بین الاقوامی

تارکین وطن کے معاملے پر 17 امریکی ریاستوں کی ٹرمپ کے خلاف قانونی چارہ جوئی

واشنگٹن: امریکا کی 17 ریاستوں نے تارکین وطن کے اہل خانہ کو غیر قانونی طور پر منقسم کرنے پر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔

بین الاقوامی نشریاتی ادارے کے مطابق واشنگٹن، نیویارک اور کیلیفورنیا کے ڈیموکریٹک اٹارنی جنرلز سمیت امریکا کی 17 ریاستوں نے تارکین وطن کے معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ کو ملزم ٹہراتے ہوئے مقدمہ دائر کیا ہے۔ مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تارکین وطن خاندانوں کو ظالمانہ اور غیر قانونی طور پر منقسم کیا گیا ہے جس کے لیے ٹرمپ انتظامیہ سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے۔یہ مقدمہ امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر سیئٹیل میں دائر کیا گیا ہے جس میں صدر ٹرمپ کے 20 جون کے حکم نامے کو پرفریب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تارکین وطن کے خاندانوں کو ضابطے کی کارروائی اور پناہ حاصل کرنے کے حق سے محروم کیا گیا ہے۔ اور اس اقدام سے دنیا بھر میں امریکا کے لیے نفرت میں اضافے ہوگا۔

واضح رہے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ 17 امریکی ریاستوں نے اپنے اٹارنی جنرلز کے ذریعے ایگزیکٹیو آرڈر کے خلاف جاتے ہوئے مقدمہ دائر کیا ہو اور ریاستوں نے پناہ حاصل کرنے کے لیے امریکا آنے والوں کو داخلہ دینے سے انکار کرنے والی پالیسی کی سخت الفاظ میں مخالفت کی ہو۔

نیدرلینڈز میں مسلم خواتین کے نقاب کرنے پر پابندی عائد

نیدرلینڈز میں مسلم خواتین کے عوامی مقامات پر نقاب کرنے پر پابندی عائد کردی گئی۔

حکومت کی جانب سے مسلم خواتین کے پبلک ٹرانسپورٹ، تعلیمی اداروں، اسپتال، صحت کے مراکز اور دیگر مقامات پر چہرے پر نقاب لگا کر نکلنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

گزشتہ روز نیدرلینڈزکے ایوان زیریں کےبعد ایوان بالا سے بھی نقاب پر پابندی کا بل منظور کیا گیا جس کی خلاف ورزی کی صورت میں خواتین کو 405 یورو کا جرمانہ ادا کرنے کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔

خواتین کو صرف حجاب کرنے کی اجازت دی گئی ہے یعنی صرف بالوں کو چھپایا جاسکتا ہے اس کے علاوہ برقع یا چہرہ چھپانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ولندیزی سیاستدان لیڈر گیرٹ ولڈرز نے نقاب پر پابندی کو خوش آئند قرار دیا اور ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ نقاب پر پابندی ملک سے اسلام کی رخصت کی جانب پہلا قدم ہے اس سے اگلا اقدام نیدرلینڈز کی تمام مساجد کو بند کرنا ہوگا۔

دوسری جانب اس اقدام کو متعدد ولندیزی شخصیات نے مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ ایسے تو نیدرلینڈ کی مسلم خواتین گھر میں قید ہوجائیں گی، پردہ کرنا یا نہ کرنا خواتین کا ذاتی فیصلہ ہے اس پر زبردستی نہیں کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ بیلجیئم، فرانس، ڈنمارک اور اسپین سمیت 13 یورپی ملک پہلے ہی نقاب پر پابندی لگا چکے ہیں۔

امریکی عدالت نے تارکین وطن بچوں کو والدین سے علیحدہ کرنے سے روک دیا

سین دیاگو: امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو تارکین وطن والدین سے بچوں کو الگ کرنے سے روکنے کا حکم جاری کردیا۔ 

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق تارکین وطن والدین کے بچوں کو خاندان سے علیحدہ رکھنے پر امريکا کی مقامی عدالت میں دائر کیے گئے مقدمے میں جج ڈانا سابرو نے فیصلہ سناتے ہوئے انتظامیہ کو ایک ماہ کے اندر منقسم خاندان کو ملانے اور 5 برس سے کم عمر بچوں کو دو ہفتوں کے اندر تارکین والدین کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔

سين ڈياگو کے ڈسٹرکٹ کورٹ کی جج ڈانا سابرو نے امريکن سول لبرٹير يونين کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ والدین کے جرم کی سزا معصوم بچوں کو نہیں دی جاسکتی یہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ جج نے مزيد کسی بچے کو والدين سے جدا کرنے کے عمل کو بھی فوری طور پر روکے جانے کا فيصلہ جاری کیا۔

قبل ازیں حکومت کی جانب سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تارکین وطن سے متعلق ایگزیکیٹو آرڈر میں تبدیلی اور اپنی امیگریشن پالیسی ترک کرنے کا اعلان کیا ہے جس پر عدالت نے منقسم خاندان کو ملانے کی ڈیڈ لائن جاری کی۔

