بین الاقوامی

زمبابوے کے سابق صدر رابرٹ موگابے 95 سال کی عمر میں چل بسے

ہرارے: زمبابوے میں 30 سال تک مسلسل صدر رہنے والے رابرٹ موگابے 95  برس کی عمر میں مختصر علالت کے بعد سنگاپور میں انتقال کر گئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افریقی ملک زمبابوے میں 1987 سے 2017 تک صدر کے عہدے پر براجمان رہنے والے سیاہ فام سیاسی لیڈر رابرٹ موگابے سنگاپور میں دوران علاج انتقال کرگئے۔ وہ کافی عرصے سے علیل تھے اور انہیں علاج کے لیے سنگاپور لایا گیا تھا۔

زمبابوے کے سابق صدر کے انتقال کی تصدیق سرکاری سطح پر بھی کر دی گئی ہے، اہل خانہ کا کہنا ہے کہ میت زمبابوے واپس لانے اور آخری رسومات کی ادائیگی کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔ انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔

زمبابوے کی آزادی سے قبل رابرٹ موگابے نے جنوبی رھوڈیشیا پر برطانوی سفید فام اقلیت کے قبضے کیخلاف اور سیاہ فام آزاد ریاست کے لیے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا تھا، قابض حکومت کے خلاف تقریر کر نے کی پاداش میں موگابے کو بغاوت کا مجرم ٹھہرایا گیا اور 10 سال تک قید رکھا گیا تاہم انہوں نے جیل سے جدوجہد جاری رکھی جس پر انہیں نیلسن منڈیلا ثانی بھی کہا جانے لگا۔

سفید فام حکومت کے قبضے سے آزادی کے بعد سابق رابرٹ موگابے 1980 سے 1987 تک ملک کے پہلے وزیراعظم کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے اور بعد ازاں 1987 سے 2017 تک مسلسل 30 سال تک صدر کے عہدے پر براجمان رہے۔ ایک فوجی بغاوت کے نتیجے میں انہیں مستعفی ہونا پڑا تھا اور یوں ان کا طویل سیاسی سفر اختتام کو پہنچا۔

نوزائیدہ بچی کو تھیلے میں چھپا کر امریکا لے جانے والی خاتون منیلا ایئرپورٹ پر گرفتار

منیلا: فلپائن میں 6 دن کی بچی کو ایک بڑے تھیلے میں چھپا کر امریکا جانے والی خاتون کو ایئرپورٹ پر گرفتار کرلیا گیا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق منیلا ایئرپورٹ پر 43 سالہ جنیفر ٹالبوٹ کو 6 دن کی بچی کو ایک تھیلے میں چھپا کر امریکا لے جانے کی کوشش کرنے پر حراست میں لے لیا گیا ہے۔ خاتون پر انسانی اسمگلنگ اور اغوا کی دفعات کے تحت مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔

امریکی خاتون کا دعویٰ تھا کہ بچی ان کی خالہ کی ہے جسے وہ ڈومیسٹک پرواز کے ذریعے ڈاواؤ سے منیلا لائی ہے تاہم وہ بچی کے سفری دستاویز اور پیدائش کی سند پیش کرنے میں ناکام رہی۔ حکام نے فلپائن میں موجود نوزائیدہ بچی کی ماں کیخلاف بھی مقدمہ درج کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

حکام نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ بچی کو جس وقت تھیلے سے باہر نکالا گیا اسے سانس لینے میں دقت کا سامنا تھا تاہم اب بچی کی حالت کافی بہتر ہے اور اسے سرکاری دارالامان بھیج دیا گیا ہے۔ فلپائن میں انسانی اسمگلنگ کے سخت قوانین نافذ ہیں۔

کابل میں امریکی سفارتخانے کے قریب دھماکے میں 10 افراد ہلاک، 42 زخمی

کابل: افغانستان کے دارالحکومت کے سخت سیکورٹی والے سفارتی علاقے پی ڈی 9 میں کار بم دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہوگئے۔

افغان حکام کے مطابق خودکش حملہ آور نے امریکی سفارت خانے کے قریب بارود سے بھری گاڑی افغان انٹیلی جنس سروس ’نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی‘ (این ڈی ایس) کی چیک پوسٹ سے ٹکرادی۔

دھماکا اتنا زوردار تھا کہ دور دور تک اس کی آواز سنی گئی، قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

سوشل میڈیا پر زیر گردش اطلاعات کے مطابق اس حملے میں افغان سیاست دان سلیمان لئیق بھی ہلاک ہوگئے۔

 

طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے میں غیرملکی فوج کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا جس میں 12 غیر ملکی اور این ڈی ایس کے 8 اہلکار ہلاک ہوگئے۔

