بین الاقوامی

آسٹریا میں مساجد کی بندش اسلام مخالف اقدام ہے، ترک صدر

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان نے آسٹریا میں غیر ملکی امداد پر انحصار کرنے والی 7مساجد کو بند کیے جانے کے فیصلے کیخلاف اقدام کو اسلام مخالف قرار دیا ہے۔

رجب طیب اردوان نے آسٹریا میں غیر ملکی امداد پر انحصار کرنے والی 7مساجد کو بند کیے جانے اور ان مساجد سے منسلک درجنوں ترک نژاد اماموں کو ملک بدر کرنے کے فیصلے کیخلاف کارروائی کرنے پر زور دیتے ہوئے اس اقدام کو اسلام مخالف قرار دیا ہے۔

استنبول میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ ان کو خدشہ ہے کہ آسٹریا کے چانسلر کا یہ فیصلہ دنیا کو صلیب اور ہلال کے مابین جنگ کی طرف راغب کرے گا۔

سعودی عرب میں خلیجی ممالک کا اجلاس، اردن کے لیے 2.5 ارب ڈالر امداد کا اعلان

ریاض: خادمین حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے طلب کیے گئے عرب ممالک کے اجلاس میں اردن کے لیے 2.5 ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ 

عرب میڈیا کے مطابق اردن  معاشی بحران کے حل کے لیے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی سربراہی میں چار عرب ممالک کا اہم اجلاس اتوار کی شام مکہ مکرمہ میں ہوا اجلاس میں اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ دوم، امیرِ کویت الشیخ صباح الاحمد الصباح اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر الشیخ محمد بن راشد نے بھی شرکت کی۔

شرکاء نے تفصیلی گفت و شنید کے بعد اردن کے لیے 2.5 ارب ڈالر کے امدادی پیکج پر اتفاق کیا جس کے روٹ میپ کا بھی تعین کیا گیا۔ اجلاس میں اردن کے مرکزی بینک میں رقم ڈپازٹ کرنے، اردن کے حق میں عالمی بینک کو ضمانتیں دینے، پانچ برس تک اردن کے سرکاری بجٹ کو سپورٹ کرنے اور ترقیاتی فنڈز سے اردن میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے رقوم پیش کرنے کے پر اتفاق کیا گیا۔

عرب ممالک کی جانب سے عرب ممالک کی جانب سے بحرانی حالت میں مدد کرنے پر اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ دوم نے خادم حرمین شریفین کا شکریہ ادا کیا اور کویت اور متحدہ عرب امارات کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے امدادی پیکیج سے اردن کے حالیہ مالی بحران کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

واضح رہے اردن کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے جس کے باعث عوام سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ عوامی احتجاج پر وزیراعظم ہانی الملکی نے 4 جون کو استعفیٰ دے دیا تھا جسے اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم نے منظور کرتے ہوئے وزیر تعلیم اور ماہر معیشت عمر الرزاق کو نیا وزیراعظم نامزد کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے وزیر اعظم کو بے ایمان اور کمزور قرار دے دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی 7 اجلاس کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان دیتے ہوئے کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹس ٹروڈو کو ’بے ایمان اور کمزور‘ قرار دے دیا۔

واضح رہے کہ کینیڈا میں ہونے والے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گروپ آف سیون (جی-7) قیادت کو واضح کیا تھا کہ وہ اس تجارتی سرگرمی کو ختم کرنا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے امریکی کمپنیوں اور ملازمین کو دیگر ممالک سے نکالے جانے کا خطرہ ہے۔

ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا اس سے دہائیوں سے فائدہ اٹھارہا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے جی 7 ممالک کو یہ تجویز پیش کی کہ تجارت میں مشکلات پیدا کرنے والے ٹیرف اور سبسڈیز کو ختم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر جی 7 ممالک کے درمیان تجارت پر ٹیرف نہیں ہوگا تو کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی سبسڈی ہوگی، میں نے یہی تجویز پیش کی، اور میرا خیال ہے کہ لوگ اس تجویز پر غور کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تردید کی کہ جی 7 کا اجلاس متنازع نہیں تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے آج اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’جسٹن کے نیوز کانفرنس کے دوران جھوٹے بیان اور کینیڈا کی جانب سے امریکی کسان، کام کرنے والے اور کمپنیوں سے زیادہ پیسے وصول کرنے پر میں نے امریکی نمائندوں کو ہمارے امریکی مارکیٹ میں آٹو موبائلز کی قیمتوں کو دوبارہ دیکھنے تک اس بیان کی تشہیر نہ کرنے کا حکم دیا ہے‘۔

