کھیل

ابوظہبی ٹی 10 لیگ کی افتتاحی تقریب 14 نومبر کو ہوگی

کراچی: ابوظہبی ٹی 10 لیگ کا میلہ اگلے ماہ سجنے جارہا ہے جس کی افتتاحی تقریب 14 نومبر کو ہوگی۔

ابوظہبی ٹی 10 لیگ کا میلہ اگلے ماہ سجنے جارہا ہے جس کی افتتاحی تقریب 14 نومبر کو ہوگی اس رنگارنگ تقریب میں شوبز دنیا سے تعلق رکھنے والے ستارے بڑی تعداد میں شریک ہوں گے اور میلے کی رونق بڑھائیں گے۔

رنگارنگ تقریب میں کون سے ستارے شریک ہوں گے منتظمین نے اس کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق  ابوظہبی ٹی 10 لیگ کی افتتاحی تقریب میں پاکستانی گلوکارعاطف اسلم فن کا جادو جگائیں گے، ان کے ساتھ بالی ووڈ سیلبریٹی نورہ فتحی، ساؤتھ انڈین ماڈل پرتھوی نائر اور بنگلا دیشی اداکار شکیب خان بھی ہوں گے۔

پروگرام کی میزبانی انڈین اداکار حسین خواجروالا کے سپرد کی گئی ہے، افتتاحی تقریب شیخ زاید کرکٹ اسٹیڈیم میں 14 نومبر کو ہوگی جس میں شرکا کو موسیقی کے ساتھ رقص کا تڑکا بھی ملےگا، 3 گھنٹے کی یہ تقریب شائقین کرکٹ کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کرے گی اور ابوظہبی ٹی 10 لیگ کی افتتاحی تقریب کو چارچاند لگائے گی تقریب کے اگلے روز پہلا ٹاس ہوگا۔

افتتاحی میچ دفاعی چیمپیئن نادرن وارئیر، مراٹھا عریبین کے خلاف کھیلے گی، گلوکارعاطف اسلم نے ابوظہبی ٹی10 لیگ میں پرفارم کرنے پر مسرت کا اظہارکیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بہت خوشی محسوس کررہے ہیں کہ انہیں اپنے نئے پرستاروں کے سامنے فن کا مظاہرہ کرنے کا موقع مل رہا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ افتتاحی تقریب کرکٹ پرستاروں کو اپنی جانب متوجہ کرے گی اور انہیں اعلیٰ درجے کی تفریح مہیا کرے گی۔

16 سالہ نسیم شاہ نے ڈومیسٹک کرکٹ میں تہلکہ مچادیا

فیصل آباد: دورہ آسٹریلیا کیلیے قومی ٹیسٹ سکواڈ میں جگہ بنانے والے پیسر نے ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ فارم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے سندھ ٹیم کے دفاع میں گہرے شگاف کئے ہیں۔

قائداعظم ٹرافی فرسٹ الیون ٹورنامنٹ کے اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں کھیلے جانے والے میچ میں ان کی ٹیم سینٹرل پنجاب 313 رنز بنانے میں کامیاب ہوئی تھی جواب میں منگل کو سندھ نے 72 پر 4 وکٹیں گنوائیں۔

ہیڈ کوچ وچیف سلیکٹر مصباح الحق کی طرف سے کینگروز کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کا سپرائز پیکیج قرار دیئے جانے والے 16سالہ نسیم شاہ نے تجربہ کار بیٹسمینوں خرم منظور(10)، عابد علی(3) اور عمیر بن یوسف(33) کو پویلین کی راہ دکھائی، اسد شفیق(5) کو فہیم اشرف نے پویلین بھیجا، فواد عالم(78) اور سعد علی(60) نے124 رنز کی ناقابل شکست شراکت سے ٹیم کو سہارا دیتے ہوئے ٹوٹل 4 وکٹ پر 196تک پہنچایا،۔

