بین الاقوامی

افغانستان: فورسز کے آپریشن میں 17 شہری جاں بحق

افغانستان کے مشرقی صوبے نگرہار میں افغان فروسز کے آپریشن کے دوران 17 شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔

خاما نیوز کی رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت کے میڈیا آفس نے تصدیق کی ہے کہ افغان فورسز کے آپریشن کے دوران ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد چیئرمین سینیٹ فضل ہادی مسلمیار کے رشتہ دار ہیں۔

صوبائی حکومت نے واقعے کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

صوبے کے گورنر حیات اللہ حیات نے واقعے کو تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے اس کی فوری تحقیقات پر زور دیا۔

دوسری جانب طلوع نیوز کی رپورٹ کے مطابق صوبائی گورنر کے ترجمان عطاء اللہ نے تصدیق کی ہے کہ آپریشن ضلع چپرھار کے علاقے دولتزئی میں کیا گیا تھا تاہم انہوں نے واقعے میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد 9 بتائی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہلاک ہونے والوں میں ایک مقامی پولیس کمانڈر اور سینیٹ چیئرمین فضل ہادی مسلمیار کا ایک رشتہ دار بھی شامل ہے جبکہ دیگر 8 شہری زخمی ہوئے‘۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ زخمیوں میں ایک خاتون اور ایک لڑکی بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ طالبان نے دعویٰ کیا کہ فورسز کے آپریشن میں جاں بحق ہونے والے تمام شہری سینیٹ چیئرمین فضل ہادی کے رشتہ دار تھے۔

یاد رہے صوبہ نگر ہار کے بیشتر علاقے پر طالبان اور داعش کے جنگجو قابض ہیں جبکہ یہاں آئے روز افغان فورسز کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشنز کیے جاتے ہیں۔

حکومتی مذاکرات کی ناکامی کے بعد اٹلی سیاسی بحران کا شکار

اٹلی میں عوامی جماعتوں کی اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کے باعث صدر کی جانب سے سادگی کے حامی ماہر معاشیات کی، الیکشن سے قبل ٹیکنوکریٹ حکومت چلانے کے لیے تقرری کے بعد ملک میں سیاسی افراتفری بڑھ گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق اٹلی کے صدر سرجیو ماتاریلا کی جانب سے یورپی یونین پر سخت تنقید کرنے والے پاؤلو ساوونا کی بطور وزیر معاشیات درخواست ویٹو کرنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ مخالف ’فائیو اسٹار موومنٹ‘ اور انتہائی دائیں بازو کی ’لیگ‘ طیش میں آگئیں اور انہوں نے اپنے نومنتخب وزیر اعظم کو حکومت بنانے سے روک دیا۔

53 سالہ وکیل اور سیاسی غیر تجربہ کار جوزپے کونٹے نے کہا کہ ’میں تبدیلی کی حکومت بنانے کے لیے اپنے مینڈیٹ سے دستبردار ہوگیا ہوں۔‘

نومنتخب وزیر اعظم کے اس فیصلے کے بعد اٹلی، مارچ میں ہونے والے غیر فیصلہ کن الیکشن کے تقریباً تین ماہ بعد سیاسی بحران کا شکار ہوگیا ہے۔

صدر سرجیو ماتاریلا کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاؤلو ساوونا کے علاوہ وزارتوں کے لیے تمام تجاویز منظور کرلی، کیونکہ ساوونا یورو کو ’جرمن پنجڑا‘ قرار دیتے ہیں اور ان کے مطابق اٹلی کو ’ضرورت پڑنے پر‘ ایک کرنسی کے استعمال سے نکلنے کی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔

فائیو اسٹار اور لیگ کے رہنماؤں لوئیجی ڈی مایو اور ماتیو سَلوینی نے صدر کے فیصلے کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی اور اسے جرمنی، ریٹنگ ایجنسیوں اور فنانشل لابیز کی مداخلت قرار دیا۔

سرجیو ماتاریلا نے پیر کے روز ماہر معاشیات اور عامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ رکھنے والے کارلو کوٹاریلی کو بات چیت کے لیے طلب کیا اور عارضی ٹیکنوکریٹ حکومت کی بھاگ دوڑ ان کے حوالے کی، جس کے بعد موسم خزاں میں اٹلی میں نئے انتخابات کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

