بین الاقوامی

مسئلہ کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں، بھارتی آرمی چیف کا اعتراف

نئی دہلی: بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے اعتراف کیا کہ کشمیر کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں۔ 

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کو دیئے گئے انٹرویو میں بپن راوت کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جو کشمیری نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دیتے ہوئے اسے آزادی کا راستہ قرار دیتے ہیں دراصل انہیں گمراہ کررہے ہیں۔ میں کشمیری نوجوانوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ غیر ضروری طور پر جذباتی نہ ہوں، وہ کیوں ہتھیار اٹھاتے ہیں، ہم آزادی کے لیے جدو جہد کر نے والوں سے لڑتے رہیں گے، انہیں کبھی آزادی نہیں ملے گی۔

جنرل بپن راوت نے بھارت کی روایتی شیطانی سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے کہا کہ میرے لئے کشمیر میں فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے لوگوں کی تعداد کوئی اہمیت نہیں رکھتی کیونکہ مجھے معلوم ہے یہ چلتا رہے گا، وادی میں مسلح جدو جہد کرنے والے گروپوں میں نوجوانوں کی شمولیت دیکھی گئی ہے لیکن میں یہ بات بتادوں کہ وہ لاحاصل جدو جہد کررہے ہیں، وہ کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے کیونکہ وہ فوج سے نہیں لڑسکتے۔ میں جانتا ہوں کہ نوجوان بہت غصے میں ہیں لیکن سیکیورٹی فورسز پر پتھراؤ صحیح نہیں۔

بھارتی فوج کے سربراہ نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے بھارتی فوج کو یہ اچھا نہیں لگتا، ہمارے جوان وادی میں ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ عام لوگوں کا جانی نقصان نہ ہو لیکن جب کوئی ہم سے لڑنا چاہتا ہے تو پھر ہم بھی پوری طاقت سے لڑتے ہیں، کشمیریوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز سفاک نہیں، انہیں شام کی صورت حال دیکھنی چاہیے جہاں اسی صورت حال میں لوگوں پر توپوں اور فضائی طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔

جنرل بپن راوت نے کشمیر میں مظاہرین پر تشدد کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگوں کی بڑی تعداد سیکیورٹی فورسز کے سرچ آپریشن کو سبوتاژ کرنے کیوں نکل آتی ہے۔ اگر لوگ چاہتے ہیں کہ مسلح جدو جہد کرنے والے نہ مارے جائیں تو وہ انہیں سمجھائیں کہ اپنے ٹھکانوں سے ہتھیاروں کے بغیر باہر نکلیں کوئی قتل نہیں ہوگا۔ ہم اپنی کارروائی روک دیں گے لیکن کسی کو ہماری کارروائیوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔ بھارتی فوج پر کیا جانے والا پتھراؤ انہیں اور بھی جارح بنادیتا ہے۔

برہان وانی کی شہادت کو کشمیریوں میں جدوجہد آزادی کی نئی روح پھونکنے کی تصدیق کرتے ہوئے بپن راوت نے کہا کہ جون 2016 تک وادی میں سب ٹھیک تھا لیکن ایک آپریشن نے حالات خراب کردیئے، برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پورا کشمیر سڑکوں پر نکل آیا اور ہم پر پتھر برسانے لگا اور ہماری چوکیوں پر حملے ہونے لگے اور پھر یہ نعرے بھی سنے گئے کہ ’’اب آزادی دور نہیں‘‘۔ ہم یہ سب برداشت نہیں کرسکتے تھے ، ہمیں ہر حال میں حالات کو اپنے قابو میں کرنا تھے۔ ہمیں انہیں بتانا تھا کہ آزادی کسی صورت نہیں ملے گی۔

بپن روات نے کشمیر میں نوجوانوں کے غم و غصے کو پاکستان کی سازش قرار دیتے ہوئے ہرزا سرائی کی کہ برہان وانی وادی میں بھارتی فوج کے ہاتھوں مارا جانے والا پہلا نوجوان نہیں تھا۔ میں اب تک یہ سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں کہ وادی کے نوجوانوں میں یہ غصہ کہاں سے آتا ہے۔ دراصل کشمیری نوجوان پاکستان کے جھانسے میں آکر ہم پر حملے کرتے ہیں۔

بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے اعتراف کیا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر کے سیاسی نمائندے شہروں، قصبوں اور دیہات میں جاکر لوگوں سے ملیں، لیکن وہ ڈرے ہوئے ہیں کہ کہیں ان پر کوئی حملہ نہ کردے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب لوگ یہ سمجھیں گے کہ یہ سب غلط ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم وادی میں فوجی آپریشن ختم کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اس کی ضمانت کون دے گا کہ ہمارے لوگوں پر کوئی حملہ نہیں ہوگا۔ پولیس اہلکار، سیاسی کارکن اور آبائی علاقوں کو واپس آنے والوں کو گولی نہیں ماری جائے گی۔ اگر ہم پر پتھر اور گولیاں برسائی جائیں گی تو ہمارے پاس بھی جواب دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔

کانگو میں ایبولا وائرس کی واپسی، 17 افراد ہلاک

کنشاسا: افریقی ملک کانگو میں ایک بار بار پھر مہلک ایبولا وائرس کی وبا پھوٹنے کے نتیجے میں اب تک 17 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افریقی ملک ڈیمو کریٹک ری پبلک کانگو میں ہلاکت خیز ایبولا وائرس نے ایک بار پھر سر اٹھالیا ہے اور حکام نے اس وبا کے نتیجے میں 17 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔ دارالحکومت کنشاسا سے جاری ہونے والے بیان اور رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایبولا وائرس جو ماضی میں بھی متعدد شہریوں کی ہلاکتوں کا باعث بنا تھا ایک بار پھر ڈیڑھ درجن انسانوں کی جان لے چکا ہے جن میں سے زیادہ تر ہلاکتیں شمال مغربی شہر بیکورو میں ہوئیں۔

کانگو کے محکمہ صحت نے ایبولا کے نتیجے میں ہونے والے ہلاکتوں پر بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شروع میں شہر بیکورو میں وائرس کی نئی وبا سے  2 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق نیشنل بائیولوجیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے کی اور مشتبہ طور پر اس وائرس کی وجہ سے بیمار ہونے والے شہریوں کی تعداد 10 بتائی گئی تاہم چند گھنٹے بعد ہی شہر کی محکمہ صحت سے تصدیق ہوئی کہ ایبولا وائرس کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد اب 17 ہو گئی ہے۔

واضح رہے کہ کانگو میں مجموعی طور پر یہ 9 واں موقع ہے کہ وہاں ایبولا وائرس کی وجہ سے شہری ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ پہلی بار اس وائرس کا انکشاف 1970ء کی دہائی میں ہوا تھا اور اس انتہائی ہلاکت خیز جرثومے کو مشرقی کانگو میں دریائے ایبولا کی نسبت سے اس کا نام دے دیا گیا تھا۔

وائرس کے پھیلاؤ نے زیادہ تر اسی دریا کے ساتھ ساتھ واقع علاقوں کو متاثر کیا تھا۔ اس مہلک وائرس کی آخری اور انتہائی ہلاکت خیز وبا 2 برس قبل وسطی افریقا میں دیکھنے میں آئی تھی، جب یہ جان لیوا جرثومہ ساڑھے 11 ہزار افراد کی ہلاکت کا سبب بنا اور تقریباً 29 ہزار متاثر ہوئے تھے۔ وائرس کی وبا کا سب سے زیادہ سامنا گنی، سیر الیئون اور لائبیریا جیسے ممالک کو کرنا پڑا تھا۔

مائیک پومپیو اور کم جونگ ان کی ملاقات، 3 امریکی باشندے رہا کر دیے

پیانگ یانک: شمالی کوریا نے 3 امریکی شہریوں کو قید سے رہا کر دیا۔

امریکی وزیر خارجہ شمالی کوریا پہنچ گئے جہاں ان کی شمالی کورین سربراہ کم جوانگ سے ملاقات ہوئی اور ملاقات کے دوران سربراہ اجلاس کا ایجنڈا طے کیا گیا۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا نے 3 امریکی شہریوں کو قید سے رہا کر دیا ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے اس قدم کو ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے درمیان ملاقات سے قبل جذبہ خیر سگالی قرار دیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ٹویٹ میں کہا کہ وزیر دفاع مائیک پومپیو شمالی کوریا میں پہلے سے طے شدہ مذاکرات کیلیے موجود ہیں وہ ان امریکیوں کو اپنے ساتھ امریکا لے کر آئیں گے۔

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومیو سربراہ اجلاس کا ایجنڈا طے کرنے کیلیے گزشتہ روزشمالی کوریا پہنچے، انھوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امیدہے شمالی کوریا درست راہ پر چلے گا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا یہ شمالی کوریا کا دوسرا دورہ ہے، اس سے قبل انھوں نے اپنے عہدہ کا حلف اٹھانے سے قبل گزشتہ ماہ کم جونگ ان سے ملاقات کی تھی۔

مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ گزشتہ ملاقات میں شمالی کوریا سے اچھے تعلقات کی بنیاد رکھی گئی جب کہ 2000 کے بعد سے امریکا کی جانب سے شمالی کوریا سے یہ پہلا اعلی سطح کا رابطہ تھا۔

کابل میں پولیس اسٹیشنوں پر خودکش حملے، 5 اہلکار ہلاک

کابل: افغانستان کے دارالحکومت  میں دو پولیس اسٹیشنوں پر خودکش حملوں اور فائرنگ کے تبادلے میں 5 سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

افغان میڈیا کے مطابق کابل میں خودکش حملہ آوروں نے پولیس اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا،منظم منصوبہ بندی کے تحت دو مختلف پولیس اسٹیشنز پر پہلے خودکش حملہ آور وں نے خود کو اڑایا جس کے بعد ان کے ساتھیوں نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 5 سیکیورٹی اہلکارہلاک اور 6 افراد زخمی ہوگئے۔

ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی  میں فائرنگ کرنے والے حملہ آور بھی مارے گئے۔

حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی  گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کی تاہم جیسے جیسے پارلیمانی انتخابات کا وقت قریب آرہا ہے افغانستان میں حملوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

شام پر اسرائیلی فضائیہ کا حملہ، 9 افراد ہلاک

بیروت:  شام کے جنوبی علاقے قسوی میں اسرائیلی فضائیہ کے میزائل حملے میں 9 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے شام کے دارالحکومت دمشق میں فوجی مرکز کو نشانہ بنایا، میزائل حملے میں 9 افراد ہلاک ہو گئے جب کے اسلحے کے ڈپو کو بھی نقصان پہنچا تاہم ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ مانیٹرنگ گروپس اور اسرائیلی فوج نے ہلاک افراد کے ایران کے حامی جنگجو ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان جوناتھن کونریکس نے فضائی حملے کے بعد ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ اسرائیل کے خلاف کسی بھی کارروائی کا سخت جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع تھا جب اس علاقے کے مکینوں سے کہا گیا کہ وہ زیر قبضہ علاقے میں محفوظ پناہ گاہیں تیار کرلیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے شام کے فوجی کو اڈے کو اس وقت نشانہ بنایا جب امریکا نے ایران کے جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کر کے ایران پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی صدر کا ایران جوہری معاہدے سے الگ ہونے کا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جوہری معاہدے سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیل سے ایران کو یورینیم افزودگی اور میزائل بنانے کی اجازت مل گئی اس لیے معاہدے کو ختم کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے ایران نیوکلیئر ڈیل سے الگ ہونے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار کی تیاری سے روکنے میں ناکام رہا جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام کو فروغ دیا اس لیے نہ صرف معاہدے کی تنسیخ ضروری ہو گئی ہے بلکہ ایران سے ایٹمی تعاون کرنے والی ریاست پر بھی پابندیاں لگانا ضروری ہو گیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران دہشت گرد ملک ہے جو دنیا بھرمیں دہشت گردی میں ملوث ہے وہ شام ، یمن میں کارروائیاں کر رہا ہے اس لیے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کےحصول سے روکنا ہوگا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ یک طرفہ تھا، یہ معاہدہ ہونا ہی نہیں چاہئیے تھا اور یہ معاہدہ امریکا کے لیے شرمندگی کا باعث بنا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایرانی عوام کے ساتھ ہے، ایران نے جوہری ہتھیار بنانا بند نہ کیے تو مزید سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے اور اگر اس معاہدے کو جاری رکھا تو ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجائے گی جب کہ ہمارے پاس ثبوت ہے کہ ایران کا وعدہ جھوٹا تھا۔

امریکا کی معاہدے سے علیحدگی تشویش ناک ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ ایرانی جوہری معاہدے کا عالمی امن و سلامتی پر مثبت اثر ہوا، امریکا کی ایرانی جوہری معاہدے سے علیحدگی تشویش ناک ہے، معاہدہ جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے اہم کامیابی تھا، امریکا کے علاوہ بھی معاہدے پر عمل درآمد کیا جاسکتا ہے، ایرانی جوہری معاہدے کے دیگر فریق اپنے عہد کی پاسداری کریں۔

