بین الاقوامی

ایران کا طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کا کامیاب تجربہ

تہران: ایران نے طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

ایرانی وزیر دفاع امیر حاتمی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ہویزا کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔

امیر حاتمی کے مطابق 12 سو کلو میٹر تک مار کی صلاحیت کے میزائل نے کامیابی سے ہدف کو نشانہ بنایا۔

ایرانی وزیر دفاع نے بتایا کہ میزائل نچلی سطح پر پرواز کر کے ساکت اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

خیال رہے کہ ایران کے پاس 2000 کلو میٹرتک اہداف کو نشانہ بنانے والے میزائل موجود ہیں۔

روس نے بھی میزائل معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کردیا

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی امریکا کے فیصلے کے فوری بعد ردعمل دیتے ہوئے دہائیوں پہلے سرد جنگ کے دوران کیے گئے میزائل معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ولادیمیر پیوٹن نے امریکا کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کے حوالے سے کہا کہ ‘ہمارے امریکی شراکت داروں نے اعلان کیا ہے کہ وہ معاہدے کو معطل کررہے ہیں اور ہم بھی اپنی طرف سے معطل کرنے کا اعلان کرتے ہیں’۔

پیوٹن نے وزیرخارجہ سرگئی لاروف اور سرگئی شوئیگو سے ملاقات کے دوران کہا کہ روس بھی امریکا کے ساتھ اسلحے کی تخفیف کے لیے مزید مذاکرات کی کوشش نہیں کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اس وقت تک انتظار کریں گے جب تک ہمارے حصہ دار کے رویے میں اہم موضوع پر ہمارے ساتھ مساوی اور معنی خیز مذاکرات کے لیے پختگی نہیں آتی’۔

وزیرخارجہ سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ امریکا خود کئی برسوں سے معاہدے کی خلاف کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘روس نے سفارتی مذاکرات کے کئی مواقع پر معاہدے کو بچانے کے لیے تمام تر کوششیں کی’۔

یاد رہے کہ سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کی مداخلت پر سوویت یونین کے آخری رہنما میخائیل گوباچوف نے1987 میں روسی میزائل کے مسائل پر انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورس کا معاہدہ کیا تھا لیکن دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر طویل عرصے سے معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ 500 سے 5500 کے ہدف کے میزائل پر پابندی ہوگی جس میں واضح کیا گیا تھا کہ روسی میزائل مغربی ممالک کے دارالحکومتوں کو ہدف بنا رہے ہیں لیکن چین اور دیگر اہم طاقتوں کے حوالے سے کوئی حد مقرر نہیں کی گئی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کا صدر منتخب ہونے کے بعد گزشتہ برس اعلان کیا تھا کہ اگر روس اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کی تو معاہدے سے نکل جائیں گے اور یکم فروری 2019 کو اس کا باقاعدہ اعلان بھی کردیا۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ واشنگٹن 6 ماہ کے اندر معاہدے سے دست برداری کے منصوبے پر عمل شروع کررہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم چاہیں گے کہ ہر کسی کو ایک بڑا اور اہم حصہ ملنا چاہیے اور ایک نیا معاہدہ ہو لیکن امریکا کو نقصان میں نہیں رکھ سکتے’۔

امریکا کے دسمبر میں روس کو متنبع کرتے ہوئے 60 روز کی ڈیڈ لائن دی تھی کہ وہ میزائلوں کو غیر موثر کر دے کیونکہ یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب روس کا موقف تھا کہ معاہدے کے تحت 9ایم729 میزائل کی اجازت ہے اور روسی وزارت دفاع نے گزشتہ ماہ صحافیوں اور غیرملکی فوجی اتاشیوں کو اسلحے کے نظام کے حوالے سے آگاہ کرنے کے لیے دعوت دی تھی۔