ایک اور ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ہمارے جی 7 اجلاس کے دوران بہت نرم مزاج اور نیک رویہ اختیار کیا تاکہ ہمارے جانے کے بعد نیوز کانفرنس کر سکیں جس میں انہوں نے کہا امریکی ٹیرف تضحیک آمیز ہے اور ہمیں مزید نہیں دھکیلا جائے گا، یہ انتہائی بے ایمان اور کمزور ہے، ہمارے ٹیرف ان کے ڈیری کے 270 فیصد ٹیرف کا جواب تھا‘۔

تضحیک آمیز

قبل ازیں جسٹس ٹروڈو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکا کے اسٹیل اور ایلمونیم کی در آمدات پر امریکی ٹیرف کی وضاحت کے لیے قومی سلامتی کو درمیان میں لانا کینیڈا کے سابق فوجیوں جنہوں نے عالمی جنگ کے درمیان امریکا کا ساتھ دیا تھا کے لیے انتہائی تضحیک آمیز تھا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا کی عوام انتہائی نرم مزاج ہے تاہم ہمیں دھکیلا نہیں جاسکتا۔

بعد ازاں فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ پر ٹروڈو کے دفتر نے جواب جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری توجہ جی 7 سے حاصل ہونے والی چیزوں پر ہے اور وزیر اعظم نے ایسا کچھ نہیں کہا جو انہوں نے اس سے قبل عوامی سطح پر یا صدر سے نجی گفتگو میں نہ کہا ہو‘۔

خیال رہے کہ جی 7 کے ایک حکام کی جانب سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ 8 جون کو امریکی صدر کی جی 7 میں اپنے دیگر ہم منصب کے ساتھ ٹیرف کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی تھی۔

حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ امریکی صڈر ڈونلڈ ٹرمپ کی یورپی یونین اور کینیڈا کے حکام کے ساتھ امریکی تجارت پر اپنے تحفظات کے حوالے سے جملوں کا غیرمعمولی تبادلہ ہوا تھا۔

فرانسیسی صدارتی دفتر کے حکام کی جانب سے کہا گیا کہ امریکی صدر اور جی 7 حکام کے درمیان الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا، جبکہ یہ رپورٹس بھی منظر عام پر آئیں کہ امریکا کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا گیا، تجارتی نظام بھی امریکا، اسکی معیشت، امریکی مزدوروں اور متوسط طبقے کے لیے بہتر نہیں ہے۔

حکام نے بتایا کہ فرانسیسی صدر نے دھیمے لیکن واضح انداز میں یورپی یونین کا موقف پیش کیا جبکہ اس دوران جاپانی صدر بھی وقفے وقفے سے بات کرتے رہے۔

شام میں خانہ جنگی آئندہ سال تک ختم ہوجائے گی، بشار الاسد

لندن: شام کے صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ ملک میں جاری خانہ جنگی آئندہ سال تک مکمل طور پر ختم ہو جائے گی اور دہشت گردوں کے قبضے سے ملک کا ایک ایک انچ واگزار کرالیں گے۔

شام کے صدر بشار الاسد نے برطانوی اخبار ’میل‘ کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مربوط منصوبہ بندی کے ساتھ دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جا رہا ہے اور 80 فیصد سے زیادہ علاقے میں حکومت کی رٹ قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں باقی ماندہ علاقوں سے بھی ایک سال کے اندر اندر دہشت گردوں کا صفایا کردیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اتحادی ممالک میں اختلافات ہوسکتے ہیں یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں تاہم یہ تاثر دینا درست نہیں کہ روس شام کے حکومتی فیصلوں میں مداخلت کر رہا ہے جس کی وجہ سے اختلافات پیدا ہورہے ہیں درحقیقت روس نے فيصلہ سازی ميں کبھی زبردستی نہيں کی، ہم اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور یہ جنگ ایک ایک انچ زمین کے واگزار کرانے تک جاری رہے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ شامیوں نے قیام امن کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور دہشت گردوں کو اپنے عزم اور حوصلے کی بنیاد پر مار بھگایا ہے، یہ دہشت گرد آج شام میں خانہ جنگی کا باعث ہیں تو کل کسی اور علاقے میں تباہ کاریاں پھیلا سکتے ہیں، عالمی قوتوں کو یہ بات سمجھنے کی شدید ضرورت ہے۔

