کھیل

ویمنزون ڈے رینکنگ؛ سدرہ امین اور ندا ڈار نے اونچی اڑان بھرلی

دبئی: ویمنز ون ڈے رینکنگ میں سدرہ  امین اور ندا ڈار نے اونچی اڑان بھر لی، دونوں کو ویسٹ انڈیز کے خلاف فتح گر پرفارمنس کا بھرپور صلہ مل گیا۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف آئی سی سی ویمنز ون ڈے چیمپئن شپ میں شاندار کامیاب کی بدولت پاکستانی پلیئرز کو بھی رینکنگ میں خوب ترقی ملی ہے۔

سیریز میں 2-1 کی فتح میں اہم کردار ادا کرنے والے سدرہ امین کو 36 درجے ترقی نے 57 ویں نمبر پر پہنچایا، انھوں نے دو نصف سنچریوں سے آراستہ 148 رنز بنائے تھے جبکہ 110 رنز بنانے والی ندا ڈار 13 درجے پھلانگ کر55 ویں نمبر پر پہنچ چکی ہیں، ایک درجہ بہتری سے جویریہ خان اب 23 ویں نمبر پر پہنچ چکی ہیں۔

ادھر بولنگ چارٹ میں نشرح سندھوکو5 وکٹوں کے حصول پر 7 درجے ترقی نے 23 ویں نمبر پر پہنچادیا ہے۔ اسی طرح 3 میچز میں 7 وکٹیں اڑا کر گرین شرٹس کی کامیابی میں حصہ ڈالنے والی ڈیانا بیگ کو بھی 5 درجے ترقی حاصل ہوئی، جس کی بدولت وہ اب 51 ویں نمبر پر پہنچ گئی ہیں۔اسی سیریزمیں 5 وکٹیں لینے والی سینئر کھلاڑی ثنامیر نے ویمنز ورلڈ کرکٹ کی نمبر ون بولر کے اعزاز کو مزید مستحکم کیا ہے۔

دوسری جانب ویسٹ انڈین آل راؤنڈر ڈینڈرا ڈوٹن کو تینوں شعبوں میں ایک ایک درجہ ترقی ملی جس سے وہ اب بیٹنگ میں 20 ویں، بولنگ میں 36 ویں اورآل راؤنڈرز میں نویں نمبر پر پہنچ گئی ہیں، کیریبیئن ویمنز کپتان اسٹیفنی ٹیلر نے  2 درجے بہتری سے آٹھویں پوزیشن پالی، بولرزمیں شکیرا سیلمین 8 درجے ترقی پاکر 26 ویں نمبر پر پہنچ چکی ہیں۔

علاوہ ازیں ٹیم رینکنگ میں پاکستانی خواتین سائیڈ ساتویں نمبرپرموجود جبکہ ٹاپ پرآسٹریلیا براجمان ہے۔

 

پی سی بی کا بھارتی پروڈکشن کمپنی کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر غور

 لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ نے معاہدے کی خلاف ورزی پر بھارتی پروڈکشن کمپنی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے مختلف آپشنز پر غور شروع کردیا ہے۔

پی سی بی اور بھارتی براڈ کاسٹ کمپنی کے ساتھ پاکستان سپرلیگ 4 کے یو اے ای اور پاکستان میں شیڈول تمام میچز  دکھانے کا معاہدہ ہوا تھا۔ بورڈ حکام نے بھارتی کمپنی کے راہ فرار کے بعد ہنگامی طور پر بدھ سے لیگ کے شارجہ سمیت دوسرے تمام مقامات پر ہونے والے میچز دکھانے کا بندوبست کرلیاہے۔

اس سلسلے میں دبئی میں ایک براڈ کاسٹ کمپنی سے معاملات  کافی حد تک طے کرکے لاجسٹک انتظامات کو یقینی بنانے پر پیش رفت جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق  بورڈ حکام بھارتی کمپنی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی شرائط کا جائزہ لے رہے ہیں جس کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس سلسلےمیں وکلا سے بات چیت کے بعد باقاعدہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ دوسری جانب نئی کمپنی کے ساتھ معاہدے میں یہ شرط خاص طور پر شامل کی گئی ہے کہ وہ بھارتی کمپنی کی طرح دوران  لیگ کوئی عمل نہیں کرے گی جس سے لیگ کی ساکھ پر حرف آئے۔

