بین الاقوامی

سلامتی کونسل کی نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے کی مذمت، ایک منٹ کی خاموشی

نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے نیوزی لینڈ میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی ہے۔

سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریز نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ میں دہشتگردحملےسےصدمہ پہنچا، تمام ممالک کو عدم برداشت،تشدد اور انتہاپسندی کےخلاف بہترطریقےسےکام کرناہوگا۔

نیوزی لینڈ کے شہرکرائسٹ چرچ کی دومساجدمیں نمازیوں کے وحشیانہ قتل عام کے حوالے سے سلامتی کونسل نے نیوزی لینڈکی حکومت اور عوام سےاظہارہمدردی کیا۔ رکن ممالک کے سفراء نے نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے میں شہید افراد کی یاد میں کھڑے ہوکرخاموشی اختیارکی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریزنے اسلام کے بارے میں منفی تاثرکی روک تھام پر زور دیتے ہوئے عدم برداشت اورہرطرح کی پرتشدد انتہاپسندی کے خاتمے کے لئے عالمی سطح پر اجتماعی کوششوں کی ضرورت کااعادہ کیا۔

عالمی ادارے کے سربراہ نے مساجداورتمام مذہبی مقامات کاتقدس برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام لوگ جمعہ کے مقدس روز کے موقع پر مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے اس سانحے پراسلامی برادری کے ساتھ یکجہتی کااظہارکریں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں مسلمان مخالف نفرت اورہرطرح کے تعصب اوردہشت گردی کے خلاف متحد ہوناچاہیے۔

مساجد پر حملہ دہشت گردی ہے جس کی مذمت کرتے ہیں، وزیراعظم نیوزی لینڈ

کرائسسٹ چرچ: نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے 2 مساجد پر حملے کو سوچی سمجھی سازش قرار دے دیا۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے نیوز کانفرنس کے دوران مساجد پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا۔ جسینڈا آرڈرن نے کہا کہ یہ ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، واقعے میں 40 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے، یہ حملہ منصوبہ بندی سے کیا گیا اور اس کی تحقیقات کررہے ہیں۔

وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے کہا کہ حملے میں ملوث تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے، مسجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد واچ لسٹ میں نہیں تھے، زیر حراست افراد کی گاڑی میں بارودی مواد بھی نصب تھا۔

جسینڈا آرڈرن نے کہا کہ آج کا واقعہ ہمارے معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا، ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، شہریوں سے درخواست ہے سیکیورٹی اداروں کی ہدایات پر عمل کریں، سیکیورٹی ادارے مستعدی سے کام کررہے ہیں، اس واقعے کی تکلیف کو بھولنا ناممکن ہے۔

واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہرکرائسٹ چرچ میں 2 مساجد میں فائرنگ سے 40 نمازی شہید اورمتعدد زخمی ہوگئے۔ مسجد میں موجود بنگلادیشی کرکٹ ٹیم اس حملے میں بال بال بچ گئی۔ حملہ آور کو گرفتار کرلیا گیا ہے جس کا نام برینٹن ٹیرنٹ اور عمر 28 سال ہے۔ یہ دہشت گرد آسٹریلوی شہری ہے جس کا تعلق سفید فام نسلی انتہا پسندوں سے ہے۔

افغانستان میں القاعدہ کے مبینہ ٹھکانے پر فضائی حملے میں 30 عسکریت پسند ہلاک

کابل: افغان فضائیہ کی شدت پسندوں کے ٹھکانے پر بمباری میں 30 عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے صوبہ غزنی میں ملکی فضائیہ نے القاعدہ کے مبینہ ٹھکانے پر فضائی بمباری کی جس کے نتیجے میں 30 عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔ فضائی حملہ اس وقت کیا گیا جب سہولت کار شدت پسندوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر رہے تھے۔