ایران سے جوہری معاہدہ جاری رہے گا، یورپی یونین

دوسری جانب یورپی یونین نے ٹرمپ کے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے، یورپی یونین نے ایرانی جوہری معاہدہ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے جوہری پروگرام کو توسیع نہیں دی۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ فیڈریکا مغرینی نے کہا ہے کہ ایران نے ایٹمی معاہدے پر عمل کیا، ایران سے معاہدے کے ثمرات مل رہے ہیں، امید ہے دیگر ممالک معاہدے پر عمل جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ ایران جوہری معاہدے کے تحفظ کے لیے متحد ہے، ایران سے اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ ایٹمی معاہدے کا حصہ تھا۔

یورپی ممالک جوہری ڈیل توڑنے کے خلاف ہیں، فرانسیسی صدر

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے ٹرمپ کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یورپی ممالک جوہری ڈیل توڑنے کے خلاف ہیں۔

فیصلہ افسوس ناک ہے، جرمنی، برطانیہ

جرمنی اور برطانیہ نے بھی امریکی فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے کہا ہے کہ جوہری ڈیل سے متعلق امریکی فیصلہ افسوس ناک ہے۔

ایرانی جوہری معاہدہ توڑنا ٹرمپ کی سنجیدہ غلطی ہے، اوباما

اپنے دور صدارت میں ایران سے معاہدہ کرنے والے سابق امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ ایرانی جوہری معاہدے سے علیحدگی گمراہ کن ہے، ایرانی جوہری معاہدہ توڑنا ٹرمپ کی سنجیدہ غلطی ہے۔

ٹرمپ کے اقدام کی مکمل حمایت کرتے ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ تباہ کن معاہدے سے نکلنے کے بے باک اقدام پر ٹرمپ کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی قوتوں نے ایران پر سخت عالمی پابندیاں عائد کی تھیں تاہم 2015 میں ایک معاہدے کے تحت ایران نے جوہری پروگرام کو شفاف اور محدود رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی جس پر پابندیوں میں نرمی کردی گئی تھی ۔ ایران سے ہونے والے عالمی جوہری معاہدے پر امریکا، برطانیہ، چین، جرمنی، فرانس اور روس نے دستخط کیے تھے۔

کشمیر: بھارتی فورسز کی ریاستی دہشت گردی جاری، سیاح سمیت 5 افراد جاں بحق

سری نگر: بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین فورسز کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے اور حال ہی میں بھارتی فورسز کی ریاستی دہشت گردی میں ایک سیاح سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔

وادئ میں گزشتہ دنوں بھارتی فورسز کی فائرنگ سے متعدد کشمیریوں کے جاں بحق ہونے پر احتجاج کیا جارہا تھا کہ فورسز نے مظاہرین پر فائر کردی جس کی زد میں آکر مزید 4 کشمیری اور ایک سیاح جان کی بازی ہار گیا۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کشمیر کے جنوبی گاؤں میں مظاہرے کے دوران بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک نوجوان سیاح شدید زخمی ہوا جسے علاج کے لیے ہسپتال پہنچایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔

تاہم اس حوالے سے مقامی پولیس کے اہلکار نذیر احمد نے بتایا کہ بھارتی ریاست تامل ناڈو سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ سیاح اپنے اہل خانہ کے ہمراہ نربل گاؤں کے قریب قائم فارم ہاؤس سے ٹیکسی میں واپس آرہا تھا جب ان پر پتھراؤ کیا گیا جس سے گاڑی کے شیشہ ٹوٹ گیا اور وہ شدید زخمی ہوگئے۔

بعد ازاں انہیں فوری طور پر سری نگر میں ہسپتال لے جایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔

حکام کے مطابق ہفتے کے اختتام پر کی جانے والی کارروائیوں میں قتل ہونے والے افراد کی ہلاکت کے خلاف، نربل میں دن بھر احتجاج اور شہریوں کی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔

مذکورہ واقعے کی حریت رہنماؤں سمیت بھارتی حمایت یافتہ سیاستدانوں نے بھی مذمت کی، وزیراعلیٰ کشمیر محبوبہ مفتی کا اس واقع کے حوالے سے کہنا تھا کہ یہ انتہائی دلخراش اور افسوسناک واقعہ ہے، دوسری جانب حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھی اس واقع پر افسوس کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے گزشتہ کچھ سالوں سے بھارتی اور غیر ملکی سیاحوں کو کشمیر کی سیاحت کی جانب متوجہ کرنے کے لیے باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے، اس ضمن میں وادئ میں کئی دہائیوں سے جاری جدوجہد کے پیش نظر سب اچھا دکھانے کی کوشش کی جاتی رہی۔