حفیظ پاکستان سپر لیگ سے باہر، ورلڈ کپ میں بھی شرکت مشکوک

پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کی فرنچائز لاہور قلندرز کے کپتان محمد حفیظ ہاتھ کی انجری کے سبب ممکنہ طور پر بقیہ پی ایس ایل میں شرکت نہیں کر سکیں گے جبکہ ان کی ورلڈ کپ میں بھی شرکت پر سوالیہ نشان لگ گیا۔

ہفتے کو کراچی کنگز کے خلاف میچ کے دوران محمد حفیظ کی گیند پر کولن انگرام نے انہی کی جانب تیز شاٹ کھیلا اور کیچ پکڑنے کی ناکام کوشش میں وہ انگلی زخمی کرا بیٹھے۔

حفیظ کو فوری طور پر میدان سے باہر لے جا کر معائنہ کیا گیا اور قلندرز کی میچ میں 22رنز سے فتح کے بعد انہیں فوری طور پر ایکسرے اور اسکین کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ابتدائی رپورٹس کے بعد ڈاکٹرز نے حفیظ کو چند دن آرام کا مشورہ دیا تھا اور امید تھی کہ وہ جلد صحتیاب ہو جائیں گے تاہم اب ان کی لیگ میں شرکت مشکوک ہو گئی ہے۔

گزشتہ روز پشاور زلمی کے خلاف میچ میں اے بی ڈی ویلیئرز نے لاہور قلندرز کی قیادت کی اور ٹاس کے موقع پر انکشاف کیا کہ حفیظ کی انگلی میں فریکچر ہوا جس کے سبب وہ 4 سے 6 ہفتوں تک کرکٹ نہیں کھیل سکیں گے۔

اس کے ساتھ ہی حفیظ کے لیے پاکستان سپر لیگ کے چوتھے ایڈیشن کا اختتام ہو گیا ہے اور اب وہ شاید ہی کسی میچ میں قلندرز کی نمائندگی کر سکیں۔

حفیظ کی صرف پی ایس ایل میں ہی شرکت پر سوالیہ نشان نہیں لگا بلکہ دو ماہ بعد شیڈول کرکٹ ورلڈ کپ میں بھی ان کی شرکت مشکوک ہو گئی ہے اور ان کی شرکت کا انحصار فٹننس پر ہو گا۔

محمد حفیظ نے اس سے قبل گزشتہ تینوں سیزن میں پشاور زلمی کی نمائندگی کی تھی اور اس سال وہ لاہور قلندرز کے کپتان مقرر کیے گئے تھے لیکن بدقسمتی سے اپنی ٹیم کے دوسرے ہی میچ میں وہ زخمی ہو کر ایونٹ سے باہر ہو گئے۔

حفیظ کی غیرموجودگی میں پاکستان سپر لیگ کے بقیہ میچز میں اے بی ڈی ویلیئرز لاہور قلندرز کی قیادت کریں گے۔

پی ایس ایل میں سامنے آنے والے ٹیلنٹ سے گریم اسمتھ بھی متاثر

سابق جنوبی افریقی کپتان کا کہنا ہے کہ ایونٹ میں نوجوان کھلاڑیوں کو پرفارم کرتے دیکھنا شاندار تجربہ ہے۔

پی ایس ایل کی ویب سائٹ کو انٹرویو میں جنوبی افریقا کے سابق کپتان گریم اسمتھ کا کہنا تھا کہ اے بی ڈی ویلیئرز کی جانب سے پی ایس ایل میں شرکت اور پاکستان میں کھیلنے کا فیصلہ بڑا خوش آئند ہے، اس اقدام سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں مدد ملے گی، پاکستان کے نوجوان پلیئرز کو اے بی ڈی ویلیئرز سمیت سپر اسٹارز کے ساتھ کھیلتے ہوئے بہت کچھ سیکھنے اور اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔

گریم اسمتھ نے کہا کہ جنوبی افریقہ میں پاکستان کرکٹ ٹیم ناکامیوں کے باوجود ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لئے کوشاں نظر آئی، خاص طور پر بابراعظم اور شاہین شاہ آفریدی نے بہت متاثر کیا، پاکستان میں بولنگ ٹیلنٹ کی کبھی کمی نہیں رہی، پی ایس ایل میں بھی بولرز اپنی مہارت کا بھرپور مظاہرہ کر رہے ہیں، امید ہے کہ اس ایونٹ سے پاکستان کرکٹ کی قوت میں مزید اضافہ ہوگا، مضبوط ٹیمیں انٹرنیشنل کرکٹ کے مستقبل کے لیے بھی خوش آئند ہیں۔

