بین الاقوامی

سعودی فورسز نے حوثی باغیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ ناکام بنا دیا

ریاض: سعودی فورسز نے حوثی باغیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ ناکام بنا دیا۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک ہفتے کے دوران حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی جانب دوسرا میزائل حملہ کیا گیا جسے ناکام بنادیا گیا ہے۔

یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے سرحدی شہر نجران کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائل کو کسی ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنایا گیا جب کہ بیلسٹک میزائل یمن میں حوثی باغیوں کے زیر قبضہ علاقے صعدہ سے فائر کیا گیا تھا۔

حوثی باغیوں کا دوسرا میزائل سعودی عرب کے صحرائی علاقے میں گرا جب کہ جمعے کو بھی سعودی فورسز نے حوثی باغیوں کا میزائل حملہ ناکام بنایا تھا۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ نجران کی جانب داغے گئے میزائل کو فضا میں ہی ناکارہ بنایا گیا۔

یاد رہے کہ حوثی باغی ستمبر 2014 میں حکومت کے خلاف بغاوت کے بعد سے یمن کی سرحد کے نزدیک واقع سعودی عرب کے جنوبی شہر نجران کی جانب کئی میزائل حملے کر چکے ہیں۔

شام: سعودی اتحادیوں کی بمباری، دلہن سمیت20 افراد جاں بحق

یمن کے شمالی علاقے میں سعودی اتحادیوں کی فضائی کارروائی میں دلہن سمیت 20 افراد جاں بحق ہوگئے۔

خبر ایجنسی اے پی کو یمن کے شمالی صوبے حجہ کی وزارت صحت کے اعلیٰ عہدیدار خالد النادہری کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے جو ایک شادی کی تقریب کے لیے لگائے گئے ٹینٹ میں جمع تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ حجہ کے ضلع بنی کیس میں ہونے والے اس شادی کی تقریب میں فضائی کارروائی کے نتیجے میں دلہن بھی جاں بحق ہوگئیں۔

مقامی ہسپتال الجمہوری کے سربراہ محمد الصومالی کا کہنا تھا کہ دولھا سمیت 45 زخمیوں کو لایا گیا تھا جہاں محکمہ صحت کی جانب سے خون کے عطیات دینے کی درخواست کی گئی۔

ہسپتال کے ڈپٹی ہیڈ علی نصیر الزب کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں30 بچے بھی شامل ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویش ناک ہے۔

واقعے کے بعد جاری ہونے والی ویڈیو میں بکھرے ہوئے انسانی اعضا اور جاں بحق فرد سے لپٹا ایک بچہ، لوگوں کو چیختے اور چلاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

وزارت صحت کے ترجمان عبدالحکیم الکہلان کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد مزید بمباری کے خوف سے ایمبولینس بھی امدادی کام کے لیے نہیں پہنچ سکی تھیں۔

خیال رہے کہ یمن میں گزشتہ ہفتے کے اواخر سے اب تک یہ تیسرا بدترین فضائی بمباری کا واقعہ ہے۔

خالد النادہری کا کہنا تھا کہ صوبہ حجہ میں اتوار کو ہونے والی فضائی کارروائی میں ایک خاندان کے پانچوں افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

یمن کے جنگ ذدہ مغربی صوبے مواضعہ میں 21 اپریل کو سعودی اتحادیوں کی جانب سے مسافر بس پر کی گئی بمباری کے نتیجے میں 20 شہری جاں بحق ہوگئے تھے۔

سعودی عرب کے اتحادیوں کی جانب سے حالیہ کارروائیوں پر کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یمن ڈیٹا پروجیکٹ نامی ادارے کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ہونے والی 16 ہزار 847 فضائی کارروائیوں میں سے ایک تہائی کا نشانہ غیرعسکری تھا۔

گزشتہ تین برس کے دوران جنگ میں 10 ہزار سے زائد شہری جاں بحق اور لاکھوں زخمی ہوگئے جبکہ 30 لاکھ سے زائد افراد ملک میں جاری جنگی حالات کےباعث بے گھر ہوگئے۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ادارے، اتحادیوں کو جنگی جرائم کے ارتکاب کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اکثر ہلاکتوں کی ذمہ داری انھیں پر عائد کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ فضائی کارروائیوں میں شادی تقریبات، مصروف مارکیٹیں، ہسپتالوں اور اسکولوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

