بین الاقوامی

بنگلا دیش میں خالدہ ضیاء کے بیٹے کو عمر قید، 19 سیاسی مخالفین کو سزائے موت

ڈھاکا: بنگلا دیش میں اپوزیشن جماعت کے 19 افراد کو سزائے موت جب کہ اپوزیشن رہنما خالدہ ضیاء کے بیٹے کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلا دیش کی عدالت نے حکمراں جماعت کے سیاسی جلسے میں گرنیڈ حملے میں ملوث 19 افراد کو سزائے موت سنائی ہے۔ ان افراد پر 2004 میں ڈھاکا میں سیاسی جلسے پر ہونے والے گرنیڈ حملے کی منصوبہ بندی اور معاونت کا الزام تھا۔

سزائے موت پانے والوں میں موجودہ اپوزیشن جماعت بنگلا دیش قومی پارٹی کے دو سابق وزراء بھی شامل ہیں جو 2004 میں موجودہ حکمراں جماعت عوامی لیگ کے جلسے پر گرنیڈ حملے کے وقت وزیر داخلہ اور نائب وزیر کے عہدے پر فائز تھے۔

عدالت نے اپوزیشن جماعت بنگلا دیش نیشلسٹ پارٹی کے نگراں سربراہ طارق الرحمان کو بھی عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔ خود ساختہ جلا وطن رہنما طارق الرحمان پارٹی کی چیئرمین خالدہ ضیاء کے صاحبزادے ہیں۔

اپوزیشن رہنما خالدہ ضیاء پہلے ہی مقامی جیل میں مقید ہیں جہاں وہ رواں برس فروری سے کرپشن کے الزام میں 5 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ اُن کی غیر موجودگی میں اُن کے بیٹے طارق الرحمان لندن سے پارٹی کا نظم ونسق سنبھالے ہوئے تھے۔

وزیر قانون انیس الحق کا کہنا تھا کہ طارق الرحمان کی عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرانے کے لیے اعلیٰ عدالت سے رجوع کریں گے اور انہیں لندن سے گرفتار کرنے کے لیے تمام تر سفارتی اقدامات بروئے کار لائیں گے۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعت بنگلا دیش نیشلسٹ پارٹی نے سزاؤں کو سیاسی فیصلہ قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ اپوزیشن جماعت کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ انصاف کے حصول کے لیے اعلیٰ عدلیہ سمیت ہر آپشن استعمال کریں گے۔

اس سے قبل بنگلا دیش کی موجودہ حکمراں حسینہ واجد کے حکم پر سقوط ڈھاکا کے جعلی مقدمات بھی کھولے گئے تھے اور جنگی جرائم کے جھوٹے الزامات کی آڑ میں متعدد سیاسی مخالفین کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔

واضح رہے کہ 2004 میں آج کی حکمراں جماعت عوامی لیگ کے ایک جلسے میں ہونے والے گرنیڈ حملے میں 24 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔عوامی لیگ نے حملے کی ذمہ داری اُس وقت کی حکمراں جماعت بنگلا دیش نیشلسٹ پارٹی پرعائد کی تھی۔

جاپانی وزیراعظم سے سوچی کی ملاقات، روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی تحقیقات پر اتفاق

ٹوکیو: میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی نے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی تحقیقات کرانے کا جاپانی وزیراعظم کا مطالبہ تسلیم کرلیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جاپانی وزیراعظم شنزو آبے اور میانمار کی رہنما آنگ سانگ سوچی کے درمیان ٹوکیو میں اہم ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ باہمی دلچسپی کے امور پر تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

جاپانی وزیراعظم نے روہنگیا مسلمانوں پر میانمار کی فوج اور انتہا پسند بدھسٹ کے مظالم کا معاملہ اُٹھاتے ہوئے انسانیت سوز سلوک کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

جاپانی وزیراعظم شنزو ابے کا کہنا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام سے میانمار حکومت پرعدم اعتماد میں اضافہ ہوا ہے جسے دور کرنے کے لیے مثبت اقدامات اُٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔

جاپانی وزیراعظم شنزو ابے نے پناہ گزینوں کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش میں موجود روہنگیا پناہ گزینوں کی باعزت واپسی اور آباد کاری کے لیے جاپان ہر قسم  کا تعاون کرے گا۔

جاپانی وزیراعظم کے مطالبے پر آنگ سان سوچی نے متاثرین کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہماری انویسٹی گیشن اتھارٹی بااختیار اور طاقت ور ہے جو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی مکمل اہلیت رکھتی ہے۔

میانمار کی رہنما آنگ سانگ سوچی نے روہنگیا پناہ گزینوں کی بحالی اور آباد کاری کے لیے جاپانی وزیراعظم شنزو ابے کے دلی جذبات کی قدر کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور اس حوالے سے مشاورت کی یقین دہانی بھی کرائی۔

حسینہ واجد قاتلانہ حملہ کیس میں خالدہ ضیا کے بیٹے کو عمر قید

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے ملک کی موجودہ وزیراعظم حسینہ واجد پر قاتلانہ حملے میں ملوث 19 افراد کو سزائے موت جبکہ ملک کی اہم اپوزیشن پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے کو عمر قید کی سزا سنادی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم حسینہ واجد پر حملے کے مقدمے میں سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمٰن سمیت 49 افراد نامزد تھے، ان پر مجرمانہ سازش اور متعدد قتل کے الزامات عائد تھے۔

طارق رحمٰن کا ٹرائل ان کی غیر حاضری میں کیا گیا کیونکہ وہ 2008 میں لندن فرار ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ 2004 میں اس وقت کی اپوزیشن رہنما اور موجودہ وزیراعظم حسینہ واجد کی ریلی پر گرینیڈ حملے کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئیں تھیں جبکہ 20 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

پروسیکیوٹر مشرف حسین نے رپورٹرز کو بتایا کہ ’ہم اس فیصلے کے لیے خدا کا شکر ادا کرتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں امید تھی کہ طارق رحمٰن کو سزائے موت دی جائے گی کیونکہ عدالت نے نوٹ کیا تھا کہ اس حملے میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا تھا’۔

مشرف حسین نے بتایا کہ 2 سابق وزرا کے علاوہ ملک کی طاقت ور انٹیلی جنس ایجنسیز سے تعلق رکھنے والے 2 سابق سربراہان کو بھی سزائے موت سنائی گئی۔

علاوہ ازیں، کالعدم تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی کے 15 انتہا پسندوں کو اس سازش کا منصوبہ بنانے اور حملہ کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی۔

خیال رہے کہ حرکت الجہاد الاسلامی کے رہنما کو گزشتہ برس اپریل میں پھانسی دی گئی تھی۔

پروسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ بی این پی کے وزیر عبدالسلام پنٹو نے مذکورہ تنظیم کے ساتھ سازش کرکے گرینیڈ ان کے حوالے کیے تھے۔

وزیر داخلہ اسد الزمان خان کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے سے مطمئن ییں، انہیں انصاف مل گیا۔

طارق رحمٰن کے وکیل ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کی نوعیت سیاسی تھی۔

انہوں نے فیصلے کے وقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ سنا کر طارق رحمٰن کو دسمبر میں ہونے والے انتخابات سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’طارق رحمٰن کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت یا گواہ نہیں تھا‘۔

بی این پی کے ترجمان فخر الاسلام عالمگیر نے اس فیصلے کو مسترد کیا، ان کا کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ سیاسی انتقام کا واضح نمونہ ہے’۔

دوسری جانب پولیس کے ترجمان سہیل رانا کا کہنا تھا کہ عدالت کی حدود میں سخت سیکیورٹی تعینات کی گئی تھی تاکہ فیصلے کے بعد متوقع اشتعال انگیزی سے بروقت نمٹا جاسکے۔

2004 میں جب حسینہ واجد ریلی سے خطاب کررہی تھیں اس وقت گرنیڈ حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں اکثر افراد شدید زخمی ہوئے تھے، اسی حملے میں سابق صدر کی اہلیہ بھی جاں بحق ہوگئیں تھیں۔