64 سالہ کارلو کوٹاریلی آئی ایم ایف کے محکمہ مالی معاملات کے 2008 سے 2013 تک ڈائریکٹر رہ چکے ہیں اور اٹلی میں عوامی اخراجات میں کمی لانے کی وجہ سے ’مسٹر سیزرز‘ سے جانے جاتے ہیں۔

روم کے قریب اپنے حامیوں کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے فائیو اسٹار کے رہنما لوئیجی ڈی مایو کا کہنا تھا کہ ’کارلو کوٹاریلی کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے جدوجہد کرنی ہوئی، جہاں فائیو اسٹار اور لیگ کی اکثریت ہے۔‘

شام: داعش کا حملہ، روسی اہلکاروں سمیت 35 ہلاک

بیروت: شام میں موجود شدت پسند تنظیم داعش کے عسکریت پسندوں کی جانب سے شامی اور اس کی اتحادی فورسز پر تازہ حملوں میں روسی اہلکاروں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوگئے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس نام نہاد خلافت ختم ہونے کے بعد داعش نے شام کے چھوٹے علاقوں میں پناہ لی اور وہاں اپنا اثر قائم رکھا۔

شام میں موجود انسانی حقوق کے نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ داعش کی جانب سے گزشتہ ہفتے سے شامی فورسز کے مورچوں پر کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

انسانی حقوق کے نگراں ادارے کے مطابق صوبے دیر الزور کے علاقے المیادین میں داعش کے حملے میں 35 افراد ہلاک ہوئے جن میں 9 روسی بھی شامل تھے، تاہم تمام روسی باشندے فوجی نہیں تھے۔

ادھر روسی وزارتِ دفاع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ داعش کے حملوں میں ان کے 4 اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں جن میں 2 فوجی معاون موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ 2 اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گئے تھے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے شامی سرکاری اخبار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دمشق نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ امریکا کی تنبیہ کے باوجود باغیوں کے خلاف لڑائی جاری رکھیں گے۔

امریکا کا کہنا ہے اگر بشارالسد کی فورسز نے باغیوں کے خلاف کارروائی کا دوبارہ آغاز کیا تو واشنگٹن جنگ بندی معاہدے کی حفاظت کے لیے مضبوط اور مناسب اقدامات اٹھائے گا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں ایرانی صدر کی شرکت کا امکان

بیجنگ حکام کے مطابق ایرانی صدر اگلے ماہ ہم چینی اور روسی ہم منصب کے ہمراہ سمٹ میں شرکت کریں گے۔

چین، روس اور یورپی قوتوں نے 2015 میں ایران جوہری معاہدے پر دستخط کیے تھے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو منسوخ کرتے ہوئے ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا کہنا تھا کہ صدر شی جن پنگ ایران کے حسن روحانی سے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 9 – 10 جون کو ہونے والے اجلاس کے دوران ملاقات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں روسی صدر ولادمیر پیوٹن بھی شرکت کریں گے تاہم وزیر خارجہ نے جوہری معاہدے کو سمٹ کے ایجنڈا میں شامل ہونے کے حوالے سے نہیں بتایا۔

واضح رہے کہ بیجنگ جو ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے نے اشارہ دیا ہے کہ وہ امریکی اقدامات کے برعکس اسلامی حکومت کے ساتھ کام کرنے کا خواہشمند ہے۔

چینی سرمایہ کاروں سے امید کی جارہی ہے کہ وہ امریکی کمپنیوں کے ایران سے اخراج کے بعد وہاں اپنی تجارتی سرگرمیاں مزید بڑھائیں گے۔

خیال رہے کہ ایران ایس سی او کا مبصر رکن ہے جبکہ اس نے پوری رکنیت کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔

علاقائی بلاک جس میں 4 سابق سویت سینٹرل ایشین ریپبلکس اور دو نئے اراکین پاکستان اور بھارت شامل ہیں، خطے میں سیکیورٹی اور تجارت پر بحث کریں گے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس سمٹ میں 3 خطرناک فورسز سے لڑنے کے لیے 3 سالہ پلان پر بات کی جائے گی جس میں دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور شدت پسندی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چین شریک ممالک کے درمیان تجارت میں ریفارمز لائے گا جس سے ایس سی او رکن کی مارکیٹیں جڑ جائیں گی اور یہ عالمی آبادی کا 40 فیصد حصہ ہوگا۔

