بین الاقوامی

ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا کے والدین کو امریکی شہریت مل گئی

واشنگٹن: تارکین وطن کے مخالف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے والدین کو ‘چین مائیگریشن’ (Chain Migration) کے تحت امریکی شہریت مل گئی۔

دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق خاتون اول ملانیا ٹرمپ کے والدین وکٹر اور امالیجہ نے نیویارک میں ہونے والی ایک نجی تقریب کے دوران امریکی شہریت کاحلف اٹھایا۔

سلوینیا سے تعلق رکھنے والے وکٹر اور امالیجہ مستقل ریزیڈنٹ کے طور پر امریکا میں مقیم تھے اور رپورٹ کے مطابق میلانیا ٹرمپ نے اپنے والدین کے لیے گرین کارڈ اسپانسر کیا۔

تقریب حلف برداری کے موقع پر ایک صحافی نے میلانیا ٹرمپ کے والد سے پوچھا کہ امریکی بن جانے کے بعد آپ کو کیسا لگا رہا ہے؟ تو ان کے وکیل مائیکل ولڈیز نے جواب دیا کہ ‘ان کا سفر بہت شاندار رہا ہے’۔

وکیل نے بتایا کہ وکٹر اور امالیجہ نے امریکی شہریت کے لیے اپنے طور پر اپلائی کیا اور انہیں کوئی خاص قسم کی چھوٹ یا رعایت نہیں دی گئی۔

واضح رہے کہ میلانیا ٹرمپ کے شوہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خاندانوں کی امیگریشن کی مخالفت کرتے آئے ہیں، جسے وہ ‘چین مائیگریشن’ کا نام دیتے ہیں۔

دوسری جانب میلانیا ٹرمپ اس وقت اپنے شوہر کے ہمراہ بیڈمنسٹر، نیو جرسی میں چھٹیاں گزار رہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے والدین کی تقریب حلف برداری میں شرکت نہیں کی۔

میلانیا کی ترجمان اسٹیفنی گرشم نے بھی اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ خاتون اول کے والدین انتظامیہ کا حصہ نہیں ہیں، لہذا پرائیویسی ان کا حق ہے۔

میلانیا ٹرمپ کے والد وکٹر کی عمر 74 برس ہے اور وہ اپنے داماد ڈونلڈ ٹرمپ سے صرف 2 سال بڑے ہیں، جبکہ ان کی والدہ امالیجہ کی عمر 73 برس ہے۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ساس، سسر کو امریکی شہریت ملنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی ٹوئیٹ نہیں کی ہے۔

بھارتی ریاست کیرالہ میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 29 افراد ہلاک

نئی دہلی: بھارتی ریاست کیرالا میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 29 ہوگئی ہے، ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے فوج طلب کرلی گئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مون سون بارشوں کے نہ تھمنے والے سلسلے نے بھارت کے دارالحکومت سمیت کئی ریاستوں میں معمولِ زندگی کو متاثر کر رکھا ہے۔ جنوبی ریاست کیرالا میں شدید بارشوں سے جمع ہونے والے پانی کی سطح 2 ہزار 4 سو فٹ بلند ہونے پر مجبوراً ڈیم کے دروازے کھولنے پڑے۔

محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ 26 سال میں پہلی بار کیرالا کے ضلع اڈوکی میں ڈیم کے دروازے کھولنے پڑے جس کی وجہ سے پانی کا سیلابی ریلا کئی دیہات کو بہا کر لے گیا جب کہ سب سے زیادہ ہلاکتیں مٹی کے تودے کے ملبے تلے دب کر ہوئی ہیں جس میں کم از کم 19 افراد زندگی کی بازی ہار گئے اور 10 افراد مختلف حادثات میں ہلاک ہوئے۔

ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے 241 ریلیف کیمپ قائم کردیئے گئے ہیں جب کہ اب تک 15 ہزار 6 سو 95 شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے تاہم مریضوں کی منتقلی میں دشواری کا سامنا ہے۔ بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ میں 50 برس میں سب سے زیادہ بارشوں کا سامنا ہے جس سے صورت حال گھمبیر ہوگئی ہے۔

