کھیل

وقار یونس نے ٹی 20 کرکٹ میں یارکرز کو اہم ہتھیار قرار دے دیا

فیصل آباد: قومی ٹیم کے بولنگ کوچ وقار یونس نے ٹی 20 کرکٹ میں یارکرز کو اہم ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ فاسٹ بولرز کے لیے رنز کا سیلاب روکنا آسان نہیں رہا۔

پی سی بی کی طرف سے سوشل میڈیا پر جاری وڈیو میں وقار یونس نے کہا کہ جدید کرکٹ میں بیٹسمین زیادہ ہوشیار اور فٹ نظر آتے ہیں، فاسٹ بولرز کے لیے رنز کا سیلاب روکنا آسان نہیں رہا، فیصل آباد میں جاری قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے دوران ہماری نگاہیں ایسے بولرز پر مرکوز رہی ہیں جو فٹ اور موقع کی مناسبت سے اپنے ذہن کو استعمال کرتے ہوئے گیندوں میں ورائٹی لا سکیں۔

وقار یونس نے کہا کہ پیسرز کے لیے وائٹ بال کرکٹ خاص طور پر پی ٹوئنٹی میچز میں یارکرز کا موئثر استعمال کرنا ضروری ہے، اسپیڈ میں تبدیلی اور درست لینتھ بھی حریفوں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر سے نتائج حاصل کرنے کے لیے اسے کچھ وقت دینا ہوگا۔

آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے کیمپ نہ لگانے کا فیصلہ

لاہور: آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے کیمپ نہیں لگایا جائے گا بلکہ منتخب کرکٹرز قومی کرکٹ ٹورنامنٹ میں اپنی ٹیموں کی نمائندگی جاری رکھیں گے۔

پی سی بی ذرائع کے مطابق ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے کرکٹرز کو خصوصی مشقیں کروانے کے بجائے قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں ہی میچ پریکٹس کا موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

16رکنی قومی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل بابراعظم (کپتان)، آصف علی، فخر زمان، حارث سہیل، محمد حسنین، افتخار احمد، عماد وسیم، امام الحق، خوشدل شاہ ، محمد عامر، محمدعرفان، محمد رضوان،موسیٰ خان، شاداب خان، عثمان قادر اور وہاب ریاض 25 اکتوبر کو لاہور میں رپورٹ کریں گے۔ اگلے روز آسٹریلیا روانگی شیڈول ہے۔

دورہ آسٹریلیا کیلیے قومی ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ ٹیم کا اعلان

لاہور: چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق نے دورہ آسٹریلیا کے لیے ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ ٹیم کا اعلان کردیا ۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف سلیکٹر مصباح الحق کا کہنا تھا کہ ٹی 20 ورلڈ کپ آسٹریلیا میں ہے، کوشش کریں گے اس ٹور سے فائدہ اٹھائیں، دونوں ٹیموں میں نوجوان کھلاڑی شامل کیے ہیں، آسٹریلیا کے دورے کے لیے سرپرائز پیکج رکھا ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ خواہش ہے ٹیم آسٹریلیا میں جا کر جارحانہ کرکٹ کھیلے اور ہر کھلاڑی کی خواہش ہوتی ہے آسٹریلیا میں جا کر پرفارم کریں جب کہ کپتانی پر چیئرمین، ایم ڈی اور میرے درمیان بہت بات چیت ہوئی، کپتانی کا حتمی فیصلہ چیئرمین پی سی بی نے کرنا ہوتا ہے۔

ہیڈکوچ کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی سی بی نے جو فیصلہ کیا وہ سرفراز احمد کی کارکردگی اور ان پر دباؤ کے باعث کیا تاہم سرفراز کی پاکستان کے لیے خدمات ہیں اور وہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلیں،  جیسے ہی فارم بحال ہوگی تو ان کے لیے واپسی کے دروازے کھلے ہیں۔

بعد ازاں چیف سلیکٹر نے دورہ آسٹریلیا کے لیے ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ سیریز کے لیے ٹیموں کا اعلان کیا جس میں 5 نئے کھلاڑیوں کو بھی موقع دیا گیا ہے۔

ٹی ٹوئنٹی کی قیادت بابراعظم کریں گے اور دیگر کھلاڑیوں میں آصف علی، فخرزمان، حارث سہیل، افتخار احمد، عماد وسیم، امام الحق، خوشدل شاہ، محمد عامر، محمد حسنین، محمد عرفان، محمد رضوان(وکٹ کیپر)، موسی خان، شاداب خان، عثمان قادر اور وہاب ریاض شامل ہیں۔

