بین الاقوامی

کابل حکومت کو علیحدہ رکھنے سے طالبان امن مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوں گے، افغان سفیر

 اسلام آباد: پاکستان میں تعینات افغان سفیر شکر اللہ عاطف مشعل نے کہا ہے کہ کابل حکومت کو علیحدہ رکھنے سے طالبان امن مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوں گے۔ 

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں پاکستان میں تعینات افغان سفیر 32 سالہ شکر اللہ عاطف نے افغان امن مذاکرات کی کامیابی کو کابل حکومت کی شمولیت سے مشروط قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں عوام کی منتخب شدہ حکومت قائم ہے اور کوئی بھی مذاکرات عوامی حمایت کے بغیر کیسے کامیاب اور سب کے لیے قابل قبول ہوسکتے ہیں۔

افغان سفیر کا مزید کہنا تھا کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں کابل حکومت کو طالبان کی درخواست پر شامل نہیں کیا گیا تاہم امریکا اور افغان حکام کے درمیان معلومات کا تبادلہ ہو تا رہا ہے اور دونوں افغانستان میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ افغان حکومت مذاکراتی عمل کی کامیابی اور افغان عوام کے 90 کی دہائی کی طرح تلخ تجربات سے دوبارہ نہ گزرنے کے خواہاں ہیں۔

کرکٹ میں دلچسپی رکھنے والے افغان سفیر شکر اللہ عاطف نے کہا کہ ’پچ‘ کے ساتھ ساتھ اچھی ’کنڈیشنز‘ کا ہونا زیادہ ضروری ہیں۔ ایشیا میں وہ ’فرنٹ فٹ‘ پر کھیلتے ہیں اور انگلش کنڈیشنز میں ’بیک فٹ‘ کو فوقیت دیتے ہیں۔ اس لیے ان کی کوشش ہوگی کہ پاکستان کی ’پچ‘ پر اعتماد کی فضا میں مضبوطی کی امید کے ساتھ ’فرنٹ فٹ‘ پر کھیلیں۔

چند روز قبل مری کے پُر فضا مقام بُھوربن میں منعقد کردہ افغان امن کانفرنس کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ وہ کانفرنس میں شریک ہوئے تھے تاہم یہ شرکت غیر رسمی تھی، باضابطہ طور پر افغان حکومت کا کوئی بھی نمائندہ موجود نہیں تھا اس کے باوجود ہم مذاکراتی عمل میں خلوص کے ساتھ کوششیں کرنے والوں کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔

امریکا کی خامنہ ای اور ایرانی وزیر خارجہ پر پابندی: ایران کا رد عمل

تہران: ایران نے امریکا کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور وزیر خارجہ جواد ظریف پر پابندیاں کیے جانے کی مذمت کی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی راستہ مکمل طور پر بند ہوگیا ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور وزیر خارجہ جواد ظریف کے خلاف پابندیاں بے نتیجہ ہیں، ٹرمپ منتظمین عالمی سطح پر قائم امن اور سیکیورٹی کو تباہ کر رہے ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ چند ہفتوں کے دوران کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی مشیر قومی سلامتی جان بولٹن نے مقبوضہ بیت المقدس کے دورے پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر نے حقیقی مذاکرات کے لیے دروازہ کھلا رکھا ہے تاہم مذاکرات کے جواب میں ایرانی خاموشی قابل غور ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی امریکی مشیر قومی سلامتی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے مطالبے کے بعد کیا وزیر خارجہ پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، پابندیوں سے ظاہر ہے کہ امریکا جھوٹ بول رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق  ایران کی جانب سے امریکی فوجی ڈرون گرائے جانے کے بعد ایران پر مزید پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ امریکی صدر نے ایران پر دباؤ جاری رکھنے اور ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دینے کا عندیہ بھی دیا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے معاہدے کو یک طرفہ طور پر منسوخ کرنے کے بعد سے  ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

امریکا کی ایران کے روحانی پیشوا سمیت اعلیٰ فوجی عہدیداروں پر پابندیاں

واشنگٹن: امریکا نے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای سمیت اعلی فوجی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کردیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر پابندیوں کے سلسلے کی سب سے سخت اور کڑی پابندی کے دستاویز پر اوول دفتر میں دستخط کردیئے، اس موقع پر صدر نے کہا کہ تازہ پابندیاں ایران کی جارحیت کا منہ توڑ جواب ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ تازہ سفری و اقتصادی پابندیاں ایران کے روحانی پیشوا خامنہ ای سمیت چند سیاست دانوں اور پاسداران انقلاب کے کمانڈرز پرعائد کی گئی ہیں کیوں کہ یہ سب امریکی ڈرون گرائے جانے کے ذمہ داروں میں شامل ہیں۔

امریکا کی تازہ پابندیوں کی زد میں معتدل مزاج وزیر خارجہ جواد ظریف بھی آگئے ہیں جس کی بنیادی وجہ جواد ظریف کا 2015 میں طے پانے والے عالمی جوہری معاہدے کے ڈرافٹ کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کرنا بنی۔