سیلابی ریلے سے تباہ کاریوں کی تصویری جھلکیاں 

Keralah 1

Keralah 2

Keralah 5

Keralah 3

Keralah 4

Keralah 6

India-flood-2

 

غزہ پر اسرائیلی فوج کی بمباری، حاملہ خاتون سمیت 4 افراد جاں بحق

غزہ: حماس کی جانب سے اسرائیل پر فائر کیے گئے 200 راکٹ کے جواب میں اسرائیلی فوج کی غزہ پٹی اور ثقافتی مرکز پر وحشیانہ بمباری سے حاملہ خاتون سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 18 افراد زخمی ہوگئے۔

اس واقع کے بعد اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان مسلح کشیدگی شدت اختیار کرگئی۔

لاس اینجلس ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق حماس کی جانب سے اسرائیل پر کم از کم 200 راکٹ فائر کیے گئے جبکہ اس کے جواب میں اسرائیل نے وحشیانہ بمباری کرتے ہوئے غزہ پٹی پر 150 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ پٹی پر ال مہسل عمارت کے معاملے پر تنازع شدت اختیار کرگیا۔

حماس کی جانب سے کہا گیا کہ یہ عمارت نوجوانوں کے لیے مشہور ثقافتی مرکز ہے جبکہ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ یہ عمارت حماس کی جانب سے ’فوجی مقاصد‘ کی تربیت کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔

غزہ میں موجود محکمہ صحت کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فضائی حملے میں یہ عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی جبکہ اس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک بھی ہوئے۔

اس حوالے سے ایرانی نشریاتی ادارے ‘پریس ٹی’ نے ایک ویڈیو بھی ٹوئٹ کیا، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح اسرائیل کے فضائی حملے میں ثقافتی سینٹر کو تباہ کیا گیا۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا اور شہری اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے احتجاج کررہے ہیں۔

حاملہ خاتون کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت

دوسری جانب اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری سے جاں بحق فلسطینی حاملہ خاتون اور اس کی 18 ماہ کی بیٹی کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔

عربی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں ہزاروں سوگواروں نے 23 سالہ حاملہ خاتون عنس ابوخمش اور ان کی 18 ماہ کی بیٹی بایان کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر 140 سے زائد حملے کیے گئے تھے، جس میں 18 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ حماس کی جانب سے اسرائیل پر 150 راکٹ فائر کیے جانے کے بعد اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی پر 140 سے زائد مقامات پر حملہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حماس کے فائر کیے گئے راکٹ ساحلی علاقے کے اندر تک آئے اور اس سے 6 اسرائیلی زخمی بھی ہوئے تھے۔

اس واقعے کا رد عمل دیتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے غزہ پر وحشیانہ بمباری کا دوبارہ سے آغاز کیا گیا، جس کے نتیجے میں حاملہ خاتون اپنی بچی سمیت جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔

محکمہ صحت کے حکام کا کہنا تھا کہ جمعرات کی شام تک ہونے والی بمباری میں 18 فلسطینی زخمی ہوئے۔

اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ شہر میں دیر ال بلاح کے علاقے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں تقریباً 9 ماہ کی حاملہ خاتون عنس، اپنے شوہر محمد اور بچی بایان کے ساتھ اپریل 2017 سے رہائش پذیر تھی۔

عنس کے پڑوسیوں نے الجزیرہ کو بتایا گزشتہ شب رات 2 بجے کے قریب ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی، جس میں ابتدائی طور پر یہ سنا گیا کہ محمد کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔

اس واقعے کو دیکھنے والے مختلف پڑوسیوں میں سے ایک ابو سنجر کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد کا منظر بہت خوفناک تھا اور سب کچھ تباہ ہوچکا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہر جانب خون ہی خون تھا اور ہم نے عنس اور بایان کی باقیات دیکھیں، جس کے بعد ہم نے فوری طور پر ایمبولینس بلائی اور جسم کے اعضاء اکھٹا کرنا شروع کیے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ محمد کی سانسیں چل رہی تھیں اور انہیں ایمبولنس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

اس حوالے سے غزہ میں موجود محکمہ صحت کے ترجمان اشرف القائدہ کا کہنا تھا کہ محمد کو سر اور جسم کے دیگر حصوں پر گہرے زخم آئیں ہیں۔

