کھیل

پی ایس ایل؛ چیئرمین پی سی بی نے غیرُملکی کرکٹرز کے پاکستان آنے کی نوید سنادی

لاہور: پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی نے پاکستان سپر لیگ میں تمام معروف غیرُملکی کرکٹرز کے پاکستان آکر کھیلنے کی نوید سنادی۔

چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے قذافی اسٹیڈیم میں یو کے اینڈ پاکستان جرنلسٹ میچ کے موقع پر صحافیوں سے تعارف کے موقع پر غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ آسٹریلیا سے بات چیت کا سلسلہ ختم نہیں ہوا اور پی ایس ایل کے آغاز سے پہلے شیڈول کو حتمی شکل دے دیں گے، پی ایس ایل میں تمام معروف کرکٹرز نے پاکستان آکر کھیلنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جس سے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھلنے میں مدد ملے گی۔

احسان مانی کا کہنا تھا کہ ساؤتھ افریقا اور انگلینڈ بورڈز کے ساتھ مختلف ٹیموں کی سیریز پر بات چیت جاری ہے، قذافی اسٹیڈیم کے ڈریسنگ رومز کو بھی دوبارہ بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹاسک فورس کی تجاویز کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، تمام فیڈریشنز میں پروفیشنلز لانے کی سفارش کر رہے ہیں، صرف ان فیڈریشنز کو گرانٹ دینے کی سفارش کر رہے ہیں جن کے پاس انفراسٹرکچر کا پلان ہو گا۔

چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا حکومت سے تعلق نہیں، پی او اے آئی او سی کے ماتحت ہے اس کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتے، ہاکی والے گرانٹ مانگتے ہیں لیکن پلان نہیں بتاتے کہ کرنا کیا ہے، گرانٹ دینا حکومت کا کام ہے تاہم ٹاسک فورس صرف تجاویز دے سکتی ہے۔

ون ڈے سیریز کا پہلا میچ؛ پاکستانی اسکواڈ جوہانسبرگ سے پورٹ الزبتھ پہنچ گیا

پورٹ الزبتھ: جنوبی افریقا کے خلاف ون ڈے سیریز کے پہلے میچ کے لیے قومی ٹیم پورٹ الزبتھ پہنچ گئی ہے۔

جنوبی افریقا اور پاکستان کے درمیان 5 ایک روزہ میچز کی سیریز کا پہلا مقابلہ 19جنوری کو ہوگا، پاکستان سے روانہ ہونے والے عماد وسیم اور حسین طلعت، بی پی ایل میں شرکت کرنے والے شعیب ملک اور محمد حفیظ بنگلا دیش اور بگ بیش کا حصہ بننے والے عثمان شنواری آسٹریلیا سے گزشتہ روز ہی جوہانسبرگ پہنچ گئے تھے۔

جنوبی افریقا کیخلاف ٹیسٹ سیریز کے بعد ون ڈے اسکواڈ میں بھی منتخب ہونے کپتان سرفراز احمد، فخرزمان، امام الحق، شان مسعود، بابر اعظم، محمد رضوان، شاداب خان، فہیم اشرف، حسن علی، محمد عامر اور شاہین شاہ آفریدی پہلے ہی وہاں موجود تھے۔ ون ڈے اسکواڈ آج جوہانسبرگ سے پورٹ الزبتھ پہنچا۔

مہمان کرکٹرز کل سے پریکٹس کا آغاز کرتے ہوئے خود کو وائٹ بال کرکٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کریں گے۔ دوسری جانب ٹیسٹ سیریز مکمل ہونے کے بعد اظہر علی، اسد شفیق، محمد عباس اور یاسر شاہ جوہانسبرگ سے ہی وطن واپسی کیلیے عازم سفر ہوگئے۔

قومی فٹبال ٹیم کے سابق کپتان کلیم اللہ نے فیفا کو نشانے پر رکھ لیا

قومی فٹبال ٹیم کے سابق کپتان کلیم اللہ نے کہا ہے کہ فٹبال کی عالمی باڈی خود ہی نہیں چاہتی  کہ پاکستان میں یہ  کھیل ترقی کرے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کلیم اللہ نے کہا کہ فٹبال کی عالمی باڈی خود ہی نہیں چاہتی کہ پاکستان میں یہ  کھیل ترقی کرے، منتحب پی ایف ایف کو موقع دینا چاہیئے کہ وہ ملک میں فٹبال کیلیے کچھ کر سکے، اگر فیفا کو فیصل صالح حیات اتنا پسند ہے تو اس کو اے ایف سی کا صدر بنالے لیکن پاکستان فٹبال کو جینے دے۔