سکھ رکن مسلم خواتین کے خلاف توہین آمیزالفاظ پربرطانوی وزیراعظم پرشدید برہم

لندن: سکھ رکن پارلیمنٹتنمن جیت نے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے گزشتہ سال اخبار “دی ٹیلی گراف” میں مسلم خواتین کے خلاف توہین آمیزالفاظ پرشدید برہمی کا اظہارکرتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔

لیبرپارٹی سے تعلق رکھنے والے سکھ قانون سازتنمن جیت سنگھ نے برطانوی پارلیمان میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کوگزشتہ برس مسلم خواتین کے خلاف توہین آمیز الفاظ “بینک ڈکیت اور لیٹرباکس”پرتنقید کا نشانہ بنانے پراحتجاج کیا اوران سے معافی کا مطالبہ کیا۔

تنمن جیت سنگھ نے پارلیمان میں کہا کہ ہم سکھ میں سے کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جواس طرح کے جملے اپنے بچپن سے سن رہے ہیں، ہم با آسانی مسلمان خواتین کے خلاف لکھے گئے تضحیک آمیز جملوں کو محسوس کرسکتے ہیں جو انہیں خود “بینک ڈکیت اور لیٹرباکس” کہنے پرمحسوس ہوا ہوگا۔ تنمن جیت سنگھ نے برطانوی وزیراعظم کوچیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے اپنی ہی پارٹی کے اندراسلامو فوبیا کی تحقیقات کا بھی حکم دیں۔

ایوان میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے جواب میں کہا کہ ایک سال قبل لکھے گئے کالم کا نقطہ نظربالکل مختلف تھا جسے سیاق وسباق سے ہٹ پر پرکھا جارہا ہے تاہم برطانیہ میں شہریوں کا حق ہے وہ جو مناسب سمجھیں پہنیں۔

واضح رہے کہ برطانوی وزیراعظم نے متنازع کالم میں میں نقاب اور برقع پہننے والی مسلم خواتین کے لیے ’بینک ڈاکو‘ اور ’ ڈاک خانہ ‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے تجویز دی تھی کہ مسلم خواتین نقاب ہٹا کر گفتگو کیا کریں۔

غیر ملکی میڈیا نے کشمیری نوجوان کی شہادت سے متعلق بھارتی جھوٹ کا پردہ چاک کردیا

سری نگر: غیر ملکی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کے جھوٹ کا پردہ چاک کردیا ہے اور کشمیری طالب علم کی شہادت پر پردہ ڈالنے کی کوشش ناکام بنادی۔

قطری میڈیا الجزیرہ، برطانوی اخبار انڈی پنڈنٹ اور امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز کشمیر میں زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہونے والا طالب علم اسرار احمد خان بھارتی فورسز کی پیلٹ گن کا نشانہ بنا۔

بھارتی فورسز نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ نوجوان اسرار احمد کے سر پر پتھر لگا تھا جو اس کی موت کی وجہ بنا۔ تاہم غیر ملکی میڈیا نے بتایا کہ ایکسرے میں کشمیری نوجوان کے سر اور چہرے پر متعدد چھرے لگنے کے واضح نشانات ہیں۔

غیر ملکی میڈیا نے شہید کشمیری نوجوان اسرار احمد کے اہلخانہ سے بھی بات چیت کی۔ اسرار کے والد فردوس احمد نے بتایا کہ 6 اگست کو ان کا بیٹا محلے کے پارک میں دوستوں کیساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا، اس دوران بھارتی فوج نے بچوں پر پیلٹ گن سے فائرنگ کی، بھارتی فوج نے بنا کسی وجہ کےاسرار احمد کو نشانہ بنایا۔

اسرار کی شہادت کی خبر سنتے ہی سری نگر میں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کرتے ہوئے بھارتی فوج پرپتھراؤ کیا۔ بھارتی فوج نے اسرار کے گھر تک جانیوالی سڑک رکاوٹیں لگا کربند کردی جبکہ کرفیو اور دیگر پابندیاں بھی مزید سخت کردیں۔

اسرار کے کزن عرفان نے الجزیزہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے جوان کو شہید کرنے کے بعد ہمارے سوگ منانے پر بھی پابندی ہے، یہ کیسی جمہوریت ہے۔

برطانوی اخبار گارجین کے مطابق مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد بھارتی فورسز کے ہاتھوں گزشتہ 30 روز میں 5 کشمیری شہری شہید ہوچکے ہیں۔ سینئر بھارتی فوجی افسر لیفٹننٹ جنرل کنول جیت سنگھ ڈھیلون نے ان پانچوں کشمیریوں کی شہادت کی تصدیق کی۔

مودی حکومت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کردیا تھا۔ مودی حکومت نے ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے وہاں مزید 70 ہزار فوجی بھی تعینات کردیے ہیں۔

ایک ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے اور کاروبار زندگی مفلوج ہے جس کے باعث کشمیری سخت اذیت کا سامنا کررہے ہیں اور خوراک کی قلت کا شکار ہیں۔

