بین الاقوامی

بھارت میں مون سون بارشوں اور سیلاب سے 774 افراد ہلاک

نئی دہلی: بھارت کی 7 ریاستوں میں مون سون بارشوں نے سیلابی ریلے کی صورت اختیار کرلی جس کے نتیجے میں 774 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق برسات کے موسم  کے آغاز سے ہی موسلا دھار بارشوں نے 7 بھارتی ریاستوں کو جل تھل کر کے رکھ دیا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ برکھا رُت میں آنے والے بادلوں نے جیسے ڈیرے ہی ڈال دیئے تھے۔ مسلسل بارشوں سے ڈیم میں پانی کی سطح بلند ترین حد سے تجاوز کرنے کے سبب ڈیم کے دروازے کھولنے پڑے جس سے ہلاکتوں اور مالی نقصان میں اضافہ ہوا۔

وزارت داخلہ کے شعبے نیشنل ایمرجنسی ریسپونس سینٹر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مون سون بارشوں کے دوران کیرالہ میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا جہاں 187 افراد لقمہ اجل بن گے جب کہ  171 افراد یوپی میں، 170 مشرقی بنگال، مہاراشٹرا میں 139، گجرات میں 52 اور آسام میں 45 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ان ریاستوں میں زخمیوں کی تعداد 245 سے تجاوز کر گئی ہے، 27 افراد تاحال لاپتہ ہیں جب کہ صرف آسام میں 11 لاکھ 45 ہزار افراد بے گھر ہوئے اور 27 ہزار 5 سو ہیکٹر اراضی پر پھیلی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ محکمہ موسمیات نے اتر پردیش، کیرالہ اور تامل ناڈو سمیت 16 ریاستوں میں آئندہ دو دنوں میں شدید بارشوں سے متعلق ریڈ الرٹ جاری کردیا ہے جس میں لوگوں کو احتیاط برتنے اور چوکنا رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بھارت میں غیر معمولی بارشوں کی وجہ موسمی تغیر ہے، ماحولیاتی تبدیلیوں سے زمین کا درجہ حرارت ہی تبدیل نہیں ہو رہا بلکہ موسموں کی ترتیب اور انداز پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ایران نے ایک اور جدید میزائل کا کامیاب تجربہ کرلیا

ایران نے درمیانی رینج کے جدید بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا اور اپنی جوہری طاقت کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ کشیدگی کے دوران جدید بلیسٹک میزائل کا تجربہ کیا گیا ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی آئی آر آئی بی کا کہنا تھا کہ نئے میزائل فتح مبین کا ‘کامیاب تجربہ کیا گیا ہے’ جو زمین اور سمندر میں اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

وزیر دفاع امیر حاتمی نے مقامی خبر ایجنسی تسنیم کو انٹرویو میں کہا کہ ‘ہم اپنے عوام سے کیے گئے وعدے کے مطابق ملک کی میزائل کی صلاحیت کو بڑھانے کی کوشش کو کسی صورت کم نہیں ہونے دیں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم ہر روز اپنی میزائل کی طاقت میں اضافہ کریں گے’۔

نئے میزائل کی صلاحیت کے حوالے سے تفصیلات نہیں دی گئی ہیں لیکن امریکی سینٹر برائے اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق اس سے قبل تجربے سے گزرنے والے میزائل کا ہدف 200 سے 300 کلومیٹر تھا۔

امریکی عہدیداروں نے گزشتہ ہفتے فوکس نیوز کو بتایا تھا کہ ایران نے ہورموز کے علاقے میں نیول مشقوں کے دوران ‘فتح 110 میزائل’ کا تجربہ کیا ہے۔

ایرانی مشقوں کے حوالے سے ایک امریکی جنرل نے اپنے تبصرے میں کہا تھا کہ یہ مشقیں ایران کی جانب سے دھمکیوں کے بعد پابندیوں کے جواب میں پیغام کے طور کی گئی ہیں کہ وہ تیل کی گزرگاہ کو بند کر سکتا ہے۔

