بین الاقوامی

شام میں امریکی بمباری سے 54 افراد ہلاک

دمشق: شام میں امریکی اتحاد کی فضائی بمباری کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 54 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

شامی خانہ جنگی پر گہری نظررکھنے والی این جی او سیرین آبزرویٹری کے مطابق امریکی اتحادی طیاروں نے داعش کے خلاف کارروائی کے دوران عراقی سرحد کے قریبی علاقے  السوسہ میں بمباری کی  ہے۔

لڑاکا طیاروں نے برف بنانے والی ایک فیکٹری اور اس کے اطراف میں بم برسائے جس سے 54 افراد ہلاک ہوگئے، مرنے والوں میں 30 داعش کے جنگجو اور 24 عام شہری ہیں۔

 امریکی اتحاد نے ایک تحریری بیان میں بمباری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا اور اتحادی طیاروں نے عراقی سرحد کے قریب کارروائی کی ہے جس میں عام شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کی ہلاکت  کے حوالے سے تمام شواہد اکٹھے کرکے ابتدائی رپورٹس سویلین سیل کو بھیج دی گئی ہیں جو تمام تر پہلوؤں کا جائزہ لے کر انکوائری رپورٹ تیار کرے گی۔

کویت؛ حادثے میں جاں بحق حاملہ خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش

کویت سٹی: کویت میں کار حادثے میں جاں بحق ہونے والی حاملہ خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق کویت میں ایک حاملہ خاتون کار حادثے میں دنیا سے چلی گئی تاہم معجزانہ طور پر کوکھ میں موجود بچے کو بچالیا گیا۔

شہر ’بیان‘ میں پیش آئے اس واقعے میں پانچ بچوں کی ماں جو خود امید سے تھی ایک خوفناک کار حادثے میں شدید زخمی ہوئی جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے اس کی جان بچانے کی سر توڑ کوشش کی تاہم وہ ناکام رہے اور خاتون دم توڑ گئی تاہم ڈاکٹرز نے کامیاب آپریشن کر کے بچے کی جان بچالی۔

عرب ریاستوں میں ٹریفک حادثات اموات کی ایک بڑی وجہ ہیں اور ان جان لیوا حادثات میں کمی لانے کے لیے آگاہی مہم کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر متعدد اقدامات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

ترکی: فوجی کرنل اور میجر سمیت 72 افراد کو عمر قید کی سزا

استنبول: ترکی کی ایک عدالت نے 2 سال قبل ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے دوران 34 افراد کی ہلاکت کے الزام میں 72 افراد کو عمر قید کی سزا سنادی۔

ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے اناطولو نیوز کے مطابق سزا یافتہ 72 افراد میں ترک فوج کے ایک کرنل اور ایک میجر بھی شامل ہیں جن پر آئینی احکامات کی خلاف ورزی کا الزام ہے، جبکہ دیگر 27 افراد کو معاونت فراہم کرنے کے الزام میں 15 سال سے زائد کی قید کی سزا دی گئی۔

اس حوالے سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق سزا پانے والے ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا اور بریت کی درخواست کی، جبکہ ان کے علاوہ مقدمے میں نامزد 44 افراد کو بری کردیا گیا۔

مذکورہ مقدمے میں سزا یافتہ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر ان شہریوں کو قتل کیا جو فوجی بغاوت میں ملوث افراد کی جانب سے شاہراہ باسفورس بند کیے جانے کے بعد، ترک صدر ظیب اردگان کے پیغام پر باغیوں کا سامنا کرنے باہر آئے تھے۔

خیال رہے کہ 15 جولائی 2016 کو ترک فوج کی جانب سے صدر طیب اردگان کا تختہ الٹنے کی ناکام کوششوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں تقریباً 250 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس میں زیادہ تر نہتے شہری تھے۔