امریکا نے فلسطین میں امدادی سرگرمیاں بند کردیں

غزہ: امریکی امدادی ادارے یو ایس ایڈ نے فلسطینی علاقوں میں امدادی سرگرمیاں بند کر دی ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے بین الاقوامی امدادی ادارے یو ایس ایڈ نے فلسطینی علاقوں مغربی کنارے اور غزہ پٹی پر ہر قسم کی امدادی سرگرمیوں کے سلسلے کو روک دیا ہے۔

امریکی حکام کا موقف ہے کہ امدادی سرگرمیوں کی بندش فلسطینی اتھارٹی کی درخواست پر کی گئی ہے اور اب تک ایسے شواہد نہیں ملے کہ یو ایس ایڈ مستقل بنیادوں پر سرگرمیاں بند کر رہا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے یو ایس ایڈ کی سرگرمیاں بند ہونے پر کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا گیا ہے تاہم مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر امدادی کیمپ میں سرگرمیان ماند پڑگئی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں امریکی حکومت نے فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ’ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی‘ (UNRWA) کی مالی امداد مکمل طور پر ختم کر دی تھی۔

امریکا میں شدید سردی کے باعث اموات کی تعداد 21 ہوگئی

واشنگٹں: امریکا میں تاریخ کا سرد ترین موسم ریکارڈ کیا گیا جہاں پارا منفی 30 تک گر گیا جب کہ شدید سرد موسم کے باعث مختلف ریاستوں میں اموات کی تعداد 21 ہوگئی۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکامیں شدید برفباری کی وجہ سے لوگ گھروں تک محدود ہوکر رہ گئے اور ہزاروں افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوگئے جب کہ ٹھنڈ کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 21 ہوگئی۔

برفیلی ہواؤں کے باعث صرف ایک روز کے دوران شکاگو میں مزید 9 اموات ہوئیں، الی نوائے میں برفیلی ہوا کا شکار معمر شخص گھر کے دروازے پر دم توڑ گیا جب کہ ریاست انڈیانا میں گاڑی برف میں دھنسنے سے نوجوان جوڑا موسم کی شدت سے ہلاک ہوگیا۔

اسی طرح شکاگو میں برفیلے طوفان سے ایک شخص ہلاک، ملواکی میں ایک شخص گیراج میں منجمد ہوگیا، سرد ہواؤں کی زد میں آکر ڈیٹرائٹ میں 70 برس کا شخص پڑوسی کے دروازے پر دم توڑ گیا۔

خون جماتی سرد ہوا کا شکار یونیورسٹی آف آئیوا کے طالبعلم کی لاش ہال سے برآمد ہوئی جب کہ مشی گن میں بھی عمر رسیدہ شخص سرد ہواؤں کا سامنا نہ کرسکا جس کی لاش محلے سے برآمد ہوئی۔

 ریاست آئیوا میں درجہ حرارت منفی 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا اور خراب موسم کی وجہ سے 2 ہزار 300 پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔

کئی ریاستوں میں آبی ذخائر جم گئے، مشی گن اور منی سوٹا میں گیس کی قلت پیدا ہوگئی جب کہ آئیوا اور ونسکونسن میں بجلی کا بحران پیدا ہوگیا۔

جنوبی کوریا میں سابق گورنر کو جنسی زیادتی پر 3 سال قید کی سزا

سیئول: جنوبی کوریا میں سابق گورنر آن ہی جنگ کو جنسی زیادتی کے کیس میں ساڑھے تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریا کے سابق گورنر آن ہی جنگ کو اپنی سیکریٹری کِم جی یون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے پر عدالت نے ساڑھے 3 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

گزشتہ برس مارچ میں سابق گورنر کی سیکریٹری نے ایک ٹیلی وژن چینل کے لائیو پروگرام میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ  انہیں 8 ماہ کے دوران 4 بار ہوس کا نشانہ بنایا گیا اور ایسا گورنر ہاؤس میں دیگر لڑکیوں کے ساتھ بھی کیا گیا۔