یاد رہے کہ چین کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق چین نے ایس سی او فری ٹریڈ ایریا کا خیال 2016 میں پیش کیا تھا تاہم وانگ نے یہ نہیں بتایا کہ کہ اسے ایجنڈا کا حصہ بنایا جائے گا یا نہیں۔

اٹلی کے صدر اور نومنتخب وزیراعظم کے درمیان محاذ آرائی، انتخابات کالعدم ہونے کا خدشہ

روم: اٹلی میں حکومت سازی کا عمل تعطل کا شکار ہے جس کی وجہ سے مارچ میں ہونے والے انتخابات کے کالعدم ہونے کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اٹلی کے صدر اور نو منتخب وزیراعظم کے درمیان کابینہ کی تشکیل میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں جس کے بعد نومنتخب وزیر اعظم نے حکومت سازی سے معذرت کرلی ہے۔ حکومت کی تشکیل کے لیے یہ تعطل جاری رہا تو حال ہی میں ہونے والے انتخابات کالعدم قرار دیئے جاسکتے ہیں اور پھر ازسر نو انتخابات کرانا ہوں گے۔

اٹلی کے صدر کی جانب سے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو  23 مئی کے دن حکومت سازی کی دعوت دی تھی جس پر نومنتخب وزیراعظم نے اپنی نئی کابینہ میں وزیر اقتصادیات کے لیے یورو اور جرمنی کے ناقد پاؤلو ساوونا کا نام تجویز کیا تھا جسے صدر سرجیو ماٹاریلا نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ وہ کابینہ میں یورو زون سے نکلنے کی بات کرنے والے کو قبول نہیں کرسکتے۔

واضح رہے کہ اٹلی کے صدر سرجیو ماٹاریلا نے گزشتہ برس 28 دسمبر کو منتخب حکومت کو تحلیل کردیا تھا جس کے بعد اٹلی میں 4 مارچ 2018ء کو عام انتخابات ہوئے تھے جس میں 630 چیمبرز آف ڈپٹیز اور 315 سینیٹ کے اراکین کا انتخاب عمل میں تھا جس کے بعد صدر کی جانب سے نو منتخب وزیراعظم کو حکومت سازی کی دعوت دی گئی تھی لیکن صدر اور نو منتخب وزیراعظم کے درمیان تناؤ کی کیفیت نے ازسرنو انتخابات کا راستہ ہموار کردیا ہے۔

برطانوی وزیرخارجہ بورس جانسن کو روسی مسخروں نے بیوقوف بنا دیا

 لندن: روس کے دو مزاحیہ اداکاروں نے آرمینیا کا وزیراعظم بن کر برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن سے 18 منٹ تک ٹیلی فون پر گفتگو کی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے دو مسخروں نے نقلی روپ دھار کر برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن کو بیوقوف بنا دیا۔ مسخروں نے ٹیلی فون کر کے خود کو آرمینیا کا وزیراعظم ظاہر کیا اور برطانوی وزیر خارجہ سے 18 منٹ تک ملکی و غیر ملکی حالات پر گفتگو کرتے رہے۔ دونوں مسخروں نے اس گفتگو کو ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر وائرل کردیا۔

سوشل میڈیا پر مزاحیہ آڈیو کال کے وائرل ہونے پر برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن کو حقیقت کا علم ہوا جس پر وزارت خارجہ کو سنگینی کا اندازہ ہوا اور اس پورے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے تاہم وزارت خارجہ نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کا بیان دینے سے گریز کیا ہے۔ تاحال دونوں مزاحیہ کرداروں کے مقاصد کا علم نہیں ہوسکا ہے۔

واضح رہے کہ الیکزی اسٹولیاروو (Alexei Stolyarov) اور ویلادی میر کزنیٹسوو (Vladimir Kuznetsov) دنیا کی اہم شخصیت کی ہو بہو آواز نکالنے اور اسی انداز میں گفتگو کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ اس سے قبل وہ خود کو روس کا صدر پیوٹن ظاہر کر کے معروف گلوکار ایلٹن جون سے گفتگو کر چکے ہیں۔ اسی طرح ایک مرتبہ یوکرائن کے صدر کی آواز میں ترکی صدر اردوان سے بھی بات چیت کرچکے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ کی 12 جون کو سنگاپور میں ملاقات کا امکان روشن