یاد رہے کہ عدالتی حکم پر ہونے والے پی ایف ایف کے الیکشن میں منتخب ہونے والی نئی باڈی سید  اشفاق حسین کی سربراہی میں فیڈریشن کا چارج سنبھال چکی ہے لیکن اے ایف سی اور فیفا کی جانب سے اس تبدیلی کو تیسرے فریق کی مداخلت قرار دیا گیا ہے، ان کی نظروں میں فیصل صالح حیات کی سربراہی میں پی ایف ایف کو مارچ 2020 تک کا مینڈیٹ حاصل ہے، موجودہ پیچیدہ صورتحال میں فیفا کی جانب سے پاکستان فٹبال کو معطل کئے جانے کا امکان ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے پروڈکشن رائٹس بھارتی کمپنی کو مل گئے

لاہور:  پاکستان سپر لیگ کے پروڈکشن رائٹس بھارتی کمپنی کو مل گئے ایک بھارتی اخبار کے مطابق اگرچہ فریقین کی جانب سے معاہدے کو منظر عام پر نہیں لایا گیا۔

تاہم چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے تصدیق کی ہے کہ حقوق آئی ایم جی آر نامی کمپنی کو ملے ہیں، اس کمپنی نے ابتدائی 10سال تک آئی پی ایل کے پروڈکشن معاملات بھی سنبھالے تھے۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی کا عملہ پہلے ہی پاکستان پہنچ کر تیاریوں کا آغاز کرچکا ہے۔

پی سی بی کے وعدوں نے فرنچائززکا غصہ ٹھنڈا کردیا

کراچی: پی سی بی کے وعدوں نے فرنچائززکا غصہ ٹھنڈا کر دیا گزشتہ روز لاہور میں میٹنگ کے دوران نمائندوں کو یقین دلایا گیا کہ پروڈکشن کے اخراجات سابقہ ہی رہیں گے اور پاکستان کے میچز میں بورڈ انھیں برداشت کرے گا۔

ٹیموں سے کہا گیا کہ وہ قوائد کے مطابق پلیئرز فیس کی 50 فیصد رقم جلد ادا کریں پھر دیگر مطالبات پر غور ہوگا۔ پی ایس ایل فرنچائزز کو اعتراض تھا کہ پروڈکشن اخراجات بڑھنے سے ان کو نئی ٹی وی رائٹس ڈیل سے زیادہ  فائدہ نہیں ہوگا، سالانہ12 ملین ڈالرز میں سے5 ملین سے زائد اس مد میں خرچ ہونے تھے، سابقہ رقم2.4 ملین بنتی تھی،ذرائع کے مطابق گزشتہ روز گورننگ کونسل میٹنگ میں چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے فرنچائزز کو خوشخبری سنائی کہ پاکستان میں ہونے والے میچز کے پروڈکشن اخراجات پی سی بی برداشت کرے گا، یوں انھیں گزشتہ ایونٹ کے مساوی رقم ہی خرچ کرنا پڑے گی، انھوں نے بتایا کہ چونکہ اس بار ملک میں زیادہ میچز ہو رہے ہیں اور یو اے ای میں بھی ابوظبی کا اضافہ ہو گیا۔

اس لیے پروڈکشن کے اخراجات بڑھ گئے، ذرائع نے مزید بتایا کہ فرنچائزز کے نمائندوں نے بورڈ سے اسپانسر شپ معاہدوں وغیرہ میں شیئر بڑھانے کی بھی بات کہی مگر ان کو جواب دیا گیاکہ پہلے وہ اپنی مالی ذمہ داریاں پوری کریں، اب تک کسی بھی ٹیم نے پلیئرز فیس کی 50 فیصد رقم جمع نہیں کرائی ہے حکام نے انھیں جلد از جلد ایسا کرنے کی ہدایت دی، یاد رہے کہ قوانین کے تحت ڈرافٹ کے فوراً بعد پلیئرز فیس کی آدھی رقم بورڈ کو دینا ہوتی ہے، 30 فیصد ایونٹ سے قبل اور باقی 20 فیصد درمیان میں دینے کا طریقہ ہے، بورڈ کھلاڑیوں کو خود ادائیگی کرتا ہے، ذرائع نے مزید بتایا کہ فرنچائز کے نمائندے پہلی بار میٹنگ سے خوش خوش واپس گئے،ان کو یقین ہوگیا کہ بورڈ شکایات کا جلد ازالہ کر دے گا،احسان مانی نے ان کے مسائل حل کرنے کا یقین دلاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ مینجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کے آنے سے انھیں اور مدد ملے گی۔

