بین الاقوامی

مسجد الحرام میں ایک شخص نے دوسری منزل سے چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی

ریاض: سعودی عرب میں مسجد الحرام کے اندر ایک شخص نے مطاف کی دوسری منزل سے چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی۔

سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق خود کشی کرنے والا شخص فرانسیسی شہری ہے جس کی عمر 26 سال بتائی گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق حرم شریف میں خود کشی کرنے والے شخص کی ویڈیو اور اور تصاویر بھی منظر عام پر آئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز عشاء کے بعد اور تراویح سے پہلے مطاف کی دوسری منزل سے اس شخص نے چھلانگ لگا کر خود کشی کی۔

فوٹو: اسکرین گریب

سعودی میڈیا کے مطابق پولیس کا کہنا ہے ایک غیر ملکی شخص نے مسجد الحرام کے مطاف کے حصے میں دوسری منزل سے چھلانگ لگائی جس کے نتیجے میں اسے شدید چوٹیں آئیں اور اسپتال منتقلی کے دوران وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔

سعودی پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں کہ مذکورہ شخص نے خود کشی کیوں کی اور حفاظتی جالی لگی ہونے کے باوجود وہ چھلانگ لگانے میں کیسے کامیاب ہوا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل میڈیا پر یہ خبریں گردش کررہی تھیں کہ خودکشی کرنے والا شخص پاکستانی شہری ہے تاہم اب سعودی حکام نے اس باد کی تصدیق کی ہے کہ مسجد الحرام میں خودکشی کرنے والا معتمر پاکستانی نہیں فرانسیسی شہری تھا۔ وہ 18رمضان کو مدینہ منورہ کے شہزادہ محمد بن عبدالعزیز ایئرپورٹ پہنچا تھا۔

مدینہ منورہ میں ایک دن قیام کے بعد وہ مکہ مکرمہ روانہ ہوگیا۔ یہاں اس کا قیام عزیزیہ کے ایک ہوٹل میں تھا۔ 5دن بعد اس کی واپسی مقرر تھی۔

اس کی عمر 26سال تھی۔ وہ الجزائری نژاد فرانسیسی شہری تھا۔ اس کی نعش کنگ فیصل اسپتال کے سرد خانے میں رکھی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس ایک سعودی شخص نے بھی کعبہ کے سامنے خود کو آگ لگانے کی کوشش کی تھی تاہم سیکیورٹی فورسز نے اسے روک لیا تھا۔

افغانستان میں دو بیسز پر حملے، 36 سیکیورٹی اہلکار ہلاک، 8 جنگجو بھی مارے گئے

کابل: افغانستان میں ملٹری اور پولیس بیس پر حملوں میں 17 فوجی اور 19 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے جب کہ 8 جنگجو بھی مارے گئے۔

افغان میڈیا کے مطابق صوبے قندوز میں طالبان کے ملٹری بیس پر حملہ ہوا جس میں افغان پولیس کے 19 اہل کار جاں بحق ہوگئے۔ یہ حملہ ہفتے کی صبح صادق کے وقت کیا گیا طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

قندوز کے گورنر نعمت اللہ تیموری نے واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 5 پولیس اہلکار زخمی بھی ہیں جب کہ قندوز کے پولیس ترجمان کے مطابق حملے میں 8 جنگجو مارے گئے۔

اس حملے سے قبل افغان صوبے ہیرات میں بھی ملٹری بیس پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 17 افغان فوجی ہلاک ہوگئے۔ دونوں حملے طالبان کی طرف سے عید پر جنگ بندی کے اعلان سے چند گھنٹوں قبل کیے گئے ہیں۔

 

جی سیون ممالک کے اجلاس میں اختلافات، ٹرمپ تنہا رہ گئے

کینیڈا: جی سیون کے اجلاس میں ارکان ممالک کے درمیان روس کی رکنیت بحال کرنے اور ٹریڈ ٹیرف کے معاملے پر اختلافات پیدا ہوگئے جب کہ روس کی حمایت میں ٹرمپ  تنہا رہ گئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جی سیون ممالک کا 44 واں اجلاس کل اور آج کینیڈا میں منعقد ہوا جس میں میزبان سمیت امریکا، اٹلی، جرمنی، فرانس، جاپان اور برطانیہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں ارکان ممالک کے درمیان روس کی معطل شدہ رکنیت کو بحال کرنے اور تجارتی ٹیرف کے معاملے پر اختلافات پیدا ہوگئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی 7 تنظیم میں روس کی رکنیت کی بحالی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس کو دوبارہ سے جی سیون کا حصہ بن جانا چاہیے اور اس جی سیون سمٹ 2018ء میں روس کو بھی شرکت کرنی چاہیے تھی۔ امریکی صدر نے اپنی اس خواہش کا اظہار اتحادی ممالک کے نمائندگان سے بھی کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم روس کے بغیر سمٹ کا آغاز کیوں کر رہے ہیں؟ اس اہم کانفرنس میں روس کو ضرور موجود ہونا چاہیے تھا جس کے بغیر خطے کے سماجی، جغرافیائی اور دفاعی معاملات سے کچھ حاصل نہیں ہوسکے گا تاہم یورپ، جاپان اور کینیڈا سے گفتگو کے باوجود یہ معاملہ طے نہیں پاسکا اور ارکان ممالک روس کی رکنیت بحالی پر متفق نہ ہوئے، ڈونلڈ ٹرمپ اس موقف پر تنہا رہ گئے۔