سیئول: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان کے درمیان 12 جون کو سنگاپور میں ملاقات کا امکان ایک مرتبہ پھر روشن ہوگیا۔

جنوبی کوریا کے صدر مون جے اُن نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے ملاقات کی جس کے بعد میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ شمالی کوریا کے سپریم لیڈر چاہتے ہیں کہ ان کی امریکی ہم منصب سے 12 جون کو سنگاپور میں ہونے والی ملاقات شیڈول میں مطابق ہو۔

مون جے اُن کا کہنا تھا کہ کم جونگ جانتے ہیں کہ ٹرمپ سے ملاقات کئی دہائیوں کے تصادم کے خاتمے کا تاریخی موقع ہے اور انہوں نے ملاقات کے دوران جنگ اور تصادم کے خاتمے کی خواہش کا اظہار کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کم جونگ ان امن اور خوشحالی کے لیے تعاون کرنا چاہتے ہیں، اگر ضرورت پڑی تو کم جونگ ان سے دوبارہ ملاقات پر اتفاق ہوا ہے۔

یاد رہے کہ شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان سربراہ ملاقات کے لیے جنوبی کوریا اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اسی سلسلے میں جنوبی کوریا کے سربراہ نے چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات کی تھی۔

Donald J. Trump

@realDonaldTrump

We are having very productive talks with North Korea about reinstating the Summit which, if it does happen, will likely remain in Singapore on the same date, June 12th., and, if necessary, will be extended beyond that date.

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا گزشتہ روز اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہنا تھا کہ 12 جون کی سنگاپور سمٹ سے متعلق معاملات اچھے چل رہے ہیں،اگر یہ ملاقات ہوئی تو اسی روز ہوگی اور اگر ضرورت پڑی تو اسے آگے بڑھا دیا جائے گا۔

The White House

@WhiteHouse

A letter from the President to Chairman Kim Jong Un: “It is inappropriate, at this time, to have this long-planned meeting.”

اس سے قبل 24 مئی کو وائٹ ہاؤس کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے نام لکھا گیا ایک خط جاری کیا جس میں دونوں ممالک کے سربراہ ملاقات کی منسوخی کا اعلان کیا گیا تھا۔

خط میں کہا گیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ان کے درمیان ملاقات کے لیے یہ مناسب وقت نہیں۔

اپنے خط میں ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کورین رہنما کم جانگ ان کو مخاطب کر کے لکھا تھا کہ آپ اپنی جوہری صلاحیتوں کے بارے میں بات کرتے ہیں لیکن ہمارے جوہری ہتھیار اتنے بڑے اور طاقتور ہیں کہ میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ انہیں کبھی استعمال کرنے کی ضرورت نہ پڑے’۔

قطر نے سعودیہ سمیت 4 ممالک کی اشیاء کی درآمد پر پابندی لگا دی

قطر نے سعودی عرب سمیت 4 ممالک کی اشیاء کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے۔

قطری حکام کی جانب سے جن ممالک کی اشیاء کی درآمد پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر شامل ہیں۔

قطری حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس کی اشیاء کو باقاعدہ جانچ پڑتال اور کسٹم کے طریقہ کار سے گزرنا پڑے گا۔

حکام کی جانب سے پابندی لگائے جانے کی وضاحت تو نہیں دی گئی لیکن یہ کہا گیا ہے کہ ان چاروں ممالک کی اشیاء کو جانچ پڑتال کے عمل سے گزرنا پڑے گا۔

مقامی میڈیا کے مطابق وزارت معیشت اور کامرس کی جانب سے تاجروں اور دکانداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ان چاروں ممالک کی اشیاء کی خرید و فروخت نہ کی جائے۔

پابندی کی زد میں آنے والے چاروں ملکوں نے جون 2017 سے قطر سے سفارتی اور سفری تعلقات منقطع کر رکھے ہیں۔

Google Analytics Alternative