دوسری جانب ایران نے امریکی پابندیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ روحانی پیشوا پر عائد کی گئی لاحاصل پابندیوں سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ڈپلومیسی کے تمام دروازے مستقل بنیادوں پر بند ہوجائیں گے۔

ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ اس فیصلے سے امریکا نے دنیا میں قائم امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

امریکا کے مزید جاسوس طیارے مار گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ایران

تہران: ایرانی بحریہ کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ مزید امریکی جاسوس طیارے اور ڈرون مار گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور امریکا یہ بات اچھی طرح جانتا بھی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سربراہ ایرانی بحریہ ریئر ایڈمرل حسین خانزادی نے خبردار کیا کہ ضرورت پڑنے پر ایران امریکا کے مزید جاسوس طیارے اور ڈرون مار گرائے گا۔ ایران دوبارہ بھی ایسا ردعمل دے سکتا ہے اور دشمن یہ بات جانتا ہے۔

ایران نے چار روز قبل آبنائے ہرمز میں امریکا کا بغیر پائلٹ والا ڈرون مار گرایا تھا جس کی مالیت 10 کروڑ ڈالر تھی، ایران کا کہنا تھا کہ ڈرون ایرانی سرحد میں داخل ہوا تھا تاہم امریکا نے ایرانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ ڈرون عالمی گزر گاہ پر محو پرواز تھا اور یہ کسی ملک کی سرحد نہیں تھی۔

ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی ڈرون مار گرائے جانے پر صدر ٹرمپ نے اپنی مسلح افواج کو تہران پر فوجی کارروائی کا حکم دیا تھا تاہم ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک اور امریکی جاسوی طیارے کو تنبیہ کے بعد جانے کی اجازت دینے کو سراہتے ہوئے فوجی کارروائی کا حکم واپس لے لیا تھا۔

بھارت مسلمانوں کے لیے تشدد اورخوف پھیلانے والا ملک ثابت، امریکی رپورٹ

نیو یارک: امریکا نے مذہبی آزادیوں سے متعلق رپورٹ جاری کردی جس میں بھارت مسلمانوں کے لیے تشدد اورخوف پھیلانے والا ملک ثابت ہوا ہے۔

امریکا نے مذہبی آزادیوں سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے جس میں بھارت میں مذہبی عدم برداشت کا گہرائی سے تجزیہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ہندو قوم پرست گروہوں نے بھارت کو دیگر قومیتوں کیلئے تشدد اور خوف وہراس پھیلانے والا ملک ثابت کیا۔ بھارت میں کئی ریاستوں نے گاؤکشی کے خلاف قانون بنائے، گائے ذبح کرنے کا الزام لگا کر مسلمانوں پر تشدد کیا جب کہ بی جے پی مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہندوقوم پرست گروپوں نے بھارت میں غیر ہندوؤں اور نچلی ذات کے ہندوؤں کے خلاف تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی سے کام لیا، حکومتی اور غیر حکومتی دونوں عناصر اس میں ملوث رہے، تقریباً ایک تہائی ریاستی حکومتوں نے غیر ہندوؤں کے خلاف مذہبی تبدیلی کے مخالف اور گائے کے ذبیحہ کے قوانین پر عمل کیا، کئی نسلوں سے دودھ، چمڑے اور گوشت کے کاروبار میں ملوث مسلمان اور دلت تاجروں کے خلاف بلوائیوں نے حملے کئے جب کہ عیسائیوں کو زبردستی مذہب کی تبدیلی پر مجبور کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق گائے کے تحفظ کے نام پر 2017 میں 10 سے زائد افراد کو ماردیا گیا، غیر ہندوؤں کو “گھر واپسی” کے نام سے تقریبات میں زبردستی ہندو بنایا گیا، غیرملکی امداد سے چلنے والی این جی اوز کو بھی مذہبی اقلیتوں کے خلاف استعمال کیا گیا، مذہبی آزادی کی بدترین صورتحال دس ریاستوں میں بہت زیادہ دیکھنے کو ملی۔

رپورٹ کے مطابق بی جی پی کا ہندو انتہا پسند گروپوں کے ساتھ الحاق ہے، بی جے پی کے کئی اراکین نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی زبان استعمال کی، اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 2 سال میں فرقہ ورانہ تشدد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا اورمودی حکومت فرقہ ورانہ تشدد کے شکار اقلیتوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی، مودی کی جماعت کے راہنماؤں کی بھڑکیلی تقریروں سے اقلیتوں کے خلاف تشدد کو ہوا ملی  جب کہ بھارتی ریاستی ادارے ان چیلنجوں سے نمٹنے میں بری طرح سے ناکام رہے۔

دوسری جانب امریکی رپورٹ میں مذہبی آزادیوں اورعدم برداشت کے معاملہ پر بھارت کو درجہ دوئم میں رکھا گیا، بین الاقوامی ریلیجئیس فریڈم ایکٹ کے تحت بھارت کو مخصوص تشویش والے ممالک کی صف میں رکھا گیا ہے۔