افغان حکام کے مطابق ملکی فضائیہ کی ایک کارروائی میں القاعدہ سے وابستگی رکھنے والے 30 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب افغان وزارت دفاع نے ہلاک ہونے والے عسکریت پسند کا تعلق کا حقانی نیٹ ورک سے ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم طالبان ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے لیے افغان امن مذاکرات قطر میں جاری ہیں جس میں امریکی نمائندے خلیل زلمے اور طالبان نمائندوں کے درمیان معاہدہ طے پانے کے امکانات قوی ہیں، تاہم ان مذاکرات میں کابل انتظامیہ کو طالبان کی شرط پر شامل نہیں کیا گیا۔

نیوزی لینڈ مساجد حملہ آور کے اسلحہ پر مسلم عیسائی جنگوں کی تاریخ لکھی تھی

نیوز ی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 4 دہشت گردوں نے دو مساجد میں فائرنگ کرکے 49 نمازیوں کو شہید اور 50 کو زخمی کردیا ہے۔

اس واقعے میں چاروں حملہ آوروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جن میں مرکزی ملزم برینٹن ٹیرنٹ ہے جس کی عمر 28 سال اور آسٹریلیا کا شہری ہے۔ حکام کے مطابق برینٹن ٹیرنٹ مسلمان مخالف اور انتہا پسند مسیحی گروہ کا کارندہ ہے جس نے ناروے کے دہشت گرد اینڈرز بریوک سے متاثر ہو کر دہشت گردی کی ہولناک واردات سرانجام دی۔ بریوک نے 2011 میں ناروے میں فائرنگ کرکے 85 افراد کو ہلاک کیا تھا۔

نیوز ی لینڈ کے حملہ آوروں سے برآمد ہونے والے اسلحہ اور بلٹ پروف جیکٹوں کی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں انہوں نے ماضی میں مسلمانوں اور عیسائی ریاستوں کے درمیان ہونے والی جنگوں کے نام لکھے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر جنگیں وہ تھیں جن میں مسلمانوں کو شکست ہوئی۔

معرکہ بلاط الشہداء

حملہ آور نے اپنی بندوق پر لکھا  Tours 732۔ اس نے دراصل Battle of Tours  کا حوالہ دیا جسے عربی میں معرکہ بلاط الشہداء کہا جاتا ہے۔ معرکہ بلاط الشہداء اپنی اہمیت کے لحاظ سے دنیا کی 15 اہم جنگوں میں شمار کی جاتی ہے۔

یہ جنگ 10 اکتوبر 732ء میں فرانس کے شہر ٹورز کے قریب لڑی گئی جس میں اسپین میں قائم خلافت بنو امیہ کو فرنگیوں کی افواج کے ہاتھوں شکست ہوئی۔

اندلس کے حاکم امیر عبد الرحمٰن نے 70 ہزار سپاہیوں پر مشتمل فوج کے ذریعے اپنی پڑوسی عیسائی ریاست فرانس پر حملہ کیا تھا۔ مسلمانوں نے تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے فرانس کے علاقوں غال، وادی رہون، ارلس اور د بورڈیکس پر قبضہ کرلیا۔

مسلمانوں کی کامیابی سے مسیحی دنیا خوف زدہ ہوگئی۔ فرانس کے بادشاہ نے دیگر عیسائی ممالک سے مدد طلب کی تو انہوں نے امدادی فوجیں روانہ کیں۔

توغ کے قریب دونوں افواج کے درمیان زبردست جنگ ہوئی۔ مسیحیوں کی فوج کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اس کے باوجود وہ بہت بہادری سے لڑے۔

10 روز تک جنگ کے بعد مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ اگر مسلمان یہ جنگ جیتے تو آج یورپ سمیت پوری دنیا پر مسلمانوں کی حکومت ہوتی۔

