کھیل

سلیکٹرز نے یونس خان کو نظر انداز کر دیا.

لاہور: قومی سلیکٹرز نے یونس خان پر ون ڈے کرکٹ کے دروازے بند کر دیئے ۔ نیشنل ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی دکھانے کے باوجود سنئیر بیٹسمین کو دورہ زمبابوے سے نظر انداز کر دیا گیا ۔ یونس خان نے نیشنل ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ میں پینتالیس کی اوسط سے ایک سو تراسی رنز بنا کر فارم اور فٹنس ثابت کی ، ایونٹ میں ماسٹر بلے باز نے ایک سو ستاون کے سٹرائیک ریٹ کے ساتھ بیٹنگ کی اور پانچ میچز میں دو نصف سنچریاں بھی سکور کیں تاہم وہ دورہ زمبابوے کے لیے سلیکٹرز کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ چیف سلیکٹر ہارون رشید نے چند دن قبل یہ بیان داغا کہ یونس خان ون ڈے ٹیم میں واپسی کے حقدار ہیں لیکن خود ہی ورلڈ کلاس بیٹسمین کو ون ڈے ٹیم سے باہر کردیا ۔ یونس خان نے آخری مرتبہ ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی نمائندگی کی ، ٹور سلیکشن کمیٹی نے مڈل آرڈر بلے باز کو اوپنر کے طور پر کھلا کر قربانی کا بکرا بنایا اور اب زمبابوے جیسی کمزور ٹیم کے خلاف چانس نہ دے کر سینئر بیٹسمین کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ ان پر ون ڈے کرکٹ کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں

ساف کپ میں پاکستان افتتاحی روز ہی روایتی حریف ہندوستان کا سامنا کرے گا۔

کراچی: پاکستان نے بدھ کو نئی دہلی میں ہونے والی قرعہ اندازی کے ذریعے ساؤتھ ایشین فٹبال فیڈریشن ساف کپ میں شرکت یقینی بنا لی ہے جہاں اسے گروپ اے میں روایتی حریف اور میزبان ہندوستان، نیپال اور سری لنکا کے ساتھ رکھا گیا۔ہندوستانی ریاست کیرالا میں ہونے والا ٹورنامنٹ 23 دسمبر سے تین جنوری تک کھیلا جائے گااور پاکستان افتتاحی روز ہی تری وندرم اسٹیڈیم میں روایتی حریف ہندوستان کا سامنا کرے گا۔شاہین 25 دسمبرکو گروپ اے میں نیپال کا سامنا کریں گے اور اس کے دو روز بعد اپنے آخری میچ میں سری لنکا سے نبردآزما ہوں گے۔پاکستان ایونٹ میں نسبتاً آسان گروپ میں جگہ پانے پرخو کو خوش قسمت شمار کرسکتی ہے جہاں گروپ بی افغانستان، مالدیپ، بھوٹان اور بنگلہ دیش جیسی مشکل ٹیموں پر مشتمل ہے۔گروپ بی کی یہ چاروں ٹیمیں ساف کپ کے ساتھ 2018 کے ورلڈ کوالیفائنگ راؤنڈ میں بھی شریک ہیں جہاں یہ ایشیا کی نامور اور بڑی ٹیموں کے خلاف قسمت آزمائی کر رہی ہیں۔ان میں سے جاپان، آسٹریلیا، قطر اور چین جیسی ٹیموں کے خلاف میچوں میں جنوبی ایشیا کی ان کمزور ٹیموں کو بھاری مارجن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے نتیجے میں بتدریج حاصل ہونے والے تجربے سے ان کی کارکردگی میں یقینی طور پر بہتری آئے گی۔پاکستان کی دس سال میں پہلی مرتبہ ساف کپ کے اگلے راؤنڈ تک رسائی پر نگاہیں مرکوز ہیں جہاں آخری مرتبہ 2005 میں پاکستانی ٹیم آگے بڑھنے میں کامیاب رہی تھی۔پاکستان کو روس میں ہونے والے اگلے فٹبال ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ کے پہلے مرحلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ایشین فٹبال فیڈریشن کی جانب سے ورلڈ کوالیفائنگ کے طریقہ کار میں تبدیلی کی وجہ سے گرین شرٹس بڑی ٹیموں کے خلاف کھیلنے کے تجربے سے محروم ہو گئے۔نیپال اور سری لنکا بھی پہلے ہی مرحلے میں باہر ہو گئے لیکن نیپال کے پاس ساف کپ کے میچ میں ہندوستان سے اس شکست کا بدلہ لینے کا موقع ہے جو اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ میں پہنچ چکا ہے۔پاکستان اور ہندوستان نیپال میں کھیلے گئے گزشتہ ایڈیشن کے افتتاحی میچ میں بھی مدمقابل آئے تھے جہاں پڑوسی ملک 1-0 سے کامیاب رہا تھا۔پاکستان فٹ بال فیدڑیشن گزشتہ کئی ماہ سے آپسی جھگڑوں، کرپشن، بدانتظامی اور نااہلی کے الزامات کے ساتھ دو گروپوں میں بٹ چکی ہے۔فیفا کی عالمی گورننگ باڈی 21 ستمبر کو اپنی ایسوسی ایشنز کمیٹی کی میٹنگ میں پاکستان کے مسئلے پر بحث کرے گی۔

محمد حفیظ باﺅلنگ ایکشن کو کوچز کی مدد سے بہتر بنا کررہے ہیں.