ٹیسٹ ٹیم کی قیادت اظہر علی کریں گے اور دیگر کھلاڑیوں میں عابد علی، اسد شفیق، بابراعظم، حارث سہیل، امام الحق، عمران خان (سینئر)، افتخار احمد، کاشف بھٹی، محمد عباس، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، موسی خان، نسیم شاہ، شاہین شاہ آفریدی، شان مسعود اور یاسر شاہ شامل ہیں۔

واضح رہے قومی ٹی ٹونٹی اسکواڈ 26 اکتوبر کو سڈنی روانہ ہوگا جب کہ ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کھلاڑی قائداعظم ٹرافی کے پانچویں راؤنڈ میں شرکت کے بعد آسٹریلیا روانہ ہوں گے اورقومی ٹی ٹونٹی ٹیم سیریز سے قبل ایک وارم اپ میچ کھیلے گی،ٹیسٹ سیریز سے قبل قومی ٹیم 2 وارم اپ میچز کھیلے جائیں گے۔

دورہ آسٹریلیا؛ ٹیموں کے انتخاب میں کارکردگی کو مدنظر رکھا گیا، مصباح الحق

ہِیڈ کوچ و چیف سلیکٹر مصباح الحق کا کہنا ہے کہ دورہ آسٹریلیا کیلیے ٹیموں کا انتخاب کرتے ہوئے کارکردگی کو مدنظر رکھا گیا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران مصباح الحق نے کہا کہ عثمان قادر کی وائٹ بال سے کارکردگی اچھی ہے اور انہیں بگ بیش کا تجربہ بھی ہے اس لیے انہیں منتخب کیا گیا ہے اور انہیں شاداب کے بیک اپ کے طور پر رکھا گیا ہے، شاداب خان کی فارم اور ایکشن پر کام ہورہا ہے جس میں بہتری آرہی ہے۔

چیف سلیکٹر نے کہا کہ آصف علی اور فخرزمان 140 کا اسٹرائیک ریٹ رکھنے والے بیٹسمین اور ٹیم کی ضرورت ہے، نسیم شاہ اور محمد موسی اچھی ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رہے ہیں تاہم محمد حسنین کی فٹنس پر مزید کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افتخار احمد لیفٹ ہینڈ بیٹسمینوں کیخلاف کار آمد ثابت ہوسکتے ہیں اس لیے انہیں فواد عالم پر ترجیح دی، محمد نواز آسٹریلیا کی کنڈیشنز میں زیادہ مفید ثابت نہیں ہوسکتے تھے،  اس لئے ان کی بجائے ایک اضافی پیسر شامل کیا۔

ایک سوال کے جواب میں مصباح الحق کا کہنا تھا کہ احمد شہزاد، شعیب ملک اور محمد حفیظ  سمیت کسی کیلیے دروازے بند نہیں ہیں اور شرجیل کو ابھی کلب کرکٹ کھیلنے کی اجازت ملی ہے، آگے چل کر ان کا معاملہ دیکھیں گے، راحت علی سلیکشن کے بہت قریب تھے لیکن ہمارے پاس ایک اور پیسر ساتھ لے جانے کی گنجائش نہیں تھی۔

ٹیسٹ سیریز کے لیے سری لنکا سے پاکستان کو مثبت اشارے

کراچی:  ٹیسٹ سیریز سے متعلق سری لنکن کرکٹ بورڈ سے پی سی بی کو مثبت اشارے ملنے لگے ہیں۔

سری لنکا سے دسمبر میں شیڈول کے مطابق ٹیسٹ سیریز کے لیے راولپنڈی اور کراچی کے اسٹیڈیمز تیار ہیں، اگر پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سیریز ہوتی ہے تو قومی ٹیم 10 برس بعد ہوم گراونڈز پر ٹیسٹ سیریز کھیل پائے گی۔

میڈیا رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سری لنکن بورڈ اپنی ٹیم کے حالیہ دورہ پاکستان کے تناظر میں ٹیسٹ میچز کھیلنے پرغورکر رہا ہے۔

بولنگ اٹیک میں نئے چہروں کی انٹری کا راستہ بن گیا

لاہور: دورہ آسٹریلیا کے اسکواڈز کا انتخاب کرنے کیلیے پاکستانی تھنک ٹینک نے سرجوڑ لیے۔

سرفراز احمد کو ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت سے ہٹائے جانے کے بعد اگلا مرحلہ دورہ آسٹریلیا کیلیے اسکواڈز کا انتخاب ہے، گذشتہ روز قذافی اسٹیڈیم لاہورمیں بولرز کے تربیتی کیمپ کے دوران ہیڈکوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق، بولنگ کوچ وقار یونس، ٹیسٹ کپتان اظہر علی اور ٹی ٹوئنٹی قائد بابر اعظم موجود تھے،اتوار کو سب مل کر مجوزہ کھلاڑیوں کی فہرست پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے حتمی شکل دینگے، پیر کو چیئرمین پی سی بی احسان مانی سے منظوری ملنے کے بعد ٹیموں کا اعلان کردیا جائیگا۔