اردگان کی جماعت کو میئر استنبول کے دوبارہ انتخاب میں بھی شکست

استنبول: ترکی میں صدر رجب طیب اردگان کی جماعت اے کے پارٹی کو بلدیہ عظمیٰ استنبول کے ’ری الیکشن‘ میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق 3 ماہ قبل حکمراں جماعت اے کے پارٹی کو استنبول کے بلدیاتی الیکشن میں 25 سال بعد شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا تھا جسے صدر طیب اردگان نے تسلیم نا کرتے ہوئے دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا تاہم ری الیکشن میں حکمراں جماعت مزید واضح فرق سے ہار گئی۔

ووٹوں کی گنتی مکمل ہوگئی ہے اور غیر حتمی نتائج کے تحت اتحادِ جمہوریت  کے امیدوار بن علی یلدرم کو 45 فیصد جبکہ اپوزیشن جماعت کے امیدوار اکرم امام اولو  کو 54 فیصد ووٹ ملے یعنی اپوزیشن نے تین ماہ قبل ملنے والے ووٹوں سے زیادہ ووٹ حاصل کیے اور حکمراں جماعت کو اپنے مضبوط گڑھ میں ہزیمت کا سامنا رہا۔

سرکاری سطح پر انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان نہیں ہوا تاہم کامیاب امیدوار امام اولو کے ہزاروں حامی سڑکوں پر نکل آئے اور جشن منایا، رجب طیب اردگان نے امام اولو کو کامیابی پر مبارک باد دی جبکہ شکست خوردہ امیدوار نے بھی پولنگ ختم ہونے کے 2 گھنٹے بعد ہی اپنے حریف کو مبارک باد پیش کی۔

سعودی ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کا ایک اور حملہ، ایک شخص جاں بحق

ریاض: سعودی عرب کے ابھا ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کے ایک اور حملے میں ایک شامی باشندہ جاں بحق اور 21 زخمی ہوگئے۔

سعودی خبر ایجنسی کے مطابق ملک کے جنوب مغربی علاقے کے شہر ابھا کے ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کی جانب سے رواں ماہ دوسرا حملہ کیا گیا ہے، اس حملے میں ایک شامی باشندہ جاں بحق ہوا جب کہ 21 افراد زخمی ہیں۔

زخمی ہونے والوں میں 13 سعودی شہری، 4 بھارتی، 2 مصری جب کہ 2 بنگلہ دیشی شہری شامل ہیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے جن میں سے 2 کی حالت نازک ہے۔

اتحادی افواج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ حوثی باغیوں کے حملے میں زخمی ہونے والوں میں 3 خواتین اور 2 بچے بھی شامل ہیں جب کہ ایئرپورٹ کے ایک ریسٹورینٹ اور 18 گاڑیوں کو نقصان پہنچا تاہم کرنل ترکی نے حملے کی نوعیت کے حوالے سے تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

واضح رہے ابھا ایئرپورٹ سعودی عرب کا ایک مصروف ہوائی اڈہ ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں لوگ آمد ورفت کے لیے موجود ہوتے ہیں اور رواں ماہ کی 12 تاریخ کو اسی ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کے میزائل حملے میں 26 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ کی سعودیہ آمد، شاہ سلمان سے ملاقات

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو ایران کے خلاف عالمی اتحاد کے قیام کے لیے بین الاقوامی دوروں کے سلسلے میں آج سعودی عرب پہنچ گئے جہاں ان کی شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقاتیں ہوئیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں امریکی وزیر خارجہ ایران کے خلاف عالمی اتحاد کے قیام کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے جہاں انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے الگ الگ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سعودی عرب کے دورے کے بعد متحدہ عرب امارات بھی جائیں گے جبکہ اُن کا اگلا پڑاؤ بھارت ہوگا، بعد ازاں وہ G-20 سمٹ میں شرکت کریں گے اور صدر ٹرمپ کے وفد میں شامل ہوجائیں گے۔

سعودی عرب روانگی سے قبل مائیک پومپیو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران ایران کے خلاف عالمی اتحاد قائم کرنے کی کوششیں کریں گے جس کے لیے وہ دیگر ممالک سے رابطے ہیں تا کہ اسٹریٹیجک بنیاد پر عالمی اتحاد ممکن ہو سکے۔

مائیک پومپیو جی ٹوئنٹی سمٹ کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشرق وسطیٰ اور بھارت کے دورے سے متعلق رپورٹ پیش کریں گے جس کے بعد امریکی صدر جاپان اور بعد ازاں جنوبی کوریا جائیں گے تاکہ ایران کیخلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے اپنے حلیفوں کو اعتماد میں لے سکیں۔

واضح رہے کہ امریکی ڈرون گرائے جانے پر پہلے ردعمل میں امریکی صدر نے ایران کیخلاف فوجی کارروائی کا حکم دیا تھا تاہم یہ حکم واپس لے لیا تھا اور عسکری کارروائی کے بجائے ایرانی میزائل سسٹم پر سائبر حملے کیے گئے تھے۔

Google Analytics Alternative