بین الاقوامی

فرانس میں 2 برطانوی طیاروں کے درمیان تصادم میں 2 افراد ہلاک

پیرس: فرانس میں دو چھوٹے برطانوی طیاروں کے درمیان تصادم میں پائلٹ اور ایک مسافر ہلاک ہوگئے جب کہ دوسرے طیارے کا پائلٹ اور مسافر شدید زخمی ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اٹلی کی سرحد کے نزدیک دو چھوٹے برطانوی طیارے آپس میں ٹکرا کر زمین بوس ہوگئے جس کے نتیجے میں ایک طیارے کے پائلٹ اور ایک مسافر ہلاک ہوگئے جب کہ دوسرے طیارے میں سوار پائلٹ اور مسافر زخمی ہیں۔

ریسکیو اداروں نے امدادی کاموں کا آغاز کرتے ہوئے دوسرے طیارے کے پائلٹ اور مسافر کو بچالیا جنہیں قریبی اسپتال میں طبی امداد فراہم کی گئی۔ ہلاک اور زخمی ہونے والے برطانوی شہری ہیں جن کی عمریں 30 سے 50 سال کے درمیان ہیں۔

دونوں طیاروں نے فرانس کے جنوبی شہر سے پرواز سے بھری تھی تاہم حادثے کی وجہ کا تاحال تعین نہیں کیا جاسکا ہے، تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

بورس جانسن برطانیہ کے نئے وزیراعظم نامزد

برطانوی حکمراں جماعت کنزر ویٹو پارٹی نے بورس جانسن کو وزیراعظم نامزد کر دیا۔

کنزرویٹیو پارٹی کے انتخابات میں بورس جانسن نے جرمی ہنٹ کو 92153 ووٹ لے کر شکست دی۔ جرمی ہنٹ ان کے مقابلے میں صرف 46656 ووٹ حاصل کر سکے۔

بورس جانسن نے وزراء اور پارٹی اراکین سے خطاب میں کہا کہ انہیں بریگزیٹ کو مکمل، ملک کو متحد کرنا ہے اور جیرمی کاربن کو شکست دینی ہے۔

بورس جانسن کی فتح پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی خوشی کا اظہار کیا اور اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ “وہ عظیم ہو گا۔”

برطانیہ کی موجودہ وزیراعظم ٹریزامے نے گزشتہ ماہ بریگزٹ ڈیل کی پارلیمنٹ سے منظوری میں ناکامی کے بعد مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

ٹریزا مے کل یعنی بدھ کو پارلیمنٹ سے الوداعی خطاب اور سوالات کے جوابات دیں گی جس کے بعد وہ اپنا استعفیٰ ملکہ برطانیہ کو پیش کریں گی۔

اس کے بعد بورس جانسن اپنی تعیناتی کی تصدیق کے لیے بکنگھم پیلس جائیں گے جہاں سے وہ ڈاؤننگ اسٹریٹ میں بلیک ڈور نمبر 10 کے سامنے خطاب کریں گے۔

ٹرمپ اور وزیراعظم کی ملاقات عالمی میڈیا میں بھی سر فہرست

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ملاقات عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں سرفہرست رہی۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی شہ سرخی تھی کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں امریکی صدر نے پاکستان کے ساتھ افغان امن مذاکرات میں تیزی کے لیے معاونت کے وجہ سے پاکستان کے ساتھ تناؤ کم کرنے کی کوشش کی۔ اخبار کے مطابق گزشتہ سال ہی امریکی صدر نے پاکستان پر تنقید کے نشتر چلائے تھے لیکن گزشتہ روز پاکستانی وزیراعظم کو پوری شان و شوکت کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ اخبار نے مزید تجزیہ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ پاکستان کی طرف سے دباؤ پر طالبان جنگ بندی پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ امریکی صدر نے پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں افغان امن مذاکرات میں پاکستان کی کوشش کو سراہنے کے بجائے اپنی ہی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پہلے پاکستان نے افغانستان میں امن کے قیام کے لیے  مثبت قدم اس لیے نہیں اٹھائے کیونکہ ان کا پالا غلط امریکی صدر سے پڑا۔