واضح رہے کہ ناکام بغاوت میں فوجی اہلکاروں نے فوجی ٹینکوں، جنگی طیاروں، اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا تھا اور پارلیمنٹ پر بمباری بھی تھی۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ترک عدالت کا حالیہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب بغاوت کو دو سال مکمل ہونے والے ہیں، اور ترک صدر پہلے سے زائد طاقت و اختیار کے ساتھ اقتدار میں موجود ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ برطانیہ کے موقع پرعوام کی جانب سے شدید احتجاج

لندن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ برطانیہ کے موقع پر عوام کی جانب سے شدید احتجاج کیا جارہا ہے۔

امریکی صدر اہلیہ میلانیہ ٹرمپ کے ہمراہ 4 روزہ سرکاری دورے پر لندن کے اسٹینسٹیڈ ایئرپورٹ پہنچے جہاں مظاہروں کے پیش نظر انہیں سڑک کی بجائے بذریعہ ہیلی کاپٹر امریکی سفیر کی رہائشگاہ لے جایا گیا۔

برطانوی پولیس کی جانب سے مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں جب کہ بعض مقامات پر مظاہرین جمع ہوئے اور انہوں نے امریکی صدر کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دورہ برطانیہ کے دوران وزیراعظم تھریسامے سے ملاقات کریں گے جس کے دوران 2019 میں برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد امریکا سے تجارتی امور پر بات چیت ہوگی۔

امریکا کا ایرانی تیل خریدنے والے ممالک کو رعایت دینے کا عندیہ

واشنگٹن: امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے امکان ظاہر کیا ہے کہ امریکا ان ممالک کو رعایت فراہم کرسکتا ہے جو ایرانی تیل پر لگائی گئی سخت پابندیوں سے استثنٰی حاصل کرنے کی درخواست کریں گے۔

خیال رہے کہ جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد امریکا کی جانب سے ایران پر عائد کردہ اقتصادی پابندیاں رواں برس 4 نومبر سے نافذ العمل ہوں گی۔

ایرانی سے بڑی مقدار میں تیل برآمد کرنے والے ممالک میں چین اور بھارت شامل ہیں جبکہ ایک اور درآمدی ملک ترکی نے عندیہ دیا ہے کہ وہ پابندی کے نفاذ کے بعد بھی ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھے گا۔

اسکائی نیوز عربیہ کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران جب مائیک پومپیو سے پوچھا گیا کہ امریکا ان ممالک کے ساتھ کس طرح پیش آئے گا، جو 4 نومبر کے بعد بھی ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھیں گے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ قابل گرفت حرکت ہوگی، ہم پابندیاں نافذ کر کے رہیں گے‘۔

اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پابندی نافذ ہونے کی صورت میں کچھ ممالک کی جانب سے رعایت طلب کرنے کی توقع کی جارہی ہے اور امریکا ان درخواستوں پر غور کرے گا۔

مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ کوئی دھوکے میں نہ رہے ہم ایرانی قیادت کو یہ باور کرانے کے لیے پر عزم ہیں کہ ان کا خراب رویہ کسی کام نہیں آئے گا اور ملک کی اقتصادی صورتحال اس وقت تک بہتر نہیں ہوسکتی جب تک وہ ایک بہتر قوم نہیں بن جاتے۔

دوسری جانب فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس تنبہہ کے باوجود کچھ ممالک ایرانی تیل پر انحصار کرنے کے سبب امریکی پابندیوں کو نظر انداز کرنے پر مجبور ہوں گے۔

اخبار میں مزید کہا گیا کہ عالمی طور پر تیل کی کھپت کا بیشتر انحصار ایران پر ہے جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر 2.4 ارب بیرل تیل نکالا جاتا ہے، اس لیے ممکن ہے کہ دنیا امریکا کی جانب سے ایرانی تیل پر لگائی گئی مکمل پابندی کی متحمل نہ ہو۔

واضح رہے کہ ایران، سعودی عرب اور روس کے بعد دنیا میں خام تیل برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے، ایرانی سرکاری ادارے کے مطابق رواں برس مئی میں ایرانی تیل کی برآمدات نے 2.617 بیرل فی دن کی ریکارڈ سطح کو چھو لیا تھا۔