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تارکین وطن سے متعلق نفرت آمیز اور متعصبانہ پالیسی کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے اور خود امریکا کی 17 ریاستوں نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے جس میں پناہ گزینوں کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی پر تنقید کی گئی ہے۔

افغانستان میں امریکی ڈرون حملہ، 11 افراد ہلاک

کابل:افغانستان میں مبینہ امریکی ڈرون حملے میں11 افراد ہلاک ہوگئے۔

افغان حکام کے مطابق امریکی ڈرون حملہ صوبہ نورستان میں کیا گیا جس کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہوئے۔

صوبہ نورستان کے گورنر حافظ عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونےوالوں میں 6 شہری اور طالبان شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ڈرون حملہ منگل کو ویگال ضلع میں کیا گیا، اس علاقے میں پہلے ایک حملہ ہوا جس میں ایک جنگجو زخمی ہوا، اسے دیکھنے کے لیے مقامی لوگ اور طالبان گھر میں جمع ہوئے تو ڈرون حملہ ہوگیا۔

دوسری جانب امریکی فورسز نے نورستان میں ڈرون حملے کی تردید کی ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل مارٹن کا کہنا ہے کہ امریکی فورسز نے نورستان میں فضائی حملہ نہیں کیا۔

ملائيشيا میں سابق وزيراعظم نجيب رزاق کے 273 ملين ڈالر کے اثاثے تحويل ميں لے لیے گئے

کوالا لمپور: ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب رزاق سے اب تک 273 ملین ڈالر کی مالیت کے غیر قانونی اثاثہ جات برآمد کرائے جا چکے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق تحقیقاتی اداروں نے ملائيشيا کےسابق وزير اعظم نجيب رزاق کے گھر، دفاتر اور دیگر مقامات سے تحويل ميں ليے گئے اثاثوں کی فہرست جاری کردی گئی ہے۔ ان ثاثوں کی ماليت لگ بھگ 273 ملين ڈالر بنتی ہے جن میں 12 ہزار سے زائد زیورات، 423 مہنگی گھڑیاں، مشہور برانڈ کے 234 چشمے اور 567 ہینڈ بیگز ہیں جو سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کے زیر استعمال تھے۔  سابق وزیراعظم نجیب رزاق اور ان کی اہلیہ روسماء منصور پر آمدنی سے زائد اثاثے رکھنے کے الزامات ہیں۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے تجارتی جرائم کے وفاقی تحقيقاتی ادارے کے سربراہ امر سنگھ کا کہنا تھا کہ ملائیشیا کی تاريخ ميں آج تک اس سے زيادہ ماليت کی اشياء تحويل ميں نہيں لی گئی ہيں جس پر سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے گا اور تفتیش کے لیے طلب بھی کیا جائے گا جس کے لیے وزارت داخلہ و قانون کی اجازت درکار ہے۔

واضح رہے کہ ملائيشيا کے نئے وزير اعظم مہاتير محمد نے ذمہ دارياں سنبھالتے ہی سابق وزیراعظم نجیب رزاق پر سرکاری خزانے سے چار ارب ڈالر کی ہیرا پھیری کے الزام کی تحقیقات کا حکم دیا تھا جس پر عمل در آمد کرنے کے لیے سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ تاہم سابق وزیراعظم نے خود پر لگنے والے الزامات کی تردید کی تھی۔

امریکی سپریم کورٹ کا مسلم ممالک پر سفری پابندیاں برقرار رکھنے کا فیصلہ

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلم ممالک پر سفری پابندیوں کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران، لیبیا، صومالیہ، شام اور یمن کے شہریوں کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی جسے سپریم کورٹ کے ماتحت اپیلیٹ کورٹ نے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس عدالتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس نے ابتدائی طور پر سفری پابندی کو جزوی طور پر بحال کیا تھا۔

اب امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے مسلم ممالک پر سفری پابندیوں کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے۔

9 ججر پر مشتمل بینچ کے 5 ججز پابندی برقرار رکھنے کے حق میں جبکہ 4 نے اس کی مخالفت کی۔

امریکی چیف جسٹس جان رابرٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ امریکی امیگریشن قوانین کے تحت صدر کے پاس سفری پابندیوں کا صوابدیدی اختیار موجود ہے لہٰذا ان کا یہ اقدام غیر آئینی نہیں۔

عدالت نے فیصلے میں مذہبی بنیادوں پر سفری پابندیوں کے دعووں کو مسترد کیا ہے۔

 امریکی سپریم کورٹ میں اس مقدمے پر 16 ماہ تک دلائل کا سلسلہ جاری رہا ہے جس کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔

Donald J. Trump

@realDonaldTrump

SUPREME COURT UPHOLDS TRUMP TRAVEL BAN. Wow!