امیر حاتمی نے اس میزائل کے حوالے سے کہا کہ ‘اس کی بھرپور صلاحیت کے باعث کوئی چیز اس کو روک نہیں سکتی ہے اور یہ 100 فیصد مقامی طور پر بنایا گیا ہے’ جس میں تمام پہلووں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال مئی میں امریکی صدر ڈو نلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ 2015 میں ہونے والے تمام جوہری معاہدوں سے دست بردار ہونے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ایران اور امریکا کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔

ملائیشیا کا چین سے تجارتی معاہدے منسوخ کرنے کا اعلان

کوالا لمپور: ملائیشیا کے نو منتخب وزیراعظم مہاتیر محمد نے چین کے ساتھ اربوں ڈالر کے معاہدے منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشیا کے 93 سالہ وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ چین کے ساتھ سابق حکومت کے دور میں طے پانے والے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے منسوخ کر دیں گے۔ تاہم انہوں نے تجارتی معاہدوں کی منسوخی کے طریقہ کار کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا۔

وزیراعظم مہاتیر محمد نے اپنے پہلے دورہ چین سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ چین کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں، تاہم سابق وزیراعظم نجیب رزاق کی حکومت نے چین کے ساتھ تجارتی معاہدوں میں ملائیشیا سے زیادہ چین کے مفادات کا تحفظ کیا اس لیے اب فقط ایسے تجارتی معاہدے کیے جائیں گے، جو ملائیشیا کے مفاد میں ہوں گے اور جس سے ملائیشیا کے عوام کو فائدہ پہنچے۔

واضح رہے کہ چین نے ملائیشیا کی سابق وزیراعظم نجیب رزاق کے دورِ حکومت میں انفراسٹرکچر کے شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ نومنتخب وزیراعظم مہاتیر محمد کی جانب سے معاہدوں کی منسوخی کے اعلان پر چین کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

 

 

مصر، چرچ حملوں میں ملوث 6 خودکش بمبار گرفتار

قاہرہ: مصر کی سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب آپریشن کے دوران چرچ پر حملوں میں ملوث دو خواتین سمیت 6 خود کش حملہ آوروں کو حراست میں لے لیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق قاہرہ پولیس نے ہفتے کے روز چرچ پر کیے گئے ناکام حملے میں ملوث ملزمان کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے، گرفتاریاں انٹیلی جنس اداروں کے تعاون سے چھاپہ مار کارروائی کے دوران عمل میں آئیں۔

چھاپے کے دوران دہشت گردوں سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور آتش گیر مواد بھی برآمد ہوا ہے جب کہ خود کش حملوں میں استعمال ہونے والی 6 بارود سے بھری جیکٹس بھی برآمد ہوئی ہیں۔ گرفتاریاں ہفتے کے روز ایک چرچ پر ناکام حملے کے بعد عمل میں لائی گئیں۔

چرچ حملے کا مرکزی ملزم 29 سالہ عمر مصطفیٰ دہشت گرد سیل کا انچارج ہے اور تربیت یافتہ خود کش بمباروں کی کھیپ تیار کرنے کی ذمہ داری بھی اسی شخص کی ہے، عمر مصطفیٰ کے دہشت گرد سیل ہی کے ایک خود کش بمبار نے ہفتے کے روز ورجن میری کے چرچ پر ناکام حملہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ قالیوبیہ موسٹورڈ چرچ میں ہفتے کے روز منعقدہ ایک دعائیہ تقریب کو دہشت گرد نشانہ بنانے چاہتے تھے تاہم سیکیورٹی فورسز کے روکنے پر ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اُڑا لیا تھا۔ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے چرچ میں موجود لوگ محفوظ رہے تھے۔

بھارت میں استانی سے زیادتی کرنے والے پادریوں نے گرفتاری دے دی

کولام: بھارتی ریاست کیرالہ میں خاتون ٹیچر کو مسلسل ایک سال تک زیادتی کا نشانہ بنانے والے مزید 2 پادریوں نے خود کو قانون کے حوالے کر دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق شادی شدہ خاتون ٹیچر کو بلیک میل کر کے ایک سال تک مسلسل زیادتی کا نشانہ بنانے والے مزید دو پادریوں نے سرنڈر کر دیا ہے۔ ’فادر ابراہام ور گھیسے‘ نے تھرو ولا مجسٹریٹ کورٹ اور ’فادر جیسی جارج‘ نے کرائم برانچ آفس میں خود کو پیش کر دیا۔

