت سے گزر رہے ہیں لیکن قومی ٹیم میں دوبارہ شمولیت کیلئے انہیں اپنی فارم ثابت کرنی ہو گی۔

کرکٹ کی دنیا کی قدیم ترین گیند سسیکس کرکٹ میوزیم میں موجود

لندن: دنیا کی قدیم ترین کرکٹ گیند سسیکس کرکٹ میوزیم میں موجود ہے، اس کی سلائیاں تقریباً ختم ہوچکیں جبکہ چمڑا بھی کئی جگہ سے اکھڑچکا ہے۔یہ گیند ساؤتھ اسٹریٹ میں واقع لیواس کے علاقے میں ایک گھر کی تزئین و آرائش کے دوران دریافت ہوئی، اس کے ہمراہ تین سنگل جوتے بھی پائے گئے ہیں، یہ گیند ان کے ساتھ رکھی گئی تھی، غالب امکان ہے کہ یہ جوتے 1760 اور 1770میں استعمال ہوئے لہذا یہ گیند بھی اسی دور کی تصور کی جارہی ہے، کرکٹ مورخ نکولس شارپ کے مطابق ابھی تک ہمارے سامنے اس سے پرانی کوئی چیز نہیں آئی ہے۔

کرکٹ کا پہلا مقابلہ 1478ء میں فرانس میں ہونے کا انکشاف

پیرس: تاریخ دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کرکٹ کا کھیل سب سے پہلے فرانس میں کھیلا گیا لہذا اس کھیل کا موجد برطانیہ نہیں بلکہ فرانس ہے ۔ پہلے تاریخ دانوں کا خیال تھا کہ کرکٹ 1550ء میں برطانوی سرزمین پر شروع ہوئی تھی اور گلڈ فیلڈ میں کھیلی جاتی تھی، پہلی بار اس کا دستاویزی ثبوت 1589 میں ایک رائل گرامر سکول کے بچوں کی جانب سے کرکٹ کھیلنے کی رپورٹ سے ملا لیکن تاریخ دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انگلینڈ میں اس کھیل کے سامنے آنے سے بھی تقریبًا 80 برس قبل 1478ء میں کنگ لوئس الیون کو لکھے گئے خط میں کرکٹ کا تذکرہ موجود ہے ۔ نوجوان کی جانب سے بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ شمالی فرانس کے قصبے لائیٹریس میں چند لوگ یہ کھیل کھیل رہے تھے، جب کچھ دوسرے لوگ وہاں ٹھہرے تو ایک کھلاڑی نے چیخ کر کہا کہ تم ہمارے بال گیم کو کیوں دیکھ رہے ہوں۔ جس پر جھگڑا شروع ہوا اور اس میں ایک شخص مارا بھی گیا تھا ۔ یہ انکشاف ہونے کے بعد فرانس کے سیاحت ڈپارٹمنٹ نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے281 نفوس پر مشتمل اس لائیٹریس نامی قصبے میں فرانس کا پہلا کرکٹ گراؤنڈ بنانے اور وہاں اگلے ماہ مختلف کلبز کے درمیان ٹورنامنٹ کرانے کا بھی اعلان کردیا ہے ۔

نو بال کو تھرڈ امپائر کے دائرہ اختیار میں دیا جائے، ڈیوڈ وارنر کی رائے

آسٹریلین اوپنر اور نائب کپتان ڈیوڈ وارنرنے نو بال کے مسئلے پر جاری بحث پر حل پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل سے بچنے کیلئے اسے تھرڈ امپائر کے دائرہ اختیار میں دیا جائے ۔وارنر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تھر ڈ امپائرز نوبال دینا شروع کردیں تو یہ کافی مددگار ثابت ہو گا، حالیہ ایشز ٹیسٹ سیریز کے دوران کم از کم 30 سے 40 ممکنہ نوبال نہیں دی گئیں۔جارح مزاج اوپننگ بلے باز نے کہا کہ آج کے دور میں کیمرہ کافی مددگار ثابت ہو سکتا ہے، امپائرز کیلئے اس کا اندازہ لگانا کافی مشکل ہوتا ہے، ایسے میں تھرڈ امپائر سے مدد طلب کی جائے بے شک کچھ دیر ہی کیوں نہ ہو جائے لیکن ہمیں درست فیصلہ ضرور معلوم ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ امپائر کو محض آدھے سیکنڈ میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے جو کافی مشکل ہے لیکن تھرڈ اپائر سے معاونت کے نتیجے میں ہم درست فیصلوں پر پہنچ سکیں گے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں سے نوبال کے مسئلے پر خاصی بحث جاری ہے جہاں امپائرز کی جانب سے متعدد مواقعوں پر نوبال نہیں دی گئی اور پھر تھرڈ امپائر سے رابطہ کرنے پر گیند نوبال قرار دی گئی۔انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان گزشتہ دنوں جاری ایشز سیریز میں یہ مسئلہ خاصی گمبھیر شکل اختیار کر گیا اور کئی مواقعوں پر فیلڈ امپائر نوبال نہ دے سکے۔اوول ٹیسٹ کے دوران اسٹیو سمتھ اور مارک ووڈ کو اس وقت نئی زندگی ملی جب تھرڈ امپائر نے سٹیون فن اور مچل مارش کی گیندوں کو نوبال قرار دیا۔

بھارت سےکھیلےبغیربھی پاکستان کرکٹ زندہ رہ سکتی ہے،پی سی بی

Shehreyar

چیئرمین پی سی بی نے واضح کردیا کہ بھارت کیخلاف سیریز کھیلے بغیر بھی پاکستان کرکٹ زندہ رہ سکتی ہے، شہریار خان کا کہنا تھا کہ پلان بی تیار کرلیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات پاک بھارت کرکٹ سیریز کیلئے سازگار نظر نہیں آرہے، بھارتی بورڈ نے اب تک سیریز سے باقاعدہ طور پر انکار نہیں کیا۔ موجودہ حالات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ سیریز کا انعقاد ممکن نظر نہیں آرہا، لیکن ہم طویل انتظار نہیں کرسکتے، ہمارے پاس اس سلسلے میں متبادل پلان موجود ہے اور پلان بی پر عمل کرنے سے پہلے ہم دو ماہ انتظار کریں گے۔

Google Analytics Alternative