حماس اور اسرائیل میں جنگ بندی کا معاہدہ

ادھر 24 گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والے ان حملوں کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پانے کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹ میں دعوٰی کیا کہ جمعرات کی رات کو حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا۔

رپورٹ میں سفارتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مذاکرات کے بعد اس بات کا امکان تھا کہ اس پر مقامی وقت کے مطابق رات تک عمل درآمد ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ میں فلسطینیوں کو ایندھن کی سپلائی پھر بند

ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ مصر اور اقوام متحدہ کے خصوصی معاون برائے مشرق وسطیٰ امن عمل کی حمایت سے طے پایا جو گزشتہ ماہ سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے لیے کوشش کر رہے تھے۔

تاہم اسرائیلی حکام کی جانب سے اس طرح کے کسی جنگ بندی کے معاہدے سے انکار کیا گیا، اسرائیل کی جانب سے حماس کے ساتھ حالیہ معاہدے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا جبکہ حماس کی جانب سے بھی اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

خیال رہے کہ 30 مارچ 2018 سے اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے اب تک کم از کم 157 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ وقفے وقفے سے اسرائیل کی جانب سے غزہ پٹی پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی سے درآمدات پر قیمتیں بڑھادیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ترکی سے‘اسٹیل اور ایلمونیم’ کی درآمدات کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت دے دی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘ترک کرنسی لیرا کی قیمت ہمارے مضبوط ڈالر کے مقابلے میں کم ہونے کے باعث ایلمونیم کی درآمدات کی قیمت کو 20 فیصد تک جبکہ اسٹیل کی درآمدات کی قیمت کو 50 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔’

انہوں نے تسلیم کیا کہ ’اس وقت ہمارے ترکی سے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔’

واضح رہے کہ دونوں نیٹو اتحادیوں کے تعلقات میں تلخی اس وقت پیدا ہوئی تھی جب ترکی نے دہشت گردی کے الزام میں اکتوبر 2016 میں امریکی پادری اینڈریو برنسن کو گرفتار کیا تھا اور گزشتہ ہفتے گھر میں منتقل کر کے نظر بند کردیا تھا۔

انقرہ کے اقدام پر واشنگٹن نے 2 ترک وزرا پر پابندی لگادی تھی۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک بھی واشنگٹن کے اقدام کے جواب میں 2 امریکی عہدیداران پر پابندی عائد کر رہا ہے۔

امریکی صدر کے ٹوئٹ کے بعد ترکی کے ‘لیرا’ کی قدر میں 13 فیصد کمی واقع ہوئی۔

ملکی کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی کے باعث رجب طیب اردوان نے عوام سے غیر ملکی کرنسی کو لیرا میں تبدیل کرنے کی اپیل کی۔

خیال رہے کہ ترک کرنسی لیرا کی قدر جمعہ کو 10 فیصد گرتے ہوئے ریکارڈ کم ترین سطح پر آگئی ہے۔

رجب طیب اردوان نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آپ نے جو یوروز، ڈالرز اور سونا اپنے تکیوں کے نیچے چھپا کر رکھے ہیں اسے ہمارے بینکوں سے لیرا میں تبدیل کروائیں، یہ ایک قومی جدو جہد ہے۔’

انہوں نے ترکی کو نقصان پہنچانے کی غیر ملکی سازش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ ان لوگوں کو ہماری عوام کا جواب ہوگا جو ہمارے خلاف معاشی جنگ شروع کر رہے ہیں۔’

ترک صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ معاشی جنگ نہیں ہاریں گے۔’

کینیڈا میں فائرنگ سے دو پولیس افسران سمیت 4 افراد ہلاک

اوٹاوہ: کینیڈا  میں مسلح افراد کی فائرنگ سے دو پولیس افسران سمیت 4 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کا  واقعہ آج صبح فریڈرکٹن کے رہائشی علاقے میں پیش آیا جس میں 2 پولیس افسران سمیت 4 افراد ہلاک ہوگئے  جب کہ فائرنگ کے واقعے میں ملوث ایک ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

canada firing

فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی گرفتاری کے لیے آپریشن شروع کردیا جب کہ ریسکیو اداروں نے لاشوں اورزخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کی مزید تفصیلات فی الوقت سامنے نہیں لائی جاسکتیں، عوام ہلاک ہونے والے ہمارے ساتھیوں کے اہل خانہ کی حوصلہ افزائی کریں،  واقعے کی مزید تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔

قبل ازیں پولیس نے شہریوں کو ہدایت جاری کی تھی کہ مسلح افراد کی گرفتاری تک  گھروں سے نہ نکلیں۔

کینیڈا کا سعودی عرب سے معافی مانگنے سے انکار

مانٹریال: کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے سعودی عرب میں انسانی حقوق پر تشویش کے اظہار پر معافی مانگنے سے انکار کردیا۔

مونٹریا ل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جسٹن ٹروڈو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا احترام کرتے ہیں اور  سفارتی و سیاسی سطح پر سعودی عرب کے ساتھ چلیں گے تاہم انسانی حقوق کے لیے  سب کے سامنے بات کرتے رہیں گے۔

کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے وزیر خارجہ کا سعودی عرب سے رابطہ قائم ہے، جس میں حالیہ تنازع پر تفصیلی بات ہوئی ہے ہم سعودی عرب سے سفارتی تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے اور تعلقات جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب قطر ی میڈیا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے کینیڈا میں زیر علاج سعودی شہریوں کے علاج پر پابندی لگاتے ہوئے اپنے شہریوں کو دوسرے ممالک کے اسپتالوں میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ کینیڈا نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاری پرتشویش کا اظہار کیا تھا جس پر سعودی عرب نے کینیڈا سے سفارتی و تجارتی تعلقات منقطع کرلیے ہیں۔

امریکا ناقابل بھروسہ ملک ہے، ایرانی صدر حسن روحانی

تہران: ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکا کو ناقابل بھروسہ ملک قرار دے دیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق دارالحکومت تہران میں شمالی کوریا کے وزیر خارجہ ری یانگ ہو نے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کی۔ ایرانی صدر نے شمالی کوریا کے وزیر خارجہ کو امریکا کے ساتھ تعلقات پر محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکی انتظامیہ پر کسی صورت اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔

امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان برسوں کی کشیدگی کے بعد تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات بھی ہوئی ہے جس کے بعد برف پگھلنے لگی ہے۔

 ادھر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کو تیل کی برآمد سے نہیں روک سکتا، ایران تیل کی برآمد جاری رکھے گا، ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کو زبردستی ایران سے تیل خریدنے میں روکنے میں ناکام رہے ہیں، ان کی چڑچڑاہٹ اور ٹوئٹس سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی کہ دنیا اب امریکا سے تنگ آ چکی ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیتھر ناورٹ نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ایران مشرق وسطی میں عدم استحکام پھیلا رہا ہے، اسے چاہیے کہ خطے میں حالات کی بہتری کے لئے اپنے رویہ تبدیل کرے اور اپنے ملک کے عوام کی حالت زار پر توجہ دے۔

کولمبیا نے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرلیا

بوگوٹا: جنوبی امریکی ملک کولمبیا نے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرلیا ہے جس کا حکومت نے بذریعہ خط اعلان بھی کردیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق  کولمبیا کی نئی حکومت کے وزیر خارجہ کارلوس ہولمس نے بتایا کہ سابق صدر نے الوداعی فیصلوں میں فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا فرمان جاری کیا تھا۔

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ خط میں کہا گیا کہ کولمبین حکومت اس فیصلے سے سب کو آگاہ کررہی ہے کہ حکومت نے فلسطین کو آزاد اور  خود مختار ریاست تسلیم کرلیا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری حکومت کی ترجیح ہے کہ اتحادی و دوستانہ ممالک سے تعلقات تعاون کی بنیاد پر برقرار رہیں اور ہم عالمی امن اور سیکیورٹی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔

واضح رہے کہ اس اعلان سے قبل کولمبیا خطے کے ان دو ممالک میں شامل تھا جس نے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم نہیں کیا تھا، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز کولمبیا کا دورہ کرنا تھا تاہم انہوں نے شیڈول دورے کو ملتوی کردیا ہے۔

Google Analytics Alternative