قبل ازیں زیادتی کیس میں ملوث تیسرے ملزم فادر جانسن میتھیو کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا جا چکا ہے جب کہ چوتھے ملزم فادر جاب میتھیو نے کولام پولیس اسٹیشن میں خود گرفتاری دے دی تھی۔

خاتون ٹیچر نے مالن کارا آرتھوڈوکس چرچ میں ’کنفیشن‘ ( فادر کے سامنے غلطیوں کا اعتراف کرنے کا عمل) انجام دیا۔ تاہم چرچ کے پادریوں نے خاتون کے گناہوں کے اعتراف کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا اور ڈرا دھمکا کر کئی بار زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔

ٹیچر نے اپنے شوہر کو صورت حال سے آگاہ کیا جس پر مئی کے پہلے ہفتے میں خاتون ٹیچر کے شوہر نے باقاعدہ شکایت درج کرائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ آرتھوڈوکس چرچ کے 4 پادری اہلیہ کو مختلف اوقات میں زیادتی کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

چرچ نے شکایت موصول ہونے کے بعد چاروں پادریوں کو ذمہ داریوں سے سبکدوش کر کے مقدمے کا فیصلہ آجانے تک تمام اعزازات واپس لے لیے ہیں۔ اگر چاروں پادریوں پر جرم ثابت ہو گیا تو چرچ مستقل طور پر رکنیت ختم کرسکتا ہے۔

شام میں اسلحہ ڈپو میں دھماکا، 39 افراد جاں بحق

ادلب: شام کے صوبے ادلب میں دھماکے سے دو رہائشی عمارتیں زمین بوس ہونے کے نتیجے میں کم از کم 39 افراد جاں بحق ہوگئے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق شام کے شمال مغربی صوبے ادلب کے علاقے سرمادا میں واقع اسلحہ ڈپو میں اچانک دھماکا ہوا نتیجے میں دو اونچی عمارتیں منہدم ہوگئیں، تباہ ہونے والی عمارتوں میں درجنوں افراد رہائش پذیر تھے جو ملبے تلے دب گئے۔

سیرین آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کم ازکم 39 افراد زندگی کی بازی ہارگئے، مرنے والوں میں 12 بچے اور کئی خواتین بھی شامل ہیں جب کہ کئی افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جس کے باعث اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ذخیرہ کیا گیا اسلحہ و بارود کس تنظیم یا گروہ کا تھا تاہم باغیوں کے زیر اثر علاقہ ہونے کی وجہ سے امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ شامی حکومت سے لڑنے والے گروہوں کا ہوسکتا ہے۔

غزنی میں شدید لڑائی جاری، 3 روز کے دوران 80 افغان اہلکار ہلاک

کابل: افغان شہر غزنی میں طالبان سے جاری جھڑپوں میں تین روز کے دوران 80 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے افغان آرمی چیف کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند عام شہریوں کے گھروں میں چھپے بیٹھے ہیں۔

صوبائی کونسل کے رکن ناصر احمد نے ایک بیان میں بتایا کہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق تین روز سے جاری شدید لڑائی میں 80 افغان سیکیورٹی اہلکار مارے گئے ہیں اور ان کی لاشوں کو غزنی سٹی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت غزنی میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، حملہ آوروں سے صرف افغان پولیس اور ملکی خفیہ ایجنسیاں نبرد آزما ہیں انہیں کسی آرمی کی مدد حاصل نہیں۔