میچ کے چوتھے روز نسیم شاہ نے مزید 3 شکار کئے، پیسر نے فواد عالم کی اننگز 92 پر تمام کرنے کے بعد سابق کپتان سرفراز احمد اور سہیل خان کو کھاتہ کھولنے کی بھی مہلت نہیں دی، میچ میں انہوں نے 19 اوورز میں 78 رنز دیکر 6وکٹیں حاصل کیں جس کی وجہ سے سندھ کی ٹیم 256 تک محدود رہی۔ دورہ آسٹریلیا سے قبل نسیم شاہ کی عمدہ فارم کو خوش آئند قرار دیا جارہا ہے۔

سرفراز احمد نے دوبارہ سندھ ٹیم کی قیادت سنبھال لی

کراچی: پاکستان ٹیم کی قیادت سے ہٹائے جانے کے بعد سرفراز احمد نے دوبارہ سندھ ٹیم کی قیادت سنبھال لی ہے۔

اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں سندھ اور سینٹرل پنجاب کی ٹیمیں آمنے سامنے ہیں، جہاں ایک بارپھر سرفراز احمد بطور قائد اپنی ذمہ داریاں نبھار ہے ہیں۔ اس سے پہلے انہوں نے کپتانی  کے پریشر کی وجہ سے بطوروکٹ کیپر کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم کرکٹ بورڈ کی جانب سے ان کی جگہ بابراعظم کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا کپتان اور اظہرعلی کو ٹیسٹ  اسکواڈ کی قیادت دینے کے بعد سرفراز احمد کو دورہ آسٹریلیا سے بھی ڈراپ کردیا گیا تھا۔

سرفراز احمد نے اب ساری توجہ ڈومیسٹک کرکٹ پر مرکوز کردی ہے، وہ سندھ ٹیم کے قیادت کرنے کے ساتھ بطور پرفارمر سلیکٹرز کی توجہ حاصل کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ سرفراز احمد کے ساتھ اس میچ میں اسد شفیق نائب کپتان ہیں۔

شاداب خان کی فارم بدستور پاکستان کیلیے باعث تشویش

سڈنی: ہیڈ کوچ کا کہنا ہے کہ شاداب خان کی فارم بدستور پاکستان کیلیے باعث تشویش ہے۔

سڈنی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران لیگ اسپنرعثمان قادر کی شمولیت کے سوال پر مصباح الحق نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے شاداب خان پر انحصار کر رہے تھے، وہ تھوڑا  آؤٹ آف فارم ہیں، ڈومیسٹک کرکٹ میں مزید لیگ اسپنرز تلاش کر رہے تھے، 3، 4 نظروں میں آئے، ان میں سے عثمان قادر کو آسٹریلیا میں کھیلنے کا تجربہ پیش نظر رکھتے ہوئے منتخب کیا۔

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ عثمان قادر کی قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں کارکردگی بھی اچھی رہی، نوجوان سپنر گوگلی اور فلپر سمیت بولنگ کے ہتھیاروں سے مزین ہیں جب کہ شاداب خان کی فارم بدستور پاکستان کیلیے باعث تشویش ہے۔

آسٹریلیا کی کنڈیشنز ہمیشہ ایشیائی ٹیموں کیلیے مشکل ثابت ہوتی ہیں، مصباح الحق

سڈنی: قومی کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کی کنڈیشنز ہمیشہ ہی ایشیائی ٹیموں کے لیے مشکل ثابت ہوتی ہیں۔

سڈنی میں مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے کہا ہے کہ آسٹریلیا کی کنڈیشنز ہمیشہ ہی ایشیائی ٹیموں کے لیے مشکل ثابت ہوتی ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ نوجوان کرکٹرز کے لیے اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا بہترین موقع بھی ہے، پاکستان کی پیس بیٹری میں نوجوان مگر پرجوش بولرز شامل ہیں، اچھی کرکٹ کھیلتے ہوئے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، یہاں کی پچز اور کنڈیشنز مختلف ہیں، ان سے مطابقت پیدا کرتے ہوئے مطلوبہ نتائج حاصل کریں گے۔