دوسری جانب سعودی اتحادی اس خونریزی کے الزامات حوثی باغیوں پر عائد کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ حوثی باغی شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

امریکا اور یورپی ممالک کی جانب سے بھی یمن میں فضائی کارروائیوں کی مذمت کی جاتی رہی ہے۔

مصری تاریخ کی سب سے بڑی ہیروئن اسمگلنگ کی کوشش ناکام

مصری حکام نے ملکی تاریخ کی ہیروئن کی سب سے بڑی کھیپ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

مصری اخبار کے مطابق انسداد منشیات کے ادارے کو 21 اپریل کو ایک اطلاع ملی کہ منشیات کے بین الاقوامی اسمگلروں کا گروہ بحیرہ احمر کے راستے ہیروئن کی بڑی کھیپ سفاجا پورٹ پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکام نے ساحل سے 40 میل کی دوری میں ایک ایرانی کشتی پر چھاپہ مار کر اس پر سوار 5 پاکستانیوں کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے ایک ٹن 350کلو گرام ہیروئن برآمد کر لی۔

مصری حکام کے مطابق پکڑی گئی ہیروئن کی قیمت عالمی منڈی میں ساڑھے 65 ارب روپے بتائی گئی ہے۔

پولیس نے گرفتار اسمگلروں کو عدالت میں پیش کیا جہاں سے انہیں 15 روزہ ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا ہے۔

امریکا میں ریسٹورینٹ میں فائرنگ سے 4 افراد ہلاک

نیشویل: امریکی ریاست ٹینیسی نیشویل میں واقع ویفل ہاؤس میں مسلح شخص نے فائرنگ کرکے چار افراد کو قتل کردیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی ریاست ٹینیسی کے دارالحکومت نیشویل کے ریسٹورینٹ ویفل ہاؤس میں ذبردستی گھس کر ایک برہنہ شخص نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 3 افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جب کے ایک شخص نے اسپتال میں جا کر دم توڑ دیا۔ فائرنگ کے واقعے میں دو افراد حملہ آور شخص سے پستول چھیننے کے دوران زخمی ہوئے۔

حملہ آور کی شناخت 29 سالہ ٹریوس رینکنگ کے نام سے ہوئی ہے جو الینوائے کا رہائشی ہے جس کی تلاش میں چھاپے مارے جارہے ہیں جب کے پولیس کو ملزم کا مجرمانہ ریکارڈ بھی مل گیا ہے۔ ملزم گزشتہ برس نیشویل پولیس کے ہاتھوں گرفتار بھی ہوا تھا۔ پولیس کو واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی مل گیا ہے۔

Riffle

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے صرف جیکٹ پہنی ہوئی تھی اور اسی میں اسلحہ چھپا کر ریسٹورینٹ میں داخل ہوا تھا۔ ملزم کو ویفل ہاؤس میں موجود دو افراد نے قابو کرنے کی کوشش کی تاہم ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، پولیس کو ریسٹورینٹ سے بندوق مل گئی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس لاس ویگاس اور فلوریڈا میں بھی فائرنگ کے مختلف واقعات میں 75 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

کابل میں ووٹر رجسٹریشن سینٹر پر خودکش حملہ، 57 افراد ہلاک

کابل: افغان دارالحکومت کابل میں ووٹر رجسٹریشن سینٹر پر خودکش حملے کے نتیجے میں 57 افراد ہلاک اور 119 سے زائد زخمی ہوگئے۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان شہری کابل میں واقع ووٹر اور شناختی کارڈ سینٹر کے باہر اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے کہ خودکش بمبار نے خود کو شہریوں کے قریب جا کر دھماکے سے اڑا دیا۔

کابل پولیس چیف جنرل داؤد امین کے مطابق خودکش حملہ آور کا ہدف عام شہری تھے جس نے شناخی کارڈ حاصل کرنے والے شہریوں کے قریب جا کر خود کو دھماکے سے اڑایا۔

افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ متاثرہ افراد کے ساتھ ہیں، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے لئے ہماری کوششیں جاری رہیں گی اور دہشت گرد اپنی مرضی عوام پر مسلط نہیں کرسکیں گے۔

پاکستان کی مذمت

ادھر پاکستان نے کابل اور بغلان میں ہونے والے خودکش دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، دھماکوں میں زخمی ہونے والوں کی صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں۔

سعودی عرب، ٹریفک حادثے میں 4 برطانوی معتمرین جاں بحق

مکہ المکرمہ: سعودی عرب میں ایک ٹریفک حادثے کے باعث 4 برطانوی معتمرین جاں بحق اور 12 زخمی ہوگئے۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں موجود برطانوی مسلمان باشندوں کی بس کو حادثہ پیش آیا ہے جس میں مدینہ سے مکہ جاتے ہوئے معتمرین کی بس آئل ٹینکر سے جا ٹکرائی۔

حادثہ مغربی مکہ کے قریب الاخلاص ٹاؤن میں پیش آیا جہاں معتمرین سے بھری بس سامنے سے آنے والے آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی، ایندھن کی وجہ سے بس آگ کا گولہ بن گئی۔

برطانوی وزارت خارجہ نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانے والے 4 برطانوی شہری ایک حادثے میں جان کی بازی ہار گئے ہیں اس حوالے سے مزید تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔

ٹریول کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کی ایک بس کو مدینہ سے مکہ جاتے ہوئے آئل ٹینکر نے ٹکر ماری ہے جس میں 4 برطانوی شہری جاں بحق اور دیگر 12 زخمی ہوئے ہیں اب ان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

امریکا نے جوہری معاہدہ ختم کیا تو یورینئم افزودگی کیلئے تیار ہیں، جواد ظریف

نیویارک: ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے جوہری معاہدہ ختم کیا گیا تو ایران یورینئم کی افزودگی دوبارہ شروع کردے گا۔

نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر امریکا 2015 کے تاریخی جوہری معاہدے کو ختم کرتا ہے تو ایران بھرپور طریقے سے افزودگی کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کو کبھی بھی یہ خدشہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایران جوہری بم بنا رہا ہے، ایران کوئی جوہری بم نہیں بنا رہا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس جوہری معاہدہ ختم کرنے کا آپشن موجود ہے لیکن اگر ایسا ہوا تو انہیں اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے جب کہ ایران اپنی قومی سلامتی کے لیے ہر قسم کے فیصلے اٹھائے گا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران سے ہونے والے جوہری معاہدے کی 12 مئی کو تجدید کرنا ہے تاہم اس حوالے سے انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ معاہدہ کی تجدید کے لئے دستخط نہیں کریں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ گزشتہ 15 ماہ کے دوران امریکا کئی بار معاہدے کی خلاف ورزی کرچکا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا ملک ایران سے مزید مطالبات کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

سعودی سکیورٹی فورسز نے شاہی محل کے قریب کھلونا ڈرون مارگرایا

سعودی عرب کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے دارالحکومت ریاض میں بلا اجازت پرواز کرنے والے کھلونا ڈرون کو مار گرایا ہے۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر پوسٹ ہونے والی ویڈیو میں شاہی محل کے قریب گارڈز کی جانب سے فائرنگ کا منظر دیکھا جا سکتا ہے۔

اعلیٰ سعودی حکام اور سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق واقعے کے وقت سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز شاہی محل میں موجود نہیں تھے۔

ریاض پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ ضلع خزامہ میں قائم چیک پوسٹ پر فورسز نے ڈرون کو دیکھا اور ‘پہلے سے موصول شدہ حکامات کے مطابق اپنا فرائض کو انجام دیتے ہوئے اسے گرا دیا’۔

اس ضمن میں مزید بتایا گیا کہ واقعے کے دوران کسی شخص کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاعات سامنے نہیں آئی۔دوسری جانب سعودی پریس ایجنسی نے ٹوئٹ کیا کہ واقعے کے فوری بعد تحقیقات کا عمل شروع کردیا گیا۔

بعض ٹوئٹ میں واقعے کو بادشاہت کے خلاف بغاوت سے جوڑا گیا۔

Google Analytics Alternative