تاہم اب نیشنل ایرانین آئل کمپنی کا کہنا ہے کہ امریکا کی اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کے بعد ایرانی تیل کی برآمدات 5 لاکھ بیرل فی دن تک کم ہوسکتی ہے۔

افغان حکومت اور طالبان جنگ بندی کرکے مذاکرات شروع کریں، مکہ اعلامیہ

جدہ: سعودی عرب میں ہونے والی علما کانفرنس نے افغانستان میں جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حکومت اور طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق سعودی شہزادہ خالد الفیصل کی زیر سربراہی جدہ میں علما کانفرنس ہوئی جس میں دنیا بھر سے 200 سے زائد مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی جن میں پاکستان کے 12 علما بھی شامل تھے۔ کانفرنس کے اختتام پر ’مکہ اعلامیہ‘ جاری کیا گیا جس میں افغانستان میں فریقین سے جنگ بندی کرکے امن مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ افغانستان میں موجود فریقین جنگ بندی کرکے تشدد، اختلافات اور بغاوت کے خاتمے کے لیے اسلامی اقدار پر مبنی براہ راست امن مذاکرات شروع کریں۔

اختتامی خطاب میں اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے سربراہ يوسف بن احمد العثيمين نے کہا کہ مکہ اعلامیہ مسئلہ افغانستان کا پر امن شرعی حل پیش کرتا ہے۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے کہا کہ مکہ کانفرنس سے افغانستان میں سلامتی اور استحکام کا نیا باب کھلے گا۔

 دوسری جانب افغان طالبان نے کانفرنس کے انعقاد سے پہلے ہی اسے مسترد کرتے ہوئے سعودی عرب کے بارے میں بھی انتہائی سخت بیان جاری کیا۔ طالبان کے بیان میں کہا گیا کہ افغانستان کی جنگ کوئی مقامی اندرونی تنازع نہیں بلکہ ایک اسلامی ملک پر کفار کی جارحیت ہے جس کے خلاف طالبان کی مزاحمت جہاد فرض ہے، کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس جہاد کو فساد قرار دے اور نہ ہی وہ ایسا کرنے دیں گے۔

طالبان نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت اور علما سے یہ امید نہیں کہ وہ کفر اور اسلام کی جنگ میں امریکی حملہ آور کا ساتھ دیں گے، بلکہ وہ توقع کرتے ہیں اسلامی کانفرنس پہلے کی طرح ان کی جائز جدوجہد کی حمایت کرے گی۔ طالبان کے اسی سخت ردعمل کی وجہ سے مکہ اعلامیے میں افغان طالبان کے خلاف کوئی فتویٰ نہیں جاری کیا گیا اور صرف اعلامیے پر ہی اکتفا کرلیا گیا۔ ورنہ اس کانفرنس کے دعوت نامے میں افغانستان میں جاری طالبان کی جدوجہد کو دہشت گردی اور طالبان کو غیرقانونی مسلح گروہ اور جرائم پیشہ افراد کہہ کر پکارا گیا تھا۔

جاپان میں نرس گرفتار، 20 مریضوں کو زہر دینے کا اعتراف

ٹوکیو: جاپان میں قریب المرگ 20 مریضوں کو زہر دینے والی ایک نرس کو گرفتار کرلیا گیا، نرس نے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریضوں کو آسان موت دینے کے لیے ایسا کیا۔

جاپانی میڈیا کے مطابق دارالحکومت ٹوکیو کے ایک اسپتال میں 31 سالہ نرس ’ایومی کوبوکی‘ کو پولیس نے گزشتہ ہفتے گرفتار کیا ہے جس پر مریضوں کو زہر دینے کا الزام ہے۔

نرس کے کردار پر سوالیہ نشان اس وقت پیدا ہوا جب جون میں چار معمر افراد دم توڑ گئے۔ پولیس نے تحقیقات اس وقت شروع کیں جب مرنے والے ایک اور 88 سالہ مریض نوباؤ کی آئی وی ڈرپ میں بلبلے پائے گئے۔

japani nurse 2 Death angel arrested Tokyo Ayumi Kuboki, 31, admits she ‘poisoned 20 patients

