بین الاقوامی

جرمنی نے ایرانی جوہری معاہدے سے دستبرداری کا امریکی مطالبہ مسترد کردیا

میونخ: جرمنی نے ایرانی جوہری معاہدے اور تہران کو الگ تھلک کرنے کے امریکی نائب صدر مائیک پینس کے مطالبے کو مسترد کردیا۔

واضح رہے کہ امریکی نائب صدر کی جانب سے یورپی ممالک سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ ایرانی جوہری معاہدے اور تہران سے الگ ہوجائے۔

تاہم جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس نے 2015 کے معاہدے کا دفاع کیا، جس کے تحت ایران پابندیوں کے خاتمے کے بدلے میں اپنے جوہری پروگرام سے تیزی سے پیچھے ہٹ جائے گا۔

جرمنی میں ہونے والی میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں ہیکو ماس نے کہا کہ ’برطانوی، فرانسیسی اور پوری یورپی یونین کے ساتھ ہم نے آج تک ایران کو جوہری معاہدے میں رکھنے کے راستے تلاش کیے ہیں‘۔

امریکی نائب صدر مائیک پینس نے پولینڈ میں آشوٹز حراستی کیمپ کے دورے کے دوران ایران پر نازیوں کے مشابہ یہود دشمنی کا الزام لگایا اور کہا کہ اس دورے نے تہران کے خلاف کارروائی کرنے کے عزم کو مضبوط کیا۔

میونخ پہنچنے سے قبل مائیک پینس نے کہا کہ ’تہران میں ہمارے لوگ ہیں، جو قاتلانہ دھمکیوں کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب یہود مخالف یورپ میں نازیوں کو متحرک کیا جارہا ہے‘۔

ان کے اس بیان پر جرمنی کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ایران کے ساتھ ہمارے مقاصد جوہری معاہدے کے بغیر ہیں کیونکہ ہم واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ کس طرح ایران خطے میں غیر مستحکم ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے بغیر ’خطہ مزید محفوظ نہیں ہوگا اور اصل میں یہ ایک کھلے تنازع کے قریب تر ہونے کا قدم ہوگا‘۔

علاوہ ازیں مائیک پینس نے یورپی یونین کی جانب سے جوہری معاہدہ برقرار رکھنے کی مذمت کی اور فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے اقدام پر تنقید بھی کی کہ امریکی پابندیوں کے باوجود یورپی کمپنیاں ایران میں کام کر رہی ہیں۔

نائیجیریا میں مسلح افراد کے حملے میں 66 افراد ہلاک، 20 زخمی

ابوجہ: نائیجریا میں مسلح افراد نے دو مختلف برادریوں کی آبادی پر حملہ کرکے 66 افراد کو قتل اور 20 کو زخمی کردیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مسلح افراد نے نائیجیریا کے شمال مشرقی علاقے میں مسلح افراد نے دو برادریوں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 22 بچوں اور 12 خواتین سمیت 66 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے۔

متاثرہ علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی بھری نفری تعینات کردی گئی ہے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ 4 زخمیوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور شرپسند افراد تھے جن کا مقصد ملک میں انارکی پھیلانا اور عوام کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنا تھا تاکہ انتخابات میں رکاوٹیں ڈالی جاسکیں۔

سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرکے حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ہے، فی الوقت کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ نائیجیریا میں امن و امان کی صورت حال نہایت مخدوش ہے۔ انتخابات 23 فروری تک ملتوی کردیئے گئے ہیں۔

پلوامہ حملے کے بعد بھارتی فوج کسی بھی کارروائی کے لیے آزاد ہے، مودی

نئی دلی: وزیراعظم نریندرا مودی نے اپنا جارحیت پسند چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے بھارتی فوج کو حملے کے لیے کھلی چھوٹ دے دی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے جھانسی میں ڈیفنس راہداری کا سنگ بنیاد رکھا۔ تقریب سے خطاب کے دوران جنگی جنون میں مبتلا مودی نے اپنے مذموم مقاصد بیان کرتے ہوئے بھارتی فوج کو پلوامہ دھماکے کا منصوبہ بنانے والوں پر کسی بھی لمحے اور کسی بھی جگہ حملہ کرنے کی ہدایت کردی۔