اس حملے کے 4 سال بعد دسمبر 2008 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد حسینہ واجد اقتدار میں آّئیں تھیں۔

یاد رہے کہ بی این پی نے 2014 میں انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جس کے بعد حسینہ واجد ایک مرتبہ پھر اقتدار میں آئیں تھیں لیکن امکانات ہیں کہ ان کی پارٹی رواں سال دسمبر میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لے گی۔

تاہم رواں برس خالدہ ضیا کو بدعنوانی کے الزام میں 5 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد سے طارق رحمٰن خود ساختہ جلا وطنی کے باوجود ملک کی مرکزی اپوزیشن پارٹی بنگلہ دیش نیشنلسٹ ہارٹی (بی این پی) کی رہنمائی کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں سزائے موت دینا عام بات ہے اور سیکڑوں افراد کو سزائے موت کے ذریعے پھانسی دی جاتی ہے۔

سال 2007 سے اب تک ملک میں 9 انتہاپسند رہنماؤں، ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت کے 5 رہنماؤں اور سینئر اپوزیشن رہنما کو بھی پھانسی دی جاچکی ہے۔

بھارت میں ٹرین الٹنے سے 7 مسافر ہلاک، درجنوں زخمی

لکھنو: بھارت میں انجن سمیت ٹرین کی 6 بوگیاں پٹری سے اترنے کے باعث 7 مسافر ہلاک اور 35 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اترپردیش میں مغربی بنگال سے نئی دہلی جانے والی ٹرین کی ہرچند پور ریلوے اسٹیشن کے قریب انجن سمیت 6 بوگیاں پٹری سے اترگئیں جس کے نتیجے میں 7 مسافر موقع پر ہی ہلاک جب کہ 35 سے زائد زخمی ہوگئے۔

ریسکیو ادارے کے حکام کا کہنا ہے کہ علی الصبح پیش آنے والے حادثے میں زخمی ہونے والوں میں سے 9 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ بوگیوں کو کاٹ کر 4 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ امدادی کاموں میں معاونت کے لیے فوج کو بھی طلب کیا گیا تھا۔

حادثے میں محفوظ رہنے والی بوگیوں کے مسافروں کو لکھنو منتقل کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ اور ریلوے کے وزیر نے متاثرین کے لیے الگ الگ امدادی رقوم کا اعلان کیا ہے۔ مجموعی طور پر ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو 7 لاکھ ، شدید زخمی ڈیڑھ لاکھ اور معمولی زخمیوں کو 50 ہزار فی کس دیے جائیں گے۔

 

 

کینیا میں بس حادثے میں 50 افراد ہلاک

کینیا کے مغربی علاقے میں بس کے ایک خوفناک حادثے میں 50 افراد ہلاک ہو گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کینیا کی کریچو کاؤنٹی میں بس ڈھلوان کی طرف جاتے ہوئے بے قابو ہو کر سڑک سے اتر گئی اور کھائی میں جا گری۔

پولیس کے مطابق نیروبی سے کاکا میگا جانے والی مسافر بس میں حادثے کے وقت 52 افراد سوار تھے۔

حکام کے مطابق حادثے میں 50 افراد ہلاک اور دو شدید زخمی ہوئے، زخمیوں کو اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والی بس کی چھت مکمل طور پر الگ ہو گئی۔ فوٹو: رائٹرز

کینیا میں روڈ حادثات میں بڑے پیمانے پر اموات واقع ہوتی ہیں۔

دسمبر 2017 میں بھی کینیا میں بس اور ٹرک میں تصادم کے نتیجے میں 36 افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کہ 2016 میں ایک فیول ٹینکر بے قابو ہو کر متعدد گاڑیوں پر چڑھ گیا تھا جس کے نتیجے میں 40 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق کینیا میں ہر سال 3 ہزار افراد ٹریفک حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں جب کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ تعداد 12 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