سیکریٹری کے الزامات کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی نے گورنر کو پارٹی سے نکال دیا تھا، گورنر آن ہی جنگ نے پارٹی کا فیصلہ قبول کرتے ہوئے گورنر کے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔ گورنر آن ہی جنگ نے زیادتی کی شکار سیکرٹری سے معذرت بھی کی تھی۔

تاہم یہ معاملہ مقامی عدالت تک جا پہنچا تھا جہاں گورنر کو ساڑھے تین سال قید کی سزا سنادی گئی۔ گورنر نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے شواہد مٹادیئے تھے اس لیے کم سے کم سزا ہوئی۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی سے مزید 2 کشمیری شہید

سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے مزید دو کشمیریوں کو شہید کردیا ہے جس کے بعد نہتے مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں قابض بھارتی فوج نے  گھر گھر تلاشی لی اور چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا، بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کی آڑ میں 2 شہریوں کو شہید کردیا۔ واقعے کے بعد نہتے عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی جنہیں روکنے کے لیے بھارتی فوج اور کٹھ پتلی انتظامیہ نے طاقت کا استعمال کیا۔ اس کے علاوہ علاقے کی صورت حال اور عوامی غم و غصے کی لہر سے متعلق خبروں کو دبانے کے لیے موبائل اور انٹر نیٹ سروس بھی معطل کردی گئی ہے۔

دوسری جانب آل پارٹیز حریت کانفرنس نے بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کے دورہ کشمیر کے دوران مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دے دی ہے۔

گزشتہ 71 برس سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط کے خلاف جدو جہد آزادی جاری ہے۔ گزشتہ 20 برسوں میں 95 ہزار سے زائد شہری شہید کئے جاچکے ہیں جن میں سے 7 ہزار 100 سے زائد نے دوران حراست جام شہادت نوش کیا ہے، اس کے علاوہ بھارتی درندوں نے 11 ہزار سے زائد خواتین کی عصمتیں تار تار کی ہیں۔

تجارتی تناؤ پر امریکی صدر کا چینی ہم منصب سے ملاقات کا فیصلہ

واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجارتی تناؤ کے خاتمے اور معاشی معاہدوں پر عمل درآمد لیے اپنے چینی ہم منصب سے جلد ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ برس امریکا اور چین کے درمیان شروع ہونے والی معاشی جنگ رواں برس اپنے منطقی انجام تک پہنچتی نظر آرہی ہے۔ تازہ پیشرفت میں صدر ٹرمپ نے اپنے چینی ہم منصب سے جلد ملاقات کا عندیہ دیا ہے۔

امریکی صدر نے چینی ہم منصب سے ملاقات کا فیصلہ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے کامیاب اجلاس کے بعد کیا۔ صدر ٹرمپ چین کے صدر سے ملاقات کے دوران معاشی تناؤ کے خاتمے اور تجارتی معاہدوں کی پاسداری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

قبل ازیں واشنگٹن میں ہونے والے چین اور امریکا کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کو فریقین نے راست، موثر اور نفع بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی دو بڑی معاشی قوتوں کو تنازعات کے جلد از جلد حل کے لیے لائحہ عمل طے کرنا ہوگا جو خطے میں امن اور استحکام کی ضمانت ہو۔

واضح رہے کہ امریکا اور چین کے درمیان جاری معاشی جنگ کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی درآمدی اشیاء پر ٹیکس کی شرح میں بے پناہ اضافہ کردیا تھا جب کہ حال ہی میں امریکی درخواست پر موبائل کمپنی ہواوے کے سربراہ کی گرفتاری نے تنازع میں اضافہ کردیا ہے۔