بھارتی وزیراعظم نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں سیکیورٹی اہلکاروں پر خود کش حملے کی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے گیدڑ بھبکی دی کہ پاکستان جان لے یہ نیا بھارت ہے اور 130 ملین افراد کا ملک مل کر پاکستان کو جواب دے گا۔

نریندرا مودی نے مزید ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت کو ختم کرنے کا خواب دیکھنا چھوڑ دے ورنہ بھارتی عوام کے غم و غصے کو روکنا کسی کے بس کی بات نہیں رہے گی۔ ہم پاکستان کوعالمی دنیا میں تنہا کردیں گے اور دھماکا کرنے والے بڑی قیمت چکانے کے لیے تیار رہیں۔

ایک طرف پاکستان پر بھونڈا الزام عائد کرکے بھارتی وزیراعظم نے اپنی انتظامی اور سیکیورٹی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے تو وہیں ان کے جارحانہ بیانات سے خطے کا امن بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مودی نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے۔

اسپین میں 4 سال میں تیسری مرتبہ انتخابات کا اعلان

اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز نے 28 اپریل کو قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا ہے جس سے ملک میں جاری سیاسی اختلافات مزید بڑھنے کے امکانات ہیں۔

امریکی خبررساں ادارے ’اے پی ‘ کے مطابق اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے پارلیمنٹ میں بجٹ مسترد کیے جانے کے بعد انتخابات کا اعلان کیا۔

خیال رہے کہ اسپین میں اقلیتی سوشلسٹ حکومت بننے کے بعد سے 4 سال میں یہ تیسرے انتخابات ہوں گے۔

پیدرو سانچیز نے کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد مونکولا پیلس سے ایک ٹی وی پیغام میں کہا کہ ’میں نے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی تجویز دی ہے اور 28 اپریل کو انتخابات کروائیں جائیں گے‘۔

انہوں نے اپنے تقریر کے دوران گزشتہ 8 ماہ کے دورِ اقتدار میں اپنی کوششوں کی نشاندہی بھی کی۔

46 سالہ وزیراعظم نے گزشتہ برس جون میں سابق وزیراعظم ماریانو راجوئے کے خلاف تحریک عدم اعتماد جیت کر اقتدار میں آئے تھے۔

سوشلٹ، سادگی مخالف اور خطے کی نیشنلسٹ جماعتوں کی اکثریت جو اس وقت ماریانو راجوئے کے خلاف متحد ہوئیں تھیں انہوں نے کیٹلونیا کی آزادی سے متعلق علیحدگی پسند رہنماؤں سے مذاکرات ختم کرنے پر گزشتہ ہفتے پیدور سانچیز کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔

پیدور سانچیز براہ راست کیٹلونیا کا نام لیے بغیرنے کہا کہ انہوں نے ملک کے علاقوں سے اس وقت تک مذاکرات جاری رکھے جب تک ان کے مطالبات آئین اور قانون کے مطابق تھے۔

انہوں نے کنزرویٹو کو مذاکرات کی حمایت نہ کرنے پر مورد الزام ٹھہرایا۔

اسپین کے وزیراعظم نے کہا کہ ’ بدقسمتی سے گزشتہ 8 ماہ کی حکومت میں ہمیں کنزرویٹو اپوزیشن کی حمایت حاصل نہیں ہوئی، صرف حکومت کے لیے نہیں بلکہ ہسپانوی حکومت کے لیے بھی‘۔

پاپولسٹ پارٹی کے رہنما پابلو کاساڈو نے پیدرو سانچیز کی جانب سے کیٹلونیا کے علیحدگی پسند افراد کے کچھ مطالبات پر اسے سوشلسٹ کی ’ ہار‘ قرار دیا تھا۔

اسپین کے وزیراعظم نے کہا کہ ’ہم یہ فیصلہ کریں گے کہ کیا اسپین ان جماعتوں کا یرغمال بن کے رہنا چاہتا ہے جو اسے تباہ کرنا چاہتے ہیں‘۔

یہ خیال کیا جارہا ہے کہ اپریل کے انتخاب میں کوئی واضح طور پر کامیاب نہیں ہوسکے گا۔