مشہور مورخ ایڈورڈ گبن نے اپنی معرکہ آرا تاریخ “تاریخ زوال روما” میں لکھا ’’عرب بحری بیڑا بغیر لڑے ہوئے ٹیمز کے دہانے پر آ کھڑا ہوتا۔ عین ممکن ہے کہ آج آکسفورڈ میں قرآن پڑھایا جا رہا ہوتا اور اس کے میناروں سے پیغمبرِ اسلام کی تعلیمات کی تقدیس بیان کی جا رہی ہوتی‘‘۔

sebastiano venier

حملہ آور نے اپنی بلٹ پروف جیکٹ پر دوسری عبارت لکھی ’sebastiano venier‘۔

سباستیانو وینئر اطالوی کمانڈر تھا جس نے مسلمانوں کے خلاف جنگ لیپانٹو میں اطالوی دستے کی قیادت کی تھی۔ جنگ لیپانٹو 7 اکتوبر 1571ء کو یورپ کے مسیحی ممالک کے اتحاد اور خلافت عثمانیہ کے درمیان لڑی جانے والی ایک بحری جنگ تھی جس میں مسیحی اتحادی افواج کو کامیابی نصیب ہوئی۔

مسیحی فوج میں اسپین، جمہوریہ وینس، پاپائی ریاستیں، جینوا، ڈچی آف سیوائے اور مالٹا کے بحری بیڑے شامل تھے۔

یہ معرکہ یونان کے مغربی حصے میں خلیج پطرس میں پیش آیا جہاں عثمانی افواج کا ٹکراؤ عیسائی اتحاد کے بحری بیڑے سے ہوا جس میں مسلمانوں کو شکست ہوئی۔

یہ بھی دنیا کی فیصلہ کن ترین جنگوں میں سے ایک ہے۔ یہ 15 ویں صدی کے بعد کسی بھی بڑی بحری جنگ میں عثمانیوں کی پہلی اور بہت بڑی شکست تھی جس میں عثمانی اپنے تقریباً پورے بحری بیڑے سے محروم ہو گئے۔

اس جنگ میں ترکوں کے 80 جہاز تباہ ہوئے اور 130 عیسائیوں کے قبضے میں چلے گئے جبکہ 15 ہزار ترک شہید، زخمی اور گرفتار ہوئے اس کے مقابلے میں 8 ہزار اتحادی ہلاک اور ان کے 17 جہاز تباہ ہوئے۔

Marcantonio Colonna

حملہ آور نے جیکٹ پر Marcantonio Colonna لکھا۔ یہ بھی اطالوی بحری فوج کا کمانڈر تھا جس نے جنگ لیپانٹو میں حصہ لیا تھا۔

چارلس مارٹل

حملہ آور نے اپنی اسلحے پر چارلس مارٹل کا نام بھی لکھا جو فرانس کا کیتھولک حکمران تھا جس نے معرکہ بلاط الشہداء میں مسیحی افواج کی قیادت کی تھی اور مسلمانوں کو شکست دی تھی۔

ویانا 1683

حملہ آور نے اپنی بندوق کے میگزین پر ویانا 1683 بھی لکھا۔

اس نے دراصل جنگ ویانا کا حوالہ دیا۔ 1683ء میں یہ صلیبی جنگ خلاف عثمانیہ اور صلیبی اتحاد کے درمیان ہوئی۔ سلطنت عثمانیہ کے دسویں عظیم فرمانروا سلیمان عالیشان کے دور میں مسلمان فوج نے 1529 میں آسٹریا کے دار الحکومت ویانا کا محاصرہ کرلیا۔

موسم، راستوں کی خرابی اور رسد کی کمی کی وجہ سے محاصرہ بے نتیجہ رہا اور سلطان کو واپس آنا پڑا لیکن یورپ کے وسط تک مسلمانوں کے قدم پہنچنے کے باعث ان کی اہل یورپ پر بڑی دھاک بیٹھ گئی۔

 

ویانا کا دوسرا محاصرہ 1683 میں سلطان محمد چہارم کے دور میں ہوا جس کی قیادت ترک صدراعظم قرہ مصطفٰی پاشا نے کی۔ دوسرے محاصرے میں مسلمانوں کو قرہ مصطفٰی پاشا کی نااہلی کے باعث جنگ میں بدترین شکست ہوئی۔ اس شکست کے ساتھ ہی وسطی یورپ میں ان کی پیش قدمی ہمیشہ کے لیے رک گئی بلکہ یہ سلطنت عثمانیہ کے زوال کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوا۔