مصباح الحق نے کہا کہ پاکستانی قوم اور شائقین نوعمر محمد موسی کو ایکشن میں دیکھنے کے منتظر ہیں، امید ہے کہ وہ یہاں اپنی افادیت ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے، وہ ہمارا سرپرائز پیکج ثابت ہوسکتے ہیں، ہمیں تینوں شعبوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، پاکستان کو ناقابل یقین ٹیم قرار دیئے جانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ چیز ہمارے لئے پریشانی کا باعث ہے تو آسٹریلیا کے لیے بھی خطرے کی علامت ہوگی۔

مصباح کو پی ایس ایل میں کام نہ کرنے دیں، فرنچائزز کا مطالبہ

کراچی: مصباح الحق کو پی ایس ایل میں کام نہ کرنے دیں،کئی فرنچائزز نے بورڈ سے مطالبہ کر دیا، ان کا کہنا ہے کہ اگر قومی ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کو اجازت دی تو یہ مفادات کا ٹکراؤ کہلائے گا۔

پی ایس ایل کی کم از کم چار فرنچائزز نے پی سی بی سے مطالبہ کیاکہ مصباح الحق کو کسی ٹیم کے ساتھ منسلک نہ ہونے دیا جائے، قومی ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کو اگر لیگ میں خدمات انجام دینے کی اجازت ملی تو یہ مفادات کے ٹکراؤ والی بات ہو گی، گزشتہ دنوں جس میٹنگ میں قومی کرکٹرز کی ڈرافٹ کیلیے کیٹیگریز  طے ہوئیں وہیں یہ معاملہ بھی اٹھایا گیا۔

اجلاس میں موجود پی ایس ایل کے ہیڈ آف پلیئرز ایکویسیشن اینڈ مینجمنٹ عمران احمد خان سے کہا گیا کہ وہ فوری طور پر فرنچائزز کے تحفظات سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کریں۔

واضح رہے کہ مصباح ابتدا میں معاوضے اور پی ایس ایل میں کام کی اجازت پر تنازع  کی وجہ سے ہی بورڈ سے معاہدہ نہیں کر رہے تھے، بعد میں یہ مسئلہ حل ہو گیا، سابق چیف سلیکٹر انضمام الحق کو گزشتہ برس ڈرافٹ کمیٹی سے یہ کہہ کر الگ کردیا گیا تھا کہ اس سے مفادات کے ٹکراؤ والا معاملہ سامنے آئے گا، انضمام ایک فرنچائز کیلیے بھی کام کر رہے تھے، سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر اور سابق بولنگ کوچ اظہرمحمود بھی ایک ٹیم سے منسلک تھے۔

اس وقت چیئرمین بورڈ احسان مانی نے کہا تھا کہ ان کے دور میں معاہدے نہیں ہوئے اس لیے ابھی تو کچھ نہیں کر سکتے، البتہ اگلے برس قومی ٹیم  سے منسلک کسی آفیشل کو لیگ میں کام نہیں کرنے دیں گے۔

فرنچائزز نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ احسان مانی خود اپنی کہی ہوئی بات بھول گئے اور مصباح کے معاملے میں نئی روایت قائم کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق کپتان کی خدمات حاصل کرنے میں کم سے کم 2ٹیموں کو دلچسپی ہے البتہ حتمی فیصلہ تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

جاوید میانداد پی سی بی میں من مانیوں پر برس پڑے

لاہور: سابق کپتان جاوید میانداد پی سی بی میں من مانیوں پر برس پڑے، انھوں نے مصباح الحق کے تقرر پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ فیصلے کرنے والوں کو کرکٹ کا علم نہیں، جہاں جس کی مرضی، وہ منتخب ہورہا ہے۔

ایک ٹی وی شو میں بات چیت کے دوران جاوید میانداد نے کہا کہ مصباح الحق کو ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر بنانا درست نہیں،فیصلے کرنے والوں کو کرکٹ کا علم ہی نہیں،تعلیم نہیں اس کھیل میں تجربہ دیکھنا چاہیے، سینئرز سے سیکھیں تو پرفارمنس بولتی ہے،جہاں جس کی مرضی وہ منتخب ہورہا ہے، ساری پیسے کی بات ہے،آئی سی سی ورلڈکپ کا ریونیو دینا بند کردے تو کوئی چیئرمین پی سی بی نہیں بنے گا۔