رائے عامہ کے مطابق سوشلسٹ پارٹی اس وقت باقی جماعتوں سے زیادہ مقبول ہے لیکن اس کے 2 اہم مخالفین پاپولسٹ ہارٹی اور سٹیزنز پارٹی کی جانب سے جنوبی اندولسیا کے علاقے میں کیے گئے اتحاد کو دہرایا جاسکتا ہے جہاں انہوں نے ووکس پارٹی کی مدد سے سوشلسٹس کو شکست دی تھی۔

ووکس رہنما سان تیاگو اباسکل نے ٹوئٹ کیا کہ ’ اسپین دوبارہ سے اپنے دشمنوں سے مضبوط ہے‘۔

زمبابوے میں سونے کی کان میں پانی بھرنے سے 23 مزدور ہلاک، متعدد لاپتا

ہرارے: زمبابوے میں سونے کی کان میں پانی بھرنے سے 23 کان کن ہلاک اور 25 سے زائد لاپتا ہوگئے۔

زمبابوے کے دارالحکومت ہرارے سے 145 کلومیٹر دور واقع کدوما کے علاقے میں سونے کی عمودی یا شافٹ کان میں اس وقت پانی بھر آیا جب وہاں دوسری شفٹ شروع ہوئی تھی۔ واقعے کے بعد امدادی کارکنوں نے پمپ کے ذریعے پانی نکالنے کا کام شروع کردیا علاوہ ازیں کان کنوں کی تلاش بھی شروع کردی گئی لیکن پوری کوشش کے باوجود بھی کان کنوں کو بچایا نہ جاسکا۔

منگل کی رات کو کان کن مصروف تھے کہ تیزبارشوں سے سیلابی پانی کان میں داخل ہوگیا جس کی وجہ قریبی ڈیم کی دیوار کی شکستگی بتائی جارہی ہے۔ ڈیم کی دیوار ٹوٹتے ہیں پانی کان میں داخل ہوگیا۔ یہ کان ایک نجی کمپنی کے زیرِ استعمال تھی۔

پولیس اور دیگر ذرائع نے کہا ہے کہ وہ معاملے کی تفتیش کررہے ہیں جس کی مکمل رپورٹ جلد ہی پیش کی جائے گی۔

مقبوضہ کشمیر میں کار بم دھماکا، 42 بھارتی فوجی ہلاک

مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں کار بم دھماکے میں 42 بھارتی سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بس پر کار بم دھماکا ضلع پلوامہ میں سری نگر جموں ہائی وے پر لٹھ پورا کے مقام پر ہوا۔

بھارتی پولیس حکام کے مطابق کار میں سوار حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی سی آر پی ایف کی بس سے ٹکرائی اور پھر اسے دھماکے سے تباہ کر دیا۔

دھماکے کی جگہ پر بھارتی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار کھڑے ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا۔

حکام کے مطابق دھماکے میں 42 سی آر پی ایف اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو بھارتی فوج کے 92 بیس اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

دھماکے کے بعد بھارتی سیکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد نے علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

آزاد فلسطینی ریاست کے لیے فلسطینیوں کے ساتھ ہیں، شاہ سلمان

ریاض / رملہ: خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے لیے فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ریاض میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے دوران خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ سعودی عرب یروشلم دارالحکومت کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے فلسطینیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں فلسطین کی تازہ صورت حال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے شاہ سلمان اور سعودی عرب کی جانب سے فلسطینیوں کی مسلسل حمایت کو سراہا۔

طالبان اورامریکا کے درمیان مذاکرات 18 فروری کو پاکستان میں ہوں گے

کابل: طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 18 فروری کو اسلام آباد میں ہوگا۔

افغانستان میں 17 سال سے جاری امریکی اتحادی افواج اور طالبان کے درمیان جاری لڑائی ختم کرنے اور امن کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 18 فروری کو اسلام آباد میں ہوگا۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے جاری کردہ بیان میں اس کی تصدیق کی ہے، اس سے قبل قطر میں امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوچکے ہیں اور پاکستان میں مذاکرات کے بعد 25 فروری کو دوبارہ دونوں فریقین قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مزید بات چیت کریں گے۔

جاری بیان کے مطابق طالبان کا وفد وزیرِ اعظم عمران خان سے بھی ملاقات کرے گا، اس طرح سال 2001 کے بعد طالبان وفد کی کسی پاکستانی وزیرِ اعظم سے یہ پہلی ملاقات بھی ہوگی۔

Google Analytics Alternative