پی ایس ایل کے چوتھے ایڈیشن کے لیے کاؤنٹ ڈاؤن شروع

لاہور: پاکستان سپرلیگ کے چوتھے ایڈیشن کے لئے کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا ہے۔  

14 فروری سے شیڈول پاکستان سپرلیگ کے چوتھے ایڈیشن کے لیے کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا ہے جب کہ شارجہ اور ابوظہبی میچز کیلئے ٹکٹس کی آن لائن بکنگ شروع ہوگئی ہے، ترجمان پی سی بی کے مطابق شارجہ میں 8 اور ابوظہبی میں 4 میچز کھیلیں جائیں گے جن کے لیے آن لائن ٹکٹس بکنگ کے لیے دستیاب ہیں۔

شارجہ میں پہلا میچ کوئٹہ اور ملتان سلطانز کے درمیان 20 فروری کو ہوگا، 21 فروری کو پشاور زلمی اور کراچی کنگز مدمقابل ہوں گے، اسی طرح دوسرے تمام میچز کے لئے شائقین ٹکٹس بک کروا سکتے ہیں۔ ابوظہبی میں دو ڈبل ہیڈر میچز 4 اور 5 مارچ کو شیڈول ہیں۔

آن لائن بکنگ کیلئے دستیاب ٹکٹوں کی قیمت 20، 30، 65 اور 100 درہم مقرر کی گئی ہے۔ پی سی بی حکام اس بار شٹل سروس بھی شروع کرنے کی پلاننگ کررہے ہیں۔

کوہلی کی 39ویں سنچری، بھارت دوسرے ون ڈے میں کامیاب

ویرات کوہلی کی شاندار سنچری کی بدولت بھارت نے آسٹریلیا کو دوسرے ون ڈے میچ میں چھ وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کردی۔

ایڈیلیڈ میں کھیلے گئے سیریز کے دوسرے ون ڈے میچ میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو 26رنز پر اس کے دونوں اوپنرز پویلین لوٹ چکے تھے۔

اس مرحلے پر عثمان خواجہ اور شان مارش نے میزبان بیٹنگ لائن کو سہارا دیا اور تیسری وکٹ کے لیے 56رنز کی شراکت قائم کی لیکن اس سے قبل کہ یہ شراکت خطرناک ثابت ہوتی، رویندرا جدیجا کی شاندار فیلڈنگ اور وکٹوں کی جانب براہ راست تھرو کے نتیجے میں عثمان پویلین لوٹنے پر مجبور ہو گئے۔

اس کے بعد پیٹر ہینڈزکومب اور مارکش اسٹوئنس نے بھی شان مارش کے ہمراہ چھوٹی چھوٹی شراکتیں قائم کیں لیکن دونوں کھلاڑی بالترتیب 20 اور 29 رنز بنانے کے بعد وکٹیں گنوا بیٹھے۔

189رنز پر پانچ وکٹیں گرنے کے بعد شان مارش کا ساتھ دینے گلین میکسویل آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے تیزی سے کھیلتے ہوئے 94رنز کی شراکت قائم کر کے اپنی ٹیم کی اچھے مجموعے تک رسائی کو یقینی بنایا۔

شان مارش نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 11 چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے 131 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ میکسویل نے 48رنز بنائے۔

اختتامی تین اوورز میں میزبان ٹیم یکے بعد دیگرے وکٹیں گنواتے ہوئے تیز رفتاری سے رنز نہ بنا سکی اور یہی رنز میچ میں اصل فرق ثابت ہوئے۔

آسٹریلیا نے مقررہ اوورز میں 9وکٹوں کے نقصان پر 298 رنز بنائے، بھارت کی جانب سے بھوونیشور کمار نے چار اور محمد شامی نے تین وکٹیں حاصل کیں۔

ہدف کے تعاقب میں بھارتی اوپنرز روہت شرما اور شیکھر دھاون نے اپنی ٹیم کو 47رنز کا آغاز فراہم کر کے جیت کی بنیاد رکھی، دھاون کی اننگز 32رنز پر تمام ہوئی۔

روہت نے کپتان ویرات لکوہلی کے ساتھ مل کر ٹیم کی نصف سنچری مکمل کرائی لیکن گزشتہ میچ میں سنچری بنانے والے بلے باز اس مرتبہ 43رنز بنا کر اسٹوئنس کی وکٹ بن گئے۔