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف اور گارڈین نے بھی امریکی صدر اور پاکستانی وزیراعظم کی ملاقات پر رپورٹس شائع کیں جس پر بھارتی اخبارات ایک بار پھر پاکستان اور امریکا کے درمیان تناؤ کم ہونے پر آگ بگولا ہوگئے۔

ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش، مودی حکومت اور بھارتی میڈیا میں صف ماتم بچھ گئی

کراچی:  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم عمران خان کی وائٹ ہائوس میں تاریخی ملاقات کے موقع صدر ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کو ثالثی کی پیشکش پر بھارت میں کہرام مچ گیا ہے۔

مودی حکومت اور بھارتی میڈیا میں ٹرمپ کی اس پیشکش کے بعد صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے ٹرمپ کی پیشکش کی خبر دنیا بھر میں بریکنگ نیوز کے طور پر نشر ہونے کے بعد ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دروغ گوئی سے کام لیا اور یہ بیان داغ دیا کہ وزیر اعظم مودی نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے لیے کبھی صدر ٹرمپ سے درخواست نہیں کی۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان راویش کمار نے ٹویٹر کا سہارا لیتے ہوئے ٹرمپ کے بیان کو غلط قرار دینے کی کوشش کی۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہمارا موقف ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام تصفیہ طلب معاملات کو باہمی طور پر مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان سے مذاکرات اسی وقت ممکن ہوں گے جب وہ سرحد پار ہونے والی دہشت گردی ختم کرے۔

دو حصوں پر مشتمل ٹویٹ میں انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے مابین تعلقات دو طرفہ نوعیت کے ہیں اور ان کو حل کرنے کے لیے شملہ معاہدہ اور لاہور اعلامیہ موجود ہیں۔ دوسری جانب کانگریس کے رہنما بھی ٹرمپ کی پیشکش پر تلملا سے گئے ہیں، کانگریسی ششی تھرور نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ٹرمپ نہیں جانتے وہ کیا بول رہے ہیں۔

اپنے ٹویٹ میں ششی تھرور کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ ٹرمپ کو کچھ نہیں پتہ ہوتا کہ وہ کیا بات کررہے ہیں۔ انہیں اس بات پر کوئی بریفنگ بھی نہیں دی گئی ہوگی کہ وزیر اعظم مودی نے کیا کہا تھا۔ اس سلسلے میں بھارتی وزارت خارجہ کو فوری جواب دینا چاہیے۔

جنوبی کوریا کی روسی جنگی طیارے پر 300 سے زائد ’ وارننگ شوٹس‘

سیئول/ ماسکو / بیجنگ: جنوبی کوریا نے روس اور چین پر فضائی سرحد کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے روسی لڑاکا طیارے پر 300 سے زائد بار تنبیہاً غیر مضر شوٹنگ (Warning Shooting) کا دعویٰ کیا ہے۔  

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریا کی فضائیہ نے روسی جنگی طیارے کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر تنبیہ کے لیے 300 سے زائد بار (Warning Shots)  کیے اور روسی طیارے کو واپس جانے پر مجبور کردیا۔

جنوبی کوریا کے وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ  پہلے دو روسی اور 2 چینی لڑاکا طیارے کوریا ایئر ڈیفنس زون میں داخل ہوئے جس کے بعد ایک اور روسی طیارے نے دو مرتبہ ’ڈوکڈو‘ کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔

دوسری جانب روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کے جنگی طیارے نے لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو مرتبہ روسی طیارے کو کراس کیا جب کہ روسی طیارہ ڈوکڈو کے پانیوں پر ایک عالمی فضائی سرحد پر محو پرواز تھا۔

ادھر چین نے بھی جنوبی کوریا کے دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جزیرہ ڈوکڈو کوریا ایئر ڈیفنس کا حصہ نہیں بلکہ تمام ممالک ہی اس علاقے میں آزادانہ اور محفوظ پروازیں کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ جزیرہ ڈوکڈو پر اس وقت جنوبی کوریا کا کنٹرول ہے تاہم جاپان بھی اس کی ملکیت کا دعویدار ہے لہذا اس علاقے میں داخل ہونے والوں طیاروں کو جنوبی کوریا کی جانب سے رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے۔