نیوزی لینڈ کے حملہ آوروں نے اپنے اسلحے پر اسی طرح کی مزید عبارتیں اور پیغامات بھی تحریر کیے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور دنیا میں مسلمانوں پر لگایا گیا دہشت گردی کا لیبل محض ایک دھوکہ ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ مغرب ان چاروں دہشتگردوں سے کیا سلوک کرتا ہے؟ جہاں عافیہ صدیقی کو محض ایک مبینہ حملے کے الزام میں 86 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی وہیں 50 بے گناہ افراد کا خوب بہانے والوں کو کیا سزا ملتی ہے۔

نیوزی لینڈ مساجد پر حملہ کرنے والا برینٹن ٹیرنٹ کون ہے؟

ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کی مساجد پر حملہ کرنے والا 28 سالہ سفید فام آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرنٹ نے ناروے کے قدامت مسیح اور مسلم مخالف شخص اینڈرز برِیوِک سے متاثر ہو کر مساجد پر اندھا دھند فائرنگ کر کے 49 نمازیوں کو شہید کیا۔ 

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں حملہ کرکے 49 نمازیوں کو شہید کرنے والا سفید فام آسٹریلوی شخص ایک قدامت پسند شخص تھا، جس نے اینڈرز بریوک سے متاثر ہو کر دہشت گردی کی ہولناک واردات سرانجام دی۔

برینٹن ٹیرنٹ نے 74 صفحات پر مشتمل دستاویز میں خود کو ایک عام سفید فام شہری قرار دیتے ہوئے لکھا کہ پناہ گزینوں کے شر پسند عزائم سے اپنے ملک اور شہریوں کو بچانے کے لیے میں نے کھڑے ہونے اور اسلحہ اُٹھانے کا فیصلہ کیا۔ یہ ہماری سرزمین، کلچر اور نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ کا معاملہ ہے۔

برینٹن ٹیرنٹ اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لگاتار یورپ اور دیگر ممالک میں تبدیل ہوتے کلچر اور ان تہذیبوں پر پناہ گزینوں کی آمد سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں پر غم و غصے سے بھری پوسٹیں شیئر کیا کرتا تھا اور کچھ ہفتوں سے اس کی پوسٹوں میں پناہ گزینوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت واضح دیکھی جا سکتی تھی۔

برینٹن ٹیرنٹ نے مزید لکھا کہ وہ اینڈرز بریوک سے متاثر ہیں اور اسی طرز پر کارروائی کرنا چاہتے ہیں۔ وہ سیاست دانوں میں آنجہانی برطانوی فاشسٹ رہنما اُوز لوڈ موزلی کا گرویدہ ہے جب کہ موجودہ سیاست دانوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مداح ہے۔

واضح رہے کہ اینڈرز بریوک دائیں بازو سے تعلق رکھنے والا قدامت پسند مسیحی اور مسلم مخالف جذبات رکھتا تھا جس نے فوجی لباس پہن کر 2011 میں ناروے کے نوجوانوں کے حکومتی تربیتی کیمپ کی سرگرمیوں سے بیزار ہو کر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں 85 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

نیوزی لینڈ مساجد میں حملہ ’ نسل پرستی اور فسطائیت‘ ہے، مسلم ممالک

کرائسسٹ چرچ: نیوزی لینڈ مساجد میں مسلح شخص کے حملے میں 49 نمازیوں کی شہادت پر مسلم ممالک نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے ’نسل پرستی اور فسطائیت‘ قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جہاں نیوزی لینڈ میں دنیا بھر کے مسلمان رنجیدہ اور دل گرفتہ ہیں، وہیں مسلم حکومتوں نے بھی مساجد پر حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس عمل کو نسل پرستی اور فسطائیت قرار دیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے مساجد پر حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کی مساجد میں حملہ تیزی سے پھیلنے والا اسلامو فوبیا ہے۔ دہشت گردی کا واقعہ نہایت تکلیف دہ ہے۔ لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے بھی مساجد پر دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پر امن لوگوں پر حملہ ناقابل قبول ہے جس کی شدید الفاظ میں مذمت اور نیوزی لینڈ سے ملزم کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