ڈاکٹروں نے نوباؤ کے انتقال کے بعد اس کی موت کے تعین کےلیے بلڈ ٹیسٹ کیے تو مریض کے خون میں اینٹی سیپٹک سلوشن کی بڑی مقدار پائی گئی جس کی وجہ سے مریض کی موت ہوئی جس کے بعد ڈاکٹروں نے اسے طبعی کے بجائے زہر کے ذریعے قتل قرار دیا۔

پولیس نے تحقیقات کیں تو اسی کیمیکل سے بھری مزید غیر استعمال شدہ سرنج صرف ایک نرس کے لباس سے برآمد ہوئیں جو ایومی کوبکی تھی۔

پولیس نے ایومی کو حراست میں لے کر تحقیقات کیں تو اس نے چار کے بجائے 20 مریضوں کو زہر دے کر مارنے کا اعتراف کیا۔

ایومی نے بتایا کہ وہ مریضوں کو اپنی شفٹ کے بجائے شفٹ ختم کرنے کے بعد دوسری نرس کی ڈیوٹی میں زہر دیتی تھی تاکہ وہ ہلاکت پر مریض کے اہل خانہ کے سوالات سے بچ سکے۔ ایومی کا کہنا ہے کہ میں نے صرف قریب المرگ مریضوں کو ہی نشانہ بنایا اور مریضوں کو پرسکون موت دینے کے لیے بہت محنت کی ہے کیونکہ میں ان کی حالت سے افسردہ تھی۔

جاپانی میڈیا کے مطابق ایومی نے 2008ء میں نرس کا کورس پاس کیا تھا اور اس اسپتال میں وہ2015ء سے کام کررہی تھی وہ ایک خاموش اور باصلاحیت نرس کے طور پر جانی جاتی تھی۔

شام میں خودکش کار بم حملہ، 14 افراد جاں بحق، حکومت کے حامی 67 فوجی ہلاک

دمشق: شام کے صوبے دارا میں خود کش کار بم حملے میں 14افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ باغیوں نے اسد حکومت کے حامی 40 فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شام کے صوبے دارا میں ایک خودکش کار بم حملے میں14 جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں، خودکش کار بم دارا صوبے کے علاقے زیزون میں ہوا جس میں سرکاری افواج حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے 14افراد مارے گئے۔

حملے کی ذمے داری داعش نے قبول کر لی ہے، سیریئن آبزرویٹری کے مطابق العتیرہ نامی گاؤں میں حکومتی دستوں اور اس کے اتحادیوں کے 27 جنگجو مارے گئے ہیں اور ان میں 8 افسر بھی شامل ہیں۔

 آبزوریٹری نے مزید بتایا کہ باغیوں نے اس دوران العتیرہ پر قبضہ بھی کر لیا ہے، ایک اور کارروائی میں اسد حکومت کے حامی دستوں کے مزید 40 جنگجو زخمی اور 6 باغی ہلاک ہو گئے ہیں، العتیرہ ترک سرحد کے قریب الاذقیہ نامی صوبے میں واقع ہے جبکہ بشار کی فوج نے اچانک سے اِدلِب کے مغربی اور شمالی دیہی علاقوں پر فضائی بمباری اور میزائل برسانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

دریں اثنا امریکی فوج کے جنرل مائیک ناگاٹا نے واشنگٹن میں مشرق بعید انسٹیٹیوٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق اور شام میں اپنے علاقے کھونے کے بعد داعش کے جنگجو تتر بتر ہو گئے ہیں مگر وہ خود کو کسی بھی وقت منظم کر سکتے ہیں، مقامی حکومتوں کو داعش کے خطرے سے ہروقت چوکنا رہنا ہو گا، حکومتیں داعش کے زیر تسلط رہنے والے علاقوں میں مضبوطی کے ساتھ اپنی رٹ برقرار رکھیں۔

Google Analytics Alternative