ذرائع کے مطابق ٹی ٹوئنٹی میں محمد رضوان اور ٹیسٹ میں بابر اعظم کو نائب کپتان مقرر کیے جانے کا امکان ہے، مصباح الحق نے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں شریک صوبائی ٹیموں کوچزسے ابتدائی مشاورت مکمل کرتے ہوئے ایک فہرست پہلے ہی مرتب کررکھی ہے، ڈومیسٹک ایونٹ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے بیٹسمینوں کے نام زیر غور ہیں، آسٹریلیا کیخلاف سیریز میں 1،2 نئے نام سامنے آ سکتے ہیں۔

ایک اہم مسئلہ فٹنس اور فارم کو دیکھتے ہوئے آسٹریلوی کنڈیشنز کیلیے موزوں بولرز کا انتخاب ہے، ٹیسٹ کرکٹ سے محمدعامر کی ریٹائرمنٹ، وہاب ریاض کا وقفہ، حسن اور محمد عباس کے فٹنس مسائل وجہ ہیں۔ فٹنس مسائل کا شکار حسن علی ٹی ٹوئنٹی سیریز سے باہر ہوگئے، ٹیسٹ میچز میں بھی ان کی شمولیت کے امکانات بہت معدوم دکھائی دے رہیں۔

ذرائع کے مطابق سری لنکا کیخلاف سیریز سے کمردرد کا شکار پیسر کو ڈاکٹرز نے مزید 3 ہفتے آرام کی ہدایت دی ہے، حسن علی فیصل آباد میں جاری قومی ٹی ٹوئنٹی کے دوسرے راؤنڈ میں سینٹرل پنجاب کی نمائندگی کے خواہاں تھے لیکن تکلیف بڑھنے کا خدشہ دیکھتے ہوئے انھیں واپس بھیج دیاگیا۔

نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں پی سی بی میڈیکل اسٹاف کی نگرانی میںان کی بحالی فٹنس کا عمل مزید تین ہفتے جاری رہے گا، رپورٹ کلیئر نہ ہونے پر سلیکٹرز نے ٹی ٹوئنٹی کے مجوزہ کھلاڑیوں کی فہرست سے ان کا نام خارج کردیا ہے، تین ہفتوں بعد ایک بارپھر فٹنس ٹیسٹ کی روشنی میں ٹیسٹ سیریز میں کھیلنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا، قذافی اسٹیڈیم میں بولرز کا 2 روزہ تربیتی کیمپ ختم ہونے کے بعد وقاریونس کی رپورٹ اہم ہوگی۔

ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں محمدعامر، وہاب ریاض، محمدحسنین اور عثمان شنواری کی شمولیت کا امکان روشن ہے، شاہین شاہ آفریدی کو اسکواڈ کا حصہ بنانے کا فیصلہ ہیڈکوچ وقاریونس کی رپورٹ پر ہوگا، قومی ٹی ٹوئنٹی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے آل راؤنڈرز فہیم اشرف اور عامر یامین میں مقابلہ ہے،شعیب ملک اور محمد حفیظ جیسے سینئرز کی شمولیت پر بات چیت گذشتہ روز بھی جاری رہی۔ ٹیسٹ اسکواڈ کی نومبرکے پہلے ہفتے میں روانگی کا پلان تیار کیاگیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی ٹیم کو دورئہ آسٹریلیا میں 3 ٹی ٹوئنٹی میچ 3،5 اور 8 نومبر کو کھیلنا ہیں،2ٹیسٹ کی سیریز21 نومبر سے شروع ہوگی،ٹی ٹوئنٹی ٹیم 26 اور27 اکتوبر کی درمیان شب سڈنی روانہ ہوگی۔

پی سی بی ڈومیسٹک کرکٹر پر خود پابندی لگا کر بھول گیا

کراچی: پی سی بی ڈومیسٹک کرکٹر پرخود پابندی لگاکربھول گیا،2 سال تک کھیل سے دوری کی سزا پانے والے گوہرعلی5ماہ بعد ہی دوبارہ کھیلنے لگے۔