دوسری جانب روس کے صدر نے امریکی صدر کے بیان کو مثبت قرار دیتے ہوئے تعمیری گفتگو کو خوش آمدید کہا ہے۔

قبل ازیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے بھی ملاقاتیں کیں جہاں شمالی امریکا سے تجارتی معاہدے، شمالی کوریا کے صدر سے ہونے والی ملاقات اور دیگر اہم معاملات پر گفت و شنید کی گئی۔

واضح رہے کہ جی 8 کے رکن روس نے 2014ء میں خود سے ایک علیحدہ اجلاس طلب کرلیا تھا جس کے بعد دیگر رکن ممالک سے شدید اختلافات پیدا ہوگئے تھے جس کے بعد روس کی رکنیت معطل کردی گئی تھی اور تاحال روس کی رکنیت کو بحال نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اب اسے 7 ممالک کی تنظیم جی سیون کہا جاتا ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں پاکستان اور بھارت کی بحیثیت رکن پہلی بارشرکت

بیجنگ: چین کے شہر چِنگ ڈاؤ میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا اٹھارہواں سربراہی اجلاس شروع ہو گیا ہے جس میں پاکستان اور بھارت مستقل رکن بننے کے بعد پہلی مرتبہ شرکت کر رہے ہیں۔ 

چین کے شہر چنگ ڈاؤ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان کا 18 واں اجلاس کا آغاز ہو گیا ہے جس کی خاص بات پاکستان اور بھارت بحیثیت مستقل رکن پہلی مرتبہ شرکت کررہے ہیں۔ چین کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی تنظیم میں شمولیت خوش آئند ہے جس سے خطے میں امن اور استحکام کی راہ متعین ہو گی۔ دونوں ممالک کی تنظیم میں شمولیت سے سیکیورٹی اہداف کے حصول میں کار آمد ثابت ہوں گے۔

اجلاس میں روسی صدر ولادی میر پوٹن کے علاوہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف، ایران کے صدر حسن روحانی اور صدر مملکت ممنون حسین کے علاوہ تاجکستان، کرغزستان، بیلاروس کے صدور بھی شریک ہیں۔ ولادی میر پوٹن نے چینی ہم منصب کے ساتھ 300 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ٹرین میں سفر کیا اور دونوں رہنماؤں نے آئس ہاکی کا میچ بھی دیکھا۔

واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی بنیاد 2001 میں چین اور روس نے رکھی تھی ابتدا میں قزاقستان، ازبکستان، کرغیزستان، تاجکستان کو شامل کیا گیا اس کے بعد 2017 میں پاکستان اور بھارت کو اس تنظیم کا باقاعدہ رکن بنایا گیا تھا۔ تنظیم کے بنیادی مقاصد میں انسداد دہشت گردی، سرحدی تنازعات کا حل اور علاقائی اقتصادی صورت حال کو بہتر بنانا شامل ہے۔

اسرائیلی فوج نے مزید 4 فلسطینیوں کو شہید کردیا

غزہ: عالمی یوم القدس پر اسرائیلی فوج نے وحشیانہ کارروائی کرتے ہوئے غزہ کی سرحد پر جمع مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کرکے 4 فلسطینی نوجوان کو شہید اور 600 سے زائد کو زخمی کردیا۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق حق واپسی تحریک کے تحت 30 مارچ سے شروع ہونے والے ہفت وار گرینڈ مارچ کا سلسلہ جمعے کے روز بھی برقرار رہا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، مظاہرین میں نوجوانوں کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ خواتین اور کم عمر لڑکے بھی شامل تھے۔