دوسری جانب امریکی صدر نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عدالتی فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سفری پابندی کے مطابق مسلم اکثریتی ممالک ایران، لیبیا، صومالیہ، شام اور یمن سے تعلق رکھنے والے مہاجرین اور ویزا رکھنے والے افراد امریکا میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔

اس پابندی کا اطلاق شمالی کوریا اور وینزویلا کے شہریوں پر بھی ہوگا تاہم اس پابندی کے جن حصوں کو چیلنج کیا گیا تھا اس میں ان دونوں ممالک پر پابندی کا معاملہ شامل نہیں تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال 28 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ایران، عراق، شام، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن کے شہریوں پر امریکا میں داخلے کے حوالے سے سفری پابندیاں عائد کردی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے ان متنازع احکامات کے بعد امریکا سمیت دنیا بھر میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے، جس کے بعد امریکا کی وفاقی عدالت نے 2 ریاستوں کی درخواست پر صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈرز کو معطل کردیا تھا، جن کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اپیل دائر کی گئی تھی۔

یورپی یونین نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث فوجیوں پر سفری پابندیاں لگادیں

برسلز: یورپی یونین نے میانمار کے فوجی جنرل سمیت 7 افسران پر سفری پابندی عائد کرتے ہوئے اُن کے اثاثے منجمد کر دیئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کو جبری طور پر بنگلا دیش ہجرت کرنے پر مجبور کرنے والے میانمار فوج کے جنرل سمیت 7 فوجی افسران پر یورپی یونین کے ممالک کیلئے سفری پابندی عائد کردی ہے جب کہ یورپی ممالک نے میانمار فوج کے ساتھ ہر قسم کا عسکری تعاون بھی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔یورپی یونین نے یہ فیصلہ اپنی سفارتی پالیسی میں تبدیلی کے بعد کیا جس کا عندیہ رواں سال اپریل میں دیا گیا تھا علاوہ ازیں یورپین یونین نے 6 سال قبل اُن جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات کو محدود کرنے کا بھی اشارہ دیا تھا جہاں جمہوری نظام کمزور ہے اور آمریت قائم ہے یا عسکری اداروں کی مداخلت زیادہ ہے جیسا کہ میانمار کی فوج نے رکھائن میں کیا۔

علاوہ ازیں یورپی یونین نے سیکیورٹی پولیس بٹالین کے کمانڈر ٹھنڈ زن او پر روہنگیا مسلمانوں کے گھر اور عبادت گاہوں کو نذر آتش کرنے اور منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں کا قتل عام کرنے کے الزامات پر سفری پابندی عائد کردی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس اگست میں میانمار کی فوج نے بدھ انتہا پسندوں کی مدد سے رکھائن میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی تھی جس کی وجہ سے 7 لاکھ روہنگیا مسلمان بنگلا دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ جس پر امریکا نے بھی برمی فوج کے کمانڈر میجر جنرل موانگ سو پر سفری پابندی عائد کی تھی اسی طرح کینیڈا بھی میانمار کے جرنیلوں پر سفری پابندی عائد کی تھی۔

بھارت کا اسرائیل سے ساڑھے 4 ہزار میزائل خریدنے کا فیصلہ

بھارتی حکومت اپنے دیرینہ دوست اسرائیل سے 50 کروڑ ڈالر کے معاہدے سے 4 ہزار 5 سو اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل خرید رہی ہے۔

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی اور اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس ضمن میں تمام تیاری مکمل کرلی گئی ہے جبکہ وزیرِاعظم نریندر مودی کی جانب سے حتمی منظوری کا انتظار ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اسرائیلی سیکریٹری دفاع کے دورہ نئی دہلی کے دوران اس معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔

اسرائیلی میزائل اسپائیک کی بھارتی فوج میں شمولیت کی کوششوں کو نئی دہلی میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ابتدا میں اسرائیلی کمپنی رافیل نے بھارت سے 8 ہزار اسپائیک اے ٹی جی ایمز فروخت کرنے کا معاہدہ کیا جس میں سے 3 ہزار میزائل بھارت میں ہی تیار کرنے تھے۔

بعدِ ازاں اس معاہدے کا دوبارہ جائزہ لیا گیا جس کے مطابق صرف 4 ہزار 5 سو میزائل بھارت کو فروخت کیے جائیں گے، جبکہ ان کی ایک مختصر تعداد بھارت میں تیار کی جائے گی۔

واضح رہے کہ رواں برس جنوری میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے نئی دہلی کا دورہ کیا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں اہم معاہدے دیکھنے میں آئے تھے۔

اس موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نیتن یاہو کے بھارتی دورے کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’آپ کا بھارت میں دورہ تاریخی اور خاص ہے، اس سے دونوں ممالک کی دوستی مزید گہری ہوگی‘۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس جولائی میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا اور وہ تل ابیب کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیرِاعظم بن گئے تھے۔

اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی، صنعت اور دفاع سے متعلق متعدد معاہدے کیے گئے تھے۔

Google Analytics Alternative