انڈونیشیا کی حکومت نے کہا ہے کہ عبادت کے مقام پر ایسا حملہ ناقابل قبول ہے، لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور نیوزی لینڈ کی حکومت سے دہشت گرد کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ افسوسناک واقعے میں شہید ہوانے والوں میں 3 انڈونیشی باشندے بھی شامل ہیں۔

ملائیشیا نے مساجد میں حملے کو انسانیت اور عالمی امن کے لیے سیاہ ترین دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کی جان لینا ایک نہایت گھناؤنا عمل اور کسی مہذب سماج میں اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ نیوزی لینڈ ملزم کو قرار واقعی سزا دلوا کر ہی مسلمانوں کے دکھ کو کم کر سکتا ہے۔

ترکی نے نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے کو نسل پرستی کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا عمل کوئی فاشسٹ ہی کر سکتا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ دنیا میں تیزی سے پھیلتے اسلام سے خوف کھانا ہے۔ شہید ہونے والوں کے لیے مغفرت کی دعا اور لواحقین سے تعزیت کرتے ہیں۔

افغانستان نے نیوزی مساجد حملے میں اپنے 3 شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ بزدلانہ حملہ نہایت قابل مذمت عمل ہے۔ نہتے لوگوں کو اندھا دھند گولیوں کا نشانہ بنانا کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔ نیوزی لینڈ کو سخت سے سخت ایکشن لینا چاہیئے۔

بنگلا دیش نے دہشت گردانہ حملے میں اپنی کرکٹ ٹیم کے محفوظ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نہایت افسوسناک واقعے میں انسانی جانوں کے ضیاع کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، پُر امن لوگوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے والے کسی بھی قسم کی ہمدردی کے مستحق نہیں۔

طالبان شدت پسندوں سے روابط ختم کردیں تو امن ممکن ہے، عبداللہ عبداللہ

کابل: افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ ملک میں امن ممکن ہے اگر طالبان دیگر شدت پسندوں تنظیموں سے روابط ختم کردیں۔

کابل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر ہوسکتی ہے اگر طالبان دیگر شدت پسند تنظیموں سے روابط ختم کردیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر میں امریکا اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والے معاہدے کی خبریں اگر درست ہیں تو افغانستان کے آدھے مسائل حل ہوجائیں گے اور امید ہے کہ ایسا ہی ہو۔

افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ دہشت گرد تنظیمیں مذاکرات کی آڑ میں ایک طرف تو افغانستان میں خون ریزی کو بڑھا رہی ہیں اور دوسری جانب اپنے اپنے ممالک کے مفادات کو پورا کررہی ہیں۔

عمران خان امن کے حامی ہیں تو مسعود اظہر ہمارے حوالے کردیں، سشما سوراج

نئی دلی: بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے فوجی اور سفارتی محاذ پر ناکامی کے بعد اپنی سبکی چھپاتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اتنے بڑے امن کے داعی ہیں تو جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو بھارت کے حوالے کیوں نہیں کردیتے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو جذبہ خیر سگالی کے تحت واپس بھارت بھجوائے جانے کے عمل نے نہ صرف دنیا بلکہ بھارتی عوام کے دلوں کو بھی جیت لیا تھا، وزیراعظم کے اس عمل کے بعد بھارت میں ہی مودی حکومت کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی تھیں۔

انتخابات جیتنے کے لیے مودی سرکار کی جھوٹی سرجیکل اسٹرائیک اور پھر خطے کو جنگ کی آگ میں جھونکنے کے جنگی جنون نے خود بی جے پی سے بھارتی عوام کو منحرف کردیا تاہم وزیراعظم عمران خان کی جانب سے امن کے لیے اٹھایا گیا قدم مودی حکومت کو ایک آنکھ نہ بھایا۔

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے فوجی اور سفارتی محاذ پر ناکامی کے بعد اپنی سبکی چھپاتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں فوراً آوازیں اٹھنا شروع ہوجاتی ہیں کہ عمران خان بڑے سیاستدان ہیں اور امن کے حامی ہیں، اگر پاکستانی وزیراعظم عمران خان اتنے بڑے امن کے داعی ہیں تو جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو بھارت کے حوالے کیوں نہیں کردیتے۔

Google Analytics Alternative