کم جونگ ان اور ڈونلڈ ٹرمپ تاریخی ملاقات کے لیے سنگاپور پہنچ گئے

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تاریخی ملاقات کے لیے سنگاپور پہنچ گئے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق سنگاپور کے چانگی ایئرپورٹ پر کم جونگ ان کے پُر تپاک استقبال کے لیے سنگاپور کے وزیرخارجہ سمیت سینئر حکام موجود تھے۔

سنگاپور کے ایک شاندار ہوٹل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان کے درمیان 12 جون کو ہونے والی تاریخی ملاقات کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی۔

امریکا کو امید ہے کہ یہ دو ملکی سربراہی کانفرنس کامیاب ہوجائے گی اور دونوں ممالک کے درمیان جزیرہ نما کوریا میں استحکام لانے میں پیش رفت ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان گزشتہ 18 ماہ کے دوران لفظی جنگ جاری رہی جس میں ایک دوسرے کی تضحیک بھی کی گئی اور جنگ کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

حالات یکسر تبدیل ہوگئے اور دونوں ممالک اب ایک دوسرے کے ساتھ سنگا پور میں ملاقات کرنے جارہے ہیں۔

کم جونگ ان اور ڈونلڈ ٹرمپ سربراہی کانفرنس سے قبل سنگاپور کے وزیراعلظم لی سین لونگ سے بھی ملاقات کریں گے۔

شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان تناؤ گزشتہ برس اس وقت شدید ہوگیا تھا جب شمالی کوریا نے امریکی علاقے گوام کو میزائل حملے کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سپریم رہنما کِم جونگ اُن سے پہلی تاریخی ملاقات کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

یاد رہے کہ 27 اپریل کو شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن ڈیمار کیشن لائن عبور کرکے پہلی مرتبہ جنوبی کوریا پہنچے تھے جہاں انہوں نے شمالی و جنوبی کوریا کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی تھی۔

بعدِ ازاں 29 اپریل کو جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے دعویٰ کیا تھا کہ رواں برس مئی میں شمالی کوریا کی جوہری ہتھیاروں کے تجربات کرنے کی سائٹ بند ہوجائے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا نے رواں ماہ کے آخر میں بین الااقوامی میڈیا کی موجودگی میں اپنی جوہری تنصبات کو تباہ کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

بھارتی فوج کے ہاتھوں مزید تین کشمیری شہید، 24 گھنٹے میں شہدا کی تعداد 6 ہوگئی

سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ظلم و بربریت کی انتہا کرتے ہوئے مزید تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا ہے جس کے نتیجے میں 24 گھنٹے میں شہدا کی تعداد 6 ہوگئی ہے۔

کشمیر میڈیا سیل کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر ضلع کپواڑہ کے علاقے کیرن میں مزید تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا ہے۔ جب کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب بھی ماچھل سیکٹر میں بھی بھارتی فوج کی فائرنگ سے تین نوجوان شہید ہوگئے۔

قابض بھارتی فوج نے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ضلع کپواڑہ کی خوبصورت وادی کیرن کا محاصرہ کرکے گھر گھر تلاشی کے دوران چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا۔ خواتین کے ساتھ بدتمیزی کی گئی اور بزرگوں اور بچوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جب کہ ظلم اور زیادتی کے خلاف آواز بلند کرنے والے تین نوجوانوں کو فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا۔ گزشتہ روز ایک چرواہے کی نشاندہی پر کشمیری نوجوان کی تشدد زدہ لاش بھی ملی تھی جس کے بارے میں شبہ ہے کہ اسے بھی بھارتی فوج نے تشدد کا نشانہ بناکر شہید کیا

واضح رہے کہ جنت نظیر وادی میں 1989 سے جاری قابض بھارتی فوج کے کریک ڈاؤن کے دوران 70 ہزار سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔

 

ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈین وزیراعظم کو کمزور اور بے ایمان قراردے دیا

کینیڈا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کوکمزور اور  بےایمان شخص قراردے دیا۔

جی سیون ممالک کا 44 واں اجلاس کینیڈا میں منعقد ہوا جس میں میزبان سمیت امریکا، اٹلی، جرمنی، فرانس، جاپان اور برطانیہ نے شرکت کی تاہم اجلاس امریکی صدر ٹرمپ اور کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے درمیان محاذ آرائی کی نذر ہوگیا۔