احسان مانی کا کرکٹ میں تجربہ ہونے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ میں انھیں 1995سے جانتا ہوں، وہ اکاؤنٹنٹ تھے اور میں ان کو میچ کے ٹکٹ دیتا تھا،انھوں نے کاؤنٹی کرکٹ تک نہیں کھیلی۔

دوسری جانب صادق محمد، مشتاق محمد، ماجد خان اور ظہیر عباس جیسے کرکٹ کو اپنی زندگیاں دینے والے لوگ اب کہاں ہیں، اسی شو میں موجود محسن خان نے کہا کہ احسان مانی خود انٹرنیشنل کرکٹ تو نہیں کھیلے لیکن آئی سی سی کے سربراہ رہ چکے اور ایک باوقار شخصیت ہیں،اس پر جاوید میانداد نے کہا کہ وہ اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ اور ہیں۔

ایک سوال پر سابق کپتان نے کہا کہ سرفراز احمد کے ساتھ ناانصافی ہوئی،انھیں کپتانی سے ہٹا دیتے تب بھی بطور وکٹ کیپر ٹیم میں جگہ بنتی تھی، میری سمجھ سے باہر ہے کہ انھیں کیوں نکالا؟ یاد رہے کہ پی سی بی نے  دورئہ آسٹریلیا کیلیے سرفراز احمد کی جگہ ٹی ٹوئنٹی میں بابر اعظم اور ٹیسٹ میں اظہر علی کو کپتان مقرر کیا ہے۔

بھارت پاکستانی ویمنزکرکٹ ٹیم کی میزبانی سے گریزاں

ممبئی: بھارت نے پاکستانی ویمنز ٹیم کی میزبانی سے انکار کا ذہن بنالیا، حکومت کی جانب سے اجازت نہ ملنے کو جواز بناکر آئی سی سی سے پوائنٹس دونوں ٹیموں میں ’شیئر‘ کرنے کی درخواست کی جائے گی۔

بھارت نے 2016 میں پاکستانی ویمنز ٹیم کے ساتھ ورلڈ کپ 2017 کیلیے راؤنڈ 6 میچز کھیلنے سے انکار کیا تھا، جس پر آئی سی سی نے تمام دستیاب پوائنٹس گرین شرٹس کو دے دیے تھے، اب ایک بار پھر بھارت کو پاکستان ویمنز ٹیم کی آئندہ ماہ میزبانی کرنی ہے،بورڈ اس سیریز سے جان چھڑانے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔

ایک بھارتی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی سی سی آئی نے حال ہی میں حکومت سے پاکستانی ویمنز ٹیم کی نومبر کے آخر میں میزبانی کیلیے اجازت مانگی تھی مگر وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا، اس لیے اب آئی سی سی کو خط لکھا جائے گا کہ حکومت سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے وہ سیریز کھیلنے سے قاصر ہیں لہذا پوائنٹس دونوں ٹیموں میں شیئر کردیے جائیں۔

دوسری جانب آئی سی سی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم اپنے ممبر بورڈز کی جانب سے اس حوالے سے کچھ سننے کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ آپس میں سیریز کھیلنا چاہتے ہیں یا نہیں، اگر کوئی ایک یہ کہے کہ وہ یہ سیریز حکومت کی اجازت نہ ملنے پر نہیں کھیل سکتا تو پھر اسے اپنی حکومت کی جانب سے ایک خط پیش کرنا ہوگا جس میں سیریز کی میزبانی نہ کرنے کی وجہ بتانا ہوگی، یہ لیٹر آئی سی سی کی ٹیکنیکل کمیٹی کو پیش کیا جائے گا جویہ فیصلہ کرے گی کہ پوائنٹس دونوں میں شیئر کیے جائیں یا پھر ایک ہی ٹیم کو ایوارڈ کردیے جائیں۔

یاد رہے کہ بی سی سی آئی کے نئے صدر ساروگنگولی پہلے ہی کہہ چکے کہ پاکستان سے سیریز کا فیصلہ حکومت کو کرنا ہوگا، وہ اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتے۔

 

Google Analytics Alternative