دوسری جانب افغان آرمی چیف آف اسٹاف محمد شریف نے غزنی کی صورتحال پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ طالبان عسکریت پسندوں نے عام شہریوں کے گھروں میں پناہ لے رکھی ہے اور وہ شہریوں کے گھروں میں چھپے بیٹھے ہیں جن کی نشاندہی اور تلاش کے لیے شہریوں سے تعاون کی اپیل کی جاتی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہر کی اہم سرکاری تنصیبات کا کنٹرول حاصل کرلیا گیا ہے اور افغان فورسز طالبان کے کسی بھی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان کے اہم شہر غزنی پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان تین روز سے شدید لڑائی جاری ہے، طالبان سرکاری عمارتوں پر حملے کررہے ہیں جبکہ سیکیورٹی فورسز ان کے حملے ناکام بنانے کے لیے مسلسل کارروائیاں کررہی ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ حملہ آور ہونے والے طالبان کی تعداد سیکڑوں میں ہے جو جتھے بنا کر پولیس کی چوکیوں اور اہم تنصیبات پر حملہ کرکے ان کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ غزنی میں شدید لڑائی کے باعث نظام زندگی معطل ہوچکا ہے رابطے منقطع ہونے کے باعث مصدقہ خبر سامنے نہیں آرہی تاہم دونوں فریقین کا کہنا ہے کہ غزنی ان کے کنٹرول میں ہے لیکن اس کی تصدیق فی الوقت ممکن نہیں۔

امید ہے عمران خان کی حکومت خطے کو محفوظ بنانے کیلیے کام کرے گی،مودی

نئی دلی: بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے کہا ہے کہ امید ہے کہ  عمران خان خطے کو دہشت گردی سے محفوظ بنانے کے لیے کام کریں گے۔ 

بھارتی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں  نریندرا مودی نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی  کہ پاکستان کی نئی حکومت خطے کو دہشت گردی سے پاک، محفوظ، مستحکم اور خوشحال بنانے کے لیے کام کرے گی۔

مودی کا  کہنا تھا کہ خطے میں قیام امن اور استحکام کے لیے پڑوسی ممالک کے ساتھ  خوشگوار تعلقات استوار کرنا بی جے پی کی ترجیحی پالیسی ہے جس پر ہم اپنی حکومت کے پہلے روز سے ہی عمل پیرا ہیں۔

بھارت میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں بے گناہ افراد کی ہلاکتوں پر نریندرا مودی کا کہنا تھا کہ یہ نہایت افسوسناک امر ہے جس کی سخت الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔ میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ مشتعل ہجوم کا کسی کو بھی قتل کردینا سنگین جرم ہے، اس کے سدباب کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں قانون سازی کر رہے ہیں۔

آسام میں لاکھوں افراد کو شہریت سے محروم کردینے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خالص قانونی معاملے کو اپوزیشن جماعت منفی سیاست کی بھینٹ چڑھا رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی پر نفرت آمیز اور متعصبانہ پالیسی کا الزام دھرنے والی کانگریس نے ہی 1972 اور 1985 میں  غیر ملکی تارکین وطن کے حوالے سے قوانین وضع کیے تھے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر صرف ملکی قوانین پر عمل درآمد کروا رہی ہے۔ جس کے لیے ہم نے آسام میں موجود تارکین وطن کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے مکمل مواقع فراہم کیئے۔ جن تارکین وطن نے اپنی شہریت سے متعلق مصدقہ دستاویزات جمع کرائیں ان کی تجدید کردی گئی تاہم جن کے پاس شہریت کا کوئی ثبوت نہیں انہیں کیسے شہری تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

چینی صدر سے ہونے والی ملاقات کے حوالے سے  نریندرا مودی نے بتایا کہ اپنے دور حکومت کے دوران اب تک چین کے صدر شی جن پنگ سے کئی بار ملاقات کر چکا ہوں۔ حال ہی میں ووہان میں بے تکلف اور خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی جس میں طے پایا تھا کہ خطے میں امن ، ترقی اور خوشحالی کے لیے باہمی تعلقات کے امکانات کو ڈھونڈا جائے گا۔ دو گنجان آباد اور بڑے ہمسایہ ممالک ایک دوسرے سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔

Google Analytics Alternative