رواں سال اپریل میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے سول ایوی ایشن کے وکٹ کیپر بیٹسمین گوہر علی پر 2سال کی پابندی عائد کر دی تھی،ان پر خیبر پختونخوا پولیس کا مستقل ملازم ہونے کے باوجود پیٹرنز ٹرافی گریڈ 2 میں دوسرے ادارے کی نمائندگی کا الزام تھا، پاکستان نیوی نے میچ کے بعد بورڈ کو یہ شکایت کی تھی جسے درست مانا گیا،گوہر اپریل 2021 تک کسی بھی ڈومیسٹک مقابلے میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔

سول ایوی ایشن پر بھی  قوائد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نااہل کرکٹر کو کھلانے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوا تھا، ان دنوں کراچی میں جاری قومی ٹی ٹوئنٹی کپ سیکنڈ الیون میں گوہر 4میچز میں خیبرپختونخوا کی نمائندگی کرتے نظر آئے جس پر پلیئرز نے بھی حیرت کا اظہار کیا، اس سے قبل وہ26 سے 28 ستمبر تک قائد اعظم ٹرافی سیکنڈ الیون میچ میں بھی سددرن پنجاب کیخلاف خیرپختونخوا کی جانب سے ایکشن میں نظر آئے تھے،اس لحاظ سے 2سالہ پابندی 5 ماہ میں ہی خاموشی سے ختم ہوگئی۔

رابطے پر پی سی بی کے ترجمان نے کہا کہ گوہر علی نے اپنی سزا کیخلاف اپیل کی تھی جس پر پابندی کم کردی گئی، وہ 25 ستمبر کو ڈومیسٹک مقابلوں میں شرکت کے اہل ہو گئے تھے،اس سوال پر کہ کیا کسی پریس ریلیز یا کسی اور طریقے سے اس کا اعلان ہوا؟ بورڈکے ترجمان نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا، انھوں نے سزا کم کرنے کی وجہ بھی بتانے سے گریز کیا۔

پی ایس ایل 5: کھلاڑیوں کے معاوضوں کی حد مقرر

کراچی: پی ایس ایل 5کیلیے کھلاڑیوں کے معاوضوں کی حد مقرر کر دی گئی جب کہ اس بار مجموعی بجٹ کم کرتے ہوئے183.7 ملین پاکستانی روپے رکھا گیا ہے۔

پی ایس ایل ڈرافٹ کا انعقاد نومبر یا دسمبرمیں ہوگا،اس سے قبل پلیئرز کی سیلری کیپ کا فیصلہ کر لیا گیا، ماضی کے مقابلے میں کمی لاتے ہوئے اس بار فرنچائزز کے پلیئرز بجٹ کی حد183.7 ملین پاکستانی روپے کر دی گئی ہے، 15.6ملین روپے اضافی سپورٹ کیلیے دستیاب ہوں گے، امریکی ڈالرزکو 156روپے کے حساب سے شمار کیا جائے گا،ڈالرز میں یہ رقم1.18ملین اور ایک لاکھ بنتی ہے۔

اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں کی تعداد20سے کم کر کے 18کر دی گئی،ان میں سے 16 کو ساتھ رکھنا لازمی ہوگا، 3 پلاٹینم کرکٹرزکی خدمات23 سے34 ملین روپے (147 سے218 ہزار ڈالر) کے عوض حاصل کی جا سکیںگی،مجموعی سیلری کیپ80 ملین روپے (5 لاکھ 13ہزار ڈالر) ہے۔

ڈائمنڈکے3کرکٹرز سے معاہدہ 11.5 سے16ملین روپے (73سے ایک لاکھ 3ہزار ڈالرز) کے عوض ہو سکے گا، سیلری کیپ39ملین روپے (ڈھائی لاکھ ڈالر ہے)۔ گولڈ کے 3 کرکٹرز کو 6.9 سے 8.9ملین روپے (44سے 58 ہزار ڈالر) کے عوض اپنا بنایا جائے گا، مجموعی سیلری کیپ23.7ملین روپے (ایک لاکھ 52ہزار ڈالر ) ہے۔

5 سلور کیٹیگری کے کرکٹرز کو2.4 سے5.4ملین روپے (15 سے35ہزار ڈالر) دے کر ٹیم میں لیا جا سکے گا، اس کیٹیگری کی سیلری کیپ19.5ملین روپے (ایک لاکھ 25ہزار ڈالر ) ہے ۔

2ایمرجنگ کھلاڑیوں سے معاہدہ2.5ملین روپے (6.5 سے 9.5 ہزار ڈالر) کے عوض ہوگا، مجموعی سیلری کیپ ڈھائی ملین روپے (16ہزار ڈالر ) ہے۔ 2 سپلیمنٹری کرکٹرز سے معاہدہ 19ملین روپے (1لاکھ 20ہزار ڈالر) میں ہو سکے گا۔

 

Google Analytics Alternative