اسرائیل کا شام میں فضائی حملے جاری رکھنے کا اعلان

اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے روس کی جانب سے شام کو جدید ایئر ڈیفنس سسٹم ( ایس 300) کی ترسیل کے باوجود فضائی حملے جاری رکھنے کا عندیہ دے دیا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق نیتن یایو نے روس کے وائس پریمئر میکزم ایکی موو کو بتایا کہ وہ شام میں دشمنوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے جاری رکھیں گے۔‘

نیتن یاہو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے شامی افواج کو ایس 300 میزائل سسٹم کی فراہمی کے باوجود اسرائیل شام میں موجود ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اپنا دفاع جاری رکھے گا، جو اسرائیل کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہیں۔‘

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ شام میں روسی طیارے کے حادثے کے بعد سے روس کے اعلیٰ عہدیدار سے نیتن یاہو کی یہ پہلی ملاقات تھی۔

شامی فضائیہ نے روسی فوجی طیارے کو غلطی سے اسرائیل کی جانب سے مبینہ میزائل حملہ تصور کر کے مار گرایا تھا جس میں عملے سمیت 15 افراد سوار تھے۔

تاہم روس کی جانب سے 17 ستمبر کو ہونے والے اس حادثے کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا گیا تھا۔

روسی فوج کا کہنا تھا کہ ‘اسرائیلی پائلٹس شامی اہداف پر حملے کررہے ہیں اور شامی ائیر ڈیفنس سے ہونے والے فائر کو بے نقاب کرنے کے لیے روسی طیارے کو کور کے طور پر استعمال کیا گیا’۔

اس حملے کے رد عمل میں روس نے شام میں موجود اپنی فوج کے حفاظتی اقدامات کے لیے نئے اقدامات میں دمشق کو ایس 300 نامی میزائل فراہم کرنے کا اعلان بھی شامل تھا۔

تاہم روس کے وائس پریمیئر سے ملاقات نیتن یاہو پُر امید ہیں کہ روس اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ تنازع جلد حل ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’ میرا خیال ہے کہ کامن سینس اور نیک خواہشات کے ذریعے ہم ایک ایسا حل نکال سکتے ہیں جو روسی اور اسرائیلی افواج کے درمیان تعاون کو جاری رکھے گا۔‘

اس سے قبل اتوار ( 7 اکتوبر ) کو ہفتہ وار کابینہ کے اجلاس میں نیتن یاہو نے روس کے صدر ولادیمر پیوٹن سے ملاقات کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔

واضح رہے کہ ستمبر میں روسی طیارے کے حادثے کے بعد دونوں رہنما ٹیلیفون پر تین مرتبہ گفتگو کرچکے ہیں۔

اسرائیل اب تک شام میں سینکڑوں فضائی حملے کرچکا ہے جن سے متعلق اس کا مؤقف ہے کہ ان کا ہدف ایرانی اور حزب اللہ کے ٹھکانے ہوتے ہیں۔

’اقوام متحدہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا معاملہ عالمی عدالت میں پیش کرے‘

اقوام متحدہ کی سفیر برائے انسانی حقوق ینگہی لی نے اقوام متحدہ کو روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اور جنگی جرائم کے مرتکب میانمار کی عسکری قیادت کو عالمی عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ کردیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ میانمارحکومت روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے ظالم کی تحقیقات کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے فیٹ فائنڈنگ مشن نے مطالبہ کیا کہ میانمار حکومت کی اعلیٰ قیادت سے نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے جرم میں تحقیقات کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست رخائن میں میانمار حکومت نے روہنگیا مسلمانوں پر بدترین ظالم کیا جس کے نتیجے میں 7 لاکھ 20 ہزار افراد کو پڑوسی ملک بنگلہ دیش ہجرت کرنا پڑی تھی۔

واضح رہے کہ میانمار حکومت نے اقوام متحدہ کی فیٹ فائنڈنگ مشن کو جانبدار قرار دیتے ہوئے ان کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