ایران کا 17 امریکی جاسوس پکڑنے کا دعویٰ، کچھ کو سزائے موت

تہران: ایران نے ایک ماہ کے دوران  امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے 17 جاسوس پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے جن میں سے کچھ کو سزائے موت بھی سنائی گئی ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن پر جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں ملک میں امریکی خفیہ ایجنسی کے نیٹ ورک کے ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے جسے ایرانی فورسز توڑنے میں کامیاب ہوگئی ہے اور 17 امریکی جاسوسوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

حراست میں لیے گئے افراد یا تو حکومتی حساس اداروں میں ملازم تھے یا پھر پرائیوٹ سیکٹر میں اُن اداروں میں ملازم تھے جو معیشت، جوہری،عسکری اور سائبر فورس سے منسلک تھے۔ یہ لوگ آزادانہ طور پر کام کرتے تھے اور انفرادی سطح پر ہی معلومات امریکا میں سی آئی اے آفیسر کو پہنچایا کرتے تھے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق جاسوسوں کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جرائم ثابت ہونے پر کچھ کو سزائے موت بھی سنا دی گئی ہے۔ تاہم سزائے موت کے حقدار جاسوسوں کی تعداد اور نام ظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ اپریل میں بھی ایران کی جانب سے امریکا کے 250 سے زائد جاسوسوں کی گرفتاری کا دعویٰ سامنے آیا تھا جس کے 2 ماہ بعد مبینہ جاسوس جلال حاجی زوار کو پھانسی دی گئی تھی۔ جلال ایرانی وزارت دفاع کا ملازم تھا اور امریکا کو معلومات فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار تھا۔

شام میں اتحادی افواج کی فضائی بمباری میں 16 افراد جاں بحق، 36 زخمی

دمشق: شام میں اتحادی افواج نے پُررونق بازار پر فضائی بمباری کی جس کے نتیجے میں 16 افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہوگئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ادلب کے جنوبی علاقے معارت النعمان کے پُر ہجوم بازار پر اتحادی افواج کے طیاروں نے بمباری کی جس کے نتیجے میں 16 افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہو گئے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

شام میں داعش جنگجوؤں کے آخری ٹھکانے ادلب میں اب بھی گھمسان کی جنگ جارہی ہے، گزشتہ دو ماہ کے دوران ان علاقوں میں ہونے والوں جھڑپوں کے دوران 2 ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جب کہ ہزاروں بے گھر ہوگئے ہیں۔ اسپتالوں میں طبی سہولیات کے فقدان کے باعث اموات میں اضافہ ہوا۔

واضح رہے کہ شام میں 2011ء سے جاری خانہ جنگی میں اب تک 3 لاکھ 70 ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جب کہ لاکھوں افراد کو اپنا گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر پناہ گزین کیمپوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج نے درجنوں مکانات گرا دیئے

قبوضہ بیت القدس: فلسطین میں قابض اسرائیلی فوج نے بارودی مواد اور بھاری مشینریوں کے ذریعے 16 مکانات کو گرا دیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مغربی کنارے پر اسرائیل اور فلسطین کو علیحدہ کرتی دیوار کے نزدیک  فلسطینیوں کی رہائشی عمارتوں کو منہدم کردیا گیا۔ مکانات گرانے کا آغاز صبح 7 بجے کیا گیا جو رات گئے تک جاری رہا۔

قابض اسرائیلی فوج نے رہائشیوں کو کسی قسم کا نوٹس دیئے بغیر مکانات گرادیئے یہاں تک کہ رہائشیوں کو ضروری سامنا بھی اُٹھانے کی اجازت نہیں دی گئی اس دوران اہل خانہ کے ساتھ بدتمیزی کی گئی اور ڈرایا دھمکایا گیا۔

اسرائیلی فوج نے سرحدی دیوار کے نزدیک ان عمارتوں کو سیکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے 7 سال قبل بھی کارروائی کا آغاز کیا تھا جس پر رہائشیوں نے عدالت سے حکم امتناع حاصل کر لیا تھا تاہم  سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ اسرائیل کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا۔

Israel Demolish Home Palestine

فلسطینیوں کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج اگلے مرحلے میں 2 سے 3 کلومیٹر تک کے علاقے میں قائم رہائشی عمارتوں کو گرائے گی جس سے علاقہ مکینوں میں بے چینی پھیل گئی ہے۔

Google Analytics Alternative