تاہم مسلسل ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کے بعد ہونے والے مظاہروں کے سبب مغربی ممالک کی جانب سے جاری کردہ انتباہ اور ذرائع ابلاغ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی کوریج کی وجہ سے سیاحت متاثر ہوئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بھارتی جارحیت کے خلاف احتجاج کے دوران 6 شہریوں اور فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 8 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے خلاف کشمیر میں تاحال احتجاج جاری ہے، جس کے سبب کاروبارِ زندگی معطل، جبکہ دکانیں، اسکول اور تجارتی مراکز بند ہیں۔

خیال رہے کہ کشمیر کے علاقے شوپیاں میں بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں 5 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے بعد جائے وقوع پر جانے کی کوشش کرنے والے مظاہرین پر بھارتی فورسز نے اندھا دھند گولیاں برسا دی تھین جس کے نتیجے میں نوجوان سیاح سمیت 5 افراد ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہوگئے تھے۔

پولیس اور دیگر ذرائع کے مطابق مذکورہ سیاح کی ہلاکت کی خبر سنتے ہی گاؤں کے رہائشی افراد احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور علاقے میں موجود بھارتی فوجی کیمپ پر پتھراؤ کیا، جواب میں بھارتی فورسز نے مظاہرین پر پیلٹ گن اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے جس سے کم ازکم 4 افراد مزید زخمی ہوگئے۔

بعدازاں پولیس اور پیراملٹری فورسز کی بھاری نفری نے کرفیو پر عمل درآمد کے لیے سری نگر میں گشت کیا، جب کے وادئ میں ممکنہ مظاہروں کے انعقاد کو مشکل بنانے کے لیے ہمیشہ کی طرح بھارتی حکام کی جانب سے مسلسل تیسرے روز بھی انٹرنیٹ اور موبائل سروسز معطل رہی۔

شمالی کورین رہنما کی چینی صدر سے ملاقات

بیجنگ / ٹوکیو:  شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اْن نے چینی صدر شی جن پنگ سے منگل کے روز دوسری مرتبہ ملاقات کی ہے ملاقات ایک ایسے وقت پر ہوئی جب کِم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ملاقات بھی متوقع ہے۔

قبل ازیں شمالی کوریائی رہنما مارچ میں ٹرین کے ذریعے چین پہنچے تھے، حالیہ چند ہفتوں میں شمالی کوریا کے حوالے سے سفارتی سرگرمیاں انتہائی تیز ہوئی ہیں، گزشتہ ماہ کے اواخر میں شمالی اور جنوبی کوریائی رہنماؤں کی ایک تاریخی ملاقات بھی ہوئی تھی، دونوں رہنماؤں کی ملاقات چین کے ساحلی شہر دالین میں ہوئی۔ ملاقات کے دوران شمالی کورین رہنما نے چینی صدر سے کہا کہ امید ہے تمام متعلقہ فریقین خطے میں ایٹمی ہتھیارختم کرنے اور امن کیلیے اقدامات کریں گے، چینی نیوز ایجنسی ژنہوا کے مطابق کم جانگ ان نے کہا کہ اگر شمالی کوریا کو نقصان پہنچانے والی پالیسیوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور پیانگ یانگ کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہ ہو تو ہمیں ایٹمی ہتھیاروں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

کم جونگ نے مزید کہا کہ جزیرہ نما کوریا سے ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ ہماری صاف پالیسی کا حصہ ہے، اس سلسلے میں مذاکرات شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان باہمی اعتماد کو مضبوط کر سکتے ہیں، چینی صدر نے اس موقع پر کہا کہ بیجنگ جزیرہ نما کوریا سے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کیلیے مدد کرے گا اور امریکا شمالی کوریا مذاکرات کا حامی ہے، شمالی کورین رہنما کی آمد پر دالین کا ہوائی اڈا عام لوگوں کیلیے صبح 8 بجے سے 1بجے تک بند کردیا گیا تھا اور ارد گرد کی سڑکیں بھی بند کر دی گئی تھیں، چین، جنوبی کوریا اور جاپان کی سہ فریقی کانفرنس آج ٹوکیو میں منعقد ہوگی جس میں تینوں رہنما شمالی کوریا کے اسلحے میں کمی کے بارے میں اعلانات پر تبادلہ خیال کریں گے۔

Google Analytics Alternative