میانمار حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی سطح پر تشکیل دی گئی کمیٹی جرائم کی تحقیقات کررہی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں میانمار حکومت نے سفیر برائے انسانی حقوق ینگہی لی کو ملک میں داخلے سے روک دیا تھا۔

ینگہی لی نے کہا کہ میانمار حکومت نے جرائم سے متعلق غیر جانبدار تحقیقات کے لیے محدود آمادگی ظاہر کی اور ‘انتہائی کم اور غیر واضح’ اقدامات اٹھائے ہیں۔

ینگہی لی نے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شائع رپورٹ میں کہا کہ میانمار حکومت قابل اعتماد، فوری، مکمل، آزاد اورغیر جانبدار تحقیقات اور پراسیکیوشن کرانے میں سنجیدہ ہے اور نہ ہی اس قابل ہے‘۔

انہوں نے کہا یہ عالمی عدالت پر منحصر ہے کہ وہ انصاف فراہم کرے۔

ینگہی لی نے خبردار کیا کہ اگر انصاف کی فراہمی میں مزید تاخیر برتی گئی تو مزید تشدد پر مشتمل واقعات رونما ہوں گے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کو تجویز دی کہ میانمار کی صورتحال کو عالمی کرمنل کورٹ میں فوری بھیجا جائے۔

دوسری جانب عالمی عدالت برائے انصاف نے کہا ہے کہ تحقیقات کا عمل بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں سے شروع ہو گا کیونکہ میانمار عالمی عدالت کے دائرے میں نہیں آتا۔

واضح رہے کہ میانمار کے وزیرنے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا تھا کہ ان کی حکومت ‘مشتبہ مداخلت’ کو مسترد کرتی ہے۔

نکی ہیلے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کے عہدہ سے مستعفیٰ

واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈٹرمپ نے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلے کا استعفیٰ منظور کرلیا۔

الجزیرہ میں شائع رپورٹ کے مطابق نیلی ہیلے نے کہا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کو ‘رواں برس کے اختتام’ تک ‘چھوڑ’ دیں گی۔

واضح رہے کہ نکی ہیلے نے اقوام متحدہ کے ہر اجلاس میں فلسطین مخالف رویہ اختیار کیا اور جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے امریکی فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ میں قرارداد کثرت رائے سے منظور ہوئی تو انہوں نے کہا تھا کہ ‘امریکا یہ دن کبھی نہیں بھولے گا’۔

وائٹ ہاؤس آفس میں منگل کو ڈونلڈ ٹرمپ نے سیفر کو ‘خاص شخصیت’ قرار دیا اور بتایا کہ نکی ہیلے نے 6 ماہ قبل ہی آگاہ کردیا تھا کہ وہ کچھ وقت کے لیے رخصت چاہتی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘انہوں نے نکی ہیلے کے ساتھ مل کر متعدد مسائل کا حل تلاش کیا’۔

46 سالہ نکی ہیلے نے 2020 میں صدارتی امیدوار بننے سے متعلق خبروں کو افواہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں کوئی پلان نہیں ہے۔

واضح رہے کہ نکی ہیلے نومبر 2016 میں اقوام متحدہ تعینات ہوئی تھیں۔

بعدازاں ڈونلڈٹرمپ نے نکی ہیلے کو اقوام متحدہ میں سفیر کے لیے نامزد کیا، اس عہدے پر نامزد ہونے والی پہلی امریکی خاتون تھیں۔

اس سے قبل وہ نکی ہیلے ساؤتھ کارولائنا کی گورنر بھی رہی۔

بطور ساوتھ کارولائنا گورنر نکی ہیلے نے 2016 کی ٹرمپ انتخابی مہم کے خلاف زبردست تنقید کی تھی اور اسی نوعیت کی تنقید کرنے پر متعدد افراد ٹرمپ انتظامیہ کا حصہ بننے سے رہ گئے تھے۔

نکی ہیلے نے ڈونلڈ ٹرمپ پر کڑی تنقید کی تھی۔

جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹ کیا تھا کہ ‘ساؤتھ کارولائنا کے لوگ نکی ہیلے سے شرمندہ ہیں’

Google Analytics Alternative