محمد حفیظ نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ وہ اپنے باﺅلنگ ایکشن کو بہتر بنانے کا کام گزشتہ نو ماہ سے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں کوچز کی مدد سے کررہے ہیں۔اس سے پہلے ویب سائٹ کرک انفو نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ 34 سالہ پاکستانی آل راﺅنڈر اپنے ایکشن کو درست کرنے پر کام نہیں کررہے جسے جولائی میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے غیر قانونی قرار دیا۔محمد حفیظ جنھوں نے 44 ٹیسٹ، 166 ون ڈے اور 64 ٹی ٹوئنٹی میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے، کے باﺅلنگ ایکشن کی رپورٹ نومبر 2014 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ابوظبہی میں پہلے ٹیسٹ کے دوران ہوئی تھی اور آزاد تجزیے کے بعد انہیں باﺅلنگ کرنے سے روک دیا گیا۔تجزیے کے مطابق محمد حفیظ کی کہنی کا خم باﺅلنگ کے دوران 15 ڈگری سے زیادہ ہوتا ہے۔انہیں اپریل میں باﺅلنگ کے لیے کلیئر قرار دیا گیا مگر پارٹ ٹائم آف اسپنر کے ایکشن کی رپورٹ رواں برس جولائی میں سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ کے دوران دوبارہ ہوئی۔آئی سی سی نے ایک سال کے لیے بین الاقوامی سطح پر آل راﺅنڈر کی باﺅلنگ پر پابندی عائد کردی تاہم انہیں ڈومیسٹک میچز میں باﺅلنگ کرنے کی اجازت دی گئی، تاہم اس کے لیے پی سی بی سے اجات لینا ضروری قرار دیا گیا۔پی سی بی کا دعویٰ ہے کہ محمد حفیظ کے باﺅلنگ ایکشن کی مانیٹرنگ باریک بینی سے کی جارہی ہے۔پی سی بی ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ انتخاب عالم نے کرک انفو کو بتایا ” ایسا نہیں کہ ہم نے حفیظ کے ساتھ رعایت کی ہے، امپائرز کو اگر ان کے باﺅلنگ ایکشن پر شک ہوا تو وہ رپورٹ کرسکتے ہیں”۔ان کا کہنا تھا ” چونکہ قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ ٹیلیویژن پر نشر ہورہا ہے اس لیے یہ ہمارے پاس حفیظ کو مانیٹر کرنے کا بہتر موقع ہے، اگر وہ اس لیول پر بھی رپورٹ ہوتے ہیں تو مزید تین ماہ کے لیے معطل ہوجائیں گے”۔خیال رہے کہ محمد حفیظ بین الاقوامی سطح پر بارہ ماہ کی پابندی کے حوالے سے دوبارہ باﺅلنگ تجزیے کی اپیل نہیں کرسکتے۔

قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں پشاور کی مسلسل تیسری کامیابی.

راولپنڈی: قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں پشاور نے اسٹار کھلاڑیوں سے مزین لاہور وائٹس کو شکست دیکر مسلسل تیسری کامیابی حاصل کرلی۔ راولپنڈی میں کھیلے گئے میچ میں لاہور وائٹس کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پانچ وکٹوں پر ایک سو پینسٹھ رنز بنائے۔ حسین طلعت چونسٹھ اور احمد شہزاد انسٹھ رنز بناکر نمایاں رہے ۔ جواب میں پشاور کی ٹیم نے مایوس کن آغاز کے باوجود میچ کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک گیند قبل تین وکٹوں سے جیت لیا۔افتخار احمد انسٹھ رنز بناکر نمایاں رہے ۔ لاہور کی جانب سے محمد عرفان نے سولہ رنز دیکر چار وکٹیں حاصل کیں۔ ایک اور میچ میں کراچی بلیوز نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد اسلام ریجن کو ایک وکٹ سے شکست دیدی۔ اسلام آباد نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے چھ وکٹوں پر ایک چھیہتر رنز بنائے۔ جواب میں کراچی بلیوز نے ہدف دو گیندوں قبل حاصل کرکے میچ ایک وکٹ سے جیت لیا ۔ کراچی کی جانب سے خرم منظور باسٹھ رنز بناکر نمایاں رہے ۔کپتان سرفراز احمد چھ اور شاہد آفریدی سولہ رنز بناسکے۔ دیگر میچز میں ملتان، فیصل آباد اور کراچی وائٹس نے اپنے میچز جیت لیے۔