مظاہرین نے غزہ کی سرحد پر ٹائروں کو نذر آتش کیا اور اسرائیلی فوج پر پتھراؤ کیا جب کہ صہیونی فوج نے ظلم کے سلسلے کو برقرار رکھتے ہوئے نہتے فلسطینیوں پر براہ راست گولیاں چلائیں۔ اسرائیلی نشانہ باز اہل کاروں نے نوجوانوں کو نشانہ بناتے ہوئے 4 فلسطینیوں کو شہید جب کہ درجنوں کو زخمی کردیا۔

وزارت صحت کا کہنا ہے کہ صبح سے جاری احتجاج کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ سے 600 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں خواتین اور کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے فائرکیا گیا آنسو گیس کا ایک شیل فلسطینی نوجوان کے منہ میں گیا جس سے وہ بری طرح زخمی ہوگیا اور اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا۔

واضح رہے کہ 30 مارچ سے جاری احتجاجی تحریک میں صیہونی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 125 سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ ہزاروں  زخمی ہوئے  ہیں۔

شمالی کوریا کے سربراہ کوامریکا آنے کی دعوت دے سکتا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ان کی شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ ان سے مجوزہ ملاقات اچھی رہی تو وہ انھیں امریکا کے دورے کی دعوت دے سکتے ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی میں  جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ وہ شمالی کوریا کے سربراہ سے دوستانہ بات چیت کے لیے جارہے ہیں، اس لئے شمالی کوریا کے حوالے سے ’زیادہ دباؤ‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کرنا چاہتے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کم جونگ ان سے سنگا پور میں ہونے والی ملاقات میں معاہدے کا امکان موجود ہےاور کوریائی جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ بھی ممکن ہے، اگر یہ ملاقات اچھی رہی تو وہ کم جونگ ان کو امریکا کے دورے کی دعوت بھی دے سکتے ہیں

واضح رہے کہ رواں ماہ سنگا پور میں ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان ملاقات کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے سربراہان کی پہلی باضابطہ ملاقات ہوگی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بات12 جون کے اجلاس سے متعلق ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہی۔

شام کے صوبے ادلب میں روسی طیاروں کی بمباری، 44 افراد جاں بحق

دمشق: شام کے صوبے ادلب میں افطاری کے وقت  روسی طیاروں کی وحشیانہ بمباری میں 44 افراد جاں بحق ہوگئے۔

شامی حالات و واقعات پر نظر رکھنے والے گروپ سیرین آبزرویٹری کے مطابق  لڑاکا طیاروں نے باغیوں کے زیرقبضہ صوبے ادلب میں  بمباری کی  جس میں 44 افراد جاں بحق  ہوگئے جو کہ رواں سال اس ریجن میں کسی ایک فضائی حملے میں اموات کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

مانیٹرنگ گروپ کے ڈائریکٹررمی عبدالرحمان نے بتایا کہ روسی جنگی طیارو ں نے ادلب کے شمالی قصبے زردانا میں اس وقت بمباری کی جب مسلمان افطاری میں مصروف تھے ، اس بمباری کے نتیجے میں مرنے والوں میں 11 خواتین اور 6 بچے بھی شامل ہیں جب کہ 60 سے زائد افراد زخمی ہیں  جن میں بعض کی حالت تشویشناک ہےجس سے اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ امدادی گروپ کا کہنا ہے کہ طیاروں نے زردانا میں مسجد کے قریب ایک مارکیٹ کو نشانہ بنایا ۔

دوسری جانب روس کی وزارت دفاع نے ان حملوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس فضائی حملے سے ماسکو کا کوئی تعلق نہیں۔

آسٹریا کا 7 مساجد کو بند کرنے اور آئمہ کرام کو ملک بدر کرنے کا اعلان

ویانا: آسٹریا کی  حکومت نے سات مساجد کو بند اور درجنوں آئمہ کرام کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آسٹریا کی چانسلرسیباستان کرُس نے کہا کہ حکومت ویانا میں ان 7 مساجد کو بند کررہی جہاں غیرملکی مالی معاونت سے  ’سیاسی اسلام‘ کی ترویج  کی جارہی ہے جب کہ حکومت نے عرب مذہبی  گروپ کو بھی تحلیل کرنے کافیصلہ کیا ہے جو کہ ان  مساجد کی نگرانی کرتا ہے۔

حکومت نے درجنوں آئمہ کرام کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے انہیں ملک بدر کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

قدامت پسند سیباستان گزشتہ سال دسمبر میں مہاجرین کے خلاف سخت گیر موقف رکھنے والی جماعت  سے اتحاد کی صورت میں چانسلر منتخب ہوئی تھیں۔

دوسری جانب ترکی نے آسٹریا کی حکومت کے مذکورہ اقدامات کو اسلام  فوبیا قرار دیتے ہوئے  کہا  کہ  ویانا حکومت مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک  کررہی ہے۔

Google Analytics Alternative