لاہور قلندرز کی قیادت اے بی ڈویلیئرز کو مل گئی

دبئی : لاہور قلندرز کے کپتان محمد حفیظ انجری کے باعث آج پشاور زلمی کے خلاف میچ نہیں کھیل سکیں گے اور ان کی غیر موجودگی میں  اے بی ڈویلیئرز قیادت کے فرائض انجام دیں گے۔

محمد حفیظ گزشتہ روز کراچی کنگز کے خلاف میچ کے دوران انگوٹھے پر چوٹ لگنے کی وجہ سے زخمی ہوگئے تھے اور ابتدائی ٹیسٹ کے بعد انہیں چند روز آرام کا مشورہ دیا گیا ہے۔

محمد حفیظ کی غیر موجودگی میں جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والے بلے باز اے بی ڈویلیئرز لاہور قلندرز کی قیادت کریں گے۔

تجربہ کار بلے باز اے بی ڈویلیئرز پہلی مرتبہ پی ایس ایل کا حصہ بنیں ہیں اور ابتدائی دو میچز میں ان کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔

یاد رہے کہ لاہور قلندرز کی ٹیم اب تک ایونٹ میں دو میچز کھیل چکی ہے، ایونٹ کے افتتاحی میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے اسے شکست دی جب کہ گزشتہ روز قلندرز نے کراچی کنگز کو 22 رنز سے شکست دی تھی۔

عثمان شنواری کی ٹیم آسٹریلین بگ بیش کی چیمپیئن بن گئی

آسٹریلین بگ بیش میں ڈینیئل کرسچن کی شاندار آل راؤنڈر کارکردگی کی بدولت پاکستانی فاسٹ باؤلر عثمان شنواری کی ٹیم میلبرن رینی گیڈز نے فائنل میں میلبرن اسٹارز کو 13 رنز سے شکست دے کر چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

میلبرن میں کھیلے گئے میچ میں میلبرن اسٹارز نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جو ابتدا میں بالکل درست ثابت ہوا اور گیارہویں اوور میں رینی گیڈز 65 رنز پر آدھی ٹیم سے محروم ہو چکے تھے۔

اس موقع پر تجربہ کار ڈینیئل کرسچن اور ٹام کوپر وکٹ پر ڈٹ گئے اور دونوں کھلاڑیوں نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اننگز کے اختتام تک مزید کوئی وکٹ نہ گرنے دی۔

کرسچن اور کوپر نے چھٹی وکٹ کے لیے 80رنز کی شراکت قائم کر کے اپنی ٹیم کی معقول مجموعے تک رسائی یقینی بنائی، کوپر نے 43 اور کرسچن نے 38 رنز کی اننگز کھیلی۔

میلبرن اسٹارز کے جیکسن برڈ اور ایڈم زامپا نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

ہدف کے تعاقب میں اسٹارز کے اوپنرز مارکس اسٹوئنس اور بین ڈنک نے اپنی ٹیم کو 13اوورز میں 93 رنز کا جاندار آغاز فراہم کر کے میچ کو یکطرفہ بنانے کی کوشش کی۔

93 کے اسکور پر اسٹوئنس 39رنز بنا کر پویلین لوٹے تو میلبرن اسٹارز کو فتھ کے لیے مزید محض 53رنز درکار تھے لیکن اگلے چند ہی اوورز میں میچ کا نقشہ بدل گیا۔

ایک رن کے اضافے سے پیٹر ہینڈزکومب بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹے جبکہ 99 کے مجموعے پر بین ڈنک اور گلین میکس ویل بھی یکے بعد دیگرے دو گیندوں پر پویلین لوٹ کر ٹیم کی مشکلات بڑھا گئے، ڈنک 57 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔

نک میڈنسن اور ڈیوین براوو بھی ٹیم کے کسی کام نہ آ سکے اور 112 رنز پر میلبرن اسٹارز 7 وکٹوں سے محروم ہو گئے۔

اس کے بعد ایڈم زامپا نے کچھ بڑے شاٹس کھیلے لیکن ان کی یہ کوشش بھی اسٹارز کے کسی کام نہ آ سکی اور وہ مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 132رنز بنا سکی، میلبرن اسٹارز کی تمام 7 وکٹیں صرف 19 رنز کے اضافے سے گریں۔

میلبرن رینی گیڈز نے میچ میں 13رنز کی فتح کے ساتھ ہی پہلی مرتبہ بگ بیش کی چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