سعودی عرب میں کرپشن کیخلاف کریک ڈاؤن ختم، اشرافیہ سے 106 بلین ڈالر کی ریکوری

ریاض: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے معاشی اصلاحات اور کرپشن کے خلاف شروع کی گئی مہم ختم کردی گئی جب کہ کریک ڈاؤن کے دوران اشرافیہ سے 106 بلین ڈالر سے زائد کی رقم وصول کی گئی۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے نومبر 2017 میں کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جس کے دوران کھرب پتی شہزادہ ولید بن طلال سمیت کئی شہزادوں، وزرا اور نامور شخصیات کو حراست میں لیا گیا اور ان سے ڈیل کے بعد 106 بلین ڈالر سے زائد کی رقم وصول کی گئی۔

سعودی عرب کی شاہی عدالت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کرپشن کے خلاف مہم کے دوران حکام نے 381 افراد کو طلب کیا جس میں سے 87 نے الزامات تسلیم کیے اور ایک معاہدے کے بعد معاملات طے پائے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ڈیل کے نتیجے میں ملزمان کی جائیداد، کمپنیوں اور نقد رقوم سمیت دیگر اثاثے ضبط کیے گئے۔

شاہی عدالت کے مطابق پبلک پراسیکیوٹر نے 56 افراد پر فوجداری مقدمات ہونے کے باعث ڈیل کرنے سے انکار کردیا جب کہ 8 ملزمان نے کرپشن کے الزامات سے انکار کرتے ہوئے مقدمات کا سامنا کرنے پر رضا مندی ظاہر کی۔

شاہی عدالت کے نئے فرمان کے بعد وہ افراد جنہیں حراست میں لیا گیا تھا اور ان پر فرد جرم عائد نہیں ہوئی تھی، انہیں آزاد کردیا گیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ اُن پر عائد سفری پابندی، منجمد اکاؤنٹس کی بحالی کے علاوہ الیکٹرانک مانیٹرنگ اٹھائی گئی یا نہیں۔

تاجر برادری میں پائی جانے والی گرفتاریوں کی تشویش کے باوجود کرپشن کے خلاف مہم جس طرح اچانک شروع ہوئی اسی طرح ختم بھی کردی گئی۔

کرپشن کے خلاف مہم کے ابتدائی تین ماہ کے دوران حراست میں لیے گئے سیاسی و تاجر اشرافیہ کو پہلے ریاض کے ریش کارلٹن ہوٹل میں رکھا گیا جس کے بعد چند کو بعدازاں جیل منتقل کیا گیا۔

بعض ناقدین اسے شہزادہ محمد بن سلمان کی طاقت کا کھیل قرار دیتے ہیں تاہم شہزادہ محمد بن سلمان کرپشن کے خلاف مہم کو شاک تھراپی قرار دیتے آئیں گے اور اسے معاشی اصلاحات و ملکی معیشت کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی فرماںروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے حکم پر کرپشن کے الزام میں موجودہ اور سابق وزراء سمیت کئی شہزادوں کو اینٹی کرپشن کمیٹی نے گرفتار کیا، جس کے سربراہ 32 سالہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان تھے۔

گرفتار کیے جانے والے افراد میں کھرب پتی شہزادہ ولید بن طلال، بن لادن گروپ کے چیئرمین بکر بن لادن، سرمایہ کار محمد العمودی، این بی سی گروپ کے مالک الولید البراہیم، ریاض کے سابق گورنر شہزادہ ترکی بن عبداللہ بھی شامل تھے۔

گرفتار افراد میں سابق نائب وزیر دفاع شہزادہ فہد بن عبداللہ، سابق سربراہ محکمہ موسمیات شہزادہ ترکی بن ناصر اور شہزادہ مطعب بن عبداللہ، سابق گورنر ساجیا عمرو الدباغ، سابق وزیر اقتصادی منصوبہ بندی عادل فقیہ، سابق وزیر خزانہ ابراہیم العساف، سابق سربراہ ایوان شاہی، خالد التویجری اور محمد الطبیشی اور بحریہ کے سابق ڈائریکٹر خالد الملحم شامل تھے۔

Google Analytics Alternative