جی سیون ممالک کے درمیان روس کی معطل شدہ رکنیت کو بحال کرنے اور تجارتی ٹیرف کے معاملے پر اختلافات پیدا ہوگئے۔ کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ جی سیون میں شامل تمام ممالک ایک مشترکہ کمیونیکیشن پر اتفاق کرتے ہیں۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈین وزیراعظم کے نیوز کانفرنس کے دوران دیے گئے بیان کو جھوٹ پرمبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کسی ملک کو ناجائز معاشی فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دے گا۔

اتفاق رائے نہ ہونے کےباعث جی 7 کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ کی بجائے صرف ایک بیان جاری کیا گیا جس کے مطابق اجلاس  میں تجارتی معاملات کے علاوہ روس اور ایران کے ساتھ تعلقات زیرغور آئے۔ امریکی صدر کانفرنس کے باضابطہ اختتام سے قبل ہی سنگاپور روانہ ہو گئے۔

روانگی کے بعد  ٹرمپ نے ٹوئٹرپر  کینیڈین وزیراعظم کےخلاف محاذ کھول دیا اور کہا ٹروڈو بے ایمان اور کمزور شخص ہے، ہم دیگر ممالک کو امریکی کمپنیوں اور کسانوں پربے تحاشا ٹیکس لگانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

صدر ٹرمپ نے ٹویٹ  میں کم جونگ ان سے ملاقات کو شمالی کوریا اور دنیا بھر کیلئے حیرت انگیز نتائج حاصل کرنے کا بہترین  موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملاقات میں کامیابی کی صورت میں کم جونگ ان کو امریکا آنے کی دعوت بھی دے سکتا ہوں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنماکم جونگ کے درمیان تاریخی ملاقات بارہ جون کو سنگاپور میں شیڈول ہے ۔ ملاقات کے دوران جوہری ہتھیار ختم کرنے اور پابندیاں نرم کرنے کے معاملات پر گفتگو کا امکان ہے۔

افغانستان: طالبان کے حملوں میں سیکیورٹی فورسز کے 36 اہلکار ہلاک

افغانستان میں طالبان کی جانب سے عید الفطر کے دوران جنگ بندی کی حکومتی پیش کش کی منظوری سے قبل مغربی صوبے ہرات اور شمالی صوبے قندوز میں فوجی بیس اور پولیس سینٹر پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں 36 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ افغان فوجی بیس پر حملہ کیا گیا جس کے بعد ہرات کے گورنر کے ترجمان جیلانی فرہاد کا کہنا تھا کہ حملے میں افغان سیکیورٹی فورسز کے 17 اہلکار ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ضلع زاول میں ہونے والے تصادم میں طالبان کا بھی جانی نقصان ہوا ہے تاہم انھوں نے کوئی اعداد وشمار فراہم نہیں کیے۔

زاول کے گورنر محمد سعید سروری نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے اسحلہ بھی ضبط کرلیا۔

طالبان نے ویٹس ایپ پیغام میں کہا کہ افغانستان کے 18 فوجیوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

دوسری جانب قندوز میں ایک مرکز پر طالبان کے حملے میں 19 افغان پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔

قندوز کے صوبائی گورنر کے ترجمان نعمت اللہ تیموری کا کہنا تھا کہ قلعہ زل میں پولیس کے مرکز پر ہونے والے حملے میں 5 اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

صوبائی پولیس کے ترجمان انعام الدین رحمانی نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 8 طالبان جنگجو بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ طالبان کی جانب سے دونوں حملے عیدالفطر کے تین روز کے دوران افغان فورسز کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان سے محض چند گھنٹے قبل کیے گئے تھے۔

افغان طالبان نے غیر متوقع طور پر مثبت جواب حکومت کی جانب سے ایک ہفتے سے جاری آپریشن کے دوران حیران کن طور پر جنگ بندی کے لیے کی گئی پیش کش کے جواب کے طور پر آیا ہے۔

صدر اشرف غنی نے 12 جون سے 19 جون تک جنگ بندی کا عندیہ دیتے ہوئے ٹویٹر میں اپنے پیغام میں کہا کہ ‘یہ فیصلہ 27 رمضان سے شروع ہوگا اور عید کے پانچویں روز تک جاری رہے گا۔’

Google Analytics Alternative