آصف عامر اور سلمان بٹ ایک دفعہ پھر مشکل میں۔

کراچی: اسپاٹ فکسنگ میں سزایافتہ 3 پاکستانی کرکٹرز میں سے 2 محمد عامر اور آصف نے پابندی ختم ہونے کے بعد بیرون ملک کرکٹ کھیلنے پر غور شروع کردیا۔ ایسے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ برطانیہ میں جرم ثابت ہونے پرجیل کی سزا کاٹنے کے بعد ان کیلیے یورپ کے کسی ملک کا ویزا حاصل کرنا آسان ہوگا؟برطانیہ اور دیگر ممالک کے ویزہ فارم میں یہ سوالات واضح طور پر درج ہوتے ہیں کہ کیا آپ کسی جرم میں ملوث تو نہیں رہے؟کوئی سزا تو نہیں ہوئی؟ سابق کپتان جاوید میانداد اسپاٹ فکسنگ میں ملوث تینوں کرکٹرز کی ٹیم میں واپسی کے سخت خلاف ہیں۔ برطانوی نیوزایجنسی کو انٹرویو میں انھوں نے کہاکہ ان کرکٹرز کیلیے بیرون ملک جانے کیلیے ویزوں کا حصول بھی آسان نہیں ہوگا،آپ کو دنیا کے کسی بھی ملک میں جانے کے لیے ویزہ فارم میں تمام سوالات کے درست جوابات دینے ہوتے ہیں،کیا یہ کرکٹرز یہ نہیں بتائیں گے کہ انھوں نے کیا جرم کیا تھا اوراس پر جیل ہوچکی ہے، ان کھلاڑیوں کے لیے ویزے کا حصول بہت مشکل ہوگا کیونکہ عام حالات میں اس طرح کے لوگوں کو ویزہ نہیں ملتا ہے۔ اس قانونی نکتے پر ایک معروف قانون دان نے بتایا کہ اسپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ کرکٹرز کو برطانوی ویزے ملنے کا انحصار وزیر داخلہ پرہوگا جنھیں مکمل اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔عام حالات میں برطانیہ ایسے لوگوں کو ویزہ نہیں دیتا جنھوں نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہو۔ واضح رہے کہ محمد عامر انگلینڈ کے ایک ایجنٹ گروپ کے رابطے میں ہیں جو پابندی ختم ہونے کے بعد انھیں کاؤنٹی کرکٹ کا معاہدہ کرانے میں دلچسپی رکھتا ہے، محمد آصف نے بھی بیرون ملک کھیلنے کے سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے اجازت طلب کی ہے۔

بنگلہ دیشی لیگ کیلیے کھلاڑیوں کو ریلیز کرنے کا ابھی فیصلہ نہیں کیا.شہریارخان

کراچی: پاکستان کا بنگلہ دیشی بورڈ پر غصہ ٹھنڈا نہ ہو سکا،چیئرمین شہریارخان کا کہنا ہے کہ پریمیئر لیگ کیلیے کھلاڑیوں کو ریلیز کرنے کا ابھی فیصلہ نہیں کیا، پہلے اپنے تمام آپشنز کا جائزہ لینگے۔ تفصیلات کے مطابق پی سی بی کے بنگلہ دیشی بورڈ سے تعلقات گذشتہ کچھ عرصے سے زیادہ خوشگوار نہیں ہیں، سابق چیئرمین ذکا اشرف کے دورمیں ٹیم بھیجنے کا وعدہ کرکے مُکر جانے پر پاکستانی کھلاڑیوں کو بنگلہ دیشی لیگ میں شرکت سے روک دیا گیا تھا، اب یہ ایونٹ 25 نومبر سے 25 دسمبر تک شیڈول ہے، البتہ گرین شرٹ پلیئرز کی شرکت اب بھی یقینی نہیں، پاکستان نے بھارت سے سیریز نہ ہونے پر پلان بی کی صورت میں بنگلہ دیشی ٹیم سے کھیلنے کی خواہش ظاہر کی تھی مگر منفی جواب ملا، اس سے پی سی بی خوش نہیں ہے۔ اسے امید تھی کہ تاریخوں میں تھوڑا ردوبدل کر کے سیریز کا انعقاد کر لیا جائیگا مگر ایسا نہ ہو سکا، ویمنز ٹیم کے دورے میں بھی بی سی بی سیکیورٹی وفد بھیجنے کے باوجود واضح جواب دینے سے گریز کر رہا ہے۔ اس حوالے سے جب نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ نے چیئرمین پی سی بی شہریارخان سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ بنگلہ دیشی لیگ کیلیے پلیئرز کو ریلیز کرنے کا ابھی فیصلہ نہیں کیا، ہم اس حوالے سے اپنے تمام آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ بھارتی بورڈ نے تاحال ہمارے خط کا کوئی جواب نہیں دیا،اب یاددہانی کیلیے مزید کسی فوری رابطے کا امکان نہیں ہے، شہریارخان نے کہا کہ ہم ابھی ہمت نہیں ہارے، سیاسی کشیدگی میں کمی ہوئی تو دسمبر میں شیڈول سیریز کا انعقاد اب بھی ممکن ہوگا۔