کوہلی کا ساتھ دینے امبتی رائیڈو آئے تو دونوں کھلاڑیوں نے مزید 59 رنز جوڑ کر ہدف کی جانب پیش قدمی جاری رکھی، رائیڈو 24 رنز بنا سکے۔

160 رنز پر تین وکٹیں گرنے کے بعد کوہلی کا ساتھ دینے سابق کپتان مہندرا سنگھ دھونی آئے اور دونوں نے 82رنز کی شراکت قائم کر کے بھارت کی میچ جیتنے کی امیدیں روشن کر دیں۔

کوہلی نے ایک مرتبہ پھر عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے ون ڈے کرکٹ میں 39ویں سنچری اسکور کی اور 104 رنز بنانے کے بعد رچرڈسن کی وکٹ بن گئے۔

اس کے بعد بھارت کو ہدف کے تعاقب میں زیادہ مشکل پیش نہ آئی اور دھونی نے دنیش کارتھک کے ہمراہ میچ کے آخری اوور میں اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرا دیا۔

دھونی نے لگاتار دوسرے میچ میں نصف سنچری اسکور کرتے ہوئے 55 رنز بنائے جبکہ کارتھک نے 14 گیندوں پر 25رنز کی اننگز کھیلی۔

اس میچ میں چھ وکٹ سے فتح کے ساتھ ہی بھارت نے تین میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کردی۔

کوہلی کو 104 رنز کی فتح گر اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

جنوبی افریقا نے پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کردیا

جنوبی افریقا نے پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں 0-3 سے شکست دے کر کلین سوئپ کردیا۔ 

جوہانسبرگ ٹیسٹ میں جنوبی افریقا نے پاکستان کو جیت کے لیے 381 رنز کا ہدف دیا ہے جس کے جواب میں قومی ٹیم 273 رنز ہی بناسکی اور یوں انہیں 107 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

قومی ٹیم نے چوتھے روز 3 وکٹ پر 153 رنز سے اپنی نامکمل اننگز کا آغاز کیا تو 9 رنز کے اضافے کے بعد ہی بابراعظم 21 رنز بنانے کے بعد اولیئر کا شکار بن گئی، اگلی ہی گیند پر کپتان سرفراز احمد بھی کھاتہ کھولے بغیر پویلین واپس لوٹ گئے جب کہ اسد شفیق کی ہمت بھی 65 رنز پر جواب دے گئی۔

فہیم اشرف بھی 15 رنز کے مہمان ثابت ہوئے، حسن علی نے 14 گیندوں پر 22 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی اور شاداب خان 47 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔ پروٹیز کی جانب سے اولیوائر اور رباڈا نے 3،3 جب کہ ڈیل اسٹین نے 2 اور فلینڈر نے ایک وکٹ حاصل کی۔

دوسری اننگز میں میزبان ٹیم 303 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی اور پہلی اننگز میں 77 رنز کی برتری کی بدولت پاکستان کے لیے 381 رنز کا بڑا ہدف کھڑا کردیا، ڈی کوک 129 اور ہاشم آملہ 71 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ پاکستان کی جانب سے  فہیم اشرف اور محمد عباس نے 3،3 جب کہ محمد عامر 2 اور حسن علی نے ایک وکٹ حاصل کی۔

پہلی اننگز میں پاکستان کی بیٹنگ لائن ناکام رہی تھی، میزبان ٹیم کی جانب سے 4 کیچ ڈراپ اور ایک رن آؤٹ کا موقع ضائع کرنے کے باوجود قومی ٹیم پہلی اننگز میں 185 رنز پر آؤٹ ہوئی۔ قومی ٹیم کی جانب سے سرفراز احمد 50، بابر اعظم 49 اور امام الحق 43 کے علاوہ کوئی بھی بلے باز خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکا تھا، پروٹیز کی جانب سے اولیوائر نے 5، فلینڈر نے 3 اور رباڈا نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔

جنوبی افریقا نے اپنی پہلی اننگز میں ایڈن مارکرم 90 ، ہاشم آملہ 41، بروین 49 اور زوبایر حمزہ کے 41 رنز کی بدولت 262 رنز بنانے میں کامیاب رہی تھی۔ قومی ٹیم کی جانب سے فہیم اشرف نے 3، حسن علی، محمد عباس اور محمد عامر نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں تھیں۔

واضح رہے کہ ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچوں میں قومی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور یوں جنوبی افریقا کو تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔

Google Analytics Alternative