ایمنسٹی انڈیا نے ’کشمیر کو بولنے دو‘ مہم شروع کردی

نئی دہلی: ایمنسٹی انڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی رابطوں پر پابندی اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کیلئے ’کشمیر کو بولنے دو‘ کے نام سے مہم شروع کردی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیاپال ملک کو خط لکھتے ہوئے ریاست سے پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انڈیا نے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے لیے ایک مہم بھی شروع کردی ہے جس کے تحت اس کے پیج پر جاکر کوئی بھی شخص اپنے نام اور ای میل ایڈریس کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیاپال ملک کو ای میل کرے گا اور ان سے کشمیر میں پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کرے گا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سربراہ آکار پٹیل نے کہا کہ ایک مہینہ ہونے کو آیا ہے جب سے کشمیریوں کی خیریت کی کوئی خبر نہیں سنی، ذرائع مواصلات پر مکمل پابندی کے باعث وہاں کے 80 لاکھ افراد کی زندگی پٹری سے اتر گئی ہے، رابطوں پر پابندی کشمیریوں کی شہری آزادی پر بدترین حملہ ہے، لاک ڈاؤن سے ہونے والے انسانی نقصان کو اجاگر کرنے کیلیے آج سے ایک عالمی مہم شروع کی جارہی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے کہا کہ ایک مہینے سے جاری کرفیو اور دیگر پابندیوں نے کشمیریوں کی روز مرہ زندگی، جذبات، ذہنی حالت، طبی سہولیات تک رسائی اور دیگر ضروریات زندگی تک رسائی کو بری طرح متاثر کیا ہے، ان پابندیوں کا دورانیہ اب مزید طویل نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس سے خاندانوں کے خاندان ایک دوسرے سے بچھڑ رہے ہیں، پوری کی پوری آبادی سے آزادی اظہار رائے کو چھیننا اور غیر معینہ مدت کے لیے نقل و حرکت پر پابندی لگانا خطے کو تاریک دور میں دوبارہ دھکیلنے کے مترادف ہے۔

ایمنسٹی انڈیا نے کہا کہ نیا کشمیر کشمیریوں کے بغیر نہیں بنایا جا سکتا، مقبوضہ کشمیر میں صرف مواصلاتی نظام کو ہی نہیں، بلکہ کشمیریوں کے دل و دماغ کو بھی بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، حکومت ٹیلی فونز کو بحال کرنے کا دعوی کر رہی ہے لیکن 80 لاکھ کشمیریوں کو جھوٹے دعوؤں سے نہیں بہلایا جاسکتا، گورنر ستیاپال ملک انسانیت کو ترجیح دیں اور مقبوضہ کشمیر سے ذرائع مواصلات پر پابندی ختم کریں۔

بھارت میں آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے 20 افراد ہلاک

دسپور: بھارت میں آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں زور دار دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ فیکٹری کے ملبے تلے درجنوں افراد دب گئے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست پنجاب میں رہائشی علاقے میں واقع آتش گیر مواد بنانے والی فیکٹری زوردار دھماکے سے منہدم ہوگئی جب کہ آس پاس کی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ دھماکے میں 20 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

ریسکیو اداروں نے امدادی کاموں کا آغاز کرتے ہوئے 20 لاشیں نکال لی ہیں تاہم اب بھی فیکٹری کے ملبے تلے درجنوں افراد دبے ہوئے ہیں۔ رہائشی علاقہ ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات میں کا سامنا ہے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ ریٹائرڈ آرمیندر سنگھ نے انتظامیہ کو متاثرین کی ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

 

مسئلہ کشمیر پر چین کے وزیر خارجہ نے احتجاجاً دورہ بھارت منسوخ کردیا

چین کے وزیر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارت کا سرکاری دورہ منسوخ کردیا تاہم وہ ہفتے کے روز پاکستان آئیں گے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کو بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول سے ملاقات کے لیے نئی دلی آنا تھا تاہم مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال پر احتجاجاً اپنا دورہ منسوخ کردیا ہے۔

وزیر خارجہ وانگ ای اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول چین اور بھارت کی سرحدی تنازع کے حل کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کے خصوصی نمائندے بھی ہیں اور یہ دورہ بھی سرحدی تنازعات کے لیے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے تھا۔

دوسری جانب چینی وزیر خارجہ بھارتی دورے پر پاکستان کے دورے کو ترجیح دیتے ہوئے ہفتے کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں جہاں چین، افغانستان اور پاکستان کے درمیان سہہ فریقی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

واضح رہے کہ 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کے خصوصی حیثیت کے خاتمے اور دو حصوں پر تقسیم کے غیر آئینی فیصلے پر چین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے بھارت سے اپنے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا اور مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے مظالم پر تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔

Google Analytics Alternative