ڈینئل کرسچن کو 38 رنز کی اننگز اور 2 وکٹیں لینے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستانی فاسٹ باؤلر عثمان شنواری بھی میلبرن رینی گیڈز کی نمائندگی کر رہے تھے لیکن وہ پاکستان سپر لیگ میں کراچی کنگز کی نمائندگی کے لیے وطن واپس لوٹ آئے تھے۔

بھارتی حکومت نے اندرون ملک پی ایس ایل میچز دکھانے پر پابندی لگا دی

نئی دہلی: بھارتی حکومت نے اپنے عوام سے کھیلوں سے لطف اندوز ہونے کا حق چھینتے ہوئے اندرون ملک پاکستان سپر لیگ کے میچز دکھانے پر پابندی لگادی۔

پی ایس ایل میچز بھارت میں دکھانے کے لیے ڈی اسپورٹس چینل نے مالکانہ حقوق خریدے تھے اور ایونٹ کی افتتاحی تقریب سمیت 3 میچز چینل پر براہ راست نشر کیے گئے تھے۔

بھارتی حکومت کے دباؤ پر براڈ کاسٹر نے پی ایس ایل کا گزشتہ رات بلیک آؤٹ کرتے ہوئے لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے درمیان پانچواں میچ نشر نہیں کیا، اس سے قبل چینل پر اس میچ کی پروموشن کی جاتی رہی تھی۔

پی ایس ایل میچز براہ راست امریکا اور کینیڈا میں دکھانے کے لیے ویلو ٹی وی جب کہ بھارت میں ڈی اسپورٹس اور برطانیہ میں نشریات کے لیے ہم مصالحہ نے حقوق حاصل کیے تھے۔

دوسری جانب کرکٹ کلب آف انڈیا نے بھی حکومتی دباؤ میں آکر کرکٹر عمران خان کی تصویر اپنی گیلری سے ہٹا دی یہی نہیں بھارتی میڈیا بھی پاکستان دشمنی میں ہوش کھو بیٹھا ہے۔

بھارتی میڈیا نے عبدالرشید غازی کو پلوامہ واقعے کا ذمہ دار ٹہھراتے ہوئے انہیں تلاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کو شاید علم نہیں کہ عبدالرشید غازی 2007 میں لال مسجد آپریشن کے دوران مارے گئے تھے۔

یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 44 بھارتی سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں کی خود کش حملے میں ہلاکت کے بعد بھارت کی جانب سے مسلسل پاکستان پر الزام تراشی کی جارہی ہے۔

بھارتی وزیر خزانہ ارون جیٹلے نے پاکستان کو حاصل موسٹ فیور نیشن ( ایم ایف این) کا اسٹیٹس واپس لینے کا یکطرفہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب پاکستانی درآمدات پر 200 فیصد کسٹم ڈیوٹی چارج کی جائے گی۔

پی ایس ایل تقریب میں نجم سیٹھی کی عدم شرکت پروقاریونس کی تنقید

لاہور: وقار یونس نے بھی نجم سیٹھی کی پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب میں عدم موجودگی پر اعتراض اٹھا دیا۔

سابق ٹیسٹ کپتان و کو چ وقار یونس کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی کو پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب میں مدعو کر کے ان کی بھر پور ستائش کی جانی چاہیے تھی، لیکن  یہ بڑے دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ کسی کو وہ مقام نہیں دیتا جس کا وہ حقدار ہوتا ہے، بطور قوم ہمیں مستحق لوگوں کو عزت دینی چاہیے۔

سوشل میڈپا پر اپنے پیغام میں ماضی کے عظیم بولرز کا کہنا تھا کہ  نجم سیٹھی کی سربراہی میں پی ایس ایل کا پہلا ایڈیشن یواے ای میں ہوا، اور دوسرے سیزن کا ایک اور تیسرے کے 3 میچز پاکستان میں ہوئے، یہ نجم سیٹھی کی ہی کاوشوں کا نتیجہ ہے اس لئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو انہیں پی ایس ایل کی تقریب میں عزت دینی چاہئے تھی۔

دوسری جانب نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ میں بھی پی ایس ایل کی کمی محسوس کروں گا، زندگی میں ایسا ہوتا ہے، اس بار شاندار ٹورنامنٹ میں آپ کے ساتھ نہیں ہوں گا لیکن پی ایس ایل میں شرکت کرنے والی تمام ٹیموں کیلیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد نجم سیٹھی کو چیئرمین پی سی بی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، اور بعد ازاں پی سی بی کی موجودہ انتظامیہ نے انہیں لیگ کے افتتاحی تقریب میں بھی مدعو نہیں کیا۔

Google Analytics Alternative