محمد عامر دنیا کے بہترین فاسٹ باؤلرز میں سے ہیں۔ آئن پونٹ

سابق انگلش کرکٹر اور فاسٹ باؤلنگ مکینکس کے ماہر آئن پونٹ نے محمد عامر کو دنیا کے بہترین فاسٹ باؤلرز میں سے قرار دیتے ہوئے کہا ہیے کہ ان کا ایکشن عظیم پاکستانی فاسٹ باؤلر وسیم اکرم سے کافی بہتر ہے۔انہوں نے کہا کہ عامر کا ایکشن بہت شاندار اور مضبوط ہے جو گیند ریلیز کرتے ہوئے مستقل مزاجی میں ان کیلئے مددگار ثابت ہوتا ہے.انہوں نے پاک پیشن کیلئے اپنے بلاگ میں مزید کہا کہ ہم سب ایسے باؤلرز کی تلاش میں رہتے ہیں جو ایسا کر سکتے ہوں کیونکہ اس سے انجریز کا خطرہ کم ہونے کے ساتھ ساتھ صحیح اور تیز باؤلنگ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، عامر کی اسپیڈ 87 میل فی گھنٹہ ہے جو بلے بازوں کیلئے مسائل پیدا کرنے کیلئے کافی ہے اور وہ اس رفتار میں مزید اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔ایسیکس کی نمائندگی کرنے والے اور اپنی جاندار تھرو کیلئے مشہور پونٹ نے کہا کہ عامر بہت خوش قسمت ہیں کہ گیند کراتے ہوئے کلائی کی شاندار پوزیشن بہت اچھی ہوتی ہے۔سابق انگلش کرکٹر نے کہا کہ عامر ابھی صرف 23 سال کے ہیں اور ابھی ان کے کیریئر کے بہترین سال ان کے سامنے ہیں لیکن حقیقتاً ان کی کلائی کی پوزیشن انہیں ایک شاندار باؤلرز بناتی ہے جس کی بدولت وہ تیز رفتاری کے ساتھ گیند کو سوئنگ کر سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عامر کا واضح طور پر وسیم اکرم سے موازنہ کیا جائے گا اور آگے چل کر کسی موقع پر یہ ناگزیر ہو گا کہ وسیم عامر کی رہنمائی کریں۔پونٹ کا ماننا ہے کہ عامر میں تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں کہ وہ وسیم جیسے شاندار باؤلر بن سکیں کیونکہ ان کا باؤلنگ ایکشن وسیم اکرم سے کافی بہتر ہے، بحیثیت فاسٹ سوئنگ باؤلر کے نا کی تکنیک کافی بہتر ہے، عامر کو یہ اگر کوئی چیز روک سکتی ہے تو وہ خود ہیں۔

2010 کے بدنام زمانہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث عامر کو آئی سی سی نے سلمان بٹ اور محمد آصف کے ساتھ 2 ستمبر سے ہر طرز کی کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان تینوں کی عالمی کرکٹ میں فوری واپسی کے امکانات کو یکسر رد کردیا ہے۔

شاہد آفریدی کی عید قربان سے پہلے قربانی ۔

اسلام آباد:  پاکستان کی ٹی 20کرکٹ ٹیم کے کپتان اور جارح مزاج بلے باز شاہد خان آفریدی ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں کراچی بلوز کی قیادت سے وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد کے حق میں دستبردار ہوگئے واضح رہے کہ شاہد آفریدی کو کراچی بلوز کی قیادت کے فرائض سونپے گئے تھے تاہم کوالیفائینگ راﺅنڈ میں مین راﺅنڈ کے ابتدائی میچز میں آفریدی عدم دستیابی پر سرفراز نے قیادت کی تھی گذشتہ روز شاہد آفریدی وطن واپس لوٹ گئے تھے لیکن انہوںنے سرفراز کیلئے قیادت سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا ہے شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ کے دیگر میچوں میں سرفرازٹیم کی قیادت کرینگے اور میں بھی ان کی زیر قیادت کھیلوں گا ۔

Google Analytics Alternative